Baaghi TV

Category: معاشرہ و ثقافت

  • سعادت حسن منٹو تحریر عزیزالرحمن

    سعادت حسن منٹو تحریر عزیزالرحمن

    سعادت حسن منٹو کے بارے میں کچھ کہنا یا لکھنا میرے
    لئے بہت مشکل ہے ۔یہ تو منٹو سے محبت اور عقیدت کا تقاضا ہے کہ اس کے اظہار میں قلم اٹھانے کی جسارت کر رہاہوں ۔
    سعادت حسن اور منٹو دو الگ اورعلیحدہ قسم کی شخصیات ہیں اسے حسن اتفاق کہیے کہ خالق نے منٹو کو تخلیق کرتے وقت سعادت حسن کو بھی پیدا کر دیا۔ منٹو چونکہ ایک بہت غیر معمولی قسم کا کردار تھا اور اس کو سنبھالنے اس کا بوجھ اٹھانے اور اس کی دیکھ بھال کرنے کے لئے بھی بہت ہی منفرد قسم کا فرد درکار تھا چنانچہ یہ خدمت سعادت حسن کے مقدر میں لکھ دی گئی۔
    سعادت حسن متحدہ ہندوستان کے شہر امرتسر کے کوچہ وکیلاں میں پیدا ہوا۔ اس کے والد پیشے کے اعتبار سے جج اور ذات کے حوالے سے کشمیری تھے۔ غلام حسن منٹو نے دوشادیاں کی تھیں۔ دوسری شادی ایک افغان خاتون سردار بیگم سے ہوئی اور اسی خاتون نے سعادت حسن کو جنم دیا۔ اس کی پیدائش کے تھوڑے عرصے بعد ہی غلام حسن منٹو نے ملازمت چھوڑ دی جس سے گھر کی کمزور مالی حالت پر ایک بڑے کنبے کا گزارہ کرنا کافی مشکل ہو گیا۔ اسی مشکل کے باعث سعادت حسن جس کے کندھوں پر منٹو بھی سوار تھا اسے مناسب توجہ نہ مل سکی جس کا وہ حقدار تھا۔ چنانچہ اپنے سوتیلے بھائیوں کی نسبت تعلیمی میدان میں وہ بہت پیچھے رہ گیا اور بچپن سے ہی امرتسر کے آوارہ مزاج لوگ اور پوشیدہ و پیچیدہ گلی کوچے سعادت حسن کے ہم سفر بن گئے۔ میٹرک کے امتحان میں متعدد بار ناکام ہونے کے بعد بڑی مشکل سے تھرڈ ڈویثرن میں پاس ہوا، اس کے بعد امرتسر کے ہی ایک کالج ’’ہندوسبھا‘‘میں داخلہ لیا، کچھ عرصہ فیض احمد فیض کے سامنے زانو تہہ کئے مگر جلد ہی طبیعت لکھائی پڑھائی سے اچاٹ ہو گئی اور عاشق علی فوٹو گرافر اور فضلو کمہار کی دکانیں اس کے لئے عظیم مکتب ٹھہریں۔ یہیں سے سعادت حسن کے ہمزاد منٹو نے جوا بازی اور شراب نوشی کے دھندے اختیار کئے۔ اسی اثناء ایک دوست کے کہنے پر علی گڑھ یونیورسٹی میں داخلہ لیا جہاں تقریباََ تین ماہ کے قیام کے بعد بیماری کے سبب کوچ کر گیا۔ اسی دوران منٹو کی مشہور اشتراکی ادیب باری علیگ سے ملاقات ہوئی جو اس وقت امرتسر سے شائع ہونے والے ایک اخبار ’’مساوات‘‘کے ایڈیٹر تھے، یاد رہے باری علیگ کا ’’’عسرت کدہ‘‘آج بھی پرانی انار کلی لاہور کے ایک مختصر سے مکان میں قائم ہے ۔
    باری علیگ کی صحبت نے منٹو کو سنجیدگی سے ادب کی طرف راغب کیا باری علیگ کے ایماء پر منٹو نے مشہور روسی تصینف’’ایک اسیر کی سرگذشت اورویرا‘‘ کے تراجم کئے جو آج بھی اپنی ہیت اور روانی بیان میں بے مثل ہیں۔ امرتسر میں سعادت حسن کی مالی بدحالی جب حد سے بڑھ گئی اور اسے چھوٹے سے شہر میں اسے کوئی چارہ اور چارہ کار دکھائی نہ دیا تو وہ دہلی چلا آیا، جہاں وہ آل انڈیا ریڈیو کے لئے پروگرام لکھا کرتا تھا۔یہیں پر اس نے ریڈیو کے لئے ڈرامے بھی لکھنا شروع کر دئیے۔ منٹو دہلی سے بھی جلد ہی اکتا گیا اور اگلی منزل سر کرنے کے لئے بمئبی کو ٹھکانہ بنا لیا۔ بمئبی منٹو کی حیات میں ایک اہم موڑ کی حیثیت رکھتا ہے اسی شہر میں رہتے ہوئے منٹو کو فلمی زندگی کے فراڈ سمجھنے کا موقع ملا۔ معروف ادیب، محقق اور نقاد اینس ناگی لکھتے ہیں کہ ممبئی میں منٹو کے شب و رزو مختلف فلم کمپنیوں میں بسر ہونے لگے، ممبئی میں قیام کے دوران منٹو کی ادبی شہرت مسلم ہو چکی تھی۔
    انیس ناگی لکھتے ہیں قیام پاکستان کے بعد منٹو کی زندگی ایک نئی کشمکش سے دوچار تھی، اس نے جہاں سے زندگی شروع کی تھی وہ اسی مقام پر کھڑا تھا۔جب وہ ممبئی گیا تو نوجوان تھا، نادار تھا، جب وہ پاکستان آیا تو مشہور تھا ،ادھیڑ عمر شروع ہونے والی تھی، وہ نادار تھا۔چند ہی برسوں میں اس کی صحت شراب اور غربت کی نذر ہو گئی۔ قیام پاکستان کے بعد منٹو نے امروز، وفاق اور احسان میں مضامین لکھنے شروع کئے۔اس کی پندرہ کتابیں شائع ہوئیں۔ فحاشی کے الزام میں اس پر تین مقدمات بھی دائر ہوئے۔ منٹو کی مالی حالت بد سے بد تر ہوتی گئی صفیہ منٹو کی بیوی اس کے عزیز واقارب منٹو کے گھر، اور اس کی تین بچیوں کی دیکھ بھال کر رہے تھے۔ منٹو نے ’’ کفن‘‘ میں اپنی صور تحال کے بارے فریاد کی لیکن کوئی ادبی بورڈ یا ثقافتی ادارہ حرکت میں نہ آیا ،جسم کا زوال ،فن کا زوال،مالی زوال منٹو نرغے میں تھا۔ اس کا جواز حیات ختم ہو چکا تھا۔اس کے لئے ایک ہی راستہ تھا چنانچہ اس نے وہی راستہ اختیار کیا۔ منٹو موت کے وقت بھی خوف وہراس سے مغلوب نہیں تھا، نہ وہ اپنی مغفرت کا طلبگار تھا، اس نے نہ کوئی وصیت کی تھی نہ ہی اپنے پسماندگان کے لئے کسی بوکھلاہٹ کا اظہار کیا تھا۔ جو شخص زندگی بھر بیمار رہا ہو، تنگ دستی کا شکار ہو۔ جسے اپنے ہنر کی داد نہ ملی ہو۔ جو ہمیشہ معتوب رہا ہو اور جس نے امید کے بغیر زندگی بسر کی ہو۔ اس کے لئے موت کوئی خطرہ نہیں ہے۔ منٹو کے لئے زندگی کو اپنی منطق کے مطابق بسر کرنا موت سے زیادہ تکلیف وہ عمل تھا،کیونکہ زندہ رہنے کے لئے اسے ایک پورے نظام سے متصادم ہونا تھا منٹو کی زندگی کا آغاز بھی بدترین حالات میں ہوا اس کا انجام بھی بدترین حالات میں ہوا۔ اس نے امر تسر کے کوچہ وکیلاں سے لکشمی میشن لاہور تک پہنچتے پہنچتے انسان کی پوری نفسیات کا سفر کیا، وہ اپنے لئے خود موضوع بھی تھا اور معروض بھی۔
    منٹو کے بارے دنیا میں بہت کچھ لکھا جا چکا ہے، بہت ساری یونیورسٹیوں میں ماسٹر اور پی ایچ ڈی کی سطح کے مقالمے لکھے جا چکے ہیں اور مزید تحقیق جاری ہے۔چنانچہ میں منٹو کے فن اس کی سوچ، اس کے طرز تحریر ، اسلوب یا افسانوی سے متعلق کچھ لکھنے کا حوصلہ نہیں رکھتا، میرے نزدیک تو وہ اُردو افسانوی ادب میں کسی بھی طور سے استاد سے کم نہیں ہے، وہ پہلا قلمکار ہے جس نے اپنے قلم سے جدید اُردو افسانے کے لئے زمین کھودی۔ اسے ہموار کیا، اسے نرم کیا، اس میں جدید افسانے کا بیج بویا اور پھر عمر بھر اس بیج سے نکلنے والی کونپلوں کو درخت بنتا دیکھتا رہا۔
    افسوس کہ وہ اس کی چھاؤں میں بیٹھ نہ سکا۔

