Baaghi TV

Category: معاشرہ و ثقافت

  • موٹروے واقعہ اور معاشرتی تضاد .تحریر: فروا نزیر

    موٹروے واقعہ اور معاشرتی تضاد .تحریر: فروا نزیر

    خدا کا جتنا شکر ادا کیا جاتا اتنا ہی کم تھا ،ورنہ ایسی انہونی ہونے کی امید نہیں تھی ،اتنا بڑا ،پیچیدہ اور انتہائی اہمیت کا حامل مسئلہ اگراتنی جلدی حل ہو جائے،تواس پر زیادہ نہیں ،دو چار نفل شکرانے کے تو بنتے ہیں ۔ مذہب کو دقیانوسی معاملہ قرار دینے والی دیسی لبرل مارکہ خواتین مشروب مغرب سے لطف اندوز ہوتے ہوئے بلاشبہ اسے خواتین کی جیت قرار دینے میں حق بجانب تھیں، سی سی پی او صاحب کامعافی مانگنا ایک اہم واقعہ تھا ۔جس کے بعد جرم خود بخود ختم ہوجانے تھے ،اگر نہ بھی ہوتے تو مضائقہ نہیں بس یہ نہ کہتے کہ آدھی رات کو گھر سے نکلتے وقت خواتین گاڑی کا تیل چیک کرلیا کریں تاکہ راستے میں پریشانی نہ ہوکیونکہ اس سے خواتین کی آزادی متاثرہوتی ہے۔

    بچوں کے سامنے ماں کے ساتھ زیادتی کی ہولناک واردات دراصل وہ مسئلہ تھا جس پر توجہ مرکوز کرنے کی ضرور ت تھی ،مستقبل میں ایسے واقعات کے تدارک کیلئے مربوط کوششوں کا یہ نقطہ آغا ز ہو سکتا تھا ، بدقسمتی سے مگر ہر ایک نے اسے اپنے ذاتی و گروہی مفاد کیلئے استعمال کیا ۔کون نہیں جانتا کہ نئے سی سی پی او کی تعیناتی کی سب سے زیادہ کس کو پریشانی تھی،وہ کون سی قومی سطح کی سیاسی جماعت تھی جس نے کھل کر ایک شہر کی حد تک محدود تعیناتی کی مخالفت کی ،آخر کچھ تووجہ ہے کہ ایک بے ضرر بیان کو متاثرہ خاتون پر الزام کے مترادف قرار دے کر بھرپور مہم چلائی گئی ،ٹویٹر پر ہیش ٹیگز بنائے اور چلائے گئے ،احتجاج اور میڈیا اینکرز کے ذریعے سی سی پی او کو ہٹانے کے مطالبے کو تقویت دی گئی ،یہی مطالبہ درخواست کی شکل میں عدالت تک بھی پہنچا دیا گیا اور غالب گمان کے عین مطابق وہ درخواست سماعت کیلئے منظور بھی کر لی گئی ۔ سب جانتے ہیں قانون کی تشریح ایک مخصو ص خاندان کے حوالے سے جس طرح لاہور میں ہوتی ہے وہ کہیں نہیں ہو سکتی ۔ ملز م تو پکڑے گئے،سزا بھی ہوگئی ،مگر ایسے واقعات کا تدارک نہیں ہوا ،قصورمیں زینب کے واقعے میں بھی تو مجرم کو سزا دی گئی تو کیا اس کے بعد یہ جرم ہونا بند ہوگیا ؟صرف پنجاب میں ایک سال کے دوران زیادتی کے 2ہزار اور اجتماعی زیادتی کے سو سے زیادہ واقعات ہوئے ،یہ واقعات اس وقت تک ہوتے رہیں گے،جب تک اس کی جڑکو نہیں اکھاڑ پھینکا جاتا، اس کی جڑیں بھی دوسرے جرائم کی طرح ہماری معاشی ،سماجی،معاشرتی ناانصافیوں سے پھوٹتی ہیں،تونسہ شریف میں بھی بچوں کے سامنے ماں کے ساتھ زیادتی کی گئی اورملزموں کی ضمانت ہو گئی،لیکن اس حوالے سے نہ تو سوشل میڈیا پر ٹرینڈ بنے ،چینلز پر پروگرام ہوئے اورنہ ہی میرا جسم میری مرضی کے نعرے لگاتی خواتین کو اس مظلوم عورت کا کچھ خیال آیا ،اس کے کرب کو کسی نے محسوس نہیں کیا کیونکہ وہ ایک نچلے طبقے کی خاتون تھی۔آپ کو سوشل میڈیا پر اشرافیہ کی خواتین بار بار کہتی نظر آئیں کہ خاتون کی تصاویر اور نام شیئر نہ کیا جائے ،جوکہ ایک اچھی بات ہے مگر کیا یہ حساسیت قصور کی زینب کے والدین کے حوالے سے دیکھی گئی ؟پریس کانفرنس میں بٹھا کر اس کے سامنے جس بے شرمی کیساتھ ہنسی مذاق کیا گیا ،اس پر کسی کو خیال آیا کہ ان کی بھی کوئی عزت ہے ،ان کا نام اور شناخت بھی چھپانی چاہیے ،سب نے مذکورہ خاندان کو ان کی عزت کی پرواہ کئے بغیر اپنے اپنے مقاصد کیلئے استعمال کیا

  • ابتدائی تعلیم میں مختلف زبانیں سیکھنے کی اہمیت۔ تحریر: محمد اسعد لعل

    ابتدائی تعلیم میں مختلف زبانیں سیکھنے کی اہمیت۔ تحریر: محمد اسعد لعل

    کسی بھی تعلیمی نظام میں پہلے بارہ سال اصل میں معاشرہ تعلیم دیتا ہے۔ اس میں ایک قوم اپنا علم، اپنی میراث منتقل کرتی ہے اور وہ ضروری صلاحیت پیدا کرتی ہے تاکہ بچہ جب شعور کی عمر کو پہنچے تو وہ اپنے فیصلے خود کر سکے اور اپنے میدان کے انتخاب میں بھی آسانی محسوس کرے۔ 

    یہ جو بارہ سال کی تعلیم ہوتی ہے اس میں ایک بہت بڑا ٖ فیصلہ یہ کرنا ہوتا ہے کہ بچوں کو زبانیں کون سی پڑھانی ہیں، کیونکہ زبان علم کا دروازہ ہے۔ اس میں بڑے سادہ اصول ہیں، یعنی آپ کو اپنی تعلیم کی ابتدا اپنی زبان سے کرنی چاہیے۔ اپنی زبان کا مطلب ہے وہ جو آپ کی ماں بولتی ہے، وہ جو آپ کے گھر میں بولی جاتی ہے۔ گھر کی اور تعلیم کی زبان کو ابتدا میں بالکل مشترک ہونا چاہیے۔ اس پر دنیا بھر میں اہلِ علم کا اتفاق ہے۔

    ایک بچے کو پہلے ہی مرحلے میں زبانوں کے تصادم میں نہیں ڈال سکتے۔ بچہ اپنی زبان اپنے ماں باپ سے سیکھتا ہے۔ جب وہ ایک زبان سیکھ لیتا ہے تو اُس سے آپ تعلیم کی ابتدا کر لیں۔ اس کے بعد مختلف زبانیں اس کو سکھانی چاہئیں۔ اس میں بھی ایک تدریج رکھی جاتی ہے، یعنی یہ نہیں ہے کہ آپ پہلی جماعت ہی سے بچے کو کسی ایک زبان میں صحت کے ساتھ بولنے یا لکھنے کی تربیت دینے سے پہلے اس کے اندر ایک خلجان پیدا کر دیں ۔ایک تدریج کے ساتھ زبانوں سے تعارف کروایا جاتا ہے۔

    یہ اس اصول پر ہوتا ہے کہ رابطے کی زبان سیکھنی پڑتی ہے۔ رابطے کی زبان بعض اوقات کوئی قومی زبان بن جاتی ہے۔مثال کے طور پر ہمارے ہاں لوگ پشتو بھی بولتے ہیں، سندھ، بلوچی، سرائیکی اور پنجابی بھی بولتے ہیں لیکن ان کے ہاں رابطے کی زبان کی حیثیت اردو کو حاصل ہو چکی ہے۔ اس لیے ہم اردو کو قومی زبان بھی کہتے ہیں۔ رابطےکی زبان سیکھنا بہت ضروری ہے۔

    اس کے بعد آپ دیکھتے ہیں کہ دنیا اب ایک ویلج بن چکی ہے، دنیا میں مختلف جگہوں پر علوم پیدا ہو رہے ہیں۔ آپ ایک ہی جگہ پر نہیں رہتے بلکہ آپ کو آگے بھی بڑھنا ہوتا ہے، تعلیم کے لیے بھی دوسری جگہوں پر ہجرت کرنی ہوتی ہے تو آپ عالمی سطح پر انتخاب کرتے ہیں کہ رابطے کی زبان کیا ہو سکتی ہے۔

    ہمارے ہاں ایک خاص پسِ منظر کی وجہ سے انگریزی زبان عالمی رابطے کی زبان بن چکی ہے۔ دنیا میں اور بھی بہت سے زبانیں بولی جاتی ہیں، برحال کوئی ایک زبان آپ بین الاقوامی رابطے کی حیثیت سے سیکھتے اور سکھاتے ہیں۔

