Baaghi TV

Category: معاشرہ و ثقافت

  • مایوسی کے درخت کی پھیلتی ہوئ جڑیں. تحریر: امان اللہ

    مایوسی کے درخت کی پھیلتی ہوئ جڑیں. تحریر: امان اللہ

    ہمارے معاشرے کا سب سے کمزور پہلو مایوسی، ناامیدی بن چکا ہے اس درخت کی اتنی جڑیں پھیل چکی ہیں کہ ہر طبقہ ہاے زندگی میں اس کی شاخیں موجود ہیں بچوں سے لیکر بوڑھوں تک مردوں سے لیکر عورتوں تک عوام سے لیکر خواص تک حکمران سے لیکر رعایا تک سر سے لیکر پاوں تک فرد سے لیکر خاندان تک گھر سے لیکر کاروبار تک ہر جگہ مایوسی کے بادل چھاے ہوے ہیں. نوجوان اپنے مستقبل اور کیرئر کے بارے میں ناامید نوکری کاروبار ملازمت معاش زندگی سب کے بارے کمزور کھوکھلی باتیں کرتا نظر آتا ہے. ریڑھی بان سے پوچھو یا نان بائ سے مزدور سے پوچھو یا مستری سے بزنس مین سے پوچھو یا دہاڑی دار سے ایم این اے سے پوچھو یا اس کی رعایا سے اے سی میں بیٹھنے والے سے پوچھو یا چلچلاتی دھوپ میں کھڑے ٹریفک پولیس کے اہلکار سے ہر کسی کی زبان پر ملک پاکستان اور اس کے مستقبل کے بارے میں مایوس، غیرمہذب، کمزور، معیوب جملے ملیں گے.

    جب ہر کسی کی یہی حالت ہو تو سب ایک ہی تلاب میں نہانے والے نظر آتے ہیں تو امید و رجاء کی کرن کہاں سے پیدا ہو گی ، اور یہ تو عین فطرت ہے جو سوچ و افکار میں آتا ہے گمان و خیال میں جنم لیتا ہے وہی عین الیقین اور حق الیقین بنتا ہے یعنی وہی کچھ ہوتا ہے جو سوچا جاتا ہے . میری قوم کے اجتماعی جملے اور چند مایوس کن بول . ستر سال میں پاکستان نے کچھ نہیں کیا آگے کیا کریگا ایک دہائ سے کشمیر آزاد نہیں ہوا اب تو آزاد ہو گا ہی نہیں کیونکہ پاکستان ان کےلیے کچھ نہیں کرتا اب تک مہنگائ میں اضافہ ہوا ہے کمی نہیں ہوئ ستر سال میں ترقی نہیں کی تو آگے بھی امکان نہیں بے روز گاری میں اضافہ ہوا ہے کمی نہیں ہوئ پاکستان دنیا میں دہشت گرد ملک ہے
    دنیا میں تنہا ملک ہے کوئ ساتھ نہیں ہے پاک فوج دشمن کا مقابلہ نہیں کر سکتی اگر لڑ سکتی تو کشمیر آزاد کیوں نہیں کراتی پڑھائ کر کے کیا کرنا جب نوکری رشوت اور سفارش سے ملتی ہے پاکستانی قوم دنیا میں بدنام ہے کوئ ٹیلنٹ نہیں ہے سب ادارے تباہ ہوگے ہیں خسارے میں ہیں پاکستان آئ ایم ایف ورلڈ بینک کا غلام ہے یہود و نصاری کی ایجنٹ حکومت ہے پاکستان میں اسلام کا نفاذ ممکن ہی نہیں یہ اسلام کےلیے نہیں بنا اس کو بنانے والا بھی مسلمان نہیں تھا مایوسی کا شور ہے منافقین کا دور ہے .معاملات کبھی حل نہیں ہوں گے .جھگڑے ہمیشہ رہیں گے اولاد کبھی نہیں سدھرے گی .مسلہ کا حل طلاق ہی ہے کاروبار تو اب ہو ہی نہیں سکتا معیشت کمزور ہو رہی ہے امریکہ ، روس جنگ میں پاکستان نے بہت نقصان اٹھایا کوئ فائدہ نہیں ہوا .اور کئ قسم کے جملے .

    ھکذا تاکہ تحریر لمبی نہ ہو .مایوسی پیدا ہونے کے اسباب : لوگوں کے حالات دیکھ کر خود ناامید ہو جانا میڈیا سے منفی پروپگنڈے سے متاثر جانا تجربات میں ناکامی پر مستقل مایوس ہو جانا امتحان میں نا کامی یا تھوڑے نمبر پر معاشی مسائل کی مسلسل کمزوری کی بنا پر ناامید کاروبار میں بہتر منافع نہ ہونے پر ناامید بچوں کی بگڑتی صورت حال پر نا امید ہونا مایوس لوگوں کی صحبت اور مجلسیں ناکام لوگوں کے تذکرے ناکام.اور مایوس کن باتوں اور موضوعات میں دلچسپی یقینی کیفیت کا فقدان میاں بیوی کے ازدواجی تعلقات میں کمزوری ظاہری مادی اسباب پر یقین اور اعتماد وغیرھم کثیرہ

    اس دیمک سے اپنے آپ کو بچانے کےلیے قرآن کا سہارا لیں اور اپنے رب کا سہارا لیں سب سے بڑا سہارا ہمارا اللہ ہے اور یقین اور امید اللہ کی ذات ہے اس دلدل سے کیسے نکلا جاے .لا تقنطوا من رحمة الله اللہ کی رحمت جو ہر کسی کو شامل حال ہے اس سے کائنات کی کوئ چیز اور مخلوق بھی بعید نہیں ہے الا کہ کفر کرنے والا انسان بھی اللہ کی اس رحمت کی چھتری کے نیچے ہے کہ وہ اپنی نافرانی اور شراکت کو دیکھنے کے باوجود اور شدید غیض و غضب رکھنے کے باوجود بھی رزق و روٹی کی عنایت جاری رکھتا ہے اور گناہوں کے پہاڑوں کو ذرے بنا کر مٹا دیتا ہے یہاں اس آیت سے ہم سمجھتے ہیں کہ صرف گناہ سے معافی مانگنے میں مایوس نہیں ہونا چاھیے یہ کامل مفہوم نہیں ہے بلکہ کسی بھی کام کے کرنے پانے حصول پر اللہ سے ناامید نہیں ہونا چاھیے .

    مایوسی کفر ہے.
    ولا تائسو من روح اللہ انہ لا ییئس من روح اللہ الا القوم الکافرون .
    یہ آیت واضح پیغام ہے کہ اسلام میں مایوسی ہے ہی نہیں اور جو مسلمان اور مومن ہے اس میں یہ چیز پیدا ہی نہیں ہوتی . اگر ماہوسی پیدا ہو رہی ہے تو سمجھ لیں ہمارا اسلام اور ایمان کمزور ہے اس کو بہتر کرنا چاھیے .
    گویا یہ بات سمجھ آئ مایوسی و الے جملے کفریہ جملے ہیں جو اللہ کو پسند نہیں ہیں .
    یقین والوں کی صحبت .
    لا تصاحب الا مومنا
    مومن تو کامل یقین والا ہوتا ہے اس کی صحبت ناامیدی کو دور کرتی ہے .
    فضولیات اور مسموعات کو کان نہ دینا .
    کفی بالمرء کذبا ان یحدث بکل ماسمع .
    محنت اور کوشش پر یقین اور اللہ پر توکل .
    وان لیس للانسان الا ما سعی وان سعیہ سوف یری .
    ومن یتوکل علی اللہ فھو حسبہ
    کامیاب لوگوں کو پڑھنا اور تاریخ ماضی میں سب سے کامیاب لوگ انبیاء تھے اور وہ یقین کا منبع و مظھر تھے .
    لقد کان گی قصصھم عبرة لاولي الألباب
    صبر کا دامن نہ چھوڑنا .
    بے صبری بداعتمادی پیدا کرتی ہے اور بے یقینی مایوسی پیدا کرتی ہے بعض اوقات اللہ کے فیصلے ہمارے لیے بہتر ہوتے ہیں لیکن ذرا فاصلے پر ہوتے ہیں اس فاصلے کو طے کرنے کا صبر توکل و یقین سے ہو سکتا ہے اور مستقل مزاجی سے ہو سکتا ہے .
    فاصبر ان وعد اللہ حق
    سلامتی بہت پیار
    تحریر لمبی ہے لیکن وقت ضائع نہیں جاے گا .

