Baaghi TV

Category: معاشرہ و ثقافت

  • جرائم کی تشہیر کے سائے ،تحریر:یوسف صدیقی

    جرائم کی تشہیر کے سائے ،تحریر:یوسف صدیقی

    گزشتہ چند برسوں میں ہمارے معاشرے میں یہ رجحان شدت سے بڑھا ہے کہ جیسے ہی کوئی بڑا جرم رونما ہوتا ہے، میڈیا اور سوشل میڈیا اسے اپنی اولین ترجیح بنا لیتے ہیں۔ ٹی وی چینلز پر بریکنگ نیوز کے طوفان برپا ہو جاتے ہیں، اخبارات کی سرخیاں سنسنی خیز انداز میں لکھی جاتی ہیں اور سوشل میڈیا پر لمحہ بہ لمحہ اپ ڈیٹس کے ساتھ تصویریں اور ویڈیوز شیئر کی جاتی ہیں۔ بظاہر یہ اطلاع رسانی کا عمل ہے مگر اصل میں یہ ایک ایسا طرزِ عمل ہے جو معاشرتی اقدار، نفسیات اور قانون پر گہرے اثرات مرتب کرتا ہے۔

    جب کسی شہر یا علاقے میں جرم ہوتا ہے اور اسے بار بار نشر یا شیئر کیا جاتا ہے تو عوام میں غیر یقینی اور خوف کا ماحول پیدا ہوتا ہے۔ عام آدمی یہ سمجھنے لگتا ہے کہ جرم ہر جگہ ہے اور وہ کسی وقت بھی نشانہ بن سکتا ہے۔ یہ کیفیت نہ صرف ذہنی دباؤ کو بڑھاتی ہے بلکہ اجتماعی طور پر معاشرے کو غیر محفوظ بنا کر پیش کرتی ہے۔ اس کے ساتھ ہی ایک اور بڑا نقصان یہ ہے کہ میڈیا اکثر مجرم کے نام، تصویر اور تفصیلات ایسے انداز میں پیش کرتا ہے جیسے وہ کوئی غیر معمولی شخصیت ہو۔ اس عمل سے نادانستہ طور پر مجرم کو شہرت ملتی ہے۔ بعض اوقات لوگ جرم سے زیادہ مجرم کی جرأت یا "کارنامے” کو یاد رکھنے لگتے ہیں۔ اس طرح کے تاثر سے دوسرے افراد کو بھی یہ ترغیب ملتی ہے کہ وہ اسی راستے پر چلیں تاکہ انہیں بھی پہچان مل سکے۔

    جرائم کی خبر دیتے ہوئے بعض اوقات میڈیا اس حد تک تفصیل بیان کرتا ہے کہ مجرم کے طریقۂ واردات کی مکمل کہانی سامنے آ جاتی ہے۔ اس سے وہ افراد جو جرم کی طرف میلان رکھتے ہیں، انہیں عملی "رہنمائی” مل جاتی ہے۔ یہ رجحان بالخصوص بینک ڈکیتی، اغوا یا انٹرنیٹ فراڈ جیسے جرائم میں زیادہ خطرناک ہوتا ہے۔ اس سب کے ساتھ ایک اور پہلو بھی قابلِ غور ہے کہ جرائم کی مسلسل تشہیر نوجوان نسل پر نہایت برا اثر ڈالتی ہے۔ جب وہ روزانہ قتل، چوری، ڈاکہ یا زیادتی جیسے واقعات دیکھتے اور سنتے ہیں تو ان کے ذہنوں میں یہ تاثر بیٹھنے لگتا ہے کہ یہ سب "عام” باتیں ہیں۔ یوں جرائم کے خلاف حساسیت کمزور پڑ جاتی ہے اور برائی کے خلاف اجتماعی ردِ عمل دھندلا جاتا ہے۔

    میڈیا کا کام حقیقت بیان کرنا ہے، لیکن خبر کو اس انداز میں پیش کرنا کہ وہ خوف و ہراس یا سنسنی پھیلائے، صحافتی اصولوں کے خلاف ہے۔ ایک ذمہ دار میڈیا کو چاہیے کہ وہ جرم کی اطلاع دے مگر اس کو تفریح یا ڈرامے کا رنگ نہ دے۔ بدقسمتی سے آج زیادہ تر میڈیا ہاؤسز اور سوشل میڈیا چینلز ریٹنگ اور ویوز کے پیچھے دوڑ رہے ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ خبر کو زیادہ دلچسپ بنانے کے لیے غیر ضروری تفصیلات اور جذباتی تجزیے شامل کیے جاتے ہیں۔ اس دوڑ میں صحافتی اخلاقیات اور معاشرتی ذمہ داری پسِ پشت ڈال دی جاتی ہیں۔ میڈیا کو اپنی زبان، الفاظ اور انداز پر بھی نظر رکھنی چاہیے۔ سخت الفاظ، ڈرامائی بیانات اور خوفناک تصاویر استعمال کرنے سے خبر ایک "تفریحی پیکیج” بن جاتی ہے۔ صحافتی اصول یہ کہتے ہیں کہ جرم کی خبر سادہ، مؤثر اور غیر جانبدار انداز میں دی جائے۔

    ریاست پر لازم ہے کہ وہ میڈیا اور سوشل میڈیا کے لیے ایک واضح ضابطۂ اخلاق مرتب کرے۔ ایسا ضابطہ جو بتائے کہ کون سی معلومات عوام تک پہنچانی ضروری ہیں اور کون سی معلومات جرم کو بڑھا سکتی ہیں۔ صرف ضابطہ بنا دینا کافی نہیں بلکہ اس پر عمل درآمد بھی ضروری ہے۔ اداروں کو سختی کے ساتھ نگرانی کرنی ہوگی تاکہ میڈیا ریٹنگ کی خاطر قانون کی خلاف ورزی نہ کرے۔ اگر کوئی چینل یا پلیٹ فارم جرم کی غیر ضروری تشہیر کرے تو اس کے خلاف سخت کارروائی ہونی چاہیے۔

    اگر جرم کی خبر دینی ہی ہے تو اسے اس طرح پیش کیا جائے کہ عوام کو اس سے سبق ملے۔ مثال کے طور پر اگر کسی علاقے میں ڈکیتی ہوئی ہے تو اس کے ساتھ عوام کو حفاظتی تدابیر سے بھی آگاہ کیا جائے۔ میڈیا کو چاہیے کہ وہ جرم کے طریقۂ واردات پر نہیں بلکہ اس کے اسباب پر بات کرے۔ مثلاً بے روزگاری، غربت، منشیات یا سماجی ناانصافی جیسے عوامل پر روشنی ڈالی جائے تاکہ اصل بیماری کا علاج ہو سکے۔ جرائم کی خبر کے ساتھ عوامی شعور اجاگر کرنا بھی ضروری ہے۔ میڈیا کو چاہیے کہ وہ لوگوں کو بتائے کہ جرم سے کیسے بچا جا سکتا ہے اور اگر جرم ہو جائے تو کس طرح قانون نافذ کرنے والے اداروں سے رابطہ کیا جائے۔

    آخر میں یہ سمجھنا ضروری ہے کہ جرم کی خبر دینا ایک صحافتی ضرورت ہے، مگر اس خبر کو اس انداز میں پھیلانا کہ معاشرہ خوف زدہ ہو یا مجرم ہیرو بن جائے، نہایت خطرناک ہے۔ خبر کا مقصد عوامی شعور بیدار کرنا ہونا چاہیے، نہ کہ ریٹنگ بڑھانا یا سنسنی خیزی پھیلانا۔ اگر میڈیا اور ریاست دونوں اپنی ذمہ داری پوری کریں تو جرائم کی تشہیر کے منفی اثرات کو کم کیا جا سکتا ہے اور خبر کو معاشرتی اصلاح کا ذریعہ بنایا جا سکتا ہے۔

  • پاک فوج: قوم کی مضبوطی کی ضامن،تحریر:یوسف صدیقی

    پاک فوج: قوم کی مضبوطی کی ضامن،تحریر:یوسف صدیقی

    پاکستان ایک ایسا انمول تحفہ ہے، جو لاکھوں جانوں کی قربانیوں، بے شمار جدوجہد اور ایمان کی طاقت کے بعد ہمیں نصیب ہوا۔ یہ وطن صرف زمین کا ٹکڑا نہیں بلکہ لاکھوں شہداء کے خوابوں، درد اور امیدوں کا مجموعہ ہے۔ برصغیر کے مسلمانوں نے اپنے اتحاد، ایمان اور لازوال قربانیوں کے ذریعے یہ عظیم وطن حاصل کیا۔ آزادی کا حصول ایک لمحے کی خوشی تھی، لیکن اصل فریضہ اس کی حفاظت، ترقی اور بقاء تھا۔ یہ بھاری ذمہ داری بانیانِ پاکستان کے بعد پاک فوج کے سپرد ہوئی، جس نے ہر دور میں یہ ثابت کیا کہ پاکستان کی سلامتی اور امن کے لیے قربانی سب سے عظیم عبادت ہے۔ آج بھی پاک فوج نہ صرف وطن کی ڈھال ہے بلکہ قوم کی امید، عوام کا اعتماد اور ہر مشکل وقت میں سہارا ہے۔

