Baaghi TV

Category: معاشرہ و ثقافت

  • ڈاکٹر اور انجینئر ہی کیوں۔۔۔؟  تحریر:آصف گوہر

    ڈاکٹر اور انجینئر ہی کیوں۔۔۔؟ تحریر:آصف گوہر

    عَلَّمَ ٱلۡإِنسَٰنَ مَا لَمۡ يَعۡلَمۡ°

    "جس (اللہ) نے انسان کو وه سکھایا جسے وه نہیں جانتا تھا.”

    سورة علق 5

    ہر وہ معلومات جس سے انسان واقف نہ ہو وہ علم کے زمرے میں آتی ہے ۔

    تخلیق آدم علیہ السلام پر جب فرشتوں نے اللہ سبحان و تعالی سے سوال کیا تو آدم علیہ السلام نے اللہ سبحان و تعالی کی طرف سے سیکھائے ہوئے چیزوں کےنام فرشتوں کے سامنے بتائے یوں انسان کی فضیلت قدر ومنزلت علم ہی کی بدولت ثابت ہوئی اور یہاں سے ہمیں معلوم ہوتا ہے کہ تخلیق انسان کی سب سے بڑی وجہ علم کا حصول ہی ہے۔۔

    دینی دنیاوی علم و فنون کی لا تعداد اقسام اور جہتیں ہیں انسان اپنے میلان اور رجحان کے مطابق جیسا علم اور ہنر چاہے سیکھ سکتا ہے 

    ہمارے ہاں جب اللہ سبحان و تعالی کسی کو اولاد کی نعمت سے نوازتا ہے تو ابھی بچہ ماں کی گود میں ہی ہوتا ہے کہ والدین اپنا ذہن بنا لیتے ہیں کہ ہمارا بیٹا یا بیٹی بڑی ہو کر ڈاکٹر یا انجینئر بنے گا ۔اس سے آگے دیگر پیشوں کا نا تو والدین نام لیتے ہیں اور نہ ہی اس کے لئے اپنے بچوں کی پرورش اور تربیت کی جاتی ہے ۔بچے کے سکول جانے کے پہلے روز سے میٹرک تک ڈاکٹر اور انجینئر بنے گا کی گردان جاری رہتی ہے ۔

    میٹرک امتحان کے نتائج آتے ہی کالج میں انٹرمیڈیٹ کی سطح کی تعلیم کے لئے کالجز میں  داخلےکے بعد میڈیکل اور انجینئرنگ میں سے والدین ایک کا انتخاب کرلیتے ہیں ۔اور اپنی بساط کے مطابق اپنے بچوں کی تعلیم پر خوب پیسہ خرچ کرتے ہیں اور کارفرما مقصد ایک ہی ہوتا ہے کہ ہمارا بچہ ڈاکٹر یا انجینئر بنے گا ۔

    انٹرمیڈیٹ کا لاکھوں طلباء امتحان دیتے اور لاکھوں کی تعداد میں اے گریڈ لے کر اعلی نمبروں کے ساتھ کامیاب ہو جاتے ہیں اور ہر کسی کی کوشش اور خواہش ہوتی ہے کہ میڈیکل کالج یا یونیورسٹی میں داخلہ مل جائے ۔امتحان میں نمایاں درجے کامیابی کے بعد بھی طلباء کا امتحان اور والدین کی آزمائش ختم نہیں ہوتی میڈیکل اور انجینئرنگ میں داخلے کے لئے پرائیویٹ اکیڈمیز میں بھاری فیسیں ادا کرکے انٹرمیڈیٹ میں پڑھے گئے سلیبس کو دوبارہ پڑھنا پڑھتا ہے ۔

    حالانکہ ہونا تو یہ چاہیے تھا کہ انٹرمیڈیٹ بورڈز کے نتائج پر میرٹ بنتا اور میرٹ پر پورا اترنے والے طلباء کو میڈیکل اور انجینئرنگ کے تعلیمی اداروں میں داخلہ مہیا کیا جاتا لیکن والدین کی کثیر تعداد میں ڈاکٹر اور انجینئر 

     ۔بنانے کی خواہش نے وہ چن چڑھا دیا ہوتا ہے کہ ہمارے ملک میں اتنے میڈیکل کالجز اور انجینئرنگ یونیورسٹیاں ہی نہیں جتنے طلباء ہر سال ان میں داخلے کی جدوجہد کرکے انٹرمیڈیٹ میں کامیاب ہوجاتے ہیں ۔

    اس صورتحال کا سابقہ پنجاب حکومت نے یہ حل نکالا کہ انٹری ٹیسٹ کا نظام وضع کیا جس سے لاکھوں طلباء کو میرٹ کے نام پر انٹری ٹیسٹ کی چھری سے ذبح کیا جاتا ہے۔

    انٹری ٹیسٹ میں بہت سارے طلباء مطلوبہ نمبرز حاصل نہیں کرپاتے کیوں کہ نشستوں کی کمی کی وجہ سے مقابلہ اور میرٹ بہت سخت بنایا جاتا ہے ایک ایک آدھے آدھے نمبر بلکہ پوائنٹس پر فیصلہ ہوتا ہے۔

    خوش قسمت طلباء کو پنجاب کے بھر کی میڈیکل اور انجینئرنگ یونیورسٹیوں میں داخلہ مل جاتا ہے اور مطلوبہ نمبرز حاصل نہ کر سکنے والے طلباء کو ذہنی طور پرشدید صدمہ اور جھٹکا لگتا ہے طلباء اور والدین سوچتے ہیں کہ ہمارے پچھلے تعلیم کے لئے لگائے گئے 12 سال اور مالی وسائل ضائع گئے ۔پھر کچھ والدین اپنے بچوں کو ڈاکٹر اور انجینئر بنانے کی خواہش جو کہ ضد کی شکل اختیار کر چکی ہوتی ہے اس کو ملی جامہ پہنانے کے لئے   

     لاکھوں روپے سالانہ پرائیویٹ کالجز اور یونیورسٹیوں کو  ادا کرتے ہیں اور کچھ والدین دل پر پتھر رکھ کر بچوں کو ڈاکٹر اور انجینئر بنانے کے لئے چائنہ ملائشیا اور دیگر ممالک میں بھیج دیتے ہیں اس کے لئے چاہئے کوئی قیمتی اثاثہ بیچنا پڑے یا کسی سے قرض لینا پڑے ۔

    پنجاب میں مسلم لیگ ن کا عرصہ حکومت دیگر سیاسی جماعتوں کے مقابلے میں سب سے زیادہ ہے لیکن انہوں نے ملک میں اعلی تعلیمی اداروں کا جھال بچھانے کی بجائے سیاسی فائدہ کے لئے لاہوراور دیگر چند بڑے شہروں میں سڑکیں اور پل بنائے اور مسلسل حکومتی امداد پر چلنےاور ملکی خزانے پر بوجھ بننے والے میٹرو بس سروس اور اورنج لائن ٹرین جیسے ناکام اور سفید ہاتھی کھڑے کرنے کے علاوہ صوبہ میں ایک بھی نیا میڈیکل کالج یا یونیورسٹی نہیں بنائی۔

    اب اس گرداب سے نکلنے کے لئے ضرورت اس امر کی ہے کہ والدین انٹری ٹیسٹ میں ناکامی کا سامنا کرنے کے بعد والے فیصلے پہلے کر لیں اور ڈاکٹر انجینئر بننےوالی  محدود سوچ کو تبدیل کریں سکولنگ کی عمر میں نہ خود خواب دیکھیں اور نہ اپنے خوابوں کو بچوں پر مسلط کریں ۔بچے کی تعلیمی نتائج اور رجحانات کو دیکھتے ہوئے اساتذہ سے مشاورت اور طلباء کی اپنی دلچسپی پوچھ کر ان کی اعلی تعلیم کے شعبے کا انتخاب کریں۔ 

     ٹیچنگ باییو انجینئرنگ سول ملٹری سروسز ای کامرس ویب ڈویلپینگ کونٹینٹ رائٹینگ فوٹو گرافی ایگری ٹیکنالوجسٹ بزنس ایڈمنسٹریشن الغرص ان گننت شعبہ ہائے زندگی میں سے کسی ایک کا انتخاب کریں اور

    صرف ڈاکٹر اور انجینئر کی رٹ لگانا چھوڑ کر مسلسل اذیت میں مبتلا ربنے سے خود بھی محفوظ رہیں اور اپنے بچوں کو بھی نجات دلائیں ۔

    @EducarePak

  • بہنیں منحوس نہیں ہوتیں   تحریر ممتازعباس شگری

    بہنیں منحوس نہیں ہوتیں   تحریر ممتازعباس شگری

     بہن کی شادی کو 6 سال ہو گئے ہیں میں کبھی اس کے گھر نہیں گیا عیدکی شب ابو یا امی جاتے ہیں میری بیوی ایک دن مجھ سے کہنے لگی آپ کی بہن جب بھی آتی ہے اس کے بچے گھر کا حال بگاڑ کر رکھ دیتے ہیں خرچ ڈبل ہو جاتا ہے اور تمہاری ماں ہم سے چھپ چھپا کر کبھی اس کو صابن کی پیٹی دیتی ہے کبھی کپڑے،کبھی صرف کے ڈبے اور کبھی کبھی تو چاول کا تھیلا بھر دیتی ہے اپنی ماں کو بولو یہ ہمارا گھر ہے کوئی خیرات سینٹر نہیں مجھے بہت غصہ آیا میں مشکل سے خرچ پورا کر رہا ہوں اور ماں سب کچھ بہن کو دے دیتی ہے بہن ایک دن گھر آئی ہوئی تھی اس کے بیٹے نے ٹی وی کا ریموٹ توڑ دیا میں ماں سے غصے میں کہہ دیاماں بہن کو بولو یہاں عید پہ آیا کرے بس اور یہ جو آپ صابن صرف اور چاول کا تھیلا بھر کر دیتی ہیں نا اس کو بند کردیں۔ماں چپ رہی لیکن بہن نے ساری باتیں سن لی تھیں میری بہن کچھ نہ بولی 

