Baaghi TV

Category: معاشرہ و ثقافت

  • لوگوں کیلئے آسانی پیدا کریں — عبدالحفیظ چنیوٹی

    لوگوں کیلئے آسانی پیدا کریں — عبدالحفیظ چنیوٹی

    حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت کی، کہا: رسول اللہ ﷺ نے فرمایا:

    "ایک شخص راستے سے اوپر پڑی ہوئی درخت کی ایک شاخ کے پاس سے گزرا تو اس نے کہا: اللہ کی قسم! میں اس شاخ کو مسلمانوں کے راستے سے ہٹا دوں گا تاکہ یہ ان کو ایذا نہ دے تو اس شخص کو جنت میں داخل کر دیا گیا۔”

    ہمارے گلی محلہ شہر کی سڑکوں پر گہرے کھڈے ہوتے ہیں جس کے باعث ہم یا اور کوئی کسی حادثے کا شکار ہوجاتا ہے، گندگی پھیلانے میں ہمارا اپنا ہاتھ ہوتا ہے، گندگی کو اس کے مقام تک پہنچانے کی بجائے ہم کہیں بھی اس کو گرا دیتے ہیں جس سے ماحول خراب اور فضاء میں بیماریوں کے انبار وجود میں آتے ہیں اور اس کا نقصان جانوروں اور انسانوں کو ہوتا ہے،

    ہم اکثر یا روزانہ کی بنیاد پر ایسے حالات کا سامنے کرتے ہیں اور پھر دل ہی دل میں کڑھتے رہتے ہیں لیکن خود ہم یہ کام اور اپنی ذمہ داری ادا کرنے سے کتراتے ہیں اور چاہتے ہیں کہ یہ پریشانیاں خود بخود اور ہمارے کچھ بھی کئے بنا ختم ہوجائے لیکن ایسا ممکن نہیں کیونکہ جب ہم خود کچھ کرنا نہیں چاہتے تو اس پریشانی سے کسی کو کیا بچانا ہے ہم خود بھی نہیں بچ پاتے اور پھر اکثر اوقات ہمیں ایسی سستی کرنے عوض بھاری نقصان کا سامنا کر پڑجاتا ہے۔

    ہمیں چاہئیے کہ کم از کم اپنے گھر، تعلیمی و شعبہ سے متعلقہ جگہ کے سامنے پڑے کھڈوں کو مرمت، صفائی کا اہتمام، اور رات کے وقت کیلئے روشنی کا انتظام کر دیں ہمارے صرف اک اس عمل سے ہماری گلیاں، محلے، شہر، اور ملک صاف ستھرا، روشن اور حادثات سے کافی محفوظ ہوجائے اور کئی انسانی جانیں محفوظ ہوجائیں گی حادثات و بیماریوں سے۔

  • اسلام اچھا ہے لیکن مسلمان اچھے نہیں ہیں — نعمان سلطان

    اسلام اچھا ہے لیکن مسلمان اچھے نہیں ہیں — نعمان سلطان

    اللہ پاک اور نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کا جب بھی ذکر آیا ہے رب العالمین اور رحمت العالمین آیا ہے. یعنی رب اور اس کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم تمام جہانوں کے لئے ہیں.

    کسی جگہ بھی صرف مسلمانوں کا رب یا صرف مسلمانوں کے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم ذکر نہیں آیا لیکن ہم لوگ اسلام کے خودساختہ ٹھیکیدار بن گئے.

    اگر اللہ پاک اپنی تمام تر نافرمانیوں کے باوجود لوگوں کو بشمول مسلمان رزق دے رہا ہے ان پر اپنی عنایات کی بارش کر رہا ہے تو ہم کون ہوتے ہیں کسی پر تنقید کرنے والے اور اس کے ایمان کا فیصلہ کرنے والے.

    لیکن اس کے برعکس ہم نے لوگوں کے افعال کی بنیاد پر ان کے ایمان کا فیصلہ کر کے موقع پر ان کے ساتھ فوری انصاف کر کے دنیا میں اسلام کے بارے میں منفی تاثر کو اجاگر کیا.

    جب بھی کہیں بھی شدت پسندی کا ذکر آتا ہے تو توجہ بےاختیار مسلمانوں کی طرف چلی جاتی ہے اس کی وجہ دنیا بھر میں بننے والا ہمارا تنگ نظری اور شدت پسندی کا امیج ہے.

    دین اسلام میں حقوق اللہ اور حقوق العباد کو وضاحت سے بیان کیا گیا.. ساتھ ہی حقوق اللہ پر یہ کہہ کر حقوق العباد کو فوقیت دی گئی کہ روزمحشر اللہ پاک حقوق اللہ کی ادائیگی میں کوتاہی کو تو اپنی رحمت سے درگزر کر دے گا.

    لیکن اگر کسی نے حقوق العباد کی ادائیگی میں کوئی کوتاہی کی تو جب تک وہ شخص جس کا مذکورہ شخص نے حق غضب کیا اسے معاف نہیں کرے گا اللہ پاک بھی اس شخص کو معاف نہیں کرے گا.

    یہ بات تمام مسلمانوں کی تربیت کے لئے اللہ پاک نے تاکید سے بیان کی کیونکہ دنیا میں دین پھیلانے کا سب سے اچھا طریقہ یہ ہے کہ آپ اپنے قول و فعل سے دوسرے لوگوں کو متاثر کریں.

    لوگ آپ کی شخصیت دیکھ کر سوچیں کہ اگر یہ شخص اتنا اچھا ہے تو اس شخص کا دین کتنا اچھا ہو گا اور اس تجسس کی بنیاد پر وہ شخص دین کا مطالعہ شروع کرے اور آخرکار اسلام کی حقانیت کا قائل ہو جائے.

    لیکن ہم لوگوں نے اس کے بالکل برعکس طرزِ عمل شروع کر دیا.. ہماری ابتدا فرقہ ورانہ اختلافات سے شروع ہو کر اب اس نہج پر پہنچ گئی ہے کہ ہم کسی دوسرے شخص کا اپنے سے معمولی اختلاف رائے بھی برداشت نہیں کر سکتے.

    وہ دین جو ہمیں عفو درگزر کی تعلیم دیتا تھا اب ہم اس کے برعکس فوری بدلہ لینے پر فخر محسوس کرتے ہیں اور کچھ وقت گزرنے کے بعد اپنے طرز عمل پر پچھتاتے ہیں کہ ہم نے جذبات میں آکر غلط قدم اٹھا لیا.

    جذبات میں آکر فوری ردعمل دے کر ہم اپنا اور دوسروں کا گھر خراب کرتے ہیں.. پہلے چند مخصوص موضوعات یا افعال ایسے ہوتے تھے جن پر لوگ فوری ردعمل دیتے تھے اور عدم برداشت کا مظاہرہ کرتے تھے لیکن اب تو لوگوں کو عدم برداشت اور ردعمل دینے کے لئے بہانہ درکار ہوتا ہے.

    ہم میں عدم برداشت پھیلنے کی سب سے بڑی وجہ یہ ہے کہ ہم دوسروں کے موقف کو سنتے، سمجھتے اور برداشت نہیں کرتے ہیں.ہم لوگوں کے بارے میں ایک مخصوص سوچ قائم کر لیتے ہیں اور ان کے ہر عمل کو اسی سوچ کے تناظر میں دیکھتے ہیں اور اس پر ردعمل دیتے ہیں.

    ہم یہ نہیں سمجھتے کہ اگر کوئی بندہ دس باتیں غلط یا اختلافی کرتا ہے تو وہ ایک بات یا عمل ایسا کر دیتا ہے جو اس کے گزشتہ اعمال یا باتوں کا مداوا ہوتا ہے. ہم اس شخص سے اس کی دس غلط باتوں پر تنقید کے لئے نہیں ملتے بلکہ اس سے ایک صحیح بات حاصل کرنے کے لئے ملتے ہیں.