    قیامِ پاکستان کے بعد سے خطے کے حالات کبھی آسان نہیں رہے۔ بھارت کی جارحیت، داخلی سازشیں اور بیرونی دباؤ ہمیشہ پاکستان کے لیے چیلنج رہے ہیں۔ 1948 میں کشمیر کے محاذ پر قربانیاں ہوں، 1965 کی جنگ میں دشمن کو ناکامی کا سامنا، 1971 کے سانحات یا کارگل کی برفانی چوٹیوں پر جانوں کی قربانیاں—ہر موقع پر پاک فوج کے جوانوں نے اپنے خون سے یہ ثابت کیا کہ پاکستان کی حفاظت ان کے ایمان اور غیرت کا حصہ ہے۔ ان معرکوں نے دنیا کو یہ سکھایا کہ ایک چھوٹا سا ملک بھی مضبوط عزم، بلند حوصلے اور غیرت مند فوج کے ذریعے بڑے دشمن کو ناکام بنا سکتا ہے۔

    گزشتہ دو دہائیوں میں دہشت گردی نے پاکستان کی جان کو شدید خطرے میں ڈال دیا۔ ہزاروں معصوم شہری شہید ہوئے، مساجد، بازار، اسکول اور عوامی مقامات دہشت گردی کا شکار بنے۔ لیکن ان نازک حالات میں پاک فوج نے آپریشن راہِ راست، ضربِ عضب اور ردالفساد جیسے تاریخی اقدامات کیے۔ ان آپریشنز میں فوج نے اپنی جانیں قربان کیں، خون دیا، لیکن کبھی ہمت نہ ہاری۔ آج پاکستان میں قائم امن انہی قربانیوں کی مرہونِ منت ہے۔ یہ وہ قربانیاں ہیں جن کے بغیر نہ تو امن قائم رہ سکتا ہے اور نہ ہی قوم ترقی کر سکتی ہے۔

    پاک فوج صرف سرحدوں کی محافظ نہیں بلکہ عوام کی خدمت میں بھی ہمیشہ نمایاں رہی ہے۔ 2005 کے زلزلے میں فوج کے جوان سب سے پہلے ملبے تلے دبے انسانوں کو نکالنے پہنچے، سیلابوں کے دوران لاکھوں متاثرین کو محفوظ مقامات تک پہنچایا، ریلیف کیمپ قائم کیے اور بنیادی سہولیات فراہم کیں۔ کورونا وبا کے دوران بھی فوج نے عوام کی رہنمائی کی، ویکسینیشن مراکز قائم کیے اور طبی سہولیات فراہم کر کے عوام کا سہارا بنی۔ یہی وجہ ہے کہ عوام پاک فوج کو صرف ایک عسکری ادارہ نہیں بلکہ اپنی زندگیوں کا محافظ، اپنا سہارا اور اپنا رہنما سمجھتی ہے۔

    پاکستان آرمی نے ملکی ترقی اور قومی یکجہتی کے منصوبوں میں بھی اہم کردار ادا کیا ہے۔ فوجی اسکول، کالجز، میڈیکل ہسپتال، سڑکیں، پل اور دور دراز علاقوں میں ترقیاتی منصوبے—یہ سب اس بات کا ثبوت ہیں کہ پاک فوج دفاع تک محدود نہیں بلکہ معاشرتی اور اقتصادی استحکام میں بھی شانہ بشانہ کھڑی ہے۔ فاٹا، بلوچستان اور دیگر محروم علاقوں میں فوج نے تعلیمی ادارے قائم کیے، روزگار کے مواقع پیدا کیے اور ترقی کی راہیں کھولی ہیں۔ ان اقدامات نے نہ صرف عوام کی محرومیاں کم کیں بلکہ قومی یکجہتی کو بھی مضبوط کیا۔

    پاک فوج کی اصل طاقت جدید اسلحہ یا ٹیکنالوجی نہیں بلکہ وہ ایمان، قربانی اور جذبۂ ایثار ہے جو ہر فوجی کے دل میں رچا بسا ہے۔ یہی جذبہ ایک فوجی کو سرد ترین چوٹیوں پر راتیں گزارنے، ریگستانی سرحدوں پر دشمن کی آنکھوں میں آنکھ ڈال کر کھڑا رہنے، اور اپنی جان وطن کی خاطر قربان کرنے پر آمادہ کرتا ہے۔ شہید کی ماں کی آنکھوں میں درد اور فخر، زخمی فوجی کا حوصلہ اور وطن کے لیے جان دینے کا جذبہ—یہ سب پاک فوج کو دنیا کی بہترین افواج میں شامل کرتے ہیں۔

    دنیا آج ہائبرڈ وار، سائبر حملوں، جعلی پروپیگنڈے اور نئی جنگی سازشوں کا سامنا کر رہی ہے اور پاکستان بھی ان خطرات سے محفوظ نہیں۔ مگر پاک فوج اپنی اعلیٰ تربیت، جدید دفاعی ٹیکنالوجی اور شاندار حکمت عملی کے ذریعے ان چیلنجز کا مقابلہ کر رہی ہے۔ نیا عسکری سازوسامان، مضبوط انٹیلی جنس نیٹ ورک، سائبر سیکیورٹی اقدامات اور خطے میں اسٹریٹجک حکمت عملی اس بات کا ثبوت ہیں کہ پاکستان ہر ممکنہ خطرے سے نمٹنے کے لیے تیار ہے۔

    فوج اور عوام کا تعلق ایک جسم اور روح کی مانند ہے۔ فوج عوام کے اعتماد کے بغیر کامیاب نہیں ہو سکتی اور عوام فوج کے بغیر محفوظ نہیں رہ سکتے۔ جب جوان دشمن کے سامنے کھڑے ہوتے ہیں تو ان کے پیچھے کروڑوں عوام کی دعائیں، محبت اور امیدیں ہوتی ہیں۔ یہی رشتہ پاکستان کو ناقابلِ شکست بناتا ہے اور ہر بحران میں اسے سہارا دیتا ہے۔

    پاک فوج کی قربانیاں، ایمان اور خدمات صرف فوجی تاریخ کا حصہ نہیں بلکہ ہر پاکستانی کے دل میں رہنے والے جذبے کا نام ہیں۔ ہر شہید، ہر زخمی، ہر جوان جس نے سرحدوں پر دن رات محنت کی، قوم کی حفاظت کے لیے اپنی جان کی قربانی دی—یہ سب ہمیں یاد دلاتے ہیں کہ وطن کی محبت اور خدمت سب سے بڑی عبادت ہے۔

    پاکستان کی بقا، ترقی اور امن کا راز پاک فوج کی مضبوطی اور عوامی یکجہتی میں پوشیدہ ہے۔ یہ ادارہ ہر لمحہ چوکس، قربانی کے لیے تیار اور خدمتِ خلق میں سرگرم ہے۔ پاک فوج کے جوانوں کا ایثار، بہادری اور ایمان ایک روشن مثال ہے کہ وطن کی حفاظت سب سے مقدس فریضہ ہے۔ جب تک پاک فوج ہے، پاکستان محفوظ ہے اور ان شاء اللہ تا قیامت قائم و دائم رہے گا۔

  • بڑھتی ہوئی مہنگائی اور عام آدمی کی زندگی ،تحریر:یوسف صدیقی

    بڑھتی ہوئی مہنگائی اور عام آدمی کی زندگی ،تحریر:یوسف صدیقی

    مہنگائی اور غربت پاکستان کے عام آدمی کے لیے نئی بات نہیں رہی، مگر حالیہ برسوں میں اس کی شدت نے زندگی کو ایک مسلسل امتحان میں ڈال دیا ہے۔ گھر چلانا، بچوں کی تعلیم اور صحت کے اخراجات پورے کرنا، حتیٰ کہ دو وقت کی روٹی کا بندوبست بھی کروڑوں خاندانوں کے لیے ایک مشکل جدوجہد بن چکا ہے۔ پہلے ہی معاشی حالات نازک تھے، مگر حالیہ سیلاب نے معیشت کی کمر توڑ کر رکھ دی۔ زرعی زمینیں ڈوب گئیں، فصلیں تباہ ہو گئیں، مویشی بہہ گئے اور دیہی معیشت کا ڈھانچہ ہل کر رہ گیا۔ چونکہ پاکستان کی معیشت زیادہ تر زراعت پر منحصر ہے، اس تباہی کا اثر شہروں تک بھی براہِ راست پہنچا، جہاں مہنگائی کی نئی لہر نے عوام کو اپنی لپیٹ میں لے لیا ہے۔

