Baaghi TV

Category: معاشرہ و ثقافت

  • تمباکو اور منہ کا کینسر، تحریر: ڈاکٹر نبیل چوھدری

    تمباکو اور منہ کا کینسر، تحریر: ڈاکٹر نبیل چوھدری

    آج سے دس سال پہلے جب میں نے ڈینٹل پریکٹس شروع کی تو تب سے اب تک روزانہ ھر قسم کے دانتوں کے مرض سے جڑے لوگوں کا چیک اپ کیا پہلے پہل سال میں ایک آدھ کیس ایسا آتا جس میں مریض کو منہ کے کینسر کا مرض لاحق ھوتا پھر یوں ھوا کہ کچھ عرصے سے اب قریبا روزانہ نھیں تو ایک آدھ دن چھوڑ کر مجھے ایسے مریضوں کا سامنا کرنا پڑ رھا ھے اس خیال سے کہ شاید یہ اتفاق ھو میں نے اور بھی اپنے دوست ڈینٹل سرجنز سے اس بارے میں جانکاری لی انھوں نے بھی کچھ ایسے ھی پیٹرن کا ذکر کیا سول ھسپتال اور بڑے سرکاری اداروں میں تناسب انتہائ زیادہ ھوچکا ھے دو دن پہلے باغی ٹی وی سے برادرم ممتاز اعوان اور انکے ساتھیوں کو کینسر اور سیگرٹ نوشی پر کی ایک کمپیئن پر دیکھا تو سوچا اس ٹاپک پر میں بھی ضرور لکھوں
    کینسر کی کئی اقسام ھیں اور کئ وجوہات ان وجوہات میں سب سے بڑی وجہ idiopathic جسکو ھم کہتے کہ نامعلوم وجہ کہتے وہ ھے اسکے علاوہ tobacco یعنی تمباکو ھے radiation یعنی شعائیں arsenic food یعنی کیمیکل سے بنے کھانے ھی کینسر کی کئ وجوہات میں سے ایک ھے
    کینسر دو طرح کے ھوتے Benign یعنی نا پھیلنے والا اور Malignant یعنی پھیلنے والا دونوں ھی خطرناک ھیں مگر ملیگننٹ کینسر عمومی طور پر اگر فوری علاج نا کیا جائے تو وہ جان لیوا ثابت ھوسکتا میں اس کالم میں صرف منہ کے کینسرز پر ھی بات کرونگا کیونکہ میرا تعلق اس شعبے سے تو اسکو سمجھانا میری ڈومین میں ھی آتا منہ کے کینسر مختلف قسم کے ھوتے
    منہ کے فلور پر زبان پر ھونٹوں پر اوپر والی ھڈی پر نیچے والے جبڑے پر یہ مختلف ھوتے اور ھر ایک کی وجہ مختلف ھوتی
    سب سے زیادہ 90 فیصد جو منہ کا کینسر مریض کو لاحق ھوتا اسکو Squamous cell carcinoma کا نام دیا گیا یہ زیادہ تر زبان پر ملیگا اکثر زبان پر چھوٹے سے چھوٹا زخم بار بار چھیڑنے یا irritation سے اس کینسر میں تبدیل ھوجاتا اگر اس کینسر کا بروقت علاج نا کرایا جائے تو یہ جان لیوا ھوتا اکثر کیسز میں اسکو ختم کرنے لئے سرجری کرنی پڑتی جس میں جبڑے تک کو ریمو کرنا پڑسکتا

    منہ کی کوی بیماری ھو خدارا اسکو معمولی نا سمجھیں دانتوں کا چھوٹے سے چھوٹا انفیکشن کب بگڑ کر کینسر کی شکل اختیار کرلے کوئی نھین جانتا مریض کو جب یہ بتایا جاتا کہ کینسر کی کئ وجوہات میں سے ایک وجہ سگریٹ نوشی تمباکو نوشی پان گھٹکا چھالیہ ھے تو اس پر مریض ایک عذر دیتا کہ چھوڑ نھیں سکتے یا اتنی دنیا پیتی ھے انکو کیوں نھیں ھوتا اور ایک عذر کی گورنمنٹ اسکو بین کیوں نھیں کرتی

    تو پہلا عذر کے عادت نھیں جاتی تو یہ ایک حقیقت ھے کہ سگریٹ تمباکو ایک ایسا نشہ ھے جسکو چھوڑنا ناممکن نا سہی مگر مشکل ضرور ھے میں نے کئ لوگ دیکھے وہ کسی ایک بات پر مصمم ارادہ کرلیتے اور پھر پورا کرتے یہ کوی ھیرویئن چرس جیسا نشہ تو ھے نھین کہ اسکو چھوڑنے پر سائیڈ ایفکٹ میں بندا بیمار پڑجائے یا حالت غیر ھوجائے میرے پاس ایک مریض دانت صاف کرانے آیا میں نے پوچھا سگریٹ پیتے تو کہتا پیتا تھا روز دو ڈبیاں خالی کردیتا تھا مگر جب ایکبار بیٹے نے کہا پاپا مت پیئں مجھے اچھا نھیں لگتا تب سے چھوڑ دیا دس سال ھوگئے اس بات کو تو یہ مثال میں یہاں ان لوگوں کو دے رھا جو ارادہ کرنے کی نیت تو کرتے مگر حوصلہ نھیں کرپاتے اسی طرح ایک مریض میرے پاس آیا میں نے کہا سیگریٹ چھوڑ دو آج اکیلے علاج کرانے آئے ھو کل یہ نا ھو کسی سہارے سے علاج کرانے جاو تین سال بعد میرے پاس آیا کہتا ڈاکٹر صاحب آپکی اس بات نے دل میں چوٹ دی قسم کھائی کہ سیگریٹ نھیں پیئونگا

    تمباکو اصل میں جسم کے ٹیشوز کی لائٹنگ کی ساخت تبدیل کردیتا جس پر یہ کینسر با آسانی حملہ آور ھوجاتے تو یہ وہ دوسری وجہ کہ مجھے کیوں ھوگیا کا جواب ھے کہ ھر انسان کا دفاعی نظام کینسرز سیل کے مقابلے میں مختلف ھوتا کسی کو ایک سیگریٹ ھی موت کے دھانے لے جاسکتا تو کسی کئ ھزار ڈبیاں بھی کچھ نھیں کہتی کسی کو چند ھفتوں بعد مسئلہ بن جاتا تو خودکشی کرنے کی اس کوشش کو جاری رکھنا حماقت ھے تیسرا عذر کہ گورنمٹ کچھ کیوں نھیں کرتی تو یہ ایک واقعتا قابل فکر امر ھے کہ گورنمنٹ ھر سال سیگریٹ پر ٹیکس تو بڑھاتی جاری مگر اس پر پابندی نھین لگاری ھونا تو یہ چاھیئے ھر قسم کے تمباکو پر مکمل پابندی لگائ جائے مگر بہرکیف ایسا پوری دنیا میں کہیں نھین ھورا تو اسکا مطلب ھے کہ مشتری ھوشیار باش جر شخص احتیاط خود کرے دوسرا ھر شخص کو سوچنا چاھیئے کہ کوی اگر زھر بیچ رھا ھو تو کیا آپ وہ خریدلوگے آپ مفت بھی نھین خریدو گے تو پھر سیگریٹ پان گھٹکا چھالیہ کو چھوڑنے کا ارادہ کریں اور جان چھڑائیں اس عادت سے

    یہاں پر شاباش دیتا ھوں ایسی تمام این جی اوز فلاحی اداروں کا جو سگریٹ تمباکو کیخلاف اٹھ کھڑے ھوئے ھیں لوگوں میں شعور پیدا کر رھے ایسے میں باغی ٹی وی کی تعریف نہ کرنا صریحا زیادتی ھوگی

