Baaghi TV

Category: معاشرہ و ثقافت

  • معاہدہ تاشقند   تحریر: احسان الحق

    معاہدہ تاشقند تحریر: احسان الحق

    پاک بھارت جنگ کے بعد پہلی بار دونوں ممالک کے سربراہان کی روس کے وزیراعظم کی میزبانی میں ملاقات ہوئی. اس ملاقات اور مزاکرات کا اہتمام اس وقت کے روسی شہر تاشقند میں کیا گیا. روس کے وزیراعظم نے دونوں ممالک کے درمیان مزاکرات کروانے میں اہم کردار ادا کیا.

    تاشقند روانگی سے قبل یکم جنوری 1966 کو صدر پاکستان فیلڈ مارشل محمد ایوب خان نے قوم سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ

    "اگر روس کی کوششوں سے مسئلہ جموں وکشمیر حل ہو جائے تو صرف برصغیر کی ساٹھ کروڑ لوگ ہی نہیں بلکہ پوری دنیا روس کی احسان مند ہوگی کہ انہوں نے ایک ایسے مسئلے کو حل کروا دیا جو عالمی امن کے لئے خطرہ بنا ہوا ہے”

    صدر پاکستان یکم جنوری 1966 کو راولپنڈی سے تاشقند کے لئے روانہ ہوئے. صدر ایوب خان اسی سلسلے میں ظاہر شاہ کی دعوت پر پہلے کابل گئے. 2 جنوری کو ظاہر شاہ اور اس کی کابینہ کے ساتھ ملاقات کی. صدر ایوب خان نے پاک بھارت جنگ کے نتیجے میں پیدا ہونے والے حالات اور واقعات کے بارے میں آگاہ کیا. ایک روزہ دورے کے بعد اگلے روزہ تاشقند روانہ ہوئے.

    پاکستانی وفد 3 جنوری 1966 کو تاشقند پہنچا جہاں روسی حکومت نے شاندار استقبال کیا. روسی وزیراعظم کی سربراہی میں دونوں ملکوں کے سربراہان نے اپنی اپنی تقریروں میں اپنے اپنے ملک کا نقطہ نظر پیش کیا. صدر ایوب خان نے اپنی تقریر اور بھارتی وزیراعظم شاستری کے ساتھ ملاقات میں واضح انداز اپناتے ہوئے کہا کہ جنگ کی اصل وجہ مسئلہ کشمیر ہے، جب تک مسئلہ کشمیر حل نہیں ہوتا اس وقت تک دیرپا امن ممکن نہیں.

    بھارتی وزیراعظم نے اپنی تقریر اور مزاکرات میں مسئلہ کشمیر پر بات کرنے سے صاف صاف انکار کر دیا اور مستقبل میں جنگ نہ کرنے پر زور دیا.

    پاکستان کی طرف سے کانفرنس کے لئے تیار شدہ ایجنڈا.

    1. مسئلہ کشمیر 2. فوجوں کی واپسی 3. دیگر متنازعہ معاملات

    بھارت کا ایجنڈا پاکستانی ایجنڈے کے برعکس تھا.

    1. جنگ نہ کرنے کا معاہدہ 2. کشمیر پر بات نہیں ہوگی، یہ بھارت کا اٹوٹ انگ ہے 3. دیگر متنازعہ امور

    5 جنوری 1966 کو دونوں ممالک کے درمیان وفود کی سطح پر مزاکرات ہوئے. بھارت نے مسئلہ کشمیر کو ایجنڈے میں شامل کرنے سے انکار کردیا. دونوں ممالک کسی بھی متفقہ ایجنڈا بنانے میں ناکام رہے کیوں کہ پاکستان مسئلہ کشمیر کا حل چاہتا تھا جبکہ بھارت مسئلہ کشمیر پر بات بھی نہیں کرنا چاہتا تھا. وفود کے بعد صدر پاکستان ایوب خان اور بھارتی وزیراعظم شاستری کے درمیان طویل بات چیت ہوئی مگر اس ملاقات میں بھی فریقین کسی نتیجے پر نہیں پہنچے کیوں کہ بھارت اپنی ہٹ دھرمی پر قائم تھا اور پاکستان اپنے موقف پر ڈٹا ہوا تھا. روسی وزیراعظم نے بھارتی وزیراعظم سے ملاقات کرکے مسئلہ کشمیر کو شامل ایجنڈا کرنے کے لئے کہا مگر بھارت نہیں مانا پھر پاکستان کے ساتھ ملاقات کی اور پاکستان کو منانے کی کوشش کی کہ آپ مسئلہ کشمیر کو شامل نہ کرنے پر لچک دکھائیں.

    6 جنوری کو کوئی پیش رفت نہ ہو سکی اور نہ ہی دونوں ممالک کے درمیان کسی قسم کا رابطہ ہوا. اسی روز روس نے پھر کوشش کرتے ہوئے دونوں فریقین سے ملاقات کی اور اپنے اپنے موقف میں نرمی پیدا کرنے کی درخواست کی. پاکستان نے اس بات پر کچھ لچک دکھانے کا عندیہ دیا مگر بھارت مسلسل چھوٹے بچے کی طرح ضد پر اڑا ہوا تھا. 7 جنوری کو ایجنڈا تیار کرنے کی کوششیں ترک کر دی گئیں. پاکستان نے مسئلہ کشمیر کے حل کو ایجنڈا میں شامل کئے بغیر اور کسی بات پر معاہدہ کرنے سے صاف انکار کر دیا.

    8 جنوری کو پاکستان نے بھارتی پیش کش کو مسترد کر دیا جس میں بھارت نے کہا تھا کہ جنگ نہ کرنے کا معاہدہ کیا جائے. اس روز بھی دونوں سربراہان مملکت کے درمیان کوئی ملاقات نہ ہو سکی. 9 جنوری کو بھارت کے پیش کردہ اعلامیہ کو پاکستان نے مسترد کر دیا کیوں کہ اس میں مسئلہ کشمیر شامل نہیں تھا.

    9 جنوری کو تاشقند کانفرنس کی ناکامی کا اعلان کر دیا گیا. روسی وزیراعظم کی ساری کوششیں رائیگاں جا رہی تھیں. روسی وزیراعظم نے آخری کوشش کے طور پر دونوں راہنماؤں سے ایک بار پھر ملاقات کی اور دباؤ ڈالتے ہوئے کہا کہ اپنے اپنے موقف میں تھوڑی لچک دکھائیں اور کسی نتیجے پر پہنچیں. اس بار روسی وزیراعظم کی کوششیں رنگ لے آئیں.

    آخر کار روس کی کوششوں سے 10 جنوری 1966 کو پاک بھارت معاہدہ طے پا گیا. اس معاہدے کے اہم نکات یہ تھے.

    ۱۔ دونوں ممالک نے اتفاق کرتے ہوئے کہا کہ دونوں ملکوں کے ہائی کمشنرز اپنا اپنا عہدہ سنبھالتے ہوئے سفارتی تعلقات بحال کریں.

    ۲. معاہدے کے مطابق دونوں ملکوں کی فوجیں 25 فروری تک واپس اس مقام پر آجائیں جہاں وہ 5 اگست کو تھیں.

    ۳. معاہدے میں اتفاق کیا گیا کہ تمام مسائل کا حل بات چیت سے کریں گے اور آئندہ طاقت کا استعمال نہیں کریں گے.

    ۴. ایسی کوئی بھی کارروائی نہ کرنے پر اتفاق کیا گیا جس میں لوگوں کو نقل مکانی کرنی پڑے.

    ۵. مہاجرین، ضبط شدہ مال اور جائیداد کی واپسی.

    ۶. دونوں ملکوں نے ایک دوسرے کے خلاف پروپیگنڈہ نہ کرنے کا معاہد کیا.

    ۷. دونوں ملکوں نے ایک دوسرے کے ساتھ تعاون اور بات چیت کرنے کے لئے ٹیموں کے قیام کی تجویز بھی منظور کی گئی.

    ۸. دونوں ملکوں کے درمیان دوستانہ تعلقات کو پروان چڑھانے پر بھی اتفاق کیا گیا.

    ۹. دونوں ملکوں نے فوجوں کی واپسی پر اتفاق کیا.

    ملک واپسی پر صدر مملکت ایوب خان نے قوم سے خطاب کرتے ہوئے مبارکباد دی اور بتایا کہ جب ہم مقبوضہ کشمیر میں سرپیکار تھے تب 4 ستمبر کو روس کی جانب سے ہمیں دعوت نامہ ملا جس میں امن معاہدے کے لئے روس آنے کہ دعوت دی گئی تھی. 6 ستمبر کو بھارت کے حملے نے روس جانے سے روک دیا تھا. پورے اٹھارہ سال سے ہم برابر کوشش کر رہے ہیں کہ بھارت کشمیریوں سے کیا گیا رائے شماری والا اپنا وعدہ پورا کرے. جب بھارتی فوج نے بار بار آزاد کشمیر کے علاقوں پر حملے کرنا شروع کئے تو پاک افواج کے پاس جوابی کارروائی کے علاوہ اور کوئی راستہ نہیں تھا. روسی وزیراعظم اور حکومت نے پاک بھارت مزاکرات کامیاب بنانے کے لئے بہت کوششیں کی ہیں، پرتپاک استقبال کیا اور ہماری خوب مہمان نوازی کی، جس پر ان کے شکر گزار ہیں.

    ابھی ہماری مشکلات آسان نہیں ہوئیں، آزمائش ابھی باقی ہے. اللہ سبحانہ وتعالیٰ کے حضور اپنا سر جھکائیں اور اپنے اور پاکستان کے لئے ترقی اور نصرت کی دعا طلب کریں. پاکستان پائندہ باد!