    4 بج رہے تھے اپنے بچوں کو تیار کیا اور کہنے لگی بھائی مجھے بس سٹاپ تک چھوڑ آو میں نے جھوٹے منہ کہا رہ لیتی کچھ دن لیکن وہ مسکراکربولی نہیں بھائی بچوں کی چھٹیاں ختم ہونے والی ہیں۔وقت گزرتاگیاجب ہم دونوں بھائیوں میں زمین کا بٹوارا  ہو رہا تھا تو میں نے صاف انکار کیا بھائی میں اپنی زمین سے بہن کو حصہ نہیں دوں گا بہن سامنے بیٹھی تھی وہ خاموش تھی کچھ نہ بولی ماں نے کہا بیٹی کا بھی حق بنتا ہے لیکن میں نے گالی دے کر کہا کچھ بھی ہو جائے میں بہن کو حصہ نہیں دوں گا میری بیوی بھی بہن کو برا بھلا کہنے لگی وہ بیچاری خاموش تھی۔بڑابھائی علحیدہ ہوگیا کچھ وقت کے بعد میرے بڑے بیٹے کو ٹی بی ہو گئی میرے پاس اس کا علاج کروانے کے پیسے نہیں تھابہت پریشان تھا میں نے لاکھ روپیہ قرض بھی لے لیا تھا بھوک سر پہ تھی میں حالات سے بہت پریشان کمرے میں اکیلا بیٹھا شاید رو رہا تھا،اس وقت وہی بہن گھر آگئی میں نے غصے سے بولا اب یہ آ گئی ہے منحو س میں نے بیوی کو کہا کچھ بہن کے لئے کچھ تیارکرو،بیوی میرے پاس آکربولی اس کیلئے گوشت یابریانی پکانے کی کوئی ضرورت نہیں،پھر ایک گھنٹے بعد وہ میرے پاس آئی بھائی پریشان ہو بہن نے میرے سر پہ ہاتھ پھیرا بڑی بہن ہوں تمہاری گود میں کھیلتے رہے ہو اب دیکھو مجھ سے بھی بڑے لگتے ہو پھر میرے قریب ہوئی اپنے پرس سے سونے کے کنگن نکالے میرے ہاتھ میں رکھے آہستہ سے بولی پاگل تواویں پریشان ہوتا ہے بچے اسکول میں تھے سوچا دوڑتے دوڑتے بھائی سے مل آؤں۔ یہ کنگن بیچ کر اپنا خرچہ کر بیٹے کا علاج کروا۔شکل تو دیکھ ذرا کیا حالت بنا رکھی تم نے۔میں خاموش تھا بہن کی طرف دیکھے جا رہا تھا وہ آہستہ سے بولی کسی کو نہ بتانا کنگن کے بارے میں تم کو میری قسم ہے میرے ماتھے پہ بوسہ کیا اور ایک ہزار روپیہ مجھے دیا جو سو پچاس کے نوٹ تھے شاید اس کی جمع پونجی تھی میری جیب میں ڈال کر بولی بچوں کو گوشت لا دیناپریشان نہ ہوا کر، جلدی سے اپنا ہاتھ میرے سر پہ رکھا کربولی دیکھو اتنے بال سفید ہو گئے وہ جلدی سے جانے لگی میری نظراس کے پیروں کی طرف  پڑی ٹوٹی ہوئی جوتی پہنی تھی پرانا سا دوپٹہ اوڑھا ہوا تھا جب بھی آتی تھی وہی دوپٹہ اوڑھ کر آتی تھی،میں بہن کی اس محبت میں مر گیا تھا ہم بھائی کتنے مطلب پرست ہوتے ہیں بہنوں کو پل بھر میں بیگانہ کر دیتے ہیں اور بہنیں بھائیوں کا ذرا سا دکھ برداشت نہیں کر سکتیں وہ ہاتھ میں کنگن پکڑے زور زور سے رو رہا تھااس کے ساتھ میری آنکھیں بھی نم تھیں کچھ لمحے بہنوں کے پاس بیٹھ کر حال پوچھ لیا کریں شاید کے ان کے چہرے پہ کچھ لمحوں کے لیے سکون آ جائے۔بہنیں ماں کا روپ ہوتی ہیں یہ کہتے ہوئے اس نے جیب سے رومال نکال کرآنسوصاف کیا۔یہ کہانی ہمارے موجودہ معاشرے کی عکاسی ہے۔آپ آگے بڑھنے سے پہلے ایک اورکہانی بھی پڑھ لیں۔

     اختری بیگم کاتعلق خانیوال کے گاوں مخدوم پورسے ہے،یہ سات اپریل کی صبح اپنے ولدین کی زمین پرقبضہ لینے پہنچیں جوعدالتی حکم کیمطابق ان کے حصے میں آیاتھا،لیکن وہ وہاں سے اپنے پاؤں پرچل کرواپس نہ جاسکی،کیوں نہ جاسکی یہ کہانی بھیانک ہے،ان کے بھائیوں نے مل کران پرحملہ کیااوران کی ٹانگیں توڑدی، یوں وہ چلنے سے بھی قاصرہوکررہ گئیں،انکے بھائیوں نے جرم تسلیم کرلی،جیل کی ہواکھائی اورکچھ عرصہ بعدضمانت پرباہربھی آگئے۔یہ ہماراسسٹم ہے،اورہمارے ہاں ریاست مدینہ میں یہ قانون بھی ہے اورجائزبھی۔

     آپ ایک دن تاریخ کامطالعہ کرکے دیکھ لیں پاکستان کاشماران ممالک میں ہوتاہے جہاں عورت کو وراثتی حقوق یاجائیدادکی ملکیت دینے کی شرخ سب سے کم ہے،جائیدادبہنوں کوحصہ دینے والے ملکوں میں پاکستان کاشمار127میں سے 121ویں نمبرپرہے،بلوچستان پاکستان کاوہ صوبہ ہے جہاں خواتین کووراثت دینے کی شرخ صفرہے،یوں آپ اندازہ لگاسکتے ہیں کہ ہم ریاست مدینہ میں سرکارمدینہ کی دین پرکس حدتک عمل پیراہے،اسلام کے مطابق وراثت میں بہنوں کاباقاعدہ حق مقررہے لیکن ہم اسلام کالبادہ اُڑھ کرجہیزکے نام پراسلام کامذاق اُڑانے کے علاوہ کرکیارہے ہیں،کیایہی اسلام ہے،آپ ایک بارریاست پاکستان کے اس ایکٹ پرہی نظرگھمانے کی سعی کریں جس کے مطابق خاتون کوحق وراثت سے محروم کیے جانے پردس سال قیداوردس لاکھ جرمانے کی سزامقررکی گئی ہے یہ ایکٹ پریونشین اورانٹی ویمن کے نام سے 2011میں منظورہوئی،لیکن ہمارے یہاں ایسے کتنے ایکٹ ہوں گے جومنظورتوہوئی ہے لیکن اس پرکوئی بھی شہری عمل کرنے کوتیارہی نہیں، کیایہی ہمارااسلام ہے کیایہی ہماراقانون ہے،ہمیں اسلام کے نام پراسلام کواستعمال کرنے کی بجائے اسلام کے اصولوں پرعمل پیراہوناہوگا،ہمیں اپنے معاشرے میں عورت کامقام جانناہوگا،جس ہستی کے پاوں تلے جنت ہوتی ہے،ہم انہیں ان کی جائزحقوق سے بھی کیسے محروم کررہے ہیں،آپ ایک دن اپنے دل پرہاتھ رکھ کرسوچیں کیاآپ اسلام کے اصولوں پرعمل پیراہے،کیاآپ اپنے محرم خواتین کے،آپ اپنے بہنوں کے حقوق اداکررہے ہیں؟جس دن آپ اورمیں اپنے دل پرہاتھ رکھ کرسوچناشروع کرتے ہوئے عمل کریں گے یقین کرلیں،اس دن آپ کوسمجھ آجائیں گے بہنیں منحوس نہیں ہوتیں، اس دن سے معاشرے میں تبدیلی آئے گی،تبدیلی کسی دوسرے کو نہیں اپنے آپ کوبدلنے کانام ہے توبس آج سے اپنے آپ کوبدلنے کاآغازکرلیں۔

    Twitter ID:    @mumtazshigri12

  • نکاح کی اہمیت/ نسل انسانیت کی بقا۔  تحریر:- تیمور خان

    نکاح کی اہمیت/ نسل انسانیت کی بقا۔ تحریر:- تیمور خان

    اسلام ایک مکمل ضابطہ حیات کا نام ہے جس میں انسانی زندگی کے کسی گوشے کو نامکمل اور ادھورا نہیں چھوڑا گیا انسان کی فطرت اور اس کے تبیعت کے جتنے بھی تقاضے ہیں ان تمام کو بخوبی سر انجام دینے کے لئے اسلام نے زندگی کے ہر موڑ پر اپنے ماننے والوں کو مکمل اصول اور ضوابط عطا فرمائے ہیں یہاں تک کہ انسان کی نجی زندگی ہو یا اس کی معاشی اور اجتماعی زندگی ہو زندگی کہ ہر موڑ پر اسلام نے رہنما اصولوں کے ذریعے مسلمانوں کو نجات اور کامیابی کا راستہ بتایا ہے انسان کی جو فطری ضرورتیں ہیں جو انسان کے ساتھ پیدا کی گئیں ہیں۔ ان فطری ضرورتوں میں سے ایک اہم ضرورت انسان کا کسی عورت کے ساتھ نکاح کا اور شادی کرنا بھی ہے شادی کرنا اور نکاح کرنا انسان کی بنیادی ضرورت ہے جہاں ایک مرد اور عورت کی فطری ضرورتوں کو پورا کرتا ہے اور اس کے ساتھ ساتھ بقائے نسل انسانی کے لئے توال اور تناسل کا ایک بہت بڑا زریعہ بھی ہے اللہ تبارک وتعالیٰ نے اس دنیا میں سب سے پہلے اس دنیا میں حضرت آدم علیہ السلام کو بشر اور انسان بنا کہ پیدا فرمایا ادم علیہ السلام سے آج تک جتنے انسان آیے ہیں یہ سب حضرت آدم علیہ السلام کی اولاد کہلاتے ہیں لیکن یاد رکھیں اللہ تعالیٰ نے حضرت آدم کو اپنی قدرت سے پیدا فرمایا بغیر ماں باپ کے پیدا فرمایا لیکن حضرت آدم علیہ السلام کے پیدا فرمانے کے بعد اللہ نے یہ اصول بنایا ایک قاعدہ اور ضابطہ بنا دیا کہ ادم علیہ السلام کے بعد جو انسان بھی اس دنیا میں آئے گا اس کے لئے ایک مرد اور ایک عورت کی ضرورت ہو گی اگر اللہ تبارک وتعالیٰ چاہیے تو بغیر کسی مرد اور عورت کی بھی کسی انسان کو پیدا کر دے جتنے انسانوں کا قیامت تک اس دنیا میں آنا ہیں تو اللہ تعالیٰ کا لفظ کن کہ اللہ تعالیٰ فرماتا ہے کن فیکون تو وہ چیز پیدا ہو جاتی ہے لیکن اللہ تعالیٰ نے کچھ اصول اور ضوابط جو پیدا فرمائے ہیں اور ہمیں ان اصولوں کے مطابق چلنے کا کہا ہے یاد رکھیں ان اصولوں کے مطابق اللہ تعالیٰ نے نسل انسانی کے بقا کے لئے شادی کو نکاح کو ایک اہم جز  انسانی زندگی کا قرار دیا ہے۔

