Baaghi TV

Category: معاشرہ و ثقافت

  • فیصلہ پارٹ نمبر 5 تحریر سکندر علی 

    پریشان نہ ہوں ۔ آپ اچھی طرح سے ڈھک گئے ہیں ۔

    نہیں جارج کی بات کاٹتے ہوئے اس کا باپ چیخ کر بولا۔ اس نے پوری قوت سے بل پر سے کمبل پرے پھینکے کہ وہ وہ فورا ہی 

    پرے جاگرے۔ پھر وہ بستر پرتن کر کھڑا ہوگیا۔ صرف ایک ہاتھ سہارے کے لیے معمولی سا چھت کو چھورہا تھا۔

    تم مجھے ڈھک دینا چاہتے ہو۔ میں جانتا ہوں میرے چھوٹے بچے لیکن میں آسانی سے ڈھک دیئے جانے والا

    نہیں ہوں۔ اگر یہ میرے جسم کی قوت کی آخری لہر ہے تو بھی نبی نہیں سنبھالنے کے لیے کافی ہے۔ بلکہ اس سے کہیں زیادہ

    ہی ہے۔ ہاں، میں تمھارے دوست کو جانتا ہوں۔ وہ میرا بیٹا ہوتا تو پسند بیرا بیٹا ہوتا۔ یہی وجہ ہے کہ ان تمام برسوں میں تم

    مجھ سے دھوکہ کرتے رہے اور اس کی کیا وجہ ہوسکتی ہے؟ کیا تمھارے خیال میں مجھے اس کا دکھ نہیں ہے؟ تم خود کو اپنے دفتر

    میں بند کر لیتے تھے کہ چیف صاحب مصروف ہیں، انہیں پریشان نہ کیا جائے ۔ صرف اس لیے کہ تم روس میں جھوٹ کے

    پلندے کو لکھ کر یہ کولیکن خوش قسمتی سے کوئی کسی باپ کو نہیں سکھا سکتا کہ وہ کیسے اپنے بیٹے کے اندر جائے اور اب جب

    کہ تمھارا خیال ہے کہم اسے مات دے چکے ہو اور اتنا بیوگرا چکے ہو کہ اس پر سوار ہو سکو اور اس پر بیٹھ جاؤ اور وہ ذراسی چوں

    چراں بھی نہیں کرے گا تو اب میرا چالاک بیٹا فیصلہ کرتا ہے کہ شادی کر لینی چاہیے۔

    جارج اپنے باپ کے اس خوف زدہ کرنے والے روپ کو مبہوت ہو کر دیکھنے لگا۔ سینٹ پیٹرز برگ میں اس کے دوست نے، جسے اس کا باپ اچانک اتنے اچھے طریقے سے جانتا تھا، اس کے حواس کو یوں اپنی گرفت میں لیا کہ پہلے کبھی

    ایسانہیں ہوا تھا۔ وہ اسے روس کی وسعت میں کم دکھائی دیا۔ وہ اسے ایک خالی، لئے پٹے گودام کے دروازے پرکھڑادکھائی

    دیا۔ اپنے شوکیسوں کے ملبے ، اپنے مال کی شکستہ باقیات گیس کے ٹوٹے پھوٹے بریکٹوں کے درمیان و سیدھا کھڑا دکھائی

    دیا۔ اسے کیوں اتنی دور جانا پڑ گیا۔

    میری طرف دیکھو اس کا باپ پکارا اور جارج تقریبا ایک دم سے چونکتے ہوئے بستر کی طرف بڑھا تا کہ اس

    معاملے سے نمٹ سکے لیکن پھر آدھے راستے ہی میں ٹھٹھر کا ۔

    کیوں کہ اس نے اپنا سکرٹ اوپر اٹھا لیا ہوگا۔ اس کا باپ گنگناتے ہوئے بولا کیوں کہ اس نے اپنا سکرت

    اوپراٹھایا ہوگا اس طرح اس فاحشہ نے ۔ اور اس کی منگیتر ینقل اتارنے کے لیے اس نے ان میں آتی اور افعال کے

    جی کے زمانے کا اس کی ران کا زخم دکھائی دینے لگا ” کیوں کہ اس نے اپنا سکرٹ اوپر اٹھا لیا ہوا ہوں اور نہیں ، اور تم نے

    اس سے عشق بگھارا، اور اس سے کسی رکاوٹ کے بغیر بے تکلف ہونے کے لیے تم نے اپنی ماں کی یاد کو پامال کیا، اپنے

    دوست کو دھو کر دیا اور اپنے باپ کو یوں بستر میں لا چا که دوترکت کرنے کے قائل تیار ہے میں وہ حرکت کر سکتا ہے کیا میں

    کرسکتا اور وہ بغیر کسی سہارے کے کھڑا ہو گیا اور اپنی جان میں ہوا میں پلانے لگا۔ شدت جذبات سے اس کے چہر سے کہا

    سر کردیا تھا۔

    جارج ایک کونے میں سکڑ کر کھڑا ہو گیا اپنے باپ سے کن حد تک فاصلے پر۔ بہت عرصہ پہلے اس نے کا ارادہ کیا تھا

    کہ ہر معاملے پر گہری نظر رکھے گا تا کہ اگر کوئی اس پر پیچھے سے یا کسی اور طرت سے بالواسط حملہ کر ے، اس پر بھی تو دان

    کے لیے تیار ہو۔ اب اسے پھر سے اتنے عرصے سے پھولا ہوا فیصلہ یاد آیا اور اسے وہ پھر سے کھول دیا جیسے کوئی سوئی کے

    ناکے میں دھاگہ ڈالنے کی کوشش کرے۔

    لیکن تم اپنے دوست کو دھوکہ نہیں دے سکے۔ اس کے باپ نے چیخ کرکہا، اپنی شہادت کی انگلی کے اشارے سے

    اپنی بات پر اصرار کرتے ہوئے میں یہاں اس موقع پر اس کا نمائندہ ہوں ۔

    تم مسخرے جارج خودکوچنے سے روک نہیں سکا لیکن فورأی بی احساس ہونے پر کہ اس سے کیسی تھی سرزد ہوئی ، اس

    کی آنکھیں باہر بل پڑیں اور اس نے زبان دانتوں تلے دبلی لیکن اب دیر ہو چکی تھی ۔ تکلیف سے اس کے گھٹنے جواب دے گئے۔

    ہاں بے شک میں یہاں مسخره کین ہی کر رہا ہوں ۔ مسخرہ پن ۔ ایک عمدو لفظ ۔ ایک بوڑھے ریڈ وے کی تشفی کے لیے

    اور بچا ہی کیا ہے۔ مجھے بتا اور جواب دیتے ہوئے یہ مت بھولنا کہ تم ابھی تک میرے اکلوتے بیٹے ہو ۔ میرے لیے بھائی

    کیا ہے، میرے پچھلے کمرے میں، بے ایمان نوکروں کے ہاتھوں تنگ، اپنی ہڈیوں کے گودے تک بوڑھا؟ اور میرا بیا ساری دنیا میں خوشی سے دندناتا پھرتا تھا، کاروباری معاملات نمٹاتا ہوا جنھیں میں نے ہی اس کے لیے تیار کیا ہوتا ہے۔

    فاتحانہ خوشی سے پھولے نہیں سماتا اور اپنے باپ کے سامنے سے ایک معزز کاروباری انسان کی طرح بھنچے ہوئے ہونٹوں

    والے چہرے کے ساتھ گزر جاتا ہے۔ کیا تم سوچتے ہو کہ مجھے تم سے محبت نہیں ہے، مجھے، جس سے تم پیدا ہوئے ۔

    اب آگے جھکے گا’ جارج نے سوچا کہیں پر خود کو گرانہ لے، اور ٹوٹ پھوٹ جائے ۔ یہ الفاظ اس کے دماغ

    میں سے سرسراتے ہوئے گزرے۔

    اس کا باپ آگے جھکا لیکن گرانہیں ۔ جب چارج قریب نہیں آیا جیسا کہ اسے توقع تھی تو اس نے پھر سے خودکو سیدھا

    وہیں شہر و جہاں ہو۔ مجھے تمھاری ضرورت نہیں ہے تمھیں غلط بھی ہے کہ تم میں اتنی طاقت ہے کہ یہاں تک آسکو

    اور یہ کیتم اپنی مرضی سے خود کو وہاں روکے ہوئے ہو کسی بھول میں مست رہنا۔ مجھ میں اب بھی تم سے زیادہ ہی طاقت

    ہے۔ صرف خود پر بھروسہ کرتا تو شاید گر چکا ہوتا لیکن تمھاری ماں نے اپنی طاقت میں سے تاحصہ حصہ مجھے دیا کہ میں نے

    تمھارے دوست کے ساتھ شان دا تعلق قائم کیا اور تمھارے سارے گا یک بھی میری جیب میں ہیں ۔

    اس کی قمیض میں جیبیں بھی ہیں ۔ جارج نے خود سے کہا اور اسے یقین ہو گیا کہ اس بات سے وہ اسے دنیا بھر کے

