Baaghi TV

Category: معاشرہ و ثقافت

  • آج کا نوجوان اور تہذیب

    آج کا نوجوان اور تہذیب

    آج کا نوجوان اور تہذیب
    تحریر: ملک ظفر اقبال بھوہڑ
    پاکستانی معاشرے میں اگر آج کے نوجوان کی بات کی جائے تو دل خون کے آنسو روتا ہے۔ آج کا نوجوان تعلیم یافتہ ہے، باخبر ہے، جدید ٹیکنالوجی سے لیس ہے، مگر جب بات تہذیب و اخلاق کی ہو، تو ایک نمایاں خلا دکھائی دیتا ہے۔ حیرت اس بات پر ہے کہ ترقی کی اس دوڑ میں نوجوان نے علم تو حاصل کر لیا، مگر تہذیب کہیں پیچھے رہ گئی۔ سوال یہ ہے کہ کیا تعلیم اور تہذیب الگ الگ چیزیں ہیں؟ اور اگر نہیں، تو پھر آج کا تعلیم یافتہ نوجوان بدتہذیبی کا شکار کیوں ہے؟

    تہذیب کا مطلب ہے: انسان کے ظاہر و باطن کو پاکیزہ اور متوازن بنانا، اخلاق، رویوں، اور معاملات کو نکھارنا۔ اسلامی تہذیب میں شائستہ گفتار، والدین کا ادب، بڑوں کا احترام، حقوق العباد، سچائی، دیانتداری، حیا اور صفائی جیسے اصول شامل ہیں۔

    نوجوان اور تہذیب میں فاصلے کی وجوہات کیا ہیں جو پاکستانی معاشرے میں نمایاں کردار ادا کر رہی ہیں؟ مغربی طرزِ زندگی کو "ترقی” سمجھا جانے لگا ہے، جس میں فیشن، آزاد خیالی، مادہ پرستی اور خود غرضی غالب ہیں۔ یہ یلغار میڈیا، سوشل نیٹ ورکس اور انٹرنیٹ کے ذریعے ہر گھر میں داخل ہو چکی ہے۔

    آج والدین بچوں کو موبائل، ٹی وی اور گیجٹس تو دے دیتے ہیں، مگر وقت اور تربیت نہیں دیتے۔ ماں باپ خود مصروف، اور بچے اکیلے — نتیجہ یہ کہ تہذیب سکھانے والا کوئی نہیں۔

    ہمارا تعلیمی نظام ڈگریاں دیتا ہے، لیکن کردار سازی نہیں کرتا۔ نہ نصاب میں اخلاقیات کی تربیت ہے، نہ اساتذہ کردار کے نمونے ہیں۔

    نوجوانوں کی زندگی کا بڑا حصہ انسٹاگرام، ٹک ٹاک اور یوٹیوب پر گزرتا ہے، جہاں نام نہاد "ستارے” فحاشی، شہرت، اور شہوت کو "کامیابی” کی علامت بنا کر پیش کرتے ہیں، جو ہمارے معاشرے میں برائی کی جڑ ہے۔

    نماز، قرآن، سیرتِ نبوی ﷺ، اور اسلامی تاریخ سے نابلد نوجوان، صرف دنیا کی چکا چوند کو جانتا ہے، مگر روحانی روشنی سے محروم ہے۔

    آج ڈاکٹر، انجینئر، وکیل، اور افسر بھی جھوٹ بولتے ہیں، رشوت لیتے ہیں، بڑوں سے بدتمیزی کرتے ہیں، فحاشی میں مبتلا ہوتے ہیں، جس کی کئی ایک مثالیں ہماری معاشرتی زندگی میں موجود ہیں تو کیا ایسی تعلیم کا کوئی فائدہ ہے؟

    حضرت علی کرم اللہ وجہہ کا قول ہے:> "بدترین جاہل وہ ہے جو تعلیم یافتہ ہو کر بھی ادب سے خالی ہو۔”

    تہذیب سے محرومی کے نتائج

    * والدین اور اساتذہ کا احترام ختم
    * معاشرے میں بدتمیزی، جھوٹ، بے حسی
    * فحاشی، بے حیائی، اور اخلاقی زوال
    * خودغرضی، مادہ پرستی، اور بے سکونی
    * دین سے دوری اور دنیا پرستی

    حل کیا ہے؟ نوجوان کو مہذب کیسے بنائیں؟

    اسلامی تعلیمات کو بنیاد بنایا جائے
    قرآن، سیرتِ نبوی ﷺ، اور دینی تعلیم لازمی کی جائے۔

    خاندان میں تربیت کو ترجیح دی جائے

    والدین وقت دیں، کردار سے سکھائیں، دعاؤں پر نہ چھوڑیں۔

    اساتذہ اور ادارے تربیت کے مراکز بنیں
    صرف نصاب نہ پڑھائیں، اخلاقیات، کردار اور انسانیت بھی سکھائیں۔

    میڈیا کی اصلاح ہو
    ایسے کردار سامنے لائے جائیں جو اخلاق، حیا اور تہذیب کا نمونہ ہوں۔

    سوشل میڈیا پر نگرانی اور رہنمائی ہو
    نوجوانوں کو بامقصد استعمال کا شعور دیا جائے۔

    سچی بات تو یہ ہے کہ ہمارا معاشرہ اخلاقی زوال کا شکار ہے، مگر امید کا دامن کبھی بھی نہیں چھوڑنا چاہی۔

  • زندگی خوبصورت ہے، اسے برباد مت کرو،تحریر:نور فاطمہ

    زندگی خوبصورت ہے، اسے برباد مت کرو،تحریر:نور فاطمہ

    26 جون کو دنیا بھر میں انسداد منشیات کا عالمی دن منایا جاتا ہے۔ اس دن کا مقصد نہ صرف منشیات کے استعمال اور اسمگلنگ کی روک تھام ہے بلکہ معاشرے کو آگاہی دینا اور خاص طور پر نوجوان نسل کو اس ناسور سے بچانا بھی ہے جو ان کی زندگیوں، تعلیم، صحت، اور مستقبل کو نگل رہا ہے۔نوجوان کسی بھی قوم کا قیمتی اثاثہ ہوتے ہیں۔ یہی وہ عمر ہے جب انسان اپنے خوابوں کو تعبیر دینے کے سفر پر نکلتا ہے، لیکن بدقسمتی سے یہی عمر منشیات جیسے مہلک جال میں سب سے زیادہ الجھتی ہے۔ سگریٹ، گٹکا، چرس، آئس، ہیروئن اور دیگر نشہ آور اشیاء آج ہمارے نوجوانوں کے لیے ایک سنگین خطرہ بن چکی ہیں۔

    منشیات صرف جسم کو تباہ نہیں کرتیں بلکہ ذہن، کردار، رشتے، اور مستقبل کو بھی کھوکھلا کر دیتی ہیں۔تعلیمی اداروں میں پڑھنے والے طلباء جب منشیات کے عادی ہو جاتے ہیں تو ان کی تعلیمی کارکردگی بری طرح متاثر ہوتی ہے۔منشیات کی لت جرائم، بے راہ روی اور ذہنی دباؤ کو جنم دیتی ہے، جس سے پورا معاشرہ عدم تحفظ کا شکار ہو جاتا ہے۔

    دوستوں کی غلط صحبت،ذہنی دباؤ، امتحانی ناکامیاں یا خاندانی تنازعات کی وجہ سے نوجوان منشیات کی طرف جاتے ہیں،انٹرنیٹ اور سوشل میڈیا پر منشیات کو "فیشن” کے طور پر دکھایا جاتا ہے اس وجہ سے بھی نوجوان منشیات کی طرف راغب ہوتے ہیں،آسانی سے دستیابی اور قانون نافذ کرنے والے اداروں کی غفلت کی وجہ بھی منشیات کی طرف لے جاتی ہے، ضرورت اس امر کی ہے کہ اچھے دوست چُنیں، وہ دوست بنائیں جو مثبت سوچ رکھتے ہوں، تعلیم میں دلچسپی لیتے ہوں اور آپ کو برے راستوں سے روکیں۔خاندانی رشتوں کو مضبوط کریں،والدین اور بہن بھائیوں کے ساتھ بہتر تعلق نوجوان کو تنہائی اور ذہنی دباؤ سے بچاتا ہے۔مذہب اور روحانیت سے رشتہ جوڑیں،اللہ تعالیٰ پر یقین، نماز، ذکر اور قرآن فہمی ایک مضبوط کردار کی بنیاد بنتی ہے۔

