Baaghi TV

Category: معاشرہ و ثقافت

  • جہیز کیا ہے یہ  اس باپ سے پوچھو  جس کی زمین بھی چلی گئی اور بیٹی بھی   تحریر: امبر سیف 

    جہیز کیا ہے یہ  اس باپ سے پوچھو جس کی زمین بھی چلی گئی اور بیٹی بھی  تحریر: امبر سیف 

    ہمارے معاشرے میں بہت سے لوگ اس وجہ سے اداس نہیں  ہوتے ہیں کہ بیٹی پیدا ہوئی ہے بلکہ اس وجہ سے بھی اداس ہوتے ہیں کہ ہماری بیٹی تو پیدا ہوئی ہے جو ہمارے گھر کی رحمت ہے لیکن جب یہ بڑی ہو گی تو جہیز نہ دینے کی وجہ سے کنوارہ نہ رہ جائے گی۔۔۔۔۔۔

    آپ کو پتا ہے جو باپ جہیز میں فرنیچر دیتا ہے وہ کس طرح قرضے میں ڈوب کے یہ خریدتا ہے؟ اس فرنیچر کی پالش اتر جاتی ہے لیکن اس باپ کا قرضہ نہیں اترتا۔جہیز کے پیسے جمع کرتے کرتے ایک باپ لوگوں کے آگے بک جاتا ہے اس معاشرے میں بیٹیاں جہیز کے انتظار میں بوڑھی ہو جاتی ہیں۔پتہ چلتا ہے ساس نے تیل ڈال کے آگ لگا دی،آگ کیوں لگائی کیوں کہ وہ جہیز میں کچھ نہیں لے کے آئی۔کچھ لڑکیوں کی طلاق ہو جاتی ہے صرف جہیز نہ دینے کی وجہ سے۔جہیز نے لوگوں کے گھر تباہ کر دیئے لیکن آج بھی یہ مسلہ حل نہیں ہوا اور نہ کبھی ہو سکتا ہے.ہم لوگ اپنے بچوں کو اس قابل نہیں بناتے کہ وہ زندگی میں اتنا کما سکیں کہ اس انتظار میں نہ رہیں ۔کب ہماری شادی ہو گی کب لڑکی اپنے ساتھ کار،اےسی،فرنیچر اور گھر کی ایک ایک چیز لے کے آئے گی۔

    ماں بیٹے کے پیدا ہوتے ہی یہ سوچنا شروع کر دیتی ہے کہ یہ جب بڑا ہو گا اس کی شادی ایک ایسے گھر میں کروں گی جہاں لڑکی بھی خوبصورت ہو اور اپنے ساتھ جہیز میں بھی سب کچھ لے کے آئے اور یہ سوچ بیٹے کے بڑے ہونے کے ساتھ ساتھ بڑھتی جاتی ہے

    لیکن جب بیٹے کی شادی ہوتی ہے اور وہ جہیز میں وہ سب نہیں لاتی جو اس نے سوچا ہوتا ہے تو پھر شروع ہو جاتی ہیں لڑائیاں۔ جس میں لڑکی جو اپنے ساتھ بہت سے خواب لے کے آتی ہے کہ کب میری شادی ہو گی اور کب میں نئے گھر میں نئے لوگوں کو اپنا بنائوں گی۔لیکن اس کی سوچ یہ نہیں ہوتی کہ جہیز نہ لانے کی وجہ سے اسے کن تکلیفوں سے گزرنا پڑے گا۔سسرال والے اسے حقیر کیڑے سے بھی کم سمجھتے ہیں۔

    اب اس لڑکی کی زندگی کو دیکھ کر بہت سے ماں باپ ڈر جاتے ہیں کہ اگر ہم نے بھی اپنی بیٹی کو کچھ نہ دیا تو ہماری بیٹی کی زندگی بھی اسی عذاب سے گزرے گی۔باپ اپنی بیٹی کی زندگی کو آسان بنانے کے لیے خود کو قرضے میں ڈبو لیتا ہے۔بہت سے لوگ بیٹی پیدا ہوتے ہی جہیز بنانا شروع کر دیتے ہیں اور ساری زندگی ان کی چیزیں جمع کرنے میں گزر جاتی ہے۔ماں باپ ساری زندگی یہ ہی سوچتے رہتے ہیں کہ ہماری بیٹی کی سسرال میں عزت ہو اسے کسی کا طعنہ سننے کو نہ ملے۔ماں باپ یہ سوچتے ہیں کہ ہم جتنا بیٹی کو دیں گے بیٹی کے سسرال والے اس کا اتنا خیال رکھیں گے،اس کے آگے پیچھے پھریں گے۔اس سب کی جگہ میں وہ ان لوگوں کی عادت خراب کر دیتے ہیں۔اسی طرح کچھ لوگ اتنے کمظرف ہوتے ہیں جو شادی میں جو جہیز ہوتا ہے وہ تو ایک طرف لیکن شادی کے کچھ دیر بعد اس کی ڈیماند بڑھنا شروع ہو جاتی ہے۔وہ لوگ کاروبار کا بہانہ بنا کر پیسے لینا شروع کر دیتے ہیں کہ اپنے باپ سے بولو میری مدد کریں مجھے کاروبار کرنا ہے اور اگر تم پیسے لائو گی تو اس میں تمہارا ہی فائدہ ہے،تمہاری زندگی آسان ہو جائے گی۔

    کبھی کار کی فرمائش کبھی موبائل کی اور کبھی گھر کی اور ضرورت کی چیزوں کی۔وہ لوگ یہ نہیں سوچتے کہ جو جہیز آیا ابھی تو اس کا قرضہ بھی نہیں اترا اور نئی فرمائشیں شروع ہو جاتی ہیں۔لوگ یہ کیوں نہیں سوچتے کہ اگر انسان اپنے جسم کا حصہ انہیں دے رہا ہے کہ باقی اس کے پاس کیا رہ جاتا ہے۔شادی کے بعد یہ سلسلہ شروع ہو جاتا ہے کہ روز نئی فرمائشیں شروع ہو جاتی ہیں۔اس کے بدلے میں لڑکی کے ماں باپ اس ڈر سے یہ ساری فرمائشیں پوری کرتے رہتے ہیں کہ کہیں ہماری بیٹی کو طلاق نہ ہو جائے یا اسے گھر سے نہ نکال دیں۔

    اس کا حل کیا ہے؟کیسے ہم اس جہیز جیسی لعنت کو ختم کر سکتے ہیں؟ ہر انسان جب خود کو دوسرے کی جگہ رکھ کر دیکھے کہ لوگ کیسے کہ لوگ کیسے جہیز اکھٹا کرتے ہیں،کیسے قرض کے نیچے دب کر اپنی بیٹی کی کھوکھلی خوشیوں کا بندوبست کرتے ہیں۔یہ ہم سب نے سوچنا ہے کہ ہم اپنے بچوں کو اس قابل بنائیں کہ اسے کسی چیز کی ضرورت نہ پڑے وہ کسی کی بیٹی اس وجہ سے نہ لے کہ اسے جہیز میں بہت کچھ ملنا ہے۔وہ یہ سوچے کہ لڑکی کی تربیت اچھی ہوئی ہے،وہ اچھے خاندان سے ہے،پڑھی لکھی ہے اور اسے یہ یقین ہو کہ زندگی کی ساری خوشیاں دینا اس کا فرض ہے نہ کہ اس کے ماں باپ کا۔

    ماں باپ کا گھر بکا تو بیٹی کا گھر بسا

    کتنی نامراد ہے یہ رسم جہیز بھی  

    twitter.com/Ambersaif3

  • بوڑھوں کو بوجھ نہ سمجھئے  تحریر:محمد سدیس خان

    بوڑھوں کو بوجھ نہ سمجھئے تحریر:محمد سدیس خان

    بوڑھے عام طور پر بوجھ سمجھے جاتے ہیں، بہت سے گھروں میں ان کی کوئی قدر وقیمت نہیں ہوتی، ان کے مشوروں اور نصیحت آمیز باتوں کو ” بکواس” سمجھا جاتا ہے۔ عام طور پر کاروبار کرنے اور پنشن پانے والے بزرگوں کو برداشت کرلیا جاتا ہے۔ مگر جن بزرگوں کی آمدنی کا کوئی ذریعہ نہیں ہوتا وہ پوری طرح سے گھر والوں کے مرہون منت ہوتے ہیں۔ ان کی حالت گھر میں کسی اجنبی کی سی ہوکر رہ جاتی ہے۔

    کہنے کا مطلب یہ ہے کہ جب تک ایسے بزرگ جو کما کر لاتے ہیں یا کاروبار کرتے ہیں یا پھر پنشن کی موٹی رقم پاتے ہیں، تب تک ان کی خدمت میں کوئی کسر باقی نہیں رکھی جاتی۔ اور انہیں بوجھ نہیں سمجھا جاتا، وقت پر کھانا ہی نہیں بلکہ وقتاً فوقتاً گھر والوں کا پیار بھی ملتا رہتا ہے۔ بیمار ہونے پر ان کی تیمارداری بھی کی جاتی ہے کیونکہ وہ دواؤں کا خرچ خود برداشت کرتے ہیں۔

    ایسے بزرگوں کی بھی اس وقت تک عزت کی جاتی ہے جن کے نام زمین جائیداد ہوتی ہے، اور ان کی تیمارداری یا ان پر محبتیں اس لیے لڑائی جاتی ہیں کہ انہیں اس جائیداد سے بھاری بھر کم رقم مل جائے۔

    یعنی کہ کمانے والے، کاروبار کرنے والے یا بے شمار دولت رکھنے والے بزرگوں کو سرآنکھوں بٹھایا جاتا ہے، وہ بھی اس وقت تک جب تک ان کے پاس دولت ہوتی ہے یا وہ کمانے کے قابل ہوتے ہیں۔

    جہاں ان کے پاس دولت نہیں رہ جاتی یا وہ کمانے کے لائق نہیں رہ جاتے انہیں گھر میں بوجھ سمجھا جانے لگتا ہے، ایسا ہر گھر میں نہیں ہوتا، لیکن آج بیشتر گھروں میں بزرگوں کو اسی صورتحال کا سامنا کرنا پڑرہا ہے۔

