Baaghi TV

Category: معاشرہ و ثقافت

  • نفسیاتی الجھنیں اور ہمارا معاشرہ تحریر : وسیم سید 

    نفسیاتی الجھنیں اور ہمارا معاشرہ تحریر : وسیم سید 

    twitter / @S_paswal 

     

    ‏جب سے زندگی وجود میں آئی تب سے ہی جسمانی بیماریاں بھی زندگی کا حصہ ہیں ۔ جیسے کوئی گاڑی یا کوئی بھی مشین ہو ۔ تو اس میں بھی کوئی نہ کوئی خرابی پیدا ہوتی رہتی ہے ۔اسی طرح انسان بھی کبھی جسمانی کبھی روحانی اور کبھی نفسیاتی الجھنوں کا شکار ہو جاتا ہے ۔ مگر افسوس کا مقام ہے ہم جسمانی بیماریوں کو تو بہت اہمیت دیتے ہیں مگر نفسیاتی الجھنوں کو اکثر نظر انداز کر دیتے ہیں۔ 

    ‏نفسیاتی الجھنوں پہ اکثر لکھاری قلم آزمائی کرتے رہتے ہیں مگر میرے نزدیک اس پہ جتنا بھی لکھا جائے کم ہے ۔ نفسیاتی بیماریاں ایسی بیماریاں ہیں جن کے بارے میں معاشرے میں ابھی اتنی آگاہی ہی نہیں ۔ اس لئے خود مریض کو بھی پتہ نہیں چلتا کہ وہ کس نفسیاتی مرض کا شکار ہے ۔ اپنے اردگر نظر دوڑانے سے آپکو معلوم ہوگا کہ بہت سے لوگ ان نفسیاتی الجھنوں کا شکار ہیں ۔ اور اس مرض کے زیر اثر وہ لوگ ایڑیا رگڑ رگڑ کر زندگی کی بازی ہار جاتے ہیں ۔

    ‏نفسیاتی الجھنوں نے پورے معاشرے کو ایسے ہی اپنی لپیٹ میں لے رکھا ہے جیسے کرونا وائرس جیسے مہلک وبا نے پورے معاشرے کو مفلوج کر کے رکھ دیا ۔ نفسیاتی بیماری کا مطلب پرگز یہ نہیں کہ آپ پاگل ہیں ۔ جسمانی بیماریوں کی طرح نفسیاتی بیماری بھی ایک مرض ہے ۔ جیسے ہم اپنی جسمانی بیماری کیلئے ڈاکٹر کے پاس جا کر مکمل علاج کر واتے ہیں ۔ ویسے ہی نفسیاتی الجھنوں کا بھی علاج ممکن ہے ۔ مگر ہمارے معاشرے میں اس پہ بات کرنا بھی ایسا ہے جیسے کوئی اچھوت بیماری جو نام لینے سے بھی نقصان پہنچائے گی ۔ 

    ‏نفسیاتی مسائل میں ایک مرض شیزو فرینیا ہے ۔ یہ ایک خطرناک ذہنی مسئلہ ہے ۔ جس میں مریض کو لگتا ہے کہ ہر بات کے دو مطلب ہیں اور وہ مریض ہمیشہ بات کے منفی پہلو پہ نظر رکھتا ہے ۔ اور اسے لگتا ہے کہ ہر بات میں طنز چھپا ہے ۔ اس مرض نے بہت سے لوگوں کو اپنی لپیٹ میں لے رکھا ہے ۔ اس مرض کی زد میں آنے والوں میں ہر طبقے اور ہر شعبہ زندگی کے لوگ شامل ہیں ۔ جنہیں ہر وقت یہ خوف ہوتا ہے کہ ان کا مالی نقصان ہوجائے گا اور یا پھر اس کے ادرگرد کے لوگ اسے مارنا چاہتے ہیں اور اسکے خلاف سازشوں میں شریک ہیں ۔

    ‏ایک ذہنی بیماری اور بھی ہے جسے نفسیات کی زبان میں ”بائی پولر” کہا جاتا ہے عام بان میں اسے خود پرستی بھی کہا جا سکتا ہے ۔اس کی زد میں آنے والے شخص کو اس بات کا یقین ہوتا ہے کہ وہ مافوق الفطرت قوتوں کا مالک ہے اس جیسا اور کوئی نہیں، وہی خود پرستی ۔ چنانچہ وہ مختلف دعوے کرتا نظر آتا ہے۔ ذہنی امراض کے ایک اسپتال میں ایک مریض نے دوسرے مریضوں کو اونچی  بلند مخاطب کر کے کہا ”آپ سب کو اطلاع دی جاتی ہے کہ مجھے اوتار بنا کر آپ کی طرف بھیجا گیا ہے” اس پر بائی پولر کا دوسرا مریض اپنی جگہ سے اٹھا اور اتنی ہی بلند آواز میں کہا ”لوگو، اس کی باتوں میں نہ آنا، یہ جھوٹا ہے کیونکہ میں نے اسے اوتار بنا کر نہیں بھیجا”۔ یہ محض لطیفہ نہیں ہے اگر آپ کسی بھی منٹل ہاسپٹل کا ایک چکر لگائیں گے تو آپکو معلوم ہوگا کہ یہ تو حقیقت پہ مبنی بات ہے ۔ 

    ‏یہ بیماری فقط آپ ذہنی امراض کے ہسپتال میں نہیں دیکھیں گے بلکہ ایسے مریض آپکو جگہ جگہ نظر آئیں گے جو خود پرستی کے مرض میں مبتلا ہیں ۔ جیسے کوئی شاعر اسے ایسا لگتا ہے جیسے اس جیسا کوئی اور شاعر تو دنیا میں موجود ہی نہیں ۔ کوئی منصف ہے تو وہ یہ سوچے بیٹھا ہوتا ہے کہ اس جیسا تو کوئی اور لکھ ہی نہیں سکتا ۔ یہی حال ہمارے سیاست دانوں کا ہے انہیں لگتا ہے ان جیسا صادق اور امین کوئی نہیں اور دوسروں پہ کیچڑ اچھانے میں وہ کوئی کمی نہیں چھوڑتے ۔ 

    ‏نفسیاتی اور  ذہنی بیماریاں ہمارے معاشرے کو دیمک کی طرح چاٹ رہی ہیں۔ ان بیماریوں میں صرف شیزو فرینیا یا بائی پولر ہی شامل نہیں بلکہ اس کی بیسیوں اقسام ہیں جن میں سے کچھ تو موروثی  ہیں یعنی والدین سے اولاد میں منتقل ہوتی ہیں ۔ اور کچھ حالات کے تحت جنم لیتی ہیں۔ انسان کی عمر کا خطرناک دور اس کی زندگی کے ابتدائی دن ہوتے ہیں، ماہر نفسیات کہتے ہیں کہ انسان کی شخصیت سات سال کی عمر میں مکمل ہو جاتی ہے اور کچھ تحقیق کے مطابق انسان کی شخصیت دو سال میں مکمل ہو جاتی ہے ۔ اور اس پر مثبت یا منفی اثرات کے متعدد محرکات ہیں جن میں گھریلو ماحول، والدین کا برتاو ، دوست اور معاشرے کا مجموعی ماحول شامل ہیں۔ 

    ‏جیسے باقی جسمانی صحت کے مسائل اہم ہیں ویسے ہی ذہنی مسائل بھی بہت اہمیت رکھتے ہیں ۔ اب ہم جس معاشرے میں سانس لے رہے وہاں یہ مسائل وبا کی طرح پھیل چکے ۔ ہر دوسرا شخص ذہنی دباؤ اور ڈپریشن کا شکار ہے ۔ حتی کہ چھوٹے چھوٹے بچے شدید نفسیاتی دباؤ کا شکار ہو کر اپنی جان کی بازی ہارتے نظر آتے ہیں ۔ ضرورت امر کی ہے کہ اس پہ خاص توجہ دی جائے ۔ بچوں اور بچیوں کیلئے کونسلنگ کی کلاسسز کا باقاعدہ اہتمام کیا جائے ۔ 

    ‏کسی عام فرد کے ذہنی بیماری کا شکار ہونے اور کسی ریاست کے اس کی زد میں آنے کے اثرات بہت مختلف ہیں۔ کاش ہم لوگ اپنے بچوں، بچیوں کے طرز عمل پر ان کے بچپن ہی سے نظر رکھیں اور اس کے علاوہ تعلیمی اداروں میں ان کی کونسلنگ کا اہتمام بھی کریں اور اپنی آنے والی نسل کو ڈپریشن اور ذہنی دباؤ سے نکال کر ایک خوبصورت زندگی کی طرف لائیں جس میں لاپرواہ ہنسی کا راج ہو اور ہماری نسل تتلیوں کے سنگ اپنے رنگوں کو نکھارے 

  • سگریٹ انڈسٹری کے وارے نیارے، تحریر: محمد شعیب

    سگریٹ انڈسٹری کے وارے نیارے، تحریر: محمد شعیب

    پاکستان میں ہر تیسرا شخص سگریٹ نوشی کی لت میں مبتلا ہے۔ ساتھ ہی ہمارے ملک میں کچھ ایسے بھی ہیں۔ جن کے پاس تین وقت کا کھانا کھانے کی اسطاعت نہیں ہوتی۔ لیکن وہ سگریٹ ضرور پیتے ہیں۔ ۔ ایک اندازے کے مطابق پاکستان میں دو کروڑ 90 لاکھ افراد تمباکو نوشی کرتے ہیں اور اس کی سب سے بڑی وجہ ہے پاکستان میں سستے سگریٹس کی دستیابی۔