    @The_Pindiwal

  • مرد بنو تحریر   زوہیب خٹک

    مرد بنو تحریر زوہیب خٹک

    ۔

    بچپن سے سنتے آئے ہیں مرد ہو بہادر بنو مرد روتے نہیں مرد کو درد نہیں ہوتا مرد کو ٹھنڈ نہیں لگتی وغیرہ وغیرہ ۔۔ ان سب باتوں میں بیچارا مرد اپنی انا کی تسکین کا غلام بن جاتا ہے۔ جوانی کی دہلیز پر قدم رکھتے ہی پہلا مشن ہوتا ہے ماں باپ کا سہارا بننا بہنوں کی شادی کوئی چھوٹا موٹا زمین کا ٹکڑا پھر اس پر گھر کی تعمیر الغرض اپنی خواہشات اور ضرورتوں کا گلا گھونٹ کر وہ اپنے فرائض پورے کرتا جاتا ہے پھر کہیں خوش قسمتی سے اچھا جیون ساتھی مل جائے تو اس کی خدمت میں دن رات ایک کر دیتا ہے بوڑھے ماں باپ کا خیال اور اپنی ازدواجی زندگی دونوں کو متوازن رکھ کر چلنے کی جستجو میں لگا رہتا ہے ۔ ساس بہو کے جھگڑوں میں پِستا ہے تو سمجھ نہیں پاتا کس کے حقوق پورے کرے ایک طرف ماں باپ دوسری طرف جیون ساتھی ۔وہ پھر بھی مرد بن کر سب جھیلتا ہے ہر ممکن کوشش کرتا ہے کہ دونوں کے حقوق میں کوئی کوتاہی نا ہو ۔ زمانے بھر کی ٹھوکریں کھاتا ہے لیکن کبھی شکوہ نہیں کرتا کہ میں تھک گیا ہوں کیونکہ وہ مرد ہے۔ جب بہن کا بھائی ہوتا ہے تو اس کی حفاظت کرتا ہے جب بیوی کا شوہر بنے تو اس پر اپنی جان قربان کرتا ہے ۔بچوں کی پرورش میں جی جان کی بازی لگا دیتا ہے۔ اور اس سب میں وہ کوئی احسان بھی نہیں جِتاتا اس نے اپنے باپ دادا کو بھی یہی کرتے دیکھا اور وہ خود بھی یہی سب اپنا فرض سمجھ کر کرتا ہے ۔ دکھ میں ہو تو رو نہیں سکتا تکلیف میں ہو تو اظہار نہیں کر سکتا کیونکہ اسے یہی پڑھایا سمجھایا گیا ہے تم مرد ہو ۔۔ یہی میرے معاشرے کے بیشتر مردوں کی کہانی ہے جو اپنے اپنے فرائض بخوبی نبھا بھی رہے ہیں ۔اور یہی ہمارے خاندانی نظام کی ریڑھ کی ہڈی ہے جس کی وجہ سے ہمارے ہاں آج بھی ماں بہن بیٹی بہو جیسے رشتے عقیدت کی حد تک محبت سے دیکھے جاتے ہیں۔کوئی شک نہیں کہ برے مرد بھی اسی معاشرے کا حصہ ہیں لیکن آٹے میں نمک کے برابر اور اس نمک برابر تعداد پر کہانی کا ایک دوسرا رخ بھی ہے۔ میرا جسم میری مرضی ۔ اس نعرے کا سب سے پہلا شکار کون ہوا ؟ جی ہاں "مرد” جسے ظالم جابر سفاک بھیڑیا بنا کر پیش کیا گیا سڑکوں اور چوراہوں میں اس مرد کا تمسخر اڑایا گیا ننگی گالیاں دی گئیں بغاوت کے شادیانے بجائے گئے ڈھول کی تھاپ پر رقص کرتی نوجوان نسل بیٹیاں چیختی چلاتی پائیں گئیں "باپ سے لیں گے آزادی” یعنی باپ نے آزادی دی تھی تو آج سڑک پر اسی کی پرورش پا کر اسی کے خلاف اعلانِ بغاوت کر دیا گیا ۔ پورے ملک کو دکھایا گیا کہ ہمارا مرد ہماری پیروں کی زنجیر بن چکا ہے ہمیں آزادی چاہئیے ۔ بھلا کون سی آزادی ۔۔؟ وہ جہاں ماں بہن بیٹی بہو کے رشتے بے معنی ہیں ۔۔؟ امریکہ کی کونڈولیزا رائس کا بیان تاریخ کا حصہ ہے کہ "پاکستان کی عورت بہت محفوظ ہے جسے بچپن سے بھائی اور باپ تحفظ دیتے ہیں اور پھر جوانی سے تا مرگ شوہر اس کی حفاظت کرتا ہے۔ پاکستان کی طاقت خاندانی نظام ہے جسے ہم امریکہ میں کھو چکے ہیں”۔ یہ اسی آزاد معاشرے کی سب سے بڑے عہدے پر فائز عورت کا کہنا ہے ۔ لیکن کیا کہئیے کہ کوا چلا ہنس کی چال اپنی چال بھی بھول گیا ۔ مرد جو خاندانی نظام میں ریڑھ کی ہڈی کی مانند ہے اسے توڑ دیا گیا تو ہم اپنے خاندانی نظام کو بچا نہیں پائیں گے ۔