    اسی لئے آدم علیہ السلام کو اللہ تعالیٰ نے جب پیدا فرمایا، تو آپ جنت میں رہتے تھے جنت میں ٹہلتے تھے، لیکن چونکہ دوسرا کوئی انسان اس وقت نہیں تھا اس دنیا میں اس کائنات میں ایک ہی انسان تھے اس لئے ان کے فرشتے بھی ہوا کرتے ان کے ساتھ جننات بھی ہوا کرتے اللہ تبارک وتعالیٰ کی مختلف نعمتیں ان کی ارد گرد ہوتی لیکن ان کو انسیت حاصل نہ ہوتی، کہ ہر ایک شے اپنی جنس انس اور  محبت حاصل کرتی  ہے، ایک انسان کو آپ دنیا کی ساری نعمتیں دے دیں لیکن اگر اس کے پاس کوئی انسان نہ ہو تو اس کی زندگی خوشحال نہیں ہو گی وہ چاہے گا کہ میرے ساتھ میری ہی جنس کا کوئی انسان ہو تاکہ اس کے ساتھ میں اپنی زندگی کی شب و روز بسر کر سکوں۔

    آدم علیہ السلام فطرتی انسانی کے مطابق ان کو جب انسیت جنت میں نہ ملی، ایک دن اللہ تبارک وتعالیٰ نے ان کی اس کمی کو پورا کرنے کے لئے جب آدم علیہ السلام آرام فرما رہے تھے جب آپ بیدار ہوئے تو اللہ تبارک وتعالیٰ نے آپ کے سوتے ہوئے آپ کے بائیں پسلی سے اماں حوا کو پیدا فرمایا، جب آپ بیدار ہوئے تو آپ نے دیکھا کہ آپ کے قریب ایک عورت بیٹھی ہوئی ہے تو آپ کو بہت خوشی ہوئی اور جونہی آپ نے ہاتھ بڑھانا چاہا تو اللہ تبارک وتعالیٰ نے آواز دی  اے آدم اس انسان کو جو تیری ہی جنس سے پیدا کی گئی ہے تیری ہی پسلی سے پیدا کی گئی ہے، اس انسان ہو عورت کہتے ہیں یہ تمہاری انسیت کی کمی کو پورا کرے گی تمہاری فطری ضرورتوں کو پورا کرے گی لیکن اس کو ہاتھ لگانے کے آپ کو مہر دینا پڑے گا، تمہارا نکاح ہوگا ادم علیہ السلام نے پوچھا اے اللہ اس کا مہر کیا ہوگا یہ کیوں کر میرے لئے حلال ہوگی، تو اللہ تبارک وتعالیٰ نے فرمایا تم ایک مرتبہ نبی آخر الزمان جو تیری ہی اولاد سے پیدا ہوگا سب سے آخری نبی ہوگا، تم ایک مرتبہ ان پہ درود پڑھو یہی تمہارے اور اماں حوا کا حق مہر ہوگا، تو سرکارِ دوعالم ﷺ فرماتے ہیں ایک مرتبہ درود یہی حق مہر تھا  اور اس کے بعد حضرت آدم اور اماں حوا جنت میں پھرتے تھے، پھر جب اللہ نے آدم اور حوا کو دنیا میں بھیجا دنیا میں آنے کے بعد جب ان کا آپس میں ملاپ ہوا اور نسل انسانی کی ابتداء ہوئی تو آج تک دنیا میں جتنے بھی انسان ہیں یہ سب اسی نکاح کا نتیجہ ہے۔

    تو کہنے کا مقصد یہ ہے کہ نکاح ایسی چیز ہے جو انسان کی جہاں فطری ضرورتوں کو پورا کرتا ہے وہاں  نسل انسانی کی بقاء اور اس میں پروان چڑھانے کے لئے بھی اللہ تبارک وتعالیٰ نے نکاح کو بہت بڑا زریعہ قرار دیا گیا ہے، اسی لئے اللہ نے فرمایا کہ اللہ کی نشانیوں اور نعمتوں میں سے اللہ کی ایک نعمت یہ بھی ہے کہ اللہ نے تمہاری جنس سے ہی جوڑے پیدا فرمائے، مرد کے لئے عورت اور عورت کے لئے مرد کو پیدا فرمایا مرد اور عورت کے جوڑے کے ملاپ کو اس کا فائدہ اللہ نے فرمایا اسی لئے کے تم ایک دوسرے سے سکون حاصل کرو اور پھر انسانی جوڑے کے درمیان اللہ نے محبت کو پیدا فرمایا دلی محبت کو اللہ نے پیدا فرمایا، لیکن اس کے برعکس اگر ہم دیکھیں کہ آج دنیا کتنی ہی پرفتن ہو چکی ہے طلاق کی شرح بہت حد تک بڑھ چکی ہے ایک دوسرے سے جدائی اور خلاء کی شرح بہت حد تک بڑھ چکی ہے، لیکن اس کے باوجود بھی میاں بیوی کی محبت کا جو رشتہ ہے وہ آج بھی قائم ہے اس لئے یہ اللہ تبارک وتعالیٰ کا قانون ہے اور انسان کی فطرت اور تبیعت کے عین مطابق ہے۔

    اسی لئے سرکارِ دوعالم ﷺ نے یہی ارشاد فرمایا اے نوجوان، اپنے امت کے نوجوانوں سے خطاب کیا تم میں سے جو بھی شخص نکاح کی طاقت رکھتا ہے تو وہ فوراً نکاح کرے حضور سرکارِ دوعالم ﷺ نے فرمایا یہ انسان کے شرم گاہ کو محفوظ کر لیتا ہے اور انسان کی آنکھوں کو نیچے کر لیتا ہے یہ آنکھوں میں نظروں میں حیا پیدا کر دیتا ہے یہی وجہ ہے قرآن مجید فرقان حمید میں زنا کی جو سزا بیان کی گئی ہے اگر العیاذ باللہ غیر شادی شدہ جوڑا زنا کرتا ہے تو ان کے لئے سو کوڑے ہے، اگر شادی شدہ جوڑا زنا کرتا ہے یا ان میں سے یا زانی اور مزنیا میں کوئی ایک شادی شدہ ہے تو پھر ان کو سنگسار کرنے کا حکم دیا گیاہے اب زنا ہوا کیوں کیونکہ اس مرد کی جو حواہشات ہے وہ پوری نہیں ہوئی۔

    اسی لئے سرکارِ دوعالم ﷺ نے فرمایا زنا کا درواز بند کرنے کے لئے جب تم میں سے کسی کی اولاد بالغ ہو جائے اور نکاح کے قابل ہو جائے تو پھر تم ایسا رشتہ دیکھو کہ جس کے دین اور اخلاقی سے تم رازی ہو مرد اور عورت کے لئے ایسا رشتہ ایے سرکارِ دوعالم ﷺ نے فرمایا کہ یہ لڑکا میری بیٹی کے لئے دین دار ہے تو آپ نے فرمایا پھر سوچ سے کام نہ لو فوراً ان کا نکاح کرو اور اگر تم ان سب کے باوجود بھی نکاح نہیں کرو گے تو سرکارِ دوعالم ﷺ نے فرمایا پھر زمین میں فساد پیدا ہو جائے گا۔ اور وہ فساد یہی ہے کہ نہ عورت کی عزت محفوظ رہے گی اور نہ مرد کی پاک دامنی محفوظ رہے گی اسی لئے چند مواقعے میں آپ نے ارشاد فرمایا تم میں سے جو بھی جس چیز کے قابل ہو جاؤ تو فوراً ہی کر لیا کرو ان میں سے ایک نکاح کا حکم بھی ہے۔ 

    اور پھر آج کے اس زمانے میں آج کے اس فحاشی اور عریانی کے ماحول میں کہ جہاں کوئی تمیز لڑکوں اور لڑکیوں کی نہیں ہے جہاں کوئی تمیز حیا اور بے حیائ کی نہیں ہے جہاں حیاء کا جنازہ ہمارے معاشرے سے بلکل اٹھ چکا ہے، ایسے حالات میں نکاح کرنا نہایت ہی اہم ہے، یاد رکھیں ہم کہتے ہیں نکاح کرنا سنت ہے شادی کرنا سنت ہے، یاد رکھیں ہر کسی کے لئے سنت نہیں ہے جو ایسا شخص ہے مرد ہے یا عورت اگر اس کی شادی فوراً نہیں کی جائے تو وہ گناہ میں مبتلا ہوگا اس کی آنکھیں جسم گناہ میں مبتلا ہوگا تو پھر اس کے لئے نکاح سنت نہیں فرض عین ہے اور آج کل کے جو نوجوان ہیں ان کے لئے محقیقین نے نکاح کرنا فرض عین قرار دیا، اسی لئے فحاشی کا اور عریانی کا دور ہے تو اسی لئے محقیقین نے نکاح کو فرض عین قرار دیا اس لئے نکاح کرنا یاد رکھیں یہ ہمارے معاشرے ہماری تبیعتوں ہمارے گھرانے اور ہمارے خاندانوں کے لئے پاک دامنی کا بہت بڑا ذریعہ ہے، اور اگر ایک شخص کہ پاس کوئی وسائل  نہیں کہ وہ اپنی بیوی کو دو وقت کی روٹی کھلا سکے اور نکاح کے طاقت نہ رکھ سکے تو پھر سرکارِ دوعالم ﷺ نے فرمایا کہ وہ شخص روزے رکھے کیونکہ روزے اس کے شہوانی خواہشات کو ختم کر دے گی، تو یاد رکھیں دنیا کے تمام معاشروں میں کسی نہ کسی طریقے سے نکاح کو حلال قرار دیا گیا ہے، تو اس لئے حیا کو پیدا کرنے کے لئے اپنے معاشرے کو باحیا بنانے کے لئے ہمیں اپنی آنکھوں کی بھی حفاظت کرنی ہے اپنی قردار کی بھی حفاظت کرنی ہے اور ایک ایسا ماحول بنانا ہے کہ جس کی وجہ سے ہمارے آج کے نوجوان حیاناک بن سکے، پس اللہ تبارک وتعالیٰ ہمیں توفیق عطا فرمائے۔