    بات پھر وہیں پر آکر رک جاتی ہے کہ آخر اس کا ذمہ دار کون ہے؟ کیا وہ بچے جن کی پرورش ان ہی بزرگوں نے بڑے ناز و انداز سے تو کی، لیکن انہیں بزرگوں کی عزت کا سلیقہ نہیں سکھایا، انہیں یہ نہیں بتایا کہ وہ کبھی اپنے بچوں کے بیمار ہونے پر انہیں بوجھ نہیں سمجھا کرتے تھے، انہوں نے کبھی یہ سوچ کر انہیں تعلیم سے محروم نہیں رکھا کہ چھوڑو کون تعلیم دلوائے کہ اس میں اتنے پیسے خرچ ہوتے ہیں۔

    انہوں نے اپنے بچوں کو کبھی یہ احساس بھی نہیں ہونے دیا کہ انہیں اچھے اور عمدہ لباس پہنانے کیلئے دن رات کتنی محنت کرنا پڑتی تھی، ان کا پیٹ بھرنے کے لیے بعض اوقات وہ خود بھوکے رہ جایا کرتے تھے، لیکن انہیں پیٹ بھر کھانا کھلائے بغیر کبھی نہیں سلایا، بچوں کا مستقبل سنوارنے کے لیے انہوں نے اپنے آپ کو وقف کردیا، پھر ان کے ساتھ برا سلوک کیوں کیا جاتا ہے؟

    کیا نوجوان یہ سمجھتے ہیں کہ وہ کبھی بوڑھے نہیں ہوں گے؟ اپنے والدین اور بزرگوں کے ساتھ بدسلوکی اور بدتمیزی کرنے والے نوجوان والدین یہ بھول جاتے ہیں، کہ کل کو ان کی بھی اولاد جوان ہوگی اور کل وہ بھی بوڑھے ہوں گے، اور جو سلوک وہ اپنے ماں باپ اور بزرگوں کے ساتھ کررہے ہیں، ویسا ہی سلوک ان کے بچے ان سے کریں گے، اس لئے ضروت اس بات کی ہے کہ ہم اپنے بزرگوں کو اپنے آپ پر بوجھ نہ سمجھیں، بلکہ ان کی قربانیوں اور ان کی بزرگی کا خیال کرتے ہوئے ان کی تیمارداری, ان کی دل بستگی، ان کی پسند، ناپسند، ان کے آرام اور ان کی ضروریات کا بھر پور خیال رکھیں۔

    مانا کہ بزرگ بڑھاپے میں تھوڑے سخت اور چڑچڑے ہوجاتے ہیں، لیکن یہ عمر کا تقاضا ہے، ے ہیں کہ بچہ اور بوڑھا برابر ہوتے ہیں، یعنی جب انسان بوڑھا ہو جاتا ہے تو وہ بچوں جیسا برتاؤ کرنے لگتا ہے، اس کا ضد کرنا، بات بات پر چڑچڑاپن کا مظاہرہ کرنا بہت عام بات ہے، بزرگ بلکل اس بچے کی طرح ہوجاتے ہیں جو اپنی بات پوری نہ ہونے یا کسی چیز کے نہ ملنے پر ناراض ہوجاتا ہے یا چڑ جاتا ہے۔ ہمیں ان کی خدمت یوں کرنا چاہئے جیسے ہم اپنے بچے کی کرتے ہیں، ان کی خدمت نہ صرف دنیا میں آپ کو سرخرو کرے گی۔

    بلکہ آپ کی آخرت بھی سنور جائے گی، بوڑھوں کا بیمار ہونا، بات بات پر نکتہ چینی کرنا یا گھر ہی میں موجود رہنا بے شک آپ کو پریشان کرتا ہوگا، لیکن ان حالات میں ہی آپ کی صحیح آزمائش ہوتی ہے کہ آپ اپنے والدین کو یا گھر کے بزرگوں کو کتنی اہمیت دیتے ہیں، اور ان کی کتنی تیمارداری کرتے ہیں۔

    ایک طرح سے یہ آپ کا امتحان ہوتا ہے، اور اس امتحان میں کامیابی کے بعد ہی آپ دنیا و آخرت میں سرخرو ہوسکتےہیں۔

    یہاں بزرگوں سے بھی ایک گزارش ہے کہ وہ اپنے آپ کو اتنا کمزور اور لاچار نہ بنائیں، کہ بچے آپ کو بوجھ سمجھنے لگیں یا آپ سے چڑنے لگیں، یہ اس وقت ہی ممکن ہوسکتا ہے۔ جب بزرگ نہ صرف اپنے آپ کو مثالی والدین بنا کر پیش کریں گے، بلکہ بچوں کی تربیت بھی اس انداز میں کریں گے، کہ وہ عمر کے کسی بھی حصے میں آپ سے بدتمیزی کرنے کی ہمت نہ کرسکیں، اور نہ ہی آپ کے مشوروں کو رد کرسکیں، تو یقیناً حالات ٹھیک ٹھاک رہیں گے۔

    بعض بزرگ بلاوجہ گھر کے معاملات میں دخل دینے ہیں یا اپنی بات منوانے کے لیے بچوں کو برا بھلا بھی کہتے رہتے ہیں، بھلے ہی ان کی بات غلط ہو وہ اس بات پر زور دیتے ہیں کہ انہیں کی بات مانی جائے، ایسے میں حل کچھ نہیں نکلتا بلکہ اولاد اور والدین کے درمیان تلخیاں بڑھ جاتی ہیں۔

    اس لیے بزرگوں کو بھی عمر اور تجربے کی بناء پر سمجھداری اور مصلحت سے کام لیتے ہوئے اپنے خاندان کو آگے بڑھانے میں مدد دینی چاہئے اور نوجوانوں کو بھی ان کا ساتھ دینا چاہئے۔ تب جاکر نوجوانوں اور بزرگوں کے بیچ کی اس خلش کو ختم کیا جاسکتا ہے۔ مسلم معاشرے میں اسلامی تعلیمات کو پیش نظر رکھتے ہوئے بزرگوں کے احترام اور ان کی ضروریات کا خیال رکھنا بے حد ضروری ہے۔

    Twitter: @msudaise0

  • فتنہ قادیانیت اور آئین پاکستان. تحریر تیمور خان

    جو چیز بھی اللہ تبارک و تعالٰی نے اس کائنات میں مکرم اور مشرف پیدا فرمائی ہے اور جن جن چیزوں کو اللہ تعالیٰ نے اس کائنات میں عزت اور تکریم سے نوازا ہے ان چیزوں کے وقات کو ختم کرنے کیلئے اس دنیا میں بہت ساری شیطانی اور  قواتیں  پیدا ہے

     جو چیز جتنی معزز اور مشہور ہوتی ہیں اس چیز کی بہت سارے دشمن  بھی پیدا ہوتے ہیں.

     اللہ تعالیٰ نے ایک معزز اور مکرم دین بنا کے ہمارے لئے بیجھا ہے پوری دنیا میں اسلامی تعلیمات کو حاصل کرنے کے لئے غیر بھی فائدہ حاصل کرتے ہیں اسی طرح اسلامی تعلیمات کو ختم کرنے کے لئے بہت ساری قوتیں اس دنیا میں آج بھی موجود ہے اسلام کو بدنام اور ختم کر نے کے لئے 14 سو سال سے تحریکیں چل رہی ہے کچھ ظاہر ہے کچھہ پوشیدہ ہیں

     لکین چونکہ اللہ کا وعدہ ہے کہ اللہ نے اپنے رسولﷺ کو وہ دین دے کے بیجھا ہے وہ حق دے کے بیجھا ہے کہ جس نے تمام ادیان پہ پوری دنیا پہ غالب آجانا ہے اور اس پہ کوئی چیز بھی غالب نہیں آنی.

     اسی غلبے کے لئے ہر دور میں جتنے بھی دشمنانے اسلام آئے اور جو انہوں نے ظاہر اور پوشیدہ اسلام کے خلاف منصوبے بنائے اللہ تبارک وتعالیٰ نے ہر زمانے میں ان کے منصبوں کو خاک میں ملایا انہی منصبوں میں سے انہی مظلوم مقاصد میں سے اسلام کو ختم کرنے کے لئے اور خصوصاً مسلمانوں کے دلوں میں سے اسلام کے وقات کو مٹانے کے لئے حضور نبی کریم صلی اللّٰہ علیہ وسلم کے عشق و محبت کو ختم کرنے کے لئے دنیا میں جتنی بھی تحریکیں چلی ہیں ان تمام تحریکوں میں ایک بنیادی تحریک جو چل رہی ہے وہ ہے ختمِ نبوت کے قانون کو ختم کرنے کی کوشش کرنا.

     سرکارِ دوعالم ﷺ نے اپنی حیات طیبہ میں ہی یہ پیشنگوئی فرما دی تھی، کہ میرے بعد تیس 30 اسے قذاب اور جھوٹے آئنگے قیامت تک  ان میں سے ہر ایک یہ دعویٰ کرے گا کہ وہ نعوذ باللہ نبی ہیں لیکن وہ جھوٹے ہونگے آپﷺ نے اپنی امت کو جتنے بھی فتنوں سے آگاہ کیا ان میں سے ایک فتنہ یہ بھی تھا کہ ہر دور میں ہر علاقے میں ایک مدعی نبوّت پیدا ہوگا جو کہ نبوّت میں اپنی شراکت ظاہر کریگا۔

     اسی لیے سرکارِ دوعالم ﷺ کے حیات طیبہ کے آخری ایام میں یمن میں ایک شخص اٹھا جس کا نام مسلمہ تھا اس نے نبوّت کا دعویٰ کیا اسی زمانے میں ایک دوسرا شخص تھا جس کا نام اسود انسی اس نے نبوت کا دعویٰ کیا اسی زمانے میں ایک عورت اس نے بھی العیاذ بااللہ نبوّت کا دعویٰ کیا لیکن جونہی اسی زمانے حضرت صدیق اکبر 

      کا دور خلافت آیا، آپ نے اسی زمانے میں جتنے بھی سازشیں کرنے والے قوتیں، اسلام سے انکار کرنے والے اور ختمِ نبوت کے قانون میں ترمیم کرنے والے تمام قوتوں کو جڑ سے اکھاڑ پھینکا۔