    ہمیں یہ سمجھنا چاہئے کہ ہمارے عدم برداشت کے رویے کی وجہ سے دنیا میں ہمارا منفی امیج بن گیا ہے اور ہمیں خود میں برداشت پیدا کر کے اپنا امیج منفی سے مثبت کرنا ہے.

    ہمیں یہ سمجھنا ہوگا کہ ہر بات پر ردعمل دینا ضروری نہیں ہوتا اگر آپ کو کوئی بات ناگوار یا اپنے عقائد کے خلاف محسوس ہوتی ہے تو آپ ایسی محفلوں میں جانے سے اجتناب کریں.

    اگر آپ چاہتے ہیں کہ آپ کے نظریے یا عقائد کے خلاف کوئی بات نہ ہو تو اس کا بہترین طریقہ یہ ہے کہ آپ اپنے ہم خیال لوگوں کی محفل اختیار کریں اور مزے کریں.

    اگر آپ علم حاصل کرنا چاہتے ہیں تو آپ کو اپنے ہم خیال لوگوں کی محفل سے باہر نکلنا پڑے گا اور خود میں تنقید سننے کا حوصلہ بھی پیدا کرنا پڑے گا کیونکہ علم دنیا میں موتیوں کی طرح بکھرا ہوا ہے اور اسے ہر جگہ گھوم پھر کے حاصل کرنا پڑتا ہے.

    اگر ہم چاہتے ہیں کہ دنیا میں ہمارے نظریے کی ترویج ہو تو اس کے لئے ہمیں پہلے خود کو دنیا کے لئے قابل قبول بنانا پڑے گا اور اس کے بعد اپنے طرزِ عمل سے دوسروں کو متاثر کر کے انہیں اپنے نظریے کی طرف راغب کرنا پڑے گا اور یہ سب اس وقت ممکن ہو گا جب ہم میں برداشت پیدا ہو گی. نہیں تو لوگ یہ کہہ کر ہمارے نظریے سے دور ہوتے جائیں گے کہ اسلام تو اچھا ہے لیکن مسلمان اچھے نہیں ہیں.

  • ہمارا رویّہ اور اس کے اثرات — عاشق علی بخاری

    ہمارا رویّہ اور اس کے اثرات — عاشق علی بخاری

    "رویہ” ایک ایسا لفظ ہے جسے ہم روزانہ کئی بار استعمال کرتے ہیں. اگر ہم اسے اپنے لفظوں میں بیان کرنا چاہیں تو اس سے مراد انسان کا اپنے ماحول کی جانب توجہ یا جھکاؤ کہہ سکتے ہیں اب ہم اسے تین مختلف قسموں میں تقسیم کرتے ہیں.

    (1) سوچنا
    (2)محسوس کرنا
    (3)برتاؤ

    ان میں سے پہلے دو ہمارے کردار کو بنانے میں اہم رول ادا کرتے ہیں. اگر ہم بہت زیادہ منفی سوچتے ہیں یا محسوس کرتے ہیں تو ہم اپنی شخصیت کو بگاڑ کی طرف دھکیل رہے ہوتے ہیں.تیسرا پہلو برتاؤ ہے، جس کا تعلق براہ راست ہمارے ارد گرد لوگوں سے ہوتا ہے.

    برتاؤ کے بھی دو پہلو ہیں:

    مثبت یامنفی.

    مثبت اور منفی رویوں کی پہچان کے لیے ہم چند مثالیں پیش کرتے ہیں.

    اندھے شخص کو سڑک پار کروانا، ریڑھی بان کو کھانا اور پانی مہیا کرنا، سڑک کنارے درخت لگانا، سردیوں میں غریب و مساکین میں گرم کپڑے دینا وغیرہ وغیرہ. یہ سب مثبت پہلو ہیں.

    اگر منفی مثالوں کی بات کریں تو سڑک کنارے درختوں کو اکھاڑنا، گندگی پھیلانا، کسی ضروت مند کو دھتکارنا، اگر آپ کی گاڑی سے کوئی ٹکرا جائے تو اسے اٹھانے کے بجائے برا بھلا کہنا یہ ہمارے منفی پہلو ہیں.

    اگر ہم مثبت رویے اپناتے ہیں تو ہم ایک بہترین معاشرہ تشکیل دے رہے ہوتے ہیں جو ہر ایک کے لیے فائدہ مند ہے. اگر منفی سوچ، منفی برتاؤ بڑھتا چلا جائے تو معاشرہ جنگل کے معاشرے سے کم دکھائی نہیں دیتا کیونکہ ایک معاشرے کی بنیاد انسانی رویوں پر ہی قائم ہوتی ہے.

    ہمارے مثبت اور منفی رویوں میں زبان کے استعمال کو بہت زیادہ اہمیت حاصل ہے، وہ اس وجہ سے کہ کبھی تو اس زبان سے نکلنے والے الفاظ انسان کو بلندیوں کی طرف لیجاتے ہیں اور کبھی انسان زبان کے نشتر برداشت نہیں کرپاتا اور اپنی ہی زندگی کا خاتمہ کردیتا ہے.غم کے وقت تسلی دینا، ہار کی صورت میں حوصلہ دینا، انسان کو اس بات کے لیے ابھارتے رہنا کہ تم کرسکتے ہو دوسرے انسان کے لیے کامیابی کا ذریعہ بنتا ہے.

    اب اس واقعے کو ہی دیکھ لیں اور یہ ہمارے معاشرے کا بدترین پہلو کہیں تو غلط نہ ہوگا.

    کہا جاتا ہے کہ ایک عرب تاجر جو اچھے اخلاق اور عمدہ کپڑوں اور خوشبوؤں کے استعمال کی وجہ سے مشہور تھا. ایک دن اس کے دوستوں نے اس سے مذاق کرنے کا سوچا، یہ چیز ان کے وہم و گمان میں بھی نہ تھی کہ ہمارا یہ مذاق اس قدر خطرناک ثابت ہوگا. سو جب وہ اپنی دکان کی طرف جارہا تھا تو راستے میں ملنے والا پہلا دوست کہتا ہے کیا ہی بہترین کپڑے پہنے ہوئے ہیں، مجھے بھی آسمانی رنگ بہت پسند ہے. اور یہ تم نے عمامہ الٹا کیوں پہنا ہوا ہے؟ یہ اسے سمجھاتا ہے کہ نہیں بھائی یہ تو سفید رنگ کے ہیں اور عمامہ بھی سیدھا ہے لیکن وہ ماننے کے لیے تیار ہی نہیں ہوتا. اس کے بعد دونوں اپنے راستے پر چل پڑتے ہیں لیکن وہ عرب تاجر بار بار اپنے کپڑوں کو دیکھتا ہے کہ یہ تو سفید رنگ کے ہیں اور عمامہ بھی سیدھا ہے، وہ اس خیال کو جھٹک کر آگے بڑھ جاتا ہے. جیسے ہی وہ سڑک پار کرتا ہے تو ایک دوسرے دوست سے سامنا ہوتا ہے، علیک سلیک کے بعد وہی باتیں جو پہلے دوست نے کہی تھیں یہ بھی کہتا ہے، تاجر کبھی کپڑے دیکھتا ہے تو کبھی عمامہ اتار کر سیدھا پہنتا ہے، اب اسے بھی کھٹکا لگ جاتا ہے کہ کہیں میرے کپڑوں کا رنگ مختلف تو نہیں، انہی سوچوں میں گم وہ دکان ابھی کھول ہی رہا ہوتا ہے کہ تیسرا دوست منصوبے کے مطابق اس کے پاس پہنچ جاتا ہے، اور وہ بھی وہی باتیں دہراتا ہے جو اس کے دیگر دو دوستوں نے کہی تھیں. اب اس عرب تاجر کا سر گھومنے لگتا ہے ایک ہی بات کو بار بار سننے کے بعد وہ اپنے حواس پر قابو نہیں پا سکتا. عمدہ کپڑے پہننے والا، بہترین خوشبو استعمال کرنے والا پاگل ہوجاتا ہے، نہ اسے کپڑوں کی پرواہ رہتی ہے اور نہ چاروں طرف بھنبھناتی مکھیوں کی.