    @Amanullah6064

  • امن کا نشان ہمارا پاکستان تحریر: سحر عارف

    امن کا نشان ہمارا پاکستان تحریر: سحر عارف

    امن ایک ایسی نایاب چیز ہے جس کی طلب ہر انسان کو ہوتی ہے پر یہ اتنی آسانی سے ہاتھ نہیں آتی۔ امن کچھ محنت، جتن اور قربانیاں مانگتی ہے۔ اس دنیا میں بسنے والے ہر انسان نے ہمیشہ امن و امان کی تمنا کی ہے پر آج تک مکمل طور پر اسے حاصل نہیں کر پایا۔ جہاں پوری دنیا میں آج سب سے بڑا مسئلہ ہی امن کے حصول کا ہے وہیں ہمارا ملک پاکستان بھی امن و امان کا دلی خواہش مند یے۔

    کیونکہ کوئی بھی ملک اس وقت تک ترقی نہیں کرسکتا جب تک وہ امن کا گہوارہ بن جائے۔ ہمارے دشمنوں نے جب کبھی بات کی تو ہمیشہ جنگ و جدل کی ہی بات کی۔ ان کی ہر چھوٹی بڑی بات اور اختلاف اسی جنگ جیسی چیز پر آکر رکتا ہے۔ کبھی جنگ وجدل کی دھمکیاں دیتا ہے تو کبھی پورے غرور کے ساتھ لائن آف کنٹرول کی خلاف ورزیاں کرتے ہوئے معصوم جانوں کے خون سے کھیلتا ہے۔

    ان کا یقین اس بات پر ہے کہ جب وہ خوف و ہراس پھیلا کر پاکستان کو ہر محاذ پر شکست دے سکتے ہیں تو پھر امن م کی جانب آئیں ہی کیوں ۔ پر اس کے برعکس پاکستان کا اس بات پر کامل یقین ہے کہ خطے کی ترقی اور خوشحالی کے لیے سب سے اہم چیز امن و آشتی ہے۔ لڑائی جھگڑوں، نفرتیں پھلانے اور جنگ وجدل جیسی چیزوں سے سوائے تباہی و بربادی کے اور کچھ ہاتھ نہیں آتا۔ اسی وجہ سے آج پوری دنیا اس بات کی چشم دید گواہ ہے کہ پاکستان کو جب، جہاں اور جیسے موقع ملا اس نے امن کا پیغام دینے میں پہل کی۔

    کبھی جنگ و جدل میں پہل نہیں کی بلکہ ہمیشہ اس کا اختتام ضرور کیا۔ جب کبھی دشمن نے پاکستان کی پیٹھ پیچھے وار کرنا چاہا تو ہمارے ملک کے محافظوں نے اس کا مقابلہ بھی کیا پر ساتھ ہی امن کو فروغ دینے کی بھی بات کی۔ ابھی دو سال قبل 2019 کی ہی مثال لے لیں کہ کس طرح بھارتی فضائیہ کے پائلٹ ابھی نندن وردھمان کا جہاز فضائی حملے کے دوران پاکستان کی حدود میں آکر گرا تو پاک فوج نے اس پائلٹ کی کس قدر مہمان نوازی کی۔

    یہ جانتے ہوئے بھی کہ خدا نخواستہ اگر ایسا کچھ پاکستانی فضائیہ کے کسی پائلٹ کے ساتھ ہوتا تو بھارت اس کے ساتھ کیسا سلوک کرتا۔ جو کبوتروں اور غباروں تک کو نہیں بخشتا وہ اس معصوم کے ساتھ ناجانے کیا کیا کرتا۔ خیر تین دن تک ابھی نندن کی مہمان نوازی کرنے کے بعد اسے باعزت طریقے سے بھارت کے حوالے کر دیا گیا جہاں پہنچتے ہی ابھی نندن نے ناصرف چائے کی تعریف کی ساتھ ہی اس بات کو بھی تسلیم کیا کہ پاکستان واقع ہی امن کا حقیقی خواہش مند ہے۔

    بے شک یہ تمام مناظر پوری دنیا نے دیکھے اور پاکستان کے اس اقدام کو دنیا بھر میں سراہا بھی گیا۔ بات صرف یہی ختم نہیں ہوتی پاکستان نے تو امن کے لیے بھارت کی طرف ایک اور قدم بھی بڑھایا جس کی وجہ سے سکھوں کے لیے کرتار پور بارڈر کھول دیا گیا اور انھیں بغیر کسی ویزے اور پریشانی کے گرودوارہ میں آنے کی اجازت دے دی گئی۔ جس کے لیے سکھ یاتریوں نے برسوں انتظار کیا تھا۔

    پاکستان کے اس اقدام سے سکھوں میں خوشی کی ایک نئ لہر دوڑی تو وہیں انھوں نے بھی اعتراف کیا کہ پاکستان درحقیقت خطے میں امن و سلامتی چاہتا یے۔ اس کے علاؤہ کشمیر کے مسئلے پر بھی بھارت کو پاکستان کی جانب سے بار بار یہ پیغام دیا جاتا رہا اور ابھی بھی دیا جارہا ہے کہ وہ آئیں اور مل بیٹھ کر اس مسئلے کے حل کی بات کریں۔ کیونکہ ہم خطے میں امن و امان چاہتے ہیں۔ پر افسوس بھارت اب بھی چپ سادھے ہوئے ہے اور کسی بھی حوالے سے امن کی بات کرنے سے گریزاں ہے۔

    @SeharSulehri

  • بیروزگاری، ایک معاشرتی بیماری  تحریر : وسیم سید 


    ‏پاکستان بیورو آف سٹیٹسٹکس کی حالیہ رپورٹ کے مطابق پاکستان کا بیروزگاری کا ریٹ 5.1 سے 5.7 تک پہنچ چکا ہے اور مزید آگے بڑھنے کا رجحان پایا جاتا ہے۔ یہ ایک سنگین حقیقت ہے کہ بیروزگاری کی بیماری ہمارے معاشرے میں کافی گہرائی تک اپنے قدم جما نے میں کامیاب ہو چکی ہے۔

    ‏اکثر سننے میں آتا ہے کہ ہمارے نوجوان بیروزگاری کا شکار ہیں ماسٹرز اور پی ایچ ڈی کی ڈگریاں ان کے پاس موجود ہے لیکن ان کو کوئی مناسب نوکری نہیں مل رہی۔

    ‏کیا یہ ساری ذمہ داری حکومت کی ہے یا ہمارے معاشرے میں پڑھائی کی کوئی قدر نہیں؟

    ‏اس بڑھتے ہوئے رجحان کو سمجھنے کے لئے لیے ہمیں اسے گہرائی سے جانچنے کی ضرورت ہے ۔ 

    ‏سب سے پہلی اور اہم وجہ ہمارے ملک میں بڑھتی ہوئی آبادی ہے۔ ہمارے معاشرے میں خاندانی منصوبہ بندی کے رجحان کو پس پشت ڈال کر بہت زیادہ تعداد میں بچے پیدا کرنے سے ایک خاندان کے اندر تعلیم کو برابری کے طور پر تقسیم کرنا مشکل ہو جاتا ہے کیونکہ ہمارے معاشرے میں تعلیم کو بہت زیادہ فوقیت حاصل ہے کہ لیکن ہم بہترین تعلیم اچھے طریقے سے تبھی دے سکیں گے جب ہمارے پاس وسائل موجود ہوں گے

    ‏لہذا سب سے پہلے ہمیں خاندانی منصوبہ بندی کے روشن پہلو کو سمجھنا ہو گا ایک ہی خاندان میں ایک بیٹے کی پیدائش کے لیے لیے بہت زیادہ بچوں کو جنم دینے سے بھی بےروزگاری پر جہان بڑھ رہا ہے اور اسی سلسلے میں لڑکیوں کی تعلیم پر کم دھیان کیا جاتا ہے۔

    ‏دوسری سب سے اہم وجہ جو بیروزگاری کا سبب ہے وہ معاشی بدحالی ہے جیسا کہ آپ سب کے علم میںہے کہ پاکستان آئی ایم ایف سے ہر سال لاکھوں ارب کے قرضے لے کر اپنی معاشی ضروریات کو پورا کر رہا ہے جس کی وجہ سے ہمیں انٹرسٹ کی شکل میں ان کو پیسے واپس کرنے ہوتے ہیں اور ان کی بہت ایسی پالیسیاں بھی ماننی پڑتی ہے ہے جو بظاہر معاشرے کے لیے اچھی ہے لیکن اندرونی طور پر ہمارے ملک کے لیے نقصان دہ ہیں۔

    ‏تیسرا ایک اہم مسلہ ہمارے ملک میں کرپشن کا ہے۔ جب ہم اپنے معاشرے کے اس طبقے کو اہمیت دیتے ہیں جو حقیقت میں اس چیز کا حقدار نہیں ہوتا بظاہر چند ہزار روپے کی رشوت لے کر ایک اچھی جگہ پر ایک کم پڑھے لکھے انسان کو دے دی جاتی ہے جس کی وجہ سے ایک پڑھا لکھا انسان اچھی پوسٹ پر اوپر جانے سے رہ جاتا ہے ہے جس کی وجہ سے بہت سے نوجوان اس بے روزگاری کی وجہ سے اور موقع

    ‏نہ ملنے کی وجہ سے خودکشی کرنے پر مجبور ہو جاتے ہیں۔

    ‏جب زندگی کے سولہ سال اتنی زیادہ محنت کرنے کے بعد آپ کو سامنے والا اس بات پر ریجیکٹ کر دیتا ہے کہ آپ کے پاس تجربہ کم ہے تو یقینن آپ کا دل خون کے آنسو روتا ہے۔جب ایک غریب باپ مزدوری کرکے اپنے بچے کا پیٹ پالے اور اس کے بعد اس کو اچھی تعلیم دلوا یے یقینا اس کی خواہش ہوگی کہ وہ اپنی اولاد کو کامیاب ہوتا دیکھے لیکن جب ہمارا معاشرہ ایسے ٹیلنٹ کی قدر نہیں کرے گا تو اس کے لیے مسئلہ پیدا ہو گا۔

