Baaghi TV

Category: معاشرہ و ثقافت

  • عید سب منائیں گے ،تحریر:محمد معاذ حیدر

    عید سب منائیں گے ،تحریر:محمد معاذ حیدر

    ہم میں سے ہر شخص چاہتا ہے کہ کے میرے بچے کی ہر خواہش پوری ہو۔ باپ جیسی عظیم ہستی دن رات ایک کر کے اپنے بچوں کی خواہشات پوری کرتا ہے۔ بہت سے بچے ایسے ہیں جو اس سایے سے محروم ہیں اور بعض نچے ایسے ہیں جن کے سر پہ باپ کا سایہ تو موجود ہے لیکن غربت نے انہیں گھیر رکھا ہے۔ عید بچوں کا تہوار ہے ہم لوگ عید پہ اپنے بچوں کی تو ساری خواہشات پوری کرتے ہیں، لیکن مسکین، غریب، یتیم بچوں کی بھی خواہش ہوتی ہے کہ وہ بھی اپنوں کے سنگھ عید منائیں ۔ ہمارا مال ہمارے لیے آزمائش ہے، اللہ تعالیٰ ہمیں مال دے کہ آزماتا ہے کہ کیا ہم یہ مال اللہ تعالیٰ کی راہ میں غریبوں، مسکینوں اور یتیموں کی مدد کے لیے خرچ کرتے ہیں یا نہیں۔ ہمیں غور و فکر کرنی چاہیے کیا ہم مال اللہ تعالیٰ کی راہ میں خرچ کر رہے ہیں یا نہیں کیا ہم اللہ تعالیٰ اور اس کے رسول صلی اللہ علیہ والہ وسلم کے احکامات پر عمل پیرا ہو رہے ہیں یا نہیں ۔ کیا ہم ضرورت مندوں کی ضروریات کو پورا کر رہے ہیں یا نہیں کیا ہم یتیم بچوں کی چھوٹی چھوٹی خواہشات پوری کر رہے ہیں انہیں خوشیاں دے رہے ہیں یا نہیں ۔ دیکھا جائے تو ہم بہت سی جگہوں پر فضول خرچ کرتے ہیں ایک کی بجائے پانچ پانچ اشیاء لیتے ہیں ہمیں اپنی فضولیات کو کم کر کے ک بچوں کی چھوٹی چھوٹی خواہشات پوری کرنی چاہیے تاکہ دل کو سکون نصیب ہو اور ہم اپنے رب کو بھی راضی رکھ سکیں ۔ لکھوں بچے ایسے ہیں جو عید نہیں مناتے اپنی خواہشات کا گلہ گھونٹ دیتے ہیں وہ بےبس ہوتے ہیں چاہ کہ بھی عید کی خوشیوں میں شریک نہیں ہو سکتے۔

    ذرا خود پہ غور کی جیے کیا ہم ان یتیم اور ضرورت مند بچوں کے لیے چھوٹے چھوٹے تحفے تحائف لے کہ انہیں اپنے ساتھ عید کی خوشیوں میں شریک نہیں کرسکتے؟ ہمیں ان ننھے پھولوں کی اپنی خوشیوں میں شریک کرنا چاہیے تاکہ یہ بھی کھل کا مسکرا سکیں۔ یہ سب ہمیں دلی سکون مہیا کرےگا اور ہم روز آخرت اللہ کی بارگاہ میں سرخرو ہوں گے ۔
    وقت بدلتے دیر نہیں لگتی آج کسی اور پر ہے کل یہ وقت ہم پہ بھی آ سکتا ہے خدارا اپنے اردگرد غریبوں.،بے سہارا، یتیموں کی مدد کریں ان کی زندگیوں میں خوشیاں لائیں اور انہیں کبھی اکیلا اور بے سہارا نہ چھوڑیں ۔
    عید آنے والی ہے ہمیں چاہیے کہ اس عید اور آگے آنے والی عیدوں میں ہم اپنے اردگرد لوگوں کی مدد کریں اور عید کی خوشیوں میں انھیں اپنے ساتھ شریک کریں.
    اللہ تعالیٰ ہم سب کو نیک کام کرنے کی توفیق عطا فرمائے آمین ثم آمین ۔
    ” عید ان کی تھی عباس حسرتیں جو اپنی قربان کر گئے فقط رسمیں نبھانے سے خدا راضی کب ہوا کس سے ہوا”

  • کیا واقعی ہم ایک قوم ہیں ؟ تحریر : ریحانہ جدون

    کیا واقعی ہم ایک قوم ہیں ؟ تحریر : ریحانہ جدون

    یہ ایک سوال جس کے بارے میں کچھ کہنے کی جسارت کر رہی ہوں کیونکہ موجودہ دور میں زیادہ تو لوگوں کے منفی رویے ہیں اور اکثر لوگ منفی سوچ کے ساتھ زندگی گزارتے ہیں افسوس اس معاشرے میں بگاڑ اتنا پیدا ہوگیا ہے کہ اس میں رہنے کے لئے اپنے ضمیر کو مارنا پڑتا ہے یہاں انسانی جان کی کوئی قدر وقیمت نہیں, انسانی خون اتنا سستا ہوچکا ہے کہ سڑک پر کوئی انسان ایڑیاں رگڑ کر مر رہا ہوتو اسکی ویڈیو بنانے کے لئے لوگ رکیں گے ضرور مگر اس کی مدد نہیں کریں گے
    حقیقت میں ہم ایک قوم ہے ہی نہیں لوگوں کا وہ ہجوم ہیں جو اپنے اپنے مفاد کی دلدل میں پھنستا جا رہا ہے

    یہ کہانی کچھ پرانی نہیں ہے جب پاکستان میں کارونا کی پہلی لہر آئی تو ہر طرف خوف تھا عالم یہ تھا کہ میں خود بھی بہت ڈری ہوئی تھی. گیٹ کو باہر سے تالا لگایا ہوا تھا کہ نہ کوئی جائے نہ کوئی آئے پر شوہر نے کام پر جانا تو تھا ہی
    اس لئے روز بحث ہوتی اور مجبوراً ہار مان کر گیٹ کھول دیتی تھی ایک دن ایسا ہوا کہ بیٹے کو کسی کام سے اسٹور تک جانا پڑا تو واپس تھوڑا دیر سے آیا میں پریشان ہوگئی جب واپس آیا تو اس نے بتایا ساتھ گلی میں ایک گھر کے سامنے کوئی بزرگ پڑے ہوئے تھے تو انکل نے ان کو اٹھا کے سامنے کچرے والے پلاٹ میں پھینک دیا ہے پھینک دیا لفظ پر مجھے حیرت ہوئی اور تجسس ہوا کہ وہ بزرگ کون ہیں جاکے دیکھنا چاہیے

    میں جب گیٹ سے نکلی تو سامنے گھروں کی عورتیں دروازوں میں کھڑی اسی بزرگ کی طرف دیکھ رہی تھیں, مجھے وہاں جاتے دیکھ کر بولیں باجی کیا کر رہی ہو وہاں نہ جاؤ لگتا ہے یہ کارونا کا مریض ہے اسی لئے کوئی اسے یہاں پھینک گیا ہے… میں نے کہا اگر کارونا بھی ہے اس کو مگر ہے تو ایک انسان ہی ناں مرنا تو ایک نہ ایک دن سب کو ہے مگر انسانیت نہیں مرنی چائیے میں نے وضاحت دی مگر وہ عورتیں اپنا اپنا فلسفہ سنا کے مجھے روکنے کی کوشش کرتی رہیں میں نے ان کی باتیں ان سنی کرکے اس بزرگ تک پہنچی تو دیکھا وہ لگ بھگ 80 سال کے تھے اور بیماری کی وجہ سے اٹھنے کی ہمت کھو چکے تھے میں نے ان کو ہاتھ سے جیسے پکڑا تو اندازہ ہوگیا کہ ان کو سخت بخار ہو رہا ہے . میرے اٹھانے سے وہ اٹھ نہ پائے اتنے میں میرا بیٹا جو 14 سال کا ہے وہ آگیا میں نے اسے کہا کہ میری مدد کرو اس طرح ایک طرف سے اس نے اور ایک طرف سے میں نے اس بزرگ کو کندھا دیا اور بمشکل گھر تک لے آئی اور یہ منظر وہاں کھڑے مرد حضرات بھی دیکھ رہے تھے ( مگر بےحسی ایسی کہ کوئی مدد کو نہ آیا)

    گھر پہنچا کہ میں اس بزرگ کو صحن میں ہی بستر پر لیٹا دیا اور جلدی سے قہوہ بنا کہ ان کو چمچ سے پلایا ان کے میلے کپڑے پر ان کے چہرے سے وہ کسی اچھے گھر کے لگ رہے تھے جب قہوہ پی چکے تو ان کو پیناڈول ٹیبلٹ دی مگر وہ بخار کی ٹیبلٹ لینے سے انکاری تھے ہمارے اوپر والے پورشن میں ایک کرائے دار فیملی رہتی تھی ان کی ایک عورت چھت سے دیکھ رہی تھی کہنے لگی باجی یہ بخار کی گولی نہیں لے رہے کیا پتا کوئی جاسوس نہ ہو اس کو باہر جا کے چھوڑ کے آؤ میں نے کہا کہ بابا جی کی ایسی حالت نہیں کہ ان کو سڑک پر چھوڑا جائے میں یہ کہتے ہوئے اصرار کرنے لگی بابا جی یہ دیکھیں یہ کوئی اور ٹیبلٹ نہیں ہے یہ پیناڈول ہے اس سے آپ کا بخار کم ہوگا میرے اصرار پر انھوں نے میرے ہاتھ سے گولی لے کر منہ میں ڈالی مگر کچھ ہی دیر میں نکال لی, تب مجھے اپنے والد صاحب کا خیال آیا کہ وہ بھی ٹیبلٹ کے چار حصے کرکے تب لیتے ہیں میں نے ٹیبلٹ کو چار حصوں میں کرکے بابا جی کو دیا جو انھوں نے آسانی سے کھا لی
    اس وقت ان کی حالت ایسی نہیں تھی کہ میں ان سے ان کے متعلق کوئی سوال کرتی اس لئے ان کو آرام کرنے دیا ٹیبلٹ لینے کے بعد وہ سو گئے اور ایک ڈیڑھ گھنٹے بعد انھوں نے آواز دی نسرین کہاں ہو میں پاس گئی ماتھے پہ ہاتھ رکھا اب ان کا بخار اتر چکا تھا میں نے ان سے پوچھا آپکا نام کیا ہے