     لیکن سرکارِ دوعالم ﷺ کی حدیث مبارک ہے آپ نے فرمایا کہ قیامت تک تیس دجالی پیدا ہونگے انہی دجالین میں سے ہمارے برصغیر پاک وہند میں ایک فتنہ پیدا ہوا جنہیں قادیانی فتنہ کہا جاتا ہے قادیانی فتنے کو بڑی منصوبہ بندی کے ساتھ اٹھایا گیا لیکن جن جن قادیانیوں اور کذابوں نے نبوّت کا جھوٹا دعویٰ کیا ہے ان میں ضرور یہود اور نصاریٰ کا ہاتھ ہے جب 1856 میں انگریزوں کو شکست ہوئی تو انہوں نے  مرزا غلام احمد قادیانی جو کہ ہندوستان کے علاقے قادیان کا رہنے والا تھا اس شخص کو اٹھایا ان کا یہ مشن تھا کہ کے مسلمانوں میں اسے فتنے پیدا کیے جائیں تاکہ کے یہ تقسیم ہو سکے۔ لیکن آج تک فتنہ قادیانیت ایک چیز کے لئے ہم مسلمانوں کے دلوں میں شکوک وشبہات ڈالنے کے لئے استعمال کرتاہے  کہ ہم مسلمان جب بھی قادیانی کے خلاف جب بھی ختمِ نبوت کی بات کرتے ہیں کہ ہمارے نبی خاتم النبیین ہیں تو مرزا غلام احمد قادیانی اور آج بھی ان کے پیروکار وں کا یہی طریقہ ہے کہ ہم ختمِ نبوت کے منکر نہیں ہے لیکن اگر آپ ان کو کہیں کے ختمِ نبوّت کا آپ معنیٰ کیا کرتے ہیں تو پھر معنیٰ  وہ غلط کرتے ہیں جو اسلام کے خلاف ہے البتہ یہودیوں اور عیسائیوں میں بھی یہ بات  ہے کہ سرکارِ دوعالم ﷺ کے بعد کوئی نبی نہیں آئے گا، حضور نبی کریم ﷺ کے ختمِ نبوّت کا جو عقیدہ ہے کہ آپ خاتم النبیین ہیں یہ صرف اسلام کا عقیدہ نہیں ہے بلکہ یہ یہودیوں اور عیسائیوں کے کتابوں میں بھی موجود ہے یہ ہمارا چودہ سو سالہ اجماعی عقیدہ ہے ہے کہ جو شخص بھی نبوّت کا دعویٰ کرے گا وہ کافر ہوگا اور اس کا یہ دعویٰ یہ نبوت بلکل باطل ہوگا۔ اور جو شخص اس کو نبی مانے گا یا اس کے متعلق دل میں اس کے نبوت کا ارادہ کرے گا کہ ہو سکتا ہے یہ ایسا ہو تو اس شخص کے ایمان کو بھی خطرہ ہے  یہ شخص بھی دائرہ  اسلام سے خارج ہے ۔ 

    یاد رکھیں فتنہ قادیانیت ہمارے برصغیر پاک وہند میں بہت بڑا فتنہ ہے اور سب سے بڑی دلیل اس کی بطلان کی یہی ہے کہ یہودی اور عیسائی اس کے پشت پہ ہے یہ غیروں کی پیداوار ہے صرف اور صرف انتشار پھیلانے اور مسلمانوں کو آپس میں لڑانے کے لیے۔ بہت سارے اسلامی ممالک نے فتنہ قادیانیت کو اپنے آئین میں قادیانیوں کو کافر قرار دیا اور الحمدللہ ہمارے ملک پاکستان میں بھی یہی ستمبر کا مہینہ تھا 7 ستمبر  1974 کو ہمارے ملک پاکستان کے آئین میں بھی پوری قومی اسمبلی نے یہ قرارداد پیش کی اور وزیراعظم اسلامی جمہوریہ پاکستان ذوالفقار علی بھٹو نے دستخط کر کے یہ مہر سبت کر دی کہ جب تک پاکستان قائم رہے گا اس میں قادیانی کافر ہی رہے گا اسی لئے ستمبر کا مہینہ اور 7 ستمبر کا دن اسی لئے بھی اہم  ہے کہ فتنہ قادیانیت کو یہاں سے جھڑ سے اکھاڑ کر پھینک دیا گیا اور ذولفقار علی بھٹو کے تاریخی الفاظ کے زندگی میں شاید کوئی اچھا کام کیا ہو لیکن اس ایک دستخط کے وسیلے سے اللہ تعالیٰ میری مغفرت نصیب فرمائے گا الحمدللہ ہمارا یہ عقیدہ ہے کہ قادیانی کافر ہی اور رہے گا اسی لئے ہمیں خود بھی فتنہ قادیانیت سے بچنا ہے اور اپنے دوست احباب کو بھی بچانا ہے۔,,

    @ImTaimurKhan

  • اسلام اور ہمارا کردار تحریر:کرنل ریٹائرڈ افتخار نقوی

    اسلام اور ہمارا کردار تحریر:کرنل ریٹائرڈ افتخار نقوی

    آجکل ہمارے معاشرے میں مغرب سے ایک نیا شوشہ چھوڑا گیا ہے جس سے اسلام میں تقسیم کی جا رہی ہے۔ لبرل اسلام، متشدد اسلام، متوازن اسلام وغیرہ جو لایعنی اور لغو باتیں ہیں۔ دین اسلام یا تو قبول کیا جاتا ہے یا نہیں قبول کیا جاتا۔ اس میں دو رائے نہیں کہ ایسی فضول تقسیم سے مسلم امہ اپنے آپکو متوازن مسلمان بنانے کے چکر میں لغویات میں کھونا شروع کر دیتے ہیں۔
    اسلام کا لفظ "س- ل- م” سے مشتق ہے جس کے معنی صحت، عافیت اور ہر قسم کی عیب، نقص اور فساد سے دوری کے ہیں۔
    نیز اسلام کا ایک معنی بغیر کسی قید و شرط کے مکمل اطاعت اور فرمانبرداری بھی ہے اسی طرح خدا کے حکم پر کامل یقین اور اس کی عبادت میں اخلاص رکھنے کو بھی اسلام کہا جاتا ہے۔
    یعنی اگر ایک شخص اسلام قبول کر لے لیکن احکاماتِ اسلام سے منحرف ہو تو یا تو گناہگار تصور کیا جائے گا یا پھر دائرہ اسلام سے خارج۔ مثلا” ایک شخص نماز کو فرض تو سمجھتا ہے لیکن سستی، کاہلی، مصروفیت، طہارت وغیرہ کو بہانہ بنا کر نماز سے دور رہے تو اسے گناہگار تصور کیا جائیگا لیکن اگر نماز سے انکار کرے یا فرض نہ مانے تو ایسا شخص دائرہ اسلام میں نہیں رہتا۔
    کسی شئے کو حلال یا حرام ماننا اور اس کو اپنانا یا دور رہنا بھی اسی مثال کی طرح احکامات پر عمل کرنا ہے۔ اسلام میں انسان کے کردار کی اہمیت کو سب سے زیادہ اہمیت دی گئی ہے۔ جیسے ایک شخص روزہ دار ہو تو اس کے روزے کا علم فقط اللہ کو ہوتا ہے یا روزہ دار کو خود علم ہوتا ہے۔ قریب ترین شخص بھی اس کے روزے پر گواہ نہیں ہو سکتا۔ بالکل اسی طرح نماز کیلئے طہارت و وضو کرنا اور پھر خلوت میں نماز ادا کرتے ہوئے فقط اللہ سبحانه وتعالى کے حضور ہوتا ہے۔ کیسے ادا کی، کتنا خشوع و خلوص تھا، یہ بھی اللہ ہی گواہ ہے ناکہ کوئی دوسرا۔ یہ فقط نمازی کے کردار پر منحصر ہے کہ وہ کیسے ادا کرے۔ خیانت کرنے والے کو اللہ ڈھیل دیتا ہے مگر ایک دن اس سے جواب لازمی طلب ہو گا۔

    اسلام میں جو کچھ ہم کرتے ہیں، سونا، اٹھنا، بیٹھنا، چلنا پھرنا، آنکھ کا استعمال، ہاتھ کا استعمال، زبان کا استعمال، کان کا استعمال وغیرہ۔۔۔ سبھی پر سوال ہوگا۔

    کردارسازی ماں کی گود سے ہوتی ہے۔ اگر کسی انداز سے ماں باپ بچے کو دھوکہ دہی، جھوٹ بولنا سکھاتے ہیں تو یوں اس بچے کا کردار بنیاد سے تباہ ہو جاتا ہے۔ جیسے کئی بار مشاہدہ میں آتا ہے کہ کوئی مہمان ضرورتمند آجائے تو صاحبِ خانہ ملاقات کسی وجہ سے نہ کرنا چاہیں تو اپنے بچوں کے ذریعہ کہلوا بھیجتے ہیں، "انکل! ابو گھر پر نہیں ہیں۔ آپ بعد میں آ جائیں۔” وغیرہ۔

    ایک باپ یا ماں اپنے بچے کی تربیت کیلئے ماڈل کی حیثیت رکھتے ہیں۔ اگر بچپن سے ہی ایسے کبیرہ گناہوں کو عملی سبق بنا کر بچوں کو سکھایا جائیگا تو بچے جھوٹ بولنے کو کبھی غلط نہیں مانیں گے۔ یہ وہ بنیادی معاملہ ہے جس کی وجہ سے تمام بچے بڑے ہوکر جھوٹ بولنا عام سے بات سمجھتے ہیں۔ یہی بچے جو کل بڑے ہوکر ملک کی قیادت سنبھالتے ہیں، سیاستدان، ڈاکٹر، انجینئر، سرکاری افسران، حکام، عمال، حتاکہ عام مزدور بھی بنتے ہیں تو سب کا اگر کردار جھوٹ کی بنیاد پر تعمیر کیا گیا ہو تو آپ سمجھ سکتے ہیں کہ ان عہدوں پر بیٹھ کر جھوٹ سچ ملا کر کیسے عوام کو بےوقوف بنایا جاتا ہے۔