    حکومت اور معاشرے کی ذمہ داری ہے کہ تعلیمی اداروں میں منشیات کے خلاف آگاہی مہم چلائی جائے۔کھیلوں، آرٹس اور ثقافتی سرگرمیوں کو فروغ دیا جائے تاکہ نوجوان مثبت سرگرمیوں میں مشغول رہیں۔منشیات فروشوں کے خلاف سخت کارروائی کی جائے اور ان کے نیٹ ورکس کو جڑ سے ختم کیا جائے۔منشیات وقتی سکون دے سکتی ہیں، لیکن زندگی بھر کی پشیمانی اور تباہی کا باعث بنتی ہیں۔ نوجوانو، تمہیں اس قوم کا معمار بننا ہے، تمہاری آنکھوں میں پاکستان کا مستقبل بسا ہوا ہے۔ آؤ آج یہ عہد کریں کہ نشے کو نہیں، علم، کردار، محنت اور عزت کو اپنائیں گے۔ کیونکہ "زندگی خوبصورت ہے، اسے برباد مت کرو!”

  • وطنیت کے جال میں امت کی وحدت,تحریر؛ اقصیٰ جبار

    وطنیت کے جال میں امت کی وحدت,تحریر؛ اقصیٰ جبار

    دنیا میں قوموں کی شناخت ان کے اصولوں اور اقدار سے ہوتی ہے۔ اسلام نے ہمیں ایک امت کی شکل میں جینے کا درس دیا، اور یہی اتحاد مسلمانوں کی سب سے بڑی طاقت تھا۔ قرآن کہتا ہے:
    "تم سب اللہ کی رسی کو مضبوطی سے تھامے رکھو اور فرقہ بندی میں نہ پڑو۔”
    مگر آج، افسوس کے ساتھ کہنا پڑتا ہے کہ امت مسلمہ اس رسی کو چھوڑ چکی ہے، اور اس کے نتیجے میں ہماری طاقت منتشر ہو گئی ہے۔

    تاریخ گواہ ہے کہ جب مسلمان متحد تھے، دنیا ان کے قدموں میں جھکتی تھی۔ خلافت راشدہ کے دور میں مسلمانوں نے نہ صرف دنیا کو بہترین عدل و انصاف دیا بلکہ علم، حکمت، اور ثقافت کا چراغ بھی روشن کیا۔ سلطنت عثمانیہ کا زوال ہماری وحدت کے خاتمے کی داستان سناتا ہے، اور آج کی حالت تو یہ ہے کہ ہم قوموں کی صف میں اپنے وقار سے محروم ہو چکے ہیں۔

    ہماری وحدت کا خاتمہ کیسے ہوا؟ یہ ایک ایسا سوال ہے جو ہمیں اپنی اجتماعی ناکامیوں پر غور کرنے کی دعوت دیتا ہے۔ وطن پرستی نے ہمیں ایک قوم کے بجائے مختلف ٹکڑوں میں بانٹ دیا ہے۔ ہر ملک، ہر قوم اپنی سرحدوں کے اندر محدود ہو کر رہ گئی ہے، اور اس محدود سوچ نے امت کے تصور کو دھندلا کر دیا ہے۔

    اقبال نے اسی حقیقت کو بڑے زور دار الفاظ میں بیان کیا تھا:
    ان تازہ خداؤں میں بڑا سب سے وطن ہے
    جو پیرہن اس کا ہے، وہ ملت کا کفن ہے

    وطن سے محبت فطری ہے، اور اسلام اسے روکتا بھی نہیں، لیکن مسئلہ تب پیدا ہوتا ہے جب یہ محبت ہماری اصل شناخت، یعنی امت مسلمہ، پر غالب آ جاتی ہے۔ ایک وقت تھا جب ہم ایک دوسرے کے دکھ درد میں شریک تھے۔ آج ہم ان حدود کے قیدی بن چکے ہیں جو ہم نے خود کھینچی ہیں۔

    ہماری سیاسی قیادت، جو امت کی رہنمائی کی ذمہ دار تھی، اب خود مفادات کی سیاست کا شکار ہو چکی ہے۔ ایک طرف ہمارے اندرونی اختلافات نے ہمیں کمزور کر دیا ہے، اور دوسری طرف بیرونی طاقتیں ہمیں تقسیم کرنے کے لیے ہمیشہ تیار رہتی ہیں۔ یہ ایک کھلا راز ہے کہ دنیا کی بڑی طاقتیں چاہتی ہیں کہ مسلمان کبھی ایک پلیٹ فارم پر نہ آئیں، کیونکہ ہمارا اتحاد ہی ہماری اصل طاقت ہے۔

    اقبال نے ہمیں بار بار یاد دلایا کہ مسلمانوں کی اصل طاقت ان کا ایک امت ہونا ہے:
    ایک ہوں مسلم حرم کی پاسبانی کے لیے
    نیل کے ساحل سے لے کر تابخاکِ کاشغر

    اب سوال یہ ہے کہ اس زوال کا علاج کیا ہے؟ کیا ہم اپنی تاریخ سے کچھ سیکھ سکتے ہیں؟ کیا ہم اپنی نئی نسل کو یہ سبق دے سکتے ہیں کہ اسلام کے پیروکار ہونے کا مطلب صرف عبادات تک محدود نہیں، بلکہ یہ ہمیں ایک امت بن کر جینے کا درس دیتا ہے؟ یہ کام مشکل ضرور ہے، لیکن ناممکن نہیں۔

    ضرورت اس بات کی ہے کہ ہم اپنی ترجیحات کو بدلیں۔ مدارس اور جامعات میں ایسا نصاب متعارف کرائیں جو امت کے تصور کو زندہ کرے۔ علماء اپنے خطبوں میں اختلافات کو ہوا دینے کے بجائے اتحاد کا درس دیں۔ میڈیا، جو آج زیادہ تر نفرت کے بیج بوتا ہے، اسے ایک مثبت پیغام کے فروغ کا ذریعہ بنایا جائے۔ اور سب سے اہم، ہر مسلمان اپنے دل میں یہ عزم کرے کہ وہ امت مسلمہ کا حصہ ہے اور اس کا کردار اسی وحدت کو مضبوط کرنے میں ہے۔

    یہ یاد رکھنا ضروری ہے کہ اگر آج بھی ہم اپنی سمت درست کر لیں اور اللہ کی رسی کو تھام لیں، تو کوئی طاقت ہمیں شکست نہیں دے سکتی۔ یہ امت ایک بار پھر دنیا کے سامنے اپنی عظمت کا لوہا منوا سکتی ہے، بس شرط یہ ہے کہ ہم اپنے درمیان کی دیواریں گرا دیں اور ایک جسم بن جائیں، جیسا کہ ہمارے نبی ﷺ نے فرمایا:
    "مسلمان آپس میں ایک جسم کی مانند ہیں؛ اگر جسم کے کسی حصے کو تکلیف ہو تو پورا جسم درد محسوس کرتا ہے۔”

    وقت آ گیا ہے کہ ہم اپنی حقیقت کو پہچانیں اور ان نظریاتی دیواروں کو گرا دیں جو ہمیں ایک دوسرے سے جدا کرتی ہیں۔ تب ہی ہم اس امت کی عظمت کو دوبارہ حاصل کر سکتے ہیں۔

  • امت مسلمہ اور اخلاقی زوال،تحریر؛ اقصیٰ جبار

    امت مسلمہ اور اخلاقی زوال،تحریر؛ اقصیٰ جبار

    Email;jabbaraqsa2@gmail.com

    دنیا بھر میں امت مسلمہ کو بے شمار چیلنجز کا سامنا ہے، مگر ان میں ایک سب سے بڑا چیلنج ہے اخلاقی زوال۔ یہ ایسا مسئلہ ہے جس پر نہ صرف میڈیا کم توجہ دے رہا ہے بلکہ ادب اور معاشرتی مباحث میں بھی اس کی گونج بہت کم سنائی دیتی ہے۔