  • تمباکو نوشی مضر صحت تحریر ہما عظیم

    تمباکو نوشی مضر صحت تحریر ہما عظیم

    آپ نے کٸی مرتبہ پڑھا ہو گا آپ پوری دنیا آپکی تو نہیں مگر کسی کے لیٸے آپ پوری پوری دنیا ہوتے ہو
    اور ایسا ہونا بےشک ہم سب کے لٸیے باعث فخر اور باعث خوشی ہوتا ہے۔
    پھر ہم امانت ہو جاتے ہیں اپنے چاہنے والوں گی ۔ان کی جو ہماری لمبی عمروں کی دعاٸیں کرتے ہیں۔ہماری صحت و تندرستی کے لٸیے ہر وقت دعا گو ہوتے ہیں۔اورچاہتے ہیں حتی الامکان باخدا راضی وہ ایک لمبا عرصہ ساتھ گزاریں۔
    پھر ہم ایسا کام شروع کردیں جس سے ہماری زندگی دن بدن کم ہوتی جاۓ ۔جسم میں بیماریاں حملہ کر دیں۔۔اور موت کی طرف بڑھتے قدموں میں تیزی آجاۓ تو یہ ہم اپنے ساتھ ہی نہیں اپنے چاہنے والوں کے ساتھ بھی دشمنی کرتے۔
    جی ہاں جب کوٸی تمباکو نوشی کرتا ہے وہ اپنے صحت تو خراب کرتا ہے ساتھ ہی اپنے سے جڑےلوگوں کے ساتھ بھی غلط کرتا ہے۔انہیں خود جان کر دکھ دینے والے بات کرتا ہے۔ بلکل ایسے ہج جیسے سگریٹ کی ڈبی پر بڑے لفظوں سے لکھا ہوتا ہے مضر صحت ہے۔مگر اس وارننگ سے آنکھ بچا کر استعمال کی جاتی ہے۔ کیوں ۔۔؟
    کیوں کہ ہمیں خود سے پیارنہیں ہے۔اپنے پیاروںسے پیار نہیں ہے۔۔ ہر جگہ اویرنس دی جارہی ہوتی ہے تمباکو پھیپھڑوں کو ختم کرتا ہے۔دماغ کی آفزاٸش روکتاہے۔دل کے لٸیے نقصان دہ ہے۔بےشمار بیماریوں کے حملہ کرنے کے لٸیے جسم ایک آٸیڈیل کمزور جگہ بن جاتا ہے۔مگر تمباکو نوشی کرنے والے کسی صورت باز آتے نظر نہیں آتے۔
    آج کل تمباکو نوشی کے ساتھ مختلف قسم کےنشےمارکیٹ میں بطور فیشن آگۓ ہیں۔۔شیشہ ، آٸس نشہ وغیرہ۔ کوٸی ہمیں تباہ کرنا چاہتا ہے اور ہم خوشی خوشی تباہ ہونے چل پڑے ہیں۔
    صحت مند جسم انسان بطور نعمت عطا کیاجاتا ہے ۔
    اور ہم اس کوخود مضر صحت چیزوں کواستعمال کر کے بیمار کرتے ہیں۔۔کیا یہ امانت خیانت نہیں
    اپنے رب کج دی ہوٸی امانت میں خیانت
    اہنے ارد گرد جو بھی آپ کا پیارا تمباکو نوشی یا کسی بھی طرح کے فیشنی نشے کا عادی ہے۔اسے بتاٸیے خدارا اس لعنت سے چھٹکارا خاصل کیجیٸے آپ کی زندگی ہماری ضرورت ہے۔۔
    خود بھی اس لعنت سے بچیں اور اپنے پیاروں کو بھی اس لعنت سے چھٹکارا دلاٸیے۔
    اصل میں تمباکو میں ایک کیمیکل ہوتا ہے جس کا نام ہے نکوٹین۔ اب آپ نکوٹین کسی بھی ذریعے سے لیں، خواہ سگریٹ، یا نسوار یا پان کا تمباکو وغیرہ۔ خون میں ملنے کے بعد چند سیکنڈ کے اندر اندر یہ نکوٹین آپ کے دماغ کے اعصاب تک پہنچ جاتی ہے. نکوٹین کے اثر سے ہمارا دماغ ڈوپامائن (dopamine) نام کا ہارمون خارج کرتا ہے جس سے ہمیں بہت اچھا احساس ہوتا ہے۔ جب بھی دماغ ڈوپامائن چھوڑتا ہے تو ہمیں بہت مزا آتا ہے۔ یوں لگتا ہے کہ ہمیں کسی کام کا اجر ملا ہے۔ یعنی دماغ کو یہ اشارہ جاتا ہے کہ اگر آپ سگریٹ پئیں یا نسوار لیں یا پان کھائیں گے تو آپ دماغ محسوس کرے گا کہ آپ نے بہت اچھا کام کیا ہے۔ دماغ یہ جان بوجھ کر نہیں کرتا بلکہ وہ ایسا وہ نکوٹین کے اثر کی وجہ سے کرتا ہے۔لیکن جلد ہی دماغ کو نکوٹین کی ایسی لت لگ جاتی ہے کہ آپ بار بار اس کو لینے پر مجبور ہو جاتے ہیں۔ یہ لت ٹھیک ویسی ہی ہوتی ہے، جیسے کسی منشیات کی لت، مثلاً ہیروئن۔ نکوٹین کا نشہ اس قدر طاری ہوتا ہے کہ وہ آپ کے رویّے کو کنٹرول کرنے لگتا ہے۔ نہ لینے کی صورت میں جسم ٹوٹنا، چڑچڑا پن، کمزوری، بے چینی اور دیگر کئی مسائل کا سامنا ہوتا ہے۔ دماغ کی ساری توجہ نکوٹین حاصل کرنے کی طرف لگ جاتی ہے اور پورا جسم بیکار اور بے جان محسوس ہونے لگتا ہے
    بےشک جو عادی ہو چکے ہیں ان کے لٸیے آسان نہیں ہے۔مگر اگر ارادہ پختہ ہو انسان کیا نہیں کر سکتا
    جب آپ کسی کے لٸیے اپنی جان دے سکتے ہیں تو آپ اپنے پیاروں کے لٸیے اپنی جان بچا بھی تو سکتے ہیں۔
    اپنے آپ سے پیار کیجٸے اور تمباکو نوشی اور ہر طرح کے نشے کو اپنی زندگی سے دفع کیجٸیے۔

    @DimpleGilr_PTi

  • تبدیلی سرکار کے تین سال   تحریر: احسان الحق

    تبدیلی سرکار کے تین سال تحریر: احسان الحق

    وفاق اور پنجاب میں تحریک انصاف حکومت کے تین سال مکمل ہو چکے ہیں. پاکستان میں حسب معمول اور حسب روایت حکومت اپنے کارناموں کی لمبی چوڑی فہرست عوام کے سامنے رکھ رہی ہے جبکہ دوسری طرف ہمیشہ کی طرح حزب اختلاف حکومتی کارکردگی کی فہرست کو ردی کی ٹوکری میں پھینکتے ہوئے حکومت کے کسی بھی دعوے اور کارکردگی کو ماننے سے انکاری ہے.

    ایک طرف تین سال کی تکمیل پر حکمراں جماعت نے اپنی گزشتہ تین سالہ کارکردگی عوام کے سامنے رکھی ہے تو دوسری طرف حزب اختلاف سب برا ہے کی رٹ لگائے ہوئے ہے. حقیقی تبدیلی یا کارکردگی کے حوالے سے عوام سے بہتر کوئی نہیں بتا سکتا.

    حزب اختلاف کے الزامات اور حزب اقتدار کے دعوؤں کو نظر انداز کرتے ہوئے عام پاکستانیوں کی نظر میں تبدیلی سرکار کے تین سالہ دور کا جائزہ لیتے ہیں. قرضوں میں ڈوبا ہوا اور آئی ایم ایف کے پروگرام میں رہتے ہوئے آپ ناقابل یقین معاشی اور اقتصادی ترقی کی امید نہیں کر سکتے. عمران خان صاحب انتخابی مہم کے دوران جن دعوؤں اور وعدوں کا بار بار ذکر کرتے تھے ان میں سے ایک یہ بھی تھا کہ مر جائیں گے مگر آئی ایم ایف کے پاس نہیں جائیں گے، مگر مجبوراً انہیں یوٹرن لیتے ہوئے آئی ایم ایف کے پاس جانا پڑا. صاحب اقتدار ہونے کے بعد وزیراعظم قومی خزانے اور قومی معیشت کی حالت دیکھ کر نہ چاہتے ہوئے بھی آئی ایم ایف کے پاس چلے گئے.

    پاکستان پہلے سے ہی اندرونی اور بیرونی قرضوں میں جکڑا ہوا تھا اور اب آئی ایم ایف کی سخت اور عوام دشمن شرائط ماننا پڑیں جس سے مہنگائی میں اضافہ ہوا. آئی ایم ایف کی شرائط میں سے نئے محصولات لاگو کرنا، پہلے سے موجود محصولات میں اضافہ کرنا اور بالخصوص بجلی کے نرخوں میں بتدریج اور مسلسل اضافہ کرنے جیسی مشکل اور سخت شرائط بھی تھیں، جنہیں ماننا پڑا. جس سے مہنگائی میں اضافہ ہوا.حکومتی دعوے کے مطابق جب انہوں نے حکومت سنبھالی تو 9 ارب ڈالر کے غیر ملکی ریزرو تھے. 19 ارب ڈالر کا کرنٹ اکاؤنٹ خسارہ تھا جسے ہماری حکومت نے 10 سال کی کم ترین سطح پر لے آئی. کورونا کی وجہ سے اور کچھ عمران خان کو بھی کریڈٹ جاتا ہے کہ سمندر پار پاکستانیوں نے عمران خان پر اعتماد کرتے ہوئے ریکارڈ زرمبادلہ پاکستان بھیجا.

    خیبر پختونخوا میں اپنے دور حکومت میں تحریک انصاف نے انصاف صحت کارڈ متعارف کروایا جس سے عام اور غریب عوام بہت مستفید ہوئی، عام انتخابات 2018 کے بعد وفاق اور پنجاب میں بھی حکومت سازی کے بعد تحریک انصاف نے صحت کارڈ کا دائرہ کار پنجاب بھر میں پھیلا دیا. میرے خیال میں عوام کے لئے سب بڑا تحفہ یا تبدیلی یہی صحت کارڈ ہے.

    1967 کے بعد پاکستان میں کوئی بڑا ڈیم نہیں بنایا گیا تھا جس کا ہمیں ناقابل تلافی نقصان پہنچا ہے. لاکھوں اور کروڑوں ایکڑ زمین بنجر ہو گئی ہے اور مہنگے تیل سے مہنگی بجلی بھی بنانے پر مجبور ہیں، عمران خان نے حکومت سنبھالتے ہی بڑے ڈیم کی تعمیر کا کام شروع کیا جن میں دیامیر بھاشا ڈیم، داسو ہائیڈرو پاور، مہمند ڈیم، ہری پور پاور، کرم تنگی ڈیم اور سندھ بیراج قابل ذکر منصوبے ہیں.

    بے گھر اور لاوارث لوگوں کے لئے پناہ گاہیں بنائیں گئیں جن میں رہائش اور کھانے کا مناسب اہتمام کیا گیا ہے. میں ذاتی طور پر ان پناہ گاہوں کے حق میں نہیں. میرا خیال ہے کہ 100 بندوں کو پناہ گزین کرنے سے بہتر ہے کہ 10 بندوں کو روزگار پر لگایا جائے اور یہ 10 بندے 10 خاندانوں کے لئے کفیل ثابت ہو سکتے ہیں. اسی طرح غریب اور تنخواہ دار طبقے کے لئے سستے گھروں کو بھی متعارف کروایا گیا. کامیاب نوجوان پروگرام کے تحت نوجوان نسل کو خود کفالت اور روزگار کے مواقع فراہم کرنے کے لئے قرض سیکم بھی متعارف کروائی گئی. گزشتہ مالی سال 21-2020 میں ریکارڈ 4732 ارب کے محصولات اکٹھے کیے گئے اور آئندہ مالی سال 22-2021 کا ہدف پہلے سے بڑھا کر محصولات کا حجم 5800 ارب کر دیا گیا ہے. زیادہ محصولات اکٹھا کرنا اور آئندہ ہدف میں مزید اضافہ کرنا، اسکو معیشت کے لئے بہتر سمجھا جائے یا عوام پر محصولات کا مزید وزن اور دباؤ سمجھا جائے؟

    بہت اچھے کاموں میں سے ایک یہ بھی کارنامہ تبدیلی سرکار کے سر جاتا ہے کہ موجودہ حکومت نے سرکاری اور سرکاری اداروں کی زمینوں کو تجاوزات اور قبضوں سے واہ گزار کروایا. اعداد وشمار کے مطابق ایک لاکھ ایکڑ جس کی مالیت 50 ارب روپے بنتی ہے کو واگزار کروایا گیا. محکمہ تعلیم نے بھی اچھی کارکردگی دکھاتے ہوئے خود کو دور جدید کے تقاضوں سے مزین کیا. ڈیجیٹل اور آن لائن سہولیات متعارف کروائیں. بہت سارے اسکولوں کو پرائمری سے مڈل اور مڈل سے سیکنڈری اور ہائیر سیکنڈری تک ترقی دی. احتساب اور انسداد رشوت کی مد میں اربوں روپے وصول اور ضبط کئے گئے. حکومتی اعداد وشمار کے مطابق نیب نے 535.783 ارب روپے وصول کئے جبکہ پنجاب انسداد کرپشن نے 225 ارب روپے وصول کئے. موجودہ حکومت نے وسیع پیمانے پر ملک بھر بلین ٹری کے تحت پاکستان کو سرسبز بناتے ہوئے اربوں درخت لگائے.