    گھریلو معیشت کو سب سے بڑا جھٹکا اشیائے خورونوش کی بڑھتی ہوئی قیمتوں سے لگا ہے۔ آٹا، چینی، دالیں، سبزیاں، دودھ اور گوشت — سب کچھ عوام کی پہنچ سے دور ہوتا جا رہا ہے۔ جس کھانے کو کبھی عام گھرانوں کی میز پر لازمی سمجھا جاتا تھا، وہ آج کئی گھروں کے لیے خواب بن چکا ہے۔ بجلی اور گیس کے بل پہلے ہی لوگوں کو دبا رہے ہیں، اور پیٹرول و ڈیزل کی قیمتوں میں اضافہ ہر شے کی قیمت کو بڑھا دیتا ہے۔ یوں غریب آدمی کے پاس جو چند سو روپے بچتے ہیں، وہ بھی چند دن سے زیادہ برقرار نہیں رہ پاتے۔

    سیلاب کے بعد پیدا ہونے والی صورتحال نے صرف دیہی علاقوں کو متاثر نہیں کیا بلکہ شہروں میں روزگار کے مواقع کو بھی شدید نقصان پہنچایا ہے۔ کئی چھوٹی صنعتیں اور کارخانے بند ہوگئے، جن میں مزدور اور ہنرمند اپنے روزگار سے محروم ہوگئے۔ مارکیٹوں میں خریدار نہ ہونے کے برابر ہیں، اور دکاندار مال رکھ کر بھی پریشان ہیں کیونکہ خریدار کے پاس قوتِ خرید باقی نہیں رہی۔ اس کمی نے اجرتوں کو بھی متاثر کیا ہے۔ جہاں پہلے ایک مزدور دن بھر محنت کے بعد گزارے لائق کما لیتا تھا، آج اسے آدھی اجرت پر کام کرنے پر مجبور کیا جا رہا ہے۔

    غربت صرف پیٹ کی بھوک کا نام نہیں، بلکہ یہ عزت نفس اور وقار پر بھی اثر ڈالتی ہے۔ جب ایک باپ اپنے بچوں کو کھانے کے لیے روٹی نہ دے سکے، جب ایک ماں اپنے بیمار بچے کو دوا نہ دلا سکے، تو یہ صرف مادی مسئلہ نہیں رہتا بلکہ جذباتی اور نفسیاتی بوجھ بھی بن جاتا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ معاشرے میں ناامیدی بڑھ رہی ہے، جرائم میں اضافہ ہو رہا ہے، اور لوگ اپنی محرومیوں کا اظہار کبھی احتجاج، کبھی جرم اور کبھی مایوسی کے ذریعے کر رہے ہیں۔

    مہنگائی اور بے روزگاری کا یہ گٹھ جوڑ معاشرتی ڈھانچے کو بھی کمزور کر رہا ہے۔ متوسط طبقہ، جو کسی بھی معیشت کی ریڑھ کی ہڈی ہوتا ہے، تیزی سے غریبوں کی صف میں شامل ہو رہا ہے۔ تعلیم اور صحت جیسی بنیادی سہولیات عام لوگوں کے لیے شجرِ ممنوعہ بنتی جا رہی ہیں۔ دیہی علاقوں کے لوگ بہتر روزگار کی تلاش میں شہروں کی طرف ہجرت کر رہے ہیں، لیکن شہر پہلے ہی بوجھ تلے دبے ہوئے ہیں۔ اس ہجرت نے شہروں میں غربت، بے روزگاری اور جرائم کے مسائل کو مزید پیچیدہ بنا دیا ہے۔

    مزید برآں، مہنگائی اور غربت خواتین اور بچوں کو بھی براہِ راست متاثر کر رہی ہیں۔ خواتین گھریلو بجٹ کا بوجھ اٹھاتے ہوئے کم خوراک، صحت کی سہولیات کی کمی اور بچوں کی تعلیم کے مسائل کا سامنا کر رہی ہیں۔ بچوں میں غذائی قلت اور تعلیم میں کمی مستقبل کے لیے خطرناک ہے، کیونکہ یہ نسل کمزور جسمانی اور ذہنی صلاحیت کے ساتھ بڑے ہوں گی۔

    سیلاب اور مہنگائی نے کسانوں کی آمدنی بھی بری طرح متاثر کی ہے۔ زرعی پیداوار کی کمی اور مارکیٹ میں بڑھتی قیمتیں ایک ساتھ عوام کے لیے عذاب بن گئی ہیں۔ کسان جس زمین پر اپنی محنت کرتے ہیں، وہ تباہ ہونے کے بعد دوبارہ کھڑی کرنے میں سالوں لگ سکتے ہیں۔ اس کے اثرات صرف دیہات تک محدود نہیں ہیں، بلکہ شہروں میں مہنگائی اور روزگار کی کمی میں بھی اضافہ ہوتا ہے۔

    حقیقت یہ ہے کہ سیلاب نے صرف کھیتوں کو نہیں ڈبویا بلکہ معیشت کی سانسیں بھی روک دی ہیں۔ حکومت کے فوری اقدامات کے بغیر یہ بحران مزید گہرا ہوگا۔ سب سے پہلے زرعی شعبے کی بحالی پر توجہ دینا ہوگی تاکہ کسان دوبارہ کھڑا ہو سکے اور غذائی اشیاء کی پیداوار میں اضافہ ہو۔ شہروں میں چھوٹے اور درمیانے درجے کے کاروباروں کو سہولتیں دے کر روزگار کے مواقع بڑھانے ہوں گے۔ مزدوروں اور تنخواہ دار طبقے کی اجرتوں میں اضافہ نہ کیا گیا تو معاشی اور سماجی بحران مزید پیچیدہ ہو جائے گا۔

    آخر میں سوال یہ ہے کہ جب گھریلو معیشت ہی سانس نہیں لے پا رہی تو ملک کی بڑی معیشت کس طرح صحت مند رہ سکتی ہے؟ اگر عام آدمی کا چولہا بجھ گیا تو ملک کی ترقی کے تمام خواب محض نعرے رہ جائیں گے۔ مہنگائی اور غربت کے اس گرداب سے نکلنے کے لیے ریاست، حکومت اور معاشرہ سب کو اپنی ذمہ داریاں پوری کرنی ہوں گی۔ ورنہ یہ مسائل آنے والی نسلوں کو بھی بھگتنا پڑیں گے، اور ملک کی ترقی صرف خواب ہی رہ جائے گی۔

  • کنجوانی کا سفر ،تحریر: ڈاکٹر الوینہ

    کنجوانی کا سفر ،تحریر: ڈاکٹر الوینہ

    گرمیوں کی چھٹیاں ہمیشہ کسی نہ کسی سیر و تفریح کے بہانے گزر جاتی تھیں۔ اس بار بھی حسبِ روایت منصوبہ بندی جاری تھی کہ اچانک ابو کے ایک رشتہ دار کی کال آ گئی۔ ان کا گھر فیصل آباد کے قریب کنجوانی نامی گاؤں میں تھا اور وہ ہمیں دعوت دے رہے تھے۔ چونکہ یہ پہلا موقع تھا کہ ہم کسی ایسے خاندان سے ملنے جا رہے تھے جنہیں پہلے کبھی دیکھا یا سنا بھی نہ تھا، اس لیے سب ہی پرجوش تھے۔

    جمعرات کی دوپہر ہم سامان باندھ کر نکلے۔ سرگودھا سے فیصل آباد تک کا دو گھنٹے کا سفر تو جلد کٹ گیا، مگر کنجوانی تک پہنچتے پہنچتے مزید تین گھنٹے لگ گئے۔ بھوک کے مارے سب نڈھال تھے کیونکہ ہم یہ سوچ کر نکلے تھے کہ کھانا وہاں جا کر کھائیں گے۔

    جب گاڑی گاؤں میں داخل ہوئی تو کیچڑ، گوبر اور تنگ گلیاں دیکھ کر دل کچھ بوجھل سا ہو گیا۔ بہن کی اونچی ہیلز اور ہمارا شہروں والا انداز اس ماحول میں بالکل اجنبی لگ رہا تھا۔ مگر جیسے ہی گھر پہنچے تو دروازے پر کھڑے میزبانوں کے خوش اخلاق استقبال نے دل کا بوجھ ہلکا کر دیا۔