    لیے ایک مشکل آدی کے طور پر پیش کر دے گا۔ یہ خیال بس لیے بھر کے لیے اس کے ذہن میں آیا اس لیے کہ وہ مستقل طور پر

    ہر بات بھولتا جارہا تھا۔

    ذرا اپنی منگیتر کو بانہوں میں لے کر میرے سامنے سے گزر کر تو دیکھو، میں اسے تمھارے پہلو سے اچک لوں گا۔تم مجھ ہی نہیں پا گئے کہ کیسے؟

    ( جاری ہے )

  • انسانی خواہشات اور زندگی تحریر: ابوبکر ہشام 

    انسانی خواہشات اور زندگی تحریر: ابوبکر ہشام 

    ہر انسان کے اندر خواہشات کا جنم لینا ایک فطری عمل ہے -اور اس حقیقت سے کوئی انکار بھی نہیں کر سکتا کہ بنی نوع انسان کی خواہشات اُس کے ہوش سنبھالنے سے لے کر قبر میں اترنے تک جاری رہتی ہیں – 

    دنیا کی رونقیں اور رنگینیاں دیکھنے کے بعد انسان کا اپنے اندر خواہشات کا سمندر لئے پھرنا اک عام سی بات ہے – اُس کی خواہشات عمر کے ہر حصے میں مختلف ہوتی ہیں ۔ وہ اپنا بچپن اس چاہ میں گزارتا ہے کہ وہ جلد بڑا ہو گا اور اپنے بڑھے بھائیوں کی طرح وہ سب کچھ کرے گا جو وہ کرتے ہیں ۔ اسی بات کا انتظار کرتے کرتے وہ وہ اپنی جوانی میں پہنچ جاتا ہے اور عمر اس حصے میں پہنچنے کے بعد اس کی تمناؤں کا جال پھیلتا ہی چلے جاتا ہے –

    وہ چاہتا ہے کہ اس کے پاس اچھا گھر ہو  ، گاڑی ہو ، عزت ہو ، شہرت ہو ، رعب و دبدبہ ہو اور وہ سب کچھ جس کی وہ آرزو کرے ۔ 

    وہ نا چاہ کر بھی ان خواہشات کے بوجھ تلے دب کر رہ جاتا ہے – اور انکی طلب میں وہ اپنی زندگی گزار دیتا ہے – لیکن اس کی خواہشات نہ تو کم ہوتی ہیں اور نہ کہ ختم – یہ بات انسان کی فطرت میں شامل ہے کہ وہ ایک چیز کو حاصل کرنے کے بعد دوسری کی تمنا رکھنے لگتا ہے – وہ چاہتا ہے کہ اگر اس نے اپنے کاروبار سے سو کڑوڑ کما لیا ہے تو وہ اب مزید سو کڑوڑ کیسے کمائے – غرض یہ کہ انسان کی خواہشات اور زیادہ سے زیادہ حاصل کرنے کی حوس اس کو چین سے نہیں بیٹھنے دیتی – 

    اس ساری کشمکش کے دوران انسان یہ بھول جاتا ہے کہ اس نے ایک دن مرنا بھی ہے – اِس کاسب کچھ ادھر دنیا میں اس کے ساتھ دفن ہو جانا ہے -اس دنیا کی محبت اور رنگینی اُسے اس قدر اپنے اندر جکڑ لیتی ہے کہ اسے یہ سوچنے کا موقع ہی نہیں ملتا کہ اگر میں ہی نہ رہا تو میری یہ سب دنیاوی تگ و دو کس کام کی ؟ 

    اس مختصر زندگی میں جس کے اگلے لمحے کا کسی کو اندازہ تک نہیں ہوتا کہ اس نے زندہ بھی رہنا ہے یا نہیں وہ ایسے منصوبے بناتا ہے کہ جیسے اسے مرنا ہی نہ ہو ۔ لیکن حقیقت اس کے باکل برعکس ہے – اللہ قرآن کریم میں اشاد فرماتے ہیں : 

    ‏كُلُّ نَفْسٍ ذَائِقَةُ الْمَوْتِ

    ‏ہر جان موت کا مزہ چکھنے والی ہے

    ‏آل عمران 3-185″

    انسان کااپنی خوہشات کے آگے بے بس ہونے کی ایک بڑی وجہ اللہ کے دئیے ہوۓ پر صبر و شکر ادا کرنے کی بجائے لالچ و ہوس میں مزید کی طلب رکھنا ہے – 

    انسان کی زندگی تو ختم ہو جاتی ہے لیکن اسکی خواہشیں مرنے تک اُس کے ساتھ رہتی ہیں – انسان کی خواہشات اور لالچ و حوس کے بارے میں نبی کریم ﷺ نے ارشاد فرمایا : 

    اگر انسان کے پاس مال کی دو وادیاں ہو تو وہ تیسری کا خواہشمند ہو گا اور انسان کا پیٹ مٹی کے سوا کوئی چیز نہیں بھر سکتی – اور اللہ اس شخص کی توبہ قبول کرتا ہے جو (دل سے ) سچی توبہ کرتا ہے ۔ 

    (صحیح بخاری ۶۴۳۶)

    بعض اوقات خواہشات انسان کے اندر اس قدر بے چینی اور اضطراب کی سی کیفیت پیدا کر دیتی ہیں کہ وہ ان کی آرزو میں ہر جائز اور ناجائز ذریعہ بھی استعمال کر لیتا ہے – اس کی سوچ ، اُس کے خیالات ہر وقت صرف اس انتظار میں ہوتے ہیں کہ وہ کسی طرح ان کو پورا کرے لیکن انسان کی یہ خواہشات اُس کا پیچھا مرنے تک نہیں چھوڑتی اور شاید ان سے نجات اور انسان کے دل کو سکون موت کے بعد ہی ملتا ہے ۔ بقول غالب 

    ہزاروں خواہشیں ایسی کہ ہر خواہش پہ دم نکلے 

    بہت نکلے مرے ارمان لیکن پھر بھی کم نکل

  • فیصلہ پارٹ نمبر 4 تحریر سکندر علی

    نہیں ابوجان، میں کسی ڈاکٹر کو بلاتا ہوں اور ہم اس کی ہدایات پرمل کریں گے۔ ہم یہ کمرہ ہی بدل لیں گے۔ آپ

    سامنے کے کمرے میں منتقل ہو سکتے ہیں ۔ میں یہاں آجاؤں گا۔ آپ کو اس تبدیلی کا معمولی ساہی احساس ہوگا ۔ ہر چیز آپ

    کے ساتھ ہی وہاں منتقل ہو جائے گی لیکن یہ سب کچھ بعد میں ہوگا، پہلے تو میں آپ کو کچھ دیر کے لیے بستر میں لٹا دیتا

    ہوں۔ مجھے یقین ہے آپ کو مل آرام کی ضرورت ہے۔ میں کپڑے اتارنے میں آپ کی مددکروں گا۔ آپ دیکھئے گا کہ

    میں ایسا کروں گا۔ اگر آپ فورا ہی سامنے کے کمرے میں منتقل ہونا چاہیں تو آپ فی الحال میرے بستر میں جا کر لیٹسکتے ہیں ۔ یہی سب سے بہتر رہے گا۔

    جارج اپنے باپ کے قریب کھڑا تھا جس کا الجھے ہوئے سفید بالوں والا سر اس کی چھاتی سے جالگا تھا۔

    جارج اس کے باپ نے بغیر ہلے مدھم آواز میں کہا۔

    جارج فورا ہی اپنے باپ کے ساتھ نیچے جھک گیا۔ اس نے اپنے باپ کے تھکے ہوئے چہرے پر پھیلی ہوئی پتلیاں

    دیکھیں جو آنکھوں کے کناروں سے اسی پر جمی ہوئی تھیں ۔

    سینٹ پیٹرز برگ میں تمھارا کوئی دوست نہیں ہے۔ تم ہمیشہ سے ایسے ہی فریبی ہو اور مجھ سے فریب کرنے سے باز

    نہیں آتے۔ وہاں تمھارا کوئی دوست ہوئی کیسے سکتا ہے؟ مجھے یقین نہیں آتا ۔

    ابو جان ز را یاد کرنے کی کوشش کئے جاری اپنے باپ کو آرام کری سے بلند کرتے ہوئے بولا اور جونہی وہ

    نقاہت سے سیدھا کھڑا ہو تو اس کا شب خوابی کا لباس اتارایا۔ تھوڑے ہی عرصے بعد اس بات کو تین سال ہو جائیں گے

    جب میرا دوست آخری مرتبہ یہاں آیا تھا۔ مجھے یاد ہے آپ کو خاص طور پر وہ پیش نہیں تھا۔ کم ازکم دو بار میں نے آپ کو اس

    سے ملنے سے رد کے حالاں کہ تب وہ میرے ہی کمرے میں بیٹا ہوا تھا۔ میں اس سے آپ کی نفرت کو اچھی طرح سے مجھ سکتا