    دیکھیے یہ دوستوں کے لیے ایک مذاق تھا لیکن بیٹوں سے باپ، بیوی سے شوہر الغرض خود اس کے لیے زندگی کا ایک تباہ کن حادثہ بن گیا. اب اس کے دوست مہنگے ڈاکٹروں کو دکھائیں یا پھر رات رات بھر آہیں بھرتے رہیں اب کسی کام کی نہیں.

    اپنے رویوں سے کسی کی زندگی اجاڑنے کے بجائے خوشیوں، مسکراہٹوں اور کامیابیوں کا سبب بنیں. کوشش کریں دوسروں کی زندگیوں سے کانٹیں چنیں نہ کہ دوسروں کی زندگیوں میں کانٹیں بچھائیں.

  • تین ملکی گرین ڈرائیو 2022 ایکو ٹورازم انٹرنیشنل موٹربائیک کمپین کا آغاز ہوگیا

    تین ملکی گرین ڈرائیو 2022 ایکو ٹورازم انٹرنیشنل موٹربائیک کمپین کا آغاز ہوگیا

    ڈیرہ غازی خان۔ گرین ڈرائیو 2022 ایکو ٹورازم انٹرنیشنل موٹربائیک کمپین میں پاکستان سے ایران، ترکی اور آذربائجان تک بائیک رائیڈ ہوگی۔
    باغی ٹی وی رپورٹ۔پا کستان کے انٹرنیشنل بائیکر مکرم خان ترین دنیا کے دیگر ممالک میں پاکستان کی طرف سے شجرکاری اور امن کا پیغام لے کر بائیک رائیڈ کا آغازکیا ،مکرم ترین پاکستان کے میدانِ سیاحت میں ایک فعال اور سرکردہ شخصیت کا نام ہے موٹر بائیک ٹورازم کو بام عروج تک پہنچایا۔ مکرم ترین پاکستان کے معروف موٹر بائیک کلب "کراس روٹ موٹر سائیکل ٹریولرز کلب آف پاکستان” کے بانی و چیئرمین ہیں۔شجرکاری کے سلسلہ میں بھی مکرم ترین نے لوکل، صوبائی اور ملکی سطح پر متعدد موٹر بائیک رائیڈز کیں اور اب گرین ڈرائیو کے عنوان سے بین الاقوامی شجرکاری مہم پر روانہ ہو رہے ہیں جس کیلئے لاہور سے بائیک رائیڈ کا آغازکر چکے ہیں ، اور ہمسایہ مسلم ممالک ایران، ترکی اور آذربائجان کے سیاحتی دورہ کے ساتھ ساتھ شجرکاری اور ایکوٹورازم کے پیغام کو فروغ دیں گے۔مکرم ترین کی جنوبی پنجاب آمد پر وسیب ایکسپلورر کی جانب سے ڈاکٹر سید مزمل حسین نے ملتان تا فورٹ منرو بائیک رائیڈ کا اعلان کیا جس میں ملتان، میاں چنوں، جامپور، رحیم یار خان اور ڈیرہ غازی خان سے سیاحوں کی کثیر تعداد نے شرکت کی۔ جنوبی پنجاب کے بائیکر ٹورسٹس مکرم ترین کے ہمراہ ڈیرہ غازی خان پہنچے جہاں مقامی سیاح برادری بشمول پروفیسر شعیب رضا، ہمایوں ظفر جسکانی، حاجی عبداللہ ، محمد اسلم بھائی،سعید خان، اسد کھوسہ، عمر خان لغاری، طاہر شاہ، و دیگر نے ان کا بھرپور استقبال کیا۔ اور پھولوں کے ہار پہنائے گئے، جس کے بعد انہیں ریسکیو 1122 ڈیرہ غازی خان کے مرکزی سنٹر پر لے جایا گیا، جہاں عالمگیرخان ، ذیشان خالد اور کاشف ممتاز بخاری نے ان کا استقبال کیا، ریسکیو کی تربیت بارے آگاہی دی، انہیں کنٹرول روم کا دورہ کرایا گیا انہوں نے ریسکیو کے لان میں بسلسلہ شجر کاری سایہ دار پودا لگایا۔ اس کے بعد ڈیرہ غازی خان کے مایہ ناز تاریخ دان عمران بھٹی مرحوم کے گھر تشریف لے گئے،جہاں ان کے بھائیوں سے ملاقات کی، عمران بھٹی کی سیاحت کے حوالے سے خدمات کو سراہا اور ایصال ثواب کے لیے فاتحہ پڑھی، اس کے بعد مکرم خان نے عمران بھٹی مرحوم کی خدمات انکے بڑے بھائی کو لائف ٹائم اچیومنٹ ایوارڈ پیش کیا۔ مکرم ترین کو سخی سرور میں الطاف شیخ اور دیگر سیاحوںنے خوش آمدید کہا بعدازاں ملتان ، ڈیرہ غازی خان ، رحیم یار خان و دیگر علاقوں کے سیاح حضرات کے ساتھ فورٹ منرو گئے جہاں انہیں جبیب اللہ بلوچ،اسدا للہ ،محمد طارق اور دیگر نے ویلکم کیا یہ ٹور ڈھائی ماہ کے عرصے پر محیط ہوگا جس میں وہ تین ممالک میں بائیک رائیڈ کریں گے۔ یہ پاکستان کی تاریخ میں ایک نیا ریکارڈ قائم ہونے جا رہا ہے کہ کسی پاکستانی بائیکر نے شجر کاری اور امن کے پیغام کو لے کر دنیا کے دیگر ممالک میں بائیک رائیڈ کی ہو۔

  • وادی کیلاش کی مخصوص رسومات

    وادی کیلاش کی مخصوص رسومات

    وادی کیلاش کے لوگ اپنے قدرتی حسن، مخصوص ثقافت، نرالے دستور، رنگا رنگ تقریبات اور نہایت دلچسپ رسومات کی وجہ سے دنیا بھر میں مشہور ہیں۔ کیلاش لوگ خوشی کے ساتھ ساتھ غمی پر بھی اپنی مخصوص رسومات ادا کرتے ہیں اور خصوصی طور پر اخروٹ والی روٹی بناکر فوتگی والے گھر بھجواتے ہیں اور اسی طرح خوشی و غمی میں ایک دوسرے کا ہاتھ بٹھاتے ہیں۔ تفصیل کیلئے چترال سے باغی ٹی وی کے نمائندے گل حماد فاروقی کی رپورٹ

  • کیا وزیراعظم کےاعلان کے بعد مزدور طبقہ کومقرر کردہ اجرت پوری مل رہی؟

    کیا وزیراعظم کےاعلان کے بعد مزدور طبقہ کومقرر کردہ اجرت پوری مل رہی؟

    اقتدار سنبھالنے کے بعد وزیراعظم شہباز شریف نے قومی اسمبلی میں خطاب کرتے ہوئے مزدوروں کی اجرت پچیس ہزار کرنے کا اعلان کیا تھا جس کی حقیقت جاننے کیلئے باغی ٹی وی نے ایک مزدور ملک کالو سے بات کی تو انہوں نے بتایا کہ: ہر نئی حکومت مزدوروں کی اجرت بڑھانے کا دعوی تو کرتی ہے مگر کیا مقرر کردہ اجرت مزدور کو پوری ملتی بھی ہے یا نہیں اس بات کو چیک نہیں کیا جاتا جو انتہائی افسوس ناک امر ہے۔

