Baaghi TV

Category: معاشرہ و ثقافت

  • کنجوانی کا سفر ،تحریر: ڈاکٹر الوینہ

    کنجوانی کا سفر ،تحریر: ڈاکٹر الوینہ

    گرمیوں کی چھٹیاں ہمیشہ کسی نہ کسی سیر و تفریح کے بہانے گزر جاتی تھیں۔ اس بار بھی حسبِ روایت منصوبہ بندی جاری تھی کہ اچانک ابو کے ایک رشتہ دار کی کال آ گئی۔ ان کا گھر فیصل آباد کے قریب کنجوانی نامی گاؤں میں تھا اور وہ ہمیں دعوت دے رہے تھے۔ چونکہ یہ پہلا موقع تھا کہ ہم کسی ایسے خاندان سے ملنے جا رہے تھے جنہیں پہلے کبھی دیکھا یا سنا بھی نہ تھا، اس لیے سب ہی پرجوش تھے۔

    جمعرات کی دوپہر ہم سامان باندھ کر نکلے۔ سرگودھا سے فیصل آباد تک کا دو گھنٹے کا سفر تو جلد کٹ گیا، مگر کنجوانی تک پہنچتے پہنچتے مزید تین گھنٹے لگ گئے۔ بھوک کے مارے سب نڈھال تھے کیونکہ ہم یہ سوچ کر نکلے تھے کہ کھانا وہاں جا کر کھائیں گے۔

    جب گاڑی گاؤں میں داخل ہوئی تو کیچڑ، گوبر اور تنگ گلیاں دیکھ کر دل کچھ بوجھل سا ہو گیا۔ بہن کی اونچی ہیلز اور ہمارا شہروں والا انداز اس ماحول میں بالکل اجنبی لگ رہا تھا۔ مگر جیسے ہی گھر پہنچے تو دروازے پر کھڑے میزبانوں کے خوش اخلاق استقبال نے دل کا بوجھ ہلکا کر دیا۔

    گھر دیہاتی طرز کا مگر کشادہ تھا۔ کھلا صحن، لکڑیوں کا چولہا، بیٹھک، کچن اور کمرے سب کچھ ترتیب سے بنا ہوا تھا۔ مکھیاں بےشک بہت تھیں لیکن میزبانوں کی مسکراہٹ نے ساری کوفت کم کر دی۔سب سے پہلے آم کا ملک شیک ملا، پھر تھوڑی دیر بعد تازہ پھل اور اسنیکس۔ ان کے اپنے کھیتوں کی خوبانی اتنی میٹھی تھی کہ شاید ہی زندگی میں کبھی کھائی ہو۔ کچھ ہی دیر بعد بھرپور رات کا کھانا لگا۔مٹن کڑاہی، آلو قیمہ، چکن پلاؤ، رائتہ، سلاد اور میٹھے میں رس ملائی۔ کھانے کے بعد چھت پر گئے تو غروبِ آفتاب اور ہلکی بارش نے منظر اور بھی دلکش بنا دیا۔ شہروں میں ایسے نظارے شاذ ہی نصیب ہوتے ہیں۔اگلی صبح فجر کے وقت ٹھنڈی ہوا اور پرندوں کی آوازیں دل کو سکون بخش رہی تھیں۔ ناشتہ اور بھی شاندار تھا۔تازہ پراٹھے، تندوری نان، حلیم، سبزیاں، اچار، دہی اور لسی۔ شہروں میں جہاں ٹوسٹ اور چائے پر گزارا ہوتا ہے، وہاں کا خالص دیسی ناشتہ لاجواب تھا۔ناشتے کے بعد ہم کھیتوں کی طرف نکلے۔ بارش سے زمین گیلی تھی مگر ہوا خوشگوار تھی۔ تقریباً آدھے گھنٹے کے سفر کے بعد ان کا احاطہ آیا جہاں سولر پر چلنے والا ٹیوب ویل دیکھ کر حیرت ہوئی۔ سب نے کپڑے بدلے اور پانی میں نہانے کا فیصلہ کیا۔

    شروع میں ڈر لگا، لیکن جیسے ہی پانی میں اترا تو لگا کہ ساری تھکن اور الجھنیں بہہ گئی ہیں۔ وہ لمحہ میری زندگی کا سب سے خوشگوار تجربہ تھا۔ دیہات کے ایک چھوٹے سے ٹیوب ویل نے وہ سکون دیا جو بڑے بڑے شہروں کی آسائشیں بھی نہ دے سکیں۔

    کھیتوں میں کپاس چنتی عورتیں، ہنستے مسکراتے چہرے اور ہر گھر میں ملنے والی سچی مسکراہٹ،یہ سب کچھ ہمارے لیے نیا مگر بہت خوبصورت تجربہ تھا۔ گاؤں کے لوگ کم وسائل کے باوجود جتنے خوش مزاج اور مخلص ہیں، شہروں میں ویسی خلوص بھری مسکراہٹ شاذ و نادر ہی دیکھنے کو ملتی ہے۔دوپہر کو چنا چاٹ اور فرائی فش کے بعد ہم نے سرگودھا واپسی کی تیاری کی۔ سفر اگرچہ مختصر تھا مگر یادیں بہت گہری چھوڑ گیا۔

    اس سفر نے ایک بات سچ کر دکھائی جسے ہمیشہ کتابوں میں پڑھا تھا:
    گاؤں جیسا سکون، شہروں میں کہاں!

  • کاش دل روشن ہوتے،تحریر: گل شیر ملک

    کاش دل روشن ہوتے،تحریر: گل شیر ملک

    کبھی ہمارے بچے ٹاٹ پر بیٹھ کر علم کے دریا پار کرتے تھے۔ نہ اُن کے گرد چمکتے کمروں کی دیواریں تھیں، نہ اُن کے سروں پر اے سی کی ٹھنڈی ہوا، لیکن ان کے دل قرآن و سنت کی روشنی سے منور تھے۔ وہ کچی زمین پر بیٹھ کر بھی کردار کی پختگی میں پہاڑوں جیسے مضبوط تھے۔ ان کے چہروں پر سادگی تھی، آنکھوں میں شرم و حیا، اور ذہن میں علم حاصل کرنے کا خالص جذبہ۔ استاد کا ایک اشارہ ان کے لیے حکم کا درجہ رکھتا تھا، اور ماں باپ کی دعائیں ان کا سب سے قیمتی اثاثہ ہوتی تھیں۔ آج ہم ترقی کی اس دہلیز پر کھڑے ہیں جہاں تعلیم جدید ترین ٹیکنالوجی سے مزین ہے۔ لیپ ٹاپ، پروجیکٹر، وائی فائی، سمارٹ کلاس رومز، اور انگلی کی ایک جنبش پر کھلتی دنیا۔ آج کا بچہ کتاب سے زیادہ سکرین سے جڑا ہے۔ اس کی جیب میں فلیش ڈرائیو ہے، لیکن کردار میں کمزور ہے۔ اس کے پاس معلومات کا انبار ہے، مگر شعور کی روشنی عنقا ہے۔ وہ ہر سوال کا جواب گوگل سے ڈھونڈ لیتا ہے، لیکن دل کے سوالوں کا کوئی جواب اس کے پاس نہیں۔ زبان میں چالاکی ہے، لیکن لہجے میں عاجزی نہیں۔ لباس مہنگا ہے، لیکن نگاہوں میں حیاء نہیں۔ چہرہ تو روشن ہے، لیکن دل ویران ہو چکا ہے۔

    ایبٹ آباد… وہ شہر جسے ایک زمانے میں علم و تہذیب کا گہوارہ کہا جاتا تھا، آج بے حیائی، کنسرٹس اور اخلاقی بگاڑ کا منظر پیش کر رہا ہے۔ ان اداروں سے جہاں کبھی علم کی روشنی پھوٹتی تھی، آج سگریٹ، نسوار اور زہریلے خیالات کا ماحول دکھائی دیتا ہے ۔ تعلیمی ادارے جو کبھی کردار سازی کے مراکز ہوا کرتے تھے، اب محض کاروباری دکانیں بن چکے ہیں، جہاں فیسیں تو لی جاتی ہیں، لیکن تربیت نہیں دی جاتی۔ اساتذہ جو کبھی قوم کے معمار کہلاتے تھے، آج صرف تنخواہ کے محتاج بن چکے ہیں۔ انہیں نصاب ختم کرنے کی فکر ہے، لیکن نسل بچانے کی کوئی پریشانی نہیں۔

