Baaghi TV

Category: معاشرہ و ثقافت

  • آج کی دنیا -خاموش پیغام  تحریر عبدالعزیز صدیقی ایڈوکیٹ

    آج کی دنیا -خاموش پیغام تحریر عبدالعزیز صدیقی ایڈوکیٹ

    آج کل ہم جس دنیامیں زندہ ہیں ، اس کےحالات بہت چونکا دینے والے ہیں۔ یہ کہناغلط نہ ہوگاکہ ہمارے زمانے میں پریوں کی جوکہا نیاں تھیں وہ اب سچی ثابت ہوگئی ہیں ۔ اب انسان خلاء کی سیراتنے آرام سے کر رہے ہیں جیسے گھر کی چہار دیواری مں بیٹھے ہوں اور اب توانسان چاند پر ڈیرے ڈال چکا ہے اوراب تو وہ دوسرے سیاروں پر بھی کمند ڈالنے کی فکر میں ہے۔ دنیا کے کسی بھی ملک سے کوئی سامان خریدنا ہو تو بس گھر بیٹھےایک معمولی کارڈ سے ادائیگی کر کے منگایا جاسکتا ہے، ایک معمولی ساہٹن دباکر ہم اپنے مکان میں روشنی کا سیلاب لا سکتے ہیں، ایک بٹن دہاتے ہی گھر بیٹھے ہم رنگارنگ موسیقی سن سکتے ہیں اورفورا ہی دوسرابٹن دباکر زندہ تماشا یعنی ٹیلی وزن دیکھ سکتے ہیں۔ دنیا میں رونما ہونے والے واقعات چشم زدن میں آپ کے سامنے آجاتے ہیں، ایک چھوٹاسا آلہ کان اور منہ سے لگانے کے بعد هم ایک ایسے دوست کو دیکھتے ہوئے براہ راست بات چیت کر سکتے ہیں جو ہم سے آدھی دنیا کے فاصلے کے برابر دور بیٹھا ہے، ہم جب چاہیں گوگل کی مدد سےاپنے ذہنی دریچوں کوکھول سکتے ہیں ، ہم سیکنڈوں میں بادلوں اور بلندیوں پر چمکتے ہوئے ستاروں کے بارے میں قیمتی معلومات کا خرانہ حاصل کر سکتے ہیں، ان چٹانوں کے بارے میں بہت کچھ جان سکتے ہیں جو ہمارے پاؤں کے نیچے دفن ہیں، اپنےجسم کی ساخت کو سمجھنااب کوئ مشکل نہیں رہا، اس کے ساتھ ہی ہم تندرست رہنے کے طریقے بھی معلوم کر سکتے ہیں اور یہ وہ معلومات ہیں جو کہ اب سے ہزاروں سال پہلے کےبڑے بڑے علماء کو بھی معلوم نہیں تھیں۔
    اب تو ہم قدیم بادشاہوں سے کہیں زیادہ بہتر موسیقی سن سکتے ہیں، اب ہم دنیا سے مختلف ممالک کی بہترین نقاشی اورسنگ تراشی کے نمونے بآسانی گھر بیٹھےدیکھ سکتے ہیں، ہم اگر چاہیں تو معمولی سی کوشش سے بہترین موسیقار، مصور اور مجسمہ ساز بن سکنے ہیں۔ اپنے خیالات و محسوسات کو بہترین پیرایوں میں ظاہرکرنے کے طریقے سیکھ سکتے ہیں۔ اب توآپ یہ کہھہ سکتے ہیں کہ یہ کوئی کمال کی بات نہیں اور نہ اسے پہلے کی طرح جادو کہاجاسکتاہے۔
    ہمارے آبا واجداد کے بچپن میں نہ ریڈیو تھے اور نہ ہوائی جہاز ۔ اسی طرح جب آپ کے والد بچے تھے تو ٹیلیوژن کا نام و نشان بھی نہ تھا۔ آنے والی کل کو آپ کے بچے کیا کچھ دیکھیں گے آج آپ اس کا تصور بھی نہیں کر سکتے لیکن اب اس کا انحصار آپ کی زات پر ہے ہرنئی ایجا دکا فائدہ بخش پہلو بھی ہوتا ہے اور نقصان دہ بھی۔ ہوائی جہاز میں بیٹھ کر آپ دور دراز علاقوں میں جاکر تفریح کر سکتے ہیں لیکن یہ ہی جہاز مکانوں، کارخانوں اور شہروں پر بم گرا کر انہیں مٹی کے ڈھیر بھی بنا سکتے ہیں ۔ ریڈیو اور ٹی وی کے ذریعے آپ دنیا کی بہترین موسیقی اور تفریحی پروگرام دیکھ اورسن کر خوش ہوسکتے ہیں اور یہی ریڈیو اور ٹی وی دشمن کی فوجوں کوحملہ کرنے کی ہدایت دے سکتا ہے ۔ ایٹم بم نیار کر نے والی مشینیں مہلک بم بھی تبار کرتی ہیں اور آپ کو تکلیف دہ امراض سے نجات بھی دلاسکتی ہیں۔ درسگاہوں میں ہم حکمت و دانائی کی باتیں سیکھتے ہیں لیکن کہیں کہیں ان درسگاہوں میں طالب علموں کو دوسرے انسانوں سے نفرت کرنے کی تعلیم بھی دی جاتی ہے یہ مقولہ بالکل درست ہے کہ "علم کے صحیح استعمال سے انسان ترقی کی بلندیوں پر چڑھتا ہے اور اس کے غلط استعمال سے تنزلی کی پستیوں میں جاگرتا ہے” ۔ہمیں دنیا کے تمام انسانوں سے وہی سلوک کرنا چاہیے جو ہم ان سے اپنے ساتھ چاہتے ہیں ۔ اگرہم نے اس سنہری اصول پرعمل نہ کیا تو ہمارے تمام منصوبے، زندگی کی تمام مسرتیں اور دنیا کی تمام نعمتیں خاک میں مل جائیں گی اورانسان اپنی مسلسل اور انتھک جدوجہد سے ترقی کی جس معراج پر پہنچا ہے ، وہ ماضی کا ایک بھیا نک خواب بن کر رہ جائے گی ۔

    @Azizsiddiqui100

  • بے پردگی اور ہماری عوام  تحریر: راجہ ارشد محمود

    بے پردگی اور ہماری عوام تحریر: راجہ ارشد محمود

    اسلامی جمہوریہ پاکستان ملک ہے جس کو اسلام کی بنیاد پر حاصل کیا گیا۔ جس کی بنیاد ہی کلمہ طیبہ پر رکھی گئی۔پاکستان کا مطلب کیا لا الہ الا اللہ۔۔۔۔۔۔۔
    جسے حاصل کرنے کا سب سے بڑا مقصد ہی یہ تھا کہ یہاں مسلمان اپنے دین اسلام کی تعلیمات کے عین مطابق اپنی زندگی پوری آزادی کے ساتھ گزاریں۔ کیونکہ برصغیر ہندوستان میں مسلمانوں پر ہر طرح سے زندگی تنگ کردی گئی تھی۔

    ان کا فقط جرم یہ ٹھہرا کہ وہ مسلمان تھے۔ اسی وجہ سے ان پر زور و شور سے ظلم و ستم کیا جاتا رہا۔ مسلمانوں سے انگریزوں اور ہندوؤں کی غلامی کروائی جاتی رہی۔ ان کے لیے وہاں نہ کوئی تحفظ تھا اور نہ ہی عزت۔

    بس ہر سوں مسلمانوں کا قتل عام تھا۔ مسلمان عورتوں کی عزت تو چار دیواری کے اندر بھی محفوظ نہیں تھی۔ ایسے میں اللّٰہ پاک نے مسلمانوں کو تکالیف سے نکالنے کے لیے ہمارے عظیم لیڈر قائد اعظم محمد علی جناح کو بھیجا ۔ جنہوں نے اپنے مسلمان بہن بھائیوں کے لیے آزادی کی جنگ لڑی۔ اپنی انتھک محنت سے مسلمانوں کے لیے الگ وطن اسلامی جمہوریہ پاکستان حاصل کیا۔

    پر انھیں کیا پتا تھا کہ وہ جس قوم کے لیے اپنی جانوں کا نذرانہ دے رہے ہیں وہ قوم آگے چل کر اسی مغرب کی پیروی کرنے والی یے۔ کیا یہ سچ نہیں کہ آج پاکستان کی عوام بہت حد تک مغربی کلچر کے دلدادہ ہوگئے ہیں؟ پہلے تو بات صرف ان کے ڈرامے اور فلمیں دیکھے جانے تک کی تھی پر اب تو ہمارے معاشرے میں مکمل طور پر مغرب کا کلچر اپنی جڑیں گاڑ رہا ہے۔ اس میں قصور وار کوئی دوسرا تیسرا نہیں بلکہ صرف اور صرف ہم خود ہیں، ہمارا معاشرہ ہے۔

    جو مغربی کلچر کو فروغ دینے میں کوئی کسر نہیں چھوڑ رہا۔ شادیوں بیاہوں کی تقریبات میں گھٹیا سے گٹھیا لباس تن کرنا اب کوئی بہت بڑی بات نہیں رہی۔ وہیں آج سرعام سڑکوں پر بےلباس گھومنا پھرنا بھی عام ہوگیا ہے۔ وہی ملک جسے آزادی کے ساتھ اسلام کی پیروی کرنے کے لیے حاصل کیا گیا تھا آج اسلام کے تمام احکامات کو رد کرتے ہوئے ہمارے معاشرے کی کچھ عورتیں جب میرا جسم میری مرضی کا نعرہ لگاتی ہیں تو دل خون کے آنسو روتا ہے۔