    ہوں ۔ میرا دوست بھی بہت عجیب ہے لیکن پھر بعد میں آپ کی ایک سے گاڑھی چھنے گی۔ مجھے یہ سوچ کر فخر محسوس ہوتا کہ

    آپ نے اسے سنا، ہاں میں سر ہلایا اور اس سے سوال پر تھے۔ دماغ پر زور دیں تو ضرور آپ کو یاد آ جائے گا۔

    وہ میں روی انقلاب کے بارے میں بہت کی غیر معمولی کہانیاں سنایا کرتا تھا۔ مثال کے طور پر جب وہ کیو کے

    دورے پر تھا اور ایک نادی جلوس سے اس کی ٹڈ بھیڑ ہوئی تھی اور اس نے ایک پادری کو بالکونی میں دیکھا تھا جس نے اپنے

    ہاتھ میں خون میں لتھڑی ہوئی صلیب کا زخم بنایا تھا اور ہاتھ بلند کے ہجوم سے درخواست کر رہا تھا ۔ آپ نے اس واقعہ کا خود

    کبھی ایک سے زائد بار ذکر کیا۔

    اس اثنا میں جاری اپنے باپ کو پھر سے وہاں بٹھانے اور احتیاط سے اس کا سوتی پاجامہ اتارنے میں کامیاب ہو گیا

    جو اس نے اپنے لینن کے بنے ہوئے زیر جامہ اور جرابوں کے اوپر پہنا ہوا تھا ۔ زیر جامہ کی غلاظت کو دیکھ کر اس نے اپنے

    آپ کو ملامت کی کہ وہ اپنے باپ کو نظر انداز کیے ہوئے تھا۔ بی واقعتا اس کی زمہ داری تھی کہ وہ خیال رکھے کہ اس کے باپ

    نے زیر جامہ بدلا تھایا نہیں ۔ اس نے ابھی تک واضح انداز میں اپنی منگیتر سے بھی اس بارے میں بات نہیں کی تھی کہ وہ

    مستقبل میں اپنے باپ سے تعلق کیا انتظامات کرنا چاہتے ہیں کیوں کہ انھوں نے اپنے طور پر فرض کرلیا تھا کہ شادی کے

    بعد اس کا باپ یونہی اس پرانے اپارٹمنٹ میں رہتا ہے لیکن اب اس نے فورآنی یہ پکا ارادہ کیا کہ وہ باپ کو نئے گھر میں

    اپنے ساتھ لے جائے گا۔ ذرا سوچئے تو صاف معلوم ہوتا کہ جو د کھ ر کھ وہ اپنے باپ کی کرنا چاہتا تھا، اس کے لیے دیر ہو چکی تھی۔

    وہ اپنے باپ کو بازوں میں اٹھا کر بستر تک لے گیا لیکن چند قدم ہی بستر کی طرف بڑھا ہوگا کہ دیکھ کر اس کا

    پاپ اس کے سینے میں بندھی کھڑی کی زنجیر سے کھیل رہاتھا

    ، اسے دہشت کا احساس ہوا۔ وہ اپنے باپ کو بستر پر انہیں لٹا سکا 

    کیوں کہ زنجیر پر اس کی گرفت بہت مضبوط تھی لیکن جوہی وہ بستر پرلیٹا، باپ نے زنجیر چھوڑ دیا۔ اس نے خود کھیل میں

    اچھی طرح ڈھانپ لیا بلکہ اسے اپنی عادت کے بکس کافی اوپر اپنے کندسوں تک لیا۔ وہ جاری کو نامهربان نظروں سے

    دیکھ رہا تھا۔

    آپ کو میرا دوست یاد آنے لگا ہوگا یا نہیں؟’ جارج نے حوصلاف انداز میں سر ہلاتے ہوئے کہا۔

    کیامیں اچھی طرح سے ڈھک گیا ہوں ۔ اس کے باپ نے پوچھا جیسے وہ انداز نہیں لگا پارہا تھا کہ اس کے پیری

    طور پر بلا سے ڈھکے ہوئے تھے یانہیں ۔

    کیا آپ بستر میں آرام محسوس کررہے ہیں؟ جارج بولا اور باپ کے گرد بستر کو ہموار کر دیا۔

    کیا میں اچھی طرح سے ڈھک گیا ہوں ؟ اس کے باپ نے ایک بار پھر پوچھا اور لگتا تھا جیسے اسے جواب سنے

    میں دی تھی۔

    جارج ہے۔

  • شہید محترمہ بے نظیر بھٹو کی زندگی پر ایک نظر  تحریر :ساجد علی

    شہید محترمہ بے نظیر بھٹو کی زندگی پر ایک نظر تحریر :ساجد علی

    شہید بے نظیر بھٹو کسی بھی اسلامی ملک کی پہلی ہیڈ آف اسٹیٹ ہیں ان کی کہانی شہید ذوالفقار علی بھٹو سے شروع ہوتی ہے شہید الفقار علی بھٹو جو آج بھی لوگوں کے دلوں میں زندہ ہیں یہ پاکستان کے پہلے الیكٹڈ وزیراعظم ہیں بھٹو صاحب ایک زبردست سیاست دان تھے 

    جب بھٹو صاحب کو پھانسی ہوئی تو اس وقت بھٹو صاحب کے بیٹے مرتضی بھٹو ضیاء حکومت کے خلاف ایک تحریک بھی چلا رہے تھے 

    اس تحریک کا نام تھا "الذوالفقار”

    مرتضی بھٹو سیاست میں بہت مشہور ہو رہے تھے اور دوسری طرف ان کی بہن بے نظیر بھٹو کو ضیاء حکومت نے نظر بند کر رکھا تھا جس کی وجہ سے سیاست میں وہ بھی بہت مشہور ہو رہی تھی آخر کار 1984 میں جب بے نظیر کو رہائی ملی تو ملک سے باہر باہر چلی گئیں اپنے والد کی طرح بے نظیر دنیا کی بہترین یونیورسٹیز میں گریجویٹ کر چکی تھی جس میں "ہاؤورڈ اور آکسفورڈ” یونیورسٹیز شامل ہیں ۔

    پاکستان سے باہر رہ کر بھی بے نظیر کافی مشہور ہو چکی تھی 

    1986 میں جب بے نظیر وطن واپس آئیں تو لاہور میں ان کا زبردست استقبال کیا گیا جس کی مثالیں آج بھی دی جاتی ہے 

    اور استقبال کے بعد واضح ہو گیا کہ پاکستان کی اگلی وزیر اعظم بے نظیر ہی ہوگی اور بالکل ایسا ہی ہوا 1988 میں جب ضیاء الحق کا طیارہ تباہ ہوا تو اس کے بعد ہونے والے الیکشن میں پاکستان پیپلز پارٹی کی حکومت بنی ۔

    پاکستان دنیا کے پہلے ممالک میں سے ہے جنہوں نے ایک فیمیل ہیڈ آف اسٹیٹ سلیکٹ کی ہے جبکہ امریکا آج تک ایسا نہیں کر سکا 

    الیکشن سے پہلے بے نظیر کو مشورہ دیا گیا کہ آپ شادی کر لیں 

    ایک نوجوان لڑکی کی بجائے ایک شادی شدہ عورت زیادہ بردبار ذہین اور عوام سے جڑی ہوئی لگے گی اور بے نظیر اس مشورے کو مان گئی ۔

    اور بے نظیر نے فیصلہ کیا کہ وہ ارینج میرج کریں گے جس کے بعد ان کی والدہ نے اس کی شادی حاکم علی زرداری کے بیٹے آصف علی زرداری سے کروائیں اور یہ شادی بڑی دھوم دھام سے ہوئی جس میں دو لاکھ سے زیادہ لوگوں نے شرکت کی۔

     بے نظیر بھٹو وزیراعظم تو بن گئی لیکن پنجاب میں ان کی حکومت نہیں آئی اور بیوروکیسی کی بھی پیپلزپارٹی کو کوئی خاص سپورٹ نہیں تھی کیونکہ ضیاء دور میں پاکستان پیپلزپارٹی کی پاکیات کو چن چن کر ختم کیا گیا تھا ۔

    اس لیے بے نظیر بھٹو کا پہلا دور تو حالات سنبھالتے سنبھالتے ہی نکل گیا کیونکے پنجاب کے وزیر اعلی نواز شریف نے بے نظیر کی ناک میں دم کر رکھا تھا اور جب سارے ہیں آپ کے پیچھے پڑ جائے تو حکومت کیا چلے گی اور بینظیر بھٹو کی حکومت تقریبا 20 ماہ کے بعد ختم ہوگئی 

    اور اسی طرح 1993 میں بینظیر بھٹو ایک بار پھر الیکشن جیت گئی اور اس بار وہ بہت میچور ہو گئی تھی اور اس بار وہ حالات سے مقابلہ کرنے کے لئے تیار ہو چکی تھی اسی دور میں بے نظیر کے بھائی مرتضی بھٹو کو گولیاں مار کر قتل کر دیا گیا ۔ 

