Baaghi TV

Category: معاشرہ و ثقافت

  • سگریٹ نوشی کے انٹرنیشنل بہانے  تحریر۔سید لعل حسین بُخاری

    سگریٹ نوشی کے انٹرنیشنل بہانے تحریر۔سید لعل حسین بُخاری

    جس طرح سگریٹ نوشی ایک بین الاقوامی ،خطرناک اور مضر صحت مسئلہ ہے۔
    اسی طرح سگریٹ پینے والے افراد سگریٹ پُھونکنےکے بھی انٹرنیشل قسم کے جواز گھڑتے رہتے ہیں۔
    حالانکہ ان کی یہ توجیحات غالب کے اس شعر کی طرح دل کی تسلی کے لئے ہی ہوتی ہیں کہ
    ہم کو معلوم ہے،جنت کی حقیقت لیکن
    دل کے خوش رکھنے کو ،غالب یہ خیال اچھا ہے۔
    سگریٹ نوش افراد عرصہ دراز سے سگریٹ نوشی کا یہ جواز گھڑتے آرہے تھے کہ سگریٹ پینے سے وزن کم رہتا ہے۔
    مگر تازہ ترین سٹڈی میں یہ تھیوری غلط اور خود ساختہ ثابت ہو چُکی ہے۔
    امریکی ریاست اوریگان کے ایک تجرباتی سنٹر میں 400افراد پر دو سال تک جو تجربات کیے گئے،
    اُن کے مطابق جو لوگ سگریٹ نوشی کرتے تھے،
    اُن کا وزن ایسے افراد سے تین گُنا زیادہ بڑھتا ہے،
    جو سگریٹ نوشی نہیں کرتے۔
    اسی طرح کچھ سگریٹ نوش خواتین و حضرات یہ بھی کہتے پاۓ گئے کہ سگریٹ پینے سے اُن کا جسم ہلکا رہتا ہے۔
    اُن کا خیال ہے کہ سگریٹ پینے سے ان کے ہاضمے کا نظام چونکہ درست رہتا ہے،
    لہذا انہیں اپنے جسم میں بھاری پن کا احساس نہیں ہوتا۔
    نئی ریسرچ سے یہ سب تھیوریاں اُلٹ ثابت ہو چکی ہیں۔
    بھاری پن یا بدہضمی کی وجوہات میں بزات خود سگریٹ نوشی شامل ہے،
    کیونکہ جسم کے ہر حصے کا دوسرے سے براہ راست تعلق ہوتا ہے،
    اگر سگریٹ نوشی سے آپکے پھیپھڑے متاثر ہوں،آپکا نظام تنفس درست نہ ہو،
    آپ امراض قلب کا شکار ہوں،
    بلڈ پریشر کا سامنا کر رہے ہوں،
    یا سگریٹ نوشی سے آپ کو زیا بیطس جیسے موذی مرض نے آ گھیرا ہو تو کامن سینس کی بات ہے کہ آپ کا معدہ بھی متاثر رہے گا۔
    اور اگر آپ کا معدہ درست طریقے سے کام نہ کر رہا ہو تو پھر آپ بھاری پن محسوس کریں گے نا کہ ہلکا پن۔
    لہذا سگریٹ نوشوں کا یہ استدلال بھی بغیر کسی جاندار دلیل کے ہے کہ وہ سگریٹ نوشی سے ہلکا پن محسوس کرتے ہیں۔
    یہ وہم کے سوا کچھ نہیں۔
    یہ سوچنا بھی اپنے آپ کو دھوکہ دینے کے برابر ہے کہ سگریٹ آپ کو کسی قسم کا طبعی فائدہ پہنچا رہا ہے۔
    بس آپ اپنی اور اپنے خاندان کی بہتری کے لئے یہ کریں کہ اپنے آپ کو سگریٹ کی لت نہ لگنے دیں۔
    شروع میں اس عمل کو روکنا آسان ہوتا ہے،
    مگر جب آپ پوری طرح سگریٹ نوشی کا شکار ہوجائیں گے تو پھر اس بری عادت کے چُنگل سے نکلنا مُشکل ہو گا۔
    اس سے چھٹکارے کے لئے آپ کو بہت سے پاپڑ بیلنے پڑیں گے۔
    ہو سکتا ہے آپ کو کسی ایسے ہیلتھ سنٹر جانا پڑے جہاں ایسے ہی منشیات کے عادی مریضوں کا علاج کیا جاتا ہو۔
    سگریٹ نوشی کے بعد آپکا سٹیٹس بھی ایک مریض کا ہو گا۔
    اور اس حقیقت سے کون واقف نہیں کہ آجکل کے دور میں کسی بھی مرض کے لئے کتنے بھاری اخراجات درکار ہوتے ہیں۔؟
    کچھ بعید نہیں کہ آپ کو بھی سگریٹ نوشی سے جان چھڑوانے کے لئے ایسے ہی کچھ اخراجات بھی برداشت کرنا پڑیں۔
    سگریٹ نوشی کے بعد لگنے والی بیماریوں کا علاج شروع کرنے کے ساتھ ہی ڈاکٹر سگریٹ نوشی ترک کرنے کی شرط رکھ دیتا ہے۔
    اس عالم میں آپ کو دو محاذوں پر لڑنا پڑتا ہے،
    ایک بیماری سے اور دوسرا سگریٹ نوشی کی جان لیوا عادت سے۔
    سگریٹ نوشی کی عادت موجودہ دور میں صرف سگریٹس تک محدود نہیں ہے
    بلکہ اب تو سگار،حُقہ اور شیشہ جیسی وبائیں بھی دن بدن پھیل رہی ہیں۔کہا جاتا ہے کہ زمانہ قدیم سے حقے کا رواج ہی سگریٹ،گُٹکا،نسوار،بیڑی،سگار ،پان اور شیشہ جیسی قباحتیں معرض وجود میں لے کر آیا۔
    بدقسمتی سے متزکرہ بالا سب چیزوں میں تمباکو ہی استعمال ہوتا ہے۔
    جو سب بیماریوں کی جڑ ہے۔
    اسی تمباکو میں نکوٹین نامی زہریلا مادہ ہوتا ہے،
    جواکثر وبیشتر دل کے امراض کا باعث بنتا ہے۔
    سگریٹ نوشی کےشکار افراد میں سے 20فیصد ،امراض قلب کا شکار ہو کر دنیا سے چلے جاتے ہیں۔
    محتاط اندازے کے مطابق سالانہ ایک لاکھ بیس ہزار افراد اسی مرض سے لقمہ اجل بن جاتے ہیں۔
    امراض قلب کی سنگین ترین صورت میں آپکو اوپن ہارٹ سرجری جیسے مشکل ترین آپریشن سے گزرنا پڑتا ہے،
    اوپن ہارٹ سرجری ڈاکٹرز اسی وقت تجویز کرتے ہیں،
    جب دل کو خون سپلائ کرنے والی نالیاں اور بلڈ ویسلز سُکڑ کر بہت تنگ ہو چکے ہوتے ہیں،
    جس سے دل کو خون کی فراہمی ایک تسلسل سے نہیں ہو پاتی جو ہارٹ اٹیک کا بھی باعث بنتی ہے۔
    ہارٹ اٹیک سے کچھ ہی خوش قسمت افراد ہی بچ پاتے ہیں۔
    بعض دفعہ تو مریض آپریشن سے پہلے ہی ہارٹ اٹیک کا شکار ہو کر جان سے ہاتھ دھو بیٹھتا ہے۔
    سگریٹ نوش افراد میں دل کی ان نالیوں کو تنگ کرنے کا باعث بھی یہی نکوٹین ہی ہوتی ہے،
    ہر قسم کا تمباکو اس نکوٹین کامنبع ہوتا ہے۔
    کچھ لوگ سگریٹ کا استعمال ترک کرنے کے لئے نسوار پان،کافی یا حقے کا استعمال شروع کر دیتے ہیں۔
    یہ بھی ایک بے کار فارمولہ اور بے مقصد پریکٹس ہے،
    اس سے کسی قسم کا فائدہ نہیں ہونے والا،
    آپ کنواں چھوڑ کر کھائ میں گرنے کی کوشش کر رہے ہیں۔
    سگریٹ چھوڑنے کے لئے بہترین تدابیر میں سے کچھ درج زیل ہیں
    سگریٹ نوشی کی طلب بڑھنے کی صورت میں کُھلی فضا میں چلے جائیں،
    لبے لمبے سانس لیں،ہلکی پُھلکی ورزش کریں،
    اپنے خیالات کو سگریٹ سے ہٹانے کے لیے کچھ اور سوچنا شروع کر دیجیے،
    پانی زیادہ پیجیے تاکہ نکوٹین سے بننے والے فاسد مادے آپ کے جسم سے نکل سکیں،
    کھانا کھانے کے بعد سگریٹ کی طلب ہونے پر پودینہ والی یا لیموں والی سبز چاہے پئییں،
    سگریٹ نوش دوستوں سے میل ملاقات کا سلسلہ بوقت ضرورت ہی جاری رکھیے۔
    سگریٹ نوشی ترک کیجیۓ
    زندگی کی طرف لوٹیے،
    آپ کے پیارے آپ کے منتظر ہیں۔
    خدارا۔
    اُنہیں کسی امتحان میں مت ڈالیے#

