قارئین عزت نفس دُنیا کی سب سے مہنگی چیز ہوتی ہے یہ عزت نفس انسان کی پہچان ہوتی ہے اور یہ ہی کسی شخص کی زندگی کا نچوڑ بھی ہوتی ہے
عزت نفس انسان کی ہو یا ملکوں کی یہ ہی قوموں کا وقار ہوتی ہے اور یہ ایسا گراں قدر ہیرا ہے جو ایک بار کھو جائے تو پھر نایاب ہی میسر آتا ہے
پچھلے دنوں ایسے ہی واقعات ملک پاکستان میں رونما ہوئے اُن میں سے ایک پر آج لکھنے کا موقع ملا آپ کی نظر سے بھی شاید وہ واقع گزرا ہو یا آپ نے بھی اس پر آواز اُٹھائی ہو وہ واقعہ ہمارے قومی ہیرو جو کہ ایک کرکٹر ہیں شعیب اختر کے ساتھ پیش آیا قومی ٹی وی چینل پر لائیو بیٹھ کر ایک ہوسٹ انٹرنیشنل تجزیہ نگار اور سابقہ کرکٹرز کے سامنے آپے سے باہر ہوگیا اور قومی ہیرو شعیب اختر کی عزت نفس اور دُنیا میں انکی شہرت و حثیت کا خیال کئیے بغیر انکو لائیو شو سے جانے کا کہہ دیا قومی ہیرو شعیب اختر نے قومی وقار کا خیال رکھتے ہوئے بات کو ختم کرنے کی کوشش کی اور ہوسٹ کو معذرت کرنے کا کہا لیکن یہ میزبان شاید صحافت کی تعلیم لئیے بغیر ہوسٹ بنے تھے لہذا ڈھٹائی سے اپنی کم ظرفی پر قائم رہے اور بالاخر شعیب اختر کو اس بات پر مجبور کردیا کہ وہ اپنی عزت نفس بھریائی کے لئیے انتہائی قدم اُٹھائیں
قصہ مختصر شعیب اختر نے لائیو شو سے استعفٰی دے کر جانے کا فیصلہ کیا اور اس بے حس میزبان کو مزید برداشت نا کیا شعیب اختر کا قصور کیا تھا اس نے حارث رؤف کی تعریف کے ساتھ ساتھ لاہور قلندر کے ڈویلپمنٹ پروگرام کی تعریف کردی تھی
کیا یہ ملک دشمن تھے ؟
چینل قومی ،حارث رؤف قومی لاہور قلندر قومی
پھر میزبان کو کیوں ناگوار گزرا کیا قومی میزبان ایسی حرکت کرسکتا ہے ؟
میزبان وہ جو مہمان کی ناگوار بات یا اختلاف کو اس لئیے برداشت کرے کہ یہ شخص میرا مہمان ہے اسکی عزت میری عزت ہے
قارئیں اس کے برعکس شعیب اختر ایسا قوم کا ہیرو ہے کہ ہمارے ہمسایہ ملک بھارت جہاں لاتعداد چینلز شعیب اختر کو مدعو کرتے ہیں شعیب اختر نے کبھی بھی پاکستان کے عزت نفس پر سمجھوتہ نہیں کیا وہ جس سپیڈ سے باؤلنگ کرتے ہیں اس سے ڈبل سپیڈ میں وہاں میزبان اور وہاں کی جنتا کو تگنی کا ناچ نچاتے ہیں وہاں شعیب اختر پاکستانی پرچم پر کبھی آنچ نہیں آنے دیتا وہاں شعیب اختر نہیں وہاں کے میزبان پروگرام چھوڑ کر بھاگتے ہیں کیونکہ شعیب اختر کے باؤنس وہ برداشت نہیں کرپاتے اور بھاگنے میں ہی عافیت جانتے ہیں
حالیہ ورلڈ کپ T20کے دوران پاکستان پلئرز کی کارکردگی کا بھارتی چینلز پر خوب چرچا ہورہا ہے مگر وہاں کسی بھی میزبان نے کسی مہمان کی عزت پر ہاتھ نہیں ڈالا کہ تم نے پاکستانی پلئرز کی تعریف کیوں کی تمھیں اس پروگرام سے نکل جانا چاہئیے
خیر قارئین اس واقعہ کے بعد سوشل میڈیا پر جب معاملہ نکلا تو واقعہ کی ویڈیو وائرل ہوگئی اور صارفین میں غم وغصہ کی لہر دیکھنے کو ملی اس غم و غصے کو دیکھتے ہوئے قومی ٹی وی کے ساتھ ساتھ وزیراعظم پاکستان عمران خان نے بھی نوٹس لیا اور قومی ہیرو کے ساتھ ہونے والے واقعےطکی مذمت کی اور قومی ہیرو کے ساتھ کھڑے ہوگئے
اور ٹی وی انتظامیہ نے میزبان کو آف ائیر کردیا
یہاں واضح رہے کہ اس واقعہ کے بعد تمام نجی ٹی وی چینلز نے قومی ہیرو شعیب اختر کی حمایت کرتے ہوئے تمام ذمہ داری ہوسٹ پر ڈال دی
ظاہر ہے میزبان اور مہمان میں اکثر اختلاف رائے ہوجاتا ہے لیکن ایسا کبھی نہیں ہوا کہ میزبان مہمان کو پروگرام سے نکل جانے کا کہہ دے
الغرض پورےملک کے تمام میزبانوں ،مہمانوں تمام سُپر سٹارز،قومی ہیروز،کرکٹرز،سیاستدانوں ،گلوکاروں ،ایکٹرز نے قومی ہیرو سے اظہار یکجہتی کا اظہار کیا اور مطالبہ کیا ایسے میزبان پر قومی چینل پر تاحیات پابندی لگائی جائے
آخر پر قومی ہیرو کے ساتھ آنے والے اس واقعہ پر قوم کی جانب سے معذرت کا طلبگار آپ ہمارے ہیرو ہیں
Category: معاشرہ و ثقافت
-

عزت نفس تحریر ۔محمد نسیم
-

ڈراموں کی اسٹوریز اور ہماری نسلیں ! تحریر علی مجاہد
آج کل اگر ہم ٹی وی چینلز کی بات کریں ویسے تو بہت ماڈرن زمانہ ہو گیا ہے ٹیلی ویژن کی تو ویلیو نہیں ہر چیز جب چاھیں جہاں چاھیں آپ کے موبائل،آم آئی پیڈ یا لیپ ٹاپ وغیرہ میں آسانی سے دیکھ سکتے ہیں بہرحال ہم بات کر رہے تھے ٹی وی چینلز کی سیٹینگ کی تو انکی سیٹنگ بھی بلکل اجیب ہے سب سے پہلے سارے فلموں والے چینلز پھر ڈراموں والے پھر نیوز والے اور پھر اینڈ میں کئی جا کر اسلامی چینلز، جو سب سے پہلے ہونا چاہیے تھا وہ سب سے آخر میں اور جو آخر میں ہونے چاھیے تھے وہ سب سے پہلے ہوتے ہیں، آپ اگر شام 8 بجے کہ بعد ڈراموں والے چینلز دیکھیں گے تو کئی دائیں طرف سے عورت کو چانٹا لگ رہا ہوگا کسی کو بائیں طرف اور کئی پر الٹیاں ہوں گی پریگننسی ہو گئی میں یہ نہیں کہتا اس ملک میں عورتوں پر ظلم نہیں ہوتا مگر ہمارے ڈرامے والے بار بار ایک ہے چیز دیکھا کہ کیا کہنا چاھتے ہیں؟ کچھ دنوں پہلے ایک ڈراما (جدا ہوئے کچھ اسطرح) کا ٹریلر دیکھا کی جی وہ کوئی شادی ہو گئی ہے لڑکے لڑکی کی تو نانی جی کہتی ہیں یہ تو بہن بھائی ہیں وہ بھی رضائی والے مطلب دو کزن ہم عمر ہیں غلطی سے اپنے بچے کہ جگہ دوسرے کو دودھ پلا دیا تو ہوگئے رضائی بھائی بہن یعنی اپنی اولاد کو ہی نہیں پہچانا اور پھر نانی اما نے یہ تو بتا دیا یہ بھائی بہن ہے اور دوسری طرف اب لڑکی پریگننٹ ہو گئی ہے، اس ٹاپک کہ بعد آپکو پھر دیکھے گا ڈرامے کا دوسرا موضوع جس میں ہمیں دیکھایا جاتا ہے دیور بھابھی سے محبت کرتا یا لڑکی کئی جاب کرتی ہے تو وہاں بوس سے پیار کر بیٹھتی ہے بالکل بھی فرق نہیں پڑتا وہ شادی شدہ ہے یا اسکا بچہ ہے کچھ بھی نہیں یہ کہانی آپ نے پچھلے دنوں بہت نام سنا ہوگا ( میرے پاس تم ہو ) اسکا سین بیان کر رہا ہوں ہمارے یہاں آپکو صرف یہ دو ہی ٹاپک ملیں گے اور پھر ڈراما لکھنے والا کہتا ہے جو روز مرہ کی زندگی میں ہوتا ہے وہ دکھاتے ہیں ہم تو کیا ہمارے ملک میں ہمارے معاشرے میں بچے لوگ ٹیچرز نہیں بنتے یا پھر گورنمنٹ سکول یا ہسپتال کے ان لوگوں پر کہانی نہیں بن سکتی جو گھر بیٹھے بیٹھے تنخواہیں اٹھا رہے ہوتے ہیں میں ایسا ہر گز نہیں کہوں گا کہ سارے ایسا کرتے ہیں پر کچھ بھی آٹے میں نمک کے برابر لوگ ہی سہی کرتے تو ہیں تو ان پر کہانی بنائو، ہمارے یہاں آپ معاشرے میں دیکھیں گے بچوں نے انجیرنگ کی ہے کسی نے ڈاکٹری یا کچھ بھی کیا ہو محنت کی ہے تعلیم حاصل کی ڈگریاں حاصل کیں پر بیروزگار ہیں ان پہ بھی تو ایک بہت زبردست کہانی بن سکتی ہے یہ بھی تو زندگی میں ہو رہا ہے ان پہ کوئی کیوں کوئی ڈراما یا فلم نہیں بناتا ؟ آجکل ڈراموں میں بے حیائی کے علاوہ کچھ بھی نہیں دیکھاتے پاکستان میں اس وقت جو طلاقوں کی سب سے زیادہ وجہ جو بنتی ہے میں سمجھتا ہوں وہ ڈراما سیریل ہے کیوں کہ ڈراموں کہ ذریعے ہماری نسلوں سے پیار ختم کرکے نفرتیں پیدا کر رہی ہیں وہ ہماری بچیوں اور خواتین میں آزادی کی باتیں ڈالتے ہیں کہ عورت کو آزادی ہونی چاہیے کچھ بہنیں سمجھدار ہوتی ہیں تو کچھ ایسی بھی ہوتی ہیں ہیں جو پھر روڈ پر نکل آتی ہیں کہ ہمیں آزادی چاہیے میں تو وقت کے حکمرانوں اور گھر کے سربراہوں سے ایک گزارش کروں گا اگر آپ ریاست مدینہ چاھتے ہیں تو اپنی نسلوں کو ڈراموں سے نکال کر صحابہ کرام کی سیرت پڑھائیں صحابیات کے واقعات پڑھائیں پھر آپ ریاست مدینہ قائم کر سکتے ہیں ہر گھر کی زمہ داری اس گھر کے مرد کی ہوتی ہے نا کہ حکومت یا حکمرانوں کی تو بہرحال اپنی نسلوں میں اور انکی سانچوں میں تبدیلی لانی ہوگی۔
-

فیصلہ پارٹ نمبر 3 تحریر سکندر علی
پھر اس نے خط جیب میں رکھا اور کمرے سے نکل کر مختصر برآمدے سے ہوتا ہوا اپنے باپ کے کمرے میں گیا جہاں
اس کا مہینوں سے جانا نہیں ہوا تھا۔ وہاں جانے کی اسے ضرورت ہی محسوس نہیں ہوتی تھی ۔ کاروباری سلسلے میں روز ہی تو وہ
ملتے تھے اور کھانے کے وقفوں میں دوپہر کا کھانا بھی اکٹھے ہی کھاتے تھے۔ البتہ شام کو دونوں اپنے مرضی سے وقت
گزارنے میں آزاد تھے۔ جارج زیادہ تر دوستوں کے ساتھ باہر چلا جاتا یا جیسا کہ تھوڑا ہی عرصہ ہوا کہ وہ اپنی منگیتر سے
ملنے چلا جاتا بصورت دیگر دونوں باپ بیٹا کچھ وقت ساتھ گزارتے اوراپی مشترکہ بینک میں بیٹھ کر اخبار پڑھتے ۔
جارج کو حیرت ہوئی کہ ایسے روشن دن میں بھی اس کے باپ کا کمرہ تاریکی میں ڈوبا ہوا تھا۔ یہ کرہ تک مین کی
دوسری جانب اونچی دیوار کے سائے میں واقع ہونے کی وجہ سے سورج کی براہ راست روشنی سے محروم تھا۔ اس کا باپ
کھڑکی کے نزدیک ایک کونے میں بیٹا تھا جہاں اس کی مرحوم والدہ کی تصویریں اور تلف نشانیاں لگی ہوئی تھیں اور اخبار
کو پڑھتے ہوئے اپنی آنکھوں کے سامنے یوں ایک طرف کیے ہوئے تھا جیسے بھارت کے قص پر قابو پانے کی کوشش کر رہا
ہور میز پاس کے ناشتے کا، جس کا صاف معلوم ہوتا تھا کہ کم ہی حصہ کھایا گیا، باقی ماندہ حصہ پڑا تھا۔
اوہ جارج اس کے باپ نے فورا اپنی جگہ کھڑے ہوتے ہوئے کہا ۔ چلنے سے اس کا بھاری بھر کم شب خوابی کا
لباس کھل گیا اور پلواس کے جسم کے گرد پھڑ پھڑائے گئے۔
میرا باپ ابھی تک ایک جسیم انسان ہے۔ جارج نے خود سے کہا۔
وہ بولا ” یہاں نا قابل برداشت اندھیرا ہے ۔
ہاں، کافی اندھیرا ہے۔ اس کے باپ نے جواب دیا۔
آپ نے کھڑکیاں بھی بند کی ہوئی ہیں؟
ایسا ہی اچھا لگتا ہے۔
اخیر باہر کافی گری ہے۔ جارج نے کہا جیسے وہ اپنی پچھلی بات ہی کا تسلسل برقرار رکھے ہوئے ہوں۔ پھر وہ بیٹھ گیا۔
اس کے باپ نے ناشتے کے برتن صاف کیے اور انھیں ایک الماری میں رکھ دیا۔
دور میں صرف آپ کو یہ اطلاع دینا چاہتا تھا کہ جارج اپنے باپ کی حرکات کا مشاہدہ کرتے ہوئے بولتا رہا، میں
سینٹ پیٹرز برگ خط لکھ کر اپنی منگنی کی خبریج رہا ہوں ۔ اس نے اپنی جیب میں سے خط پہلے مجھے باہر کیا لیکن پھر اسے
والیں اندر سید لیا۔
سینٹ پیٹرز برگ؟ اس کے باپ نے پوچھا۔
میرے دوست کو جارج نے اپنے باپ کی آنکھوں میں دیکھنے کی کوشش کرتے ہوئے کہا ۔ وہ سوچ رہا تھا کہ
کاروباری معاملات میں مریض کتنا مختلف ہوتا ہے ۔ کیسے مضبوطی سے اپنے بازوں کو باندھے بیٹھتا ہے۔
۔
او ہاں، اپنے دوست کو اس کے باپ نے مجیب انداز میں زور دیتے ہوئے کہا ۔
اچھا، ای جان آپ تو جانتے ہیں کہ پہلے میں اسے اپنی نئی کے بارے میں بتانے کا کوئی ارادہ نہیں رکھتا تھا۔ بس
اس کا سوچ کر ورنہ کوئی دوسری وجہ نہیں تھی۔ آپ خود جانتے ہیں کہ وہ ایک مشکل انسان ہے۔ میں نے خود سے سوچا کہ
اسے ضرور کسی نیکی ذریعے سے میری منگنی کے بارے میں پتہ چل جائے گا
، حالاں کہ اس کی خلوت گزینی کی زندگی میں
اس بات کا امکان بہت زیادہ نہیں ہے اور اسے میں روک بھی نہیں سکتا لیکن میں اسے خبر دینے پر تیارنہیں تھا۔
اور اب تم نے اپنا ارادہ بدل لیا ہے۔ اس کے باپ نے پوچھا، اپنا بڑا اخبار کھڑکی کی دہلیز پر پھیلاتے ہوئے
جب کہ اس کے ہاتھ میں نظر کا چشمہ تھا جسے اس نے ایک ہاتھ سے ڈھانپا ہوا تھا۔
ہاں، اس بارے میں سوچتا رہا ہوں ۔ میں نے خود سے کہا کہ اگر وہ میرا چھا دوست ہے تو میری خوشی سے اسے بھی
خوشی ہوگی ۔ اس لیے اب مجھے اس کو اس بارے میں بتانے میں کوئی پچکچاہٹ نہیں ہے لیکن خط بھینے سے پہلے میں نے سوچا کہ آپ سے بات کرو۔
جارج اس کے باپ نے اپنا بغیر دانتوں کا منہ پورا کھولتے ہوئے کہا میری بات سنو تم اس معاملے پر مجھ
سے بات کرنے آئے ہو۔ بلا شبہ یہ تمھارے سعادت مندی ہے لیکن اس کی کوئی حیثیت نہیں ۔ بلکہ یہ پیش نہ ہونے کی
بہتر ہوتا تو مجھے پورا ن ت بتاتے ۔ میں ان باتوں کو نہیں پھیرنا چاہتا ہو اس موقع سے مناسب نہیں رکھتی ہیں تمھاری ماں
کی وفات کے بعد سے یہاں کچھ خاص قابل اعتراض باتیں ہوری ہیں۔ ایران پر بات کرنے کا ویتنے کا اور