    Twitter @zohaibofficialk

  • ھماری سو کالڈ سوسائٹی تحریر ہما عظیم

    ھماری سو کالڈ سوسائٹی تحریر ہما عظیم

    ھماری سو کالڈ سوسائٹی
    سگریٹ کے ڈبی پہ لکھوا لیتی ھے
    کہ تمباکو نوشی صحت کے لئے مضر ھے
    زھریلی ادویات پہ لکھوا لیتی ھے
    کہ بچوں سے دور رکھئیے
    صحت کے لئے مضر ھے وغیرہ وغیرہ
    لیکن گرل فرینڈ اور بوائے فرینڈ جیسے
    نامحرم تعلقات کے بعد پیدا ھونے والے
    خطرات و حالات کے بارے میں بات نہیں کرتی۔۔مگر
    زرا سا ان نا محرم نا جائز و حرام رشتوں پہ
    سچ بات کہہ دو سچ کا آئینہ ان کے سامنے رکھ دو
    تو بڑے بڑے اعلی تعلیم یافتہ لنڈے کے لبڑلز
    کو آگ لگ جاتی ھے ۔۔
    نور مقدم کیس کی نوعیت بھی کچھ ایسی ہی تھی۔۔
    بچپن سے جوانی تک کا ساتھ تھا ظاھر جعفر کا اور نور مقدم کا۔۔
    آپس میں دونوں فیمیلیز کی اتنی انڈرسٹینڈنگ تھی
    کہ نور کو رات گزارنے تک کی آزادی تھی جعفر کے گھر میں۔۔
    اس دن بھی نور اپنے والدین کو یہ بتا کر گئی کہ
    وہ اپنے دوستوں کے ساتھ تین چار دن کے لئے ناردرن ایریاز میں جا رھی ھے۔۔۔
    اتنے عرصہ کے تعلقات کے باوجود ایسا کیا ھو گیا کہ جعفر نے اس بے دردی سے اس بندی کا قتل کیا ؟؟
    جو بھی ھوا ؟
    جو بھی وجوھات تھیں؟
    غلط ھوا ؟
    لیکن سب اسی بات پہ شور مچا رھے ھیں کہ یہ کیوں ھوا ؟
    ” یہ کیوں ھوا ” کہ علاوہ یہ سوال بھی ہونا چاہئیے کہ "ایسا کیوں ہوا……؟”
    ہم جب جب اپنے محرم رشتوں کی بنی حفاظتی زنجیر سے باہر نکلیں گے تب تب انسانی شکل میں موجود بھیڑیوں کو اپنے انتظار میں پنجے تیز کئیے تیار پائیں گے۔بظاہر یک کھڑے آپ کے لئیے نعرے لگارہے ہونگے آپ کو باہر کی آزادی کگ سبز باغ دیکھائیں گے مگر اصل میں خود بھوکے حوس کی پیاس لیئے اپنے شکار کو رجھا رہے ہوتے ہیں۔ہماری معصوم لڑکیاں جب ان کے جھانسے میں آجاتی ہیں تو یہ نفسیاتی انسان یا تو انہیں نورمقدم کیس کی طرح مار دیتے ہیں یا پھر کمزور کر کے کسی اور کے شکار کے۔ لئیے چھوڑ دیتے ہیں
    اور زیادہ دکھ کی بات یہ ہے کہ ان جنگلی بھیڑیوں کے ساتھ عورت کی دشمنی میں عورت ہی میدان میں نکل آئی ہے۔ عورت جو عورت کا آئینہ ہے۔کہا جاتا تھا عورت ہی عورت کا دکھ سمجھ سکتی ہے۔اب ظلم یہ ہو گیا ہے عورت ہی عورت کی دشمن بن چکی ہے۔وہ بھی معصوم لڑکیوں کو ورغلا کر جھوٹے خواب دکھا کر مردوں کی سوسائٹی میں لاکر تر نوالہ کے طور پر پیش کرتی ہے۔
    مقصد بات کا یہ ہے کہ
    کل اپنی بچیوں کو صرف یہ نہ بتائیں کہ
    نور مقدم کے ساتھ ظلم ھوا۔۔
    یہ بھی بتائیں کہ نور کے ساتھ ایسا ظلم صرف اس لئے ھوا
    کیونکہ نا محرم کے ساتھ تعلقات کا ایسا ھی انجام ھوتا ھے
    تحریر ہما عظیم
    @DimpleGirl_PTi

  • زہر کا گھونٹ  تحریر بسمہ ملک

    زہر کا گھونٹ تحریر بسمہ ملک

    میرے ہاتھ میں زہر کا پیالہ تھا۔ میں نے دھندلی نگاہوں سے اردگرد دیکھا، تو چند لوگ میرے آس پاس موجود تھے، مگر ان میں سے کوئی بھی میرے قریب نہیں آیا ، سب مجھے دور کھڑے دیکھ رہے تھے۔ زہر تو مجھے پینا ہی تھا ، پھر کیوں کسی کا انتظار کرتی۔ جیسے ہی میں نے پیالہ منہ سے لگایا۔ایک چیخ نما آواز آئی عائشہ۔۔۔۔۔۔۔!!! اور میری آنکھ کھل گئی ، اسی کے ساتھ میرے جسم کو جھٹکا سا لگا تھا۔ ہوش کی دنیا تک آتے آتے میں سوچ رہی تھی کہ شاید کسی نے وہ پیالہ مجھ سے چھین لیا تھا ، وہ شاید ابو تھے۔ ذہن پر زور دیتے خواب کے منظر کو دہراتے میں آٹھ گئی تو دیکھا امی سرہانے ہی کھٹی تھیں ” بے وقت کیوں سوئیں…..؟ طبیعت تو ٹھیک ہے ؟ ” انہوں نے میری پیشانی پر ہاتھ رکھتے ہوئے پوچھا۔ جی ٹھیک ہوں ۔ بچے کہاں ہیں۔۔۔۔۔؟ اسی لیے تو تمہیں آواز دے رہی تھی ، اب تو انہیں کچھ کھلا پلا دو،، دوپہر میں بھی انہوں نے صحیح طرح سے کچھ نہیں کھایا تھا۔ "جی اچھا” میں بال سمیٹتے ہوئے بیڈ کے کنارے پر ٹک گئی اور امی بھی پاس ہی بیٹھ گئی ۔ پھر ریحان سے تمہاری کوئی بات ہوئی ؟ کئی دن ہوگئے عضے بھرے انداز سے کہا ۔ کیا کہا اس نے ؟؟ امی آپ کو بتایا تو تھا ، پھر کیوں ایک ہی سوال بار بار پوچھتی ہیں۔ میں بے زاری سے بولی میری تو یہ سمجھ میں نہیں آتا کہ آپ نہ جانے کیوں باربار وہی بات سنن،ئا چاہتی ہیں، جسے سن کر خود آپ کو تکلیف اور مجھے اذیت محسوس ہوتی ہے میں نے قدرے مغمول لہجے میں کہا۔ "کہہ رہے تھے خود گئی ہو ، تو خود ہی آجاو ۔ مجھ سے توقع مت رکھنا کہ واپس لینے آوں گا۔”
    ” ویسے میں سوچ رہی تھی کہ اس میں بھی کوئی حرج تو نہیں ہے جیسے آئی تھیں، ویسے ہی جاسکتا ہو اور میاں ، بیوی کے بیچ تو جھگڑے ہوتے ہی رہتے ہیں، اس کا مطلب یہ تھوڑی ہے کہ ساری زندگی میکے میں گزار دی جائے ۔ ویسے بھی تم بیوی ہو اس کی اور دو بچوں کی ماں بھی ۔” وہ بے گانگی سے بولیں۔ ” لیکن ابو کا کیا۔۔۔۔۔۔۔۔۔ آپ کو پتا ہے ناں ، ابو ان سے بات کرنا چاہتے ہیں، انہیں ان کی ذمے داریوں کا احساس دلانا چاہتے ہیں۔ آپ خود سوچیں امی کہ آخر میں اور میرے بچے کب تک سسرال والوں کے رحم و کرم پر رہیں گے۔ میں نے تو پھر جیسے تیسے گزارہ کر لیا ، لیکن بچوں کا کیا ۔۔۔۔۔وہ کیوں دوسروں کے احساس تلے دبے رہیں؟ چھوٹی چھوٹی خواہشات کی تکمیل کے لیے دوسروں پر انصار کرتے رہے تو ان کی خود اعتمادی کو ٹھیس پہنچے گی ، عزت نفس ختم ہوجائے گی اور انہیں بھی دوسروں کے آگے ہاتھ پھیلانے کی عادت پڑ جائے گی ، جو میں ہر گز نہیں چاہتی ۔” ایک تو مجھے تمہارے ابو کی بھی سمجھ نہیں آتی ۔ انہیں اب ریحان سے کیا بات کرنی ہے ۔ ہم نے تمہاری شادی کردی ، تمہیں رخصت کرکے ہماری ذمے داری ختم ۔ اب نبھانا تم نے ہے ، تم پہ فرض ہے کہ شوہر کا مزاج سمجھو ۔ اس کے دکھ ، سکھ میں ساتھ دو، اس کے مطابق زندگی گزارو۔”
    اتنے سالوں سے برداشت ہی تو کرتی آئی ہوں ۔ بیوی ہوں تو کیا ہوا ، ان کا کوئی فرض نہیں ہے ۔۔ وہ مجھے کتنا کچھ کہہ گئے ، بچوں تک کی پروا نہیں کی ، چلو میں ماں لیتی ہوں میں بڑی ہوں ، لیکن بچے تو ان کے اپنے ہے ناں ، ایک بار بھی پلٹ کر بچوں کے بارے میں بھی جاننے کی کوشش نہیں کی کہ وہ کیسے ہیں کس حال میں ہیں۔ الٹا یہ کہا کہ بچوں کی بھی ضرورت نہیں رکھ لے تمہارے امی ابو مجھے پروا نہیں ۔ ایک آدمی شوہر چاہے کیسا بھی ہو ، لیکن باپ کے روپ میں تو بچوں کا سائبان ہوتا ہے مگر میرے بچوں کا سائبان ہی ان سے بیزار ہے ” میں ایک ہی سانس میں بولتی چلی گئی اور آنسو بہنے لگے۔ سینے میں چبھے تیر تکلیف دے رہے تھے میں سوچتی رہی کہ ریشم کی ڈوری کی طرح میں ہی پاوں سے لپٹ رہی ہوں۔
    (جاری ہے ۔۔۔۔)