    @lalbukhari

  • تمباکو نوشی کے نقصانات تحریر: فرح بیگم

    تمباکو نوشی کے نقصانات تحریر: فرح بیگم

    تمباکو نوشی کرنے والا نہ صرف اپنی قبر کھودتا ہے بلکہ تمباکو نوشی کرنے والے انسان کے ساتھ رہنے والے افراد بھی بہت ساری مہلک بیماریوں کا شکار ہوتے ہیں۔ لیکن کوئی بھی اس کے خلاف عملی اقدامات کرنے کو تیار نہیں ہوتا تعلیمی اداروں خاص طور پر کالجوں اور یونیورسٹیوں میں تمباکو نوشی کا رجحان بڑھتا جارہا ہے لڑکوں کے اب کثرت میں لڑکیاں بھی تمباکو نوشی کرتی دکھائی دیتی ہیں۔ کئی نوجوان تو تمباکو نوشی کو ایک فیشن سمجھ کر کرتے ہیں جو جانے انجانے میں اپنی زندگی کا دیا اپنے ہی ہاتھوں گُل کررہے ہوتے ہیں۔ نشہ کسی بھی قسم کا ہو ہمیشہ اس سے بچنے کی کوشش کی جاۓ

    تمباکو انسان کو سست اور پست حوصلہ بنا دیتا ہے تمباکو قوت ارادی کا بڑا دشمن ہے۔ اس کے استعمال سے جسم ڈھیلا اور کمزور پڑ جاتا ہے۔ یہ دماغ، بینائی، جگر، پھیپھڑوں اور دل کو کمزور بنا دیتا ہے۔

    تمباکو نوشی پیسے کے ضیاع کے علاوہ متعدد بیماریوں کا باعث بنتی ہے جس میں سرفہرست کینسر ہے۔ تمباکو نوشی سے مختلف قسم کا کینسر ہوسکتا ہے جس میں گلے کا کینسر، منہ کا کینسر اور لبلبے کا کینسر قابل زکر ہیں اس کے علاوہ تمباکو نوشی کرنے والوں کے پھیپھڑے بھی بہت متاثر ہوتے ہیں

    دنیا بھر میں ایک ارب سے زائد لوگ تمباکو نوشی کرتے ہیں جن میں سے اسی فیصد لوگ ترقی پذیر ممالک سے تعلق رکھتے ہیں۔ پاکستان، بھارت، فلپائن، تھائی لینڈ اور کمبوڈیا میں تمباکو نوش لوگوں کی شرح تیزی سے بڑھ رہی ہے اور اس اضافے کا بڑا سبب ان ممالک کا نوجوان طبقہ ہے۔ ترقی یافتہ ممالک میں جاپان اور چائنہ کے ساٹھ فیصد مرد حضرات سگریٹ نوشی کی عادت میں مبتلا ہیں۔ سگریٹ نوش آبادی میں بارہ فیصد خواتین شامل ہیں جب کہ روزانہ ایک لاکھ بچے سگریٹ نوشی شروع کردیتے ہیں۔

    عالمی ادارہ صحت کے مطابق تمباکو نوشی سے دنیا بھر میں سالانہ آٹھ لاکھ سے زائد افراد موت کا شکار ہوجاتے ہیں۔ عام طور پر لوگ تمباکو کا استعمال نیکوٹین کی کمی کو پورا کرنے کے لیے استعمال کرتے ہیں۔

    ‎تمباکو کی تمام مصنوعات نقصان دہ ہیں اور یہ مختلف قسم کے کینسر اور دیگر صحت کے مسائل کا سبب بن سکتی ہے۔ لہذا ، تمباکو نوشی سمیت تمام تمباکو کی مصنوعات کے استعمال کی سختی سے حوصلہ شکنی کی جانی چاہئے۔ 

    آ پ سگریٹ نوش ھوں آپ جتنی ذیاہ سگریٹ نوشی کریں گے، اتنا ہی مسائل میں اضافہ ھو گا۔ نفسیاتی بیماریاں ہونے کے امکانات، بے چینی اور ڈپریشن، الکحل( شراب نوشی) اور منشیات کا ذیادہ استعمال ان کی وجہ سے زہنی صحت کے مزید خراب ہونے کے امکانات ہیں۔

    اساتذہ، والدین اور دیگر معززین کو تمباکو نوشی کے خلاف مؤثر اقدام اٹھانے کی ضرورت ہے اکثر شریف اور ہونہار نوجوان سگریٹ نوشی شروع کرتے ہی برے کاموں میں پڑ جاتے ہیں جس کی وجہ سے ان کا مستقبل تباہ ہوجاتا ہے۔

    ترک سگریٹ نوشی سے آپ اپنےآپکونہ صرف صحت مند،چست و توانامحسوس کریں گے بلکہ لمبی زندگی پائیں گے  
    سگریٹ نوشی کو ترک کرنے کے سلسلے میں مدد حاصل کرنا آپ کا حق ھے۔

    Twitter ID: @Iam_Farha

  • تمباکو نوشی لعنت ہے”  تحریر: حسیب احمد

    تمباکو نوشی لعنت ہے” تحریر: حسیب احمد

    پاکستان سمیت دنیا بھر میں سگریٹ نوشی کا استعمال کیا جاتا ہے اور دنیا میں آئے لوگ لاکھوں لوگ اس کو خریدتے ہیں اور نوش کرتے ہیں۔ دنیا میں سگریٹ وہ واحد چیز ہے جو ہر جگہ دستیاب ہوتی ہے اور لاکھوں سگریٹ روزانہ کی بنیاد پر تیار کیئے جاتے ہیں۔

    پاکستان میں بھی سگریٹ پینے والے لوگ ہزاروں نہیں لاکھوں کی تعداد میں ہیں اور اندازہ لگائیں روزانہ کی بنیاد پر کتنے لوگ خرید کرتے ہیں اور کتنا ریونیو جنریٹ ہوتا ہے سگریٹ کمپنیوں کا۔ اور ہم اپنی زندگی کو خطرے میں ڈال دیتے ہیں سگریٹ نوشی کرکے۔ 

    پہپہڑوں کی بندش ہوجاتی ہے اور سانس لینے میں دشواری کا سامنا ہوتا ہے ہمیں ہی تکلیف ہوگی ناکہ ان کمپنیوں کو ان کو صرف پیسے سے مطلب ہے۔ اگر ہم لعنت سے اپنی جان چھڑا لیں تو خدا کی قسم جو یہ پیسہ ان چیزوں پر خرچ کررہے اس کو بچا سکتے ہیں اور یہ پیسہ مستقبل میں ہمیں کام ائے گا اور اگر ہم تمباکو نوشی کرتے رہے تو ایک دن اس ہماری جان جائے گی اور اس کے ذمہ دار ہم خود ہونگے۔