    یکساں نظام تعلیم کے لئے عملی اقدامات اٹھائے جا رہے ہیں. یقیناً یہ کریڈٹ موجودہ حکومت کو جاتا ہے. کسی حد تک اردو کو عزت دینے میں عمران خان ذاتی دلچسپی لے رہے ہیں. سابقہ حکومت کے مقابلے میں موجودہ حکومت نے ریکارڈ سڑکیں اور شاہراہیں تعمیر کیں، سابقہ حکومت نے اپنے پانچ سالہ دور اقتدار میں 645 کلومیٹرز کی ہائی ویز/موٹر ویز تعمیر کیں جبکہ موجودہ حکومت نے اپنے پہلے تین سال میں 1753 کلومیٹرز کی شاہراہیں مکمل کیں اور 6118 کلومیٹرز زیر تکمیل ہیں. تاریخ میں پہلی بار موجودہ حکومت نے سممدرپار پاکستانیوں کو ووٹ دینے کی بات کی اور پہلی بار الیکٹرانک مشین کے ذریعے ووٹنگ کی بات کی. فی کس آمدن میں اضافہ ہوا اور قوت خرید میں 36.6 فیصد اضافہ ہوا. لارج سکیل مینوفیکچرنگ میں 14.4 فیصد اضافہ دیکھنے میں آیا. ترسیلات زر میں ریکارڈ 29.4 ارب تک اضافہ ہوا.

    یقیناً یہ بھی عمران خان کو کریڈٹ جاتا ہے کہ ان کا اسلام آباد وزیراعظم ہاؤس کے علاوہ پاکستان میں کوئی کیمپ آفس نہیں. حکومت وزیراعظم ہاؤس کے اخراجات میں کمی اور بین الاقوامی دوروں میں سادگی کے ذریعے اربوں روپے کی قومی بچت کے دعوے بھی کرتی ہے.

    مہنگائی میں اضافہ ہوا، گھی 150 سے 335 فی کلو، چینی 55 روپے سے 110 روپے فی کلو تک پہنچ چکی ہیں. بجلی کے نرخ بھی تاریخ کے بلند ترین سطح پر پہنچ چکے ہیں. ادویات اور طبی سہولیات مہنگی ہوئی ہیں. پولیس اصلاحات کا وعدہ کیا تھا جو کہ ابھی تک پورا نہیں کیا گیا. عمران خان نے حکومت میں آتے ہی سرائیکی صوبہ بنانے کا وعدہ کیا تھا جو کہ پایہ تکمیل تک نہیں پہنچا. بہرکیف اگر مہنگائی کو نظرانداز کرتے ہوئے باقی کارکردگی کا جائزہ لیا جائے تو موجودہ حکومت کی کارکردگی نسبتاً تسلی بخش ہے.

    @mian_ihsaan

  • تمباکو نوشی،کھلے عام دستیاب سستی موت، نوجوان نسل کو بچانے کے لئے اقدامات ناگزیر ورنہ نتائج بھیانک   تحریر: محمد مستنصر

    تمباکو نوشی،کھلے عام دستیاب سستی موت، نوجوان نسل کو بچانے کے لئے اقدامات ناگزیر ورنہ نتائج بھیانک تحریر: محمد مستنصر