    یہ سب باتیں صرف عورتوں تک ہی محدود نہیں رہیں ہمارے معاشرے کے مرد حضرات بھی کسی سے کم نہیں ۔ یہاں ایسے مرد بھی پائے جاتے ہیں جو اپنے بےشرم اور بےحیا ہونے کا مکمل ثبوت دیتے ہوئے راہ چلتی عورتوں کو حراساں کرتے ہیں اور پھر موقع دیکھتے ہیں بھوکے کتوں کی طرح انھیں نوچ ڈالتے ہیں۔ اس کے علاؤہ انھیں بےپردہ ہونے میں بھی وقت نہیں لگتا۔ ابھی کچھ روز قبل کی بات ہے جب سوشل میڈیا پر چند تصاویر وائرل ہوئیں۔

    جس میں ایک مرد فیشن کے نام پر اپنا پورا بدن برہنہ کیے ہوئے اپنے جسم کی نمائش کروا رہا تھا۔ تو پھر میں یہ کہنے پر مجبور ہوں کے اس قسم کی بےشرمی، بےحیائی اور بےپردگی کو فروغ دینے میں سب سے زیادہ کردار پاکستان کی عوام کا ہے۔ جو ایسے نمونوں کو شوق سے دیکھتے ہوئے ان کی پزیرائی کرتے ہیں ۔ اللہ پاک ہم سب کا حامی ناصر ہو

    @RajaArshad56

  • بددعائے محبت تحریر: بسمہ ملک

    بددعائے محبت تحریر: بسمہ ملک

    (گزشتہ کیساتھ پیوستہ )

    میں خوش تھی کہ میں نے اپنا انتقام لے لیا چھ ماہ بعد میری شادی ہونے والی تھی میں اور سعد پہلے کی طرح ایک دوسرے سے فون پر باتیں کرتے تھے میں بھول چکی تھی کہ سعد نے مجھے گردہ دینے سے انکار کیا تھا
    عادی کو گئے پانچ ماہ ہوئے تھے میں بھی اس کو بھول کر اپنی دنیا میں مست تھی کہ ایک دن فون آیا کہ عادی کوہاٹ اٹیک آیا ہے اور وہ ہسپتال میں ہے مجھے اس خبر سے کوئی فرق نہیں پڑا تھا امی اور ثمرین اس کو دیکھنے گئی تھی دوسرے دن ثمرین نے مجھے فون کیا اور کہا عادی بھائی آپ سے بات کرنا چاہتے ہیں میں نے صاف انکار کردیا
    ثمرین نے میری منت ترلے کیے اور یہ بھی کہا کہ ان کی حالت ٹھیک نہیں ہے آپ ان کی خیریت پوچھ کر فون بند کر دینا
    شاید کچھ کہنا چاہ رہے ہوں آپ سے ۔۔۔؟
    مجھے کوئی ضرورت نہیں اس سے بات کرنے کی میری بلا سے وہ مرے یا جئے۔
    میں نے بے حسی سے کہا اور ثمرین کے کچھ بولنے سے پہلے ہی فون بند کر دیا
    کچھ دیر بعد ثمرین کے نمبر سے میسج آیا تھا میںسج عادی نے کیا تھا
    میرے تے مر داروں سے
    مسیحا جب یہ کہہ دیں گے
    دعا کا وقت آپہنچا
    یہ بیماری بہانہ تھی
    قضا کا وقت آ پہنچا
    تو کیا تم اتنی بے حس ہو
    یقین اس پر نہ لاؤ گی ؟؟
    تو کیا تم اتنی ظالم ہو
    مجھے ملنے نہ آ وگی؟؟؟؟

    نیچھے عادی کا نام لکھا تھا میں نے فورا ڈیلیٹ کردیا اور بھاڑ میں جاو لکھ کر ریپلائی سینڈ کر دیا جواب پڑھ کر اس کی جو شکل ہوئی ہوگی سوچ کر میں ہنس پڑی تھی اگلے دن صبح میرے فون کی بیل سے میری آنکھ کھلی
    اتنی صبح کو فون کر رہا ہے؟ میں نے بے زاری سے سوچتے ہوئے ہاتھ بڑھا کر فون اٹھایا اور بمشکل ذرا سی نیم آنکھیں کھول کر نمبر دیکھنے کی کوشش کی ثمرین کا نام پڑھتے ہیں مجھے غصہ آ گیا تھا مجھے یقین تھا کہ فون عادی کر رہا ہوگا یا اس نے ثمرین سے کہا ہوگا کہ فون کر کے میری بات کرادؤ اتنی دیر میں فون خاموش ہو گیا تھا میں نے شکر ادا کیا اور کروٹ بدل کر پھر سونے کی کوشش کرنے لگی
    موبائل ایک بار پھر بج اٹھا میں نے غصے سے موبائل اٹھایا اور یس کا بٹن پریس کرتے ہی بےزاری سے بولی
    ثمی کیا مسئلہ ہے تمہیں؟
    اپی۔۔۔۔ عادی فوت ہوگئے ہیں،
    ثمرین روتے ہوئے بمشکل اتنا ہی کہا تھا
    میری نیند غائب ہو گئی شاید مجھے ایسے خبر کی توقع نہیں تھی مجھے ذرا سا دکھ سا ہوا میں کمبل لپیٹ کر سونے کی کوشش کی کی مگر نیند نہیں آئی تو میں نے اٹھ کر منہ دھویا یا اور ناشتہ بنانے لگی
    ابو کو اطلاع مل چکی تھی اور وہ عادی کے گاؤں جانے کی تیاری کر رہے تھے ابو نے مجھے کہا کہ تم بھی ساتھ چلو مگر مجھے ایسے رونے کے موقع سے الجھن ہوتی تھی
    میں وہاں کیا کروں گی؟
    ابو آپ لوگ چلے جائیں
    میں نے انکار کر دیا
    مجھے تھوڑا دکھ ضرور ہوا تھا مگر ایسا بھی نہیں تھا کہ میں دل پہ لے لیتی
    ابو لوگ 3 دن بعد واپس آئے تھے
    ثمرین نے آتے ہی مجھ سے شکوہ کیا تھا اپی اپ نے اچھا نہیں کیا
    عادی بھائی کے ساتھ
    اگر ان سے بات نہیں کی تو کم از کم ان کے مرنے پر ہی آ جاتی
    ان سے ایسی بھی کیا ناراضگی تھی کہ آپ کی ۔۔؟
    اس کی آواز سے لگ رہا تھا جیسے وہ روتی رہی ہے
    میرے جانے سے کونسا اس نے زندہ ہو جانا تھا
    میں نے جان چھڑانے کے انداز میں کہا
    آپ کے جانے سے وہ زندہ تو نہیں ہو سکتے تھے البتہ اگر اپ ان سے بات کر لیتی تو شاید وہ زندہ ہی رہتے
    میں نے اسے مارا ہے کیا۔۔۔؟
    ثمرین کے جواب پر مجھے غصہ آ گیا تھا
    ہاں اپی آپ نے ہی ان کو مارا ہے اس انسان کو جس نے آپ کی زندگی بچائی تھی
    کیا مطلب۔۔۔؟
    ثمرین کے جواب پر میں نے سوالیہ انداز میں اسے دیکھتے ہوئے کہا
    اپی آپ بھی آپ کو معلوم ہی نہیں کہ جس سے آپ نے آخری وقت بھی بات کرنا گوارا نہیں کیا اور جس سے آپ سب سے زیادہ نفرت کرتی تھی اسی عادی بھائی نے آپ کو اپنا ایک گردہ دیا تھا
    کک کیا۔۔؟؟؟
    میرے منہ سے بے ساختہ نکلا
    مجھے شدید حیرت ہوئی تھی بے یقینی سے میں ثمرین کا منہ تکنے لگی
    مجھے لگا شاید ثمرین جھوٹ بول رہی ہے۔؟
    یہ تم کیا کہہ رہی ہو ثمی؟
    تت تم نے مجھے پہلے کیوں نہیں بتایا؟؟
    میں اس وقت دکھ، حیرت اور بے یقینی کے ملے جلے سے احساس میں ڈوبی ہوئی تھی
    یہ بات ابو اور میرے سوا کوئی نہیں جانتا
    ثمرین نے کہا
    عادی بھائی نے ہم دونوں سے وعدہ لیا تھا کہ یہ بات اپ سمیت کسی کو بھی نہ بتائی جائے
    ثمرین کی آنکھوں میں نمی تیرنے لگی
    مجھے لگا جیسے کوئی میرا دل ارے سے کاٹ رہا ہو
    آنکھوں میں آنسو کی وجہ سے ثمرین کا چہرہ دھندلانے لگا تھا
    شاید یہی وہ لمحہ تھا جب مجھے محبت کی بددعا لگی تھی
    اس بے لوث محبت کی بددعا جس کا میں نے ہمیشہ مذاق اڑایا تھا
    اور زندگی میں پہلی بار لڑکی بچوں کی طرح پھوٹ پھوٹ کر روئی تھی
    پانچ سال گزر چکے ہیں مگر میرے دل کو صبر نہ آیا نہ قرار ایا
    پچھتاوا مجھے کھائے جا رہا ہے ان پانچ سالوں میں ان گنت بار میں عادی کی قبر بھی پہ جا کے معافی مانگ چکی ہوں
    مگر میرے دل کو سکون نہیں ملا شاید عادی نے مجھے معاف نہیں کیا کیونکہ میں نے جب اس پر بہتان لگا کے گھر سے نکلوایا تھا تو جاتے ہوئے اس نے کہا تھا کہ” نوشی میں تمہیں کبھی معاف نہیں کروں گا ”
    میں جب بھی اس کی قبر پر جاتی ہوں ہو اس کی پسند کے سرخ گلاب لے کر جاتی ہوں
    میری خواہش ہے کاش وہ بھی میری طرح میرے لائے پھول توڑ کر پھینکے اور مجھے کہے یہاں سے چلی جاؤ مجھ سے نفرت کا اظہار کرے
    میں افف تک نہیں کروں گی بس
    ایک بار وہ مجھے معاف کر دے
    بس ایک بار
    میں نے سب کی مخالفت کے باوجود منگنی توڑ دی تھی اور آج تک شادی نہیں کی اور نہ کبھی کروں گی اب اندھیرے میرے مقدر ہیں
    روشنی کے دلدادہ لڑکی کو اب اندھیرا اچھا نہیں لگتا ہے
    میں جانتی ہوں کے عادی کی قاتل میں ہی ہوں
    مجھے یاد ہے عادی نے ایک بار ہارٹ اٹیک کی تشریح کی تھی کی اس نے کہا تھا کہ جب کسی انسان کو مسلسل دل پہ زخم لگتے ہیں تو اس کا دل کمزور ہو جاتا ہے اور جب مزید قوت نا رہے تو کوئی ایک بات یا الفاظ دھچکے کی صورت دل پہ لگتی ہے اور دل دھڑکنا بھول جاتا ہے
    لوگ کہتے ہیں اسے ہارٹ اٹیک آگیا
    وجہ نا کوئی جانتا ہے نہ جاننے کی کوشش کرتا ہے
    اس نے ٹھیک کہا تھا میرے راویے نے اسے مارا ہے اور جب اسپتال میں اس نے مجھ سے بات کرنا چاہے تو میں نے انکار کر دیا تھا
    شاید اسی بات نے اس کو مار دیا ہو
    میں خود کو اس کی قاتل سمجھتی ہو اور اس کی سزا مجھے بے سکونی تنہائی اور پچھتاوے کی صورت مل رہی ہے
    ایک اذّیت مسلسل ہے
    جو ختم ہونے کا نام نہیں لے رہی ہے
    عادی نے کئی بار کہا تھا کہ کزن یار کچھ بھی کر مگر تکبر نہ کیا کرو
    اللہ سے ڈرو ۔
    تکبر صرف اللہ کی ذات کو ہی جچتا ہے
    کائنات کا سب سے پہلا گناہ تکبر ہی تھا
    جس نے فرشتوں کے سردار کو قیامت تک کیلئے ملعوون بنا دیا ہے
    وہ بھی خود کو افضل سمجھ بیٹھا تھا وہ آگ سے بنا تھا اس نے آدم علیہ السلام کو مٹی کا سمجھ کر حقیر جانا اور سجدے سے انکار کر دیا
    عادی نے بالکل ٹھیک کہا تھا۔
    کاش میں اس وقت اس بات کو سمجھ لیتی اور اسے انسان ہی سمجھتی تو پچھتاوا میرا مقدر نہ ہوتا
    کاش وہ ایک بار اکر اپنے مخصوص انداز میں کہے
    "کزن یار”
    کیوں پریشان ہو؟؟؟
    اور مجھے گلے سے لگا کر کہے
    اب میں آگیا ہوں
    سب ٹھیک ہو جائے گا
    اور میں اس کے گلے سے لگ کر اتنا رہا ہوں کہ میرا سانس تھم جائے
    پھر وہ مجھے ہمیشہ کے لئے اپنے ساتھ ہی لے جائے
    اب عجیب ہی سہی
    مگر یہ میری آخری خواہش ہے
    (ختم شدہ )

