Baaghi TV

Category: معاشرہ و ثقافت

  • اسمارٹ اسکلز کیمپ فار کڈز،نئی نسل کے روشن مستقبل کی جانب ایک فکری و عملی سفر

    اسمارٹ اسکلز کیمپ فار کڈز،نئی نسل کے روشن مستقبل کی جانب ایک فکری و عملی سفر

    دنیا ایک برق رفتاری سے بدلتی ہوئی تصویر کی مانند ہے، جہاں علم و ہنر کی تازگی کے بغیر نہ فرد زندہ رہ سکتا ہے، نہ قوم۔ ایسے میں جب دنیا جدید ٹیکنالوجی کی آغوش میں پل رہی ہے، پاکستان مرکزی مسلم لیگ نے ایک بصیرت افروز اقدام کے تحت "اسمارٹ اسکلز کیمپ فار کڈز” کا انعقاد کیا، جو بچوں کے لیے ایک روشن چراغ اور نئی نسل کی فکری تربیت کا عملی نمونہ ثابت ہوا۔7 جولائی سے 14 جولائی 2025 تک جاری رہنے والا یہ آن لائن تربیتی کیمپ، پاکستان مرکزی مسلم لیگ کے شعبہ آئی ٹی کے زیرِ انتظام منعقد کیا گیا۔ اس میں پاکستان بھر سے 9 سے 13 سال کے بچوں نے جوش و خروش کے ساتھ شرکت کی۔ کیمپ کا مقصد صرف جدید مہارتوں کی تعلیم دینا نہ تھا، بلکہ بچوں میں خود اعتمادی، تخلیقی شعور، اور عصری دنیا کے تقاضوں سے ہم آہنگی پیدا کرنا بھی اس کا ایک اہم حصہ تھا۔

    اس موقع پر ملک وقاص سعید، سربراہ شعبہ آئی ٹی مرکزی مسلم لیگ، نے کہا اسمارٹ اسکلز کیمپ، بچوں کی فکری دنیا کو وسعت دینے اور ان کے اندر خود اعتمادی، تخلیق اور تجسس کے چراغ روشن کرنے کی ایک شعوری کاوش ہے۔ ایسے اقدامات مستقبل کے معماروں کی بنیادوں کو مضبوط کرتے ہیں

    کیمپ کے سات دن، ہر لمحہ علم کی روشنی سے لبریز رہے۔ یہ محض لیکچر نہیں تھے، بلکہ ایک فکری مہم تھی، جس میں بچوں نے نہ صرف سنا بلکہ محسوس کیا، سیکھا اور تخلیق کیا۔ مختلف موضوعات پر تجربہ کار ماہرین نے بچوں کو جدید دنیا کے اہم ترین اسکلز سکھائے۔ ان میں شامل تھے
    مصنوعی ذہانت اور اینیمیشن – ملک وقاص سعید: ایک دنیا جو مستقبل کی راہ دکھاتی ہے۔
    ڈی آئی وائی کریئیٹوٹی – انایا: بچوں کی تخلیقی سوچ کو عملی شکل دینے کا فن۔
    پریشر اور بُلیئنگ ہینڈلنگ – بشریٰ اقبال: نفسیاتی طاقت اور جذباتی ذہانت کی تعلیم۔
    اسپوکن انگلش – قرۃ العین: بین الاقوامی زبان میں خود اظہار کی مہارت۔
    آن لائن سیفٹی – عائشہ طارق: ڈیجیٹل دنیا میں تحفظ اور آگہی۔
    ماحولیاتی تحفظ – عروبہ سلطان: قدرت سے رشتہ استوار رکھنے کا درس۔
    انٹرپرینیورشپ – حفصہ ادریس: چھوٹی عمر میں بڑی سوچ کا آغاز۔
    کینوا ڈیزائننگ – خدیجہ نوید: جمالیاتی ذوق اور گرافک فن کی ابتدا۔
    ان موضوعات کے ساتھ ساتھ ای بُک کریئیٹنگ، پوڈکاسٹ سازی، مشین لرننگ، سائبر سیفٹی، بزنس پلاننگ جیسے شعبہ جات میں بھی بچوں نے عملی سرگرمیوں کے ذریعے سیکھا۔ یہ ایک مکمل، مربوط اور تخلیقی تربیتی تجربہ تھا۔

