Baaghi TV

Category: معاشرہ و ثقافت

  • سید علی شاہ گیلانی کی میراث؛ کشمیری نوجوانوں کے لیے مشعلِ راہ   تحریر: محمد اختر

    سید علی شاہ گیلانی کی میراث؛ کشمیری نوجوانوں کے لیے مشعلِ راہ تحریر: محمد اختر

    بزرگ حریت رہنما سید علی شاہ گیلانی 92 سال کی عمر میں انتقال کر گئے۔ سید علی شاہ گیلانی کا انتقال ایک بہت بڑا نقصان ہے، لیکن ایک مسلمان ہونے کے ناطے ہمیں پختہ یقین ہے کہ ہم سب قادر مطلق ہیں اور اسی کی طرف لوٹیں گے۔مزید یہ کہ وہ نظریہ اور مزاحمت کا نام تھا۔ حریت رہنما مقبوضہ جموں و کشمیر میں بھارتی ناجائز قبضے کے خلاف ایک نہ سمجھوتہ کرنے والا مہم جو تھے۔ آج، انہوں نے ہمیں پیچھے چھوڑ دیا، لیکن ان کی میراث کشمیر کے نوجوانوں کے لیے مشعلِ راہ  ہے۔ آپ دنیا کے کئی نوجوانوں سے زیادہ بہادر تھا۔ حریت رہنماسید علی شاہ گیلانی نے اپنی زندگی کا بہت بڑا حصہ گھر میں نظربندی میں گزارا، کیونکہ انہوں نے ہمیشہ بھارتی افواج کے ظلم کے خلاف آواز بلند کی۔ سید علی شاہ گیلانی کی آواز کشمیریوں کی تحریک آزادی کی علامت تھی، وہ خود ساری زندگی آزادی کے نعرے لگاتے رہے، انہوں نے نوجوانوں کے خون کو گرمایا، بھارتی افواج کو للکارتے رہے۔سید علی شاہ گیلانی اب ہمارے درمیان نہیں ہیں، لیکن انہوں نے نوجوان نسل کو آزادی اور جوش کا جو پیغام دیا ہے وہ کشمیری نوجوانوں کی رگوں میں رہے گا۔ تحریک آزادی کی جو فصل آپ نے بوئی ہے وہ کشمیریوں کی آئندہ نسلوں کے لیے آزادی کا پھل ضرور لائے گی۔سید علی شاہ گیلانی بلند حوصلہ، عزم، آزادی سے محبت اور آزادی کی قدر کو سمجھنے والے انسان تھے۔ انہیں دیکھ کر کبھی ایسا نہیں لگتا تھا کہ وہ بوڑھے ہیں،اُنکی آنکھوں میں ہمیشہ آزادی کی چمک دیکھی گئی۔وہ واقعی ایک تاریخی شخصیت تھے۔ 14 اگست 2020 کو حکومت پاکستان نے انہیں مقبوضہ جموں وکشمیر کے مظلوم عوام کے لیے ان کی قابل ذکر خدمات اور قربانیوں کے اعتراف میں ملک کے اعلیٰ ترین سول اعزاز ”نشانِ پاکستان” سے نوازا۔سید علی شاہ گیلانی کو بھارتی فوج نے بارہا حراست میں لیا اور زندگی کا ایک طویل عرصہ نظر بند رکھا۔، لیکن پھر بھی بھارت کے یہ اوچھے ہتکھنڈ ے ان کی آواز کو خاموش نہیں کر سکے، ان کی سوچ کو محدود نہیں کر سکے، ان کے خیالات کو بھی قید نہیں کر سکے، اور نا ہی آزادی کے جذبہ کی سختی کو کم کر سکے۔ آج،سید علی شاہ گیلانی دم توڑ چُکے ہیں،مگر اُن کی وفات نے کشمیریوں کی تحریک آزادی میں زندگی کا ایک نیا باب شروع کر دیا ہے۔سید علی شاہ گیلانی 29 ستمبر 1929 کو پیدا ہوئے۔ وہ جماعت اسلامی مقبوضہ جموں و کشمیر کے رکن بھی رہے۔ بعدازاں انہوں نے تحریک حریت کے نام سے اپنی پارٹی بنائی۔وہ کُل جماعتی حریت کانفرنس کے چیئرمین بھی رہے۔ انہیں ہمیشہ مقبوضہ جموں و کشمیر میں بھارتی قبضے کا مضبوط مخالف اور مظلوم کشمیریوں کی طاقتور آواز سمجھا جاتا تھا۔ انہیں کشمیریوں کی تحریک آزادی کا روشن چہرہ اور آزادی کی حقیقی آواز سمجھا جاتا تھا۔سید علی شاہ گیلانی نے اپنی پوری زندگی جدوجہد آزادی میں صَرف کی۔ سید علی شاہ گیلانی کشمیر کو پاکستان کے ساتھ الحاق ہوتے نہیں دیکھ سکے،مگر انہوں نے کشمیریوں کو آزادی کے حقیقی معنی سے آشناء کر دیا۔ان شاء اللہ! کشمیر آزاد ہو گا، سید علی شاہ گیلانی کا خواب پورا ہو گا۔ وہ اپنی زندگی میں کشمیر کی آزادی کو نہیں دیکھ سکے، لیکن جس ثابت قدمی سے کشمیری آزادیِ جدوجہد جاری ہے اِس یہ یوں محسوس ہوتا ہے کہ کشمیری یقینا جلد آزادی کی منزل ِ مقصود تک ضرور پہنچیں گے۔ دنیا کی کوئی طاقت کشمیریوں کی آزادی کو روک نہیں سکتی۔یہاں یہ بات قابل ذکر ہے کہ سید علی شاہ گیلانی کی زندگی بتاتی ہے کہکشمیری قیادت پر بھارتی مظالم عام کشمیریوں سے زیادہ ہیں مگر غیور کشمیری قیادت آج بھی اپنی زمین پر ثابت قدمی سے کھڑی ہے اور پہلے سے زیادہ جرات کے ساتھ آزادی کا نعرہ بلند کر رہی ہے۔ اللہ رب العزت سید علی شاہ گیلانی ؒ کو دائمی امن عطا فرمائے،جنت میں ان کے درجات بلند کر ے اور کشمیریوں کو آزادی کی نعمت سے نوازے۔ (آمین)

    @MAkhter_

  • کرومائیٹ اور تحصیل مسلم باغ پارٹ : سوئم تحریر : اے ار کے

    مسلم باغ میں کرومائیٹ کی روایتی کانکنی صرف اندازوں کے بل بوتے پر کیا جاتا ہے۔ جس سے پیداواری لاگت زیادہ اتی ہے۔
    جدید مشینوں و اوزاروں کا مسلم باغ میں کوئی تصور ہی نہیں انسانی جسم کو  بطور مشین استعمال میں لایا جاتا ہے۔
    کرومائٹ کی پرسنٹیج معلوم کرنے کے لیے کوئی سسٹم موجود نہیں۔کرومائیٹ پرسنٹیج معلوم کرنے کیلیے مسلم باغ میں سائنسی لیبارٹری کا قیام لازمی ہے۔
    اب بھی بیوپاری کرومائیٹ جانچنے کیلیے ایس جی ایس لیبارٹری کراچی کا رخ کرتے ہیں۔ جس سے وقت کے ضیاع کے ساتھ ساتھ تاجروں کو یہ سودے کئی گناہ مہنگا پڑتے ہیں۔ 