    @BismaMalik890

  • ریلیشن شپ   تحریر: شھریار سیالوی

    ریلیشن شپ  تحریر: شھریار سیالوی

    ریلیشن شپ آجکل کے دور جدید کا سب سے بڑا فتنہ ہے اور آجکل میں دیکھتا ہوں کہ یہ لفظ ریلیشن شپ بچوں کا کھیل بن چکا ہے۔ کل تک جو پچیس سال کی عمر میں جو کہ ایک میچور بندہ ہوتا ہے وہ بھی اپنی پسند تک کے بارے میں بتانے سے ڈرتا تھا مگر آجکل کا نوجوان، میں یہ بلکل نہیں کہہ رہا کہ اظہار کرنا غلط ہے، پیار کرنا غلط ہے، مگر ایسے پیار کرنا بےشک گناہ ہے۔ یہاں یہ آجکل جو بچہ اپنے پاوں پر کھڑا نہیں ہوسکتا وہ اپنی جان کو آسمان سے تارے توڑ کر لانے کی باتیں کرتا ہے اور عجیب و غریب قسم کے سپنے دکھا رہا ہوتا ہے۔ دس سال کی لڑکی صرف اس بات پر پریشان ہوتی یے کہ اسے اسکا بوائے فرینڈ وقت نہیں دیتا۔ بارہ سال کی عمر کی بات جائے تو اسے یہ پریشانی ہوتی یے کہ میری جان کسی اور سے تو بات نہیں کرتی۔ مختصر یہ کہ پیار اور ریلشن شپ مذاق بن کر رہ گیا یے۔ یہاں پر تو وہ لوگ بھی پیار کا دعوی کررہے ہوتے ہیں جنھیں نہ تو پیار کا پتہ ہوتا ہے اور نہ ہی رشتہ نبھانا آتا ہے۔ یاد رکھیں ہمیشہ کہ ان لوگوں کیساتھ تو گزارا ہوسکتا ہے جنکی طبعیت خراب ہو لیکن اس کے ساتھ بلکل گزارا نہیں ہوسکتا ہے جنکی تربیت خراب ہو۔ یہاں پہ پیار کا مطلب پتا نہیں اور دعوی سچے پیار کا کیا جاتا ہے۔ اپنی پسند کو پیار کا نام دیا جاتا ہے، ارے نہیں نہیں اپنے ٹائم پاس کو سچے پیار کا نام دیا جاتا ہے۔پیار تو نہیں یہاں ٹائم پاس کرتے ہیں لوگ، کبھی ہم نے سوچا ہے کہ جس ٹائم پاس کو محبت کا نام دے کر استعمال کرکے چھوڑ جانے کے بعد اس انسان پر کیا گزرتی ہے، انسان بکھر جاتا ہے، جو انسان کل تک ہنستا کھیلتا تھا وہ ٹوٹ کر بکھر جاتا ہے اور اسے اپنی زندگی بےمعنی لگنے لگ پڑتی یے۔

     یہی وہ سب سے بڑی غلطی ہے جو ہم کرتے ہیں۔ یاد رکھیں پیار اور پسند دو الگ الگ چیزیں ہیں اور ہم اپنی پسند کو اکثر پیار کا نام دے دیتے ہیں اور پسند کبھی مستقل نہیں ہوتی اور اس پسند کو ایک نہ ایک دن ناپسند  ہونا ہوتا ہے اور ایسے انسان کیلئے رونا اور اپنی زندگی ضائع کردینا دانشمندی نہیں ہے۔ محبت منتیں کرنے کا نام نہیں ہے اور منتیں کی بھی کس سے جارہی یے جو نہ رشتوں کو نبھانا جانتا ہے اور نہ ہی اسے رشتوں کی کوئی قدر ہے تو آپ خود بتائیں ایسے انسان سے کس چیز کی توقع کی جاسکتی یے۔ محبت اس چیز کا نام نہیں کہ اپنی ذات کو بےمول کر دیا جائے۔ محبت اس چیز کا نام نہیں کہ اپنی عزت ایسے انسان کے ہاتھوں میں دے دی جائے جو صرف آپکو کھلونا سمجھتا ہو، محبت اس کا نام نہیں کہ اپنے وقار کو گرا دیا جائے۔ لوگوں کو کھونے سے کبھی نہ ڈرو، ڈرو اس بات سے کہ لوگوں کو خوش کرتے کرتے خود کو نہ کھو بیٹھو اپنا وجود ختم نہ کر ڈالو۔ ہمارے معاشرے میں وجہ سے نہیں وجہ بنا کر چھوڑ دیا جاتا ہے اور ہم اس کیلئے رو رہے ہوتے ہیں جسکو نہ تو ہماری کبھی پرواہ تھی اور نہ ہی کبھی ہوگی۔ ایک بات ہمیشہ یاد رکھیں کسی کی بھی زندگی میں رہنے کیلئے بھیک نہ مانگو۔ ایک دفعہ اسے بلاو بات کرو، مسئلہ حل کرنے کی کوشش کرو اور اگر نظر انداز کردئیے جاو تو خاموشی سے علیحدگی اختیار کرلو۔ 

    اپنی زندگی میں ایک ایسا اصول بنالیں کہ جو چیز آپکو چھوڑ کر چلی جائے اور ایسی چیز جو کبھی آپکی تھی ہی نہیں اسے بھول جاو کیونکہ بھول جانے کی عادت انسان کو بہت سی چیزوں سے بچا لیتی ہے۔ محبت کرنے والے کبھی بھی بےادب نہیں ہوتے، کبھی پتھر دل نہیں ہوتے۔ ہمیشہ ایسے شخص کا چناو کرو جو آپکو عزت دے کیونکہ عزت محبت میں بہت خاص ترین ہوتی ہے۔ جو شخص آپکو عزت نہیں دے سکتا وہ آپ سے کبھی محبت نہیں کرسکتا۔ جو بھی پیار کا دعوی کرتا ہے تو وہ بوائے فرینڈ یا گرل فرینڈ نہیں بلکہ میاں بیوی بن کر رہیں۔ اظہار کرتے ہو تو نکاح کیساتھ کروں۔ یہ سب میری آپ سے گزارش ہے کہ سچا پیار کبھی بھی بوائے فرینڈ یا گرل فرینڈ نہیں بنے گا۔ جب بھی بنے گا محرم بنے گا۔ جب کسی سے محبت کرو تو اسے پردے میں رکھو کیونکہ محبت پردے میں ہی اچھی لگتی ہے۔ یہ نمائش کی چیز نہیں ہے۔ اندھی محبت ہو یا اندھا اعتماد دونوں گہرائی میں گرا دیتے ہیں۔ محبت کا مزہ ہی تب ہے جب محبوب محرم بن کر ملے اور جب آپ ایک دوسرے کیساتھ پاکیزہ  رشتے میں بندھ جاتے ہیں تو کوشش کی جائے کہ۔اس رشتے کو مضبوطی سے تھاما جائے اور جب اس رشتے سے عزت و احترام چلا جائے تو رشتے ٹوٹ کر بکھر جاتے ہیں۔ جن رشتوں کو ہم بہت آسان سمجھتے ہیں تو جان لیجیئے پیار کرنا آسان نہیں ہوتا  خود کو دکھ دینا بھی پڑتا ہے دوسروں کی خوشی کیلئے اور ہاں یاد رہیں کبھی بھی آپکو آپ کا پیار دکھ نہیں دے گا۔ یہاں پر اچھا انسان ٹٹول رہے ہوتے ہیں۔ ایک اچھا انسان ڈھونڈ رہے ہوتے ہیں۔ دنیا میں کبھی بھی اچھے انسان کی تلاش مت کرنا بلکہ خود کو اچھا اور بہترین بن کر دکھانا شاید کسی اچھے انسان کی تلاش ختم ہوجائے۔  ہم اکثر اوقات بہتر کی تلاش میں بہترین کو کھو دیتے ہیں۔ یہاں پہ سب سے بڑی وجہ جو رشتے ٹوٹنے کی بنتی ہے وہ ہے غلط فہمی ہے اور اسے سن کے چپ ہوجاتے ہیں اور ان سب باتوں کو پی جاتے ہیں تو وہ باتیں ہمیں اندر ہی اندر سے کھا جاتی ہیں۔ ختم ہوجاتے ہیں وہ رشتے جن کیلئے ہم جی رہے ہوتے ہیں۔ یاد رکھئیے بھروسہ ہی تو ایک رشتے کی اہم چیز ہوتی ہے جب وہی نہیں رہے گا تو رشتے میں بچے گا کیا؟ اس دنیا میں سب سے خوبصورت رشتہ میاں بیوی کا ہے۔ یہی سب رشتوں کی بنیاد ہے۔ پیار کو نکاح میں بدلو۔ اظہار کرو تو نکاح۔ دنیا کی ابتداء بھی میاں بیوی اور انتہا بھی۔ جنت میں بھی سب میاں بیوی کے رشتے سے ہی رہیں گے تو تمہارا پیار بوائے فرینڈ یا گرل فرینڈ سے کیسے شروع ہوسکتا ہے؟؟؟ لہذا کوشش کریں نکاح کو زیادہ سے زیادہ فروغ دیں تاکہ معاشرے سے زنا جیسی لعنت کا خاتمہ ہوجائے تاکہ ایک مثالی معاشرہ وجود میں آسکے۔ اللہ ہم سبکو دین کی سمجھ عطا فرمائے (آمین )۔