    @mian_ihsaan

  • مستقبل اندھیروں میں ! تحریر۔ محمد نسیم کھیڑا

    مستقبل اندھیروں میں ! تحریر۔ محمد نسیم کھیڑا

    کورونا آیا تو بیشتر شعبہ ہائے زندگی کے لئیے تباہی کا پیام لایا
    انہی شعبوں میں سے ایک تعلیم کا شعبہ بھی تھا۔جیسے جیسے وقت گزرتا گیا ویسے ویسے دیگر شعبہ ہائے زندگی کی طرح شعبہ تعلیم بھی رفتہ رفتہ نارمل زندگی کی طرح واپس لوٹا
    ملکی شعبہ تعلیم کی طرح غیر ملکی شعبہ تعلیم بھی واپس لوٹا اور مارچ 2021 میں کئی غیر ملکی جامعات کے طلبا واپس اپنی اپنی جامعات میں معمول کے مطابق تعلیم حاصل کرنے لوٹ گئے لیکن انہی غیر ملکی جامعات میں پڑھنے والے طلبا کا بڑا حصہ "چین” کی جامعات میں زیرتعلیم ہے
    چین میں کورونا پر جون 2020 میں کنٹرول پالیا گیا تھالیکن تیزی سے بدلتی دنیا کے حالات اور کورونا کے پھیلاؤکے باعث سٹوڈنٹ ویزا بند رکھا گیا طلبا بھی حالات کی نزاکت سے واقف تھے لہذا انہوں نے بھی چین کی حکومت کا ساتھ دینا مناسب سمجھا اور آن لائن تعلیم حاصل کرتے رہے
    قارئین آن لائن تعلیم والا سلسلہ اس وقت تک پرامن چلتا رہا جب تک کہ پروفیشنل ڈگریاں ،ماسٹرز اور پی ایچ ڈی کا "لیب ورک،تھیسس اور ریسرچ "سر پر آ پہنچا
    قارئین یہ ڈگری کا وه حصہ ہوتا ہے کہ جو ماہر اساتذه کی زیرنگرانی صرف جامعات میں حاضر ره کر مکمل کیا جاسکتا ہے اور اس کے نامکمل ہونے کی صورت میں ڈگری کی کوئی اہمیت نہیں رہتی دوسرے لفظوں میں ضائع ہوجاتی ہے نا مکمل رہتی ہے چنانچہ مارچ2021 میں جبکہ بیشتر ملکوں میں زیر تعلیم پاکستانی واپس اپنی جامعات میں تعلیم حاصل کرنے لوٹ گئے مگر "چین” میں زیر تعلیم طلبا واپس نہ لوٹ سکے اس وقت چین میں پڑھنے والے طلبا کئی پلیٹ فارمز پر اپنا مسئلہ اُٹھانے کی کوشش کی لیکن کوئی خاطر خواه جواب حاصل نہ کرسکے وقت گزرتا گیا پاکستانی طلبا کوشش کرتے رہے لیکن انہیں یہ کہہ کر ٹال دیا جاتا کہ "چین” کی بین الاقوامی طلبا کے لئیے یکساں پالیسی ہے ابھی تک کسی بھی غیر ملکی طالبعلم کو واپس آنے کی اجازت نہیں لہذا جب بھی غیر ملکی طلبا کو چین لوٹنے کی اجازت ملے گی تو سب سے پہلے پاکستانی طلبا کے واپسی کے انتظامات کریں گے دریں اثنا چین نے جنوبی کوریا کے طلبا کو واپسی کی اجازت دی اور اس معاملے کو چھپانے کی کوشش کی گئی لیکن پاکستانی طلبا کے واپسی کے مطالبے پر بتایا گیا کہ یہ طلبا جنوبی کوریا میں کورونا کی بہتر صورتحال کے باعث بلائے گئے
    چونکہ جنوبی کوریا میں بھی چین کی طرح کورونا کا کوئی کیس نہیں اس لئیے ان کو اجازت ملی ہے
    پاکستانی طلبا تعلیم میں ہونے والے حرج کو بار بار چینی حکام کے سامنے رکھتے رہے لیکن کوئی خاطر خواه جواب نہ مل سکا اسی ساری کشمکش کے دوران چین نے خفیہ طور پر امریکہ،بھارت اور ارمینیا سے تعلق رکھنے والے طلبا کے لئیے ویزے کھول دئیے
    چین کی مختلف محاذوں پر مخالفت کرنے والے ان چین دشمنوں کو واپسی کی اجازت پر پاکستانی طلبا میں شدید تشویش اور غم و غصہ پایا جاتا ہے سب جانتے ہیں کہ امریکہ اور بھارت میں کورونا کتنا کنٹرول ہے بلکہ دنیا بھر میں تباہی مچانے والا ڈیلٹا ویرینٹ بھی انہی ملکوں میں افزائش پارہا ہے
    MBBS کے طلبا کو اگر ہسپتالوں میں مقرره گھنٹوں کی کلاسز نہ دی گئیں تو ان کی ڈگریاں ناکاره ہوجائیں گی اسی طرح سائنس کے طلبا کو اگر لیب میں تجربے نہ کروائے گئے ان کی ڈگریکا بھی کوئی فائدہ نہیں ماسٹرکے طلبا اگر تھیسس نہیں لکھیں گے تو ان کی ڈگری نامکمل اور پی ایچ ڈی کے طلبا نے اگر ریسرچ ورک کرکے ریسرچ پیپر حقائق پر مبنی نہ لکھاتو انکی ڈگری بھی ضائع ہوجائیگی
    ان اقدامات سے ان طلبا کی صرف ڈگری ہی نہیں بلکہ ان کا مستقبل تاریک ہوجائے گا اورطمستقبل میں جب یہ عملی زندگی کی دوڑمیں دوسرےلوگوں سے مقابلہ کریں گے تو یہ اس دوڑ میں بھی سب سے پیچھے ره جائیں گے
    ان طلبا نے اب تک قومی اسمبلی اور سینٹ میں بھی یہ مسئلہ اٹھانے کی سفارشات کی ہیں اور وزیراعظم پاکستان عمران خان سے ذاتی طور پر اس مسئلے میں دلچسپی لینے کے درخواست گزار ہیں
    یہ وہی طلباہیں جو پاک چین دوستی کومضبوط کرنے اور دونوں ملکوں میں روابط بڑھانے کی غرض سے اور عظیم خوابوں کے ساتھ چین گئے تھے اگر ان نازک حالات میں امریکہ ،بھارت ،ارمینیااور جنوبی کوریا کے طلبا کوتو چین لوٹنے کی اجازت مل جائے لیکن پاکستانی طلبا کو تاریخ کے اس موڑ پر احساس کمتری دلایا گیا تو یقین مانیں یہ طلبا مستقبل میں پاک چین دوستی کے "سفیر” کبھی نہیں بنیں گے بلکہ اہنے تئیں برتی گئی اس تعصب پسندی کو سینے میں سجائے اگلی نسلوں تک جین کی اس بے رخی کو پھیلا کر ہمیشہ کے لئے امر کردیں گے
    @Naseem_Khera

  • باطل سے دبنے والے اے آسمان نہیں ہم تحریر : ثمینہ محمدیہ

    باطل سے دبنے والے اے آسمان نہیں ہم تحریر : ثمینہ محمدیہ

    حق اور باطل کی جنگ روز ازل سے جاری ہے ۔ حضرت آدم علیہ السلام کو شیطان کے سجدہ کرنے کے انکار سے لے کر آج تک جاری ہے اور قیامت تک جاری رہے گی ۔ کبھی حق وباطل کی یہ جنگ حضرت ابراھیم علیہ السلام اور نمرود کے درمیان ہوٸی ، تو کبھی یہ جنگ حضرت موسی علیہ السلام اور فرعون کے درمیان ہوٸی ۔ کبھی حق و باطل کی یہ جنگ میدان بدر میں مسلمانوں اور کفار مکہ کے درمیان ہوٸی تو کبھی حق و باطل کی یہ جنگ یزید اور امام حسین علیہ السلام کے درمیان ہوٸی اور کبھی یہ جنگ پاکستان اور بھارت کے درمیان ہوٸی ۔ لیکن حق و باطل کی اس جنگ میں فتح ہمیشہ مسلمانوں کے نصیب میں آٸی ۔ اللہ پاک قرآن پاک میں فرماتا ہے کہ

    اے محبوب ﷺ )فرما دیجیے کہ حق آگیا اور باطل مٹ گیا ، باطل تو ہے ہی مٹنے والا ۔
    (سورت الاسراء آیت 81)

    زندہ اقوام کی زندگی میں ایسےدن آتے رہتے ہیں جب انہیں دنیا کے سامنےثابت کرنا پڑ جاتا ہے کہ وہ ایک زندہ ،نڈر ، بہادر اور طاقت ور قوم ہیں ، جنہیں اپنی سلامتی کو تحفظ دینا بھی آتا ہے اور ضرورت پڑنے پر اپنے دشمن کو نیست نابود کر کے اس کا غرور خاک میں ملانا بھی آتا ہے ۔ ایسا ہی ایک وقت پاکستانی قوم کی زندگی میں بھی آیا جب انہیں اپنے سے کٸی گنا بڑے دشمن سے نہ صرف اپنی سلامتی ، اپنی پہچان کو تحفظ دینا تھا بلکہ اپنے دشمن کا غرور اور گھمنڈ بھی خاک میں ملانا تھا تا کہ دشمن دوبارہ پاکستان کی طرف کبھی میلی آنکھ سے نہ دیکھے ۔ 6 ستمبر کا دن پاکستان کی آن بان شان کا دن ، جس دن پاکستان نے اپنے سے تین گنا بڑھے دشمن کا غرور خاک میں ملا دیا ۔ 6 ستمبر یوم دفاع پاکستان جس دن پاکستانی قوم اپنے قومی ہیروز کو ، اپنے فوجی جوانوں کو ، اپنے شہدا اور غازیوں کو سلام عقیدت پیش کرتی ہے ۔ اور اس عزم کا اعادہ کرتی ہیں کہ ہم اپنے بزرگوں ، اپنے غازیوں ، اپنے شہیدوں کی طرح اپنے ملک پاکستان کا دفاع اپنی جانوں کے نذرانے پیش کر کے کریں گے ۔ 6 ستمبر 1965 کو بھارت نے پاکستان پر حملہ کر دیا اور اس ارداے سے حملہ کیا کہ وہ صبح کی چاٸے لاھور میں پٸیے گے اور فتح کا جشن مناٸیں گے ۔ لیکن بھارت یہ بھول چکا تھا کہ پاکستانی قوم ان کی وارث ہے جن 313 نے میدان بدر میں ایک ہزار کو شکست دی تھی ۔ 6 ستمبر کو دشمن نے پاکستان پر حملہ کر کے پاکستان کی سوٸی ہوٸی عوام کو ایک کر دیا ۔ادھر دشمن کا حملہ ہوا ادھر پاکستانی عوام ایک سیسہ پیلاٸی ہوٸی دیواربن کر اپنی افواج کے شانہ بشانہ آ کھڑی ہوٸی اور پھر پوری دنیا نے دیکھا کہ کس طرح پاکستانی افواج اور عوام نے تعداد کی کمی اور اسلحہ کی کمی ، جدید ہتھیاروں کی کمی کے باوجود اپنے سے کٸی گنا بڑھے دشمن کو ذلیل و خوارکر کے رکھ دیا کہ دشمن میدان جنگ سے بھاگتے ہوٸے اپنے فوجی جوانوں کی لاشیں بھی پاکستان میں ہی چھوڑ کر بھاگ کھڑا ہوا ۔