    صحت کے شعبے میں ہونے والی جدید سائنسی تحقیقات نے ثابت کر دیا ہے کہ تمباکو نوشی، پان، گٹکا، نسوار اور اس طرح کی دیگر نشہ آور اشیا کینسر، دمہ اور ٹی بی جیسی کئی جان لیوا بیماریوں کا سبب بنتی ہیں یہی وجہ ہے کہ مضر صحت ہونے کی بنا پر ان کا استعمال شرعی طور پر بھی ممنوع ہے۔ قرآنِ مجید میں اللہ تعالی کا واضح حکم ہے۔ "اور اپنے ہی ہاتھوں خود کو ہلاکت میں نہ ڈالو، اور نیکی اختیار کرو، بے شک اللہ نیکوکاروں سے محبت فرماتا ہے۔”(البقر، 2: 195)
    وہ زہر جو فوری اثر کرے اور انسان کی جان لے اور وہ زہر جو رفتہ رفتہ اور بتدریج انسان کی جان لے جسے (Slow Poision) کہا جاتا ہے، دونوں کے بارے میں ایک ہی حکم ہے اور شرعی اعتبار سے دونوں حرام ہیں۔ بلاشبہ تمباکو نوشی کا شمار (Slow Poision) کے زمرے میں کیا جاسکتا ہے جو بتدریج انسان کی جان لیتا ہے۔ تمباکو نوشی کی ہلاکت خیزی سے کوئی شخص انکار نہیں کر سکتا۔ اللہ تعالی نے اس بات سے منع فرمایا ہے کہ کوئی شخص جان بوجھ کر خود کو ہلاک کرے۔ ارشاد باری تعالی ہے، "اور اپنی جانوں کو مت ہلاک کرو، بیشک اللہ تم پر مہربان ہے۔” (النسا، 4: 29)
    اللہ تعالی کے احکامات اور آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی تعلیمات کی روشنی میں انسانی صحت کے لئے کسی بھی نقصان دہ چیز کا استعمال حرام ہے جبکہ تمباکو نوشی میں جسمانی، مالی اور نفسیاتی نقصان بھی ہے۔ماہرین کے مطابق تمباکو کے استعمال سے نکلنے والے دھوئیں میں تقریباسات ہزار کیمیکلز موجود ہوتے ہیں جن میں سے ڈھائی سو کے قریب انسانی صحت کیلئے انتہائی نقصان دہ پائے گئے ہیں اور پچاس سے زائد ایسے کیمیکلز موجود ہوتے ہیں جوسرطان کا باعث بن سکتے ہیں۔ تمباکو کے دھوئیں سے خون کی نالیاں سخت ہوجاتی ہیں جس سے دل کادورہ اور فالج کا خطرہ بڑھ جاتا ہے۔ اس دھوئیں میں کاربن مونو آکسائیڈ گیس ہوتی ہے جو خون میں آکسیجن کی کمی کا باعث بنتی ہے۔ تمباکو نوشی سے پندرہ مختلف اقسام کی بیماریاں پھیلتی ہیں جس میں پھیپھڑوں کا سرطان سرِ فہرست ہے۔ پھیپھڑوں کی بیماریوں میں مبتلا تقریبا نوے فی صد افراد تمباکو نوشی کرنے کی وجہ سے متاثر ہوتے ہیں نوش ہوتے ہیں۔ ملک بھر کے اسپتالوں میں آنے والے چالیس فی صد مرد مریض تمباکو نوشی سے ہونے والے کیمسر کی مختلف اقسام کا شکار ہوتے ہیں۔ پاکستان میں دوسرا سب سے زیاد ہ پایا جانے والا کینسر منہ کا ہے۔ اس کی سب سے بڑی وجہ تمباکو نوشی ہے۔اسی طرح تمباکو نوشی منہ، گلے، خوراک کی نالی، معدے، جگر، مثانے، لبلبے اور گردے کے کینسر کا باعث بھی بن سکتی ہے۔ تمباکو نوشی کی تمام اقسام،بشمول سگریٹ، سگار، حقہ، شیشہ اور تمباکو کھانا مثلا پان، چھالیہ، گٹکا وغیرہ اور تمباکو سونگھنا سب کچھ ہی انسانی صحت کے لئے خطرناک ہے۔ ہمارے معاشرے میں تمباکو نوشی کے نقصانات کے بارے میں آگاہی نہ ہونے کے برابر ہے اس لئے ضروری ہے کہ انسداد تمباکو نوشی کی مہم جارحانہ طور پر چلائی جائے جس میں حکومت، عوام،ذرائع ابلاغ ،تاجربرادری، اسکول، کالج اور یونیورسٹی کے طلبا بھرپور حصہ لیں۔ اسکول کے نصاب میں تمباکو نوشی کے نقصانات اور دیگر سماجی برائیوں کے بارے میں مضامین شامل کرنے چاہئیں تاکہ بچے بچپن ہی سے ان اہم معلومات سے آگاہ ہوں اور وہ اپنے والدین، رشتے داروں اور محلے داروں کو مجبور کرسکیں کہ وہ یہ عادات ترک کردیں۔
    ایک سروے کے مطابق پاکستان کی 22 کروڑ کی آبادی میں سے 19 فی صد لوگ ایسے ہیں جو 18سال کی عمر میں ہی تمباکو کا استعمال شروع کردیتے ہیں۔ مردوں میں سگریٹ نوشی کی شرح 32 فی صد اور خواتین میں تمباکو کے استعمال کی شرح 5.7فی صد بتائی جاتی ہے۔ مگر نوجوانی سے قبل ہی اکثر بچے تمباکو استعمال کرنے لگتے ہیں۔پاکستان میں سگریٹ کا استعمال معیشت اور صحت کے شعبے پر بوجھ بڑھانے کا سبب بنتا ہے۔عالمی ادارہ صحت کے مطابق دنیا بھر میں 4 کروڑ 40 لاکھ ایسے بچے ہیں جو 13 سے 15سال کی عمر میں ہونے کے باوجود تمباکو نوشی کرتے ہیں جبکہ بچوں کی ایک بڑی تعداد الیکٹرک سگریٹ کا استعمال بھی کررہی ہے۔ پاکستان میں تمباکو نوشی کی عادت ہر برس ایک لاکھ تریسٹھ ہزار افراد کی جانیں لے لیتی ہے جبکہ تمباکو نوشی کی وجہ سے ہونے والی بیماریوں کے علاج معالجے کی لاگت اور تمباکو نوشی سے ہونے والی اموات سے ہونے والے نقصان کی صورت میں ملک کو کروڑوں روپے کا خسارہ ہر سال برداشت کرنا پرتا ہے۔ افسوس ناک امر یہ ہے کہ ایسے عام افراد جو تمباکو نوشی نہیں کرتے ان کے لئے سگریٹ کے دھوئیں سے بچنے کی کوئی محفوظ جگہ نہیں کیونکہ ملک کی کل آبادی کا 72.5فی صد حصہ یعنی 16.8ملین افراد جو بند عمارتوں اور کمروں میں کام کرتے ہیں، انہیں سگریٹ نوشی کے دھوئیں سے خطرات لاحق ہوتے ہیں۔ کل آبادی کا 86فی صدحصہ یعنی 49.2ملین افراد ریسٹورنٹس اور ہوٹلوں میں سگریٹ کے دھوئیں کا سامنا کرتے ہیں جبکہ 76.2فی صد افراد کو عوامی ٹرانسپورٹ میں سگریٹ کے دھوئیں سے خطرات لاحق ہیں۔37.8 فی صدنوجوان(عمر 13تا15 برس)کو عوامی مقامات پر سگریٹ کے دھوئیں سے خطرات لاحق ہیں جبکہ 21فی صدنوجوان اپنے گھروں میں غیر فعال سگریٹ نوشی کا سامنا کرتے ہیں۔تمباکو نوشی انسانی صحت کے لئے مہلک ہے اور اس کے عادی افراد میں سے کم از کم نصف موت کے منہ میں چلے جاتے ہیں۔پاکستان میں ایک لاکھ تریسٹھ ہزار افراد ہر برس تمباکو سے متعلق امراض کے سبب انتقال کرجاتے ہیں جو کل اموات کا نو فی صد ہے۔ غیر متعدی بیماریاں جن میں کینسر، عملِ تنفس کی شدیدبیماریاں اور دل کی بیماریاں بھی ذیادہ تر تمباکو کے استعمال کی وجہ سے پیدا ہوتی ہیں۔ اس کے ساتھ تمباکو نوشی سے معاشرے پر بہت ذیادہ مالی بوجھ بھی پڑتا ہے ترقی پذیر اور زیادہ گنجان آباد ممالک میں بہت زیادہ معاشی مواقع ضائع ہوجاتے ہیں کیوں کہ تمباکو سے متعلق اموات عمر کے فائدہ مند سالوں یعنی 30 سے 69 برس کے دوران واقع ہوتی ہیں۔پاکستان میں ایک سگریٹ نوش روزانہ اوسط قومی آمدن کا3.7 فی صددس سستے ترین سگریٹ کی خریداری پرصرف کردیتا ہے اور یوں اربوں روپے ہر سال دھوئیں کی نظر ہو جاتے ہیں۔ جبکہ غریب افراد اپنی آمدن کا ایک بڑا حصہ تمباکو نوشی پر ضائع کر دیتے ہیں یعنی وہ بنیادی انسانی ضروریات،مثلا خوراک،رہائش،تعلیم اور صحت کے بجائے یہ رقم تمباکوپر خرچ کرتے ہیں جس کے نتیجے میں ایسے خاندان کی غربت میں مزید اضافہ ہوتا چلا جاتا ہے، ایک جانب قیمتی وسائل تمباکو نوشی کی وجہ سے ضائع ہوتے ہیں تو دوسری جانب تمباکو استعمال کرنے والے بیماریوں کے زیادہ خطرات کی زد میں رہتے ہیں، سرطان، امراض قلب،سانس کے امراض یا تمباکو نوشی سے متعلق دیگر امراض کی وجہ سے وقت سے پہلے ان کی موت واقع ہوجاتی ہے۔ مرنے والے تمباکو نوش افراد کے متبادل کے طور پر سگریٹ اور دوسری نشہ آور اشیاء بیچنے والی کمپنیوں اور افراد کا ٹارگٹ نوجوان نسل بنتی ہے تاکہ ذیادہ عرصے تک کے لئے انہیں (گاہک) میسر ہوں۔ عالمی ادارہ صحت کے مطابق روزانہ 15 برس سے کم عمرکے 1200بچے سگریٹ نوشی شروع کر دیتے ہیں۔ہمیں یہ یاد رکھناچاہئے کہ انسانوں کے لئے تمباکو کسی بھی وجہ سے کوئی ضروری چیز نہیں ہے۔اس کی کوئی غذائی اہمیت ہے اور نہ ہی یہ اپنے استعمال کرنے والے کو کوئی صحت بخش فوائد فراہم کرتا ہے۔یہ ان کے اضطراب ،دبائو،غربت اور غذائیت کی کمی میں اضافہ کرکے صرف اور صرف ان کے مسائل اور مشکلات بڑھاتا ہے۔سب سے بڑھ کر یہ کہ یہ ملک کی معیشت اور ماحول کو تباہ کرتا ہے۔اگرہم واقعی یہ سمجھتے ہیں کہ نوجوان ہی ہماری ترقی کا سبب بننے کی صلاحیت رکھتے ہیں تو حکومت کو ملک میں تمباکو نوشی کا رجحان کم کرنے کیلئے فوری اقدامات اٹھانے چاہئیں۔اس ضمن میں بچوں کو متبادل گاہک بننے سے بچانا بہت زیادہ اہمیت کا حامل ہے۔اگر یہ کام موثر انداز میں کرلیا جائے تو اگلے دس تاپندرہ برس میں ملک میں کوئی بھی تمباکو کا دھواں اڑانے والا نہیں ہوگا۔عالمی ادارہ صحت کے مطابق تمباکو پربھاری ٹیکس لگانا تمباکو نوشی کے رجحان پر قابو پانے میں سب سے زیادہ موثرعمل ثابت ہواہے۔دیگر ترقی پذیر ممالک کے برعکس پاکستان میں اب بھی دنیا بھر کے مقابلے میں تمباکو کی مصنوعات سستی ہیں۔عالمی بینک کی رپورٹ میں تجویز دی گئی ہے کہ پاکستان میں سگریٹ کا استعمال کم کرنے کے لئے حکومت کو ہرسال اس پرٹیکس میں کم از کم تیس فی صد تک اضافہ کرنا چاہئے۔ایک اور مطالعہ تجویز کرتا ہے کہ سگریٹ کے نرخ میں تیس فی صد کا اضافہ اس کے استعمال میں 33 فی صد تک کمی لاسکتا ہے جس کے نتیجے میں ایک برس میں اڑتالیس ارب روپے کی بچت ہوسکے گی۔یہ ہمارے لئے فیصلے کی گھڑی ہے کہ کیاہم اپنے لوگوں کو اسی طرح مرتے ہوئے دیکھنا چاہتے ہیں،اپنی معیشت پر ہر برس اربوں روپے کا علاج معالجے کا بوجھ ڈالتے رہنا چاہتے ہیں، اپنے بچوں کو اسی طرح یتیم اور بے آسرا ہوتے اور ان کا مستقبل تاریک ہوتے دیکھنا چاہتے ہیں اورکیا ملک کی پیداواری صلاحیت اسی طرح تباہ ہونے دیں گے؟آج ہمیں ٹھنڈے دل و دماغ سے سوچنے کی اشد ضرورت ہے۔

  • موٹروے واقعہ اور معاشرتی تضاد .تحریر: فروا نزیر

    موٹروے واقعہ اور معاشرتی تضاد .تحریر: فروا نزیر

    خدا کا جتنا شکر ادا کیا جاتا اتنا ہی کم تھا ،ورنہ ایسی انہونی ہونے کی امید نہیں تھی ،اتنا بڑا ،پیچیدہ اور انتہائی اہمیت کا حامل مسئلہ اگراتنی جلدی حل ہو جائے،تواس پر زیادہ نہیں ،دو چار نفل شکرانے کے تو بنتے ہیں ۔ مذہب کو دقیانوسی معاملہ قرار دینے والی دیسی لبرل مارکہ خواتین مشروب مغرب سے لطف اندوز ہوتے ہوئے بلاشبہ اسے خواتین کی جیت قرار دینے میں حق بجانب تھیں، سی سی پی او صاحب کامعافی مانگنا ایک اہم واقعہ تھا ۔جس کے بعد جرم خود بخود ختم ہوجانے تھے ،اگر نہ بھی ہوتے تو مضائقہ نہیں بس یہ نہ کہتے کہ آدھی رات کو گھر سے نکلتے وقت خواتین گاڑی کا تیل چیک کرلیا کریں تاکہ راستے میں پریشانی نہ ہوکیونکہ اس سے خواتین کی آزادی متاثرہوتی ہے۔