    آخر کار نتیجہ یہ نکلا کہ بے نظیر کے تین سالہ حکومت کے بعد بے نظیر کے اپنے ہی لگائے ہوئے صدر فاروق لغاری نے ان کی حکومت توڑ دی 

    اور اگلی بار الیکشن میں شکست ہونے پر بے نظیر بھٹو صاحبہ ملک سے باہر چلی گئی ۔

    1999 میں مشرف نے ملک پر مارشل لاء لگا دیا تو 2000 میں نواز شریف بھی ملک چھوڑ کر چلے گئے ۔

    اور مشرف سکون سے حکومت کرتے رہے لیکن وقت کے ساتھ ساتھ اپنی ہی بنائی ہوئی مسلم لیگ ق سے تنگ آنے لگے  

    اور 18 اکتوبر 2007 کو بینظیر نے ملک میں واپسی قدم رکھا اور بے نظیر کا بھرپور استقبال کیا گیا لیکن استقبال کے ساتھ ساتھ ایک بم دھماکا بھی ہوا جس میں 200 سے زیادہ لوگ مارے گئے اور 500 سے زیادہ زخمی ہوئے 

    اور شہدائے کارساز کے دھماکے کے بعد بھی ان کا حوصلہ بہت بلند تھا اور اس دھماکے سے صرف دو ماہ بعد 27 دسمبر 2007 کو بے نظیر کا لیاقت باغ راولپنڈی میں ایک جلسہ تھا اور یہ وہی جگہ تھی جہاں پر پاکستان کے پہلے وزیر اعظم لیاقت علی خان کو ایک افغان شہری نے گولی مار کر قتل کر دیا تھا اور اسی مقام پر محترمہ بینظیر بھٹو صاحبہ جب جلسہ ختم کرکے واپس جا رہی تھی تو اپنے کارکنوں کو داد دینے کے لیے وہ اپنی گاڑی سے باہر نکل کر کارکنوں کو ہاتھ ہلا کر داد دینے لگی اس کے بعد ان کی گاڑی پر فائرنگ کی گئی اور پھر بم دھماکا ہوا اس طرح کچھ ظالموں نے محترمہ بے نظیر بھٹو کو بھی شہید کر دیا ۔ 

    ہم سب کو وہ دن یاد ہے وہ وقت یاد ہے جب ان کو شہید کیا گیا خاص طور پر وہ لوگ جو بے نظیر صاحبہ کے ساتھ جلسے میں تھے پیپلز پارٹی کے تمام کارکن سڑکوں پر نکل آئے تھے اور حالات تمام خراب ہونے لگے تھے مگر پیپلز پارٹی کے لیڈر نے بات بگڑنے نہیں دی اور اپنےکارکنوں کو حوصلہ دیا 

    یہ بات تو سچ ہے بے نظیر ایک مضبوط لیڈر تھیں ان کو بہت مشکل حالات کا سامنا کرنا پڑا ان کے والد ذوالفقار علی بھٹو کو پھانسی لگا دی گئی اور ان کو کئی بار جیل کا سامنا کرنا پڑا لیکن پھر بھی وہ ڈٹی رہی اور اپنے ملک کے لیے لڑتی رہی ایک باہمت اور ثابت قدم خاتون تھیں 

    دعا ہے اللہ تعالی ان کے درجات بلند فرمائے اور ان کو جنت میں اعلی مقام عطا فرمائے آمین

        

  • عزت نفس تحریر ۔محمد نسیم

    عزت نفس تحریر ۔محمد نسیم

    قارئین عزت نفس دُنیا کی سب سے مہنگی چیز ہوتی ہے یہ عزت نفس انسان کی پہچان ہوتی ہے اور یہ ہی کسی شخص کی زندگی کا نچوڑ بھی  ہوتی ہے
    عزت نفس انسان کی ہو یا ملکوں کی یہ ہی قوموں کا وقار ہوتی ہے اور یہ ایسا گراں قدر ہیرا ہے جو ایک بار کھو جائے تو پھر نایاب ہی میسر آتا ہے
    پچھلے دنوں ایسے ہی واقعات ملک پاکستان میں رونما ہوئے اُن میں سے ایک پر آج لکھنے کا موقع ملا آپ کی نظر سے بھی شاید وہ واقع گزرا ہو یا آپ نے بھی اس پر آواز اُٹھائی ہو وہ واقعہ ہمارے قومی ہیرو جو کہ ایک کرکٹر ہیں شعیب اختر کے ساتھ پیش آیا قومی ٹی وی چینل پر لائیو بیٹھ کر ایک ہوسٹ انٹرنیشنل تجزیہ نگار اور سابقہ کرکٹرز کے سامنے آپے سے باہر ہوگیا اور قومی ہیرو شعیب اختر کی عزت نفس اور دُنیا میں انکی شہرت و حثیت کا خیال کئیے بغیر انکو لائیو شو سے جانے کا کہہ دیا قومی ہیرو شعیب اختر نے قومی وقار کا خیال رکھتے ہوئے بات کو ختم کرنے کی کوشش کی اور ہوسٹ کو معذرت کرنے کا کہا لیکن یہ میزبان شاید صحافت کی تعلیم لئیے بغیر ہوسٹ بنے تھے لہذا ڈھٹائی سے اپنی کم ظرفی پر قائم رہے اور بالاخر  شعیب اختر کو اس بات پر مجبور کردیا کہ وہ اپنی عزت نفس بھریائی کے لئیے انتہائی قدم اُٹھائیں
    قصہ مختصر شعیب اختر نے لائیو شو سے استعفٰی دے کر جانے کا فیصلہ کیا اور اس بے حس میزبان کو مزید برداشت نا کیا شعیب اختر کا قصور کیا تھا اس نے حارث رؤف کی تعریف کے ساتھ ساتھ لاہور قلندر کے ڈویلپمنٹ پروگرام کی تعریف کردی تھی
    کیا یہ ملک دشمن تھے ؟
    چینل قومی ،حارث رؤف قومی لاہور قلندر قومی
    پھر میزبان کو کیوں ناگوار گزرا کیا قومی میزبان ایسی حرکت کرسکتا ہے ؟
    میزبان وہ جو مہمان کی ناگوار بات یا اختلاف کو اس لئیے برداشت کرے کہ یہ شخص میرا مہمان ہے اسکی عزت میری عزت ہے
    قارئیں اس کے برعکس شعیب اختر  ایسا قوم کا ہیرو ہے کہ ہمارے ہمسایہ ملک بھارت جہاں لاتعداد چینلز شعیب اختر کو مدعو کرتے ہیں شعیب اختر نے کبھی بھی پاکستان کے عزت نفس پر سمجھوتہ نہیں کیا وہ جس سپیڈ سے باؤلنگ کرتے ہیں اس سے ڈبل سپیڈ میں وہاں میزبان اور وہاں کی جنتا کو تگنی کا ناچ نچاتے ہیں وہاں شعیب اختر پاکستانی پرچم پر کبھی آنچ نہیں آنے دیتا وہاں شعیب اختر نہیں وہاں کے میزبان پروگرام چھوڑ کر بھاگتے ہیں کیونکہ شعیب اختر کے باؤنس وہ برداشت نہیں کرپاتے اور بھاگنے میں ہی عافیت جانتے ہیں
    حالیہ ورلڈ کپ T20کے دوران پاکستان پلئرز کی کارکردگی کا بھارتی چینلز پر خوب چرچا ہورہا ہے مگر وہاں کسی بھی میزبان نے کسی مہمان کی عزت پر ہاتھ نہیں ڈالا کہ تم نے پاکستانی پلئرز کی تعریف کیوں کی تمھیں اس پروگرام سے نکل جانا چاہئیے
    خیر قارئین اس واقعہ کے بعد سوشل میڈیا پر جب معاملہ نکلا تو واقعہ کی ویڈیو وائرل ہوگئی اور صارفین میں غم وغصہ کی لہر دیکھنے کو ملی اس غم و غصے کو دیکھتے ہوئے قومی ٹی وی کے ساتھ ساتھ وزیراعظم پاکستان عمران خان نے بھی نوٹس لیا اور قومی ہیرو کے ساتھ ہونے والے واقعےطکی مذمت کی اور قومی ہیرو کے ساتھ کھڑے ہوگئے
    اور ٹی وی انتظامیہ نے میزبان کو آف ائیر کردیا
    یہاں واضح رہے کہ اس واقعہ کے بعد تمام نجی ٹی وی چینلز نے قومی ہیرو شعیب اختر کی حمایت کرتے ہوئے تمام ذمہ داری ہوسٹ پر ڈال دی
    ظاہر ہے میزبان اور مہمان میں اکثر اختلاف رائے ہوجاتا ہے لیکن ایسا کبھی نہیں ہوا کہ میزبان مہمان کو پروگرام سے نکل جانے کا کہہ دے
    الغرض پورےملک کے تمام میزبانوں ،مہمانوں تمام سُپر سٹارز،قومی ہیروز،کرکٹرز،سیاستدانوں ،گلوکاروں ،ایکٹرز نے قومی ہیرو سے اظہار یکجہتی کا اظہار کیا اور مطالبہ کیا ایسے میزبان پر قومی چینل پر تاحیات پابندی لگائی جائے
    آخر پر قومی ہیرو کے ساتھ آنے والے اس واقعہ پر قوم کی جانب سے معذرت کا طلبگار  آپ ہمارے ہیرو ہیں