    حق و باطل کی اس لڑاٸی میں چشم فلک یہ نظارہ بھی دیکھا کہ چونڈہ کے محاذ پر جب دشمن نے اپنے ٹینکوں کے ذریعے اس ملک کو مٹانا چاہا تو پھر یہاں کے بہادر بیٹوں نے اپنے سینے پر بم باندھ کر دشمن کے ٹینکوں کے نیچے لیٹ کر دشمن کے ٹینکوں کو تباہ و برباد کر دیا ۔ اس دن تو آسمان بھی ہمارے جوانوں کے حوصلے دیکھ کر دھنگ رہ گیا ہوگا ۔بہت سے بزرگ اور فوجی جوان بتاتے ہیں کہ اس دن اس جنگ میں اللہ کے فرشتے بھی مسلمانوں کی مدد کو آٸے تھے اور کچھ اولیا کرام بھی روحانی طور پر مدد کے لیے موجود تھے ۔ یقینا جہاں حق و باطل کی جنگ ہوگی وہاں اللہ کا وعدہ ہے کہ وہ فرشتوں کو مدد کے لیے ضرور بھیجے گا ۔ چونڈہ جو بھارتی ٹینکوں کا قبرستان بنا دشمن اپنے جوانوں کی لاشیں بھی ادھر ہی چھوڑ کر بھاگ گیا ۔ چونڈہ کے مقامی لوگوں نے ریلوے لاٸن کے قریب گڑھا کھود کر ان سب بھارتی فوجیوں کی لاشوں کو اس گڑھے میں پھینک دیا ۔ جس کا نشان آج بھی وہاں موجود ہے ۔

    ہم نے دشمن کو تو شکست دے دی لیکن اب وقت کی اہم ضرورت ہے کہ ہم اپنے اندر چھپے غداروں کو بھی پہچانیں جو ہمارے ملک کو لوٹ کرکھا گے ۔ اب وقت کی اہم ضرورت ہے کہ اپنے اندر چھپے یزیدیوں کو بے نقاب کر کے ان کے خلاف اعلان جہاد کیا جاٸے تا کہ پاکستان اپنی بقا و سالمیت اور ترقی میں اپنی مثال آپ ہو ۔ اللہ ہمارے وطن پاکستان کو ہمیشہ سلامت تا قیامت رکھے ۔ آمین

    @ch__samina

  • لاقانونیت بڑھتے جرائم تحریر: محمد انور 

    لاقانونیت بڑھتے جرائم تحریر: محمد انور 


    قانون سازی کی بات کی جائے تو وطن عزیز میں آئے روز نیا قانون پاس کیا جاتا ہے تاکہ معاشرے میں بڑھتے جرائم کو روکا جائے لیکن حقیقت اس کے برعکس ہے

    پاکستان میں اگر کوئی نچلے طبقے کا شخص جرائم کرتا ہے تو قانون نافذ کرنے والے ادارے حرکت میں آتے ہیں اور بلاخوف مجرم کو کیفرکردار تک پہنچایا جاتا ھے تو جو کہ خوش آئند عمل ہے۔

    لیکن جب کوئی بااثر شخصیات کسی غریب پر ظلم کرتا ہے تو قانون نافذ کرنے والے ادارے ان وڈیروں اور جاگیرداروں کو گھر بیٹھے ریلیف فراہم کرتے ہیں جس سے معاشرے میں غریب کی عزت مجروح ہوتی ہے اور بااثر شخصیات اپنی طاقت سے عوام پر ظلم کرنے کو ہی اپنی عظمت سمجھتے ہیں

    پاکستان میں چاروں صوبوں کی بات کی جائے تو ہر صوبے میں الگ قسم پائی جاتی ہیں پنجاب میں اگر کوئی نیا قانون پاس کیا جاتا ہے تو طاقت وار لوگوں کی پشت پناہی کرنے والے صحافی نیے قانون کو متنازع بنانے شروع ہو جاتے ہیں

    دوسری جانب وطن عزیز میں سب سے زیادہ سندھ میں لاقانونیت دیکھی جاتی ہے جہاں ملک کا چیف جسٹس موقع سے شراب برآمد کر لیتے ہیں اور چند گھنٹوں میں وہ شراب کی بوتلیں شہید میں تبدیل ہو جاتی ہیں کیونکہ جس سے شراب برآمد ہوئی وہ ایک سیاسی جماعت سے وابستہ ھے

    سوچیں جہاں ملک کا چیف جسٹس کچھ نہیں کر سکے مجرم بااثر ھے تو وہاں میرے اور آپ جیسے لوگوں کو کیا انصاف فراہم کیا جائے گا انصاف تو دور کی بات الٹا تذلیل کی جاتی ہیں

    پاکستان عدلیہ کا شمار دنیا کی درجہ بندی سے دیکھا جائے تو کسی سے چھپا ڈھاکا نہیں ایک سو اٹھائیس میں سے ایک سو بیسویں نمبر آتا ہے اگر پاکستان میں عدلیہ آزاد اور انصاف پر مبنی فیصلے صادر کرنا شروع کر دے تو معاشرے میں بڑھتے ہوئے جرائم کی روک تھام میں مثبت تبدیلی لائی جا سکتی ہیں۔ بڑھتے جرائم کی ایک وجہ مہنگائی ، غربت ، بےروزگاری کے ساتھ ساتھ بےحیائی بھی معاشرے میں بڑھتے جرائم کا اسبب بن رہی ہے۔

    جرائم کی روک تھام کے لئے حکومت کوشش تو کرتی ہے لیکن حکومت میں بیٹھے لبرل رکاوٹیں کھڑی کر رہے ہیں بچوں سے زیادتی کے حالیہ واقعات دیکھیں جائے تو رونگٹے کھڑے ہو جاتے ہیں آئے روز کسی معصوم سے زیادتی کے کیسز رپورٹ ہوتے ہیں اسب لاقانونیت ھے ایسا قانون نافذ کیا جائے جس سے دوسرے کو سزا کا خوف ہو۔

    اس کے ساتھ ساتھ جو کیسیز انڈرٹرائیل ھے مجرموں کو کڑی سے کڑی سزائیں دی جائے تاکہ کہ دوسرے لوگوں کو علم ہے یہاں طاقت وار اور غریب کے لئے ایک قانون ھے اور اداروں کو بھی چاہیے اس میں بااثر شخصیات کو کسی بھی کیس میں رعایت نہیں دی جائے اور جب کوئی بااثر افراد کسی کیس میں اپنی طاقت استعمال کرنے کی کوشش کریں پہلے اس کا احتساب کیا جائے کہیں ایسا تو ہو رہا بیرون دُشمنوں کے پیروکار کے طور پر تو ملک کو کمزور کرنے کی سازش میں ملوث نہ ہو۔

    @AK_Anwar_Khan

  • جہیز کیا ہے یہ  اس باپ سے پوچھو  جس کی زمین بھی چلی گئی اور بیٹی بھی   تحریر: امبر سیف 

    جہیز کیا ہے یہ  اس باپ سے پوچھو جس کی زمین بھی چلی گئی اور بیٹی بھی  تحریر: امبر سیف 

    ہمارے معاشرے میں بہت سے لوگ اس وجہ سے اداس نہیں  ہوتے ہیں کہ بیٹی پیدا ہوئی ہے بلکہ اس وجہ سے بھی اداس ہوتے ہیں کہ ہماری بیٹی تو پیدا ہوئی ہے جو ہمارے گھر کی رحمت ہے لیکن جب یہ بڑی ہو گی تو جہیز نہ دینے کی وجہ سے کنوارہ نہ رہ جائے گی۔۔۔۔۔۔

    آپ کو پتا ہے جو باپ جہیز میں فرنیچر دیتا ہے وہ کس طرح قرضے میں ڈوب کے یہ خریدتا ہے؟ اس فرنیچر کی پالش اتر جاتی ہے لیکن اس باپ کا قرضہ نہیں اترتا۔جہیز کے پیسے جمع کرتے کرتے ایک باپ لوگوں کے آگے بک جاتا ہے اس معاشرے میں بیٹیاں جہیز کے انتظار میں بوڑھی ہو جاتی ہیں۔پتہ چلتا ہے ساس نے تیل ڈال کے آگ لگا دی،آگ کیوں لگائی کیوں کہ وہ جہیز میں کچھ نہیں لے کے آئی۔کچھ لڑکیوں کی طلاق ہو جاتی ہے صرف جہیز نہ دینے کی وجہ سے۔جہیز نے لوگوں کے گھر تباہ کر دیئے لیکن آج بھی یہ مسلہ حل نہیں ہوا اور نہ کبھی ہو سکتا ہے.ہم لوگ اپنے بچوں کو اس قابل نہیں بناتے کہ وہ زندگی میں اتنا کما سکیں کہ اس انتظار میں نہ رہیں ۔کب ہماری شادی ہو گی کب لڑکی اپنے ساتھ کار،اےسی،فرنیچر اور گھر کی ایک ایک چیز لے کے آئے گی۔