    آپ کا مذہب اسلام ،ہندومت یا کوئی اور بھی ہو سکتا ہے۔ آپ کے مذہب کی زبان جس میں آپ کی مذہبی کتاب ہے، مذہبی علم ہے تو وہ بھی کوئی زبان ہو سکتی ہے۔ ہمارے ہاں وہ مذہبی زبان عربی ہے، تو اس وجہ سے عربی زبان سیکھنا بھی ضروری ہے۔ 

    اس میں ایک چیز یہ ہوتی ہے کہ ایک زبان آپ اس مقصد کے لیے سکھاتے ہیں کہ بچہ اس کو بولے گا بھی، اس کو سمجھے گا بھی، پڑھے گا بھی اور لکھے گا بھی۔۔۔۔ جب کہ کچھ زبانیں آپ اس مقصد سے سکھاتے ہیں کہ علوم تک رسائی ہو جائے۔ میرے نزدیک عربی زبان کو اس مقصد کے لیے سکھانا ضروری نہیں ہے کہ لوگ اس کو لکھیں اور بولیں، بلکہ صرف اس کو سمجھ سکیں یہی کافی ہے۔ تاکہ اللہ کی کتاب جس کو وہ ماننے والے ہیں اس کو براہِ راست پڑھ سکیں اور اس کو خود سے سمجھنے کے قابل ہو جائیں۔

    بچوں پر کوئی دباؤ نہ بڑھے اس لیے عربی زبان کا نصاب ہی اس طرح بنانا چاہیے کہ وہ پہلے مرحلے میں بچے کو وہ ضروری چیزیں سکھانے کا باعث بن جائے جو ایک مسلمان بچے کی ہمہ وقت ضرورت ہوتی ہے۔ یعنی اس نے نماز پڑھنی ہے، کوئی دعا کرنی ہے یا اپنے پیغمبر کی کچھ بتائی ہوئی چیزوں کو دہرانا ہے۔ یہ بہت معمولی چیزیں ہیں اور بچے بہت آسانی سے سیکھ لیتے ہیں۔ پھر اس کے بعد اس کے لیے ریڈر کی حیثیت باتدریج قرآن بن جائے، یہاں تک کہ وہ بارہویں سال تک پہنچتے پہنچتے قرآن مجید پورا کا پورا سمجھ کر پڑھ لے جس طرح ایک انگریزی زبان کا ریڈر پڑھتا ہے۔ یعنی ایک کتاب کی حیثیت سے قرآن سے وابستہ ہوجائے۔

    اور یہ جو باقی چیزیں اسلامیات وغیرہ نصاب میں شامل کر کے بچوں پر بوجھ ڈالا ہوا ہے وہ ختم کر دینی چاہئیں۔ ان سب کی کوئی ضرورت نہیں ہے، اس کی وجہ یہ ہے کہ مختلف چیزوں کو علمی طور پر جاننا، تاریخ سے واقف ہونا یا مسلمانوں کی تاریخ سے واقف ہونا یہ سب کچھ بعد میں آدمی کر لے گا۔ تاریخ بھی اگر پڑھانی ہے تو اس کو تاریخ کے طور پر پڑھائیے، اُس کو مذہبی چیز بنا کر نہ پڑھائیے۔

    twitter.com/iamAsadLal

    @iamAsadLal

  • تمباکو نوشی   تحریر – محسن ریاض

    تمباکو نوشی تحریر – محسن ریاض

    تمباکو نوشی کی روایت صدیوں سے چلی آ رہی ہے -قدیم دور میں اس کو حقے کی شکل میں یا پھر تمباکو کو پتوں میں لپیٹ کر بیڑی کی شکل میں استعمال کیا جاتا تھا آہستہ آہستہ اس میں جدت آتی گئی اور موجودہ شکل سگریٹ اورای سگریٹ کی شکل میں موجود ہیں اس ای سگریٹ نوجوانوں میں بے حد مقبول ہو رہا ہے جبکہ برطانیہ اور امریکہ میں اس پر پابندی لگانے کے حوالے سے قوانین بنائے جا رہے ہیں جبکہ برطانیہ میں اس حوالے سے باقاعدہ قانون موجود ہے کہ نکوٹین کی مقدار کتنی رکھنی چاہیے-دنیا میں تمباکو کا عالمی دن 31 مئی کو منایا جاتا ہے جس دن تمباکو نوشی کے اثرات پر اور اس کے نقصانات کے حوالے سے آگاہی پھیلائی جاتی ہے تمباکو نوشی کے انسانی صحت پر بہت زیادہ مضر اثرات رونما ہوتے ہیں ہیں جن میں پھیپھڑوں کا متاثر ہونا ، سانس کے مسائل ، بلڈ پریشر ، سرطان ،دانتوں کا زرد اور کمزور ہونا اور گینگرین شامل ہیں گینگرین ایک سنگین طبی حالت ہے جس میں بعض اوقات نوبت یہاں تک آ جاتی ہے کہ جان بچانے کے لیے صرف ٹانگ کاٹنے کا آپشن ہی موجود ہوتا ہے اس لیے بچپن میں تمباکو نوشی سے بچ کر ہم گینگرین سے بھی بچ سکتے ہیں-برطانیہ میں ایک تحقیق سے ثابت ہوا ہے کہ تمباکو میں سات ہزار کے قریب کیمیکلز ہوتے ہیں جن میں سے ستر کے قریب کینسر کا سبب بنتے ہیں جب ہم سانس لیتے ہیں تو یہ پھیپھڑوں کے ذریعے خون میں شامل ہو جاتے ہیں اور پھر وہاں سے جسم کے دوسرے حصوں تک پہنچ جاتے ہیں اس وقت دنیا میں بیس فیصد بالغ افراد سگریٹ نوشی کی عادی ہیں جو کہ آنے والے سالوں میں کمی کی توقع کی جا رہی ہے محکمہ صحت کی جانب سے صرف سگریٹ کی ڈبیوں پر اتنا لکھ کر ذمہ داری ادا کی جا رہی ہے کہ خبردار ! تمباکو نوشی منہ کے کینسر کا سبب بنتی ہے اور تمباکو نوشی گینگرین کا سبب بنتی ہے اس کے علاوہ کوئی عملی اقدامات نہیں کیے جا رہے اس وقت سکول اور کالجوں میں سگریٹ کی فروخت سر عام ہو رہی ہے اور اس حوالے سے کوئی پوچھنے والا نہیں جبکہ سگریٹ کو تمام نشوں کی جڑ تصور کیا جاتا ہے اور اس کی روک تھام کے لیے کوئی خاطرخواہ اقدامات بھی نہیں کیے جا رہے اور اس کی حوصلہ شکنی کے لیے بھی کوئی اقدامات نہیں کیے جا رہے-ترقی یافتہ ممالک میں اس کو بطور لت کے طور پر دیکھا جاتا ہے اور اس کے علاج کے لیے حکومت کی طرف سے بھر پور مدد بھی کی جاتی ہے-اس وقت سگریٹ نوشی کی عادت کو ترک کرنے کے لیے تین طریقے مقبول ہیں جن میں سکن پیچز ، نکوٹین چیونگم اور انحیلر شامل ہیں سکن پیچز میں جلد پر ایک خاص قسم کے پیچز لگائے جاتے ہیں جن میں نکوٹین شامل ہوتی ہے اور اس طرح نکوٹین کی مقدار پوری کی جاتی ہے جبکہ چیونگم میں بھی نکوٹین شامل ہوتی ہے جو جسم میں جا کر حل ہو جاتی ہے اس کے بعد انحیلر کے ذریعے بھی جسم میں نکوٹین کی مقدار پوری کی جاتی ہے اس طرح ترقی یافتہ ممالک کوشش کر رہے ہیں کہ اس لت کو کسی طرح ختم کیا جا سکے -زیادہ تر لوگ شروع شروع میں اسے فیشن کے طور پر استعمال کرتے ہیں مگر آہستہ آہستہ اس کے عادی ہو جاتے ہیں اس عادت کو ترک کرنا بھی زیادہ مشکل نہیں مگر کمزور قوت ارادی کے حامل لوگوں کے لیے اسے ترک کرنا تقریباً ناممکن ہو جاتا ہے -اس وقت سگریٹ نوشی کے حوالے سے پاکستان میں قوانین موجود ہیں جیسا کہ ہسپتال کی حدود میں ، پبلک مقامات پر ، پبلک ٹرانسپورٹ پر اور تعلیمی اداروں کی حدود میں سگریٹ نوشی پر پابندی ہے مگر ان قوانین پر ہم نہ عمل کرنے کے لیے تیار ہیں اور نہ ہی عمل کروانے کے لیے تیار ہیں ان قوانین کی خلاف ورزی کرنے پر باقاعدہ سزا اور جرمانے ہیں اگر ان قانین پر عمل درآمد کرتے ہوتے ہوئے چند لوگوں کو سزا اور جرمانے ہوں تو یقیناً اس میں کافی حد تک کمی واقع ہو سکتی ہے-