    گھر دیہاتی طرز کا مگر کشادہ تھا۔ کھلا صحن، لکڑیوں کا چولہا، بیٹھک، کچن اور کمرے سب کچھ ترتیب سے بنا ہوا تھا۔ مکھیاں بےشک بہت تھیں لیکن میزبانوں کی مسکراہٹ نے ساری کوفت کم کر دی۔سب سے پہلے آم کا ملک شیک ملا، پھر تھوڑی دیر بعد تازہ پھل اور اسنیکس۔ ان کے اپنے کھیتوں کی خوبانی اتنی میٹھی تھی کہ شاید ہی زندگی میں کبھی کھائی ہو۔ کچھ ہی دیر بعد بھرپور رات کا کھانا لگا۔مٹن کڑاہی، آلو قیمہ، چکن پلاؤ، رائتہ، سلاد اور میٹھے میں رس ملائی۔ کھانے کے بعد چھت پر گئے تو غروبِ آفتاب اور ہلکی بارش نے منظر اور بھی دلکش بنا دیا۔ شہروں میں ایسے نظارے شاذ ہی نصیب ہوتے ہیں۔اگلی صبح فجر کے وقت ٹھنڈی ہوا اور پرندوں کی آوازیں دل کو سکون بخش رہی تھیں۔ ناشتہ اور بھی شاندار تھا۔تازہ پراٹھے، تندوری نان، حلیم، سبزیاں، اچار، دہی اور لسی۔ شہروں میں جہاں ٹوسٹ اور چائے پر گزارا ہوتا ہے، وہاں کا خالص دیسی ناشتہ لاجواب تھا۔ناشتے کے بعد ہم کھیتوں کی طرف نکلے۔ بارش سے زمین گیلی تھی مگر ہوا خوشگوار تھی۔ تقریباً آدھے گھنٹے کے سفر کے بعد ان کا احاطہ آیا جہاں سولر پر چلنے والا ٹیوب ویل دیکھ کر حیرت ہوئی۔ سب نے کپڑے بدلے اور پانی میں نہانے کا فیصلہ کیا۔

    شروع میں ڈر لگا، لیکن جیسے ہی پانی میں اترا تو لگا کہ ساری تھکن اور الجھنیں بہہ گئی ہیں۔ وہ لمحہ میری زندگی کا سب سے خوشگوار تجربہ تھا۔ دیہات کے ایک چھوٹے سے ٹیوب ویل نے وہ سکون دیا جو بڑے بڑے شہروں کی آسائشیں بھی نہ دے سکیں۔

    کھیتوں میں کپاس چنتی عورتیں، ہنستے مسکراتے چہرے اور ہر گھر میں ملنے والی سچی مسکراہٹ،یہ سب کچھ ہمارے لیے نیا مگر بہت خوبصورت تجربہ تھا۔ گاؤں کے لوگ کم وسائل کے باوجود جتنے خوش مزاج اور مخلص ہیں، شہروں میں ویسی خلوص بھری مسکراہٹ شاذ و نادر ہی دیکھنے کو ملتی ہے۔دوپہر کو چنا چاٹ اور فرائی فش کے بعد ہم نے سرگودھا واپسی کی تیاری کی۔ سفر اگرچہ مختصر تھا مگر یادیں بہت گہری چھوڑ گیا۔

    اس سفر نے ایک بات سچ کر دکھائی جسے ہمیشہ کتابوں میں پڑھا تھا:
    گاؤں جیسا سکون، شہروں میں کہاں!

  • کاش دل روشن ہوتے،تحریر: گل شیر ملک

    کاش دل روشن ہوتے،تحریر: گل شیر ملک

    کبھی ہمارے بچے ٹاٹ پر بیٹھ کر علم کے دریا پار کرتے تھے۔ نہ اُن کے گرد چمکتے کمروں کی دیواریں تھیں، نہ اُن کے سروں پر اے سی کی ٹھنڈی ہوا، لیکن ان کے دل قرآن و سنت کی روشنی سے منور تھے۔ وہ کچی زمین پر بیٹھ کر بھی کردار کی پختگی میں پہاڑوں جیسے مضبوط تھے۔ ان کے چہروں پر سادگی تھی، آنکھوں میں شرم و حیا، اور ذہن میں علم حاصل کرنے کا خالص جذبہ۔ استاد کا ایک اشارہ ان کے لیے حکم کا درجہ رکھتا تھا، اور ماں باپ کی دعائیں ان کا سب سے قیمتی اثاثہ ہوتی تھیں۔ آج ہم ترقی کی اس دہلیز پر کھڑے ہیں جہاں تعلیم جدید ترین ٹیکنالوجی سے مزین ہے۔ لیپ ٹاپ، پروجیکٹر، وائی فائی، سمارٹ کلاس رومز، اور انگلی کی ایک جنبش پر کھلتی دنیا۔ آج کا بچہ کتاب سے زیادہ سکرین سے جڑا ہے۔ اس کی جیب میں فلیش ڈرائیو ہے، لیکن کردار میں کمزور ہے۔ اس کے پاس معلومات کا انبار ہے، مگر شعور کی روشنی عنقا ہے۔ وہ ہر سوال کا جواب گوگل سے ڈھونڈ لیتا ہے، لیکن دل کے سوالوں کا کوئی جواب اس کے پاس نہیں۔ زبان میں چالاکی ہے، لیکن لہجے میں عاجزی نہیں۔ لباس مہنگا ہے، لیکن نگاہوں میں حیاء نہیں۔ چہرہ تو روشن ہے، لیکن دل ویران ہو چکا ہے۔

    ایبٹ آباد… وہ شہر جسے ایک زمانے میں علم و تہذیب کا گہوارہ کہا جاتا تھا، آج بے حیائی، کنسرٹس اور اخلاقی بگاڑ کا منظر پیش کر رہا ہے۔ ان اداروں سے جہاں کبھی علم کی روشنی پھوٹتی تھی، آج سگریٹ، نسوار اور زہریلے خیالات کا ماحول دکھائی دیتا ہے ۔ تعلیمی ادارے جو کبھی کردار سازی کے مراکز ہوا کرتے تھے، اب محض کاروباری دکانیں بن چکے ہیں، جہاں فیسیں تو لی جاتی ہیں، لیکن تربیت نہیں دی جاتی۔ اساتذہ جو کبھی قوم کے معمار کہلاتے تھے، آج صرف تنخواہ کے محتاج بن چکے ہیں۔ انہیں نصاب ختم کرنے کی فکر ہے، لیکن نسل بچانے کی کوئی پریشانی نہیں۔

    المیہ یہ ہے کہ ہم نے صرف بچوں کو قصوروار ٹھہرا دیا، حالانکہ اس بگاڑ کے مجرم ہم سب ہیں۔ والدین جو بچے کو مہنگا فون تو دے دیتے ہیں، لیکن اس کی نظروں کی سمت نہیں جانتے۔ جو موبائل کا لاک تو کھول لیتے ہیں، لیکن دل کا حال نہیں پڑھتے۔ اساتذہ جو کبھی دلوں پر نقش چھوڑا کرتے تھے، اب صرف بورڈ پر الفاظ لکھنے تک محدود ہو گئے ہیں۔ ادارے جو تعلیم کے نام پر چل رہے ہیں، درحقیقت کاروبار کی شکل اختیار کر چکے ہیں۔ اور ہم، وہ معاشرہ، جو ہر برائی کو دیکھ کر خاموش ہو جاتا ہے۔ نہ کسی کو روکتے ہیں، نہ کسی کو سمجھاتے ہیں۔ بس خاموش تماشائی بنے ہوئے ہیں۔ یہ خاموشی محض لاپروائی نہیں، بلکہ شراکتِ جرم ہے۔ جب والدین غافل ہوں، اساتذہ بے حس، ادارے بے مقصد، اور معاشرہ بے سمت، تو نسلیں بھٹک جایا کرتی ہیں۔ یہی ہو رہا ہے۔ آج ہمارے بچے فیشن میں آگے، مگر فہم میں پیچھے ہیں۔ سوشل میڈیا پر سرگرم، مگر زندگی کے حقائق سے نابلد۔ جب تک ہم خود کو نہیں بدلیں گے، تب تک نسلوں کا یہ بگاڑ بڑھتا جائے گا۔ آج اگر ہم نے اصلاح کی راہ اختیار نہ کی، تو کل یہی بچے بے راہ روی، نشے اور بے دینی کے پرچارک بن جائیں گے۔ اور جب یہ وقت آئے گا، تو شکوہ کرنے کا بھی کوئی حق باقی نہیں رہے گا۔ کاش! والدین وقت نکال کر بچوں کی آنکھوں میں جھانکیں، ان کی الجھنیں سمجھیں، ان کے سوالوں کا جواب بنیں۔ کاش! اساتذہ نصاب شروع کرنے سے پہلے دل میں کردار کا سبق اتاریں۔ اور کاش! ہم سب اتنی جرات پیدا کریں کہ برائی کو برائی کہہ سکیں، چاہے وہ ہمارے اپنے ہی گھر کے آنگن میں کیوں نہ ہو۔ اصلاح کا وقت ابھی باقی ہے۔ دیے بجھنے سے پہلے اگر ایک چراغ جلایا جائے، تو اندھیرا ٹالا جا سکتا ہے، لیکن اگر ہم نے اب بھی آنکھیں بند رکھیں، تو کل یہ تاریکی نسل کو نہیں،معاشرے کو بھی تباہ کردے گی۔

