Baaghi TV

Category: معاشرہ و ثقافت

  • اخلاقیات تحریر: فروا نذیر

    اخلاقیات تحریر: فروا نذیر

    اللہ تعالیٰ نے انسان کیلیے بے شمار نعمتیں پیدا کیں تا کہ اسکی ہر ضرورت کو پورا کیا جا سکے
    پوری دنیا و کائنات اس واحد لاشریک کی ہے اور انسان خوش قسمت ہے جسے اشرف المخلوقات بنایا فرشتوں کو بھی اللہ بناسکتا تھا لیکن اللہ نے صرف انسان کو یہ چصاہمیت اور مرتبہ دیا۔

    اللہ نے انسان کیلیے کچھ حقائق رکھے
    جہاں اللہ نے انسان کو نعمتوں سے نوازا وہی انسان پر کچھ ذمہ داریاں ہیں

    میں آج اخلاق پر بات کرو گی اپنی اس تحریر میں
    انسان کو اپنے آپ کو دیکھنا چاہیے کہ وہ کیسا ہے کیا ہے اور کہاں کھڑا ہے۔۔۔؟

    انسان چاہے دنیا کی ساری ڈگریاں حاصل کرلیں لیکن اگر اس کے پاس اچھا اخلاق نہیں تو وہ دنیا کا سب سے ناکام ترین انسان ہے

    یہ دنیا فانی ہے سب نے ایک دن فنا ہوجانا ہے آج نہیں تو کل۔۔کل نہیں تو پرسوں لیکن اس فانی دنیا سے سبکو ہی کوچ کرنا ہے
    انسان کے ساتھ سب کچھ ختم ہوجاتا ہے سب کچھ دفن ہوجاتا ہے سوائے ایک چیز کے اور وہ یے ۔۔۔*اخلاق*

    اخلاق ہمیشہ قائم رہے گا

    آجکل انسان چاہے ترقی کرگیا ہے لیکن انسانوں میں اخلاقیات کی کمی ہے

    اخلاق کیسا ہونا چاہیے!!!!
    تمہارے اخلاق عالیشان ہونے چاہیے تمہیں درگزر کرنا اتا ہے سب کو منانا آتا ہو سب کو برداشت کرنا آتا ہو
    ہر انسان کی بات چاہے کڑوی ہو برداشت کرنا سیکھو
    اگر کوئی تمہارے خلاف ہوگیا یے تو اسے معاف کرو
    ہمیشہ بات میں پہل کرو
    لوگوں سے اختلاف نہ کرو
    اختلاف کے باوجود تم اسے معاف کردوں
    تمہیں اپنی رائے سے ہٹنا آتا ہو
    تمہیں دوسروں کا انکار سننا آتا ہو
    تمہیں لوگوں کی تلخیوں کو برداشت کرنا آتا ہے

    اسلام میں صرف نماز روزہ زکوۃ ہی نہیں ہیں یہ تو دین کی عمارت ہیں لیکن یہ اخلاق تمہارے ایمان کا بہترین جزو ہے
    معاف کرنے والی ذات بیشک اللہ کی ہے
    لیکن اس دنیا میں رہتے ہوئے تم دوستوں کو معاف کردوں چاہے بہت بڑی غلطی ہو یا کوئی بڑا بول کہہ دیں

    تم اپنے اندر صبر کی طاقت کو پیدا کرو برداشت پیدا کرو تمہارا اخلاق بہترین ہے اگر تم لوگوں ساتھ اچھا سلوک کرتے ہو چاہے وہ دشمن ہی ہو
    تم ہر کام میں صبر سے کام لیتے ہو تو تم کامیاب انسان ہو

    اور جو یہ سب نہیں کرتا وہ بیشک ناکام انسان ہے

    اپنے اخلاق کو بہتر بنا لوں
    جو لوگوں ساتھ برا سلوک کرتا کلمہ پڑھنے والا جنت اور دوزخ پر ایمان رکھنے والا یہ کرتا تو اللہ معاف نہیں کرتا

    اپنے اخلاق کو اپنی پہچان بناو کہ مرنے کے بعد تمہیں یاد رکھاجائے
    اپنے اندر آس پاس لوگوں کو آزمائش میں صبر کرنے کا عمل بتاؤ

    بیشک صبر انسان کی سب سے بڑی طاقت ہے
    چپ رہنا سیکھو خاموش رہنا سیکھو
     
    صبر کو اپنا کر تم ایسی طاقت بن جاؤ گے کہ کوئی تمہیں ہرا نہیں سکتا

    لیکن اگر میں حقیقت بیان کرو تو سب کچھ اس کے برعکس ہورہا ہے ہر انسان ایک دوسرے کو سمجھے اور جانے بغیر برا کہہ رہا ہے انسان میں صبر ختم ہوچکا ہے

    کیا ہمارے نبی نے یہ سب مسلمانوں کو اپنی امت کو تعلیمات دی جو اب سب نے اپنا رکھی ہیں!!!

    ابھی بھی وقت ہے ٹھہر جاؤ رک جاؤ اپنے آپ کو سدھار لو
    صبر کا اپنی طاقت بنالو میرے رب کی قسم!! اتنا سکون حاصل کرو گے کہ سب پیسہ چیزیں بھول جاؤ گے
    یاد ہو گا تو بس اللہ اس کے لاتعداد نعمتیں؛؛؛

    میرا اس تحریر کو لکھنے کا مقصد کسی کی دل ازاری نہیں کسی کو مشکل میں ڈالنا نہیں ہے

    بس اتنا کہوں گی کہ اپنے آپ کو پہچانو
    اپنے اخلاق کو خوبصورت کرلو
    تاکہ دنیا اور آخرت سنور جائے!!!!!!

    اللہ پاک سے دعا یے کہ اللہ تعالیٰ ہمارے اخلاق کو دوسروں کیلئے راحت کا باعث بنادیں
    سیدھے راستے پر چلنے کی توفیق دیں

    آمین ثمہ آمین

  • بے حیائی معاشرے کا زوال تحریر : محسنؔ خان

    بے حیائی معاشرے کا زوال تحریر : محسنؔ خان


     

    اسلامی معاشرہ ہونے کے باوجود صورتحال اس قدر گھمبیر ہو چکی ہے کہ کوئی ہم میں فرق کرے تو ایک پل میں یہود و نصاریٰ کے ساتھ ملا دے ہم اپنی اخلاقی و دینی روایات کھوچکے ہیں جس کی وجہ سے بین الاقوامی سطح پہ رسوائی ہمارا مقدر بن چکی ہے دنیاوی لحاظ سے تو ہم خود کو ماڈرن کہہ لیں گے مگردینی لحاظ سے بدترین لوگوں میں شمار ہوں گے اور عذاب الٰہی کو دعوت دیے رہے ہیں

    پاکستان ایک مسلم مملکت ہے اور اسے اسلام کا قلعہ کہا جاتا ہے مگر اسلام دشمن ایجنڈوں نے مسلم قوم کو ذہنی عیاشی اور عورت کی حوس کے اسباب پیداکر دیے ہیں جو بظاہر تو کچھ بھی نہیں مگر ان کے درپردہ خطرناک حد تک منصوبہ بندی کی گئی ہے.

    اکثر و پیشتر واقعات ایسے ہیں جن کی وجہ سے دین اسلام اور پاکستان کی بدنامی عالمی سطح پر ہوئی اور اسلام مخالف لوگوں کو اسلام پہ بھونکنے کا موقع مل گیا جہاں پر سوشل میڈیا کا فائدہ ہے اس سے زیادہاس کے نقصانات ہیں 

    مسلم قوم کو عریانی و بے حیائی کا دلدادہ کرنے کیلیے چند ایک موبائل ایپلیکشنز متعارف کروائی گئی ہیں جہاں مرد و عورت بنا کسی لحاظ کے ناچتے ہوئے نظر آتے ہیں جن میں, ٹک ٹاک, سنیک ویڈیو, اور لائیکی جیسی ایپلیکیشنز قابلِ ذکر ہیں نوجوان نسل کو سستی شہرت اور چند پیسے دینے کے عوض ان کا کردار خراب کیا جا رہا ہے ان میں سے تو اکثرایسے لوگ ہیں جن کے گھر والے بھی ان کو اس قبیح فعل سے بعض نہیں رکھتے بلکہ ان کے ساتھ ملکر ویڈیوز بناتے ہیں اور ساتھ سپورٹ کرتے ہیں اس ناسور کا شکار ناکہ نوجوان نسل بلکہ ان کے والدین بھی ہیں 

    اور یہی وجوہات معاشرے میں بدفعلی, بد امنی, اور زنا کا باعث بنتی ہیں اور اسلام بدنامی کا سبب بنتی ہیں 

    ہر طرف مسلم دشمن مسلم قوم کے کردار پہ وار کرتے نظر آتے ہیں بے حیائی کا بڑا ثبوت ہمارے معاشرے میں گردش کرنے والے فلمیں, ڈرامے ,اشتہارات اور فحش ٹاک شوز اور مارننگ شوز ہیں جن میں سرعام بے حیائی کا مظاہرہ کیا جا رہا ہے 

    یہ سچ ہے کہ اخلاقی اقدار کی کمی مردوں میں بے حیائی کا باعث بنتی ہے مگر جہاں مرد قصور وار ہیں وہیں عورتیں بھی قصور وار ہیں اسی لیے اسلام مرد ہو یا عورت دونوں کو حیا کی پاسداری کی تلقین کرتا ہے 

    قرآن مجید میں سورۃ النور کی آیت نمبر 19 میں بے حیائی پھیلانے والوں کیلیے کھلی وعید سنائی گئی ہے

    اِنَّ الَّـذِيْنَ يُحِبُّوْنَ اَنْ تَشِيْعَ الْفَاحِشَةُ فِى الَّـذِيْنَ اٰمَنُـوْا لَـهُـمْ عَذَابٌ اَلِيْـمٌ فِى الـدُّنْيَا وَالْاٰخِرَةِ ۚ وَاللّـٰهُ يَعْلَمُ وَاَنْتُـمْ لَا تَعْلَمُوْنَ (19)

    ترجمہ :

    "بے شک جو لوگ چاہتے ہیں کہ ایمانداروں میں بدکاری کا چرچا ہو ان کے لیے دنیا اور آخرت میں دردناک عذاب ہے، اور اللہ جانتا ہے اور تم نہیں جانتے۔”

    اسی طرح حضور صلی اللّہ علیہ وآلہ وسلم کا ارشاد ہے کہ 

    "حیا ایمان کا حصہ ہے اور ایمان جنت میں پہنچاتا ہے جبکہ بے حیائی و بدکلامی سنگدلی ہے اور سنگدلی جہنم میں پہنچاتی ہے”

    فاتح بیت المقدس سلطان صلاح الدین ایوبی رح کا مشہور قول ہے کہ 

    "اگر کسی قوم کو بغیر جنگ کے شکست دینی ہو تو، اُس قوم کے جوانوں میں بے حیائی پھیلا دو۔۔!!”