    ٹویٹر-mohsensays@

  • تمباکو نوشی سے مال کے ضیاع کے ساتھ ساتھ جان کو بھی خطرہ لاحق ہے تحریر:ذیشان علی

    تمباکو نوشی سے مال کے ضیاع کے ساتھ ساتھ جان کو بھی خطرہ لاحق ہے تحریر:ذیشان علی

    ایک مشہور واقعہ ہے شاید آپ نے بھی سن رکھا ہو کہ ایک شخص تھا جس نے کہیں یہ لکھا ہوا پڑھا کہ سگریٹ پینے والا سگریٹ پی کر شیر کا شکار بھی کر سکتا ہے،چنانچہ اس نے اسے عملی طور پر کرنے کی ٹھان لی وہ سگریٹ پی کر گاؤں کے قریب ایک چھوٹے سے جنگل کی طرف چلا گیا اور اس نے شیر کا شکار کرنا چاہا مگر شیر الٹا اس پر جھپٹ پڑا اب یہ شخص کسی طرح اپنی جان بچانے کے لئے درخت پر چڑھ گیا،
    لوگوں کو پکارا گاؤں والے مدد کو آئے اسے درخت سے اتارا تو اس کے جسم پر شیر کے پنجوں اور کچھ جگہ دانتوں کے زخم تھے،
    لوگوں نے پوچھا کہ یہ کیسے زخم ہے اس نے کہا کہ میں نے شیر کا شکار کرنا چاہا لیکن مجھے لگتا ہے کہ شیر نے سگریٹ کی پوری ڈبی پی رکھی تھی،
    سگریٹ بنانے والی بیشتر کمپنیاں بڑے بڑے اشتہارات دیتی ہیں وہ بہت سے ایونٹس کو سپانسر کرتی ہیں،
    ایسے اشتہارات بھی دیکھنے کو ملے کہ سگریٹ پینے والے افراد کو لڑکیاں پسند کرتی ہیں، اور سگریٹ پینے سے پیٹ صحیح اور رنگ خوبصورت ہوتا ہے،
    لیکن یہ سب بیکار کی باتیں ہیں اپنی پبلسٹی کرنے کے لیے طرح طرح کے اشتہارات دیتے ہیں، حقیقت کا اس سے کوئی لینا دینا نہیں،
    تمباکو نوشی میں چاہے سگریٹ ہو، حقہ ہو، شیشہ ہو، سگار یا پھر پائپ ہو یا تمباکو کھانا یا تمباکو کو سونگھنا بیشتر بیماریوں کا موجب بنتا ہے،
    زیادہ تر تمباکو نوشی سے معدے کا کینسر دل کا کمزور ہو جانا اور دماغی طاقت یعنی ہوش و حواس کھو دینا لبلبہ اور گردوں کا ختم ہو جانا گلے کا کینسر اور سانس کی نالی کا کینسر پھیپھڑوں کا کینسر سانس کا پھول جانا اس بات سے اندازہ لگا لیں کہ تمباکو نوشی کس حد تک انسانی صحت کے لیے خطرناک ثابت ہوتی ہے،
    اس کے تدارک کے لیے حکومتی سطح پر تمباکونوشی بنانے والی کمپنیوں کے اوپر بھاری بھر کم ٹیکس لگانے سے اور لوگوں میں آگہی مہم کو فروغ دینے سے اس کے استعمال کو کم کیا جا سکتا ہے،

    تمباکو نوشی کے استعمال کو بالکل ختم تو شاید کبھی نہیں کیا جا سکے گا ہاں البتہ مختلف قسم کے سیمینار منعقد کرکے لوگوں کو تمباکو نوشی سے پیدا ہونے والی بیماریوں کے متعلق آگاہ کیا جا سکتا ہے، اور حکومت کی جانب سے تمباکو نوشی کہ تمام اجزاء یعنی سگریٹ ہو کا شیشہ و سگار کی قیمتوں کو بڑھا کر لوگوں کی پہنچ سے دور کر دیا جائے،
    ایک محتاط اندازے کے مطابق دنیا بھر میں تمباکو نوشی سے پیدا ہونے والی بیماریوں کی سے ایک سال کے اندر کم سے کم پانچ سے چھ لاکھ افراد اپنی جان کی بازی ہار جاتے ہیں،
    اور تحقیق کے مطابق پاکستان میں ان کی تعداد ایک لاکھ تک پہنچ گئی ہے،
    تنباکو نوشی ایک زہر ہے اور ہمارے ہاں جانتے بوجھتے لوگ یہ زہر پیے جا رہے ہیں، اور اپنی زندگیوں کے ساتھ ساتھ اپنے ساتھ رہنے والے لوگوں کی زندگیوں کو بھی خطرے میں ڈال رہے ہیں،
    سگریٹ اور حقہ سے نکلتے ہوئے دھوئیں سے قریب کے افراد بھی متاثر ہو سکتے ہیں شاید لوگوں کو اس بات کا علم نہیں ہے یا علم ہونے کے باوجود یہ کام کر رہے ہیں تو پھر یہ کہنا غلط نہیں کہ ہم جانتے بوجھتے اپنی اور اپنے ساتھ رہنے والے لوگوں کی زندگیوں کو خطرے میں ڈال رہے ہیں،
    اور اس سگریٹ کے دھوئیں سے امراض قلب میں مبتلا لوگوں کی تعداد 3 لاکھ سے اوپر اور ایک لاکھ 65 ہزار سانس کی نالی کے انفیکشن اور بیشتر دمہ کے مریض اور اکیس ہزار کے قریب پھیپھڑوں کی بیماری کا شکار ہوتے ہیں،

    اور یہ بیماریاں جانتے بوجھتے لوگ کو لگائی جا رہی ہیں، تمباکو نوشی کرنے والے افراد سے مودبانہ گزارش ہے کہ وہ اپنی اس جان لیوا عادت کو ترک کریں تاکہ ان کی اپنی زندگی کے ساتھ ساتھ دوسروں کی صحت و زندگیاں محفوظ ہو سکیں،
    اور دوسرا یہ مال کا ضیاح ہے، آٹھ سو روپے ایک دن میں کمانے والا شخص اگر دن میں ایک ڈبی سگریٹ کی پیتا ہے تو وہ ڈیڑھ سو سے دو سو روپے کا نقصان کرتا ہے، اگر وہ زیادہ سگریٹ پیتا ہے تو پھر اس کی مزدوری کی کچھ ہی رقم وہ بچا پاتا ہے، اور ہمارے ہاں بیشتر افراد ایسے ہی ہیں،
    لیکن افسوس کے ساتھ ہی یہ کہنا پڑ رہا ہے کہ ہمارے ہاں اسکول کالجوں اور یونیورسٹیوں میں طلباء وطالبات منشیات کا استعمال کرتے ہیں، یہ کتنا افسوس ناک اور دل کو تکلیف دینے والا معاملہ ہے کہ مستقبل کہ معار کیسے برے کاموں پر معمور ہیں،
    یہ نہیں کہا جا سکتا کہ ان کے پاس آ گہی نہیں ہماری بد قسمتی ہے کہ ہم جانتے بوجھتے وہ کام کرتے ہیں جو ہمارے لیے نقصان دہ ہو،
    تعلیمی اداروں کی انتظامیہ اس حوالے سے سخت قانون ترتیب دے تاکہ کوئی بھی طالب علم ایسی سرگرمی میں ملوث نہ ہو جو اس کی زندگی اس کے مستقبل اور ہمارے معاشرے کے لیے نقصان دہ ہے،
    تمباکو سے بچیں اور سگریٹ نوشی سے اجتناب کریں اور اپنے معاشرے کو بہت سی بیماریوں سے محفوظ رکھیں،
    صحتمند معاشرہ صحتمند قوم

    @zsh_ali

  • ہمارا معاشرہ اور بے روزگار نوجوان طبقہ تحریر:عائشہ عنایت الرحمان

    ہمارا معاشرہ اور بے روزگار نوجوان طبقہ تحریر:عائشہ عنایت الرحمان

    پاکستان دنیا کے ان ممالک میں
    شامل ہے جہاں نوجوانوں کی تعداد زیادہ ہے اسے اگر نوجوانان پاکستان کہا جائے تو غلط نہ ہوگا اگر یہ کہا جائے کہ جس طرح زراعت کسی ملک کے لیے ریڑھ کی ہڈی کی حیثیت رکھتی ہے اتنی ہی نوجوان طبقہ ملک کے لیے اہمیت رکھتا ہے، تو غلط نہ ہوگا۔ لیکن ہمارے ہاں المیہ یہ ہے کہ یہاں ہر دوسرا نوجوان بے روزگار ہے اور اس سے بڑا المیہ یہ ہے کہ اعلی تعلیم یافتہ نوجوان طبقہ بھی بے روزگار ہیں۔ اعلی تعلیم یافتہ نوجوان اس لئے بے روزگار ہے کہ سرکاری نوکری کے پیچھے بھاگ رہے ہیں اور حال یہ ہے کہ سرکاری نوکری ہزار میں سے کسی ایک دو کو نصیب سے ملتی ہیں۔