شاید اس سے بھی جلدر جتنا ہمارا اندازہ ہے۔
کاروبار میں بہت سی باتیں ایسی ہیں جن کا مجھے علم نہیں ہو پاتا۔ ہوسکتا ہے کہ وہ مجھ سے چھپائی جاتی ہوں ۔ میں یہ
نہیں کیہ رہا کہ نھیں جان بوجھ کر مجھ سے چھپایا جاتا ہے۔ میں پہلے ہمیں صحت مند نہیں رہا میری یادداشت کمز ور پوری
ہے۔ میں اب مزید بہت کی باتوں پر ایک ساتھ نظر نہیں رکھ پاتا۔ ایک تو یہ سب کچھ قدرتی عمل کا حصہ ہے اور دوسری بات
تمھاری ماں کی وفات تمھاری نسبت میرے لیے کہیں زیاد و پر ادا کی تھی لیکن چوں کہ ابھی ہم اس خط پر بات کر رہے
ہیں، جارج میں تم سے درخواست کرتا ہوں کہ مجھے دھوکہ مت دو۔ تو بہت معمولی بات ہے۔ اتنی بھی اہم نہیں ہے کہ اس کا
ذکر کیا جائے ۔ اس لیے مجھے دھوکہ مت دو۔ کیاوقتی سینٹ پیٹرز برگ میں تمھارا کوئی دوست ہے؟
جارج پریشانی سے اٹھ کھڑا ہوا۔ میرے دوستوں کی بات چھوڑیے۔ ہزاروں دوست بھی میرے لیے باپ کا
تبادل نہیں ہو سکتے۔ کیا آپ جانتے ہیں کہ میں کیا سوچتا ہوں؟ آپ اچھے طریقے سے اپنا خیال نہیں رکر ہے۔ بڑھاپے
میں زیادہ دیکھ بھال کی ضرورت ہوتی ہے۔ کاروبار میں آپ کا ہونا میرے لیے ناگزیر ہے۔ آپ بھی یہ بات اچھی طرح
جانتے ہیں لیکن اگر کاروبار آپ کی صحت کے لیے منتر ثابت ہے تو میں اسے کل ہی ہمیشہ کے لیے بند کرنے پر تیار ہوں لیکن
اس سے کچھ نہیں ہوگا ہمیں آپ کی طرز زندگی میں تبدیلی پیدا کرنی ہوگی ۔ ایک بڑی تبدیلی ۔ آپ یہاں تاریکی میں بیٹے
رہے ہیں جب کہ بینک میں اچھی خامسی روتی ہے ۔ اپنی صحت کا رسک لیتے ہوئے آپ بہت کم پاشی کرتے ہیں ۔ بند
کھڑکی کے پاس بیٹھے رہتے ہیں ۔ اگر ہوا آتی رہے تو اس سے آپ کو بہت فائدہ ہوگا ۔
( ابھی جاری ہے)
-

موسم سرما کی آمد اور بیماریاں تحریر علی حمزہٰ
جیسا کہ ہم بخوبی جانتے ہیں کہ پاکستان میں موسم سرما کا آغاز ہو چکا ہے۔ چند مقامات پر تو موسم بہت سرد ہے۔ لیکن ساتھ ہی کئی مقامات پر موسم جزوی ہے۔ کہی کہی تو تیز بارش ہے۔ پر کہی کہی دھوپ، لیکن کہی تو برف باری نے موسم کو مزید سہانا بنا دیا ہے۔ پہلی برف باری نے سیاحوں کی دل موہ لیے ہیں۔ آسمان سے گرتے برف کے گالوں نے قدرتی حسن کو چار چاند لگا دیئے ہیں۔ موسم سرما سرد ترین موسم ہوتا ہے۔ کئی علاقوں میں تو پارہ منفی ڈگری میں چلا جاتا ہے لوگ آگ جلا کر گزر بسر کرتے ہیں۔ سردیوں میں دن چھوٹے اور راتیں لمبی ہو جاتی ہیں۔ درجہ حرارت منفی میں چلا جاتا ہے۔ ٹھنڈی ہوائیں چلتی ہے جس سے موسم خوشگوار اور ٹھنڈا ہو جاتا ہے۔ سرد ترین علاقوں میں خوب برف پڑتی ہے پہاڑ برف کی سفید چادر اوڑھ لیتے ہیں۔ جو دیکھنے والوں کے دلوں کو چھو لیتے ہیں۔ جھیل اور چشمے جم جاتے ہیں۔ جو الگ ہی منظر پیش کرتے ہیں۔ جن علاقوں میں برف باری ہوتی ہے ان علاقوں میں کچھ سرمائی کھیل بھی کھیلے جاتے ہیں۔ جن کو دیکھنے کے لیے سیاحوں کی بڑی تعداد ان علاقوں کا رخ کرتی ہے اور لطف اندوز ہوتی ہے۔
موسم کی تبدیلی کے ساتھ ساتھ غذا اور ملبوسات میں بھی تبدیلی کا عمل شروع ہو گیا ہے۔ اونی کپڑے، سویٹر، جوتوں اور گرم شالوں کا انتخاب اہم ضرورت بن چکا ہے۔ مہنگائی کی موجودہ صورتحال کو دیکھ کر یہ فیصلہ کرنا مشکل ہو گیا ہے کہ کیا خریدا جائے کیا نہیں۔
اس موسم میں احتیاطی تدابیر اختیار نہ کرنے کافی نقصان بھی ہو سکتا ہے۔ یہ درست ہے کہ بدلتے موسم کے اثرات مضر صحت بھی ثابت ہو سکتے ہیں۔ اگر آپ اپنے آپ کو اس موسم کے مطابق ڈھال لیں اور اس کی ضروریات کو پورا کرتے رہیں تو آپ کو اس موسم سے لطف اندوز ہونے کے لیے کوئی نہیں روک سکتا۔
اس موسم میں اپنے آپ کی حفاظت بھی اولین ترجیح ہے۔ کھانسی، زکام اور بخار اس بدلتے موسم میں عام ہیں۔ موسم سرد ہونے پر لوگوں کے کھانے پینے اور پہننے کے معمولات میں چھوٹی بڑی کئی تبدیلیاں آجاتی ہیں۔ ویسے ہی، کچھ بیماریاں بھی لوگوں کو سردیوں میں زیادہ تنگ کر سکتی ہیں۔ فیملی میڈیسن کے ماہرین ہر عمر کے مرد و خواتین کی تمام بیماریوں کا علاج کرتے ہیں۔
عام طور پر نزلہ زکام، گلا خراب ہونا، دمہ، جوڑوں میں درد، ہاتھ پاوٴں خاص طور پر انگلیاں ٹھنڈی ہو جانا، جِلد کا خشک ہو جانا، فلو کے ساتھ ساتھ دل کا دورہ، ہونٹوں پہ اور ان کے گرد چھالے اور اُلٹیاں سرد موسم کی کئی عام بیماریاں ہیں۔ سردیوں میں کچھ لوگوں کے جوڑوں میں درد کی شکایات بھی سامنے آتی ہیں ان کو چاہیے کہ گھر سے باہر کم نکلا کریں۔
سردی کے موسم میں ٹھنڈ لگنے سے جسم میں کپکپی جیسی کیفیت پیدا ہو جاتی ہے جس کی وجہ سے سینے میں ٹھنڈ لگنے کے امکانات بڑھ جاتے ہیں ۔ خاص طورپر اس سے چھوٹے بچے اور بزرگ افراد زیادہ متاثر ہوتے ہیں اور ان کے سینے میں درد ہونے لگتا ہے ۔ پچاس سال سے زائد عمر کے افراد میں سردی کی شدت جب سینے پر پڑتی ہے تو اس سے ان کو فالج کے حملے کا خطرہ بھی بڑھ جاتا ہے ۔ اس حالت میں جسم کو ٹھنڈے ماحول اور ٹھنڈے پانی سے بچانا چاہئے اور گرم کپڑوں کے ذریعے سینے کو اچھی طرح ڈھانپنے کے ساتھ ساتھ کھانے پینے کی گرم چیزوں کا بھی استعمال کرنا چاہئے ۔ سردموسم میں دمہ یا سانس کے امراض میں بھی اضافہ ہو جاتا ہے۔ کیونکہ خشک موسم سانس کے مریضوں پر بری طرح اثرانداز ہوتا ہے اور انہیں سردیوں میں خاص طورپر دیکھ بھال اور احتیاط کی ضرورت ہوتی ہے۔ کوشش کرنی چاہئے کہ خشک موسم میں زیادہ باہر نکلنے کے بجائے گھر پر ہی رہنے کو ترجیح دی جائے اور اگر ضرورت کے لئے گھر سے باہر نکلنا مقصودبھی ہوتو ناک اور منہ کو کسی گرم کپڑے سے اچھی طرح سے ڈھانپ کر نکلا جائے اور نکلتے وقت انہیلر اور ضروری ادویات ضرور ساتھ رکھ لی جائیں جوفوری طبی امداد کے وقت کام آ سکیں۔
اپنی صحت کی حفاظت ہم سب کیلئے بہت ضروری ہے گرم غذائیں کھائیں اور گرم ملبوسات کا استعمال کریں اور اپنی صحت کا خیال رکھیں۔ خدا حافظ