    تو بولے میرا نام ریاض ہے نسرین کہاں ہے اور ساتھ ہی نسرین کو آوازیں دینے لگے میں نے ان کی جیب کی تلاشی لی کہ شاید کوئی شناخت ملے مگر ایک کاغذ تک ان کی جیب میں سے نہ نکلا تو میری پریشانی بڑھ گئی. اس بزرگ کی باتوں سے اندازہ ہوگیا تھا کہ ان کو کچھ بھی یاد نہیں تھوڑی دیر بعد ان کو کھانا کھلایا ان کی حالت کافی سنبھل چکی تھی مگر میں سوچوں میں گم کہ اب کیا کروں پولیس کو بتاؤں یا نہ بتاؤں میں نے ان بزرگ کی موبائل سے تصویر لے کر پہلے ہی سوشل میڈیا واٹس ایپ پر شئیر کردی تھی رات ہونے والی تھی اور میرے شوہر کے آنے کا وقت قریب تھا سوچا جب وہ آجائیں تو پولیس کو بتائیں گے تقریباً شام 8:30 پہ مجھے ایک انجان نمبر سے کال آئی میں نے اٹینڈ کی تو دوسری طرف سے کوئی لڑکا بولا آپ نے سوشل میڈیا پر جو تصویر شئیر کی وہ بزرگ آپ کے گھر میں ہیں اس وقت ؟میں نے کہا جی ہاں میرے گھر پر ہیں تو اس نے بتایا کہ وہ ہمارے ایک جاننے والے ہیں انکے رشتہ دار ہیں اور صبح سے ان کو ڈھونڈ رہے ہیں

    میں نے پوچھا کہ یہ کہاں کے ہیں تو اس نے بتایا کہ چکوال سے ہیں پر رہتے قاسم مارکیٹ کے پاس ہیں میں نے ان کو گھر کا ایڈریس بتایا اور ایک گھنٹے کے اندر ہی ان کی فیملی میرے گھر آگئی ساتھ میں ایک عورت بھی تھی میں نے بتایا کہ بابا جی تو کچھ بتا نہیں رہے بس کسی نسرین کو آوازیں دے رہے ہیں تو وہ عورت بولی نسرین میرا نام ہے اور یہ میرے والد ہیں ان کی یاد داشت کھو گئی ہے اسی لئے ان کو میں اپنے پاس لے آئی تھی کہ ان کا علاج ہو سکے اور صبح نماز کے وقت گھر سے بنا بتائے نکل گئے تھے ہم تب سے ان کو ڈھونڈ رہے ہیں ،انھوں نے میرا بہت شکریہ ادا کیا اور نسرین نے بہت دعائیں دیں اور بابا جی بیٹی کو پہچان کے اس کے ساتھ چلے گئے دوسرے دن وہی عورتیں میرے گھر آئیں کہ باجی آپ نے بہت بڑی نیکی کی ہے اس کا اجر آپ کو بہت ملے گا, ان کی باتیں سن کر میرے دماغ میں ان کی کل کی باتیں گونجنے لگیں کہ باجی اس کے پاس نہ جانا یہ کرونا کا مریض لگ رہا ہے وغیرہ وغیرہ

    ان میں سے ایک نے کہا آ پ کو ڈر نہیں لگا کیونکہ آپ تو گیٹ کو باہر سے بھی تالا لگا کر رکھتی ہیں, میں نے کہا ہاں مجھے ڈر لگا تھا ان بزرگ کو دیکھ کر کہ اگر اس بزرگ کی جگہ میرے اپنے والد ہوتے اور وہ اس حالت میں ہوتے تو ان کا ایسے کوئی تماشہ دیکھتا…
    میرے اس جواب پر وہ چپ ہوگئیں.

  • میری روز کی سُرخ تحریر،تحریر:زکیہ نیر ذکّی

    میری روز کی سُرخ تحریر،تحریر:زکیہ نیر ذکّی

    میری بیٹیوں کی شادی کسی انسان سے کرنا ” رحیم یار خان میں تعینات سب انسپکٹر میری روز نے زندگی سے ناطہ توڑنے سے چند لمحات پہلے ان لفظوں میں لپٹی التجا کر کے معاشرے میں موجود عورت کی اصل حیثیت کی پوری داستان سنا ڈالی۔۔اس نے خود تو جیسے تیسے زندگی گزار دی مگر جاتے جاتے بیٹیوں کے مستقبل کے بارے دل میں موجود خوف کو عیاں کر گئی اس ایک جملے میں شکوہ بھی ہے اور وہ درد بھی جس نے اسے انتہائی قدم اٹھانے پر مجبور کیا۔وہ عورت جس نے تعلیم حاصل کی ایک ایسے شعبے کو چنا جس میں مضبوط اعصاب کا ہونا پہلی شرط مانی جاتی ہے مگر نہ جانے ان اعصاب پر کیا کچھ بیتا تھا جس نے برداشت کی ہر حد کو کرچی کرچی کر کہ رکھ دیا جس نے اس سوچ کو ہی اعصاب سے کھینچ اتارا کہ معصوم بیٹیاں ماں بن ادھوری رہ جائیں گی بس سسکتی زندگی کے اس درد سے فرار کی جو راہ چُنی تو وہ محض جیتا جاگتا جہاں ہی چھوڑ جانا ٹھہرا۔۔

    معاملات کی چھان بین ہوگی میرا نہیں خیال کہ ہمارے قوانین میں کوئی ایسا قانون بھی ہے جو خود کشی کے پیچھے کار فرما عوامل اور عناصر تک ہاتھ ڈال سکے۔۔کچھ خبریں یہ بھی ہیں کہ روز میری ڈی پی او رحیم یار خان سے چھٹی کے معاملات پر دل برداشتہ تھیں جبکہ شوہر نے اسی شعبے سے وابستہ ہونے کے باوجود بیوی کے ذہنی تناؤ میں کمی کرنے کے بجائے اس قدر اضافہ کیا کہ اسے چاروں طرف کے در بند دکھائی دینے لگے۔بیوی کے لیے شوہر ہی وہ واحد سہارا ہوتا ہے جس سے دکھ درد میں امیدوں کا ہر دھاگہ بلا تکلف باندھ دیتی ہے جب حالات اس نہج پر لے آئے کہ خوشیوں میں ساتھ نبھانے والے سے اب الجھنوں میں بھی ساتھ مانگا جائے تو سوائے بے رخی اور اجنبیت کے کچھ دکھائی نہ دیا۔۔نہ جانے کتنی راتیں اس امید میں بتا دی گئیں ہونگی کہ صبح ہوتے میرا ہمسفر میری راہیں آسان کرنے کے لیے میرا ہاتھ تھام لے گا مگر دن گزرتے گئے بڑی بیٹی چار سال کی ہوگئی زندگی کھلکھلانے کے بجائے سسکنے لگی تو سب انسپکٹر روز میری نے آزمائش میں مایوسی دینے والے اس رشتے کو الوداع کہہ ڈالا۔۔اور راہ یہ ڈھونڈی کہ شوہر سے علیحدگی لینے کے بجائے اپنے وجود کو اس دنیا سے ہی الگ کر دیا جائے۔۔

    سوچتی ہوں کہ وہ سرخی جس سے الوداعی پیغام لکھ کر چلی گئی وہی لال شوخ رنگ کی سرخی جسکے کھلے رنگ میں نہ جانے کتنے خواب ہونگے کتنی حسیں خواہشات ہونگی ایک ہنستی بستی ازدواجی زندگی جسکی چاہ ہر عورت کے دل پر سجی تحریر ہوتی ہے پھر ان خوابوں کو روندتے مسلتے اور بے توقیر ہوتے دیکھ کر وہ کس قدر ٹوٹی ہوگی۔۔

    ہم جیسے ترقی پذیر ممالک میں بڑھ چڑھ کر خواتین کے حقوق کی بات کی جاتی ہے پلے کارڈز اٹھائے جاتے ہیں اعدادوشمار کا ایک چارٹ ہر سال پیش کیا جاتا ہے جس میں ان پر تشدد زیادتی انکے حقوق کی سلبی کے کئی واقعات شامل کیے جاتے ہیں ہم اکیسویں صدی میں ہوتے ہوئے بھی چار سال کی اس بچی کا جنازہ اٹھاتے ہیں جس سے چالیس سال کے مرد نے زیادتی کی ہوتی ہے اور پھر اسکی سانسیں روک دینے پر بھی وہ با اختیار نظر آتا ہے ونی، وٹہ سٹہ اور قرآن سے شادیاں یہ وہ پست رسمیں ہیں جو آج بھی ہمارے دیہی علاقوں میں بلا خوف و خطر وڈیروں اور جاگیر داروں کا پسندیدہ کھیل سمجھا جاتا ہے۔۔
    ملک کی آبادی کا اکاون فی صد حصہ خواتین پر مشتمل ہے ملک کی مجموعی ترقی اور مہنگائی کے اس دور میں اگر پڑھی لکھی عورت شادی کے بعد اپنا کرئیر جاری رکھنا چاہتی ہے تو اکثریت کے لیے یہ جان جوکھوں کا کام بن جاتا ہے بچوں اور سسرال کی زمہ داری شوہر کے فرائض گھر کے کام کاج جیسی رکاوٹوں کو وہ خوشی خوشی عبور کر بھی لے تو اسکے لیے نوکری جاری رکھنا مشکل سے مشکل بنا دیاجاتا ہے۔۔میں کئی ایسی خواتین کو جانتی ہوں جو ہر رات شوہر سے جنسی اور جسمانی تشدد بطور سزا اسلیے سہتیں کہ وہ صبح دفتر جاتے ہوئے خود کو مرد سے زیادہ با اختیار اور لائق فائق نہ سمجھ بیٹھیں۔انکے اعتماد کو روندنے کے لیے ہمسفر کہلانے والا مرد ہر حد تک جاکر اسے ذہن نشین کراتا ہے کہ عورت ہو لاکھ پیسہ کما لو یا نام بنا لو مرد کے درجے تک نہیں پہنچ سکتی مرد طاقتور ہے۔۔یہ وہ پست سوچ ہے جسکا سامنا اس دور میں بھی کئی کام کرنے والی خواتین کرتیں ہیں اولاد در بدر نہ ہوجائے،باپ بھائی کی عزت پر آنچ نہ آجائے،اگر پولیس میں شکایت کی تو شوہر جان سے ہی نہ مار دے اور سب سے بڑھ کر طلاق کا خوف کیونکہ ہمارا معاشرہ موت کو طلاق پر ترجیح دیتا ہے یہ وہ خدشات ہیں جن کی وجہ سے وہ تشدد تو برداشت کرتی رہتی ہیں مگر زبان نہیں کھول پاتیں کئی تو ایسی ہیں جو شوہروں کی جانب سے موٹی موٹی گالیاں اور کردار کشی پر بھی خاموش ہوجاتی ہیں۔۔ جو سب سے اہم نقطہ ہے اسے ہمیشہ نظر انداز کیا جاتا ہے اور وہ ہی کمزور خاندانی نظام میں گھسیٹے جانے والے ازدواجی رشتے۔۔رشتے کی نوعیت تو ایک جیسی ہوتی ہے مگر اپنی بیٹی اور دوسرے کی بیٹی کے متعلق ہماری سوچ تقسیم ہوجاتی ہے۔۔ہم اپنی بیٹی کے سکون کے لیے ہر ایک قدم اٹھانے کو تیار ہوتے ہیں داماد سے ہر ایک توقع پر پورا اترنے کا تقاضا کرتے ہیں۔۔بیٹی کے ہنستے بستے گھر کی تمنا ترجیح ہوتی ہے مجال ہے داماد کی جو بیٹی کی آنکھ میں ایک آنسو بھی لانے کا گناہ گار ہو۔۔مگر بہو جو آپکے خاندان کا فرد بننے کے لیے اپنا گھر چھوڑ آئی اپنی عادتیں اپنی خواہشیں اپنے سارے ارمان بابل کے آنگن کو سونپ آئی۔۔اب یہ ذمہ داری اسکے شوہر سمیت سسرال کے ہر فرد پر عائد ہوتی ہے کہ وہ اسے تحفظ فراہم کریں اسکی آسانی کے لیے اسکا ساتھ دیں اسکی مشکلات کو حل کرنے کے لیے ساتھ کھڑا ہوا جائے۔۔مگر جب اسے نئے گھر میں اپنائیت کے بجائے اجنبیت، سکون کے بجائے ناچاقی،ساتھ کے بجائے تنہائی اور لاڈ کے بجائے تشدد ملے گا تو وہ ٹوٹے گی بھی اور بکھرے گی بھی۔۔قران بھی شوہر کو عورت کو قوام قرار دیتا ہے مگر جب محافظ اور رکھوالا ہے آپ کو غیر محفوظ ہونے کا احساس دلانے لگے تو پھر وہ عورت کہاں جائے۔۔گھر سے نکلتے سمے اسے کہا جاتا ہے سسرال میں نبھا کرنا اب وہی تمہارا گھر ہے۔۔کتنی عجیب سی بات ہے ناں کہ سرخ آنچل اوڑھ لینے کے بعد وہ بابل کے گھر سے تو عورت پرائی ہوئی تھی مگر پیا گھر میں بھی اسے اپنا نہیں سمجھاجاتا۔۔ تبھی روز میری نے سوچا ہوگا کہ شاید قبر ہی واحد جگہ ہے جو کم از کم اسکی اپنی تو ہوگی۔۔۔۔