    المیہ یہ ہے کہ ہم نے صرف بچوں کو قصوروار ٹھہرا دیا، حالانکہ اس بگاڑ کے مجرم ہم سب ہیں۔ والدین جو بچے کو مہنگا فون تو دے دیتے ہیں، لیکن اس کی نظروں کی سمت نہیں جانتے۔ جو موبائل کا لاک تو کھول لیتے ہیں، لیکن دل کا حال نہیں پڑھتے۔ اساتذہ جو کبھی دلوں پر نقش چھوڑا کرتے تھے، اب صرف بورڈ پر الفاظ لکھنے تک محدود ہو گئے ہیں۔ ادارے جو تعلیم کے نام پر چل رہے ہیں، درحقیقت کاروبار کی شکل اختیار کر چکے ہیں۔ اور ہم، وہ معاشرہ، جو ہر برائی کو دیکھ کر خاموش ہو جاتا ہے۔ نہ کسی کو روکتے ہیں، نہ کسی کو سمجھاتے ہیں۔ بس خاموش تماشائی بنے ہوئے ہیں۔ یہ خاموشی محض لاپروائی نہیں، بلکہ شراکتِ جرم ہے۔ جب والدین غافل ہوں، اساتذہ بے حس، ادارے بے مقصد، اور معاشرہ بے سمت، تو نسلیں بھٹک جایا کرتی ہیں۔ یہی ہو رہا ہے۔ آج ہمارے بچے فیشن میں آگے، مگر فہم میں پیچھے ہیں۔ سوشل میڈیا پر سرگرم، مگر زندگی کے حقائق سے نابلد۔ جب تک ہم خود کو نہیں بدلیں گے، تب تک نسلوں کا یہ بگاڑ بڑھتا جائے گا۔ آج اگر ہم نے اصلاح کی راہ اختیار نہ کی، تو کل یہی بچے بے راہ روی، نشے اور بے دینی کے پرچارک بن جائیں گے۔ اور جب یہ وقت آئے گا، تو شکوہ کرنے کا بھی کوئی حق باقی نہیں رہے گا۔ کاش! والدین وقت نکال کر بچوں کی آنکھوں میں جھانکیں، ان کی الجھنیں سمجھیں، ان کے سوالوں کا جواب بنیں۔ کاش! اساتذہ نصاب شروع کرنے سے پہلے دل میں کردار کا سبق اتاریں۔ اور کاش! ہم سب اتنی جرات پیدا کریں کہ برائی کو برائی کہہ سکیں، چاہے وہ ہمارے اپنے ہی گھر کے آنگن میں کیوں نہ ہو۔ اصلاح کا وقت ابھی باقی ہے۔ دیے بجھنے سے پہلے اگر ایک چراغ جلایا جائے، تو اندھیرا ٹالا جا سکتا ہے، لیکن اگر ہم نے اب بھی آنکھیں بند رکھیں، تو کل یہ تاریکی نسل کو نہیں،معاشرے کو بھی تباہ کردے گی۔

  • طلاق کی بڑھتی ہوئی وجوہات،تحریر: عمر افضل

    طلاق کی بڑھتی ہوئی وجوہات،تحریر: عمر افضل

    معاشرہ خاندان سے بنتا ہے اور خاندان نکاح کے رشتے پر کھڑا ہوتا ہے۔ یہ رشتہ صرف دو افراد کا ساتھ نہیں ،بلکہ نسلوں کی پرورش اور معاشرتی استحکام کا ذریعہ ہے،لیکن آج افسوس کے ساتھ کہنا پڑتا ہے کہ یہ رشتہ پہلے جیسا مضبوط نہیں رہا۔ طلاق اور علیحدگی کے بڑھتے ہوئے واقعات معاشرے کے سکون کو کھوکھلا کر رہے ہیں۔

    طلاق کے بڑھنے کی سب سے اہم وجہ صبر اور برداشت کی کمی ہے۔ معمولی باتیں جنہیں کبھی نظرانداز کر دیا جاتا تھا، اب بڑے جھگڑوں میں بدل جاتی ہیں۔ انا اور ضد کے باعث میاں بیوی بات کرنے اور مسئلہ حل کرنے کے بجائے علیحدگی کا راستہ اختیار کر لیتے ہیں۔ اس رویے نے رشتوں کو کمزور اور گھروں کو غیر محفوظ کر دیا ہے۔

    والدین اور رشتہ داروں کی غیر ضروری مداخلت بھی اس مسئلے کو بڑھا دیتی ہے۔ شادی کے آغاز پر ہی بیٹی کو کہا جاتا ہے کہ کسی بات پر سمجھوتا نہ کرنا اور ہر مسئلہ ہمیں بتانا، جبکہ بیٹے کو نصیحت کی جاتی ہے کہ ہر بات نہ ماننا ورنہ وقار ختم ہو جائے گا۔ یوں نئی زندگی کی بنیاد ہی اختلاف اور بے اعتمادی پر رکھ دی جاتی ہے۔ ایسے رویے رشتے کو جوڑنے کے بجائے توڑنے میں کردار ادا کرتے ہیں۔معاشی دباؤ بھی کم اہم نہیں۔ مہنگائی، بیروزگاری اور وسائل کی کمی نے گھروں کو سکون سے محروم کر دیا ہے۔ بعض اوقات اگر بیوی زیادہ کماتی ہے تو شوہر میں احساس کمتری پیدا ہوتا ہے۔جس کی وجہ سے اعتماد کی جگہ مقابلہ بازی اور محبت کی جگہ شکوے لے لیتے ہیں۔

    میڈیا اور سوشل میڈیا بھی کردار ادا کر رہے ہیں۔ ڈرامے اور فلمیں ایک خیالی دنیا دکھاتی ہیں، جہاں سب کچھ حسین لگتا ہے۔ جب حقیقت سامنے آتی ہے تو نوجوان ناامیدی کا شکار ہو جاتے ہیں۔ چھوٹے اختلافات کو حل کرنے کے بجائے فوری علیحدگی کو ہی آسان راستہ سمجھا جاتا ہے۔اخلاقی کمزوری بھی اہم سبب ہے۔ جب ایک دوسرے کے حقوق نظرانداز ہوں، عزت اور اعتماد ختم ہو جائے اور ہر وقت اپنی انا کو ترجیح دی جائے تو رشتہ زیادہ دیر قائم نہیں رہ سکتا۔ معمولی مسائل کو بڑا بنانے کی عادت رشتے کو برباد کر دیتی ہے اور اس کا سب سے زیادہ نقصان بچوں کو ہوتا ہے جو ٹوٹے ہوئے گھر کے اثرات سہتے ہیں۔

    یہ مسئلہ صرف قانون یا عدالتوں سے حل نہیں ہو سکتا۔ اصل ضرورت شعور کی بیداری ہے۔ اگر میاں بیوی برداشت، ایثار اور قربانی کو اپنا لیں اور والدین مداخلت کے بجائے تعاون کی راہ دکھائیں تو گھروں میں سکون واپس آ سکتا ہے۔ معاشرے کو بھی ایسے رجحانات کو فروغ دینا ہوگا جو رشتوں کو جوڑنے کا ذریعہ بنیں نہ کہ توڑنے کا۔اگر آج ہم نے اپنی سوچ اور رویے نہ بدلے تو آنے والی نسلیں محبت اور اعتماد کے بجائے تنہائی اور ویرانی کا سامنا کریں گی۔ یہی وقت ہے کہ ہم خاندانی نظام کو بچانے کے لیے سنجیدگی سے اقدامات کریں۔

  • سیلاب کے پانی میں بہتے جنازے ،تحریر:یوسف صدیقی

    سیلاب کے پانی میں بہتے جنازے ،تحریر:یوسف صدیقی

    رات کے سناٹے میں اچانک شور اٹھا۔ پانی کی بے قابو لہروں نے گلیوں اور گھروں کو روند ڈالا۔ سانس لینے کا موقع تک نہ ملا؛ لمحوں میں بستیاں ملبے کا ڈھیر بن گئیں۔ وہ منظر ایسا تھا جیسے قیامت اتر آئی ہو۔ مائیں اپنے بچوں کو چادر میں لپیٹ کر بھاگ رہی تھیں، مگر پانی کے تیز بہاؤ نے ان کے قدم اکھاڑ دیے۔ بوڑھے کسان اپنی زندگی کی کمائی بچانے کی کوشش کرتے رہے، مگر دیکھتے ہی دیکھتے کھیت، فصلیں اور مویشی سب سیلاب میں بہہ گئے۔