    ۔ مثال میں آپکو دے دیتا ہوں پاکستان میں 20 سگریٹ کے پیکٹ کی اوسط قیمت 38 روپے ہے یعنی تقریباً دو روپے کا ایک سگریٹ۔ اندازہ لگائیں کہ روٹی 10 روپے کی ہے۔ یعنی پاکستان میں روٹی سگریٹ سے پانچ گنا زیادہ مہنگی ہے۔ اگر ملٹی نیشنل برانڈز کی مہنگی سگریٹس کی بات کی جائے تو وہ بھی ایک سگریٹ دس روپے میں مل جاتا ہے یعنی مہنگا ترین سگریٹ بھی روٹی کی قیمت میں مل جاتا ہے۔ بدقسمتی سے پاکستان میں چھ سے پندرہ سال کی عمر کے بارہ سو بچے روزانہ تمباکو نوشی کا آغاز کر رہے ہیں۔ پھر نوجوان میں خاص طور پر یونیورسٹی کے طلباء میں یہ لت بہت تیزی سے پھیل رہی ہے ۔ ان میں تمباکو نوشی کی شرح 15 فیصد ہے۔ زیادہ تر مرد تمباکو نوشی کرتے ہیں۔ پھر ایک سروے کے مطابق پاکستان کی 22 کروڑ کی آبادی میں سے
    19 فیصد لوگ ایسے ہیں جو 18سال کی عمر میں ہی تمباکو کا استعمال شروع کردیتے ہیں۔ ۔ فی الحال تمباکو نوشی سے صحت کے نظام پر اضافی بوجھ پڑنے کے علاوہ نوجوانی کی اموات میں اضافہ ہورہا ہے۔ تمباکو نوشی سے سالانہ ایک لاکھ ساٹھ ہزار سے زائد افراد موت کا شکار ہوتے ہیں۔

    ۔ پھر برطانیہ کی آکسفورڈ اکانومی رپورٹ کے مطابق پاکستان میں سالانہ تقریباً 78 ارب سے زائد سگریٹ کی اسٹکس اسموک کی جاتی ہیں۔ جن میں 33 ارب سگریٹ اسٹیکس غیر قانونی ہیں۔ ان غیر قانونی سگریٹ اسٹیکس میں سے ساڑھے 8 ارب اسٹکس اسمگل کی جاتی ہیں جبکہ تقریباً 33 ارب اسٹکس ملک میں غیر قانونی طور پر تیار ہوتی ہیں۔۔ پھر صحت کے حوالے سے دیکھیں تو اتنا تمباکو نوشی سے ٹیکس اکٹھا نہیں ہوتا جتنے اخراجات ہوجاتے ہیں ۔ اور یہ تقریباً پانچ گنا زیادہ ہے۔PAKISTAN INSTITUTE OF DEVELOPMENT ECONOMICSکی اسٹڈی کے مطابق تمباکو نوشی سے متعلقہ تمام بیماریوں اور 2019 میں ہونے والی اموات کی وجہ سے ہونے والے کل3.85بلین ڈالرز کے اخراجات ہوئے ۔ جو کہ پاکستان کے GDP کا 6.1 فیصد ہے۔
    جبکہ تمباکو نوشی کی کل ٹیکس collection120بلین روپے تھی جو کہ تمباکو نوشی سے ہونے والے خرچے کا تقریباً 20فیصد بنتا ہے ۔ پھر اس وقت پاکستان میں کینسر ، دل ، شوگر ، بلڈ پریشر اور سانس کی بیماریوں کی بڑی وجہ تمباکو نوشی ہے ۔ جو کہ تقریباً 71فیصد بنتی ہے ۔ صرف ان بیماریوں کے علاج پر پاکستان 2.74بلین ڈالرز خرچ کرتا ہے ۔

    ۔ میں آپکو خطے کے ممالک اور مختلف اشیاء کے ساتھ comparisonکرکے بتاتا ہوں تاکہ آپکو بات سمجھ میں آجائے ۔۔ اس وقت پاکستان میں گولڈ فلیک نامی سگریٹ سستا ہے اور تقریباً 50
    سینٹ میں پیکٹ دستیاب ہے جبکہ یہی سگریٹ بھارت میں چار ڈالر، بحرین میں 4.16 اور متحدہ عرب امارات میں 4.36 ڈالر میں دستیاب ہے۔ اب مہنگے سگریٹ کی قیمت دیکھیے۔ گولڈ لیف سگریٹ کا پیکٹ پاکستان میں 1.13 ڈالر، بنگلہ دیش میں 1.90،بھارت میں 2.48، سعودی عرب میں 3.47 اور سری لنکا میں 6.71 ڈالر میں دستیاب ہے۔ یعنی پاکستان کے مقابلے میں سری لنکا میں یہ سگریٹ تقریباً پانچ ڈالر زیادہ مہنگا ہے۔ ایسے ہی پاکستان میں 2019 سے 2021 تک گوشت 32 فیصد، چکن 168 فیصد، انڈے 83 فیصد، دودھ 51 فیصد تک مہنگے ہوئے لیکن اسی عرصہ میں سگریٹ ایک فیصد بھی مہنگے نہیں ہوئے۔ اس لیے یہ دعویٰ کہ تمباکو کی صنعت بہت ٹیکس دیتی ہے ۔ صرف سکے کا ایک رخ ہے ۔ ۔ پاکستان دنیا کے ان 15ممالک میں شامل ہے جہاں تمباکو نوشی سے ہونے والی بیماریوں کی شرح بہت زیادہ ہے۔ اسی لیے معاشی اور صحت کے اخراجات کو مدنظر رکھتے ہوئے۔ تمباکو کے استعمال میں موجودہ ٹیکس کی شرح کا پانچ گنا سختی سے تجویز کیا جاتا ہے۔ ایک اندازے کے مطابق دنیا بھر میں سگریٹ پینے والوں میں 60 فی صد افراد سگریٹ نوشی سے پیچھے ہٹنا چاہتے ہیں تاہم ان میں سے محض30 فیصد ہی کو ترک تمباکو نوشی کے مراحل میں ضروری سہولتیں حاصل ہوتی ہیں۔ ایک اندازے کے مطابق دنیا بھر میں صرف 23 ممالک میں تمباکونوشی چھوڑنے کے خواہش مندوں کا ان کی حکومتیں ساتھ دیتی ہیں۔

    ۔ اب عالمی ادارہ صحت کی طرف سے دنیا بھر کی حکومتوں سے کہاگیا ہے کہ وہ ٹوبیکو فری ماحول قائم کرنے میں اپنا کردار ادا کریں۔ اس کے لئے لوگوں کو شعور فراہم کریں، سگریٹ نوشی ترک کرنے کے خواہش مندوں کا ساتھ دیں ، انھیں ایسے ہتھیار فراہم کریں کہ وہ اسے بہ آسانی ترک کرسکیں۔۔ دنیا بھر میں چھ لاکھ افراد ایسے بھی ہیں جو سگریٹ کے دھوئیں سے بیمار ہوتے ہیں حالانکہ وہ خود تمباکو نوشی نہیں کرتے بلکہ ان کے قریب کوئی دوسرا فرد سگریٹ پیتا ہے۔ عالمی ادارہ صحت کے اعدادوشمار کے مطابق ہلاک ہونے والے 70لاکھ افراد تمباکو نوش ہوتے ہیں جبکہ دس لاکھ بیس ہزار افراد بلواسطہ طور پر تمباکونوشی سے متاثر ہوکر موت کے گھاٹ اتر جاتے ہیں۔ تمباکو اور اس کے دھوئیں میں تقریباً سات ہزار کیمیکل موجود ہوتے ہیں جن میں اڑھائی سو کے قریب انسانی صحت کے لئے انتہائی نقصان دہ پائے گئے ہیں اور پچاس سے زائد ایسے کیمیکل بھی موجود ہوتے ہیں جو کینسر کا باعث بن سکتے ہیں۔ تمباکو کے دھوئیں سے خون کی نالیاں سخت ہوجاتی ہیں جس سے ہارٹ اٹیک اور اسٹروک کا خطرہ بڑھ جاتا ہے۔۔ ویسے سگریٹ چھوڑنا اتنا مشکل نہیں ہے جتنا بتایا جاتا ہے۔ دراصل ہم اسے چھوڑنا نہیں چاہتے۔ اگر ہم فیصلہ کر لیں تو ترک سگریٹ نوشی مشکل نہیں ہے۔ زیادہ وقت ان کے ساتھ گزاریں جو سگریٹ نہیں پیتے۔۔ جب سگریٹ کی طلب ہو تو خود سے عہد کریں میں قوت ارادی کا مضبوط ہوں ،میرا فیصلہ ہے میں سگریٹ نہیں پیوں گا ۔ اس کے ساتھ خود ترغیبی کے ذریعے خود کو ہی سگریٹ کے خلاف لیکچر دیں۔ ۔ مراقبہ ، یوگا اور پابندی سے ورزش کرنے سے سگریٹ نوشی سے نجات مل جاتی ہے کیونکہ نکوٹین کی طلب میں اس وقت کمی آجاتی ہے جب ورزش کی جا رہی ہوتی ہے ۔ لیکن سب سے اہم آپ کی قوت ارادی ہی ہے ۔