    حاکمِ وقت کو ان تمام برائیوں پہ کنٹرول ہونا چاہیے اور ہم مطالبہ کرتے ہیں کہ ایسے سارے اشتہارات, ڈرامے, فلمیں, اور مارننگ شو بند کریں جو اسلام مخالف ایجنڈے کی مدد کر رہے ہیں یعنی بے حیائی پھیلا رہے ہیں 

    اللّہ تعالیٰ ہم سب کو عمل کی توفیق عطا کرے آمین ثم آمین

    Twitter name : alpha_zairo

  • ‏مسائل کا حل ہے؟ کیا خودکشی ہی ہمارے تحریر:نثاراحمد تحریر

    ‏مسائل کا حل ہے؟ کیا خودکشی ہی ہمارے تحریر:نثاراحمد تحریر

    یہ زندگی اللہ تعالیٰ کا ایک ایسا عظیم ترین تحفہ ہے جس کا شکر ہم جتنی بار ادا کرے گے کم ہوگا۔ اللہ تعالیٰ نے انسان کو پیدا کیا پھر اس دنیا فانی میں لایا۔ ہر انسان کو بے شمار نعمتوں سے نوازا۔ اب کسی کو کم دولت دی تو کسی کو ذیادہ ، کسی کو ذیادہ خوبصورتی بجشی تو کسی کو اسے کم لیکن ہر چیز کو اسکی خوبیاں اور خامیاں بخشی۔ کسی میں ایک خوبی رکھی تو کسی میں دوسری۔ اب اس زندگی کی حفاظت کرنا اسکو صحیح طریقے سے گزارنا ہمارا فرض ہیں اور اللہ تعالیٰ کے نزدیک سب سے زیادہ پیارا وہی ہے جو اس کے طریقے پر چلے اور اس کی آزمائشوں پر صبر سے کام لے۔ اللہ تعالیٰ اپنے بندوں سے بہت محبت کرتے ہے اسی لیے انکو اتنی ہی آزمائشوں سے گزارتا ہیں۔ آزمائشوں کا سلسلہ آدم علیہ السلام اور حضرت حوّا علیہ السلام سے چلا آ رہا ہے۔ انکو جنت دی گئی تو وہ بھی انکے لیے ایک آزمائش تھی۔ جس طرح حضرت آدم علیہ السلام اور حضرت حوّا علیہ وسلم کو جنت کے ذریعے آزمایا گیا اسی طرح ہر ایک پیغمبر کو آزمائشوں سے گزرنا پڑا۔ اور انہی آزمائشوں پر صبر کرکے وہ اللہ تعالیٰ کے محبوب بندے بن گے۔ اسی طرح ہمارے پیارے رسول صلی اللہ علیہ وسلم کو بھی کتنی آزمائشوں سے گزرنا پڑا، کتنے ہی تکالیف کا سامنا کرنا پڑا اس بات کا پتہ ہمیں سیرتِ نبوی صلی اللہ علیہ وسلم کا مطالعہ کرنے سے پتہ چلتا ہے۔
    غرض ہر انسان کی زندگی میں آزمائشیں آتی رہتی ہیں کبھی مال کی صورت میں، کبھی صحت تو کبھی کچھ اور۔ اللہ تعالیٰ اپنے بندوں کو آزماتے رہتے ہیں اسلیے نہیں کہ وہ کمزور ہوکر زندگی کو چھوڑ کر موت کو گلے لگاے بلکہ اس لیے تاکہ انکا ایمان اور زیادہ مضبوط ہو اور وہ اور زیادہ اللہ تعالیٰ کے محبوب بندے بن جاہیں۔ جو لوگ ان آزمائشوں میں صبر اور شکر کرتے ہیں وہی لوگ ہیں جو دونوں جہانوں میں کامیاب ہوتے ہیں اور جو لوگ بے صبری اور ناشکری کرتے ہیں وہی لوگ ہیں جو دونوں جہانوں میں ناکام رہتے ہیں۔
    مشکلات، تکالیف، دکھ، درد یہ سب زندگی کا ایک حصہ ہے نہ کہ پوری زندگی۔ یہ سب چیزیں صرف وقتی ہیں ابدی نہیں۔ آج اگر مشکل ہے تو کل آسانی بھی ہوگی۔ جس طرح ہر رات کے بعد دن ہوتا ہے اسی طرح اللہ تعالیٰ مشکلات کے بعد آسانی بھی پیدا کرتے ہے۔ وہ اللہ تعالیٰ رحمٰن و رحیم ہے وہ اپنے بندوں سے ستر ماؤں سے زیادہ محبت کرتے ہے اور اللہ تعالیٰ ایک بندے کو سب کچھ اسکی وسعت کے مطابق دیتا ہے چاہے وہ خوشی ہو یا غم۔ ہر چیز کا ایک وقت ہوتا ہے اور وہ وقت کے ساتھ ساتھ بدلتی ہے۔ جس طرح آسمان میں ہمیشہ بادل نہیں رہتے اسی طرح زندگی میں بھی ہمیشہ مشکلات نہیں رہتی۔
    جس طرح ہر سوال کا جواب ڈھونڈنے سے ملتا ہے اسی طرح ہمارے ذہنوں میں پیدا شدہ سوالات کا جواب بھی ہمیں تلاش کرنے چاہئیں۔ اگر ہمیں کسی سوال کا جواب نہ ملے اسکا مطلب یہ نہیں ہے کہ سوال کو ہی مٹا دیا جائے سوال کو مٹانا سوال کا حل نہیں بلکہ اس کا جواب تلاش کرنا ہی اسکا حل ہیں۔ اسی طرح زندگی میں آنے والی پریشانیوں کا حل تلاش کرنا چاہیے نا کہ خودکشی کر کے زندگی کو ہی ختم کرنا چاہیے خودکشی کرنا ہمارے مسائل کا ہرگز حل نہیں۔
    اگر ہم دیکھیں گے تو آج کل کے دور میں ہر کوئی اپنے مستقبل کو لے کر فکر مند ہیں۔ خاص کر ہمارے نوجوان جو اپنے مستقبل کو لے کر اتنے فکر مند ہیں کہ اب وہ ذہنی مریض بن چکے ہیں۔ لیکن کیا ہم نے کبھی اس بات پر غور کیا ہے کہ مستقبل کس کے ہاتھ میں ہے، مستقبل کا مالک کون ہے تو جو چیز ہمارے بس میں نہیں اسکے بارے میں پریشان ہونے سے کیا ملے گا۔ ہمارے مستقبل میں جو کچھ بھی ہے نہ ہم اسکو وقت سے پہلے دیکھ سکتے ہیں اور نہ ہی اس کو بدلنے کی طاقت ہم میں ہے۔ اسکا مالک اللہ تعالیٰ ہے اور وہ بہترین فیصلہ کرنے والا ہے بس ایک انسان کو کوشش کرنی ہے اور اپنے ایمان کو مضبوط کرنا ہے۔ کتنے ہی لوگوں نے صرف مستقبل کے بارے میں پریشان ہو کر زندگی کو چھوڑ کر موت کو گلے لگا لیا تو کیا اسے انکا مستقبل سنور گیا نہیں بلکہ اس سے وہ ہمیشہ کے لیے اندھیرے میں چلے گئے۔ ہو سکتا ہوں کہ اللہ تعالیٰ نے انکے مستقبل میں کچھ ایسا لکھا ہوتا جس سے انکی پوری زندگی سنور جاتی۔ اگر ہم یہ سوچھ کر محنت کرے کہ مستقبل اللہ تعالیٰ کے ہاتھوں میں ہے وہ جو کریں گے بہترین کریں گے تو ہم کبھی زندگی سے ناامید نہیں ہونگے۔
    ہمیں یہ بات سمجھنی چاہیے کہ یہ زندگی اللہ تعالیٰ کی امانت ہے اور اس پر صرف اسی کا حق ہے۔ خودکشی کر کرنے والا شرک کرتا ہے اور مشرک کا ٹھکانہ جہنم ہے۔ اگر خودکشی کرنے والا ایک بار یہ بات ذہن میں لاے کہ اس دنیا کی اذیتوں سے کہی گناہ زیادہ اذیت ناک اس دنیا کا عذاب ہوگا اگر وہ ایک بار عذاب قبر کو یاد کرے گا، جہنم کے عذاب کو یاد کرے گا تو وہ کبھی مرنا نہیں چاہیے گا۔ آج کل کے سماج میں خودکشی ایک کھیل سا بن گیا ہے ہر کوئی مرنا چاہتا ہے لیکن موت کے بعد اسکے ساتھ کیا ہوگا اس بات سے ہر کوئی انجان بننے کی کوشش کر رہا ہے۔ جو انسان اس دنیا کی ذرہ سی تکلیف برداشت نہیں کر سکا وہ آخر قبر کی ہولناکیوں کو کیسے برداشت کر سکے گا، جہنم کی ان چنگاریوں کو کیسے برداشت کر پاے گا۔ وہاں تو موت کا سہارا بھی نہیں ہوگا نہ کوئی بچنے کا طریقہ ہوگا تو کیسے بچے گا وہاں۔
    یہ بات بھی ہمیں یاد رکھنی چاہیے کہ اللہ تعالیٰ نے ہمیں اشرف المخلوقات بنایا ہمیں دماغ دیا سوچنے سمجھنے کے لیے اور ہمارے پیارے نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے ہمیں سکھایا کہ ہمیں ایک دوسرے کی مدد کرنی چاہیے اگر ہمارا کوئی بھائی کسی پریشانی میں مبتلا ہے تو اس کی مدد کرنی چاہیے نا کہ اسکی پریشانی کی وجہ بنے۔ آج انسان ہی انسان کا سب سے بڑا دشمن بن گیا ہے اگر کسی انسان کی وجہ سے کوئی انسان اپنی زندگی ختم کرتاہے تو دوسرا بھی اسکے گناہ میں برابر کا حصہ دار ہے۔ ہمیں کوشش کرنی چاہیے کہ ہماری وجہ سے دوسروں کی زندگی سنور جائے ناکہ ہم انکی موت کی وجہ بن جائے۔ ہم آے دن دیکھتے ہیں کہ ہر روز دو چار خودکشیاں ہوتی رہتی ہے اور وہ خودکشی کرنے والے کوہی انپڑ جاہل لوگ نہیں بلکہ پڑھے لکھے لوگ کرتے ہیں آخر کیوں کس چیز کی کمی ہے ہمارے سماج میں؟ کمی ہے تو اخلاقی تعلیم کی، کمی ہے تو قرآن مجید اور سنتوں کو سمجھنے کی جن کو ہم نے پس پشت ڈال دیا ہیں۔ والدین کو چاہیے کہ اپنے بچوں کی اخلاقی تربیت میں کوئی کمی نہ رکھے تاکہ انکا ایمان اللہ تعالیٰ پر مضبوط ہو اور انکو خودکشی جیسے سنگین گناہ کا سہارا نہ لینا پڑے۔
    اللہ تعالیٰ ہم سب کی مشکلیں آسان فرمائے اور ہمارے ایمان کو بلندی بخشے اور ایمان والی عزت والی موت دیں۔ آمین