  • طلاق کی بڑھتی ہوئی وجوہات،تحریر: عمر افضل

    طلاق کی بڑھتی ہوئی وجوہات،تحریر: عمر افضل

    معاشرہ خاندان سے بنتا ہے اور خاندان نکاح کے رشتے پر کھڑا ہوتا ہے۔ یہ رشتہ صرف دو افراد کا ساتھ نہیں ،بلکہ نسلوں کی پرورش اور معاشرتی استحکام کا ذریعہ ہے،لیکن آج افسوس کے ساتھ کہنا پڑتا ہے کہ یہ رشتہ پہلے جیسا مضبوط نہیں رہا۔ طلاق اور علیحدگی کے بڑھتے ہوئے واقعات معاشرے کے سکون کو کھوکھلا کر رہے ہیں۔

    طلاق کے بڑھنے کی سب سے اہم وجہ صبر اور برداشت کی کمی ہے۔ معمولی باتیں جنہیں کبھی نظرانداز کر دیا جاتا تھا، اب بڑے جھگڑوں میں بدل جاتی ہیں۔ انا اور ضد کے باعث میاں بیوی بات کرنے اور مسئلہ حل کرنے کے بجائے علیحدگی کا راستہ اختیار کر لیتے ہیں۔ اس رویے نے رشتوں کو کمزور اور گھروں کو غیر محفوظ کر دیا ہے۔

    والدین اور رشتہ داروں کی غیر ضروری مداخلت بھی اس مسئلے کو بڑھا دیتی ہے۔ شادی کے آغاز پر ہی بیٹی کو کہا جاتا ہے کہ کسی بات پر سمجھوتا نہ کرنا اور ہر مسئلہ ہمیں بتانا، جبکہ بیٹے کو نصیحت کی جاتی ہے کہ ہر بات نہ ماننا ورنہ وقار ختم ہو جائے گا۔ یوں نئی زندگی کی بنیاد ہی اختلاف اور بے اعتمادی پر رکھ دی جاتی ہے۔ ایسے رویے رشتے کو جوڑنے کے بجائے توڑنے میں کردار ادا کرتے ہیں۔معاشی دباؤ بھی کم اہم نہیں۔ مہنگائی، بیروزگاری اور وسائل کی کمی نے گھروں کو سکون سے محروم کر دیا ہے۔ بعض اوقات اگر بیوی زیادہ کماتی ہے تو شوہر میں احساس کمتری پیدا ہوتا ہے۔جس کی وجہ سے اعتماد کی جگہ مقابلہ بازی اور محبت کی جگہ شکوے لے لیتے ہیں۔

    میڈیا اور سوشل میڈیا بھی کردار ادا کر رہے ہیں۔ ڈرامے اور فلمیں ایک خیالی دنیا دکھاتی ہیں، جہاں سب کچھ حسین لگتا ہے۔ جب حقیقت سامنے آتی ہے تو نوجوان ناامیدی کا شکار ہو جاتے ہیں۔ چھوٹے اختلافات کو حل کرنے کے بجائے فوری علیحدگی کو ہی آسان راستہ سمجھا جاتا ہے۔اخلاقی کمزوری بھی اہم سبب ہے۔ جب ایک دوسرے کے حقوق نظرانداز ہوں، عزت اور اعتماد ختم ہو جائے اور ہر وقت اپنی انا کو ترجیح دی جائے تو رشتہ زیادہ دیر قائم نہیں رہ سکتا۔ معمولی مسائل کو بڑا بنانے کی عادت رشتے کو برباد کر دیتی ہے اور اس کا سب سے زیادہ نقصان بچوں کو ہوتا ہے جو ٹوٹے ہوئے گھر کے اثرات سہتے ہیں۔

    یہ مسئلہ صرف قانون یا عدالتوں سے حل نہیں ہو سکتا۔ اصل ضرورت شعور کی بیداری ہے۔ اگر میاں بیوی برداشت، ایثار اور قربانی کو اپنا لیں اور والدین مداخلت کے بجائے تعاون کی راہ دکھائیں تو گھروں میں سکون واپس آ سکتا ہے۔ معاشرے کو بھی ایسے رجحانات کو فروغ دینا ہوگا جو رشتوں کو جوڑنے کا ذریعہ بنیں نہ کہ توڑنے کا۔اگر آج ہم نے اپنی سوچ اور رویے نہ بدلے تو آنے والی نسلیں محبت اور اعتماد کے بجائے تنہائی اور ویرانی کا سامنا کریں گی۔ یہی وقت ہے کہ ہم خاندانی نظام کو بچانے کے لیے سنجیدگی سے اقدامات کریں۔

  • سیلاب کے پانی میں بہتے جنازے ،تحریر:یوسف صدیقی

    سیلاب کے پانی میں بہتے جنازے ،تحریر:یوسف صدیقی

    رات کے سناٹے میں اچانک شور اٹھا۔ پانی کی بے قابو لہروں نے گلیوں اور گھروں کو روند ڈالا۔ سانس لینے کا موقع تک نہ ملا؛ لمحوں میں بستیاں ملبے کا ڈھیر بن گئیں۔ وہ منظر ایسا تھا جیسے قیامت اتر آئی ہو۔ مائیں اپنے بچوں کو چادر میں لپیٹ کر بھاگ رہی تھیں، مگر پانی کے تیز بہاؤ نے ان کے قدم اکھاڑ دیے۔ بوڑھے کسان اپنی زندگی کی کمائی بچانے کی کوشش کرتے رہے، مگر دیکھتے ہی دیکھتے کھیت، فصلیں اور مویشی سب سیلاب میں بہہ گئے۔

    علی پور کی گلیاں، جو کل تک زندگی سے بھری تھیں، آج پانی، کیچڑ اور موت کے سناٹے میں ڈوبی ہیں۔ وہ کھیت جہاں فصلیں لہلہاتی تھیں، وہاں اب کھڑا پانی پڑا ہے اور کسان اپنی محنت آنکھوں کے سامنے ڈوبتا دیکھ رہے ہیں۔ جانور، جو کبھی روزگار کا سہارا تھے، کھیتوں میں ڈوب گئے۔ لوگ جانیں بچانے کے لیے دوڑے، لیکن نہ راستہ بچا اور نہ ہی کشتی دستیاب تھی۔ جو کشتیاں ملیں بھی تو وہ کشتی مافیا کے ہاتھ میں تھیں جنہوں نے کرایہ کئی گنا بڑھا دیا تھا۔ غریبوں کی جان بھی یوں نیلام ہو گئی۔ کتنی مائیں اپنے بچوں کو بازوؤں میں اٹھائے مدد کے لیے چیختی رہیں، مگر کشتی والوں نے سننے تک گوارا نہ کیا۔

    جلال پور پیر والا میں بھی یہی کہانی دہرائی گئی۔ جب دریا کی لہر بے قابو ہوئی تو لوگ چھتوں پر چڑھ گئے۔ گھروں کے دروازے، کھڑکیاں اور دیواریں پانی نے نوچ لیں۔ بازاروں میں مایوسی کے سوا کچھ نہ رہا۔ وہ گھر جو برسوں کی محنت سے بنے تھے، لمحوں میں ملبے کا ڈھیر بن گئے۔ بچے چیختے رہے، عورتیں دعا کے لیے ہاتھ اٹھاتی رہیں اور بزرگ زمین پر بیٹھ کر آنکھوں سے آنسو بہاتے رہے۔

    یہ سیلاب صرف ایک قدرتی آفت نہیں، بلکہ ایک سخت حقیقت بھی ہے۔ یہ چیخ کر بتا رہا ہے کہ لاہور کے ایوانوں سے جنوبی پنجاب کے دکھ سمجھے نہیں جا سکتے۔ فیصلے وہاں بیٹھے لوگ کرتے ہیں، جنہیں نہ یہاں کے دریاؤں کا شور سنائی دیتا ہے اور نہ ہی یہاں کے جنازوں کی سسکیاں۔ ہر بار یہی ہوا: پانی آیا، سب کچھ بہا لے گیا، اور پھر سب کچھ بھلا دیا گیا۔ مگر اس بار درد اور تلخ ہے—کیا جنوبی پنجاب کے لوگوں کا خون اتنا سستا ہے؟