  • زِندَگی تحریر:افشین

    زِندَگی تحریر:افشین

    زِندگی وہ پھول ہے جو اپنی خوشبوں سے چاروں اِطراف کو مہکا دیتا ہے پھول میں اگرچہ کانٹے بھی موجود ہوتے ہیں پر وہ بھی پھول کا حصہ ہیں ۔ جیسے تکلیفیں ،آزمائشیں زندگی کا حصہ ہیں ۔ زندگی اس سفر کا نام ہے جو مسافروں کی بھیڑ میں طے کیا جائے پر منزل پہ تنہا پہنچا جائے ۔ ہماری زندگی اس کتاب کی مانند ہے جو لکھ دی گئ ہے لکھنے والا رَبّ پاک ہے۔ ہماری زندگی کی کتاب کو پڑھنے والا ہر کوئی نہیں ہوتا کچھ ادھورا پڑھ کے چھوڑ دیتے ہیں کچھ مکمل اور کچھ پَرکھ کے اپنی رائے خود ہی قائم کرکے چھوڑ دیتے ہیں۔ مطلب یہ کتاب دلچسپ نہیں لہذا پڑھنی ہی نہیں ۔ کچھ لوگ پڑھ کے بھی سمجھ نہیں پاتے ۔زندگی خوابوں کا افسانہ ہے جس میں خواب تو بہت ہیں مگر ادھورے ۔زندگی وہ حقیقت ہے جس میں کڑواہٹ بھی ہے پھر سچائی سے بھری ہوئی ہےزندگی نعمتِ خدا ہے خوشیاں غم سب اسکا حصہ ہیں ۔زندگی ان لوگوں کے لیے حسِیں سفر کی مانند ہے جو یہ سوچتے ہیں یہ لطف اندوز ہونے کے لیے ہے اور وہ اپنی زندگی بہترین انداز میں جیتے ہیں۔ لیکن ان لوگوں کے لیے زندگی تلخ ہے جو زندگی کو با مقصد جینا چاہتے ہیں کچھ خواب بناتے ہیں انکی تکمیل کے لیے ہر طرح کے حالات سے لڑتے ہیں مشکلات جھیلتے ہیں ۔زندگی بہت کچھ کھونے اور پانے کا نام ہے ۔ زندگی سب کے لیے آسان نہیں ہوتی ۔کچھ جی لیتے ہیں اور کچھ کو یہ زندگی تھکا دیتی ہے ۔ زندگی سانس لینے اور رکنے تک کا نام ہے ۔ زندگی ایک امتحان ہے جیسے پاس ہونے کے لیے محنت اور کوشش درکار ہے، ایسے ہی زندگی کے امتحان بھی کوئی آسان نہیں ہوتے کچھ پانے کے لیے کوشش کی جاتی ہے اور کوشش اور محنت سے پھل ملتا ہے ۔زندگی کے اس سفر میں صبر ایک اہم جُزو ہےصبر و تحمل سے ہی زندگی کا سفر آسانی سے طے کیا جاسکتا ہے۔ اگر اللّلہ پاک کے بتائے ہوئے سیدھے راستے پہ چلیں گے تو کامیابی آپکے قدم چومے گی راہ بھٹکنے پہ دنیا و آخرت میں سزا منتخب ہے ۔دوسروں کی زندگی آسان بنائیں تاکہ آپکی زندگی کے سب کانٹے خود بخود ہٹ جائیں ۔زندگی رنگوں سے بھری ہے اپنے اردگرد دیکھے ہر طرف رنگ بکھرے پڑے ہیں ۔ ان رنگوں کو سمٹ کے اپنی بے رنگ زندگی میں رنگ بھر لیں ۔ زندگی کو جینا سیکھیے ہمت نہ ہاریں ۔انسان چرند پرند جانور سب کو زندگی دینے والا ایک رِبّ العزت ہی ہے جس اس دنیا کو بنایا اورسب کی تخلیق کی ۔ وہ جب چاہے زندگی لے لے اور جس کو جتنی چاہے زندگی دے دے ۔یوں تو ہر طرف لوگوں کا میلا ہے پھر بھی انسان اکیلا ہے دنیا میں آئے بھی اکیلے ہی تھے جانا بھی اکیلا ہی ہے ۔ پھر کیا گلے شکوے رضائے الٰہی ربِ کائنات کے فیصلوں پہ خوش رہیں۔ اپنی زندگی کو نعمتِ خدا سمجھیں اور اسکو حالات سے تنگ آ کے ختم کرنے کے بجائے مقابلہ کریں اور رَبّ پاک کا شکر ادا کریں کیونکہ زندگی کانٹوں کی سیج ضرور ہے پر یہی کانٹے پھولوں تک پہنچانے کا ذریعہ بھی ہیں ۔زندہ رہنے کے لیے ہوا پانی غذا اور آکسیجن کی ضرورت ہوتی ہے۔ کچھ انسان جی تو رہے ہوتے ہیں مگر انکا کہنا ہے ہم بس زندہ ہیں۔ زندگی گزر رہی ہے انکے لفظوں میں مایوسی ٹپک رہی ہوتی ہے مطلب انکا جسم ہوا پانی خوراک آکسیجن سب لے رہا ہے پھر بھی وہ خود کو مردہ تصور کر رہے ہوتے ہیں ۔ صرف جسم کا زندہ ہونا ضروری نہیں روح کا زندہ ہونا بھی لازم ہےزندگی گزارنے اور جینے میں بہت فرق ہے ۔اپنی روح کو زندہ رکھے اور اللّلہ پاک پہ سب چھوڑ دیں اللّلہ پاک کے فیصلوں پہ خوش رہے مایوسی زندگی کو دشوار بنا دیتی ہے پُر امید رہیں۔ خوش رہے ۔ دوسروں میں خوشیاں بانٹ کے خود بھی جئیں، خود سے پیار کریں ۔ یہ زندگی بہت قیمتی ہے اسکی قدر کریں۔