    روزگار کس طرح تلاش کیا جائے؟
    ضرورت اس امر کی نہیں کہ ہر ایک کو سرکاری نوکری مل جائے بلکہ ضرورت اس امر کی ہے کہ ایک ایسا نظام قائم کیا جائے جہاں ہر کسی کو روزگار کے مواقع فراہم کیے جا سکے جہاں ان کو موٹیویٹ کیا جا سکے جہاں ان کی مائنڈ سیٹ کیا جا سکے جہاں ان میں شعور پیدا کیا جاسکے کے روزگار صرف یہی نہیں کہ آپ کو سرکاری نوکری مل جائے بلکہ روزگاری ہیں کہ اگر آپ کو سرکاری نوکری نہیں مل رہی باوجود لاکھ کوشش کے تو آپ کو یوں ہاتھ پہ ہاتھ دھرے بیٹھنا نہیں چاہیے اور ڈپریشن کا شکار نہیں بننا چاہیے بلکہ آپ اپنی سیلف اکیڈمی چلا لیں جہاں آپ ہزاروں بچوں کو ٹیوشن پڑھاؤ اور انکو انکی مستقبل کے لیے موٹیویٹ کرو کرو ۔
    جو کیڈمی نہیں بنا سکتے تو کسی دوسرے کی جوائن کرو اور اور اس میں کمال تک پہنچ جاؤں۔ ایسے بہت سے سکالر میں نے دیکھے ہے کہ جب سرکاری نوکری کے پیچھے ناکام ہوجاتے تو پھر یہی سیلف اکیڈمی کھول دیتے ہیں جہاں معاشرے کے ہزاروں بچے انکے مستقبل کے لیے موٹیویٹ کئے جاتے ہیں۔
    اگر آپ well educated نہ ہو تعلیم تھوڑی بہت ہے تو بھی بہت کچھ کر سکتے ہو ,بشرط کہ ارادہ ہو،لگن ہو۔
    ہر انسان میں ضرور کوئی نہ کوئی ٹیلنٹ چھپا ہوا ہوتا ہے اپنے اندر کی ٹیلینٹ کو اجاگر کرو اس میں کمال تک حاصل کرو ۔ روزگار کے لئے اعلی تعلیم یافتہ ہونا شرط نہیں، اور نہ روزگار صرف سرکاری نوکری کا نام ہے۔ آپ ارادہ کرو ،کوشش کرو اپنے ربّ پر کامل یقین رکھو ایک دن انشاللہ ضرور آپکی محنت رنگ لائے گی اور کامیابی آپکی قدم چومے گی۔ قاسم علی شاہ کا قول یاد آیا کہ محنت اتنی خاموشی سے کرو کہ تمہاری کامیابی شور مچادے .
    ضروری نہیں کہ آپ سرکاری ملازم بن جاؤ اب بہت کچھ بن سکتے ہو بشرط کہ جزبہ موجود ہو آپ میں ۔ روزگار کے ساتھ ساتھ نام بھی کماؤ اور اپنے معاشرے کے لیے بھی کچھ ایسا کرو کہ مرنے کے بعد بھی آپکا نام زندہ رہے۔ ہمارے سامنے زندہ مثالیں موجود ہیں جیسے کہ عبدالستار ایدھی جس نے اپنا سب کچھ لٹا کر خالص جذبے کے ساتھ نئے سفر کا آغاز کیا آج اس کے مرنے کے بعد بھی اس کا نام زندہ ہے۔ ڈاکٹر ذاکر نائیک، جس نے زندگی لگا دی اپنے فیلڈ میں ، آج انکی بدولت لاکھوں غیر مسلم اسلام سے با مشرف ہوئے۔ قاسم علی شاہ اور اسی طرح اور بھی بہت سارے زندہ مثالیں ہیں ہمارے سامنے ۔
    بیان کرنے کا مقصد یہ تھا کہ کہ اپنے اندر کی آواز کو سنو کہ تم کس لئے پیدا کئے گئے ہو ۔اپنے اندر کی پوشیدہ خوبیوں کو اجاگر کرو۔

    ایک کم ذہنی ہے کہ ہم ہر مصیبت اور مشکل کا ذمہ دار حکومت کو ٹھہراتے ہیں یہ بالکل غلط ہے۔ اصل میں ہم میں شعور کی کمی ہے، جب شعور آجاے اور تخلیقی زہن بن جائے تو روزگار کا مسئلہ 50 فی صد حل ہوجائے گا.

    بل گیٹس نے CSS نہیں کیا.
    جیک ما نے CSS نہیں کیا. اسٹیوجابز نے CSS نہیں کیا .
    مارک زکر برگ نے CSS نہیں کیا ۔
    ان کی ایک کمپنی کی قیمت پاکستان کے 70 سال قرض سے زیادہ ہے۔
    اگر وہ CSS کرتے تو آج صرف ڈی سی( DC) لگے ہوتے ۔ایک مشہور دانشور کا کہنا ہے کہ قوم کو افسر نہیں تخلیقی ذہن چاہیے..

    آج کل کے زمانے میں اگر دیکھا جائے تو بے روزگاری کی تو کوئی گنجائش ہی نہیں،کیونکہ یہ ماڈرن ٹیکنالوجی، انٹرنیٹ کا زمانہ ہے، ایسے ہزاروں آپلیکیشنز ہے موبائل فون میں جس کے ذریعے پیسے کمائے جا سکتے ہیں، لیکن وہی بات کہ ایک تخلیقی زہن کی ضرورت ہے۔

    حکومت سے شکو
    اک تلخ حقیقت کہ اعلی تعلیم یافتہ سرکاری نوکری کے پیچھے خوار ہو رہے ہیں۔ یہ حکومت کی زمہ داری ہے کہ انکو انکی ڈگری کے حساب سے سیٹ دےدیں، ورنہ یہی نوجوان آخر میں دل برداشتہ ہو کر غلط اختیار کر جاتے ہیں۔ یہ صرف ان کی ذات کی حد تک نہیں بلکہ ہمارے معاشرے کے لئے بھی تباہی کا ذریعہ بن جاتا ہے ۔اپنی آنکھوں دیکھا حال بیان کرو کہ ہماری ٹیچرز تھی فزکس کی، انکا شوہر نشایئ تھا۔ میں نے ایک دن پوچھا کہ میڈم یہ ماجرا کیا ہے تو کہنے لگی کہ بیٹا میرے شوہر نے انجینئرنگ میں ڈگری کی ہے اور اپنی یونیورسٹی کا ٹوپر رہا ہے پر جب 7 ،6 سال مسلسل کوشش کے باوجود سرکاری نوکری نہیں ملی تو آخر میں دل برداشتہ ہو کر یہ راستہ اپنایا اور نشائ بن گیا ۔اسی طرح میرے جاننے والوں میں سے تعلیم یافتہ نوجوان جس نے 13 14 سال سرکاری نوکری کے پیچھے دھکے کھاے اور ہاتھ کچھ نہیں آیا تو آخر میں زد میں آکر کریمنل بن گیا۔ تو یہ کس کا نقصان ہوا ؟
    اگر حکومت ان کو بروقت روزگار فراہم کرے تو اس طرح جرائم کی نوبت نہیں آ ے گی اور اسی طرح یہ معاشرہ بہت سی برائیوں سے بچ سکتا ہے۔

    @koi_hmmsa_nhe

  • سگریٹ نوشی سے ہونے والی جان لیوا بیماریاں تحریر فضل عباس

    سگریٹ نوشی سے ہونے والی جان لیوا بیماریاں تحریر فضل عباس

    کسی بھی چیز کی زیادتی کو اسکی عادت ہو جانے کو نشے کا نام دیا جاتا ہے ،پھر وہ نشہ وہ عادت چاہے کسی چیز کی ہو یا انسان کی آپکو تباہی کے دہانے تک لے جاتی ہے جہاں آپ اپنی زندگی اور اپنے سے جڑے لوگوں کیلیے صرف باعث تکلیف بن کر رہ جاتے ہیں
    یوں تو بہت سے نشے ہیں لیکن سب سے سستہ اور نوجوان نسل میں برقی رفتار سے پھیلتا ہوا نشہ سگریٹ نوشی ہے
    سگریٹ نوشی دو طرح کی ہوتی ہے
    ایکٹو سموکنگ، جس میں کوئی بھی شخص براہ راست سگریٹ نوشی کرتا ہے اور اس زہریلے دھویں زہریلے مواد کے ساتھ اپنی رگوں میں اتار کر لمحہ لمحہ موت کو قریب کرتا ہے۔
    اور
    پیسو سموکنگ ،جس میں آپ بذات خود سگریٹ نوشی نہیں کرتے لیکن آپ کے ارد گرد موجود سگریٹ نوشوں کے سگریٹ کا دھواں ہوا میں شامل ہوکر آپکے پھیپھڑوں تک جاتا ہے۔
    سگریٹ نوشی نا صرف ہمیں معاشرتی طور پر تباہ و برباد کرتی ہے بلکہ انسانی صحت پر بھی بری طرح اثر انداز ہوتی ہے ، اور جان لیوا بیماریوں کا باعث بنتی ہے، جن میں مبتلا ہو کر ہر سال لاکھوں لوگ لقمہ اجل بن جاتے ہیں ۔
    سگریٹ نوشی سے ہونے والی دس بڑی بیماریاں اور ان کے جسم انسانی پر اثرات درج زیل ہیں