    بچوں کے سامنے ماں کے ساتھ زیادتی کی ہولناک واردات دراصل وہ مسئلہ تھا جس پر توجہ مرکوز کرنے کی ضرور ت تھی ،مستقبل میں ایسے واقعات کے تدارک کیلئے مربوط کوششوں کا یہ نقطہ آغا ز ہو سکتا تھا ، بدقسمتی سے مگر ہر ایک نے اسے اپنے ذاتی و گروہی مفاد کیلئے استعمال کیا ۔کون نہیں جانتا کہ نئے سی سی پی او کی تعیناتی کی سب سے زیادہ کس کو پریشانی تھی،وہ کون سی قومی سطح کی سیاسی جماعت تھی جس نے کھل کر ایک شہر کی حد تک محدود تعیناتی کی مخالفت کی ،آخر کچھ تووجہ ہے کہ ایک بے ضرر بیان کو متاثرہ خاتون پر الزام کے مترادف قرار دے کر بھرپور مہم چلائی گئی ،ٹویٹر پر ہیش ٹیگز بنائے اور چلائے گئے ،احتجاج اور میڈیا اینکرز کے ذریعے سی سی پی او کو ہٹانے کے مطالبے کو تقویت دی گئی ،یہی مطالبہ درخواست کی شکل میں عدالت تک بھی پہنچا دیا گیا اور غالب گمان کے عین مطابق وہ درخواست سماعت کیلئے منظور بھی کر لی گئی ۔ سب جانتے ہیں قانون کی تشریح ایک مخصو ص خاندان کے حوالے سے جس طرح لاہور میں ہوتی ہے وہ کہیں نہیں ہو سکتی ۔ ملز م تو پکڑے گئے،سزا بھی ہوگئی ،مگر ایسے واقعات کا تدارک نہیں ہوا ،قصورمیں زینب کے واقعے میں بھی تو مجرم کو سزا دی گئی تو کیا اس کے بعد یہ جرم ہونا بند ہوگیا ؟صرف پنجاب میں ایک سال کے دوران زیادتی کے 2ہزار اور اجتماعی زیادتی کے سو سے زیادہ واقعات ہوئے ،یہ واقعات اس وقت تک ہوتے رہیں گے،جب تک اس کی جڑکو نہیں اکھاڑ پھینکا جاتا، اس کی جڑیں بھی دوسرے جرائم کی طرح ہماری معاشی ،سماجی،معاشرتی ناانصافیوں سے پھوٹتی ہیں،تونسہ شریف میں بھی بچوں کے سامنے ماں کے ساتھ زیادتی کی گئی اورملزموں کی ضمانت ہو گئی،لیکن اس حوالے سے نہ تو سوشل میڈیا پر ٹرینڈ بنے ،چینلز پر پروگرام ہوئے اورنہ ہی میرا جسم میری مرضی کے نعرے لگاتی خواتین کو اس مظلوم عورت کا کچھ خیال آیا ،اس کے کرب کو کسی نے محسوس نہیں کیا کیونکہ وہ ایک نچلے طبقے کی خاتون تھی۔آپ کو سوشل میڈیا پر اشرافیہ کی خواتین بار بار کہتی نظر آئیں کہ خاتون کی تصاویر اور نام شیئر نہ کیا جائے ،جوکہ ایک اچھی بات ہے مگر کیا یہ حساسیت قصور کی زینب کے والدین کے حوالے سے دیکھی گئی ؟پریس کانفرنس میں بٹھا کر اس کے سامنے جس بے شرمی کیساتھ ہنسی مذاق کیا گیا ،اس پر کسی کو خیال آیا کہ ان کی بھی کوئی عزت ہے ،ان کا نام اور شناخت بھی چھپانی چاہیے ،سب نے مذکورہ خاندان کو ان کی عزت کی پرواہ کئے بغیر اپنے اپنے مقاصد کیلئے استعمال کیا

  • ابتدائی تعلیم میں مختلف زبانیں سیکھنے کی اہمیت۔ تحریر: محمد اسعد لعل

    ابتدائی تعلیم میں مختلف زبانیں سیکھنے کی اہمیت۔ تحریر: محمد اسعد لعل

    کسی بھی تعلیمی نظام میں پہلے بارہ سال اصل میں معاشرہ تعلیم دیتا ہے۔ اس میں ایک قوم اپنا علم، اپنی میراث منتقل کرتی ہے اور وہ ضروری صلاحیت پیدا کرتی ہے تاکہ بچہ جب شعور کی عمر کو پہنچے تو وہ اپنے فیصلے خود کر سکے اور اپنے میدان کے انتخاب میں بھی آسانی محسوس کرے۔ 

    یہ جو بارہ سال کی تعلیم ہوتی ہے اس میں ایک بہت بڑا ٖ فیصلہ یہ کرنا ہوتا ہے کہ بچوں کو زبانیں کون سی پڑھانی ہیں، کیونکہ زبان علم کا دروازہ ہے۔ اس میں بڑے سادہ اصول ہیں، یعنی آپ کو اپنی تعلیم کی ابتدا اپنی زبان سے کرنی چاہیے۔ اپنی زبان کا مطلب ہے وہ جو آپ کی ماں بولتی ہے، وہ جو آپ کے گھر میں بولی جاتی ہے۔ گھر کی اور تعلیم کی زبان کو ابتدا میں بالکل مشترک ہونا چاہیے۔ اس پر دنیا بھر میں اہلِ علم کا اتفاق ہے۔

    ایک بچے کو پہلے ہی مرحلے میں زبانوں کے تصادم میں نہیں ڈال سکتے۔ بچہ اپنی زبان اپنے ماں باپ سے سیکھتا ہے۔ جب وہ ایک زبان سیکھ لیتا ہے تو اُس سے آپ تعلیم کی ابتدا کر لیں۔ اس کے بعد مختلف زبانیں اس کو سکھانی چاہئیں۔ اس میں بھی ایک تدریج رکھی جاتی ہے، یعنی یہ نہیں ہے کہ آپ پہلی جماعت ہی سے بچے کو کسی ایک زبان میں صحت کے ساتھ بولنے یا لکھنے کی تربیت دینے سے پہلے اس کے اندر ایک خلجان پیدا کر دیں ۔ایک تدریج کے ساتھ زبانوں سے تعارف کروایا جاتا ہے۔

    یہ اس اصول پر ہوتا ہے کہ رابطے کی زبان سیکھنی پڑتی ہے۔ رابطے کی زبان بعض اوقات کوئی قومی زبان بن جاتی ہے۔مثال کے طور پر ہمارے ہاں لوگ پشتو بھی بولتے ہیں، سندھ، بلوچی، سرائیکی اور پنجابی بھی بولتے ہیں لیکن ان کے ہاں رابطے کی زبان کی حیثیت اردو کو حاصل ہو چکی ہے۔ اس لیے ہم اردو کو قومی زبان بھی کہتے ہیں۔ رابطےکی زبان سیکھنا بہت ضروری ہے۔

    اس کے بعد آپ دیکھتے ہیں کہ دنیا اب ایک ویلج بن چکی ہے، دنیا میں مختلف جگہوں پر علوم پیدا ہو رہے ہیں۔ آپ ایک ہی جگہ پر نہیں رہتے بلکہ آپ کو آگے بھی بڑھنا ہوتا ہے، تعلیم کے لیے بھی دوسری جگہوں پر ہجرت کرنی ہوتی ہے تو آپ عالمی سطح پر انتخاب کرتے ہیں کہ رابطے کی زبان کیا ہو سکتی ہے۔

    ہمارے ہاں ایک خاص پسِ منظر کی وجہ سے انگریزی زبان عالمی رابطے کی زبان بن چکی ہے۔ دنیا میں اور بھی بہت سے زبانیں بولی جاتی ہیں، برحال کوئی ایک زبان آپ بین الاقوامی رابطے کی حیثیت سے سیکھتے اور سکھاتے ہیں۔

    آپ کا مذہب اسلام ،ہندومت یا کوئی اور بھی ہو سکتا ہے۔ آپ کے مذہب کی زبان جس میں آپ کی مذہبی کتاب ہے، مذہبی علم ہے تو وہ بھی کوئی زبان ہو سکتی ہے۔ ہمارے ہاں وہ مذہبی زبان عربی ہے، تو اس وجہ سے عربی زبان سیکھنا بھی ضروری ہے۔ 

    اس میں ایک چیز یہ ہوتی ہے کہ ایک زبان آپ اس مقصد کے لیے سکھاتے ہیں کہ بچہ اس کو بولے گا بھی، اس کو سمجھے گا بھی، پڑھے گا بھی اور لکھے گا بھی۔۔۔۔ جب کہ کچھ زبانیں آپ اس مقصد سے سکھاتے ہیں کہ علوم تک رسائی ہو جائے۔ میرے نزدیک عربی زبان کو اس مقصد کے لیے سکھانا ضروری نہیں ہے کہ لوگ اس کو لکھیں اور بولیں، بلکہ صرف اس کو سمجھ سکیں یہی کافی ہے۔ تاکہ اللہ کی کتاب جس کو وہ ماننے والے ہیں اس کو براہِ راست پڑھ سکیں اور اس کو خود سے سمجھنے کے قابل ہو جائیں۔

    بچوں پر کوئی دباؤ نہ بڑھے اس لیے عربی زبان کا نصاب ہی اس طرح بنانا چاہیے کہ وہ پہلے مرحلے میں بچے کو وہ ضروری چیزیں سکھانے کا باعث بن جائے جو ایک مسلمان بچے کی ہمہ وقت ضرورت ہوتی ہے۔ یعنی اس نے نماز پڑھنی ہے، کوئی دعا کرنی ہے یا اپنے پیغمبر کی کچھ بتائی ہوئی چیزوں کو دہرانا ہے۔ یہ بہت معمولی چیزیں ہیں اور بچے بہت آسانی سے سیکھ لیتے ہیں۔ پھر اس کے بعد اس کے لیے ریڈر کی حیثیت باتدریج قرآن بن جائے، یہاں تک کہ وہ بارہویں سال تک پہنچتے پہنچتے قرآن مجید پورا کا پورا سمجھ کر پڑھ لے جس طرح ایک انگریزی زبان کا ریڈر پڑھتا ہے۔ یعنی ایک کتاب کی حیثیت سے قرآن سے وابستہ ہوجائے۔

    اور یہ جو باقی چیزیں اسلامیات وغیرہ نصاب میں شامل کر کے بچوں پر بوجھ ڈالا ہوا ہے وہ ختم کر دینی چاہئیں۔ ان سب کی کوئی ضرورت نہیں ہے، اس کی وجہ یہ ہے کہ مختلف چیزوں کو علمی طور پر جاننا، تاریخ سے واقف ہونا یا مسلمانوں کی تاریخ سے واقف ہونا یہ سب کچھ بعد میں آدمی کر لے گا۔ تاریخ بھی اگر پڑھانی ہے تو اس کو تاریخ کے طور پر پڑھائیے، اُس کو مذہبی چیز بنا کر نہ پڑھائیے۔