    ماں بیٹے کے پیدا ہوتے ہی یہ سوچنا شروع کر دیتی ہے کہ یہ جب بڑا ہو گا اس کی شادی ایک ایسے گھر میں کروں گی جہاں لڑکی بھی خوبصورت ہو اور اپنے ساتھ جہیز میں بھی سب کچھ لے کے آئے اور یہ سوچ بیٹے کے بڑے ہونے کے ساتھ ساتھ بڑھتی جاتی ہے

    لیکن جب بیٹے کی شادی ہوتی ہے اور وہ جہیز میں وہ سب نہیں لاتی جو اس نے سوچا ہوتا ہے تو پھر شروع ہو جاتی ہیں لڑائیاں۔ جس میں لڑکی جو اپنے ساتھ بہت سے خواب لے کے آتی ہے کہ کب میری شادی ہو گی اور کب میں نئے گھر میں نئے لوگوں کو اپنا بنائوں گی۔لیکن اس کی سوچ یہ نہیں ہوتی کہ جہیز نہ لانے کی وجہ سے اسے کن تکلیفوں سے گزرنا پڑے گا۔سسرال والے اسے حقیر کیڑے سے بھی کم سمجھتے ہیں۔

    اب اس لڑکی کی زندگی کو دیکھ کر بہت سے ماں باپ ڈر جاتے ہیں کہ اگر ہم نے بھی اپنی بیٹی کو کچھ نہ دیا تو ہماری بیٹی کی زندگی بھی اسی عذاب سے گزرے گی۔باپ اپنی بیٹی کی زندگی کو آسان بنانے کے لیے خود کو قرضے میں ڈبو لیتا ہے۔بہت سے لوگ بیٹی پیدا ہوتے ہی جہیز بنانا شروع کر دیتے ہیں اور ساری زندگی ان کی چیزیں جمع کرنے میں گزر جاتی ہے۔ماں باپ ساری زندگی یہ ہی سوچتے رہتے ہیں کہ ہماری بیٹی کی سسرال میں عزت ہو اسے کسی کا طعنہ سننے کو نہ ملے۔ماں باپ یہ سوچتے ہیں کہ ہم جتنا بیٹی کو دیں گے بیٹی کے سسرال والے اس کا اتنا خیال رکھیں گے،اس کے آگے پیچھے پھریں گے۔اس سب کی جگہ میں وہ ان لوگوں کی عادت خراب کر دیتے ہیں۔اسی طرح کچھ لوگ اتنے کمظرف ہوتے ہیں جو شادی میں جو جہیز ہوتا ہے وہ تو ایک طرف لیکن شادی کے کچھ دیر بعد اس کی ڈیماند بڑھنا شروع ہو جاتی ہے۔وہ لوگ کاروبار کا بہانہ بنا کر پیسے لینا شروع کر دیتے ہیں کہ اپنے باپ سے بولو میری مدد کریں مجھے کاروبار کرنا ہے اور اگر تم پیسے لائو گی تو اس میں تمہارا ہی فائدہ ہے،تمہاری زندگی آسان ہو جائے گی۔

    کبھی کار کی فرمائش کبھی موبائل کی اور کبھی گھر کی اور ضرورت کی چیزوں کی۔وہ لوگ یہ نہیں سوچتے کہ جو جہیز آیا ابھی تو اس کا قرضہ بھی نہیں اترا اور نئی فرمائشیں شروع ہو جاتی ہیں۔لوگ یہ کیوں نہیں سوچتے کہ اگر انسان اپنے جسم کا حصہ انہیں دے رہا ہے کہ باقی اس کے پاس کیا رہ جاتا ہے۔شادی کے بعد یہ سلسلہ شروع ہو جاتا ہے کہ روز نئی فرمائشیں شروع ہو جاتی ہیں۔اس کے بدلے میں لڑکی کے ماں باپ اس ڈر سے یہ ساری فرمائشیں پوری کرتے رہتے ہیں کہ کہیں ہماری بیٹی کو طلاق نہ ہو جائے یا اسے گھر سے نہ نکال دیں۔

    اس کا حل کیا ہے؟کیسے ہم اس جہیز جیسی لعنت کو ختم کر سکتے ہیں؟ ہر انسان جب خود کو دوسرے کی جگہ رکھ کر دیکھے کہ لوگ کیسے کہ لوگ کیسے جہیز اکھٹا کرتے ہیں،کیسے قرض کے نیچے دب کر اپنی بیٹی کی کھوکھلی خوشیوں کا بندوبست کرتے ہیں۔یہ ہم سب نے سوچنا ہے کہ ہم اپنے بچوں کو اس قابل بنائیں کہ اسے کسی چیز کی ضرورت نہ پڑے وہ کسی کی بیٹی اس وجہ سے نہ لے کہ اسے جہیز میں بہت کچھ ملنا ہے۔وہ یہ سوچے کہ لڑکی کی تربیت اچھی ہوئی ہے،وہ اچھے خاندان سے ہے،پڑھی لکھی ہے اور اسے یہ یقین ہو کہ زندگی کی ساری خوشیاں دینا اس کا فرض ہے نہ کہ اس کے ماں باپ کا۔

    ماں باپ کا گھر بکا تو بیٹی کا گھر بسا

    کتنی نامراد ہے یہ رسم جہیز بھی  

    twitter.com/Ambersaif3

  • بوڑھوں کو بوجھ نہ سمجھئے  تحریر:محمد سدیس خان

    بوڑھوں کو بوجھ نہ سمجھئے تحریر:محمد سدیس خان

    بوڑھے عام طور پر بوجھ سمجھے جاتے ہیں، بہت سے گھروں میں ان کی کوئی قدر وقیمت نہیں ہوتی، ان کے مشوروں اور نصیحت آمیز باتوں کو ” بکواس” سمجھا جاتا ہے۔ عام طور پر کاروبار کرنے اور پنشن پانے والے بزرگوں کو برداشت کرلیا جاتا ہے۔ مگر جن بزرگوں کی آمدنی کا کوئی ذریعہ نہیں ہوتا وہ پوری طرح سے گھر والوں کے مرہون منت ہوتے ہیں۔ ان کی حالت گھر میں کسی اجنبی کی سی ہوکر رہ جاتی ہے۔

    کہنے کا مطلب یہ ہے کہ جب تک ایسے بزرگ جو کما کر لاتے ہیں یا کاروبار کرتے ہیں یا پھر پنشن کی موٹی رقم پاتے ہیں، تب تک ان کی خدمت میں کوئی کسر باقی نہیں رکھی جاتی۔ اور انہیں بوجھ نہیں سمجھا جاتا، وقت پر کھانا ہی نہیں بلکہ وقتاً فوقتاً گھر والوں کا پیار بھی ملتا رہتا ہے۔ بیمار ہونے پر ان کی تیمارداری بھی کی جاتی ہے کیونکہ وہ دواؤں کا خرچ خود برداشت کرتے ہیں۔

    ایسے بزرگوں کی بھی اس وقت تک عزت کی جاتی ہے جن کے نام زمین جائیداد ہوتی ہے، اور ان کی تیمارداری یا ان پر محبتیں اس لیے لڑائی جاتی ہیں کہ انہیں اس جائیداد سے بھاری بھر کم رقم مل جائے۔

    یعنی کہ کمانے والے، کاروبار کرنے والے یا بے شمار دولت رکھنے والے بزرگوں کو سرآنکھوں بٹھایا جاتا ہے، وہ بھی اس وقت تک جب تک ان کے پاس دولت ہوتی ہے یا وہ کمانے کے قابل ہوتے ہیں۔

    جہاں ان کے پاس دولت نہیں رہ جاتی یا وہ کمانے کے لائق نہیں رہ جاتے انہیں گھر میں بوجھ سمجھا جانے لگتا ہے، ایسا ہر گھر میں نہیں ہوتا، لیکن آج بیشتر گھروں میں بزرگوں کو اسی صورتحال کا سامنا کرنا پڑرہا ہے۔

    بات پھر وہیں پر آکر رک جاتی ہے کہ آخر اس کا ذمہ دار کون ہے؟ کیا وہ بچے جن کی پرورش ان ہی بزرگوں نے بڑے ناز و انداز سے تو کی، لیکن انہیں بزرگوں کی عزت کا سلیقہ نہیں سکھایا، انہیں یہ نہیں بتایا کہ وہ کبھی اپنے بچوں کے بیمار ہونے پر انہیں بوجھ نہیں سمجھا کرتے تھے، انہوں نے کبھی یہ سوچ کر انہیں تعلیم سے محروم نہیں رکھا کہ چھوڑو کون تعلیم دلوائے کہ اس میں اتنے پیسے خرچ ہوتے ہیں۔

    انہوں نے اپنے بچوں کو کبھی یہ احساس بھی نہیں ہونے دیا کہ انہیں اچھے اور عمدہ لباس پہنانے کیلئے دن رات کتنی محنت کرنا پڑتی تھی، ان کا پیٹ بھرنے کے لیے بعض اوقات وہ خود بھوکے رہ جایا کرتے تھے، لیکن انہیں پیٹ بھر کھانا کھلائے بغیر کبھی نہیں سلایا، بچوں کا مستقبل سنوارنے کے لیے انہوں نے اپنے آپ کو وقف کردیا، پھر ان کے ساتھ برا سلوک کیوں کیا جاتا ہے؟