    1 پھیپھڑوں کا کینسر
    ہر سال پھیپھڑوں کے کینسر کے باعث موت کا شکار ہونے والے دس لاکھ افراد میں سے %85 ایسے لوگ ہیں جن میں کینسر کا سبب سگریٹ نوشی ہے ۔
    سگریٹ میں موجود زہریلے مرکبات سانس کی نالی سے ہوتے ہوئے پیپھڑوں تک رسائی حاصل کرتے ہیں اور خلیات کو تباہ کرتے ہیں ۔ مرض کے ابتدائی دور میں اسکی علامات ظاہر نہیں ہوتی عموما اس کی تشخیص آخری مراحل میں ہوتی ہے ۔اسکی عام علامات میں ،مسلسل کھانسی ،کھانسی کے دوران منہ سے خون کا آنا،سانس لینے میں رکاوٹ ،سینے کی تکلیف ،اور سر درد وغیرہ شامل ہیں
    بر وقت ڈاکٹر سے رجوع،سگریٹ نوشی کا بائیکاٹ ،مکمل احتیاط اور علاج کے زریعے اس بیماری سے چھٹکارہ ممکن ہے
    2. (دائمی رکاوٹ پلمونری بیماری) COPD
    ایک رکاوٹ پھیپھڑوں کی بیماری ہے جس کی وجہ سے سانس لینا مشکل ہو جاتا ہے۔ یہ سنگین طویل مدتی معذوری اور ابتدائی موت کا سبب بنتا ہے۔ سی او پی ڈی تھکاوٹ سے شروع ہوتی ہے اور، پھر خراب ہوتی جاتی ہے ، یہاں تک کہ سیڑھیوں کے مختصر سیٹ پر چڑھنا یا پیدل چلنا ناممکن ہے۔ یہ لوگوں کو ان کے گھروں میں قید کردیتی ہے ، اپنی پسند کی چیزیں کرنے یا دوستوں کو دیکھنے سے قاصر ہے۔ تمام سی او پی ڈی کا تقریبا 80 فیصد سگریٹ نوشی کی وجہ سے ہوتا ہے۔

    3۔دل کی بیماری
    تمباکو نوشی آپ کے جسم کے تقریبا ہر عضو کو نقصان پہنچاتی ہے ، بشمول آپ کے دل۔ تمباکو نوشی آپ کی شریانوں میں رکاوٹ اور تنگی کا سبب بن سکتی ہے ، جس کا مطلب ہے کہ آپ کے دل میں خون اور آکسیجن کا بہاؤ کم ہے۔ جب امریکہ میں سگریٹ کا استعمال کم ہوا تو دل کی بیماریوں کی شرح بھی کم ہوئی۔ پھر بھی ، دل کی بیماری امریکہ میں موت کی پہلی وجہ بنی ہوئی ہے۔

    4.دمہ/ استھما
    دمہ پھیپھڑوں کی ایک دائمی بیماری ہے جو آپ کے پھیپھڑوں سے ہوا کو باہر سے اندر اوراندر سے باہر منتقل کرنا مشکل بناتی ہے – دوسری صورت میں اسے "سانس لینے” کے نام سے جانا جاتا ہے۔ چونکہ سگریٹ کا دھواں ہوا کے راستوں کو پریشان کرتا ہے ، یہ اچانک اور شدید دمہ کے حملوں کو متحرک کرسکتا ہے۔ دمہ ایک سنگین صحت کی حالت ہے۔ تمباکو نوشی اسے مزید خراب کرتی ہے۔

    5۔زیابیطس
    اگر آپ سگریٹ نوشی کرتے ہیں تو آپ کو ٹائپ 2 ذیابیطس ہونے کا زیادہ امکان ہوتا ہے۔ تمباکو نوشی نہ کرنے والوں کے مقابلے میں ٹائپ 2 ذیابیطس کا خطرہ 30 سے ​​40 فیصد زیادہ ہے۔ مزید برآں ، تمباکو نوشی ذیابیطس کی تشخیص کے بعد پیچیدگیوں کا خطرہ بڑھاتا ہے ، جیسے دل اور گردے کی بیماری ، ٹانگوں اور پیروں میں خون کا ناقص بہاؤ (جو کہ انفیکشن اور ممکنہ کٹائی کا باعث بنتا ہے) ، اندھا پن اور اعصاب کو نقصان پہنچاتا ہے۔

    6۔اسٹروک
    چونکہ تمباکو نوشی آپ کی شریانوں کو متاثر کرتی ہے ، اس لیے یہ فالج کا باعث بن سکتی ہے۔ فالج اس وقت ہوتا ہے جب آپ کے دماغ کو خون کی فراہمی عارضی طور پر بند ہو جائے۔ دماغ کے خلیات آکسیجن سے محروم ہوتے ہیں اور مرنا شروع ہو جاتے ہیں۔ فالج ، دماغی فعل میں تبدیلی اور موت کا سبب بن سکتا ہے۔ اسٹروک ریاست ہائے متحدہ میں موت کی پانچویں اہم وجہ اور بالغ معذوری کی ایک اہم وجہ ہے۔

    7۔اندھا پن ، موتیابند اور عمر سے متعلقہ میکولر انحطاط۔

    تمباکو نوشی آپ کو اندھا کر سکتی ہے۔ یہ آپ کی آنکھوں کو نقصان پہنچاتی ہے اور اس کے نتیجے میں بینائی ضائع ہو سکتی ہے۔ عمر سے متعلق میکولر انحطاط تمباکو نوشی کی وجہ سے ہوتا ہے۔ یہ 65 اور اس سے زیادہ عمر کے بالغوں میں اندھے پن کی سب سے بڑی وجہ ہے۔

    8۔خواتین میں تولیدی اثرات۔

    تمباکو نوشی عورتوں میں ایکٹوپک حمل کا سبب بن سکتی ہے ، جو اس وقت ہوتا ہے جب ایک فرٹیلائزڈ انڈا بچہ دانی کے علاوہ کسی اور جگہ لگاتا ہے۔ انڈا زندہ نہیں رہ سکتا اور اگر علاج نہ کیا گیا تو ماں کے لیے جان لیوا ثابت ہو سکتا ہے۔ تمباکو نوشی بھی زرخیزی کو کم کرنے کا سبب بنتی ہے ، اس کا مطلب حاملہ ہونا زیادہ مشکل بناتا ہے۔

    9۔قبل از وقت ، کم پیدائشی وزن والے بچے۔
    تمباکو نوشی کے اثرات نہ صرف ماں کی صحت پر بلکہ اس کے بچے پر بھی پڑتے ہیں۔ حاملہ ہونے کے دوران تمباکو نوشی سے بچے وقت سے پہلے اور کم پیدائشی وزن کے ساتھ پیدا ہو سکتے ہیں۔ بہت جلد یا بہت چھوٹے پیدا ہونے والے بچوں میں صحت کی پیچیدگیوں اور یہاں تک کہ موت کا خطرہ بڑھ جاتا ہے۔

    10. کینسر کی 10 سے زائد دیگر اقسام بشمول بڑی آنت ، گریوا ، جگر ، معدہ اور لبلبے کا کینسر

    بنیادی طور پر ، تمام کینسر۔ کینسر کے مریضوں اور زندہ بچ جانے والے دونوں کے لیے ، سگریٹ نوشی کرنے والوں میں دوسرا پرائمری کینسر ہونے کا زیادہ امکان ہوتا ہے۔ اور اب ہم جان چکے ہیں کہ تمباکو نوشی کم از کم ایک درجن کینسر کا سبب بنتی ہے ، بشمول جگر اور کولوریکٹل ، اور پروسٹیٹ کینسر کے مریضوں کی بقا کی شرح کو کم کرتی ہے۔
    لہذا حکومت اور ہر ایک شخص تمباکو نوشی ختم کرنے میں اپنا کردار ادا کرے