    @Hu__rt7

  • پیار اور پرندے کو ہمیشہ کھلا چھوڑ دینا چاہیے تحریر کاوش لطیف

    پیار اور پرندے کو ہمیشہ کھلا چھوڑ دینا چاہیے تحریر کاوش لطیف

    ایک شخص کو کہا جائے میں آپ سے بہت پیار کرتا ہوں شادی کرنا چاہتا ہوں وہ شخص کی بھی آپ کے لیے احساس فیلنگ ہو لیکن کسی کی مداخلت کرنے سے حالانکہ دوسرے کی غلطی بھی نہ ہو وہ پھر بھی چھوڑ جائے اس شخص نے مداخلت کا نہ کہا ہو اس کو پتہ بھی نہ ہو اس کے پیٹھ پیچھے کیا چل رہا ہے لیکن اگلا شخص آپ سے بھی ناراض ہو جائے تو یا تو پہلے دور جانا چاہتا ہوگا بس موقع نہیں مل رہا ہوگا یا اس کے قریبی دوست نے کہا ہوگا مداخلت کا بہانہ بنا کر وہ ساتھ چھوڑ جائے جو کہ میں مانتا ہوں کہ مداخلت کرنا بھی غلط ہے کوئی یہ برداشت نہیں کرے گا کہ ہمارے درمیان یہ مداخلت کر رہا ہے لیکن اس کو بھی سوچنا چاہیے رشتے ایسی باتوں پر ختم نہیں کرنا چاہیے کیونکہ جو لوگ نبھانا چاہتے ہیں تو وہ حالات چاہے جیسے بھی ہوں نبھا جاتے ہیں جو نہیں نبھانا چاہتے ان کےلئے صرف ایک بہانہ کافی ہے چھوڑ کر جانے کے لئے

    زندگی ایک ایسی کتاب ہے جس کے ہر صفحے پر ہماری مرضی کی کہانی نہیں لکھی ہوتی لیکن ہر صفحہ ہمیں پڑھنا ہی پڑتا ہے کسی کو اپنی جان سے زیادہ چاہنے کا انعام درد اور آنسوؤں کے علاوہ کچھ نہیں ملتا اس لیے اپنی راتیں ان کے لئے خراب کرنا چھوڑ دو جن کو یہ بھی پروا نہیں کہ تم صبح اٹھو گے بھی کہ نہیں یہ مطلبی زمانہ ہے نفرتوں کا قہر ہے یہ دنیا دکھاتی شہد ہے اور پیلاتی زہر ہے

    انسان نے اگر زندگی میں دھوکا نہیں کھایا تو جان لو کہ زندگی میں سے کچھ سمجھا ہی نہیں یہ دنیا بھی بڑی عجیب ہے یہاں مطلب کی بات تو ہر کوئی سمجھتا ہے پر بات کا مطلب کوئی نہیں سمجھتا یہاں پر لوگ محفل میں بد نام اور منہ میں سلام کرتے ہیں

    ہم نے اپنی سی بہت کی وہ نہیں پگھلا کبھی اس کے ہونٹوں پر بہانے تھے بہانے ہی رہے ہمیشہ یہ بات یاد رکھنا کہ رشتہ دھیرے دھیرے ہی ختم ہوتا ہے بس پتا اچانک چلتا ہے

    ہیرے کو پرکھنا ہے تو تو اندھیرے کا انتظار کروں کیوں کہ دھوپ میں تو کانچ کے ٹکڑے بھی چمکنا شروع ہو جاتے ہیں

    اپنی زندگی کا یہ اصول بناؤ کہ جتنا آپ کے پاس ہے اس سے کم دکھاؤ اور جتنا آپ جانتے ہیں اس سے کم بولو سفر کا مزا لینا ہے تو سامان کم رکھوں اور اگر زندگی کا مزہ لینا ہے تو ارمان کم رکھو کیوں کہ کبھی نہیں سنا کہ انسان کو اس کی عاجزی لے ڈوبی انسان کو ہمیشہ اس کا تکبر ہی لے ڈوبتا ہے

    جیسے ایک چھوٹا سا چھید پوری ناؤ کو ڈبو دیتا ہے ویسے ہی چھوٹی چھوٹی غلطیاں بہت بڑے بڑے نقصان کروا دیتی ہے

    آسمانوں کو زمینوں سے ملانے والے جھوٹے ہوتے ہیں تقدیر بتانے والے اب تو رشتہ ہی برے وقتوں میں مر جاتا ہے پہلے مر جاتے تھے رشتوں کو نبھانے والے جو تیرے عیب بتاتا ہے اسے مت کھونا اب کہاں ملتے ہیں آئینہ دکھانے والے

    پیار اور پرندے کو ہمیشہ کھلا چھوڑ دینا چاہیے اگر لوٹ کر آیا تو آپ کا اگر نہ آیا تو آپ کا تھا ہی نہیں کسی بھی رشتے میں بھروسا ہونا ضروری ہے پیار کرنے سے بھی زیادہ ضروری ہے اس لیے اپنا پیار ہمیشہ اس کے لئے سنبھال کے رکھوں جس سے اس کی قدر ہو

    زندگی میں جو گزر گیا ہے اسے پیچھے مڑ کر مت دیکھو ورنہ جو ملنے والا ہے اسے بھی آپ کھو دو گے زندگی میں ہمیشہ دلوں کو جیتنے کا مقصد رکھنا ورنہ دنیا جیت کر بھی تو سکندر بھی خالی ہاتھ گیا تھا پیسے کمائیں یا نہ کمائیں لیکن دعائیں ضرور کمانا کیونکہ پھر جھونپڑی میں محل جیسا سکون ملے گا

    @k__Latif

  • اولاد کی تربیت کا آسان طریقہ  تحریر: خالد عمران خان

    اولاد کی تربیت کا آسان طریقہ تحریر: خالد عمران خان

    آجکل کے دور میں جب دنیا بہت تیزی سے ترقی کر رہی ہے اور دن با دن مصروفیت بڑھتی جا رہی ہے ایسے وقت میں ماں باپ اپنی مصروفیات کے ساتھ اپنی اولاد کی پرورش کے لیے پریشان ہیں بہت آسان طریقے کار کو اپنا کر آپ بچوں کی اچھی تربیت کر سکتے ہیں.

    بچوں کو دین کے بارے میں سیکھانا سب سے اہم ہے جب اذان سنتے ہی آپ ٹیلی ویژن بند کر دیتے ہیں اور فورا نماز کے لئے تّیاری کرتے ہیں تو عنقریب آپ اپنے اس طرز عمل سے اپنے بچوں کو نماز کا پابند بنانے کا طریقہ سیکھا دیں گے جب بچے ماں باپ کو نماز پڑھتا دیکھتے ہیں جب بچے اور ازان کا احترام کرتا دیکھتے ہیں تو بچے آپ سے سیکھتے ھیں وہ نماز کے بھی پابند بنتے ہیں اور ازان کے وقت ازان کو احترام سے سنتے ہیں.

    جب آپ گھر میں داخل ہوتے وقت سب سے پہلے سب کو سلام کرتے ہیں تو بچے بھی آپکی یہ عادت اپنا لیتے ہیں بچے آپ کے عادت کو خاص طور پر دیکھتے ہیں اور اور لازمی اپنے والدین کی عادات اپنانے کی کوشش کرتے ہیں.

    والدین خاص طور اس بات کا خیال رکھیں کے جس رویئے سے وہ اپنے بڑوں سے پیش آتے ہیں اسّی طرح جب آپ اپنے والدین کا احترام کر تے ہے تو اپنے بچوں کے سامنے اور ان کے ہاتھوں کو بوسا دیتے ہیں تو آپ کے بچے آپکے اس عمل سے ماں باپ کی عزت کرنا سیکھتے ہیں اور وہ آپ سے عزت آی پیش آتے ہیں.

    جب والدین یہ میاں بیوی مختلف کام کاج میں ایک دوسرے کا ہاتھ بٹاتے ہیں تو اس سے آپ کے بچے بھی سیکھتے ہیں اور ایک
    دوسرے کی مدد کرتے ہیں اور ایک دوسرے سے تعاون کرنا سیکھتے ہیں اس طرح کی چیزیں وہ بچپن سے ہی سیکھ رہے ہوتے ہیں تو لازمی آپ ان باتوں کا خیال رکھیں اور اپنے رویے گھر میں خاص طور پر ٹھیک رکھیں۔بچوں کے سامنے خاص طور پر کسی قسم کے جھگڑے سے دور رکھیں ایسا کوئی عمل ان کے سامنے نہ کریں تاکہ ان میں بھی اس طرح کی عادت نہ پڑے۔

    جو ماں باپ نماز اور تلاوت قرآن کی پابند ہو تو اسے دیکھ کر اس کی بچے بھی نماز اور
    تلاوت قرآن کی پابند بنیں گے.

    جو ماں باپ گھر میں مُحبت کا ماحول رکھتے ہیں باہمی اتفاق و مفاہمت کے ساتھ زندگی گزارتے ہیں، اپنی اولاد کے سامنے لڑائی جھگڑا اور بلند آواز سے بات نہیں کرتے تو ان کے بچے گھر سے ماں باپ سے بہن بھائیوں سے محبت کرنے والے، اپنے اِرد گرد کے لوگو کے ساتھ الفت و محبت اور باہمی اتفاق ومفاہمت سے زندگی گزارنے والے بن جاتے ہیں.

    7- جو والدین اپنے رشتے داروں سے نرمی برتے ہیں کر اپنے عزیز و اقارب کی عزت کرتے ہیں تو ان کی اولاد بھی اس سے نرمی اور حسن سلوک سیکھتی ہے۔

    جو والدین آپس میں با ہمی مشورے سے مختلف امور میں ایک دوسرے سے رائے لیتے ہیں اور بچوں سے بھی راۓ مشورے لیتے ہیں اور ان کے ساتھ بیٹھ کر گفت و شنید کر تے ہیں اور اپنے بچوں کی رائے کا بھی احترام کر تے ہے تو اس سے بھی ان کے بچوں میں بھی باہمی راۓ مشورے اور مثبت رویہ اپنانے کی عادت پیدا ہوتی ہے آسان اور چھوٹے چھوٹے سے طریقے اپنا کر آپ اپنے گھر کا ماحول بہتر کر سکتے ہیں.