    علی پور کی گلیاں، جو کل تک زندگی سے بھری تھیں، آج پانی، کیچڑ اور موت کے سناٹے میں ڈوبی ہیں۔ وہ کھیت جہاں فصلیں لہلہاتی تھیں، وہاں اب کھڑا پانی پڑا ہے اور کسان اپنی محنت آنکھوں کے سامنے ڈوبتا دیکھ رہے ہیں۔ جانور، جو کبھی روزگار کا سہارا تھے، کھیتوں میں ڈوب گئے۔ لوگ جانیں بچانے کے لیے دوڑے، لیکن نہ راستہ بچا اور نہ ہی کشتی دستیاب تھی۔ جو کشتیاں ملیں بھی تو وہ کشتی مافیا کے ہاتھ میں تھیں جنہوں نے کرایہ کئی گنا بڑھا دیا تھا۔ غریبوں کی جان بھی یوں نیلام ہو گئی۔ کتنی مائیں اپنے بچوں کو بازوؤں میں اٹھائے مدد کے لیے چیختی رہیں، مگر کشتی والوں نے سننے تک گوارا نہ کیا۔

    جلال پور پیر والا میں بھی یہی کہانی دہرائی گئی۔ جب دریا کی لہر بے قابو ہوئی تو لوگ چھتوں پر چڑھ گئے۔ گھروں کے دروازے، کھڑکیاں اور دیواریں پانی نے نوچ لیں۔ بازاروں میں مایوسی کے سوا کچھ نہ رہا۔ وہ گھر جو برسوں کی محنت سے بنے تھے، لمحوں میں ملبے کا ڈھیر بن گئے۔ بچے چیختے رہے، عورتیں دعا کے لیے ہاتھ اٹھاتی رہیں اور بزرگ زمین پر بیٹھ کر آنکھوں سے آنسو بہاتے رہے۔

    یہ سیلاب صرف ایک قدرتی آفت نہیں، بلکہ ایک سخت حقیقت بھی ہے۔ یہ چیخ کر بتا رہا ہے کہ لاہور کے ایوانوں سے جنوبی پنجاب کے دکھ سمجھے نہیں جا سکتے۔ فیصلے وہاں بیٹھے لوگ کرتے ہیں، جنہیں نہ یہاں کے دریاؤں کا شور سنائی دیتا ہے اور نہ ہی یہاں کے جنازوں کی سسکیاں۔ ہر بار یہی ہوا: پانی آیا، سب کچھ بہا لے گیا، اور پھر سب کچھ بھلا دیا گیا۔ مگر اس بار درد اور تلخ ہے—کیا جنوبی پنجاب کے لوگوں کا خون اتنا سستا ہے؟

    لاکھوں لوگ بے گھر ہیں۔ خیموں میں بچے بھوک سے بلکتے ہیں، عورتیں خالی برتن لیے کھڑی ہیں، اور مرد لاچارگی میں اپنی ہی زمین کو کوس رہے ہیں۔ پانی اتر بھی جائے گا مگر یہ زخم نسلوں تک رہیں گے۔ ہر بچہ جو آج خالی پیٹ سو رہا ہے، کل بڑا ہو کر پوچھے گا کہ ہمارے ساتھ انصاف کیوں نہیں ہوا؟

    اب وقت صرف تعزیت کا نہیں بلکہ فیصلے کا ہے۔ جنوبی پنجاب کو اس کا حق دیا جانا چاہیے۔ ایک نیا صوبہ بنایا جائے تاکہ فیصلے وہ لوگ کریں جو اس مٹی کے باسی ہیں، جو ان دریاؤں کے کنارے رہتے ہیں، جو ہر سیلاب میں اپنے پیاروں کو دفناتے ہیں۔ یہ الگ صوبہ سیاسی نعرہ نہیں بلکہ بقا کی جنگ ہے۔

    سوال یہی ہے: کتنی اور لاشیں، کتنے اور جنازے، کتنے اور گھر ڈوبیں گے، تب جا کر کوئی مانے گا کہ جنوبی پنجاب کا الگ صوبہ وقت کی سب سے بڑی ضرورت ہے؟۔۔

  • شعور کی روشنی،تحریر:محمد اطہر فتح پوری

    شعور کی روشنی،تحریر:محمد اطہر فتح پوری

    بصد احترام یہ چند گزارشات، ایک خیرخواہانہ جذبے کے تحت قلمبند کی جا رہی ہیں، کہ شاید کوئی دل پھڑک اٹھے، کوئی سوچ چونک جائے اور کوئی قدم راہِ سنت کی طرف مڑ جائے۔
    پہلے زمانے میں، جب علم کی روشنی ناپید اور جہل کا اندھیرا غالب تھا، لوگ "جو دیکھا، وہی کیا” کے اصول پر عمل پیرا تھے۔ نہ پوچھنے کا سلیقہ، نہ سمجھنے کا شعور، بس "لوگ کیا کہیں گے” کا طوق گردن میں ڈال کر، ہر رواج و رسم کی پیروی کیے چلے جاتے تھے کیوں کہ جہالت وہ اندھیر نگری ہے جہاں عقل کے چراغ گل ہو جاتے ہیں.
    مگر اب دور بدل چکا ہے:
    علم کی روشنی سے منور ہے ہر اک راہ
    اندھیرے چھٹ گئے، اب چراغ خود جلانے کا وقت ہے!

    آج معلومات کی دنیا ہماری انگلیوں کی پوروں پر ہے۔ سوشل میڈیا، یوٹیوب، ویب سائٹس، ہر پلیٹ فارم پر دین کی اصل تصویر موجود ہے۔ اب خرافات اور بدعتوں کا پردہ چاک ہو چکا ہے، اور اصلاح کے در کھل چکے ہیں۔
    ہم تسلیم کرتے ہیں کہ کچھ افراد ایسے مواقع پر عشق و عقیدت کے جذبات سے لبریز ہوتے ہیں، مگر سوال یہ ہے:
    کیا جذبات شریعت کی کسوٹی پر پورے اترتے ہیں؟

    اگر کوئی عمل سنتِ نبوی اور شریعت کی روشنی سے ہٹ کر کیا جائے، چاہے وہ کتنا ہی ظاہری طور پر خوبصورت و خوش نما کیوں نہ لگے، آخر کار گمراہی کے گڑھے میں جا دفن ہوتا ہے. یہ بات بھی مسلم ہے کہ ایسے کاموں کی بنیاد دین سے محبت اور عقیدت میں ڈوب کر رکھی جاتی ہے اور پھر یہ بات بھی سو آنہ درست ہے کہ وہ گمراہی کی سڑک بن جاتی ہے. بنیادیں ڈالنے والے زیر زمین ہو جاتے. اصل روح کی مراجعت باقی ہی نہیں رہتی اور پھر رفتہ رفتہ یہ لوگوں کے جذبات کا کھیل بن جاتا ہے. اس کی قیادت اُن لوگوں کے ہاتھ میں آ جاتی ہے، جن کا اصل سرمایہ یا تو جہالت ہے یا دنیا داری. عشق فساد میں بدل جاتا ہے، وہی محفلیں فتنوں کا گڑھ بن جاتی ہیں کیوں کہ جب بدعت حسنہ(اس بھی اصل نہیں ملتی بعضوں کے ہاں) کی گلی میں قدم رکھا جائے تو بدعت سیئہ کے دروازے خود بخود کھلتا چلے جاتے ہیں.
    جو پندِ حق سے دور ہوئے، وہی ذلیل و خوار ہوئے
    چراغِ مصطفیؐ جس دل میں بجھا، وہاں اندھیرا ہی اندھیرا ہوا

    آج ہم دیکھ رہے ہیں کہ وہ حلقے جو کبھی ان خرافات کے داعی تھے، اب خود ان کی روک تھام کے لیے سرگرم ہیں۔ مگر حالات یہاں تک پہنچ چکے کہ شاید "گیند ہاتھ سے نکل چکی ہے”۔ اب وقت ہے کہ ہم اصلاح کی کوششوں کو فروغ دیں، نا کہ ایسی رسومات کی ترویج کو جو بظاہر محبت کے رنگ میں ہیں، مگر حقیقت میں دین کی بنیادوں کو کمزور کر رہی ہیں۔