    اخلاقیات، کسی بھی قوم کی بنیاد اور اس کی پہچان ہوتی ہیں۔ اسلامی تعلیمات میں اخلاق کو اعلیٰ مقام دیا گیا ہے اور نبی کریم ﷺ نے فرمایا کہ "مجھے اخلاق کی تکمیل کے لیے مبعوث کیا گیا ہے۔” مگر آج ہم دیکھتے ہیں کہ امت مسلمہ مجموعی طور پر ان تعلیمات سے دور ہوتی جارہی ہے۔ جھوٹ، بددیانتی، رشوت، حسد، اور خود غرضی جیسے عیوب ہماری روزمرہ زندگی کا حصہ بن چکے ہیں۔

    اگر ہم اپنی تاریخ پر نظر ڈالیں، تو ہمیں معلوم ہوتا ہے کہ مسلمانوں نے اخلاقی اقدار کے ذریعے ہی دنیا کو متاثر کیا۔ مسلمانوں کی سچائی اور امانت داری کی مثالیں آج بھی تاریخ کے اوراق میں جگمگا رہی ہیں۔ مگر موجودہ دور میں، ہم اپنی اس میراث کو فراموش کر چکے ہیں۔

    معاشرتی سطح پر، اخلاقی زوال کی سب سے بڑی مثال ہمارے رویے ہیں۔ ہم اپنے ذاتی مفادات کے لیے دوسروں کے حقوق پامال کرنے سے بھی گریز نہیں کرتے۔ محلے کی سطح سے لے کر عالمی تعلقات تک، ہم اپنی اخلاقی ذمہ داریوں کو نظرانداز کرتے ہیں۔ نتیجتاً، امت مسلمہ دنیا میں اپنی عظمت اور مقام کھو رہی ہے۔

    میڈیا اور ادب کو چاہیے کہ اس مسئلے کو اجاگر کریں اور عوام میں شعور بیدار کریں۔ ایسے موضوعات پر ڈرامے، مضامین، اور کالم لکھے جائیں جو لوگوں کو ان کی ذمہ داریوں کا احساس دلائیں۔ تعلیمی نظام میں اخلاقیات کے مضامین کو شامل کیا جائے اور والدین کو بھی بچوں کی تربیت میں اخلاقی اقدار کو ترجیح دینی چاہیے۔

    یہ وقت کی اہم ضرورت ہے کہ ہم انفرادی اور اجتماعی طور پر اپنے اعمال کا جائزہ لیں اور ان میں بہتری لائیں۔ امت مسلمہ کے لیے یہ ایک موقع ہے کہ وہ اپنی کھوئی ہوئی عظمت کو اخلاقی اقدار کے ذریعے دوبارہ حاصل کرے۔

    اگر ہم اپنی اخلاقیات کو درست کر لیں، تو دنیا میں ہماری پہچان دوبارہ قائم ہو سکتی ہے اور ہم دنیا کے لیے ایک مثالی قوم بن سکتے ہیں۔

  • معاشرے میں بداعتمادی کا خاتمہ ضروری

    معاشرے میں بداعتمادی کا خاتمہ ضروری

    ہم ایک ایسے دور میں جی رہے ہیں جہاں خبروں، باتوں اور افواہوں کی رفتار بجلی سے بھی تیز ہو گئی ہے۔ سوشل میڈیا، موبائل ایپلیکیشنز اور دیگر ذرائع کی بدولت ہر شخص کی زندگی دوسروں کے سامنے ایک کھلی کتاب بنتی جا رہی ہے، لیکن سوال یہ ہے کہ کیا ہم ہر سنی سنائی بات کو بغیر تحقیق سچ مان لیں؟ اور کیا کسی کے بارے میں محض سنی سنائی بات پر تعلقات ختم کر دینا یا ان کی عزت اچھالنا درست ہے؟ہر گز نہیں،قرآن مجید میں اللہ تعالیٰ نے فرمایا ہے،”اے ایمان والو! اگر کوئی فاسق تمہارے پاس کوئی خبر لائے تو اس کی تحقیق کر لیا کرو، کہیں ایسا نہ ہو کہ تم کسی قوم کو نادانی میں نقصان پہنچا بیٹھو اور پھر اپنے کیے پر پچھتاؤ”(سورۃ الحجرات، آیت 6)

    یہ آیت ہمیں ایک واضح ہدایت دیتی ہے کہ کسی کی بات پر آنکھ بند کر کے یقین کر لینا دانشمندی نہیں بلکہ جہالت ہے۔ تحقیق کے بغیر کسی پر الزام لگانا، اس کی شخصیت کو بدنام کرنا یا اس سے تعلق ختم کر لینا ایک نہایت غیر اسلامی اور غیر اخلاقی عمل ہے۔

    ہم اکثر دوسروں کے بارے میں سنی سنائی باتوں کی بنیاد پر رائے قائم کر لیتے ہیں، چاہے وہ بات جھوٹ ہو یا سچ کا فقط ایک پہلو۔ یہ عمل نہ صرف ہمارے تعلقات کو خراب کرتا ہے بلکہ معاشرے میں بداعتمادی، دوری اور منافقت کو فروغ دیتا ہے۔نبی کریم ﷺ نے فرمایا”گمان سے بچو، کیونکہ گمان سب سے جھوٹی بات ہے”(صحیح بخاری)الزام تراشی کا انجام یہ ہوتا ہے کہ سچ سامنے آنے پر انسان شرمندگی کا شکار ہوتا ہے اور اگر توبہ نہ کرے تو آخرت میں بھی حساب دینا ہوگا۔

    اسلام کا پیغام یہ ہے کہ اگر ہمیں کسی کی خامی یا کوتاہی معلوم ہو بھی جائے، تب بھی ہمیں اس کا پردہ رکھنا چاہئے، نہ کہ دوسروں کے سامنے اس کی تشہیر کریں یا مزاق بنائیں۔رسول اکرم ﷺ کا فرمان ہے،”جو شخص کسی مسلمان کی پردہ پوشی کرے، اللہ تعالیٰ قیامت کے دن اس کی پردہ پوشی فرمائے گا”(صحیح مسلم)،یہ عمل صرف نیکی ہی نہیں بلکہ انسانیت کا بھی تقاضا ہے۔ جب ہم دوسروں کی عزت کا خیال رکھیں گے تو ہماری اپنی عزت بھی محفوظ رہے گی۔

    کسی دوست، رشتہ دار یا عزیز کے بارے میں ایک الزام سن کر فوری طور پر قطع تعلقی کرنا دراصل جذباتی کمزوری کی علامت ہے۔ عقل مندی یہ ہے کہ ہم بات کی حقیقت جانیں، فریقین کا موقف سنیں اور اس کے بعد ہی کسی رائے یا فیصلے پر پہنچیں۔بغیر تصدیق تعلق ختم کرنا نہ صرف دوسروں کے لیے تکلیف دہ ہوتا ہے بلکہ خود ہمارے لیے بھی پچھتاوے کا باعث بن سکتا ہے۔ کئی بار سچائی سامنے آنے پر وقت گزر چکا ہوتا ہے اور تعلقات واپس جوڑنا ممکن نہیں رہتا۔یہ وقت ہے کہ ہم بحیثیت مسلمان اور مہذب انسان اپنے رویوں پر نظر ثانی کریں۔ ہمیں چاہیے کہ ہر بات پر فوراً یقین نہ کریں۔دوسروں کی عزت نفس کا خیال رکھیں۔عیب پوشی کریں، نہ کہ عیب جوئی۔تحقیق اور انصاف کے بغیر کوئی فیصلہ نہ کریں۔اللہ تعالیٰ ہمیں وہ بصیرت عطا فرمائے کہ ہم کسی کی زندگی کو سنوارنے کا ذریعہ بنیں، بگاڑنے کا نہیں۔