    @ImTaimurKhan

  • سگریٹ نوشی ہر شکل میں تباہ کن تحریر: زبیر احمد

    سگریٹ نوشی ہر شکل میں تباہ کن تحریر: زبیر احمد

    آج کل سب سے عام پریشانیوں میں سے ایک پریشانی جو ساری دنیا میں لوگوں کو مار رہی ہے وہ سگریٹ نوشی ہے۔ بہت سے لوگ ٹینشن، ذاتی مسائل اور ہائی بلڈ پریشر کی وجہ سے سگریٹ نوشی شروع کردیتے ہیں. کچھ لوگ نمائش کے طور پہ بھی شروع کرتے ہیں یا کچھ لوگ لطف اٹھانے کے لئے بھی اس کا استعمال کرتے ہیں۔آج گھر گھر کو اس بری عادت نے گھیر رکھا ہے بڑے امیروں اور رئیسوں کے گھروں میں تمباکو نوشی ایک قسم کی تفریح اور تواضع کا سامان سمجھا جاتا ہے۔

     ایک انسان سے دوسرے کو سگریٹ نوشی کی لت پڑ سکتی ہے جب کوئی سگریٹ نوشی کرتا ہے نہ صرف خود کو بلکہ اردگرد کے افراد کو بھی متاثر کررہا ہوتا ہے۔ سگریٹ نوشی انسان کے جسم کو بہت خطرناک قسم کی بیماریاں دیتی ہے۔ تقریبا ہر کوئی جانتا ہے کہ تمباکو نوشی کینسر اور دل کی بیماریوں کا سبب بنتی ہے اس کا استعمال کرنے سے انسان کی زندگی تقریبا دس سال کم ہوجاتی ہے جبکہ اس گندی عادت کی وجہ سے سال میں ہزاروں سگریٹ پھونک دئے جاتے ہیں۔ سب سے زیادہ نوعمر افراد سگریٹ نوشی کرتے ہیں نکوٹین وقتی طور پہ انسان کو سکون پہنچاتی ہے جس سے انسان اس موذی عادت کی لت کا شکار ہوجاتا ہے۔

    سگریٹ نوشی ایک سست موت کی مانند ہے۔ سگریٹ میں کیا ہے جو ہر روز لاکھوں افراد ہر دن اس کو پھونک رہے ہوتے ہیں سگریٹ میں 4000 سے زیادہ زہریلے مادے ہیں۔ماہرین کے مطابق جب ایک شخص سگریٹ پیتا ہے تو وہ خود تو متاثر ہوتا ہے لیکن اس کے آس پاس لوگ خاص طور پہ بچے بھی متاثر ہوتے ہیں۔ دنیا میں یومیہ اٹھارہ ارب سگریٹ فروخت ہوتے ہیں جبکہ پاکستان میں ایک ارب 60 کروڑ 70 لاکھ سگریٹ فروخت ہوتے ہیں، جبکہ دنیا بھر میں منہ اور گلے کے کینسر کا بہت اضافہ ہوا ہے دنیا میں سگریٹ نوشی کے باعث سالانہ 80 لاکھ اموات ہوتی ہیں۔

    برطانوی سائنسدانوں کی تحقیق کے مطابق روز کا ایک سگریٹ بھی تمباکو نوشی نہ کرنے والوں کے مقابلے میں دل کے دورے کا امکان 50 فیصد اور سٹروک کا 30 فیصد تک بڑھا دیتا ہے۔ سگریٹ نوشی کے نقصانات سے آگاہی کے باوجود آج بھی دنیا بھر میں ایک ارب افراد سگریٹ نوشی کے عادی ہیں۔ ورلڈ ہیلتھ آرگنائزیشن کے مطابق 33 فیصد مرد اور 9 فیصد خواتین ہیں سگریٹ نوشی کرتے ہیں۔

    سگریٹ بنانے والی کمپنیاں نت نئی مصنوعات متعارف کرائی رہتی ہیں، ہر دور میں سگریٹ کمپنیوں کی جانب سے ایسی مصنوعات تیار کرکے دعوی کیا جاتا رہا کہ اس سے نقصانات کم ہوتے ہیں، حالانکہ ان کا مقصد لوگوں کو تمباکو کا عادی کرنا ہوتا ہے دوسری جانب e-cigarette وائپ بھی سالوں سے مارکیٹ میں موجود ہیں اور نوجوانوں میں مقبول ہے ۔ الیکٹرانک سگریٹ اور اس سے ملتی جلتی مصنوعات ایک بڑی انڈسٹری بنتی جارہی ہیں لیکن پیکنگ چاہے جیسی بھی ہو لیکن یہ چھپانا آسان نہیں کہ تمباکو نوشی صحت کے لئے نقصان دہ ہے۔

    سگریٹ نوشی ایک ایسی عادت ہے جس سے لوگ چھوڑنا بھی مشکل محسوس کرتے ہیں بہت سے لوگ ذہنی دباؤ اور تناو میں سگریٹ پیتے ہیں لیکن ان کو جان لینا چاہیے کہ تمباکو نوشی آپکو اندر سے مار ڈالتی ہے وہ تمباکو نوشی نہیں کررہے بلکہ اپنے لیے مضر بیماریاں خرید رہے ہیں۔ سگریٹ نوشی کے نقصانات کی پوری دنیا جانتی ہے اس کے باوجود لوگ اس عادت بد کو ترک کرنے پر تیار نہیں ہوتے،حکومتوں نے بھاری ٹیکس عائد کیے لیکن ‘چھٹتی نہیں منہ سے یہ کافر لگی ہوئی’ صدیوں سے اس کی مقبولیت برقرار ہے۔ ہر سال دنیا میں 60 کھرب سگریٹ تیار ہوتے ہیں۔ البتہ حکومتیں اس کے خلاف بھرپور سنجیدہ مہم نہیں چلاتیں اور نہ ہی حکومتوں کی جانب سے تمباکو نوشی کی روک تھام کے لئے ٹھوس اقدامات کئے جاتے ہیں کیونکہ اس سے ان کو اربوں کے محصولات حاصل ہوتے ہیں۔

    tweets @KharnalZ

  • بچوں پر ماں باپ کی طلاق کے اثرات حصہ 2  تحریر خالد عمران خان

    بچوں پر ماں باپ کی طلاق کے اثرات حصہ 2 تحریر خالد عمران خان

    سماجی سرگرمی میں دلچسپی کا نقصان
     تحقیق میں بتایا گیا ہے کہ طلاق بچوں کو سماجی طور پر بھی متاثر کر سکتی ہے۔ جن بچوں کا خاندان طلاق سے گزر رہا ہے انہیں دوسروں سے متعلق مشکل وقت درپیش ہوسکتا ہے ، اور ان کا سماجی رابطے کم ہوتے ہیں۔ بعض اوقات بچے غیر محفوظ محسوس کرتے ہیں اور سوچتے ہیں کہ کیا ان کا خاندان ہی واحد خاندان ہے جس نے طلاق حاصل کرلی ہے۔اور ان کے ماں پاب اس طرح الگ ہو رہے ہیں وہ اپنے ماں اور پاب کے ساتھ ایک ساتھ نہں رہ سکیں گے. یہ بات ان پے بہت گہرا اثر ڈالتی ہے۔

     تبدیلی کو اپنانے میں دشواری۔
     طلاق کے بعد بچوں کو زیادہ سے نئے ماحول کو قبول کرنے میں مسئلہ ہوتا ہے۔ فوراََ ہونے والی تبدیلی کو وہ جلدی قبول نہں کر پاتے انکو بہت مشکل لگ رہا ہوتا ہے خود کو تبدیل کرنا اور نئے تبدیل ماحول میں خود پہلے جیسا رکھنا خود کو اس ماحول میں ڈھالنا اس کی سیکھنے کی صلاحیت بھی متاثر ہو سکتی ہے۔ نئی خاندانی حرکیات ، نیا مکان یا رہائشی صورتحال ، اسکول ، دوست اور بہت کچھ ، سب پر بہت اثر پڑ سکتا ہے۔

     

    جذباتی طور پر حساس ہوتے ہیں بچے ہمیں انکے رویوں کو سمجھنے کی ضرورت ہوتی ہے تعلق جیسے معاملات کے لڑائی جھگڑوں کو اور گھر کے بدلتے ماحول کو سمجھنے سے قاصر ہوتے ہیں اور ایسے وقت میں بچے اپنے آپ کو محفوظ بھی نہں محسوس کرتے اپنے دل کی بات کسی سے شیئر نہں کر رہی ہوتے اور اندر ہی اندر جب اس طرح کے غصے یہ پریشانی والے جذبات پیدا ہوتے ہیں تو وہ انکو کنٹرول بھی نہں کر پا رہے ہوتے ایسے وقت انکو خاص توجہ کی ضرورت ہوتی ہے ماں باپ کی کوشش ہونی چاہیے کے طلاق جیسے معاملے تک پنچھنے سے پہلے لازمی اگر گھر میں بچے موجود ہیں تو ان کے بارے میں ضرور سوچیں اور سوچ سمجھ کے اس قسم کا فیصلہ کریں کیوں کے اس قسم کے فیصلوں سے سب سے زیادہ اگر کسی پے اثر پڑتا ہے تووہ ہمارے بچے ہیں جن کے لیے اس بات کو قبول کرنا کے ماں باپ ساتھ نہ ہوں اور زندگی بلکل تبدیل ہوجائے اور انکو کسی نئی ماحول کی عادت ڈالنا بہت ہی مشکل ترین مسئلہ ہے ساتھ ہی ان کے تعلیمی معاملات کا خراب ہونا بھی مد نظر رکھنے والی بات ہے۔بچوں سے بات کریں انکے خیالات اور احساسات جانیں اور انکو سمجھنے کے بعد ماں باپ سوچ سمجھ کے اس طرح کے قدم اٹھائیں۔
     طلاق گھر کے افراد میں کئی طرح کے جذبات کو سامنے لا سکتی ہے ، اور اس میں شامل بچے بھی مختلف نہیں ہیں۔ نقصان ، غصہ ، الجھن ، بے چینی ، اور بہت سے دوسرے کے احساسات ، سب اس منتقلی سے آ سکتے ہیں۔ طلاق بچوں کو مغلوب اور جذباتی طور پر حساس محسوس کر سکتی ہے۔ بچوں کو اپنے جذبات کے لیے ایک ظاہر کرنے کی ضرورت ہوتی ہے انکو ضرورت ہوتی ہے کے کوئی بات کرنے والا ، کوئی سننے والا ، وغیرہ – بچے اپنے جذبات پر عمل کرنے کے ذریعے طلاق کے اثرات محسوس کر سکتے ہیں۔