    Twitter handle
    @KhalidImranK

  • تمباکو اور منہ کا کینسر، تحریر: ڈاکٹر نبیل چوھدری

    تمباکو اور منہ کا کینسر، تحریر: ڈاکٹر نبیل چوھدری

    آج سے دس سال پہلے جب میں نے ڈینٹل پریکٹس شروع کی تو تب سے اب تک روزانہ ھر قسم کے دانتوں کے مرض سے جڑے لوگوں کا چیک اپ کیا پہلے پہل سال میں ایک آدھ کیس ایسا آتا جس میں مریض کو منہ کے کینسر کا مرض لاحق ھوتا پھر یوں ھوا کہ کچھ عرصے سے اب قریبا روزانہ نھیں تو ایک آدھ دن چھوڑ کر مجھے ایسے مریضوں کا سامنا کرنا پڑ رھا ھے اس خیال سے کہ شاید یہ اتفاق ھو میں نے اور بھی اپنے دوست ڈینٹل سرجنز سے اس بارے میں جانکاری لی انھوں نے بھی کچھ ایسے ھی پیٹرن کا ذکر کیا سول ھسپتال اور بڑے سرکاری اداروں میں تناسب انتہائ زیادہ ھوچکا ھے دو دن پہلے باغی ٹی وی سے برادرم ممتاز اعوان اور انکے ساتھیوں کو کینسر اور سیگرٹ نوشی پر کی ایک کمپیئن پر دیکھا تو سوچا اس ٹاپک پر میں بھی ضرور لکھوں
    کینسر کی کئی اقسام ھیں اور کئ وجوہات ان وجوہات میں سب سے بڑی وجہ idiopathic جسکو ھم کہتے کہ نامعلوم وجہ کہتے وہ ھے اسکے علاوہ tobacco یعنی تمباکو ھے radiation یعنی شعائیں arsenic food یعنی کیمیکل سے بنے کھانے ھی کینسر کی کئ وجوہات میں سے ایک ھے
    کینسر دو طرح کے ھوتے Benign یعنی نا پھیلنے والا اور Malignant یعنی پھیلنے والا دونوں ھی خطرناک ھیں مگر ملیگننٹ کینسر عمومی طور پر اگر فوری علاج نا کیا جائے تو وہ جان لیوا ثابت ھوسکتا میں اس کالم میں صرف منہ کے کینسرز پر ھی بات کرونگا کیونکہ میرا تعلق اس شعبے سے تو اسکو سمجھانا میری ڈومین میں ھی آتا منہ کے کینسر مختلف قسم کے ھوتے
    منہ کے فلور پر زبان پر ھونٹوں پر اوپر والی ھڈی پر نیچے والے جبڑے پر یہ مختلف ھوتے اور ھر ایک کی وجہ مختلف ھوتی
    سب سے زیادہ 90 فیصد جو منہ کا کینسر مریض کو لاحق ھوتا اسکو Squamous cell carcinoma کا نام دیا گیا یہ زیادہ تر زبان پر ملیگا اکثر زبان پر چھوٹے سے چھوٹا زخم بار بار چھیڑنے یا irritation سے اس کینسر میں تبدیل ھوجاتا اگر اس کینسر کا بروقت علاج نا کرایا جائے تو یہ جان لیوا ھوتا اکثر کیسز میں اسکو ختم کرنے لئے سرجری کرنی پڑتی جس میں جبڑے تک کو ریمو کرنا پڑسکتا

    منہ کی کوی بیماری ھو خدارا اسکو معمولی نا سمجھیں دانتوں کا چھوٹے سے چھوٹا انفیکشن کب بگڑ کر کینسر کی شکل اختیار کرلے کوئی نھین جانتا مریض کو جب یہ بتایا جاتا کہ کینسر کی کئ وجوہات میں سے ایک وجہ سگریٹ نوشی تمباکو نوشی پان گھٹکا چھالیہ ھے تو اس پر مریض ایک عذر دیتا کہ چھوڑ نھیں سکتے یا اتنی دنیا پیتی ھے انکو کیوں نھیں ھوتا اور ایک عذر کی گورنمنٹ اسکو بین کیوں نھیں کرتی

    تو پہلا عذر کے عادت نھیں جاتی تو یہ ایک حقیقت ھے کہ سگریٹ تمباکو ایک ایسا نشہ ھے جسکو چھوڑنا ناممکن نا سہی مگر مشکل ضرور ھے میں نے کئ لوگ دیکھے وہ کسی ایک بات پر مصمم ارادہ کرلیتے اور پھر پورا کرتے یہ کوی ھیرویئن چرس جیسا نشہ تو ھے نھین کہ اسکو چھوڑنے پر سائیڈ ایفکٹ میں بندا بیمار پڑجائے یا حالت غیر ھوجائے میرے پاس ایک مریض دانت صاف کرانے آیا میں نے پوچھا سگریٹ پیتے تو کہتا پیتا تھا روز دو ڈبیاں خالی کردیتا تھا مگر جب ایکبار بیٹے نے کہا پاپا مت پیئں مجھے اچھا نھیں لگتا تب سے چھوڑ دیا دس سال ھوگئے اس بات کو تو یہ مثال میں یہاں ان لوگوں کو دے رھا جو ارادہ کرنے کی نیت تو کرتے مگر حوصلہ نھیں کرپاتے اسی طرح ایک مریض میرے پاس آیا میں نے کہا سیگریٹ چھوڑ دو آج اکیلے علاج کرانے آئے ھو کل یہ نا ھو کسی سہارے سے علاج کرانے جاو تین سال بعد میرے پاس آیا کہتا ڈاکٹر صاحب آپکی اس بات نے دل میں چوٹ دی قسم کھائی کہ سیگریٹ نھیں پیئونگا

    تمباکو اصل میں جسم کے ٹیشوز کی لائٹنگ کی ساخت تبدیل کردیتا جس پر یہ کینسر با آسانی حملہ آور ھوجاتے تو یہ وہ دوسری وجہ کہ مجھے کیوں ھوگیا کا جواب ھے کہ ھر انسان کا دفاعی نظام کینسرز سیل کے مقابلے میں مختلف ھوتا کسی کو ایک سیگریٹ ھی موت کے دھانے لے جاسکتا تو کسی کئ ھزار ڈبیاں بھی کچھ نھیں کہتی کسی کو چند ھفتوں بعد مسئلہ بن جاتا تو خودکشی کرنے کی اس کوشش کو جاری رکھنا حماقت ھے تیسرا عذر کہ گورنمٹ کچھ کیوں نھیں کرتی تو یہ ایک واقعتا قابل فکر امر ھے کہ گورنمنٹ ھر سال سیگریٹ پر ٹیکس تو بڑھاتی جاری مگر اس پر پابندی نھین لگاری ھونا تو یہ چاھیئے ھر قسم کے تمباکو پر مکمل پابندی لگائ جائے مگر بہرکیف ایسا پوری دنیا میں کہیں نھین ھورا تو اسکا مطلب ھے کہ مشتری ھوشیار باش جر شخص احتیاط خود کرے دوسرا ھر شخص کو سوچنا چاھیئے کہ کوی اگر زھر بیچ رھا ھو تو کیا آپ وہ خریدلوگے آپ مفت بھی نھین خریدو گے تو پھر سیگریٹ پان گھٹکا چھالیہ کو چھوڑنے کا ارادہ کریں اور جان چھڑائیں اس عادت سے

    یہاں پر شاباش دیتا ھوں ایسی تمام این جی اوز فلاحی اداروں کا جو سگریٹ تمباکو کیخلاف اٹھ کھڑے ھوئے ھیں لوگوں میں شعور پیدا کر رھے ایسے میں باغی ٹی وی کی تعریف نہ کرنا صریحا زیادتی ھوگی