-
اخلاقیات اور بدمزاجی تحریر افشین
تلخ مزاج ہونا ، بات کرتے وقت لہجے کا سخت ہونا ۔ نا خوشگوار حالات انسان کو تلخ مزاج بنا دیتے ہیں ۔ زندگی میں رونما ہونے والے واقعات جن سے دل آزاری ہوئی ہو انسان کو بدمزاج بنا دیتے ہیں ۔اخلاق بہتر بنائیں ۔ اخلاق بہتر بنانے سے مراد روحانی طور پہ خود کو بہترین بنائیں صرف دکھاوے کی غرض سے نہیں ۔
بہت سے افراد کا لہجہ مخاطب ہوتے وقت شہد جیسا ہوتا ہے اتنا میٹھا کے ہر کوئی انکا گرویدہ ہوتا ہے انکی باتوں سے متاثر ہوتا ہے ۔ اور ایسا انسان اپنی میٹھی باتوں سے دوسروں کے دل پہ راج کرنے لگتا ہے اور ہر کام کروا سکتا ہے ۔ جب کہ تلخ مزاج انسان سے ہر کوئی دوری اختیار کرتا ہے ۔ کوئی بھی اسکو سمجھنے کو کوشش نہیں کرتا۔ وہ ایسا بدمزاج کیوں ہے ؟ انسان کو املی کی طرح کھٹا میٹھا ہونا چاہیے ۔بہت میٹھا بھی صحت کے لیے مضر ہے ۔ایسے لوگ بھی معاشرے میں موجود ہیں کہ جنکا انداز گفتگو ایسا ہوتا ہے کہ انکے اچھے اخلاق، بات کے انداز سے متاثر ہوکے لوگ انکے ہاتھوں استعمال ہورہے ہوتے ہیں ۔ لوگ اچھا اخلاق دوسروں کے سامنے ظاہر کر کے خود کو اعلی مثال پیش کرتے ہیں ۔حقیقت میں وہ اپنے اس انداز سے صرف دوسروں کا استعمال کرتے ہیں۔ایک اچھا انسان کبھی بھی ایسے نہیں کرتا ۔ لہذا خود کو دکھاوے کی غرض سے بہترین نہ بنائے ۔
انسان کو پرکھنا ہو تو اسکے میٹھے لہجے سے نہیں بلکہ اسکے دل کو دیکھیے وہ سچ بولتا ہے، رحم دل ہے ، دوسروں کی مدد کرتا ہے، دوسروں کے ساتھ کیسے پیش آتا ہے سب پہلو دماغ میں رکھ کے اسکے جاننے کی کوشش کریں۔ صرف لہجوں سے انسان کی پہچان نہیں ہوتی ۔انسان کی جو فطرت ہو وہ کبھی نہیں بدل سکتی نا میٹھے لہجے کے پیچھے نا کرواہٹ لہجوں میں ، ہمیشہ وہی رہے جو آپ حقیقی معنوں میں ہیں ۔بہترین اخلاق وہی ہیں جس میں کسی کی دل آزاری نہ ہو ۔ کہیں لوگ گھر سے باہر اچھا انسان ہونے اور اپنی مثال قائم کرنے میں لگے ہوتے ہیں اپنی برائیاں چھپائے دنیا کی نظر میں اعلی ظرفی کا مقام پاتے ہیں ۔
اللّلہ پاک کی نظر میں اعلی مقام والا وہی ہے جو کسی کا دل نہ دکھائے سچا مومن ہو ظاہری مومن تو ہر کوئی بنا ہوا ہے ۔ اخلاق بہترین بنائیں بزرگوں کا احترام کریں۔ بچوں سے پیار سے پیش آئیں ۔ رحم دلی، ایمانداری اور سچائی کے پیروکار بنے ۔ اللّلہ سب دیکھتا ہے دنیا کے سامنے اچھا بننے کا ناٹک نہ کریں جو آپ حقیقی طور پر ہیں وہی رہیں ۔ کرواہٹ سے بات نہ کریں جس سے کسی کی دل آزاری ہو ۔ لفظوں سے زیادہ لہجے اثر انداز ہوتے ہیں ۔ اگر آپ دنیا کی تلخیاں برداشت کر کے سخت مزاج ہو چکے ہیں پھر بھی آپ اپنے لہجے پہ قابو رکھیں ۔اختتام پہ اتنا ہی کہنا چاہوں گی ۔ جو انسان اپکے ساتھ بہت ہی میٹھا ہے اس سے بچاؤ رکھیں ۔ کیونکہ انسان کوئی بھی اتنا خوبیوں کا مالک نہیں ہوتا کوئی بھی اتنا پرفیکٹ نہیں ہوتا کہ جس کو ساری زندگی آپ اسکو کبھی غصے میں نہ دیکھا ہو ۔ ایسا انسان کوئی ہو ہی نہیں سکتا جس کو غصہ نہ آتا ہو ۔ یا جس میں کوئی بھی برائ نہ پائی جاتی ہو ۔ میٹھا لہجہ ایک جال ہوتا ہے جس میں پھنسنے سے بچیں ۔ ایسے لوگ وقتی طور پہ اپکے سکون کا باعث بن سکتے ہیں اپکی ہاں میں ہاں ملا کہ اپکو خوش کرتے ہیں ۔ منافقت سے بچیں ۔ منافق لوگ ظاہری اچھے اندرونی زہریلے ہوتے ہیں ۔دوسروں کو آپ اپنی باتوں سے متاثر بس وقتی طور پہ کر سکتے ہیں ۔ اپنے اچھے اخلاق سے آپ ہمیشہ کے لیے دوسروں کے دلوں میں رہ سکتے ہیں زندگی میں بھی آپکو اچھا کہا جاتا ہے اور مرنے کے بعد بھی اچھا انسان سمجھ کے یاد کیا جاتا ہے ۔ اخلاقیات کو جانے اور سمجھے لہجوں سے پرکھنے اور دل سے کسی کو جان لینے میں بہت فرق ہوتا ہے ۔
"رشتے کھٹے میٹھے ہی ہوتے ہیں ، منافق رشتے کبھی بھی سگے نہیں ہوتے ”@Hu__rt7
-

فیصلہ پارٹ نمبر 2 تحریر سکندر علی
Twitter @cikandarAli
یا شاید ایسا قسمت کے اتفاقات کا ہی نتیجہ تھا جو بلاشبہ اغلب ہوتے ہیں لیکن پچھلے دو سالوں میں کسی باعث ان کا کاروبار انتہائی غیر معمولی انداز میں چمکا تھا تھا۔ عملے کی تعداد دوگنی ہوئی ، آمدنی پانچ گنا پڑھی اور اس میں کوئی شک نہیں تھا کہ ترقی کی گئی ہنوز جاری تھا لیکن اس تبدیلی کے بارے میں وہ اپنے دوست کو کچھ نہیں بتا پایا تھا۔ شروع کے سالوں میں، شاید آخری بار اپنے تعزیتی خط میں، اس دوست نے جارج سے اصرار کیا تھا کہ وہ روس ہجرتکرے۔ نیز وہاں جارج کی کاروباری شاخ کی کامیابی کے امکانات کو بڑھا چڑھا کر بیان کیا تھا۔ اس حوالے سے جو اعدادوشمار پیش کیے گئے ، وہ جارج کی موجودہ کاروباری سرگرمیوں کے موازنے میں بہت کم تھے۔ وہ دوست کو اپنی موجوره کاروباری کامیابی کے بارے میں بتانے سے چپچپاہٹ محسوس کرتا رہاتھا۔ نہ یہ بہتر لگتا تھا کہ اب سارے قصے کو نئے سرے سے بیان کیا جائے۔
اس لیے جاری اپنے دوست کو خط میں ادھر ادھر کی غیر اہم باتیں لکھتا رہتاتھ جیسی باتیں ایسے کی کی پر سکون اور اردو استاتے ہوئے آدی کے ذہن میں آسکتی تھیں ۔ وہ تو بس یہی چاہتا تھا کہ اتنے بے عرصے میں اس کے دوست نے اپنے زہنی سکون کے لیے اس ملک سے متعلق اپنے ذہن میں جو تصور قائم کر رکھا ہے، وہ برقرار ہے۔ اس لیے ایسا ہوا کہ جارج نے طویل وقفوں سے لکھے گئے تین بالکل مختلف خطوں میں ایک غیر اہم خص کی ایک میں ہی غیر اہم لڑ کی سے گئی ہو جائے کے واقہ تفصیل کے ساتھ بیان کیاحتی کہ اس کی توقع کے باکس اس کا دوست اس واقعے میں وقتی دی ظاہر کرنے لگا۔ جارج نے یہ بیان کرنے کے بجائے کہ مہینہ بھر پہلے اس کی فراولین فریڈا برینڈن قلڈ سے ، جوا بھی کھاتے پیتے گھرانے کی لڑکی تھی منگنی ہوئی تھی، دوست کو ایسی غیر اہم باتیں بتانے کو تری دی تھی مگیتر سے اپنی گفتگو میں وہ اپنے دوست اور اس کے ساتھ اپنے بھی تعلق کے بارے میں اکثر بات کرتا جو اس خط و کتابت کے دوران پیدا ہوا تھا۔ تو کیا ہماری شادی میں نہیں آئے گا۔ مجھے تمھارے دوستوں کے بارے میں جانے کا ہے۔ اس کی منگیتر نے کہا۔ میں اسے کیا پریشانی میں گرفتارنہیں کرنا چاہتا۔ جارج نے جواب دیا ” مجھے غلط مت سمجھو ۔ شاید وہ آئے گا ایسا لگتا ہے لیکن و محسوس کرے گا جیسے اس کا حق مارا گیا ہو۔ اسے ٹھیس پہنچے گی ۔ شاید وہ مجھ سے حسد کرے اور یقینا مز ید آزرده ہوجائے گا۔ اپنی مایوسی کا سامنا کرنے کی اس میں اہلیت نہیں ہے سو اکیلا ہی نہیں نکل جائے گا۔ پھر سے اکیلا ہو جائے گا اس کا کیا مطلب ہے؟