    اسی طرح رشوت بھی خاص دخل رکھتی ہے ہماری زندگی میں۔ بچوں کو سکول بھیجنے کیلئے، کسی کام کے کرنے کیلئے اکثر دیکھا گیا ہے کہ والدین لالچ دیتے ہیں کسی انعام کا۔ اب جب بچونکو بچپن سے ہی لالچی بنا دیا جائے اور انعام کے نام پر رشوت کی برائی سے آشنا کر دیا جائیگا تو سوچئے کہ وہی بچے معاشرے میں بڑے ہوکر اہم منصب پر بیٹھ کر کیسے تباہی لاتے ہیں۔
    اسلام ہر ایسے عمل سے روکتا ہے۔ اسلام میں اگرچہ بظاہر لالچ نظر آتا ہے کہ صالح لوگوں کیلئے جنت کی لالچ اور بدعنوان لوگوں کیلئے جہنم کا خوف رکھا گیا ہے۔ لیکن وہ وعدے اس دنیا کیلئے نہیں بلکہ ابدی زندگی کیلئے ہیں۔
    بنیادی عبادات کو لالچ اور خوف سے پاک رکھنے کی ترغیب دی گئی ہے۔ جیسے حضرت علی علیہ السلام کا مشہور فرمان ہے، "میں اپنے رب کی عبادت نہ تو جنت کی لالچ میں کرتا ہوں اور نہ ہی جہنم کے خوف سے بلکہ وہ وحده لاشريك اس لائق ہے کہ فقط اس کی عبادت کی جائے۔” اس پیغام میں بہت بڑی حکمت پوشیدہ ہے۔ یہ لالچ اور خوف کو عبادت سے رد کرنے کا نظریہ ہے۔ عبادت اگر خالص نہ ہو تو کردارِ عبادت اور کردارٍ عبد دونوں ہی مشکوک ہو جاتے ہیں۔
    اسلام فقط دینِ عبادت بھی نہیں۔بلکہ دینِ اسلام مکمل ضابطہُ حیات ہے۔ اس میں معاشرت سے لیکر اخلاقیات، سیاست سے لیکر معاشیات تک ہر شئے کا نظام موجود ہے۔ اسلام قبول کرنے والے کسی ایک کو قبول اور باقی کو رد کرنے کی نہ تو طاقت رکھتے ہیں اور نہ ہی اہلیت۔ لازم ہے اسلام میں پورے کے پورے داخل ہو جائیں۔ یہی قرآن میں اللہ ارشاد فرماتا ہے:

    يٰۤاَيُّهَا الَّذِيْنَ اٰمَنُوا ادْخُلُوْا فِى السِّلْمِ کَاۤ فَّةً ۖ وَّلَا تَتَّبِعُوْا خُطُوٰتِ الشَّيْطٰنِ ۗ اِنَّهٗ لَـکُمْ عَدُوٌّ مُّبِيْنٌ
    البقرۃ (٢:٢٠٨)

    ترجمہ: اے ایمان والو اسلام میں پورے پورے داخل ہو جاؤ اور شیطان کے قدموں کی تابعداری نہ کرو وہ تمہارا کھلا دشمن ہے۔

    یہاں پورے پورے داخل ہونے سے مراد یہی ہے کہ احکاماتِ الہی کو جوں کا توں بغیر حیلہ و حجت تسلیم کیا جائے۔ احکامات میں تدبر اختیار کرنے کا حکم نہیں، کہ انسان اپنی مرضی سے کسی عمل کو بدلنے کی کوشش کرے۔ مثلا” اگر فجر کی دو رکعت رکھی ہیں تو کوئی مواحد یہ چاہے کہ وہ چار رکعت پڑھے تو نماز باطل ہے۔
    اسلام میں سب کے فرائض موجود ہیں، اور دوسروں کو دینے کیلئے حق بھی بتا دیے گئے ہیں۔ فرائض کیلئے کسی کو انتظار نہیں کرنا چاہیے بلکہ وقت افضل میں ادا کر لے تو مناسب ترین ہے۔ جبکہ حق ادا کرنا بھی اسی طرح فرض اولین ہے، کہ کوئی حق مانگے، اس سے پیشتر ہی حق ادا کر دیا جائے۔
    آج ہم جس معاشرے میں جی رہے ہیں وہاں تربیت کا فقدان ہی اس لئے ہے کوئی کام بھی ہم فرض جان کر نہیں کرتے، اور دوسروں کو حق ناصرف روک لیتے ہیں بلکہ انکی حق تلفی کرتے ہیں جو اسلام کی بنیادی تعلیمات کے منافی ہے۔
    اگر ہم اپنے فرائض سرعت سے انجام دیں تو حق ہمیں خود بخود ملیں گے۔ لیکن ہمارے یہاں تو گنگا ہی الٹی بہتی ہے۔ ہمارا حق دو جبکہ فرائض کی ادائیگی کیلئے کوئی تیار نہیں۔
    قارئین کرام! اگر ہم اپنے بچوں کی تربیت گھروں میں درست راہ پر کرنا شروع کر دیں تو یقین جانیں ہمارا معاشرہ جنت بن سکتا ہے۔ یہ موضوع بہت طویل اور وقت قلیل ہے۔ مجھے ڈر ہوتا ہے کہ میرے قارئین مضمون کی طوالت سے اپنی دلچسپی چھوڑ بیٹھیں۔ لیکن اہم پیغام یہی ہے کہ تمام احباب کو اپنی سعی کرنا ہے تاکہ ہم معاشرے میں اپنا کردار احسن اور مثبت انداز میں ادا کر سکیں۔
    والسلامُ عليكم ورحمة الله وبركاته
    لاہور
    ٤ ستمبر ٢٠٢١ء

  • ‏تمباکو نوشی کی عادت کے مضر اثرات  تحریر: یاسر اقبال خان

    ‏تمباکو نوشی کی عادت کے مضر اثرات تحریر: یاسر اقبال خان

    تمباکو نوشی کیا ہے:

    ہر زندہ انسان کے ساتھ اس کی اچھی صحت ایک عظیم نعمت ہے اگر کسی شخص کے پاس صحت نہیں تو خواہ اس کے ساتھ دولت کے انبار بھی موجود ہو اس کے پاس دنیا کی تمام آسائشیں ہو تو اس کی کوئی اہمت نہیں۔ پھر یہ سب اس شخص کیلئے بےکار ہوتا ہے لیکن اس حقیقت کے باوجود لوگ تمباکو نوشی کا استعمال کرتے ہیں جس سے متعلق لوگوں کو پتا بھی ہوتا ہے کہ تمباکو نوشی انسان کیلئے ذہنی و جسمانی طور پر مفید نہیں ہے۔ افسوس کی بات یہ ہیں کہ ہر گزرتے دن کے ساتھ پاکستان سمیت دنیا بھر میں تمباکو نوشی کا استعمال عام ہو رہا ہے۔ مرد و خواتین کی ایک بڑی تعداد تمباکو نوشی کا استعمال کر رہے ہیں۔ دور جدید میں نوجوان نسل لڑکے اور لڑکیاں شروع میں تمباکو نوشی کا استعمال فیشن کے طور پر کرتے ہیں جب یہ نوجوان نسل خاص کر یونیورسٹیوں اور کالجوں میں تمباکو نوشی کا استعمال بطور فیشن شروع کردیتے ہیں تو پھر وقت گزرنے کے ساتھ یہ نوجوان لڑکے لڑکیاں اس تمباکو نوشی کے نشے کے دلدل میں پھنس جاتے ہیں۔ پھر ان کیلئے تمباکو نوشی کے نشے سے نکلنا مشکل ہوجاتا ہے اور جوانی سے لے کر بڑھاپے تک تمباکو نوشی کے نشے کے ساتھ ان کی زندگیاں گزر جاتی ہے۔ تمباکو نوشی کے نشے کے انسانی صحت پر بہت مضر اثرات ہیں تمباکو نوشی کے نشے کے عادی لوگ بہت سی بیماریوں میں مبتلا ہوتے ہیں۔ تمباکو نوشی کا مطلب تمباکو سونگھنا مثلا سگریٹ، پائپ، سگار، حقہ، شیشہ وغیرہ کے ناموں سے مختلف طریقے ہیں جس سے تمباکو سونگھنا جاتا ہے اور تمباکو کو کھاناجیسا کہ پان، چھالیہ، گٹکا وغیرہ جیسے طریقوں کا استعمال کرکے۔ تمباکو نوشی کرنے کے جتنے بھی طریقے ہیں یہ تمام عادات انتہائی خطرناک ہیں اور صحت کے لیے انتہائی مضر ہیں۔ ایک بہت افسوس اور فکر مند ہونے کی بات یہ ہے کہ پاکستان سمیت تمام ممالک میں سگریٹ و تمباکو نوشی کرنے والے لوگوں کی شرح تیزی سے زیادہ ہو رہی ہے۔ تمباکو نوشی کرنے والوں کے اس اضافے کا بڑا سبب ان تمام ممالک کا نوجوان طبقہ ہے۔

    سگریٹ نوشی کی وباء عالمی صحت کو لاحق خطرات میں سب سے زیادہ تباہ کن ہے۔ ورلڈ ہیلتھ آرگنائزشن کے ایک محتاط اندازے کے مطابق دنیا میں ہر سال ساٹھ لاکھ افراد تمباکو نوشی کی وجہ سے مختلف بیماریوں میں مبتلا ہو کر اپنی جان کی بازی ہار کر مر جاتے ہیں۔ تمباکو نوشی سے مرنے والے افراد میں 6 لاکھ سے زیادہ اموات ایسے لوگوں کی ہوتی ہے جو خود تو تمباکو نوشی نہیں کرتے لیکن ان کے اردگرد ماحول میں موجود تمباکو نوشی کے دھوئیں کے باعث موت کا شکار ہوجاتے ہیں۔

    تمباکو نوشی کی عادت کیوں پڑ جاتی ہے:

    تمباکو کے اندر موجود نکوٹین ایک کیمکل ہوتا جو سگریٹ پیتے وقت انسان کے جسم میں داخل ہوتا ہے۔ یہ نکوٹین انسانی دماغ میں موجود کیمیکل مثلاً ڈوپامائن اور اینڈروفائن کی سطح میں اضافہ کرتا ہے۔ اس کیمکل کی وجہ سے انسان کو تمباکو کے نشے کی عادت پڑ جاتی ہے۔ انسانی جسم میں یہ کیمیکل مصنوعی خوشی یا مستی کی حسیات کو بیدار کردیتے ہیں جس کی وجہ سے سگریٹ نوشی کرنے والوں کے اعصاب پر تمباکو کی طلب ہونا شروع ہوجاتی ہے۔ تمباکو نوشی کے صحت پر مضر اثرات ہونے کے باوجود پھر اس نشے کو ترک کرنا اس فرد کیلئے بہت مشکل ہوجاتا ہے اور فیشن کے نام پر تمباکو نوشی شروع کرنے والا نوجوان لڑکا یا لڑکی اس مضر صحت نشے میں پھنس جاتا ہے۔ یہ نشہ بہت آہستگی سے جسم کے مختلف اعضاء کو ایسے نقصانات پہنچانا شروع کر دیتی ہے کہ تمباکو نوشی کا عادی ایک مرد یا عورت کو کئی برس گزرنے کے بعد اس کے جسم کے اندر ہوتے ہوئے نقصانات واضح نہیں ہو پاتے لیکن جب اسکو نقصانات واضح ہوجاتے ہیں تو تب اس انسان کا جسم تمباکو کے نشے کا مجموعی طورپر عادی ہوا ہوتا ہے اور پھر اس کو اس سے جان چھڑانا بہت مشکل ہوجاتا ہے۔