    لاکھوں لوگ بے گھر ہیں۔ خیموں میں بچے بھوک سے بلکتے ہیں، عورتیں خالی برتن لیے کھڑی ہیں، اور مرد لاچارگی میں اپنی ہی زمین کو کوس رہے ہیں۔ پانی اتر بھی جائے گا مگر یہ زخم نسلوں تک رہیں گے۔ ہر بچہ جو آج خالی پیٹ سو رہا ہے، کل بڑا ہو کر پوچھے گا کہ ہمارے ساتھ انصاف کیوں نہیں ہوا؟

    اب وقت صرف تعزیت کا نہیں بلکہ فیصلے کا ہے۔ جنوبی پنجاب کو اس کا حق دیا جانا چاہیے۔ ایک نیا صوبہ بنایا جائے تاکہ فیصلے وہ لوگ کریں جو اس مٹی کے باسی ہیں، جو ان دریاؤں کے کنارے رہتے ہیں، جو ہر سیلاب میں اپنے پیاروں کو دفناتے ہیں۔ یہ الگ صوبہ سیاسی نعرہ نہیں بلکہ بقا کی جنگ ہے۔

    سوال یہی ہے: کتنی اور لاشیں، کتنے اور جنازے، کتنے اور گھر ڈوبیں گے، تب جا کر کوئی مانے گا کہ جنوبی پنجاب کا الگ صوبہ وقت کی سب سے بڑی ضرورت ہے؟۔۔

  • شعور کی روشنی،تحریر:محمد اطہر فتح پوری

    شعور کی روشنی،تحریر:محمد اطہر فتح پوری

    بصد احترام یہ چند گزارشات، ایک خیرخواہانہ جذبے کے تحت قلمبند کی جا رہی ہیں، کہ شاید کوئی دل پھڑک اٹھے، کوئی سوچ چونک جائے اور کوئی قدم راہِ سنت کی طرف مڑ جائے۔
    پہلے زمانے میں، جب علم کی روشنی ناپید اور جہل کا اندھیرا غالب تھا، لوگ "جو دیکھا، وہی کیا” کے اصول پر عمل پیرا تھے۔ نہ پوچھنے کا سلیقہ، نہ سمجھنے کا شعور، بس "لوگ کیا کہیں گے” کا طوق گردن میں ڈال کر، ہر رواج و رسم کی پیروی کیے چلے جاتے تھے کیوں کہ جہالت وہ اندھیر نگری ہے جہاں عقل کے چراغ گل ہو جاتے ہیں.
    مگر اب دور بدل چکا ہے:
    علم کی روشنی سے منور ہے ہر اک راہ
    اندھیرے چھٹ گئے، اب چراغ خود جلانے کا وقت ہے!

    آج معلومات کی دنیا ہماری انگلیوں کی پوروں پر ہے۔ سوشل میڈیا، یوٹیوب، ویب سائٹس، ہر پلیٹ فارم پر دین کی اصل تصویر موجود ہے۔ اب خرافات اور بدعتوں کا پردہ چاک ہو چکا ہے، اور اصلاح کے در کھل چکے ہیں۔
    ہم تسلیم کرتے ہیں کہ کچھ افراد ایسے مواقع پر عشق و عقیدت کے جذبات سے لبریز ہوتے ہیں، مگر سوال یہ ہے:
    کیا جذبات شریعت کی کسوٹی پر پورے اترتے ہیں؟

    اگر کوئی عمل سنتِ نبوی اور شریعت کی روشنی سے ہٹ کر کیا جائے، چاہے وہ کتنا ہی ظاہری طور پر خوبصورت و خوش نما کیوں نہ لگے، آخر کار گمراہی کے گڑھے میں جا دفن ہوتا ہے. یہ بات بھی مسلم ہے کہ ایسے کاموں کی بنیاد دین سے محبت اور عقیدت میں ڈوب کر رکھی جاتی ہے اور پھر یہ بات بھی سو آنہ درست ہے کہ وہ گمراہی کی سڑک بن جاتی ہے. بنیادیں ڈالنے والے زیر زمین ہو جاتے. اصل روح کی مراجعت باقی ہی نہیں رہتی اور پھر رفتہ رفتہ یہ لوگوں کے جذبات کا کھیل بن جاتا ہے. اس کی قیادت اُن لوگوں کے ہاتھ میں آ جاتی ہے، جن کا اصل سرمایہ یا تو جہالت ہے یا دنیا داری. عشق فساد میں بدل جاتا ہے، وہی محفلیں فتنوں کا گڑھ بن جاتی ہیں کیوں کہ جب بدعت حسنہ(اس بھی اصل نہیں ملتی بعضوں کے ہاں) کی گلی میں قدم رکھا جائے تو بدعت سیئہ کے دروازے خود بخود کھلتا چلے جاتے ہیں.
    جو پندِ حق سے دور ہوئے، وہی ذلیل و خوار ہوئے
    چراغِ مصطفیؐ جس دل میں بجھا، وہاں اندھیرا ہی اندھیرا ہوا

    آج ہم دیکھ رہے ہیں کہ وہ حلقے جو کبھی ان خرافات کے داعی تھے، اب خود ان کی روک تھام کے لیے سرگرم ہیں۔ مگر حالات یہاں تک پہنچ چکے کہ شاید "گیند ہاتھ سے نکل چکی ہے”۔ اب وقت ہے کہ ہم اصلاح کی کوششوں کو فروغ دیں، نا کہ ایسی رسومات کی ترویج کو جو بظاہر محبت کے رنگ میں ہیں، مگر حقیقت میں دین کی بنیادوں کو کمزور کر رہی ہیں۔

    اب سوال یہ ہے: کرنا کیا چاہیے؟
    جواب سادہ ہے، مگر عمل کے لیے اخلاص درکار ہے۔
    1. سب سے پہلے تمام تر فقہی و مسلکی اختلافات کو بالائے طاق رکھ کر، ادب و احترام کے ساتھ سیرتِ طیبہ ﷺ کی با سلیقہ محافل منعقد کی جائیں. بغیر کسی نام و نابود، دکھلاوے ؛ور فضول خرچی کے.
    2. نعتیہ محافل ہوں، لیکن آدابِ نعت اور حدودِ شریعت کے اندر!
    3. آپ ﷺ کی حیاتِ طیبہ سے متعلق آگاہی کے سیشن ہوں اور پورا سال سنتِ نبوی کی روشنی میں گزارنے کی ترغیبات ہوں.
    4. تعلیمی ادارے "سیرت کوئز”، نعتیہ مشاعرہ، مطالعہ سیرت کی نشستیں، اور سیرت پر مبنی لیکچرز کا اہتمام کریں تاکہ نسلِ نو دین کی اصل روح سے روشناس ہو۔
    5.گھر،دفاتر،بازار اور العرض جہان کہیں بھی ہوں زیادہ سے زیادہ درود شریف کا اہتمام ہو.
    یاد رکھیے!
    عشق وہی معتبر ہے جو اطاعت کی دہلیز سے ہو کر گزرے
    محبت وہی باعزت ہے جو سنت کی چوکھٹ سے بندھی ہو
    ہمیں چاہیے کہ ہم فتنوں کی آگ بجھائیں، نہ کہ اس میں ایندھن ڈالیں۔ کیونکہ:
    جو دین کے نام پر کھیل رچائے، وہ دل کو نہیں، دین کو جلاتا ہے.
    پس آئیے! محبت رسول ﷺ کو اس کے اصل قالب میں اپنائیں، شریعت کے سانچے میں ڈھالیں، اور معاشرے میں وہ روشنی پھیلائیں جو مدینہ کی گلیوں سے چلی تھی اور قیامت تک رہنمائی کرتی رہے گی۔
    نقش قدم نبی کے ہیں جنت کے راستے
    اللہ سے ملاتے ہیں یہ سنت کے راستے
    ان ہی راستوں پے چل کے منزل ملے گی
    جنت میں لے جائیں گے یہ سنت کے راستے
    دو عالم میں چاہتے ہو گر کامیابی
    اپنا لو خوشی سے یہ سنت کے راستے
    مانا کے کٹھن ہے ان راستوں پے چلنا
    مگر جام کوثر دلائیں گے یہ سنت کے راستے
    صحابہ نے کٹوا دی تھیں گردنیں
    لیکن چھوڑے کبھی نہ یہ سنت کے راستے