    حکومتی سطح پر کوئی بھی ایسا طریقۂ کار موجود نہیں کہ کانکنی کے احاطوں کا تعین ہو یہی وہ بنیادی وجہ ہے کہ یہاں ہر وقت مسائل پیداہوتے ہیں۔
    کرومائٹ کے کانوں میں کسی ایمرجینسی یا پھر خدانخواستہ کسی کان کے منہدم ہونے کی صورت میں ریسکیو کا کوئی ذریعہ موجود نہیں۔
    مسلم باغ کے سنگلاخ پہاڑوں کا سینہ چھیر کرکرومائٹ کے کانوں میں کام کرنے اور کرومائیٹ نکالنے والے لیبر کے بھی کچھ  بنیادی حقوق ہوتے  ہیں
    یہاں لیبر کی نہ کوئی رجسٹریشن ہے اور نہ ہی اسی حوالے سے کوئی متبادل  نظام موجود ہے۔کانوں سے کرومائیٹ کو نکالنے کیلیے جیالوجیکل ڈیپارٹمنٹ کے  وضع کر دہ مخصوص یونیفارم اور سیفٹی کے آلات ، جو محنت کشوں  کے بنیادی حقوق کے زمرے میں اتے ہیں ،مائن مالکان کانکنی کے ان اصولوں سے خود کو بری الذمہ تصور کرتے ہیں ۔ان اصولوں کا کوئی وجود نہیں ہے۔
    کرومائیٹ کانکنی کے لئے بارودی مواد کا استعمال کیا جاتا ہے اور کسی قسم کے حفاظتی اقدامات نہ ہونے کے باعث محنت کش ہمہ وقت حادثات کا شکار ہوتے رہتے ہیں۔
    کرومائیٹ کانکنی  انتہائی کٹھن، مشکل اور جان لیوا ہوتا ہے مگر محنت کشوں کو اپنے چولہے جلائے  رکھنے کیلئے انتہائی کم اجرتوں اور غیر ضروری و غیر قانونی طریقے سے  بغیر حفاظتی سامان کے ، ان کانوں میں کام کرنا پڑتا ہے۔ کرومائیٹ کی کانوں میں کام کرنے والے یہ محنت کش بارہ گھنٹے کے طویل اور غیر قانونی اوقات کار کے مطابق کام کرتے ہیں۔ محکمہ محنت اور افرادی قوت کے اہلکاران سالوں سال یہاں وزٹ نہیں کرتے جو قابلِ تشویش امر ہے ۔
    سائینٹیفک اصولوں اور جدید دور کے تقاضوں کو مد نظر رکھا جائے تو یہاں پر بڑی بڑی مشینوں کو استعمال میں لایا جانا چاہیے تھا۔
    جدید مشینری کو اس علاقے میں لانے سے کرومائٹ کی یہ تجارت کافی تیزہوسکتی ہے، جس کی وجہ سے یہاں زندگی کا ہر شعبہ ترقی پاسکتا ہے۔ کرومائیٹ ٹرانسپورٹیشن کی سہولیات نہ ہونے کے برابر ہیں
    کانکنی کے لیے بجلی،اور بارود کی عدمِ دست یابی ،انٹرنیشنل مارکیٹ تک رسائی جو اس وقت ہر لحاظ سے کافی کٹھن ہے
    کرومائٹ کو صاف کرنے کے لیے جدید مشینری اور پانی کی شدید قلت ہے۔
    مسلم باغ کے کرومائیٹ کی صنعت ملکی معیشت کی ترقی میں کلیدی کردار ادا کر سکتا ہے۔ اگر حکومت درجہ بالا مسائل حل کرنے میں مقامی تاجروں کی مدد کرتی ہے۔
    لہٰذا صوبائی اور وفاقی حکومت اپنی ترجیحات میں مسلم باغ کو شامل کر لیں اور اگر تاجر برادری کے ساتھ تعاون شروع کر دیں تو بے شک یہ علاقہ  معیشت و مجموعی ملکی ترقی میں اہم کردار ادا  کرسکتا ہے اور ملک کے ہزاروں بے روزگار افراد کو روزگار کے وسیع مواقع فراہم کرسکتی ہیں۔
    اتنے وسیع پیمانے پر ہونے والی تجارت کے علاقے میں امن وامان کی صورت حال انتہائی مخدوش ہے۔ تاجر برادری اس حوالے سے بہت پریشان دکھائی دیتے ہیں۔ انھیں ہر لمحہ اپنے جان و مال کی فکر رہتی ہے۔
    امن و امان کی صورت حال کے حوالے سے حکومتی اداروں کا کردار سوالیہ نشان بنا ہوا ہے۔یہاں اغواہ برائے تاوان کے کہیں گروہ منظم ہیں  کہیں لوگوں کو اغواہ کرنے کے بعد کروڑوں روپے تاوان کی مد میں مغویان سے وصول کر کے مغویان کو چھوڑ دیا جاتا  ہے کہیں جرائم پیشہ اور اغواہ کار گروہ مسلم باغ میں سر گرم عمل ہیں۔ عوام میں یہ تاثر پایا جاتا ہے کہ حکومت نے انھیں کبھی بھی کوئی اہمیت نہیں دی ہے،اور نہ ہی ان کے جان و مال کے تحفظ کو  یقینی بنایا ہے۔

    ٹویٹر ہینڈل :@chalakiyan

  • وقت کی پابندی تحریر:‏نشاء خان

    وقت کی پابندی تحریر:‏نشاء خان

    ‏وقت کی پابندی

    ہر کام کو وقتِ مقررہ پر کرنے کا نام وقت کی پابندی ہے۔ ہم گزرے ہوئے وقت کو یاد کرتے ہیں، آنے والے وقت کے لئے ہوائی قلعے تعمیر کرتے ہیں مگر حال کو بلکل فراموش کر دیتے ہیں۔ حالانکہ ہمیں گزرے ہوئے وقت پر افسوس کرنے کی بجائے موجودہ وقت سے فائدہ اٹھانا چاہیئے۔ اس کے ایک ایک لمحے کی قدر کرنی چاہیئے اور اس سے کام لے کر اپنے حال اور مستقبل کو روشن بنانے کی جدوجہد کرنی چاہیئے۔

    اکثر لوگ وقت کی قدر و قیمت کا احساس نہیں رکھتے، کاش وہ اس حقیقت کو ذہن نشین کر لیں کہ وقت ایک انمول خزانہ ہے، اسے مفت میں نہیں گنوانا چاہیئے کیونکہ گزرا ہوا وقت کسی قیمت پر واپس نہیں آ سکتا۔ ہم محنت سے روپیہ کما سکتے ہیں، دوا،پرہیز اور عمدہ خوراک سے کھوئی ہوئی صحت واپس لا سکتے ہیں، تعلیم ، نیک چلنی اور رفاہِ عامہ کے کاموں سے عزت اور شہرت حاصل کر سکتے ہیں لیکن ہم اپنی تمام تر فہم و فراست ، اثر و رسوخ اور دولت و ثروت کے باوجود گزرے ہوئے وقت کا ایک لمحہ بھی واپس نہیں لا سکتے۔
    ایک قول مشہور ہے کہ سکندر اعظم نے مرتے وقت کہا تھا ” کوئی میری تمام سلطنت لے لے اور مجھے جینے کے لئے چند لمحے اور دے دے ” لیکن ایسا کون کر سکتا تھا ؟

    اگر ہم غور سے دیکھیں تو کائنات کا پورا نظام ہمیں وقت کی پابندی کا درس دیتا ہے۔ دن اور رات اپنے مقررہ وقت پر آتے جاتے ہیں۔ موسم اپنے مقررہ وقت پر بدلتے ہیں۔ چاند اپنے مقررہ وقت پر گھٹتا اور بڑھتا ہے ۔ سورج اپنے متعین وقت پر طلوع اور غروب ہوتا ہے۔ فطرت کے ان عناصر کے پروگرام میں کبھی کوئی بے قاعدگی نہیں دیکھی گئ۔
    وقت کی پابندی زندگی کے ہر شعبے میں ضروری ہے۔ دنیا کا کوئی شخص خواہ وہ کسی بھی شعبے سے تعلق رکھتا ہو جب تک وقت کا پابند نہیں ہوگا کامیابی سے ہم کنار نہیں ہو سکے گا۔

    مختصر یہ کہ جن لوگوں نے وقت کی قدر نہ کی، زمانہ ان سے روٹھ گیا۔ دولت اور حکومت ان سے منہ موڑ گئ۔ وہ خاشاک کی طرح بحرِ زندگانی میں بے مقصد بہتے رہے اور پھر اسی حالت میں ختم ہو گئے۔ عقل مند انسان وہی ہے جو وقت کی قدر و قیمت کو سمجھے اور کوئی لمحہ بیکار نہ گزارے۔ انسان کو بیکار رہنے کے لئے نہیں بنایا گیا ، بلکہ فطرت بھی اسے مجبور کرتی ہے کہ وہ کوئی نہ کوئی کام اپنے وقتِ مقررہ پر کرتا رہے۔