    twitter.com/iamAsadLal

    @iamAsadLal

  • تمباکو نوشی   تحریر – محسن ریاض

    تمباکو نوشی تحریر – محسن ریاض

    تمباکو نوشی کی روایت صدیوں سے چلی آ رہی ہے -قدیم دور میں اس کو حقے کی شکل میں یا پھر تمباکو کو پتوں میں لپیٹ کر بیڑی کی شکل میں استعمال کیا جاتا تھا آہستہ آہستہ اس میں جدت آتی گئی اور موجودہ شکل سگریٹ اورای سگریٹ کی شکل میں موجود ہیں اس ای سگریٹ نوجوانوں میں بے حد مقبول ہو رہا ہے جبکہ برطانیہ اور امریکہ میں اس پر پابندی لگانے کے حوالے سے قوانین بنائے جا رہے ہیں جبکہ برطانیہ میں اس حوالے سے باقاعدہ قانون موجود ہے کہ نکوٹین کی مقدار کتنی رکھنی چاہیے-دنیا میں تمباکو کا عالمی دن 31 مئی کو منایا جاتا ہے جس دن تمباکو نوشی کے اثرات پر اور اس کے نقصانات کے حوالے سے آگاہی پھیلائی جاتی ہے تمباکو نوشی کے انسانی صحت پر بہت زیادہ مضر اثرات رونما ہوتے ہیں ہیں جن میں پھیپھڑوں کا متاثر ہونا ، سانس کے مسائل ، بلڈ پریشر ، سرطان ،دانتوں کا زرد اور کمزور ہونا اور گینگرین شامل ہیں گینگرین ایک سنگین طبی حالت ہے جس میں بعض اوقات نوبت یہاں تک آ جاتی ہے کہ جان بچانے کے لیے صرف ٹانگ کاٹنے کا آپشن ہی موجود ہوتا ہے اس لیے بچپن میں تمباکو نوشی سے بچ کر ہم گینگرین سے بھی بچ سکتے ہیں-برطانیہ میں ایک تحقیق سے ثابت ہوا ہے کہ تمباکو میں سات ہزار کے قریب کیمیکلز ہوتے ہیں جن میں سے ستر کے قریب کینسر کا سبب بنتے ہیں جب ہم سانس لیتے ہیں تو یہ پھیپھڑوں کے ذریعے خون میں شامل ہو جاتے ہیں اور پھر وہاں سے جسم کے دوسرے حصوں تک پہنچ جاتے ہیں اس وقت دنیا میں بیس فیصد بالغ افراد سگریٹ نوشی کی عادی ہیں جو کہ آنے والے سالوں میں کمی کی توقع کی جا رہی ہے محکمہ صحت کی جانب سے صرف سگریٹ کی ڈبیوں پر اتنا لکھ کر ذمہ داری ادا کی جا رہی ہے کہ خبردار ! تمباکو نوشی منہ کے کینسر کا سبب بنتی ہے اور تمباکو نوشی گینگرین کا سبب بنتی ہے اس کے علاوہ کوئی عملی اقدامات نہیں کیے جا رہے اس وقت سکول اور کالجوں میں سگریٹ کی فروخت سر عام ہو رہی ہے اور اس حوالے سے کوئی پوچھنے والا نہیں جبکہ سگریٹ کو تمام نشوں کی جڑ تصور کیا جاتا ہے اور اس کی روک تھام کے لیے کوئی خاطرخواہ اقدامات بھی نہیں کیے جا رہے اور اس کی حوصلہ شکنی کے لیے بھی کوئی اقدامات نہیں کیے جا رہے-ترقی یافتہ ممالک میں اس کو بطور لت کے طور پر دیکھا جاتا ہے اور اس کے علاج کے لیے حکومت کی طرف سے بھر پور مدد بھی کی جاتی ہے-اس وقت سگریٹ نوشی کی عادت کو ترک کرنے کے لیے تین طریقے مقبول ہیں جن میں سکن پیچز ، نکوٹین چیونگم اور انحیلر شامل ہیں سکن پیچز میں جلد پر ایک خاص قسم کے پیچز لگائے جاتے ہیں جن میں نکوٹین شامل ہوتی ہے اور اس طرح نکوٹین کی مقدار پوری کی جاتی ہے جبکہ چیونگم میں بھی نکوٹین شامل ہوتی ہے جو جسم میں جا کر حل ہو جاتی ہے اس کے بعد انحیلر کے ذریعے بھی جسم میں نکوٹین کی مقدار پوری کی جاتی ہے اس طرح ترقی یافتہ ممالک کوشش کر رہے ہیں کہ اس لت کو کسی طرح ختم کیا جا سکے -زیادہ تر لوگ شروع شروع میں اسے فیشن کے طور پر استعمال کرتے ہیں مگر آہستہ آہستہ اس کے عادی ہو جاتے ہیں اس عادت کو ترک کرنا بھی زیادہ مشکل نہیں مگر کمزور قوت ارادی کے حامل لوگوں کے لیے اسے ترک کرنا تقریباً ناممکن ہو جاتا ہے -اس وقت سگریٹ نوشی کے حوالے سے پاکستان میں قوانین موجود ہیں جیسا کہ ہسپتال کی حدود میں ، پبلک مقامات پر ، پبلک ٹرانسپورٹ پر اور تعلیمی اداروں کی حدود میں سگریٹ نوشی پر پابندی ہے مگر ان قوانین پر ہم نہ عمل کرنے کے لیے تیار ہیں اور نہ ہی عمل کروانے کے لیے تیار ہیں ان قوانین کی خلاف ورزی کرنے پر باقاعدہ سزا اور جرمانے ہیں اگر ان قانین پر عمل درآمد کرتے ہوتے ہوئے چند لوگوں کو سزا اور جرمانے ہوں تو یقیناً اس میں کافی حد تک کمی واقع ہو سکتی ہے-

    ٹویٹر-mohsensays@

  • تمباکو نوشی سے مال کے ضیاع کے ساتھ ساتھ جان کو بھی خطرہ لاحق ہے تحریر:ذیشان علی

    تمباکو نوشی سے مال کے ضیاع کے ساتھ ساتھ جان کو بھی خطرہ لاحق ہے تحریر:ذیشان علی

    ایک مشہور واقعہ ہے شاید آپ نے بھی سن رکھا ہو کہ ایک شخص تھا جس نے کہیں یہ لکھا ہوا پڑھا کہ سگریٹ پینے والا سگریٹ پی کر شیر کا شکار بھی کر سکتا ہے،چنانچہ اس نے اسے عملی طور پر کرنے کی ٹھان لی وہ سگریٹ پی کر گاؤں کے قریب ایک چھوٹے سے جنگل کی طرف چلا گیا اور اس نے شیر کا شکار کرنا چاہا مگر شیر الٹا اس پر جھپٹ پڑا اب یہ شخص کسی طرح اپنی جان بچانے کے لئے درخت پر چڑھ گیا،
    لوگوں کو پکارا گاؤں والے مدد کو آئے اسے درخت سے اتارا تو اس کے جسم پر شیر کے پنجوں اور کچھ جگہ دانتوں کے زخم تھے،
    لوگوں نے پوچھا کہ یہ کیسے زخم ہے اس نے کہا کہ میں نے شیر کا شکار کرنا چاہا لیکن مجھے لگتا ہے کہ شیر نے سگریٹ کی پوری ڈبی پی رکھی تھی،
    سگریٹ بنانے والی بیشتر کمپنیاں بڑے بڑے اشتہارات دیتی ہیں وہ بہت سے ایونٹس کو سپانسر کرتی ہیں،
    ایسے اشتہارات بھی دیکھنے کو ملے کہ سگریٹ پینے والے افراد کو لڑکیاں پسند کرتی ہیں، اور سگریٹ پینے سے پیٹ صحیح اور رنگ خوبصورت ہوتا ہے،
    لیکن یہ سب بیکار کی باتیں ہیں اپنی پبلسٹی کرنے کے لیے طرح طرح کے اشتہارات دیتے ہیں، حقیقت کا اس سے کوئی لینا دینا نہیں،
    تمباکو نوشی میں چاہے سگریٹ ہو، حقہ ہو، شیشہ ہو، سگار یا پھر پائپ ہو یا تمباکو کھانا یا تمباکو کو سونگھنا بیشتر بیماریوں کا موجب بنتا ہے،
    زیادہ تر تمباکو نوشی سے معدے کا کینسر دل کا کمزور ہو جانا اور دماغی طاقت یعنی ہوش و حواس کھو دینا لبلبہ اور گردوں کا ختم ہو جانا گلے کا کینسر اور سانس کی نالی کا کینسر پھیپھڑوں کا کینسر سانس کا پھول جانا اس بات سے اندازہ لگا لیں کہ تمباکو نوشی کس حد تک انسانی صحت کے لیے خطرناک ثابت ہوتی ہے،
    اس کے تدارک کے لیے حکومتی سطح پر تمباکونوشی بنانے والی کمپنیوں کے اوپر بھاری بھر کم ٹیکس لگانے سے اور لوگوں میں آگہی مہم کو فروغ دینے سے اس کے استعمال کو کم کیا جا سکتا ہے،

    تمباکو نوشی کے استعمال کو بالکل ختم تو شاید کبھی نہیں کیا جا سکے گا ہاں البتہ مختلف قسم کے سیمینار منعقد کرکے لوگوں کو تمباکو نوشی سے پیدا ہونے والی بیماریوں کے متعلق آگاہ کیا جا سکتا ہے، اور حکومت کی جانب سے تمباکو نوشی کہ تمام اجزاء یعنی سگریٹ ہو کا شیشہ و سگار کی قیمتوں کو بڑھا کر لوگوں کی پہنچ سے دور کر دیا جائے،
    ایک محتاط اندازے کے مطابق دنیا بھر میں تمباکو نوشی سے پیدا ہونے والی بیماریوں کی سے ایک سال کے اندر کم سے کم پانچ سے چھ لاکھ افراد اپنی جان کی بازی ہار جاتے ہیں،
    اور تحقیق کے مطابق پاکستان میں ان کی تعداد ایک لاکھ تک پہنچ گئی ہے،
    تنباکو نوشی ایک زہر ہے اور ہمارے ہاں جانتے بوجھتے لوگ یہ زہر پیے جا رہے ہیں، اور اپنی زندگیوں کے ساتھ ساتھ اپنے ساتھ رہنے والے لوگوں کی زندگیوں کو بھی خطرے میں ڈال رہے ہیں،
    سگریٹ اور حقہ سے نکلتے ہوئے دھوئیں سے قریب کے افراد بھی متاثر ہو سکتے ہیں شاید لوگوں کو اس بات کا علم نہیں ہے یا علم ہونے کے باوجود یہ کام کر رہے ہیں تو پھر یہ کہنا غلط نہیں کہ ہم جانتے بوجھتے اپنی اور اپنے ساتھ رہنے والے لوگوں کی زندگیوں کو خطرے میں ڈال رہے ہیں،
    اور اس سگریٹ کے دھوئیں سے امراض قلب میں مبتلا لوگوں کی تعداد 3 لاکھ سے اوپر اور ایک لاکھ 65 ہزار سانس کی نالی کے انفیکشن اور بیشتر دمہ کے مریض اور اکیس ہزار کے قریب پھیپھڑوں کی بیماری کا شکار ہوتے ہیں،