  • تمباکو نوشی مضر صحت تحریر ہما عظیم

    تمباکو نوشی مضر صحت تحریر ہما عظیم

    آپ نے کٸی مرتبہ پڑھا ہو گا آپ پوری دنیا آپکی تو نہیں مگر کسی کے لیٸے آپ پوری پوری دنیا ہوتے ہو
    اور ایسا ہونا بےشک ہم سب کے لٸیے باعث فخر اور باعث خوشی ہوتا ہے۔
    پھر ہم امانت ہو جاتے ہیں اپنے چاہنے والوں گی ۔ان کی جو ہماری لمبی عمروں کی دعاٸیں کرتے ہیں۔ہماری صحت و تندرستی کے لٸیے ہر وقت دعا گو ہوتے ہیں۔اورچاہتے ہیں حتی الامکان باخدا راضی وہ ایک لمبا عرصہ ساتھ گزاریں۔
    پھر ہم ایسا کام شروع کردیں جس سے ہماری زندگی دن بدن کم ہوتی جاۓ ۔جسم میں بیماریاں حملہ کر دیں۔۔اور موت کی طرف بڑھتے قدموں میں تیزی آجاۓ تو یہ ہم اپنے ساتھ ہی نہیں اپنے چاہنے والوں کے ساتھ بھی دشمنی کرتے۔
    جی ہاں جب کوٸی تمباکو نوشی کرتا ہے وہ اپنے صحت تو خراب کرتا ہے ساتھ ہی اپنے سے جڑےلوگوں کے ساتھ بھی غلط کرتا ہے۔انہیں خود جان کر دکھ دینے والے بات کرتا ہے۔ بلکل ایسے ہج جیسے سگریٹ کی ڈبی پر بڑے لفظوں سے لکھا ہوتا ہے مضر صحت ہے۔مگر اس وارننگ سے آنکھ بچا کر استعمال کی جاتی ہے۔ کیوں ۔۔؟
    کیوں کہ ہمیں خود سے پیارنہیں ہے۔اپنے پیاروںسے پیار نہیں ہے۔۔ ہر جگہ اویرنس دی جارہی ہوتی ہے تمباکو پھیپھڑوں کو ختم کرتا ہے۔دماغ کی آفزاٸش روکتاہے۔دل کے لٸیے نقصان دہ ہے۔بےشمار بیماریوں کے حملہ کرنے کے لٸیے جسم ایک آٸیڈیل کمزور جگہ بن جاتا ہے۔مگر تمباکو نوشی کرنے والے کسی صورت باز آتے نظر نہیں آتے۔
    آج کل تمباکو نوشی کے ساتھ مختلف قسم کےنشےمارکیٹ میں بطور فیشن آگۓ ہیں۔۔شیشہ ، آٸس نشہ وغیرہ۔ کوٸی ہمیں تباہ کرنا چاہتا ہے اور ہم خوشی خوشی تباہ ہونے چل پڑے ہیں۔
    صحت مند جسم انسان بطور نعمت عطا کیاجاتا ہے ۔
    اور ہم اس کوخود مضر صحت چیزوں کواستعمال کر کے بیمار کرتے ہیں۔۔کیا یہ امانت خیانت نہیں
    اپنے رب کج دی ہوٸی امانت میں خیانت
    اہنے ارد گرد جو بھی آپ کا پیارا تمباکو نوشی یا کسی بھی طرح کے فیشنی نشے کا عادی ہے۔اسے بتاٸیے خدارا اس لعنت سے چھٹکارا خاصل کیجیٸے آپ کی زندگی ہماری ضرورت ہے۔۔
    خود بھی اس لعنت سے بچیں اور اپنے پیاروں کو بھی اس لعنت سے چھٹکارا دلاٸیے۔
    اصل میں تمباکو میں ایک کیمیکل ہوتا ہے جس کا نام ہے نکوٹین۔ اب آپ نکوٹین کسی بھی ذریعے سے لیں، خواہ سگریٹ، یا نسوار یا پان کا تمباکو وغیرہ۔ خون میں ملنے کے بعد چند سیکنڈ کے اندر اندر یہ نکوٹین آپ کے دماغ کے اعصاب تک پہنچ جاتی ہے. نکوٹین کے اثر سے ہمارا دماغ ڈوپامائن (dopamine) نام کا ہارمون خارج کرتا ہے جس سے ہمیں بہت اچھا احساس ہوتا ہے۔ جب بھی دماغ ڈوپامائن چھوڑتا ہے تو ہمیں بہت مزا آتا ہے۔ یوں لگتا ہے کہ ہمیں کسی کام کا اجر ملا ہے۔ یعنی دماغ کو یہ اشارہ جاتا ہے کہ اگر آپ سگریٹ پئیں یا نسوار لیں یا پان کھائیں گے تو آپ دماغ محسوس کرے گا کہ آپ نے بہت اچھا کام کیا ہے۔ دماغ یہ جان بوجھ کر نہیں کرتا بلکہ وہ ایسا وہ نکوٹین کے اثر کی وجہ سے کرتا ہے۔لیکن جلد ہی دماغ کو نکوٹین کی ایسی لت لگ جاتی ہے کہ آپ بار بار اس کو لینے پر مجبور ہو جاتے ہیں۔ یہ لت ٹھیک ویسی ہی ہوتی ہے، جیسے کسی منشیات کی لت، مثلاً ہیروئن۔ نکوٹین کا نشہ اس قدر طاری ہوتا ہے کہ وہ آپ کے رویّے کو کنٹرول کرنے لگتا ہے۔ نہ لینے کی صورت میں جسم ٹوٹنا، چڑچڑا پن، کمزوری، بے چینی اور دیگر کئی مسائل کا سامنا ہوتا ہے۔ دماغ کی ساری توجہ نکوٹین حاصل کرنے کی طرف لگ جاتی ہے اور پورا جسم بیکار اور بے جان محسوس ہونے لگتا ہے
    بےشک جو عادی ہو چکے ہیں ان کے لٸیے آسان نہیں ہے۔مگر اگر ارادہ پختہ ہو انسان کیا نہیں کر سکتا
    جب آپ کسی کے لٸیے اپنی جان دے سکتے ہیں تو آپ اپنے پیاروں کے لٸیے اپنی جان بچا بھی تو سکتے ہیں۔
    اپنے آپ سے پیار کیجٸے اور تمباکو نوشی اور ہر طرح کے نشے کو اپنی زندگی سے دفع کیجٸیے۔

    @DimpleGilr_PTi

  • تبدیلی سرکار کے تین سال   تحریر: احسان الحق

    تبدیلی سرکار کے تین سال تحریر: احسان الحق

    وفاق اور پنجاب میں تحریک انصاف حکومت کے تین سال مکمل ہو چکے ہیں. پاکستان میں حسب معمول اور حسب روایت حکومت اپنے کارناموں کی لمبی چوڑی فہرست عوام کے سامنے رکھ رہی ہے جبکہ دوسری طرف ہمیشہ کی طرح حزب اختلاف حکومتی کارکردگی کی فہرست کو ردی کی ٹوکری میں پھینکتے ہوئے حکومت کے کسی بھی دعوے اور کارکردگی کو ماننے سے انکاری ہے.

    ایک طرف تین سال کی تکمیل پر حکمراں جماعت نے اپنی گزشتہ تین سالہ کارکردگی عوام کے سامنے رکھی ہے تو دوسری طرف حزب اختلاف سب برا ہے کی رٹ لگائے ہوئے ہے. حقیقی تبدیلی یا کارکردگی کے حوالے سے عوام سے بہتر کوئی نہیں بتا سکتا.

    حزب اختلاف کے الزامات اور حزب اقتدار کے دعوؤں کو نظر انداز کرتے ہوئے عام پاکستانیوں کی نظر میں تبدیلی سرکار کے تین سالہ دور کا جائزہ لیتے ہیں. قرضوں میں ڈوبا ہوا اور آئی ایم ایف کے پروگرام میں رہتے ہوئے آپ ناقابل یقین معاشی اور اقتصادی ترقی کی امید نہیں کر سکتے. عمران خان صاحب انتخابی مہم کے دوران جن دعوؤں اور وعدوں کا بار بار ذکر کرتے تھے ان میں سے ایک یہ بھی تھا کہ مر جائیں گے مگر آئی ایم ایف کے پاس نہیں جائیں گے، مگر مجبوراً انہیں یوٹرن لیتے ہوئے آئی ایم ایف کے پاس جانا پڑا. صاحب اقتدار ہونے کے بعد وزیراعظم قومی خزانے اور قومی معیشت کی حالت دیکھ کر نہ چاہتے ہوئے بھی آئی ایم ایف کے پاس چلے گئے.

    پاکستان پہلے سے ہی اندرونی اور بیرونی قرضوں میں جکڑا ہوا تھا اور اب آئی ایم ایف کی سخت اور عوام دشمن شرائط ماننا پڑیں جس سے مہنگائی میں اضافہ ہوا. آئی ایم ایف کی شرائط میں سے نئے محصولات لاگو کرنا، پہلے سے موجود محصولات میں اضافہ کرنا اور بالخصوص بجلی کے نرخوں میں بتدریج اور مسلسل اضافہ کرنے جیسی مشکل اور سخت شرائط بھی تھیں، جنہیں ماننا پڑا. جس سے مہنگائی میں اضافہ ہوا.حکومتی دعوے کے مطابق جب انہوں نے حکومت سنبھالی تو 9 ارب ڈالر کے غیر ملکی ریزرو تھے. 19 ارب ڈالر کا کرنٹ اکاؤنٹ خسارہ تھا جسے ہماری حکومت نے 10 سال کی کم ترین سطح پر لے آئی. کورونا کی وجہ سے اور کچھ عمران خان کو بھی کریڈٹ جاتا ہے کہ سمندر پار پاکستانیوں نے عمران خان پر اعتماد کرتے ہوئے ریکارڈ زرمبادلہ پاکستان بھیجا.

    خیبر پختونخوا میں اپنے دور حکومت میں تحریک انصاف نے انصاف صحت کارڈ متعارف کروایا جس سے عام اور غریب عوام بہت مستفید ہوئی، عام انتخابات 2018 کے بعد وفاق اور پنجاب میں بھی حکومت سازی کے بعد تحریک انصاف نے صحت کارڈ کا دائرہ کار پنجاب بھر میں پھیلا دیا. میرے خیال میں عوام کے لئے سب بڑا تحفہ یا تبدیلی یہی صحت کارڈ ہے.

    1967 کے بعد پاکستان میں کوئی بڑا ڈیم نہیں بنایا گیا تھا جس کا ہمیں ناقابل تلافی نقصان پہنچا ہے. لاکھوں اور کروڑوں ایکڑ زمین بنجر ہو گئی ہے اور مہنگے تیل سے مہنگی بجلی بھی بنانے پر مجبور ہیں، عمران خان نے حکومت سنبھالتے ہی بڑے ڈیم کی تعمیر کا کام شروع کیا جن میں دیامیر بھاشا ڈیم، داسو ہائیڈرو پاور، مہمند ڈیم، ہری پور پاور، کرم تنگی ڈیم اور سندھ بیراج قابل ذکر منصوبے ہیں.