    zakiya
    :زکیہ نیر ذکّی

    @NayyarZakia

  • کراچی ڈکیتوں سے بچاؤ ،تحریر .ام سلمیٰ

    کراچی ڈکیتوں سے بچاؤ ،تحریر .ام سلمیٰ

    کراچی ڈکیتوں سے بچاؤ ،تحریر .ام سلمیٰ

    کراچی میں پچھلے کئی سالوں سے اسٹریٹ کرائمز میں مستقل اضافہ ہو رہا ہے لیکن پچھلے کئی ماہ میں یے اضافہ کئی گنا اضافہ ہوگیا ہے۔ زندگی اور قیمتی اشیاء کی حفاظت کے حوالے سے بگڑتی ہوئی صورتحال کی بنیادی وجوہات تک پہنچنے کے لیے آپ کو ماہر معاشیات یا فلسفی بننے کی ضرورت نہیں ہے۔ جرائم کی بڑھتی ہوئی رواں ماہ ایک اور بات سامنے آئی ہے کہ اس طرح کے جرائم جیل کے اندر سے آپریٹ ہو رہے ہیں. یہ کرنے والے اور اِنکی سرپرستی کرنے والے اس قدر مضبوط ہوگئے ہیں کہ انکو جیل کے اندر سے ایسے کام کرنے میں کوئی دقت پیش نہں آرہی ہے۔اور کئی واقعات میں خود قانون نافذ کرنے والے اداروں کے افراد ملوث پائے گئے ہیں. جو عام شہریوں نے پکڑنے کے بعد پولیس کے حوالے کیے ہیں اس صورتحال سے نمٹنے کے لیے سندھ کی صوبائی حکومت کے پاس کوئی فوری حل نہں نظر آتا.

    چند روز قبل اقلیتی برادری سے تعلق رکھنے والا ایک تاجر کلفٹن کے نواحی علاقے میں دن دیہاڑے ڈکیتی کی واردات میں اس وقت اپنی جان اور مال سے ہاتھ دھو بیٹھا جب وہ بینک سے 70 لاکھ روپے سے زائد نکال کر جا رہا تھا۔ ڈاکوؤں نے مزاحمت کی تو اسے گولی مار کر ہلاک کر دیا۔ کراچی میں جان کی قیمت اب ایک موبائل فون کی قیمت جتنی رہ گئی ہے کیوں کے چھینے والے افراد مزاحمت کرنے والوں کو ایک گولی سے اِنکی جان کا خاتمہ کر دیتے ہیں.

    اسی دن ایک نوبیاہتا نوجوان کو ایک اور پوش علاقے میں اس کی رہائش گاہ پر اس کی والدہ، بہن اور خاندان کے دیگر افراد کے سامنے گولی مار کر ہلاک کر دیا گیا۔ ملک کے معاشی حب میں تقریباً آئے روز ڈکیتیوں اور قتل و غارت گری کے واقعات رونما ہو رہے ہیں۔ معمولی مزاحمت پر لوگ مارے جا رہے ہیں۔ شہری اس قدر خوفزدہ ہیں کہ وہ معمولی رقم بھی لے جانے سے ڈرتے ہیں۔ATM سے پیسے نکالتے ڈرتے ہیں کوئی بھی محفوظ محسوس نہیں کر رہا ہے۔تو ایسے میں اگر گورنمنٹ ہر شخص کو بینکنگ کے طرف لا نا چاہتی ہے تو اس سے پہلے گورنمنٹ کو حالات سازگار بنانا ہونگے.

    ان جرائم کے بڑھنے کی سب سے بنیادی وجہ ان جرائم کو کنٹرول نہ کرنا ہے جب تک ان کا صحیح طرح سد باب نہں کیا جائے گا اس میں اضافہ ہوتا رہے ہے اور باقی ساری وجوہات جن کی وجہ سے جرائم میں اضافہ ہو رہا ہے ٹیکسوں کے بڑھتے ہوئے بوجھ اور کم ہوتے روزگار کے مواقع کے مجموعی اثرات جرائم کے بڑھتے ہوئے گراف میں ظاہر ہو رہے ہیں، بشمول لوٹ مار۔ میڈیا رپورٹس کے مطابق 2021 کے پہلے آٹھ مہینوں میں شہر میں اسٹریٹ کرائم کے تقریباً پچاس ہزار واقعات رونما ہوئے جن میں زیادہ تر اغوا برائے تاوان، قتل، گاڑیوں کی چوری کے ساتھ ساتھ موبائل فون چھیننے کے واقعات تھے ۔ اور ہر ماہ اس میں اضافہ ہی دیکھنے میں آرہا ہے اور اس کی بنیادی وجہ کئی سالوں سے ہوتے ہوئے ان واقعات کا کوئی صحیح سد باب نہں ہو رہا تو جرائم پیشہ لوگ اور مضبوط ہوجاتے ہیں. مجرم دن دیہاڑے دکانداروں عام شہریوں کو کو تیزی سے نشانہ بنا رہے ہیں، جس سے تاجر اورہر عام شخص اپنی جانوں اور قیمتی چیزوں کے خوف میں مبتلا ہیں۔

    روزگار کے مواقع پیدا کرنے کے لیے ملک کو معاشی وسعت کے لیے سرمایہ کاری کی ضرورت ہے۔ بیمار معیشت کو صحت کی طرف واپس لانا ایک بہت بڑا کام ہے۔ یہ حقیقت کہ صوبائی وزیر اعلیٰ اور کے ایم سی کے ایڈمنسٹریٹر وزیر تعلیم سعید غنی نے کئی موقعوں پر سنگین جرائم کی صورتحال کو تسلیم کیا ہے اس سے ظاہر ہوتا ہے کے موجودہ نظام میں کمزوری ہے جس کے باعث حالات دن بہ دن بد تر ہو رہے ہیں. ان حالات سے قانون کی حکمرانی کو نافذ کرنے کی حکومت کی اہلیت پر لوگوں کے گھٹتے ہوئے اعتماد کو فروغ مل رہا ہے.حکومت کو جلد سے جلد عملی طور پے ان حالات کو کنٹرول کرنے کے لئے میدان میں آنا ہوگا ورنہ صورتحال اس سے زیادہ کہیں اور بد تر ہوجائے گی۔

    Twitter handle
    @umesalma_

  • کیا یہ کھلا تضاد نہیں ؟ تحریر : ریحانہ جدون

    کیا یہ کھلا تضاد نہیں ؟ تحریر : ریحانہ جدون

    غریبوں کے بچے خواب دیکھنے کی بجائے زندہ رہنے کے لئے مزدوری کررہے ہیں اور پیسے اور وسائل پر چند فیصد لوگ برا جمان ہیں اور اس کے برعکس غریب دیہاڑی کے لئے ترس رہا ہے
    حقیقت یہی ہے پاکستان میں سرمایہ داروں نے حکمرانوں نے جم کے ترقی کی.
    ترقی تو وہ ہوتی ہے جس میں عوام کو سہولیات میسر ہوں خواندگی کی شرح میں اضافہ ہو.
    پر
    جہاں کچرے سے کاغذ چن کے انکو بیچ کر بھوک مٹائی جائے وہاں ترقی نہیں ہوتی.
    میں روز صبح کام پر جاتے ہوئے دو معصوم بچوں کو دیکھتی ہوں جن کے نازک کندھوں پر پرانا تھیلا لٹکا ہوتا ہے
    معمول کے مطابق جب میں بس سٹاپ پر پہنچی تو پتا چلا کہ گاڑی لیٹ ہے اس لئے میں پیدل چلنے لگی تو وہی بچے میرے سامنے تھے جن کو میں روز دیکھتی تھی
    ان میں سے ایک بچہ لگ بھگ 7 سال کا تھا وہ اپنے چھوٹے بھائی کا ہاتھ تھامے کچرے کے ڈھیر سے کاغذ چن رہا تھا اور اسکا وہ معصوم چھوٹا بھائی بھی اپنے کام میں ماہر لگ رہا تھا.
    میں ان کے قریب گئی تو مجھے یہ دیکھ کر بہت دکھ ہوا کہ اس معصوم کے پیروں میں جوتے تک نہیں تھے اور اس سردی میں بنا جوتوں کے وہ کچرے میں سے کاغذ اور پلاسٹک کی بوتلیں ڈھونڈ ڈھونڈ کے اپنے تھیلے میں جمع کر رہے تھے, میں نے اس چھوٹے بچے کا ہاتھ پکڑ کر سائیڈ میں لے آئی تو اس کا 7 سالہ بھائی کسی محافظ کی طرح میرے پاس آیا اپنے بھائی کا ہاتھ چھڑایا اور چل نکلا
    میں نے کہا بیٹا اس کے جوتے کہاں ہیں ؟
    تو اس نے نفی میں سر کو ہلا کے جواب دے دیا
    آپ کا نام کیا ہے پر اس نے میرے کسی سوال کا جواب نہیں دیا اور اپنے بھائی کا ہاتھ تھامے چل پڑا

    وہاں کھڑے ایک شخص سے میں نے پوچھا کہ یہ کون ہیں تو اس نے بتایا کہ یہ لوگ ادھر پاس ہی کرائے کے مکان میں رہتے ہیں باپ دیہاڑی لگاتا ہے اور یہ بچے ہر روز کاغذ چنتے ہیں پھر کباڑ میں فروخت کرکے جو پیسے ملتے ہیں گھر لے جاتے ہیں.
    یہ سن کر میں تیز قدموں سے ان کے پاس پہنچ گئی جو سڑک کے کنارے ایک کوڑے دان کے پاس کھڑے تھے پر کوڑے دان ان کے قد سے بڑا تھا
    میں نے بڑے بچے کو پیار سے کہا بیٹا آپکے بڑے بہن بھائی ہیں تو پھر اس نے نفی میں سر ہلایا
    کتنے پیسے اس ردی کے مل جاتے ہیں میں نے اس کے تھیلے کی طرف اشارہ کرتے ہوئے پوچھا تو اس نے معصومیت سے جواب دیا 50 روپے.
    میں نے 100 روپے کا نوٹ اس بچے کو دکھاتے ہوئے کہا یہ آپ کی کمائی, اب آپ گھر جائیں ٹھنڈ بہت ہے تو اس نے ہچکچاتے ہوئے پیسے لے لیے.