    تحریر:نور فاطمہ

  • سوشل میڈیا: سہولت یا زحمت؟ فیصلہ آپ کا،تحریر: اقصیٰ جبار

    سوشل میڈیا: سہولت یا زحمت؟ فیصلہ آپ کا،تحریر: اقصیٰ جبار

    Email; jabbaraqsa2@gmail.com

    سوشل میڈیا آج کے دور کی ایک حقیقت بن چکا ہے۔ یہ معلومات تک فوری رسائی فراہم کرتا ہے، دور بیٹھے لوگوں کو قریب لاتا ہے اور مثبت استعمال کی صورت میں سیکھنے اور سکھانے کا بہترین ذریعہ بھی بن سکتا ہے۔ مگر کیا ہم واقعی اس کا مثبت استعمال کر رہے ہیں؟

    اگر ہم غور کریں تو معلوم ہوگا کہ سوشل میڈیا کا زیادہ تر استعمال وقت ضائع کرنے، بے مقصد بحث و مباحثے، افواہیں پھیلانے اور دوسروں کی زندگیوں میں جھانکنے تک محدود ہو چکا ہے۔ ہم دن کا بیشتر حصہ اسکرین پر گزار دیتے ہیں، مگر حقیقی زندگی میں ہمارے تعلقات کمزور ہوتے جا رہے ہیں۔ والدین اور اولاد کے درمیان فاصلہ بڑھ رہا ہے، دوست ایک ہی محفل میں بیٹھے ہونے کے باوجود ایک دوسرے سے کٹے کٹے نظر آتے ہیں، اور حقیقی رشتے ناتوں کی جگہ "آن لائن کنکشنز” نے لے لی ہے۔

    سوشل میڈیا اور غیر مصدقہ خبروں کا طوفان
    سب سے بڑا مسئلہ یہ ہے کہ سوشل میڈیا پر ہر چیز کو بغیر تحقیق کے سچ مان لیا جاتا ہے۔ کوئی بھی جھوٹی خبر یا افواہ چند لمحوں میں وائرل ہو جاتی ہے، اور لوگ بغیر تصدیق کیے اسے آگے بڑھا دیتے ہیں، جس سے بسا اوقات معاشرے میں بے چینی اور بدگمانی پیدا ہو جاتی ہے۔ قرآن میں واضح حکم ہے "اے ایمان والو! اگر کوئی فاسق تمہارے پاس کوئی خبر لے کر آئے تو تحقیق کر لیا کرو، کہیں ایسا نہ ہو کہ تم کسی قوم کو نادانی میں نقصان پہنچا بیٹھو اور پھر تمہیں اپنے کیے پر نادم ہونا پڑے۔” (الحجرات: 6)مگر ہم تحقیق سے زیادہ شیئر کرنے میں دلچسپی رکھتے ہیں۔ نتیجتاً، کئی بار لوگوں کی عزتیں اچھالی جاتی ہیں، قوم میں انتشار پیدا ہوتا ہے اور بے بنیاد خبریں خوف و ہراس پھیلانے کا سبب بنتی ہیں۔

    کیا ہم سوشل میڈیا کے غلام بن چکے ہیں؟
    سوشل میڈیا کا ایک اور نقصان یہ ہے کہ اس نے لوگوں کو عملی زندگی سے کاٹ کر ایک "ڈیجیٹل دنیا” میں قید کر دیا ہے۔ ہم گھنٹوں موبائل اسکرین پر نظریں جمائے رکھتے ہیں، مگر حقیقی دنیا میں ہمارے رویے سرد مہری کا شکار ہو چکے ہیں۔ ایک ماں اپنے بچے کو کھلانے کے بجائے فون اس کے ہاتھ میں دے دیتی ہے، نوجوان کتابوں سے زیادہ سوشل میڈیا پر وقت گزار رہے ہیں، اور لوگ فطری حسن کو دیکھنے کے بجائے کیمروں کے ذریعے اسے قید کرنے میں مصروف ہیں۔

    مثبت استعمال: فیصلہ آپ کا!
    سوال یہ نہیں کہ سوشل میڈیا اچھا ہے یا برا، بلکہ سوال یہ ہے کہ ہم اسے کس طرح استعمال کر رہے ہیں؟ اگر ہم اس کا مثبت استعمال کریں، تعلیمی مواد دیکھیں، اچھے اخلاق کو فروغ دیں، وقت کا درست استعمال کریں اور تحقیق کے بغیر کوئی خبر آگے نہ بڑھائیں، تو یہ ہمارے لیے فائدہ مند ثابت ہو سکتا ہے۔لیکن اگر ہم اس میں کھو کر اپنا قیمتی وقت اور توانائیاں ضائع کرتے رہیں، تو یہ ہمارے تعلقات، ذہنی سکون اور زندگی کی اصل خوبصورتی کو ہم سے چھین لے گا۔

    سوچیں! کیا ہم سوشل میڈیا کا استعمال کر رہے ہیں، یا سوشل میڈیا ہمیں استعمال کر رہا ہے؟آئیے، آج سے ہم یہ عہد کریں کہ ہم سوشل میڈیا کو ایک مثبت ذریعہ بنائیں گے، جھوٹی خبروں اور فضول بحثوں سے دور رہیں گے، اور اپنی حقیقی زندگی کو زیادہ اہمیت دیں گے

    یہ بازار ہے جناب! تحریر: اقصی جبار

    حروف کے جنازے، سچائی کی موت ،تحریر : اقصیٰ جبار

    قربانی کا پیغام اور غزہ کی پکار ،تحریر: اقصیٰ جبار

    خاموش اُمت… زندہ لاشیں،تحریر : اقصیٰ جبار

    کہانی جو لکھی نہ گئی.تحریر: اقصیٰ جبار

    سگریٹ پر ٹیکس لگے گا تو غریب کی پہنچ سے دور ہوگا.تحریر: اقصیٰ جبار

  • "علم، عمل اور نیت” تحریر: عائشہ اسحاق

    "علم، عمل اور نیت” تحریر: عائشہ اسحاق

    ہم سب علم کی اہمیت سے بہت اچھی طرح سے واقف ہیں اور بہت جوش و جذبے کے ساتھ علم حاصل کرتے بھی ہیں۔ علم حاصل کرنا ضروری ہے مگر اس سے بھی زیادہ ضروری اس پر عمل پیرا ہونا ہے کیونکہ علم بغیر عمل کے جہالت ہے۔ بد قسمتی سے اکثر ایسا دیکھنے میں ملتا ہے کہ علم تو زور و شور سے حاصل ہو رہا ہے مگر عمل اس کے مترادف ہے۔ یہاں یہ بات سوچنے کے قابل ہے کہ آخر اتنا علم حاصل کرنے کے بعد عمل اس کے مطابق کیوں نہیں کیا جا رہا؟ دراصل ہر بات ہر غلطی ہر برائی سیاست دانوں، اداروں اور حکومت کے پلے میں ڈال دینا اور اپنے ہاتھ جھاڑ لینا عوام کا معمول بن چکا ہے۔ عوام کبھی یہ بات سوچنے کی زحمت نہیں کرتے کہ جو مسئلے مسائل کرپٹ سیاست دانوں اور افسران کی وجہ سے پاکستان پر مسلط ہیں ان کو تقویت دینے میں عوام کا اپنا بھی ہاتھ شامل ہے۔ یاد رہے معاشرہ سیاستدان یا کوئی ادارہ نہیں بناتا ،معاشرہ اس تربیت سے تشکیل پاتا ہے جو ایک نسل دوسری نسل کی کرتی ہے۔ اعمال علم کے مطابق اس لیے نہیں ہو پا رہے ہیں کیونکہ علم اور عمل کے درمیان سب سے اہم چیز تربیت اور نیت آتے ہیں۔ علم حاصل کرنے کے بعد انسان کی نیت سب سے زیادہ معنی رکھتی ہے نیت کی اہمیت اس حدیث مبارکہ سے لگائی جا سکتی ہے۔ خاتم النبیین حضرت محمد مصطفی صلی اللہ علیہ والہ وسلم نے فرمایا: "اعمال کا دارومدار نیتوں پر ہے” ہم اس حدیث مبارک سے سمجھ سکتے ہیں کہ اعمال کا تعلق انسان کی نیت پر ہوتا ہے اور نیت بنانے میں تربیت سب سے اہم کردار ادا کرتی ہے ۔اسی سلسلے میں فرمایا گیا ہے کہ ماں کی گود پہلی درسگاہ ہے۔ آپ نے کبھی سوچا ہے کہ اس حوالے سے ہم کیا کردار ادا کر رہے ہیں؟ نہایت افسوس سے کہنا پڑتا ہے کہ آج کل ہر کوئی صرف دولت کمانے کے پیچھے بھاگتا چلا جا رہا ہے ۔ دولت کمانے کی دھن وہ اندھا کنواں بن چکی ہے جس میں لوگ گرتے چلے جا رہے ہیں اور لالچ کے اس دوڑ میں امیر غریب برابر کے شریک ہیں۔ عدالتوں کے باہر قرانی آیات لکھی گئی ہے مگر انہی عدالتوں میں رشوت خوری کرتے ہوئے مظلوم کو مجرم بنانا اور مجرم کو مظلوم ثابت کرنا بائیں ہاتھ کا کھیل بن چکا ہے، دکانوں پر خیر الرازقین اور دیگر آیات و احادیث درج کروا کر دکاندار حضرات ملاوٹ شدہ اشیاء مہنگے داموں فروخت کر رہے ہیں یہ سب علم کی کمی کی وجہ سے نہیں بلکہ نیت کی کھوٹ اور تربیت میں کمی کی وجہ سے ہو رہا ہے کیونکہ ان حضرات کی نیت حلال حرام کی تمیز کیے بغیر پیسہ کمانے کی ہوتی ہے۔ گھروں پر مختلف آیات اور دیگر کلمات لکھنا اس بات کا ثبوت ہے کہ یہ سب لوگ دین اور دنیا کا علم بخوبی رکھتے ہیں مگر دولت کا لالچ اور ہوس اس حد تک گمراہ کیے ہوئے ہے کہ وہ کسی کا حق مار کر جائیدادیں بنانا کامیابی تصور کرتے ہیں۔ ان سب کے علاوہ پھل سبزیاں فروخت کرنے والا غریب طبقہ بھی کچھ کم نہیں ناپ تول میں کمی کرنا سستی چیز مہنگی کر کر بیچنا ان کا معمول ہے۔ مختصر یہ کہ امیر سے لے کر غریب تک دولت کمانے کی دھن میں بے ایمانی کرنا اپنا فرض سمجھتا ہے۔