    تمباکو نوشی کے انسانی جسم پر مضر اثرات:

    تمباکو کے دھوئیں میں تقریباً 4000 کیمیکلز ہوتے ہیں، جو انسانی صحت کیلئے نہایت نقصان ده ہوتے ہیں جس کی وجہ سے انسان بہت ساری بیماریوں کا شکار ہوتا ہے ان بیماریوں میں کچھ یہ ہیں:

    1) تمباکو میں 50 سے زائد ایسے کیمیکلز ہیں، جو انسانی جسم کو کینسر میں مبتلا کرنے کا باعث بن سکتے ہیں۔

    2) سگریٹ کے ذریعے تمباکو کے دھوئیں سے انسانی جسم میں خون کی نالیاں سخت ہوجاتی ہیں، جس سے ہارٹ اٹیک اور اسٹروک کا خطرہ بڑھ جاتاہے۔

    3) تمباکو کے دھوئیں میں کاربن مونواکسائیڈ گیس ہوتی ہے، جو خون میں آکسیجن کی کمی کا باعث بن جاتی ہے جس کی وجہ سے  سگریٹ نوش سانس کی بیماریوں کا شکار ہو جاتا ہے۔ 

    4) تمباکو نوشی انسانی پھیپھڑوں کو نقصان پہنچاتی ہے اس سے انسان پھیپھڑوں کے كینسر جیسی بیماری میں مبتلا ہوتا ہے جس سے سانس لینے میں دشواری اور پھیھپڑوں کو مناسب آکسیجن نہیں ملتی، جس سے دوسرے اعضاء خاص طور پر دماغ بہت متاثر ہوتا ہے اور تمباکو نوشی سے متاثرہ مریض کا سانس بند ہونے سے موت واقع ہو جاتی ہے۔

    5) سگریٹ نوشی کرنے والے لوگوں کیلئے عام افراد کی نسبت دل کی بیماری میں مبتلا ہونے کا خطرہ دگنا ہوتا ہے۔

     6) تمباکو کی وجہ سے خون کی شریانیں سخت ہوجاتے ہیں اور پھر دل کے پھٹوں کو خون کی فراہمی بند ہوتی ہے اور انسان کو دل کا دورہ پڑ جاتا ہے۔ 

    7) سگریٹ نوشی کرنے کی وجہ سے انسانی دماغ کو خون کی فراہمی کم ہو جاتی ہے اور وہ شخص ہیمبرج کا شکار ہو جاتا ہے۔

     8) تمباکو نوشی سے جسم کی ہڈیاں کمزور ہوتے ہیں اور ہڈیوں کے ٹوٹنے کا خطرہ بڑھ جاتا ہے۔

    9) اکثر کیسز میں سامنے آتا ہے کہ تمباکو نوشی منہ، خوارک کی نالی، گلا، جگر، معدے، لبلبہ، مثانہ اور گردے کے کینسر کا باعث بھی بنتی ہے۔ 

    10) تمباکو چبانے اور سونگھنے والے افراد کو منہ، مسوڑھوں اور گلے کا کینسر جیسی بیماریوں کا سامنا کرنا پڑتا ہے۔ 

    تمباکو نوشی کے انسانی جسم پر ان تمام برے اثرات کو دیکھتے ہوئے نوجوان نسل کو یہ مضر صحت نشہ بلکل بھی اختیار نہیں کرنا چاہئے۔ والدین کیلئے ان کے نوجوان اولاد ایک سہارا ہوتے ہیں تو تمباکو نوشی جیسے نقصان ده عادات کو کبھی نہیں اپنانا چاہئے مضر صحت بیماریوں سے بچ کر اپنے خاندان کو اپنی قربت سے محروم نہیں کرنا چاہئے۔ اگر ہم تمباکو نوشی جیسے  مضر صحت نشے سے اجتناب کریں گے تو اپنے خاندان پر کبھی مالی و ذہنی بوجھ نہیں بنیں گے۔

    Twitter: ‎@RealYasir__Khan

  • ‏جنسی زیادتیوں کو روکنے کا بہترین طریقہ قرآن اور سنت کے احکامات ہیں تحریر اکرام اللہ نسیم

    ‏جنسی زیادتیوں کو روکنے کا بہترین طریقہ قرآن اور سنت کے احکامات ہیں تحریر اکرام اللہ نسیم

    اللہ رب العزت کا ہم سب پاکستانیوں پر بہت بڑا کرم ہے
    کہ اللہ رب عزت نے ہمیں پاکستان جیسے آزاد ملک میں پیدا کیا جہاں ہر قسم کے مذہبی اعمال ایک مسلمان آزادی سے ادا کرتا ہے جس پر ہم رب کریم کا جتنا بھی شکر ادا کریں کم ہیں
    اب ہمارے پیارے ملک پاکستان میں بے حیائی اور درندگی کا طوفان اٹھا ہے اور وہ بے حیائی کا درندگی کا طوفان جنسی زیادتیوں کی صورت میں پاکستان کے طول وعرض میں بہت تیزی سے پھیل چکا
    اب اسکے روک تھام کے لئے ہر شعبے سے وابستہ رہنے والا قاضی ہو یا قاری ہو
    خطیب ہو یا ادیب ہو صحافی ہو یا سپاہی ہو ڈاکٹر ہو یا کرکٹر سیاستدان ہو یا قانون دان ہو جنرل ہو یا کرنل فقیر ہو یا امیر ان سب کی یہ زمہ داری بنتی ہے کہ جنسی زیادتیوں کے روک تھام کے لئے آگے بڑھے اور معاشرے میں اپنا کردار ادا کرے تاکہ معاشرہ انسانوں کا معاشرہ لگے حیوانوں کا نہیں
    اب آئیں آپ کے سامنے صرف ایک شہر کا ریکارڈ رکھتے ہیں کہ
    رواں برس پاکستان کے دل لاہور میں زیادتی کے 369 کیس سامنے آئے جس میں کسی بھی ایک ملزم کو سزا نہیں ہوئی
    اور یہی بنیادی وجہ ہے کہ جنسی زیادتیوں میں ملوث افراد کو نہ سزا دی جاتی ہے نہ انکو بھاری جرمانہ کیا جاتا
    اگر واقعتاً پاکستان کے باسی اور اسکے تمام ادارے پاکستان میں جنسی زیادتیوں کو روکنا چاہتے ہیں تو سب سے پہلے قرآن اور احادیث مبارکہ میں جو احکامات زانیہ عورت اور زانی مرد کے لئے ہیں اسکو عمل میں لایا جائے جسطرح کے قرآن مجید میں ہے
    الزَّانِيَةُ وَالزَّانِي فَاجْلِدُوا كُلَّ وَاحِدٍ مِّنْهُمَا مِائَةَ جَلْدَةٍ ۖ وَلَا تَأْخُذْكُم بِهِمَا رَأْفَةٌ فِي دِينِ اللَّهِ إِن كُنتُمْ تُؤْمِنُونَ بِاللَّهِ وَالْيَوْمِ الْآخِرِ ۖ وَلْيَشْهَدْ عَذَابَهُمَا طَائِفَةٌ مِّنَ الْمُؤْمِنِينَ

    جو زنا کرنے والی عورت ہے اور جو زنا کرنے والا مرد ہے، سو دونوں میں سے ہر ایک کو سو کوڑے مارو اور تمھیں ان کے متعلق اللہ کے دین میں کوئی نرمی نہ پکڑے، اگر تم اللہ اور یوم آخرت پر ایمان رکھتے ہو اور لازم ہے کہ ان کی سزا کے وقت مومنوں کی ایک جماعت موجود ہو۔
    یہاں اس آیت میں زانیہ اور زانی کے ساتھ نرمی کرنے سے واضح منع کیا گیا ہے
    ملک پاکستان میں زانی اور زانیہ کا قانون نرمی پر مبنی ہے اس نرمی کا اندازہ آپ لاہور میں 369 جنسی زیادتیوں کے کیسز سے لے سکتے ہیں کہ اسمیں سے کسی کو بھی سزا نہیں ہوئی
    اور آئے روز جنسی زیادتی کے کیسز میں اضافہ ہوتا جا رہا ہے
    جب تک اللہ رب العزت کے نازل کردہ احکامات ملک پاکستان کا قانون نہیں بن جاتے جنسی زیادتی کے واقعات میں دن بدن اضافہ ہوگا کمی نہیں ہوگی
    جنسی زیادتی میں شامل دو چار لوگوں کو اگر ڈی چوک میں کھڑا کرکے شرعی سزا دی جائے اور اسکو تمام ٹی وی چینلز پر لائیو دیکھا جائے
    اس سے لوگوں کے دلوں میں خوف آجائے گا کہ اسکی اتنی بڑی سزا ہے جب دل میں۔ خوف پیدا ہوجائے تو انسانی فطرت ہے کہ جس جگہ میں اسکو خوف ہو وہ اس کام سے رک جاتا ہے
    مگر بدقسمتی سے ایک اسلامی ملک کے اندر اسلام کے مطابق سزا کا نفاذ نہیں جنسی زیادتیوں میں ملوث درندے کبھی قبر سے عورت کا میت نکال کر کبھی چھ سال کی بچی کو کبھی دس کی بچی کو اپنی ہوس کا نشانہ بناتے ہیں
    ‎@realikramnaseem ٹویٹر ہینڈل

  • مینٹل ہیلتھ  تحریر: خالد عمران خان

    مینٹل ہیلتھ تحریر: خالد عمران خان

    ذہنی پسماندگی ہمارے ہاں بڑھتی چلی جارہی ھے اور سب سے بڑی جہالت یہ ھے کہ ہمارے ہاں زہنی مرض کو بیماری سمجھنے کی بجائے لوگ دیگر عوامل کا شاخسانہ قرار دیتے ہیں۔ جہالت کا اندازہ اس بات سے لگایا جاسکتا ھے کہ زہنی مریض کو اکثر جنات کے زیر اثر قرار دے دیا جاتا ھے جس کی وجہ سے زہنی مریض کو باقاعدہ علاج کی بجائے پیری فقیری کے چکروں میں ڈال دیا ھے جاتا ھے جو کہ انتہا درجے کی جہالت کا واضع ثبوت ھے۔