    یہ بچے جب بڑے ہونگے تو ان کو اپنا بچپن یاد ہوگا ؟
    کیا ان بچوں کی پسند نا پسند نہیں ؟
    کیا ان کے خواب نہیں ؟
    بالکل ہیں اور ہونگے کیونکہ والدین کی ہمیشہ سے خواہش رہی ہے کہ ان کے بچے ایک قابل اور کامیاب انسان بنیں مگر اپنی غربت کے ہاتھوں وہ اپنے خوابوں کا گلہ گھونٹ دیتے ہیں. کئی ایک ایسے ہیں جو خود مشکل سے گزر بسر کرکے بچے کو اعلیٰ تعلیم دلواتے ہیں مگر ڈگری پاس ہونے کے باوجود اس کو کہیں اچھی نوکری نہیں ملتی.
    کچھ دن پہلے سوشل میڈیا پر ایک نوجوان کی ویڈیو دیکھنے کو ملی جو ایم ایس سی ریاضی ہے پر دو وقت کی روٹی کے لئے خاکروب کی ملازمت کرنے پر مجبور ہوگیا ہے. تین سال مسلسل نوکری کی تلاش کے باوجود اسے مایوسی ہوئی اور مایوس ہونے کے بعد انسٹی ٹیوٹ آف یورولوجی میں خاکروب کی نوکری کرلی وہ بھی صرف ڈیلی ویجز پر.
    ملک میں اب بھی کئی لوگ جھگیوں میں رہنے پر مجبور ہیں اور دوسری طرف کئی کنال پر مشتمل محلوں میں کچھ خاندان بستے ہیں کیا یہ کھلا تضاد نہیں ؟؟
    معاشرے میں امیر اور غریب کا فرق مزید بڑھتا جارہا ہے مسلسل مہنگائی نے ناصرف غریب کی کمر توڑی ہے بلکہ امیر اور غریب کے اس فرق کو خطرناک حد تک پہنچا دیا ہے .
    @Rehna_7

  • 24واں تھیٹر فیسٹیول ٗ الحمراء کا عظیم کارنامہ ثابت ہوا!: تحریر:صبح صادق

    24واں تھیٹر فیسٹیول ٗ الحمراء کا عظیم کارنامہ ثابت ہوا!: تحریر:صبح صادق

    الحمراء کے 24واں سات روز تھیٹر فیسٹیول ٗڈرامہ کی روایت کو تقویت ملی ہے۔
    تھیٹر فیسٹیول ٗوزیر اعلی پنجاب عثمان بزدار کی کلچر دوست پالیسیوں کا عکا س تھا۔ سربراہ الحمراء
    محکمہ اطلاعات وثقافت کی مکمل سرپرستی میں اپنے مشن کو جاری رکھے ہوئے ہیں۔
    صوبائی وزیر ثقافت خیال احمد کاسترو ٗ سیکرٹری اطلاعات راجہ جہانگیر انور کی خصوصی توجہ حوصلہ کا باعث ہے۔ذوالفقار علی زلفی
    الحمراء ہی وہ جگہ ہے جہاں تھیٹر کی روایت کو تقویت مل سکتی ہے۔عالمی شہرہ آفاق آرٹسٹ قوی خان
    الحمراء کے بھاگ دوڑ ایک ایسے افسر کے ہاتھ میں ہے جو خود ایک آرٹسٹ ہے۔قوی خان
    پاکستان میں آرٹ کا روح رواں الحمراء ہے۔ ایگزیکٹوڈائریکٹر الحمراء ذوالفقار علی زلفی
    24ویں سات روزالحمراء تھیٹر فیسٹیول کو تاریخ میں سنہری حروف سے لکھا جائے گا۔ ذوالفقار علی زلفی
    دنیا بھر میں الحمراء،اس کے پروگرامز کو چاہنے اور پسند کرنے والوں،اپنی ٹیم اور دیگر سٹیک ہولڈر کا مشکور ہوں۔
    فیسٹیول میں ٗجنون،داستان حضرت انسان، میڈاعشق وی تو، ہور دا ہور،سانوری،لپڑا۔مریا ہوا کتا،دیوانہ بکار خیش ہشیار پیش کئے گئے،درجنو ں نوجوان آرٹسٹوں کی اداکاری دیکھنے کو ملی۔
    فیسٹیول کے آغاز پر ایگزیکٹوڈائریکٹر الحمراء ذوالفقار علی زلفی نے اپنی تقریر میں کہا کہ الحمراء معاشرہ کی خوبصورتی کاعمل جاری رکھے ہوئے ہے،تھیٹر فیسٹیول سماجی اقدار کا عکاس ہے،الحمراء کو اپنی سماجی خدمت کا وقار حاصل ہے،نوجوانوں کو اپنی اعلی روایات سے جوڑا دیکھ کر خوشی ہوتی ہے۔

    الحمراء ایک آرٹ لونگ کمپلیکس ہے۔آپ جب بھی الحمراء آئیں جہاں آپ کو عوام اور آرٹ ”گیٹ ٹو گیڈر “(GETTOGETHER)نظر آئیں گے۔نئے سال کی آمد پر یہاں ادبی وثقافتی سرگرمیاں روز پڑگئیں۔فروری کا مہینہ تھیٹر کی روایت کو مضبوط بنانے میں معاون ثابت ہوا۔جب لاہور آرٹس کونسل نے 24واں سات روز الحمراء تھیٹر فیسٹیول سجایا۔اس فیسٹیول کو ہزاروں کی تعدا د میں لوگوں نے دیکھا بلکہ الحمراء کی سوشل میڈیا حکمت عملی کے باعث تو یہ تعدار لاکھوں میں پہنچ گئی۔پاکستان بھر کے میڈیا نے اس فیسٹیول کو کامیاب بنانے کے لئے الحمراء کا بھرپور ساتھ نبھایا۔شام 6بجتے ہی لوگ الحمراء ہال نمبر دو کے باہر اکٹھے ہونا شروع ہو جاتے۔کوویڈ نے انسانی معاشرہ کو تھوڈا زیادہ ہی DISCIPLINED بنا دیا ہے۔داخلی دروازے پر لوگ قطار در قطار کھڑے اپنا کوویڈ ویکیسی نیشن کارڈ دیکھاتے،اور ایک سیٹ چھوڑ کر اپنی اپنی جگہوں پر اطمینا ن سے بیٹھ جاتے۔
    الحمراء کے اس فیسٹیول سے تھیٹر کی روایت پھر توانائی پکڑ گئی ہے، اس کی وجہ بہت سادہ ہے۔ اس فیسٹیول کو سجانے کے پس پردہ محنت اور لگن کاایک طویل عمل پنہاں ہے۔ایگزیکٹوڈائریکٹر الحمراء ذوالفقارعلی زلفی نے اپنا تجرنہ بھرپور انداز میں استعمال کیا۔اسے تھیٹر گروپس کو اس فیسٹیول میں شامل کیا گیا جن کے پاس بامعنی کہانیاں اور با صلاحیت ادارکار تھے۔اس فیسٹیول کی اختتامی تقریب میں دُنیا کے نامور اداکار قوی خان مہمان خصوصی تھے۔انھوں نے اپنے خیالات کو اظہار کرتے ہوئے کہا کہ الحمراء ہی وہ جگہ ہے جہاں تھیٹر کی روایت کو تقویت مل سکتی ہے، انھوں نے اس بات پر بھی خوشی کا اظہار کیا کہ الحمراء کے بھاگ دوڑ ایک ایسے افسر کے ہاتھ میں ہے جو خود ایک آرٹسٹ ہے۔قوی خان کے یہ جملے الحمراء انتظامیہ کے لئے حوصلہ کا باعث ہیں۔ الحمراء کے تمام پروگرامز کوحکومت پنجاب کا مکمل تعاو ن حاصل ہوتا ہے،وزیر اعلی پنجاب سردار عثمان بزدار کی ثقافت دوست پالیسوں کی بدولت صوبہ پنجاب کی اقدار کو احسن انداز میں اجاگر کیا جا رہا ہے۔صوبائی وزیر ثقافت خیال احمد کاسترو،سیکرٹری اطلاعات وثقافت راجہ جہانگیر انور کی خصوصی دل چسپی الحمراء کی انتظامیہ کے لئے حوصلہ افزائی کا باعث بنتی ہے۔وگ الحمراء آنا کیوں پسند کرتے ہیں۔جس جگہ پر انسان کو عزت دی جائے انسان وہی پر ہی تو جانا پسند کرتا ہے۔ سو الحمراء لوگوں کو بہت عزت دیتا ہے، انھیں اپنے لئے اعزاز سمجھتا ہے،یہاں ان کے ساتھ عزت و احترام پیش آیا جاتا ہے۔یہی وجہ رہی کے فیسٹیول کے ساتوں روز الحمراء کا ہال نمبر دو لوگوں سے بھرا رہا۔گزیکٹوڈائریکٹر الحمراء ذوالفقار علی زلفی تو اپنی ہر گفتگو میں برملا اس بات کا اظہار کرتے ہیں کہ الحمراء آپ سب کا ہے،جس کسی کے پاس بھی ٹیلنٹ ہے وہ آئے اور اس عظیم پلیٹ فارم کا حصہ بنے۔بلاشبہ مواقعے فراہم کرنے میں الحمراء کا کردار قابل تقلیدہے۔مستنداور معتبر آرٹسٹ کا اپنی نظر سے آرٹسٹوں کا کام دیکھانا اور اسے پسند کرنا حقیقت میں ایک بڑا کارنامہ ہے۔الحمراء کے 24ویں سات روز تھیٹر فیسٹیول کو پاکستان کے آرٹسٹوں نے خود آکر دیکھا اور الحمراء کے پلیٹ فارم کی تعریف کی۔