    تو آج سے ہی عزم کرلیتے ہیں ہم جتنا ہوسکے گا اس لعنت سے اپنی اور اپنے پیاروں کی جان بچائیں۔ اپنی نسلوں کو تحفظ دیں یا ناکہ اس تمباکو نوشی سے اپنی نسلوں کی جائیں خطرے میں ڈالیں۔

    تمباکو نوشی کو توڑنا ایک مشکل عادت ہے کیونکہ تمباکو میں بہت زیادہ نشہ آور کیمیکل نیکوٹین ہوتا ہے۔ ہیروئن یا دیگر نشہ آور ادویات کی طرح ، جسم اور دماغ تیزی سے سگریٹ میں نیکوٹین کی عادت ڈالتے ہیں۔ جلد ہی ، ایک شخص کو صرف نارمل محسوس کرنے کی ضرورت ہے۔ 

    کچھ لوگ سمجھتے ہیں کہ ای سگریٹ باقاعدہ سگریٹ سے زیادہ محفوظ ہیں کیونکہ ان میں تمباکو نہیں ہوتا۔ لیکن ان میں موجود دیگر اجزاء بھی خطرناک ہیں۔ در حقیقت ، ای سگریٹ استعمال کرنے والے لوگوں میں پھیپھڑوں کو شدید نقصان اور یہاں تک کہ موت کی بھی اطلاعات ہیں۔ لہذا ماہرین صحت ان کے استعمال کے خلاف سختی سے خبردار کرتے ہیں۔ ہکہ پانی کے پائپ ہیں جو منہ کے ساتھ نلی کے ذریعے تمباکو نوشی کرتے ہیں۔ کچھ لوگ سمجھتے ہیں کہ وہ سگریٹ سے زیادہ محفوظ ہیں کیونکہ دھواں ٹھنڈا ہوتا ہے جب یہ پانی سے گزرتا ہے۔ لیکن کالے گنک کو دیکھو جو ایک ہکہ نلی میں بنتا ہے۔ اس میں سے کچھ صارفین کے منہ اور پھیپھڑوں میں داخل ہو جاتے ہیں۔ اور چونکہ ان کے پاس فلٹرز نہیں ہیں اور لوگ اکثر انہیں طویل عرصے تک استعمال کرتے ہیں ، ان کی صحت کے خطرات اور بھی زیادہ ہو سکتے ہیں۔ ہکہ عام طور پر مشترکہ ہوتے ہیں ، لہذا پائپ کے ساتھ ساتھ جراثیم کے گرد پھیلنے کا اضافی خطرہ ہوتا ہے۔

    آج سے عہد کریں نا خود نوش کریں گے نا کسی کو کرنے دیں گے اور اپنے مستقبل کے ایک اچھا اقدام اٹھائیں گے۔

    تمباکو نوشی ہمیں اور ہماری آنے والی نسلوں کو برباد اور تباہی کے دہانے پر پہنچا دیتی ہے۔ 

    پاکستان میں ہزاروں لوگ اس کے ادی ہوجاتی ہیں. لوگ خود کو اس نشے میں اندھا کرتے ہیں اور اپنی صحت والی زندگی سے کھیلتے ہیں. پاکستان میں لوگ نشے سے ایسے لیپٹ جاتے ہیں جیسے سردیوں میں کمبل سے لوگ لیپٹ جاتے ہیں۔غیر قانونی طور پر کمپنیاں بغیر ٹیکس اس ملک میں بیچتے ہیں۔ اس سے عوام کو ان کمپنیوں کی وجہ سے بھر پور ٹیکس دینے پر مجبور ہوجاتے ہیں اور ٹیکس ریونیو جمع نا ہونے کی وجہ سے پاکستان کی معیشت پر منفی اثرات مرتب ہوتے ہیں پھر پاکستان کے غریب سے غریب تر ہوجاتے ہیں اور فائدہ صرف یہ نشہ آور کیمیکل نیکوٹین بنانے والی کمپنیاں اٹھاتی ہیں۔

    @jaanbazHaseeb 

    https://twitter.com/JaanbazHaseeb?s=09 

  • نشہ سے آپکی زندگی کیسے تباہی و برباد ہوتی ہے میری تحریر پڑھیںِ۔ تحریر۔ فرزانہ نیازی

    نشہ سے آپکی زندگی کیسے تباہی و برباد ہوتی ہے میری تحریر پڑھیںِ۔ تحریر۔ فرزانہ نیازی

    :
    نشہ کیا ہے یہ سوال ذہن میں آتا ہے جواب نشہ موت ہے جو آپکی زندگی کو آہستہ آہستہ سے کھوکھلا کرتا جاتا ہے نشے کی اقسام کون کون سی ہیں یہ جانیے
    افیون گانجا ہیروئن شراب آئیس پٹرول پالش ثمر بوند پوڈر اور انجیکشن نشہ کرنے والا شخص کسی کا نہیں ہوتا آخر میں وہ اپنے ماں باپ کو بھی بیچنا چاہے گا آپ سوچتے ہیں نہ نشہ کرنے میں کچھ نہیں ہوگا میں بتاتی جاؤں کہ
    آخر میں آپکے اپنے آپکے ماں باپ بلکے آپکی اپنی اولاد تک آپکا ساتھ چھوڑ جاتی ہے یہ اتنی بری علامت ہےاس شخص کی نہ اللّٰہ کے سامنے کوئی قدر رہتی نہ ہی دنیا میں کوئی عزت کرتا ہے یہ بات میں قسم کھا کر بھی کہ سکتی ہوں میں آنکھوں دیکھا حال بیان کر سکتی ہوں میری دوست بہت ہی اچھے گھرانے سے تعلق ہے ہمارے ساتھ کالج میں پڑتی تھی ہمارے کالج میں نشہ وار چیزوں کا عام استعمال ہوتا ایک دن ایک ایسی لڑکی سے اسکی دوستی ہوئی جو نشہ وار چیزیں بہت کرتی تھی کالج میں ٹیچرز کو کوئی پرواہ ہی نہیں تھی نہ وہ دیکھتے جا کے کیا ہو رہا ہے میری دوست نے انجکشن لگوا لیا وہ کسی کو کچھ نہیں بتاتی دوسرے دن پھر لگوا لیا مجھے پتا نہیں تھا ایسے گم سم رہنے لگی کسی چیز میں دلچسپی نہیں لیتی تھی یہ سلسلہ 1 مہینہ چلتا رہا اچانک سے اسکی شادی ہو گئی میرا ربطہ ہوا تو اس نے مجھے بتایا سب کچھ میں کافی پریشان ہو گئی سوچا اسکے گھر والوں کو بتاؤ پر اس نے مناہ کر دیا بہت ہی مشکل ٹائم تھا اس کیلئے اسے نشہ بلکل نہیں مل رہا تھا وہ نشے کی اتنی عادی ہو چکی تھی 1 دن نہیں ملتا تو سکا جسم ٹوٹتا تھا غصے سے چختی تھی چلاتی تھی بستر پر ہو جاتی تھی سسرل والے کافی سخت تھے انکو نہیں بتا تھا وہ ایسا کیوں کر رہی ہے نہ وہ گھر سنبھال سکتی تھی نہ کی سسرال والوں کی پروا تھی خود کو بھی بھول گئی فقیروں جیسی حالت ہوگئی کوئی دوا اثر نہیں کرتی اس نے اپنے سسرال والوں کو مجبور ہو کر بتایا میں نشہ کرتی ہوں انجکشن لگاتی ہوں خود کو تبھی چل پاتی ہوئی اگر انجکشن نہ ملے تو مجھے دنیا کا ہوش نہیں رہتا جیسے ہی شوہر نے سانس فارن طلاق ہوگئی آج وہ کہاں کچھ پتا نہیں بہت سمجھایا گھر والوں نے پھر انھوں نے بھی آہستہ آہستہ ساتھ چھوڑ دیا نہیں جانتی وہ کہاں ہے کس حال میں نشہ کی روک تھام کیلئے ہماری گورنمنٹ کو جلد از جلد ایکشن لینا ہوگا پاکستان میں نشہ کا استعمال بہت ہی عام ہوتا جارہا ہے اسکی وجہ گورنمنٹ کی نااہلی ہے کچھ شہروں میں عام میڈیکل سٹور زیادہ سیل نہیں ہو رہا پر ایسا ہو بھی رہا ہے عمران خان کے اپنے آبائی شہر میانوالی میں بڑے بڑے میڈیکل سٹورز پر نشہ بیچا جارہا ہے یہ ہمارے مستقبل کا سوال ہے ہماری آنے والی نشہ میں مبتلا نوجوانوں کی تعداد زیادہ ہے اور قریب دس سے اٹھارہ سال تک کے بچے جو چائلڈ لیبر ہیں وہ عام سوسائٹی کی نسبت اس کا زیادہ شکار ہیں
    جبکہ کالج لیول اور یونیورسٹی لیول اور عام سوسائٹی میں شراب چرس آئیس اور انجیکشن وغیرہ کے نشے زیادہ مقبول ہیں نشے کی فراہمی بہت عام ہوتی جارہی ہے مجھے افسوس ہے اور یہ اندرونے اور بیرون ملک عام سے ماحول میں باآسانی سمگل ہو رہے ہیں ان سب میں اہم بات یہ کہ ان تمام نشہ آور نشوں میں جب عام نشوائی تک ترسیل ہوتی ہے تو کوئی بھی نشہ حالص حالت میں نہیں آتا بلکہ مختلف چیزوں کی ملاوٹ کے ذریعے مقدار بڑھا کر مزید خطرناک کیا
    جاتا ہے ۔۔۔!!!