  • ڈراموں کی اسٹوریز اور ہماری نسلیں ! تحریر علی مجاہد

    ڈراموں کی اسٹوریز اور ہماری نسلیں ! تحریر علی مجاہد

    آج کل اگر ہم ٹی وی چینلز کی بات کریں ویسے تو بہت ماڈرن زمانہ ہو گیا ہے ٹیلی ویژن کی تو ویلیو نہیں ہر چیز جب چاھیں جہاں چاھیں آپ کے موبائل،آم آئی پیڈ یا لیپ ٹاپ وغیرہ میں آسانی سے دیکھ سکتے ہیں بہرحال ہم بات کر رہے تھے ٹی وی چینلز کی سیٹینگ کی تو انکی سیٹنگ بھی بلکل اجیب ہے سب سے پہلے سارے فلموں والے چینلز پھر ڈراموں والے پھر نیوز والے اور پھر اینڈ میں کئی جا کر اسلامی چینلز، جو سب سے پہلے ہونا چاہیے تھا وہ سب سے آخر میں اور جو آخر میں ہونے چاھیے تھے وہ سب سے پہلے ہوتے ہیں، آپ اگر شام 8 بجے کہ بعد ڈراموں والے چینلز دیکھیں گے تو کئی دائیں طرف سے عورت کو چانٹا لگ رہا ہوگا کسی کو بائیں طرف اور کئی پر الٹیاں ہوں گی پریگننسی ہو گئی میں یہ نہیں کہتا اس ملک میں عورتوں پر ظلم نہیں ہوتا مگر ہمارے ڈرامے والے بار بار ایک ہے چیز دیکھا کہ کیا کہنا چاھتے ہیں؟ کچھ دنوں پہلے ایک ڈراما (جدا ہوئے کچھ اسطرح) کا ٹریلر دیکھا کی جی وہ کوئی شادی ہو گئی ہے لڑکے لڑکی کی تو نانی جی کہتی ہیں یہ تو بہن بھائی ہیں وہ بھی رضائی والے مطلب دو کزن ہم عمر ہیں غلطی سے اپنے بچے کہ جگہ دوسرے کو دودھ پلا دیا تو ہوگئے رضائی بھائی بہن یعنی اپنی اولاد کو ہی نہیں پہچانا اور پھر نانی اما نے یہ تو بتا دیا یہ بھائی بہن ہے اور دوسری طرف اب لڑکی پریگننٹ ہو گئی ہے، اس ٹاپک کہ بعد آپکو پھر دیکھے گا ڈرامے کا دوسرا موضوع جس میں ہمیں دیکھایا جاتا ہے دیور بھابھی سے محبت کرتا یا لڑکی کئی جاب کرتی ہے تو وہاں بوس سے پیار کر بیٹھتی ہے بالکل بھی فرق نہیں پڑتا وہ شادی شدہ ہے یا اسکا بچہ ہے کچھ بھی نہیں یہ کہانی آپ نے پچھلے دنوں بہت نام سنا ہوگا ( میرے پاس تم ہو ) اسکا سین بیان کر رہا ہوں ہمارے یہاں آپکو صرف یہ دو ہی ٹاپک ملیں گے اور پھر ڈراما لکھنے والا کہتا ہے جو روز مرہ کی زندگی میں ہوتا ہے وہ دکھاتے ہیں ہم تو کیا ہمارے ملک میں ہمارے معاشرے میں بچے لوگ ٹیچرز نہیں بنتے یا پھر گورنمنٹ سکول یا ہسپتال کے ان لوگوں پر کہانی نہیں بن سکتی جو گھر بیٹھے بیٹھے تنخواہیں اٹھا رہے ہوتے ہیں میں ایسا ہر گز نہیں کہوں گا کہ سارے ایسا کرتے ہیں پر کچھ بھی آٹے میں نمک کے برابر لوگ ہی سہی کرتے تو ہیں تو ان پر کہانی بنائو، ہمارے یہاں آپ معاشرے میں دیکھیں گے بچوں نے انجیرنگ کی ہے کسی نے ڈاکٹری یا کچھ بھی کیا ہو محنت کی ہے تعلیم حاصل کی ڈگریاں حاصل کیں پر بیروزگار ہیں ان پہ بھی تو ایک بہت زبردست کہانی بن سکتی ہے یہ بھی تو زندگی میں ہو رہا ہے ان پہ کوئی کیوں کوئی ڈراما یا فلم نہیں بناتا ؟ آجکل ڈراموں میں بے حیائی کے علاوہ کچھ بھی نہیں دیکھاتے پاکستان میں اس وقت جو طلاقوں کی سب سے زیادہ وجہ جو بنتی ہے میں سمجھتا ہوں وہ ڈراما سیریل ہے کیوں کہ ڈراموں کہ ذریعے ہماری نسلوں سے پیار ختم کرکے نفرتیں پیدا کر رہی ہیں وہ ہماری بچیوں اور خواتین میں آزادی کی باتیں ڈالتے ہیں کہ عورت کو آزادی ہونی چاہیے کچھ بہنیں سمجھدار ہوتی ہیں تو کچھ ایسی بھی ہوتی ہیں ہیں جو پھر روڈ پر نکل آتی ہیں کہ ہمیں آزادی چاہیے میں تو وقت کے حکمرانوں اور گھر کے سربراہوں سے ایک گزارش کروں گا اگر آپ ریاست مدینہ چاھتے ہیں تو اپنی نسلوں کو ڈراموں سے نکال کر صحابہ کرام کی سیرت پڑھائیں صحابیات کے واقعات پڑھائیں پھر آپ ریاست مدینہ قائم کر سکتے ہیں ہر گھر کی زمہ داری اس گھر کے مرد کی ہوتی ہے نا کہ حکومت یا حکمرانوں کی تو بہرحال اپنی نسلوں میں اور انکی سانچوں میں تبدیلی لانی ہوگی۔ 

  • فیصلہ پارٹ نمبر 3   تحریر سکندر علی

    فیصلہ پارٹ نمبر 3 تحریر سکندر علی

    پھر اس نے خط جیب میں رکھا اور کمرے سے نکل کر مختصر برآمدے سے ہوتا ہوا اپنے باپ کے کمرے میں گیا جہاں

    اس کا مہینوں سے جانا نہیں ہوا تھا۔ وہاں جانے کی اسے ضرورت ہی محسوس نہیں ہوتی تھی ۔ کاروباری سلسلے میں روز ہی تو وہ

    ملتے تھے اور کھانے کے وقفوں میں دوپہر کا کھانا بھی اکٹھے ہی کھاتے تھے۔ البتہ شام کو دونوں اپنے مرضی سے وقت

    گزارنے میں آزاد تھے۔ جارج زیادہ تر دوستوں کے ساتھ باہر چلا جاتا یا جیسا کہ تھوڑا ہی عرصہ ہوا کہ وہ اپنی منگیتر سے

    ملنے چلا جاتا بصورت دیگر دونوں باپ بیٹا کچھ وقت ساتھ گزارتے اوراپی مشترکہ بینک میں بیٹھ کر اخبار پڑھتے ۔

    جارج کو حیرت ہوئی کہ ایسے روشن دن میں بھی اس کے باپ کا کمرہ تاریکی میں ڈوبا ہوا تھا۔ یہ کرہ تک مین کی

    دوسری جانب اونچی دیوار کے سائے میں واقع ہونے کی وجہ سے سورج کی براہ راست روشنی سے محروم تھا۔ اس کا باپ

    کھڑکی کے نزدیک ایک کونے میں بیٹا تھا جہاں اس کی مرحوم والدہ کی تصویریں اور تلف نشانیاں لگی ہوئی تھیں اور اخبار

    کو پڑھتے ہوئے اپنی آنکھوں کے سامنے یوں ایک طرف کیے ہوئے تھا جیسے بھارت کے قص پر قابو پانے کی کوشش کر رہا

    ہور میز پاس کے ناشتے کا، جس کا صاف معلوم ہوتا تھا کہ کم ہی حصہ کھایا گیا، باقی ماندہ حصہ پڑا تھا۔

    اوہ جارج اس کے باپ نے فورا اپنی جگہ کھڑے ہوتے ہوئے کہا ۔ چلنے سے اس کا بھاری بھر کم شب خوابی کا

    لباس کھل گیا اور پلواس کے جسم کے گرد پھڑ پھڑائے گئے۔

    میرا باپ ابھی تک ایک جسیم انسان ہے۔ جارج نے خود سے کہا۔

    وہ بولا ” یہاں نا قابل برداشت اندھیرا ہے ۔

    ہاں، کافی اندھیرا ہے۔ اس کے باپ نے جواب دیا۔

    آپ نے کھڑکیاں بھی بند کی ہوئی ہیں؟

    ایسا ہی اچھا لگتا ہے۔

    اخیر باہر کافی گری ہے۔ جارج نے کہا جیسے وہ اپنی پچھلی بات ہی کا تسلسل برقرار رکھے ہوئے ہوں۔ پھر وہ بیٹھ گیا۔