    ملک کالو مزید بتاتے ہیں کہ: آپ خود اندازہ لگا لیں ہمیں پانچ سے چھ سو روپے دیہاڑی ملتی ہے جو چھ سو روپے کے حساب سے لگ بھگ پندرہ ہزار ماہانہ بنتی ہےکیونکہ جمعتہ المبارک کی چار چھٹیاں آجاتی ہیں، وہ بھی ان مزدوروں کیلئے جو دیہاڑی دار طبقہ ہے مطلب تازی دیہاڑی کرتے ہیں جو کبھی لگتی ہے اور کبھی خالی ہاتھ گھر واپس آنا پڑتا ہے جبکہ آٹا، دال، گھی اور چینی کی قیمتیں دیکھیں تو آسمان کو چھو رہی ہیں۔ اور اگر کسی غریب کا مکان اپنا نہ ہو تو چھوٹے سے چھوٹے گھر کا کرایہ بھی دس ہزار سے کم نہیں ہے لہذا اب ایسے میں جب مہنگائی کم ہونے کے بجائے دن بدن بڑھتی جارہی ہے ایک غریب مزدور دو ہزار امداد میں اشیاء خوردونوش، بجلی، گیس بل یا لکڑی کا خرچہ سمیت مکان کا کرایہ کیسے پورا کرے گا۔

    گفتگو کے آخر میں ملک کالو نے ایک لمبی آہ بھری اور بھیگی آنکھوں  کے ساتھ دیکھتے ہوئے سوالیہ نظروں سے کہا کہ؛ صاحب! آپ بتاو اب ایسے میں مجھ جیسا ایک غریب آدمی اپنے بچوں کو تعلیم کیسے دے سکتا ہے؟ اور صاف ظاہر ہے معاشی بدحالی کے سبب مختلف غریب خاندان بچوں کو کام پر محض اس لیے بھیجتے ہیں تاکہ دو وقت کی روٹی کے پیسے کما کر عزت سے اپنا پیٹ پال سکیں اور گھریلو نظام چلا سکیں۔

    محمد جواد تقریبا پانچ سال تک ایک پرائیویٹ ٹیلی کام کمپنی میں ملازمت کرتے رہے تاہم انہیں اپنے حقوق کی بات یعنی تنخواہ بڑھانے کا کہنے پر کمپنی سے نکال دیا گیا انہوں نے بتایا: مجھے ایک ٹیلی کام کمپنی میں پانچ سال قبل 2018 کی شروعات میں بڑی مشکل سے ماہانہ چودہ ہزار روپے پر ملازمت ملی چونکہ میں بے روزگار تھا اور ان دنوں گھر کے معاشی حالات بھی بدتر تھے تو میں نے ملازمت اختیار کرلی جس میں میرا کام ریٹیلر سیل آفیسر کا تھا اور صبح آٹھ بجے مجھے روزانہ دفتر پہنچنا پڑتا جہاں میں آٹھ گھنٹے سے نو گھنٹے کام کرتا تھا جبکہ شام چار سے پانچ بجے چھٹی کرنے کے بعد بھی میں اس کمپنی کا دن رات پابند تھا چونکہ مجھے کمپنی کی طرف سے ایک سم دی گئی تھی جس سے میں نے کمپنی کے مستقل صارفین کو رقم لوڈ کرنی ہوتی تھی اور اسکے بعد وصولی بھی میرے ذمہ تھی۔ اور یہ کام صرف دفتر اوقات میں نہیں ہوتا تھا بلکہ چاہے اتوار کی چھٹی کا دن ہی کیوں نہ ہو مجھے موبائل فون پر کمپنی کو کام کرکے دینا ہوتا تھا۔

    محمد جواد مزید بتاتے ہیں کہ: ایک دن لیبر کورٹ والوں نے چھاپہ مارنا تھا تو کمپنی منیجر نے فورا اللصبح مجھے بلاکر پورے اسٹاف کو پیغام بھجوایا کہ آپ لوگوں نے ان سے چودہ ہزار ماہانہ تنخواہ کا ذکر نہیں کرنا اور چونکہ ہم مجبور تھے تو ہمیں مجبورا حکومت کی طرف سے اس وقت کی مقرر کردہ تنخواہ پر دستخط کروا لیئے گئے۔ اسکے بعد میں نے اپنے منیجر سے کہا کہ اب آپ لوگ ہم سے حکومت کی مقرر کردہ ماہانہ اجرت پر دستخط کروا رہے جبکہ دے چودہ ہزار روپے رہے تو چلو اگر آپ وہ مقرر کردہ اجرت نہیں دیتے تو کم از کم کچھ تو ہماری تنخواہ بڑھا دو جسکے بعد انہوں نے کہا اگر کام کرنا ہے تو اسی تنخواہ پر کرو ورنہ آپ جاسکتے ہو۔ 

    جواد کے مطابق: "جب دوسری بار لیبر کورٹ والے آئے تو میں اور میرے ایک ساتھی وقار نے انہیں سب بتادیا جس پر کمپنی منیجر ہم پر بھڑک اٹھے اور ہمیں فارغ کردیا جبکہ لیبر کورٹ کے ساتھ بھی شائد انہوں نے کوئی مک مکا کرلیا یا رشوت دی وہ بھی چائے پی کر چلے گئے۔ ہم نے پہلے تو سوچا کہ دوبارہ لیبر کورٹ جائیں مگر پھر خیال آیا کہ جب ان کو موقع پر بتانے پر فائدہ کے بجائے نقصان ہوا تو پھر بعد میں کونسا فائدہ ہوگا۔ بالآخر میرے دوست وقار نے معذرت کرکے دوبارہ کام ماہانہ نو ہزار روپے اجرت پر شروع کردیا کیونکہ وہ انتہائی غریب گھر سے تھا اور اس کا کوئی اور ذرائع آمدن بھی نہ تھا مجھے معذرت سے انکار پر دوبارہ ملازمت پر نہیں رکھا گیا۔”

    یہ تو مزدور طبقہ سے تعلق رکھنے والے صرف دو آدمیوں کی کہانی ہے نہ جانے ایسے سینکڑوں مزدور نجی کمپنیوں، ہوٹلوں وغیرہ میں کس قدر ذلیل و خوار ہورہے ہونگے۔ میری ذاتی رائے میں اس ذلت کی اصل میں دو وجوہات ہیں ایک حکومتی سطح پر برتی جانے والی کوتاہی یا نظراندازی اور دوسرا پاکستان میں مزدور یونین کا متحرک نہ ہونا ہے۔ نمبر ایک بات یہ کہ اگر حکومت مزدور طبقہ بارے واقعی سنجیدہ ہے تو اسے سب سے پہلے ایسے نئے قوانین ناصرف بنانے بلکہ ان پر عملدرآمد کرانے کی سخت ضرورت ہے جن کے تحت عام مزدور کی داد رسی ہوسکے اور دوسری بات یہ کہ مزدوروں کو بھی چاہئے کہ وہ اپنی لیبر یونین بنائیں جو ان کے حقوق کا تحفظ یقینی بنائے اور ان کے حق کیلئے سرمایہ دار طبقہ اور اشرافیہ پر ڈباو ڈالے تاکہ وہ کسی مزدور کا حق نہ مار سکیں۔