  • جنسی ہراسگی اور جنسی زیادتی کیسی روکی جائے  تحریر اکرام اللہ نسیم

    جنسی ہراسگی اور جنسی زیادتی کیسی روکی جائے تحریر اکرام اللہ نسیم

    پاکستان میں جنسی ہراسانی اور بچوں کے ساتھ زیادتی کے واقعات ناقابل یقین درجے تک بڑھ چکے ہیں
    بچوں کے ساتھ زیادتی کو روکنا عام آدمی کے لئے کیا حکومت وقت کے لئے بھی روکنا کسی چیلنج سے کم نہیں
    صرف اگر ہم حال ہی کے مینار پاکستان واقعہ کو لے لیں اسپر غور و فکر کریں تب جاکرسمجھ آسکتا کہ معاشرے میں بستے انسانوں کے آنکھوں سے حیا دل سے ایمان اور انسانیت پر رحم کھانے کا حس مردہ ہوچکا
    کسی کے دل میں رحم باقی نہیں رہا انسانیت صرف نام کی حد تک رہ گئی دلوں کو زنگ لگ چکے زبان سے غلاظتوں کے تیر نکل رہے ہیں خوف خدا ختم ہو چکا
    جنسی ہراسانی اور بچوں کے ساتھ زیادتی کے واقعات کے روک تھام کے لیے سب سے پہلے والدین کے لئے ضروری ہے کہ وہ اپنے بچوں کی ذہن سازی کریں کہ بیٹا اگر کوئی عام آدمی آپکو پکڑتا ہے آپ کو پیار کرتا ہے مطلب چمی وغیرہ لیتا ہے اس آدمی کا کوئی حق نہیں کہ وہ آپ کو پیار کرے یہ صرف والدین کا حق ہے کسی دوسرے بندے کا حق نہیں
    دوسری بات والدین اپنے بچوں کو سمجھائیں ذہن سازی کریں اگر بیٹا ہے اسے سمجھائیں کہ کسی کی ماں بہن بیٹی کی طرف آنکھ اٹھا کر نہیں دیکھنا کیوں کہ اسلام نے اس طرح کے افعال منع کیا ہے اس میں گناہ ہے اللہ ناراض ہوتا
    اور اگر بیٹی ہے تو اسے بھی سمجھائیں کہ بیٹی کسی غیر محرم مرد کے ساتھ باتیں نہ کرنا اسکی طرف نگاہیں اٹھا کر نہ دیکھنا اسلام نے ان چیزوں کو سختی سے منع کیا ہے
    اور یہ ذہن سازی اگر بچوں کی بچپن سے کی جائے تو اسکا بہت فائدہ ہوتا ہے
    جب بچہ اور بچی ان غیر شرعی افعال سے بچ جائیں گے اور معاشرے کے اندر جو موجودہ بگاڑ بچوں کے ساتھ زیادتی کی صورت میں سامنے آرہا ہے بلکل کم ہو جائے گا
    اسکے بعد ذمہ داری استاد کی بنتی ہے کہ استاد بچوں کو سمجھائیں انکو اس بارے میں لیکچر دیں کہ اللہ تعالیٰ نے قرآن میں مردوں اور عورتوں کے لئے احکامات بھیجیں ہیں
    قُلْ لِّلْمُؤْمِنِیْنَ یَغُضُّوْا مِنْ اَبْصَارِهِمْ وَ یَحْفَظُوْا فُرُوْجَهُمْؕ-ذٰلِكَ اَزْكٰى لَهُمْؕ-اِنَّ اللّٰهَ خَبِیْرٌۢ بِمَا یَصْنَعُوْنَ(۳۰)
    ترجمہ
    مسلمان مردوں کو حکم دو کہ اپنی نگاہیں نیچی رکھیں اور اپنی شرمگاہوں کی حفاظت کریں یہ ان کے لیے زیادہ پاکیزہ ہے بیشک اللہ ان کے کاموں سے خبردار ہے ۔
    اسی طرح نگاہیں جھکا کر رکھنے اور حرام چیزوں کو دیکھنے سے بچنے کی ترغیب دیں استاد
    اکثر احادیث مبارکہ میں بھی مسلمان مردوں کو اپنی نظریں نیچی رکھنے اور اللہ تعالیٰ کی حرام کردہ چیزوں کو دیکھنے سے بچنے کا حکم دیاگیا ہے
    اور اسی طرح کا حکم عورتوں کے لیے بھی اللہ نے سورت النور کے اندر بیان فرمایا
    وَقُلْ لِّلْمُؤْمِنَاتِ يَغْضُضْنَ مِنْ اَبْصَارِهِنَّ وَيَحْفَظْنَ فُرُوْجَهُنَّ وَلَا يُبْدِيْنَ زِيْنَتَهُنَّ اِلَّا مَا ظَهَرَ مِنْـهَا ۖ وَلْيَضْرِبْنَ بِخُمُرِهِنَّ عَلٰى جُيُوْبِهِنَّ ۖ وَلَا يُبْدِيْنَ زِيْنَتَهُنَّ اِلَّا لِبُعُوْلَتِهِنَّ اَوْ اٰبَآئِهِنَّ اَوْ اٰبَآءِ بُعُوْلَتِهِنَّ اَوْ اَبْنَآئِهِنَّ اَوْ اَبْنَآءِ بُعُوْلَتِهِنَّ اَوْ اِخْوَانِهِنَّ اَوْ بَنِىٓ اِخْوَانِهِنَّ اَوْ بَنِىٓ اَخَوَاتِهِنَّ اَوْ نِسَآئِهِنَّ اَوْ مَا مَلَكَتْ اَيْمَانُهُنَّ اَوِ التَّابِعِيْنَ غَيْـرِ اُولِى الْاِرْبَةِ مِنَ الرِّجَالِ اَوِ الطِّفْلِ الَّـذِيْنَ لَمْ يَظْهَرُوْا عَلٰى عَوْرَاتِ النِّسَآءِ ۖ وَلَا يَضْرِبْنَ بِاَرْجُلِهِنَّ لِيُعْلَمَ مَا يُخْفِيْنَ مِنْ زِيْنَتِهِنَّ ۚ وَتُوْبُـوٓا اِلَى اللّـٰهِ جَـمِيْعًا اَيُّهَ الْمُؤْمِنُـوْنَ لَعَلَّكُمْ تُفْلِحُوْنَ
    اور ایمان والیوں سے کہہ دو کہ اپنی نگاہ نیچی رکھیں اور اپنی عصمت کی حفاظت کریں اور اپنی زینت کو ظاہر نہ کریں مگر جو جگہ اس میں سے کھلی رہتی ہے، اور اپنے دوپٹے اپنے سینوں پر ڈالے رکھیں، اور اپنی زینت ظاہر نہ کریں مگر اپنے خاوندوں پر یا اپنے باپ یا خاوند کے باپ یا اپنے بیٹوں یا خاوند کے بیٹوں یا اپنے بھائیوں یا بھتیجوں یا بھانجوں پر یا اپنی عورتوں پر یا اپنے غلاموں پر یا ان خدمت گاروں پر جنہیں عورت کی حاجت نہیں یا ان لڑکوں پر جو عورتوں کی پردہ کی چیزوں سے واقف نہیں، اور اپنے پاؤں زمین پر زور سے نہ ماریں کہ ان کا مخفی زیور معلوم ہوجائے، اور اے مسلمانو! تم سب اللہ کے سامنے توبہ کرو تاکہ تم نجات پاؤ
    اگر یہی ترغیب استاد ہفتہ وار بچوں کو دیں
    تو ان شاءاللہ اللہ رب العزت سے قوی امید ہے کہ معاشرے میں جو آئے روز جنسی زیادتیوں کے واقعات رونما ہوتے ہیں اس میں کافی حد تک کمی آجائے گی مگر بدقسمتی سے ہمارے معاشرے میں نہ تو بچوں کی اس بارے میں ذہن سازی کی جاتی ہے اور نہ ہی انکو قرآن مجید اور احادیث میں ان افعال سے روکنے کے لئے ذکر کردہ احکام کی تعلیم دی جاتی ہے یہی وجہ ہے کہ ہمارا معاشرہ اسلامی تعلیمات سے واقف نہیں جسکی وجہ سے جنسی ہراسگی کے واقعات تیزی سے بڑھتے چلے جارہے ہیں
    ٹویٹر اکاؤنٹ ہینڈل
    @realikramnaseem