    ‏ہر نوجوان کی یہ خواہش ہوتی ہے ہے کہ وہ اپنے ماں باپ کا سہارا بنے اور اپنی تمام خوابوں کو پورا کرے جو اس نے اتنے سال انتک محنت کر کے پورے کرنے کرنے کی لگن اپنے دل میں بسا رکھی ہے۔

    ‏اس کے ساتھ ہمارے ملک میں روپے کی قدر میں بھی بہت زیادہ کمی دیکھنے میں آئی ہے جس کی وجہ سے تنخواہ کم اور تعلیم کی اہمیت مزید کم ہوتی جا رہی ہے۔

    ‏آخری جو بہت اہم وجہ ہمارے ملک میں ہمسایہ ممالک کا مختلف مواقع پر انتشار پیدا کرنا ہے ہمارے ہمسائے مخالف ممالک یہ نہیں چاہتے کہ ہم ترقی کرے مجھے حال ہی میں نیوزی لینڈ کی ٹیم جو کہ دورہ پاکستان کے لئے آئی تھی عین  ایک دن پہلے وہ ٹیم واپس روانہ ہوگی اور وجہ یہ بتائی گئی کہ پاکستان میں ان کی جان کو خطرہ ہے بہت ہاتھ پاؤں مارنے کے بعد یہ انکشاف کیا گیا کہ کہ ہمسائے ممالک نے پاکستانی ای میل کے ذریعے ایک پیغام بھیجا تھا تاکہ وہ پاکستان کے اندر ہونے والی معاشی خوشحالی کو روک سکیں۔

    ‏بظاہر انتشار پھیلانے والے بہت سے لوگ ہمارے اپنے ہی ملک میں موجود ہیں لیکن یہ مسئلے مسائل تب تک حل نہیں ہوسکتے جب تک ہم خود اپنے ملک کے ساتھ ساتھ ایمانداری نہیں دکھائیں گے۔کرپشن جیسا سنگین جرم ہمارے معاشرے میں اسی لئے پھیل رہا ہے کیوں کہ ہم صرف اپنی ذات کا سوچتے ہیں۔

    ‏اسی طرح اکثر نوجوانوں کو جب مناسب نوکری کے لیے بلایا جاتا ہی تو یہ کہ کر انکار کر دیا جاتا ہے ک ان کے پاس تجربہ نہیں ہے ۔یہ تجربہ اسی صورت میں ہو سکتا ہے جب ان کو کام کرنے کا موقع دیا جائے گا۔

    ‏ان تمام حالات کو دیکھتے ہوئے یہ نظر آتا ہے ہے یہ بے روزگاری اتنی آسانی سے ختم نہیں کئے جاسکتے بلکہ ہمیں اس کے لئے ایک مکمل پالیسی پر عمل کرنے کی ضرورت ہے۔

    twitter : 

    @s_paswal

  • کیا لبرل بھی انتہا پسند ہوتے ہیں؟ ایک مولانا سے گپ شپ تحریر  : جواد خان یوسفزئی

    "ایک لبرل خستہ حال اگر انتہا پسند ہو بھی گیا تو وہ آپ کا کیا بگاڑ لے گا مولانا صاحب؟ آپ اس کے قلم کی سیاہی میں بہہ جائیں گے کیا؟ زبانی گولہ باری سے شہادت کا مقام پا لیں گے کیا؟ اس ڈرپوک مخلوق کو نہ توپ زنی آتی ہے اور نہ جنگ و جدل کے قرینوں سے یہ واقف۔ اس کا حال تو وہی ہے جس کا نقشہ اقبال نے کھینچا ہے؎

    کافر کی موت سے بھی لَرزتا ہو جس کا دل

    یہ ٹڈی دل مخلوق نہ مار سکتی ہے۔ نہ مروا سکتی ہے۔ اس کے دست میں نہ تیغ ہے نہ تفنگ۔ یہ معرکہء حق و باطل میں بھی فولادی نہیں ہوتے۔ تو ایسے گئے گزرے آپ سے اختلاف ہی کرسکیں گے۔ اپنا موقف پیش کریں گے۔ دلائل دیں گے۔ آپ کو سنیں گے۔ پلیٹ فارم میسر آگیا تو بولیں گے۔ مکالمہ ہوگا اور آخر میں سگریٹ کا کش لگا، یہ جا وہ جا۔”

    مولانا نے داڑھی پہ ہاتھ پھیرا اور اطمیان سے بولے "لبرل بھی دہشت گرد ہوتے ہیں۔ یہ بھی قلمی اور زبانی دہشت گردی کرتے ہیں۔”
    "ایسی دہشت گردی؟ خدا کرے یہ انتہا پسند اور دہشت گردی اپنی تحریک طالبان سے لے کر تہاڈی تحریک لبیک تک، ہر گروہ، ہر ہر مزہبی انتہا پسند مسلمان کو نصیب ہو جائے۔ اس دن یہ دہشت گردی اور انتہا پسندی کے اصطلاحات ہی ڈکشنری سے نکال دئے جائیں گے۔”

    گفتگو یہاں تک ہوئی تھی اور مولانا مسلسل نفی میں سر ہلا رہے تھے۔ مگر ہم نے نظر انداز کیا، اور بات جاری رکھنے کی کوشش کی۔ مگر مولانا نے دائیں ہاتھ سے جھنجھوڑا اور دھکا دے کر منع کیا۔ وہ اپنی رائے پیش کرنے لگے۔
    "یہ جو تمھارا باپ امریکہ ہے۔ یہ لبرل سیکولر ہے۔ عراق شام، افغانستان، ہر جگہ خون کی ہولیاں جو کھیلتا ہے، آپ کو وہ نظر نہیں آئیں؟”

    "اے مولانا۔ خدارا اتنی چھوٹی سی بات دستار سے ہو کر کھوپڑی میں کیوں نہیں اتر رہی۔۔۔۔۔۔”
    "دیکھ اگر دستار زبان پر لائی۔۔۔” وہ ہاتھ اٹھاتے اٹھاتے رہ گیا۔ میں نے بات جاری رکھی۔

    "دیکھ۔ ممالک اور ریاستوں کے مفادات ہوتے ہیں۔ ان میں "ازم” بہت بعد کی بات ہوتی ہے۔ ہر ملک میں پاور پالٹکس ہوتی ہے۔ طاقت کا توازن، خطرات کا خوف، کسی ملک کے وسائل پر نظر جمانا، اپنی عسکری اور معاشی قوت کا اظہار کرنا، یہ سب ہر زمانے میں رہا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ مسلمانوں نے مغرب کا رخ کیا تو اسپین تک جا پہنچے۔ ادھر بائیں ہاتھ چلنا شروع ہوئے تو انڈونیشیا کو مسلم آبادی کا سب سے بڑا ملک بنا کر رہے۔ آس پاس ہاتھ پیر مارنے شروع کئے تو پورے مشرق وسطیٰ پر قبضہ جما لیا۔ یہ شوقِ جہاں بینی تو نہ تھا، جہاں بانی ہی تھا۔ آپ یہ کیسے کہہ سکتے ہیں کہ مسلمانوں کے ہاتھ کسی ایک انسان کا خون نہیں بہا اور فاتح عالم ٹہرے۔ یہ ممکن ہی نہیں۔۔۔۔

     بیک ٹو مائی ڈیڈ امریکہ۔ تو جناب امریکہ نے بےشک معصوم انسانون کا خون بہایا مگر وہ اس لئے  نہیں کہ سیکولر اور لبرل ولیوز اس کو یہ سکھا رہی تھیں۔ ہر گز نہیں۔ وہ اس لئے کہ پاور پالٹکس میں یہی کچھ ہوتا ہے۔ جب سے دنیا بنی، کبھی چنگیز کی طرح صرف کھوپڑیوں کے مینار بنانے کے شوق نے چرایا تو کبھی سکندر اعظم کو فتح کا نشہ ملکوں ملکوں سیر کراتا رہا۔ کبھی امریکہ کو القاعدہ کا خوف لاحق ہوا تو کبھی مشرق وسطٰی کے قدرتی ذخائر پر نظر ٹک کر رہ گئیں۔ محمود غزنوی کو سومنات میں ہیرے اور جواہرات دکھائی دئے تو ہٹلر کے نسلی تفاخر نے یہودیوں کا قتل عام کروایا۔ یہ تاریخ کا سبق ہے۔ اس سے نہ میں انکاری ہو سکتا ہوں۔ نہ آُپ جھٹلا سکتے ہیں۔۔۔۔

     "بحث لبرل کے ہاں انتہا پسندی کی ہو رہی ہے۔ تو سرکار۔ جنگ عظیم دوئم کے دوراں کبھی لبرل حضرات کو پڑھئے۔ انہوں نے ناگاساکی اور ہیروشیما پر بم گرانے پر شادیانے نہیں بجائے تھے بلکہ ماتم کیا تھا۔ برٹرینڈ رسل لبرل تھا۔ وہ دونوں جنگ عظیم کو کس نظر سے دیکھتے ہیں؟ وہ دیکھنے کی شے ہے۔
    امریکہ کا نوم چومسکی ایک لبرل ہے۔ جب عراق پر امریکہ نے چڑھائی کی تو انہوں نے اسے مسلم کا خون نہیں سمجھا انسانیت کا خون سمجھ کر ماتم کنان ہوگیا تھا۔ کتابوں پر کتابیں لکھیں۔ لیکچر دئے اور ثابت کیا کہ صدر بش نے جو عراق میں حملے کا جواز دیا ہے، وہ بےبنیاد ہے اور کوئی "ماس ڈسٹرکشن ویپنز” نہیں ہیں۔