    کیا نوجوان یہ سمجھتے ہیں کہ وہ کبھی بوڑھے نہیں ہوں گے؟ اپنے والدین اور بزرگوں کے ساتھ بدسلوکی اور بدتمیزی کرنے والے نوجوان والدین یہ بھول جاتے ہیں، کہ کل کو ان کی بھی اولاد جوان ہوگی اور کل وہ بھی بوڑھے ہوں گے، اور جو سلوک وہ اپنے ماں باپ اور بزرگوں کے ساتھ کررہے ہیں، ویسا ہی سلوک ان کے بچے ان سے کریں گے، اس لئے ضروت اس بات کی ہے کہ ہم اپنے بزرگوں کو اپنے آپ پر بوجھ نہ سمجھیں، بلکہ ان کی قربانیوں اور ان کی بزرگی کا خیال کرتے ہوئے ان کی تیمارداری, ان کی دل بستگی، ان کی پسند، ناپسند، ان کے آرام اور ان کی ضروریات کا بھر پور خیال رکھیں۔

    مانا کہ بزرگ بڑھاپے میں تھوڑے سخت اور چڑچڑے ہوجاتے ہیں، لیکن یہ عمر کا تقاضا ہے، ے ہیں کہ بچہ اور بوڑھا برابر ہوتے ہیں، یعنی جب انسان بوڑھا ہو جاتا ہے تو وہ بچوں جیسا برتاؤ کرنے لگتا ہے، اس کا ضد کرنا، بات بات پر چڑچڑاپن کا مظاہرہ کرنا بہت عام بات ہے، بزرگ بلکل اس بچے کی طرح ہوجاتے ہیں جو اپنی بات پوری نہ ہونے یا کسی چیز کے نہ ملنے پر ناراض ہوجاتا ہے یا چڑ جاتا ہے۔ ہمیں ان کی خدمت یوں کرنا چاہئے جیسے ہم اپنے بچے کی کرتے ہیں، ان کی خدمت نہ صرف دنیا میں آپ کو سرخرو کرے گی۔

    بلکہ آپ کی آخرت بھی سنور جائے گی، بوڑھوں کا بیمار ہونا، بات بات پر نکتہ چینی کرنا یا گھر ہی میں موجود رہنا بے شک آپ کو پریشان کرتا ہوگا، لیکن ان حالات میں ہی آپ کی صحیح آزمائش ہوتی ہے کہ آپ اپنے والدین کو یا گھر کے بزرگوں کو کتنی اہمیت دیتے ہیں، اور ان کی کتنی تیمارداری کرتے ہیں۔

    ایک طرح سے یہ آپ کا امتحان ہوتا ہے، اور اس امتحان میں کامیابی کے بعد ہی آپ دنیا و آخرت میں سرخرو ہوسکتےہیں۔

    یہاں بزرگوں سے بھی ایک گزارش ہے کہ وہ اپنے آپ کو اتنا کمزور اور لاچار نہ بنائیں، کہ بچے آپ کو بوجھ سمجھنے لگیں یا آپ سے چڑنے لگیں، یہ اس وقت ہی ممکن ہوسکتا ہے۔ جب بزرگ نہ صرف اپنے آپ کو مثالی والدین بنا کر پیش کریں گے، بلکہ بچوں کی تربیت بھی اس انداز میں کریں گے، کہ وہ عمر کے کسی بھی حصے میں آپ سے بدتمیزی کرنے کی ہمت نہ کرسکیں، اور نہ ہی آپ کے مشوروں کو رد کرسکیں، تو یقیناً حالات ٹھیک ٹھاک رہیں گے۔

    بعض بزرگ بلاوجہ گھر کے معاملات میں دخل دینے ہیں یا اپنی بات منوانے کے لیے بچوں کو برا بھلا بھی کہتے رہتے ہیں، بھلے ہی ان کی بات غلط ہو وہ اس بات پر زور دیتے ہیں کہ انہیں کی بات مانی جائے، ایسے میں حل کچھ نہیں نکلتا بلکہ اولاد اور والدین کے درمیان تلخیاں بڑھ جاتی ہیں۔

    اس لیے بزرگوں کو بھی عمر اور تجربے کی بناء پر سمجھداری اور مصلحت سے کام لیتے ہوئے اپنے خاندان کو آگے بڑھانے میں مدد دینی چاہئے اور نوجوانوں کو بھی ان کا ساتھ دینا چاہئے۔ تب جاکر نوجوانوں اور بزرگوں کے بیچ کی اس خلش کو ختم کیا جاسکتا ہے۔ مسلم معاشرے میں اسلامی تعلیمات کو پیش نظر رکھتے ہوئے بزرگوں کے احترام اور ان کی ضروریات کا خیال رکھنا بے حد ضروری ہے۔

    Twitter: @msudaise0

  • فتنہ قادیانیت اور آئین پاکستان. تحریر تیمور خان

    جو چیز بھی اللہ تبارک و تعالٰی نے اس کائنات میں مکرم اور مشرف پیدا فرمائی ہے اور جن جن چیزوں کو اللہ تعالیٰ نے اس کائنات میں عزت اور تکریم سے نوازا ہے ان چیزوں کے وقات کو ختم کرنے کیلئے اس دنیا میں بہت ساری شیطانی اور  قواتیں  پیدا ہے

     جو چیز جتنی معزز اور مشہور ہوتی ہیں اس چیز کی بہت سارے دشمن  بھی پیدا ہوتے ہیں.

     اللہ تعالیٰ نے ایک معزز اور مکرم دین بنا کے ہمارے لئے بیجھا ہے پوری دنیا میں اسلامی تعلیمات کو حاصل کرنے کے لئے غیر بھی فائدہ حاصل کرتے ہیں اسی طرح اسلامی تعلیمات کو ختم کرنے کے لئے بہت ساری قوتیں اس دنیا میں آج بھی موجود ہے اسلام کو بدنام اور ختم کر نے کے لئے 14 سو سال سے تحریکیں چل رہی ہے کچھ ظاہر ہے کچھہ پوشیدہ ہیں

     لکین چونکہ اللہ کا وعدہ ہے کہ اللہ نے اپنے رسولﷺ کو وہ دین دے کے بیجھا ہے وہ حق دے کے بیجھا ہے کہ جس نے تمام ادیان پہ پوری دنیا پہ غالب آجانا ہے اور اس پہ کوئی چیز بھی غالب نہیں آنی.

     اسی غلبے کے لئے ہر دور میں جتنے بھی دشمنانے اسلام آئے اور جو انہوں نے ظاہر اور پوشیدہ اسلام کے خلاف منصوبے بنائے اللہ تبارک وتعالیٰ نے ہر زمانے میں ان کے منصبوں کو خاک میں ملایا انہی منصبوں میں سے انہی مظلوم مقاصد میں سے اسلام کو ختم کرنے کے لئے اور خصوصاً مسلمانوں کے دلوں میں سے اسلام کے وقات کو مٹانے کے لئے حضور نبی کریم صلی اللّٰہ علیہ وسلم کے عشق و محبت کو ختم کرنے کے لئے دنیا میں جتنی بھی تحریکیں چلی ہیں ان تمام تحریکوں میں ایک بنیادی تحریک جو چل رہی ہے وہ ہے ختمِ نبوت کے قانون کو ختم کرنے کی کوشش کرنا.

     سرکارِ دوعالم ﷺ نے اپنی حیات طیبہ میں ہی یہ پیشنگوئی فرما دی تھی، کہ میرے بعد تیس 30 اسے قذاب اور جھوٹے آئنگے قیامت تک  ان میں سے ہر ایک یہ دعویٰ کرے گا کہ وہ نعوذ باللہ نبی ہیں لیکن وہ جھوٹے ہونگے آپﷺ نے اپنی امت کو جتنے بھی فتنوں سے آگاہ کیا ان میں سے ایک فتنہ یہ بھی تھا کہ ہر دور میں ہر علاقے میں ایک مدعی نبوّت پیدا ہوگا جو کہ نبوّت میں اپنی شراکت ظاہر کریگا۔

     اسی لیے سرکارِ دوعالم ﷺ کے حیات طیبہ کے آخری ایام میں یمن میں ایک شخص اٹھا جس کا نام مسلمہ تھا اس نے نبوّت کا دعویٰ کیا اسی زمانے میں ایک دوسرا شخص تھا جس کا نام اسود انسی اس نے نبوت کا دعویٰ کیا اسی زمانے میں ایک عورت اس نے بھی العیاذ بااللہ نبوّت کا دعویٰ کیا لیکن جونہی اسی زمانے حضرت صدیق اکبر 

      کا دور خلافت آیا، آپ نے اسی زمانے میں جتنے بھی سازشیں کرنے والے قوتیں، اسلام سے انکار کرنے والے اور ختمِ نبوت کے قانون میں ترمیم کرنے والے تمام قوتوں کو جڑ سے اکھاڑ پھینکا۔