  • تمباکو نوشی کے نقصانات | رانا سعد صابری

    تمباکو نوشی کے نقصانات | رانا سعد صابری

    ورلڈ ہیلتھ آرگنائزیشن کے مطابق دنیا بھر میں سالانہ ساٹھ لاکھ افراد تمباکو نوشی سے ہونے والی بیماریوں میں مبتلا ہوکر مرجاتے ہیں۔ جن میں سے چھ لاکھ سے زیادہ افراد خود تمباکو نوشی نہیں کرتے بلکہ تمباکو نوشی کے ماحول میں موجود ہونے کے سبب اس کے دھوئیں کا شکار ہوجاتے ہیں۔ دنیا بھر میں ایک ارب سے زائد لوگ تمباکو نوشی کرتے ہیں جن میں سے اسی فیصد لوگ ترقی پذیر ممالک سے تعلق رکھتے ہیں۔ پاکستان، بھارت، فلپائن، تھائی لینڈ اور کمبوڈیا میں تمباکو نوش لوگوں کی شرح تیزی سے بڑھ رہی ہے اور اس اضافے کا بڑا سبب ان ممالک کا نوجوان طبقہ ہے۔ ترقی یافتہ ممالک میں جاپان اور چائنہ کے ساٹھ فیصد مرد حضرات سگریٹ نوشی کی عادت میں مبتلا ہیں۔ سگریٹ نوش آبادی میں بارہ فیصد خواتین شامل ہیں جب کہ روزانہ ایک لاکھ بچے سگریٹ نوشی شروع کردیتے ہیں۔ایک امریکی ڈاکٹر کا کہنا ہے کہ اس کے استعمال کرنے والے لڑکوں کے اخلاق پر بھی برا اثر پڑتا ہے۔ابتداء میں پینے والے کے رگ و ریشہ میں ایک خمار سا محسوس ہوتا ہے اس کے بعد ان میں سستی پیدا ہوجاتی ہے۔ اکثر طلباء کو بکثرت سگریٹ نوشی سے سیل یعنی تپ محرقہ (ٹی بی) کی بیماری ہونے لگتی ہے۔والدین، استادوں اور سماج کے معزز لوگوں کو مل کر حقہ نوشی اور سگریٹ نوشی کے خلاف موثر اقدام اٹھانے کی ضرورت ہے۔ دیکھا گیا ہے کہ اکثر ہونہار اور اچھے لڑکے سگریٹ نوشی کی وجہ سے تباہ و برباد ہو جاتے ہیں۔ تمباکو نوشی سے دل کے امراض اور پھیپھڑوں کے سرطان جیسی خطرناک بیماریاں ہوتی ہیں اور تمباکو نوشی کرنے والا اپنی اوسط عمر سے پندرہ سال پہلے دنیا سے گزر جاتاہے۔ طبی ماہرین کے مطابق ایک سگریٹ انسان کی عمر آٹھ منٹ تک کم کر دیتی ہے کیونکہ اس میں چار ہزار سے زائد نقصان دہ اجزاء موجود ہوتے ہیں۔اگر ہمارے وطن پاکستان کو اچھا مستقبل چاہیئے تو سگریٹ نوشی پر روک تھام کرنی چاہیئے۔ والدین سے گزارش ہے کہ بچوں کو تمباکو نوشی جیسے لت سے چھٹکارا حاصل کرنے میں ان کی مدد کریں۔ ان پر سختی کرنے اور مار پیٹ کے بجائے انہیں اس کے نقصان سے آگاہ کریں۔ چند لمحات کی تفریح کی غرض سے پی جانے والی سگریٹ ان کے آنے والے مستقبل کو تاریکی میں دھکیل سکتی ہے۔ سگریٹ، پائپ، سگار، حقہ، شیشہ اور تمباکو کو کھانے والا استعمال جیسا کہ پان، چھالیہ، گٹکا وغیرہ اور تمباکو سونگھنا جیسی تمام عادات خطرناک ہوتی ہیں۔ تمباکو میں موجود نکوٹین دماغ میں موجود کیمیکل مثلاً ڈوپامائن اور اینڈروفائن کی سطح بڑھادیتا ہے جس کی وجہ سے نشہ کی عادت پڑ جاتی ہے۔ یہ کیمیکل خوشی یا مستی کی حسیات کو بیدار کردیتے ہیں جس سے جسم کو تمباکو مصنوعات کی طلب ہونا شروع ہوجاتی ہے۔ ان عادات کو ترک کرنا کسی بھی فرد کے لئے بہت مشکل ہوجاتا ہے کیونکہ جسم میں نکوٹین کی کمی سے طبیعت میں پریشانی، اضطراب، بے چینی، ڈپریشن کے ساتھ ذہنی توجہ کا فقدان ہوجاتا ہے۔ تمباکونوشی بہت آہستگی کے ساتھ جسم کے مختلف اعضاء کو نقصان پہنچانا شروع کردیتی ہے اور ایک فرد کو کئی سالوں تک اپنے اندر ہونے والے نقصانات واضح نہیں ہوپاتے اور جب یہ نقصانات واضح ہونا شروع ہوتے ہیں تب تک جسم تمباکو کے نشے کا مکمل طور پر عادی ہوچکا ہوتا ہے اور اس سے جان چھڑانا بہت مشکل ہوجاتا ہے۔ تمباکو اور اس کے دھوئیں میں تقریباً چار ہزار کیمیکل موجود ہوتے ہیں جن میں اڑھائی سو کے قریب انسانی صحت کے لئے نہایت نقصان دہ پائے گئے ہیں اور پچاس سے زائد ایسے کیمیکل موجود ہوتے ہیں جو کینسر کا باعث بن سکتے ہیں۔ان میں سے چھ کیمیکل بینزین (پٹرولیم کی پروڈکٹ)، امونیا (ڈرائی کلیننگ اور واش رومز میں استعمال)، فارمل ڈی ہائیڈ (مُردوں کو محفوظ کرنے کا کیمیکل)اور تارکول شامل ہیں۔ تمباکو کے دھوئیں سے خون کی نالیاں سخت ہوجاتی ہیں جس سے ہارٹ اٹیک اور سٹروک کا خطرہ بڑھ جاتا ہے۔ اس دھوئیں میں موجود کاربن مونو آکسائیڈ گیس ہوتی ہے جو خون میں آکسیجن کی کمی کا باعث ہوتا ہے۔ سگریٹ نوش سانس کی بیماریوں کا شکار ہوجاتا ہے جس میں برونکائٹس (COPD) اور ایفی زیما (Emphysema) قابل ذکر ہیں۔ ایفی زیما میں پھیپھڑوں میں ہوا کی جگہیں بڑھ جاتی ہیں اس سے سانس لینے میں دشواری اور انفیکشن یعنی نمونیہ ہونے کاخطرہ رہتا ہے۔ اس حالت میں پھیپھڑوں کے ٹشو ہمیشہ کے لئے ٹوٹ پھوٹ جاتے ہیں جس سے مریض کو شدید کھانسی، سانس لینے میں دشواری اور دمہ کی علامات پیدا ہوجاتی ہیں۔ پھیپھڑوں کا نمونیہ ہونے کی صورت میں پھیپھڑوں کو مناسب آکسیجن نہیں ملتی، جس سے دوسرے اعضاء خاص طور پر دماغ بہت متاثر ہوتا ہے اور مریض کا سانس بند ہونے سے موت واقع ہوجاتی ہے۔ تمباکو نوشی کی وجہ سے دل کے دورہ (ہارٹ اٹیک) ہونے کا خطرہ بہت بڑھ جاتا ہے۔ عام افراد کی نسبت سگریٹ نوش کو دل کی بیماری ہونے کا خطرہ دگنا ہوتا ہے۔ تمباکو کا دھواں خون کی شریانوں کو سخت کرنے کا باعث بنتا ہے جس سے دل کے پٹھوں کو خون کی فراہمی رک جاتی ہے اور دل کا دورہ پڑ جاتا ہے۔ سگریٹ نوشی سے دماغ کے سٹروک (Isechemic Stroke) جس میں دماغ کو خون کی فراہمی کم ہوجاتی ہے اور ہیمرج (Hemorrhagic Stroke) جس میں دماغ میں موجود خون کی شریانیں پھٹ جاتی ہیں، کا خطرہ بہت بڑھ جاتا ہے۔ اس کے علاوہ سگریٹ نوشی کے دیگر نقصانات بھی ہیں جیسا کہ ہڈیوں کا کمزور ہوکر کولہے کی ہڈی کا ٹوٹ جانا، معدہ کا السر، چہرے اور جسم کی جلد پر جھریاں پڑجانا۔ تمباکونوشی کا سب سے زیادہ اورخطرناک نقصان پھیپھڑوں کو ہوتا ہے۔ پھیپھڑوں کی بیماریوں میں مبتلا تقریباً نوے فیصد لوگ موجودہ یا سابقہ تمباکو نوش ہوتے ہیں۔ جتنے زیادہ آپ سگریٹ پیتے ہیں اتنا ہی پھیپھڑوں کا کینسر ہونے کا خطرہ بڑھ جاتا ہے۔ سگریٹ پینے والی خواتین میں بھی بریسٹ کینسر ہونے کا احتمال بہت بڑھ جاتا ہے۔ اسی طرح تمباکو نوشی منہ گلا خوراک کی نالی (ایسوفیگس) کا کینسر، معدہ کا کینسر ، جگر کا کینسر ،مثانہ کا کینسر،لبلبہ اور گردے کا کینسرکا باعث بھی بنتا ہے۔ دل کی بیس فیصد بیماریاں سگریٹ نوشی کی وجہ سے ہوتی ہیں جبکہ دماغ کی کچھ نفسیاتی اور دیگر بیماریوں کا تعلق بھی تمباکو نوشی سے ہے۔ تمباکو چبانے اور سونگھنے والے افراد کو منہ، مسوڑھوں اور گلے کا کینسر ہونے کا بہت امکان ہوتا ہے۔ تمباکونوش وقت سے پہلے مرجاتے ہیں، جس سے جہاں ان کے خاندان اپنوں کی قربت سے محروم ہوجاتے ہیں وہیں وہ ان کی آمدنی سے بھی محروم ہوجاتے ہیں ۔ اسی طرح تمباکونوش افراد کے خاندان کے صحت کی دیکھ بھال کے اخراجات میں اضافہ ہوتا ہے اور ملکی طور پر بھی صحت کے اخراجات میں اضافہ ہونے سے ترقی کی راہ میں رکاوٹ پیدا ہوتی ہے۔ تمباکو کے دھوئیں سے تمباکونوش کے ساتھ رہنے والے لوگ بھی متاثر ہوتے ہیں۔ سگریٹ نوش کی طرح اُس کے گھر اور ساتھ کام کرنے والوں میں بھی سگریٹ کے دھوئیں کی وجہ سے اُن بیماریوں کا خطرہ بڑھ جاتا ہے جن کا ذکر پہلے کیا گیا ہے۔ بچوں کی صحت تمباکو کے دھوئیں سے شدید متاثر ہوتی ہے اور ان میں دمہ، سائی نیس انفیکشن، برونکائٹس اور دماغی معذوری کا خطرہ بہت بڑھ جاتا ہے۔