کیا تمھارے خیال میں اسے کسی طرح سے ہماری شادی کی خرنہیں ہو جائے گی ؟
میں اس بات کو ہونے سے روک تو نہیں سکتا لیکن ایسا ہونا دشوارترین ہے، اس کا طرز زندگی ہی ایا ہے۔
جارج تمھارے دوست اس قسم کے ہیں تو بہتر تقاته منگنی ہی نہیں
اس کام میں تو ہم دونوں شامل ہیں ۔ جو ہو گیا ہے، اسے بدلا نہیں جاسکتا۔ تب اس کے طویں برسوں کے دوران تیز تیز سانس لیتے ہوئے وہ کسی طرح کہ پی : ” بہرحال مجھے گھبراہٹ محسوس ہو رہی ہے
تب اس نے سوچا اگر وہ اپنے دوست کومنگنی کے واقعے کے بارے میں بتادے اور امکان ہے کہ یوں وہ خود کو کسی اور پریشانی سے بچا سکے گا۔
میں ایسا ہی ہوں اور اسے مجھے ایسے ہی قبول کرنا ہوگا۔ میں خود کو اس کے موافق بنانے کے لیے بدل نہیں سکتا ۔اس نے اپنے آپ سے کہا۔ اور اصل میں اس نے اپنے طویل خط میں جو وہ اتوار کی صبح لکھتا رہا تھا، اپنے دوست کو اپنی منگنی کے بارے میں الفاظ میں اطلاع دی تھی: اختتام کے لیے میں نے سب سے بہترین خبر بچا کر رکھی ہے۔ میں نے شہر کے ایک متمول گھرانے کی لڑکی فراولین برینڈن فلڈ سے منگنی کر لی ہے۔ وہ لوگ تمھارے جانے کے کافی عرصہ بعد یہاں آباد ہوئے۔ اس لیے تم ان سے واقف نہیں ہوں۔ اس بارے میں آئندہ بھی تفصیل سے لکھوں گا لیکن آج کے لیے انا بنانا چاہتا ہوں کہ میں بہت خوش ہوں تمہارے اور میرے تعلق میں بس اتنا ہی فرق آیا ہے کہ اب تم مجھے ملو گے تو تمھیں مجھ جیسے عام دوست میں ایک آسودہ دوست ملے گا تم میری منگیتر کے بارے میں مزید بھی جائو گے، دو میں سلام کہہ رہی ہے اور جلد ہی خودبھی تھیں خط لکھے گی، ایک بچی عورت دوست کی طرح، جوایک غیر شادی شدہ شخص کے لیے بہر حال ایک خاص بات ہے۔ مجھے علم ہے بہت سی وجوہات ہیں تمھارے یہاں منانے کیلیکن کیا میری شادی ایک اہم موقع نہیں ہے جس کے لیے تم ان رکاوٹوں کو پس پشت ڈال دو اور لے چل او لیکن خیر جیسا بھی ہو ، وہی کرو جو تھیں، میری خواہش سے قطع نظر اپنے مطابق بہتر گئے اس خط کو ہاتھ میں لیے دیر سے جارج اپنا چہرہ کھڑکی کی طرف کیے لکھنے کی کرسی پر بیٹا ہوا تھا وہ دیکھ ہی نہ پایا کہ گلی میں سے گزرتے ہوئے کسی واقف کار نے اسے ہاتھ ہلا کر ایک غائب مسکراہٹ کے ساتھ سلام کیا تھا۔
(جاری ہے۔)
-

غصہ حرام مگر ۔۔۔۔ تحریر:سعد اکرم
اللہ تعالی ٰ نے انسان کو احساسات اور جذبات دے کر پیدا کیا ہے ۔یہ جذبات ہی ہیں جن کا اظہار ہمارے رویوں سے ہوتا ہے کہ جہاں انسان اپنی خوشی پر خوش ہوتا ہے وہیں اگر ناپسندیدہ اور اپنی توقعات سے مختلف امور دیکھ لے تو اسکے اندر غصہ بھی پیدا ہو جاتا ہے۔ کیونکہ غصہ ایک منفی جذبہ ہے جس پر بروقت قابو نہ پایا جائے تو ہم اکثر دوسروں کے ساتھ ساتھ اپنا بھی نقصان کر بیٹھتے ہیں اس لیے اسلام نے غصہ ضبط کرنے اور جوشِ غضب کے وقت انتقام لینے کی بجاے صبرو سکون سے رہنے کی تلقین کی ہے تا کہ معاشرہ انتشار کا شکار نہ ہو اور امن کا گہوارہ بن سکے۔
جامع ترمذی کی ایک حدیث ہے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ارشاد فرمایا جن لوگوں کو غصہ نہیں آتا اور جو اپنے غصے پر قابو پا لیتے ہیں میرے نزدیک اس نے اپنی زندگی جیت لی وہ جیسے چاہئے اپنی زندگی کو اپنے طور پر گزار سکتا ہے دنیا میں دو لوگ کامیاب زندگی گزارتے ہیں ایک جو صبر کرتے ہیں اور دوسرا جن کے دل میں رحم ہوتا ہے جن میں یہ دونوں صفات نہ پائ جائیں وہ غصے میں نہ تو صبر کر پاتے ہیں اور نہ ہی کسی پہ رحم اور نتیجتاً جذباتی اور غلط فیصلے کر بیٹھتے ہیں کیا آپ نے کبھی اپنے غصے پر قابو پانے کی کوشش کی کیونکہ غصے میں انسان کو ہوش ہی نہیں ہوتا اپنے نفس پر قابو پانا سیکھئے خدا سے ڈریئے اور اگر آپ کے کہئے ہوئے الفاظ سامنے والے کو برے لگے تو اور اس نے صبر کر لیا تو معاملہ پھر آپ کے اور خدا کے درمیان آ جائے گا کیونکہ اللہ صبر کرنے والوں کے ساتھ ہے مجھے جب خود غصہ آتا ہے تو میں قابو نہیں رکھ سکتا لڑائ قطع تعلقی کے ساتھ ساتھ گالم گلوچ پر بھی اتر آتا ہوں میں نے گزشتہ 22 رمضان کو ایک خبر پڑھی اخبار میں پشاور میں ایک شخص نے رمضان میں اپنی 6 سالہ بھتیجی کو صرف اس بات پہ فائرنگ کر کے قتل کر دیا کے وہ سو رہا تھا اور بچی شور کر رہی تھی اس کے آرام میں خلل پڑ رہا ہو گا جس کا اتنا غصہ آیا اس کو کے اس نے پھول جسیی ننھی معصوم کلی کو چار گولیاں تک مار دیں اور اپنے لیے رحمتوں اور مغفرتوں کے مہینے میں ایک فرض کی تکمیل کرتے ہوئے جہنم خرید لی آپ نے اکثر لوگوں کو یہ کہتے ہوئے سنا ہو گا یار مجھے غصہ بہت آتا ہے اپنے غصے پر قابو پانا بہت مشکل ہے میرے لئے۔ غصہ آگ ہے یہ دماغ سے سوچنے سمجھنے کی صلاحیت تھوڑی دیر کیلئے چھین لیتا ہے غصے کا آغاز حماقت اور انجام پچھتاوا ہے غصے میں انصاف ہر گز نہیں ہو سکتا اور غصے میں کئے گئے فیصلے کبھی درست ثابت نہیں ہوتے یہ ہنستے بستے گھر اجاڑ کے رکھ دیتا ہے گھر میں کوی بے قاعدگی ہو جائے تو آپکو شدید غصہ آتا ہے اچھا خاصہ گھر پانی پت کا میدان بن جاتا ہے لیکن آپ اگر دفتر میں کوے غلطی کریں تو آپ کو جھاڑ پلائ جائے تو آپ برداشت کر لیتے ہیں اس انتہائ ناپسندیدہ صورتحال میں بھی آپ اپنے غصے پر قابو پانے میں کامیاب ہو جاتے ہیں ایسا کیوں ہوتا ہے ؟ اس کا سیدھا اور صاف جواب یہی ہے کے غصہ آتا نہیں بلکہ کیا جاتا ہے غصہ آئے یہ کیا جائے دونوں صورتحال میں غصہ اچھی چیز نہیں ہے بزرگوں نے اس سے بچنے کی تلقین کی آدمی کس کس بات کا رونا روئے غصہ تو بہت ساری باتوں پر آتا ہے آج وطن عزیز میں بہت سے مباحث چل رہے ہیں بہت سے سقراط بقراط اور ارسطو اپنے نام نہاد زریں خیالات سے قوم کو نواز رہے ہیں لیکچر پہ لیکچر دئے جا رہے ہیں الکٹرانک میڈیا پہ لمبی لمبی تقریریں کی جاتی ہیں دانشوریاں بکھیری جاتی ہیں پاکستان کی زبوں حالی پر مگر مچھ کے آنسو بہائے جاتے ہیں اس کی ترقی کے حوالے سے اپنے سستے جذبات کی تشہیر کی جاتی ہے ان لوگوں کی باتیں سن کر یہ محسوس ہوتا ہے کے پاکستان اور اس کی مظلوم عوام کے غم میں یہ بے چارے گھلے جا رہے ہیں اور ان کے شب وروز اسی سوچ میں گزرتے ہیں کبھی غور کیجئے کتنے لوگ جن کے پاس وسائل بھی ہیں اقتدار بھی ہے اگر وہ پسماندہ عوام کی بہتری کیلئے کچھ کرنا چاہیں تو بہت کچھ کر سکتے ہیں چند ماہ پہلے ایک عالمی سروے سے معلوم ہوا ہر تیسرا شخص ذہنی دباؤ کا شکار ہے عالمی جذبات کی عکاسی کرنے والی گیلپ گلوگل ایموشنز رپورٹ میں کہا گیا ہے پاکستان زیادہ غصہ کرنے والے ممالک کی فہرست میں دسویں نمبر پر آیا ہے یوں کہئے پوری قوم اس وبا میں مبتلا ہو چکی ہے نائ حلوائی قصائ نانبائی غرضیکہ ہر شعبہ زندگی سے تعلق رکھنے والا نشے میں اپنے ہوش و حواس کھو چکا ہے کچھ لوگوں نے غصہ آنے کی ایک بڑی وجہ ظلم اور ناانصافی کو قرار دیا ہے یقینا ہمارے معاشرے میں جھوٹ کا چلن بہت عام ہو چکا ہے یہ ہمارے معاشرے میں ایک بہت بڑے بگاڑ اور بے برکتی کا سبب ہے ظالمانہ مناظر تو ہر جگہ دیکھے جا سکتے ہیں جس کی لاٹھی اس کی بھینس کا سکہ تو یہاں خوب چلتا ہے ایک مشہور چینی کہاوت ہے ہم چھوٹے چوروں کو سزا دیتے ہیں اور بڑے چوروں کو سلام کرتے ہیں ہمارے ہاں بھی یہی دستور ہے قانون کی پکڑ صرف غریب کیلئے ہے بڑے چوروں کو ہماری جیلوں میں وہ سہولتیں میسر ہیں جس کا غریب آدمی اپنے گھر میں بھی نہیں سوچ سکتا کچھ لوگوں کو دوسروں کی بدتمیزی اور غیر ذمہ داری پر بھی غصہ آتا ہے لوگ گلیوں میں گندگی پھینک دیتے ہیں جس طرف نظر اٹھتی ہے کوڑے کرکٹ کے ڈھیر نظر آتے ہیں اگر کوئ روکنے یہ سمجھانے کی کوشش کریے تو تو آگے سے کہا جاتا ہے یار یہ پاکستان ہے یہاں سب چلتا ہے یہ جملہ یقینا بہت زیادہ غصہ دلانے والا ہے ہم اپنے مادر وطن کی تحقیر ہر ہر وقت آمادہ نظر آتے ہیں اپنے پیارے وطن کی ہماری نظروں میں کوی وقعت ہوتی تو ہم ایسی بات کبھی بھی نہ کہتے معاشرتی اخلاقیات کا فقدان ہے بڑی بڑی شاہراوں پر ٹریفک پولیس کی موجودگی میں قانون توڑے جاتے ہیں مک مکا کی وجہ سے قانون کو کھیل سمجھا جاتا ہے قانوں کے رکھوالوں کی مٹھی گرم کرنے کا عام رواج ہے یہ سب وہ مذموم حرکتیں ہیں جنہیں دیکھ کر ہر شریف شہری کا خوں کھول اٹھتا ہے اس سب کچھ کے باوجود یہ بات بڑی خوش آئند ہے جنوبی ایشیا میں بسنے والے ایک ارب اسی کروڑ لوگوں میں سے ہم بائیس کروڑ پاکستانی سب سے ذیادہ خوش اور مطمئن ہیں اس خوشی اور اطمینان کی وجوہاٹ میں سے ایک بہت بڑی وجہ اللہ کی ذات پہ مکمل یقین اور بھروسہ ہے
@saadakram_ twiter handle
-

سفید پوشی, خود داری اور یہ مجبوریاں ..تحریر: ریحانہ بی بی (جدون)
خود داری بہترین انسانی صفت ہے اور آج تک خوددار انسان کبھی ناکام نہیں ہوا.
ہر انسان خود دار رہنا پسند کرتا ہے اور اپنی خودداری پہ کبھی سمجھوتہ کرنا نہیں چاہتا. مگر بعض اوقات اُسے ایسی مجبوریاں جکڑ لیتی ہیں جو اسکی خودداری کو جھکنے پر مجبور کردیتیں ہیں.
آپ نے کبھی ایسے مجبور باپ کو دیکھا ہوگا جو اپنی اولاد کے لئے دن رات محنت کرتا ہے اسے طرح طرح کی مصیبتیں جھیلنی پڑتیں ہیں اور کئی لوگوں کی ڈانٹ اور گالیاں بھی سننی پڑتی ہیں. اسکے باوجود وہ اپنی محنت سے کام کرتا ہے کیونکہ اس نے اپنا گھر چلانا ہوتا ہے. اپنے بچے پالنے ہوتے ہیں.
ایک ریڑھی والے کو جب 1500 کا چالان تھما دیا جاتا ہے تو اسکی حالت کا اندازہ وہی لگا سکتا ہے جو خود مزدور ہو,
مگر جیسے تیسے کرکے اس نے چالان بھی بھرنا ہوتا ہے چاہے اسکے لئے اسے خود بھوکا سونا پڑ جائے…
باپ جو اپنے بچوں کے لئے کسی ہیرو سے کم نہیں ہوتا وہ اپنے بچوں کے چہروں پر مسکراہٹیں دیکھنے کے لئے اپنا آپ بھول جاتا ہے. اس کے لئے اپنی صحت اپنی ہمت معنی نہیں رکھتی وہ اپنے آپ کو کمزور کرتا ہے تاکہ اُسکی اولاد کسی قابل بن سکے.
وہ کوشش کرتا ہے کہ وہ اپنے دکھ اپنے چہرے سے ظاہر نہ دے کیونکہ وہ اپنی اولاد کو ہر وہ خوشی دینا چاہتا ہے جو اسکے اختیار میں ہوتی.
اور کئی بار ایسا ہوتا ہے کہ اسکو اپنی خود داری کو دفن کرنا پڑتا جاتا ہے. اسے کئی طرح کے طعنے سننے پڑتے ہیں مگر اُسے سب برداشت کرنا پڑتا ہے.اللہ کا قانون ہے کسی کو آسائشیں دے کے آزماتا ہے تو کسی کو ان آسائشوں سے محروم رکھ کے آزماتا ہے.
اچھا اور برا وقت ہر کسی پہ آتا ہے اچھے وقت میں اللہ تعالیٰ کی عطا کی ہوئی نعمتوں کا شکر ادا کرنا چاہیے اور بُرے وقت میں صبر. اور صبر اور شکر دونوں اللہ کو بہت پسند ہے.
کچھ لوگ کہتے ہیں کہ اندھیرے میں اپنا سایہ بھی ساتھ چھوڑ دیتا ہے مطلب کے بُرے وقت میں کوئی کسی کا ساتھ نہیں دیتا.. مگر بُرا وقت اچھے برے اور اپنے پرائے کی تمیز ضرور کرا دیتا ہے.
بُرے وقت میں اگر ہم کسی کو کچھ دے نہیں سکتے مگر تسلی کے دو بول تو دے سکتے ہیں اسکے ساتھ کھڑے رہ کر اسے حوصلہ تو دے سکتے ہیں.
آج اس دور میں غمِ روزگار نے سب کو پریشان کر رکھا ہے. ایک طرح سے اپنے رشتے داروں سے بھی دور کردیا ہے. اور یہ انکی مجبوری بھی ہے
انسان جب کسی کو کسی تکلیف میں دیکھتا ہے تو کوشش ضرور کرنی چاہیے کہ اسکی تکلیف دور کرسکے.