    جھوٹ دھوکہ دہی ناانصافی بے ایمانی کر کے کمائی گئی دولت پر فخر کیا جاتا ہے۔ اور یہی چیز اگلی نسل کو بھی سکھائی جاتی ہے۔ یاد رکھیں بچے ہمیشہ اپنے بڑوں سے سیکھتے ہیں جب بڑے اس طرح کی حرکتیں کر کے فخر محسوس کرتے ہیں تو بچوں کے اندر یہ سب خباثتیں خود بخود پروان چڑھنے لگتی ہیں۔ یہ وہ تربیتی عمل ہے جو ہمارے گھروں سے نکل کر ایک معاشرے کو تشکیل دیتا ہے۔ اس طرح لالچ اور ہوس پر منحصر سوچ رکھنے والی قوم کس طرح کرپٹ سیاستدانوں اور غدار افسران کا گریبان پکڑ سکتی ہے جب کہ وہ خود اپنے حصے کی بے ایمانی کرنے میں مصروف ہوتے ہیں۔ حرام طریقے اپنا کر کوئی خیر کیسے حاصل کی جا سکتی ہے بلکہ اللہ ایسے لوگوں کے دلوں سے جرات اور ہیبت ختم کر دیتا ہے ایسے لوگوں پر ظالم حکمران مسلط کر دیے جاتے ہیں ۔ پھر ایسی قوم کا مستقبل پسپائی اور ذلت کے سوا اور کیا ہو سکتا ہے۔

    لہذا اپنے بچوں کی تربیت پر خاص طور پر توجہ دیں اور صحیح غلط حلال حرام اور جائز ناجائز چیزوں کا فرق کرنے کی تمیز خود عملی طور پر اپنائیں۔ ظلم نا انصافی کے خلاف حق اور سچ کے راستے پر ڈٹ کر کھڑے ہوں۔ بچے خود بخود سیکھنا شروع کر دیں گے۔ یہ وہ اصل میراث ہے جو ایک نسل اگلی نسل کو سونپتی ہے اور جس سے مہذب قومیں اور معاشرے بنتے ہیں۔ اس کے بغیر حاصل کیا گیا علم اور ڈگریاں محض کاغذ کے ٹکڑوں کے سوا کچھ بھی نہیں۔

  • ایک چھوٹے  سے انقلاب کی  داستان،تحریر:بریگیڈیئر (ر) عتیق الرحمان

    ایک چھوٹے سے انقلاب کی داستان،تحریر:بریگیڈیئر (ر) عتیق الرحمان

    میں نے بڑے بڑے انقلابوں کی داستانیں پڑھی بھی ہیں ، سنی بھی ہیں – لیکن اپنی آنکھوں سے جس انقلاب کو دیکھا وہ پی ایم اے میں میری آپ بیتی ھے-
    پی ایم اے پہنچے تو فوج نے سب سے پہلے میرے نخرے کا علاج کیا- سر کے باھر بال نہیں رھنے دیئے اور سر کے اندر نخرا، نہ کوئی شک- ابھی پی ایم اے کا گیٹ کراس کئے دو دن ہی گزرے تھے کہ ہم بالکل good year ٹائر کی طرح روانی سے فرنٹ رول کرنا سیکھ چکے تھ-پی ایم اے جانے سے پہلے میں گھر پر گنی چنی چیزیں ،گوشت، قیمہ ، انڈے ، سموسے، چاٹ ، گول گپّے ،بسکٹ وغیرہ ہی کھاتا تھا- اڑھائی مہینے بعد میں جب پہلی بار ،گھر مڈ ٹرم کی چھٹی آیا، تو ماں میری حیران رہ گئی، میں قربانی والے بکرے کی طرح ، سب کچھ کھا رھا تھا- والد صاحب زیر لب مسکرا رھے تھے کہ ” پتر ھون سنا، تینوں کہنا ساں نہ پڑھ لے”-

    جیسے ہی سرکاری اوقات کار ختم ھوتے ہیں ، جونیئر کیڈٹ سینئر کیڈٹ کی پناہ میں آ جاتے ہیں- یہ کیسے ھوتا ہے- جی، یہ جادوئی عمل ہر پلاٹوں میں ایک سینئر جنٹل مین کیڈٹ کے ذریعے عمل میں آتا ھے- جیسے ہر کلاس کا مانیٹر ہوتا ھے ایسے ہی ہر پلاٹوں کا اور پھر کورس کا ایک سینئر جنٹلمین کیڈٹ ( ایس جی سی) نامزد ہوتا ھے اور سارے احکامات اس کے ذریعے پوری پلاٹون تک پہنچتے ہیں- کوئی فون یا وائرلیس نہیں ہوتا – ایس جی سی ،دو ٹانگوں اور زبان کا ستعمال کر کے سارے نیٹ ورک کے درمیان رابطے کا کام کرتا ھے- ہر پلاٹوں کا ایک چھوٹا اور ایک بڑا والی وارث ہوتا ھے- چھوٹا تیسری ٹرم کا کیڈٹ ھوتا ھے جسے کارپورل کہتے ہیں- بڑا چوتھی ٹرم کا کیڈٹ ہوتا ھے جسے سارجنٹ کہتے ہیں- ان دونوں کا آپس میں روحانی رابطہ ہوتا ھے- چھوٹا چھوڑتا ھے تو بڑا بلا لیتا ھے اور بڑا جب کہتا ھے آپ لوگ جائیں تو چھوٹا باھر ہی مل جاتا ھے- ہمارا چھوٹا ھماری بیرک کے کنارے پہلے کمرے میں رھتا تھا-

    پی ایم اے کلچر میں میٹافورز اور سگنل کا استعمال بہت اھم ھے- ڈرل سکیئر، پی ٹی گراؤنڈ، کوت، میس، ایچ ایس، سیچل، ڈی ایم ایس، ڈرل شوز، مَفتی، مَفتی شوز، ایس ڈی، جی سی آفس ، اینٹی روم، ھینڈز ڈاؤن، رول، فراگ جمپ اور اسی طرح کے سینکڑوں میٹافور ذہن میں ایسے بیٹھے کہ آج تک ازبر ہیں-