    گیا وقت پھر ہاتھ آتا نہیں
    سدا عیشِ دوراں دکھاتا نہیں

  • بچوں پر ماں باپ کی طلاق کے اثرات حصہ 1 تحریر خالد عمران خان

    ایک مشکل فیصلہ ماں باپ کے لیے الگ ہونا اور اس وقت اور مشکل جب میاں بیوی اور خاندان میں بچے بھی ہوں تو اس قسم کا فیصلہ آپ میاں بیوی کی زندگی کے علاوہ سب سے زیادہ اثرات آپ کے بچوں پر چھوڑ دیتا ہے اور ایسے اثرات جن کا سدباب آپ ساری عمر نہں کر سکتے۔
    طلاق خاندان کے لیے مشکل وقت ہوسکتا ہے۔ والدین صرف ایک دوسرے سے تعلق بہتر بنانے کے طریقے پے توجہ دیں تو یہ زیادہ بہتر ہوگا اس طرح کے فیصلوں سے ،اور کافی سارے ادارے بھی اس مسئلے کے بہتر حل کے لیے کام کر رہے ہیں ان سے مشورہ کریں. جب والدین طلاق دیتے ہیں بچوں پر طلاق کے اثرات مختلف قسم کے ہو سکتے ہیں۔ کچھ بچے فطری اور سمجھنے والے انداز میں طلاق پر رد عمل ظاہر کرتے ہیں ، جبکہ کچھ بچے اس کی وجہ سے مشکلات میں
    آجاتے ہیں۔ اور اس کے ساتھ جدوجہد کر تے ہیں

    بچے لچکدار ہوتے ہیں اور ان کو سمجھاتے ہوئے اِنکی مدد کے ساتھ طلاق معاملات کی وجہ سے ہونے والی تبدیلیوں کے اثرات کو کم کیا جا سکتا ہے ایسے وقت میں انکو خاص توجہ کی ضرورت ہوتی ہے جو کے ماں پاب اپنے لڑائی جھگڑے کی وجہ سے نہں دے پا رہے ہوتے اور یہ بچے کے مستقبلِ کے لیے خطرناک ہو سکتی ہیں اور اس کے معاشرتی رویئے کے لیے بھی نقصان دہ ہو سکتی ہے ایسے وقت بچوں پر بھی خاص وجہ دیں اور بدلتے حالات میں ان کو ساتھ ساتھ سمجھاتے رہیں.ان کو طلاق سے پیدا ہونے والے بحران سے کچھ حد تک بچایا جہ سکتا ہے.اور انکو دما غی طور پر تھوڑا بہت تیار کیا جا سکتا ہے اس بحران سے نکلنے یہ اس کو قبول کرنے لیے ۔ چونکہ طلاق ہونے کی عورت میں بچوں کے رویے بھی مختلف ہوتے ہیں (مختلف مزاج ، مختلف عمریں) ، بچوں پر طلاق کے اثرات بھی مختلف ہوتے ہیں۔ بچے خاندان کے حالات کو سمجھتے ہیں اور انکی طبیعت پر کیا اثرات مرتب ہوتے ہیں تفصیل سے سمجھیں.

    ماں باپ کا کے ہونے والے اختلاف بچوں کے لیے ، خاندان کی بدلتی ہوئی حرکیات کو سمجھنے کی کوشش کرنا انہیں پریشان اور الجھا کر رکھ سکتا ہے۔ ماں باپ کی سوچ اس طرف نہں جاتی جب گھر میں جھگڑے کا ماحول رہے اور بچوں سے توجہ ہٹ رہی ہو ایسے صورت میں جو توجہ آپ ان کی روز مرہ ان بچوں پے دیا کرتے ہیں وہ آپکے لڑائی جھگڑے پے صرف ہو رہی تو یہ چیز بچوں کے لئے بہت نقصان دہ ہے. بچے اپنے والدین کی توجہ ہٹنے کو محسوس کرتے ہیں۔ اور لڑائی جھگڑے کے ماحول کی وجہ سے نے خوش رہتے ہیں بچوں کے مزاج میں خطرناک حد ٹک تبدیلی بچوں میں لڑائی جھگڑے کی عادت کا پر جانا اور اس کی وجہ سے جو سب سے اہم مسئلہ کھڑا ہوتا ہے وہ ہے بچوں کی تعلیم پر پڑنے والے برے اثرات بچوں پر طلاق کے اثرات میں سے اھم ترین مسئلہ اِنکی تعلیمی کارکردگی میں دیکھا جا سکتا ہے بچے جتنے زیادہ پریشان ہوتے ہیں اپنی توجہ پڑھیں پے مرکوز نہں کر پا تے صحیح طرح، اتنا ہی امکان ہوتا ہے کہ وہ اپنے اسکول کے کام پر توجہ نہ دے پائیں اور اسکول میں اور بچوں کے ساتھ بھی انکا رویہ تبدیل ہورہا ہوتا ہے بچہ اس چیز کا بہت زیادہ اثر لے رہا ہوتا ہے ہمیں یہ سب سمجھنے کی ضرورت ہے۔۔

    Twitter handle
    @KhalidImranK

  • پاکستان کے ہمسایہ ممالک تحریر:فرقان اسلم

    پاکستان کے ہمسایہ ممالک تحریر:فرقان اسلم

    وطنِ عزیز پاکستان 14 اگست 1947ء کو معرضِ وجود میں آیا۔ پاکستان بننے کے لیے مسلمانانِ ہند نے ایک طویل جدوجہدکی اور لاکھوں جانوں کی قربانیاں دیں۔ اور طرح طرح کے ظلم و ستم سہے۔ پھر کہیں جاکر اللّٰہ پاک نے اس عظیم نعمت سے نوازا۔ پاکستان ایک نور ہے اور نور کو زوال نہیں آتا۔

    بظاہر تو تقسیم کے وقت وطنِ عزیز کے مسلمانوں کے ہاتھ کچھ خاص زر و دولت نہ آیا۔ بلکہ یہاں آکر بہت ساری مشکلات کا سامنا کرنا پڑا۔ لیکن اللّٰہ پاک کے خاص کرم اور فضل کی بدولت کئی مسائل اور جنگوں کے باوجود پاکستان قائم ہے اور انشاءاللہ تاقیامت قائم رہے گا۔ 40 سال کے قریب ملک پر فوج نے حکمرانی کی اور 34 سال یہ ملک جمہوری حکمرانوں کے زیرِ تسلط رہا۔

    اب ہم پاکستان کے محل وقوع پر ایک نظر ڈالتے ہیں۔ پاکستان براعظم ایشیا میں ایک انتہائی اہم اور سٹریٹجک لوکیشن پر واقع ہے۔ جس پر ہر ملک کی نظر ہے۔ پاکستان دنیا میں دفاعی اعتبار سے بھی اہمیت کا حامل ہے۔ اب پاکستان کے ہمسایہ ممالک کی بات کرتے ہیں۔

    (1) پاکستان کے ایک طرف ہندوستان ہمارا ایک بڑا ہمسایہ ملک واقع ہے۔ جو رقبے میں پاکستان سے سات گنا بڑا ہے اور آبادی میں بھی پاکستان سے بہت بڑا ہے۔ جس کے ساتھ قیامِ پاکستان سے لے کر اب تک امن قائم نہیں ہوسکا۔ کیونکہ ہندوستان نے مقبوضہ کشمیر پر قبضہ کیا ہوا ہے۔ اور کشمیر پاکستان کی شہہ رگ ہے اس لیے جب تک کشمیر آزاد نہیں ہوتا ہندوستان کے ساتھ بہتر تعلقات قائم نہیں ہوسکتے۔ اس لیے اس مسئلے کا جلد سے جلد حل ضروری ہے کیونکہ ماضی میں بھی اس کی وجہ سے کئی جنگیں لڑی جا چکی ہیں۔ اس مسئلے کا سب سے آسان اور پرامن حل ریفرنڈم ہے کہ کشمیر کے عوام کیا چاہتے ہیں۔ لیکن ہندوستان یہ کرنے پر راضی نہیں کیونکہ کشمیری عوام پاکستان کا ساتھ دیتے ہیں۔ 