    ۔ ایک تحقیق کے مطابق مراقبے کی مشق سے تمباکو نوشی کے عادی افراد کیلئے اس لت سے چھٹکارا پانا آسان ہوجاتا ہے۔ چاہے آپ اسے چھوڑنے کی کوشش نہ بھی کر رہے ہو۔ جو افراد آغاز پر سگریٹ نوشی سے گریز کرنے کی کوشش شروع کرتے ہیں ان کی کامیابی کا کافی زیادہ امکان ہوتا ہے۔ نکوٹین کی طلب میں اس وقت کمی آجاتی ہے جب ورزش کی جا رہی ہوتی ہے۔ ۔ یاد رکھیں آپ کے پھیپھڑوں میں ایسی ’حیران کن‘ صلاحیت پائی جاتی ہے کہ وہ سگریٹ نوشی کے باعث ہونے والے نقصان کی مرمت کر سکتے ہیں لیکن اس کے لیے آپ کو سگریٹ نوشی کو ترک کرنا پڑے گا۔ اگر معاشرے کے سنجیدہ اور باشعور طبقہ نے اس طرف توجہ نہ کی تو شاید کوئی گھر اس تباہی سے نہ بچ سکے۔ اس تناظر میں ضروری ہے کہ ڈاکٹرز ، پروفیسرز، ٹیچرز ، علماء سب کے سب عوامی شعور کی بیداری میں اہم کردار ادا کریں۔ تعلیمی اداروں میں مباحثے اور سیمینار منعقد کروائے جائیں۔ الیکٹرانک اور پرنٹ میڈیا بھی سگریٹ اور دیگر منشیات کے تباہ کن اثرات سے عوام کو آگاہ کرے۔۔ ایسے نعرے اور سلوگن عام کئے جائیں کہ سگریٹ جلتا ہے تو کینسر پلتا ہے۔ نشہ کے عادی افراد سے نفرت کی بجائے ہمدردی کی جائے اور ان کا علاج کرکے انھیں زندگی کی طرف واپس لوٹایا جائے۔ ہمارا دین بھی یہی تعلیم دیتا ہے کہ جس نے ایک انسان کی جان بچائی ، اس نے ساری انسانیت کو بچالیا۔

  • خواجہ سرا اور ہمارا معاشرہ تحریر:وسیم اکرم

    خواجہ سرا اور ہمارا معاشرہ تحریر:وسیم اکرم

    ہمارے معاشرے میں خواجہ سراؤں کو صرف ناچ گانے کے طور پر جانا جاتا تھا لیکن اس کے برعکس پاکستانی قانون میں متجنس افراد ایکٹ 2018 کی شمولیت کوئی چھوٹی کامیابی نہیں۔ یہ قانون جنوبی ایشیاء میں متجنس افراد کیلئے اٹھائے جانے والے ترقی پسند ترین قانون میں سے ایک ہے کیوں کہ یہ قانون جنسی شناخت کی بنیاد اور  تمہاری منشاء کے مطابق شناخت کو قبول کرنے اور اس سے متعلق اظہار کی آزادی دیتا ہے۔۔۔

    یہ قانون بلاشبہ خواجہ سرا اکٹوسٹوں ، انسانی حقوق کے کارکنوں، وکیلوں، مذہبی رہنماؤں اور پارلیمنٹ کے اراکین کی محنتوں کا نتیجہ ہے جنہوں نے متجنس افراد کی عزت اور وقار کیلئے اکٹھے ہوکر جدوجہد کی اور متجنس افراد کی اس حیثیت کو بحال کرنے کی کوشش کی جو ان سے اس ظالم معاشرے نے چھین لی تھی۔ ایک وقت ایسا بھی تھا جب پوری مسلم دنیا میں متجنس افراد بھی عام شہریوں کی طرح معاشرے کا ایک اہم حصہ تھے انہیں جنوبی ایشیاء میں خواجہ سراء اور ہیجڑا جبکہ ملائشیا اور انڈونیشیا میں "مت نئیا” کہا جاتا تھا۔ تاریخ ہمیں بتاتی ہے کہ خواجہ سرا روایتی ثقافتی تقریبات میں اہم کردار تھے۔ شادی اور جنم دن کی تقریبات سے لے کر صوفی اور ہندو مذہب کی رسومات تک نہ صرف خواجہ سراؤں کو قبول کیا جاتا تھا بلکہ یہ اپنے معاشرے کا ایک حصہ تھے اور انہیں نہ تو چھپایا جاتا تھا اور نہ ہی آبادی سے دور کیا جاتا تھا۔ لیکن انیسویں صدی نے اس سامراج کو ختم کرنے کی کوشش کی اور خواجہ سراؤں کو قابل احترام معاشرے سے باہر نکالنے کی کوشش کی۔۔۔

    پہلے کبھی جنس کی بنیاد پر اس قسم کی تقسیم کو قانونی حیثیت نہیں دی گئی تھی لیکن اب اس دنیا میں جنوبی ایشیاء کے خواجہ سرا ایک واضح خطرہ قرار دیئے گئے۔ ہندوستانی تاریخ اور معاشرے میں ان کے مقام اور احترام کو کافی نقصان پہنچایا گیا اور سامراج کی نظر میں ان کا رہن سہن فحش بنا دیا گیا جہاں تک کہ خواجہ سرا شادی بیاہ کی تقریبات میں جنوبی ایشیاء کا سفر طے کرتے تھے اس کو بھی ان کے خلاف جرم بنا دیا گیا۔ 1871 کے قانون کرائم ایکٹ کے دوسرے حصے کے مطابق جنسی اعتبار سے مختلف گروہ یونک قرار دیئے گئے۔ اس قانون کے مطابق خواجہ سرا پیدائشی طور پر ہی مجرم ہوتے ہیں اس لیئے ان کی عوامی مقامات پر جانے کی بھی پابندی لگا دی گئی تھی۔ سامراج سمجھتا تھا کہ ان کے یہ قانون صدیوں سے قائم ثقافت اور خواجہ سراؤں کی حیثیت کو ختم کر دیں گے لیکن ابھی تک پاکستان میں جنسی طور پر متنوم معاشرے اس بات کا ثبوت ہیں کہ سامراج کا یہ منصوبہ ناکام رہا اور اب پوری دنیا میں متجنس افراد سامراج کے ہاتھوں ختم ہونے والا مقام واپس حاصل کر رہے ہیں جس میں سب سے بنیادی چیز برابر شہری کا حق ہے۔۔۔

    ترکی میں اب متجنس افراد الیکشن میں بھی حصہ لے رہے ہیں اور ان کی اس آئینی آزادی کو اعلی عدالتوں نے بھی برقرار رکھا ہے۔ انڈونیشیا میں ایک متجنس عورت نے ایک سیٹ بھی جیتی ہے اور اسلامی جمہوریہ ایران میں جنسی سرجری پر خصوصی رعایت دی گئی ہے جب کہ پاکستانی قانون بغیر کسی جسمانی یا ذہنی معائنے کے آپ کی مرضی کی شناخت قبول کرتا ہے لیکن ابھی مزید بہت سا کام کرنے کی ضرورت ہے ابھی بہت سے مسائل باقی ہیں جن سے نمٹنے کی ضرورت ہے۔۔۔

    2018 کا متجنس افراد ایکٹ اور 2021 میں بنائے گئے اس کے رولز تفصیل سے تمام شعبوں میں متجنس افراد کے خلاف امتیاز کو ختم کرنے کی ضمانت دیتے ہیں جیسا کہ تعلیم، صحت، جائیداد اور روزگار کی فراہمی وغیرہ۔ بدقسمتی سے اس طرح کے امتیازی سلوک روکنے کیلئے یہ ایکٹ مناسب طریقہ کار واضح نہیں کرتا اور دوسرا مسئلہ یہ کہ تعلیم اور صحت صوبائی انتظامیہ کے کنٹرول میں ہے اس لیئے اس ایکٹ پر عمل کیلئے صوبائی حکمت عملی کی ضرورت ہے۔ ایک مسئلہ یہ بھی ہے کہ پاکستان میں کوئی واضح امتیاز مخالف قانون موجود نہیں جس کے تحت لوگ سول یا فوج داری مقدمات کر سکیں۔ اسی وجہ سے متجنس کمیونٹی میں بہت تشویش پائی جاتی ہے کیونکہ تاریخی اور موجودہ حالات اس بات کا ثبوت ہیں کہ متجنس افراد کو ریاستی اور غیر ریاستی افراد سے شدید خطرات لاحق ہیں خاص طور پر پولیس سے کیونکہ متجنس افراد ایکٹ کے مطابق خواجہ سرا کا بھیک مانگنا جرم ہے اور اب پولیس والوں کے پاس بھیک کو روکنے کیلئے خواجہ سراؤں کو تنگ کرنے کا بہانہ موجود ہے۔ مسئلہ یہ ہے کہ پاکستان پہلے ہی بھیک کو جرم قرار دے چکا ہے اور اب اس کو خواجہ سراؤں کے ساتھ جوڑنا سراسر غیر ضروری اور امتیازی سلوک ہے۔ ان مسائل کو حل کرنے کیلئے ضروری ہے کہ متجنس افراد کو بااختیار بنایا جائے جس کیلئے موجودہ حفاظتی قوانین کو صوبائی سطح پر بھی اپنا کر ان پر عمل کروانے کیلئے ٹھوس اقدامات اٹھانے پڑیں گے۔ امتیازی سلوک کو جرم قرار دے کر اس پر سزا مقرر کرنا صرف متجنس افراد ہی نہیں بلکہ ملک میں موجود مذہبی اور نسلی اقلیتوں کیلئے بھی فائدہ مند ہوگا۔۔۔