  • لبرلز بمقابلہ لبرلز   تحریر : فیصل فرحان

    لبرلز بمقابلہ لبرلز تحریر : فیصل فرحان

     

    لبرل کے اصطلاحی معنی ہیں کہ مخالف کی رائے کو تحمل سے سننا اور اس کی بھی قدر کرنا۔ المختصر کہ صرف خود کو ہی عقل قل نہ سمجھنا۔ یقینً لبرل کوئی برا لفظ نہیں ہے بلکہ لبرل ہونا تو اچھی بات ہے کیونکہ یہ بندے کے اعلی شعور کی علامت ہے۔ لیکن جناب ایشیاء خاص طور پر انڈیا اور پاکستان میں لبرلز کی نایاب قسم پائی جاتی ہے جو لبرل لفظ کے معنی تک سے ناواقف ہے۔ ان لوگوں نے قسم کھائی ہوئی ہے کہ اپنے ملک اور اپنے مزہب کی ہر حال میں مخالفت کرنی ہے تاکہ وڈے دانشور ثابت ہو سکے۔

    یہ بات میں اپنے پاس سے نہیں کہہ رہا بلکہ مکمل ثبوت ہیں۔ویسے تو یہ لوگ ہر اہم دن پر ملک میں اتشار پھیلاتے ہے لیکن چند ایک کی مثالیں درج ذیل ہیں۔ 6 ستمبر کو پاکستان کا یوم دفاع تھا جو 65 کی جنگ کی جیت کی یاد میں منایا جاتا ہے اس جنگ کو دونوں ملک بھارت اور پاکستان اپنی جیت بتاتے ہیں۔ تو دونوں ملکوں کے لبرلز حضرات نے وکھرا سیاپا ڈال دیا۔ پاکستان کے جتنے لبرلز تھے انہوں نے ٹویٹر اور فیسبک پر انڈیا کو فاتح قرار دیا ہوا تھا اور جھوٹے دلائلوں کے انبار لگائے ہوئے تھے۔ میں بڑا حیران تھا کہ کیا واقعہ ہی پاکستان یہ جنگ ہار گیا تھا پھر اچانک سے دو تین انڈین صحافیوں کے ٹویٹس نظر آئے جس میں وہ پاکستان کو فاتح قرار دے رہے تھے اور انڈیا کی شکست کو عبرتناک شکست کہہ رہے تھے۔ اور نیچے عام انڈینز انہیں گالیاں نکال رہے تھے اور آئی ایس آئی فنڈڈ کہہ رہے تھے۔ میں نے جب ان صحافیوں کے اکاونٹس چیک کیے تو انہوں نے بائیوں میں لبرل، سیکولر جیسے لفظ لکھے ہوئے تھے۔ پھر جب ان کی ٹائم لائن پر ریٹویٹس چیک کیے تو بے شمار انڈین لبرلز کے پاکستان کی جیت والے ٹویٹس تھے۔ اب میں حیرانگی کی حد کو چھو رہا تھا۔

    کافی دیرسوچنے کے بعد اس نتیجے پر پہنچا کہ کو ان دونوں ملکوں کے لبرلز جھوٹے اور مفاد پرست ہے۔ ان لوگوں کو جہاں سے پیسہ ملتا ہے یہ لوگ صرف انہی کی زبان بولتے ہے۔ ہمارے ملک کے لبرلز ہمارے اداروں، ہمارے ملک اور ہمارے مزہب پر بلاوجہ تنقید کرنے میں کوئی کسر نہیں چھوڑتے اور انڈیا والے اپنے ملک کے خلاف۔ اب بندہ ان دونوں میں سچا کن کو سمجھے؟ پاکستانی لبرلز کو یا انڈین؟ میں تو دونوں کو نہیں سمجھتا۔

    ایک سب سے اہم بات جو میں نے ان دو ملکوں کے دانشوروں اور لبرلز حضرات میں نوٹ کی ہے وہ یہ کہ یہ لوگ خود کو اعلی شعور یافتہ ثابت کرنےکیلیے ہر اکثریتی اور اچھے فیصلے کی مخالفت کرتے ہے۔ اور بلاوجہ کی تنقید کر کے ملک میں انتشار پھیلاتے ہے۔ اور پاکستانی لبرلز کی اکثریتی تعداد تو بیرونی این جی اوز سے منسلک ہے جو خود بھی باہر کے ملکوں میں پناہ لیے ہوئے ہے اس لیے اپنا روزگار چلانے کیلیے ہر وقت ملک پر نقطہ چینیاں کرتے رہتے ہیں۔

    اب آخر میں آتے ہے اس سوال کی طرف کہ 65 کی جنگ کون جیتا تھا؟ تو اس کے جواب کیلیے نہ تو انڈینز کی سنیں اور نہ پاکستانیوں کی بلکہ دنیا کے باقی ممالک کی سنیں۔ آسٹریلیاء، انگلینڈ، امریکہ سمیت متعدد ملکوں کے اخباروں نے پاکستان کو اس جنگ کا فاتح قرار دیا۔ اب آتے ہے عقلی دلائل کی طرف، تو جناب انڈیا نے خود پاکستان پر رات کے اندھیرے میں حملہ کیا اور یہ ارادہ کر کے کیا کہ دوپہر کی چائے لاہور میں پیے گے اور بھاٹی گیٹ پر انڈین ترنگا لہرائے گے۔ لیکن آخر میں ہوا کیا؟ وہ ایک انچ بھی پاکستان کا حصہ نہیں لے سکے بلکہ شکست خوردہ پیچھے بھاگ گئے۔ تو جب کوئی ملک اپنے مقاصد حاصل کیے بغیر جنگ سے پیچھے چلا جاتا ہے تو یہ اس کی شکست ہوتی ہے۔ 

    Twitter handle: @Farhan_Speaks_

  • سوشل میڈیا اور آج کا نوجوان تحریر: محمد عمران خان

    سوشل میڈیا اور آج کا نوجوان تحریر: محمد عمران خان

    انسان اپنی تمام ضروریات اپنے آپ پوری نہیں کرسکتا۔ اسے اپنی خواہشات، اپنی ضروریات اور اپنا مدعا دوسروں تک پہنچانا پڑتا ہے۔ پہنچانے کے عمل کو "ابلاغ” کہتے ہیں۔