    @Miss__niazi

  • آج کی دنیا -خاموش پیغام  تحریر عبدالعزیز صدیقی ایڈوکیٹ

    آج کی دنیا -خاموش پیغام تحریر عبدالعزیز صدیقی ایڈوکیٹ

    آج کل ہم جس دنیامیں زندہ ہیں ، اس کےحالات بہت چونکا دینے والے ہیں۔ یہ کہناغلط نہ ہوگاکہ ہمارے زمانے میں پریوں کی جوکہا نیاں تھیں وہ اب سچی ثابت ہوگئی ہیں ۔ اب انسان خلاء کی سیراتنے آرام سے کر رہے ہیں جیسے گھر کی چہار دیواری مں بیٹھے ہوں اور اب توانسان چاند پر ڈیرے ڈال چکا ہے اوراب تو وہ دوسرے سیاروں پر بھی کمند ڈالنے کی فکر میں ہے۔ دنیا کے کسی بھی ملک سے کوئی سامان خریدنا ہو تو بس گھر بیٹھےایک معمولی کارڈ سے ادائیگی کر کے منگایا جاسکتا ہے، ایک معمولی ساہٹن دباکر ہم اپنے مکان میں روشنی کا سیلاب لا سکتے ہیں، ایک بٹن دہاتے ہی گھر بیٹھے ہم رنگارنگ موسیقی سن سکتے ہیں اورفورا ہی دوسرابٹن دباکر زندہ تماشا یعنی ٹیلی وزن دیکھ سکتے ہیں۔ دنیا میں رونما ہونے والے واقعات چشم زدن میں آپ کے سامنے آجاتے ہیں، ایک چھوٹاسا آلہ کان اور منہ سے لگانے کے بعد هم ایک ایسے دوست کو دیکھتے ہوئے براہ راست بات چیت کر سکتے ہیں جو ہم سے آدھی دنیا کے فاصلے کے برابر دور بیٹھا ہے، ہم جب چاہیں گوگل کی مدد سےاپنے ذہنی دریچوں کوکھول سکتے ہیں ، ہم سیکنڈوں میں بادلوں اور بلندیوں پر چمکتے ہوئے ستاروں کے بارے میں قیمتی معلومات کا خرانہ حاصل کر سکتے ہیں، ان چٹانوں کے بارے میں بہت کچھ جان سکتے ہیں جو ہمارے پاؤں کے نیچے دفن ہیں، اپنےجسم کی ساخت کو سمجھنااب کوئ مشکل نہیں رہا، اس کے ساتھ ہی ہم تندرست رہنے کے طریقے بھی معلوم کر سکتے ہیں اور یہ وہ معلومات ہیں جو کہ اب سے ہزاروں سال پہلے کےبڑے بڑے علماء کو بھی معلوم نہیں تھیں۔
    اب تو ہم قدیم بادشاہوں سے کہیں زیادہ بہتر موسیقی سن سکتے ہیں، اب ہم دنیا سے مختلف ممالک کی بہترین نقاشی اورسنگ تراشی کے نمونے بآسانی گھر بیٹھےدیکھ سکتے ہیں، ہم اگر چاہیں تو معمولی سی کوشش سے بہترین موسیقار، مصور اور مجسمہ ساز بن سکنے ہیں۔ اپنے خیالات و محسوسات کو بہترین پیرایوں میں ظاہرکرنے کے طریقے سیکھ سکتے ہیں۔ اب توآپ یہ کہھہ سکتے ہیں کہ یہ کوئی کمال کی بات نہیں اور نہ اسے پہلے کی طرح جادو کہاجاسکتاہے۔
    ہمارے آبا واجداد کے بچپن میں نہ ریڈیو تھے اور نہ ہوائی جہاز ۔ اسی طرح جب آپ کے والد بچے تھے تو ٹیلیوژن کا نام و نشان بھی نہ تھا۔ آنے والی کل کو آپ کے بچے کیا کچھ دیکھیں گے آج آپ اس کا تصور بھی نہیں کر سکتے لیکن اب اس کا انحصار آپ کی زات پر ہے ہرنئی ایجا دکا فائدہ بخش پہلو بھی ہوتا ہے اور نقصان دہ بھی۔ ہوائی جہاز میں بیٹھ کر آپ دور دراز علاقوں میں جاکر تفریح کر سکتے ہیں لیکن یہ ہی جہاز مکانوں، کارخانوں اور شہروں پر بم گرا کر انہیں مٹی کے ڈھیر بھی بنا سکتے ہیں ۔ ریڈیو اور ٹی وی کے ذریعے آپ دنیا کی بہترین موسیقی اور تفریحی پروگرام دیکھ اورسن کر خوش ہوسکتے ہیں اور یہی ریڈیو اور ٹی وی دشمن کی فوجوں کوحملہ کرنے کی ہدایت دے سکتا ہے ۔ ایٹم بم نیار کر نے والی مشینیں مہلک بم بھی تبار کرتی ہیں اور آپ کو تکلیف دہ امراض سے نجات بھی دلاسکتی ہیں۔ درسگاہوں میں ہم حکمت و دانائی کی باتیں سیکھتے ہیں لیکن کہیں کہیں ان درسگاہوں میں طالب علموں کو دوسرے انسانوں سے نفرت کرنے کی تعلیم بھی دی جاتی ہے یہ مقولہ بالکل درست ہے کہ "علم کے صحیح استعمال سے انسان ترقی کی بلندیوں پر چڑھتا ہے اور اس کے غلط استعمال سے تنزلی کی پستیوں میں جاگرتا ہے” ۔ہمیں دنیا کے تمام انسانوں سے وہی سلوک کرنا چاہیے جو ہم ان سے اپنے ساتھ چاہتے ہیں ۔ اگرہم نے اس سنہری اصول پرعمل نہ کیا تو ہمارے تمام منصوبے، زندگی کی تمام مسرتیں اور دنیا کی تمام نعمتیں خاک میں مل جائیں گی اورانسان اپنی مسلسل اور انتھک جدوجہد سے ترقی کی جس معراج پر پہنچا ہے ، وہ ماضی کا ایک بھیا نک خواب بن کر رہ جائے گی ۔

    @Azizsiddiqui100

  • بے پردگی اور ہماری عوام  تحریر: راجہ ارشد محمود

    بے پردگی اور ہماری عوام تحریر: راجہ ارشد محمود

    اسلامی جمہوریہ پاکستان ملک ہے جس کو اسلام کی بنیاد پر حاصل کیا گیا۔ جس کی بنیاد ہی کلمہ طیبہ پر رکھی گئی۔پاکستان کا مطلب کیا لا الہ الا اللہ۔۔۔۔۔۔۔
    جسے حاصل کرنے کا سب سے بڑا مقصد ہی یہ تھا کہ یہاں مسلمان اپنے دین اسلام کی تعلیمات کے عین مطابق اپنی زندگی پوری آزادی کے ساتھ گزاریں۔ کیونکہ برصغیر ہندوستان میں مسلمانوں پر ہر طرح سے زندگی تنگ کردی گئی تھی۔