    مذکورہ بالا تمام منفی وجوہات کے سبب ایک فرد کو یہ سوچنا چاہئے کہ تمباکونوشی کی عادت سے نہ صرف اُس کی اپنی صحت کو نقصان پہنچ رہا ہے بلکہ اُس کے ساتھ رہنے والے بھی اُتنا ہی متاثر ہورہے ہیں۔ اس لئے بہتر یہ ہے کہ وہ فوری طور پر تمباکونوشی کو ترک کرنے کے لئے اقدامات کرے۔ اس کے لئے فزیشن سے مدد لی جاسکتی ہے جو مختلف ادویات اور کونسلنگ سے نکوٹین کی عادت سے مرحلہ وار آزادی دلاسکتا ہے۔ اگر کوئی تمباکو نوشی ترک کرنا چاہ رہا ہے تو دوسرے لوگوں کو بھی کوشش کرنا چاہئے کہ وہ اُس کی اخلاقی مدد کریں اور اُس کا حوصلہ بڑھاتے رہیں کہ وہ تمباکونوشی ترک کرسکتا ہے۔جس تمباکو نوش کو اس کے نقصانات سے آگاہی ہو جائے اُس کی یہ عادت ترک کرنے کی خواہش زیادہ ہوتی ہے ۔ اس طرح ہمارے ملک میں شہری، مختلف سماجی اور حکومتی ادارے سگریٹ نوشی کے مضر اثرات کے بارے میں آگاہی پھیلا کر ترقی یافتہ ممالک کی طرح تمباکونوشی کی شرح کم کرسکتے ہیں۔
    حکومتی اعداد وشمار کے مطابق حکومت جتنا ٹیکس تمباکو کی مصنوعات سے حاصل کرتی ہے اُتنا ہی اُس کے نقصانات کی وجہ سے صحت کی ضروریات پر خرچ کردیتی ہے۔ ہمارے معاشرے میں تمباکو کے نقصانات کے حوالے سے زیادہ آگہی موجود نہیں ہے۔اس کے لئے ضروری ہے کہ انسداد تمباکو نوشی کی مہم کو جارحانہ طور پر چلایا جائے جس میں حکومت، عوام، میڈیا، بزنس کمیونٹی، سکول کالج یونیورسٹی کے طلباء بھرپور حصہ لیں۔ سکول کے نصاب میں تمباکو نوشی کے نقصانات اور دیگر سماجی برائیوں کے حوالے سے مضامین شامل کرنے چاہئیں تاکہ یہ بچے بچپن سے ہی ان اہم معلومات سے آگاہ ہوں اور وہ اپنے والدین، رشتہ داروں اور محلے داروں کو مجبور کرسکیں کہ وہ یہ عادات ترک کریں۔ اس طرح یہ بچے بڑے ہوکر معاشرے میں اہم صحتمندانہ تبدیلی لانے کا باعث بھی بن جائیں گے۔ حکومت کا فرض ہے کہ وہ شہری مقامات پر تمباکونوشی کے قانون کو سختی سے نافذ کروائے، تمباکونوشی کی مصنوعات پر مزید ٹیکس لگائے اور تمباکو نوشی کو ترک کرنے کے اداروں کا قیام عمل میں لائے ۔ ہمیں اپنے نوجوانوں کو مثبت اور تعمیری کاموں میں مصروف رکھنے کے لئے بہت سے نئے صحتمندانہ منصوبے شروع کرنا ہونگے تاکہ یہ نوجوان اپنی صلاحیتوں کو مثبت طور پر کام میں لائیں جس سے نہ صرف اُن کی صحت کا معیار بہتر ہوگا بلکہ یہ ملکی ترقی کا باعث بھی ہوگا۔
    @SaadSabriPTI

  • ہر نیکی۔۔۔۔ صدقہِ جاریہ تحریر:اریب فاطمہ

    ہر نیکی۔۔۔۔ صدقہِ جاریہ تحریر:اریب فاطمہ

    ہر شخص کی زندگی میں ایک ایسا لمحہ ضرور آتا ہے جب وہ تباہی کے دہانے پر کھڑا ہوتا ہے اور اس کے راز کھلنے لگتے ہیں اور اس وقت جب وہ خوف کے کوہ طور تلے کھڑا کپکپا رہا ہوتا ہے تو ایک ان دیکھی طاقت اسے بچا لیتی ہے۔ یہ ان دیکھی طاقت کیا ہوتی ہے؟ کیا اس طاقت میں اتنی طاقت ہوتی ہے کہ وہ انسان کو مصیبت سے نجات دلا سکے؟؟
    پیارے دوستو! یہ طاقت ہوتی ہے صدقہ و خیرات کی طاقت، اللّٰہ تعالٰی کی راہ میں خرچ کرنے کی طاقت، ضرورت مندوں کی مدد کرنے کی طاقت۔ یہ طاقت ہوتی ہے غیب کی مدد۔ جب انسان تباہی کے دہانے کھڑا ہوتا ہے تو اس وقت اللّٰہ اسے بچا لیتا ہے۔ یہ اللّٰہ تعالٰی کی اپنے بندے سے محبت ہوتی ہے یہ اللّٰہ تعالٰی کا اپنے بندے پر احسان ہوتا ہے اور اسے اپنا ایک ایک احسان یاد ہے۔ انسان بھول جاتا ہے مگر خدا نہیں بھولتا۔ دور ہمیشہ ہم آتے ہیں اللّٰہ وہیں ہے جہاں پہلے تھا فاصلے ہم پیدا کرتے ہیں اور اسے مٹانا بھی ہمیں چاہئے. صدقہ اللّٰہ اور بندے کے درمیان فاصلوں کو مٹاتا ہے۔ صدقہ کیا ہوتا ہے؟ صدقہ وہ ہوتا ہے جو اللّٰہ تعالٰی کی راہ میں اللّٰہ کی خوشنودی کے لیے دیا جاتا ہے۔ صدقہ دینے سے بلائیں ٹل جاتی ہیں۔ انسان برے وقت،برے حالات اور بری موت سے بچ جاتا ہے۔ ہر نیکی کا کام صدقہ ہے۔ پودے اور درخت لگانا بھی صدقہ جاریہ ہے۔راہ چلتے ہوئے کی مدد کرنا، راستے سے تکلیف دہ چیزیں پتھر کانٹے ہٹانا صدقہ ہے۔ مسجد میں قرآن پاک رکھوانا، اس کی تعمیر و مرمت میں اپنی استطاعت کے مطابق حصّہ ڈالنا صدقہ ہے۔ پانی پلانے کو احادیث مبارکہ میں صدقہِ جاریہ قرار دیا گیا ہے۔ پانی پلانے کا عمل نہایت معمولی ہونے کے باوجود ثواب اور خوشنودی رب کا ذریعہ ہے ۔ پیاسوں کو پانی پلانا،  تشنہ لبوں کی سیرابی کا کام کرنا اور انسانوں کی پانی کی تکمیل کر نا صدقہ ہے جس کا ثواب اللّٰہ تعالٰی آخرت میں خود دے گا۔ تندرستی اور مال کی خواہش کے زمانے میں صدقہ دینا افضل ہے۔ صدقہ دینے سے اور اللّٰہ تعالٰی کی راہ میں خرچ کرنے سے مال کبھی بھی کم نہیں ہوتا بلکہ اللّٰہ تعالٰی اپنی راہ میں خرچ کرنے والوں کے مال میں برکت ڈالتا ہے۔ اچھی بات بتانا بھی صدقہ ہے. دراصل
    ہم دنیا کی محبت میں اس قدر ڈوب گئے ہیں کہ ہمارے پاس اپنی آخرت کو سنوارنے کے لیے کوئی چارہ نہیں ہے۔ اپنی اس مصروف ترین زندگی میں ہمارے پاس اپنوں کے لیے وقت نہیں ہے۔ ہمارے معاشرے میں کیا ہو رہا ہے ہمیں اس کی کوئی خبر نہیں۔ معاشرہ تو دور کی بات ہے ہم تو اس قدر بے ہوش ہیں کہ ہمارے ہمسائے میں آج کیا ہوا، کون بیمار ہے کس کا انتقال ہوا ہمیں کسی کی کوئی خبر نہیں۔انسان تو ہر گھر میں پیدا ہوتے ہیں لیکن انسانیت کہیں کہیں جنم لیتی ہے۔ اگر انسان سے انسانیت اور خدمت نکال دی جائے تو صرف عبادت رہ جاتی ہے اور عبادت کے لئے اللّٰہ تعالٰی کے پاس فرشتوں کی کمی نہیں۔
    ذرا سوچئے جس مسجد میں ہم روزانہ نماز ادا کرتے ہیں وہاں ہمیں وضو کے لیے پانی، ہوا کے لیے پنکھے، روشنی کے لیے لائٹس، جنریٹر، کارپٹ، امام اور مؤذن کی سہولت حاصل ہوتی ہے تاکہ میں نماز میں آسانی ہو۔ جبکہ ہم مسجد کو ماہانہ کیا دیتے ہیں؟دس روپے؟ زیادہ سے زیادہ بیس روپے۔ جبکہ ہم ٹی وی کیبل 300 اور انٹرنیٹ 1300 کی فیس ہر ماہ ادا کرتے ہیں۔ موبائل پر بے تحاشا لوڈ کرواتے ہیں۔ناچ گانا پارٹی ہلہ گلہ اور بے فضول کی نمود و نمائش میں بے تحاشا پیسہ اڑاتے ہیں۔ ذرا سوچئے ہم مسلمانوں کا پیسہ کہاں جا رہا ہے؟
    ہم اپنی زندگی میں بڑے بڑے کام کر کے ہی بڑے آدمی بن سکتے ہیں لیکن اپنی آخرت سنوارنے کے لیے ہمارے لئے چھوٹے چھوٹے اچھے عمل ہی بہت ہیں۔ انسان اپنے اوصاف سے عظیم ہوتا ہے عہدے سے نہیں کیونکہ محل کے سب سے اونچے مینار پر بیٹھنے سے کوا کبھی بھی عقاب نہیں بن سکتا۔
    دعا ہے اللّٰہ تعالٰی ہمیں اپنی راہ میں زیادہ سے زیادہ خرچ کرنے کی توفیق عطا فرمائے آمین۔