    (2) پاکستان کا دوسرا سب سے بڑا ہمسایہ افغانستان ہے دونوں ملکوں کی سر حد تقریباً 2500 کلومیٹر طویل ہے۔ جیسا کہ افغانستان کی تاریخ کا سب کو علم ہے کہ یہ ملک تقریباً پچھلے 45 سال سے حالت جنگ میں ہے اور پاکستان نے اتنے سالوں سے افغان مہاجرین کو پناہ دے رکھی ہے اور 50 لاکھ افغان مہاجرین کو گھر کا فرد بنا کے رکھا ہے لیکن افغان جنگ صرف ان تک محدود نہ رہی بلکہ پاکستان کے قبائلی علاقوں کے ساتھ ساتھ بالخصوص خیبر پختونخواہ اور پورے پاکستان کو متاثر کیا ہے۔ افغانستان کے ساتھ اچھے تعلقات دونوں ملکوں کے مفاد میں ہیں کیونکہ دونوں اسلامی ملک ہیں۔ جبکہ دونوں ممالک کے عوام بھی یہی چاہتے ہیں کہ امن قائم ہو لیکن شرپسند عناصر نہیں چاہتے کہ ایسا ہو۔ اب افغانستان کے حالات پہلے کی نسبت بہت حد تک ٹھیک ہیں اور آنے والے دنوں میں مزید بہتری کی توقع کی جارہی ہے۔ 

    (3) تیسری جانب ایران ہے جس نے سب سے پہلے پاکستان کو تسلیم کیا تھا۔ جو گزشتہ کئی دہائیوں سے تقریباً پوری دنیا کی طرف سے پابندیوں کا شکار ہے۔ حالانکہ ایران کے ساتھ ہمارے تعلقات بہت زیادہ اہمیت رکھتے ہیں لیکن عالمی پالیسیوں کی وجہ سے ہم ایران کے ساتھ زیادہ اچھے تجارتی تعلقات استوار نہیں کر سکتے اور ہماری خوشحالی میں بڑی وجہ بھی یہی ہے۔ حالانکہ اگر ہمارے اچھے تعلقات قائم ہوں تو دونوں ممالک کو بہت فائدہ ہوگا۔ پچھلے چند سالوں ایران اور ایران کے تعلقات میں کافی بہتری آرہی ہے۔

    (4) چوتھا ہمسایہ ملک چین ہے جو پاکستان کا بہترین دوست ہے۔ اور ہمیشہ مشکل حالات میں پاکستان کی مدد بھی کرتا ہے۔ بلکہ ایک محاورہ بھی بنا ہوا ہے کہ پاکستان اور چین کی دوستی سمندر سے گہری اور ہمالیہ سے بلند ہے۔ پاکستان اور چین کے ہمیشہ مشکل حالات میں ایک دوسرے کی مدد کی ہے۔ پاک چائنہ اکنامک کوریڈور دونوں ملکوں کے مفادات کیلئے بہت اہم اور ضروری ہے اور پاکستان کیلئے امید کی کرن اور خوشحالی کی ضمانت ہے۔ اس کوریڈور کی تکمیل کے بعد پاکستان ترقی کی طرف گامزن ہو گا۔ انشاءاللہ 

    اگر آپ کا ہمسایہ اچھا ہو تو یہ بھی اللّٰہ تعالیٰ کی بہت بڑی نعمت ہے۔ کیونکہ ان کے ہر طرح کا لین دین اور تعلقات ہوتے ہیں۔ اسی طرح ہمسایہ ممالک کے بھی تعلقات ہوتے ہیں۔ اصل میں خارجہ پالیسی اس معاملے میں بہت اہم کردار ادا کرتی ہے۔ اگر کسی ملک کی سفارت کاری بہترین ہوگی تو اس ملک کے تعلقات بھی بہترین ہوں گے۔جب بھی پاکستان کے کسی ملک کے ساتھ اچھے تعلقات قائم ہوتے ہیں تو اس کی راہ میں روڑے اٹکائے جاتے ہیں۔ 

    اللّٰہ تعالیٰ سے دعا ہے کہ اللّٰہ پاک وطن عزیز کی حفاظت فرمائے اور اسے اسلام اور امن کا گہوارہ بنائے۔ ہمیں بھی اپنے ملک کی تعمیر و ترقی کے لیے دن رات کوشش کرنی چاہیئے اور اللّٰہ سے امید رکھنے چاہیئے۔ اللّٰہ تعالیٰ ملک پاکستان کا حامی و ناصر ہو۔ 

    سدا رہنا پاکستان زندہ باد۔۔!!

    @RanaFurqan313

  • ‏پاکستان کا مطلب کیا؟؟؟  (از قلم محمد وقاص شریف

    ‏پاکستان کا مطلب کیا؟؟؟ (از قلم محمد وقاص شریف

    ایک حاجی صاحب بہت ہی دیندار، نماز کے پابند، ہر وقت ذکر کرنے والے تھے,اور ہر ایک سے محبت سے پیش آتے، یہاں تک کہ سب ان سے محبت کرتے اور انکی باتیں توجہ، دھیان سے سنتے اور انکی ہر بات مانتے تھے۔

    حاجی صاحب نے لوگوں سے کہا: کہ ہم سب مسلمان ہیں، اس علاقے میں اکثر ہندو ہیں اور ہمارے علاقے میں قریب کوئی مسجد نہیں، ہمیں اپنے علاقے میں ایک مسجد کی ضرورت ہے تاکہ اپنے علاقے میں ہی ہم پانچ وقت نماز پابندی سے پڑھ سکیں،اور ہمارے بچے بھی دینی تعلیم حاصل کریں،جس کے لیے آپ سب کو اس کام میں ہمارا ساتھ دینا ہوگا،کیونکہ یہ ایک بندے کا کام نہیں۔

    تمام لوگوں نے حاجی صاحب کا ساتھ دیا، اور حاجی صاحب کے پاس اتنی طاقت آگئی کہ وہ مسجد بناسکیں،لیکن انہی دنوں حاجی صاحب کی طبیعت خراب ہوگئی، اور حاجی صاحب نے اس کام 

    میں اپنے ساتھ ایک کمیٹی بنالی۔

    حاجی صاحب نے کئی دفعہ اپنی کمیٹی کو صاف الفاظ میں کہا : کہ لوگوں کے پیسے ہمارے پاس امانت ہیں،لوگ چاہے ہم سے مطالبہ نہ بھی کریں لیکن ہمارا فرض ہے کہ ہم نے جس مقصد کے لیے لوگوں سے مدد مانگی، اور لوگوں نے ہمارا ساتھ دیا ہم وہ کام پوری ایمانداری سے سر انجام دیں۔

    حاجی صاحب کا کچھ ہی دنوں بعد انتقال ہوگیا اور پھر کمیٹی کا صدر ایک لالچی اور مفاد پرست شخص بن گیا،اور حاجی صاحب کے آخری رسومات میں بہت سا وقت گذر گیا۔

    کمیٹی کے کچھ لوگوں نے کہا بھی کہ اب ہمیں کام شروع کرا دینا چاہیے، لیکن صدر ٹال مٹول کرتا رہا، اور اس طرح کے لوگوں کو کمیٹی سے نکال کر اپنے مطلب کے لوگوں کو کمیٹی میں رکھ لیا جو اس کی ہر بات میں ہاں ملاتے ہوں۔

    اب وہ مسجد کی جگہ بھی موجود ہے، کمیٹی بھی موجود ہے لیکن مسجد نہیں بن رہی، لوگوں نے جب اس معاملے کو اٹھایا تو صدر نے بڑے طریقے سے کاغذات اپنے نام کراکر انہیں ہی فساد کرنے والا ثابت کرکے ڈنڈے مرواے۔

    صدر نے کچھ پیسے کھلا کر وہ مسجد کا پلاٹ اپنے نام کرالیا، اور اس پر اپنی کوٹھی اور بنگلہ بنالیا۔

    لیکن عوام کو جب یہ معلوم ہوا کہ اندر ہی اندر کام خراب ہوچکا ہے عوام اس صدر کے خلاف کھڑی ہوگئی، صدر نے عوام کو تھانوں سے ڈرایا اور ان پر لاٹھی چارج بھی کروائی۔

    اب آپ مجھے بتائیں! 