    ان کا فقط جرم یہ ٹھہرا کہ وہ مسلمان تھے۔ اسی وجہ سے ان پر زور و شور سے ظلم و ستم کیا جاتا رہا۔ مسلمانوں سے انگریزوں اور ہندوؤں کی غلامی کروائی جاتی رہی۔ ان کے لیے وہاں نہ کوئی تحفظ تھا اور نہ ہی عزت۔

    بس ہر سوں مسلمانوں کا قتل عام تھا۔ مسلمان عورتوں کی عزت تو چار دیواری کے اندر بھی محفوظ نہیں تھی۔ ایسے میں اللّٰہ پاک نے مسلمانوں کو تکالیف سے نکالنے کے لیے ہمارے عظیم لیڈر قائد اعظم محمد علی جناح کو بھیجا ۔ جنہوں نے اپنے مسلمان بہن بھائیوں کے لیے آزادی کی جنگ لڑی۔ اپنی انتھک محنت سے مسلمانوں کے لیے الگ وطن اسلامی جمہوریہ پاکستان حاصل کیا۔

    پر انھیں کیا پتا تھا کہ وہ جس قوم کے لیے اپنی جانوں کا نذرانہ دے رہے ہیں وہ قوم آگے چل کر اسی مغرب کی پیروی کرنے والی یے۔ کیا یہ سچ نہیں کہ آج پاکستان کی عوام بہت حد تک مغربی کلچر کے دلدادہ ہوگئے ہیں؟ پہلے تو بات صرف ان کے ڈرامے اور فلمیں دیکھے جانے تک کی تھی پر اب تو ہمارے معاشرے میں مکمل طور پر مغرب کا کلچر اپنی جڑیں گاڑ رہا ہے۔ اس میں قصور وار کوئی دوسرا تیسرا نہیں بلکہ صرف اور صرف ہم خود ہیں، ہمارا معاشرہ ہے۔

    جو مغربی کلچر کو فروغ دینے میں کوئی کسر نہیں چھوڑ رہا۔ شادیوں بیاہوں کی تقریبات میں گھٹیا سے گٹھیا لباس تن کرنا اب کوئی بہت بڑی بات نہیں رہی۔ وہیں آج سرعام سڑکوں پر بےلباس گھومنا پھرنا بھی عام ہوگیا ہے۔ وہی ملک جسے آزادی کے ساتھ اسلام کی پیروی کرنے کے لیے حاصل کیا گیا تھا آج اسلام کے تمام احکامات کو رد کرتے ہوئے ہمارے معاشرے کی کچھ عورتیں جب میرا جسم میری مرضی کا نعرہ لگاتی ہیں تو دل خون کے آنسو روتا ہے۔

    یہ سب باتیں صرف عورتوں تک ہی محدود نہیں رہیں ہمارے معاشرے کے مرد حضرات بھی کسی سے کم نہیں ۔ یہاں ایسے مرد بھی پائے جاتے ہیں جو اپنے بےشرم اور بےحیا ہونے کا مکمل ثبوت دیتے ہوئے راہ چلتی عورتوں کو حراساں کرتے ہیں اور پھر موقع دیکھتے ہیں بھوکے کتوں کی طرح انھیں نوچ ڈالتے ہیں۔ اس کے علاؤہ انھیں بےپردہ ہونے میں بھی وقت نہیں لگتا۔ ابھی کچھ روز قبل کی بات ہے جب سوشل میڈیا پر چند تصاویر وائرل ہوئیں۔

    جس میں ایک مرد فیشن کے نام پر اپنا پورا بدن برہنہ کیے ہوئے اپنے جسم کی نمائش کروا رہا تھا۔ تو پھر میں یہ کہنے پر مجبور ہوں کے اس قسم کی بےشرمی، بےحیائی اور بےپردگی کو فروغ دینے میں سب سے زیادہ کردار پاکستان کی عوام کا ہے۔ جو ایسے نمونوں کو شوق سے دیکھتے ہوئے ان کی پزیرائی کرتے ہیں ۔ اللہ پاک ہم سب کا حامی ناصر ہو

    @RajaArshad56

  • بددعائے محبت تحریر: بسمہ ملک

    بددعائے محبت تحریر: بسمہ ملک

    (گزشتہ کیساتھ پیوستہ )

    میں خوش تھی کہ میں نے اپنا انتقام لے لیا چھ ماہ بعد میری شادی ہونے والی تھی میں اور سعد پہلے کی طرح ایک دوسرے سے فون پر باتیں کرتے تھے میں بھول چکی تھی کہ سعد نے مجھے گردہ دینے سے انکار کیا تھا
    عادی کو گئے پانچ ماہ ہوئے تھے میں بھی اس کو بھول کر اپنی دنیا میں مست تھی کہ ایک دن فون آیا کہ عادی کوہاٹ اٹیک آیا ہے اور وہ ہسپتال میں ہے مجھے اس خبر سے کوئی فرق نہیں پڑا تھا امی اور ثمرین اس کو دیکھنے گئی تھی دوسرے دن ثمرین نے مجھے فون کیا اور کہا عادی بھائی آپ سے بات کرنا چاہتے ہیں میں نے صاف انکار کردیا
    ثمرین نے میری منت ترلے کیے اور یہ بھی کہا کہ ان کی حالت ٹھیک نہیں ہے آپ ان کی خیریت پوچھ کر فون بند کر دینا
    شاید کچھ کہنا چاہ رہے ہوں آپ سے ۔۔۔؟
    مجھے کوئی ضرورت نہیں اس سے بات کرنے کی میری بلا سے وہ مرے یا جئے۔
    میں نے بے حسی سے کہا اور ثمرین کے کچھ بولنے سے پہلے ہی فون بند کر دیا
    کچھ دیر بعد ثمرین کے نمبر سے میسج آیا تھا میںسج عادی نے کیا تھا
    میرے تے مر داروں سے
    مسیحا جب یہ کہہ دیں گے
    دعا کا وقت آپہنچا
    یہ بیماری بہانہ تھی
    قضا کا وقت آ پہنچا
    تو کیا تم اتنی بے حس ہو
    یقین اس پر نہ لاؤ گی ؟؟
    تو کیا تم اتنی ظالم ہو
    مجھے ملنے نہ آ وگی؟؟؟؟