    کیمپ کے دوران والدین نے اس بات کا بارہا اظہار کیا کہ کیمپ کا ماحول نہایت محفوظ، رہنمائی سے بھرپور، اور تربیتی لحاظ سے مؤثر تھا۔ بچوں نے جو سیکھا، وہ صرف ہنر نہ تھا بلکہ سوچنے کا نیا انداز، خود اعتمادی کی نئی روح، اور مستقبل کی بنیادوں کی نئی تعمیر تھی۔ ملک وقاص سعید نے اپنے خطاب میں واضح کیا کہ پاکستان مرکزی مسلم لیگ صرف سیاسی میدان میں سرگرم نہیں، بلکہ ہمارا مقصد ہے کہ ہم نئی نسل کو بااخلاق، باشعور اور باصلاحیت شہری بنائیں۔ ہمارا ہر قدم اسی وژن کی جانب ہے،”اپنا کماؤ انیشیئیٹو” کے تحت لاکھوں پاکستانیوں کو مفت ڈیجیٹل کورسز، ای کامرس اور فری لانسنگ کی تربیت دی گئی، تاکہ ہر فرد اپنے گھر بیٹھے خود کفیل بن سکے۔ اور اب یہی سفر بچوں سے شروع ہو رہا ہے، تاکہ آنے والی نسل اپنے ہنر اور علم سے وطن کی تعمیر کرے۔

    اسمارٹ اسکلز کیمپ فار کڈز” نہ صرف بچوں کی فکری، تخلیقی اور ڈیجیٹل تربیت کا مظہر ہے بلکہ یہ اس خواب کی تعبیر ہے جس میں ہم ایک خود کفیل، باہنر، اور باوقار پاکستان کو دیکھتے ہیں۔ یہ کیمپ اس امید کا چراغ ہے جو ایک دن پورے معاشرے کو علم و شعور کی روشنی سے منور کرے گا۔

    مرکزی مسلم لیگ کی جانب سے اعلان کیا گیا ہے کہ مستقبل میں ایسے مزید پروگرامز نوعمروں، طلبہ اور عام شہریوں کے لیے بھی پیش کیے جائیں گے۔ مقصد ایک ہی ہے: ہنر ہر گھر تک، خود کفالت ہر فرد تک۔اگر آپ چاہتے ہیں کہ آپ کے بچے بھی ایسے تعلیمی اور تربیتی مواقع سے مستفید ہوں، تو مرکزی مسلم لیگ کے آئندہ پروگرامز پر نگاہ رکھیں۔

  • ادھورے خواب، مکمل چہرے،تحریر: اقصیٰ جبار

    ادھورے خواب، مکمل چہرے،تحریر: اقصیٰ جبار

    وہ مسکرا رہا تھا۔
    چہرہ تازہ، آنکھوں میں چمک، کیمرہ آن… اور دنیا واہ واہ کر رہی تھی۔

    مگر اگلے دن خبر آئی کہ وہ اب نہیں رہا۔

    وہ جس کی ہر پوسٹ پر ہزاروں کمنٹس ہوتے تھے، آج اس کی موت پر صرف ایک پوسٹ نے سب کچھ سمیٹ دیا:
    "اللّہ مغفرت فرمائے، بہت کامیاب اور اچھا انسان تھا!”

    یہ سطریں اب عام ہو گئی ہیں۔ اب کسی "اچھے اور کامیاب” انسان کا اچانک چلے جانا ہمیں چونکاتا نہیں، بس افسوس کر کے آگے بڑھ جاتے ہیں۔ لیکن کیا ہم نے کبھی رُک کر سوچا ہے کہ آخر وہ سب کچھ رکھتے ہوئے بھی ادھورا کیوں تھا؟

    ہم ایک ایسے سماج میں جی رہے ہیں جہاں چہرہ مکمل ہونا لازم ہے — صاف، نکھرا، خوش باش — چاہے روح اندر سے کچلی ہوئی ہو۔
    جہاں خواب دکھانا ضروری ہے، چاہے وہ سچ نہ ہوں۔
    جہاں کامیابی کی تعریف صرف فالوورز، گاڑی، گھر، اور غیرملکی دوروں سے جڑی ہو۔
    اور جہاں اگر کوئی کہے کہ "مجھے مدد چاہیے”، تو ہم اسے کمزور سمجھتے ہیں، ناکام سمجھتے ہیں۔

    گزشتہ برسوں میں پاکستان میں کئی ایسے نوجوان، فنکار، انفلوئنسرز، اور کاروباری افراد موت کی وادی میں اُتر گئے، جنہیں ہم نے "کامیاب” مانا تھا۔ اُن کی زندگیاں بظاہر مکمل تھیں، مگر اندر کوئی ایسی خاموش جنگ چل رہی تھی، جو وہ ہار گئے۔

    کیا یہ محض اتفاق ہے؟
    نہیں۔ یہ ہمارے اجتماعی رویّے کی وہ سنگین غلطی ہے جسے ہم نے "معمول” سمجھ لیا ہے۔