     لیکن سرکارِ دوعالم ﷺ کی حدیث مبارک ہے آپ نے فرمایا کہ قیامت تک تیس دجالی پیدا ہونگے انہی دجالین میں سے ہمارے برصغیر پاک وہند میں ایک فتنہ پیدا ہوا جنہیں قادیانی فتنہ کہا جاتا ہے قادیانی فتنے کو بڑی منصوبہ بندی کے ساتھ اٹھایا گیا لیکن جن جن قادیانیوں اور کذابوں نے نبوّت کا جھوٹا دعویٰ کیا ہے ان میں ضرور یہود اور نصاریٰ کا ہاتھ ہے جب 1856 میں انگریزوں کو شکست ہوئی تو انہوں نے  مرزا غلام احمد قادیانی جو کہ ہندوستان کے علاقے قادیان کا رہنے والا تھا اس شخص کو اٹھایا ان کا یہ مشن تھا کہ کے مسلمانوں میں اسے فتنے پیدا کیے جائیں تاکہ کے یہ تقسیم ہو سکے۔ لیکن آج تک فتنہ قادیانیت ایک چیز کے لئے ہم مسلمانوں کے دلوں میں شکوک وشبہات ڈالنے کے لئے استعمال کرتاہے  کہ ہم مسلمان جب بھی قادیانی کے خلاف جب بھی ختمِ نبوت کی بات کرتے ہیں کہ ہمارے نبی خاتم النبیین ہیں تو مرزا غلام احمد قادیانی اور آج بھی ان کے پیروکار وں کا یہی طریقہ ہے کہ ہم ختمِ نبوت کے منکر نہیں ہے لیکن اگر آپ ان کو کہیں کے ختمِ نبوّت کا آپ معنیٰ کیا کرتے ہیں تو پھر معنیٰ  وہ غلط کرتے ہیں جو اسلام کے خلاف ہے البتہ یہودیوں اور عیسائیوں میں بھی یہ بات  ہے کہ سرکارِ دوعالم ﷺ کے بعد کوئی نبی نہیں آئے گا، حضور نبی کریم ﷺ کے ختمِ نبوّت کا جو عقیدہ ہے کہ آپ خاتم النبیین ہیں یہ صرف اسلام کا عقیدہ نہیں ہے بلکہ یہ یہودیوں اور عیسائیوں کے کتابوں میں بھی موجود ہے یہ ہمارا چودہ سو سالہ اجماعی عقیدہ ہے ہے کہ جو شخص بھی نبوّت کا دعویٰ کرے گا وہ کافر ہوگا اور اس کا یہ دعویٰ یہ نبوت بلکل باطل ہوگا۔ اور جو شخص اس کو نبی مانے گا یا اس کے متعلق دل میں اس کے نبوت کا ارادہ کرے گا کہ ہو سکتا ہے یہ ایسا ہو تو اس شخص کے ایمان کو بھی خطرہ ہے  یہ شخص بھی دائرہ  اسلام سے خارج ہے ۔ 

    یاد رکھیں فتنہ قادیانیت ہمارے برصغیر پاک وہند میں بہت بڑا فتنہ ہے اور سب سے بڑی دلیل اس کی بطلان کی یہی ہے کہ یہودی اور عیسائی اس کے پشت پہ ہے یہ غیروں کی پیداوار ہے صرف اور صرف انتشار پھیلانے اور مسلمانوں کو آپس میں لڑانے کے لیے۔ بہت سارے اسلامی ممالک نے فتنہ قادیانیت کو اپنے آئین میں قادیانیوں کو کافر قرار دیا اور الحمدللہ ہمارے ملک پاکستان میں بھی یہی ستمبر کا مہینہ تھا 7 ستمبر  1974 کو ہمارے ملک پاکستان کے آئین میں بھی پوری قومی اسمبلی نے یہ قرارداد پیش کی اور وزیراعظم اسلامی جمہوریہ پاکستان ذوالفقار علی بھٹو نے دستخط کر کے یہ مہر سبت کر دی کہ جب تک پاکستان قائم رہے گا اس میں قادیانی کافر ہی رہے گا اسی لئے ستمبر کا مہینہ اور 7 ستمبر کا دن اسی لئے بھی اہم  ہے کہ فتنہ قادیانیت کو یہاں سے جھڑ سے اکھاڑ کر پھینک دیا گیا اور ذولفقار علی بھٹو کے تاریخی الفاظ کے زندگی میں شاید کوئی اچھا کام کیا ہو لیکن اس ایک دستخط کے وسیلے سے اللہ تعالیٰ میری مغفرت نصیب فرمائے گا الحمدللہ ہمارا یہ عقیدہ ہے کہ قادیانی کافر ہی اور رہے گا اسی لئے ہمیں خود بھی فتنہ قادیانیت سے بچنا ہے اور اپنے دوست احباب کو بھی بچانا ہے۔,,

    @ImTaimurKhan

  • اسلام اور ہمارا کردار تحریر:کرنل ریٹائرڈ افتخار نقوی

    اسلام اور ہمارا کردار تحریر:کرنل ریٹائرڈ افتخار نقوی

    آجکل ہمارے معاشرے میں مغرب سے ایک نیا شوشہ چھوڑا گیا ہے جس سے اسلام میں تقسیم کی جا رہی ہے۔ لبرل اسلام، متشدد اسلام، متوازن اسلام وغیرہ جو لایعنی اور لغو باتیں ہیں۔ دین اسلام یا تو قبول کیا جاتا ہے یا نہیں قبول کیا جاتا۔ اس میں دو رائے نہیں کہ ایسی فضول تقسیم سے مسلم امہ اپنے آپکو متوازن مسلمان بنانے کے چکر میں لغویات میں کھونا شروع کر دیتے ہیں۔
    اسلام کا لفظ "س- ل- م” سے مشتق ہے جس کے معنی صحت، عافیت اور ہر قسم کی عیب، نقص اور فساد سے دوری کے ہیں۔
    نیز اسلام کا ایک معنی بغیر کسی قید و شرط کے مکمل اطاعت اور فرمانبرداری بھی ہے اسی طرح خدا کے حکم پر کامل یقین اور اس کی عبادت میں اخلاص رکھنے کو بھی اسلام کہا جاتا ہے۔
    یعنی اگر ایک شخص اسلام قبول کر لے لیکن احکاماتِ اسلام سے منحرف ہو تو یا تو گناہگار تصور کیا جائے گا یا پھر دائرہ اسلام سے خارج۔ مثلا” ایک شخص نماز کو فرض تو سمجھتا ہے لیکن سستی، کاہلی، مصروفیت، طہارت وغیرہ کو بہانہ بنا کر نماز سے دور رہے تو اسے گناہگار تصور کیا جائیگا لیکن اگر نماز سے انکار کرے یا فرض نہ مانے تو ایسا شخص دائرہ اسلام میں نہیں رہتا۔
    کسی شئے کو حلال یا حرام ماننا اور اس کو اپنانا یا دور رہنا بھی اسی مثال کی طرح احکامات پر عمل کرنا ہے۔ اسلام میں انسان کے کردار کی اہمیت کو سب سے زیادہ اہمیت دی گئی ہے۔ جیسے ایک شخص روزہ دار ہو تو اس کے روزے کا علم فقط اللہ کو ہوتا ہے یا روزہ دار کو خود علم ہوتا ہے۔ قریب ترین شخص بھی اس کے روزے پر گواہ نہیں ہو سکتا۔ بالکل اسی طرح نماز کیلئے طہارت و وضو کرنا اور پھر خلوت میں نماز ادا کرتے ہوئے فقط اللہ سبحانه وتعالى کے حضور ہوتا ہے۔ کیسے ادا کی، کتنا خشوع و خلوص تھا، یہ بھی اللہ ہی گواہ ہے ناکہ کوئی دوسرا۔ یہ فقط نمازی کے کردار پر منحصر ہے کہ وہ کیسے ادا کرے۔ خیانت کرنے والے کو اللہ ڈھیل دیتا ہے مگر ایک دن اس سے جواب لازمی طلب ہو گا۔

    اسلام میں جو کچھ ہم کرتے ہیں، سونا، اٹھنا، بیٹھنا، چلنا پھرنا، آنکھ کا استعمال، ہاتھ کا استعمال، زبان کا استعمال، کان کا استعمال وغیرہ۔۔۔ سبھی پر سوال ہوگا۔

    کردارسازی ماں کی گود سے ہوتی ہے۔ اگر کسی انداز سے ماں باپ بچے کو دھوکہ دہی، جھوٹ بولنا سکھاتے ہیں تو یوں اس بچے کا کردار بنیاد سے تباہ ہو جاتا ہے۔ جیسے کئی بار مشاہدہ میں آتا ہے کہ کوئی مہمان ضرورتمند آجائے تو صاحبِ خانہ ملاقات کسی وجہ سے نہ کرنا چاہیں تو اپنے بچوں کے ذریعہ کہلوا بھیجتے ہیں، "انکل! ابو گھر پر نہیں ہیں۔ آپ بعد میں آ جائیں۔” وغیرہ۔

    ایک باپ یا ماں اپنے بچے کی تربیت کیلئے ماڈل کی حیثیت رکھتے ہیں۔ اگر بچپن سے ہی ایسے کبیرہ گناہوں کو عملی سبق بنا کر بچوں کو سکھایا جائیگا تو بچے جھوٹ بولنے کو کبھی غلط نہیں مانیں گے۔ یہ وہ بنیادی معاملہ ہے جس کی وجہ سے تمام بچے بڑے ہوکر جھوٹ بولنا عام سے بات سمجھتے ہیں۔ یہی بچے جو کل بڑے ہوکر ملک کی قیادت سنبھالتے ہیں، سیاستدان، ڈاکٹر، انجینئر، سرکاری افسران، حکام، عمال، حتاکہ عام مزدور بھی بنتے ہیں تو سب کا اگر کردار جھوٹ کی بنیاد پر تعمیر کیا گیا ہو تو آپ سمجھ سکتے ہیں کہ ان عہدوں پر بیٹھ کر جھوٹ سچ ملا کر کیسے عوام کو بےوقوف بنایا جاتا ہے۔