    اور یہ بیماریاں جانتے بوجھتے لوگ کو لگائی جا رہی ہیں، تمباکو نوشی کرنے والے افراد سے مودبانہ گزارش ہے کہ وہ اپنی اس جان لیوا عادت کو ترک کریں تاکہ ان کی اپنی زندگی کے ساتھ ساتھ دوسروں کی صحت و زندگیاں محفوظ ہو سکیں،
    اور دوسرا یہ مال کا ضیاح ہے، آٹھ سو روپے ایک دن میں کمانے والا شخص اگر دن میں ایک ڈبی سگریٹ کی پیتا ہے تو وہ ڈیڑھ سو سے دو سو روپے کا نقصان کرتا ہے، اگر وہ زیادہ سگریٹ پیتا ہے تو پھر اس کی مزدوری کی کچھ ہی رقم وہ بچا پاتا ہے، اور ہمارے ہاں بیشتر افراد ایسے ہی ہیں،
    لیکن افسوس کے ساتھ ہی یہ کہنا پڑ رہا ہے کہ ہمارے ہاں اسکول کالجوں اور یونیورسٹیوں میں طلباء وطالبات منشیات کا استعمال کرتے ہیں، یہ کتنا افسوس ناک اور دل کو تکلیف دینے والا معاملہ ہے کہ مستقبل کہ معار کیسے برے کاموں پر معمور ہیں،
    یہ نہیں کہا جا سکتا کہ ان کے پاس آ گہی نہیں ہماری بد قسمتی ہے کہ ہم جانتے بوجھتے وہ کام کرتے ہیں جو ہمارے لیے نقصان دہ ہو،
    تعلیمی اداروں کی انتظامیہ اس حوالے سے سخت قانون ترتیب دے تاکہ کوئی بھی طالب علم ایسی سرگرمی میں ملوث نہ ہو جو اس کی زندگی اس کے مستقبل اور ہمارے معاشرے کے لیے نقصان دہ ہے،
    تمباکو سے بچیں اور سگریٹ نوشی سے اجتناب کریں اور اپنے معاشرے کو بہت سی بیماریوں سے محفوظ رکھیں،
    صحتمند معاشرہ صحتمند قوم

    @zsh_ali

  • ہمارا معاشرہ اور بے روزگار نوجوان طبقہ تحریر:عائشہ عنایت الرحمان

    ہمارا معاشرہ اور بے روزگار نوجوان طبقہ تحریر:عائشہ عنایت الرحمان

    پاکستان دنیا کے ان ممالک میں
    شامل ہے جہاں نوجوانوں کی تعداد زیادہ ہے اسے اگر نوجوانان پاکستان کہا جائے تو غلط نہ ہوگا اگر یہ کہا جائے کہ جس طرح زراعت کسی ملک کے لیے ریڑھ کی ہڈی کی حیثیت رکھتی ہے اتنی ہی نوجوان طبقہ ملک کے لیے اہمیت رکھتا ہے، تو غلط نہ ہوگا۔ لیکن ہمارے ہاں المیہ یہ ہے کہ یہاں ہر دوسرا نوجوان بے روزگار ہے اور اس سے بڑا المیہ یہ ہے کہ اعلی تعلیم یافتہ نوجوان طبقہ بھی بے روزگار ہیں۔ اعلی تعلیم یافتہ نوجوان اس لئے بے روزگار ہے کہ سرکاری نوکری کے پیچھے بھاگ رہے ہیں اور حال یہ ہے کہ سرکاری نوکری ہزار میں سے کسی ایک دو کو نصیب سے ملتی ہیں۔

    روزگار کس طرح تلاش کیا جائے؟
    ضرورت اس امر کی نہیں کہ ہر ایک کو سرکاری نوکری مل جائے بلکہ ضرورت اس امر کی ہے کہ ایک ایسا نظام قائم کیا جائے جہاں ہر کسی کو روزگار کے مواقع فراہم کیے جا سکے جہاں ان کو موٹیویٹ کیا جا سکے جہاں ان کی مائنڈ سیٹ کیا جا سکے جہاں ان میں شعور پیدا کیا جاسکے کے روزگار صرف یہی نہیں کہ آپ کو سرکاری نوکری مل جائے بلکہ روزگاری ہیں کہ اگر آپ کو سرکاری نوکری نہیں مل رہی باوجود لاکھ کوشش کے تو آپ کو یوں ہاتھ پہ ہاتھ دھرے بیٹھنا نہیں چاہیے اور ڈپریشن کا شکار نہیں بننا چاہیے بلکہ آپ اپنی سیلف اکیڈمی چلا لیں جہاں آپ ہزاروں بچوں کو ٹیوشن پڑھاؤ اور انکو انکی مستقبل کے لیے موٹیویٹ کرو کرو ۔
    جو کیڈمی نہیں بنا سکتے تو کسی دوسرے کی جوائن کرو اور اور اس میں کمال تک پہنچ جاؤں۔ ایسے بہت سے سکالر میں نے دیکھے ہے کہ جب سرکاری نوکری کے پیچھے ناکام ہوجاتے تو پھر یہی سیلف اکیڈمی کھول دیتے ہیں جہاں معاشرے کے ہزاروں بچے انکے مستقبل کے لیے موٹیویٹ کئے جاتے ہیں۔
    اگر آپ well educated نہ ہو تعلیم تھوڑی بہت ہے تو بھی بہت کچھ کر سکتے ہو ,بشرط کہ ارادہ ہو،لگن ہو۔
    ہر انسان میں ضرور کوئی نہ کوئی ٹیلنٹ چھپا ہوا ہوتا ہے اپنے اندر کی ٹیلینٹ کو اجاگر کرو اس میں کمال تک حاصل کرو ۔ روزگار کے لئے اعلی تعلیم یافتہ ہونا شرط نہیں، اور نہ روزگار صرف سرکاری نوکری کا نام ہے۔ آپ ارادہ کرو ،کوشش کرو اپنے ربّ پر کامل یقین رکھو ایک دن انشاللہ ضرور آپکی محنت رنگ لائے گی اور کامیابی آپکی قدم چومے گی۔ قاسم علی شاہ کا قول یاد آیا کہ محنت اتنی خاموشی سے کرو کہ تمہاری کامیابی شور مچادے .
    ضروری نہیں کہ آپ سرکاری ملازم بن جاؤ اب بہت کچھ بن سکتے ہو بشرط کہ جزبہ موجود ہو آپ میں ۔ روزگار کے ساتھ ساتھ نام بھی کماؤ اور اپنے معاشرے کے لیے بھی کچھ ایسا کرو کہ مرنے کے بعد بھی آپکا نام زندہ رہے۔ ہمارے سامنے زندہ مثالیں موجود ہیں جیسے کہ عبدالستار ایدھی جس نے اپنا سب کچھ لٹا کر خالص جذبے کے ساتھ نئے سفر کا آغاز کیا آج اس کے مرنے کے بعد بھی اس کا نام زندہ ہے۔ ڈاکٹر ذاکر نائیک، جس نے زندگی لگا دی اپنے فیلڈ میں ، آج انکی بدولت لاکھوں غیر مسلم اسلام سے با مشرف ہوئے۔ قاسم علی شاہ اور اسی طرح اور بھی بہت سارے زندہ مثالیں ہیں ہمارے سامنے ۔
    بیان کرنے کا مقصد یہ تھا کہ کہ اپنے اندر کی آواز کو سنو کہ تم کس لئے پیدا کئے گئے ہو ۔اپنے اندر کی پوشیدہ خوبیوں کو اجاگر کرو۔

    ایک کم ذہنی ہے کہ ہم ہر مصیبت اور مشکل کا ذمہ دار حکومت کو ٹھہراتے ہیں یہ بالکل غلط ہے۔ اصل میں ہم میں شعور کی کمی ہے، جب شعور آجاے اور تخلیقی زہن بن جائے تو روزگار کا مسئلہ 50 فی صد حل ہوجائے گا.

    بل گیٹس نے CSS نہیں کیا.
    جیک ما نے CSS نہیں کیا. اسٹیوجابز نے CSS نہیں کیا .
    مارک زکر برگ نے CSS نہیں کیا ۔
    ان کی ایک کمپنی کی قیمت پاکستان کے 70 سال قرض سے زیادہ ہے۔
    اگر وہ CSS کرتے تو آج صرف ڈی سی( DC) لگے ہوتے ۔ایک مشہور دانشور کا کہنا ہے کہ قوم کو افسر نہیں تخلیقی ذہن چاہیے..

    آج کل کے زمانے میں اگر دیکھا جائے تو بے روزگاری کی تو کوئی گنجائش ہی نہیں،کیونکہ یہ ماڈرن ٹیکنالوجی، انٹرنیٹ کا زمانہ ہے، ایسے ہزاروں آپلیکیشنز ہے موبائل فون میں جس کے ذریعے پیسے کمائے جا سکتے ہیں، لیکن وہی بات کہ ایک تخلیقی زہن کی ضرورت ہے۔

    حکومت سے شکو
    اک تلخ حقیقت کہ اعلی تعلیم یافتہ سرکاری نوکری کے پیچھے خوار ہو رہے ہیں۔ یہ حکومت کی زمہ داری ہے کہ انکو انکی ڈگری کے حساب سے سیٹ دےدیں، ورنہ یہی نوجوان آخر میں دل برداشتہ ہو کر غلط اختیار کر جاتے ہیں۔ یہ صرف ان کی ذات کی حد تک نہیں بلکہ ہمارے معاشرے کے لئے بھی تباہی کا ذریعہ بن جاتا ہے ۔اپنی آنکھوں دیکھا حال بیان کرو کہ ہماری ٹیچرز تھی فزکس کی، انکا شوہر نشایئ تھا۔ میں نے ایک دن پوچھا کہ میڈم یہ ماجرا کیا ہے تو کہنے لگی کہ بیٹا میرے شوہر نے انجینئرنگ میں ڈگری کی ہے اور اپنی یونیورسٹی کا ٹوپر رہا ہے پر جب 7 ،6 سال مسلسل کوشش کے باوجود سرکاری نوکری نہیں ملی تو آخر میں دل برداشتہ ہو کر یہ راستہ اپنایا اور نشائ بن گیا ۔اسی طرح میرے جاننے والوں میں سے تعلیم یافتہ نوجوان جس نے 13 14 سال سرکاری نوکری کے پیچھے دھکے کھاے اور ہاتھ کچھ نہیں آیا تو آخر میں زد میں آکر کریمنل بن گیا۔ تو یہ کس کا نقصان ہوا ؟
    اگر حکومت ان کو بروقت روزگار فراہم کرے تو اس طرح جرائم کی نوبت نہیں آ ے گی اور اسی طرح یہ معاشرہ بہت سی برائیوں سے بچ سکتا ہے۔