    نیچھے عادی کا نام لکھا تھا میں نے فورا ڈیلیٹ کردیا اور بھاڑ میں جاو لکھ کر ریپلائی سینڈ کر دیا جواب پڑھ کر اس کی جو شکل ہوئی ہوگی سوچ کر میں ہنس پڑی تھی اگلے دن صبح میرے فون کی بیل سے میری آنکھ کھلی
    اتنی صبح کو فون کر رہا ہے؟ میں نے بے زاری سے سوچتے ہوئے ہاتھ بڑھا کر فون اٹھایا اور بمشکل ذرا سی نیم آنکھیں کھول کر نمبر دیکھنے کی کوشش کی ثمرین کا نام پڑھتے ہیں مجھے غصہ آ گیا تھا مجھے یقین تھا کہ فون عادی کر رہا ہوگا یا اس نے ثمرین سے کہا ہوگا کہ فون کر کے میری بات کرادؤ اتنی دیر میں فون خاموش ہو گیا تھا میں نے شکر ادا کیا اور کروٹ بدل کر پھر سونے کی کوشش کرنے لگی
    موبائل ایک بار پھر بج اٹھا میں نے غصے سے موبائل اٹھایا اور یس کا بٹن پریس کرتے ہی بےزاری سے بولی
    ثمی کیا مسئلہ ہے تمہیں؟
    اپی۔۔۔۔ عادی فوت ہوگئے ہیں،
    ثمرین روتے ہوئے بمشکل اتنا ہی کہا تھا
    میری نیند غائب ہو گئی شاید مجھے ایسے خبر کی توقع نہیں تھی مجھے ذرا سا دکھ سا ہوا میں کمبل لپیٹ کر سونے کی کوشش کی کی مگر نیند نہیں آئی تو میں نے اٹھ کر منہ دھویا یا اور ناشتہ بنانے لگی
    ابو کو اطلاع مل چکی تھی اور وہ عادی کے گاؤں جانے کی تیاری کر رہے تھے ابو نے مجھے کہا کہ تم بھی ساتھ چلو مگر مجھے ایسے رونے کے موقع سے الجھن ہوتی تھی
    میں وہاں کیا کروں گی؟
    ابو آپ لوگ چلے جائیں
    میں نے انکار کر دیا
    مجھے تھوڑا دکھ ضرور ہوا تھا مگر ایسا بھی نہیں تھا کہ میں دل پہ لے لیتی
    ابو لوگ 3 دن بعد واپس آئے تھے
    ثمرین نے آتے ہی مجھ سے شکوہ کیا تھا اپی اپ نے اچھا نہیں کیا
    عادی بھائی کے ساتھ
    اگر ان سے بات نہیں کی تو کم از کم ان کے مرنے پر ہی آ جاتی
    ان سے ایسی بھی کیا ناراضگی تھی کہ آپ کی ۔۔؟
    اس کی آواز سے لگ رہا تھا جیسے وہ روتی رہی ہے
    میرے جانے سے کونسا اس نے زندہ ہو جانا تھا
    میں نے جان چھڑانے کے انداز میں کہا
    آپ کے جانے سے وہ زندہ تو نہیں ہو سکتے تھے البتہ اگر اپ ان سے بات کر لیتی تو شاید وہ زندہ ہی رہتے
    میں نے اسے مارا ہے کیا۔۔۔؟
    ثمرین کے جواب پر مجھے غصہ آ گیا تھا
    ہاں اپی آپ نے ہی ان کو مارا ہے اس انسان کو جس نے آپ کی زندگی بچائی تھی
    کیا مطلب۔۔۔؟
    ثمرین کے جواب پر میں نے سوالیہ انداز میں اسے دیکھتے ہوئے کہا
    اپی آپ بھی آپ کو معلوم ہی نہیں کہ جس سے آپ نے آخری وقت بھی بات کرنا گوارا نہیں کیا اور جس سے آپ سب سے زیادہ نفرت کرتی تھی اسی عادی بھائی نے آپ کو اپنا ایک گردہ دیا تھا
    کک کیا۔۔؟؟؟
    میرے منہ سے بے ساختہ نکلا
    مجھے شدید حیرت ہوئی تھی بے یقینی سے میں ثمرین کا منہ تکنے لگی
    مجھے لگا شاید ثمرین جھوٹ بول رہی ہے۔؟
    یہ تم کیا کہہ رہی ہو ثمی؟
    تت تم نے مجھے پہلے کیوں نہیں بتایا؟؟
    میں اس وقت دکھ، حیرت اور بے یقینی کے ملے جلے سے احساس میں ڈوبی ہوئی تھی
    یہ بات ابو اور میرے سوا کوئی نہیں جانتا
    ثمرین نے کہا
    عادی بھائی نے ہم دونوں سے وعدہ لیا تھا کہ یہ بات اپ سمیت کسی کو بھی نہ بتائی جائے
    ثمرین کی آنکھوں میں نمی تیرنے لگی
    مجھے لگا جیسے کوئی میرا دل ارے سے کاٹ رہا ہو
    آنکھوں میں آنسو کی وجہ سے ثمرین کا چہرہ دھندلانے لگا تھا
    شاید یہی وہ لمحہ تھا جب مجھے محبت کی بددعا لگی تھی
    اس بے لوث محبت کی بددعا جس کا میں نے ہمیشہ مذاق اڑایا تھا
    اور زندگی میں پہلی بار لڑکی بچوں کی طرح پھوٹ پھوٹ کر روئی تھی
    پانچ سال گزر چکے ہیں مگر میرے دل کو صبر نہ آیا نہ قرار ایا
    پچھتاوا مجھے کھائے جا رہا ہے ان پانچ سالوں میں ان گنت بار میں عادی کی قبر بھی پہ جا کے معافی مانگ چکی ہوں
    مگر میرے دل کو سکون نہیں ملا شاید عادی نے مجھے معاف نہیں کیا کیونکہ میں نے جب اس پر بہتان لگا کے گھر سے نکلوایا تھا تو جاتے ہوئے اس نے کہا تھا کہ” نوشی میں تمہیں کبھی معاف نہیں کروں گا ”
    میں جب بھی اس کی قبر پر جاتی ہوں ہو اس کی پسند کے سرخ گلاب لے کر جاتی ہوں
    میری خواہش ہے کاش وہ بھی میری طرح میرے لائے پھول توڑ کر پھینکے اور مجھے کہے یہاں سے چلی جاؤ مجھ سے نفرت کا اظہار کرے
    میں افف تک نہیں کروں گی بس
    ایک بار وہ مجھے معاف کر دے
    بس ایک بار
    میں نے سب کی مخالفت کے باوجود منگنی توڑ دی تھی اور آج تک شادی نہیں کی اور نہ کبھی کروں گی اب اندھیرے میرے مقدر ہیں
    روشنی کے دلدادہ لڑکی کو اب اندھیرا اچھا نہیں لگتا ہے
    میں جانتی ہوں کے عادی کی قاتل میں ہی ہوں
    مجھے یاد ہے عادی نے ایک بار ہارٹ اٹیک کی تشریح کی تھی کی اس نے کہا تھا کہ جب کسی انسان کو مسلسل دل پہ زخم لگتے ہیں تو اس کا دل کمزور ہو جاتا ہے اور جب مزید قوت نا رہے تو کوئی ایک بات یا الفاظ دھچکے کی صورت دل پہ لگتی ہے اور دل دھڑکنا بھول جاتا ہے
    لوگ کہتے ہیں اسے ہارٹ اٹیک آگیا
    وجہ نا کوئی جانتا ہے نہ جاننے کی کوشش کرتا ہے
    اس نے ٹھیک کہا تھا میرے راویے نے اسے مارا ہے اور جب اسپتال میں اس نے مجھ سے بات کرنا چاہے تو میں نے انکار کر دیا تھا
    شاید اسی بات نے اس کو مار دیا ہو
    میں خود کو اس کی قاتل سمجھتی ہو اور اس کی سزا مجھے بے سکونی تنہائی اور پچھتاوے کی صورت مل رہی ہے
    ایک اذّیت مسلسل ہے
    جو ختم ہونے کا نام نہیں لے رہی ہے
    عادی نے کئی بار کہا تھا کہ کزن یار کچھ بھی کر مگر تکبر نہ کیا کرو
    اللہ سے ڈرو ۔
    تکبر صرف اللہ کی ذات کو ہی جچتا ہے
    کائنات کا سب سے پہلا گناہ تکبر ہی تھا
    جس نے فرشتوں کے سردار کو قیامت تک کیلئے ملعوون بنا دیا ہے
    وہ بھی خود کو افضل سمجھ بیٹھا تھا وہ آگ سے بنا تھا اس نے آدم علیہ السلام کو مٹی کا سمجھ کر حقیر جانا اور سجدے سے انکار کر دیا
    عادی نے بالکل ٹھیک کہا تھا۔
    کاش میں اس وقت اس بات کو سمجھ لیتی اور اسے انسان ہی سمجھتی تو پچھتاوا میرا مقدر نہ ہوتا
    کاش وہ ایک بار اکر اپنے مخصوص انداز میں کہے
    "کزن یار”
    کیوں پریشان ہو؟؟؟
    اور مجھے گلے سے لگا کر کہے
    اب میں آگیا ہوں
    سب ٹھیک ہو جائے گا
    اور میں اس کے گلے سے لگ کر اتنا رہا ہوں کہ میرا سانس تھم جائے
    پھر وہ مجھے ہمیشہ کے لئے اپنے ساتھ ہی لے جائے
    اب عجیب ہی سہی
    مگر یہ میری آخری خواہش ہے
    (ختم شدہ )