    اس کے باپ نے ناشتے کے برتن صاف کیے اور انھیں ایک الماری میں رکھ دیا۔

    دور میں صرف آپ کو یہ اطلاع دینا چاہتا تھا کہ جارج اپنے باپ کی حرکات کا مشاہدہ کرتے ہوئے بولتا رہا، میں

    سینٹ پیٹرز برگ خط لکھ کر اپنی منگنی کی خبریج رہا ہوں ۔ اس نے اپنی جیب میں سے خط پہلے مجھے باہر کیا لیکن پھر اسے

    والیں اندر سید لیا۔

    سینٹ پیٹرز برگ؟ اس کے باپ نے پوچھا۔

    میرے دوست کو جارج نے اپنے باپ کی آنکھوں میں دیکھنے کی کوشش کرتے ہوئے کہا ۔ وہ سوچ رہا تھا کہ

    کاروباری معاملات میں مریض کتنا مختلف ہوتا ہے ۔ کیسے مضبوطی سے اپنے بازوں کو باندھے بیٹھتا ہے۔

    ۔

    او ہاں، اپنے دوست کو اس کے باپ نے مجیب انداز میں زور دیتے ہوئے کہا ۔

    اچھا، ای جان آپ تو جانتے ہیں کہ پہلے میں اسے اپنی نئی کے بارے میں بتانے کا کوئی ارادہ نہیں رکھتا تھا۔ بس

    اس کا سوچ کر ورنہ کوئی دوسری وجہ نہیں تھی۔ آپ خود جانتے ہیں کہ وہ ایک مشکل انسان ہے۔ میں نے خود سے سوچا کہ

    اسے ضرور کسی نیکی ذریعے سے میری منگنی کے بارے میں پتہ چل جائے گا

    ، حالاں کہ اس کی خلوت گزینی کی زندگی میں

    اس بات کا امکان بہت زیادہ نہیں ہے اور اسے میں روک بھی نہیں سکتا لیکن میں اسے خبر دینے پر تیارنہیں تھا۔

    اور اب تم نے اپنا ارادہ بدل لیا ہے۔ اس کے باپ نے پوچھا، اپنا بڑا اخبار کھڑکی کی دہلیز پر پھیلاتے ہوئے

    جب کہ اس کے ہاتھ میں نظر کا چشمہ تھا جسے اس نے ایک ہاتھ سے ڈھانپا ہوا تھا۔

    ہاں، اس بارے میں سوچتا رہا ہوں ۔ میں نے خود سے کہا کہ اگر وہ میرا چھا دوست ہے تو میری خوشی سے اسے بھی

    خوشی ہوگی ۔ اس لیے اب مجھے اس کو اس بارے میں بتانے میں کوئی پچکچاہٹ نہیں ہے لیکن خط بھینے سے پہلے میں نے سوچا کہ آپ سے بات کرو۔

    جارج اس کے باپ نے اپنا بغیر دانتوں کا منہ پورا کھولتے ہوئے کہا میری بات سنو تم اس معاملے پر مجھ

    سے بات کرنے آئے ہو۔ بلا شبہ یہ تمھارے سعادت مندی ہے لیکن اس کی کوئی حیثیت نہیں ۔ بلکہ یہ پیش نہ ہونے کی

    بہتر ہوتا تو مجھے پورا ن ت بتاتے ۔ میں ان باتوں کو نہیں پھیرنا چاہتا ہو اس موقع سے مناسب نہیں رکھتی ہیں تمھاری ماں

    کی وفات کے بعد سے یہاں کچھ خاص قابل اعتراض باتیں ہوری ہیں۔ ایران پر بات کرنے کا ویتنے کا اور

    شاید اس سے بھی جلدر جتنا ہمارا اندازہ ہے۔

    کاروبار میں بہت سی باتیں ایسی ہیں جن کا مجھے علم نہیں ہو پاتا۔ ہوسکتا ہے کہ وہ مجھ سے چھپائی جاتی ہوں ۔ میں یہ

    نہیں کیہ رہا کہ نھیں جان بوجھ کر مجھ سے چھپایا جاتا ہے۔ میں پہلے ہمیں صحت مند نہیں رہا میری یادداشت کمز ور پوری

    ہے۔ میں اب مزید بہت کی باتوں پر ایک ساتھ نظر نہیں رکھ پاتا۔ ایک تو یہ سب کچھ قدرتی عمل کا حصہ ہے اور دوسری بات

    تمھاری ماں کی وفات تمھاری نسبت میرے لیے کہیں زیاد و پر ادا کی تھی لیکن چوں کہ ابھی ہم اس خط پر بات کر رہے

    ہیں، جارج میں تم سے درخواست کرتا ہوں کہ مجھے دھوکہ مت دو۔ تو بہت معمولی بات ہے۔ اتنی بھی اہم نہیں ہے کہ اس کا

    ذکر کیا جائے ۔ اس لیے مجھے دھوکہ مت دو۔ کیاوقتی سینٹ پیٹرز برگ میں تمھارا کوئی دوست ہے؟

    جارج پریشانی سے اٹھ کھڑا ہوا۔ میرے دوستوں کی بات چھوڑیے۔ ہزاروں دوست بھی میرے لیے باپ کا

    تبادل نہیں ہو سکتے۔ کیا آپ جانتے ہیں کہ میں کیا سوچتا ہوں؟ آپ اچھے طریقے سے اپنا خیال نہیں رکر ہے۔ بڑھاپے

    میں زیادہ دیکھ بھال کی ضرورت ہوتی ہے۔ کاروبار میں آپ کا ہونا میرے لیے ناگزیر ہے۔ آپ بھی یہ بات اچھی طرح

    جانتے ہیں لیکن اگر کاروبار آپ کی صحت کے لیے منتر ثابت ہے تو میں اسے کل ہی ہمیشہ کے لیے بند کرنے پر تیار ہوں لیکن

    اس سے کچھ نہیں ہوگا ہمیں آپ کی طرز زندگی میں تبدیلی پیدا کرنی ہوگی ۔ ایک بڑی تبدیلی ۔ آپ یہاں تاریکی میں بیٹے

    رہے ہیں جب کہ بینک میں اچھی خامسی روتی ہے ۔ اپنی صحت کا رسک لیتے ہوئے آپ بہت کم پاشی کرتے ہیں ۔ بند

    کھڑکی کے پاس بیٹھے رہتے ہیں ۔ اگر ہوا آتی رہے تو اس سے آپ کو بہت فائدہ ہوگا ۔

    ( ابھی جاری ہے)

  • موسم سرما کی آمد اور بیماریاں تحریر علی حمزہٰ 

    موسم سرما کی آمد اور بیماریاں تحریر علی حمزہٰ 

     

    جیسا کہ ہم بخوبی جانتے ہیں کہ پاکستان میں موسم سرما کا آغاز ہو چکا ہے۔ چند مقامات پر تو موسم بہت سرد ہے۔ لیکن ساتھ ہی کئی مقامات پر موسم جزوی ہے۔ کہی کہی تو تیز بارش ہے۔ پر کہی کہی دھوپ، لیکن کہی تو برف باری نے موسم کو مزید سہانا بنا دیا ہے۔ پہلی برف باری نے سیاحوں کی دل موہ لیے ہیں۔ آسمان سے گرتے برف کے گالوں نے قدرتی حسن کو چار چاند لگا دیئے ہیں۔ موسم سرما سرد ترین موسم ہوتا ہے۔ کئی علاقوں میں تو پارہ منفی ڈگری میں چلا جاتا ہے لوگ آگ جلا کر گزر بسر کرتے ہیں۔ سردیوں میں دن چھوٹے اور راتیں لمبی ہو جاتی ہیں۔ درجہ حرارت منفی میں چلا جاتا ہے۔ ٹھنڈی ہوائیں چلتی ہے جس سے موسم خوشگوار اور ٹھنڈا ہو جاتا ہے۔ سرد ترین علاقوں میں خوب برف پڑتی ہے پہاڑ برف کی سفید چادر اوڑھ لیتے ہیں۔ جو دیکھنے والوں کے دلوں کو چھو لیتے ہیں۔ جھیل اور چشمے جم جاتے ہیں۔ جو الگ ہی منظر پیش کرتے ہیں۔ جن علاقوں میں برف باری ہوتی ہے ان علاقوں میں کچھ سرمائی کھیل بھی کھیلے جاتے ہیں۔ جن کو دیکھنے کے لیے سیاحوں کی بڑی تعداد ان علاقوں کا رخ کرتی ہے اور لطف اندوز ہوتی ہے۔