    دور کیوں جائیں۔ حق مغفرت کرے۔ عاصمہ جہانگیر ایک لبرل تھیں اور اسامہ بن لادن کی نظریاتی مخالف۔ جب ایبٹ آباد واقعہ ہوا تو اسامہ بن لادن کی بیویوں کو زیرحراست لیا گیااور تفتیش شروع ہوگئ۔ تب یہ لبرل ہی تھیں جو اسامہ کی بیویوں کی وکیل بن بیٹھیں اور ان کا دفاع کیا کہ امریکہ یا کوئی بھی ملک ایک بے گناہ شہری کو ضرر نہیں پہنچا سکتا۔ وہ انڈیا مخالف نہ تھی مگر کشمیریوں پر مودی کی بربریت کے خلاف ایک توانا آواز تھی۔ ہندوستان مودی سرکار کو للکارنے والی اور کشمیریوں کے پامال حقوق کی جنگ لڑنے والی ارندھتی رائے لبرل ہیں۔
    یہ ایک طویل لسٹ ہے۔ آپ نے "لبرل انتہا پسند” اور لبرلزم کو سیاسی و ریاستی طاقتوں کے مراکز سے جوڑنے کی کوشش کی تو پیش کی۔ کل کلاں یہ نہ کہنا کہ امریکہ اور ہندوستان لبرلز ہیں اور انسانوں کا خون کر رہے ہیں۔ یہ کہنا کہ رسل، نوم چومسکی، عاصمہ اور ارندھتی رائے لبرل تھے اور وہ انسانوں اور مسلمانوں کے حقوق کے لئے لڑتے رہے ہیں۔”

    وہ بولے "کیا آپ کے نذدیک صرف خون بہانا ہی انتہا پسندی ہے؟ زبان اور قلم ہتھیار نہیں ہیں جو لبرل آئے روز آزماتے ہیں؟”

    عرض کیا "اس کا جواب شروع میں دیا جا چکا ہے۔ اب کوئی اور بات کر۔ ایک کپ چائے پلا۔ آج ڈنر میں کیا کھلاؤ گے؟”
    "زہر”

    "آپ کی روایت رہی ہے۔ ہمارا ایک سقراط نامی بزرگ بھی پی چکا ہے۔ لائے۔”

    ٹوئیٹر : Jawad_Yusufzai@
    ای میل : TheMJawadKhan@Gmail

  • طلاق: فیشن یا مجبوری تحریر:سید غازی علی زیدی

    طلاق: فیشن یا مجبوری تحریر:سید غازی علی زیدی

     معاشرے میں طلاق کی بڑھتی شرح کا ذمہ دار کون؟

     آئےروز یہ بات سننے میں آتی کہ پڑھی لکھی خواتین میں طلاق کا تناسب اسلئے زیادہ کیونکہ ان میں صبر وبرداشت کی کمی ہوتی اور وہ اپنی تعلیم اور ملازمت کی اکڑ میں شوہروں کی محتاج ہو کر رہنا پسند نہیں کرتی ہیں۔ لیکن کیا یہ واقعی حقیقت ہے؟ یا پھر ہمارے پدرشاہی معاشرہ نے ہمیشہ کی طرح مردوں کا جرم چھپانے کیلئے عورت کو مورد الزام ٹھہرایا ہے۔

     آج کل کے زیادہ تر شوہر بیوی تو خوبصورت، اعلیٰ تعلیم یافتہ، ملازمت پیشہ چاہتے لیکن سلوک نوکرانی سے بھی بدتر کرتے۔ ایسی مثالی بیوی ہوجو سارا دن چپ چاپ سسرال والوں کی خدمت کرے، بچے پالے، شوہر کی مار پیٹ و گالیاں برداشت کرے اور دنیا کے سامنے اپنے شوہر کو آئیڈیل شوہر کے روپ میں بھی پیش کرے۔ اور اگر زیادہ نافرمانی کرے تو تیل چھڑک کر جھلسا دی جائے اور بعد میں چولہا پھٹنے کا بہانہ بنا کر دنیا کے سامنے خودکو بے قصور ثابت کر دیں۔ ہمارے معاشرے میں بیٹی کو یہ کہہ کر رخصت کیا جاتا کہ اب ڈولی نکلی تو جنازہ ہی واپس آئے وگرنہ نہیں۔ اگر بدقسمتی سے شوہر یا سسرال خراب نکل آئے تو پہلے تو بیٹی کو مجبور کیا جاتا کہ وہ سمجھوتہ کرے کبھی بچوں کے نام پر، کبھی والدین کی عزت کے نام پر تو کبھی سماج کےخوف سے۔ لیکن اگر کوئی چارہ نہ باقی رہے اور نوبت طلاق تک آجائے تو والدین ایسے برتاؤ کرتے جیسے مر ہی گئے ہوں۔ بیٹی جو پہلے سے ہی ذہنی دباؤ اور جسمانی تشدد کا شکار ہوتی نہ چاہتے ہوئے بھی خود کو مجرم سمجھنے لگتی۔ ایسے والدین کو نبی کریم ﷺ کا ارشاد پاک یاد رکھنا چاہیے کہ "میں تم کو یہ نہ بتادوں کہ افضل صدقہ کیا ہے؟ اس بیٹی پر صدقہ کرنا ہے جو تمہاری طرف مطلقہ یا بیوہ ہونے کے سبب واپس لوٹ آئی اور تمہارے سوا کوئی اس کا نہ ہو۔” (ابن ماجہ) رہی سہی کسر عزیز رشتہ دار ہمسایے پوری کر دیتے کہ یقیناً لڑکی میں کوئی خامی ہوگی جو شوہر نے طلاق دی۔ کبھی چال چلن پر انگلی اٹھائی جاتی تو کبھی تنک مزاجی کو مورد الزام ٹھہرایا جاتا۔ اور آخر میں یہ کہہ کر زخموں پر نمک چھڑکا جاتا کہ ہماری بیٹیاں بھی تو ہیں اسی کو بسنے کا سلیقہ نہ تھا. شوہر کا نکما پن، متشدد مزاج، آوارگی، دوسری عورتوں سے ناجائز تعلقات غرض ہر بات کو سرے سے ہی نظر انداز کر دیا جاتا۔ طلاق یافتہ لڑکی کی زندگی تو جو جہنم بنتی سو بنتی لیکن اگر کوئی شوہر کےمظالم سے تنگ آ کر خلع کا فیصلہ کر لے تو اس کو سیدھا سیدھا خودسری و آزاد خیالی کا سرٹیفیکیٹ تھما دیا جاتا۔ خاندانی نام نہاد عزت خاک میں مل جاتی کیونکہ کورٹ کچہری کے چکر لگانے پڑتے اور اگر شوہر کمین فطرت ہو تو بدچلنی بھی ثابت کر دی جاتی۔ ان سب سے بچنے کیلئے آج بھی والدین بیٹی کو ہر قیمت پر اس کے گھر بسانا چاہتے پھر چاہے وہ اور اس کے بچے سسک سسک کر باقی ماندہ زندگی گزاریں، میکے والے خرچہ بھی اٹھائیں اور لڑکی خود بھی کولہو کا بیل بنے۔ یہ ہمارے معاشرے کی اس عورت کی ہلکی سی جھلک ہے جس کی ازدواجی زندگی مشکلات کا شکار ہوتی ہے۔ شوہر تو کیونکہ مجازی خدا ہوتا اسلیے اس سے تو غلطی ہو ہی نہیں سکتی ہاں بیوی کی معمولی غلطی پر وہ ضرور اسے دھنک کر بھی رکھ سکتا اور اسکے سر پر سوکن بھی لا سکتا۔

     لیکن سوال یہ ہے کہ کیوں اس دور جدید میں بھی ایسی مظلوم عورت کے لئے کوئی جائے پناہ نہیں۔ ہمارا معاشرہ جہاں مذہبی ٹھیکیدار ہوں یا فیمینزم کے علمبردار، پڑھے لکھے پروفیشنل ہوں یا ان پڑھ مزدور طبقہ، امیر ترین ہوں یا متوسط گھرانے، عملی طور پر عورت کیساتھ سلوک میں سب یکساں ہیں۔

     زبانی کلامی اعلی ترین مذہبی و سماجی اقدار کا حامل معاشرہ، عملی طور پر طلاق کا حقیقی تصور اور اسکی مذہبی و سماجی اہمیت سمجھنے سے تاحال قاصر ہے۔ ہم جانتے بوجھتے اس حقیقت کو نظر انداز کر دیتے کہ طلاق ناپسندیدہ ترین لیکن جائز عمل ہے۔ جس کو مکمل رد نہیں کیا جاسکتا۔ طلاق کو شجر ممنوعہ سمجھنے والے کیا اس حقیقت سے واقف ہیں کہ نبی پاک ﷺ کی دو صاحب زادیاں جو ابو لہب کے بیٹوں کے نکاح میں تھیں انہیں رخصتی سے پہلے ہی طلاق دے دی گئی تھی اور بعد میں یہ دونوں صاحب زادیاں یکے بعد دیگرے حضرت عثمانؓ کےنکاح میں آئیں۔ اگر طلاق یافتہ ہونے کا مطلب داغ لگنا ہوتا تو کیا آنحضرت ﷺ کی بیٹیوں پر یہ داغ کبھی نعوذ باللہ لگتا؟