    اب سوال یہ ہے: کرنا کیا چاہیے؟
    جواب سادہ ہے، مگر عمل کے لیے اخلاص درکار ہے۔
    1. سب سے پہلے تمام تر فقہی و مسلکی اختلافات کو بالائے طاق رکھ کر، ادب و احترام کے ساتھ سیرتِ طیبہ ﷺ کی با سلیقہ محافل منعقد کی جائیں. بغیر کسی نام و نابود، دکھلاوے ؛ور فضول خرچی کے.
    2. نعتیہ محافل ہوں، لیکن آدابِ نعت اور حدودِ شریعت کے اندر!
    3. آپ ﷺ کی حیاتِ طیبہ سے متعلق آگاہی کے سیشن ہوں اور پورا سال سنتِ نبوی کی روشنی میں گزارنے کی ترغیبات ہوں.
    4. تعلیمی ادارے "سیرت کوئز”، نعتیہ مشاعرہ، مطالعہ سیرت کی نشستیں، اور سیرت پر مبنی لیکچرز کا اہتمام کریں تاکہ نسلِ نو دین کی اصل روح سے روشناس ہو۔
    5.گھر،دفاتر،بازار اور العرض جہان کہیں بھی ہوں زیادہ سے زیادہ درود شریف کا اہتمام ہو.
    یاد رکھیے!
    عشق وہی معتبر ہے جو اطاعت کی دہلیز سے ہو کر گزرے
    محبت وہی باعزت ہے جو سنت کی چوکھٹ سے بندھی ہو
    ہمیں چاہیے کہ ہم فتنوں کی آگ بجھائیں، نہ کہ اس میں ایندھن ڈالیں۔ کیونکہ:
    جو دین کے نام پر کھیل رچائے، وہ دل کو نہیں، دین کو جلاتا ہے.
    پس آئیے! محبت رسول ﷺ کو اس کے اصل قالب میں اپنائیں، شریعت کے سانچے میں ڈھالیں، اور معاشرے میں وہ روشنی پھیلائیں جو مدینہ کی گلیوں سے چلی تھی اور قیامت تک رہنمائی کرتی رہے گی۔
    نقش قدم نبی کے ہیں جنت کے راستے
    اللہ سے ملاتے ہیں یہ سنت کے راستے
    ان ہی راستوں پے چل کے منزل ملے گی
    جنت میں لے جائیں گے یہ سنت کے راستے
    دو عالم میں چاہتے ہو گر کامیابی
    اپنا لو خوشی سے یہ سنت کے راستے
    مانا کے کٹھن ہے ان راستوں پے چلنا
    مگر جام کوثر دلائیں گے یہ سنت کے راستے
    صحابہ نے کٹوا دی تھیں گردنیں
    لیکن چھوڑے کبھی نہ یہ سنت کے راستے

  • بھارتی آبی جارحیت،سیلاب ،خدمت انسانیت ،تحریر:قرۃ العین ملک

    بھارتی آبی جارحیت،سیلاب ،خدمت انسانیت ،تحریر:قرۃ العین ملک

    ستم رسیدہ دریاؤں کے کنارے آج ایک بار پھر آہ و بکا کی صدائیں بلند ہیں، جہاں لہراتی موجوں نے بستیاں نگل لیں، مویشی بہا دیے، اور انسانوں کو بے سر و سامانی کی تصویر بنا دیا۔ پنجاب کے زرخیز میدان ہوں یا خیبر پختونخوا کے سرسبز وادیوں کے دہانے، رواں سال کا سیلاب ایک قہر بن کر ٹوٹا، اور اس قہر کو بڑھاوا دینے میں بھارتی آبی جارحیت نے بھی کسی کسر کو باقی نہ رکھا۔بھارت کی جانب سے بنا پیشگی اطلاع کے اضافی پانی چھوڑنے کے باعث دریاؤں کا پاٹ تو جیسے صدیوں کی قید سے آزاد ہوا، اور اس طغیانی نے پنجاب کے درجنوں اضلاع کو نگل لیا۔ بین الاقوامی آبی معاہدات کی دھجیاں اڑاتے ہوئے کیے گئے اس عمل کو ماحولیاتی دہشت گردی سے کم نہیں کہا جا سکتا۔ بھارت کی یہ آبی یلغار نہ صرف فصلوں کو تباہ کر گئی بلکہ دیہی معیشت کی کمر بھی توڑ گئی۔

    ایسے ناگہانی حالات میں جہاں ریاستی مشینری اپنی تمام تر کوششوں کے باوجود متاثرین کی مکمل داد رسی کرنے سے قاصر دکھائی دی، وہیں افواج پاکستان کا متاثرہ اضلاع میں ریسکیو و ریلیف آپریشن جاری ہے،سیلاب متاثرین کو کشتیوں کے ذریعے محفوظ مقام پر منتقل کیا جا رہا ہے،کھانا تقسیم کیاجا رہا ہے،تو دوسری جانب پاکستان مرکزی مسلم لیگ نے اپنے رضاکاروں کے ذریعے ایک قابلِ تقلید مثال قائم کی۔ سیلاب کی تباہ کاریوں کے عین مرکز میں، امداد کے ہاتھ تھامے، یہ کارواں متاثرین کے لیے امید کی کرن بن کر ابھرا،مرکزی صدر خالد مسعود سندھو کی ہدایت پر نہ صرف پنجاب کے 25 متاثرہ اضلاع میں امدادی سرگرمیوں کو منظم کیا گیا بلکہ خیبر پختونخوا، گلگت بلتستان اور سندھ کے علاقوں میں بھی بھرپور ریلیف آپریشن جاری ہے۔لاہورموہلنوال کی خیمہ بستی، جہاں تین ہزار سے زائد متاثرین مقیم ہیں، وہاں مسلم ویمن لیگ کی سیکرٹری جنرل عفت سعید نے دورہ کر کے نہ صرف متاثرین سے ملاقات کی بلکہ خود کھانا تقسیم کیا۔ پکی پکائی خوراک کی فراہمی، بچوں کے لیے دودھ اور خشک راشن، خواتین کے لیے ملبوسات اور جوتوں کی تقسیم، سب کچھ ایک منظم نظم کے تحت جاری ہے۔

    لاہور، سیالکوٹ، ننکانہ، چنیوٹ، ٹوبہ ٹیک سنگھ، اوکاڑہ، قصور، فیصل آباد اور تاندلیانوالہ کے نواحی علاقوں میں جہاں پانی نے زندگی کو مفلوج کر دیا تھا، وہاں مرکزی مسلم لیگ کے کارکنان نے کشتیوں کے ذریعے خوراک، ادویات اور دیگر ضروریات زندگی متاثرین تک پہنچائیں۔ ڈپٹی کمشنر فیصل آباد اور پاک فوج کے افسران کی موجودگی میں متاثرہ دیہاتوں میں ریلیف کے مناظر جذبۂ خدمت کی سچی تصویر پیش کرتے ہیں۔سیلاب صرف انسانوں کا امتحان نہیں تھا، مال مویشی بھی اس افتاد کا شکار ہوئے۔ مرکزی مسلم لیگ کے شعبہ خدمت خلق نے متاثرہ علاقوں میں جانوروں کے لیے چارہ، سیلج اور دیگر خوراک کی تقسیم کو یقینی بنایا۔ شفیق الرحمان وڑائچ اور حمید الحسن گجر کی قیادت میں گنڈا سنگھ والا، تلوار چیک پوسٹ اور نواحی دیہات میں دو ہزار سے زائد جانوروں کے لیے خوراک پہنچائی گئی۔باجوڑ، بونیر، مینگورہ، صوابی، سوات اور شانگلہ میں مرکزی مسلم لیگ کی مقامی قیادت نے سینکڑوں بیوہ خواتین اور متاثرہ خاندانوں میں خشک راشن، بستر اور برتن تقسیم کیے۔ عبدالغفار منصور کی قیادت میں سوات کے ڈاگ میلہ گراؤنڈ میں گھر کا سامان بانٹا گیا، جو اس بات کی غمازی کرتا ہے کہ یہ مشن صرف وقتی ریلیف کا نہیں، بلکہ مکمل بحالی کا ہے۔