    چند ماہ قبل کی خبر ہے کہ راولپنڈی تھانہ صدر بیرونی میں ایک والد نے پرچہ درج کرایا جسکے مطابق: ان کے بیٹے محمد ذیشان جو مستری تھا کو ٹھیکیدار دیان خان نے اجرت مانگنے پر دوران کام تیسری منزلہ بلڈنگ پر ڈنڈے سے مارنا شروع کردیا جس کے سبب وہ خوف سے نیچے گر کر بے ہوش ہوگیا بعدازاں انہیں اسپتال داخل کیا گیا تاہم وہ جاں بر نہ ہوسکا اور اسپتال میں ہی دم توڑ گیا تھا۔

  • عید سب منائیں گے ،تحریر:محمد معاذ حیدر

    عید سب منائیں گے ،تحریر:محمد معاذ حیدر

    ہم میں سے ہر شخص چاہتا ہے کہ کے میرے بچے کی ہر خواہش پوری ہو۔ باپ جیسی عظیم ہستی دن رات ایک کر کے اپنے بچوں کی خواہشات پوری کرتا ہے۔ بہت سے بچے ایسے ہیں جو اس سایے سے محروم ہیں اور بعض نچے ایسے ہیں جن کے سر پہ باپ کا سایہ تو موجود ہے لیکن غربت نے انہیں گھیر رکھا ہے۔ عید بچوں کا تہوار ہے ہم لوگ عید پہ اپنے بچوں کی تو ساری خواہشات پوری کرتے ہیں، لیکن مسکین، غریب، یتیم بچوں کی بھی خواہش ہوتی ہے کہ وہ بھی اپنوں کے سنگھ عید منائیں ۔ ہمارا مال ہمارے لیے آزمائش ہے، اللہ تعالیٰ ہمیں مال دے کہ آزماتا ہے کہ کیا ہم یہ مال اللہ تعالیٰ کی راہ میں غریبوں، مسکینوں اور یتیموں کی مدد کے لیے خرچ کرتے ہیں یا نہیں۔ ہمیں غور و فکر کرنی چاہیے کیا ہم مال اللہ تعالیٰ کی راہ میں خرچ کر رہے ہیں یا نہیں کیا ہم اللہ تعالیٰ اور اس کے رسول صلی اللہ علیہ والہ وسلم کے احکامات پر عمل پیرا ہو رہے ہیں یا نہیں ۔ کیا ہم ضرورت مندوں کی ضروریات کو پورا کر رہے ہیں یا نہیں کیا ہم یتیم بچوں کی چھوٹی چھوٹی خواہشات پوری کر رہے ہیں انہیں خوشیاں دے رہے ہیں یا نہیں ۔ دیکھا جائے تو ہم بہت سی جگہوں پر فضول خرچ کرتے ہیں ایک کی بجائے پانچ پانچ اشیاء لیتے ہیں ہمیں اپنی فضولیات کو کم کر کے ک بچوں کی چھوٹی چھوٹی خواہشات پوری کرنی چاہیے تاکہ دل کو سکون نصیب ہو اور ہم اپنے رب کو بھی راضی رکھ سکیں ۔ لکھوں بچے ایسے ہیں جو عید نہیں مناتے اپنی خواہشات کا گلہ گھونٹ دیتے ہیں وہ بےبس ہوتے ہیں چاہ کہ بھی عید کی خوشیوں میں شریک نہیں ہو سکتے۔

    ذرا خود پہ غور کی جیے کیا ہم ان یتیم اور ضرورت مند بچوں کے لیے چھوٹے چھوٹے تحفے تحائف لے کہ انہیں اپنے ساتھ عید کی خوشیوں میں شریک نہیں کرسکتے؟ ہمیں ان ننھے پھولوں کی اپنی خوشیوں میں شریک کرنا چاہیے تاکہ یہ بھی کھل کا مسکرا سکیں۔ یہ سب ہمیں دلی سکون مہیا کرےگا اور ہم روز آخرت اللہ کی بارگاہ میں سرخرو ہوں گے ۔
    وقت بدلتے دیر نہیں لگتی آج کسی اور پر ہے کل یہ وقت ہم پہ بھی آ سکتا ہے خدارا اپنے اردگرد غریبوں.،بے سہارا، یتیموں کی مدد کریں ان کی زندگیوں میں خوشیاں لائیں اور انہیں کبھی اکیلا اور بے سہارا نہ چھوڑیں ۔
    عید آنے والی ہے ہمیں چاہیے کہ اس عید اور آگے آنے والی عیدوں میں ہم اپنے اردگرد لوگوں کی مدد کریں اور عید کی خوشیوں میں انھیں اپنے ساتھ شریک کریں.
    اللہ تعالیٰ ہم سب کو نیک کام کرنے کی توفیق عطا فرمائے آمین ثم آمین ۔
    ” عید ان کی تھی عباس حسرتیں جو اپنی قربان کر گئے فقط رسمیں نبھانے سے خدا راضی کب ہوا کس سے ہوا”

  • کیا واقعی ہم ایک قوم ہیں ؟ تحریر : ریحانہ جدون

    کیا واقعی ہم ایک قوم ہیں ؟ تحریر : ریحانہ جدون

    یہ ایک سوال جس کے بارے میں کچھ کہنے کی جسارت کر رہی ہوں کیونکہ موجودہ دور میں زیادہ تو لوگوں کے منفی رویے ہیں اور اکثر لوگ منفی سوچ کے ساتھ زندگی گزارتے ہیں افسوس اس معاشرے میں بگاڑ اتنا پیدا ہوگیا ہے کہ اس میں رہنے کے لئے اپنے ضمیر کو مارنا پڑتا ہے یہاں انسانی جان کی کوئی قدر وقیمت نہیں, انسانی خون اتنا سستا ہوچکا ہے کہ سڑک پر کوئی انسان ایڑیاں رگڑ کر مر رہا ہوتو اسکی ویڈیو بنانے کے لئے لوگ رکیں گے ضرور مگر اس کی مدد نہیں کریں گے
    حقیقت میں ہم ایک قوم ہے ہی نہیں لوگوں کا وہ ہجوم ہیں جو اپنے اپنے مفاد کی دلدل میں پھنستا جا رہا ہے

    یہ کہانی کچھ پرانی نہیں ہے جب پاکستان میں کارونا کی پہلی لہر آئی تو ہر طرف خوف تھا عالم یہ تھا کہ میں خود بھی بہت ڈری ہوئی تھی. گیٹ کو باہر سے تالا لگایا ہوا تھا کہ نہ کوئی جائے نہ کوئی آئے پر شوہر نے کام پر جانا تو تھا ہی
    اس لئے روز بحث ہوتی اور مجبوراً ہار مان کر گیٹ کھول دیتی تھی ایک دن ایسا ہوا کہ بیٹے کو کسی کام سے اسٹور تک جانا پڑا تو واپس تھوڑا دیر سے آیا میں پریشان ہوگئی جب واپس آیا تو اس نے بتایا ساتھ گلی میں ایک گھر کے سامنے کوئی بزرگ پڑے ہوئے تھے تو انکل نے ان کو اٹھا کے سامنے کچرے والے پلاٹ میں پھینک دیا ہے پھینک دیا لفظ پر مجھے حیرت ہوئی اور تجسس ہوا کہ وہ بزرگ کون ہیں جاکے دیکھنا چاہیے