    اسی طرح رشوت بھی خاص دخل رکھتی ہے ہماری زندگی میں۔ بچوں کو سکول بھیجنے کیلئے، کسی کام کے کرنے کیلئے اکثر دیکھا گیا ہے کہ والدین لالچ دیتے ہیں کسی انعام کا۔ اب جب بچونکو بچپن سے ہی لالچی بنا دیا جائے اور انعام کے نام پر رشوت کی برائی سے آشنا کر دیا جائیگا تو سوچئے کہ وہی بچے معاشرے میں بڑے ہوکر اہم منصب پر بیٹھ کر کیسے تباہی لاتے ہیں۔
    اسلام ہر ایسے عمل سے روکتا ہے۔ اسلام میں اگرچہ بظاہر لالچ نظر آتا ہے کہ صالح لوگوں کیلئے جنت کی لالچ اور بدعنوان لوگوں کیلئے جہنم کا خوف رکھا گیا ہے۔ لیکن وہ وعدے اس دنیا کیلئے نہیں بلکہ ابدی زندگی کیلئے ہیں۔
    بنیادی عبادات کو لالچ اور خوف سے پاک رکھنے کی ترغیب دی گئی ہے۔ جیسے حضرت علی علیہ السلام کا مشہور فرمان ہے، "میں اپنے رب کی عبادت نہ تو جنت کی لالچ میں کرتا ہوں اور نہ ہی جہنم کے خوف سے بلکہ وہ وحده لاشريك اس لائق ہے کہ فقط اس کی عبادت کی جائے۔” اس پیغام میں بہت بڑی حکمت پوشیدہ ہے۔ یہ لالچ اور خوف کو عبادت سے رد کرنے کا نظریہ ہے۔ عبادت اگر خالص نہ ہو تو کردارِ عبادت اور کردارٍ عبد دونوں ہی مشکوک ہو جاتے ہیں۔
    اسلام فقط دینِ عبادت بھی نہیں۔بلکہ دینِ اسلام مکمل ضابطہُ حیات ہے۔ اس میں معاشرت سے لیکر اخلاقیات، سیاست سے لیکر معاشیات تک ہر شئے کا نظام موجود ہے۔ اسلام قبول کرنے والے کسی ایک کو قبول اور باقی کو رد کرنے کی نہ تو طاقت رکھتے ہیں اور نہ ہی اہلیت۔ لازم ہے اسلام میں پورے کے پورے داخل ہو جائیں۔ یہی قرآن میں اللہ ارشاد فرماتا ہے:

    يٰۤاَيُّهَا الَّذِيْنَ اٰمَنُوا ادْخُلُوْا فِى السِّلْمِ کَاۤ فَّةً ۖ وَّلَا تَتَّبِعُوْا خُطُوٰتِ الشَّيْطٰنِ ۗ اِنَّهٗ لَـکُمْ عَدُوٌّ مُّبِيْنٌ
    البقرۃ (٢:٢٠٨)

    ترجمہ: اے ایمان والو اسلام میں پورے پورے داخل ہو جاؤ اور شیطان کے قدموں کی تابعداری نہ کرو وہ تمہارا کھلا دشمن ہے۔

    یہاں پورے پورے داخل ہونے سے مراد یہی ہے کہ احکاماتِ الہی کو جوں کا توں بغیر حیلہ و حجت تسلیم کیا جائے۔ احکامات میں تدبر اختیار کرنے کا حکم نہیں، کہ انسان اپنی مرضی سے کسی عمل کو بدلنے کی کوشش کرے۔ مثلا” اگر فجر کی دو رکعت رکھی ہیں تو کوئی مواحد یہ چاہے کہ وہ چار رکعت پڑھے تو نماز باطل ہے۔
    اسلام میں سب کے فرائض موجود ہیں، اور دوسروں کو دینے کیلئے حق بھی بتا دیے گئے ہیں۔ فرائض کیلئے کسی کو انتظار نہیں کرنا چاہیے بلکہ وقت افضل میں ادا کر لے تو مناسب ترین ہے۔ جبکہ حق ادا کرنا بھی اسی طرح فرض اولین ہے، کہ کوئی حق مانگے، اس سے پیشتر ہی حق ادا کر دیا جائے۔
    آج ہم جس معاشرے میں جی رہے ہیں وہاں تربیت کا فقدان ہی اس لئے ہے کوئی کام بھی ہم فرض جان کر نہیں کرتے، اور دوسروں کو حق ناصرف روک لیتے ہیں بلکہ انکی حق تلفی کرتے ہیں جو اسلام کی بنیادی تعلیمات کے منافی ہے۔
    اگر ہم اپنے فرائض سرعت سے انجام دیں تو حق ہمیں خود بخود ملیں گے۔ لیکن ہمارے یہاں تو گنگا ہی الٹی بہتی ہے۔ ہمارا حق دو جبکہ فرائض کی ادائیگی کیلئے کوئی تیار نہیں۔
    قارئین کرام! اگر ہم اپنے بچوں کی تربیت گھروں میں درست راہ پر کرنا شروع کر دیں تو یقین جانیں ہمارا معاشرہ جنت بن سکتا ہے۔ یہ موضوع بہت طویل اور وقت قلیل ہے۔ مجھے ڈر ہوتا ہے کہ میرے قارئین مضمون کی طوالت سے اپنی دلچسپی چھوڑ بیٹھیں۔ لیکن اہم پیغام یہی ہے کہ تمام احباب کو اپنی سعی کرنا ہے تاکہ ہم معاشرے میں اپنا کردار احسن اور مثبت انداز میں ادا کر سکیں۔
    والسلامُ عليكم ورحمة الله وبركاته
    لاہور
    ٤ ستمبر ٢٠٢١ء

  • ‏تمباکو نوشی کی عادت کے مضر اثرات  تحریر: یاسر اقبال خان

    ‏تمباکو نوشی کی عادت کے مضر اثرات تحریر: یاسر اقبال خان

    تمباکو نوشی کیا ہے:

    ہر زندہ انسان کے ساتھ اس کی اچھی صحت ایک عظیم نعمت ہے اگر کسی شخص کے پاس صحت نہیں تو خواہ اس کے ساتھ دولت کے انبار بھی موجود ہو اس کے پاس دنیا کی تمام آسائشیں ہو تو اس کی کوئی اہمت نہیں۔ پھر یہ سب اس شخص کیلئے بےکار ہوتا ہے لیکن اس حقیقت کے باوجود لوگ تمباکو نوشی کا استعمال کرتے ہیں جس سے متعلق لوگوں کو پتا بھی ہوتا ہے کہ تمباکو نوشی انسان کیلئے ذہنی و جسمانی طور پر مفید نہیں ہے۔ افسوس کی بات یہ ہیں کہ ہر گزرتے دن کے ساتھ پاکستان سمیت دنیا بھر میں تمباکو نوشی کا استعمال عام ہو رہا ہے۔ مرد و خواتین کی ایک بڑی تعداد تمباکو نوشی کا استعمال کر رہے ہیں۔ دور جدید میں نوجوان نسل لڑکے اور لڑکیاں شروع میں تمباکو نوشی کا استعمال فیشن کے طور پر کرتے ہیں جب یہ نوجوان نسل خاص کر یونیورسٹیوں اور کالجوں میں تمباکو نوشی کا استعمال بطور فیشن شروع کردیتے ہیں تو پھر وقت گزرنے کے ساتھ یہ نوجوان لڑکے لڑکیاں اس تمباکو نوشی کے نشے کے دلدل میں پھنس جاتے ہیں۔ پھر ان کیلئے تمباکو نوشی کے نشے سے نکلنا مشکل ہوجاتا ہے اور جوانی سے لے کر بڑھاپے تک تمباکو نوشی کے نشے کے ساتھ ان کی زندگیاں گزر جاتی ہے۔ تمباکو نوشی کے نشے کے انسانی صحت پر بہت مضر اثرات ہیں تمباکو نوشی کے نشے کے عادی لوگ بہت سی بیماریوں میں مبتلا ہوتے ہیں۔ تمباکو نوشی کا مطلب تمباکو سونگھنا مثلا سگریٹ، پائپ، سگار، حقہ، شیشہ وغیرہ کے ناموں سے مختلف طریقے ہیں جس سے تمباکو سونگھنا جاتا ہے اور تمباکو کو کھاناجیسا کہ پان، چھالیہ، گٹکا وغیرہ جیسے طریقوں کا استعمال کرکے۔ تمباکو نوشی کرنے کے جتنے بھی طریقے ہیں یہ تمام عادات انتہائی خطرناک ہیں اور صحت کے لیے انتہائی مضر ہیں۔ ایک بہت افسوس اور فکر مند ہونے کی بات یہ ہے کہ پاکستان سمیت تمام ممالک میں سگریٹ و تمباکو نوشی کرنے والے لوگوں کی شرح تیزی سے زیادہ ہو رہی ہے۔ تمباکو نوشی کرنے والوں کے اس اضافے کا بڑا سبب ان تمام ممالک کا نوجوان طبقہ ہے۔

    سگریٹ نوشی کی وباء عالمی صحت کو لاحق خطرات میں سب سے زیادہ تباہ کن ہے۔ ورلڈ ہیلتھ آرگنائزشن کے ایک محتاط اندازے کے مطابق دنیا میں ہر سال ساٹھ لاکھ افراد تمباکو نوشی کی وجہ سے مختلف بیماریوں میں مبتلا ہو کر اپنی جان کی بازی ہار کر مر جاتے ہیں۔ تمباکو نوشی سے مرنے والے افراد میں 6 لاکھ سے زیادہ اموات ایسے لوگوں کی ہوتی ہے جو خود تو تمباکو نوشی نہیں کرتے لیکن ان کے اردگرد ماحول میں موجود تمباکو نوشی کے دھوئیں کے باعث موت کا شکار ہوجاتے ہیں۔

    تمباکو نوشی کی عادت کیوں پڑ جاتی ہے:

    تمباکو کے اندر موجود نکوٹین ایک کیمکل ہوتا جو سگریٹ پیتے وقت انسان کے جسم میں داخل ہوتا ہے۔ یہ نکوٹین انسانی دماغ میں موجود کیمیکل مثلاً ڈوپامائن اور اینڈروفائن کی سطح میں اضافہ کرتا ہے۔ اس کیمکل کی وجہ سے انسان کو تمباکو کے نشے کی عادت پڑ جاتی ہے۔ انسانی جسم میں یہ کیمیکل مصنوعی خوشی یا مستی کی حسیات کو بیدار کردیتے ہیں جس کی وجہ سے سگریٹ نوشی کرنے والوں کے اعصاب پر تمباکو کی طلب ہونا شروع ہوجاتی ہے۔ تمباکو نوشی کے صحت پر مضر اثرات ہونے کے باوجود پھر اس نشے کو ترک کرنا اس فرد کیلئے بہت مشکل ہوجاتا ہے اور فیشن کے نام پر تمباکو نوشی شروع کرنے والا نوجوان لڑکا یا لڑکی اس مضر صحت نشے میں پھنس جاتا ہے۔ یہ نشہ بہت آہستگی سے جسم کے مختلف اعضاء کو ایسے نقصانات پہنچانا شروع کر دیتی ہے کہ تمباکو نوشی کا عادی ایک مرد یا عورت کو کئی برس گزرنے کے بعد اس کے جسم کے اندر ہوتے ہوئے نقصانات واضح نہیں ہو پاتے لیکن جب اسکو نقصانات واضح ہوجاتے ہیں تو تب اس انسان کا جسم تمباکو کے نشے کا مجموعی طورپر عادی ہوا ہوتا ہے اور پھر اس کو اس سے جان چھڑانا بہت مشکل ہوجاتا ہے۔