    سو سالا سامراجی دور نے متجنس افراد کے خلاف جو منفی سوچ پیدا کی ہے قانونی طور پر اس کو ختم کیا جائے۔۔۔ قانون کو کسی صورت ان تعصبات کو فروغ دینے کا ذریعہ نہیں بننا چاہیے بلکہ متجنس افراد کی ثقافتی سرگرمیوں کا احترام کرنا چاہیے اور انہیں بھیک اور آوارہ گردی جیسے قوانین کا نشانہ نہیں بنانا چاہیے۔ بلاشبہ پاکستانی قوانین متجنس افراد کو قبول کرنے کے حوالے سے ترقی پسند ترین قانون ہے لیکن پاکستانی ریاست کو متجنس افراد کیلئے محفوظ جگہ بنانے کیلئے ابھی بھی بہت سے اقدامات کی ضرورت ہے۔۔۔

    @PatrioticWsi

  • منافقت آخر کیوں ؟”  تحریر:ایڈوکیٹ عبدالمجید مہر 

    منافقت آخر کیوں ؟” تحریر:ایڈوکیٹ عبدالمجید مہر 


    ایک ایسا موضع جس پر شائد بات کرنے یا یہ تحریر لکھنے پر مجھ بھی تنقید ہو لیکن پھر بھی کچھ لوگوں کی منافقت اور دوہرا معیار دیکھ کر میرا دل کہہ رہا ہے کہ اس پر بات کرنی چاہیے 

    سب سے پہلے یہ بتاتا چلوں کہ ہمارا ملک اسلام کے نام پر بنا ہے اور آئین پاکستان میں یہ واضع لکھا ہے کہ ہم ایسا کوئ قانون نہیں بنائیں گے جو شریعت کے خلاف ہو ،اسی لئے ہمارے ملک میں قانون شریعت کے عین مطابق ہیں ،دوسری بات زنا بالجبر ہو یا زنا بالرضا یا زنا کی کوئ بھی قسم ہو قانون وشریعت کی مطابق ہر طرح اس کی سزا بنتی ہے ہاں سزا میں تھوڑی بہت کمی بیشی ضرور ہے لیکن بہرحال سزا بنتی ضرور ہے ،تیسری بات یہ بھی اسلامی تعلیمات سے ہی ہم نے سیکھا ہے کہ کسی کا راز فاش نہیں کرنا چاہیے یا جتنا ہوسکے کسی کے راز پر پردہ رکھیں اس کی بھی کئ مثالیں اسلامی تعلیمات میں ہمیں ملتی ہیں 

    اب آجاتے ہیں اصل معاملہ پر ہمارے معاشرے میں کئ انسان نما وحشی درندے موجود ہیں جن کے چھوٹی بچیوں ،بچوں ،خواتین ،لڑکیوں ،لڑکوں اور یہاں تک جانوروں سے بھی ذیادتی کرنے کے کئ واقعات رونما ہوتے ہیں اور پوری قوم ایسے بد بخت لوگوں کو سخت سے سخت سزا دینی پر مکمل طور پر متفق نظر آتی ہے کوئ ایسی گھٹیا حرکت کرنے والوں کی حمایت کرتا نظر نہیں آئے گا 

    لاہور مینار پاکستان کا واقعہ ہو،اسلام آباد موٹروے کا واقعہ ہو ،کسی مدرسے میں بچے/بچی سے ذیادتی کا واقعہ ہو ،مفتی عبدالعزیز کی بچے سے ذیادتی کی ویڈیو کا واقعہ ہو ہم سب نے پوری قوم سمیت تمام مکاتب فکر اور ہر پیشہ سے وابستہ لوگوں نے کھل کر ان واقعات کی مذمت کے ساتھ سخت سزا کا بھی مطالبہ کیا اور یہ مطالبہ کرنا بھی چاہیے ایسے درندوں سے اس وطن کو پاک کرنا ہم سب پر فرض بنتا ہے 

    لیکن کچھ روز پہلے سابق گورنر سندہ،نواز شریف کے ترجمان زبیر عمر  کی کچھ ویڈیوز وائرل ہوئ جب تک ویڈیو نہیں آئ تب تک اس راز پر پردہ تھا لیکن ویڈیوز آگئ سب نے دیکھ لی تو اب اس میں پردے والی کوئ بات رہ نہیں جاتی تو اس ویڈیوز آنے کے بعد امید تھی پوری قوم تمام مکاتب فکر کے لوگ یک زبان ہوکر اس کی نا صرف مذمت کرے گی بلکہ اس کے لئے بھی سخت سزا کا مطالبہ کرے گی ،لیکن یہاں تو عجیب ہی دیکھنے کو ملا جسے دیکھو وہ بجائے زبیر عمر کے اس واقعے پر بات کرنے والوں کو برا بھلا کہتے نظر آئے ،راز رہنے دو ،نجی زندگی ہے ،ایسی باتوں میں سیاست نا کریں ،میڈیا کوئ ذکر تک نا کرے سب لوگ ایسے خاموش دکھائ دیئے جیسے ذیادتی زبیر عمر کے ساتھ ہوئ ہو 

    چند لوگوں نے تو یہاں تک کہہ دیا کہ اگر بلیک میلنگ کا عنصر موجود ہو تو احتساب کریں ورنہ وہ اس کی نجی زندگی کا معاملہ ہے اس لئے بات نا کریں ،سوچیں یہی ویڈیو اگر pti کے کسی بندے ،کسی مدرسے کے مولوی،مزدور یا اسی گورنر ہاوس کے کسی گارڈ،چوکیدار وغیرہ کی ہوتی تو کیا یہ لوگ تب بھی اس طرح خاموش رہتے؟جو غلط کام غریب بندہ کرے تو پھانسی اور امیر پیسہ والا بندہ کرے تو پھانسی تو دور اس موضوع پر بات کرنا بھی گناہ کبیرہ سمجھا جائے 

    میرے خیال میں ہمیں ایسی منافقت ختم کرنی چاہیے ،قانون سزا و جزا ،عزت غیرت امیر غریب ،گورنر مولوی سب کے لئے ایک ہونی چاہیے 

    اللہ پاک ہم سب پر اپنا کرم فرمائیں آمین 

    ‎@MajeedMahar4

  • کھلا ہے جھوٹ کا بازار ، آؤ سچ بولیں – تحریر: یاسر اقبال خان

    کھلا ہے جھوٹ کا بازار ، آؤ سچ بولیں – تحریر: یاسر اقبال خان

    جھوٹ کا مطلب کے کسی کو دھوکہ دینا ہے۔ جھوٹ بولنے کو دنیا کے تمام مذاہب میں برا سمجھا جاتا ہے اور ہمارے مذہب اسلام میں جھوٹ کو گناہ قرار دیا گیا ہے کیونکہ کسی کو دھوکہ دے کر اس سے معاشرے میں بگاڑ پیدا ہوتے ہیں۔ دنیا کے ہر معاشرے اور مذہب میں جھوٹ کو ایک اخلاقی جرم قرار دیا گیا ہے کیونکہ جھوٹ بول کر لوگ اپنی کوئی کمزوری چھپاتے ہیں یا سزا سے بچنے کیلئے جھوٹ بولتے ہیں یا کسی کے ساتھ کوئی وعدہ توڑنے کیلئے جھوٹ کا سہارا لیا جاتا ہے۔ جھوٹ بولنا جب کسی معاشرے میں عام ہوجاتا ہے تو اس معاشرے پر دنیا کا کوئی فرد و قوم بھروسہ نہیں رکھتا اور نہ کوئی جھوٹ بولنے والوں سے دوستی رکھنا پسند کرتا ہے۔ جو بندہ جھوٹ بولتا ہے تو اسکی اپنی شخصیت اور کردار پر بھی منفی اثرات مرتب ہوتے ہیں اور کسی بھی محفل میں جھوٹ بولنے والے کو دھوکے باز سے یاد کیا جاتا ہے۔