  • بھارتی آبی جارحیت،سیلاب ،خدمت انسانیت ،تحریر:قرۃ العین ملک

    بھارتی آبی جارحیت،سیلاب ،خدمت انسانیت ،تحریر:قرۃ العین ملک

    ستم رسیدہ دریاؤں کے کنارے آج ایک بار پھر آہ و بکا کی صدائیں بلند ہیں، جہاں لہراتی موجوں نے بستیاں نگل لیں، مویشی بہا دیے، اور انسانوں کو بے سر و سامانی کی تصویر بنا دیا۔ پنجاب کے زرخیز میدان ہوں یا خیبر پختونخوا کے سرسبز وادیوں کے دہانے، رواں سال کا سیلاب ایک قہر بن کر ٹوٹا، اور اس قہر کو بڑھاوا دینے میں بھارتی آبی جارحیت نے بھی کسی کسر کو باقی نہ رکھا۔بھارت کی جانب سے بنا پیشگی اطلاع کے اضافی پانی چھوڑنے کے باعث دریاؤں کا پاٹ تو جیسے صدیوں کی قید سے آزاد ہوا، اور اس طغیانی نے پنجاب کے درجنوں اضلاع کو نگل لیا۔ بین الاقوامی آبی معاہدات کی دھجیاں اڑاتے ہوئے کیے گئے اس عمل کو ماحولیاتی دہشت گردی سے کم نہیں کہا جا سکتا۔ بھارت کی یہ آبی یلغار نہ صرف فصلوں کو تباہ کر گئی بلکہ دیہی معیشت کی کمر بھی توڑ گئی۔

    ایسے ناگہانی حالات میں جہاں ریاستی مشینری اپنی تمام تر کوششوں کے باوجود متاثرین کی مکمل داد رسی کرنے سے قاصر دکھائی دی، وہیں افواج پاکستان کا متاثرہ اضلاع میں ریسکیو و ریلیف آپریشن جاری ہے،سیلاب متاثرین کو کشتیوں کے ذریعے محفوظ مقام پر منتقل کیا جا رہا ہے،کھانا تقسیم کیاجا رہا ہے،تو دوسری جانب پاکستان مرکزی مسلم لیگ نے اپنے رضاکاروں کے ذریعے ایک قابلِ تقلید مثال قائم کی۔ سیلاب کی تباہ کاریوں کے عین مرکز میں، امداد کے ہاتھ تھامے، یہ کارواں متاثرین کے لیے امید کی کرن بن کر ابھرا،مرکزی صدر خالد مسعود سندھو کی ہدایت پر نہ صرف پنجاب کے 25 متاثرہ اضلاع میں امدادی سرگرمیوں کو منظم کیا گیا بلکہ خیبر پختونخوا، گلگت بلتستان اور سندھ کے علاقوں میں بھی بھرپور ریلیف آپریشن جاری ہے۔لاہورموہلنوال کی خیمہ بستی، جہاں تین ہزار سے زائد متاثرین مقیم ہیں، وہاں مسلم ویمن لیگ کی سیکرٹری جنرل عفت سعید نے دورہ کر کے نہ صرف متاثرین سے ملاقات کی بلکہ خود کھانا تقسیم کیا۔ پکی پکائی خوراک کی فراہمی، بچوں کے لیے دودھ اور خشک راشن، خواتین کے لیے ملبوسات اور جوتوں کی تقسیم، سب کچھ ایک منظم نظم کے تحت جاری ہے۔

    لاہور، سیالکوٹ، ننکانہ، چنیوٹ، ٹوبہ ٹیک سنگھ، اوکاڑہ، قصور، فیصل آباد اور تاندلیانوالہ کے نواحی علاقوں میں جہاں پانی نے زندگی کو مفلوج کر دیا تھا، وہاں مرکزی مسلم لیگ کے کارکنان نے کشتیوں کے ذریعے خوراک، ادویات اور دیگر ضروریات زندگی متاثرین تک پہنچائیں۔ ڈپٹی کمشنر فیصل آباد اور پاک فوج کے افسران کی موجودگی میں متاثرہ دیہاتوں میں ریلیف کے مناظر جذبۂ خدمت کی سچی تصویر پیش کرتے ہیں۔سیلاب صرف انسانوں کا امتحان نہیں تھا، مال مویشی بھی اس افتاد کا شکار ہوئے۔ مرکزی مسلم لیگ کے شعبہ خدمت خلق نے متاثرہ علاقوں میں جانوروں کے لیے چارہ، سیلج اور دیگر خوراک کی تقسیم کو یقینی بنایا۔ شفیق الرحمان وڑائچ اور حمید الحسن گجر کی قیادت میں گنڈا سنگھ والا، تلوار چیک پوسٹ اور نواحی دیہات میں دو ہزار سے زائد جانوروں کے لیے خوراک پہنچائی گئی۔باجوڑ، بونیر، مینگورہ، صوابی، سوات اور شانگلہ میں مرکزی مسلم لیگ کی مقامی قیادت نے سینکڑوں بیوہ خواتین اور متاثرہ خاندانوں میں خشک راشن، بستر اور برتن تقسیم کیے۔ عبدالغفار منصور کی قیادت میں سوات کے ڈاگ میلہ گراؤنڈ میں گھر کا سامان بانٹا گیا، جو اس بات کی غمازی کرتا ہے کہ یہ مشن صرف وقتی ریلیف کا نہیں، بلکہ مکمل بحالی کا ہے۔

    مرکزی مسلم لیگ کا سیلاب زدہ علاقوں میں ریلیف آپریشن کسی سیاسی تشہیر کے بغیر، نہایت سادگی اور خدمت کے جذبے کے تحت جاری ہے۔ مرکزی ترجمان تابش قیوم نے قصور میں 22 سیلاب زدہ دیہاتوں کا دورہ کر کے نہ صرف کھانا تقسیم کیا بلکہ امدادی کاموں کا جائزہ لیتے ہوئے ان میں مزید بہتری کی ہدایت بھی جاری کی۔سیلاب ایک قدرتی آفت سہی، مگر اس کے اثرات انسانی کوتاہی، ناقص حکومتی منصوبہ بندی اور ہمسایہ ملک کی بدنیتی سے کہیں زیادہ گھمبیر ہو جاتے ہیں۔ ہمیں نہ صرف اپنی آبی پالیسی پر نظرثانی کرنی ہے بلکہ انسانی خدمت کو محض حکومتی فریضہ سمجھنے کے بجائے اجتماعی قومی ذمہ داری کے طور پر اپنانا ہوگا،مرکزی مسلم لیگ کی خدمات اس امر کا منہ بولتا ثبوت ہیں کہ جب نیت نیک ہو اور ارادے مضبوط، تو ایک سیاسی جماعت بھی بحران میں امید کا چراغ روشن کر سکتی ہے،مرکزی مسلم لیگ نے جس غیر معمولی انداز میں سیلاب متاثرین کی مدد کی، وہ ہماری قومی تاریخ میں ایک روشن مثال کے طور پر یاد رکھی جائے گی۔ اس وقت جب قوم کو یکجہتی، ہمدردی اور عملی خدمت کی اشد ضرورت ہے، ایسے اقدامات قوم کی اجتماعی روح کو بیدار کرنے میں ممد و معاون ثابت ہوں گے۔

  • پنجاب ڈوب رہا ہے،تحریر:سیدہ سعدیہ عنبرؔ الجیلانی

    پنجاب ڈوب رہا ہے،تحریر:سیدہ سعدیہ عنبرؔ الجیلانی

    پنجاب یعنی پانچ دلیر دریاؤں کی وسیع القلب سرزمین ۔۔۔ بہادر سپوتوں کی سرسبز و شاداب سرزمین جس کے پکی ہوئی فصلوں سے لہلہاتے میدان دریا برد ہو کر آج کسی سمندر کا منظر پیش کر رہے ہیں۔ آہ۔۔میرا پنجاب ڈوب رہا ہے!