    میں جب گیٹ سے نکلی تو سامنے گھروں کی عورتیں دروازوں میں کھڑی اسی بزرگ کی طرف دیکھ رہی تھیں, مجھے وہاں جاتے دیکھ کر بولیں باجی کیا کر رہی ہو وہاں نہ جاؤ لگتا ہے یہ کارونا کا مریض ہے اسی لئے کوئی اسے یہاں پھینک گیا ہے… میں نے کہا اگر کارونا بھی ہے اس کو مگر ہے تو ایک انسان ہی ناں مرنا تو ایک نہ ایک دن سب کو ہے مگر انسانیت نہیں مرنی چائیے میں نے وضاحت دی مگر وہ عورتیں اپنا اپنا فلسفہ سنا کے مجھے روکنے کی کوشش کرتی رہیں میں نے ان کی باتیں ان سنی کرکے اس بزرگ تک پہنچی تو دیکھا وہ لگ بھگ 80 سال کے تھے اور بیماری کی وجہ سے اٹھنے کی ہمت کھو چکے تھے میں نے ان کو ہاتھ سے جیسے پکڑا تو اندازہ ہوگیا کہ ان کو سخت بخار ہو رہا ہے . میرے اٹھانے سے وہ اٹھ نہ پائے اتنے میں میرا بیٹا جو 14 سال کا ہے وہ آگیا میں نے اسے کہا کہ میری مدد کرو اس طرح ایک طرف سے اس نے اور ایک طرف سے میں نے اس بزرگ کو کندھا دیا اور بمشکل گھر تک لے آئی اور یہ منظر وہاں کھڑے مرد حضرات بھی دیکھ رہے تھے ( مگر بےحسی ایسی کہ کوئی مدد کو نہ آیا)

    گھر پہنچا کہ میں اس بزرگ کو صحن میں ہی بستر پر لیٹا دیا اور جلدی سے قہوہ بنا کہ ان کو چمچ سے پلایا ان کے میلے کپڑے پر ان کے چہرے سے وہ کسی اچھے گھر کے لگ رہے تھے جب قہوہ پی چکے تو ان کو پیناڈول ٹیبلٹ دی مگر وہ بخار کی ٹیبلٹ لینے سے انکاری تھے ہمارے اوپر والے پورشن میں ایک کرائے دار فیملی رہتی تھی ان کی ایک عورت چھت سے دیکھ رہی تھی کہنے لگی باجی یہ بخار کی گولی نہیں لے رہے کیا پتا کوئی جاسوس نہ ہو اس کو باہر جا کے چھوڑ کے آؤ میں نے کہا کہ بابا جی کی ایسی حالت نہیں کہ ان کو سڑک پر چھوڑا جائے میں یہ کہتے ہوئے اصرار کرنے لگی بابا جی یہ دیکھیں یہ کوئی اور ٹیبلٹ نہیں ہے یہ پیناڈول ہے اس سے آپ کا بخار کم ہوگا میرے اصرار پر انھوں نے میرے ہاتھ سے گولی لے کر منہ میں ڈالی مگر کچھ ہی دیر میں نکال لی, تب مجھے اپنے والد صاحب کا خیال آیا کہ وہ بھی ٹیبلٹ کے چار حصے کرکے تب لیتے ہیں میں نے ٹیبلٹ کو چار حصوں میں کرکے بابا جی کو دیا جو انھوں نے آسانی سے کھا لی
    اس وقت ان کی حالت ایسی نہیں تھی کہ میں ان سے ان کے متعلق کوئی سوال کرتی اس لئے ان کو آرام کرنے دیا ٹیبلٹ لینے کے بعد وہ سو گئے اور ایک ڈیڑھ گھنٹے بعد انھوں نے آواز دی نسرین کہاں ہو میں پاس گئی ماتھے پہ ہاتھ رکھا اب ان کا بخار اتر چکا تھا میں نے ان سے پوچھا آپکا نام کیا ہے

    تو بولے میرا نام ریاض ہے نسرین کہاں ہے اور ساتھ ہی نسرین کو آوازیں دینے لگے میں نے ان کی جیب کی تلاشی لی کہ شاید کوئی شناخت ملے مگر ایک کاغذ تک ان کی جیب میں سے نہ نکلا تو میری پریشانی بڑھ گئی. اس بزرگ کی باتوں سے اندازہ ہوگیا تھا کہ ان کو کچھ بھی یاد نہیں تھوڑی دیر بعد ان کو کھانا کھلایا ان کی حالت کافی سنبھل چکی تھی مگر میں سوچوں میں گم کہ اب کیا کروں پولیس کو بتاؤں یا نہ بتاؤں میں نے ان بزرگ کی موبائل سے تصویر لے کر پہلے ہی سوشل میڈیا واٹس ایپ پر شئیر کردی تھی رات ہونے والی تھی اور میرے شوہر کے آنے کا وقت قریب تھا سوچا جب وہ آجائیں تو پولیس کو بتائیں گے تقریباً شام 8:30 پہ مجھے ایک انجان نمبر سے کال آئی میں نے اٹینڈ کی تو دوسری طرف سے کوئی لڑکا بولا آپ نے سوشل میڈیا پر جو تصویر شئیر کی وہ بزرگ آپ کے گھر میں ہیں اس وقت ؟میں نے کہا جی ہاں میرے گھر پر ہیں تو اس نے بتایا کہ وہ ہمارے ایک جاننے والے ہیں انکے رشتہ دار ہیں اور صبح سے ان کو ڈھونڈ رہے ہیں

    میں نے پوچھا کہ یہ کہاں کے ہیں تو اس نے بتایا کہ چکوال سے ہیں پر رہتے قاسم مارکیٹ کے پاس ہیں میں نے ان کو گھر کا ایڈریس بتایا اور ایک گھنٹے کے اندر ہی ان کی فیملی میرے گھر آگئی ساتھ میں ایک عورت بھی تھی میں نے بتایا کہ بابا جی تو کچھ بتا نہیں رہے بس کسی نسرین کو آوازیں دے رہے ہیں تو وہ عورت بولی نسرین میرا نام ہے اور یہ میرے والد ہیں ان کی یاد داشت کھو گئی ہے اسی لئے ان کو میں اپنے پاس لے آئی تھی کہ ان کا علاج ہو سکے اور صبح نماز کے وقت گھر سے بنا بتائے نکل گئے تھے ہم تب سے ان کو ڈھونڈ رہے ہیں ،انھوں نے میرا بہت شکریہ ادا کیا اور نسرین نے بہت دعائیں دیں اور بابا جی بیٹی کو پہچان کے اس کے ساتھ چلے گئے دوسرے دن وہی عورتیں میرے گھر آئیں کہ باجی آپ نے بہت بڑی نیکی کی ہے اس کا اجر آپ کو بہت ملے گا, ان کی باتیں سن کر میرے دماغ میں ان کی کل کی باتیں گونجنے لگیں کہ باجی اس کے پاس نہ جانا یہ کرونا کا مریض لگ رہا ہے وغیرہ وغیرہ

    ان میں سے ایک نے کہا آ پ کو ڈر نہیں لگا کیونکہ آپ تو گیٹ کو باہر سے بھی تالا لگا کر رکھتی ہیں, میں نے کہا ہاں مجھے ڈر لگا تھا ان بزرگ کو دیکھ کر کہ اگر اس بزرگ کی جگہ میرے اپنے والد ہوتے اور وہ اس حالت میں ہوتے تو ان کا ایسے کوئی تماشہ دیکھتا…
    میرے اس جواب پر وہ چپ ہوگئیں.