  • زِندَگی تحریر:افشین

    زِندَگی تحریر:افشین

    زِندگی وہ پھول ہے جو اپنی خوشبوں سے چاروں اِطراف کو مہکا دیتا ہے پھول میں اگرچہ کانٹے بھی موجود ہوتے ہیں پر وہ بھی پھول کا حصہ ہیں ۔ جیسے تکلیفیں ،آزمائشیں زندگی کا حصہ ہیں ۔ زندگی اس سفر کا نام ہے جو مسافروں کی بھیڑ میں طے کیا جائے پر منزل پہ تنہا پہنچا جائے ۔ ہماری زندگی اس کتاب کی مانند ہے جو لکھ دی گئ ہے لکھنے والا رَبّ پاک ہے۔ ہماری زندگی کی کتاب کو پڑھنے والا ہر کوئی نہیں ہوتا کچھ ادھورا پڑھ کے چھوڑ دیتے ہیں کچھ مکمل اور کچھ پَرکھ کے اپنی رائے خود ہی قائم کرکے چھوڑ دیتے ہیں۔ مطلب یہ کتاب دلچسپ نہیں لہذا پڑھنی ہی نہیں ۔ کچھ لوگ پڑھ کے بھی سمجھ نہیں پاتے ۔زندگی خوابوں کا افسانہ ہے جس میں خواب تو بہت ہیں مگر ادھورے ۔زندگی وہ حقیقت ہے جس میں کڑواہٹ بھی ہے پھر سچائی سے بھری ہوئی ہےزندگی نعمتِ خدا ہے خوشیاں غم سب اسکا حصہ ہیں ۔زندگی ان لوگوں کے لیے حسِیں سفر کی مانند ہے جو یہ سوچتے ہیں یہ لطف اندوز ہونے کے لیے ہے اور وہ اپنی زندگی بہترین انداز میں جیتے ہیں۔ لیکن ان لوگوں کے لیے زندگی تلخ ہے جو زندگی کو با مقصد جینا چاہتے ہیں کچھ خواب بناتے ہیں انکی تکمیل کے لیے ہر طرح کے حالات سے لڑتے ہیں مشکلات جھیلتے ہیں ۔زندگی بہت کچھ کھونے اور پانے کا نام ہے ۔ زندگی سب کے لیے آسان نہیں ہوتی ۔کچھ جی لیتے ہیں اور کچھ کو یہ زندگی تھکا دیتی ہے ۔ زندگی سانس لینے اور رکنے تک کا نام ہے ۔ زندگی ایک امتحان ہے جیسے پاس ہونے کے لیے محنت اور کوشش درکار ہے، ایسے ہی زندگی کے امتحان بھی کوئی آسان نہیں ہوتے کچھ پانے کے لیے کوشش کی جاتی ہے اور کوشش اور محنت سے پھل ملتا ہے ۔زندگی کے اس سفر میں صبر ایک اہم جُزو ہےصبر و تحمل سے ہی زندگی کا سفر آسانی سے طے کیا جاسکتا ہے۔ اگر اللّلہ پاک کے بتائے ہوئے سیدھے راستے پہ چلیں گے تو کامیابی آپکے قدم چومے گی راہ بھٹکنے پہ دنیا و آخرت میں سزا منتخب ہے ۔دوسروں کی زندگی آسان بنائیں تاکہ آپکی زندگی کے سب کانٹے خود بخود ہٹ جائیں ۔زندگی رنگوں سے بھری ہے اپنے اردگرد دیکھے ہر طرف رنگ بکھرے پڑے ہیں ۔ ان رنگوں کو سمٹ کے اپنی بے رنگ زندگی میں رنگ بھر لیں ۔ زندگی کو جینا سیکھیے ہمت نہ ہاریں ۔انسان چرند پرند جانور سب کو زندگی دینے والا ایک رِبّ العزت ہی ہے جس اس دنیا کو بنایا اورسب کی تخلیق کی ۔ وہ جب چاہے زندگی لے لے اور جس کو جتنی چاہے زندگی دے دے ۔یوں تو ہر طرف لوگوں کا میلا ہے پھر بھی انسان اکیلا ہے دنیا میں آئے بھی اکیلے ہی تھے جانا بھی اکیلا ہی ہے ۔ پھر کیا گلے شکوے رضائے الٰہی ربِ کائنات کے فیصلوں پہ خوش رہیں۔ اپنی زندگی کو نعمتِ خدا سمجھیں اور اسکو حالات سے تنگ آ کے ختم کرنے کے بجائے مقابلہ کریں اور رَبّ پاک کا شکر ادا کریں کیونکہ زندگی کانٹوں کی سیج ضرور ہے پر یہی کانٹے پھولوں تک پہنچانے کا ذریعہ بھی ہیں ۔زندہ رہنے کے لیے ہوا پانی غذا اور آکسیجن کی ضرورت ہوتی ہے۔ کچھ انسان جی تو رہے ہوتے ہیں مگر انکا کہنا ہے ہم بس زندہ ہیں۔ زندگی گزر رہی ہے انکے لفظوں میں مایوسی ٹپک رہی ہوتی ہے مطلب انکا جسم ہوا پانی خوراک آکسیجن سب لے رہا ہے پھر بھی وہ خود کو مردہ تصور کر رہے ہوتے ہیں ۔ صرف جسم کا زندہ ہونا ضروری نہیں روح کا زندہ ہونا بھی لازم ہےزندگی گزارنے اور جینے میں بہت فرق ہے ۔اپنی روح کو زندہ رکھے اور اللّلہ پاک پہ سب چھوڑ دیں اللّلہ پاک کے فیصلوں پہ خوش رہے مایوسی زندگی کو دشوار بنا دیتی ہے پُر امید رہیں۔ خوش رہے ۔ دوسروں میں خوشیاں بانٹ کے خود بھی جئیں، خود سے پیار کریں ۔ یہ زندگی بہت قیمتی ہے اسکی قدر کریں۔

    @Hu__rt7

  • پیار اور پرندے کو ہمیشہ کھلا چھوڑ دینا چاہیے تحریر کاوش لطیف

    پیار اور پرندے کو ہمیشہ کھلا چھوڑ دینا چاہیے تحریر کاوش لطیف

    ایک شخص کو کہا جائے میں آپ سے بہت پیار کرتا ہوں شادی کرنا چاہتا ہوں وہ شخص کی بھی آپ کے لیے احساس فیلنگ ہو لیکن کسی کی مداخلت کرنے سے حالانکہ دوسرے کی غلطی بھی نہ ہو وہ پھر بھی چھوڑ جائے اس شخص نے مداخلت کا نہ کہا ہو اس کو پتہ بھی نہ ہو اس کے پیٹھ پیچھے کیا چل رہا ہے لیکن اگلا شخص آپ سے بھی ناراض ہو جائے تو یا تو پہلے دور جانا چاہتا ہوگا بس موقع نہیں مل رہا ہوگا یا اس کے قریبی دوست نے کہا ہوگا مداخلت کا بہانہ بنا کر وہ ساتھ چھوڑ جائے جو کہ میں مانتا ہوں کہ مداخلت کرنا بھی غلط ہے کوئی یہ برداشت نہیں کرے گا کہ ہمارے درمیان یہ مداخلت کر رہا ہے لیکن اس کو بھی سوچنا چاہیے رشتے ایسی باتوں پر ختم نہیں کرنا چاہیے کیونکہ جو لوگ نبھانا چاہتے ہیں تو وہ حالات چاہے جیسے بھی ہوں نبھا جاتے ہیں جو نہیں نبھانا چاہتے ان کےلئے صرف ایک بہانہ کافی ہے چھوڑ کر جانے کے لئے

    زندگی ایک ایسی کتاب ہے جس کے ہر صفحے پر ہماری مرضی کی کہانی نہیں لکھی ہوتی لیکن ہر صفحہ ہمیں پڑھنا ہی پڑتا ہے کسی کو اپنی جان سے زیادہ چاہنے کا انعام درد اور آنسوؤں کے علاوہ کچھ نہیں ملتا اس لیے اپنی راتیں ان کے لئے خراب کرنا چھوڑ دو جن کو یہ بھی پروا نہیں کہ تم صبح اٹھو گے بھی کہ نہیں یہ مطلبی زمانہ ہے نفرتوں کا قہر ہے یہ دنیا دکھاتی شہد ہے اور پیلاتی زہر ہے