    بے گھر اور لاوارث لوگوں کے لئے پناہ گاہیں بنائیں گئیں جن میں رہائش اور کھانے کا مناسب اہتمام کیا گیا ہے. میں ذاتی طور پر ان پناہ گاہوں کے حق میں نہیں. میرا خیال ہے کہ 100 بندوں کو پناہ گزین کرنے سے بہتر ہے کہ 10 بندوں کو روزگار پر لگایا جائے اور یہ 10 بندے 10 خاندانوں کے لئے کفیل ثابت ہو سکتے ہیں. اسی طرح غریب اور تنخواہ دار طبقے کے لئے سستے گھروں کو بھی متعارف کروایا گیا. کامیاب نوجوان پروگرام کے تحت نوجوان نسل کو خود کفالت اور روزگار کے مواقع فراہم کرنے کے لئے قرض سیکم بھی متعارف کروائی گئی. گزشتہ مالی سال 21-2020 میں ریکارڈ 4732 ارب کے محصولات اکٹھے کیے گئے اور آئندہ مالی سال 22-2021 کا ہدف پہلے سے بڑھا کر محصولات کا حجم 5800 ارب کر دیا گیا ہے. زیادہ محصولات اکٹھا کرنا اور آئندہ ہدف میں مزید اضافہ کرنا، اسکو معیشت کے لئے بہتر سمجھا جائے یا عوام پر محصولات کا مزید وزن اور دباؤ سمجھا جائے؟

    بہت اچھے کاموں میں سے ایک یہ بھی کارنامہ تبدیلی سرکار کے سر جاتا ہے کہ موجودہ حکومت نے سرکاری اور سرکاری اداروں کی زمینوں کو تجاوزات اور قبضوں سے واہ گزار کروایا. اعداد وشمار کے مطابق ایک لاکھ ایکڑ جس کی مالیت 50 ارب روپے بنتی ہے کو واگزار کروایا گیا. محکمہ تعلیم نے بھی اچھی کارکردگی دکھاتے ہوئے خود کو دور جدید کے تقاضوں سے مزین کیا. ڈیجیٹل اور آن لائن سہولیات متعارف کروائیں. بہت سارے اسکولوں کو پرائمری سے مڈل اور مڈل سے سیکنڈری اور ہائیر سیکنڈری تک ترقی دی. احتساب اور انسداد رشوت کی مد میں اربوں روپے وصول اور ضبط کئے گئے. حکومتی اعداد وشمار کے مطابق نیب نے 535.783 ارب روپے وصول کئے جبکہ پنجاب انسداد کرپشن نے 225 ارب روپے وصول کئے. موجودہ حکومت نے وسیع پیمانے پر ملک بھر بلین ٹری کے تحت پاکستان کو سرسبز بناتے ہوئے اربوں درخت لگائے.

    یکساں نظام تعلیم کے لئے عملی اقدامات اٹھائے جا رہے ہیں. یقیناً یہ کریڈٹ موجودہ حکومت کو جاتا ہے. کسی حد تک اردو کو عزت دینے میں عمران خان ذاتی دلچسپی لے رہے ہیں. سابقہ حکومت کے مقابلے میں موجودہ حکومت نے ریکارڈ سڑکیں اور شاہراہیں تعمیر کیں، سابقہ حکومت نے اپنے پانچ سالہ دور اقتدار میں 645 کلومیٹرز کی ہائی ویز/موٹر ویز تعمیر کیں جبکہ موجودہ حکومت نے اپنے پہلے تین سال میں 1753 کلومیٹرز کی شاہراہیں مکمل کیں اور 6118 کلومیٹرز زیر تکمیل ہیں. تاریخ میں پہلی بار موجودہ حکومت نے سممدرپار پاکستانیوں کو ووٹ دینے کی بات کی اور پہلی بار الیکٹرانک مشین کے ذریعے ووٹنگ کی بات کی. فی کس آمدن میں اضافہ ہوا اور قوت خرید میں 36.6 فیصد اضافہ ہوا. لارج سکیل مینوفیکچرنگ میں 14.4 فیصد اضافہ دیکھنے میں آیا. ترسیلات زر میں ریکارڈ 29.4 ارب تک اضافہ ہوا.

    یقیناً یہ بھی عمران خان کو کریڈٹ جاتا ہے کہ ان کا اسلام آباد وزیراعظم ہاؤس کے علاوہ پاکستان میں کوئی کیمپ آفس نہیں. حکومت وزیراعظم ہاؤس کے اخراجات میں کمی اور بین الاقوامی دوروں میں سادگی کے ذریعے اربوں روپے کی قومی بچت کے دعوے بھی کرتی ہے.

    مہنگائی میں اضافہ ہوا، گھی 150 سے 335 فی کلو، چینی 55 روپے سے 110 روپے فی کلو تک پہنچ چکی ہیں. بجلی کے نرخ بھی تاریخ کے بلند ترین سطح پر پہنچ چکے ہیں. ادویات اور طبی سہولیات مہنگی ہوئی ہیں. پولیس اصلاحات کا وعدہ کیا تھا جو کہ ابھی تک پورا نہیں کیا گیا. عمران خان نے حکومت میں آتے ہی سرائیکی صوبہ بنانے کا وعدہ کیا تھا جو کہ پایہ تکمیل تک نہیں پہنچا. بہرکیف اگر مہنگائی کو نظرانداز کرتے ہوئے باقی کارکردگی کا جائزہ لیا جائے تو موجودہ حکومت کی کارکردگی نسبتاً تسلی بخش ہے.

    @mian_ihsaan

  • تمباکو نوشی،کھلے عام دستیاب سستی موت، نوجوان نسل کو بچانے کے لئے اقدامات ناگزیر ورنہ نتائج بھیانک   تحریر: محمد مستنصر

    تمباکو نوشی،کھلے عام دستیاب سستی موت، نوجوان نسل کو بچانے کے لئے اقدامات ناگزیر ورنہ نتائج بھیانک تحریر: محمد مستنصر