  • مُضَرصحت”  (تمباکونوشی) تحریر:افشین

    مُضَرصحت” (تمباکونوشی) تحریر:افشین

    اس جَدید دور میں اب ایک عام انسان کے پاس بھی اتنی معلومات ہوتی ہے کہ اب ہر کوئی جانتا ہے تَمباکو نوشی صحت کے لیے مضر ہے پھر بھی کچھ افراد اپنی صحت کا نہیں سوچتے اور اسکا استعمال مسلسل کرتے رہتے ہیں اور دوسروں کے لیے بھی نقصان دہ ثابت ہوتے ہیں ۔ تمباکو میں ایک کیمیائی مادہ نکوٹین شامل ہوتا ہے جو کہ زہریلے اور نشیلے اثرات کا حامل ہوتا ہے جس سے وقتی طور پہ تسکین حاصل ہوتی ہے مگر یہ انتہائی زہریلا ہوتا ہے اس سے گردے بھی متاثر ہوتے ہیں اور زیادہ استعمال سے گردے فیل ہوجاتے ہیں ۔ اسکے علاوہ بھی بلڈ پریشر ،ہارٹ اٹیک انجائنا جیسی بیماریاں گھر کر لیتی ہیں ۔ پھیپھڑوں پہ بھی برا اثر پڑتا ہےسب کچھ جانتے ہوئے بھی کہ یہ کتنا مضر زہر ہے سب یہ زہر خود خوشی سے خریدتے ہیں ۔ اب سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ لوگ اپنی زندگی کے دشمن کیوں ؟ کیا لوگ یہ سب شوق سے کرتے ہیں ؟ انکی اس حالت کا ذمہ دار کون؟ یہ خود یا ان سے جڑے افراد یا پھر حکومت ؟؟بعض اوقات انسان اپنی زندگی کے مسئلوں میں اس کدھر الجھ جاتا ہے اسکو سکون تک میسر نہیں ہوتا افراتفری کا یہ عالم ہے کہ مصروفیت کے باعث اب انسان خود کے لیے بھی ٹائم نکال نہیں پاتا بعض افراد خود کو پریشانیوں کا گھر سمجھ کے تمباکو نوشی کا استعمال کر کے خود کو مسئلوں سے دور کرنے کی کوشش میں ہوتے ہیں انکو لگتا ہے اسکے استعمال سے انکے ذہن کو سکوں میسر ہوگا ۔جبکہ کچھ افراد دیکھا دیکھی میں بھی استعمال کرتے ہیں۔ایسے دوستوں کے ساتھ بیٹھنے میں فخر محسوس کرتے ہیں جو تمباکو نوشی کا استعمال کرتے ہیں یہ کام صیحح سمجھ کے انکی نقل کرتے ہیں مگر کیا یہ صیحح عمل ہے ؟؟جب ایک بار یہ لت لگ جائے اس سے چھٹکارا آسانی سے نہیں ملتا بروقت روک تھام سے علاج سے ممکن ہے کہ وہ انسان صحت یاب ہوجاتا ہے پر جو پوری طرح سے اس دلدل کا حصہ بن چکے ہوتے ہیں نشہ انکے اندر اس قدر سرایت کر چکا ہوتا ہے کہ جان لیوا ثابت ہوتا ہے نشہ نا ملنے پہ وہ انسان گھر والوں سے جھگڑا کرتا ہے مار پیٹ کرتا ہے پیسے ادھار لیتا رہتا ہے نا صرف گھروالے گردونواح والے بھی اس سے تنگ آجاتے ہیں۔ ایسے افراد بہت سے جرائم کی وجہ بننے لگتے ہیں ۔یہ سب خریدنے کے لیے وہ گھروں میں چوری بھی کرنے لگتے ہیں اپنے بال بچوں کا بھی نہیں سوچتے ۔اسکی روک تھام جلد از جلد ہونی چاہیے حکومت کو ایسے افراد کو پکڑ کے سزا دینی چاہیے تاکہ وہ ان چیزوں کی فروخت نہ کرسکیں اور نوجوان نسل کو اس راہ پہ ڈال کے اس ملک کے نوجوانوں کو گمراہ نہ کر سکیں ۔ ایسے اقدام زیادہ تر سکول کالجز میں زیادہ ہوتے ہیں اساتذہ بچوں پہ نظر رکھیں اور والدین بھی اپنے بچوں پہ نظر رکھیں اور تمباکو نوشی سے بچا کے رکھیں -جو لوگ دوسروں کو نشہ لگانے میں مصروف ہوتے ہیں ایسے لوگ ایک ایماندار آفیسر کو تو ٹکنے نہیں دیتے جو بھی انکے راستے میں آئے یا انکے خلاف بولنے لکھنے کی کوشش بھی کردے اسکو نقصان ہی ملتا ہے حکومت سے اپیل ہے اس مسئلے پہ نظرِ ثانی کریں ۔تمباکو نوشی انسان کو اندر سے کھوکھلا کر دیتی ہےنوجوان نسل کو پوری طرح سے تباہ کرنے میں یہ تمباکو نوشی ایک ہتھیار بنا ہوا ہے ۔ماوں کے لاڈلے بچوں کو اس راہ پہ چلا کے ان ماوں کا سہارا چھین لیا جاتا ہے پیسہ کی خاطر ضمیر فروش افراد اپنی ہی نسل کے دشمن بنے ہوئے ہیں احتیاط ضروری ہے بچوں پہ دھیان دیں ایسی سرگرمیوں میں شامل نہ ہوں ۔ اور ایسے افراد کو گرفتار کیا جائے جو نوجوان نسل کو نشے میں لگانے کی کوشش میں سرگرم ہیں ۔ خود پہ خیال رکھیں ایسے میل جول سے پرہیز کریں۔ جو اپکی ذات کو نقصان پہنچائے ۔

    #افشین
    @Hu__rt7

  • تمباکو نوشی اپنوں اور دین سے دوری کا سبب ہے!!!  تحریر عقیل احمد راجپوت

    تمباکو نوشی اپنوں اور دین سے دوری کا سبب ہے!!! تحریر عقیل احمد راجپوت

    تمباکو نوشی کرنے والوں کو اپنے پیاروں سے بچھڑنے کا کچھ احساس ہو تو وہ پیسے بربادی اور اپنی موت کی جانب تیزی سے پیش قدمی چھوڑ کر اپنی زندگی میں خوشیاں لا سکتے ہیں تمباکو نوشی پیسوں کے ساتھ ساتھ مختلف بیماریوں کا بھی پیش خیمہ ثابت ہوتی ہے گینگرین دل کی بیماری، سانس کی بیماری اور کینسر جیسے مہلک ترین مرض تمباکو نوشی کرنے والوں میں عام انسانوں کی نسبت زیادہ ہونے کا خدشہ ہوتے ہیں مگر ہماری نوجوان نسل میں یہ بیماری بہت تیزی سے پروان چڑھ رہی ہے پوری دنیا اس وبا کے باعث لاکھوں لوگوں کو روز نگل رہی ہے اور ہنستے ہوئے چہرے چند ہی لمحوں میں بے جان لاشوں میں تبدیل ہو جاتے ہیں اور پیچھے پچھتاوا چھوڑ جاتے ہیں نوجوان نسل اس عمل کو فیشن کے طور پر استعمال کرنا شروع کرتی ہے اور دھیرے دھیرے وہ اس کے عادی ہوجاتے ہیں جس کو چھوڑنے کی لاکھ کوشش کے باوجود یہ لت چھوڑنا انتہائی مشکل ہو جاتا ہے پاکستان میں نوجوانوں میں تمباکو نوشی کے بڑے کیس سامنے آرہے ہیں جو حکومت کے لئے سوچنے کا مقام ہے سگریٹ کے پیکٹ پر موجود وارننگ کے باوجود عام عوام میں رہنمائی نا ہونے کی وجہ سے بچوں تک کو بآسانی دستیاب ہے ایک نوجوان دن میں ایک سے دو پیکٹ سگریٹ پینے والوں کی تعداد ہزاروں سے بڑھ کر کروڑوں میں پہنچ چکی وزارت صحت اٹھارویں ترمیم کے بعد صوبائی حکومتوں کے پاس چلی گئی صحت وفاق اور صوبوں میں ایسی بٹی کے ملک کے مریضوں کو آدھا تیتر آدھا بٹیر بنا دیا گیا چھوٹے چھوٹے بچوں میں تمباکو نوشی سراہیت کرتی جارہی ہے جس کا ادراک کرنا بہت ضروری ہے ورنہ معاشرے میں صحت مند معاشرے کا قیام انتہائی ناگزیر ہو جائے گا مسلمان ہونے کے ناطے ویسے بھی نشہ حرام ہے مگر ہمارے معاشرے میں نشہ اور فضول خرچ پر اربوں روپے ضائع ہو جاتا ہے مگر دوسرا تاثر یہ بھی ہے کہ لوگ اسی کاروبار سے پیسے کمانا جائز سمجھتے ہیں ورنہ دیکھا جائے تو تمباکو نوشی کا کام کرنے والوں کا پیسہ جائز ہے یا نہیں اس پر بحث شروع ہوجائے گی تمباکو نوشی سے منسلک ملازمین جو تنخواہیں وصول کرتے ہیں اس پیسے سے صدقے اور حج کرتے ہیں وہ جائز ہے ان پیسوں سے دی جانے والی زکوٰۃ خیرات اللہ بہتر جانتا ہے مگر دین میں نشہ حرام ہے تو نشے کا کاروبار حلال کیسے ہوگیا میرا ذہن قبول نہیں کرتا انتباہ کا نوٹس لگا کر زہر کا کاروبار کرنے والی کمپنی اگر اپنے دل میں یہ سوچ کر مطمئن ہو کہ ہم نے تو لوگوں کا آگاہ کردیا ہے کیا انکے اپنے دل اس بات کو قبول کرنے میں حق بجانب ہیں کہ وہ سہی عمل کے ذریعے رزق کمارہیں ہے یہ فیصلہ ان مالکان کے ظمیر کی آواز بن کر ان کے کانوں میں ضرور گونجتا ہوگا بحرحال چھوٹے سے کیبن سے لیکر بڑی بڑی فیکٹریاں اس زہر کو بیچنے کی زمہ دار تو ہیں اس بات سے کوئی لاتعلقی نہیں کرسکتا ہمارے معاشرے میں اس چیز کو اجاگر کرنے کی ضرورت ہمارے مفتیانِ کرام اور علماء حضرات کی بھی ضرورت ہے کہ وہ اپنے خطابات اور پیغامات کے زریعے لوگوں کو اس چیز سے بچنے کی تلقین کریں تاکہ جن لوگوں کو معلومات نہیں ہیں وہ اس عمل سے دور ہوسکیں اور انجانے میں سرزد ہونے والی ان غلطیوں سے خود کو دور کرنے کی ہر ممکن کوشش کریں معاشرے میں آگاہی فراہم کرنا جن کا فرض ہے وہ بھی اس معاملے پر اجتماعات اور سیمینارز منعقد کریں تاکہ لوگوں کو گناہ سے توبہ اور بچانے اور اپنی آخرت میں کامیابی حاصل کرنے کا وسیلہ مل جائے اور اللہ تعالیٰ کے سامنے سرخرو ہوجائیں