    کہ مسجد کے پلاٹ پر صدر نے جو اپنا ذاتی بنگلہ بنالیا اور کاغذات وغیرہ سب اپنے نام کرالیے لیکن یہ دھوکے سے کیا، کیا یہ صحیح ہے اسے عوام تسلیم کرلے؟ 

    یا عوام جنہوں نے مسجد کے لیے چندہ دیا، جنہوں نے لوگوں کو اس کے لیے راغب کیا، وہ اب تک بھی موجود ہیں، وہ اپنے حق کے مطالبہ پر ہیں کہ پلاٹ مسجد کا ہے،اسے وقف کرنے والوں نے مسجد کے لیے وقف کیا، اور ہر ایک نے مسجد کے نام پر مسجد کے لیے جو ہوسکا دیا۔ 

    وہ کہتے ہیں کہ ہم پر جو تشدد کروانا ہے کروا لو، جو ظلم کرنا ہے کرلو، اور جو نام دینا ہے دیدو! لیکن ہم مسجد کے مطالبے سے پیچھے ہٹنے والے نہیں ہیں۔

    بظاہرا چاہے وہ صدر کمٹی طاقتور ہے لیکن وہ غلط ہے، اور 

    بظاہرا یہ عوام چاہے کمزور ہیں، اور کوئی بھی حق کے لیے انکا ساتھ دینے کے لیے تیار نہیں لیکن یہ حق پر ہیں! 

    اب آپ بتائیں! 

    آپ کس کا ساتھ دینگے!

    سوچ سمجھ کر فیصلہ کرنا!

    کیونکہ اگر صدر کمیٹی کاساتھ دو گے تو قیامت کے دن اسی ظالم کے ساتھ جاو گے۔

    اور اگر عوام کا ساتھ دو گے تو ہوسکتا ہے تمھیں بھی ظلم کا نشانہ بنایا جاے تم پر بھی تشدد کیا جاے؟؟؟

    جی اگر آپ نے فیصلہ کرلیا ہے تو اب پورے غور و توجہ سے سنیں۔

    مسلمانوں کو پاکستان کا مطلب کیا

    لاالہ الہ الا اللہ کے نام پر اپنے ساتھ کیا گیا۔

    اسی کے نام پر ان سے قربانیاں مانگیں گئیں۔

    اور اسی کے نام پر مسلمانوں نے اتنی بڑی قربانیاں دیں۔مسلمانوں نوجوان بیٹیوں کی عزتیں اسی کلمہ کے لیے تار تار کی گئیں۔

    اسی کلمہ کے لیے شہیدوں نے اپنی جانیں قربان کیں۔

    اسی کلمہ کے لیے اپنے بچے قربان کیے۔

    اسی کلمہ کے لیے اپنے گھر بار،کاروبار،زمین، خاندان اور وطن تک قربان کیا گیا۔

    لیکن پھر ہوا کیا؟ 

    یہاں تک کہ کچھ لوگوں نے کہا کہ یہ صرف قائد اعظم کا صرف سیاسی نعرہ تھا۔ لیکن قائد اعظم کی سچائی ایمانداری، ہمیں اس بات کی اجازت نہیں دیتی کہ وہ اس طرح کرسکتے ہیں۔ 

    بلکہ ان کے بعد والوں نے اس وطن کو جو کلمہ کے نام پر بنا۔

    جس کا مطلب ہی لا الہ الا اللہ تھا۔

    اس لاالہ کے دیس کو اس کے مقصد سے دور کردیا۔

    اس پاک سرزمین پر پلید انگریزوں کے قانون کو نافذ کیا اور جاری رکھا۔

    اس وقت سے اب تک علماء کرام بتاتے آرہے ہیں کہ یہ 

    اللہ سے عہد شکنی ہے۔

    اور تمام مسلمانوں سے جنہوں نے پاکستان کی آزادی کے لیے لالہ کے نام پر قربانیاں دیں، ان سے وعدہ خلافی ہے۔

    شہیدوں کی روحوں سے بے وفائی ہے۔

    اور اسی وجہ سے اللہ ناراض ہے اور اسی وجہ سے ہم پر دنیاوی عذاب بھی آئے ہیں، اور جب تک ہم واپس اپنے وعدے کو پورا نہیں کرتے ہمارے حالات ٹھیک نہیں ہوسکتے۔

    لیکن ان انگریز کے کتے نہلانے والوں کو یہ بات سمجھ ہی نہیں آتی۔

    افسوس اس بات کا نہیں کہ آج تک اس ملک میں اسلامی نظام کیوں نافذ نہیں ہوا؟

    افسوس اس بات کا ہے کہ ہم نے اپنی قربانیاں بھلادیں۔

    ہم مسلمانوں نے صرف نوکری، مال و دولت کے لیے یہ یہ قربانیاں نہیں دی تھی، اس سے زیادہ مال و دولت تو مسلمان وہاں چھوڑ کر کلمہ کے نام پر آگئے تھے۔

    افسوس اس بات کا ہے کہ

     اسلامی نظام کی کوشش میں رکاوٹ بننے والے بھی مسلمان ہیں۔

    افسوس اس بات کا ہے کہ جس ملک کا آئین اسلامی ہو اسی ملک میں اسلام کے نفاظ میں رکاوٹیں کھڑی کی جاتیں ہیں۔

    افسوس اس بات کا ہے

    جو ہمیں ہمارا بھولا سبق یاد دلاتے ہیں ہم انہیں ہی برا سمجھتے ہیں بلکہ انہی کو غدار کہا جاتا ہے۔

    آپ مجھے نظریہ پاکستان، لاالہ الاللہ اور شریعت کاغدار کیا پاکستان کا غدار نہیں!

    افسوس اس بات کا ہے

    لاالہ کے دیس میں بے حیائی جان بوجھ کر پھیلائی جارہی ہے۔ کوئی کہنے والا نہیں۔

    افسوس اس بات کا ہے کہ 

    لاالہ کے دیس میں شراب خانوں کی اجازت باقاعدہ حکومت دیتی ہے۔

    افسوس اس بات کا ہے کہ لاالہ کے دیس میں

    رنڈی خانوں،لال بازار اور چکلوں کی باقاعدہ اجازت، سرپرستی اور حفاظت کی جاتی ہے۔

    افسوس اس بات کا ہے کہ

    لاالہ کے دیس میں آئے روز قادیانیوں کے لیے راہیں ہموار کی جارہی ہیں، انہیں عہدے دیے جارہےہیں۔

    افسوس اس بات کا ہے کہ لاالہ کے دیس میں

    گستاخوں کو عدالتوں سے سزا ہوجانے کے بعد بھی یہودیوں کے کہنے پر عزت سے رہا کردیا جاتا ہے۔

    افسوس اس بات کا ہے کہ 

    لاالہ کے دیس میں بڑے بڑے نامور علماء کرام پر خود کش حملے کیے جاتے ہیں اور انہیں شہید کردیا جاتا ہے اور پھر انکے قاتل یا تو ملتے ہی نہیں یا پھر انہیں سزا نہیں ملتی۔

    میں عوام اور وقت کے حکمرانوں سے صاف صاف،علی الاعلان، ببانگ دھل،ڈنکے کی چوٹ پر یہ کہنا چاہتا ہوں کہ اپنے اللہ سے کیے گئے وعدے،شہیدوں کی قربانیوں کو دیکھو!

    اور اپنے مقصد کے لیے جو بھی ہوسکے کرو،تم کمزور ہو نہیں کرسکتے تو جو کررہا ہے جو اس کے لیے آواز بلند کرے اس کا ساتھ دو!

    ورنہ ہم اللہ سے عہد شکنی کے مجرم ہیں۔ شہیدوں کی روحوں سے وعدہ خلافی کے مجرم ہیں۔

    اور جن کو کلمہ کے نام پر قربانیوں کے لیے تیار کیا تھا۔ ان سے بے وفائی کے مجرم ہیں۔

    اور جب تک اس مقصد پر نہیں آتے جس کے لیے یہ ملک حاصل کیا تھا،تمھاری نمازیں،تمھارے روزے تمھارے وظیفے اور تمھاری نیکیاں خود سوچو کہ اللہ کے پاس انکا کیا وزن ہوگا۔