    فیسٹیول کے پہلے روز عکس تھیٹر نے اپنا ڈرامہ جنون پیش کیا،ڈرامہ افضال نبی نے تحریر کیا جس میں کوویڈ کا شکار بیوی سے شوہر کی لازوال محبت کو شائقین فن کے سامنے پیش کیا گیا۔ڈرامہ میں افضال نبی،سفیرہ راجپوت،ظہیر تاج،محمد اعظم،ندا منیر،کرن منیز،رائے علی،رضا اور محمد نظام نے اپنا کردار نبھایا۔ڈرامہ کی حاض بات افضال نبی کا شوہر کا رول تھا جس میں انھوں نے اپنی اداکاری سے ہال میں بیٹھے سینکڑوں حاضرین کو اپنے سحر میں باندھے رکھا۔فیسٹیول کے آغاز پر ایگزیکٹوڈائریکٹر الحمراء ذوالفقار علی زلفی نے اپنی تقریر میں کہا کہ الحمراء معاشرہ کی خوبصورتی کاعمل جاری رکھے ہوئے ہے،تھیٹر فیسٹیول سماجی اقدار کا عکاس ہے،الحمراء کو اپنی سماجی خدمت کا وقار حاصل ہے،نوجوانوں کو اپنی اعلی روایات سے جوڑا دیکھ کر خوشی ہوتی ہے۔فیسٹیول کے دوسرے روز غیور تھیٹر نے اپنا ڈرامہ ”داستان حضرت انسان“ پیش کیا۔ڈرامے کے نہایت شاندار تھے،ڈرامہ میں اپنی احسن روایات سے دور ہوتے انسان کو دیکھایا گیا،لالچ،فریب،جھوٹی شان و شوکت کے لئے تگ ودو کرنے کی دوڑ میں انسان کو اپنے رنگ روپ چھوڑ کر انسانیت سے گرتے دیکھایا گیا۔جودیکھنے والوں کے لئے سبق آموز بھی تھی اور توجہ طلب تھی۔ ڈرامہ ہلکے پھلکے کامیڈی کے انداز میں سماجی رویوں کا عکاس تھا، اداکاروں کے زبردست اداکاری متاثر کن تھی۔ڈرامہ کو عارف متین نے تحریر کیا جبکہ حمزہ غیور اختر کی ہدایات تھیں۔نوجوان آرٹسٹوں مرزا عمیراور حمزہ غیور ڈرامہ کے اداکار تھے۔ذوالفقارعلی زلفی نے اپنے پیغام میں کہاکہ فیسٹیو ل دیکھنے والے معاشرتی بہتری میں اپنا فعال کردار ادا کریں،تھیٹر کی روایت الحمراء کی کاوشوں کی بدولت زندہ ہے،فیسٹیول دیکھنے والوں کو تادیر یاد رہے گا۔اس فیسٹیول کے بعد الحمراء نے یہ بات ثابت کی دی ہے کہ ہمارے ہاں اچھا ڈرامہ آج بھی ہے اور ہمیشہ رہے گا، اچھی کہانی لکھنے والے بھی موجو د ہیں اور اس کہانی پر پرفارم کرنے کا ہنر جاننے والے بھی۔لاہور آرٹس کونسل الحمراء نہ صرف ڈرامہ بلکہ فنون لطیفہ کی تمام اصنا ف میں پینری فراہم کرنے والا ادارہ بن چکا ہے۔آج ہمیں جو ہر سو فن و ثقافت کے شعبے میں ترو تازگی نظر آتی ہے اس میں کسی نہ کسی صورت الحمراء کا رول ضرور ہے۔ الحمراء تھیٹر فیسٹیول کے تیسرے روز سلامت پروڈکشن کا پنجابی ڈرامہ ”ہور دا ہور“ پیش کیا گیا۔یہ ڈرامہ سعادت حسن منٹو کے ریڈیائی ڈرامہ ”تلون“ سے ماخوذ تھا۔جسے تنویر حسن نے تحریر کیا۔ڈرامہ کی کہانی تین رومانیوں کرداروں کے گرد گھومتی ہے۔دیکھنے والا ڈرامہ کا اثر لیے بغیر نہیں رہ سکتا یہی ڈرامہ کا اصل ہوتا ہے۔مزیدکہا جائے تو یہ ڈرامہ عشق کی راہ و رسم اور اس راہ میں دی جانے والی قربانیوں سے عبارت تھا،کہانی دل چسپ مراحل سے گزرتی ہوئی اختتام پذیر ہوتی ہے۔ڈرامہ دیکھنے والے ہر داد ٗ دینے والے سین پر بڑھ چڑ ھ کر داد دیتے رہے۔کہانی میں انسانی جذبات نمایاں تھے۔نامور آرٹسٹوں ذیشان حیدر،عثمان چوہدری،شیزاخان نے اپنے فن کا مظاہرہ کیا۔

    ہر گزرتے دن کے ساتھ لوگوں کی تھیٹر فیسٹیول میں توجہ بڑھ رہی تھی۔اس کی ایک وجہ یہ تھی کہ تھیٹر فیسٹیول کے تمام ڈرامے کہانی میں معتبر،زبان وبیاں میں معیاری اور عمدہ اسلوب کے حامل تھے۔فیسٹیول دیکھنے والے شائقین بہت باذوق تھے جب بھی کسی بھی ڈرامہ کا کلائمکس آتا،شائقین اپنی سیٹوں سے کھڑے ہوکر داد دیتے رہے جس سے اداکاروں کو حوصلہ ملتا۔یہ فیسٹیول زبان و ادب کی خدمات میں بھی اہم پیش رفت تھا،آج کی نوجوان نسل کو اپنی زبان سے قربت پیدا کا ذریعہ بھی۔ فیسٹیول کے چوتھے روز کریٹو پروڈکشن نے عظیم صوفی شاعر خواجہ فرید کی کافی ”میڈا عشق وی تو“ پرمبنی اپنا ڈرامہ پیش کیا۔ڈرامہ رفقہ کاشف نے تحریر کیا تھا۔جبکہ زوہیب حیدر نے ڈائریکٹر کیا۔شاندار کہانی اور اداکاری کے سبب ڈرامہ دیکھنے والوں کو مدتوں یاد رہے گا۔نامور آرٹسٹوں اقرا پریت،عثمان ریحان،عمر قریشی،انیق احمد،بلال احمد، اویس، ڈاکٹر تبسم،علی حید ر،عمران ارمانی،عابد علی نے ڈرامہ کے کردار تھے۔

    ہر ڈرامہ تھیٹر فیسٹیول کے وقار میں اضافہ کا باعث تھا۔اس حوالے سے تمام تھیٹر گروپس بلاشبہ خراج تحسین کے مستحق ہیں۔الحمراء آرٹس کونسل ڈرامہ دیکھنے والوں کو ایسا موقع باربار فراہم کرتا رہے گا۔الحمرا کے پروگرامز کی کامیابی یہاں کی تجربہ کار ٹیم کے سر جاتی ہے۔فیسٹیول کے پانچویں روز نورتن کا ڈرامہ سانور ی پیش کیا گیا۔ٹھنڈے پانیوں کے دیس کے سب ٹائٹل کے ساتھ ڈرامہ سانوری کے لکھاری اور ڈائریکٹر شاہد پاشا تھے۔نامور آرٹسٹوں سہیل طارق،سمیرا سہیل،فرح فاروقی،جاوید حسین،منصور بھٹی،شاہ رلعلی،ارسلان لوہار،راؤ محسن کریم،عدیل جاوید،ماروی،عمران ساحل اور نشا ملک ڈرامے کے اہم کردار تھے۔کہانی میں چولستان کے لوگوں کو مختلف مسائل کا دلیری سے مقابلہ کرتے دیکھایا گیا ہے۔فیسٹیول کے چھٹے روز اجوکاء تھیٹر نے اپنا ڈرامہ لپڑا۔مریا ہوا کتا پیش کیا۔جبکہ فیسٹیول کے آخری روز آزادتھیٹر نے اپنا ڈرامہ دیوانہ بکار خیش ہشیار پیش کیا۔ ایگزیکٹوڈائریکٹر لاہور آرٹس کونسل الحمراء ذوالفقار علی زلفی نے اپنی اختتامی تقریر میں نوجوان آرٹسٹوں کی اداکار کو سراہا اور کہا کہ ہمارا نوجوان بے پناہ صلاحیتوں کا مالک ہے،الحمرا ء انکے ٹیلنٹ کو جلا بخش رہا ہے۔ذوالفقار علی زلفی نے کہا کہ تھیٹر کی روایت کو تقویت دینا ہماری ذمہ داری تھی جو پوری کی،پورے تھیٹر فیسٹیول میں سماجی مسائل اور انکے معاشرتی حل کو موضو ع بنایا گیا جو خدمت کے درجے میں آتا ہے۔ذوالفقار علی زلفی نے کہا کہ میں دنیا بھر میں الحمراء،اس کے پروگرامز کو چاہنے اور پسند کرنے والوں،اپنی ٹیم اور دیگر سٹیک ہولڈر کا مشکور ہوں۔فیسٹیول کو الحمراء سوشل میڈیا کے ذریعے پوری دنیا کے لاکھوں لوگوں نے دیکھا اور پسند کیا۔یہ الحمراء انتظامیہ کا اثاثہ ہے۔الحمراء جلد تازہ جذبوں کے ساتھ مزید پروگرام پیش کرئے گا۔

  • منشیات اورہمارے رویئے، تحریر:صدیقہ افتخار

    منشیات اورہمارے رویئے، تحریر:صدیقہ افتخار

    منشیات وہ مادے ہیں جو کسی شخص کی ذہنی یا جسمانی حالت کو بدل دیتے ہیں۔ وہ ہمارے دماغ کے کام کرنے کے طریقے، ہم کیسے محسوس کرتے ہیں اور برتاؤ کرتے ہیں، ہماری سمجھ اور ہمارے حواس کو متاثر کر سکتے ہیں۔ یہ انہیں غیر متوقع اور خطرناک بناتا ہے، خاص طور پر نوجوانوں کے لیے۔

    منشیات کا استعمال:
    کوئی بھی مادہ یا منشیات جب مطلوبہ مقدار سے زیادہ لی جائے تو اسے منشیات کے استعمال میں شمار کیا جاتا ہے۔ منشیات کا استعمال اس وقت ہوتا ہے جب کوئی شخص قانونی یا غیر قانونی مادوں کا استعمال ان طریقوں سے کرتا ہے جو آپ کو نہیں کرنا چاہیے۔ ایسا کرنے کا مقصد یا تو اچھا محسوس کرنا، تناؤ کو کم کرنا یا حقیقت سے بچنا ہے۔ آخر کار ان منشیات کا عادی ہو جاتا ہے، جو منشیات کی لت کا باعث بنتا ہے۔