     کیا طلاق یافتہ عورت کو حقارت کی نظر سے دیکھنے والے یہ جانتے ہیں کہ حضرت محمد مصطفی ﷺکی دو ازواج مطہرات مطلقہ تھیں۔ جن میں سے حضرت زینب بنت جحشؓ نےحضرت زیدؓ سے خود خلع لی تھی۔ کیا ہماری جرآت کہ ہم امہات المومنین کی کردار کشی کرسکیں یا یہ کہہ سکیں کہ وہ گھر بسانا نہیں جانتی تھیں؟ عورت کو اللّٰہ تعالیٰ نے مکمل انسان بنایا ہے حضور نبی اکرم ﷺ نے فرمایا

     "عورتوں کے معاملے میں اللہ سے ڈرو تم نے ان کو اللہ کی امانت کے طور پر حاصل کیا ہے”

     زندگی اللّٰہ تعالیٰ کی امانت ہے اسے ناقدر شناس کے ہاتھوں تباہ کرکے کوئی ثواب نہیں ملے گا۔ جو عورتیں بچوں کی خاطر گھٹ گھٹ کر سمجھوتہ کرتیں، شوہر کی ماریں کھاتیں انکےبچے گھریلو متشدد ماحول کی وجہ سے نفسیاتی مریض بن جاتے اور بالآخر اپنی ماؤں کو ہی مورد الزام ٹھہراتے۔ ذندگی، رزق اور قسمت اللّٰہ تعالیٰ کے ہاتھ میں ہے ان چیزوں کا مالک شوہر یا معاشرے کو سمجھنا نہ صرف جہالت بلکہ شرک ہے۔ ایک عورت انہی باتوں پر بلیک میل ہوتی اور اپنا نقصان کر بیٹھتی۔ یاد رکھیے اللّٰہ تعالیٰ ظالم نہیں نہ طلاق کوئی حرام یا پلید فعل ہے اگر ایسا ہوتا تو کبھی بھی قرآن کی پوری ایک سورت طلاق کے نام سے نہ ہوتی جس میں تمام احکامات پوری وضاحت کیساتھ بیان کیے گئے ہیں۔ عورت کی شادی کا یہ مطلب نہیں کہ اسے بلی چڑھا دیا جائے اور وہ تاعمر اذیتیں سہتی رہے۔ اسلام عورت کو طلاق، خلع، علیحدگی کی صورت میں مکمل اختیارات دیتا ہے جن میں نان نفقہ سے لیکر بچوں کی سرپرستی تک تمام احکامات واضح ہیں۔ خوش قسمتی سے پاکستانی قانون بھی اس معاملے میں شرعی قوانین کے مطابق فیصلہ کرنے کا اختیار رکھتا۔ لیکن اس کیلئے اصل ہمت عورت کو کرنی ہو گی کہ اس نے ذہنی و جسمانی تشدد سہہ کر جینا یا باعزت و باوقار طریقے سے زندگی گزارنی!

    "جو اللہ پر بھروسہ کرتا ہے اللہ اس کے لیے کافی ہوجاتا ہے” (سورۃ الطلاق:03)

     لیکن یہ حقیقت بھی پیش نظر رکھنی چاہیے کہ بیشک میاں بیوی میں علیحدگی پر شیطان کی خوشی کا کوئی ٹھکانہ نہیں رہتا۔ نبی اکرم ﷺ نے فرمایا؛

     "جو عورت سخت مجبوری کے بغیر خود طلاق طلب کرے، اُس پر جنت کی خوشبو حرام ہے”(ابو داؤد) اسلام ایک آفاقی مذہب ہے جو ہر دور، ہر انسان اور ہر طبقہ فکر کیلئے مکمل ضابطہ حیات پیش کرتا ہے۔ بحیثیت مجموعی ہمارے معاشرے میں اسلامی تعلیمات کو فروغ دینے کی ضرورت ہے اور یقیناً اسلام میں ہر فرد کے ہر حیثیت میں جامع ترین حقوق و فرائض متعین ہیں جن پر عمل کرکے ہی ایک بہترین عائلی زندگی اور مثالی معاشرہ کی بنیاد ڈالی جا سکتی

    "Syed Ghazi Ali Zaidi ”

  • ماں کی تربیت – تعمیر شخصیت. تحریر: سید غازی علی زیدی

    ماں کی تربیت – تعمیر شخصیت. تحریر: سید غازی علی زیدی

    سیرت فرزندہا از امہات
    جوہر صدق و صفا از امہات
    (فرزندوں کی سیرت اور روش زندگی ما ؤں سے ورثے میں ملتی ہے۔صدق و خلوص کا جوہر ماؤں سے ملتا ہے۔ علامہ اقبال)

    ماں ایسا لفظ جو ہر زبان میں خوبصورت اور سکون و شفقت کا احساس دل میں جگاتا ہے۔ بچےکی پہلی درسگاہ ماں کی آغوش۔
    دور جدید کی چائلڈ سائیکالوجی ہو یا زمانہ قدیم کے اقوال زریں، ماڈرن تحقیقی مقالات ہوں یا مذہبی صحیفے، یورپین "ارلی چائلڈ ہوڈ ڈویلپمنٹ” کی بات ہو یا مشرقی تہذیب میں بچوں کی نشوونما، ماں کا کردار ہر حال میں اولین حیثیت رکھتا ہے۔ جدیدیت و مادیت پرستی کی آڑ میں بچوں کی پرورش و تربیت میں ماں کے کردار میں کمی کرنا یا اسے متبادل طریقے اپناکر کم کرنے کی کوشش کرنا نہ صرف ماں و بچے کیساتھ زیادتی ہے بلکہ معاشرتی بگاڑ کا بنیادی سبب بھی ہے۔

    "تم مجھے اچھی مائیں دو میں تمہیں بہترین قوم دوں گا” نپولین بوناپارٹ
    تمام جدید سائنس و نفسیات اس بات پر متفق ہے کہ کسی بھی بچے کی زندگی کے پہلے پانچ سال انتہائی اہمیت کے حامل ہوتے جس میں بچے کی نہ صرف بنیادی جسمانی نشوونما ہوتی بلکہ ذہنی، نفسیاتی و شعوری نشوونما بھی تشکیل پاتی۔ اس عمر میں بچے کو سب سے زیادہ توجہ، محبت اور دیکھ بھال کی ضرورت ہوتی اگر کوئی کمی رہ جائے تو وہ مناسب سدباب نہ کرنے کی صورت میں تاعمر کیلئے روگ بن سکتی۔

    لیکن ہماری سماجی بدقسمتی کہیں یا ماڈرن و لبرل نظر آنے کی احمقانہ خواہش کہ ہم بغیر سوچے سمجھے اپنی نسلوں کو بگاڑ رہے اور ہمیں اس خسارے کا احساس تک نہیں۔ وہ ماں جس کی بدولت پورا معاشرہ تشکیل پاتا وہ جدیدیت و لبرل ازم کی رو میں بہہ کر اپنا اصل مقصد فراموش کر بیٹھی ہے۔ ذریعہ معاش و پیشہ ورانہ زندگی کیلئے تگ ودو کرتی مائیں اپنی اولاد یعنی اصل سرمایہ حیات کو جانے انجانے میں بے توجہی کی نذر کر رہی ہیں جبکہ گھریلو خواتین کا مرکز ارتکاز بھی اب اولاد کی پرورش سے ہٹ کر سماجی روابط اور سوشل و الیکٹرانک میڈیا تک محدود ہو گیا ہے۔ اس کا یہ ہرگز مطلب نہیں کہ آج کل کی ماؤں میں اپنی اولاد کیلئے محبت و شفقت میں کمی آئی ہے۔ نہیں، ہرگز نہیں بس اب ترجیحات بدل گئی ہیں۔ان کے لیے بچے کے برانڈڈ کپڑے، امپورٹڈ کھلونےو مشینری، مہنگی تعلیم کا حصول زیادہ اہم ہے۔ مائیں ہلکان ہو جاتی ہیں کہ بچے مقابلے میں کسی دوسرے بچے سے پیچھے نہ رہ جائیں لیکن صد افسوس یہ مسابقت و مقابلہ بازی صرف اور صرف مادیت پرستی تک محدود ہے۔ آکسفورڈ و کیمبرج کی کتابیں تو فراہم کردیتی ہیں اور پڑھا بھی دیتی لیکن بنیادی اخلاقی اقدار سکھانے کا وقت نہیں۔ فروزن اور فاسٹ فوڈ تو کھلا دیں گی لیکن کھانے کے آداب نہیں سکھا سکتی کہ کون اپنے مصروف لائف سٹائل سے وقت نکال کر اس جھنجھٹ میں پڑے۔ بچے تھکے ہارے سکول سے آتے اور کھانا لیکر ٹی وی یا وڈیو گیم کے سامنے بیٹھ جاتے۔ نہ پتا کیا کھا رہے نہ پتا کیسے کھا رہے۔