    دنیا کے تمام مذاہب میں جھوٹ بولنے کو برا سمجھا جاتا ہے جھوٹ بولنے والے انسان کو رفتہ رفتہ کسی بھی دوسرے شخص کے جذبات واحساسات کی کوئی پرواہ نہیں رہتی، جھوٹ بولنے والے اس انسان کا دماغ ہر وقت کسی کو بھی بڑی آسانی کے ساتھ بڑے سے بڑے دھوکا دینے کے لئے تیار رہتا ہے اور جھوٹ اس کے لئے ایک معمولی سی بات ہوتی ہے۔ حتیٰ کہ اس شخص پر ایک وقت ایسا آتا ہے کہ اس کو اپنی زندگی میں سوائے اپنے اور کچھ نظر نہیں آتا۔ اسکے قریبی رشتہ دار مثلاً اس کی بیوی، شوہر، بچے، ماں، باپ ، بہن ، بھائی، دوست پڑوسی کی بھی اس کی زندگی میں کوئی اہمیت نہیں رہتی۔ ایسے لوگ وقت گزرنے کے ساتھ ساتھ معاشرے کے لئے بھی پریشانی کا باعث بن جاتے ہیں۔ اللہ تعالیٰ نے جھوٹ کو کبیرہ گناہ قرار دیا ہے رسول صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّم  کے دور میں ایک آدمی آپ کی خدمت میں حاضر ہو کر بولنے لگا کہ میں اسلام لانا چاہتا ہوں لیکن مجھ میں بہت سی برائیاں ہیں جنہیں میں چھوڑ نہیں سکتا اگر رسول ﷺ مجھے ان میں سے کوئی ایک برائی چھوڑنے کا کہے تو وہ میں چھوڑ دوں گا رسول ﷺ نے اس شخص کو فرمایا کہ جھوٹ بولنا چھوڑ دو جس پر اُس بندے نے جھوٹ نہ بولنے کا وعدہ کر لیا جھوٹ چھوڑنے کے سبب اُس کی تمام برائیاں چُھٹ گئیں۔ اِس سے یہ سبق ملتا ہے کہ جھوٹ بولنا کتنی بڑی برائی ہے اگر ہم اس کو ترک کرے تو بہت سی برائیوں سے بندہ بچ سکتا ہے۔ حضور اکرم ﷺ نے سچ بولنے سے متعلق ایک ارشاد فرمایا ہے: ”سچ بولنے کی عادت بناؤ کیونکہ سچائی نیکی کی راہ دکھاتی ہے اورنیکی جنت میں لے جاتی ہے”۔

    (صحیح مسلم:۱۳؍۱۶حدیث: ۴۷۲۱)

    قرآن میں اللّه پاک نے فرمایا ہے کہ جھوٹ بولنا گناہ کبیرہ، حرام اور جہنم میں لے جانے والا کام ہے۔ اللّه پاک قرآن میں فرماتے ہیں:

    "اے اہل ایمان! خدا سے ڈرتے رہو اور سچ بولنے والوں کے ساتھ رہو۔”   [9-التوبة:119]

    اسی طرح قرآن پاک میں ایک اور جگہ فرمانِ الٰہی ہے: 

    ”آج وہ دن ہے کہ سچ بولنے والوں کو ان کی سچائی ہی فائدہ دے گی۔”  (المائدۃ: ۱۱۹)

    اللہ تعالیٰ قرآن پاک کی ایک آیت میں جھوٹ بولنے والوں کی مذمت کرتے ہوئے ارشاد فرماتا ہے: 

    ”اللہ تعالیٰ ان لوگوں کو راہ نہیں دکھاتے جو اسراف کرنے والے ہیں اور جھوٹے ہیں۔” (المؤمن :۲۸)

    جھوٹ ایک برا عیب اور سب سے بڑا گناہ ہے بہت سے برے اور غیر پسندیدہ کاموں کا سرچشمہ ہے۔ سچائی ایسی صفت ہے جس کی اہمیت ہر مذہب اور ہر دور میں یکساں طورپر تسلیم کی گئی ہے، اس کے بغیر انسانیت مکمل نہیں ہوتی۔ جھوٹ کا بازار کتنا ہی گرم ہو لیکن ہمیں کوئی ذاتی فائدے کیلئے کبھی بھی جھوٹ نہیں بولنا چاہئے اور سچ بول کر ہم دنیا و آخرت دونوں میں عزت اور کامیابی پا سکتے ہیں۔ 

    کھلا ہے جھوٹ کا بازار، آؤ سچ بولیں

    نہ ہو بلا سے خریدار، آؤ سچ بولیں

    سکوت چھایا ہے انسانیت کی قدروں پر

    یہی ہے موقع اظہار، آؤ سچ بولیں

    Twitter: ‎@RealYasir__Khan

  • مردہ کیسے تصدیق کرتے ہیں کہ وہ مر چکے ہیں”  صرف ایک یاد دہانی … تحریر مدثر حسن ‎

    مردہ کیسے تصدیق کرتے ہیں کہ وہ مر چکے ہیں” صرف ایک یاد دہانی … تحریر مدثر حسن ‎


    انااللہ واناالیہ راجعون !!!

    موت جسے ہر انسان چاہے وہ جس فرقے سے تعلق رکھتا ہے چاہے وہ جس مذہب سے تعلق رکھتا ہے جانتا ہے کہ وہ جتنا بھی اس دنیا میں جی لے جہاں بھی جائے لیکن اس نے موت کا ذائقہ تو لازمی چکھنا ہے۔ اور روح پرواز کرنے کا وقت بڑا ہیبت ناک ہوتا ہے۔ کہا گیا ہے کہ گنہگار کی روح جسم سے ایسے نکلتی ہے جیسے مخمل کا کپڑا جھاڑیوں پہ ڈال کر پھر زور سے کھینچا جائے جبکہ مومن کی موت گویا آٹے سے بال نکالنے کے مترادف ہے۔ وہ لمحہ جب روح جسم سے نکل رہی ہوتی ہے اس لمحے کو "عالم سقرات” کہتے ہیں جو بڑا ہی کربناک منظر ہوتا ہے۔ اس کے بعد جو عالم شروع ہوتا ہے اسے "عالمِ برزخ” کہتے ہیں یعنی قبر۔

    سب سے پہلے اسکی روح پاؤں سے نکلنا شروع ہو جاتی ہے اور آخر میں سر سے نکلتی ہے اگرچہ دماغ کچھ لمحیں زندہ رہتا ہے۔ جب انسان مر جاتا ہے یا اسکی روح پرواز ہو جاتی ہے تو اسے یوں لگتا ہے وہ خواب دیکھ رہا ہے۔ اسکے ساتھ جو جو ہوتا اسے یہی محسوس ہوتا ہے کہ وہ خواب میں ہے۔ اسے نہلایا جاتا ہے کفن پہنایا جاتا ہے نماز جنازہ پڑھایا جاتا ہے اسے بس اتنا پتہ ہوتا ہے کہ جو سب کچھ ہو رہا ہے وہ خواب دیکھ رہا ہے۔ اس کے بعد عالم برزخ شروع ہو جاتا ہے اس کے اہل و عیال اس کے جسم خاکی کو قبر میں دفن کر کے گھر کی طرف روانہ ہو جاتے ہیں تب دو فرشتے آتے ہیں اور ایک اسے کاندھے سے ہلائے گا تاکہ وہ اٹھ بیٹھے تو اس کا جو خواب تھا اب وہ اس سے بیدار ہو چکا ہوتا ہے اور سب سے پہلے وہ اپنے کفن کو ہاتھ لگا کر کہتا ہے کہ میرا لباس کہاں ہے؟ اور میں کہاں ہوں اس وقت تب اسے ایک فرشتہ بتاتا ہے کہ وہ مر چکا ہے اور اب وہ اپنی قبر میں بیٹھا ہے۔ وہ فرشتے جو اسکی قبر میں اتارے جاتے ہیں انہیں "منکر نکیر” کہتے ہیں۔۔ جب اسے پتہ چلتا ہے کہ وہ مر چکا ہے تو تب وہ چیختا چلاتا ہے اور خدا کے حضور گڑگڑاتا ہے۔ کہ اے میرے رب مجھے معاف فرما دے مجھے آپکی رحمت اور فضل کے انتظار میں بیٹھا ہوں۔ تیرے سوا میرا کوئی نہیں ہے میری مدد فرما۔
    اگر وہ مسلمان ہوگا ایمان والا ہوگا اور اس نے اچھے اعمال کیے ہونگے تو اسے بخش دیا جائے گا اور وہی قبر اس کیلیے باغِ بہشت بن جائے گی۔۔۔ اگر اس نے برے اعمال کیے ہونگے اور لوگوں کو ستایا ہوگا یا گناہ کبیرہ کرتا رہا ہوگا تو اسے سخت سزا دی جائے گی اور اس وقت پچھتاوے کے سوا کچھ نہیں ہوگا اور قیامت تک وہ اس سزا کی بھٹی میں جلتا رہے گا جب تک اللہ کا فضل نہیں آن پہنچتا۔۔۔
    یہ وہ عالم ہوتا ہے جب انسان کے پاس کچھ نہیں ہوتا سوائے سلامتی والے دل اور نیک اعمال کے۔ جو وہ دنیا میں کر کے آ چکا ہوتا ہے۔ ہاں البتہ صدقہ جاریہ جو وہ اپنی زندگی میں کرتا ہے اس کا ثواب اسے ملتا رہتا ہے۔ صدقہ جاریہ جیسا کہ مسجد بنانا، نلکا لگانا، درخت لگانا وغیرہ۔۔ ہو سکتا ہے یہی صدقہ جاریہ اسکی بخشش کا ذریعہ بھی ہو۔
    اور یہ وہ وقت ہوتا ہے جب توبہ کے دروازے بند ہو چکے ہوتے ہیں انسان پر۔ دنیا میں مرتے دم تک انسان کو مہلت ہوتی کہ وہ اپنے اعمال پہ نادم ہو کر خدا کے حضور توبہ کر لے لیکن جب موت آ جائے اس پر تب یہ دروازے بند کر دئیے جاتے ہیں۔ اس لیے ابھی وقت ہے توبہ کر لی جائے۔
    اسلام میں بھائیوں اور بہنوں ، یہاں آپ کے پاس دو آپشن ہیں:
    1۔ یہ چھوٹا سا علم صرف یہاں پڑھا جائے اور کچھ نہ ہو۔
    2۔ اپنے خاندان کے لیے دعا کریں۔
    اس کے علاوہ حکم ہے کہ اہل و عیال میں سے جو فوت ہو جائے تو اس کیلیے مغفرت کی دعا کرتی رہنی چاہیے کہ اللہ کا کرم ہو جائے اور بندے کی بخشش ہو جائے۔
    اے اللہ ، میری جان مت لینا جب تک میں اپنی پوری طرح نہ ہوں اور تم سے ملنے کے لیے تیار نہ ہوں آمین،
    تحریر مدثر حسن