    عام ادویات:
    پاکستان میں سب سے زیادہ استعمال ہونے والے منشیات یہ ہیں:
    • حشیش (بھنگ) سب سے زیادہ استعمال ہونے والا مادہ ہے۔
    • سکون آور اور سکون آور ادویات
    • ہیروئن
    • افیون
    • انجیکشن لگانا منشیات کا استعمال
    • ایکسٹیسی
    • سٹریٹ چلڈرن کے درمیان سالوینٹ کی زیادتی

    ہمارے ملک میں بہت سی غیر منافع بخش تنظیموں نے بحالی کے مراکز بنائے ہیں اور وہ تیزی سے پھیل رہے ہیں۔ پاکستان میں اس وقت 500 سے زائد مراکز کام کر رہے ہیں جن میں سے کچھ مشہور ہیں:
    • AASRecovery سینٹر
    Ibtida rehabilitation centr
    • نیا افق کیئر سنٹر
    • جینیئس بحالی مرکز
    • وعدہ بحالی مرکز
    ایمن کلینک
    • عقیدت بحالی مرکز
    • نشان بحالی پاک
    عام زندگی میں تحمل کا ارتکاب کرنے میں بہت سی چیزوں کو تبدیل کرنا شامل ہے، بشمول:
    • جس طرح سے آپ تناؤ سے نمٹتے ہیں۔
    •کیسےلوگوں کو آپ اپنی زندگی میں اجازت دیتے ہیں۔
    • آپ اپنے فارغ وقت میں کیا کرتے ہیں۔
    • آپ اپنے بارے میں کیسا سوچتے ہیں۔
    • نسخہ اور اوور دی کاؤنٹر ادویات جو آپ لیتے ہیں۔
    بحالی کا آغاز آپ کے جسم کو منشیات سے پاک کرنا اور واپسی کی علامات کو منظم کرنا ہے۔ پھر مشاورت آتی ہے۔ مشاورت میں انفرادی، گروپ، اور/یا خاندان شامل ہیں آپ کو آپ کے منشیات کے استعمال کی بنیادی وجوہات کی نشاندہی کرنے، اپنے تعلقات کو ٹھیک کرنے، اور صحت مند مقابلہ کرنے کی مہارتیں سیکھنے میں مدد مل سکتی ہے۔ صحت یابی کی طرف تیسرا قدم دوا لینا ہے۔ اور، ایک طویل مدتی فالو اپ کی ضرورت ہے۔

    میں خود کسی بھی شکل اور قسم کی منشیات سے پرہیز کرتا ہوں۔ یہ ایک قسم کا عہد ہے جو میں نے اپنے ساتھ لیا ہے کہ میں ایسا کبھی نہیں کروں گا۔ منشیات بذات خود ایک زیادتی ہے۔ میں جب بھی باہر جاتا ہوں تو بہت سے نشے کے عادی افراد کو دیکھتا ہوں جنہوں نے صرف اپنی اس بری عادت کی وجہ سے اپنی زندگی برباد کر رکھی ہے۔ میں ایسے لوگوں کے لیے کچھ کرنا چاہتا ہوں۔ ہو سکتا ہے کہ مستقبل میں جب میرے پاس کافی طاقت ہو تو میں اس کے پھیلاؤ کو روکنے، نشے کے عادی افراد کی مدد اور اس حوالے سے بیداری بڑھانے کے لیے بڑے پیمانے پر کام کروں گا۔ ابھی میں اپنی حیثیت میں رہ کر اپنا کردار ادا کر رہا ہوں۔
    میں نوجوانوں اور بزرگوں میں اسی طرح شعور بیدار کرنے کی پوری کوشش کرتا ہوں۔ اگر کوئی عادی ہے تو پورے خاندان کو مشاورت کی ضرورت ہےآگاہی اولین ترجیح ہے تاکہ لوگ اس زیادتی سے دور رہیں۔ اسے یہ جاننے کی ضرورت ہے کہ یہ ہماری صحت کو ذہنی اور جسمانی دونوں طرح سے کیسے نقصان پہنچاتا ہے۔ یہ ہماری سماجی زندگی کو تباہ کر دیتا ہے۔ ہمارا معاشرہ نشےکےعادی کو قبول نہیں کرتا۔ ہمیں اس کے طویل مدتی اثرات کے بارے میں اچھی طرح سے آگاہ کیا جانا چاہیے۔

    تمام تر آگاہی کے باوجود اگر کوئی منشیات اور چیزیں لیتا ہے تو اس شخص کو سنجیدہ مشاورت کی ضرورت ہوتی ہے۔ اسے اکیلا نہیں چھوڑنا چاہیے جو وہ چاہے اور جو چاہے تجربہ کرے۔ ابتدائی مرحلے میں رکنا اتنا مشکل نہیں ہے لیکن اگر کوئی شخص خود کو اس پہلو میں مزید گہرائی میں لے جائے تو اس سے پیچھے ہٹنا ناقابل تصور حد تک مشکل ہے۔ ہمارے معاشرے میں منشیات کو ایک لعنت سمجھا جاتا ہے۔ اگر والدین کو پتہ چلتا ہے کہ ان کا بچہ پہلے منشیات کرتا ہے تو وہ اس کی توہین کرتے ہیں۔ اس توہین پر قابو پانے کے لیے وہ بچہ اس سے بھی زیادہ منشیات لیتا ہے جو کہ منشیات کی سب سے بنیادی شکل ہے، تمباکو(سگریٹ) جو قانونی طور پر دستیاب ہے، شروعات ہے۔ تمباکو نوشی اتنی نقصان دہ ہے کہ یہ اس کے ڈبے پر بھی کہتا ہے پھر بھی ہم تمباکو نوشی کرتے ہیں۔ یہ صرف انسانی فطرت ہے خاص کر جب ہم جوان ہوتے ہیں۔ اگر یہ سرزنش کام نہیں کرتی ہے تو گھر والے اسے باہر نکال دیتے ہیں۔ اور یہ دل دہلا دینے والا ہے۔ اسے باہر کیوں پھینکو؟ اس سے انکار کیوں؟ وہ تمہارا خون تمہارا بیٹا ہے۔ میں نے معروف اور خوشحال گھرانوں کے بچوں کو سڑکوں پر بھیک مانگتے، پلوں کے نیچے سوتے، پہلے سے استعمال شدہ سرنجوں سے انجکشن لگاتے دیکھا ہے۔ کیوں؟

    اس سلسلے میں والدین کو سنجیدہ مشاورت کی ضرورت ہے۔ وہ اپنی عزت، جو نام انہوں نے کمایا ہے اسے بچانے کے لیے انہیں باہر نکال دیتے ہیں۔ یہ کوئی صحیح حل نہیں ہے۔ ان سے کہا جائے کہ انہیں بحالی مرکز لے جائیں، صحت یاب کرائیں۔ ان کی پریشانی کو سمجھنا ضروری ہے کہ ان کی وجہ کیا ہے اس کا ازالہ کیا جائے۔

    ہماری ذہنی صحت اس بات پر اثر انداز ہوتی ہے کہ ہم زندگی سے نمٹنے کے دوران کیسے محسوس کرتے ہیں، سوچتے ہیں اور عمل کرتے ہیں۔ یہ زندگی کے ہر مرحلے میں اہم ہے۔ اس تیزی سے بڑھتی ہوئی دنیا میں، بہت چھوٹی عمر میں ہمیں اپنے مستقبل، تعلیم اور پیشے کے لیے سنجیدہ ہونے کے لیے کہا جاتا ہے۔ اگر کوئی تھوڑا سا بھی پیچھے رہ جائے تو یہ دنیا اسے پیچھے پھینک دیتی ہے اور اسے تکلیف ہوتی ہے۔ یہ ساری بڑھتی ہوئی بے چینی اور گھبراہٹ بے پناہ درد کی طرف لے جاتی ہے۔ ڈپریشن پوری دنیا میں ایک بہت عام مسئلہ بن چکا ہے۔ ایک وقت آتا ہے جب تکلیف برداشت کرنے والا مزید برداشت نہیں کر سکتا۔ وہ چاہتا ہے کہ یہ تمام دکھ اور تکلیف دور ہو جائے۔ اس کے نقطہ نظر میں اس کا سب سے آسان طریقہ بلاشبہ منشیات لینا ہے۔ وہ ہمارے دماغ کو بے حس کر دیتے ہیں اور آخر کار ہم اس درد سے آزاد ہو جاتے ہیں۔ اس سلسلے میں ہمیں اپنی زندگی میں اس مسلسل تناؤ پر قابو پانے کی ضرورت ہے۔ واحد راستہ خوش رہنا ہے۔ اس عطا کردہ زندگی کے ہر ایک حصے سے لطف اٹھائیں۔ اس لیے میں ڈپریشن اور اضطراب میں مبتلا لوگوں کی مدد کرنے کی پوری کوشش کرتا ہوں۔ میں ان کے چہروں پر مسکراہٹ لانے کی کوشش کرتا ہوں۔ ان کو خوش کرنے کے لیے چھوٹی چھوٹی یادیں دوں جب وہ میرے ساتھ نہ ہوں۔ اگر ہر کوئی یہ پہل کرے تو یقین کریں یہ دنیا بہت بہتر ہو جائے گی۔

    . مجھے پختہ یقین ہے کہ ہم مل کر اسے شکست دے سکتے ہیں اور اس لعنت کو اپنی قوم، اپنے ملک پاکستان سے مٹا سکتے ہیں۔ اس سلسلے میں اگر ہم اپنے آپ سے جنگ شروع کر دیں تو آسانی سے جیت سکتے ہیں۔ مجھے امید ہے کہ مستقبل میں ہماری مشترکہ کوششوں سے یہ براءی ہمارے درمیان نہیں رہے گی۔ انشاء اللہ.