    مرکزی مسلم لیگ کا سیلاب زدہ علاقوں میں ریلیف آپریشن کسی سیاسی تشہیر کے بغیر، نہایت سادگی اور خدمت کے جذبے کے تحت جاری ہے۔ مرکزی ترجمان تابش قیوم نے قصور میں 22 سیلاب زدہ دیہاتوں کا دورہ کر کے نہ صرف کھانا تقسیم کیا بلکہ امدادی کاموں کا جائزہ لیتے ہوئے ان میں مزید بہتری کی ہدایت بھی جاری کی۔سیلاب ایک قدرتی آفت سہی، مگر اس کے اثرات انسانی کوتاہی، ناقص حکومتی منصوبہ بندی اور ہمسایہ ملک کی بدنیتی سے کہیں زیادہ گھمبیر ہو جاتے ہیں۔ ہمیں نہ صرف اپنی آبی پالیسی پر نظرثانی کرنی ہے بلکہ انسانی خدمت کو محض حکومتی فریضہ سمجھنے کے بجائے اجتماعی قومی ذمہ داری کے طور پر اپنانا ہوگا،مرکزی مسلم لیگ کی خدمات اس امر کا منہ بولتا ثبوت ہیں کہ جب نیت نیک ہو اور ارادے مضبوط، تو ایک سیاسی جماعت بھی بحران میں امید کا چراغ روشن کر سکتی ہے،مرکزی مسلم لیگ نے جس غیر معمولی انداز میں سیلاب متاثرین کی مدد کی، وہ ہماری قومی تاریخ میں ایک روشن مثال کے طور پر یاد رکھی جائے گی۔ اس وقت جب قوم کو یکجہتی، ہمدردی اور عملی خدمت کی اشد ضرورت ہے، ایسے اقدامات قوم کی اجتماعی روح کو بیدار کرنے میں ممد و معاون ثابت ہوں گے۔

  • پنجاب ڈوب رہا ہے،تحریر:سیدہ سعدیہ عنبرؔ الجیلانی

    پنجاب ڈوب رہا ہے،تحریر:سیدہ سعدیہ عنبرؔ الجیلانی

    پنجاب یعنی پانچ دلیر دریاؤں کی وسیع القلب سرزمین ۔۔۔ بہادر سپوتوں کی سرسبز و شاداب سرزمین جس کے پکی ہوئی فصلوں سے لہلہاتے میدان دریا برد ہو کر آج کسی سمندر کا منظر پیش کر رہے ہیں۔ آہ۔۔میرا پنجاب ڈوب رہا ہے!

    ہمارے دیس میں عجیب صورتحال ہے ۔ کہ ہم صرف "ڈھنگ ٹپاؤ” پالیسی پہ چلتے ہیں۔ پہلے سے نہ کوئی تیاری کی جاتی ہے۔ نہ ہی کوئی لائحہ عمل تیار کیا جاتا ہے۔ اور جب پانی سر سے گزرنے لگتا ہے۔ تو بھاگ ڈور شروع ہو جاتی ہے۔دنیا میں اس وقت تیزی سے موسمیاتی تبدیلیاں رونما ہو رہی ہیں۔ پاکستان تیزی سے موسمیاتی تبدیلیوں کے شکار ممالک کی فہرست میں اول درجہ بندی میں شامل ہے۔ امسال بھی پاکستان میں ریکارڈ ساز گرم ترین خشک موسم ء گرما رہا۔ اور جب مون سون کا سیزن شروع ہوا ہے۔ تو پچھلے تمام رکارڈ توڑ رہا ہے۔ PDMA کی اب تک کی رپورٹ کے مطابق پنجاب میں سال2025ء میں پچھلے سال کی نسبت 73٪ زیادہ مون سون کی بارشیں ہوئیں ہیں۔ جس سے پیاسے دریا یکدم بپھر گئے۔ اور پنجاب کو شدید ترین جانی و مالی نقصان کا سامنا ہے۔ پنجاب کو 39 سال بعد ایسی شدید ترین سیلابی صورتحال کا سامنا ہے۔ اب تک کی رپورٹ کے مطابق پنجاب کے قریباً 1800 سے زائد دیہات زیر آب ہیں۔ اور 15 لاکھ افراد متاثر و بے گھر ہو چکے ہیں۔ جو زرعی املاک و لائیو سٹاک کو نقصان پہنچا ہے ۔ اس کا تو ابھی کوئی اندازہ ہی نہیں لگایا جا سکتا۔ کھڑی فصلیں بہہ چکی ہیں۔ کسانوں کی محنت و جمع پونجی سیلاب کی نظر ہو چکی ہے۔ اور صورتحال مزید بدترین ہو رہی ہے۔ دریائے راوی ، ستلج اور چناب نے لاہور سے ملتان تک پورے پنجاب کو اپنی لپیٹ میں لے لیا۔اب صورتحال یہ ہے۔ کہ شہری علاقوں کو بچانے کے لئیے دریاؤں کے پل اور بند اڑائے جا رہے ہیں۔ جھنگ شہر کو بچانے کے لئیے دریائے چناب کا ریلوے بند اڑایا جا چکا ہے۔ چناب پہ ہی قادر آباد ہیڈ ورکس پل اور ریواز پل کو پانی کا دباؤ کم کرنے کے لئیے کنٹرولڈ بموں سے توڑا گیا ہے۔ ہر آبی گزرگاہ و دریا میں گنجائش سے زائد پانی نے تباہی مچا رکھی ہے۔ 1939 میں بنائے گئے تریموں میں 8 لاکھ کیوسک پانی کے ریلے کی گنجائش ہے۔ جبکہ 9 لاکھ کیوسک سے اوپر کا ریلہ متوقع ہے۔

    پہلے کے۔پی۔کے میں یکدم سیلابی صورتحال، اب پنجاب میں سیلاب کی تباہی مچی ہوئی ہے۔ اور اس کے بعد سندھ میں بھی خطرہ بڑھتا جا رہا ہے۔ حالیہ رپورٹس کے مطابق سندھ میں سیلاب سے 50 ہزار سے زائد خاندان متاثر ہونے کا خدشہ ہے۔سوال یہ پیدا ہوتا ہے۔ کہ آخر ایسا کیوں ہے۔ کہ جب زرعی پیداوار کے لئیے پانی کی ضرورت ہوتی ہے ۔ تو خشک سالی کی کیفیت کا سامنا کرنا پڑتا ہے۔ اور جب بارشیں ہوتی ہیں۔ تو سیلاب سب بہا لے جاتا ہے۔ ہر سال یہی پانی، سیلاب کی صورت تباہی مچا کر سمندر کی نذر ہو جاتا ہے۔ جبکہ درست حکمت ء عملی سے اسے زرعی و توانائی کی پیداوار کے لئیے استعمال میں لایا جا سکتا ہے۔

    مانا کہ آفات قدرتی ہوتی ہیں۔ مگر اپنے عمل کو بھی مدنظر رکھنا لازم ہے۔ یہاں اگر یہ کہا جائے کہ بھارت نے پانی جان بوجھ کے چھوڑا ۔ تو یہ ایک بے جا منطق ہو گی۔ کیونکہ دریاؤں کے قدرتی راستے ہوتے ہیں۔ انہی راستوں سے گزر کے اضافی پانی سمندر برد ہوتا ہے۔پنجاب میں سیلابی تباہی کی ایک بڑی وجہ آبی گزرگاہوں پہ تجاوزات بھی بنی ہیں۔ جو عام لوگوں نے نہیں بلکہ بڑے نام اس عمل میں شریک نظر آتے ہیں۔ سب سے پہلے تو دریاؤں کے کناروں پہ موجود جنگلات کو ختم کیا گیا۔ پھر دریائی کی زمین پہ ہی قبضہ کر کے بیچ دی گئی۔ دریا چند سال خشک کیا ہوئے۔ انہوں نے سمجھ لیا کہ بس اب یہ چھوٹے موٹے چھپڑ (جوہر) بن جائیں گے۔ سو اس کی زمین دل فریب ناموں کے ساتھ رہائشی سوسائٹیاں بنا کر اندھا دھن فروخت کرنی شروع کر دی ۔ یہاں تک کہ دریائی گزرگاہوں پہ باقاعدہ رہائشی آبادیاں بنا کر ایک طرح سے کنکریٹ کی دیواریں کھڑی کر دیں ۔ اس کی واضح مثال لاہور میں راوی کی زمین پہ بنائی گئی کالونیاں ہیں۔ مقام ء افسوس تو یہ ہے ۔ کہ ان سوسائٹیوں کے مالکان میں کئی سیاستدان اور حکومتی نام آتے ہیں۔ کوئی بھی حکومت اس عمل سے لاعلم نہ تھی، نہ ہے۔ چونکہ نام اپنے ہی نکلتے ہیں ۔ تو ہر حکومت خاموش ہے۔
    یہ لوگ یہ اصول بھول گئے ۔ کہ دریا اپنا راستہ نہیں بھولا کرتا۔ وہ واپس پلٹتا ہے۔ اور ایسا ہی ہوا۔ دریاوں نے اپنا حق واپس لے لیا۔ اور اب ان رہائشی سوسائٹیوں کے مالکان غائب ہیں۔ یا پھر ان سوسائٹیوں کو بچانے کے لئیے پانی کا رخ موڑا جا رہا ہے جس سے اس پاس کے گاؤں تباہ ہو رہے ہیں۔