    قیامت کی گرمی ھو یا مائنس ٹمپریچر، آپ ریگستان میں ہیں یا سیاچن پر، کھانا ٹیبل پر بیٹھ کر کھانا ھے، پورے ڈریس کوڈ کے ساتھ- کھانے والا ٹیبل ٹینٹ میں لگے یا باقاعدہ کمرے کے اندر ، اس کا درجہ میس کا ہی رھے گا- دال بھی ، بھنی ھوئی مرغی کی طرح کانٹے سے اور نہایت ادب سے کھائی جائے گی- کھانے کے ایک ایک نوالے کا بل آفیسر کی اپنی ذمہ داری ھے- نہ کبھی کوئی کسی کا مذھب پوچھا، نہ ذات – سب کو اپنی سینیارٹی کا پتا ہوتا ھے- چپ چاپ بغیر کرسی کی آواز نکالے بیٹھتے جاتے ہیں – اس سارے ماحول میں صرف ایک شخص ایسا ہوتا ھے جو کوئی بھی لطیفہ سنا سکتا ھے، کوئی قصہ یا تاریخی واقعہ اور اگر موڈ ھو تو کل صبح روٹ مارچ کا حکم یا آج ھی رات نائیٹ ٹرینگ اور وہ شخص بلحاظ عہدہ CO کہلاتا ھے-

    بہت ہی محدود وسائل میں سلیقے کی زندگی گزارنا بہت بڑا فن ھے- زندگی میں پیسے اتنے معنی نہیں رکھتے جتنا، جینے کا سلیقہ- پی ایم اے سے یہی ” سلیقہ” سیکھ کر نکلے اور پھر عمر بھر اس سلیقے کے قیدی بن کر رھے- فوج کی کھٹی میٹھی یادیں میری زندگی کا اثاثہ ھے-

  • پاکستان میں تمباکو نوشی کا سنجیدہ مسئلہ.تحریر:حنا سرور

    پاکستان میں تمباکو نوشی کا سنجیدہ مسئلہ.تحریر:حنا سرور

    ہر سال 31 مئی کو تمباکو نوشی کی روک تھام کا عالمی دن منایا جاتا ہے تاکہ عوام میں تمباکو نوشی کے مضر اثرات کے بارے میں آگاہی بڑھائی جائے اور اس عادت سے چھٹکارہ پانے کی تحریک دی جائے۔ اس دن کا مقصد صرف سگریٹ نوشی کی تباہ کاریوں کی نشاندہی نہیں بلکہ تمباکو کی صنعت کے حربوں کو بے نقاب کرنا بھی ہے جو اپنی منافع بخش مصنوعات کو فروغ دینے کے لیے مختلف چالاکیوں اور نفسیاتی حربوں کا سہارا لیتی ہے۔

    تمباکو صنعت نے سالوں سے اپنے نقصان دہ اثرات کو چھپانے کے لیے مختلف طریقے اپنائے ہیں۔ وہ صرف سگریٹ کی فروخت پر انحصار نہیں کرتے بلکہ نئے ذائقے، خوشبوئیں، اور دلکش پیکجنگ کے ذریعے نوجوانوں کو اپنی طرف راغب کرنے کی کوشش کرتے ہیں۔ یہ "فلیورڈ” سگریٹ، ای سگریٹ، اور دیگر تمباکو مصنوعات نوجوانوں اور نئی نسل کے لیے تمباکو نوشی کو مزید پرکشش بناتی ہیں۔ یہ ایک منظم حکمت عملی ہے جو نہ صرف صحت کو نقصان پہنچاتی ہے بلکہ معاشرتی سطح پر بھی سنگین نتائج کا باعث بنتی ہے۔پاکستان میں ہر سال تقریباً 1,60,000 سے زائد اموات تمباکو سے متعلقہ بیماریوں کی وجہ سے ہوتی ہیں۔ یہ تعداد حیران کن اور دردناک ہے۔ سگریٹ نوشی نہ صرف جسمانی صحت کو نقصان پہنچاتی ہے بلکہ ذہنی اور معاشرتی زندگی پر بھی منفی اثرات مرتب کرتی ہے۔ بہت سے لوگ اس عادت کی وجہ سے اپنی زندگی کے خوشگوار لمحات کھو دیتے ہیں اور اپنی فیملی کو بھی اس کا سامنا کرنا پڑتا ہے۔

    ہم سب کو چاہیے کہ ہم اپنی اور اپنے اہل خانہ کی صحت کے لیے سگریٹ نوشی کی عادت کو چھوڑ دیں۔
    "تمباکو سے انکار، زندگی سے پیار” اور”سگریٹ سے جان چھڑائیں، صحت مند زندگی گزاریں” کا نعرہ ہر پاکستانی کے دل میں بسانا ہوگا۔پاکستان میں تمباکو نوشی کا مکمل خاتمہ ممکن ہے، اگر ہم سب مل کر اس کے خلاف آواز بلند کریں اور اس بیماری کی لپیٹ سے نکلنے کی کوشش کریں۔ پاکستان میں موجودہ قوانین کے تحت سگریٹ کی پیکنگ پر گرافیکل ہیلتھ وارننگ لازمی ہے تاکہ صارفین کو سگریٹ نوشی کے مضر اثرات سے آگاہ کیا جا سکے۔ لیکن افسوسناک حقیقت یہ ہے کہ 286 غیر ملکی سگریٹ برانڈز بغیر گرافیکل ہیلتھ وارننگ کے فروخت ہو رہے ہیں، جو قانون کی کھلی خلاف ورزی ہے۔اس کی وجہ سے حکومت کو سالانہ تقریباً 300 ارب روپے سے زائد کا معاشی نقصان اٹھانا پڑتا ہے۔

    تمباکو نوشی صرف صحت کا مسئلہ نہیں بلکہ ملکی معیشت کے لیے بھی بوجھ ہے۔ جب کمپنیاں قوانین کو توڑ کر اربوں روپے بچاتی ہیں اور عوام بیماریوں میں مبتلا ہوتے ہیں تو یہ نہ صرف بے حسی ہے بلکہ ظلم کے مترادف ہے۔تمباکو نوشی کی روک تھام کے لیے ہر فرد، تنظیم، اور حکومت کو اپنی ذمہ داری سمجھ کر آگے آنا ہوگا۔ ہمیں تمباکو صنعت کے چالاک حربوں کو سمجھ کر ان کا مقابلہ کرنا ہوگا، تاکہ ہماری اگلی نسل صحت مند، خوشحال اور تمباکو سے پاک زندگی گزار سکے۔آئیں، اس عالمی دن پر عہد کریں کہ ہم خود بھی تمباکو نوشی چھوڑیں گے اور دوسروں کو بھی اس کا شعور دیں گے تاکہ پاکستان ایک صحت مند ملک بن سکے۔

  • آسمانی شادی

    آسمانی شادی

    غربت کی رسی سے خودکشی کرنے والے باپ کی بیٹی کے نصیب
    ظفریات کتاب کا حقیقت پر مبنی دل سوز مضمون: آسمانی شادی
    تحریر: ظفر اقبال ظفر
    2020 مجھے ساری زندگی نہیں بھول سکتا۔ اس سال نے انسانیت کو کرونا وائرس جیسی وبا کے امتحان میں ڈالا، جو خود تو نظر نہیں آتی تھی مگر کئی واقعات دکھا کر گئی۔ جب ملک بھر میں لاک ڈاؤن لاگو کر دیا گیا، یہ کہانی ہے ایک ایسے مزدور کی جو روزانہ اپنا کنواں کھود کر پانی نکالتا تھا، یعنی روز کمایا تو کھایا ورنہ فاقہ۔ لاک ڈاؤن کو دوسرا ماہ تھا، عوام گھروں میں قید تھی۔ جن کے گھر وافر راشن اور رقم تھی، وہی بے فکر تھے۔ باقی سبھی خوراک کی خوراک بنتے جا رہے تھے۔