  • ہماری نوجوان نسلوں کا مستقبل !تحریر: علی مجاہد

    ہماری نوجوان نسلوں کا مستقبل !تحریر: علی مجاہد

    ہفتہ کی رات تھی اور ایک بہت بہترین پروگرام کا انعقاد کیا گیا (کراچی میڈیا کلب) کی جانب سے انہوں نے اس پروگرام کو نام دیا (Digital Media Summit 2022)
    اب دیکھا جائے تو یہ ایک بہت اہم ٹاپک ہے اس وقت ڈسکس کرنے کےلئے کیوں کہ اس وقت ہر کسی کہ ہاتھ میں سمارٹ موبائل فون آگئے ہیں پر ہمیں اس کا استعمال ٹھیک سے نہیں آیا اسی پروگرام میں ایک پینل اسپیکر نے موبائل کو Gun کا نام دیا پر میں کہتا ہوں یہ Gun سے زیادہ خطرناک ہے آپ اپنے فون کا کیمرہ آن کریں کسی کی بھی ویڈیو یا تصویر بنائے اور پوسٹ کر دیں کہ اس نے گستاخی کی آپ دیکھیں کتنے لوگ قتل ہو جائیں گی اس کو کہا جاتا ہے Fifth war Generation اب آپ کو پستول نکالنے کی ضرورت نہیں ہوتی بس آپکی ایک پوسٹ جنگل میں آگ کی طرح پھیل جاتی ہے۔ میں نے جس پروگرام کا زکر کیا اس کا مقصد ہی یہی تھا کہ ہمارے پاس موبائل فونز تو آگئے پر ہم انکا صحیح استعمال کیسے کریں؟

    یہاں پر پروگرام کے مینجمنٹ نے ڈیجیٹل میڈیا کے حوالے سے مختلف اسپیکر بلائے جن میں صحافی، پروگرامر، مشہور یوٹیوبر اور اسلام 360 کے Founder بھی موجود تھے تو وہاں ایک بات جو سب سے زیادہ ہوئی وہ یہ تھی کہ ہماری نوجوان نسل میں سب سے بڑا مسئلہ یہ ہے کہ ہم نے کسی مشہور اچھے یوٹیوبر کو دیکھ لیا وہ اپنی روز مرہ کی زندگی کی ویڈیوز بناتا ہے اور اپلوڈ کرتا ہے تو اچھے کما بھی لیتا ہے چلو اب ہم کہتے ہیں کہ میں اس کی طرح کی ویڈیوز بنائوں پھر آپ کوئی اور یوٹیوب چینل دیکھتے ہیں یا پھر کسی Web Developer کو دیکھتے ہیں تو ہم کہتے ہیں کہ ہم بھی کورس کریں اور پیسہ کمائیں ہمارے اسٹوڈنٹس پڑھائی کر رہے ہوتے ہیں کامرس میں ڈپلومہ کر رہے ہوتے ہیں (Graphic Design) کا مطلب پڑھائی وہ کرتا اکائونٹن کی اور پھر مارکیٹ میں بیٹھ کر ڈیزائننگ کر رہے ہوتے ہیں ہم اپنا ٹارگٹ کلیئر نہیں کرتے ڈگری ہماری کچھ اور کام کچھ اور، زائد چھیپا بانی Islam360 انہوں نے وہاں موجود اسٹوڈنٹس سے کہا کہ پروگرامنگ کریں بہت بڑا اسکوپ ہے آپ کو کسی کہ پاس جانے کی ضرورت نہیں لوگ آئیں گے آپکے پاس آپکی (CV) لینے۔

    اگر آپ آج عام زندگی میں دیکھیں تو ہماری نوجوان نسل بربادی کی جانب بڑھ رہی ہے، کوئی نشے کی لت میں کوئی لڑکیوں کے چکر میں اپنی زندگی میں آگے جاکر کیا کرنا ہے کیا نہیں اسکی کوئی پرواہ نہیں بس ایک بات آپ انکے منہ سے زیادہ سنیں گے اور وہ ہوگی یار کوئی اچھی نوکری مل جائے اچھی تنخواہ ہو یہ ہو وہ ہو۔ اب جب وقت ہے کچھ بننے کا کچھ کرنے کا تو ہماری آدھی سے زیادہ نوجوان نسل پیار میں ہیں کچھ محبت میں ہارے ہوئے نشے کی جانب بڑھتے ہوئے نظر آرہے ہیں اور جو کچھ بچے کچے ہیں وہ پب جی، ٹک ٹاک وغیرہ وغیرہ میں اپنا وقت اور اپنی صلاحیت دونوں برباد کر رہے ہیں، اب اگر ہم بات کریں کہ ہماری نسلیں اس طرف اتنی تیزی سے کیوں جا رہی ہے تو اس میں سب سے بڑی وجہ میں کہتا ہوں وہ ہمارے اسکول سسٹم کی ہے، ہمارا تعلیمی نظام ایسا ہے کہ میٹرک پاس لڑکے آج آپکو مختلف سکولوں کے پرنسپل نظر آئیں گے، پھر ان سکولوں میں تعلیم کے نام پر ایک بہت بڑا بزنس چل رہا ہوتا ہے، آپ کسی بھی یونیورسٹی میں چلے جائیں وہاں آپکو ایسا ماحول ملے گا آپ تصور نہیں کر سکتے کہ آپ کسی اسلامی جمہوریہ یا ایسے ملک کی یونیورسٹی میں جو بنا ہی لا اللّٰہ اللہ محمد رسول کی بنیاد پر ہے۔

  • موبائل فون کے استعمال سے کتنا نقصان ہو رہا ہے” تحریر: احمد محمود

    موبائل فون کے استعمال سے کتنا نقصان ہو رہا ہے” تحریر: احمد محمود

    تیزی سے ترقی کرتی دنیا میں اہم کردار ٹکنالوجی کا ہے خاص کر موبائل فون،
    جتنی اس موبائل فون کے آنے سے سہولیات مہیا ہوئی اتنا ہی اس کے آنے سے معاشرہ میں بہت زیادہ نقصان اٹھانا پڑا،
    جب موبائل فون ایجاد کیا گیا تھا تو اس وقت اٹھارہ گھنٹے چارجنگ لگانے کے بعد صرف دو گھنٹے استعمال کر سکتے تھے، اور آج دو گھنٹے چارجنگ لگانے کے بعد اٹھارہ
    گھنٹے استعمال کرتے ہیں، اس وقت لوگ ضرورت کے وقت ہی استعمال کیا کرتے تھے،

    اب جبکہ موبائل فون ہماری مجبوری بن چکا ہے دن ہو یا رات صبح ہو یا شام جیسے انسانوں کو زندہ رہنے کے لیے کھانے پینے کی ضرورت ہوتی ہے اب اس میں اس موبائل کو بھی ساتھ ملا لیں اس کے بغیر زندگی گزارنا تقریبا ناممکن ہوچکا ہے، اگر چوبیس گھنٹے میں موبائل فون استعمال نہ کریں تو جیسے ویٹامن کی کمی محسوس ہونے لگتی ہے، اس موبائل فون کی وجہ سے کتنے اہم رشتے اپنائیت دینے والے بزرگوں اور نایاب دوستوں کو بچھڑتے دیکھا، یہ سوشل میڈیا یہ دوستوں کے ساتھ رابطے میں رہنے والے اصل رشتے بھول بیٹھے ہیں، افسوس کی بات تو یہ ہے کہ اگر کوئی بندہ ہمارے پاس بیٹھ کر باتیں کر رہا ہے تو ہماری نوجوان نسل کے پاس اتنا ٹائم نہیں ہوتا کہ دو گھڑی توجہ دیں اور انکے ساتھ باتیں کر لیں یہ سوشل میڈیا کا پیار سب فراڈ ہے اصل محبت اور خلوص اس شخص کا ہے جو آپ کے پاس بیٹھا ہوتا ہے،

    پہلے جب کوئی خوشی کا موقع اتا تھا شادی بیاہ یا عیدین کے موقع پر ہم اپنے اپنے پیاروں کو ملنے انکے گھر جایا کرتے تھے صرف وہ ہی ایک موقع ہوتا تھا جب سب خاندان والے ایک ساتھ ایک جگہ موجود ہوتے تھے لیکن اس ایک موقع کو بھی اس موبائل فون نے چھین لیا کیونکہ آج کل لوگ صرف ایک میسج کر دیتے ہیں،

    موبائل فون استعمال کرنے کی ہر کسی کی اپنی وجہ ہے کوئی ٹائم پاس کرتا ہے تو کوئی سوشل میڈیا،اور ان سب میں سے ایک نشہ اور بھی ہے اور وہ گیمز کھیلنے کا ہے حال ہی میں ایک گیم متعارف کروائی گئی ہے جس گیم کا نام پب جی ہے جو اس نشے میں آگیا ہے اسے دنیا جہان کی کوئی خبر نہیں سیکڑوں کی تعداد میں نوجوانوں کی زندگیاں نگل گئی یہ یم،المختصر اس موبائل فون نے ہماری نسلوں کو تباہی کے راستے پر لگا دیا،لیکن اس کی ایک خاص بات ہے کہ اس موبائل فون نے جتنی بھی ترقی کر لی لیکن اپنا بنیادی مقصد نہیں بھولا،پہلے ون جی یعنی صرف کال کرنے کی سہولت،پھر ٹو جی یعنی میسج کرنے کی سہولت،

    پھر تھری جی یعنی فوٹو بھیجنے اور دیکھنے کی سہولت، پھر فور جی یعنی ویڈیو کال کرنے کی سہولت اور پوری دنیا کو آپ گھر بیٹھے انٹرنیٹ سے دیکھنے کی سہولت، اب ماہرین ٹکنالوجی فائیو جی کے تجربات کر رہے ہیں، چاہے جتنی بھی ترقی کر لی اس موبائل نے لیکن اپنا اصل کام نہیں بھولا آپ نے دیکھا ہوگا کہ چاہے جتنا بھی ضروری کام کر رہےہیں موبائل پر لیکن جب کال آتی ہے تو موبائل فوراً سب ہٹا کر پہلے کہتا ہے کہ کال سنو، افسوس کہ موبائل اپنے کام نہیں بھولا لیکن انسان بھول بیٹھے ہیں کیونکہ انسان کو بھی دن میں پانچ بار کال آتی ہے اللہ کی طرف سے لیکن ہم لوگ جاننے کے باوجود بھی انجان بن جاتے ہیں،
    اللہ پاک ہم سب کو ہدایت دے اور راہِ حق پر چلنے کی توفیق عطا فرمائے،
    اللہ ہو آپ سب کا حامی و ناصر پاکستان ذندہ باد

  • نشہ ایک لعنت ہے . تحریر:حنا سرور

    نشہ ایک لعنت ہے . تحریر:حنا سرور

    نشہ ایک بیماری ہے جس کا علاج انتہائ ضروری ہے ۔نشہ موت ہے زندگی انمول ہے ہر گلی محلے میں چرس آئس وغیرہ کی فروخت سرے عام ہے جس کی وجہ سے نوجوان نسل بربادی کی طرف گامزن ہے

    منشیات اور ہماری نوجوان نسل خاص کر طالبعلم طبقہ منشیات چرس،ایس،افیوم وغیره وغیره اگر ہم تھوڑا سوچ لے تو منشیات یا نشے کے جو عادی زیادہ تر ہمارے سٹوڈنٹس ہے وہ اس بیہودہ عمل میں مبتلا ہے.یہ زہر اج کل ہمارے طالب علموں میں اگ کی طرح پھیل رہا ہے.زیادہ تر لوگ اس سوچ میں پڑے ہیں کہ اس وبا کو اس اگ کو ختم کرنے والے کچھ سپیشل فورسیز ہے.پر میں ان لوگوں سے یہ سوال کرنا چاہتی ہوں کہ اگر اس کی روک تھام کےلے کچھ کچھ سپیشل departments ہے تو اس وقت کہا رہتی ہے جب ہمارے طالب علموں کے ہاسٹلوں تک یہ زہر پہنچایا جاتا ہے ؟اس وقت وہ افیسرز کہا رہتے ہے جب ھمارے جوان بھای ریل کی پٹریوں پر بیٹھ کر افیوم پیتے ہے.؟وہ ادارہ کہا ہے جو کہتے ھیں کہ ھم اس کو روکینگے. اپ کے آفسز کے کے قریب اس کی جو فکٹریاں ہے جہاں یہ زہر تیار ھوتا ہے اس وقت اپ کے فورس کہا رہتی ہے؟کیا اپ لوگ ساری عمر خرام کی کماٸ کھاے گے .کیا ساری عمر اپ کو لوگ خبر دیتے رہیں گے؟خود بھی کچھ انویسٹیگیشن کرے گے یا نہیں؟اس باتوں سے صاف پتہ چلتا ہے کہ اس اگ اس زھر کو پھیلانے میں اور جوان نسل کو برباد کرنے میں اس ڈیپارٹمنٹس کے خود اپنے لوگ ہے