  • منشیات کی لت پاکستان کا ایک سماجی مسئلہ   تحریر: زاہد کبدانی

    منشیات کی لت پاکستان کا ایک سماجی مسئلہ تحریر: زاہد کبدانی

    پاکستان میں منشیات کا استعمال 2013 سروے رپورٹ ، نارکوٹکس کنٹرول ڈویژن ، پاکستان شماریات بیورو اور اقوام متحدہ کی مشترکہ تحقیق میں بتایا گیا ہے کہ ملک میں 7.6 ملین منشیات کے عادی ہیں ، جن میں سے 78 فیصد مرد اور 22 فیصد خواتین ہیں۔

    بھنگ پاکستان میں سب سے زیادہ استعمال ہونے والی دوا ہے ، جس میں تقریبا 40 لاکھ لوگ بطور صارف درج ہیں۔ افیون ، یعنی افیون اور ہیروئن ، کل منشیات استعمال کرنے والوں کا تقریبا  ایک فیصد استعمال کرتے ہیں ، 860،000 دائمی ہیروئن استعمال کرنے والے۔ سروے سے پتہ چلتا ہے کہ ایک اندازے کے مطابق 30 لاکھ منشیات پر منحصر افراد کو پیشہ ورانہ علاج کی اشد ضرورت ہے۔ تاہم ، بحالی کا دستیاب ڈھانچہ مدد کے محتاج افراد کے ایک حصے سے زیادہ مدد نہیں کر سکتا۔

    ایک قدامت پسند اندازے کے مطابق منشیات کے عادی افراد کی تعداد میں اضافے کی شرح سالانہ 40،000 ہے۔ سروے کے ذریعے سامنے آنے والی سب سے پریشان کن حقیقت یہ ہے کہ ملک میں ہیروئن کے عادی افراد کی بڑھتی ہوئی تعداد کے ساتھ صارفین کی اوسط عمر 24 سے کم ہے۔

    رپورٹ کے مطابق ، مرد بنیادی طور پر بھنگ اور افیون کا استعمال کرتے ہیں ، جبکہ خواتین ٹرانکلیوائزرز ، سیڈیٹیوٹس اور تجویز کردہ امفیٹامائنز پر انحصار کرتی ہیں۔ تشویشناک بات یہ ہے کہ اس رپورٹ نے ملک بھر میں نسخہ ادویات کے غیر طبی استعمال کا زیادہ پھیلاؤ (1.6 ملین) ظاہر کیا ، خاص طور پر خواتین میں۔ رپورٹ میں پایا گیا کہ تقریبا all تمام سروے کی گئی خواتین نے کہا کہ وقت گزرنے کے ساتھ ساتھ انہوں نے اوپیئڈ پر مبنی درد کش ادویات (مورفین وغیرہ) کا غلط استعمال کیا اور کچھ حد تک پرسکون اور دواؤں کو استعمال کیا جو کہ فارمیسیوں میں آسانی سے دستیاب ہیں۔

    زیادہ تر منشیات افغانستان سے آتی ہیں ، جو دنیا کی کم از کم 75 فیصد ہیروئن کی پیداوار اور رسد کا ذمہ دار ملک ہے۔ یو این او ڈی سی کا حساب ہے کہ 15 سے 64 سال کی عمر کے 800،000 سے زائد پاکستانی باقاعدگی سے ہیروئن استعمال کرتے ہیں۔ یہ بھی اندازہ لگایا گیا ہے کہ پاکستان میں سالانہ 44 ٹن پروسیسڈ ہیروئن استعمال کی جاتی ہے ، استعمال کی شرح جو امریکہ سے دو یا تین گنا زیادہ ہے۔ افغانستان سے مزید 110 ٹن ہیروئن اور مارفین پاکستان کے ذریعے بین الاقوامی منڈیوں میں اسمگل کی جاتی ہے۔ ایک قدامت پسند اندازے کے مطابق ، خیال کیا جاتا ہے کہ پاکستان میں منشیات کی غیر قانونی تجارت سے سالانہ دو ارب ڈالر کی آمدنی ہوتی ہے۔

    منشیات کے استعمال کرنے والوں کی تعداد خاص طور پر پاکستان کے صوبہ خیبر پختونخوا میں زیادہ ہے ، جہاں تقریبا 11 11 فیصد آبادی منشیات کی لپیٹ میں ہے۔ 2013 میں بلوچستان میں منشیات استعمال کرنے والوں کی تعداد 280،000 تھی۔ حالیہ برسوں میں انجکشن کے استعمال کرنے والوں کی تعداد میں تیزی سے اضافہ ہوا ہے۔ 2007 میں ، پاکستان میں ایک اندازے کے مطابق 90،000 منشیات استعمال کرنے والے تھے ، لیکن یہ تعداد 2014 تک بڑھ کر 500،000 تک پہنچ گئی۔

    یہ اضافہ ایچ آئی وی مثبتیت میں اضافے کے ساتھ بھی ہوا ہے۔ تازہ ترین تحقیق کے مطابق 2005 میں 11 فیصد پاکستانی منشیات استعمال کرنے والے ایچ آئی وی پازیٹو تھے۔ یہ تعداد 2011 میں بڑھ کر 40 فیصد ہو گئی تھی۔

    سروے سے یہ بات سامنے آئی ہے کہ منشیات کے عادی افراد کی اکثریت عام طور پر نرم منشیات جیسے چھالیہ ، گٹکا اور پان سے شروع ہوتی ہے ، اور پھر ہیروئن ، افیون اور کوکین وغیرہ جیسی سخت ادویات کی طرف بڑھتی ہے۔ ‘ایجنٹ’ ، جو صرف ایک فون کال کے فاصلے پر ہیں۔ ان کے نمبر آسانی سے ایک شخص سے دوسرے میں تبدیل ہو جاتے ہیں۔ رابطہ نمبر بھی بڑے پیمانے پر ہوسٹلوں ، ہوٹلوں اور دیگر مقامات پر تقسیم کیے جاتے ہیں جو عام طور پر قانون نافذ کرنے والے اداروں کی آنکھوں سے چھپے ہوتے ہیں۔

    منشیات کے استعمال اور اس کے متاثرین کے خلاف معاشرے کا ردعمل ناقص اور ناکافی رہا ہے۔ ایک سروے کے مطابق ، علاج اور ماہر کی دیکھ بھال کی کمی ہے۔ 30،000 سے کم منشیات استعمال کرنے والوں کو علاج دستیاب ہے۔ سروے سے ظاہر ہوا کہ 64 فیصد جواب دہندگان نے علاج کروانے میں مشکلات کی اطلاع دی۔ بھاری اکثریت (80 فیصد) کے لیے علاج ناقابل برداشت ہے۔ سرکاری ہسپتالوں میں مریضوں کی سہولیات کی کمی کو 23 فیصد جواب دہندگان نے علاج میں بڑی رکاوٹ قرار دیا۔ 44 فیصد نے اپنی زندگی کے کسی مرحلے پر منشیات کے مسئلے کا علاج حاصل کیا ، اور 96 فیصد کا علاج ہیروئن کی علت کے لیے کیا گیا۔

    ماہرین کے مطابق سب سے آسان اور موثر حل یہ ہوگا کہ نشے کے عادی افراد کو بحالی مرکز میں بھیج دیا جائے۔ منشیات کے عادی افراد سے نمٹنے کے لیے علاج کی ایک انسانی شکل سب سے زیادہ مؤثر ثابت ہوئی ہے۔ لیکن ، سب سے پہلے ، آگاہی اور روک تھام گھر سے شروع ہونا چاہیے ، والدین کے ساتھ۔ والدین کو چوکس رہنا چاہیے اور ان کے بچوں کی کمپنی اور ان کی سرگرمیوں پر نظر رکھنی چاہیے۔ ماہرین تجویز کرتے ہیں کہ سکولوں کی سطح پر بھی منشیات کے تباہ کن اثرات پر بات ہونی چاہیے ، اور خاص طور پر الیکٹرانک میڈیا کے ذریعے آگاہی مہم چلانی چاہیے۔ اس علم میں محفوظ کہ انہیں چھوا نہیں جا سکتا اور نہ ہی ان سے حساب لیا جا سکتا ہے ، منشیات کے کارٹیل ان کی تجارت کو معافی کے ساتھ چلاتے ہیں۔ اینٹی نارکوٹکس فورس حکومت کا ایک وفاقی ایگزیکٹو بازو ہے جسے پاکستان میں منشیات کی اسمگلنگ اور استعمال سے نمٹنے کا کام سونپا گیا ہے ، لیکن اس کا سکور کارڈ بہترین ہے۔ ضرورت اس امر کی ہے کہ سرکاری ادارے منشیات کے کارٹلز پر سختی سے اتریں ، جو ملک میں منشیات کے استعمال کے واقعات کو کم کرنے کا واحد راستہ ہے۔

    @Z_Kubdani