    لیکن اس ساری صورتحال میں صرف ورکنگ وومن کو مورد الزام نہیں ٹھہرایا جاسکتا بلکہ گھریلو خاتون خانہ بھی برابر کی شریک کار ہے۔
    کیا آج سے تیس سال یا بیس سال پہلے ورکنگ وومن نہیں تھیں؟
    بالکل ہوتی تھیں اور ان کے بچے زیادہ منظم اور تمیزدار ہوتے تھے کیونکہ ان کی زندگی ایک مخصوص نظم و ضبط کے مطابق بسر ہوتی تھی۔ جبکہ گھریلو خواتین کا کیونکہ مکمل دھیان بچوں کی پرورش پر ہوتا تھا اسلئے بچوں کی ابتدائی تعلیم کا آغاز گھر سے ہی ہوجاتا تھا۔ ہر دو قسم کی مائیں اپنی اولاد کیلئے ہمہ وقت موجود ہوتی تھیں۔ بچوں کی بھی بہترین و اولین دوست و رہنما ان کی ماں ہوتی تھی۔ ہر تکلیف، پریشانی، مسئلہ ماں کو بتانا لازمی ہوتا تھا۔اولاد جوان ہونے کے بعد بھی ماں کی نہ اہمیت کم ہوتی تھی نہ مقام میں کوئی فرق آتا تھا۔ لیکن کیا آج کل بھی ایسا ہے؟

    بیشک نہیں۔ معذرت و افسوس کیساتھ آج کل کے بچوں کا اولین رہنما ٹی وی اور بہترین دوست موبائل ہے۔ اخلاق باختہ مواد، بیہودہ زبان اور ہندی میں ڈب کیے گئےکارٹون ان کی تربیت کررہے اور معصوم بچوں کو پیارو محبت کے نام پر جنس زدہ کررہے۔ وہ والدین جو بچوں کو مکمل طور پرملازمین کے حوالے کر جاتے جو ان معصوموں کو ذہنی و جسمانی طورپر پامال کرتے ان کے کچے ذہنوں کو جنسی طور پر آلودہ کرتے اور پھر ہم حیران ہوتے جب ایک دس سال کا بچہ چار سال کی بچی کا ریپ کر دیتا۔ جب ایک چھ سال کا بچہ سکول کی اسمبلی میں نیکر اتار کر ننگا ہوجاتا یا بارہ سال کی بچی محبت کے نام پر حاملہ ہو جاتی۔

    یہ سب نہ توافسانوی قصے ہیں نہ ہی کسی ایک طبقے کی کہانی۔ بلکہ غریب ترین طبقے سے لیکر امیر ترین طبقے تک کے سچے واقعات ہیں جن کی تعداد ہر روز خطرناک طور پر بڑھ رہی اور ہم صرف ایک دوسرے کو مورد الزام ٹھہرارہے۔ ماڈرن اور مذہبی اقدار و تعلیمات کی جنگ میں ہم ان بچوں کو بھول گئے ہیں جو ہمارا مستقبل ہیں۔
    ماڈرن ماؤں کو احساس دلاؤ تو عورت مارچ والے شاہراؤں پر بینرز لیکر آجاتے اور قدامت پسند خواتین کو اصلاح کا کہو تو مذہبی ٹھیکیدار سڑکیں بلاک کردیتے۔ ہر دو اپنی اپنی جگہ بالکل ٹھیک لیکن پھر بھی بچے بگڑتے جارہے۔ یہ بگاڑ اب واضح ہو کر ایک بھیانک مستقبل کی نشاندہی کر رہا لیکن کوئی نہ سمجھنے کو تیار ہے نہ ذمہ داری لینے کو الٹا نشاندہی کرنے والے کو ہی لعن طعن کیا جاتا۔
    کیا یہ کھلی حقیقت نہیں کہ پہلے بچوں کو سونے سے پہلے آیت الکرسی پڑھائی جاتی تھی اور اب سٹوری بکس یا نرسری رائمز؟ سات سال کے بچے کو فجر کیلئے اٹھایا جاتا تھا لیکن اب بچے کی نیند خراب ہوگی یہ کہہ کر بڑے بچوں تک کو فجر کا نہیں پتا۔
    کیا یہ ہمارا المیہ نہیں؟پھر ہمیں ریاست مدینہ بھی چاہیے۔ کیا یہ بھی حکمرانوں کے کرنے کا کام ہے؟

    ماں کی تربیت کا مقابلہ دنیا کا مہنگے سے مہنگا تعلیمی ادارہ نہیں کر سکتا۔ ماڈرن ترین ماؤں کو یہ حدیث تو ازبر ہے کہ "ماں کے قدموں تلے جنت ہے” لیکن ماں کی کونسی ذمہ داریاں ہیں جن کو پورا کرنے پر جنت کی بشارت ہے اس سے انجان ہیں۔ ماں کا کام اولاد کو پیدا کر کے پھینک دینا نہیں بلکہ اس کی تربیت کرنا ہے۔اولاد کو خوراک فراہم کرنا ماں کا کام نہیں بلکہ اسلام میں ایک ماں اپنے شوہر سے اپنے ہی بچے کو دودھ پلانے کا معاوضہ لینے میں بھی حق بجانب ہے۔ لیکن تربیت کرنا ماں کا اولین فرض ہے جس کیلئے وہ اللّٰہ تعالیٰ کو جوابدہ ہے۔

    ’’تم میں سے ہر کوئی نگران ہے اور اپنی رعایا اور ماتحتوں کے بارے میں تم سے جواب طلبی کی جائے گی‘‘۔ (صحیح بخاری)
    بچوں کا ذہن تو کورا کاغذ ہوتا ہے جس پر مستقبل کی بنیاد ہوتی۔ پھر چاہے اسے بہترین تربیت سے رنگیں و خوشنما بنا دیں یا ناقص و بدتر تربیت سے سیاہ کردیں۔ فیصلہ ماؤں کے ہاتھ میں ہے!
    خشت اول جوں نہد معمار کج
    تاثریا می نہد دیوار کج
    (اگر معمار پہلی اینٹ غلط اور ٹیڑھی رکھ دے تو دیوار کو بلندی تک ٹیڑھا ہونے سے کیسے روکا جا سکے گا)

    @once_says

  • معاشرے میں جھگڑوں سے اپنے آپ کو کیسا بچایا جائے؟ | تحریر :عدنان یوسفزئی

    معاشرے میں جھگڑوں سے اپنے آپ کو کیسا بچایا جائے؟ | تحریر :عدنان یوسفزئی

    دین و دنیا کے لئے سب سے خطرناک چیز جھگڑے ہیں جو آدمی کی صلاحیت کو دیمک لگادیتے ہیں ۔

    معاشرہ انسانوں کے باہم مل جل کر رہنے کا نام ہے جس میں ہنسی خوشی کے نشیب و فراز آتے رہتے ہیں ۔ہر انسان کامزاج اللہ تعالیٰ نے مختلف بنایا ہے ۔ایک دوسرے کے ساتھ رہنے یا معاملہ کرنے میں اونچ نیچ ہوجاتی ہے جو بعض اوقات جھگڑے کی شکل اختیار کرجاتی ہے ۔

    زندگی کو پرسکون بنانے کیلئے شریعت میں ایسے مواقع پر ہمیں جھگڑوں سے بچنے اور صلح صفائی کیساتھ معاملہ کرنے کی بڑی فضیلت آئی ہے ۔

    اللہ تعالیٰ کی وحدانیت اور حضور اکرم ﷺ کی رسالت کے کے امین مسلمان جنہوں نے پوری دنیا کی قیادت کرنی تھی ہماری زبوں حالی کا یہ حال ہے کہ آج ہم گھریلو خاندانی کاروباری چھوٹے بڑے جھگڑوں میں الجھ کر رہ گئے ہیں ۔

    ایک حدیث میں حضور نبی اکرم ﷺ نے صحابہ کرام رضی اللہ عنہم سے خطاب کرتے ہوئے فرمایا کہ کیا میں تم کو وہ چیز نہ بتاؤں جو جو نماز، روزے اور صدقہ سے بھی افضل ہے؟ 

    جھگڑے دین کو مونڈنے والے ہیں۔یعنی مسلمانوں کے درمیان آپس میں جھگڑے کھڑے ہوجائیں فساد برپا ہوجائے ایک دوسرے کا نام لینے کے روادارانہ رہیں، ایک دوسے سے بات نہ کریں، بلکہ ایک دوسرے سے زبان اور ہاتھ سے لڑائی کریں ۔یہ چیزیں انسان کے دین مونڈدینے والی ہیں ۔

    ہماری وہ صلاحیت جو خدمت دین میں صرف ہوتی تھیں وہ آج باہمی جھگڑوں کی نذر ہورہی ہیں ۔آج ہمارے معاشرے میں جھگڑوں کی شرح کس قدر ہے اس کا اندازہ حضرات مفتیان کرام سے پوچھے جانیوالے روزمرہ کے سوالات سے لگایا جا سکتا ہے یا وکلاء کے لفافوں میں زیرسماعت مقدمات کو دیکھا جاسکتا ہے ۔