  • توبہ کا قانون (قسط دوم) تحریر: محمد اسعد لعل

    توبہ کا قانون (قسط دوم) تحریر: محمد اسعد لعل

    توبہ کے قانون میں ہے کہ جب آپ سے کوئی گناہ سرزد ہو جائے تو اس کے فوراً بعد توبہ کر لیں، اللہ تعالیٰ کی طرف رجوع کریں اور اللہ سے اپنے گناہ کی معافی طلب کریں۔ اس صورت میں اللہ تعالیٰ نے خود پر لازم کر رکھا ہے کہ وہ اپنے بندے کے اس رجوع کو قبول کر لے گا۔
    بعض گناہ ایسے ہوتے ہیں کہ جس میں کوئی دوسرا بندہ بھی متاثر ہوتا ہے، ایسی صورتحال میں صرف زبان کی حد تک یا ارادے کی حد تک توبہ کر نا کافی نہیں ہے۔ اس کے لیے ضروری ہے کہ آپ اس کی تلافی کریں اور اس شخص سے معافی مانگیں۔ اگر آپ نے اس کا کوئی حق مار لیا ہے تو اس کو ادا کرنا ہو گا۔ اسی کو قرآن مجید اصلاح کرنے سے تعبیر کرتا ہے۔
    اصلاح کا ایک پہلو تو یہ ہے کہ آئندہ کے لیے آپ وہ کام نہیں کریں گے اور دوسرا پہلو یہ ہے کہ جو آپ نے غلطی کی ہے اس کی تلافی کریں گے۔ مثال کے طور پر کسی شخص نے کسی خاتون کے مکان پر قبضہ کر لیا ہے، اب وہ شخص سوچتا ہے کہ اس نے یہ غلط کیا ہے اور وہ اپنے اس گناہ پر توبہ کر لیتا ہے لیکن مکان نہیں چھوڑتا۔۔۔۔ تو یہ توبہ نہیں ہوئی۔اُسے چاہیے کہ وہ توبہ کے ساتھ ساتھ مکان بھی خاتون کے حوالے کر کے اپنے گناہ کی تلافی کرے۔
    بعض ناقابلِ تلافی گناہ ہوتے ہیں جس میں سنگین صورتحال پیدا ہو جاتی ہے۔ ناقابلِ تلافی گناہ کی ایک صورت یہ ہے کہ کسی کو قتل کر دیا، وہ آدمی تو اب دنیا میں موجود نہیں رہا۔ اب اس سے جو کچھ معاملہ ہونا ہے وہ آخرت میں جا کر ہو گا۔ اس صورتحال میں کچھ نہیں کہا جا سکتا کہ وہ آخرت میں معاف کرتا بھی ہے یا نہیں۔۔۔ اُس وقت تو آپ کے پاس لینے اور دینے کے لیے بھی کچھ نہیں ہو گا، تو اس کا ازالہ کیسے ہو گا؟
    اس چیز کو حدیث میں بیان کیا گیا ہے کہ پھر اُس کے کہنے پر آپ کو اپنی نیکیاں اس کے حصہ میں ڈالنی ہوں گی اور اس کی بُرائیاں اپنے کھاتے ہیں لینی پڑیں گی۔
    اسی طریقے سے اگر آپ دنیا میں کسی کے ساتھ کوئی زیادتی کرتے ہیں، کوئی ظلم کرتے ہیں اور یہ معلوم ہوتا ہے کہ اب ازالے کی کوئی صورت موجود نہیں رہی ہے تو پھر آپ اس کے لیے استغفار کریں، اس کے اہل و عیال، اس کے رشتے دار اگر دنیا میں موجود ہیں تو ان کے ساتھ حُسنِ سلوک کریں۔ یعنی ازالے کی کوئی نہ کوئی صورت آپ کو اختیار کرنی ہے۔ اگر اس کا بھی موقع نہ ملا تو یہ طے ہے کہ آخرت میں ہر حال میں اس شخص کے ساتھ آپ کا معاملہ پڑے گا۔
    گناہوں کی دونوں صورتوں میں، ایک وہ جو خدا کی بارگاہ میں ہم سے سرزد ہوتے ہیں اور دوسرے وہ جو بندوں کے حقوق سے متعلق ہیں، تو خدا کی بارگاہ میں ہونے والے گناہوں سے بھی ہمیں ڈرنا چاہیے اس لیے کہ ایک دن اللہ تعالیٰ کے حضور پیش ہونا ہے۔ اللہ تعالیٰ تو پھر بھی غفور و رحیم ہے پر بندوں کے معاملے میں آپ کیا توقع کر سکتے ہیں؟ کچھ نہیں کہا جا سکتا کہ ان کا رویہ وہاں کیا ہو گا، اس لیے اس معاملے میں اور بھی زیادہ محتاط ہونا چاہیے۔
    کوئی شخص اگر بددیانتی کرتا ہے، خیانت کرتا ہے، کم تولتا ہے یا ملاوٹ کرتا ہے تو وہ اصل میں حقوق العباد کے متعلق گناہ کا ارتکاب کرتا ہے۔ وہ خدا کا بھی مجرم ہے اور اس بندے کا بھی مجرم ہے۔ ایک وہ خیانتیں ہیں جو فرد کی حیثیت سے ہوتی ہیں اور ایک وہ ہیں جو ریاست کی سطح پر ہوتی ہیں تو اس صورتحال میں خیانت کرنے والا پوری قوم کا مجرم بن جاتا ہے۔ اگر کسی نے قومی خزانے میں خیانت کی تو وہ پوری قوم کا جوابدہ ہو گا، پوری کی پوری قوم قیامت کے دن اس سے حساب لینے کا حق رکھتی ہے۔ اس وجہ سے حقوق العباد کا معاملہ بہت سخت ہے۔ اس میں توبہ بھی کرنی ہو گی، گناہ کو چھوڑنا بھی ہو گا اور اس کی تلافی بھی کرنی ہو گی۔
    آپﷺ نے صحابہ کرام کو ایک روایت سنائی تھی، جس میں ایک شخص نے سو قتل کر دیے تھے۔ ظاہر ہے وہ جو سو مقتولین تھے ان سے اُس نے معافی نہیں مانگی تھی لیکن  اس نے اللہ سے سچے دل سے معافی مانگی تواللہ نے اسے معاف کر دیا تھا۔
    اس روایت میں بھی خدا کی معافی کی بات کی گئی ہے، یہ یاد رہے کہ بندے کی طرف سے خدا کسی صورت معاف نہیں کرے گا۔ قتل کا جرم ایک ایسا جرم ہے جس میں انسان خدا کا بھی مجرم ٹھہرتا ہے، معاشرے کا بھی اور مقتول کا بھی مجرم ہوتا ہے۔ یہ معمولی جرم نہیں ہے اس لیے اس پر ابدی جہنم کی سزا سنائی گئی ہے۔ یہ ہماری بدقسمتی ہے کہ ہمارے معاشرے میں اس کو ایک آسان سی چیز سمجھ لیا گیا ہے۔ہمارے معاشرے میں قتل اتنا عام ہو گیا ہے کہ نہ مرنے والے کو پتا ہے کہ کیوں مر رہا ہے اور نہ مارنے والے کو پتا ہے کہ وہ کیوں مار رہا ہے۔
    یہ بالکل وہی صورتحال ہے جو ایک حدیث میں بیان کی گئی ہے کہ آخری زمانے میں ایک فتنہ پیدا ہو جائے گا  تو صحابہ کرام نے پوچھا وہ کیا ہے تو آپﷺ نے فرمایا کہ اس طرح کا قتل جس میں نہ مارنے والے کو پتا ہو گا اور نہ مرنے والے کو پتا ہو گا۔
    ہمیں اب معلوم ہے کہ اگر ہم سے کوئی گناہ ہو جاتا ہے تو ہمیں  توبہ کرنی چاہیے، اس بارے میں ذہن میں یہ سوال پیدا ہوتا ہے کہ کیا توبہ کرنے کے لیے بھی کوئی مہلت دی گئی ہے؟
    اللہ تعالیٰ غفور و رحیم ہیں اور اللہ نے اپنے بندوں کو موت تک کی مہلت دی ہے کہ آپ کسی بھی وقت اپنے گناہوں کی بخشش کی دعا کر سکتے ہیں، لیکن اگر فوراً آپ نے اپنے گناہ کی توبہ کر لی ہے، اپنی اصلاح کا فیصلہ کر لیا ہے تو اللہ تعالیٰ نے اپنے اوپر یہ ذمہ داری لی ہے کہ وہ آپ کی توبہ قبول کر لے گا، اور اگر آپ نے توبہ کرنے میں تاخیر کی ہے تو کچھ نہیں کہا جا سکتا۔اُسی آیات میں آگے فرمایا ہے کہ اگر موت تک موخر کر دیا ہے تو پھر اللہ توبہ قبول نہیں کریں گے۔ یعنی سقراطِ موت طاری ہو گئی ہے، آپ کو معلوم ہو گیا ہے کہ اب دنیا سے رخصت ہونے والے ہیں، اس وقت اگر توبہ توبہ کا ورد شروع کر دیا تو اللہ تعالیٰ نے بتا دیا ہے کہ میں یہ توبہ قبول نہیں کروں گا۔
    اس کا مطلب یہ ہے کہ جو درمیان کا عرصہ ہے، یعنی  فوراً توبہ بھی نہیں کی اور موت تک بھی موخر نہیں کیا، لیکن درمیان میں کسی وقت اللہ نے توفیق دی اور رجوع کر لیا تو اس میں خاموشی اختیار کر لی گئی ہے۔ یہ خاموشی خوف بھی پیدا کرتی ہے اور یہ خاموشی امید بھی پیدا کرتی ہے۔
    دعا ہے کہ اللہ تعالیٰ ہماری توبہ قبول فرمائیں اور تمام صغیرہ و کبیرہ گناہ معاف کریں۔آمین
    @iamAsadLal
    twitter.com/iamAsadLal

  • ڈاکٹر اور انجینئر ہی کیوں۔۔۔؟  تحریر:آصف گوہر

    ڈاکٹر اور انجینئر ہی کیوں۔۔۔؟ تحریر:آصف گوہر

    عَلَّمَ ٱلۡإِنسَٰنَ مَا لَمۡ يَعۡلَمۡ°

    "جس (اللہ) نے انسان کو وه سکھایا جسے وه نہیں جانتا تھا.”

    سورة علق 5

    ہر وہ معلومات جس سے انسان واقف نہ ہو وہ علم کے زمرے میں آتی ہے ۔

    تخلیق آدم علیہ السلام پر جب فرشتوں نے اللہ سبحان و تعالی سے سوال کیا تو آدم علیہ السلام نے اللہ سبحان و تعالی کی طرف سے سیکھائے ہوئے چیزوں کےنام فرشتوں کے سامنے بتائے یوں انسان کی فضیلت قدر ومنزلت علم ہی کی بدولت ثابت ہوئی اور یہاں سے ہمیں معلوم ہوتا ہے کہ تخلیق انسان کی سب سے بڑی وجہ علم کا حصول ہی ہے۔۔

    دینی دنیاوی علم و فنون کی لا تعداد اقسام اور جہتیں ہیں انسان اپنے میلان اور رجحان کے مطابق جیسا علم اور ہنر چاہے سیکھ سکتا ہے 

    ہمارے ہاں جب اللہ سبحان و تعالی کسی کو اولاد کی نعمت سے نوازتا ہے تو ابھی بچہ ماں کی گود میں ہی ہوتا ہے کہ والدین اپنا ذہن بنا لیتے ہیں کہ ہمارا بیٹا یا بیٹی بڑی ہو کر ڈاکٹر یا انجینئر بنے گا ۔اس سے آگے دیگر پیشوں کا نا تو والدین نام لیتے ہیں اور نہ ہی اس کے لئے اپنے بچوں کی پرورش اور تربیت کی جاتی ہے ۔بچے کے سکول جانے کے پہلے روز سے میٹرک تک ڈاکٹر اور انجینئر بنے گا کی گردان جاری رہتی ہے ۔

    میٹرک امتحان کے نتائج آتے ہی کالج میں انٹرمیڈیٹ کی سطح کی تعلیم کے لئے کالجز میں  داخلےکے بعد میڈیکل اور انجینئرنگ میں سے والدین ایک کا انتخاب کرلیتے ہیں ۔اور اپنی بساط کے مطابق اپنے بچوں کی تعلیم پر خوب پیسہ خرچ کرتے ہیں اور کارفرما مقصد ایک ہی ہوتا ہے کہ ہمارا بچہ ڈاکٹر یا انجینئر بنے گا ۔

    انٹرمیڈیٹ کا لاکھوں طلباء امتحان دیتے اور لاکھوں کی تعداد میں اے گریڈ لے کر اعلی نمبروں کے ساتھ کامیاب ہو جاتے ہیں اور ہر کسی کی کوشش اور خواہش ہوتی ہے کہ میڈیکل کالج یا یونیورسٹی میں داخلہ مل جائے ۔امتحان میں نمایاں درجے کامیابی کے بعد بھی طلباء کا امتحان اور والدین کی آزمائش ختم نہیں ہوتی میڈیکل اور انجینئرنگ میں داخلے کے لئے پرائیویٹ اکیڈمیز میں بھاری فیسیں ادا کرکے انٹرمیڈیٹ میں پڑھے گئے سلیبس کو دوبارہ پڑھنا پڑھتا ہے ۔