    @joinwsharif

  • سگریٹ نوشی کے انٹرنیشنل بہانے  تحریر۔سید لعل حسین بُخاری

    سگریٹ نوشی کے انٹرنیشنل بہانے تحریر۔سید لعل حسین بُخاری

    جس طرح سگریٹ نوشی ایک بین الاقوامی ،خطرناک اور مضر صحت مسئلہ ہے۔
    اسی طرح سگریٹ پینے والے افراد سگریٹ پُھونکنےکے بھی انٹرنیشل قسم کے جواز گھڑتے رہتے ہیں۔
    حالانکہ ان کی یہ توجیحات غالب کے اس شعر کی طرح دل کی تسلی کے لئے ہی ہوتی ہیں کہ
    ہم کو معلوم ہے،جنت کی حقیقت لیکن
    دل کے خوش رکھنے کو ،غالب یہ خیال اچھا ہے۔
    سگریٹ نوش افراد عرصہ دراز سے سگریٹ نوشی کا یہ جواز گھڑتے آرہے تھے کہ سگریٹ پینے سے وزن کم رہتا ہے۔
    مگر تازہ ترین سٹڈی میں یہ تھیوری غلط اور خود ساختہ ثابت ہو چُکی ہے۔
    امریکی ریاست اوریگان کے ایک تجرباتی سنٹر میں 400افراد پر دو سال تک جو تجربات کیے گئے،
    اُن کے مطابق جو لوگ سگریٹ نوشی کرتے تھے،
    اُن کا وزن ایسے افراد سے تین گُنا زیادہ بڑھتا ہے،
    جو سگریٹ نوشی نہیں کرتے۔
    اسی طرح کچھ سگریٹ نوش خواتین و حضرات یہ بھی کہتے پاۓ گئے کہ سگریٹ پینے سے اُن کا جسم ہلکا رہتا ہے۔
    اُن کا خیال ہے کہ سگریٹ پینے سے ان کے ہاضمے کا نظام چونکہ درست رہتا ہے،
    لہذا انہیں اپنے جسم میں بھاری پن کا احساس نہیں ہوتا۔
    نئی ریسرچ سے یہ سب تھیوریاں اُلٹ ثابت ہو چکی ہیں۔
    بھاری پن یا بدہضمی کی وجوہات میں بزات خود سگریٹ نوشی شامل ہے،
    کیونکہ جسم کے ہر حصے کا دوسرے سے براہ راست تعلق ہوتا ہے،
    اگر سگریٹ نوشی سے آپکے پھیپھڑے متاثر ہوں،آپکا نظام تنفس درست نہ ہو،
    آپ امراض قلب کا شکار ہوں،
    بلڈ پریشر کا سامنا کر رہے ہوں،
    یا سگریٹ نوشی سے آپ کو زیا بیطس جیسے موذی مرض نے آ گھیرا ہو تو کامن سینس کی بات ہے کہ آپ کا معدہ بھی متاثر رہے گا۔
    اور اگر آپ کا معدہ درست طریقے سے کام نہ کر رہا ہو تو پھر آپ بھاری پن محسوس کریں گے نا کہ ہلکا پن۔
    لہذا سگریٹ نوشوں کا یہ استدلال بھی بغیر کسی جاندار دلیل کے ہے کہ وہ سگریٹ نوشی سے ہلکا پن محسوس کرتے ہیں۔
    یہ وہم کے سوا کچھ نہیں۔
    یہ سوچنا بھی اپنے آپ کو دھوکہ دینے کے برابر ہے کہ سگریٹ آپ کو کسی قسم کا طبعی فائدہ پہنچا رہا ہے۔
    بس آپ اپنی اور اپنے خاندان کی بہتری کے لئے یہ کریں کہ اپنے آپ کو سگریٹ کی لت نہ لگنے دیں۔
    شروع میں اس عمل کو روکنا آسان ہوتا ہے،
    مگر جب آپ پوری طرح سگریٹ نوشی کا شکار ہوجائیں گے تو پھر اس بری عادت کے چُنگل سے نکلنا مُشکل ہو گا۔
    اس سے چھٹکارے کے لئے آپ کو بہت سے پاپڑ بیلنے پڑیں گے۔
    ہو سکتا ہے آپ کو کسی ایسے ہیلتھ سنٹر جانا پڑے جہاں ایسے ہی منشیات کے عادی مریضوں کا علاج کیا جاتا ہو۔
    سگریٹ نوشی کے بعد آپکا سٹیٹس بھی ایک مریض کا ہو گا۔
    اور اس حقیقت سے کون واقف نہیں کہ آجکل کے دور میں کسی بھی مرض کے لئے کتنے بھاری اخراجات درکار ہوتے ہیں۔؟
    کچھ بعید نہیں کہ آپ کو بھی سگریٹ نوشی سے جان چھڑوانے کے لئے ایسے ہی کچھ اخراجات بھی برداشت کرنا پڑیں۔
    سگریٹ نوشی کے بعد لگنے والی بیماریوں کا علاج شروع کرنے کے ساتھ ہی ڈاکٹر سگریٹ نوشی ترک کرنے کی شرط رکھ دیتا ہے۔
    اس عالم میں آپ کو دو محاذوں پر لڑنا پڑتا ہے،
    ایک بیماری سے اور دوسرا سگریٹ نوشی کی جان لیوا عادت سے۔
    سگریٹ نوشی کی عادت موجودہ دور میں صرف سگریٹس تک محدود نہیں ہے
    بلکہ اب تو سگار،حُقہ اور شیشہ جیسی وبائیں بھی دن بدن پھیل رہی ہیں۔کہا جاتا ہے کہ زمانہ قدیم سے حقے کا رواج ہی سگریٹ،گُٹکا،نسوار،بیڑی،سگار ،پان اور شیشہ جیسی قباحتیں معرض وجود میں لے کر آیا۔
    بدقسمتی سے متزکرہ بالا سب چیزوں میں تمباکو ہی استعمال ہوتا ہے۔
    جو سب بیماریوں کی جڑ ہے۔
    اسی تمباکو میں نکوٹین نامی زہریلا مادہ ہوتا ہے،
    جواکثر وبیشتر دل کے امراض کا باعث بنتا ہے۔
    سگریٹ نوشی کےشکار افراد میں سے 20فیصد ،امراض قلب کا شکار ہو کر دنیا سے چلے جاتے ہیں۔
    محتاط اندازے کے مطابق سالانہ ایک لاکھ بیس ہزار افراد اسی مرض سے لقمہ اجل بن جاتے ہیں۔
    امراض قلب کی سنگین ترین صورت میں آپکو اوپن ہارٹ سرجری جیسے مشکل ترین آپریشن سے گزرنا پڑتا ہے،
    اوپن ہارٹ سرجری ڈاکٹرز اسی وقت تجویز کرتے ہیں،
    جب دل کو خون سپلائ کرنے والی نالیاں اور بلڈ ویسلز سُکڑ کر بہت تنگ ہو چکے ہوتے ہیں،
    جس سے دل کو خون کی فراہمی ایک تسلسل سے نہیں ہو پاتی جو ہارٹ اٹیک کا بھی باعث بنتی ہے۔
    ہارٹ اٹیک سے کچھ ہی خوش قسمت افراد ہی بچ پاتے ہیں۔
    بعض دفعہ تو مریض آپریشن سے پہلے ہی ہارٹ اٹیک کا شکار ہو کر جان سے ہاتھ دھو بیٹھتا ہے۔
    سگریٹ نوش افراد میں دل کی ان نالیوں کو تنگ کرنے کا باعث بھی یہی نکوٹین ہی ہوتی ہے،
    ہر قسم کا تمباکو اس نکوٹین کامنبع ہوتا ہے۔
    کچھ لوگ سگریٹ کا استعمال ترک کرنے کے لئے نسوار پان،کافی یا حقے کا استعمال شروع کر دیتے ہیں۔
    یہ بھی ایک بے کار فارمولہ اور بے مقصد پریکٹس ہے،
    اس سے کسی قسم کا فائدہ نہیں ہونے والا،
    آپ کنواں چھوڑ کر کھائ میں گرنے کی کوشش کر رہے ہیں۔
    سگریٹ چھوڑنے کے لئے بہترین تدابیر میں سے کچھ درج زیل ہیں
    سگریٹ نوشی کی طلب بڑھنے کی صورت میں کُھلی فضا میں چلے جائیں،
    لبے لمبے سانس لیں،ہلکی پُھلکی ورزش کریں،
    اپنے خیالات کو سگریٹ سے ہٹانے کے لیے کچھ اور سوچنا شروع کر دیجیے،
    پانی زیادہ پیجیے تاکہ نکوٹین سے بننے والے فاسد مادے آپ کے جسم سے نکل سکیں،
    کھانا کھانے کے بعد سگریٹ کی طلب ہونے پر پودینہ والی یا لیموں والی سبز چاہے پئییں،
    سگریٹ نوش دوستوں سے میل ملاقات کا سلسلہ بوقت ضرورت ہی جاری رکھیے۔
    سگریٹ نوشی ترک کیجیۓ
    زندگی کی طرف لوٹیے،
    آپ کے پیارے آپ کے منتظر ہیں۔
    خدارا۔
    اُنہیں کسی امتحان میں مت ڈالیے#