    ناقص پالیسیوں کا المیہ یہ ہے ۔کہ ایک طرف ہر سال سیلاب کی تباہ کاریوں کا سامنا ہے ۔ تو دوسری طرف پاکستان کو پانی کی قلت کا شدید ترین خطرہ لاحق ہے ۔ یہاں تک کہ پاکستان کو 2030ء تک پانی کی قلت کا شکار ملک (واٹر اسیکئر اسٹیٹ) قرار دیئے جانے کا امکان ہے۔ ضرورت کے مطابق ڈیمز نہ ہونے کی وجہ سے پاکستان اپنی بارش کا صرف 10٪ حصہ محفوظ کر سکتا ہے۔ ماہرین کے مطابق اس وقت پاکستان میں پانی محفوظ کرنے کی گنجائش قریباً 30 دن ہے۔ جبکہ عالمی قوانین کے مطابق کسی ملک کے پاس کم از کم 120 دن کا پانی ذخیرہ ہونا چاہئیے۔
    پاکستان میں ذخیرہ شدہ پانی سالانہ دریا کے بہاؤ کا صرف 15% ہے، جو کہ عالمی اوسط 40% کے بالکل برعکس ہے۔ ماہرین کے مطابق اس وقت پاکستان کو 10 ڈیمز کی فوری ضرورت ہے۔ اگر یہ ڈیمز موجود ہوں۔ تو دریائی پانی کو بھی محفوظ کیا جا سکتا ہے۔ جسے زرعی و بجلی بنانے کے مقاصد میں استعمال کیا جا سکتا ہے۔ اور سیلابی تباہی سے بھی بچا جا سکتا ہے۔
    اس وقت 5 ڈیمز زیر ء تعمیر ہیں۔ نئے ڈیمز کی تعمیر میں تمام صوبوں کو پانی کی منصفانہ تقسیم پہ اعتماد میں لے کے فوری کام شروع کرنے کی ضرورت ہے۔ نیز دریا کی زمین پہ قائم تجاوزات کو ختم کیا جائے۔ اور جو اس ناجائز کام میں ملوث ہے ۔ اس کو کیفرِ کردار تک پہنچایا جائے۔یہ وقت سیاست اور مصلحت کا نہیں بلکہ عملی قدم اٹھانے کا ہے۔ اگر آج پانی بچانے اور سیلابی تباہی کو روکنے کے لئیے فیصلہ کن اقدام نہ اٹھائے۔ تو ملک خشک سالی میں پیاسا اور بارش میں ڈوبتا رہے گا۔ صورتحال کوئی بھی ہو پس غریب طبقہ جاتا ہے۔
    ؂
    محسن غریب لوگ بھی تنکوں کا ڈھیر ہیں
    ملبے میں دب گئے، کبھی پانی میں بہہ گئے!!

    اللہ رب العزت میرے وطن کے ہر باسی کی حفاظت فرمائے۔
    آمین.

  • تکمیل خواب ابھی باقی ہے. تحریر :عائشہ اسحاق

    تکمیل خواب ابھی باقی ہے. تحریر :عائشہ اسحاق

    یہاں ذکر کسی ایسے خواب کا نہیں جس میں کوئی عاشق اپنے محبوب کے دیدار کا طلبگار ہو بلکہ یہاں شاعر مشرق ڈاکٹر علامہ محمد اقبال کے اس عظیم خواب کے متعلق بات کی جا رہی ہے جو بظاہر مکمل ہونے کے باوجود بھی ادھورا ہے ہم آج تک یہی سنتے پڑھتے اور فخر انداز میں اپنی نسلوں کو بتاتے آ رہے ہیں کہ پاکستان کا خواب علامہ اقبال نے دیکھا اور قائد اعظم کی ان تک کوششوں نے اسے تعبیری شکل دی بلاشبہ یہ بات کسی حد تک درست بھی ہے لیکن ہم اس حقیقت کو فراموش کر بیٹھے ہیں کہ خواب اقبال کا مقصد کیا تھا؟ اس میں چھپا راز کیا تھا؟علامہ اقبال کے خواب کا مقصد محض ایک زمین کا ٹکڑا حاصل کرنا نہ تھا بلکہ ایک ایسی ازادانہ ریاست کا حصول تھا جو مسلمانوں کے تابناک مستقبل کی ضمانت اور امن کا گہوارہ تھی چونکہ اس وقت مسلمان نہایت پسماندہ زندگی گزارنے پر مجبور اور ظلمت کی تاریکیوں میں ڈوبے ہوئے تھے، لہذا شاعر مشرق نے اپنی پرایمان شاعری کلام اور تصانیف کی بدولت مسلمانوں میں جذبہ ایمانی اور بیداری کی نئی روح پھونکی۔

    قائد اعظم نے بھی جب مسلمانوں کو تمام بنیادی حقوق سے محروم اور غلامانہ زندگی گزارتے دیکھا تو ان کے لیے الگ وطن حاصل کرنے کا مطالبہ کیا شاعر مشرق کی شاعری مسلمانوں میں جوش ولولہ پیدا کرنے میں اتش فشاں ثابت ہوئی قائد اعظم کے دن رات کی محنت انکن اور سینکڑوں قربانیوں کے بعد بالاخر الگ وطن حاصل کرنے میں کامیابی ملی جو بلاشبہ تاریخ میں لکھی جانے والی مسلمانوں کی عظیم فتح ثابت ہوئی۔مگر وقت کا پہیہ چلا دشمنوں نے دم سادنا شروع کیا اور نئی سازشیں پنپنے لگیں ریاست پاکستان سے کچھ ضمیر فروشوں نے دشمنوں کے ہاتھوں محض چند روپوں کی خاطر اپنے ایمان بیچ ڈالے اور صرف اپنے ذاتی مفاد کی خاطر دشمنوں کی غلامی قبول کر لی یہی ضمیر فروش پاکستان کے روشن مستقبل کے لیے گرہن ثابت ہوئے اور نتیجہ تن مسلمان الگ آزاد وطن حاصل کرنے کے باوجود بھی اسی ذلت غلامی گمراہی اور بدحالی کے اندھے کنویں میں جا گرے جس سے چھٹکارا حاصل کیا تھا۔وہ ریاست جہاں اقبال کی شاہینوں نے فلک تک اڑان بھرنی تھی اپنی خودی کو پہچاننا تھا اپنی تخلیقی صلاحیتوں سے پوری دنیا میں لوہا منوانا تھا کائنات کو مسخر کرنا تھا اور ترقی کی نئی نئی منزلیں طے کرنی تھیں اسی ریاست میں اقبال کے شاہینوں کے پر نوچ لیے گئے ان کی ذہانت وہ بصارت کی تیزی پر سیاہ پٹی باندھ دی گئی اور وہی غلامانہ شکنجے میں جکڑ دیا گیا اور گمراہی کے اندھیرے راستوں پر بھٹکا دیا گیا کہ انہیں اپنی تباہی کا احساس تک بھی نہیں ہونے دیا جا رہا ہے، ترقی کی منزلیں طے کرنا تو دور کی بات ہے مفلوج نظام کی دلدل میں پھنسے ہوئے لوگ آے راشن کے حصول کے لیے لمبی قطاروں میں گھنٹوں کھڑے رہنے کے بعد ایک تھیلا آٹا حاصل کر لینا ہی اپنے لیے کامیابی سمجھتے ہیں بے نظیر انکم سپورٹ احساس پروگرام اور دیگر خیراتی فنڈز کے حصول کے لیے یونین کونسل کے متعدد چکر لگانا اور کچھ ہزار روپے حاصل کر لینا بھی آج کے مسلمانوں کی جیت ہے جبکہ نوبت یہاں تک پہنچ چکی ہے کہ غریب عوام ان کے حصول کے لیے ابھی نہیں جانتا اوپر لگا رہے ہیں جیسا کہ میرپور میں آے کا تھیلا حاصل کرنے کے لیے ایک شخص اپنی جان سے ہاتھوں بیٹھا اور یہ واقعہ پر نوعیت کا پہلا واقعہ نہیں بلکہ ایسے کی افسوسناک واقعات رونما ہو چکے ہیں کہیں کوئی خاتون اور کہیں کوئی بچہ محض آے کا تھیلا راشن یا چند خیراتی روپیہ حاصل کرنے کی غرض سے اپنی جان سے ہاتھ دھو بیٹھتے ہیں جو پسماندگی کی انتہا ہے صبح سے شام تک لمبی لمبی قطاروں میں لگے رہنا اور دھکے کھانے کی جو اذیت اور خواری ہے اس کا تو پوچھیے ہی مت۔