    انسان نے اگر زندگی میں دھوکا نہیں کھایا تو جان لو کہ زندگی میں سے کچھ سمجھا ہی نہیں یہ دنیا بھی بڑی عجیب ہے یہاں مطلب کی بات تو ہر کوئی سمجھتا ہے پر بات کا مطلب کوئی نہیں سمجھتا یہاں پر لوگ محفل میں بد نام اور منہ میں سلام کرتے ہیں

    ہم نے اپنی سی بہت کی وہ نہیں پگھلا کبھی اس کے ہونٹوں پر بہانے تھے بہانے ہی رہے ہمیشہ یہ بات یاد رکھنا کہ رشتہ دھیرے دھیرے ہی ختم ہوتا ہے بس پتا اچانک چلتا ہے

    ہیرے کو پرکھنا ہے تو تو اندھیرے کا انتظار کروں کیوں کہ دھوپ میں تو کانچ کے ٹکڑے بھی چمکنا شروع ہو جاتے ہیں

    اپنی زندگی کا یہ اصول بناؤ کہ جتنا آپ کے پاس ہے اس سے کم دکھاؤ اور جتنا آپ جانتے ہیں اس سے کم بولو سفر کا مزا لینا ہے تو سامان کم رکھوں اور اگر زندگی کا مزہ لینا ہے تو ارمان کم رکھو کیوں کہ کبھی نہیں سنا کہ انسان کو اس کی عاجزی لے ڈوبی انسان کو ہمیشہ اس کا تکبر ہی لے ڈوبتا ہے

    جیسے ایک چھوٹا سا چھید پوری ناؤ کو ڈبو دیتا ہے ویسے ہی چھوٹی چھوٹی غلطیاں بہت بڑے بڑے نقصان کروا دیتی ہے

    آسمانوں کو زمینوں سے ملانے والے جھوٹے ہوتے ہیں تقدیر بتانے والے اب تو رشتہ ہی برے وقتوں میں مر جاتا ہے پہلے مر جاتے تھے رشتوں کو نبھانے والے جو تیرے عیب بتاتا ہے اسے مت کھونا اب کہاں ملتے ہیں آئینہ دکھانے والے

    پیار اور پرندے کو ہمیشہ کھلا چھوڑ دینا چاہیے اگر لوٹ کر آیا تو آپ کا اگر نہ آیا تو آپ کا تھا ہی نہیں کسی بھی رشتے میں بھروسا ہونا ضروری ہے پیار کرنے سے بھی زیادہ ضروری ہے اس لیے اپنا پیار ہمیشہ اس کے لئے سنبھال کے رکھوں جس سے اس کی قدر ہو

    زندگی میں جو گزر گیا ہے اسے پیچھے مڑ کر مت دیکھو ورنہ جو ملنے والا ہے اسے بھی آپ کھو دو گے زندگی میں ہمیشہ دلوں کو جیتنے کا مقصد رکھنا ورنہ دنیا جیت کر بھی تو سکندر بھی خالی ہاتھ گیا تھا پیسے کمائیں یا نہ کمائیں لیکن دعائیں ضرور کمانا کیونکہ پھر جھونپڑی میں محل جیسا سکون ملے گا

    @k__Latif

  • اولاد کی تربیت کا آسان طریقہ  تحریر: خالد عمران خان

    اولاد کی تربیت کا آسان طریقہ تحریر: خالد عمران خان

    آجکل کے دور میں جب دنیا بہت تیزی سے ترقی کر رہی ہے اور دن با دن مصروفیت بڑھتی جا رہی ہے ایسے وقت میں ماں باپ اپنی مصروفیات کے ساتھ اپنی اولاد کی پرورش کے لیے پریشان ہیں بہت آسان طریقے کار کو اپنا کر آپ بچوں کی اچھی تربیت کر سکتے ہیں.

    بچوں کو دین کے بارے میں سیکھانا سب سے اہم ہے جب اذان سنتے ہی آپ ٹیلی ویژن بند کر دیتے ہیں اور فورا نماز کے لئے تّیاری کرتے ہیں تو عنقریب آپ اپنے اس طرز عمل سے اپنے بچوں کو نماز کا پابند بنانے کا طریقہ سیکھا دیں گے جب بچے ماں باپ کو نماز پڑھتا دیکھتے ہیں جب بچے اور ازان کا احترام کرتا دیکھتے ہیں تو بچے آپ سے سیکھتے ھیں وہ نماز کے بھی پابند بنتے ہیں اور ازان کے وقت ازان کو احترام سے سنتے ہیں.

    جب آپ گھر میں داخل ہوتے وقت سب سے پہلے سب کو سلام کرتے ہیں تو بچے بھی آپکی یہ عادت اپنا لیتے ہیں بچے آپ کے عادت کو خاص طور پر دیکھتے ہیں اور اور لازمی اپنے والدین کی عادات اپنانے کی کوشش کرتے ہیں.

    والدین خاص طور اس بات کا خیال رکھیں کے جس رویئے سے وہ اپنے بڑوں سے پیش آتے ہیں اسّی طرح جب آپ اپنے والدین کا احترام کر تے ہے تو اپنے بچوں کے سامنے اور ان کے ہاتھوں کو بوسا دیتے ہیں تو آپ کے بچے آپکے اس عمل سے ماں باپ کی عزت کرنا سیکھتے ہیں اور وہ آپ سے عزت آی پیش آتے ہیں.

    جب والدین یہ میاں بیوی مختلف کام کاج میں ایک دوسرے کا ہاتھ بٹاتے ہیں تو اس سے آپ کے بچے بھی سیکھتے ہیں اور ایک
    دوسرے کی مدد کرتے ہیں اور ایک دوسرے سے تعاون کرنا سیکھتے ہیں اس طرح کی چیزیں وہ بچپن سے ہی سیکھ رہے ہوتے ہیں تو لازمی آپ ان باتوں کا خیال رکھیں اور اپنے رویے گھر میں خاص طور پر ٹھیک رکھیں۔بچوں کے سامنے خاص طور پر کسی قسم کے جھگڑے سے دور رکھیں ایسا کوئی عمل ان کے سامنے نہ کریں تاکہ ان میں بھی اس طرح کی عادت نہ پڑے۔

    جو ماں باپ نماز اور تلاوت قرآن کی پابند ہو تو اسے دیکھ کر اس کی بچے بھی نماز اور
    تلاوت قرآن کی پابند بنیں گے.

    جو ماں باپ گھر میں مُحبت کا ماحول رکھتے ہیں باہمی اتفاق و مفاہمت کے ساتھ زندگی گزارتے ہیں، اپنی اولاد کے سامنے لڑائی جھگڑا اور بلند آواز سے بات نہیں کرتے تو ان کے بچے گھر سے ماں باپ سے بہن بھائیوں سے محبت کرنے والے، اپنے اِرد گرد کے لوگو کے ساتھ الفت و محبت اور باہمی اتفاق ومفاہمت سے زندگی گزارنے والے بن جاتے ہیں.

    7- جو والدین اپنے رشتے داروں سے نرمی برتے ہیں کر اپنے عزیز و اقارب کی عزت کرتے ہیں تو ان کی اولاد بھی اس سے نرمی اور حسن سلوک سیکھتی ہے۔

    جو والدین آپس میں با ہمی مشورے سے مختلف امور میں ایک دوسرے سے رائے لیتے ہیں اور بچوں سے بھی راۓ مشورے لیتے ہیں اور ان کے ساتھ بیٹھ کر گفت و شنید کر تے ہیں اور اپنے بچوں کی رائے کا بھی احترام کر تے ہے تو اس سے بھی ان کے بچوں میں بھی باہمی راۓ مشورے اور مثبت رویہ اپنانے کی عادت پیدا ہوتی ہے آسان اور چھوٹے چھوٹے سے طریقے اپنا کر آپ اپنے گھر کا ماحول بہتر کر سکتے ہیں.

    Twitter handle
    @KhalidImranK