    صحت کے شعبے میں ہونے والی جدید سائنسی تحقیقات نے ثابت کر دیا ہے کہ تمباکو نوشی، پان، گٹکا، نسوار اور اس طرح کی دیگر نشہ آور اشیا کینسر، دمہ اور ٹی بی جیسی کئی جان لیوا بیماریوں کا سبب بنتی ہیں یہی وجہ ہے کہ مضر صحت ہونے کی بنا پر ان کا استعمال شرعی طور پر بھی ممنوع ہے۔ قرآنِ مجید میں اللہ تعالی کا واضح حکم ہے۔ "اور اپنے ہی ہاتھوں خود کو ہلاکت میں نہ ڈالو، اور نیکی اختیار کرو، بے شک اللہ نیکوکاروں سے محبت فرماتا ہے۔”(البقر، 2: 195)
    وہ زہر جو فوری اثر کرے اور انسان کی جان لے اور وہ زہر جو رفتہ رفتہ اور بتدریج انسان کی جان لے جسے (Slow Poision) کہا جاتا ہے، دونوں کے بارے میں ایک ہی حکم ہے اور شرعی اعتبار سے دونوں حرام ہیں۔ بلاشبہ تمباکو نوشی کا شمار (Slow Poision) کے زمرے میں کیا جاسکتا ہے جو بتدریج انسان کی جان لیتا ہے۔ تمباکو نوشی کی ہلاکت خیزی سے کوئی شخص انکار نہیں کر سکتا۔ اللہ تعالی نے اس بات سے منع فرمایا ہے کہ کوئی شخص جان بوجھ کر خود کو ہلاک کرے۔ ارشاد باری تعالی ہے، "اور اپنی جانوں کو مت ہلاک کرو، بیشک اللہ تم پر مہربان ہے۔” (النسا، 4: 29)
    اللہ تعالی کے احکامات اور آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی تعلیمات کی روشنی میں انسانی صحت کے لئے کسی بھی نقصان دہ چیز کا استعمال حرام ہے جبکہ تمباکو نوشی میں جسمانی، مالی اور نفسیاتی نقصان بھی ہے۔ماہرین کے مطابق تمباکو کے استعمال سے نکلنے والے دھوئیں میں تقریباسات ہزار کیمیکلز موجود ہوتے ہیں جن میں سے ڈھائی سو کے قریب انسانی صحت کیلئے انتہائی نقصان دہ پائے گئے ہیں اور پچاس سے زائد ایسے کیمیکلز موجود ہوتے ہیں جوسرطان کا باعث بن سکتے ہیں۔ تمباکو کے دھوئیں سے خون کی نالیاں سخت ہوجاتی ہیں جس سے دل کادورہ اور فالج کا خطرہ بڑھ جاتا ہے۔ اس دھوئیں میں کاربن مونو آکسائیڈ گیس ہوتی ہے جو خون میں آکسیجن کی کمی کا باعث بنتی ہے۔ تمباکو نوشی سے پندرہ مختلف اقسام کی بیماریاں پھیلتی ہیں جس میں پھیپھڑوں کا سرطان سرِ فہرست ہے۔ پھیپھڑوں کی بیماریوں میں مبتلا تقریبا نوے فی صد افراد تمباکو نوشی کرنے کی وجہ سے متاثر ہوتے ہیں نوش ہوتے ہیں۔ ملک بھر کے اسپتالوں میں آنے والے چالیس فی صد مرد مریض تمباکو نوشی سے ہونے والے کیمسر کی مختلف اقسام کا شکار ہوتے ہیں۔ پاکستان میں دوسرا سب سے زیاد ہ پایا جانے والا کینسر منہ کا ہے۔ اس کی سب سے بڑی وجہ تمباکو نوشی ہے۔اسی طرح تمباکو نوشی منہ، گلے، خوراک کی نالی، معدے، جگر، مثانے، لبلبے اور گردے کے کینسر کا باعث بھی بن سکتی ہے۔ تمباکو نوشی کی تمام اقسام،بشمول سگریٹ، سگار، حقہ، شیشہ اور تمباکو کھانا مثلا پان، چھالیہ، گٹکا وغیرہ اور تمباکو سونگھنا سب کچھ ہی انسانی صحت کے لئے خطرناک ہے۔ ہمارے معاشرے میں تمباکو نوشی کے نقصانات کے بارے میں آگاہی نہ ہونے کے برابر ہے اس لئے ضروری ہے کہ انسداد تمباکو نوشی کی مہم جارحانہ طور پر چلائی جائے جس میں حکومت، عوام،ذرائع ابلاغ ،تاجربرادری، اسکول، کالج اور یونیورسٹی کے طلبا بھرپور حصہ لیں۔ اسکول کے نصاب میں تمباکو نوشی کے نقصانات اور دیگر سماجی برائیوں کے بارے میں مضامین شامل کرنے چاہئیں تاکہ بچے بچپن ہی سے ان اہم معلومات سے آگاہ ہوں اور وہ اپنے والدین، رشتے داروں اور محلے داروں کو مجبور کرسکیں کہ وہ یہ عادات ترک کردیں۔
    ایک سروے کے مطابق پاکستان کی 22 کروڑ کی آبادی میں سے 19 فی صد لوگ ایسے ہیں جو 18سال کی عمر میں ہی تمباکو کا استعمال شروع کردیتے ہیں۔ مردوں میں سگریٹ نوشی کی شرح 32 فی صد اور خواتین میں تمباکو کے استعمال کی شرح 5.7فی صد بتائی جاتی ہے۔ مگر نوجوانی سے قبل ہی اکثر بچے تمباکو استعمال کرنے لگتے ہیں۔پاکستان میں سگریٹ کا استعمال معیشت اور صحت کے شعبے پر بوجھ بڑھانے کا سبب بنتا ہے۔عالمی ادارہ صحت کے مطابق دنیا بھر میں 4 کروڑ 40 لاکھ ایسے بچے ہیں جو 13 سے 15سال کی عمر میں ہونے کے باوجود تمباکو نوشی کرتے ہیں جبکہ بچوں کی ایک بڑی تعداد الیکٹرک سگریٹ کا استعمال بھی کررہی ہے۔ پاکستان میں تمباکو نوشی کی عادت ہر برس ایک لاکھ تریسٹھ ہزار افراد کی جانیں لے لیتی ہے جبکہ تمباکو نوشی کی وجہ سے ہونے والی بیماریوں کے علاج معالجے کی لاگت اور تمباکو نوشی سے ہونے والی اموات سے ہونے والے نقصان کی صورت میں ملک کو کروڑوں روپے کا خسارہ ہر سال برداشت کرنا پرتا ہے۔ افسوس ناک امر یہ ہے کہ ایسے عام افراد جو تمباکو نوشی نہیں کرتے ان کے لئے سگریٹ کے دھوئیں سے بچنے کی کوئی محفوظ جگہ نہیں کیونکہ ملک کی کل آبادی کا 72.5فی صد حصہ یعنی 16.8ملین افراد جو بند عمارتوں اور کمروں میں کام کرتے ہیں، انہیں سگریٹ نوشی کے دھوئیں سے خطرات لاحق ہوتے ہیں۔ کل آبادی کا 86فی صدحصہ یعنی 49.2ملین افراد ریسٹورنٹس اور ہوٹلوں میں سگریٹ کے دھوئیں کا سامنا کرتے ہیں جبکہ 76.2فی صد افراد کو عوامی ٹرانسپورٹ میں سگریٹ کے دھوئیں سے خطرات لاحق ہیں۔37.8 فی صدنوجوان(عمر 13تا15 برس)کو عوامی مقامات پر سگریٹ کے دھوئیں سے خطرات لاحق ہیں جبکہ 21فی صدنوجوان اپنے گھروں میں غیر فعال سگریٹ نوشی کا سامنا کرتے ہیں۔تمباکو نوشی انسانی صحت کے لئے مہلک ہے اور اس کے عادی افراد میں سے کم از کم نصف موت کے منہ میں چلے جاتے ہیں۔پاکستان میں ایک لاکھ تریسٹھ ہزار افراد ہر برس تمباکو سے متعلق امراض کے سبب انتقال کرجاتے ہیں جو کل اموات کا نو فی صد ہے۔ غیر متعدی بیماریاں جن میں کینسر، عملِ تنفس کی شدیدبیماریاں اور دل کی بیماریاں بھی ذیادہ تر تمباکو کے استعمال کی وجہ سے پیدا ہوتی ہیں۔ اس کے ساتھ تمباکو نوشی سے معاشرے پر بہت ذیادہ مالی بوجھ بھی پڑتا ہے ترقی پذیر اور زیادہ گنجان آباد ممالک میں بہت زیادہ معاشی مواقع ضائع ہوجاتے ہیں کیوں کہ تمباکو سے متعلق اموات عمر کے فائدہ مند سالوں یعنی 30 سے 69 برس کے دوران واقع ہوتی ہیں۔پاکستان میں ایک سگریٹ نوش روزانہ اوسط قومی آمدن کا3.7 فی صددس سستے ترین سگریٹ کی خریداری پرصرف کردیتا ہے اور یوں اربوں روپے ہر سال دھوئیں کی نظر ہو جاتے ہیں۔ جبکہ غریب افراد اپنی آمدن کا ایک بڑا حصہ تمباکو نوشی پر ضائع کر دیتے ہیں یعنی وہ بنیادی انسانی ضروریات،مثلا خوراک،رہائش،تعلیم اور صحت کے بجائے یہ رقم تمباکوپر خرچ کرتے ہیں جس کے نتیجے میں ایسے خاندان کی غربت میں مزید اضافہ ہوتا چلا جاتا ہے، ایک جانب قیمتی وسائل تمباکو نوشی کی وجہ سے ضائع ہوتے ہیں تو دوسری جانب تمباکو استعمال کرنے والے بیماریوں کے زیادہ خطرات کی زد میں رہتے ہیں، سرطان، امراض قلب،سانس کے امراض یا تمباکو نوشی سے متعلق دیگر امراض کی وجہ سے وقت سے پہلے ان کی موت واقع ہوجاتی ہے۔ مرنے والے تمباکو نوش افراد کے متبادل کے طور پر سگریٹ اور دوسری نشہ آور اشیاء بیچنے والی کمپنیوں اور افراد کا ٹارگٹ نوجوان نسل بنتی ہے تاکہ ذیادہ عرصے تک کے لئے انہیں (گاہک) میسر ہوں۔ عالمی ادارہ صحت کے مطابق روزانہ 15 برس سے کم عمرکے 1200بچے سگریٹ نوشی شروع کر دیتے ہیں۔ہمیں یہ یاد رکھناچاہئے کہ انسانوں کے لئے تمباکو کسی بھی وجہ سے کوئی ضروری چیز نہیں ہے۔اس کی کوئی غذائی اہمیت ہے اور نہ ہی یہ اپنے استعمال کرنے والے کو کوئی صحت بخش فوائد فراہم کرتا ہے۔یہ ان کے اضطراب ،دبائو،غربت اور غذائیت کی کمی میں اضافہ کرکے صرف اور صرف ان کے مسائل اور مشکلات بڑھاتا ہے۔سب سے بڑھ کر یہ کہ یہ ملک کی معیشت اور ماحول کو تباہ کرتا ہے۔اگرہم واقعی یہ سمجھتے ہیں کہ نوجوان ہی ہماری ترقی کا سبب بننے کی صلاحیت رکھتے ہیں تو حکومت کو ملک میں تمباکو نوشی کا رجحان کم کرنے کیلئے فوری اقدامات اٹھانے چاہئیں۔اس ضمن میں بچوں کو متبادل گاہک بننے سے بچانا بہت زیادہ اہمیت کا حامل ہے۔اگر یہ کام موثر انداز میں کرلیا جائے تو اگلے دس تاپندرہ برس میں ملک میں کوئی بھی تمباکو کا دھواں اڑانے والا نہیں ہوگا۔عالمی ادارہ صحت کے مطابق تمباکو پربھاری ٹیکس لگانا تمباکو نوشی کے رجحان پر قابو پانے میں سب سے زیادہ موثرعمل ثابت ہواہے۔دیگر ترقی پذیر ممالک کے برعکس پاکستان میں اب بھی دنیا بھر کے مقابلے میں تمباکو کی مصنوعات سستی ہیں۔عالمی بینک کی رپورٹ میں تجویز دی گئی ہے کہ پاکستان میں سگریٹ کا استعمال کم کرنے کے لئے حکومت کو ہرسال اس پرٹیکس میں کم از کم تیس فی صد تک اضافہ کرنا چاہئے۔ایک اور مطالعہ تجویز کرتا ہے کہ سگریٹ کے نرخ میں تیس فی صد کا اضافہ اس کے استعمال میں 33 فی صد تک کمی لاسکتا ہے جس کے نتیجے میں ایک برس میں اڑتالیس ارب روپے کی بچت ہوسکے گی۔یہ ہمارے لئے فیصلے کی گھڑی ہے کہ کیاہم اپنے لوگوں کو اسی طرح مرتے ہوئے دیکھنا چاہتے ہیں،اپنی معیشت پر ہر برس اربوں روپے کا علاج معالجے کا بوجھ ڈالتے رہنا چاہتے ہیں، اپنے بچوں کو اسی طرح یتیم اور بے آسرا ہوتے اور ان کا مستقبل تاریک ہوتے دیکھنا چاہتے ہیں اورکیا ملک کی پیداواری صلاحیت اسی طرح تباہ ہونے دیں گے؟آج ہمیں ٹھنڈے دل و دماغ سے سوچنے کی اشد ضرورت ہے۔