    حالانکہ ہونا تو یہ چاہیے تھا کہ انٹرمیڈیٹ بورڈز کے نتائج پر میرٹ بنتا اور میرٹ پر پورا اترنے والے طلباء کو میڈیکل اور انجینئرنگ کے تعلیمی اداروں میں داخلہ مہیا کیا جاتا لیکن والدین کی کثیر تعداد میں ڈاکٹر اور انجینئر 

     ۔بنانے کی خواہش نے وہ چن چڑھا دیا ہوتا ہے کہ ہمارے ملک میں اتنے میڈیکل کالجز اور انجینئرنگ یونیورسٹیاں ہی نہیں جتنے طلباء ہر سال ان میں داخلے کی جدوجہد کرکے انٹرمیڈیٹ میں کامیاب ہوجاتے ہیں ۔

    اس صورتحال کا سابقہ پنجاب حکومت نے یہ حل نکالا کہ انٹری ٹیسٹ کا نظام وضع کیا جس سے لاکھوں طلباء کو میرٹ کے نام پر انٹری ٹیسٹ کی چھری سے ذبح کیا جاتا ہے۔

    انٹری ٹیسٹ میں بہت سارے طلباء مطلوبہ نمبرز حاصل نہیں کرپاتے کیوں کہ نشستوں کی کمی کی وجہ سے مقابلہ اور میرٹ بہت سخت بنایا جاتا ہے ایک ایک آدھے آدھے نمبر بلکہ پوائنٹس پر فیصلہ ہوتا ہے۔

    خوش قسمت طلباء کو پنجاب کے بھر کی میڈیکل اور انجینئرنگ یونیورسٹیوں میں داخلہ مل جاتا ہے اور مطلوبہ نمبرز حاصل نہ کر سکنے والے طلباء کو ذہنی طور پرشدید صدمہ اور جھٹکا لگتا ہے طلباء اور والدین سوچتے ہیں کہ ہمارے پچھلے تعلیم کے لئے لگائے گئے 12 سال اور مالی وسائل ضائع گئے ۔پھر کچھ والدین اپنے بچوں کو ڈاکٹر اور انجینئر بنانے کی خواہش جو کہ ضد کی شکل اختیار کر چکی ہوتی ہے اس کو ملی جامہ پہنانے کے لئے   

     لاکھوں روپے سالانہ پرائیویٹ کالجز اور یونیورسٹیوں کو  ادا کرتے ہیں اور کچھ والدین دل پر پتھر رکھ کر بچوں کو ڈاکٹر اور انجینئر بنانے کے لئے چائنہ ملائشیا اور دیگر ممالک میں بھیج دیتے ہیں اس کے لئے چاہئے کوئی قیمتی اثاثہ بیچنا پڑے یا کسی سے قرض لینا پڑے ۔

    پنجاب میں مسلم لیگ ن کا عرصہ حکومت دیگر سیاسی جماعتوں کے مقابلے میں سب سے زیادہ ہے لیکن انہوں نے ملک میں اعلی تعلیمی اداروں کا جھال بچھانے کی بجائے سیاسی فائدہ کے لئے لاہوراور دیگر چند بڑے شہروں میں سڑکیں اور پل بنائے اور مسلسل حکومتی امداد پر چلنےاور ملکی خزانے پر بوجھ بننے والے میٹرو بس سروس اور اورنج لائن ٹرین جیسے ناکام اور سفید ہاتھی کھڑے کرنے کے علاوہ صوبہ میں ایک بھی نیا میڈیکل کالج یا یونیورسٹی نہیں بنائی۔

    اب اس گرداب سے نکلنے کے لئے ضرورت اس امر کی ہے کہ والدین انٹری ٹیسٹ میں ناکامی کا سامنا کرنے کے بعد والے فیصلے پہلے کر لیں اور ڈاکٹر انجینئر بننےوالی  محدود سوچ کو تبدیل کریں سکولنگ کی عمر میں نہ خود خواب دیکھیں اور نہ اپنے خوابوں کو بچوں پر مسلط کریں ۔بچے کی تعلیمی نتائج اور رجحانات کو دیکھتے ہوئے اساتذہ سے مشاورت اور طلباء کی اپنی دلچسپی پوچھ کر ان کی اعلی تعلیم کے شعبے کا انتخاب کریں۔ 

     ٹیچنگ باییو انجینئرنگ سول ملٹری سروسز ای کامرس ویب ڈویلپینگ کونٹینٹ رائٹینگ فوٹو گرافی ایگری ٹیکنالوجسٹ بزنس ایڈمنسٹریشن الغرص ان گننت شعبہ ہائے زندگی میں سے کسی ایک کا انتخاب کریں اور

    صرف ڈاکٹر اور انجینئر کی رٹ لگانا چھوڑ کر مسلسل اذیت میں مبتلا ربنے سے خود بھی محفوظ رہیں اور اپنے بچوں کو بھی نجات دلائیں ۔

    @EducarePak

  • بہنیں منحوس نہیں ہوتیں   تحریر ممتازعباس شگری

    بہنیں منحوس نہیں ہوتیں   تحریر ممتازعباس شگری

     بہن کی شادی کو 6 سال ہو گئے ہیں میں کبھی اس کے گھر نہیں گیا عیدکی شب ابو یا امی جاتے ہیں میری بیوی ایک دن مجھ سے کہنے لگی آپ کی بہن جب بھی آتی ہے اس کے بچے گھر کا حال بگاڑ کر رکھ دیتے ہیں خرچ ڈبل ہو جاتا ہے اور تمہاری ماں ہم سے چھپ چھپا کر کبھی اس کو صابن کی پیٹی دیتی ہے کبھی کپڑے،کبھی صرف کے ڈبے اور کبھی کبھی تو چاول کا تھیلا بھر دیتی ہے اپنی ماں کو بولو یہ ہمارا گھر ہے کوئی خیرات سینٹر نہیں مجھے بہت غصہ آیا میں مشکل سے خرچ پورا کر رہا ہوں اور ماں سب کچھ بہن کو دے دیتی ہے بہن ایک دن گھر آئی ہوئی تھی اس کے بیٹے نے ٹی وی کا ریموٹ توڑ دیا میں ماں سے غصے میں کہہ دیاماں بہن کو بولو یہاں عید پہ آیا کرے بس اور یہ جو آپ صابن صرف اور چاول کا تھیلا بھر کر دیتی ہیں نا اس کو بند کردیں۔ماں چپ رہی لیکن بہن نے ساری باتیں سن لی تھیں میری بہن کچھ نہ بولی 

    4 بج رہے تھے اپنے بچوں کو تیار کیا اور کہنے لگی بھائی مجھے بس سٹاپ تک چھوڑ آو میں نے جھوٹے منہ کہا رہ لیتی کچھ دن لیکن وہ مسکراکربولی نہیں بھائی بچوں کی چھٹیاں ختم ہونے والی ہیں۔وقت گزرتاگیاجب ہم دونوں بھائیوں میں زمین کا بٹوارا  ہو رہا تھا تو میں نے صاف انکار کیا بھائی میں اپنی زمین سے بہن کو حصہ نہیں دوں گا بہن سامنے بیٹھی تھی وہ خاموش تھی کچھ نہ بولی ماں نے کہا بیٹی کا بھی حق بنتا ہے لیکن میں نے گالی دے کر کہا کچھ بھی ہو جائے میں بہن کو حصہ نہیں دوں گا میری بیوی بھی بہن کو برا بھلا کہنے لگی وہ بیچاری خاموش تھی۔بڑابھائی علحیدہ ہوگیا کچھ وقت کے بعد میرے بڑے بیٹے کو ٹی بی ہو گئی میرے پاس اس کا علاج کروانے کے پیسے نہیں تھابہت پریشان تھا میں نے لاکھ روپیہ قرض بھی لے لیا تھا بھوک سر پہ تھی میں حالات سے بہت پریشان کمرے میں اکیلا بیٹھا شاید رو رہا تھا،اس وقت وہی بہن گھر آگئی میں نے غصے سے بولا اب یہ آ گئی ہے منحو س میں نے بیوی کو کہا کچھ بہن کے لئے کچھ تیارکرو،بیوی میرے پاس آکربولی اس کیلئے گوشت یابریانی پکانے کی کوئی ضرورت نہیں،پھر ایک گھنٹے بعد وہ میرے پاس آئی بھائی پریشان ہو بہن نے میرے سر پہ ہاتھ پھیرا بڑی بہن ہوں تمہاری گود میں کھیلتے رہے ہو اب دیکھو مجھ سے بھی بڑے لگتے ہو پھر میرے قریب ہوئی اپنے پرس سے سونے کے کنگن نکالے میرے ہاتھ میں رکھے آہستہ سے بولی پاگل تواویں پریشان ہوتا ہے بچے اسکول میں تھے سوچا دوڑتے دوڑتے بھائی سے مل آؤں۔ یہ کنگن بیچ کر اپنا خرچہ کر بیٹے کا علاج کروا۔شکل تو دیکھ ذرا کیا حالت بنا رکھی تم نے۔میں خاموش تھا بہن کی طرف دیکھے جا رہا تھا وہ آہستہ سے بولی کسی کو نہ بتانا کنگن کے بارے میں تم کو میری قسم ہے میرے ماتھے پہ بوسہ کیا اور ایک ہزار روپیہ مجھے دیا جو سو پچاس کے نوٹ تھے شاید اس کی جمع پونجی تھی میری جیب میں ڈال کر بولی بچوں کو گوشت لا دیناپریشان نہ ہوا کر، جلدی سے اپنا ہاتھ میرے سر پہ رکھا کربولی دیکھو اتنے بال سفید ہو گئے وہ جلدی سے جانے لگی میری نظراس کے پیروں کی طرف  پڑی ٹوٹی ہوئی جوتی پہنی تھی پرانا سا دوپٹہ اوڑھا ہوا تھا جب بھی آتی تھی وہی دوپٹہ اوڑھ کر آتی تھی،میں بہن کی اس محبت میں مر گیا تھا ہم بھائی کتنے مطلب پرست ہوتے ہیں بہنوں کو پل بھر میں بیگانہ کر دیتے ہیں اور بہنیں بھائیوں کا ذرا سا دکھ برداشت نہیں کر سکتیں وہ ہاتھ میں کنگن پکڑے زور زور سے رو رہا تھااس کے ساتھ میری آنکھیں بھی نم تھیں کچھ لمحے بہنوں کے پاس بیٹھ کر حال پوچھ لیا کریں شاید کے ان کے چہرے پہ کچھ لمحوں کے لیے سکون آ جائے۔بہنیں ماں کا روپ ہوتی ہیں یہ کہتے ہوئے اس نے جیب سے رومال نکال کرآنسوصاف کیا۔یہ کہانی ہمارے موجودہ معاشرے کی عکاسی ہے۔آپ آگے بڑھنے سے پہلے ایک اورکہانی بھی پڑھ لیں۔

     اختری بیگم کاتعلق خانیوال کے گاوں مخدوم پورسے ہے،یہ سات اپریل کی صبح اپنے ولدین کی زمین پرقبضہ لینے پہنچیں جوعدالتی حکم کیمطابق ان کے حصے میں آیاتھا،لیکن وہ وہاں سے اپنے پاؤں پرچل کرواپس نہ جاسکی،کیوں نہ جاسکی یہ کہانی بھیانک ہے،ان کے بھائیوں نے مل کران پرحملہ کیااوران کی ٹانگیں توڑدی، یوں وہ چلنے سے بھی قاصرہوکررہ گئیں،انکے بھائیوں نے جرم تسلیم کرلی،جیل کی ہواکھائی اورکچھ عرصہ بعدضمانت پرباہربھی آگئے۔یہ ہماراسسٹم ہے،اورہمارے ہاں ریاست مدینہ میں یہ قانون بھی ہے اورجائزبھی۔