    سوشل میڈیا کا مطلب عوام کے درمیان مختلف ذرائع سے مواصلاتی روابط پیدا کرنا ہے۔ جو موجودہ دور کے معاشرے کے مزاج، خیالات، ثقافت اور عام زندگی کی کیفیات پر دورس اثرات کا حامل ہے۔ اس کا بہاؤ انتہائی وسیع اور لامحدود ہے۔ سوشل میڈیا ذرائع کی طرف سے سماج میں ہر شخص کو زیادہ سے زیادہ اظہار رائے و آزادی اظہار کے مواقع حاصل ہو رہے ہیں۔ آزاد سوشل میڈیا جمہوریت کی بنیاد ہے۔ یعنی جس ملک میں سوشل میڈیا کے ذرائع آزاد نہیں ہیں وہاں ایک صحت مند جمہوریت کی تعمیر ہونا ممکن نہیں ہے۔ سوشل میڈیا کا جال اتنا وسیع ہے کہ اس کے بغیر ایک مہذب معاشرے کا تصور بھی نا ممکن ہے۔ ٹیکنالوجی کا استعمال اگر ضروریات کے تحت مثبت طریقے سے کیا جائے تو یہ کسی بھی معاشرے میں نعمت سے کم نہیں۔ موجودہ دور میں سوشل میڈیا ایک ایسے ٹول کے طور پر سامنے آیا ہے جس نے معاشرے میں مثبت و منفی اثرات کے بے انتہا نقوش چھوڑے ہیں۔ سوشل میڈیا اس وقت پوری دنیا خصوصاً نوجوانوں کو اپنے سحر اور رنگینیوں میں جکڑے ہوئے ہے۔ 12 سال سے 35 سال کے افراد میں سوشل میڈیا کے استعمال کا رجحان بے انتہا حد تک بڑھ چکا ہے۔ جن نوجوانوں نے سوشل میڈیا کے مثبت پہلو کو اپنا کر استعمال کرنا سیکھ لیا ہے وہ اس سے بے پناہ مالی و معاشرتی فوائد حاصل کررہے ہیں۔ سوشل میڈیا مارکیٹنگ اور ڈیجیٹل مارکیٹنگ کے ذریعے نوجوان مرد و عورتیں لاکھوں کروڑوں روپے کما کر اپنے روزگار کا ذریعہ حاصل کر چکے ہیں۔ ہر آتے دن کے ساتھ ہی فری لانسرز اور سوشل میڈیا انفلوئنسرز اس کے معاشی فوائد کو کھول کھول کر بیان کررہے ہیں۔

    پاکستان میں گزشتہ کئی سالوں سے دیکھا جارہا ہے کہ سوشل میڈیا کا غیر معمولی استعمال ہو رہا ہے اور نوجوان بڑھ چڑھ کر اس کا استعمال کرتے اور اس سے متاثر ہوتے بھی نظر آ رہے ہیں۔ یہ بات قابل غور ہے کہ کوئی بھی نیم خواندہ معاشرہ با آسانی انتہا پسند رویوں کا شکار ہوکر تعمیری سرگرمیوں سے دور ہوتا چلا جاتا ہے۔ آج کل سوشل میڈیا پر ٹرولز یعنی سوشل میڈیا کے ایسے گمنام یا اپنی اصل شناخت چھپائے ہوئے صارف جن کا مقصد جھوٹ سچ کی آمیزش یا طنز و مزاح کی آڑ میں انتشار پھیلانا ہوتا ہے، بڑے متحرک ہیں۔ ہم سب اس سنگین صورتحال سے آگاہ تو ہیں لیکن سدباب کیلئے عملی طور پر کوئی منظم سوچ یا کوئی مربوط حکمت عملی نظر نہیں آرہی۔ اس حوالے سے شاید مناسب تجویز یہی ہوسکتی ہے کہ سوشل میڈیا کے مثبت اور قابل قبول استعمال کے حوالے سے معاشرے میں آگاہی کی ضرورت ہے جس میں والدین اور اساتذہ کو سوشل میڈیا کے غلط استعمال کی باریکیوں سے آگاہ ہونا ہوگا۔ تاکہ وہ اپنی اولاد اور شاگردوں کی تربیت کرتے قت اس اہم مگر بڑی حد تک نظر انداز معاملے پر مناسب توجہ دے سکیں۔ اس حوالے سے والدین کی اولین اور اہم ترین ذمہ داری ہے کہ وہ اپنی اولاد کو کس عمر میں انٹرنیٹ اور سمارٹ فون تک رسائی دینے کا فیصلہ کرتے ہیں۔ پھر رسائی سے پہلے اور رسائی کے دوران ان کی مناسب بنیادی تربیت اور نگرانی بھی نہایت ضروری ہے۔

    سوشل میڈیا کے منفی اثرات کی جانب ایک نگاہ دوڑائی جائے تو فکر انگیز حد تک یہ نوجوانوں کو بے راہ روی کا شکار کر چکا ہے۔ نوجوان فحاشی و عریانی کے بدمست کھیل میں کود کر اپنا مستقبل داؤ پر لگاتے نظر آتے ہیں۔ اسی کے ساتھ ہی دشمن بھی اپنی چال چلتے ہوئے نوجوانوں کے ذہنوں میں شیطانیت کا پرچار کرتے ہیں۔ ففتھ جنریشن وارفیئر بھی سوشل میڈیا پر لڑی جانے والی جنگ ہے جو آج کل سب سے زیادہ مقبولیت حاصل کر چکی ہے۔

  • پاکستان میں بڑھتی ہوئی فحاشی اور جنسی بے راہ روی تحریر: روبینہ۔

    پاکستان میں بڑھتی ہوئی فحاشی اور جنسی بے راہ روی تحریر: روبینہ۔

    موجودہ زمانے میں فحاشی اور جنسی بے راہ روی کے جس طوفان نے تمام دنیا کو اپنی لپیٹ میں لے رکھا ہے ، اب وہ ہمارے دروازے پر ہی دستک نہیں دے رہا بلکہ ہمارے گھروں کے اندر بھی داخل ہو چکا ہے ۔ ٹی وی ، ڈش ، انٹرنیٹ اور دیگر مخرب اخلاق پرنٹ میڈیا کے ذریعے ہماری نوجوان نسل جس انداز میں اس کا اثر قبول کر رہی ہے ، اس کے پیش نظر یہ کہنا شاید غلط نہ ہو کہ ہم بھی یورپ اور امریکا کے نقش قدم پر نہایت تیزی کے ساتھ چلے جارہے ہیں ، جس پر وہ عیسائی مذہبی رہنماؤں کی غلط تعلیمات و نظریات کے نتیجے میں آج سے ایک ڈیڑھ صدی قبل رواں دواں ہوئے تھے ۔ امریکا اور یورپ اس جنسی بے راہ روی کی وجہ سے بن بیاہی ماؤں ، طلاقوں کی بھرمار ، خاندانی نظام کی تباہی اور جنسی امراض بالخصوص ایڈز کی وجہ سے تباہی کے دھانے پر کھڑے ہیں ۔ کیا مسلمان ممالک بھی انھی نتائج سے دوچار ہونا چاہتے ہیں ؟ یہ اور اس قسم کے چند سوالات ہیں جنھوں نے اس ملک کے سوچنے سمجھنے والے طبقے کو پریشان کیا ہوا ہے ۔ اس کا علاج ایک طرف امریکا ، یورپ اور اقوام متحدہ کی جانب سے مختلف غیر سرکاری تنظیموں کے ایک جال ہم رنگ زمیں کے ذریعے مسلمان ممالک کو اسی رنگ میں رنگنے کے لیے کوششوں سے ہو رہا ہے ۔ تاہم اس کا دوسرا یقینی اور قابل اعتماد حل وہ ہے جو ہمیں قرآن اور اسلامی تعلیمات کے ذریعے دیا گیا تھا ، جسے نظرانداز کرنے اور بھلانے سے ہم آج اس دوراہے پر کھڑے ہیں ۔

    عورتیں بھی اس معاملہ میں پیچھے نہیں ہیں۔ جسم فروشی کا دھندہ بھی دن دگنی رات چوگنی ترقی کر رہا ہے۔ ہم جنس پرست عورتوں کی تعداد بھی قابل ذکر ہے۔ سیکس ورکرز کی تعداد ہمارے ملک میں، ایک سروے کے مطابق، اس وقت 3 لاکھ کے قریب ہے۔ جس میں میل اور فی میل دونوں ہیں۔ ہم جنس پرستی کے حوالے سے ایک سروے اور تحقیق کے مطابق ایسے ایسے لوگوں کے بارے میں انکشاف ہوا ہے کہ جن کے بارے سوچا بھی نہیں جا سکتا تھا اور اگر ان کے نام لئے جاتے ہیں تو شاید کفر کے فتوے شروع ہو جائیں اور بڑے بڑے احتجاجی مظاہرے بھی ہوں۔