  • عمل سے زندگی بنتی ہے جنت بھی جہنم بھی تحریر : وسیم سید 

    عمل سے زندگی بنتی ہے جنت بھی جہنم بھی تحریر : وسیم سید 

    ‏توَاَنْ لَّيْسَ لِلْاِنْسَانِ اِلَّا مَا سَعٰى (39)

    ‏اور انسان کو وہی ملتا ہے جس کی وہ کوشش کرتا ہی 

    ‏اللہ تعالی نے انسان کو زمیں پر اپنا نائب اور اشرف المخلوقات بنا کر بھیجا ہے ۔ ہمیں عقل سے نوازا اور بے تحاشہ صلاحیتیں دیں ۔ اگر غور کیا جائے تو صرف انسان ہی نہی ہر ذی روح اپنے survival کے لیے کوشش کرتا ہے ۔ انسان ہو یا حیوان چرند ، پرند ہر کوئی اپنے سر چھپانےکے لیے چھت بناتا اور اور روزی کی تلاش میں نکلتا ہے ۔ خود کو موسموں کی سردی گرمی سے بچانا یہ سب survival کی کوششیں ہی ہیں ۔ 

    ‏تو پھر سوچیں صرف انسان ہی اشرف المخلوقات کیوں؟ 

    ‏اس لیے کہ انسان کو اللہ نے عقل سے نوازا ہے اور یہ صلاحیت دی ہے کہ وہ اپنے لیے غلط اور سہی کا تعین کر سکے ۔ اپنے نفس کو اپنے قابو میں رکھتے ہوئے اپنے لیے کوشش کرنے والا ہی اشرف المحلوقات ہے 

    اللہ تعالی نے انسان کو زمین پر اپنا نائب بنا کر بھیجا ہے اور ہمیں اس ذات نے بے مناہ صلاحیتوں سے مالا مال کیا ہے ۔ عقل دی تاکہ اپنے لیے صحیع راستے کا انتحاب کر سکیں اور کوشش کی خوبی سے نوازا تاکہ اس کے دی گئی نعمتوں میں اپنے حصے کی نعمتین کوشش سے حاصل کریں ۔ 

    اللہ نے ہمیں ہمت اسقلال بردباری اور عرفان سے نوازا تاکہ اس کوشش کہ راستے  میں آنے والی پریشانیوں کا مقابلہ ہمت اور حوصلے سے کر سکیں ۔ اللہ نے ہمارے حود متعین کی ہیں ان کے اندر رہتے ہوۓ ہم کوشش سے بہت کُچھ کر سکتے ہیں ۔ او ر ان حدود سے آگے کچھ بھی نہی  ۔ میرے مطابق غریبی اور امیری بھی الل نے انسان کے ہاتھ میں دی ہے ۔ انسان کے ہاتھ میں ہے جس نے کوشش کی اور عمل کیا اس نے ترقی کی راہ کو پا لیا ۔ 

     علامہ اقبال کاا ایک شعر ہے۔۔۔” عمل سے زندگی بنتی ہے جنت بھی جہنم بھی، یہ خاکی اپنی فطرت میں نا نوری ہے نا ناری ہے”۔ اس شعر میں انسان کی زندگی کو مکمل طور پر بیان کردیا گیا ہے کہ انسان اگر اچھے عمل کرے گا تو کامیابی اُس کے قدم چومے گی اور اگر انسان غلط راہ پر گامزن رہا تو زندگی بھی کانٹوں بھری سیج ہوگی اب یہ انسان پر منحصر ہے کہ وہ یہ زِندگی کیسے گزارتا ہے۔۔۔۔ بےشک زندگی اللہ تعالی کی بہت بڑی نعمت ہے، انسان اس چیز کو سمجھنے سے قاصر ہے کہ زندگی شروع کہاں سے ہوئی اور آخرت کی زندگی کیا ہے، ایک مسلمان کا عقیدہ ہے کہ اصل زندگی مرنے کے بعد شروع ہوتی ہے، تو پھر سوال یہ ہے کہ اس وقت جو ہم زندگی گزار رہے ہیں وہ کیا ہے۔۔۔ کیا رنگوں کے ساتھ بھری زندگی یہ ہے—-؟؟؟ یہ پھر رنگوں سے مزین زندگی مرنے کے بعد والی ہے۔۔۔؟؟

    زندگی بیشک رنگوں بھری ہے اب یہ انسان پر منحصر کرتا ہے وہ اس میں کس طرح کے رنگ بھرتا ہے۔۔۔ قوس و قزح کی مانند خوبصورت رنگ جو آنکھوں کو ٹھنڈک دیں یا پھر سیاہ تاریکی میں ڈوبے رنگ جن سے وحشت ہو۔۔؟

    اگر ہم کو اپنی اصل زندگی میں رنگ بھرنے ہیں تو ہمیں اس زندگی میں بہت خوبصورت رنگوں میں ڈوبنے کی ضرورت ہے۔۔۔ اب یہ کیسے ہو؟ یہ ایسے ممکن ہے کہ اللہ تعالی کے بنائے ہوئے اصولوں پر عمل پیرا ہونا اور امر بالمعروف ونہی عن المنکر پر عمل کرنا ۔۔۔۔۔ جب انسان کو یہ سمجھ آجائے گا کہ یہ دُنیا عارضی قیام گاہ ہے اور اصل دُنیا اور زندگی اس کے بعد کی ہے تو اس دنیا سے رغبت خودبخود ختم ہوجاتی ہے لیکن اس کام مطلب ہرگز یہ نہیں کہ اس دنیا میں موجود ہم اپنے حقوق و فرائض سے بے خبر ہوجائیں ہرگز نہیں ۔۔۔اس چیز کی اسلام میں سختی سے معمانیت ہے۔

    ‏اکثر یہ بات سُننے کو ملتی ہے اگر مقدر میں ہوا تو مل جائے گا ۔ بے شک یہ بات درست ہے کہ ہماری زندگیوں میں قسمت اور تقدیر کا بہت بڑا کردار ہے لیکن یہ بھی سچ ہے کہ ہاتھ پہ ہاتھ رکھ کہ ہم قسمت کا انتظار نہی کر سکتے کہ وہ آئے اور ہمارے حلق میں نوالہ ڈالے ۔ اگر ماضی پہ ایک نظر دوڑائیں تو تمام کامیاب لوگوں کی ترقی کا زینہ عمل ، مسلسل جد وجہد اور کوشش میں پنہاں ملے گا ۔ یہ کہنا غلط نہی ہو گا کہ قسمت انسان خود بناتا ہے ن۔ نیک ارادہ ، صحیع سمت ، دیانت داری اور لگن کے ذریعے  وہ اپنی منزل تک پُہنچتا ہے اور اس میں خدا بھی اس کا حامی و ناصر ہوتا ہے ۔ 

    ‏میرا ذاتی تجربہ بھی ہے کہ انسان کوشش سے وہ سب حاصل کر لیتا ہے جس کا اس نے خواب دیکھا ہو ۔ انگریزی کا ایک محاورہ ہے 

    ‏”Nothinh is impossible under this blue sky ” 

    ‏اور اگر کوشش کی جائے تو ہے بھی ایسا ہے ۔ 

    ‏اس تحریر کا مقصد یہ بات اپنی نوجوان نسل تک پُہنچانا ہے کہ اسقلال اور ہمت سے وہ اپنے لیے ستاروں سے آگے کے جہاں کے راہ بھی ہموار کر سکتے ہین۔ عزت ، شہرت ۔ شان و شوکت سب کچھ جہد مسلسل اور عمل پیہم سے حاصل کیا جا سکتا ہے ۔ زندگی میں مشکلات کا آنا معمول کی بات ہے لیکن ان مشکلات اے گھبرا کہ خود پہ ترس کھانا اور کود بیچارہ سمجھ لینا الل کی سی گئی اس خوبصورت نعمت کی تذلیل ہے ۔ 