    بے صبری اورجلد بازی ہمارا قومی مزاج بن چکا ہے جس کا مشاہدہ آئے دن سڑکوں اور بازاروں پر کیا جاسکتا ہے ۔معمولی کوتاہی یا رنجش پر لوگ ایک دوسرے کے ساتھ دست وگریبان ہوجاتے ہیں ۔صاحب زور مارپیٹ کرکے اپنی آگ بجھا دیتا ہے تو زبردست گالم گلوچ کرکے دوسرے کی عزت نیلام کررہا ہے ۔

    یوں معمولی رنجش پر جھگڑوں کا ایک سلسلہ شروع ہوجاتا ہے ۔ہماری عدالتوں، کچہریوں اور تھانوں میں مقدمات کی بہتات ہمارے قومی مزاج کی آئینہ دار ہے ۔خاندانی یا کاروباری جھگڑوں کے حل کیلئے اگر انگریزی قانون کا سہارا لیا جائے تو عمریں بیت جاتی ہیں لیکن انصاف ملنا مشکل ہے ۔

    خدابیزار قوموں کے بنائے ہوئے اصول وقوانین سے ایک خدارسیدہ مسلمان کو کب اور کہاں انصاف مل سکتا ہے کاش قیام پاکستان کے بعد حقیقتاً قرآن وحدیث کی بالادستی ہوتی اور یہ ملک کلمہ طیبہ کی عملی تصویر پیش کرتا ۔

    لیکن ان حالات میں بھی مایوس ہونے کی ضرورت نہیں نہیں، ہر وقت ہر جگہ ایسے بزرگ خدارسیدہ علماء حضرات موجود ہیں ۔جن کی خدمت میں حاضر ہو کر ہر مسلمان دینی اور اخروی مشکلات کیلئے دعا اور جھگڑوں میں تصفیہ کراسکتا ہے ۔

    حدیث شریف میں جھگڑا چھوڑنے کی یہاں تک فضیلت آئی ہے کہ جو شخص باوجود غلطی پر ہونے کے پھر بھی جھگڑا چھوڑ دے تو اسے جنت کنارے میں جگہ ملنے کی بشارت ہے ۔

    جن لوگوں نے جھگڑوں کو ختم کرنے کے لئے اپنا جائز حق بھی چھوڑ دیا اللہ تعالیٰ نے انہیں ضائع نہیں کیا بلکہ اس حق کا بدل نعم البدل کی صورت میں عطا فرمایا ۔

    ایک دوست نے بتایا کہ انہوں نے اپنی کروڑوں کی جائیداد کے سلسلہ میں دس سال تک مقدمہ لڑا ۔لیکن انصاف نہ ملا بالآخر بزرگوں کے مشورہ پر مقدمہ سے دستبردار ہوگئے اللہ تعالیٰ نے سکون کی ایسی دولت بخشی جس کو الفاظ میں بیان نہیں کیا جاسکتا ۔

    اس لئے اپنی دنیا کو پرسکون اور آخرت کو سنوارنے کیلئے جھگڑوں سے بچا جائے اور صبر اوردرگزر کرنا مسلمانوں کا دینی واخلاقی شیوہ ہے ۔جھگڑوں کو چھوڑیئے اور معاملہ اللہ پر چھوڑ دیجئے ۔

    اپنا حق معاف کیجئے اور دوسروں کے حق ادا کرنے کی فکر کیجئے پھر دیکھئے کیسی پرلطف زندگی گزرتی ہے ۔

    یہ بھی کوئی زندگی ہے کہ روزانہ کچہریوں کے چکر لگ رہے ہیں اور خدا کے دشمن انگریز کے قانون سے انصاف کی بھیک مانگی جارہی ہے بھلا مسلمان کو دشمن خدا سے انصاف ملے گا ۔

    Twitter | @AdnaniYousafzai

  • بے جا آزادی تحریر : شاہ زیب

    بے جا آزادی تحریر : شاہ زیب

    موبائل فون دور حاضر کی اہم ترین ایجاد اور ضرورت ہے یہ وہ ٹیکنالوجی ہے جس نے بہت کم عرصہ میں انسانی زندگی پر قبضہ کر لیا ہے، جی ہاں ! آج کل ہر کوئی چاہے وہ بوڑھا ہو جوان ہو یا بچہ اس کے سحر میں گرفتار ہے، اج کے معاشرے میں تقریباً ہر شخص نے اپنی حثیت کے مطابق موبائل فون رکھا ہے، کسی کے پاس مہنگا ہے تو کسی کے پاس سستا ہے ، لیکن اس ٹیکنالوجی سے استفادہ سب لوگ حاصل کر رہے ہیں۔۔

    رکیئے!! کیا ہم صرف اس سے استفادہ حاصل کر رہے ہیں ؟ یا اس کا غلط استعمال بھی کر رہے ہیں۔؟

    کسی بھی ایجاد کے بعد یہ انسان پر منحصر ہوتا ہے کہ وہ اس کا کس طرح استعمال کرتا ہے جہاں موبائل فون کے بے انتہا فوائد ہیں وہیں اس کے غلط استعمال بھی ہیں۔

    اج بدقسمتی سے ہماری سوسائٹی میں اس ایجاد سے فائدہ حاصل کرنے کی بجائے نقصان زیادہ حاصل کیا جا رہا ہے 

    لوگوں کی ہر قسم کے مواد تک رسائی اور نوجوان نسل پر چیک اینڈ بیلنس نہ ہونے کی وجہ سے بہت سے لوگ بری عادتوں میں مبتلا ہو کر رہ گئے ہیں۔۔

    والدین نے بچوں کو سمارٹ موبائل فون اور انٹرنیٹ کی سہولت تو مہیا کر دی ہے لیکن ان کو اس کا درست استعمال نہیں بتایا ، نوجوان نسل صحت مندانہ سرگرمیوں کی بجائے سارا وقت اس کی وجہ سے ضائع کر دیتے ہیں۔ جس کی وجہ سے وہ بہت تیزی سے مختلف نقصانات کا شکار ہو رہے ہیں

    سب سے بڑا نقصان تو جسمانی بیماریوں میں بے تحاشہ اضافہ ہے ماہرین طب کے مطابق موبائل فون کے بے جا استعمال سے لوگوں میں زہنی دباؤ، پریشانی، سر درد، نظر کا کمزور ہونا، اور دل کی بیماریوں کے علاوہ بھی بہت سی بیماریاں شامل ہیں، کسی بھی چیز کی زیادتی ہمیشہ نقصان کا باعث بنتی ہے اسی طرح موبائل فون ہے اس کے غلط استعمال نے ہماری نوجوان نسل کی اخلاقی لحاظ سے نہایت گراوٹ کا شکار کر دیا ہے، اس انٹرنیٹ کی سہولت جواب پر ایک کو میسر ہے اور سوشل میڈیا تک رسائی جس کا جو دل چاہتا وہ پوسٹ کر دیتا ہے کسی کو کسی کی عزت کا خیال نہیں کوئی بھی غلط الزام لگاتا ہے اور بجائے اس بات کے ثابت ہونے کے انتظار کرنے کے ، لوگ خود سے فیصلہ کر کے اس انسان کو مجرم قرار دے دیتے ہیں اور اس کی عزت نفس کا جنازہ نکال دیتے ہیں۔،

    اگر اپ کے پاس کسی بھی قسم کا اختیار ہے آزادی ہے تو یہ اپ کا امتحان ہے کہ اپ اس کا استعمال کسی طرح کرتے ہیں؟ یہ اپ پر منحصر ہے کہ اپ اس آزادی کا درست استعمال کر کے اپنے ملک کی عزت بڑھاتے ہیں یا پھر غلط استعمال سے اپنی بے وقوفی کے ہاتھوں ملک کی بدنامی میں حصہ دار بنتے ہیں۔۔۔

    @shahzeb___

  • ظلم رہے اور امن بھی ہو تحریر سیدہ ام حبیبہ

    ظلم رہے اور امن بھی ہو

    قائین محترم جہالت کی ضد علم ہے

    تاریکی روشنی کو مات دیتی ہے

    صبح و شام ایک ساتھ ضم نہیں ہو سکتے.

    ہماری قوم کی یاداشت کمزور ہے یا ہماری جمہوریت کے پیچھے متحرک قوتیں ملک کے وسیع تر مفادات میں قوم کو ذہنی ہیجان سے گزارنے میں اور یاداشت کو مسخ کرنے میں ماہر ہیں.

    اور ہم بھی ایسی قوم ہیں کہ یہ کہہ کر بھول جاتے ہیں کہ

    چلو اچھا ہوا ہم بھول گئے

    ہماری قوم جابجا یہ بھی کہتی دکھائی دیتی ہے کہ ہم نے دہشت گردی کے خلاف طویل جنگ لڑی ہے.

    ہم نے بہت قربانیاں دیں ہیں .