    @lalbukhari

  • تمباکو نوشی کے نقصانات تحریر: فرح بیگم

    تمباکو نوشی کے نقصانات تحریر: فرح بیگم

    تمباکو نوشی کرنے والا نہ صرف اپنی قبر کھودتا ہے بلکہ تمباکو نوشی کرنے والے انسان کے ساتھ رہنے والے افراد بھی بہت ساری مہلک بیماریوں کا شکار ہوتے ہیں۔ لیکن کوئی بھی اس کے خلاف عملی اقدامات کرنے کو تیار نہیں ہوتا تعلیمی اداروں خاص طور پر کالجوں اور یونیورسٹیوں میں تمباکو نوشی کا رجحان بڑھتا جارہا ہے لڑکوں کے اب کثرت میں لڑکیاں بھی تمباکو نوشی کرتی دکھائی دیتی ہیں۔ کئی نوجوان تو تمباکو نوشی کو ایک فیشن سمجھ کر کرتے ہیں جو جانے انجانے میں اپنی زندگی کا دیا اپنے ہی ہاتھوں گُل کررہے ہوتے ہیں۔ نشہ کسی بھی قسم کا ہو ہمیشہ اس سے بچنے کی کوشش کی جاۓ

    تمباکو انسان کو سست اور پست حوصلہ بنا دیتا ہے تمباکو قوت ارادی کا بڑا دشمن ہے۔ اس کے استعمال سے جسم ڈھیلا اور کمزور پڑ جاتا ہے۔ یہ دماغ، بینائی، جگر، پھیپھڑوں اور دل کو کمزور بنا دیتا ہے۔

    تمباکو نوشی پیسے کے ضیاع کے علاوہ متعدد بیماریوں کا باعث بنتی ہے جس میں سرفہرست کینسر ہے۔ تمباکو نوشی سے مختلف قسم کا کینسر ہوسکتا ہے جس میں گلے کا کینسر، منہ کا کینسر اور لبلبے کا کینسر قابل زکر ہیں اس کے علاوہ تمباکو نوشی کرنے والوں کے پھیپھڑے بھی بہت متاثر ہوتے ہیں

    دنیا بھر میں ایک ارب سے زائد لوگ تمباکو نوشی کرتے ہیں جن میں سے اسی فیصد لوگ ترقی پذیر ممالک سے تعلق رکھتے ہیں۔ پاکستان، بھارت، فلپائن، تھائی لینڈ اور کمبوڈیا میں تمباکو نوش لوگوں کی شرح تیزی سے بڑھ رہی ہے اور اس اضافے کا بڑا سبب ان ممالک کا نوجوان طبقہ ہے۔ ترقی یافتہ ممالک میں جاپان اور چائنہ کے ساٹھ فیصد مرد حضرات سگریٹ نوشی کی عادت میں مبتلا ہیں۔ سگریٹ نوش آبادی میں بارہ فیصد خواتین شامل ہیں جب کہ روزانہ ایک لاکھ بچے سگریٹ نوشی شروع کردیتے ہیں۔

    عالمی ادارہ صحت کے مطابق تمباکو نوشی سے دنیا بھر میں سالانہ آٹھ لاکھ سے زائد افراد موت کا شکار ہوجاتے ہیں۔ عام طور پر لوگ تمباکو کا استعمال نیکوٹین کی کمی کو پورا کرنے کے لیے استعمال کرتے ہیں۔

    ‎تمباکو کی تمام مصنوعات نقصان دہ ہیں اور یہ مختلف قسم کے کینسر اور دیگر صحت کے مسائل کا سبب بن سکتی ہے۔ لہذا ، تمباکو نوشی سمیت تمام تمباکو کی مصنوعات کے استعمال کی سختی سے حوصلہ شکنی کی جانی چاہئے۔ 

    آ پ سگریٹ نوش ھوں آپ جتنی ذیاہ سگریٹ نوشی کریں گے، اتنا ہی مسائل میں اضافہ ھو گا۔ نفسیاتی بیماریاں ہونے کے امکانات، بے چینی اور ڈپریشن، الکحل( شراب نوشی) اور منشیات کا ذیادہ استعمال ان کی وجہ سے زہنی صحت کے مزید خراب ہونے کے امکانات ہیں۔

    اساتذہ، والدین اور دیگر معززین کو تمباکو نوشی کے خلاف مؤثر اقدام اٹھانے کی ضرورت ہے اکثر شریف اور ہونہار نوجوان سگریٹ نوشی شروع کرتے ہی برے کاموں میں پڑ جاتے ہیں جس کی وجہ سے ان کا مستقبل تباہ ہوجاتا ہے۔

    ترک سگریٹ نوشی سے آپ اپنےآپکونہ صرف صحت مند،چست و توانامحسوس کریں گے بلکہ لمبی زندگی پائیں گے  
    سگریٹ نوشی کو ترک کرنے کے سلسلے میں مدد حاصل کرنا آپ کا حق ھے۔

    Twitter ID: @Iam_Farha

  • تمباکو نوشی لعنت ہے”  تحریر: حسیب احمد

    تمباکو نوشی لعنت ہے” تحریر: حسیب احمد

    پاکستان سمیت دنیا بھر میں سگریٹ نوشی کا استعمال کیا جاتا ہے اور دنیا میں آئے لوگ لاکھوں لوگ اس کو خریدتے ہیں اور نوش کرتے ہیں۔ دنیا میں سگریٹ وہ واحد چیز ہے جو ہر جگہ دستیاب ہوتی ہے اور لاکھوں سگریٹ روزانہ کی بنیاد پر تیار کیئے جاتے ہیں۔

    پاکستان میں بھی سگریٹ پینے والے لوگ ہزاروں نہیں لاکھوں کی تعداد میں ہیں اور اندازہ لگائیں روزانہ کی بنیاد پر کتنے لوگ خرید کرتے ہیں اور کتنا ریونیو جنریٹ ہوتا ہے سگریٹ کمپنیوں کا۔ اور ہم اپنی زندگی کو خطرے میں ڈال دیتے ہیں سگریٹ نوشی کرکے۔ 

    پہپہڑوں کی بندش ہوجاتی ہے اور سانس لینے میں دشواری کا سامنا ہوتا ہے ہمیں ہی تکلیف ہوگی ناکہ ان کمپنیوں کو ان کو صرف پیسے سے مطلب ہے۔ اگر ہم لعنت سے اپنی جان چھڑا لیں تو خدا کی قسم جو یہ پیسہ ان چیزوں پر خرچ کررہے اس کو بچا سکتے ہیں اور یہ پیسہ مستقبل میں ہمیں کام ائے گا اور اگر ہم تمباکو نوشی کرتے رہے تو ایک دن اس ہماری جان جائے گی اور اس کے ذمہ دار ہم خود ہونگے۔

    تو آج سے ہی عزم کرلیتے ہیں ہم جتنا ہوسکے گا اس لعنت سے اپنی اور اپنے پیاروں کی جان بچائیں۔ اپنی نسلوں کو تحفظ دیں یا ناکہ اس تمباکو نوشی سے اپنی نسلوں کی جائیں خطرے میں ڈالیں۔

    تمباکو نوشی کو توڑنا ایک مشکل عادت ہے کیونکہ تمباکو میں بہت زیادہ نشہ آور کیمیکل نیکوٹین ہوتا ہے۔ ہیروئن یا دیگر نشہ آور ادویات کی طرح ، جسم اور دماغ تیزی سے سگریٹ میں نیکوٹین کی عادت ڈالتے ہیں۔ جلد ہی ، ایک شخص کو صرف نارمل محسوس کرنے کی ضرورت ہے۔ 