    Twitter handle
    @KhalidImranK

  • غصہ اور جذباتیت کا حل کیا ہے  تحریر : شفقت مسعود عارف

    غصہ اور جذباتیت کا حل کیا ہے تحریر : شفقت مسعود عارف

     اکثر ‏لوگ کہتے ہیں کہ ہم غصے پر کنٹرول کر لیتے ہیں لیکن اگر کوئی غلط بات کرے ،کوئی گالی دے، کوئی غیر منطقی بات پر ضد کرے تو صرف اس وقت غصہ برداشت نہیں ہوتا

    سوال یہ ہے کہ غصہ برداشت کرنے کا وقت اور کون سا ہوتا ہے؟ برداشت تو تب ہی ہوتی ہے جب کوئی وجہ ہو اور دماغ کی رگوں میں ابال آ رہا ہو

    عام حالات میں اسکی ضرورت ہی کیا ہے؟

    لیکن پہلے یہ سمجھنا ضروری ہے کہ ہمیں غصہ کیوں اور کب آتا ہے؟ 

    ‏ہم ہر چیز اپنی مرضی کے مطابق چاہتے ہیں وہ کوئی چیز ہو یا کوئی رائے

    اور ہماری مرضی کے خلاف ہونے پر ہمیں غصہ آتا ہے جو دراصل فطرت کی ورائٹی کا انکار ہے

    سب کچھ ہماری مرضی کے مطابق نہیں ہو سکتا

    نہ رائے

    نہ عقیدہ

    نہ دلیل

    سامنے والے کے پاس بھی اپنے جواز ہوتے ہیں اسلئے اختلاف رائے کو ایک فطری عمل سمجھنا اور اسی انداز میں ہینڈل کرنا ضروری ہے جس طرح آپ دوسروں کو غلط سمجھ کر غصہ کرتے ہیں عین اس وقت دوسرے آپ کو غلط سمجھ کر آپ پر ناراض ہو رہے ہوتے ہیں

    اس لئے غصہ نہیں دلیل سے کام لیں اور اس لئے دلیل سے کام لیں کہ دوسرا غلط راستے پر جانے سے بچ جائے

    نیت  بنیادی چیز ہے

    کیا ‏غصہ برا ہے ؟ 

    جواب  ہے نہیں بلکہ غصہ طاقت ہے اس کا غلط استعمال برا ہے

    غصہ طاقت کیسے ہے؟ ‏آپ عام حالت میں کسی کو تھپڑ ماریں اور شدید غصے میں کسی کو تھپڑ ماریں تو کیا فرق ہو گا دونوں میں۔غصے میں دیا دھکا بہت طاقتور ہوتا ہے بہ نسبت عام حالت کے

    کیوں؟ جسم وہی ہاتھ وہی

    پھر ایسا کیوں؟  دراصل غصے میں خون کے بڑھے ہوئے دباو کی وجہ سے آپ کی سوئی ہوئی جسمانی قوتیں زیادہ کام کرتی ہیں

    *اور دماغی طاقتیں کم*

    لیکن غصہ اور جذبات کی زیادتی برداشت کرنے کی کوشش میں ہم ایک غلطی کرتے ہیں

    غصہ فطری جذبہ ہے جذبات زندہ ہونے کی نشانی ہیں مگر ان میں بہہ جانا حماقت

    فطری جذبہ کو دبانے کی کوشش جسم اور نفسیات پر منفی اثر مرتب کرتی ہے

    پھر غصہ پر قابو پانے کا صحیح طریقہ کیا ہے؟

    جوڈو کے بارے میں کیا جانتے ہیں؟ یہ جاپانی کشتی کا فن ہے اس کی تکنیک کا نچوڑ طاقت یا داؤ پیچ میں نہیں بلکہ اس میں ہے کہ 

    دشمن کی قوت کا رخ بدل کر اسی کے خلاف استعمال کر کے اسے شکست دی جائے

    غصہ پر قابو پانے کی اصل تکنیک یہی ہے کہ اس کا رخ بدل دیا جائے

    فوری طورپر الفاظ پر کنٹرول کھو رہے ہوں تو کچھ دیر رک جائیں

    12 منٹ 

    اس 12 منٹ میں موضوع سوچ اور جگہ بدل دیں12 منٹ بعد آپ کا جواب اور ردعمل زیادہ صحیح اور زیادہ متوازن ہو گا مگر 12 منٹ کا مطلب یہ نہیں کہ گھڑی پر وقت دیکھتے رہیں

    غصے یا ٹینشن میں‏12 منٹ رکنے والی تحقیق نئی ہے

    مگر 1400 سال پہلے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا

    غصے کی حالت میں کھڑے ہو تو بیٹھ جاو بیٹھے ہو تو لیٹ جاو اور پانی پیو

    اس ہدایت کو اس زاویے سے بیان نہیں کیا جاتا کہ غصہ میں اعصاب اور ردعمل تیز ہو جاتے ہیں

    زبان تیز

    دھڑکن تیز

    بلڈ پریشر تیز

    کھڑے ہوں تو ایک جگہ رکانہیں جاتا

    اس تحرک کو سکون میں لانا ضروری ہے اسکے لئے یہ ہدایات ہیں سائنس کہتی کہ اعصاب کو قابو میں آتے 12 منٹ لگتے ہیں لیکن اگر رسول اللہ کی ہدایت پر عمل کریں تو جلدی قابوپا سکتے ہیں

    اگر ‏اللہ نے ہمیں قوت اور طاقت کی نعمت بھی بخشی ہے تو یہ اتنی ہی بڑی ذمہ داری بھی ہے جس کا ہم سے سوال کیا جائیگا

    کسی کو گرانے سے قبل

    خودکو زیر کرنا سیکھیں

    کسی کو ہرانے کی بجائے اپنانے کی سوچ اپنائیں

    یہی اصل جنگ ہے

    جو آپ نے جیتنی ہے

    ‏ایک بات تسلیم کر لیں

    *اختلاف یقینی ہے 

    آپ کہیں اللہ ایک ہے تو سوا پانچ ارب لوگ کہیں گے جھوٹ ۔سب کچھ آپ کے اختیار میں نہیں جب  یہ بات تسلیم کر لیں گے تو آپ کے ذمہ صرف کوشش کرنا رہ جائیگا

    ‏دراصل ہم لوگ اپنی ذات میں چھوٹے چھوٹے خدا ہیں

    ہم چاہتے ہیں کہ ہر کام، ہر رائے ، ہر نتیجہ ہماری مرضی سے ہو ہم یہ بھول جاتے ہیں کہ سب کچھ مرضی سے ہونا صرف اللہ کی صفت ہے

    جس دن ہم یہ بات سمجھ اور تسلیم کر لیں گے اس دن ہمیں

    کسی بھی خلاف مرضی بات یا عمل پر غصہ نہیں آئے گا

    کیونکہ ہم تسلیم کر لیں گے کہ اختلاف ، ورائٹی یہاں اللہ نے رکھی اور حتمی مرضی بھی اسی کی ہے