    اعلی ہاؤسنگ سوسائٹیوں میں رہائش پذیر بڑے بڑے نام والے "معززین” اور ان کے بچے اور بچیاں نہ صرف ہم جنس پرستی کی دلدادہ ہیں بلکہ جنسی بے راہ روی کے فروغ کے لئے بھی خدمات انجام دے رہی ہیں جنسی فاقہ کشی کا یہ عالم ہے کہ معصوم بچوں کو بھی نشانہ بنایا جا رہا ہے۔ انٹر نیٹ میں ننگی فلمیں اور تصاویر دیکھنے والے دنیا بھر میں پاکستانیوں کا پہلا نمبر ہے۔ بچوں سے زیادتیاں، کم عمر لڑکیوں کے ساتھ ریپ، زنا بالجبر جیسے واقعات سے اخبارات بھرے ہوتے ہیں۔

    جنسی بے راہ روی کی وقتی لذت خاندان کی مضبوط اساسات کو تہس نہس کر دیتی ہے۔ مرد و عورت کا رشتہ کچے دھاگے کی طرح ٹوٹتا اور خاندان کا ادارہ ریت کے گھروندے کی طرح بکھر جاتا ہے۔ جوان مرد و عورت اس طرح کے حادثات سے وقتی طور پر متاثر ہوتے ہیں اور پھر زندگی اپنی ڈگر پر چل پڑتی ہے، مگر بچوں کی شخصیت اس عمل میں بکھر جاتی ہے۔ والدین کی علیحدگی انھیں اپنی زندگی کے سب سے بڑے سکون سے محروم کر دیتی ہے۔ ان کی زندگی قربانی، ایثار و محبت کے بجائے خود غرضی، جھگڑے، فساد اور بے صبری کا نمونہ بن جاتی ہے۔

    جنسی بے راہ روی بظاہر ایک خوشنما چیز ہے۔ مگر اس کے نتائج معاشرے کے لیے تباہ کن ہوتے ہیں۔ انسانیت نے یہ بات نہ سمجھی تو انسانوں کا مستقبل بہت خوفناک ہوگا۔

    From: Rubina

    @RubinaViews

  • بازارِ حسن سے ٹِک ٹاک تک تحریر زوہیب خٹک

    بازارِ حسن سے ٹِک ٹاک تک تحریر زوہیب خٹک

    جواز اور دلیل دی جاتی ہے کہ عوام ٹک ٹاکرز کو پسند کرتی ہے ۔۔ اس لیے حکومت بھی ٹک ٹاکرز کو سراہتی ہے ۔۔۔

    عوام کی ایک کثیر تعداد مجرے بھی پسند کرتی ہے تماش بینی ان کا پسندیدہ مشغلہ ہے عوام کی ایک کثیر تعداد چرس بھی بہت پسند کرتی ہے ۔ کھول دیں بازار ۔۔؟؟ عوام کا اتنا خیال ہے تو عوام کو جو پسند ہے سب کھول دیں پھر پابندیاں قوانین اخلاقیات کا کیا لینا دینا ہمارے معاشرے سے۔۔؟؟ جب ہم نے یہی دیکھ کر فیصلہ کرنا ہے کہ جو جتنا مشہور ہے اتنا قابلِ عزت ہے تو پھر مجرے کرنے والیوں کو کنجر کہنا بند کریں وہ سٹیج پر ناچتی ہیں اور آج کل کی جدید طوائفیں موبائل سکرین پر عوام کا من و رنجن کرتی ہیں۔ یہ دوہرا معیار کیوں کہ سٹیج پر ناچنے والی کنجر طوائف نا جانے کیا کیا اور ٹک ٹاک پر ناچنے والی سٹار سلیبرٹی انفلووینسر ۔۔؟

    جب ایسے لوگوں کو عزت و وقار اور شہرت ملتے کم عمر بچے دیکھتے ہیں تو وہ ان کو اپنا رول ماڈل بنا لیتے ہیں کہ مجھے بھی بڑے ہو کر یہی بننا ہے اور یہی سب کرنا ہے ۔ معزرت میں زرا دقیانوسی خیالات کا مالک ہوں ٹک ٹاک پر ناچنے کو ماڈرن کوٹھا سمجھتا ہوں اور ناچنے والوں کو اداکار فنکار نہیں بلکہ کنجر سمجھتا ہوں ۔ اپنی آنے والی نسل کی فکر کریں جو تباہی کے دہانے پر کھڑی ہے۔ ہم نوے کی دہائی کی پیدائش ہیں جنہوں نے اپنی آنکھوں کے سامنے زمانے کو کروٹ بدلتے دیکھا اس لیے کچھ تربیت اثر کر گئی تو کچھ اخلاقیات کے دائرے میں خود کو قید رکھا ۔ ورنہ شہرت کون سا مشکل کام ہے ؟ صرف ایک سکینڈل کی مار ہے یہ شہرت آج کہیں منہ کالا کرائیں کل پورے ملک میں مشہور ۔۔

    ہمیں تربیت ملی کہ بیٹا ذلت کی شہرت سے عزت کی گمنامی بہتر ہے ۔ لیکن کیا کیجیے کہ چند سالوں میں زمانہ ایسا بدلا کہ اس بات سے اب کوئی فرق نہیں پڑتا کہ آپ کی وجہہِ شہرت کیا ہے ۔ بس مشہور ہیں یہی کافی ہے ۔۔ وہ کہتے ہیں نہ بدنام ہونگے تو کیا نام نا ہوگا ۔؟؟ یہ جن ناچنے والیوں کو ہم آج سٹار سلیبرٹی رول ماڈلز اینفلونسر کہتے ہیں انہیں چند سال پہلے لکھنئو اور لاہور کے بازارِ حسن میں طوائفیں کہا جاتا تھا۔ اب تو بس نام ہونا چاہئیے پھر آپ سٹار بھی ہیں سیلبرٹی ہیں اور اداکار فنکار بھی ۔۔

    بد قسمتی سے ایسے لوگوں کو شہرت کی بلندیوں پر پہنچانے والے بھی ہم ہی میں سے ہیں ۔ اور اس کا خمیازہ ہماری آنے والی نئی نسل بھگتے گی ۔۔ ہم کتابیں پڑھتے بڑے ہوئے بزرگوں کی ڈانٹ ڈپٹ استادوں کی اخلاقیات والدین کی تربیت نے زندگی کا مقصد بنایا اچھا انسان اور باوقار شہری بننا ہے ۔ آج کے والدین پر بھی حیرت ہے جن کی عقل پر پردے پڑے ہیں اور وہ اس فہاشی و عریانی کو نیا دور سمجھ کر قبول کر بیٹھے ہیں اور بڑے فخر سے کہتے ہیں ماشااللہ اللہ نے بچے کو بہت عزت دی ہے۔ اور کیوں نہیں جب حکومت بھی ایسے لوگوں کو سراہے گی میڈیا بھی مارنگ شوز میں بلائے گا تو پھر عزت شہرت تو ہو گئی نا ۔۔

    اپنی آنے والے نسل کی تباہی و بربادی کے لیے ذہنی طور پر تیار رہیں ۔۔ شکوہ نا کیجیے گا ہمیں کوئی بتانے سمجھانے یا بولنے والا نا تھا کیونکہ میں اپنا فرض پوری طرح نبھا رہا ہوں اور اس جدید دور میں بھی فیشن اور فہاشی کا فرق عوام کو بتا کر کر گالیاں کھا رہا ہوں ۔۔ خیر وہ اپنا کام کریں ہم اپنا کام کرتے رہیں گے ۔ یہی سوچ کر ۔۔ "شائد کہ تیرے دل میں اتر جائے میری بات”