میں جب کسی کو سڑک پہ ٹھیلہ لگائے دھوپ میں کھڑا ٹھنڈا شربت پی لو… کی آوازیں لگاتے دیکھتی ہوں یا کوئی اپنے کندھے پہ کسی کا سامان لادے اسکے پیچھے چلتا ہوا دیکھتی ہوں تو سوچنے پہ مجبور ہوجاتی ہوں کہ مالک انکی آزمائش واقعی کٹھن ہے.
میرا جانا راولپنڈی کے ایک مشہور اسپتال ہوا
وہاں میں نے ایک بزرگ کو دیکھا جو لگ بھگ 70 سال کے تھے.
بہت تکلیف میں تھے پر انکے ساتھ کوئی نہیں تھا.
مجھ سے رہا نہیں گیا میں اُن کے پاس چلی گئی, پوچھا بابا جی کیا ہوا ہے آپکو..
تو کانپتے ہاتھ سے اشارہ کِیا کہ سینے میں درد ہے.
میں ڈاکٹر کو بُلا کے لائی, ڈاکٹر نے چیک کرنے کے بعد کچھ ٹیسٹ لکھے اور نرس کو انجکشن لگانے کی ہدایت کرکے چلا گیا
دل میں طرح طرح سوال تھے کہ انکے ساتھ کوئی کیوں نہیں, یہ کون ہیں کہاں کے ہیں وغیرہ
میں اسی سوچ میں تھی کہ اُن بزرگ نے مجھے آواز دی
بیٹی آپکے بیٹے کو کیا ہوا ہے ؟
میں نے انھیں بتایا کہ اسکی طبیعت کچھ ٹھیک نہیں تھی تو چیک کروانے آئی ہوں. اب رپورٹس کا انتظار کررہی ہوں..
میں نے پوچھا : بابا جی آپ کہاں سے آئے ہیں؟
تو بولے میں چکوال سے ہوں.
آپ کے ساتھ کوئی نہیں ہے ؟؟ میں نے پھر سوال کیا.
تو اُنکی آنکھوں میں آ نسو آ گئے, بولے میرے ساتھ بس میرا اللہ ہے.
جوان بیٹا ایک ایکسیڈنٹ میں فوت ہوگیا اب اسکے چھوٹے چھوٹے بچے ہیں, انکے لئے میں یہاں آیا ہوں مزدوری کرنے..
میں نے پوچھا بابا جی کیا کام کرتے ہیں ؟
تو بولے ریڑھے پہ سامان لاد کے لے جاتا ہوں اور ایک پھیرے کا 30 روپے مل جاتے ہیں, کبھی کبھی طبیعت خراب ہوتی ہے تو لوگوں کی گالیاں بھی سنتا ہوں کیونکہ انکو کام چاہیے ہوتا ہے.
جیسے جیسے وہ بتا رہے تھے میرے لئے کسی دکھ سے کم نہ تھا کہ وہ اس حالت میں, اس عمر میں مزدوری کررہے کیونکہ انکا سہارا کوئی نہیں اور اب بھی وہ کسی کا سہارا بنے ہوئے ہیں
میں نے بابا جی کو تسلی دی کہ اللہ پاک آپ کے لئے آسانیاں پیدا فرمائے اور کچھ مدد کرنی چاہی پر بابا جی نے میرا ہاتھ روک دیا کہ میری بیٹی ہوتی تو آج وہ تمھاری عمر کی ہوتی اور باپ بیٹیوں سے پیسے نہیں لیتے.
میں نے جب اصرار کیا تو کہنے لگے پتر مینوں شرمندہ نہ کر.
کتنی خودداری تھی انکی آواز میں کہ میں نے اپنا ہاتھ پیچھے کردیا.
بابا جی کی آنکھوں میں آنسو تھے پھر آنکھیں بند کردی
اور دھیمی آواز میں کہنے لگے اللہ تمھیں اپنے بچے کی خوشیاں نصیب کرے. بچوں کو اللہ ماں باپ کے لئے زندہ رکھے. اللہ تمھارے بچے کو زندگی دے..
پتا نہیں کیوں میری آنکھیں بھیگنے لگیں
میں دل سے دعا کررہی تھی کہ اے اللہ مجھے اتنی طاقت دے کہ میں لوگوں کی زندگی سے انکی تکلیفیں دور کرسکوں کسی کی آنکھوں میں آنسو آ نے نہ دوں اور نہ کبھی کسی کی آنکھ میں آنسو آنے کی وجہ بن سکوں.
آمین@Rehna_7
-

اپنی ذہنی صحت کا خیال رکھنا کیوں ضروری ہے؟ تحریر: زاہد کبدانی
ذہنی صحت صحت مند ، متوازن زندگی گزارنے کے لیے لازم و ملزوم ہے۔
( نیشنل الائنس آف مینٹل بیماری ) کے مطابق ، ہر پانچ میں سے ایک ذہنی صحت کے مسائل کا تجربہ کرتا ہے جو کہ سالانہ 40 ملین سے زائد بالغوں میں ترجمہ کرتا ہے۔
ہماری ذہنی صحت ہماری نفسیاتی ، جذباتی اور سماجی بہبود کا احاطہ کرتی ہے۔ اس کا مطلب یہ ہے کہ یہ اس بات پر اثر انداز ہوتا ہے کہ ہم ہر روز کیسا محسوس کرتے ہیں ، سوچتے ہیں اور برتاؤ کرتے ہیں۔ ہماری ذہنی صحت ہمارے فیصلہ سازی کے عمل میں بھی کردار ادا کرتی ہے ، ہم کس طرح تناؤ کا مقابلہ کرتے ہیں اور ہم اپنی زندگی میں دوسروں سے کیسے تعلق رکھتے ہیں۔
جذباتی صحت کیوں ضروری ہے؟
جذباتی اور ذہنی صحت اہم ہے کیونکہ یہ آپ کی زندگی کا ایک اہم حصہ ہے اور آپ کے خیالات ، طرز عمل اور جذبات کو متاثر کرتا ہے۔ جذباتی طور پر صحت مند ہونا کام ، اسکول یا دیکھ بھال جیسی سرگرمیوں میں پیداوری اور تاثیر کو فروغ دے سکتا ہے۔ یہ آپ کے رشتوں کی صحت میں اہم کردار ادا کرتا ہے ، اور آپ کو اپنی زندگی میں تبدیلیوں کو اپنانے اور مشکلات سے نمٹنے کی اجازت دیتا ہے۔
آپ اپنی جذباتی صحت کو روزانہ کیسے بہتر بنا سکتے ہیں؟
ایسے اقدامات ہیں جو آپ اپنی ذہنی صحت کو روزانہ بہتر بنانے کے لیے اٹھا سکتے ہیں۔ چھوٹی چھوٹی چیزیں جیسے ورزش کرنا ، متوازن اور صحت مند کھانا کھانا ، اپنی زندگی میں دوسرے لوگوں کے لیے کھولنا ، جب آپ کو ضرورت ہو تو وقفہ لینا ، کسی ایسی چیز کو یاد رکھنا جس کے لیے آپ شکر گزار ہوں اور اچھی نیند لینا آپ کی جذباتی صحت کو بڑھانے میں مددگار ثابت ہو سکتا ہے۔ .