  • میری روز کی سُرخ تحریر،تحریر:زکیہ نیر ذکّی

    میری روز کی سُرخ تحریر،تحریر:زکیہ نیر ذکّی

    میری بیٹیوں کی شادی کسی انسان سے کرنا ” رحیم یار خان میں تعینات سب انسپکٹر میری روز نے زندگی سے ناطہ توڑنے سے چند لمحات پہلے ان لفظوں میں لپٹی التجا کر کے معاشرے میں موجود عورت کی اصل حیثیت کی پوری داستان سنا ڈالی۔۔اس نے خود تو جیسے تیسے زندگی گزار دی مگر جاتے جاتے بیٹیوں کے مستقبل کے بارے دل میں موجود خوف کو عیاں کر گئی اس ایک جملے میں شکوہ بھی ہے اور وہ درد بھی جس نے اسے انتہائی قدم اٹھانے پر مجبور کیا۔وہ عورت جس نے تعلیم حاصل کی ایک ایسے شعبے کو چنا جس میں مضبوط اعصاب کا ہونا پہلی شرط مانی جاتی ہے مگر نہ جانے ان اعصاب پر کیا کچھ بیتا تھا جس نے برداشت کی ہر حد کو کرچی کرچی کر کہ رکھ دیا جس نے اس سوچ کو ہی اعصاب سے کھینچ اتارا کہ معصوم بیٹیاں ماں بن ادھوری رہ جائیں گی بس سسکتی زندگی کے اس درد سے فرار کی جو راہ چُنی تو وہ محض جیتا جاگتا جہاں ہی چھوڑ جانا ٹھہرا۔۔

    معاملات کی چھان بین ہوگی میرا نہیں خیال کہ ہمارے قوانین میں کوئی ایسا قانون بھی ہے جو خود کشی کے پیچھے کار فرما عوامل اور عناصر تک ہاتھ ڈال سکے۔۔کچھ خبریں یہ بھی ہیں کہ روز میری ڈی پی او رحیم یار خان سے چھٹی کے معاملات پر دل برداشتہ تھیں جبکہ شوہر نے اسی شعبے سے وابستہ ہونے کے باوجود بیوی کے ذہنی تناؤ میں کمی کرنے کے بجائے اس قدر اضافہ کیا کہ اسے چاروں طرف کے در بند دکھائی دینے لگے۔بیوی کے لیے شوہر ہی وہ واحد سہارا ہوتا ہے جس سے دکھ درد میں امیدوں کا ہر دھاگہ بلا تکلف باندھ دیتی ہے جب حالات اس نہج پر لے آئے کہ خوشیوں میں ساتھ نبھانے والے سے اب الجھنوں میں بھی ساتھ مانگا جائے تو سوائے بے رخی اور اجنبیت کے کچھ دکھائی نہ دیا۔۔نہ جانے کتنی راتیں اس امید میں بتا دی گئیں ہونگی کہ صبح ہوتے میرا ہمسفر میری راہیں آسان کرنے کے لیے میرا ہاتھ تھام لے گا مگر دن گزرتے گئے بڑی بیٹی چار سال کی ہوگئی زندگی کھلکھلانے کے بجائے سسکنے لگی تو سب انسپکٹر روز میری نے آزمائش میں مایوسی دینے والے اس رشتے کو الوداع کہہ ڈالا۔۔اور راہ یہ ڈھونڈی کہ شوہر سے علیحدگی لینے کے بجائے اپنے وجود کو اس دنیا سے ہی الگ کر دیا جائے۔۔

    سوچتی ہوں کہ وہ سرخی جس سے الوداعی پیغام لکھ کر چلی گئی وہی لال شوخ رنگ کی سرخی جسکے کھلے رنگ میں نہ جانے کتنے خواب ہونگے کتنی حسیں خواہشات ہونگی ایک ہنستی بستی ازدواجی زندگی جسکی چاہ ہر عورت کے دل پر سجی تحریر ہوتی ہے پھر ان خوابوں کو روندتے مسلتے اور بے توقیر ہوتے دیکھ کر وہ کس قدر ٹوٹی ہوگی۔۔

    ہم جیسے ترقی پذیر ممالک میں بڑھ چڑھ کر خواتین کے حقوق کی بات کی جاتی ہے پلے کارڈز اٹھائے جاتے ہیں اعدادوشمار کا ایک چارٹ ہر سال پیش کیا جاتا ہے جس میں ان پر تشدد زیادتی انکے حقوق کی سلبی کے کئی واقعات شامل کیے جاتے ہیں ہم اکیسویں صدی میں ہوتے ہوئے بھی چار سال کی اس بچی کا جنازہ اٹھاتے ہیں جس سے چالیس سال کے مرد نے زیادتی کی ہوتی ہے اور پھر اسکی سانسیں روک دینے پر بھی وہ با اختیار نظر آتا ہے ونی، وٹہ سٹہ اور قرآن سے شادیاں یہ وہ پست رسمیں ہیں جو آج بھی ہمارے دیہی علاقوں میں بلا خوف و خطر وڈیروں اور جاگیر داروں کا پسندیدہ کھیل سمجھا جاتا ہے۔۔
    ملک کی آبادی کا اکاون فی صد حصہ خواتین پر مشتمل ہے ملک کی مجموعی ترقی اور مہنگائی کے اس دور میں اگر پڑھی لکھی عورت شادی کے بعد اپنا کرئیر جاری رکھنا چاہتی ہے تو اکثریت کے لیے یہ جان جوکھوں کا کام بن جاتا ہے بچوں اور سسرال کی زمہ داری شوہر کے فرائض گھر کے کام کاج جیسی رکاوٹوں کو وہ خوشی خوشی عبور کر بھی لے تو اسکے لیے نوکری جاری رکھنا مشکل سے مشکل بنا دیاجاتا ہے۔۔میں کئی ایسی خواتین کو جانتی ہوں جو ہر رات شوہر سے جنسی اور جسمانی تشدد بطور سزا اسلیے سہتیں کہ وہ صبح دفتر جاتے ہوئے خود کو مرد سے زیادہ با اختیار اور لائق فائق نہ سمجھ بیٹھیں۔انکے اعتماد کو روندنے کے لیے ہمسفر کہلانے والا مرد ہر حد تک جاکر اسے ذہن نشین کراتا ہے کہ عورت ہو لاکھ پیسہ کما لو یا نام بنا لو مرد کے درجے تک نہیں پہنچ سکتی مرد طاقتور ہے۔۔یہ وہ پست سوچ ہے جسکا سامنا اس دور میں بھی کئی کام کرنے والی خواتین کرتیں ہیں اولاد در بدر نہ ہوجائے،باپ بھائی کی عزت پر آنچ نہ آجائے،اگر پولیس میں شکایت کی تو شوہر جان سے ہی نہ مار دے اور سب سے بڑھ کر طلاق کا خوف کیونکہ ہمارا معاشرہ موت کو طلاق پر ترجیح دیتا ہے یہ وہ خدشات ہیں جن کی وجہ سے وہ تشدد تو برداشت کرتی رہتی ہیں مگر زبان نہیں کھول پاتیں کئی تو ایسی ہیں جو شوہروں کی جانب سے موٹی موٹی گالیاں اور کردار کشی پر بھی خاموش ہوجاتی ہیں۔۔ جو سب سے اہم نقطہ ہے اسے ہمیشہ نظر انداز کیا جاتا ہے اور وہ ہی کمزور خاندانی نظام میں گھسیٹے جانے والے ازدواجی رشتے۔۔رشتے کی نوعیت تو ایک جیسی ہوتی ہے مگر اپنی بیٹی اور دوسرے کی بیٹی کے متعلق ہماری سوچ تقسیم ہوجاتی ہے۔۔ہم اپنی بیٹی کے سکون کے لیے ہر ایک قدم اٹھانے کو تیار ہوتے ہیں داماد سے ہر ایک توقع پر پورا اترنے کا تقاضا کرتے ہیں۔۔بیٹی کے ہنستے بستے گھر کی تمنا ترجیح ہوتی ہے مجال ہے داماد کی جو بیٹی کی آنکھ میں ایک آنسو بھی لانے کا گناہ گار ہو۔۔مگر بہو جو آپکے خاندان کا فرد بننے کے لیے اپنا گھر چھوڑ آئی اپنی عادتیں اپنی خواہشیں اپنے سارے ارمان بابل کے آنگن کو سونپ آئی۔۔اب یہ ذمہ داری اسکے شوہر سمیت سسرال کے ہر فرد پر عائد ہوتی ہے کہ وہ اسے تحفظ فراہم کریں اسکی آسانی کے لیے اسکا ساتھ دیں اسکی مشکلات کو حل کرنے کے لیے ساتھ کھڑا ہوا جائے۔۔مگر جب اسے نئے گھر میں اپنائیت کے بجائے اجنبیت، سکون کے بجائے ناچاقی،ساتھ کے بجائے تنہائی اور لاڈ کے بجائے تشدد ملے گا تو وہ ٹوٹے گی بھی اور بکھرے گی بھی۔۔قران بھی شوہر کو عورت کو قوام قرار دیتا ہے مگر جب محافظ اور رکھوالا ہے آپ کو غیر محفوظ ہونے کا احساس دلانے لگے تو پھر وہ عورت کہاں جائے۔۔گھر سے نکلتے سمے اسے کہا جاتا ہے سسرال میں نبھا کرنا اب وہی تمہارا گھر ہے۔۔کتنی عجیب سی بات ہے ناں کہ سرخ آنچل اوڑھ لینے کے بعد وہ بابل کے گھر سے تو عورت پرائی ہوئی تھی مگر پیا گھر میں بھی اسے اپنا نہیں سمجھاجاتا۔۔ تبھی روز میری نے سوچا ہوگا کہ شاید قبر ہی واحد جگہ ہے جو کم از کم اسکی اپنی تو ہوگی۔۔۔۔