    تمباکو نوشی کے انسانی جسم پر مضر اثرات:

    تمباکو کے دھوئیں میں تقریباً 4000 کیمیکلز ہوتے ہیں، جو انسانی صحت کیلئے نہایت نقصان ده ہوتے ہیں جس کی وجہ سے انسان بہت ساری بیماریوں کا شکار ہوتا ہے ان بیماریوں میں کچھ یہ ہیں:

    1) تمباکو میں 50 سے زائد ایسے کیمیکلز ہیں، جو انسانی جسم کو کینسر میں مبتلا کرنے کا باعث بن سکتے ہیں۔

    2) سگریٹ کے ذریعے تمباکو کے دھوئیں سے انسانی جسم میں خون کی نالیاں سخت ہوجاتی ہیں، جس سے ہارٹ اٹیک اور اسٹروک کا خطرہ بڑھ جاتاہے۔

    3) تمباکو کے دھوئیں میں کاربن مونواکسائیڈ گیس ہوتی ہے، جو خون میں آکسیجن کی کمی کا باعث بن جاتی ہے جس کی وجہ سے  سگریٹ نوش سانس کی بیماریوں کا شکار ہو جاتا ہے۔ 

    4) تمباکو نوشی انسانی پھیپھڑوں کو نقصان پہنچاتی ہے اس سے انسان پھیپھڑوں کے كینسر جیسی بیماری میں مبتلا ہوتا ہے جس سے سانس لینے میں دشواری اور پھیھپڑوں کو مناسب آکسیجن نہیں ملتی، جس سے دوسرے اعضاء خاص طور پر دماغ بہت متاثر ہوتا ہے اور تمباکو نوشی سے متاثرہ مریض کا سانس بند ہونے سے موت واقع ہو جاتی ہے۔

    5) سگریٹ نوشی کرنے والے لوگوں کیلئے عام افراد کی نسبت دل کی بیماری میں مبتلا ہونے کا خطرہ دگنا ہوتا ہے۔

     6) تمباکو کی وجہ سے خون کی شریانیں سخت ہوجاتے ہیں اور پھر دل کے پھٹوں کو خون کی فراہمی بند ہوتی ہے اور انسان کو دل کا دورہ پڑ جاتا ہے۔ 

    7) سگریٹ نوشی کرنے کی وجہ سے انسانی دماغ کو خون کی فراہمی کم ہو جاتی ہے اور وہ شخص ہیمبرج کا شکار ہو جاتا ہے۔

     8) تمباکو نوشی سے جسم کی ہڈیاں کمزور ہوتے ہیں اور ہڈیوں کے ٹوٹنے کا خطرہ بڑھ جاتا ہے۔

    9) اکثر کیسز میں سامنے آتا ہے کہ تمباکو نوشی منہ، خوارک کی نالی، گلا، جگر، معدے، لبلبہ، مثانہ اور گردے کے کینسر کا باعث بھی بنتی ہے۔ 

    10) تمباکو چبانے اور سونگھنے والے افراد کو منہ، مسوڑھوں اور گلے کا کینسر جیسی بیماریوں کا سامنا کرنا پڑتا ہے۔ 

    تمباکو نوشی کے انسانی جسم پر ان تمام برے اثرات کو دیکھتے ہوئے نوجوان نسل کو یہ مضر صحت نشہ بلکل بھی اختیار نہیں کرنا چاہئے۔ والدین کیلئے ان کے نوجوان اولاد ایک سہارا ہوتے ہیں تو تمباکو نوشی جیسے نقصان ده عادات کو کبھی نہیں اپنانا چاہئے مضر صحت بیماریوں سے بچ کر اپنے خاندان کو اپنی قربت سے محروم نہیں کرنا چاہئے۔ اگر ہم تمباکو نوشی جیسے  مضر صحت نشے سے اجتناب کریں گے تو اپنے خاندان پر کبھی مالی و ذہنی بوجھ نہیں بنیں گے۔

    Twitter: ‎@RealYasir__Khan

  • ‏جنسی زیادتیوں کو روکنے کا بہترین طریقہ قرآن اور سنت کے احکامات ہیں تحریر اکرام اللہ نسیم

    ‏جنسی زیادتیوں کو روکنے کا بہترین طریقہ قرآن اور سنت کے احکامات ہیں تحریر اکرام اللہ نسیم

    اللہ رب العزت کا ہم سب پاکستانیوں پر بہت بڑا کرم ہے
    کہ اللہ رب عزت نے ہمیں پاکستان جیسے آزاد ملک میں پیدا کیا جہاں ہر قسم کے مذہبی اعمال ایک مسلمان آزادی سے ادا کرتا ہے جس پر ہم رب کریم کا جتنا بھی شکر ادا کریں کم ہیں
    اب ہمارے پیارے ملک پاکستان میں بے حیائی اور درندگی کا طوفان اٹھا ہے اور وہ بے حیائی کا درندگی کا طوفان جنسی زیادتیوں کی صورت میں پاکستان کے طول وعرض میں بہت تیزی سے پھیل چکا
    اب اسکے روک تھام کے لئے ہر شعبے سے وابستہ رہنے والا قاضی ہو یا قاری ہو
    خطیب ہو یا ادیب ہو صحافی ہو یا سپاہی ہو ڈاکٹر ہو یا کرکٹر سیاستدان ہو یا قانون دان ہو جنرل ہو یا کرنل فقیر ہو یا امیر ان سب کی یہ زمہ داری بنتی ہے کہ جنسی زیادتیوں کے روک تھام کے لئے آگے بڑھے اور معاشرے میں اپنا کردار ادا کرے تاکہ معاشرہ انسانوں کا معاشرہ لگے حیوانوں کا نہیں
    اب آئیں آپ کے سامنے صرف ایک شہر کا ریکارڈ رکھتے ہیں کہ
    رواں برس پاکستان کے دل لاہور میں زیادتی کے 369 کیس سامنے آئے جس میں کسی بھی ایک ملزم کو سزا نہیں ہوئی
    اور یہی بنیادی وجہ ہے کہ جنسی زیادتیوں میں ملوث افراد کو نہ سزا دی جاتی ہے نہ انکو بھاری جرمانہ کیا جاتا
    اگر واقعتاً پاکستان کے باسی اور اسکے تمام ادارے پاکستان میں جنسی زیادتیوں کو روکنا چاہتے ہیں تو سب سے پہلے قرآن اور احادیث مبارکہ میں جو احکامات زانیہ عورت اور زانی مرد کے لئے ہیں اسکو عمل میں لایا جائے جسطرح کے قرآن مجید میں ہے
    الزَّانِيَةُ وَالزَّانِي فَاجْلِدُوا كُلَّ وَاحِدٍ مِّنْهُمَا مِائَةَ جَلْدَةٍ ۖ وَلَا تَأْخُذْكُم بِهِمَا رَأْفَةٌ فِي دِينِ اللَّهِ إِن كُنتُمْ تُؤْمِنُونَ بِاللَّهِ وَالْيَوْمِ الْآخِرِ ۖ وَلْيَشْهَدْ عَذَابَهُمَا طَائِفَةٌ مِّنَ الْمُؤْمِنِينَ

    جو زنا کرنے والی عورت ہے اور جو زنا کرنے والا مرد ہے، سو دونوں میں سے ہر ایک کو سو کوڑے مارو اور تمھیں ان کے متعلق اللہ کے دین میں کوئی نرمی نہ پکڑے، اگر تم اللہ اور یوم آخرت پر ایمان رکھتے ہو اور لازم ہے کہ ان کی سزا کے وقت مومنوں کی ایک جماعت موجود ہو۔
    یہاں اس آیت میں زانیہ اور زانی کے ساتھ نرمی کرنے سے واضح منع کیا گیا ہے
    ملک پاکستان میں زانی اور زانیہ کا قانون نرمی پر مبنی ہے اس نرمی کا اندازہ آپ لاہور میں 369 جنسی زیادتیوں کے کیسز سے لے سکتے ہیں کہ اسمیں سے کسی کو بھی سزا نہیں ہوئی
    اور آئے روز جنسی زیادتی کے کیسز میں اضافہ ہوتا جا رہا ہے
    جب تک اللہ رب العزت کے نازل کردہ احکامات ملک پاکستان کا قانون نہیں بن جاتے جنسی زیادتی کے واقعات میں دن بدن اضافہ ہوگا کمی نہیں ہوگی
    جنسی زیادتی میں شامل دو چار لوگوں کو اگر ڈی چوک میں کھڑا کرکے شرعی سزا دی جائے اور اسکو تمام ٹی وی چینلز پر لائیو دیکھا جائے
    اس سے لوگوں کے دلوں میں خوف آجائے گا کہ اسکی اتنی بڑی سزا ہے جب دل میں۔ خوف پیدا ہوجائے تو انسانی فطرت ہے کہ جس جگہ میں اسکو خوف ہو وہ اس کام سے رک جاتا ہے
    مگر بدقسمتی سے ایک اسلامی ملک کے اندر اسلام کے مطابق سزا کا نفاذ نہیں جنسی زیادتیوں میں ملوث درندے کبھی قبر سے عورت کا میت نکال کر کبھی چھ سال کی بچی کو کبھی دس کی بچی کو اپنی ہوس کا نشانہ بناتے ہیں
    ‎@realikramnaseem ٹویٹر ہینڈل