    اللہ کے نبیوں نے بھی اسی اختلاف کا سامنا کیا کیونکہ وہ بھی خدا نہیں تھے

    تو پھر ہم کس کھیت کی مولی ہیں

    @shafqatchMM

  • نکاح کی ضرورت و اہمیت  تحریر: نثاراحمد تحریر

    نکاح کی ضرورت و اہمیت تحریر: نثاراحمد تحریر


    اللہ تعالی نے انسانوں کی پیدائش کے بعد ان کی تمام اہم ضرورتوں کا انتظام اور اس کے لیے مناسب نظام بھی بنایا۔کھانے کے لیے غذائیں، پینے کے لیے پانی فراہم کیا تو ساتھ ہی حلال وحرام اور جائز و ناجائز کی تفصیلات واضح کرکے اس کا پابند کردیا۔ سانس لینے کے لیے ہوا اور آکسیجن کا فطری انتظام کیا، شجرکاری کی حوصلہ افزائی اور اس کی افادیت کو واضح کیا تو بے ضرورت درخت کاٹنے کو ممنوع قرار دے دیا۔ دنیا میں کامیاب زندگی کے لیے خاندان کی ضرورت، خاندان کی تشکیل اور وجود کے لیے نکاح کی مشروعیت، نکاح جیسے جائز اور مسنون عمل کی طرف ترغیب، اس کے بے شمار سماجی فوائد، اس پر اجر و ثواب کا وعدہ، ناجائز رشتوں کی قباحت و حرمت، اس کی مذمت، اس پر دنیوی سزا اور اخروی عذاب کو بیان کیا۔ اوراس طرح نکاح و شادی کے بعد ازدواجی تعلق کو نہایت مہذب شائستہ اور مطلوب طریقہ قرار دے کر اس کو نہایت آسان بنادیا۔
    نکاح مرد اور عورت کا خالص نجی اور ذاتی معاملہ ہی نہیں، بلکہ یہ نسل انسانی کے وجود، قیامت تک اس کی بقا و دوام اور بے شمار انسانی وسماجی ضرورتوں اور تقاضوں کی فراہمی اور تکمیل کے لیے اللہ اور رسول کی طرف سے متعین کردہ نہایت مہذب اور شائستہ طریقہ ہے اس لیے آئیے جائزہ لیں کہ نکاح سے کن انسانی و سماجی ضرورتوں کی فراہمی اور تکمیل ہوتی ہے۔ اور اس کے کیا فوائد اور اس کے نہ ہونے کے کیا نقصانات ہیں، تاکہ یہ واضح ہو سکے کہ نکاح اور شادی انسانوں کے لیے کیوں ضروری ہے۔
    سکون ومحبت کا ذریعہ:
    اسلام میں نکاح کوکسی نا محرم سے پیار و محبت اور جائز تعلق کی بنیاد قرار دیا گیا اور اسے زندگی کی بہت سی اہم ترین ضروریات کی تکمیل، سکون و اطمینان اور باہمی الفت و مودت کا ذریعہ بنادیا گیا۔ "وَمِنْ آيَاتِهِ أَنْ خَلَقَ لَكُمْ مِنْ أَنْفُسِكُمْ أَزْوَاجًا لِتَسْكُنُوا إِلَيْهَا وَجَعَلَ بَيْنَكُمْ مَوَدَّةً وَرَحْمَةً”یعنی اللہ نے تمہاری ہی نسلوں سے تمہارے لیے جوڑا بنا کر ایک دوسرے کے سکون اور آپسی پیار و محبت کا انتظام فرمایا اور اس کو اللہ کی نشانیوں میں اہم نشانی قرار دیا۔ (الروم21)
    اللہ کا مطالبہ:
    نکاح صرف انسانوں کی نجی ضرورت اور ان کا اختیاری مسئلہ و فیصلہ ہی نہیں ہے بلکہ اس کو اللہ نےبے شمار سماجی ضرورتوںاور عفت و پاکدامنی کی خاطر مطلوب و مسنون قرار دیا اور فرمایا ” فَانكِحُوا مَا طَابَ لَكُم مِّنَ النِّسَاءِ” کہ پسند آنے والی خواتین سے نکاح کرو (النساء 3)
    انبیاء کا طریقہ:
    نکاح عام انسانوں کی ضرورت اور طریقہ کار ہی نہیں بلکہ یہ اللہ کے منتخب کردہ اور کائنات کے سب سے افضل اور دنیا میں آئیڈیل اور اسوہ بناکر بھیجے گئے انبیاء اور رسولوں کی سنت اور طریقہ ہے۔ اسی لیے اللہ تعالیٰ نے نکاح کو بیشتر نبیوں کا اسوہ قرار دیا اور فرمایا "وَلَقَدْ أَرْسَلْنَا رُسُلًا مِّن قَبْلِكَ وَجَعَلْنَا لَهُمْ أَزْوَاجًا وَذُرِّيَّةً”ہم نے آپ سے پہلے رسول بھیجے اور ان کو بیوی بچوں سے نوازا (الرعد 38)
    مختلف رشتوں اور قرابت داری کا ذریعہ:
    نکاح وہ سنت ہے جس کے ذریعہ صرف دو لوگوں کو باہمی پیار و محبت اور الفت و مودت کے ساتھ مربوط نہیں کیا جاتا بلکہ بہت سے ایسے نئے رشتے بھی عطا کئے جاتے ہیں جو زندگی خوشگوار بنانے اور اس کی خوشیوں کو دو بالا کرنے اور دکھ درد بانٹنے کا سبب بن جاتے ہیں اسی وجہ سے اللہ تعالیٰ نے نسبی رشتوں کی طرح نکاح کی وجہ سے بننے والے رشتوں کو اپنے انعام و احسان کے طور پر بیان فرمایا "وَهُوَ الَّذِي خَلَقَ مِنَ الْمَاءِ بَشَرًا فَجَعَلَهُ نَسَبًا وَصِهْرًا” کہ اللہ نے ہی پانی (انسانی نطفہ) سے انسانو‌ں کو پیدا کیا اور انھیں دو طرح کے رشتے نسبی اور سسرالی رشتے عطا فرمائے۔ (الفرقان 54)
    نبی اکرم کی سنت:
    سورہ رعد آیت نمبر38 میں اللہ تعالی نے نکاح کو بیشتر انبیاء کی سنت قرار دیا اور آخری نبی حضرت محمد صلی اللہ علیہ وسلم نے اس کو صرف نجی اور جنسی ضرورت کے بجائے ایک عمومی بڑی سماجی ضرورت قرار دیتے ہوئے اس کی اہمیت، ضرورت اور فضیلت کو مزید واضح کیا اور اس کو خود اپنی سنت بھی قرار دیا اور کئی شادیاں کیں جس کے بے شمار دعوتی و سماجی فائدے ملے اور فرمایا ”النِّكاحُ من سُنَّتي”( ابن ماجة عن عائشة)
    عام جانداروں اور انسان میں فرق:
    اللہ تعالی نے کائنات میں بہت سی جان دار مخلوق پیدا کیے، ان کے اندر جنسی خواہش اور اس کے ذریعہ ان کی نسل بڑھانے کا انتظام فرمایا لیکن انسانوں اور دوسرے جانداروں میں فرق کرنے کے لیے انسانوں کو نکاح کا مسنون طریقہ دے کر اس کو صرف وقتی ضرورت ہی نہیں رہنے دیا بلکہ عام حالات میں اس کو دائمی اور ایک دوسرے کے تئیں بہت سے حقوق و ذمہ داریوں سے مشروط کردیا اور انہیں عام جانداروں کی طرح آزاد کہیں بھی جنسی تسکین پوری کرنے کی اجازت نہیں دی اور اس طرح سے نکاح کو انسانوں اور دوسرے عام جانداروں میں فرق کا ایک اہم سبب بھی بنادیا۔
    دنیوی ضرورتوں کی تکمیل کا ذریعہ:
    نکاح اور شادی سے ایک لڑکا اور لڑکی صرف میاں بیوی ہی نہیں بنتے بلکہ اب وہ دونوں مل کر اپنی ضرورتوں اور بیشتر امور کو دو حصوں میں تقسیم کر کے اپنی اپنی ذمہ داریاں متعین کرتے ہیں اور ایک دوسرے کے کاموں میں معاون و مددگار بن جاتے ہیں اور اس طرح ان کے نجی، خاندانی اور دیگر تمام امور و معاملات بہترین انداز میں منظم طریقہ سے باہمی تعاون اور بہت سی صورتوں میں تو دونوں کے خاندانی افراد کی مشترکہ کوششوں اور محبتوں سے بآسانی انجام پانے لگتے ہیں۔
    خواتین کے حقوق کا تحفظ:
    نکاح کی مشروعیت کے ذریعہ خواتین کے حقوق کا تحفظ اور ان کی ضرورتوں کا زندگی کے ہر مرحلہ میں معقول بندوبست کیا گیا چنانچہ بیوی کی تمام ضرورتوں خاص طور پر مالی مصارف، رہائش و زیبائش اور علاج و معالجہ، بیٹی کی پرورش، تعلیم و تربیت، اس پر آنے والے خرچ اور اس کے نکاح و شادی کی پوری ذمہ داری، اسی طرح ماں کی عزت و تکریم اس کے ساتھ حسن سلوک اور حسب ضرورت ان کی دیکھ بھال اور نگہداشت اور دیگر تمام متعلقہ امور کی ذمہ داری عام حالات میںمرد پر ڈالی گئی۔
    ثواب اور اخروی کامیابی کا ذریعہ:
    نکاح کی وجہ سے میاں بیوی پر ایک دوسرے کے تئیں جو حقوق اور ذمہ داریاں عائد کی گئیں اسے صرف ذمہ داری اور بوجھ نہیں بلکہ اجر و ثواب اور اخروی کامیابی کا ذریعہ بھی بنا دیا گیا ۔ لہذا مرد کے ذریعہ خود اپنی بیوی بچوں پر خرچ کو سب سے بہترین صدقہ قرار دیا گیا ” دِينَارٌ أَنْفَقْتَهُ في سبيلِ اللَّه، وَدِينَارٌ أَنْفَقْتَهُ في رقَبَةٍ، ودِينَارٌ تصدَّقْتَ بِهِ عَلَى مِسْكِينٍ، وَدِينَارٌ أَنْفَقْتَهُ علَى أَهْلِكَ، أَعْظَمُهَا أَجْرًا الَّذي أَنْفَقْتَهُ علَى أَهْلِكَ (مسلم عن أبی ھریرۃ) اسی طرح عورت کے ذریعہ شوہر کی اطاعت پر جنت کی بشارت دے دی گئی. "أيما امرأة ماتت وزوجها عنها راض دخلت الجنة”(الترمذي عن ام سلمة)
    بھلائی اور خیر کا معیار:
    شادی کے بعد ایک دوسرے کے ساتھ حسن سلوک، اچھے برتاؤ اور احساس ذمہ داری کو ایک اچھا انسان ہونے کا معیار قرار دیا گیا لہذا واضح کردیا گیا کہ کوئی بھی مرد یا عورت ایک اچھا انسان اسی وقت ہو سکتے ہیں جب وہ اپنے اہل و عیال، شوہر و بیوی، بچوں اور دیگر اہل خانہ کے ساتھ اچھا برتاؤ اور حسن سلوک کریںاور حدیث میںواضح کردیا گیا کہ خود نبی اکرم نے اہل و عیال کے ساتھ حسن سلوک کو اپنی عظمت کا ایک اہم سبب قرار دیا "خيركم خيركم لأهله، وأنا خيركم لأهلي(ترمذى عن عائشۃ)
    نسل انسانی کی وجود و بقاء کا طریقہ:
    نکاح اور شادی صرف جنسی تسکین نجی اور خاندانی ضرورتوں اور ایک دوسرے کی دیگر مصلحتوں کی تکمیل کا ہی ذریعہ نہیں بلکہ یہ قیامت تک نسل انسانی کی وجود و بقا کے لیے اللہ تعالیٰ کا متعین کردہ اور انبیاء کرام کا اختیار کردہ وہ مہذب اور شائستہ طریقہ ہے جس کا اللہ نے حکم دیا اور فرمایا۔”فَانكِحُوا مَا طَابَ لَكُم مِّنَ النِّسَاءِ” کہ پسند آنے والی خواتین سے نکاح کرو (النساء 3)
    بچوں کی غذا اور کفالت کا ذریعہ:
    نکاح اور شادی کو اللہ تعالی نے نسل انسانی کی وجود اور پیدائش کا ذریعہ بنایا اسی طرح بچپن میں بے فکر، بے بس و بے سہارا اور معصوم بچوں کی معقول غذا، دیکھ ریکھ اور پرورش کا انتظام ماں کی بالکل بے لوث ممتا کے ذریعہ اور اس کی دیگر ضرورتوں کی تکمیل اور ہر طرح کی کفالت ارر تعلیم وتربیت کا انتظام باپ کی عنایتوں اور توجہ کے ذریعہ کیا۔
    والدین کے لیے سہارا:
    اگر شادی اور نکاح کے ذریعہ بچپن میں بچوں کی ضروریات کا انتظام کیا گیا تو بڑھاپے میں انہیں بچوں کو والدین کا سرمایہ اور سہارا بنا دیا گیا اور اللہ تعالی کی عبادت کے بعد والدین کو سب سے بڑا رتبہ دیا گیا اور بچوں سے مطالبہ کیا گیا کہ ان کے ساتھ ہر حال میں حسن سلوک، ان کی تمام ضروریات کی فکر اور ان کی ہر طرح خبر گیری فریضہ سمجھ کر انجام دیں۔
    رشتوں اور قرابت داری کا ذریعہ:
    نکاح اور شادی صرف میاں بیوی یا چند سسرالی رشتہ داری کا ہی ذریعہ نہیں بلکہ اس مقدس عمل نکاح کے ذریعہ اللہ تعالیٰ نے ہر طرح کی رشتہ داری کو مربوط کردیا اور اسی کے ثمرہ کے طور پر دادیہالی اور ننہالی رشتہ داریوںسے بھی نوازا ۔ لہذا دادیہالی رشتہ داروں میں چچا، پھوپھی اور چچازاد و پھوپھی ذاد رشتے، اور ننہالی رشتہ داروں میں ماموں، خالہ اور ماموں زاد و خالہ زاد رشتے عطا فرماکر سماجی ضرورتیںواآسان بنادیں اور باہمی صلہ رحمی کا پابند کیا۔
    عفت و پاکدامنی کا ذریعہ:
    نکاح کو اللہ تعالی نے فطری جنسی خواہشوں کی تکمیل کا شرعی اور شائستہ طریقہ بنایا اور اس طرح انسان کی فطری ضرورت کا ایسا حل پیش کیا جو ایک طرف بے شمار اجر و ثواب کا سبب ہے تو دوسری طرف بدنگاہی سے بچنے کا ذریعہ، عفت و پاکدامنی کا نسخہ اور انسانی عزت وآبرو کے تحفظ کا الہی فطری نظام بھی ہےاسی لیے اس کو عبد اللہ بن مسعود کی روایت میں بدنگاہی سے بچنے اور شرمگاہ کی حفاظت کا سبب قرار دیا گیا۔” يَا مَعْشَرَ الشَّبَابِ، مَنِ اسْتَطَاعَ مِنْكُمُ الْبَاءَةَ فَلْيَتَزَوَّجْ، فَإِنَّهُ أَغَضُّ لِلْبَصَرِ، وَأَحْصَنُ لِلْفَرْجِ” (مُتَّفَقٌ عَلَيْهِ عَنْ عَبْدِاللَّهِ بْنِ مَسْعُودٍ)
    نسل انسانی کا تحفظ اور شبہات کاازالہ :
    نکاح اور شادی فطری جنسی خواہشات کی تکمیل، نئی نسل کے وجود، پیدائش اور اس کی وجہ سے پیدا ہونے والے بچوں کی کفالت اور پرورش کا ذریعہ بھی ہے۔اسی لیے خاتون کو بیک وقت ایک مرد کے ساتھ وابستہ کرکے نسل انسانی کا تحفظ، نطفۂ انسانی کے مشتبہ ہونے کے امکان کو ختم کرنے اور نو مولود بچے کے تئیں ماں باپ کو اپنی ذمہ داریاں ادا کرنے کا پابند کیا گیا اور اس کو یقینی بنادیا گیا کہ اصل باپ اور پرورش وکفالت کا ذمہ دار معلوم و متعین رہے اس میں کسی طرح کا شک و شبہ نہ رہے۔
    صدقہ جاریہ:
    شادی، نکاح اور اس کی وجہ سے قائم ازدواجی رشتہ نسل انسانی وجود اور اولاد کی نعمت کے حصول کا جائز ذریعہ ہے اور اولاد کا حصول شادی کے اہم مقاصد میں ہے اسی لیے اولادکے لیے انبیاء کرام نے بھی دعائیں کی اور اللہ نے انھیں نا صرف دنیوی زندگی کی زینت، بڑھاپے کا سہارا اوران کی تربیت کو اخروی زندگی میں بہت سارے اجروثواب کا ذریعہ بنا یا بلکہ والدین کے لیے صدقہ جاریہ بھی بنادیا”
    اجر و ثواب کا ذریعہ:
    مسنون نکاح اورجائز ازدواجی تعلقات آپسی سکون، جنسی تسکین، اولاد کی پیدائش کا سبب، صدقہ جاریہ اور دیگر بہت ساری خوبیوں کے ساتھ اجر و ثواب کا ذریعہ بھی