    موسم کی تبدیلی کے ساتھ ساتھ غذا اور ملبوسات میں بھی تبدیلی کا عمل شروع ہو گیا ہے۔ اونی کپڑے، سویٹر، جوتوں اور گرم شالوں کا انتخاب اہم ضرورت بن چکا ہے۔ مہنگائی کی موجودہ صورتحال کو دیکھ کر یہ فیصلہ کرنا مشکل ہو گیا ہے کہ کیا خریدا جائے کیا نہیں۔

    اس موسم میں احتیاطی تدابیر اختیار نہ کرنے کافی نقصان بھی ہو سکتا ہے۔ یہ درست ہے کہ بدلتے موسم کے اثرات مضر صحت بھی ثابت ہو سکتے ہیں۔ اگر آپ اپنے آپ کو اس موسم کے مطابق ڈھال لیں اور اس کی ضروریات کو پورا کرتے رہیں تو آپ کو اس موسم سے لطف اندوز ہونے کے لیے کوئی نہیں روک سکتا۔

    اس موسم میں اپنے آپ کی حفاظت بھی اولین ترجیح ہے۔ کھانسی، زکام اور بخار اس بدلتے موسم میں عام ہیں۔ موسم سرد ہونے پر لوگوں کے کھانے پینے اور پہننے کے معمولات میں چھوٹی بڑی کئی تبدیلیاں آجاتی ہیں۔ ویسے ہی، کچھ بیماریاں بھی لوگوں کو سردیوں میں زیادہ تنگ کر سکتی ہیں۔ فیملی میڈیسن کے ماہرین ہر عمر کے مرد و خواتین کی تمام بیماریوں کا علاج کرتے ہیں۔

    عام طور پر نزلہ زکام، گلا خراب ہونا، دمہ، جوڑوں میں درد، ہاتھ پاوٴں خاص طور پر انگلیاں ٹھنڈی ہو جانا، جِلد کا خشک ہو جانا، فلو کے ساتھ ساتھ دل کا دورہ، ہونٹوں پہ اور ان کے گرد چھالے اور اُلٹیاں سرد موسم کی کئی عام بیماریاں ہیں۔ سردیوں میں کچھ لوگوں کے جوڑوں میں درد کی شکایات بھی سامنے آتی ہیں ان کو چاہیے کہ گھر سے باہر کم نکلا کریں۔ 

    سردی کے موسم میں ٹھنڈ لگنے سے جسم میں کپکپی جیسی کیفیت پیدا ہو جاتی ہے جس کی وجہ سے سینے میں ٹھنڈ لگنے کے امکانات بڑھ جاتے ہیں ۔ خاص طورپر اس سے چھوٹے بچے اور بزرگ افراد زیادہ متاثر ہوتے ہیں اور ان کے سینے میں درد ہونے لگتا ہے ۔ پچاس سال سے زائد عمر کے افراد میں سردی کی شدت جب سینے پر پڑتی ہے تو اس سے ان کو فالج کے حملے کا خطرہ بھی بڑھ جاتا ہے ۔ اس حالت میں جسم کو ٹھنڈے ماحول اور ٹھنڈے پانی سے بچانا چاہئے اور گرم کپڑوں کے ذریعے سینے کو اچھی طرح ڈھانپنے کے ساتھ ساتھ کھانے پینے کی  گرم  چیزوں کا بھی استعمال کرنا چاہئے ۔ سردموسم میں دمہ یا سانس کے امراض میں بھی اضافہ ہو جاتا ہے۔ کیونکہ خشک موسم سانس کے مریضوں پر بری طرح اثرانداز ہوتا ہے اور انہیں سردیوں میں خاص طورپر دیکھ بھال اور احتیاط کی ضرورت ہوتی ہے۔ کوشش کرنی چاہئے کہ خشک موسم میں زیادہ باہر نکلنے کے بجائے گھر پر ہی رہنے کو ترجیح دی جائے اور اگر ضرورت کے لئے گھر سے باہر نکلنا مقصودبھی ہوتو ناک اور منہ کو کسی گرم کپڑے سے اچھی طرح سے ڈھانپ کر نکلا جائے اور نکلتے وقت انہیلر اور ضروری ادویات ضرور ساتھ رکھ لی جائیں جوفوری طبی امداد کے وقت کام آ سکیں۔

    اپنی صحت کی حفاظت ہم سب کیلئے بہت ضروری ہے گرم غذائیں کھائیں اور گرم ملبوسات کا استعمال کریں اور اپنی صحت کا خیال رکھیں۔ خدا حافظ 

  • اخلاقیات اور بدمزاجی تحریر افشین

    تلخ مزاج ہونا ، بات کرتے وقت لہجے کا سخت ہونا ۔ نا خوشگوار حالات انسان کو تلخ مزاج بنا دیتے ہیں ۔ زندگی میں رونما ہونے والے واقعات جن سے دل آزاری ہوئی ہو انسان کو بدمزاج بنا دیتے ہیں ۔اخلاق بہتر بنائیں ۔ اخلاق بہتر بنانے سے مراد روحانی طور پہ خود کو بہترین بنائیں صرف دکھاوے کی غرض سے نہیں ۔
    بہت سے افراد کا لہجہ مخاطب ہوتے وقت شہد جیسا ہوتا ہے اتنا میٹھا کے ہر کوئی انکا گرویدہ ہوتا ہے انکی باتوں سے متاثر ہوتا ہے ۔ اور ایسا انسان اپنی میٹھی باتوں سے دوسروں کے دل پہ راج کرنے لگتا ہے اور ہر کام کروا سکتا ہے ۔ جب کہ تلخ مزاج انسان سے ہر کوئی دوری اختیار کرتا ہے ۔ کوئی بھی اسکو سمجھنے کو کوشش نہیں کرتا۔ وہ ایسا بدمزاج کیوں ہے ؟ انسان کو املی کی طرح کھٹا میٹھا ہونا چاہیے ۔بہت میٹھا بھی صحت کے لیے مضر ہے ۔ایسے لوگ بھی معاشرے میں موجود ہیں کہ جنکا انداز گفتگو ایسا ہوتا ہے کہ انکے اچھے اخلاق، بات کے انداز سے متاثر ہوکے لوگ انکے ہاتھوں استعمال ہورہے ہوتے ہیں ۔ لوگ اچھا اخلاق دوسروں کے سامنے ظاہر کر کے خود کو اعلی مثال پیش کرتے ہیں ۔حقیقت میں وہ اپنے اس انداز سے صرف دوسروں کا استعمال کرتے ہیں۔ایک اچھا انسان کبھی بھی ایسے نہیں کرتا ۔ لہذا خود کو دکھاوے کی غرض سے بہترین نہ بنائے ۔
    انسان کو پرکھنا ہو تو اسکے میٹھے لہجے سے نہیں بلکہ اسکے دل کو دیکھیے وہ سچ بولتا ہے، رحم دل ہے ، دوسروں کی مدد کرتا ہے، دوسروں کے ساتھ کیسے پیش آتا ہے سب پہلو دماغ میں رکھ کے اسکے جاننے کی کوشش کریں۔ صرف لہجوں سے انسان کی پہچان نہیں ہوتی ۔انسان کی جو فطرت ہو وہ کبھی نہیں بدل سکتی نا میٹھے لہجے کے پیچھے نا کرواہٹ لہجوں میں ، ہمیشہ وہی رہے جو آپ حقیقی معنوں میں ہیں ۔بہترین اخلاق وہی ہیں جس میں کسی کی دل آزاری نہ ہو ۔ کہیں لوگ گھر سے باہر اچھا انسان ہونے اور اپنی مثال قائم کرنے میں لگے ہوتے ہیں اپنی برائیاں چھپائے دنیا کی نظر میں اعلی ظرفی کا مقام پاتے ہیں ۔
    اللّلہ پاک کی نظر میں اعلی مقام والا وہی ہے جو کسی کا دل نہ دکھائے سچا مومن ہو ظاہری مومن تو ہر کوئی بنا ہوا ہے ۔ اخلاق بہترین بنائیں بزرگوں کا احترام کریں۔ بچوں سے پیار سے پیش آئیں ۔ رحم دلی، ایمانداری اور سچائی کے پیروکار بنے ۔ اللّلہ سب دیکھتا ہے دنیا کے سامنے اچھا بننے کا ناٹک نہ کریں جو آپ حقیقی طور پر ہیں وہی رہیں ۔ کرواہٹ سے بات نہ کریں جس سے کسی کی دل آزاری ہو ۔ لفظوں سے زیادہ لہجے اثر انداز ہوتے ہیں ۔ اگر آپ دنیا کی تلخیاں برداشت کر کے سخت مزاج ہو چکے ہیں پھر بھی آپ اپنے لہجے پہ قابو رکھیں ۔اختتام پہ اتنا ہی کہنا چاہوں گی ۔ جو انسان اپکے ساتھ بہت ہی میٹھا ہے اس سے بچاؤ رکھیں ۔ کیونکہ انسان کوئی بھی اتنا خوبیوں کا مالک نہیں ہوتا کوئی بھی اتنا پرفیکٹ نہیں ہوتا کہ جس کو ساری زندگی آپ اسکو کبھی غصے میں نہ دیکھا ہو ۔ ایسا انسان کوئی ہو ہی نہیں سکتا جس کو غصہ نہ آتا ہو ۔ یا جس میں کوئی بھی برائ نہ پائی جاتی ہو ۔ میٹھا لہجہ ایک جال ہوتا ہے جس میں پھنسنے سے بچیں ۔ ایسے لوگ وقتی طور پہ اپکے سکون کا باعث بن سکتے ہیں اپکی ہاں میں ہاں ملا کہ اپکو خوش کرتے ہیں ۔ منافقت سے بچیں ۔ منافق لوگ ظاہری اچھے اندرونی زہریلے ہوتے ہیں ۔دوسروں کو آپ اپنی باتوں سے متاثر بس وقتی طور پہ کر سکتے ہیں ۔ اپنے اچھے اخلاق سے آپ ہمیشہ کے لیے دوسروں کے دلوں میں رہ سکتے ہیں زندگی میں بھی آپکو اچھا کہا جاتا ہے اور مرنے کے بعد بھی اچھا انسان سمجھ کے یاد کیا جاتا ہے ۔ اخلاقیات کو جانے اور سمجھے لہجوں سے پرکھنے اور دل سے کسی کو جان لینے میں بہت فرق ہوتا ہے ۔
    "رشتے کھٹے میٹھے ہی ہوتے ہیں ، منافق رشتے کبھی بھی سگے نہیں ہوتے ”