    مشکل میں مصیبت کو دُور کرنے والے انسانوں کے جہان کا تو پتہ نہیں، مگر پاکستان، پنجاب کے مسلمانوں نے اپنی دکانوں پر پڑی چیزیں مہنگی کر دی تھیں۔ دورِ حاضر میں یہ مجبوری کا فائدہ اٹھانے والے لوگ حیوانوں کو اشرف المخلوقات ہونے پر کبھی پچھتانے نہیں دیتے۔ نجانے کتنے لاچار، بے بس، غریب انسانوں کو کرونا وائرس کے دور میں موت کا خوف اپنی لپیٹ میں مبتلا کر چکا تھا، مگر یہ کہانی ایک ایسے غریب مزدور کی، جس نے اپنے بچوں کی بھوک مٹانے میں ناکامی کا یہ حادثہ پیش کیا کہ شہر کے بیچ میں ایک درخت پر پھندہ بنا کر جھول گیا۔

    اس کی تصویریں سوشل میڈیا پر دیکھیں تو رُوح کانپ اُٹھی۔ قریبی شہر کا واقعہ تھا۔ میں بھی دو بچوں کا باپ ہوں، اور باپ کے حساس دل کے ہاتھوں مجبور ہو کر ایک دن اس خوفناک موت کا شکار ہونے والے باپ کے گھر پہنچا۔ایک چھوٹا سا گھر، جس کی کچی دیواریں اور چھت اس میں رہنے والوں کے حالات بیان کر رہی تھیں۔ بیوہ اپنی بچیوں کو آغوش میں لیے خون کے آنسو بہاتی ہوئی کہہ رہی تھی: بیٹی کا رشتہ طے کیا تھا، اس کے سسرالیوں کو گمان تھا کہ باپ جہیز میں کچھ نہ کچھ تو ضرور دے گا، مگر اب وہ بھی دامن چھڑواتے نظر آ رہے ہیں۔ ہو سکتا ہے کچھ روز میں شادی سے انکار کر دیں،مجھ سے کچھ بولا نہ گیا اور اگلے نقصان کا اعلان سن کر دُکھی سا لوٹ آیا۔

    کسی غیبی طاقت نے مجھے ان کے لیے کوشش کرنے پر مجبور کر دیا۔ میں نے اپنے ایک بیرون ملک مقیم کزن سے مدد کی بات کی تو اس نے مجھے بیس ہزار روپے بھیجے۔ کچھ رقم میں نے اپنے شافعِ محشرؑ کے غلام مسیحا سے حاصل ہونے والی شامل کی اور مزید کے لیے بے قرار ہو گیا۔روز میرا دل مجھے کسی نیلام گھر جہیز والے کے پاس پہنچنے کو مجبور کرتا اور میں سوچتا کہ معمولی سی رقم سے جہیز کا سامان متاثرہ گھر میں کیسے پہنچ سکتا ہے، مگر مجھے چلانے والی طاقت نے جہیز مارکیٹ جانے پر مجبور کر دیا۔

    بندے کی جیب میں پچاس ہزار ہو اور دو، ڈھائی، تین لاکھ کا سامان لینے چلا جائے، ظاہری طور پر تو یہ بے وقوفانہ جرات ہے، جس کا نتیجہ شرمندگی کے سوا کچھ نہیں، مگر یہ جو صاحبِ حیثیت لوگ ہوتے ہیں، ان کو قدرت اپنے کسی بندے کی مدد کے لیے صاحبِ دل بھی کر لیتی ہے۔میں دکانوں کے آگے سے گزر رہا ہوں اور میری نظریں دکان میں سامان نہیں، انسان تلاش کر رہی تھیں۔ خدا کی حکمت سے واقفیت کا پہلو بھی سن لیجئے: مالک خوبصورت روحوں پر خوبصورت چہرے سجاتا ہے۔ ہمارا واسطہ کئی ایسے افراد سے پڑتا ہے جن کی شکل دیکھ کر عقل محبت کے احساس کا پتہ دیتی ہے، اور کئی ایسے ہوتے ہیں جنہوں نے ہمارا بگاڑا بھی کچھ نہیں ہوتا، اور وہ ہمیں اچھے بھی نہیں لگتے، یعنی نظریں کئی چہروں کو روح کے فیصلے پر چھوڑ دیتی ہیں اور کئی چہرے دل کے فیصلے میں آ جاتے ہیں۔

    ایسے ہی میں ایک دکان مالک بزرگ انسان، گورا چہرہ، سفید داڑھی، سفید لباس، ہونٹوں پہ تبسم، نگاہوں میں مہربانی — ہماری نظریں ملتے ہی توجہ کا جذبہ اجاگر ہوا۔
    میں ان کی طرف کھنچا چلا گیا، اور انہوں نے مجھے اپنی طرف آتے ہی ملازم کو کرسی لانے کا پیغام دیا۔میں قریب پہنچا تو کرسی مجھ سے پہلے پہنچ گئی۔ میں نے سلام کیا۔ جواب دیتے ہی "تشریف رکھیے” کا اشارہ زبان اور ہاتھ پر اتر آیا۔میں کچھ دیر خاموش بیٹھا رہا کہ بات کیسے اور کہاں سے شروع کروں۔ وہ میرا چہرہ دیکھتے رہے۔ میں نے ہمت جمع کرکے کہا: محترم، میں گاہک نہیں، خدا کا پیغام ہوں جو آیا نہیں، بھیجا گیا ہوں۔

    پھر موبائل سے وہ غریب مزدور کی پھانسی لینے والی تصویر سامنے کرتے ہوئے واقعہ بیان کیا کہ میں حادثے کے بعد اس کے گھر گیا تھا۔ اس کی بیوی اور بچیاں اپنی زندگی کا خدا سے اس بات کا شکوہ کر رہی تھیں کہ اس دور میں کیوں پیدا کیا، جس میں انسان تو ہیں، مگر انسانیت نہیں بستی۔کاش ہمارے ہاں ہمسایوں کے حالات سے باخبر رہنے کی روایت زندہ ہوتی تو ہمارا باپ عزتِ نفس کی رسی کو اپنے گلے کا ہار بنا کر انسانوں کے جہاں سے روانہ نہ ہو جاتا، اور چوک میں پھندا لینا یعنی انسانوں میں انسانیت جگانے کی کوشش تھی، ورنہ مر تو وہ گھر کی چار دیواری میں بھی سکتا تھا۔

    اُس بزرگ بندے کی آنکھوں سے آنسو ٹپکنے شروع ہوئے، کہنے لگا: "ہمیں قدرت کا کیا کام کرنا ہے؟”میں نے کہا "اس کی ایک جوان بچی ہے جس کا رشتہ طے کر کے گیا تھا، اب وہ لوگ جہیز کے سامان کے نہ ملنے کی وجہ سے رشتہ توڑ سکتے ہیں۔ اگر کچھ سامان میسر آ جائے تو ہم مرنے والے کو تو نہیں بچا سکے، مگر گھٹ گھٹ کر زندگی اور حالات کو کوسنے والی ایک بچی کا گھر بسنے سے پہلے اُجڑ جانے سے بچا سکتے ہیں۔”
    اور وہ رقم جو میرے پاس تھی نکالتے ہوئے ان کی طرف بڑھا دی۔انہوں نے وہ رقم گنی بھی نہیں اور ملازموں کو بلا کر کہا: "جو سب سے اچھا جہیز کا سیٹ پڑا ہے وہ گاڑی میں لوڈ کرو اور چائے کے لیے آرڈر دو، کہ اللہ کا قاصد ہمارا مہمان بنا ہے۔”

    میں اپنی خود غرضی کی غلاظت سے بھری اوقات دیکھتے ہوئے رو پڑا کہ مالک نے کیسا کام لیا جس نے مجھے انسانیت کا ترجمان بنا دیا۔ بس ایک عیب چھپانے والی رحمت کی چادر تھی، جس نے میرے کردار کو انمول بنایا ہوا تھا۔سامان لوڈ ہوا تو اس بزرگ بندے نے گاڑی ڈرائیور کو کرایہ دیتے ہوئے کہاکہ "کسی سے کوئی پیسوں کا مطالبہ نہ کرنا اور ان صاحب کے ساتھ چلے جاؤ، جہاں یہ کہیں سامان چھوڑ آنا۔”