    اگر ہم تاریخ کا مطالعہ کرتے ہیں تو ہمارے سامنے بہت سے ایسے معاشروں اور تہذیبوں کی مثالیں آتی ہیں جس سے ہمیں پتہ چلتا ھے کہ بہت سے معاشرے اور تہذیبیں گردش وقت میں گم ہوگئیں، ہمارے معاشرے میں جو دن بہ دن بگاڑ سامنے آرہا ھے اس میں سب سے بڑا مسئلہ انسانی رویوں کا خوفناک حد تک بگاڑ ھے جو کہ تشویش کی بات ھے۔اب اگر ہم ایشائی ممالک کا تجزیہ کرتے ہیں تو اول تو زیادہ تر کو زہنی امراض سے آگاہی ہی نہیں ھے بالفرض اگر معلوم ہو بھی جائے تو ہمارے ہاں چیزوں کو چھپانے کا رواج عام ھے یہاں لوگ زہنی امراض کو چھپا کر رکھتے ہیں، زہنی امراض کو باعث شرمندگی قرار دیا جاتا ھے اگر نوجوانوں میں یہ مسئلہ ہو تو اس لئے بھی خفیہ رکھا جاتا ھے کہ اگر کسی کو پتہ چل جاتا ھے ان کی زینی بیماری کا تو بہت سے مسائل جنم لے سکتے ہیں اور اہم مسئلہ یہ کہ ان کی شادی بھی ناممکن ہوجائے گی۔ اصل میں ڈپریشن کے لئے کوئی مخصوص لفظ نہیں ھے اس سے متاثرہ لوگوں کے بارے میں یہ تاثر دیا جاتا ھے کہ انہیں زندگی کے نشیب و فراز کا سامنا ھے۔ عالمی ادارہ صحت اپنی ایک رپورٹ میں بتاتا ھے کہ دنیا بھر میں تقریباً 45 کروڑ افراد کسی نہ کسی دماغی بیماری میں مبتلا ہیں۔ذندگی کے سہل پسند معاملات نے انسانی جسم کو خاصا متاثر کیا ھے وہیں ہمارے معاشرتی رویوں نے غربت پر بہت گہرا اثر ڈالا ھے اسی وجہ سے پیچدہ ذہنی مسائل جنم لینا شروع ہوگئے ہیں ہمیں یہ سمجھنے کی ضرورت ھے کہ روزمرہ کے معمولات جیسے کہ کسی کی زندگی میں غم و خوشی یا خوف وغیرہ کی کوئی ظاہری وجہ وقع پذیر نہ ہونے کے باوجود دماغ میں کیمیکلز عدم توازن کے باعث ایک انسانی دماغ ان تمام کیفیات میں مبتلا ہوسکتا ھے۔

    ایسے مواقعوں پر ضروری ھے کہ ذہنی مرض میں مبتلا مریض کی مکمل کونسلنگ کروائی جائے تاکہ مریض کے طرز زندگی اور سوچ میں مثبت تبدیلی لائی جاسکے اس کے علاوہ ذہنی مریض کے تجویز کردہ ادویات بھی عصبی کیمیائی مادوں کو واپس اپنی جگہ پر لانے میں معاون ثابت ہوتی ہیں۔
    دنیا بھر میں اس وقت زہنی ڈپریشن دنیا بھر میں ایک اہم مسئلہ بن چکا ھے کچھ افراد اس قدر ذہنی دباؤ کا شکار ہوجاتے ہیں کہ خودکشی تک کرلیتے خصوصاً نوجوانوں میں یہ رجحان خطرناک حد تک بڑھ چکا ھے گزشتہ کچھ واقعات ایسے بھی دیکھنے کو ملے ہیں کہ امتحانات میں ناکامی کے خوف کی وجہ سے طلباء نے خودکشی جیسا انتہائی اقدام اٹھایا، ایک محتاط اندازے کے مطابق آدھے سے ذیادہ زہنی مریضوں کی عمر چودہ سال سے شروع ہوتی ھے محکمہ صحت کی رپورٹ میں انکشاف کیا گیا ھے کہ پاکستان میں ہر چھ میں سے ایک فرد زہنی مرض میں مبتلاء ھے۔
    طبی ماہرین یہ مشورہ دیتے ہیں کہ زہنی امراض کے تدارک کے لئے یہ ضروری ھے کہ عوام میں علاج معالجہ کے ساتھ اس بیماری سے متعلق شعور بھی اجاگر کیا جائے کیونکہ ہمارے ہاں اکثر یہ دیکھنے میں آیا ھے کہ زیادہ تر ہمارے ہاں زہنی امراض کا علاج کروانے سے کتراتے نظر آتے ہیں، انسان خواہ کتنا ہی اندر سے مضبوط کیوں نہ ہو یہ بیماری کسی کو بھی لاحق ہوسکتی ھے زہنی مریض خاص طور پر خصوصی توجہ کا مستحق ہوتا ھے، خاص توجہ سے ہی ایسے مریض واپس نارمل زندگی کی طرف آسکتے ہیں نا کہ ہنسی مذاق اڑانے سے اسی لئے اگر خدانخواستہ کسی کے گھر میں بھی کوئی اس طرح کی صورتحال پیدا ہوتی ھے تو اس کے لئے یہ ضروری ھے کہ ایسے مریضوں کے ساتھ شفقت کے ساتھ پیش آئیں جائیں تاکہ وہ جلد صحتیاب ہوکر معاشرے کے معزز شہری بن سکیں

    Twitter ID :‎@KhalidImranK

  • ادھورے خط  تحریر : محمّد اسحاق بیگ

    ادھورے خط تحریر : محمّد اسحاق بیگ

    السلام علیکم!

    آج گرمی اپنے شباب پر ہے اپنے تمام تر جاہ و جاللال کے ساتھ ، گرم کر دینے کے عمل سے ، گرمی کی اتنی شدت اور میرا بوائلر  روم سب سے گرم ہے۔ اتنی شدید گرمی میں میرا بوائلر  روم جہنم کا ایک گوشہ معلوم ہوتا ہے ۔اور جب بوائلر  روم کے اندر جانا پڑتا ہے تو گرمی کی شدت میں اضافہ ہو جاتا ہے ۔اور پسینہ آنا شروع ہو جاتا ہے۔جسے  پچلھے سال کیمسٹری لیب میں کیمسٹری کے پریکٹیکل کرنے میں آتا تھا ۔

      اتنی گرمی کے باوجود لیب کوٹ پہننا ضروری ہوتا لیب کوٹ جلتی ہوئی گیس جلاتی ہوئی دھوپ اور لیب کی بند کھڑکیاں ،لڑکیوں کے لال ہوتے سرخ سیب کی طرح رخسار ،ماتھوں پر بالوں کا لٹ کی صورت میں ٹھہر  جانا کتنا بھلا لگتا تھا۔

      مجے یہاں کی گرمی دیکھ کر وہ سب یاد أگیا

      کیمسٹری لیب، فزکس لیب ( Y) بس کا سفر،  اور تم  لوگوں کو بہت گرمی محسوس ہوتی تھی اور  مجے مزہ آتا تھا   یہاں بھی لوگوں کو گرمی محسوس ہوتی ہے اور میں لطف اندوز ہوتا ہوں کیونک میری فطرت  میں گرمی سردی ،خزاں، بہار ہر  موسم لطف اندوز ہونے کی عادت ہے۔

      

    ١٩مَی 1993ء

    اوپر کی سطور میں تقریبا” ١٥ دن پہلے لکھ چکا ہوں ۔١٨ مئی کو تمہارا خط مجے ملا حالات سے اگاہی ہوئی میں تم لوگوں کے خطوط کا ہی انتظار کر رہا تھا اسد کا رویہ قابلٔ افسوس تھا کہ اس نے خط تم لوگوں کو تک نہ پہنچاۓ۔

     تمہارا خط مجے مل گیا تھا۔ افسوس ہے کہ تم نے پنسل سے لکھا ہے خط لکھنے کے بھی کچھ اصول ہوتے ہیں۔ خط لکھنا ایک مہذب  کام ہے تم لوگ کب اپنا آپ مکمل کرو گے توقیر ، تم سب جتنے بھی ہو میرے حلقہ احباب  میں ، کام  میں اپنی زندگی کے  اصل رخ دیکھنا جانتے ہو کیا اسا ممکن نہیں ہے کہ میں اپنے ملنے والوں سے تم دوستوں کی تعریف کرتا ہوں ممکن ہے ان کو لگتا  ہو کہ میرے دوست عام راستوں پر چلنے کے عادی نہیں ہیں۔ اور تم لوگ ہو کہ کوئی نہ کوئی ایسی حرکت کر جاتے ہو  جس سے میری ناک چڑھ کر ماتھے سے جا لگتی ہے۔ بھلا سوچو میری چڑھی ہوئی ناک دیکھ لاہور والے کیا  سوچیں  گے۔ 

     کچھ تو خیال کرو خیر چھوڑو ان باتوں کو کہیں ایسا نہ ہو کہ خط اپنی باتوں کی نذر  ہو جاۓ۔

    ہاں میں پنجاب کا رہنے والا پنجاب کا پنجابی ہوں  مجے اکثر جامعہ ملیہ کالج کا  کلاس روم پریکٹیکل  لیب یاد آتا ہے۔خاص طور پر ان گرمیوں  میں جو آج کل لاہور پر مسلط ہے ۔

     پچھلے سال کراچی میں بھی  شدید گرمی تھی۔اندازہ پریکٹیکل کرنے کے دوران یا  Y بس کا سفر کرنے  پر ہوتا تھا۔یا چند  جو ہماری کلاس میں گوری چٹی لڑکیوں کے سرخ ہوتے ہوۓ گالوں کو دیکھ کر اندازہ ہوتا تھا۔

    یہ وہ باتیں ہیں جو میں اکثر یہاں اپنے بوائلر  روم میں بیٹھ کر سوچتا ہوں کیونکہ یہاں سوچنے اور لکھنے کے علاوہ کچھ اور کام نہیں ہوتا عجیب نوکری ہے پندرہ دن ہو گئے ہیں ،آتا ہوں ، سوچتا ہوں شام چار بجے گھر کے لئے روانہ ہو جاتا ہوں۔اور  رات گئے تک آوارہ گردی کرتا ہوں اور صبح پھر ڈیوٹی پر آ کر سو جاتا ہوں۔