    اہم بات کی طرف آتے ہیں ۔جو لوگ نشہ بیچتے ہیں ان کو یہ احساس نہیں کہ اس سے لوگوں پر کیا اثر پڑتا ہے ۔نوجوان نسل میں بڑھتے ہووے منشیات کے استعمال کی وجہ سے ملک بھر میں ایسے سینٹر ہسپتال بن چکے ہیں جہاں نشہ کے عادی لوگوں کا علاج کیا جاتا ہے ۔ان کو واپس زندگی کی طرف لایا جاتا ہے۔۔آپ نے ہزاروں ایسے لوگوں سے رابطہ کیا ہوگا ۔جو نشے کے عادی ہوتے ہیں اور اگر ان سے یہ سوال کیا جاے ۔کہ تم نشہ کیوں کرتے ہو ۔تمھاری فیملی خاندان بچے لاوارثوں کی سی زندگی جی رہے ہیں کیا تمھیں ان پر ترس نہیں آتا ۔۔تو وہ ایک ہی جواب دے گا ۔۔کہ جی دوست نے نشہ پر لگا دیا تھا ۔۔یا کسی رشتہ دار نے ۔۔لیکن جب آپ پوچھو گے کہ تم نے اس سے کبھی چھٹکارہ پانا چاہا ۔۔تو اس کے پاس کوی جواب نہیں ہوگا ۔۔یاد رکھیے نشہ کے عادی انسان کا علاج تب تک ممکن نہیں جب تک وہ خود نشہ کو نہیں چھوڑنا چاہتا ۔ورنہ جو اس کی زندگی بچانے کی خطیر رقم اور کوشش کرتے ہیں ان کو مایوسی کا سامنا کرنا پڑتا ہے کہ جب وہ صحت یاب ہونے کے بعد دوبارہ نشہ کرنا شروع کر دیتا ہے آپ نے اکثر نشئ لوگوں کو گند کہ ڈھیڑ پر کچڑے پر ہی بیٹھے دیکھا ہوگا ۔۔ایسی جگہوں پر ایک عام انسان کا کچھ لمحے رکنا مشکل ہو جاتا ہے لیکن نشہ کہ عادی لوگ ہمیشہ ایسی ہی جگہوں پر بیٹھے ہوتے ہیں کیونکہ گند پیتے گند کھاتے ان کی رگوں میں بھی وہی گند سراہیت کر جاتا ہے کہ ان کو گٹر پاس بیٹھ کر بھی بدبو محسوس نہیں ہوتی ۔۔ بدبو میں رہنے والے ایک انسان کی سوچ نارمل کیسے ہو سکتی ہے نشہ انسان کو انسان سے حیوان بنا دیتا ہے ۔وہ بچوں کو بیچتے مارتے بیوی کو پیٹتے بھی درد محسوس نہیں کرے گا اکثر ایسے لوگ اپنی ماوں تک بھی کو نہیں چھوڑتے ۔لیکن ایک بات سمجھنے والی ہے ۔کہ نشہ ڈھونڈنے والا سترہ سال کا لڑکا زمین کی تہ سے بھی نشہ ڈھونڈ لیتا ہے جبکہ پولیس نشہ سپلائ کرنے والوں کو نہیں ڈھونڈ پاتی ۔۔کیسے نشہ سپلائ والا جیلوں تک ہسپتالوں تک بھی پہنچ جاتا ہے ۔۔کیسے صحت مند ہووے نشے کے عادی لوگ پھر سے نشے پر لگ جاتے ہیں ۔۔بظاہر دیکھنے سننے میں یہ عام سا لفظ ہے ڈائیلاگ مکالمہ ہے کہ منشیات کے خلاف جنگ کیسے ۔آپکو شاید یاد ہو کہ منشیات کے خلاف جنگ لڑتے لڑتے کتنے ایسے انسان قتل ہو چکے اس مافیا کو ڈھونڈتے ڈھونڈتے کئ ایسے لوگ لاپتہ ہو گے ۔۔آخر کیوں کیا یہ مافیا ہماری حکومت کی پہنچ سے دور ہوتا جارہا ہے۔ اس وقت ہمارے ملک میں کم از کم 67 لاکھ لوگ نشے کے عادی ہیں۔۔کہتے ہیں ہمارے ملک میں منشیات پر قانون بہت سخت ہے ۔۔حیرت ہے اتنے سخت قانون کے باوجود لاکھوں لوگ نشہ کررہے ہیں اور قانون دیکھ کر ان دیکھی کررہا ہے ۔۔

    ایک بات ماہرین کا خیال ہے کہ انسان پہلے پہل نشے کو بطور تفریح یا موج مستی استعمال کرتا ہے، جو رفتہ رفتہ اس کی عادت بن جاتی ہے۔ کینیڈا کی مک گیل یونیورسٹی کے ماہرین نے اسی سوال کا جواب ڈھونڈنے کے لیے رضاکاروں کی مدد سے انسانی دماغ کا تجزیہ کیا۔‏رسرچ جرنل میں شائع رپورٹ کےمطابق ماہرین نےرضاکاروں کو اپنےان دوستوں کےساتھ کوکین استعمال کرنے کے لیے کہا جو پہلےسےہی کوکین استعمال کرتےتھے۔ماہرین نے اس عمل کی ویڈیو ریکارڈنگ بھی کی،جس کے بعد ان رضاکاروں کے دماغ کا پی ای ٹی اسکین کیا گیا،جنہیں کوکین استعمال کرنےکے لیے کہا گیا۔ ‏اسکین کے وقت ان رضاکاروں کو دوستوں کی وہ ویڈیو بھی دکھائی گئی، جس میں وہ دوستوں کے ساتھ کوکین استعمال کر رہے تھے۔ ماہرین نے اس دوران رضاکاروں کے دماغ کی حرکت کا جائزہ لیا تو پتہ چلا کہ انکے دماغ کے وہ حصے جو کسی بھی چیز کی خواہش کرنےکے لیے استعمال ہوتے ہیں، وہ متحرک ہو گئے۔‏ماہرین نے بتایا کہ ہر انسان کے دماغ میں نیورو ٹرانسمیٹر ہوتا ہے، جو انسان کی خواہش اور اس کی تکمیل سے متعلق نظام کا کام کرتا ہے، یہ سسٹم اس وقت متحرک ہو جاتا ہے، جب کسی بھی کام کو پہلے پہل تفریح کے طور پر استعمال کیا جاتا ہے۔ ‏ماہرین کے مطابق کئی لوگ کوکین کو پہلے بطور تفریح یا موج مستی کے لیے استعمال کرتے ہیں، مگر وہ اپنے دوستوں یا ارد گرد کے ماحول میں اس کا بار بار استعمال دیکھتے ہیں تو ان کے دماغ کا نیوروٹرانسمیٹر متحرک ہو جاتا ہے، جس کے بعد یہ عمل ان کی عادت بن جاتا ہے۔۔۔اس کے علاوہ بہت سے ڈاکٹرز کا کہنا ہے کہ ایڈز پھیلنے کی سب سے بڑی بیماری نشہ کرنے والے افراد کا سرنجوں کا غلط استعمال ہے ۔خیال رہے ایڈز کا مرض ایک وائرس کے زریعے پھیلتا ہے جو انسانی مدافعتی نظام کو تباہ کر دیتا ہے۔ایسی حالت میں کوی بھی بیماری جسم میں داخل ہوتی ہے تو مہلک صورت اختیار کر لیتی ہے

    آج کل ہمارے ڈراموں میں فلموں میں چینلوں میں شراب اور سگریٹ کو واضع دکھایا جاتا ہے اور اوپر لکھا ہوتا ہے شراب حرام ہے ۔سگریٹ نوشی حرام ہے ۔سمجھ سے باہر ہے نہ ۔کہ جب شراب سگریٹ حرام ہے تو آپ چینلوں پر لوگوں کو پلاتے دکھا کر کیا ثابت کرنا چاہتے ہو آپ خود لوگوں کو اس پر لگا رہے ہو ۔کم عمر بچے بچیاں وہ جو دیکھیں گی وہی سیکھیں گے ۔۔پھر جب کہا جاتا ہے کہ نوجوان ڈراموں فلموں سے غلط چیزیں سیکھ رہی ہیں تو ہمارے کچھ مہان لوگوں کا کہنا ہوتا ہے کہ نہیں جی ۔ تربیت تو والدین دیتے اب چینلوں کا کیا قصور ۔۔شاید آپ بھول گے ہیں کہ ایک تربیت معاشرہ بھی دیتا ہے ۔انسان اپنے آس پاس رہنے والوں سے جو دیکھتا ہے وہی سیکھتا ہے وہی کرتا ہے ۔۔۔آپ اپنی ریٹنگ کے لیے اس حد تک گر گے ہو کہ آپ اداکاروں کو ڈراموں میں شراب تک پلاتے ہو ۔۔کہنے کو یہ میرا اسلامی جہموریہ پاکستان ہے اور کرنے کو ہم نے ہر وہ کام کرنا ہے جو اسلام کے خلاف ہو جس سے اسلام نے منع کیا ہو ۔۔۔یا حرام اور ناجائز کہا ہو ۔۔

    نشہ کے عادی لوگ اپنی جان کے دشمن اور اپنے رب کے ایسے ناشکرگزار بندے ہیں جو اس کی عطا کردہ زندگی کی قدر کرنے کی بجائے اسے برباد کرنے پر تلے ہوتے ہیں اور منشیات فروش ملک و ملت کے وہ دشمن ہیں جو نوجوان نسل کو تباہ کرکے ملک کی بنیادیں کھوکھلی کر رہے ہیں خداراہ اپنے بچوں پہ نظر رکھیں ان کی ہر ایکٹویٹی پر نظر رکھیں ۔۔۔وہ کہاں جارہے ہیں کیا کررہے ہیں ان کے دوست کون سے ہیں کہاں رہتے ہیں ۔یہ باتیں آجکل بہت چھوٹی لگتی ہے کیونکہ آج کہ دور کو جنریشن ماڈرن کہتی ہے اور والدین کا یوں پوچھنا ناگوار گزرتا ہے ان کو ۔۔دور کتنا ہی ماڈرن ہو جاے ایک وقت آتا ہے جب آپ کو پچھتاوا ہوتا ہے کہ والدین ٹھیک کہتے تھے ۔کاش ہم ان کی سن لیتے ۔۔لیکن پھر نہ والدین ہوتے ہیں اور نہ وہ لمحہ ۔۔سواے پچھتاوے کے۔۔