    @koi_hmmsa_nhe

  • سگریٹ نوشی سے ہونے والی جان لیوا بیماریاں تحریر فضل عباس

    سگریٹ نوشی سے ہونے والی جان لیوا بیماریاں تحریر فضل عباس

    کسی بھی چیز کی زیادتی کو اسکی عادت ہو جانے کو نشے کا نام دیا جاتا ہے ،پھر وہ نشہ وہ عادت چاہے کسی چیز کی ہو یا انسان کی آپکو تباہی کے دہانے تک لے جاتی ہے جہاں آپ اپنی زندگی اور اپنے سے جڑے لوگوں کیلیے صرف باعث تکلیف بن کر رہ جاتے ہیں
    یوں تو بہت سے نشے ہیں لیکن سب سے سستہ اور نوجوان نسل میں برقی رفتار سے پھیلتا ہوا نشہ سگریٹ نوشی ہے
    سگریٹ نوشی دو طرح کی ہوتی ہے
    ایکٹو سموکنگ، جس میں کوئی بھی شخص براہ راست سگریٹ نوشی کرتا ہے اور اس زہریلے دھویں زہریلے مواد کے ساتھ اپنی رگوں میں اتار کر لمحہ لمحہ موت کو قریب کرتا ہے۔
    اور
    پیسو سموکنگ ،جس میں آپ بذات خود سگریٹ نوشی نہیں کرتے لیکن آپ کے ارد گرد موجود سگریٹ نوشوں کے سگریٹ کا دھواں ہوا میں شامل ہوکر آپکے پھیپھڑوں تک جاتا ہے۔
    سگریٹ نوشی نا صرف ہمیں معاشرتی طور پر تباہ و برباد کرتی ہے بلکہ انسانی صحت پر بھی بری طرح اثر انداز ہوتی ہے ، اور جان لیوا بیماریوں کا باعث بنتی ہے، جن میں مبتلا ہو کر ہر سال لاکھوں لوگ لقمہ اجل بن جاتے ہیں ۔
    سگریٹ نوشی سے ہونے والی دس بڑی بیماریاں اور ان کے جسم انسانی پر اثرات درج زیل ہیں

    1 پھیپھڑوں کا کینسر
    ہر سال پھیپھڑوں کے کینسر کے باعث موت کا شکار ہونے والے دس لاکھ افراد میں سے %85 ایسے لوگ ہیں جن میں کینسر کا سبب سگریٹ نوشی ہے ۔
    سگریٹ میں موجود زہریلے مرکبات سانس کی نالی سے ہوتے ہوئے پیپھڑوں تک رسائی حاصل کرتے ہیں اور خلیات کو تباہ کرتے ہیں ۔ مرض کے ابتدائی دور میں اسکی علامات ظاہر نہیں ہوتی عموما اس کی تشخیص آخری مراحل میں ہوتی ہے ۔اسکی عام علامات میں ،مسلسل کھانسی ،کھانسی کے دوران منہ سے خون کا آنا،سانس لینے میں رکاوٹ ،سینے کی تکلیف ،اور سر درد وغیرہ شامل ہیں
    بر وقت ڈاکٹر سے رجوع،سگریٹ نوشی کا بائیکاٹ ،مکمل احتیاط اور علاج کے زریعے اس بیماری سے چھٹکارہ ممکن ہے
    2. (دائمی رکاوٹ پلمونری بیماری) COPD
    ایک رکاوٹ پھیپھڑوں کی بیماری ہے جس کی وجہ سے سانس لینا مشکل ہو جاتا ہے۔ یہ سنگین طویل مدتی معذوری اور ابتدائی موت کا سبب بنتا ہے۔ سی او پی ڈی تھکاوٹ سے شروع ہوتی ہے اور، پھر خراب ہوتی جاتی ہے ، یہاں تک کہ سیڑھیوں کے مختصر سیٹ پر چڑھنا یا پیدل چلنا ناممکن ہے۔ یہ لوگوں کو ان کے گھروں میں قید کردیتی ہے ، اپنی پسند کی چیزیں کرنے یا دوستوں کو دیکھنے سے قاصر ہے۔ تمام سی او پی ڈی کا تقریبا 80 فیصد سگریٹ نوشی کی وجہ سے ہوتا ہے۔

    3۔دل کی بیماری
    تمباکو نوشی آپ کے جسم کے تقریبا ہر عضو کو نقصان پہنچاتی ہے ، بشمول آپ کے دل۔ تمباکو نوشی آپ کی شریانوں میں رکاوٹ اور تنگی کا سبب بن سکتی ہے ، جس کا مطلب ہے کہ آپ کے دل میں خون اور آکسیجن کا بہاؤ کم ہے۔ جب امریکہ میں سگریٹ کا استعمال کم ہوا تو دل کی بیماریوں کی شرح بھی کم ہوئی۔ پھر بھی ، دل کی بیماری امریکہ میں موت کی پہلی وجہ بنی ہوئی ہے۔

    4.دمہ/ استھما
    دمہ پھیپھڑوں کی ایک دائمی بیماری ہے جو آپ کے پھیپھڑوں سے ہوا کو باہر سے اندر اوراندر سے باہر منتقل کرنا مشکل بناتی ہے – دوسری صورت میں اسے "سانس لینے” کے نام سے جانا جاتا ہے۔ چونکہ سگریٹ کا دھواں ہوا کے راستوں کو پریشان کرتا ہے ، یہ اچانک اور شدید دمہ کے حملوں کو متحرک کرسکتا ہے۔ دمہ ایک سنگین صحت کی حالت ہے۔ تمباکو نوشی اسے مزید خراب کرتی ہے۔

    5۔زیابیطس
    اگر آپ سگریٹ نوشی کرتے ہیں تو آپ کو ٹائپ 2 ذیابیطس ہونے کا زیادہ امکان ہوتا ہے۔ تمباکو نوشی نہ کرنے والوں کے مقابلے میں ٹائپ 2 ذیابیطس کا خطرہ 30 سے ​​40 فیصد زیادہ ہے۔ مزید برآں ، تمباکو نوشی ذیابیطس کی تشخیص کے بعد پیچیدگیوں کا خطرہ بڑھاتا ہے ، جیسے دل اور گردے کی بیماری ، ٹانگوں اور پیروں میں خون کا ناقص بہاؤ (جو کہ انفیکشن اور ممکنہ کٹائی کا باعث بنتا ہے) ، اندھا پن اور اعصاب کو نقصان پہنچاتا ہے۔

    6۔اسٹروک
    چونکہ تمباکو نوشی آپ کی شریانوں کو متاثر کرتی ہے ، اس لیے یہ فالج کا باعث بن سکتی ہے۔ فالج اس وقت ہوتا ہے جب آپ کے دماغ کو خون کی فراہمی عارضی طور پر بند ہو جائے۔ دماغ کے خلیات آکسیجن سے محروم ہوتے ہیں اور مرنا شروع ہو جاتے ہیں۔ فالج ، دماغی فعل میں تبدیلی اور موت کا سبب بن سکتا ہے۔ اسٹروک ریاست ہائے متحدہ میں موت کی پانچویں اہم وجہ اور بالغ معذوری کی ایک اہم وجہ ہے۔

    7۔اندھا پن ، موتیابند اور عمر سے متعلقہ میکولر انحطاط۔

    تمباکو نوشی آپ کو اندھا کر سکتی ہے۔ یہ آپ کی آنکھوں کو نقصان پہنچاتی ہے اور اس کے نتیجے میں بینائی ضائع ہو سکتی ہے۔ عمر سے متعلق میکولر انحطاط تمباکو نوشی کی وجہ سے ہوتا ہے۔ یہ 65 اور اس سے زیادہ عمر کے بالغوں میں اندھے پن کی سب سے بڑی وجہ ہے۔

    8۔خواتین میں تولیدی اثرات۔

    تمباکو نوشی عورتوں میں ایکٹوپک حمل کا سبب بن سکتی ہے ، جو اس وقت ہوتا ہے جب ایک فرٹیلائزڈ انڈا بچہ دانی کے علاوہ کسی اور جگہ لگاتا ہے۔ انڈا زندہ نہیں رہ سکتا اور اگر علاج نہ کیا گیا تو ماں کے لیے جان لیوا ثابت ہو سکتا ہے۔ تمباکو نوشی بھی زرخیزی کو کم کرنے کا سبب بنتی ہے ، اس کا مطلب حاملہ ہونا زیادہ مشکل بناتا ہے۔

    9۔قبل از وقت ، کم پیدائشی وزن والے بچے۔
    تمباکو نوشی کے اثرات نہ صرف ماں کی صحت پر بلکہ اس کے بچے پر بھی پڑتے ہیں۔ حاملہ ہونے کے دوران تمباکو نوشی سے بچے وقت سے پہلے اور کم پیدائشی وزن کے ساتھ پیدا ہو سکتے ہیں۔ بہت جلد یا بہت چھوٹے پیدا ہونے والے بچوں میں صحت کی پیچیدگیوں اور یہاں تک کہ موت کا خطرہ بڑھ جاتا ہے۔

    10. کینسر کی 10 سے زائد دیگر اقسام بشمول بڑی آنت ، گریوا ، جگر ، معدہ اور لبلبے کا کینسر

    بنیادی طور پر ، تمام کینسر۔ کینسر کے مریضوں اور زندہ بچ جانے والے دونوں کے لیے ، سگریٹ نوشی کرنے والوں میں دوسرا پرائمری کینسر ہونے کا زیادہ امکان ہوتا ہے۔ اور اب ہم جان چکے ہیں کہ تمباکو نوشی کم از کم ایک درجن کینسر کا سبب بنتی ہے ، بشمول جگر اور کولوریکٹل ، اور پروسٹیٹ کینسر کے مریضوں کی بقا کی شرح کو کم کرتی ہے۔
    لہذا حکومت اور ہر ایک شخص تمباکو نوشی ختم کرنے میں اپنا کردار ادا کرے