    بات یہاں ختم نہیں ہوتی اقبال کے شاہین اعلی تعلیمی ڈگریاں حاصل کرنے کے بعد بھی اسی خواری کا سامنا کرتے ہیں جو آٹے راشن کے حصول کے لیے کیا جاتا ہے کسی ملازمت کے حصول کے لیے فارم بھرنے سے شروع ہونے والا سفر انٹرویو کے لیے کئی گھنٹے انتظار اور متعدد ٹیسٹوں سے گزرنے کے بعد ناکامی پر اختتام پذیر ہوتا ہے کیونکہ اعلی ملازمتوں کا کوٹا آتے ہی بااثر لوگوں کے عزیزوں اور رشتہ داروں یا چیلے چمچوں کی ملکیت بن چکا ہوتا ہے۔اس کی وجہ سے باصلاحیت پڑھے لکھے نوجوان رکشہ چلانے ریڈی ٹھیلے لگا کر اپنا پیٹ پالنے کے علاوہ کسی ادارے میں چپڑاسی یا چوکیدار بننے پر مجبور ہے غربت بے روزگاری بھوک اور فلاس کا عالم یہ ہے کہ اکثریت لاشعوری اور گمراہی کے راستوں پر چلتے ہوئے سٹریٹ کرائمرز بن چکے ہیں اور انہیں بھٹکے ہوئے لوگوں کا بھرپور استعمال بڑے بڑے گینگز کے سرغنے منشیات فروش اور اثر و رسوخ رکھنے والے لوگ بخوبی کر رہے ہیں۔بے بس اور مجبور لوگ اپنے اور اپنے بچوں کی بہتر مستقبل کی خاطر اور حصول پیسہ کی خاطر غیر قانونی طور پر ڈنکی لگا کر یورپ جانے کو ترجیح دے رہے ہیں یہ وہ مجبور طبقہ ہے جو انسانی سمگلنگ کرنے والے گروہوں کے ہاتھ چڑھ کر اپنی جا نوں کو سمندر کی بے رحم موجوں کے حوالے کر رہا ہے حالیہ پیش انے والے تارکین وطن کی کشتیاں ڈوبنے والے واقعات میں زیادہ تر تعداد پاکستانیوں کی ہی پائی جا رہی ہے جو نہایت افسوسناک ہے۔اس کے علاوہ غربت کے مارے لوگ زہریلی گولیاں کھا کرنے پنکھے سے جھول کر نہروں میں کود کر اپنی زندگیوں کے چراغ گل کر رہے ہیں۔یہ ہے آزاد خود مختار ریاست کے مسلمانوں اور اقبال کے شاہینوں کی بدحالی کی داستان جسے پڑھ کر ہم کہہ سکتے ہیں کہ اقبال کا خواب ظاہر مکمل ہو کر بھی ادھورا ہے اور تکمیل خواب ابھی باقی ہے۔مزید لمحہ فکر یہ بھی ہے کہ جس طرح حکومت پاکستان سکولوں اور ہسپتالوں کی نجکاری کر رہی ہے اس سے پیدا ہونے والے مسائل عام عوام کے لیے نہایت خطرناک ثابت ہوں گے غریب عوام صحت کے سہولیات جو پہلے بھی نہ ہونے کے برابر ہیں ان سے بھی محروم ہو جائیں گے اور سکولوں کے پرائیویٹ ہونے سے شرع نا خواندگی میں خوفناک حد تک اضافہ ہونے کا امکان ہے یہ وہ دلدل ہے جس سے اپ عوام کا نکلنا نہایت مشکل ہو جائے گا تعلیم اور صحت جیسی بنیادی سہولیات سے محروم کر کے جہالت کے وہی اندھیرے میں دھکیلنے کی سازش جڑ پکڑ چکی ہے۔

    پہلے ہی دشمن ضمیر فروشوں اور مفاد پرست غدار وطن ٹولے کی بدولت عوام کے ذہنوں اور ان کی سوچ کو قبضے میں لے چکے ہیں۔بے نظیر انکم سپورٹ کارڈ ،آٹے کی قطاروں میں مفت راشن کے لیے سالوں سے ذلیل ہونے والی قوم یہ سوچنے سے قاصر ہے کہ آزادی ہی اصل زندگی ہے ابھی بھی وقت ہے ہمیں اپنے اور اپنی نسلوں کی بقا اور بہتر مستقبل کی خاطر متحد ہونا ہوگا ذرا سوچنے کی بات ہے جو لوگ غربت اور حالات سے تنگ آکر خودکشی کرنے اور حرام موت کو گلے لگانا قبول کر لیتے ہیں ،ڈنکی لگا کر سمندروں کی گہری تاریکی میں ڈوبنا گوارا کر لیتے ہیں، وہ لوگ اپنے حقوق کی خاطر کیوں نہیں متحدر ہو کر ظالموں کے خلاف کھڑے ہوتے یہ ذہنی غلامی ہے۔اس کی اصل وجہ وہ خوف ہے جس کی دھاک ایک مخصوص طبقے نے عام عوام کے دلوں پر بٹھا دی ہے۔اس کے علاوہ مایوسی اور دین سے دوری بھی اس کی ایک بڑی وجہ ہے جبکہ اللہ واضح طور پر قران میں ہمیں مایوس ہونے سے منع فرماتا ہے۔یہ ظلم کے اندھیرے پھر سے چھٹ سکتے ہیں ذرا ہمت دکھانے کی دیر ہے مگر بات ہمیشہ کی طرح یہی اہم ہے کہ اس سب اقدامات کے لیے ہمارا متحد ہونا پہلی شرط ہے خدارا اقبال کے فلسفے کو سمجھیں اپنے اندر ایمان کا جذبہ پیدا کریں اور ان ظالموں کے ظلم سے چھٹکا رہا حاصل کریں اقبال کے خواب کی تکمیل ہم پر لازم ہے ۔جس دن شاعر مشرق کے شاہینوں نے اپنی اصل طاقت کو پہچانا اپنے ایمان کو زندہ کیا یہ وقت کے فرعون نست و نابود ہو جائیں گے تاریخ گواہ ہے کہ باطل مٹ کر رہتا ہے بس جذبہ ایمانی چاہیے اج بھی ظلمت کے گہرے سیاہ بادلوں کے پیچھے وسیع صاف و شفاف کھلا اسمان اور اجلی صبح ہماری منتظر ہے۔

  • خدمت خلق کے یہ جوان اور ہمارا فرض،تحریر: سعد فاروق

    خدمت خلق کے یہ جوان اور ہمارا فرض،تحریر: سعد فاروق

    پاکستان میں قدرتی آفات اور دیگر بحرانوں کے دوران، جب بھی ہمیں مدد کی ضرورت ہوتی ہے، تو کچھ لوگ ہمیشہ میدان میں آ کر اس کا حل بن جاتے ہیں۔ یہی وہ افراد ہیں جو اپنی ذاتی اور جماعتی حیثیت سے ہٹ کر عوام کی خدمت کرتے ہیں۔ پاکستان مرکزی مسلم لیگ کے خدمت خلق ونگ کے جوانوں کا کردار ایسے وقت میں خاص طور پر نمایاں ہوتا ہے، جب حکومتی ادارے اپنی ذمہ داریوں کو پوری طرح سے نبھانے میں ناکام ہو جاتے ہیں، یا جب حکومتی ادارے آپس میں لڑتے ہیں اور سیاسی مفادات میں الجھتے ہیں۔ ان جوانوں نے متاثرہ علاقوں میں ریلیف، ریسکیو اور آبادکاری کے کاموں میں اہم کردار ادا کیا۔ یہ جوان اپنی جان کو خطرے میں ڈال کر گلگت بلتستان، آزاد کشمیر اور خیبر پختونخواہ جیسے علاقوں میں پہنچتے ہیں، جہاں ان کے دفاتر پناہ گاہوں میں بدل جاتے ہیں، اور عوامی مسائل کے حل میں مصروف ہو جاتے ہیں۔