    ہمارے دیس میں عجیب صورتحال ہے ۔ کہ ہم صرف "ڈھنگ ٹپاؤ” پالیسی پہ چلتے ہیں۔ پہلے سے نہ کوئی تیاری کی جاتی ہے۔ نہ ہی کوئی لائحہ عمل تیار کیا جاتا ہے۔ اور جب پانی سر سے گزرنے لگتا ہے۔ تو بھاگ ڈور شروع ہو جاتی ہے۔دنیا میں اس وقت تیزی سے موسمیاتی تبدیلیاں رونما ہو رہی ہیں۔ پاکستان تیزی سے موسمیاتی تبدیلیوں کے شکار ممالک کی فہرست میں اول درجہ بندی میں شامل ہے۔ امسال بھی پاکستان میں ریکارڈ ساز گرم ترین خشک موسم ء گرما رہا۔ اور جب مون سون کا سیزن شروع ہوا ہے۔ تو پچھلے تمام رکارڈ توڑ رہا ہے۔ PDMA کی اب تک کی رپورٹ کے مطابق پنجاب میں سال2025ء میں پچھلے سال کی نسبت 73٪ زیادہ مون سون کی بارشیں ہوئیں ہیں۔ جس سے پیاسے دریا یکدم بپھر گئے۔ اور پنجاب کو شدید ترین جانی و مالی نقصان کا سامنا ہے۔ پنجاب کو 39 سال بعد ایسی شدید ترین سیلابی صورتحال کا سامنا ہے۔ اب تک کی رپورٹ کے مطابق پنجاب کے قریباً 1800 سے زائد دیہات زیر آب ہیں۔ اور 15 لاکھ افراد متاثر و بے گھر ہو چکے ہیں۔ جو زرعی املاک و لائیو سٹاک کو نقصان پہنچا ہے ۔ اس کا تو ابھی کوئی اندازہ ہی نہیں لگایا جا سکتا۔ کھڑی فصلیں بہہ چکی ہیں۔ کسانوں کی محنت و جمع پونجی سیلاب کی نظر ہو چکی ہے۔ اور صورتحال مزید بدترین ہو رہی ہے۔ دریائے راوی ، ستلج اور چناب نے لاہور سے ملتان تک پورے پنجاب کو اپنی لپیٹ میں لے لیا۔اب صورتحال یہ ہے۔ کہ شہری علاقوں کو بچانے کے لئیے دریاؤں کے پل اور بند اڑائے جا رہے ہیں۔ جھنگ شہر کو بچانے کے لئیے دریائے چناب کا ریلوے بند اڑایا جا چکا ہے۔ چناب پہ ہی قادر آباد ہیڈ ورکس پل اور ریواز پل کو پانی کا دباؤ کم کرنے کے لئیے کنٹرولڈ بموں سے توڑا گیا ہے۔ ہر آبی گزرگاہ و دریا میں گنجائش سے زائد پانی نے تباہی مچا رکھی ہے۔ 1939 میں بنائے گئے تریموں میں 8 لاکھ کیوسک پانی کے ریلے کی گنجائش ہے۔ جبکہ 9 لاکھ کیوسک سے اوپر کا ریلہ متوقع ہے۔

    پہلے کے۔پی۔کے میں یکدم سیلابی صورتحال، اب پنجاب میں سیلاب کی تباہی مچی ہوئی ہے۔ اور اس کے بعد سندھ میں بھی خطرہ بڑھتا جا رہا ہے۔ حالیہ رپورٹس کے مطابق سندھ میں سیلاب سے 50 ہزار سے زائد خاندان متاثر ہونے کا خدشہ ہے۔سوال یہ پیدا ہوتا ہے۔ کہ آخر ایسا کیوں ہے۔ کہ جب زرعی پیداوار کے لئیے پانی کی ضرورت ہوتی ہے ۔ تو خشک سالی کی کیفیت کا سامنا کرنا پڑتا ہے۔ اور جب بارشیں ہوتی ہیں۔ تو سیلاب سب بہا لے جاتا ہے۔ ہر سال یہی پانی، سیلاب کی صورت تباہی مچا کر سمندر کی نذر ہو جاتا ہے۔ جبکہ درست حکمت ء عملی سے اسے زرعی و توانائی کی پیداوار کے لئیے استعمال میں لایا جا سکتا ہے۔

    مانا کہ آفات قدرتی ہوتی ہیں۔ مگر اپنے عمل کو بھی مدنظر رکھنا لازم ہے۔ یہاں اگر یہ کہا جائے کہ بھارت نے پانی جان بوجھ کے چھوڑا ۔ تو یہ ایک بے جا منطق ہو گی۔ کیونکہ دریاؤں کے قدرتی راستے ہوتے ہیں۔ انہی راستوں سے گزر کے اضافی پانی سمندر برد ہوتا ہے۔پنجاب میں سیلابی تباہی کی ایک بڑی وجہ آبی گزرگاہوں پہ تجاوزات بھی بنی ہیں۔ جو عام لوگوں نے نہیں بلکہ بڑے نام اس عمل میں شریک نظر آتے ہیں۔ سب سے پہلے تو دریاؤں کے کناروں پہ موجود جنگلات کو ختم کیا گیا۔ پھر دریائی کی زمین پہ ہی قبضہ کر کے بیچ دی گئی۔ دریا چند سال خشک کیا ہوئے۔ انہوں نے سمجھ لیا کہ بس اب یہ چھوٹے موٹے چھپڑ (جوہر) بن جائیں گے۔ سو اس کی زمین دل فریب ناموں کے ساتھ رہائشی سوسائٹیاں بنا کر اندھا دھن فروخت کرنی شروع کر دی ۔ یہاں تک کہ دریائی گزرگاہوں پہ باقاعدہ رہائشی آبادیاں بنا کر ایک طرح سے کنکریٹ کی دیواریں کھڑی کر دیں ۔ اس کی واضح مثال لاہور میں راوی کی زمین پہ بنائی گئی کالونیاں ہیں۔ مقام ء افسوس تو یہ ہے ۔ کہ ان سوسائٹیوں کے مالکان میں کئی سیاستدان اور حکومتی نام آتے ہیں۔ کوئی بھی حکومت اس عمل سے لاعلم نہ تھی، نہ ہے۔ چونکہ نام اپنے ہی نکلتے ہیں ۔ تو ہر حکومت خاموش ہے۔
    یہ لوگ یہ اصول بھول گئے ۔ کہ دریا اپنا راستہ نہیں بھولا کرتا۔ وہ واپس پلٹتا ہے۔ اور ایسا ہی ہوا۔ دریاوں نے اپنا حق واپس لے لیا۔ اور اب ان رہائشی سوسائٹیوں کے مالکان غائب ہیں۔ یا پھر ان سوسائٹیوں کو بچانے کے لئیے پانی کا رخ موڑا جا رہا ہے جس سے اس پاس کے گاؤں تباہ ہو رہے ہیں۔

    ناقص پالیسیوں کا المیہ یہ ہے ۔کہ ایک طرف ہر سال سیلاب کی تباہ کاریوں کا سامنا ہے ۔ تو دوسری طرف پاکستان کو پانی کی قلت کا شدید ترین خطرہ لاحق ہے ۔ یہاں تک کہ پاکستان کو 2030ء تک پانی کی قلت کا شکار ملک (واٹر اسیکئر اسٹیٹ) قرار دیئے جانے کا امکان ہے۔ ضرورت کے مطابق ڈیمز نہ ہونے کی وجہ سے پاکستان اپنی بارش کا صرف 10٪ حصہ محفوظ کر سکتا ہے۔ ماہرین کے مطابق اس وقت پاکستان میں پانی محفوظ کرنے کی گنجائش قریباً 30 دن ہے۔ جبکہ عالمی قوانین کے مطابق کسی ملک کے پاس کم از کم 120 دن کا پانی ذخیرہ ہونا چاہئیے۔
    پاکستان میں ذخیرہ شدہ پانی سالانہ دریا کے بہاؤ کا صرف 15% ہے، جو کہ عالمی اوسط 40% کے بالکل برعکس ہے۔ ماہرین کے مطابق اس وقت پاکستان کو 10 ڈیمز کی فوری ضرورت ہے۔ اگر یہ ڈیمز موجود ہوں۔ تو دریائی پانی کو بھی محفوظ کیا جا سکتا ہے۔ جسے زرعی و بجلی بنانے کے مقاصد میں استعمال کیا جا سکتا ہے۔ اور سیلابی تباہی سے بھی بچا جا سکتا ہے۔
    اس وقت 5 ڈیمز زیر ء تعمیر ہیں۔ نئے ڈیمز کی تعمیر میں تمام صوبوں کو پانی کی منصفانہ تقسیم پہ اعتماد میں لے کے فوری کام شروع کرنے کی ضرورت ہے۔ نیز دریا کی زمین پہ قائم تجاوزات کو ختم کیا جائے۔ اور جو اس ناجائز کام میں ملوث ہے ۔ اس کو کیفرِ کردار تک پہنچایا جائے۔یہ وقت سیاست اور مصلحت کا نہیں بلکہ عملی قدم اٹھانے کا ہے۔ اگر آج پانی بچانے اور سیلابی تباہی کو روکنے کے لئیے فیصلہ کن اقدام نہ اٹھائے۔ تو ملک خشک سالی میں پیاسا اور بارش میں ڈوبتا رہے گا۔ صورتحال کوئی بھی ہو پس غریب طبقہ جاتا ہے۔
    ؂
    محسن غریب لوگ بھی تنکوں کا ڈھیر ہیں
    ملبے میں دب گئے، کبھی پانی میں بہہ گئے!!

    اللہ رب العزت میرے وطن کے ہر باسی کی حفاظت فرمائے۔
    آمین.