مدد کے لیے پہنچنے کا اچھا وقت کب ہے؟
ذہنی صحت سے متعلق مسائل مختلف لوگوں کو مختلف طریقوں سے متاثر کر سکتے ہیں۔ اگر آپ اپنی مجموعی خوشی اور رشتوں میں تبدیلیاں دیکھنا شروع کردیتے ہیں تو ، ہمیشہ آپ کی مدد حاصل کرنے کے طریقے موجود ہیں۔ یہاں کچھ طریقے ہیں جن سے آپ مدد حاصل کر سکتے ہیں:
دوسرے افراد ، دوستوں اور کنبہ کے ساتھ رابطہ قائم کریں – اپنی زندگی کے دوسرے لوگوں تک پہنچنا اور ان سے رابطہ کرنا جذباتی مدد فراہم کرنے میں مددگار ثابت ہوسکتا ہے۔
ذہنی صحت کے بارے میں مزید جانیں – جذباتی صحت کے بارے میں مزید جاننے کے لیے بہت سے وسائل ہیں جن کی طرف آپ رجوع کر سکتے ہیں۔ کچھ مثالوں میں سائیکالوجی ٹوڈے ، نیشنل انسٹی ٹیوٹ آف مینٹل ہیلتھ ، اور بے چینی اور ڈپریشن ایسوسی ایشن آف امریکہ شامل ہیں۔
ذہنی صحت کا جائزہ لیں – ایک تشخیص اس بات کا تعین کرنے میں مدد کر سکتی ہے کہ تناؤ ، اضطراب یا ڈپریشن آپ کی زندگی پر اثر انداز ہو سکتا ہے۔ ڈاکٹر آن ڈیمانڈ ایک مفت اور نجی آن لائن ذہنی صحت کی تشخیص پیش کرتا ہے جسے آپ کسی بھی وقت لے سکتے ہیں۔
کسی پیشہ ور سے بات کریں – اگر آپ محسوس کرنا شروع کردیتے ہیں کہ آپ کی جذباتی صحت آپ پر اثرانداز ہونے لگی ہے تو ، اضافی مدد کے لیے پہنچنے کا وقت آسکتا ہے۔ ڈاکٹر آن ڈیمانڈ کے ساتھ ، آپ ایک ماہر نفسیات یا ماہر نفسیات کو دیکھ سکتے ہیں اور اپنی مرضی کے مطابق مدد حاصل کرسکتے ہیں۔
آخر میں ، آپ ہمارے بلاگ پر اپنی ذہنی صحت کا خیال رکھنے کے بارے میں مزید جان سکتے ہیں۔ اپنی جذباتی تندرستی کے لیے صحت مندانہ انداز اپنانے کے طریقے دریافت کریں، نیز ڈپریشن جیسے مسائل کو سمجھیں اور یہ مردوں اور عورتوں کو مختلف طریقے سے کیسے متاثر کر سکتے ہیں۔
@Z_Kubdani
-

فیصلہ پارٹ نمبر 1 تحریر سکندر علی
Twitter @CikandarAli
یہ بہار کے انتہائی خوب صورت موسم میں ایک اتوار کی صبح تھی ۔ ایک نوجوان تا جر جارج بینڈ مان دریا کے کنارے
کنارے بنے چھوٹے اور خستہ حال گھروں، جو اپنی بلندی اور رنگ سے ایک دوسرے سے مختلف معلوم نہیں ہوتے ہیں، کی
طویل قطار میں سے ایک گھر کی پہلی منزل میں اپنے ذاتی کمرے میں بیٹا ہوا تھا۔ وہ ابھی اپنے ایک دیرینہ دوست کو، جو
اب دیار غیر میں رہتا تھا، خط لکھ کر فارغ ہوا تھا اور پھر اس نے خط کو سختی کے ساتھ سوچوں میں کھوئے ہوئے انداز میں
الناس میں ڈالا اور اب لکھنے کی میز پر کہنیاں ٹکائے کھڑکی سے با مردم با پل اور پر لے گٹار سے پر آنکھوں کو بھی معلوم
ہونے والی ہریالی والی پہاڑیوں کو دیکھ رہا تھا۔
وہ اپنے دوست کے بارے میں سوچ رہاتھا جوحقیقت میں چند سال پہلے روس بھاگ گیا تھا۔ یہاں دو اپنے حالات
سے غیرمطمئن رہتا تھا۔ اب وہ سینٹ پیٹرز برگ میں اپنا کاروبار چلارہا تھا جو شروع میں تو خوب پکا لیکن اب طویل ع سے
سے پہلی حالت میں تھا اور جس کی شکایت وہ سلسل بے قاعدگی کا شکار ہو جانے والے اپنے یہاں کے دوروں کے دوران
کیا کرتا تھا۔ وہ دیار غیر میں بے کارهای خود کو تک رہا تھا۔ اس کی بڑی داڑھی اس چہرے کو پوری طرح نہیں جب پانی کی ہے
جارج چین سے جانا تھا اور اس کی جلد کی رنگت اتنی زرد ہو چکی تھی کہ اس کے جسم میں پلنے والی کی باری کا پت دی۔
جیسا کہ اس نے خود بتایا اس کا وہاں مقیم اپنے ہم وطنوں سے کوئی باقاعدہ رابط نہیں تھا، نہ ہی مقائی روی کنبوں سے اس
کے تعلقات بہتر تھے اور یوں اس نے مستقل کنوار پن پر قناعت کر رکھی تھی۔
اپنے ان کو آخر کیا لکھا جاسکتا ہے جوخو بدحالی کا کار ہوں۔ جس کی حالت پرافسوس تو کیا جا سکتا تھا لیکن اس کی دو کرتا
ممکن نہیں تھا۔ کیا اسے نصیحت کی جانی چاہیے کہ وہ واپس آجائے ، یہاں اپنی زندگی کی شروعات کرے، تمام پرانے
دوستانہ تعلقات کی تجدید کرے، یہاں اس کے لیے رکاوٹ بھی کوئی نہیں ہوگی اور پھر موی طور پر اپنے دوستوں کی اعانت پر
بھروسہ رکھے لیکن بیتو اس سے یہ کہنے کے مترادف ہوگا اور یہ کہ یہ بات بھی نرمی سے کہی جائے اتنی ہی تکلیف دہ ہوتی
تھی کہ اس کی بھی کوششیں لے کر گئی تھیں ، یہ کہ اسے اب یہ سب کچھ چھوڑ و یا اپنے ملک لوٹ آنا اور لوگوں کی نظروں کا
سامنا کرنا چاہے جواسے سب کچھ نا کر آنے والے کے طور پر دیکھیں گی اور یہ کہ اصل مجھ بوجھ تو اس کے دوستوں کی کو
حامل ہے جب کہ وہ خود ایک بڑا بچہ ہی ہے جسے وہی کچھ کرنا چاہیے جو اس کے کامیاب اور گھر بار والے دوست اس کے
لیے تجویز کریں۔
پھر بھی کیا یقینی تھا کہ جس مقصد کے لیے اسے یہ اذیت پہنچائی جائے گی، وہ پورا ہو سکے گا۔ شاید ممکن نہیں تھا کہ
اسے واپس وطن لایا جائے۔ اس نے خود سے کہا کہ اپنے ملک کے تجارتی معاملات سے اب اس کا کوئی لینا دینا نہیں تھا۔
یوں وہ اس اجنبی سرزمین پر دوستوں کے صلاح مشورے سے عاجز اور ان سے علیحدہ رہ کر ایک اجنبی کی زندگی گزارے
گا لیکن اگر ایسا ہو کہ وہ دوستوں کا مشورہ بھی قبول کرے اور پھر یہاں جم کر کوئی کام بھی نہ کر پائے کسی کی دشمنی کی وجہ سے
نہیں بلکہ حالات ہی اسے اس نے پر لے آئیں تو دوستوں کے ساتھ بیان کے بغیر وہ نہیں چل پائے گا، بکی محسوس کرے گا
اور یہ کہنے جوگا بھی نہیں رہے گا کہ اس کے کچھ دوست ہیں اور اس کا اپنا بھی کوئی وطن ہے ۔ تو کیا ہی بہتر نہیں ہے کہ جیسے بھی
حالات میں وہ غیر ملک میں رہ رہا ہے، ویسے ہی رہے۔ ان سب باتوں کے پیش نظر کوئی بھی یقین کے ساتھ نہیں کہہ سکتا تھا
کہ یہاں آنے کے بعد وہ ایک کامیاب زندگی گزارنے لگے گا۔
ان وجوہات کے تحت اگر کوئی اس سے خط و کتابت جاری رکھے تو وہ اسے ایسی خبریں نہیں بتائے گا جو دور دراز رہنے
والے دوستوں کو بے تکلفان سمجھی جاتی ہیں۔ پچھلی بار وہ تین سال پہلے یہاں آیا تھا۔ اس نے بیعذر پیش کیا تھا کہ روس کے
سیاسی حالات دگرگوں تھے جس کی وجہ سے اس جیسے معمولی تا جر کو بھی تھوڑی دیر کے لیے ہی سہی ملک سے باہر جانے کی
مہلت حاصل نہیں تھی، جب کہ حقیقت اس دوران میں لاکھوں روی سہولت کے ساتھ دوسرے ملکوں میں گھوم پھر رہے تھے۔
ان تین برسوں میں جارج کی اپنی زندگی بہت کی تبدیلیوں کی زد میں آئی تھی۔ دو سال پہلے اس کی ماں فوت ہوگئی۔
اس کے بعد سے وہ اپنے باپ کے ساتھ کر گھر داری کی ذمہ داریاں پوری کر رہا تھا۔ اس کے دوست کو بھی بلاشبہان
سانحے کے اطلاع دی گئی تھی لیکن اس نے جواب میں ایسے روکھے انداز میں اظہار ہمدردی کیا تھا جس سے پینتیجہ نکالا جاسکتا
تھا کہ اس سانحے سے پیدا ہونے والا دکھ دور دراز کسی ملک میں محسوس نہیں کیا جاسکتا۔ اسی سانحے کے بعد سے جاری زیاده
پختہ ارادے کے ساتھ اپنے کاروباری معاملات اور دیگر امور میں پہلے سے زیادہ مصروف ہو گیا تھا۔
ماں زند تھی تو کاروباری معاملات میں وہ شاید اس لیے بھی زیادہ ذوق و شوق سے کام نہیں کر سکا کہ اس کا باپ اپنی
من مانی کرنے کا شائق تھا۔ شاید اپنی بیوی کی وفات کے بعد اس کے باپ کا مزاج گم جارحانہ ہو گیا تھا۔ حالاں کہ وہ
کاروباری معاملات میں اب بھی دخیل تھا۔
جاری ہے