    ان رضاکاروں کا جذبہ ہمیشہ سے ہی جرات مندانہ رہا ہے۔ ان کا مقصد عوامی خدمات کو بے لوث انداز میں فراہم کرنا اور عوام کے دلوں میں محبت اور احترام پیدا کرنا ہوتا ہے۔ ان کے لیے حکومت یا جماعتوں کا سیاسی مفاد کوئی حیثیت نہیں رکھتا، بلکہ ان کی ترجیح صرف عوام کی خدمت ہوتی ہے۔ ان کی محنت کا کوئی لامتناہی تعارف نہیں، ان کی نظر میں انسانیت کا درد ہی ان کا نصب العین ہوتا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ یہ افراد ہر بحران میں اپنے عمل سے سرخرو ہوتے ہیں۔

    ان کی مدد سے متاثرہ افراد کو نہ صرف فوری ریلیف ملا، بلکہ ان کے لیے پناہ گاہوں کا انتظام بھی کیا گیا۔ ان کے دفاتر اس وقت عوامی پناہ گاہ بن گئے، جہاں لوگوں کو راحت اور سکون ملا۔ یہ رضاکار ایک ایسے وقت میں لوگوں کے لیے سایہ بن گئے جب حکومتیں ایک دوسرے پر الزامات لگا رہی تھیں، اور لوگ مختلف سیاسی دعووں کا شکار ہو رہے تھے۔ ان رضاکاروں نے اپنے عمل سے ثابت کیا کہ اصل خدمت کیا ہوتی ہے۔

    مزکزی مسلم لیگ کے نوجوانوں نے بتلا دیا کہ ہر انسان کو اپنی ذمہ داریوں کا شعور ہونا چاہیے اور ہمیں اپنے ہم وطنوں کی مدد کے لیے ہر ممکن کوشش کرنی چاہیے۔ ہمیں ان کے نقش قدم پر چلتے ہوئے ان کی مدد کرنی چاہیے، خاص طور پر ایسے وقت میں جب وہ سب کچھ کھو چکے ہوتے ہیں۔ یہ رضاکار اس بات کی مثال ہیں کہ ہم کس طرح اپنے قومی فریضے کو ادا کرتے ہیں اور دوسروں کے لیے ایک بہتر زندگی کے مواقع فراہم کرتے ہیں۔

    ہمارا فرض بنتا ہے کہ ہم ان کے ساتھ مل کر مصیبت زدہ اپنے بہن بھائیوں کی مدد کریں اور ان کے یتیم بچوں کے سر پر شفقت کا ہاتھ رکھیں۔ ان کی دعاؤں کے مستحق بنیں، اور ان کے دکھوں میں شریک ہوں۔ خدمت کی سیاست ہمیں بتاتی ہیں کہ سیاست یا حکومت سے زیادہ اہم ہماری انسانیت اور اجتماعی ذمہ داری ہے۔

  • مشکل کی گھڑی میں، مرکزی مسلم لیگ کھڑی ہے.تحریر:اعجازالحق عثمانی

    مشکل کی گھڑی میں، مرکزی مسلم لیگ کھڑی ہے.تحریر:اعجازالحق عثمانی

    حالیہ موسمیاتی تبدیلیوں کی زد میں خیبرپختونخوا کے کئی علاقوں میں چاروں طرف پانی ہی پانی ہے۔ مگر زندگی کا محافظ یہ پانی، خیبر کے لوگوں کےلیے زندگی کا سب سے بڑا دشمن ثابت ہو رہا ہے۔ خوبصورت و دلنشیں گھاٹیاں اس وقت غم اور پانی دونوں میں ڈوبی ہوئی ہیں۔ بارش کا زور ایسا تھا کہ پہاڑ جیسے لرز کر مٹی مٹی ہوگئے۔ لمحوں میں بستیاں اجڑ گئیں۔ وہ گھر جو کسی مزدور نے کئی برسوں میں چاہت و محبت اور خون پسینے کی کمائی سے بنایا تھا۔ لمحوں میں مٹی کا ڈھیر بن گیا۔کہیں مائیں جگر گوشوں کو ڈھونڈ رہی ہیں، تو کہیں دُودھ پیتا بچہ ماں سے زیادہ بھوک سے تڑپ رہا ہے۔ کوئی پیٹ بھرنے کی تگ و دو میں پانی کے پیٹ میں جا گرا ہے، تو کوئی زخمی ماں کےلیے دوا دارو لینے گیا، لاش بن کر لوٹا ہوگا۔
    یہ قدرتی آفات ہمیشہ ہمارے ظرف کا امتحان لیتی ہیں۔ حکومتیں حرکت میں آئیں، فوج نے ہیلی کاپٹروں سے لوگوں کو محفوظ مقامات تک پہنچایا، ریسکیو 1122 کے جوانوں نے اپنی جانیں خطرے میں ڈال کر زندگیاں بچائیں، اور پاک فوج نے ایک دن کی تنخواہ اور سیکڑوں ٹن راشن عطیہ کیا، میڈیکل کیمپ لگے، مگر ایسے وقتوں می ریاستی اداروں کے ساتھ ساتھ درد دل والوں کی بھی ضرورت ہوتی ہے۔

    مجھے خوشی سے زیادہ حیرت ہوئی،جب پاکستان مرکزی مسلم لیگ کو اس کڑی آزمائش میں سرگرداں پایا۔ اس جماعت کا نام برسوں سے سن رکھا تھا، مگر چند ماہ قبل ایک نیوز چینل کے دفتر میں پاکستان مرکزی مسلم لیگ کے ترجمان تابش قیوم صاحب سے ایک ملاقات ہوئی، تو مرکزی مسلم لیگ کے بارے مزید جاننے کا تجسس ہوا۔ ڈیجیٹل ریسورسز سے معلومات نے اس جماعت کا ایک اور رخ میرے سامنے کھول دیا کہ یہ صرف سیاسی جماعت نہیں بلکہ ایک فلاحی قافلہ ہے، جو مشکل وقت میں خاموش تماشائی نہیں بنتا۔ آج جب خیبر پختونخوا کے لوگ مشکل سے دو چار ہیں،تو پاکستان مرکزی مسلم لیگ اپنی اعلیٰ قیادت کے ہمراہ آن گراؤنڈ مدد کےلیے دن رات ایک کیے ہوئے ہے۔مینگورہ کا آدھا شہر جب پانی میں ڈوبا تو کئی کئی فٹ پانی گھروں اور دکانوں میں داخل ہو گیا۔ لوگ کھلے آسمان تلے یا چھتوں پر پناہ لینے پر مجبور تھے۔ ایسے میں مرکزی مسلم لیگ کی امدادی ٹیمیں وہاں لوگوں کو کھانا اور طبی امداد فراہم کرنے جا پہنچیں۔ بونیر، سوات، شانگلہ اور باجوڑ تک امدادی کیمپ پھیل چکے ہیں۔ بطور سوشل میڈیا ایکٹوسٹ محمد عبداللہ کی فیس بک وال، کئی برسوں سے سامنے آرہی ہے۔ یہ نوجوان آج کل مرکزی مسلم لیگ خیبرپختونخوا کا ترجمان ہے، ان کی وال پر مرکزی مسلم لیگ کی خواتین اور بچیوں کو فلاحی کاموں میں مصروف دیکھ کر حیرت و خوشی ہوئی۔ سینکڑوں نوجوان دن رات ملبہ صاف کرتے، راشن بانٹتے، گھروں سے کیچڑ نکالتے دکھائی دیے۔ ان کے پاس سیاسی نعرے نہیں تھے، بلکہ آنکھوں میں خدمت کا جذبہ تھا۔حیرت زدہ ہوں کہ نوجوان کس طرح رب کی رضا کے لیے دن رات کام کر رہے ہیں۔ وہ ہاتھ جو کل شاید موبائل پر سوشل میڈیا چلا رہے تھے، آج وہی ہاتھ آج ملبے صاف کر رہےہیں۔ وہ پاؤں جو کل کسی ریلی میں شریک تھے، آج سیلابی پانی میں گھٹنوں تک دھنسے دکھائی دیتے ہیں۔ شکریہ پاکستان مرکزی مسلم لیگ، مگر اب ہمیں ان موسمیاتی تبدیلیوں سے نمٹنے کےلئے سنجیدہ رویہ اپنانا ہوگا،ورنہ روز میرے ملک کا کوئی نہ کوئی حصہ ڈوبتا، اور مرتا رہے گا۔