    ویسے مجھے یہ اپنی ڈیوٹی بہت اچھی لگتی ہے۔کیونکہ اس ڈیوٹی کی وجہ سے میں صبح سورج کے ساتھ خواب سے حقیقت کی طرف طلوع ہوتا ہوں۔یعنی صبح ٥ بجے اور مغرب کی طرف جاتی رات دیکھتا ہوں۔اور مشرق سے دبے پاؤں آتی  خوشگوار صبح دیکھتا ہوں۔جب میں پہلی بار اٹھا تو کچھ پہر انکشاب ہوا کہ سورج میرے گھر سے تقریبا ایک میل کے فاصلے پر رہتا ہے۔

    رات تمہارا خط ملا اور آج میری ماں نے دو پراٹھے اور آلو ٹماٹر کے ساتھ بھون کر مجھے دیے لے بیٹھ جا۔دوپہر جب بھوک لگے تو باہر سے کھانے کی بجائے یہ کھانا۔میں نے کھایا۔مجھے انڈوں کا صفر یاد آیا۔میں آپ ہی آپ مسکرا پڑا۔پھر تمہیں خط کا جواب دینے بیٹھ گیا۔

    پرسوں والے دن مجھے بتانا جب رزلٹ آئے ، اور پرسوں والا  دن ہمارے کالج کی چھت پر رہتا  ہے۔تمہیں اتنا نہیں پتا تمہاری غفلت پر افسوس ہے لیکن نظر بہت کم لوگوں کو آتا ہے۔پرنسپل کو نظر آتا ہے۔یا اسحاق  کو۔ پنسل  سے لکھنے والوں کو تو بالکل نظر نہیں آتا۔اور نہ ہی انگلش ٹیچر کو نظر آتا ہے۔اور کل ٹیکنیکل کالج کی چھت پر رہتا ہے۔ اور سورج میرے گھر سے ایک میل کے فاصلے پر ہے۔

    آہ یہ چیزیں تمھیں نظر نہیں آیئں گیں ۔

    آ تجھے میں گنگنانا چاہتا ہوں۔

    اچھے اور پیارے لڑکے۔

    اؤ چند لمحوں ، چند سالوں ، چند صدیوں کے لئے میرے پاس آؤ۔

    میرے قریب بیٹھو

    میں تمہیں کچھ سمجھاؤں میں تمہں ایک سچی اور کھڑی لیہ پر لگاؤں۔اور تم سمجو گے ان حقیقتوں کو جو بہت  اکلیت میں ہیں۔جن تک ہر دور میں چند انسان پہنچ پاتے ہیں ۔ سب زندہ ہیں ، سب مردے ہیں مرے ہوۓ۔ آؤ پیارے میرے پاس بیٹھو۔تم محسوس کرو گے جو مر چکے ہیں۔وہ موجود ہیں۔اور جو زندہ ہیں۔وہ کہی چلے گئے ہیں جو مر جاتے ہیں وہ اپنے وجود میں آ جاتے ہیں۔اور زندہ غائب ہو جاتے ہیں۔ہا۔ہا۔ہا۔تم نہ سمجھ پاؤ گے۔کیونکہ تم محض ایک سایہ کی طرح زندگی گزار رہے ہو۔جو ہوتا ہے لیکن  کچھ نہیں کرتا۔

    تم کیا کرتے ہو؟کیا کیا ہےآج تک؟ جو گزر گۓ وہ کچھ کر گۓ۔ جو کچھ گزار رہے ہیں وہ بھی کچھ نہ کچھ کر رہے ہیں۔اور تم_____۔

    تم کو اپنی ذات کا نہیں پتہ__ محض ایک ساۓ کی طرح زندگی گزار رہے ہو۔آؤ ۔ گھبراؤ مت۔اٹھ کھڑے ہو۔ابھی سفر بہت لمبا ہے۔اور کھٹن۔اور تم مسافر۔

    اب تک ان راستوں پر چلتے آۓ ہو۔جو پامال ہو چکے ہیں۔جن پر کتنے ہی انسان محض کیڑے مکوڑے کی طرح سفر کرتے ہیں۔اور تم بھی ان میں محض ایک کیڑے کی حیثیت رکھتے ہو۔

    اب بھی وقت ہے۔چھوڑو ان پامال راستوں کو۔آو۔ ادھر آؤ ۔اس وحشت میں۔پر منظر جنگل میں۔اس وادی میں۔نیلی جھیل کے کنارے۔جہاں کئی  انسان کے قدم اب تک نہیں پہنچ سکے ۔  آؤ سفر اب بھی طویل ہے۔ اور بالکل اجنبی۔نئ راہوں کی تلاش میں نکل کھڑے ہو۔عام انسانوں کی صف میں سے نکل آؤ ۔پھر دیکھو تم کو یہ انسان محض سایوں کی طرح نظر آئے گے۔اور سائے کی کیا حقیقت ہوتی ہے؟

    گرمی نے تو ناک میں دم کر رکھا ہے لیکن میں ___

    سب کنٹین کی طرف جا رہے  ہیں کھانے کے لئے میں بھی جاؤں گا اب کچھ ہی دیر بعد۔شہتوت کی چھاؤں میں شیخ کے ہاتھ کی پکی ہوئی روٹی کھاؤں گا۔شہتوت کی چھاوں بہت سکون بخش ہے۔کھانے کے بعد ٹھنڈا پانی ‏پیؤنگا۔سکون سے آنکھیں بند کروں گا گرمی سے پیاری کوئل کی صدا سنوں  گا۔چڑیوں کی چوں ۔چوں اور کوؤں کی کائیں کائیں۔

     سورج جادوگر ہے پیارے۔

      

     @Ishaqbaig___

     

  • چھٹتی نہیں ہے منہ سے یہ کافر لگی ہوئی تحریر: حمزہ احمد صدیقی

    چھٹتی نہیں ہے منہ سے یہ کافر لگی ہوئی تحریر: حمزہ احمد صدیقی


    سگریٹ نوشی کا بڑھتا ہوا رجحان ہمارے انسانی معاشرے کی کمزوری کو ظاہر کرتا ہے کیونکہ سگریٹ نوشی کے کئی جسمانی اور ذہنی نقصانات سےواقف ہونے کے باوجود سگریٹ کا استعمال کثرت سے کرتے ہیں ، سگریٹ نوشی کے رحجان کوکم کرنے اور اس پر مکمل قابو پانے کے لیے  بہت  سی تحریرلکھی جاچکی ہیں اور
    حکومت نے تمباکو نوشی کے خاتمے کیلئے کئی اقدامات کئے، اس کے نقصانات سے آگاہ کیا ، لیکن سگریٹ نوشوں کے کانوں پر جوں تک نہیں رینگتی

    سگریٹ باظاہر دیکھنے میں ایک چھوٹی سی شے ہے مگر جان لیوا امراض اور بےشمار نقصانات کا موجب ہیں۔سگریٹ میں ایک کیمیکل ہوتا ہے جسے نکوٹین کہتے ہیں جب ایک فرد سگریٹ کا دھواں اپنے اندر کھینچتے ہیں تو اپنے پھیپھڑوں کی تہیں اس دھوئیں سے نکوٹین لینا شروع کر دیتی ہیں، چند سیکنڈ کے اندر اندر یہ نکوٹین آپ کے دماغ پر حاوی ہوجاتا ہے، جس کے بعد ہمارا دماغ ڈوپامائن نامی کا ہارمون خارج کرتا ہے جس سے ہمیں بہت تسکين ملتی ہے اور ، ڈوپامین دماغ میں خارج ہونے والا ایک ایسا کیمیائی مرکب ہے جو خوشی ، تسکين اور راحت فراہم کرتا ہے

    ڈوپاماٸن ڈوپاماٸن کیمیکل خوشی کے حسیات کو بیدار کردیتے ہیں جس سے جسم کو سگریٹ اور اس میں شامل ہونے والا نکوٹین مصنوعات کی طلب ہونا شروع ہوجاتی ہے۔ ان تمام عادات کو چھوڑنا کسی بھی فرد کے لئے بہت کٹھن ہوتا ہے کیونکہ انسانی جسم میں نکوٹین کی کمی سے متاثرین افراد کی طبیعت میں پریشانی، اضطراب، بے چینی، ڈپریشن کے ساتھ ذہنی توجہ کا فقدان رہنے لگتا ہے، نکوٹین کی اسی طاقت کا بھرپور فاٸدہ اٹھایا جاتا ہے سگریٹ بنانے والی كمپنياں اسی عادی کے بدولت نوجوان نسل کو سگریٹ کی لت لگوا دیتی ہے اور اس سے ہونے والے نقصان اور مرض کی حقیقت بھی چھپاتی ہیں

    سگریٹ نوشی بہت آہستگی کے ساتھ انسانی جسم کے مختلف اعضاء کو نقصان پہنچانا شروع کرتی ہے اور متاثرہ افراد کو چند سالوں تک اپنے اندر ہونے والے نقصانات سے ناآشنا ہوتاہے اور جب یہ نقصانات رونما ہونا شروع ہوتے ہیں تب تک انسانی جسم سگریٹ کے جان لیوا نشے کا مکمل طور پر عادی بن جاتا ہے اور متاثرہ شخص کو سگریٹ سے جان چھڑانا بہت دشوار ہو جاتا ہے

    عالمی ادارہ صحت کے مطابق دنیا بھر میں سگریٹ نوشی کے باعث ہر چھ سیکنڈ کے بعد ایک فرد موت کی گہری نیند سورہا ہے، اس طرح دنیا بھر میں ہر سال ساٹھ لاکھ افراد سگریٹ نوشی کے باعث موت کا شکار ہوجاتے ہیں ۔سگریٹ نوشی سے متاثرہ انسان کی عمر آٹھ منٹ تک کم کر دیتی ہے کیونکہ سگریٹ اور اسکے دھوئیں میں تقریباً چار ہزار کیمیکل موجود ہوتے ہیں جن میں اڑھائی سو کے قریب جسمانی و ذہنی صحت کیلئے نہایت نقصان ہے اور پچاس سے زائد ایسے زہریلے کیمیکل موجود ہوتے ہیں جو مختلف سرطان کا باعث بن سکتے ہیں۔