     آپ ایک دن تاریخ کامطالعہ کرکے دیکھ لیں پاکستان کاشماران ممالک میں ہوتاہے جہاں عورت کو وراثتی حقوق یاجائیدادکی ملکیت دینے کی شرخ سب سے کم ہے،جائیدادبہنوں کوحصہ دینے والے ملکوں میں پاکستان کاشمار127میں سے 121ویں نمبرپرہے،بلوچستان پاکستان کاوہ صوبہ ہے جہاں خواتین کووراثت دینے کی شرخ صفرہے،یوں آپ اندازہ لگاسکتے ہیں کہ ہم ریاست مدینہ میں سرکارمدینہ کی دین پرکس حدتک عمل پیراہے،اسلام کے مطابق وراثت میں بہنوں کاباقاعدہ حق مقررہے لیکن ہم اسلام کالبادہ اُڑھ کرجہیزکے نام پراسلام کامذاق اُڑانے کے علاوہ کرکیارہے ہیں،کیایہی اسلام ہے،آپ ایک بارریاست پاکستان کے اس ایکٹ پرہی نظرگھمانے کی سعی کریں جس کے مطابق خاتون کوحق وراثت سے محروم کیے جانے پردس سال قیداوردس لاکھ جرمانے کی سزامقررکی گئی ہے یہ ایکٹ پریونشین اورانٹی ویمن کے نام سے 2011میں منظورہوئی،لیکن ہمارے یہاں ایسے کتنے ایکٹ ہوں گے جومنظورتوہوئی ہے لیکن اس پرکوئی بھی شہری عمل کرنے کوتیارہی نہیں، کیایہی ہمارااسلام ہے کیایہی ہماراقانون ہے،ہمیں اسلام کے نام پراسلام کواستعمال کرنے کی بجائے اسلام کے اصولوں پرعمل پیراہوناہوگا،ہمیں اپنے معاشرے میں عورت کامقام جانناہوگا،جس ہستی کے پاوں تلے جنت ہوتی ہے،ہم انہیں ان کی جائزحقوق سے بھی کیسے محروم کررہے ہیں،آپ ایک دن اپنے دل پرہاتھ رکھ کرسوچیں کیاآپ اسلام کے اصولوں پرعمل پیراہے،کیاآپ اپنے محرم خواتین کے،آپ اپنے بہنوں کے حقوق اداکررہے ہیں؟جس دن آپ اورمیں اپنے دل پرہاتھ رکھ کرسوچناشروع کرتے ہوئے عمل کریں گے یقین کرلیں،اس دن آپ کوسمجھ آجائیں گے بہنیں منحوس نہیں ہوتیں، اس دن سے معاشرے میں تبدیلی آئے گی،تبدیلی کسی دوسرے کو نہیں اپنے آپ کوبدلنے کانام ہے توبس آج سے اپنے آپ کوبدلنے کاآغازکرلیں۔

    Twitter ID:    @mumtazshigri12

  • نکاح کی اہمیت/ نسل انسانیت کی بقا۔  تحریر:- تیمور خان

    نکاح کی اہمیت/ نسل انسانیت کی بقا۔ تحریر:- تیمور خان

    اسلام ایک مکمل ضابطہ حیات کا نام ہے جس میں انسانی زندگی کے کسی گوشے کو نامکمل اور ادھورا نہیں چھوڑا گیا انسان کی فطرت اور اس کے تبیعت کے جتنے بھی تقاضے ہیں ان تمام کو بخوبی سر انجام دینے کے لئے اسلام نے زندگی کے ہر موڑ پر اپنے ماننے والوں کو مکمل اصول اور ضوابط عطا فرمائے ہیں یہاں تک کہ انسان کی نجی زندگی ہو یا اس کی معاشی اور اجتماعی زندگی ہو زندگی کہ ہر موڑ پر اسلام نے رہنما اصولوں کے ذریعے مسلمانوں کو نجات اور کامیابی کا راستہ بتایا ہے انسان کی جو فطری ضرورتیں ہیں جو انسان کے ساتھ پیدا کی گئیں ہیں۔ ان فطری ضرورتوں میں سے ایک اہم ضرورت انسان کا کسی عورت کے ساتھ نکاح کا اور شادی کرنا بھی ہے شادی کرنا اور نکاح کرنا انسان کی بنیادی ضرورت ہے جہاں ایک مرد اور عورت کی فطری ضرورتوں کو پورا کرتا ہے اور اس کے ساتھ ساتھ بقائے نسل انسانی کے لئے توال اور تناسل کا ایک بہت بڑا زریعہ بھی ہے اللہ تبارک وتعالیٰ نے اس دنیا میں سب سے پہلے اس دنیا میں حضرت آدم علیہ السلام کو بشر اور انسان بنا کہ پیدا فرمایا ادم علیہ السلام سے آج تک جتنے انسان آیے ہیں یہ سب حضرت آدم علیہ السلام کی اولاد کہلاتے ہیں لیکن یاد رکھیں اللہ تعالیٰ نے حضرت آدم کو اپنی قدرت سے پیدا فرمایا بغیر ماں باپ کے پیدا فرمایا لیکن حضرت آدم علیہ السلام کے پیدا فرمانے کے بعد اللہ نے یہ اصول بنایا ایک قاعدہ اور ضابطہ بنا دیا کہ ادم علیہ السلام کے بعد جو انسان بھی اس دنیا میں آئے گا اس کے لئے ایک مرد اور ایک عورت کی ضرورت ہو گی اگر اللہ تبارک وتعالیٰ چاہیے تو بغیر کسی مرد اور عورت کی بھی کسی انسان کو پیدا کر دے جتنے انسانوں کا قیامت تک اس دنیا میں آنا ہیں تو اللہ تعالیٰ کا لفظ کن کہ اللہ تعالیٰ فرماتا ہے کن فیکون تو وہ چیز پیدا ہو جاتی ہے لیکن اللہ تعالیٰ نے کچھ اصول اور ضوابط جو پیدا فرمائے ہیں اور ہمیں ان اصولوں کے مطابق چلنے کا کہا ہے یاد رکھیں ان اصولوں کے مطابق اللہ تعالیٰ نے نسل انسانی کے بقا کے لئے شادی کو نکاح کو ایک اہم جز  انسانی زندگی کا قرار دیا ہے۔

    اسی لئے آدم علیہ السلام کو اللہ تعالیٰ نے جب پیدا فرمایا، تو آپ جنت میں رہتے تھے جنت میں ٹہلتے تھے، لیکن چونکہ دوسرا کوئی انسان اس وقت نہیں تھا اس دنیا میں اس کائنات میں ایک ہی انسان تھے اس لئے ان کے فرشتے بھی ہوا کرتے ان کے ساتھ جننات بھی ہوا کرتے اللہ تبارک وتعالیٰ کی مختلف نعمتیں ان کی ارد گرد ہوتی لیکن ان کو انسیت حاصل نہ ہوتی، کہ ہر ایک شے اپنی جنس انس اور  محبت حاصل کرتی  ہے، ایک انسان کو آپ دنیا کی ساری نعمتیں دے دیں لیکن اگر اس کے پاس کوئی انسان نہ ہو تو اس کی زندگی خوشحال نہیں ہو گی وہ چاہے گا کہ میرے ساتھ میری ہی جنس کا کوئی انسان ہو تاکہ اس کے ساتھ میں اپنی زندگی کی شب و روز بسر کر سکوں۔

    آدم علیہ السلام فطرتی انسانی کے مطابق ان کو جب انسیت جنت میں نہ ملی، ایک دن اللہ تبارک وتعالیٰ نے ان کی اس کمی کو پورا کرنے کے لئے جب آدم علیہ السلام آرام فرما رہے تھے جب آپ بیدار ہوئے تو اللہ تبارک وتعالیٰ نے آپ کے سوتے ہوئے آپ کے بائیں پسلی سے اماں حوا کو پیدا فرمایا، جب آپ بیدار ہوئے تو آپ نے دیکھا کہ آپ کے قریب ایک عورت بیٹھی ہوئی ہے تو آپ کو بہت خوشی ہوئی اور جونہی آپ نے ہاتھ بڑھانا چاہا تو اللہ تبارک وتعالیٰ نے آواز دی  اے آدم اس انسان کو جو تیری ہی جنس سے پیدا کی گئی ہے تیری ہی پسلی سے پیدا کی گئی ہے، اس انسان ہو عورت کہتے ہیں یہ تمہاری انسیت کی کمی کو پورا کرے گی تمہاری فطری ضرورتوں کو پورا کرے گی لیکن اس کو ہاتھ لگانے کے آپ کو مہر دینا پڑے گا، تمہارا نکاح ہوگا ادم علیہ السلام نے پوچھا اے اللہ اس کا مہر کیا ہوگا یہ کیوں کر میرے لئے حلال ہوگی، تو اللہ تبارک وتعالیٰ نے فرمایا تم ایک مرتبہ نبی آخر الزمان جو تیری ہی اولاد سے پیدا ہوگا سب سے آخری نبی ہوگا، تم ایک مرتبہ ان پہ درود پڑھو یہی تمہارے اور اماں حوا کا حق مہر ہوگا، تو سرکارِ دوعالم ﷺ فرماتے ہیں ایک مرتبہ درود یہی حق مہر تھا  اور اس کے بعد حضرت آدم اور اماں حوا جنت میں پھرتے تھے، پھر جب اللہ نے آدم اور حوا کو دنیا میں بھیجا دنیا میں آنے کے بعد جب ان کا آپس میں ملاپ ہوا اور نسل انسانی کی ابتداء ہوئی تو آج تک دنیا میں جتنے بھی انسان ہیں یہ سب اسی نکاح کا نتیجہ ہے۔

    تو کہنے کا مقصد یہ ہے کہ نکاح ایسی چیز ہے جو انسان کی جہاں فطری ضرورتوں کو پورا کرتا ہے وہاں  نسل انسانی کی بقاء اور اس میں پروان چڑھانے کے لئے بھی اللہ تبارک وتعالیٰ نے نکاح کو بہت بڑا زریعہ قرار دیا گیا ہے، اسی لئے اللہ نے فرمایا کہ اللہ کی نشانیوں اور نعمتوں میں سے اللہ کی ایک نعمت یہ بھی ہے کہ اللہ نے تمہاری جنس سے ہی جوڑے پیدا فرمائے، مرد کے لئے عورت اور عورت کے لئے مرد کو پیدا فرمایا مرد اور عورت کے جوڑے کے ملاپ کو اس کا فائدہ اللہ نے فرمایا اسی لئے کے تم ایک دوسرے سے سکون حاصل کرو اور پھر انسانی جوڑے کے درمیان اللہ نے محبت کو پیدا فرمایا دلی محبت کو اللہ نے پیدا فرمایا، لیکن اس کے برعکس اگر ہم دیکھیں کہ آج دنیا کتنی ہی پرفتن ہو چکی ہے طلاق کی شرح بہت حد تک بڑھ چکی ہے ایک دوسرے سے جدائی اور خلاء کی شرح بہت حد تک بڑھ چکی ہے، لیکن اس کے باوجود بھی میاں بیوی کی محبت کا جو رشتہ ہے وہ آج بھی قائم ہے اس لئے یہ اللہ تبارک وتعالیٰ کا قانون ہے اور انسان کی فطرت اور تبیعت کے عین مطابق ہے۔