    میرے پاس اس بزرگ بندے کا شکریہ ادا کرنے کے الفاظ نہیں تھے، مگر اس کا جواب قدرت خود ہی اسے دے گی۔میں گاڑی والے کے ساتھ بیٹھا اور ہم متاثرہ گھر کی جانب روانہ ہو گئے۔ میں دل میں اُس بیوہ ماں کی کیفیت کو محسوس کرکے اشک بہا رہا تھا کہ جب اُس بچی اور ماں کو معلوم ہوگا کہ قدرت نے اُن کی رُوح کا ایک بڑا بوجھ ہلکا کر دیا ہے، تو ان کی کیفیت کیا ہوگی۔

    مجھ سے یہ منظر دیکھا نہ جائے گا۔ مالک ہمت عطا کرے گا۔

    ہم دو گھنٹے بعد اس متاثرہ گھر کے دروازے پر پہنچے، دستک دی، اندر سے بچی کی آواز آئی: "کون؟”
    "بیٹی، اللہ کا بندہ ہوں، اپنی ماں کو کہو وہ جو بندہ دوسرے شہر سے تعزیت کے لیے آیا تھا وہ دوبارہ آیا ہے، ملنا چاہتا ہے۔”
    بچی نے اپنی ماں کو بتایا تو اُس نے اندر آنے کی اجازت دی۔
    میں اندر گیا، ٹوٹی ہوئی چارپائی پر بیٹھی عورت نے میرا دیکھا ہوا چہرہ پہچان لیا۔

    میں نے سلام کیا اور دونوں ہاتھ جوڑ کر کہاکہ "اللہ نے آپ کی بچی کے لیے سامان بھیجا ہے، اسے قبول کرکے مجھ پر احسان کریں۔”
    ان کے ذہن میں آیا کہ کوئی چھوٹی موٹی رقم یا چیز ہوگی جو ابھی میں جیب سے نکال کر ان کے حوالے کروں گا مگر میں نے ان کا ہاتھ تھاما اور انہیں دروازے سے باہر گاڑی کے پاس لے آیا۔
    ڈرائیور سے کہا: "ترپال اُٹھائیں۔”

    جب جہیز کے سامان پر اس عورت اور بچی کی نظر پڑی تو وہ بے اختیار روتے ہوئے آپس میں گلے لگ گئیں۔

    بچی ماں کو کہنے لگی کہ "بابا نے خدا کے پاس جا کر خدا کو منا کر میری زندگی کے آباد ہونے کا سامان بھیجا ہے۔ بھلا ایسا بابا کسی بچی کو نصیب ہوا ہو گا جو مجھے ملا تھا۔”
    ہم نے سامان گاڑی سے نکال کر ان کے کمرے میں رکھنا شروع کیا۔

    گلی میں ہمسائے دیکھتے گزرتے تو وہ عورت کہتی کہ "میرے میاں نے اللہ کے پاس جا کر ہمارے زخم دکھائے تو رب نے مرہم بھیجا ہے۔”مکمل سامان حوالے کرنے کے بعد اس کی تصویریں بچی کے سسرال والوں کو بھیجیں تو انہوں نے فوری آنے کا کہہ کر فون بند کر دیا۔ان کے آنے سے پہلے میں وہاں سے بیوہ کو یہ کہہ کر روانہ ہو گیا کہ "یہ میرا نمبر ہے، شادی کی تاریخ طے کر کے بتا دیجئے گا اور اس کا شکریہ بھیجنے والے رب کو ادا کیجئے گا۔”

    اُس رات اُس گھر میں لاوارثی کا نہ صرف احساس ختم ہوا بلکہ دُکھ کے جسموں نے خوشی کا لباس بھی پہنا۔ افلاس کے ہاتھوں ننگے ہوتے انسان محفوظ ہو گئے۔
    دو روز بعد اُس عورت کا فون آیا کہ بچی کے سسرال والوں نے بچی کو آنکھوں پر بٹھا کر بسانے کا یقین دلایا ہے۔ہم نے ایک ماہ بعد شادی کی تاریخ مقرر کر لی ہے۔
    سو لوگ بارات میں آئیں گے۔

    مجھے طے شدہ تاریخ کا بتایا گیا تو میں کچھ روز بعد ہی اسی شہر کے ایک شادی ہال کے مالک کے پاس پہنچا اور اسے اپنا تعارف کروا کر سارا ماجرہ سنایا۔وہ شخص اس موت سے باخبر تھا مگر جب میری زبانی بات سنتا گیا تو اس کے دل پر قدرت کا احساس نازل ہوتا گیا۔

    وہ میرے جڑے ہاتھ، اشکوں میں بھیگے، منت سے لبریز الفاظ سنتے ہوئے اپنی خاموشی توڑ کر کہنے لگاکہ "بھائی، خدا کا کام ہے، میرے شادی ہال کا مجھ پر کوئی خرچہ نہیں، مگر بارات کا کھانا میری طرف سے ہوگا، ورنہ میں رب کو منہ دکھانے کے قابل نہیں رہوں گا۔””ساری زندگی پیسہ کمایا ہے، آج انسانیت کمانے کا موقع ہاتھ سے جانے نہیں دوں گا۔”ہم دونوں متاثرہ گھر میں گئے اور اُس بیوہ عورت کو بارات کے سارے انتظامات کے بارے میں بتایا۔

    بچی کے دلہن کے لباس سے لے کر عام پہننے کے کپڑے، جوتے اور باقی افراد کے شادی پر پہننے کے جوتے کپڑے جیسی تمام اشیاء سے بے فکر کرکے اُٹھے۔
    کچھ روز بعد یہ سامان شادی ہال کے مالک اور اس کی بیوی کے ہاتھوں پہنچ گیا۔
    مجھے بتایا اور ساتھ کہا کہ جہیز کے موجود سامان کے علاوہ کسی اور سامان کی ضرورت و فکر نہیں۔
    بچی کے سسرال والوں نے ہاتھ جوڑ کر کہا ہے کہ لڑکے نے باقی انتظام کر لیا ہے۔

    شادی ہال کے مالک نے اپنے صاحبِ حیثیت دوستوں کو بتایا تو وقت آنے پر ان میں کسی نے مہندی کا سامان پہنچایا تو کسی نے کھانا۔ہمسایوں کے ساتھ بیوہ عورت کے اپنے اور خاوند کے قریبی عزیز و اقارب نے ان متاثرہ افراد کے سر پر چھوٹی چھوٹی مہربانیوں کی چھت بنا ڈالی۔اگلے دن شادی ہال میں بارات پہنچی، نکاح پڑھایا گیا، شاہی کھانا کھلایا گیا۔

    مجھے یقین ہے یہ شادی آسمان والے کے کیمرے میں ریکارڈ کی گئی، اور خودکشی کرنے والے باپ کی رُوح نے آسمان سے رب کی رحمت کے پھول اپنی بچی پر برسا کر رُخصت کیا ہوگا۔کیونکہ دلہن اس موقع پر اپنے بابل کے سینے لگ کر کندھے پہ سر رکھ کے رونے والے احساس میں جکڑی کہہ رہی تھی کہ "یہ وہی شادی ہے جس کا میرا بابل دلاسہ دیا کرتا تھا۔”

    میں اس موقع پر جان بوجھ کر شریک نہیں ہوا کہ بچی یا اس کی ماں کی عزتِ نفس مجروح نہ ہو۔اُن کی نگاہوں میں اُس احسان کی تصویر نہ اتر آئے جو میں نے کیا ہی نہیں، بلکہ میں تو خود اپنی روح کا سجدہ خدا کے حضور پیش کر رہا تھا، جس نے مجھے آسمانی فیصلے کی تکمیل کا حصہ بنایا۔

    ہاں، میں اتنا ضرور کہوں گاکہ اس سوئے ہوئے احساسِ انسانیت کے معاشرے میں دردِ انسانیت کے شعور کو اجاگر کیا جائے، تو کوئی غریب لاچار، بے بس زندگی خودکشی نہ کرے۔
    انسان موت کو گلے تب لگاتا ہے، جب معاشرہ انسانیت کو گلے لگانا چھوڑ دیتا ہے۔