    سگریٹ نوشی سے متاثرہ افراد میں ہارٹ اٹیک کا خطرہ بہت حد تک بڑھ جاتا ہے۔ عام افراد کی نسبت سگریٹ نوش کو دل کی بیماری ہونے کا خطرہ دگنا ہوتا ہے۔ سگریٹ کا دھواں خون کی شریانوں کو سخت کرنے کا باعث بنتا ہے جس کیوجہ سے دل کے پٹھوں کو خون کی فراہمی رک جاتی ہے جو ہارٹ اٹیک کا موجب بنتاہے۔ سگریٹ نوشی سے متاثرہ افراد کا دماغ کو خون کی فراہمی بھی کم ہوجاتی ہے جس کی وجہ سے ہیمرج سٹروک ہوجاتاہے جودماغ میں موجود خون کی شریانیں کا پھٹنے کا خطرہ لاحق ہوتا ہے

    سگریٹ نوشی سے متاثرہ افراد کا سب سے زیادہ اور خطرناک و سنگین نقصان انکے پھیپھڑوں کو ہوتا ہے، کیونکہ پھیپھڑوں کی بیماریوں میں مبتلا افرا تقریباً نوے فیصد لوگ موجودہ یا سابقہ سگریٹ نوش ہوتے ہیں۔ ایک انسان جتنے زیادہ سگریٹ پیتے ہیں اتنا ہی پھیپھڑوں کا سرطان ہونے کا خطرہ رہتا ہے۔ سگریٹ نوشی کے متاثرہ افراد سانس کی بیماریوں ،ہارٹ اٹیک ،فالج، اسٹروک ہیمرج ، گلا، پھیپھڑے کا، خوراک کی نالی ، معدہ، دانتوں، جگر، گردے، مثانہ، لبلبہ اور گردے کے سرطان کا موجب بنتا ہے۔

    ایک تحقیق کے مطابق دن بھر میں صرف ایک سگریٹ پینے والے افراد میں سگریٹ نہ پینے والوں کے مقابلے میں دل کی بیماریوں کا پچاس فیصد زیادہ امکان ہوتا ہے اور فیصد امکان فالج کا ہوتا ہے سگریٹ نوشی کی متاثرہ خواتین دل کی بیماریاں، بریسٹ کینسر ، جگر ، گردے معدہ، مثانہ لبلبہ کے سرطان کا زیادہ شکار ہوتی ہیں،تحقیق سے پتہ چلا ہے کہ سگریٹ نوشی کرنے والی خواتین کو دل کا دورہ پڑنے کے امکانات مرد سے پچیس فیصد زیادہ ہوتے ہیں۔

    اگر پاکستان کےمستقبل کو بچانا چاہتے ہیں تو سگریٹ نوشی پر روک تھام پر سختی سے عمل کیا جاٸے۔ والدین سے التماس گزارش ہے کہ اپنےبچوں کو سگریٹ نوشی جیسے لت سے دور رکھے اور متاثرہ افراد کو چھٹکارا حاصل کرنے میں انکی مدد کریں۔ متاثرہ انسان پر سختی کرنے اور مار پیٹ کے بجائے انہیں اس کے نقصان سے آگاہ کریں۔ چند لمحات کی تفریح اور مستی کی غرض سے پی جانے والی سگریٹ ہمارے بچوں کے آنے والے مستقبل کو تاریکی میں دھکیل سکتی ہے

    ‎@HamxaSiddiqi

  • گلوبلاٸزیشن کے اثرات تحریر: شمسہ بتول

    گلوبلاٸزیشن کے اثرات تحریر: شمسہ بتول

    گلوبلائزیشن دنیا کے خیالات ، مصنوعات اور ثقافت کے دیگر پہلوؤں کے تبادلے کے ذریعے مختلف قوموں کے لوگوں ، کمپنیوں اور حکومتوں کا بین الاقوامی انضمام ہے۔ یہ جغرافیائی حدود کو پسماندہ کرتا ہے اور ایک انتہائی مربوط دنیا بناتا ہے۔ انجن ، ٹیلی کمیونیکیشن اور حال ہی میں انٹرنیٹ اور موبائل فون جیسی ٹیکنالوجیز کے متعارف ہونے سے ، دنیا معاشی اور ثقافتی سرگرمیوں کے باہمی انحصار کی ایک نئی سطح پر پہنچ گئی ہے اور ایک گلوبل ولیج بن گٸی ہے۔ گلوبلاٸزیشن کی وجہ سے بہت سی تبدیلیاں جیسے کہ آبادیاتی تبدیلیاں ، مواصلات اور ٹرانسپورٹیشن ٹیکنالوجیز میں بہتری ، سرمایہ داری اور معاشی لبرلائزیشن ، ڈی ریگولیشن اور پرائیویٹائزیشن وغیرہ شامل ہیں۔
    ادارہ جاتی یا دوسری صورت میں ، ‘گلوبلائزیشن پوری دنیا کے لوگوں کی زندگیوں پر کثیر اثرات مرتب کرتی ہے۔ یہ نہ صرف علاقوں کی معاشیات کو متاثر کرتا ہے بلکہ ان کی ثقافتی ، سیاسی اور سماجی معاملات کو بھی متاثر کرتا ہے۔ دوسری جنگ عظیم کے بعد ، دنیا کا طاقت کا ڈھانچہ یورپیوں سے امریکیوں کی طرف منتقل ہوا ، اور اقتدار بہت کم قوموں کے ہاتھوں میں چلا گیا۔ طاقت کی حرکیات میں تبدیلی نے دنیا بھر
    میں طاقت کی حرکیات میں تبدیلی نے ترقی پذیر اور ترقی یافتہ ممالک کے مابین زیادہ خلیج پیدا کی۔ لہذا ، اس دور کے بعد گلوبلائزیشن کے اثرات ہم آہنگ نہیں تھے۔ پوری دنیا میں ، اس نے ہر خطے کو مختلف طریقے سے متاثر کیا اور پاکستان بھی مختلف نہیں ہے۔ دیگر تمام اقوام کی طرح اس پر بھی معاشی اور ثقافتی طور پر اثر پڑا ہے۔
    معاشی طور پر پاکستان جیسے ترقی پذیر ممالک کے پاس محدود وسائل ہیں محدود وساٸل اور موجودہ وساٸل کا بہتر طور پہ استعمال نہ کرنے کی وجہ سے بین الاقوامی سطح پر ہماری معیشت بہت کمزور ہے۔ نظریاتی طور پر ، لبرلائزیشن ، گلوبلائزیشن کا ایک اور بنیادی اصول ، ایک ایسا عمل ہے جس کا مقصد بالآخر مقابلہ کی حوصلہ افزائی ، معیار کو بہتر بنانے اور روزگار کی فراہمی کے ذریعے ایکسپورٹ مارکیٹ کو منافع بخش بنانا ہے۔ عالمی تجارتی برآمدات میں پاکستان کا حصہ گر گیا ہے۔ دوسری طرف امپورٹ لبرلائزیشن ایک بتدریج عمل ہے جہاں 1990 کی دہائی سے درآمدی ٹیرف کی شرح میں کمی کا رجحان نظر آتا ہے جس سے درآمد کی حوصلہ افزائی ہوتی ہےجبکہ ہمیں ایسی پالیسیز بنانی تھی کہ ہماری درآمدات کم سے کم ہوں ۔ پاکستان جیسے ترقی پذیر ملک کے لیے ایسی پالیسیاں اتنی کارآمد ثابت نہیں ہوئیں۔ ملک کا تجارتی توازن مزید وسیع ہو گیا ہے اور اس عمل کے دوران بہت سی گھریلو صنعتوں کو نقصان پہنچا ہے۔ بڑھتی ہوئی آبادی کے ساتھ گھریلو صنعتوں کو پہنچنے والے نقصان کی وجہ سے بے روزگاری کی شرح بڑھ گئی ہے۔ بے روزگاری کی شرح1990-1981کے دوران اوسط% 3.5 فیصد سے بڑھ کر 2015 میں %6.0 فیصد ہو گئی۔
    پاکستان کی غربت پچھلے سالوں میں 2002 میں 36 فیصد سے کم ہو کر2011 میں11 فیصد ہو گئی تھی لیکن پچھلے کچھ سالوں میں غربت اور بے روزگاری اوربین الاقوامی قرضے میں مزید اضافہ دیکھنے میں آیا ہے ۔
    ، گلوبلائزیشن کا خیال ترقی پذیر ممالک میں پھیلنے سے پہلے ، یہ صرف یورپ ، شمالی امریکہ اور جاپان میں تھا۔ ان تینوں بلاکس کے پاس پالیسیوں کو مربوط کرنے اور عالمی اقتصادی منڈیوں کو کنٹرول کرنے کا اختیار تھا۔ بالآخر ، ترقی یافتہ ممالک سے چھوٹے سرمایہ کی منتقلی کی وجہ سے ، عالمگیریت نے عدم مساوات کو بڑھایا۔ دنیا کے اس سماجی ، جسمانی اور ثقافتی تانے بانے ، آبادیاتی تبدیلیوں ، شہریاری ، ثقافتی اثرات اور استحصالی ہتھکنڈوں نے دنیا کو مثبت اور منفی دونوں طرح متاثر کیا۔منڈیوں کی لبرلائزیشن کے خیال نے مقامی ، علاقائی اور بین الاقوامی سطح پر سامان ، مزدور ، خیالات اور خدمات کی آزاد نقل و حرکت کا راستہ دیا۔ نتیجے کے طور پر ، جیسے جیسے مقابلہ بڑھتا گیا ، ملک میں مزید تعلیمی اور پیشہ ور ادارے ابھرے اور تعلیم کا معیار بہتر ہوا۔لیکن ابھی بھی پاکستان جیسے ترقی پذیر ممالک مکمل طور پر گلوبلاٸزیشن سے فاٸدہ اٹھانے سے قاصر ہیں ۔ گلوبلائزیشن سے مکمل فائدہ اٹھانے کے لیے پاکستان کو سیاسی استحکام ، جمہوریت کے استحکام اور اپنی پالیسیوں کے تسلسل پر مزید محنت کرنے کی ضرورت ہے۔
    پاکستان کے امیج کو بہتر بنانے پر توجہ دینے کی ضرورت ہے جو کہ ملکی اور بین الاقوامی میڈیا کوریج کے ذریعے کیا جا سکتا ہے ۔

    @b786_s