    Twitter @zohaibofficialk

  • خودکشی تحریر:فاروق زمان

    خودکشی تحریر:فاروق زمان

    خود کشی ایک حرام فعل ہے، ایسا قبیح فعل جس میں انسان غیر قدرتی طریقے سے اپنی جان لے لیتا ہے اور خود اپنی زندگی کا خاتمہ کر لیتا ہے۔ مردوں میں خودکشی کی شرح زیادہ یے، جبکہ خواتین میں خودکشی کی شرح کم ہے۔  مردوں میں عمر بڑھنے کے ساتھ خودکشی کا رجحان بڑھتا ہے اور خواتین میں عمر بڑھنے کے ساتھ خودکشی کا رجحان کم ہو کر  تقریبا ختم ہو جاتا ہے۔ ہمارے معاشرے میں کامیاب سمجھے جانے والے لوگ بھی خودکشی کرتے ہیں جن میں شاعر، اداکار، ادیب، بزنس مین وغیرہ شامل ہیں۔ خودکشی کرنے والا چاہے جتنا بھی اچھا انسان ہو اس کی شخصیت مسخ ہو کر رہ جاتی ہے۔ خودکشی کی موت خاندان اور خودکشی کرنے والے سے منسلک ہر شخص پر بری طرح اثر انداز ہوتی ہے۔ لوگ خاندان والوں کا دکھ درد سمجھنے کی بجائے عجیب رویہ اپناتے ہیں، کھوج میں لگ جاتے ہیں۔ خاندان کے لوگ بھی خود کشی کی وجوہات ہر بات نہیں کرنا چاہتے،  خود کشی کو حادثاتی موت کا رنگ دیا جاتا ہے۔ اس لئے خودکشی کی روک تھام کے لیے اس حد تک آگاہی نہیں ہوپاتی جتنی ضرورت ہے۔
    خودکشی کی بہت سی وجوہات ہو سکتی ہیں۔ لوگ اپنی زندگی اور خود سے مایوس ہو جاتے ہیں انہیں سب کچھ بے مقصد لگتا ہے۔ زندگی سے کوئی امید باقی نہیں رہتی۔  لوگ گھریلو جھگڑوں سے دلبرداشتہ ہوکر اپنی زندگی ختم کر لیتے ہیں۔ لوگ غربت، معاشی مسائل، بےروزگاری، خود اعتمادی کا فقدان، احساس کمتری، وجود کا بحران، تعلیم میں ناکامی، ذہنی دباؤ، زہنی الجھنیں، ٹینشن، کاروبار، محبت میں ناکامی اور کئی معمولی وجوہات کی بنا پر بھی موت کو گلے لگا لیتے ہیں۔
    پچھتاوا بھی خودکشی کی وجہ ہو سکتا ہے۔ سوشل میڈیا کے استعمال کی وجہ سے تنہائی کا شکار ہو کر بھی لوگ خود کشی کر لیتے ہیں۔
    ڈپریشن خودکشی کی سب سے بڑی وجہ میں سے ایک ہے۔ ڈپریشن میں منفی خیالات دماغ پر قابو پا لیتے ہیں اور کچھ بھی سوچنے سمجھنے کی صلاحیتیں ختم ہو جاتی ہیں۔ ڈپریشن میں خودکشی کے خیالات متواتر آتے ہیں۔ اس کے علاوہ تنہائی، ذہنی دباؤ، پریشانی وغیرہ خودکشی کی سر فہرست وجوہات میں سے ہیں۔ ہمارے معاشرے میں لوگ ذہنی بیماریوں اور ان کے علاج کی طرف توجہ نہیں دیتے۔ ان کے نزدیک یہ خود بہ خود ہی ٹھیک ہو سکتی ہیں۔ لوگ اپنے متعلق ذہنی بیماریوں کا کسی کو نہیں بتاتے۔ اپنی تکالیف کا اظہار نہیں کرتے کیونکہ دماغی بیماریوں کو شرمندگی اور ندامت کا باعث سمجھا جاتا ہے۔ اس طرح معمولی نوعیت کی بیماریاں جو تھوڑی سی توجہ اور کوشش سے ٹھیک ہو سکتی تھی وہ پیچیدگیی کا شکار ہوجاتی ہیں۔ اگر ڈیپریشن کے مرض کی ابتدا ہی سے اس کے علاج کے لئے سدباب کیا جائے تو یہ علاج کے زریعے ٹھیک ہو سکتا ہے۔ اور  بات خودکشی تک پہنچے ہی نہ۔ دیکھا گیا ہے کہ پاکستان میں ذہنی امراض کے علاج کے لیے لیے ذرائع کافی محدود ہیں۔
    مذہب سے دوری خودکشی کی اہم وجہ ہے۔ اگر لوگ مذہب کے مطابق زندگی بسر کریں،تو وہ خود کو خودکشی سے باز رکھ سکتے ہیں۔ اسلام میں خودکشی کو حرام اور ناپسندیدہ ترین فعل قرار دیا گیا ہے۔ اسلام امن وامان، برداشت، درگزر اور امن سلامتی کا درس دیتا ہے۔زندگی ایک نعمت ہے اور اپنی جان لینا نعمت کو ضائع کرنا اور اللہ کی خوشنودی سے محروم ہونے کے مترادف ہے۔
    خود کشی کی روک تھام
    بہت ضروری ہے۔ ہمیں اس میں اپنا کردار کرنا ہوگا۔ سب سے پہلے مثبت رویہ اپنائیں اپنے ساتھ اور دوسروں کے ساتھ۔ کسی کے ساتھ برا رویہ نہ رکھیں ۔کبھی کسی کو ایسے کلمات  نہ کہیں جو کسی کو خودکشی کی طرف مائل کر سکتے ہوں۔ خود پر بھی توجہ دیں اگر آپ کے دماغ میں منفی خیالات آتے ہیں تو حتی الامکان ان سے بچنے کی کوشش کریں اور ان سے چھٹکارہ پائیں۔ بے جا سوچوں کو دماغ میں جگہ نہ دیں۔ صحت مندانہ طرز زندگی اپنائیں۔ خود کو وقت دیں۔ زندگی بہت خوبصورت ہے آپ کا ، ہم سب کا اس پر حق ہے۔ ناامیدی کفر ہے۔ غربت، پریشانی، نامسائد حالاتِ اللّٰہ کی طرف سے آزمائش کے طور پر آتے ہیں۔کوئی بھی تکلیف دائمی نہیں ہوتی۔ جیسے بھی حالات ہوں آپ صبر کا دامن نہ چھوڑیں۔  برداشت اور تحمل مزاجی کو اپنائیں۔ اپنے جذبات پر قابو پائیں اور اپنے آپ کو پرسکون رکھیں۔ زہنی دباؤ کا مقابلہ کریں۔ زندگی سے مایوس ہو کر موت کو گلے لگانے کی بجائے اپنی اور دوسروں کی زندگیوں میں روشنی پیدا کریں۔ اچھے کام کریں، دوسروں کے کام آئیں۔ با مقصد زندگی گزاریں۔ نیکی کے کام کریں اور انہیں پھیلائیں۔ نماز پنجگانہ ادا کریں۔ قرآن کریم کی تلاوت کریں، یقینا اس میں دلوں کا سکون ہے۔
    اپنے جذبات و احساسات اپنے سے قریبی لوگوں کے سے شیئر کریں۔ ان پر اعتبار کریں۔ خود  کو پہچانیں اور خود کو موت کے حوالے کرنے کے بجائے زندگی کی طرف قدم بڑھائیں
    متوازن سوچ کے ساتھ کے ساتھ اچھی زندگی بسر کرنے کی کوشش کریں۔ اپنے اردگرد نظر دوڑائیں، اگر کوئی ذہنی دباؤ کا شکار ہے یا توجہ کا مستحق ہے تو اسے وقت دیں۔ اسے سمجھنے کی کوشش کریں۔ اور زندگی سے مایوس لوگوں کو زندگی کی طرف واپس لائیں اسے سمجھنے کی کوشش کریں۔
    حکومت کو چاہیے کہ ذہنی امراض کے علاج معالجے کے لئے ہسپتال اور کاونسلنگ مراکز  قائم کریں۔ ذہنی امراض کے شکار مریضوں کے علاج معالجے کے لیے فنڈز  کی رقوم مختص کریں۔ ذہنی اور دماغی امراضِ کے علاج کی حوصلہ افزائی کی جانی چاہیے۔ اگر آپ کو کوئی ذہنی بیماری ہے تو لازما ڈاکٹر کے پاس جائیں اور مکمل علاج کروائیں۔
    کوئی بھی خودکشی کرے تو اس کے قاتل اس کے اردگرد بسنے والے تمام لوگ ہوتے ہیں۔ اس کا قاتل پورا معاشرہ ہوتا ہے جو کسی نہ کسی وجہ سے اس کی خودکشی کا سبب بنتا ہے۔ ہمیں ہر ممکن حد تک خودکشی سے بچاؤ کی تدابیر کرنا ہوں گی، تاکہ ہم بہت سی جانوں کو حرام طریقے سے لقمہ اجل بننے سے بچا سکیں۔

    @FarooqZPTI