    @Hu__rt7

  • فیصلہ پارٹ نمبر 2    تحریر سکندر علی 

    فیصلہ پارٹ نمبر 2 تحریر سکندر علی 

    Twitter @cikandarAli

     یا شاید ایسا قسمت کے اتفاقات کا ہی نتیجہ تھا جو بلاشبہ اغلب ہوتے ہیں لیکن پچھلے دو سالوں میں کسی باعث ان کا کاروبار انتہائی غیر معمولی انداز میں چمکا تھا تھا۔ عملے کی تعداد دوگنی ہوئی ، آمدنی پانچ گنا پڑھی اور اس میں کوئی شک نہیں تھا کہ ترقی کی گئی ہنوز جاری تھا لیکن اس تبدیلی کے بارے میں وہ اپنے دوست کو کچھ نہیں بتا پایا تھا۔ شروع کے سالوں میں، شاید آخری بار اپنے تعزیتی خط میں، اس دوست نے جارج سے اصرار کیا تھا کہ وہ روس ہجرتکرے۔ نیز وہاں جارج کی کاروباری شاخ کی کامیابی کے امکانات کو بڑھا چڑھا کر بیان کیا تھا۔ اس حوالے سے جو اعدادوشمار پیش کیے گئے ، وہ جارج کی موجودہ کاروباری سرگرمیوں کے موازنے میں بہت کم تھے۔ وہ دوست کو اپنی موجوره کاروباری کامیابی کے بارے میں بتانے سے چپچپاہٹ محسوس کرتا رہاتھا۔ نہ یہ بہتر لگتا تھا کہ اب سارے قصے کو نئے سرے سے بیان کیا جائے۔

    اس لیے جاری اپنے دوست کو خط میں ادھر ادھر کی غیر اہم باتیں لکھتا رہتاتھ جیسی باتیں ایسے کی کی پر سکون اور اردو استاتے ہوئے آدی کے ذہن میں آسکتی تھیں ۔ وہ تو بس یہی چاہتا تھا کہ اتنے بے عرصے میں اس کے دوست نے اپنے زہنی سکون کے لیے اس ملک سے متعلق اپنے ذہن میں جو تصور قائم کر رکھا ہے، وہ برقرار ہے۔ اس لیے ایسا ہوا کہ جارج نے طویل وقفوں سے لکھے گئے تین بالکل مختلف خطوں میں ایک غیر اہم خص کی ایک میں ہی غیر اہم لڑ کی سے گئی ہو جائے کے واقہ تفصیل کے ساتھ بیان کیاحتی کہ اس کی توقع کے باکس اس کا دوست اس واقعے میں وقتی دی ظاہر کرنے لگا۔ جارج نے یہ بیان کرنے کے بجائے کہ مہینہ بھر پہلے اس کی فراولین فریڈا برینڈن قلڈ سے ، جوا بھی کھاتے پیتے گھرانے کی لڑکی تھی منگنی ہوئی تھی، دوست کو ایسی غیر اہم باتیں بتانے کو تری دی تھی مگیتر سے اپنی گفتگو میں وہ اپنے دوست اور اس کے ساتھ اپنے بھی تعلق کے بارے میں اکثر بات کرتا جو اس خط و کتابت کے دوران پیدا ہوا تھا۔ تو کیا ہماری شادی میں نہیں آئے گا۔ مجھے تمھارے دوستوں کے بارے میں جانے کا ہے۔ اس کی منگیتر نے کہا۔ میں اسے کیا پریشانی میں گرفتارنہیں کرنا چاہتا۔ جارج نے جواب دیا ” مجھے غلط مت سمجھو ۔ شاید وہ آئے گا ایسا لگتا ہے لیکن و محسوس کرے گا جیسے اس کا حق مارا گیا ہو۔ اسے ٹھیس پہنچے گی ۔ شاید وہ مجھ سے حسد کرے اور یقینا مز ید آزرده ہوجائے گا۔ اپنی مایوسی کا سامنا کرنے کی اس میں اہلیت نہیں ہے سو اکیلا ہی نہیں نکل جائے گا۔ پھر سے اکیلا ہو جائے گا اس کا کیا مطلب ہے؟

    کیا تمھارے خیال میں اسے کسی طرح سے ہماری شادی کی خرنہیں ہو جائے گی ؟

    میں اس بات کو ہونے سے روک تو نہیں سکتا لیکن ایسا ہونا دشوارترین ہے، اس کا طرز زندگی ہی ایا ہے۔

    جارج تمھارے دوست اس قسم کے ہیں تو بہتر تقاته منگنی ہی نہیں 

    اس کام میں تو ہم دونوں شامل ہیں ۔ جو ہو گیا ہے، اسے بدلا نہیں جاسکتا۔ تب اس کے طویں برسوں کے دوران تیز تیز سانس لیتے ہوئے وہ کسی طرح کہ پی : ” بہرحال مجھے گھبراہٹ محسوس ہو رہی ہے 

    تب اس نے سوچا اگر وہ اپنے دوست کومنگنی کے واقعے کے بارے میں بتادے اور امکان ہے کہ یوں وہ خود کو کسی اور پریشانی سے بچا سکے گا۔

    میں ایسا ہی ہوں اور اسے مجھے ایسے ہی قبول کرنا ہوگا۔ میں خود کو اس کے موافق بنانے کے لیے بدل نہیں سکتا ۔اس نے اپنے آپ سے کہا۔ اور اصل میں اس نے اپنے طویل خط میں جو وہ اتوار کی صبح لکھتا رہا تھا، اپنے دوست کو اپنی منگنی کے بارے میں الفاظ میں اطلاع دی تھی: اختتام کے لیے میں نے سب سے بہترین خبر بچا کر رکھی ہے۔ میں نے شہر کے ایک متمول گھرانے کی لڑکی فراولین برینڈن فلڈ سے منگنی کر لی ہے۔ وہ لوگ تمھارے جانے کے کافی عرصہ بعد یہاں آباد ہوئے۔ اس لیے تم ان سے واقف نہیں ہوں۔ اس بارے میں آئندہ بھی تفصیل سے لکھوں گا لیکن آج کے لیے انا بنانا چاہتا ہوں کہ میں بہت خوش ہوں تمہارے اور میرے تعلق میں بس اتنا ہی فرق آیا ہے کہ اب تم مجھے ملو گے تو تمھیں مجھ جیسے عام دوست میں ایک آسودہ دوست ملے گا تم میری منگیتر کے بارے میں مزید بھی جائو گے، دو میں سلام کہہ رہی ہے اور جلد ہی خودبھی تھیں خط لکھے گی، ایک بچی عورت دوست کی طرح، جوایک غیر شادی شدہ شخص کے لیے بہر حال ایک خاص بات ہے۔ مجھے علم ہے بہت سی وجوہات ہیں تمھارے یہاں منانے کیلیکن کیا میری شادی ایک اہم موقع نہیں ہے جس کے لیے تم ان رکاوٹوں کو پس پشت ڈال دو اور لے چل او لیکن خیر جیسا بھی ہو ، وہی کرو جو تھیں، میری خواہش سے قطع نظر اپنے مطابق بہتر گئے اس خط کو ہاتھ میں لیے دیر سے جارج اپنا چہرہ کھڑکی کی طرف کیے لکھنے کی کرسی پر بیٹا ہوا تھا وہ دیکھ ہی نہ پایا کہ گلی میں سے گزرتے ہوئے کسی واقف کار نے اسے ہاتھ ہلا کر ایک غائب مسکراہٹ کے ساتھ سلام کیا تھا۔

    (جاری ہے۔)