    مگر ساتھ ہی یہ بھی کیا کہ ان ہی دہشت گردوں کی عام معافی کے اعلانات کیے جائیں؟ کس سے پوچھ کر ؟

    کیا اس ماں سے پوچھا گیا جسکا نازوں سے پالا نوخیز جوان ذبح کر کے اس کے سر سے فُٹ بال کھیلا گیا؟

    اس بہن سے پوچھا جسکا اکلوتا بھائی سہرا سجانے اے چند دن پہلے وردی میں ہی دفنانا پڑ جائے؟

    اس قوم سے پوچھا جس نے دہشت گردی کے لیبل کے ساتھ گلی گلی اور ملکوں ملکوں رسوائی برداشت کی پابندیاں برداشت کیں؟

    ملک کا ایسا کونسا مفاد ہے کہ اے پی ایس کے شہداء کے قاتل ہنس ہنس کر آپ کے ٹی وی چینل پہ بیٹھے ہوں اور شہیدوں کی مائیں اپنے بچوں کے ہنستے قاتل کو دیکھ کر خون رو رہی ہوں.

    کل نیوزی لینڈ کی ٹیم میچ سے عین پہلے دورہ ختم کر کے نکل جاتی ہے. قوم تڑپ اٹھتی ہے کہ 18 سال بعد کرکٹ کے رنگ وطن لوٹے ہی تھے کہ سب ایکا ایکی ختم ہو گیا.

    تمام تبصرے قابلِ بحث نہیں ..کچھ آستین کے سانپ زہر اگلتے رہے اور کچھ نمک حلال اپنے نہ ہو کر بھی ہمت بنے رہے.

    مدعے کے بات یہ تھی کہ دورے کی منسوخی میں کہیں نہ کہیں طالبان کی حمایت وجہ بن رہی تھی اور سر دھنیے افغان طالبان نہیں کالعدم تحریکِ طالبان پاکستان کی حمایت اور وہ بھی عام معافی جیسی بات وہ بھی ان درندوں کے لیے جن کے سر پہ ستر ہزار پاکستانیوں کا بے گناہ خون ہو.

    دشمن وار جانے نہیں دیتا مگر ان کا کیا کریں جو دارالحکومت کے دامن میں دہشتگردی کی دکان سجائے بیٹھے ہیں.اور آج اسلام آباد کی پولیس کو لیکچر دیتا مہتمم کہتا ہے

    "پاکستانی طالبان آئیں گے تمہارا حشر نشر کریں گے”

    ریاستی ادارے کو دہشتگردوں کی دھمکی پہ وزیرِ داخلہ خاموش وزیرِ دفاع ناپید ؟

    ہمارے وطن کے کرتا دھرتا یہ سمجھتے ہیں ناں کہ مقتولین کے حق میں بھی نغمات جاری کر لیں اور قاتلوں کو بھی معافی دے کر قومی دھارے میں شامل کر لیں تو ان اے کہدیجیے…

    ظلم رہے اور امن بھی ہو

    کیا ممکن ہے تم ہی کہو

    اپنے ہونٹ سیے تم نے

    میری زباں کو مت روکو

    تم کو اگر توفیق نہیں

    مجھکو ہی سچ کہنے دو

    ظلم رہے اور امن بھی ہو…

    @hsbuddy18

  • پاکستانی ثقافت تحریر : تعمیر حسین

    پاکستانی ثقافت تحریر : تعمیر حسین

    پاکستانی رہن سہن،تہذیب اور بدوباش کو پاکستانی ثقافت کہتے ہیں۔ پاکستانی قومی لباس شلوار قمیض ہے اور پاکستان کے دیہی علاقوں میں  سادہ کھانا پینا پسند کیا جاتا ہے۔

     دیسی کھانے بالخصوص مکھن ساگ کے ساتھ   ہر کوئ خوشی سے کھانا پسند کرتا ہے ۔ سبزیاں گھروں میں اگائ جاتی ہیں اور ایسی تازہ سبزیاں صحت کے لیے بھی مفید ثابت ہوتی ہیں کیونکہ ان میں مصنوعی کھادوں کا کم سے کم استعمال کیا جاتا ھے  ۔ کیونکہ ثقافت  دنیا میں پہچان کا باعث ھوتی ھے اس لیے ھمیں پاکستانی ثقافت کے فروغ کے لیے کوشاں رہنا چاہیے ۔مغربی طور طریقے اپنانے سے ہم اپنی ثقافت کو نقصان پہنچا رہے ہیں ، جس کا ادراک ھمیں مستقبل قریب میں ھو جاے گا۔ 

     پاکستان کی قومی زبان اردو ہے جو پورے ملک میں بولی اور سمجھی جاتی ہے۔ پاکستان کے تمامی صوبوں میں  الگ الگ زبانیں بھی بولی جاتی ہیں جیسے کہ بلوچستان میں بلوچی ، سندھ میں سندھی ، خیبر پختونخواہ میں پشتو اور پنجاب میں پنجابی،  لیکن اردو زبان ہر صوبے میں بولی جاتی ہے۔

     چاروں صوبوں کے رہن سہن میں فرق ہے۔ ہر صوبے کا منفرد لباس اور کھانے پینے کے طور طریقے اور رسم ورواج مختلف ہیں ۔ دیہی علاقوں میں کچے مکان اب بھی موجود ہیں وہاں کی طرز زندگی شہروں سے بہت مختلف ہے۔ گاوں کے سادہ سے لوگ اور انکا مل جل کے رہنا انتہائ متاثر کرتا ہے شہروں میں ہر سہولت موجود ہے مگر اتنی مصروف زندگی ہوگئ ہے کہ ہر کوئ بس اپنی زندگی میں مگن ہے۔ مغربی طور طریقے اپنائے جا رھے ھیں  اور اپنی ثقافت کو بھولایا جا رھا ھے ، اگر ایسا ہی رہا تو مغربی طور طریقہ غلبہ پا لے گا اور ہماری اپنی پہچان ختم ہو جائے گی۔ اپنی ثقافت کو اپنائیں یہی ہمارا کلچر ہے ۔ ہمیں انگریزوں سے آزادی  اس لیے نہیں دلوائ گئ کہ ہم انکے نقشے قدم پہ چلیں  ہم کو اپنی ثقافت کو فروغ دینا چاہیے ۔ اپنی پہچان کو زندہ رکھیں تا کہ ھمارا شمار زندہ اقوام میں ھو ۔

    قبائلی علاقوں میں پشتو زبان بولی جاتی ہے خیبرپختون خواہ کے زیادہ تر علاقوں میں پشتو بولی جاتی ہے۔ پٹھان لوگ بہت محنتی جفاکش اور جنگجو ہوتے ہیں۔ اپنا کاروبار کرنے کو ترجیح دیتے ھیں۔ دھنبے اور بکرے کا گوشت بڑے شوق سے کھاتے ہیں ۔ مہمان نوازی میں اپنی ایک الگ پہچان رکھتے ھیں۔ خوشی کے موقع پر خوشی کا اظہار ہوائ فائرنگ سے کرتے ہیں۔

    پاکستانی کھانے دنیا بھر میں  اپنی ایک الگ پہچان رکھتے ہیں اور بہت زیادہ پسند کیے جاتے ہیں جیسا کہ بریانی ،مچھلی کباب تکے وغیرہ وغیرہ۔

     ہر علاقے کی شادی بیاہ کی رسمیں بھی الگ ہیں ۔ ہر قوم کے شادی بیاہ کا انداز ہی نرالا ھے۔ پنجاب میں شادی کا اہتمام زور و شور سے کیا جاتا ھے۔ شادی کے دن سے پہلے ہی گھر میں مختلف تقاریب کا آغاز ھو جاتا ھے اور دور دراز کے رستہ دار شادی میں شرکت کے لیے پہلے ہی آ جاتے ھیں۔ ڈھولک رکھی جاتی ھے ۔ پرات پر ٹپے ماہیے گاے جاتے ھیں جو کہ بے حد پسند کئیے جاتے ھیں۔ پرات لڑکیاں رکھتی ھیں اور اپنے فن کا اظہار کرتی ھیں ۔ ٹپے ماہیے پنجاب کی شان ھیں ۔

    پاکستان کے ہر علاقہ میں شادی بیاہ کا انداز ہی نرالہ ھے۔

     ہر علاقے کا اپنا کھیل ہے جیسا کہ پنجاب میں دیہات میں  گلی ڈنڈا  بہت زیادہ کھیلا جاتا ھے۔ شٹاپو، لکن میٹی  اور بہت سے کھیل کھیلے جاتے ھیں۔ لیکن   کرکٹ ہر علاقے میں پائی جاتی ھے اور اس کو نوجوان نسل بڑے شوق سے کھیلتی ھے۔

    غرض کھیل سے لے کر زندگی کے تمام پہلوئوں کے متعلق ھماری ثقافت ھماری راہنمائی کرتی ھے اور ھماری پہچان بنتی ھے۔

    اگر ہم کسی ملک میں جا کے بھی اپنا طور طریقہ نہیں بدلتے اپنی ثقافت کو زندہ رکھتے ہیں تو یہی ملک سے محبت ہے۔ ہمیں اپنی پہچان، اپنی ثقافت کو ہر حال میں زندہ رکھنا چاہیے تا کہ ھماری آنے والی نسلوں کو اپنی ثقافتی ورثے کا پتہ ھو۔ یہ ثقافتی ورثہ آئندہ آنے والی نسلوں کی امانت ھے جو کہ ھمیں ان تک پہنچانا ھے۔ ہماری پہچان ہمارا ملک پاکستان ہے دنیا کے کسی بھی کونے میں جائیں اپنی شناخت قائم رکھیں۔

    پاکستان پائندہ باد

    Official Twitter Account @J_Tameer