    ‏جیسا کہ مشہور شاعر ظفر علی خان نے فرمایا 

    ‏خدا نے آج تک اس قوم کی حالت نہیں بدلی 

    ‏نہ ہو جس کو خیال آپ اپنی حالتبدلنے کا 

    ‏ ⁦‪@S_paswal‬⁩

  • اخلاقی کمزوری تحریر:رضوان۔

    اخلاقی کمزوری تحریر:رضوان۔

    اخلاقی
    پاکستان میں اخلاقی اقدار دن بدن کمزور ہو رہی ہیں  یہ ہماری گھریلو ترتیب کا نہ ہونا ہے’ ہمیں گھروں میں اچھے اخلاق سکھائیں جائیں گے تو ہم  دوسرے لوگ کا احترام کریں گے اخلاقی گراوٹ کسی بھی قوم کی تباہی کا باعثِ خیمہ ہے ہمارے اخلاق کا کمزور ہو جانا ہمارے ایمان کی کمزوری ہے ہم بحیثیت مسلمان دوسرے لوگوں کی عزت و توقیر کا خیال رکھیں ان کی زاتی زندگی میں دخل اندازی نہیں کرنی چاہیے بد قسمتی سے اخلاق گراوٹ کی کوئی قانونی سزائیں نہیں اگر کچھ سزائیں ہیں بھی صحیح تو ان پر عمل درآمد نہیں ہوتا ہے اگر کسی کی کوئی بے عزتی کرتا ہے تو اس کو شاباش دی جاتی ہے یہ باعث شرمندگی ہے تو پھر اس کے جواب میں بھی جواب اس سے زیادہ گندی زبان استعمال کرکے دیا جاتاہے  بدقسمتی سے ہمارے معاشرے میں ماضی میں بھی اور موجود دور میں بھی خواتین بچوں سے جنسی زیادتیاں ہوتی تھی ان کی سزائیں جرگہ طے کرتے تھے کبھی کسی کے جرم میں کوئی اور سزائیں کے طور پر گندے عمل کی بھینٹ چڑھ جاتے تھے مثلاً جب کوئی مرد کسی عورت سے زیادتی کرتا تو جرگہ میں زیادتی کرنے والے شخص کی عزیز کو جرگہ زیادتی ہونے والی عورت کے بھائی سے شادی (ونی) کر دیتے تھے  یہ بھی کسی کی بغیر رضا مندی ظاہر کئے شادی کر دی جاتی تھی  پھر دیہاتوں میں امیر وڈیروں کے جرگہ میں کچھ رقم زیادتی ہونے والا کو دی جاتی تھیں یہ حقیقت تھی  اب اگر آن جیسے واقعات کو قانون کے شکنجے میں لایا جاتا ہوتا تو کسی زینب کو قتل نہ کیا گیا ہوتا موٹر ویز پر خاتون کی عزت کو نقصان نہ پہنچا ہوتا  اب ملا میں ایسے گندے دھندوں کی ویڈیو بنائی جاتیں ہیں لیکن ان میں سے اکثر Fake ہوتی ہے جو بلیک میل کرنے یا دوسرے کی عزت اچھالنے کا سستا ترین طریقہ ہے’ مدارس میں ویڈیو آئے تو پورے مدارس کو بدنام کرنے کے لیے پراپیگنڈا کیا گیا عزیر کا انفرادی فعل تھا اس میں مدارس کا کوئی کردار نہیں ہے  اگر کسی کالج یونیورسٹی کے شعبہ میں غیر اخلاقی سکینڈل ہوتا ہے تو انفرادی ہوتا ہے ادارے کا کردار نہیں نہ ہی سکول کالج یونیورسٹی مدرسے میں غیر اخلاقی تربیت دی جاتی ہے یہاں تو تعلیم تربیت اخلاقی تربیت کے ساتھ زہن کی تربیت خدمت کی جاتی ہے کسی یونیورسٹی میں سیکنڈل کا کہہ کر سینکڑوں آنے والی لڑکیوں کو روکا جائے گا مدرسے میں جانے سے روکا جائے گا  پھر مزید جہالت کا بازار گرم ہوگا  اگر کسی معزز خاتون ممبر اسمبلی کی عزت اچھال رہے ہیں تو جو بے گناہ کی عزت اچھال رہے ہو اللّہ تعالیٰ تمہیں معاف کرے گا  اگر مان لیا جائے ممبر اسمبلی سابق گورنر یا کسی اور کی ویڈیوز کو ایشو بنانا چاہتے ہیں تہمیں کیا حاصل ہوگا ہم لوگ عزت دار لوگوں کی عزت بلاوجہ اچھال رہے ہیں یہ ہماری بداخلاقی ناقص تربیت کا نتیجہ ہے ویڈیو پر معزز شخص نے تردید بھی کی اس کو جھوٹ پر مبنی ان کے خلاف اوچھا ہتھکنڈا کہا اگر کوئی شخص بدکار ہے’ اس کا یہ مطلب ہرگز نہیں ہے کہ تم ان کی رہی سہی عزت بھی خاک میں مل دو برے لوگوں کو بھی پردہ رکھنا اچھے اخلاق والے لوگوں کا کام ہوتا ہے پر منگھڑت تہمات نہیں لگانی چاہیے ہم لوگ بھی عزت دار تب ہونگے جب دوسروں کی عزت و تکریم کا خیال رکھیں گے اگر کوئی برا ہے’ تو برا سہی لیکن اس کی برائی کا پرچار کرنا ہرگز آسلام کی تعلیمات میں نہیں اسلام دوسروں کے راز دل میں رکھنے کی تلقین کرتا ہے ہمیں بس موقع چاہیے کسی کی بھی سالوں کی بنائی ہوئی عزت منٹوں میں خاک میں مل دیتے ہیں لیکن یاد رکھو عزت و زلت بے شک اللّہ تعالیٰ کے ہاتھ میں ہے جس کو چاہتا ہے عزت دیتا ہے جس کو چاہتا ہے ذلیل کراتا ہے 

    Twitter @RizwanANA97

  • سماجی مسائل اور ان کے سدباب  تحریر : ماہ رخ اعظم

    سماجی مسائل اور ان کے سدباب تحریر : ماہ رخ اعظم

    ‏سماجی مسائل اور ان کے سدباب

    مسئلہ، دراصل منفی اثرات ،افراد کے رویوں ، رکاوٹوں اور انحراف کی ایسی صورت ہے جس سے افراد اور معاشرے کی اقدار متاثر ہوتی ہے.معاشرتی مسئلہ۔ ایک ایسی حالت ہے جو معاشرہ کی اعلی اقتدار کے زوال کا آئینہدار ہوتا ہے اگر معاشرہ کوشش کرے تو یہ حالت سدھر سکتی ہے. سماجی مسئلہ ایسی صورت حال کا نام ہے جس میں کثرت آبادی ناپسندیدہ صورت حال سے دوچار ہو. سماجی مسائل اور برائیاں معاشرے کو گھن کی طرح کھا جاتے ہیں.پاکستان ایک فلاحی مملکت کے طور پر قائم کیا گیا تھا. فلاحی مملکت سے مراد ایسی ریاست ہوتی ہے جس میں شہروں کو ہر طرح کی سہولیات میسر ہوں. جہالت ، غربت اور نا انصافی کا خاتمہ ہو.نیز لوگ اپنی صلاحیتوں کو اجاگر کرنے کے مساوی مواقع حاصل کرسکیں. ہمارے ہاں بہت سے معاشرتی مسائل موجود ہیں، جو ایک فلاحی مملکت بننے کی راہ میں حائل ہیں.سب سے ضروری چیز جو کسی قوم کے لیے ترقی کے زینے کا پہلا قدم قرار پاتی ہے وہ اس کی اخلاقی حالت ہے قول وفعل کے تضاد ، جھوٹ ، دھوکادہی اور مکروفریب ایسے اخلاقی رذائل ہیں جن کی موجودگی میں کوئی قوم خواہ کتنے ہی سے بہرور ہو، کتنے ہی ذمینی وسائل سے مالامال ہواور کتنی ہی افرادی قوت کی حامل ہو، ترقی سے ہم کنار نہیں ہو سکتی. معاشرتی مسائل زوال کو دعوت دیتے ہیں. دنیا کی بہترین کپاس پیدا کرنے والی قوم اگر اسے برآمد کرتےہوئے اس میں پھتر چھپاکر برآمد کرے گی تو یہ عمدہ کپاس آیندہ کاروبار ختم کرنے کی ہدایت کے ساتھ واپس اپنی بندرگاہ پر پہنچ جائے گی.ہمارا ایک نہایت اہم مسئلہ جدید علوم سے ناواقفیت اور جہالت ہے جدید ترین علوم اور ٹیکنالوجی کے حصول کے بغیر کیسی بھی معاشرے کے ترقی یافتہ ہونے کا خواب شرمندہ تعبیر نہیں ہوسکتا یہ ایک کھلی حقیقت ہے کہ آج دنیا کی قیادت ان ممالک کے ہاتھ میں ہے جو جدید علوم و فنون پر دستگاہ رکھتے ہیں سری لنکا، کوریا، اور ملائیشیا جیسے ممالک اپنے شعبہ تعلیم کے لیے قومی پیداوار کا پانچ سے سات فیصد تک خرچ کررہے ہیں جبکہ ہم صرف تقریبا دو فیصد خرچ کررہے ہیں علم کرنے کے بعد ہی لوگ اپنے حقوق و فرائض سے آگاہ ہوسکتے ییں نیز اپنے مسائل اور خرابیوں کے حل کی تدبیر کرسکتے ہیں