    اسی لئے سرکارِ دوعالم ﷺ نے یہی ارشاد فرمایا اے نوجوان، اپنے امت کے نوجوانوں سے خطاب کیا تم میں سے جو بھی شخص نکاح کی طاقت رکھتا ہے تو وہ فوراً نکاح کرے حضور سرکارِ دوعالم ﷺ نے فرمایا یہ انسان کے شرم گاہ کو محفوظ کر لیتا ہے اور انسان کی آنکھوں کو نیچے کر لیتا ہے یہ آنکھوں میں نظروں میں حیا پیدا کر دیتا ہے یہی وجہ ہے قرآن مجید فرقان حمید میں زنا کی جو سزا بیان کی گئی ہے اگر العیاذ باللہ غیر شادی شدہ جوڑا زنا کرتا ہے تو ان کے لئے سو کوڑے ہے، اگر شادی شدہ جوڑا زنا کرتا ہے یا ان میں سے یا زانی اور مزنیا میں کوئی ایک شادی شدہ ہے تو پھر ان کو سنگسار کرنے کا حکم دیا گیاہے اب زنا ہوا کیوں کیونکہ اس مرد کی جو حواہشات ہے وہ پوری نہیں ہوئی۔

    اسی لئے سرکارِ دوعالم ﷺ نے فرمایا زنا کا درواز بند کرنے کے لئے جب تم میں سے کسی کی اولاد بالغ ہو جائے اور نکاح کے قابل ہو جائے تو پھر تم ایسا رشتہ دیکھو کہ جس کے دین اور اخلاقی سے تم رازی ہو مرد اور عورت کے لئے ایسا رشتہ ایے سرکارِ دوعالم ﷺ نے فرمایا کہ یہ لڑکا میری بیٹی کے لئے دین دار ہے تو آپ نے فرمایا پھر سوچ سے کام نہ لو فوراً ان کا نکاح کرو اور اگر تم ان سب کے باوجود بھی نکاح نہیں کرو گے تو سرکارِ دوعالم ﷺ نے فرمایا پھر زمین میں فساد پیدا ہو جائے گا۔ اور وہ فساد یہی ہے کہ نہ عورت کی عزت محفوظ رہے گی اور نہ مرد کی پاک دامنی محفوظ رہے گی اسی لئے چند مواقعے میں آپ نے ارشاد فرمایا تم میں سے جو بھی جس چیز کے قابل ہو جاؤ تو فوراً ہی کر لیا کرو ان میں سے ایک نکاح کا حکم بھی ہے۔ 

    اور پھر آج کے اس زمانے میں آج کے اس فحاشی اور عریانی کے ماحول میں کہ جہاں کوئی تمیز لڑکوں اور لڑکیوں کی نہیں ہے جہاں کوئی تمیز حیا اور بے حیائ کی نہیں ہے جہاں حیاء کا جنازہ ہمارے معاشرے سے بلکل اٹھ چکا ہے، ایسے حالات میں نکاح کرنا نہایت ہی اہم ہے، یاد رکھیں ہم کہتے ہیں نکاح کرنا سنت ہے شادی کرنا سنت ہے، یاد رکھیں ہر کسی کے لئے سنت نہیں ہے جو ایسا شخص ہے مرد ہے یا عورت اگر اس کی شادی فوراً نہیں کی جائے تو وہ گناہ میں مبتلا ہوگا اس کی آنکھیں جسم گناہ میں مبتلا ہوگا تو پھر اس کے لئے نکاح سنت نہیں فرض عین ہے اور آج کل کے جو نوجوان ہیں ان کے لئے محقیقین نے نکاح کرنا فرض عین قرار دیا، اسی لئے فحاشی کا اور عریانی کا دور ہے تو اسی لئے محقیقین نے نکاح کو فرض عین قرار دیا اس لئے نکاح کرنا یاد رکھیں یہ ہمارے معاشرے ہماری تبیعتوں ہمارے گھرانے اور ہمارے خاندانوں کے لئے پاک دامنی کا بہت بڑا ذریعہ ہے، اور اگر ایک شخص کہ پاس کوئی وسائل  نہیں کہ وہ اپنی بیوی کو دو وقت کی روٹی کھلا سکے اور نکاح کے طاقت نہ رکھ سکے تو پھر سرکارِ دوعالم ﷺ نے فرمایا کہ وہ شخص روزے رکھے کیونکہ روزے اس کے شہوانی خواہشات کو ختم کر دے گی، تو یاد رکھیں دنیا کے تمام معاشروں میں کسی نہ کسی طریقے سے نکاح کو حلال قرار دیا گیا ہے، تو اس لئے حیا کو پیدا کرنے کے لئے اپنے معاشرے کو باحیا بنانے کے لئے ہمیں اپنی آنکھوں کی بھی حفاظت کرنی ہے اپنی قردار کی بھی حفاظت کرنی ہے اور ایک ایسا ماحول بنانا ہے کہ جس کی وجہ سے ہمارے آج کے نوجوان حیاناک بن سکے، پس اللہ تبارک وتعالیٰ ہمیں توفیق عطا فرمائے۔

    @ImTaimurKhan

  • سگریٹ نوشی ہر شکل میں تباہ کن تحریر: زبیر احمد

    سگریٹ نوشی ہر شکل میں تباہ کن تحریر: زبیر احمد

    آج کل سب سے عام پریشانیوں میں سے ایک پریشانی جو ساری دنیا میں لوگوں کو مار رہی ہے وہ سگریٹ نوشی ہے۔ بہت سے لوگ ٹینشن، ذاتی مسائل اور ہائی بلڈ پریشر کی وجہ سے سگریٹ نوشی شروع کردیتے ہیں. کچھ لوگ نمائش کے طور پہ بھی شروع کرتے ہیں یا کچھ لوگ لطف اٹھانے کے لئے بھی اس کا استعمال کرتے ہیں۔آج گھر گھر کو اس بری عادت نے گھیر رکھا ہے بڑے امیروں اور رئیسوں کے گھروں میں تمباکو نوشی ایک قسم کی تفریح اور تواضع کا سامان سمجھا جاتا ہے۔

     ایک انسان سے دوسرے کو سگریٹ نوشی کی لت پڑ سکتی ہے جب کوئی سگریٹ نوشی کرتا ہے نہ صرف خود کو بلکہ اردگرد کے افراد کو بھی متاثر کررہا ہوتا ہے۔ سگریٹ نوشی انسان کے جسم کو بہت خطرناک قسم کی بیماریاں دیتی ہے۔ تقریبا ہر کوئی جانتا ہے کہ تمباکو نوشی کینسر اور دل کی بیماریوں کا سبب بنتی ہے اس کا استعمال کرنے سے انسان کی زندگی تقریبا دس سال کم ہوجاتی ہے جبکہ اس گندی عادت کی وجہ سے سال میں ہزاروں سگریٹ پھونک دئے جاتے ہیں۔ سب سے زیادہ نوعمر افراد سگریٹ نوشی کرتے ہیں نکوٹین وقتی طور پہ انسان کو سکون پہنچاتی ہے جس سے انسان اس موذی عادت کی لت کا شکار ہوجاتا ہے۔

    سگریٹ نوشی ایک سست موت کی مانند ہے۔ سگریٹ میں کیا ہے جو ہر روز لاکھوں افراد ہر دن اس کو پھونک رہے ہوتے ہیں سگریٹ میں 4000 سے زیادہ زہریلے مادے ہیں۔ماہرین کے مطابق جب ایک شخص سگریٹ پیتا ہے تو وہ خود تو متاثر ہوتا ہے لیکن اس کے آس پاس لوگ خاص طور پہ بچے بھی متاثر ہوتے ہیں۔ دنیا میں یومیہ اٹھارہ ارب سگریٹ فروخت ہوتے ہیں جبکہ پاکستان میں ایک ارب 60 کروڑ 70 لاکھ سگریٹ فروخت ہوتے ہیں، جبکہ دنیا بھر میں منہ اور گلے کے کینسر کا بہت اضافہ ہوا ہے دنیا میں سگریٹ نوشی کے باعث سالانہ 80 لاکھ اموات ہوتی ہیں۔

    برطانوی سائنسدانوں کی تحقیق کے مطابق روز کا ایک سگریٹ بھی تمباکو نوشی نہ کرنے والوں کے مقابلے میں دل کے دورے کا امکان 50 فیصد اور سٹروک کا 30 فیصد تک بڑھا دیتا ہے۔ سگریٹ نوشی کے نقصانات سے آگاہی کے باوجود آج بھی دنیا بھر میں ایک ارب افراد سگریٹ نوشی کے عادی ہیں۔ ورلڈ ہیلتھ آرگنائزیشن کے مطابق 33 فیصد مرد اور 9 فیصد خواتین ہیں سگریٹ نوشی کرتے ہیں۔

    سگریٹ بنانے والی کمپنیاں نت نئی مصنوعات متعارف کرائی رہتی ہیں، ہر دور میں سگریٹ کمپنیوں کی جانب سے ایسی مصنوعات تیار کرکے دعوی کیا جاتا رہا کہ اس سے نقصانات کم ہوتے ہیں، حالانکہ ان کا مقصد لوگوں کو تمباکو کا عادی کرنا ہوتا ہے دوسری جانب e-cigarette وائپ بھی سالوں سے مارکیٹ میں موجود ہیں اور نوجوانوں میں مقبول ہے ۔ الیکٹرانک سگریٹ اور اس سے ملتی جلتی مصنوعات ایک بڑی انڈسٹری بنتی جارہی ہیں لیکن پیکنگ چاہے جیسی بھی ہو لیکن یہ چھپانا آسان نہیں کہ تمباکو نوشی صحت کے لئے نقصان دہ ہے۔

    سگریٹ نوشی ایک ایسی عادت ہے جس سے لوگ چھوڑنا بھی مشکل محسوس کرتے ہیں بہت سے لوگ ذہنی دباؤ اور تناو میں سگریٹ پیتے ہیں لیکن ان کو جان لینا چاہیے کہ تمباکو نوشی آپکو اندر سے مار ڈالتی ہے وہ تمباکو نوشی نہیں کررہے بلکہ اپنے لیے مضر بیماریاں خرید رہے ہیں۔ سگریٹ نوشی کے نقصانات کی پوری دنیا جانتی ہے اس کے باوجود لوگ اس عادت بد کو ترک کرنے پر تیار نہیں ہوتے،حکومتوں نے بھاری ٹیکس عائد کیے لیکن ‘چھٹتی نہیں منہ سے یہ کافر لگی ہوئی’ صدیوں سے اس کی مقبولیت برقرار ہے۔ ہر سال دنیا میں 60 کھرب سگریٹ تیار ہوتے ہیں۔ البتہ حکومتیں اس کے خلاف بھرپور سنجیدہ مہم نہیں چلاتیں اور نہ ہی حکومتوں کی جانب سے تمباکو نوشی کی روک تھام کے لئے ٹھوس اقدامات کئے جاتے ہیں کیونکہ اس سے ان کو اربوں کے محصولات حاصل ہوتے ہیں۔

    tweets @KharnalZ