    zakiya
    :زکیہ نیر ذکّی

    @NayyarZakia

  • کراچی ڈکیتوں سے بچاؤ ،تحریر .ام سلمیٰ

    کراچی ڈکیتوں سے بچاؤ ،تحریر .ام سلمیٰ

    کراچی ڈکیتوں سے بچاؤ ،تحریر .ام سلمیٰ

    کراچی میں پچھلے کئی سالوں سے اسٹریٹ کرائمز میں مستقل اضافہ ہو رہا ہے لیکن پچھلے کئی ماہ میں یے اضافہ کئی گنا اضافہ ہوگیا ہے۔ زندگی اور قیمتی اشیاء کی حفاظت کے حوالے سے بگڑتی ہوئی صورتحال کی بنیادی وجوہات تک پہنچنے کے لیے آپ کو ماہر معاشیات یا فلسفی بننے کی ضرورت نہیں ہے۔ جرائم کی بڑھتی ہوئی رواں ماہ ایک اور بات سامنے آئی ہے کہ اس طرح کے جرائم جیل کے اندر سے آپریٹ ہو رہے ہیں. یہ کرنے والے اور اِنکی سرپرستی کرنے والے اس قدر مضبوط ہوگئے ہیں کہ انکو جیل کے اندر سے ایسے کام کرنے میں کوئی دقت پیش نہں آرہی ہے۔اور کئی واقعات میں خود قانون نافذ کرنے والے اداروں کے افراد ملوث پائے گئے ہیں. جو عام شہریوں نے پکڑنے کے بعد پولیس کے حوالے کیے ہیں اس صورتحال سے نمٹنے کے لیے سندھ کی صوبائی حکومت کے پاس کوئی فوری حل نہں نظر آتا.

    چند روز قبل اقلیتی برادری سے تعلق رکھنے والا ایک تاجر کلفٹن کے نواحی علاقے میں دن دیہاڑے ڈکیتی کی واردات میں اس وقت اپنی جان اور مال سے ہاتھ دھو بیٹھا جب وہ بینک سے 70 لاکھ روپے سے زائد نکال کر جا رہا تھا۔ ڈاکوؤں نے مزاحمت کی تو اسے گولی مار کر ہلاک کر دیا۔ کراچی میں جان کی قیمت اب ایک موبائل فون کی قیمت جتنی رہ گئی ہے کیوں کے چھینے والے افراد مزاحمت کرنے والوں کو ایک گولی سے اِنکی جان کا خاتمہ کر دیتے ہیں.

    اسی دن ایک نوبیاہتا نوجوان کو ایک اور پوش علاقے میں اس کی رہائش گاہ پر اس کی والدہ، بہن اور خاندان کے دیگر افراد کے سامنے گولی مار کر ہلاک کر دیا گیا۔ ملک کے معاشی حب میں تقریباً آئے روز ڈکیتیوں اور قتل و غارت گری کے واقعات رونما ہو رہے ہیں۔ معمولی مزاحمت پر لوگ مارے جا رہے ہیں۔ شہری اس قدر خوفزدہ ہیں کہ وہ معمولی رقم بھی لے جانے سے ڈرتے ہیں۔ATM سے پیسے نکالتے ڈرتے ہیں کوئی بھی محفوظ محسوس نہیں کر رہا ہے۔تو ایسے میں اگر گورنمنٹ ہر شخص کو بینکنگ کے طرف لا نا چاہتی ہے تو اس سے پہلے گورنمنٹ کو حالات سازگار بنانا ہونگے.

    ان جرائم کے بڑھنے کی سب سے بنیادی وجہ ان جرائم کو کنٹرول نہ کرنا ہے جب تک ان کا صحیح طرح سد باب نہں کیا جائے گا اس میں اضافہ ہوتا رہے ہے اور باقی ساری وجوہات جن کی وجہ سے جرائم میں اضافہ ہو رہا ہے ٹیکسوں کے بڑھتے ہوئے بوجھ اور کم ہوتے روزگار کے مواقع کے مجموعی اثرات جرائم کے بڑھتے ہوئے گراف میں ظاہر ہو رہے ہیں، بشمول لوٹ مار۔ میڈیا رپورٹس کے مطابق 2021 کے پہلے آٹھ مہینوں میں شہر میں اسٹریٹ کرائم کے تقریباً پچاس ہزار واقعات رونما ہوئے جن میں زیادہ تر اغوا برائے تاوان، قتل، گاڑیوں کی چوری کے ساتھ ساتھ موبائل فون چھیننے کے واقعات تھے ۔ اور ہر ماہ اس میں اضافہ ہی دیکھنے میں آرہا ہے اور اس کی بنیادی وجہ کئی سالوں سے ہوتے ہوئے ان واقعات کا کوئی صحیح سد باب نہں ہو رہا تو جرائم پیشہ لوگ اور مضبوط ہوجاتے ہیں. مجرم دن دیہاڑے دکانداروں عام شہریوں کو کو تیزی سے نشانہ بنا رہے ہیں، جس سے تاجر اورہر عام شخص اپنی جانوں اور قیمتی چیزوں کے خوف میں مبتلا ہیں۔

    روزگار کے مواقع پیدا کرنے کے لیے ملک کو معاشی وسعت کے لیے سرمایہ کاری کی ضرورت ہے۔ بیمار معیشت کو صحت کی طرف واپس لانا ایک بہت بڑا کام ہے۔ یہ حقیقت کہ صوبائی وزیر اعلیٰ اور کے ایم سی کے ایڈمنسٹریٹر وزیر تعلیم سعید غنی نے کئی موقعوں پر سنگین جرائم کی صورتحال کو تسلیم کیا ہے اس سے ظاہر ہوتا ہے کے موجودہ نظام میں کمزوری ہے جس کے باعث حالات دن بہ دن بد تر ہو رہے ہیں. ان حالات سے قانون کی حکمرانی کو نافذ کرنے کی حکومت کی اہلیت پر لوگوں کے گھٹتے ہوئے اعتماد کو فروغ مل رہا ہے.حکومت کو جلد سے جلد عملی طور پے ان حالات کو کنٹرول کرنے کے لئے میدان میں آنا ہوگا ورنہ صورتحال اس سے زیادہ کہیں اور بد تر ہوجائے گی۔

    Twitter handle
    @umesalma_