    جذبہ قومیت کا فقدان بھی ہمارا نہایت اہم مسئلہ ہے یہ حقیقت ہے کہ جن مقاصد کے لیے ہم پاکستان حاصل کیا تھا ہم انھیں آج تک نہیں پاسکے ہمارے ہاں علاقائی مسائل کو ترجیح دینا فرقہ بندی صوبائی عصبیت ملک و قوم کو پس پست ڈال کر اپنی ذاتی اغراض کو اولیت دینا عام ہے جو قوت ہم قومی تعمیر میں خرچ کرسکتے تھے اسے آج تخریب میں بروئے کار لارہے ہیں.غربت بھی ہمارا ہمارا نہایت اہم سماجی مسئلہ ہے. پاکستان ایک ترقی پذیر ملک ہےاس لحاظ سے اس کی معیشت بھی ترقی پذیر ہے اپنی ملکی تاریخ پر نظر ڈالیں تو ہم دیکھتے ہیں کہ پاکستان اپنے قیام کے آغاز سے ہی پس ماندہ حالت میں تھا.پاکستان کی ابتدائی مشکلات میں سے ایک اہم مشکل اقتصادی ناہمواری تھی کیونکہ ہندوستان کی تقسیم سے قبل پاکستان کے علاقہ میں ہندو ہی زراعت، تجارت، کاروباری اداروں اور بنکوں وغیرہ پر قابض تھے. تقسیم ہند کے وقت ہندو اپنا تمام سرمایہ سمیٹ کر ہندوستان لے گئے.جس سے پاکستان کی مشکلات میں اضافہ ہوگیا اور معیشت کمزور تر ہوتی چلی گئی.آج ہماری پستی کا سب سے بڑا سبب اپنے آباواجداد کے سنہری اصولوں سے انحراف ہے. اللہ اور اس کے رسول صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے احکامات پیرا ہونے میں ہی تمام سماجی برائیوں کا علاج مضمر ہےاگر ہم اپنی کھوئی ہوئی قوتوں کو مجتمح کرلیں اور فراموش کردہ اسباق کو ازسر نو ذہین نشین کرلیں تو کوئی شک نہیں کہ ہم اپنا کھویا ہوا مقام پھر سے حاصل کر سکتے ہیں.

    بقول اقبال
    یقین، افراد کا سرمایہ تعمیر ملت ہے
    یہی قوت ہے جو صورت گر تقدیر ملت ہے

    ازقلم : ماہ رخ اعظم
    ‎@_MahrukhAzam

  • دنیا میں اسلامی نظام کیسے نافذ ہوگی؟ تحریر : شاہ عزت

    دنیا میں اسلامی نظام کیسے نافذ ہوگی؟ تحریر : شاہ عزت

    اسلامی نظام سے مراد دنیا میں ایک ایسی عظيم نظام جس میں صرف اور صرف اللہ کے حکم  اور نبی کریمﷺ کے بتاۓ ہوۓ طریقوں سے بننی ہو اور ساتھ ساتھ غلط کاموں پر سزا بھی وہی مختص ہو جو اللہ اور رسول اللہﷺ نے حکم دیا ہو۔ آج کل کی دنیا میں جب بھی کوٸی بدفعلی ، غلط کام کرے تو فورا ہمارے لبوں پر یہی ایک جملہ آتا ہے کہ کاش دنیا/ملک میں السلامی نظام نافذ ہو تاکہ کوٸی بھی ایسے غلط کام نہ کر سکے اور کرے بھی تو اُس کو وہی سزا دی جاۓ جو عبرت کا نشان بننے اور دوسروں میں ایسے غلط کام کرنے کی جرت تک نہ ہو۔ 

    وارڈو میٹر کے مطابق ستمبر 2021 میں دنیا کی کل آبادی 7.9 ارب ہیں جس میں مسلمانوں کی کل آبادی تقریبا 1.9 ارب ہے تو ظاہر ہے کہ کفار ہم سے زیادہ ہیں  ہم مسلمان آج کی دور میں کیوں بے بس ہیں ان کفاروں کے آگۓ کیوں ہمارے مسلمان بھاٸیوں پر ظلم و بربریت ہو رہا ہے (کشمیر ، فلسطين وغیرہ)؟۔

    "اکثر ہمارے ذہنوں میں یہی آرہا ہے کہ کفار زیادہ ہیں اور ہم کم ہیں اس لیے ہم انکے سامنے بے بس ہیں”

    نہیں ہرگز ایسا نہیں ہے تو کیوں؟

    کیونکہ ہمارے اندر وہ ایمان وہ جذبہ نہیں ہے جو  313 مسلمانوں کے اندر تھا نے جنگ بدر میں کفار کے ایک ہزار لشکر کو شکست دی تھی۔ اور اسطرح سے ہمیشہ کم تعداد میں ہی مسلمانوں نے فتح حاصل کی ہے کیونکہ جو اکیلا ہوتا ہے اس کے ساتھ اللہ کی مدد ہوتی ہے۔ حضرت خالید بن ولید (عظيم سپہ سالار تھے جن کی بے مثال کامیابیوں کی وجہ سے رسول اللہﷺ نے "سیف اللہ” یعنی اللہ کی تلوار کے لقب سے نوازا تھا ) کے بارے میں آتا ہے کہ جس جنگ میں بھی جاتے تھے تو فتح یاب لوٹتے تھے وہ ہمیشہ کفاروں کو مردہ (جو اللہﷻ کا زکر نہیں کرتے ہیں) سمجھتے تھے (اللہ کا ذکر کرنے والا اللہ کے سامنے زندہ ہے اور اللہ کا ذکر نہ  کرنے والا اللہ کے سامنے مردہ ہے) کفار حیران تھے کہ یہ کیوں اتنا طاقتور ہیں ان پاس کچھ بھی نہیں ہے کھانے پینے کے اشیإ اور جنگ سامان بھی بہت کم ۔ اور ہمارے پاس سب کچھ ہے اور ہرطرح کی طاقت ہے لیکن انہیں کیا معلوم کے اصلی طاقت تو ایمان کا ہوتا ہے جن کے دل میں اللہ اور رسولﷺ کی فرمانبداری چھا جاۓ تو پوری دنیا کی طاقت بھی مل کر کچھ نہیں بگاڑ سکتی ہے  انکی ایمان مضبوط تھی۔ اور وہ صرف اور صرف اللہ اور رسول اللہﷺ کی تابع تھے آج ہماری بے بسی کا نتیجہ یہی ہے کہ ہمارے ایمان کمزور ہیں آج کی دور میں لوگ پیسہ، گاڑی ، اچھی نوکر اور عمدہ گھر کو طاقت سمجھتے ہیں اصلی طاقت ایمان کا ہوتا ہے کہتے ہے نا ” جب پیٹ بھر جاۓ تو اللہ کو بھول جاتے ہیں” آج ہم دنیاوی زندگی کے پیچھے مصروف ہیں آخرت کی زندگی کا کوٸی سوچتا بھی نہیں ہے ہماری اصلی زندگی آخرت کی زندگی ہے دنیاوی زندگی محض ایک مختصر وقت ہے۔ 

    سوشل میڈیا ہر صبح  اچھی اچھی پوسٹوں سے بھرا رہتا ہے لیکن افسوس کی بات یہ ہے کہ ہم صرف سوشل میڈیا میں پکے مسلمان ہیں اصلی زندگی میں نہیں۔ میں حیران ہوں کہ اگر اتنے پکے اور سچ مسلمان سوشل میڈیا پر ہیں؟ تو یہ مساجد کیوں ترس رہے ہیں نمازیوں کے لیے یہ مظلوم کیوں ترس رہے ہیں انصاف کے لیے وغیرہ۔ اس سے ظاہر ہوتا ہے کہ ہم محض دوسروں کے لیے اچھے پوسٹ لگاتے ہیں اور خود عمل کرنے سے قاصر ہیں۔

    اب اگر ہم دنیا میں اسلامی نظام چاہتے ہیں تو پہلے ہمیں آپنے اندر اسلامی نظام لانا ہوگا جب ہم آپنی اس چھ  فٹ جسم پر السلامی طور طریقے اپناٸینگے تو اسلامی نظام ہمارے اندر خود بخود نافذ ہوگی اور یوں یہ السلامی نظام ہم سے ہمارے گھر پھر سارے دنیا کو متاثر کرے گی بالاآخر دنیا میں اگر اسلامی نظام نافذ کرنا ہے تو یہ طریقہ آپنا ہوگا ورنہ صرف لبوں اورذہنوں پر رکھنے سے نہیں ہوگا۔

    یہ میرا پہلا آرٹیکل ہے پڑھے اور فیڈ بیک ضرور دیجیۓ گا۔