    کچھ لوگ سمجھتے ہیں کہ ای سگریٹ باقاعدہ سگریٹ سے زیادہ محفوظ ہیں کیونکہ ان میں تمباکو نہیں ہوتا۔ لیکن ان میں موجود دیگر اجزاء بھی خطرناک ہیں۔ در حقیقت ، ای سگریٹ استعمال کرنے والے لوگوں میں پھیپھڑوں کو شدید نقصان اور یہاں تک کہ موت کی بھی اطلاعات ہیں۔ لہذا ماہرین صحت ان کے استعمال کے خلاف سختی سے خبردار کرتے ہیں۔ ہکہ پانی کے پائپ ہیں جو منہ کے ساتھ نلی کے ذریعے تمباکو نوشی کرتے ہیں۔ کچھ لوگ سمجھتے ہیں کہ وہ سگریٹ سے زیادہ محفوظ ہیں کیونکہ دھواں ٹھنڈا ہوتا ہے جب یہ پانی سے گزرتا ہے۔ لیکن کالے گنک کو دیکھو جو ایک ہکہ نلی میں بنتا ہے۔ اس میں سے کچھ صارفین کے منہ اور پھیپھڑوں میں داخل ہو جاتے ہیں۔ اور چونکہ ان کے پاس فلٹرز نہیں ہیں اور لوگ اکثر انہیں طویل عرصے تک استعمال کرتے ہیں ، ان کی صحت کے خطرات اور بھی زیادہ ہو سکتے ہیں۔ ہکہ عام طور پر مشترکہ ہوتے ہیں ، لہذا پائپ کے ساتھ ساتھ جراثیم کے گرد پھیلنے کا اضافی خطرہ ہوتا ہے۔

    آج سے عہد کریں نا خود نوش کریں گے نا کسی کو کرنے دیں گے اور اپنے مستقبل کے ایک اچھا اقدام اٹھائیں گے۔

    تمباکو نوشی ہمیں اور ہماری آنے والی نسلوں کو برباد اور تباہی کے دہانے پر پہنچا دیتی ہے۔ 

    پاکستان میں ہزاروں لوگ اس کے ادی ہوجاتی ہیں. لوگ خود کو اس نشے میں اندھا کرتے ہیں اور اپنی صحت والی زندگی سے کھیلتے ہیں. پاکستان میں لوگ نشے سے ایسے لیپٹ جاتے ہیں جیسے سردیوں میں کمبل سے لوگ لیپٹ جاتے ہیں۔غیر قانونی طور پر کمپنیاں بغیر ٹیکس اس ملک میں بیچتے ہیں۔ اس سے عوام کو ان کمپنیوں کی وجہ سے بھر پور ٹیکس دینے پر مجبور ہوجاتے ہیں اور ٹیکس ریونیو جمع نا ہونے کی وجہ سے پاکستان کی معیشت پر منفی اثرات مرتب ہوتے ہیں پھر پاکستان کے غریب سے غریب تر ہوجاتے ہیں اور فائدہ صرف یہ نشہ آور کیمیکل نیکوٹین بنانے والی کمپنیاں اٹھاتی ہیں۔

    @jaanbazHaseeb 

    https://twitter.com/JaanbazHaseeb?s=09 

  • نشہ سے آپکی زندگی کیسے تباہی و برباد ہوتی ہے میری تحریر پڑھیںِ۔ تحریر۔ فرزانہ نیازی

    نشہ سے آپکی زندگی کیسے تباہی و برباد ہوتی ہے میری تحریر پڑھیںِ۔ تحریر۔ فرزانہ نیازی

    :
    نشہ کیا ہے یہ سوال ذہن میں آتا ہے جواب نشہ موت ہے جو آپکی زندگی کو آہستہ آہستہ سے کھوکھلا کرتا جاتا ہے نشے کی اقسام کون کون سی ہیں یہ جانیے
    افیون گانجا ہیروئن شراب آئیس پٹرول پالش ثمر بوند پوڈر اور انجیکشن نشہ کرنے والا شخص کسی کا نہیں ہوتا آخر میں وہ اپنے ماں باپ کو بھی بیچنا چاہے گا آپ سوچتے ہیں نہ نشہ کرنے میں کچھ نہیں ہوگا میں بتاتی جاؤں کہ
    آخر میں آپکے اپنے آپکے ماں باپ بلکے آپکی اپنی اولاد تک آپکا ساتھ چھوڑ جاتی ہے یہ اتنی بری علامت ہےاس شخص کی نہ اللّٰہ کے سامنے کوئی قدر رہتی نہ ہی دنیا میں کوئی عزت کرتا ہے یہ بات میں قسم کھا کر بھی کہ سکتی ہوں میں آنکھوں دیکھا حال بیان کر سکتی ہوں میری دوست بہت ہی اچھے گھرانے سے تعلق ہے ہمارے ساتھ کالج میں پڑتی تھی ہمارے کالج میں نشہ وار چیزوں کا عام استعمال ہوتا ایک دن ایک ایسی لڑکی سے اسکی دوستی ہوئی جو نشہ وار چیزیں بہت کرتی تھی کالج میں ٹیچرز کو کوئی پرواہ ہی نہیں تھی نہ وہ دیکھتے جا کے کیا ہو رہا ہے میری دوست نے انجکشن لگوا لیا وہ کسی کو کچھ نہیں بتاتی دوسرے دن پھر لگوا لیا مجھے پتا نہیں تھا ایسے گم سم رہنے لگی کسی چیز میں دلچسپی نہیں لیتی تھی یہ سلسلہ 1 مہینہ چلتا رہا اچانک سے اسکی شادی ہو گئی میرا ربطہ ہوا تو اس نے مجھے بتایا سب کچھ میں کافی پریشان ہو گئی سوچا اسکے گھر والوں کو بتاؤ پر اس نے مناہ کر دیا بہت ہی مشکل ٹائم تھا اس کیلئے اسے نشہ بلکل نہیں مل رہا تھا وہ نشے کی اتنی عادی ہو چکی تھی 1 دن نہیں ملتا تو سکا جسم ٹوٹتا تھا غصے سے چختی تھی چلاتی تھی بستر پر ہو جاتی تھی سسرل والے کافی سخت تھے انکو نہیں بتا تھا وہ ایسا کیوں کر رہی ہے نہ وہ گھر سنبھال سکتی تھی نہ کی سسرال والوں کی پروا تھی خود کو بھی بھول گئی فقیروں جیسی حالت ہوگئی کوئی دوا اثر نہیں کرتی اس نے اپنے سسرال والوں کو مجبور ہو کر بتایا میں نشہ کرتی ہوں انجکشن لگاتی ہوں خود کو تبھی چل پاتی ہوئی اگر انجکشن نہ ملے تو مجھے دنیا کا ہوش نہیں رہتا جیسے ہی شوہر نے سانس فارن طلاق ہوگئی آج وہ کہاں کچھ پتا نہیں بہت سمجھایا گھر والوں نے پھر انھوں نے بھی آہستہ آہستہ ساتھ چھوڑ دیا نہیں جانتی وہ کہاں ہے کس حال میں نشہ کی روک تھام کیلئے ہماری گورنمنٹ کو جلد از جلد ایکشن لینا ہوگا پاکستان میں نشہ کا استعمال بہت ہی عام ہوتا جارہا ہے اسکی وجہ گورنمنٹ کی نااہلی ہے کچھ شہروں میں عام میڈیکل سٹور زیادہ سیل نہیں ہو رہا پر ایسا ہو بھی رہا ہے عمران خان کے اپنے آبائی شہر میانوالی میں بڑے بڑے میڈیکل سٹورز پر نشہ بیچا جارہا ہے یہ ہمارے مستقبل کا سوال ہے ہماری آنے والی نشہ میں مبتلا نوجوانوں کی تعداد زیادہ ہے اور قریب دس سے اٹھارہ سال تک کے بچے جو چائلڈ لیبر ہیں وہ عام سوسائٹی کی نسبت اس کا زیادہ شکار ہیں
    جبکہ کالج لیول اور یونیورسٹی لیول اور عام سوسائٹی میں شراب چرس آئیس اور انجیکشن وغیرہ کے نشے زیادہ مقبول ہیں نشے کی فراہمی بہت عام ہوتی جارہی ہے مجھے افسوس ہے اور یہ اندرونے اور بیرون ملک عام سے ماحول میں باآسانی سمگل ہو رہے ہیں ان سب میں اہم بات یہ کہ ان تمام نشہ آور نشوں میں جب عام نشوائی تک ترسیل ہوتی ہے تو کوئی بھی نشہ حالص حالت میں نہیں آتا بلکہ مختلف چیزوں کی ملاوٹ کے ذریعے مقدار بڑھا کر مزید خطرناک کیا
    جاتا ہے ۔۔۔!!!

    @Miss__niazi