  • ایک سونے کا پھل اور باپ بیٹا – تحریر صادق سعید

    ایک سونے کا پھل اور باپ بیٹا – تحریر صادق سعید

    یہ کہانی ہے ایک باپ اور بیٹے کی جو ایک دن اسکوٹر پر کہی جا رہے ہوتے ہیں اور باپ کی نظر اچانک پڑتی ہے روڈ کی سائٹ میں کچھ لڑکے کیچڑ میں کچھ تلاش کر رہے ہیں۔

    تو باپ اپنا اسکوٹر وہاں جاکر روکتا ہے اور جاکر لڑکوں سے پوچھتا ہے کیا تلاش کر رہے ہو یہاں پر؟ تو ایک لڑکا بولتا ہے کیا آپ کو نظر نہیں آرہا ہے کے سامنے ایک گولڈ کا پھل پڑا ہے ہم اس پھل کو حاصل کرنے کی کوشش کر رہے ہیں۔

    باپ کا دھیان یہ بات سنتے ہی سونے کے پھل کی طرف جاتا ہے  جو چمک رہا ہوتا ہے اور باپ کے دماگ میں خیالات آنا شروع ہوجاتے ہیں کے کاش یہ پھل میرے بیٹے کے پاس آجائے تو نہ صرف میرے بیٹے کی بلکہ میری بھی قسمت بدل جائے گی۔

    باپ بنا سوچے سمجھے  اپنے بیٹے کو کیچڑ میں دھکا مار دیتا ہے اور بیٹے کو بولتا ہے تجھے کسی بھی قیمت پر یہ سونے کا پھل حاصل کرنا ہے لیکن بیٹے کو وہ پھل نہیں چاہیئے ہوتا أس کے اپنے کچھ اور ہی خواب ہوتے ہیں وہ بہت کوشش کرتا ہے اپنے باپ کو یہ سمجھانے کی کے میری خوشی اس سونے کے پھل میں نہیں ہے میری خوشی کہی اور ہے میرے خواب کچھ اور ہیں لیکن باپ أس کی ایک بات نہیں سنتا باپ أس کو دھکا مارتا ہے کیچڑ میں اور بولتا ہے میں تجھ سے پوچھ نہیں رہا ہوں میں تجھے بتا رہا ہوں کے تجھے وہ سونے کا پھل لیکر آنا ہے۔

    تو بیٹا بھی اپنے باپ کے خواب کو سچ کرنے کے لیئے اپنی پوری جان لگا دیتا ہے اور پوری کوشش کرتا ہے کے کسی طرح یہ سونے کا پھل ہاتھ میں آجائے لیکن جیسے جیسے وہ کیچڑ میں ہاتھ پیر مارتا ہے پھل کو پکڑنے کے لیئے اور نیچے دھسنے لگ جاتا ہے اور پھر جا کر بیٹے کو سمجھ آتا ہے کے یہ کیچڑ نہیں ہے یہ دلدل ہے وہ چیختا ہے چلاتا ہے آواز لگاتا ہے لیکن أس کا باپ اس کی ایک بات بھی نہیں سنتے اور کہتے ہیں بہانے نہیں بنا اور بھی لوگ ہیں کیچڑ میں جو کوشش کر رہے ہیں جب وہ کر سکتے ہیں تو پھر تو کیوں نہیں کرسکتا تو ایک بار وہ پھر سے کوشش کرتا ہے اور پوری جان لگا دیتا ہے لیکن اس کے بعد بھی اس کے ہاتھ میں کچھ نہیں آتا ہے اور بیٹا دھیرے دھیرے دھستا چلا جاتا ہے اور مر جاتا ہے۔

    تب جا کر أس کے باپ کو احساس ہوتا ہے کے أس سے کتنی بڑی غلطی ہوئی ہے وہ وہیں بیٹھ کر رو رہا ہوتا ہے چیخ رہا ہوتا ہے تب وہا سے بزرگ کا گزر ہوتا ہے اور پوچھتا ہے تم کیوں رو رہے ہو؟ پھر باپ أس سونے کے پھل کی طرف اشارہ کرتے ہوئے بزرگ کو اپنی پوری بات بتاتا ہے اور بولتا ہے اس میں میری کیا غلطی ہے؟ میں تو جو کچھ بھی کیا اپنے بیٹے کی خوشی کے لیئے کیا۔ تو وہ بزرگ أس سونے کے پھل کو بہت غور سے دیکھتا ہے اور کہتا ہے جس سونے کے پھل کی وجہ سے تم نے اپنے بیٹے کو گوا دیا کم سے کم ایک بار غور سے اس پھل کی طرف دیکھا تو ہوتا کے وہاں پر کوئی پھل ہے بھی یا نہیں یہ سن کر آدمی کو غصّہ آیا اور کہنے لگا سامنے تو نظر آرہا ہے سونے کا پھل آپ کو نہیں نظر آرہا کیا؟ 

    تو وہ بزرگ کیچڑ کی طرف اشارہ کرتے ہوئے جہاں ایک درخت ہوتا ہے بولتے ہیں وہ جسے تم دیکھ رہے ہو وہ ایک سایہ ہے اصلی پھل درخت پر ہے پھر بزرگ أس آدمی کو بولا کے اپنے بیٹے کو زبردستی کیچڑ میں دھکا دینے کے بجائے أس کو بتانے کے بجائے تیری خوشی کس میں ہے اگر تم نے أس سے پوچھا ہوتا کہ بیٹا تو بتا تو کیا کرنا چاہتا ہے اور تیری خوشی کس میں ہے؟ تو نہ صرف تمہارا بیٹا زندہ ہوتا بلکہ ہو سکتا ہے کے أس کے ہاتھ میں وہ اصلی سونے کا پھل ہوتا۔

    سبق لوگو کی رائے لینا چاہئیے اپنے بچوں کی خوشی کا خیال کیجئے اور لالچ میں آکر اپنے بچوں کی زندگی برباد نہیں کیجئے۔

    Name:

     Sadiq Saeed

    Twitter : SadiqSaeed_

  • صحبت کے زندگی پہ اثرات تحریر: زبیر احمد

    صحبت کے زندگی پہ اثرات تحریر: زبیر احمد

    انسان کی فطرت ہے کہ وہ ہمیشہ دوسروں کے ساتھ میل جول تعلقات بنانا پسند کرتا ہے اور ہمیشہ دوسروں کا ساتھ ڈھونڈتا رہتا ہے۔ شاید ہی کوئی ایسا انسان ہو جو اکیلا رہ کر زندگی گزارنا پسند کرے۔ کیونکہ قدرتی طور پہ انسان ایک سماجی حیوان ہے اور سماج میں رہنا پسند کرتا ہے۔ اکیلا رہنا خلاف فطرت ہے یہی وجہ ہے کہ انسان اپنی پسند اور طبعیت کے مطابق دوست بناتا ہے اور اچھی زندگی گزارنے کے لئے بھی انسان کو دوسروں کے ساتھ اور باہمی مدد کی ضرورت رہتی ہے۔ انسان پہ تعلیم کی نسبت صحبت کا زیادہ اثر ہوتا ہے۔ اچھی یا بری صحبت سے ہی انسان کے اپنے اخلاق کا بھی دارومدار ہے۔ انسان کی زندگی میں سکون اور تکلیف بھی صحبت سے ہی جڑے ہیں۔ جب ہمیں یہ بات معلوم ہوجاتی ہے کہ معاشرے میں رہنے کے لئے ہمیں دوسرے لوگوں کی ضرورت ہے تو یہ دیکھ لینا چاہئیے کہ جس کے ساتھ ہم وقت گزار رہے ہیں اٹھتے بیٹھتے ہیں اس کے اخلاق اور آداب کیسے ہیں کیونکہ دوستوں کے اخلاق کا اثر خود انسان پہ بھی پڑتا ہے جو شخص اچھے اور نیک دوستوں کی صحبت میں رہتا ہے اس کے اپنے اخلاق بھی ویسے ہوجاتے ہیں۔ اگر خدانخواستہ ہماری دوستی کسی ایسے شخص سے ہوجائے جو بری عادات کا شکار ہو تو وہ عادات ہم میں منتقل ہونے میں دیر نہیں لگے گی۔ اچھے لوگوں کے ساتھ میل ملاپ رکھیں گے تو معاشرہ بھی آپ کو ویسے  ہی اچھی نظر سے دیکھے گا اسی طرح اگر کوئی بروں کی صحبت میں رہتا ہے تو لوگ اس کو بھی برا ہی سمجھتے ہیں۔ نیک صحبت کی عادت بچوں کو بچپن سے ہی ڈالنی چاہیے۔بچوں کا دل جلدی اثر لیتا ہے اس لئے ان پر دوسروں کا اثر فوری ہونے لگتا ہے۔ شیخ سعدی اپنی مشہور کتاب ”گلستان سعدی” کے دیباچے میں لکھتے ہیں کہ ایک دن حمام میں میرے دوست نے مجھے خوشبو والی مٹی دی میں نے اس مٹی سے پوچھا کہ تو مشک ہے یا عنبر ہے؟ تیری خوشبو نے تو مجھے مست کر دیا ہے ،مٹی کہنے لگی میں تو مٹی ہی ہوں مگر ایک عرصہ تک پھولوں کی صحبت میں رہی ہوں یہ میرے ہم نشیں کے جمال کا اثر ہے ورنہ میں تو وہی مٹی ہوں۔ اللہ تعالٰی نے انسان میں یہ خصوصیت رکھی ہے کہ وہ دوسرے کے اثر بہت جلد قبول کرتا ہے۔ﷲ تعالٰی  نے ارشاد فرمایا: "اے ایمان والو! تقوی اختیار کرو اور صادقین کی صحبت اختیار کرو۔”(التوبۃ 119)۔

    اچھی صحبت کے فضیلت میں آپ صلی اﷲ علیہ وآلہ وسلم فرماتے ہیں”اچھی مجلس اور بری مجلس کی مثال اس طرح ہے جس طرح خوشبو بیچنے والے اور بھٹی سلگانے والے کی مثال ہے ، اگر عطار تمہیں خوشبو نہ بھی دے تب بھی اس کی خوشبو تمہیں پہنچ کر رہے گی، اور لوہار کی بھٹی کی چنگاری تمہارے کپڑے نہ بھی جلائے تو اس کا دھواں تمہارے کپڑے میلے ضرور کردے گا۔(بخاری، مسلم)۔ بزرگ فرماتے ہیں کہ اگر نیک لوگوں کی صحبت میسر نہ ہو تو ان کی زندگی کے احوال، واقعات، اقوال، نصیحتیں پڑھنا اور ان پہ عمل پیرا ہونا بھی ان کی صحبت میں رہنے جیسا ہی ہے۔

    اچھے لوگوں سے میل جول اور ان سے تعلق اختیار کرنا انسان کی زندگی میں مثبت تبدیلی لانے میں اہم کردار ادا کرتا ہے اور ایسے لوگوں کی صحبت کی وجہ سے اصلاح بہت زیادہ ہوتی ہے اور انسان کا معاشرے میں عزت وقار میں اضافہ ہوتا ہے

    @KharnalZ

  • یومِ دفاع  تحریر : خالد اقبال عطاری

    یومِ دفاع تحریر : خالد اقبال عطاری

     

     ہر سال پاکستان میں اور بیرونِ ملک بسنے والے پاکستانی 6 ستمبر کو یوم دفاع کے طور پر مناتے ہیں. یہ دن پاکستان اور بھارت کی 1965 کی جنگ میں افواج پاکستان کی ناقابلِ تسخیر دفاعی کارکردگی اور قربانیوں کو خراجِ تحسین پیش کرنے کے لئے منایا جاتا ہے.

    یوم دفاع کا مقصد پاکستان کے دفاع اور عسکری طاقت کو مضبوط کرنے کی یاد دہانی ہے تاکہ ہر آنے والے دن میں کسی بھی حملے میں بطریق احسن نمٹا جا سکے. یوم دفاع کی یاد ہمارے اسکولوں، کالجوں کے علاوہ سرکاری دفاتر میں اس جنگ کے شہدا کو اور غازیوں کو خراج تحسین پیش کیا جاتا ہے اور بھارتی فوج جو بڑے غرور و تکبر کے ساتھ لاہور میں ناشتہ کرنے کا دعوہ کرتے پاکستان پر حملہ آور ہوئی تھی، کی پسپائی اور شکست کا تزکرہ کیا جاتا ہے. جس میں اسے بدترین شکست کا سامنا کرنا پڑا تھا.ہر پاکستانی اپنی افواج کے دفاع پر فخر کرتا ہے اور یقین رکھتا ہے کہ پاکستانی فوج ہر محاذ پر سرخرو ہے.

    6 ستمبر 1965 کا دن عسکری اعتبار سے تاریخ عالم میں کبھی نہ بھولنے والے والا قابل فخر دن ہے. جب کئی گنا بڑے ملک بھارت، افرادی تعداد میں کئی گنا بڑا،

    لشکر اور دفاعی سازو سامان کے ساتھ اپنے پڑوسی اور اپنے سے چھوٹے ملک پاکستان پر بغیر کسی اعلان کے رات کے اندھیرے میں حملہ کردیا. اس چھوٹے اور غیور وطن کے سپاہیوں نے  اپنے دشمن کے جنگی حملے کا  اس جوانمردی و ہمت سے مقابلہ کیا کہ دشمن کے سارے عزائم خاک میں مل گئے. عالمی سطح پر بھارت کو شرمندگی کا سامنا کرنا پڑا.

    1965 کی جنگ میں ثابت ہوا کہ جنگیں ریاستی عوام اور فوج متحد ہو کر لڑی اور جیتی جا سکتی ہے. پاکستانی قوم نے اپنے ملک سے محبت اور مسلح افواج کی پیشہ ورانہ مہارت اور جانثاری کے جرات مندانہ جزبے نے ملکر ناممکن کو ممکن بنایا.

    جب 6 ستمبر کی صبح بھارتی فوج نے حملہ کیا تو فوراً ہی پاکستانی قوم،  فوجی جوان اور افسران، سارے سرکاری ملازمین جاگ کر اپنے فرائض کی ادائیگی میں مصروف ہوگئے. پاکستانی افواج نے ہر جارجیت اور پیش قدمی کو حب الوطنی اور پیشہ ورانہ صلاحیتوں سے روکا ہی نہیں بلکہ ان پسپا ہونے پر مجبور کردیا تھا ہندوستانی فوج کے افسر کے جو دعوے تھے ہماری مسلح افواج نے اسکے  منہ پر وہ طمانچے مارے کے ساری زندگی وہ اپنا منہ ہی چھپاتا پھرا. لاہور کے سیکٹر کو میجر عزیز بھٹی شہید نے سنبھالا جان دے دی مگر وطن کی مٹی پر آنچ نہیں آنے دی. 

    پاکستانی فوج 

    چونڈہ کے مقام پر(ہندوستان کا اہم اور پسندیدہ محاذ تھا) جنگ میں پاکستانی فوج کے جوانوں نے اسلحہ و بارود سے نہیں اپنے جسموں سے بم باندھ کر ہندوستانی فوج اور ٹینکوں کا قبرستان بنا دیا. ہندوستان کے اس نقصان اور تباہی کو دیکھ کر باہر سے آئے ہوئے انٹرنیشنل صحافی بھی پاکستانی افواج کی دلیری اور بہادری دیکھ کر حیران رہ گئے.

    اللہ تعالیٰ افواج پاکستان اور ہمارے ملک کی جغرافیائی سرحدوں اور عوام پاکستان کی حفاظت فرمائے اور انہیں مزید ترقیاں اور عروج عطا فرمائے.

    ‎@AttariKhalid1