    ہم اپنے بچوں کو بتاتے ہیں کہ وہ کچھ بنیں، آگے نکلیں، مشہور ہوں۔
    لیکن ہم یہ نہیں سکھاتے کہ دل کو کیسے سنبھالنا ہے؟
    ہم انہیں مقابلہ سکھاتے ہیں، مگر ہارنے پر گلے لگانا نہیں سکھاتے۔
    ہم انہیں خواب دکھاتے ہیں، مگر نیند چھن جانے پر خاموش ہو جاتے ہیں۔

    کامیابی اب ایک تماشہ بن چکی ہے۔
    اندر سے ٹوٹا ہوا انسان بھی اگر باہر سے "پرفیکٹ” نظر آئے، تو وہ قابلِ رشک ہے۔
    لیکن جو سچ بول دے، جو آنکھ میں آنسو لے آئے، وہ یا تو کمزور ہے یا attention seeker۔

    آج کسی کی خودکشی پر ہم افسوس تو کرتے ہیں، مگر اس سے کچھ سیکھنے کو تیار نہیں۔
    ہم اب بھی ہر نوجوان کو وہی "کامیابی کا فارمولا” تھما رہے ہیں:
    زیادہ کماؤ، مشہور ہو جاؤ، فالوورز بڑھاؤ…
    اور اگر کہیں ٹوٹنے لگو، تو خاموشی سے ٹوٹ جاؤ، لوگوں کو بتانا مت۔

    کیا ہم نے کبھی سوچا کہ وہ نوجوان جن کے خواب ہم نے دیکھے، وہ کیوں ادھورے رہ گئے؟
    کیوں ایک کامیاب چہرے کے پیچھے ہارے ہوئے انسان نے خود کو ختم کر لیا؟
    کیا صرف وہ قصوروار تھا… یا ہم سب؟

    ہمیں اب اپنے رویّے بدلنے ہوں گے۔
    کامیابی کی نئی تعریف لکھنی ہو گی۔
    ایسی کامیابی جو ذہنی سکون دے، جو رشتے نہ توڑے بلکہ جوڑے، جو انسان کو صرف اوپر نہ لے جائے بلکہ اندر سے سنوارے۔

    ہمیں "اچھا بننے” سے زیادہ "سچ بولنے” کی ہمت پیدا کرنی ہو گی۔
    کبھی کبھار صرف اتنا پوچھ لینا، "تم واقعی خوش ہو؟”،
    کسی کی جان بچا سکتا ہے۔

    قرآنِ کریم میں فرمایا گیا:
    "وَلَقَدْ خَلَقْنَا الْإِنسَانَ فِي كَبَدٍ”
    "ہم نے انسان کو مشقت میں پیدا کیا ہے۔” (سورۃ البلد: 4)

    زندگی کا اصل چہرہ یہی ہے — آزمائش، جدوجہد، تھکن، اور تنہائی۔
    ہم سب ان مشقتوں کا حصہ ہیں، مگر کچھ لوگ انہیں اکیلے جھیلنے پر مجبور ہو جاتے ہیں۔

    ہم دوسروں کی چمک دیکھ کر رشک کرتے ہیں، مگر یہ بھول جاتے ہیں کہ روشنی جتنا قریب آتی ہے، سایہ اتنا گہرا ہو جاتا ہے۔

    شاعر احمد فراز کے لفظوں میں:

    یہ لوگ کتنے مسافر ہیں کتنے خالی ہیں
    نظر سے دور ہیں لیکن دلوں کے ساتھ نہیں

    تو اگلی بار جب آپ کسی روشن چہرے کو دیکھیں،
    تو ذرا آنکھوں میں جھانک لیجیے گا —
    شاید وہاں کوئی ادھورا خواب مدد کا منتظر ہو…

  • اولاد، محبت کا رشتہ یا ذمہ داریوں کا بوجھ؟ تحریر :صدف ابرار

    اولاد، محبت کا رشتہ یا ذمہ داریوں کا بوجھ؟ تحریر :صدف ابرار

    ہمارا معاشرہ خود کو خاندانی نظام کا محافظ کہتا ہے، لیکن اس خاندانی نظام میں اکثر والدین اپنی اولاد کو محض ایک سہارا، ایک ضمانت یا ایک سرمایہ سمجھتے ہیں۔ یہ سوچ کہ ’’ہم نے تمہیں پیدا کیا ہے اس لیے تم پر ہمارا حق ہے‘‘ ایک زنجیر بن کر رہ گئی ہے جو نسل در نسل بچوں کو غلامی میں جکڑے رکھتی ہے۔

    اکثر والدین بچوں کو تعلیم بھی اس نیت سے دلاتے ہیں کہ کل کو یہی اولاد ان کی بڑھاپے کی لاٹھی ہو، ان کی محرومیوں کا مداوا کرے اور ان کی ذمہ داریوں کا بوجھ اپنے کندھوں پر اٹھا لے۔ بچہ ہو یا بچی — کوئی اس بوجھ سے آزاد نہیں ہو سکتا۔ خواہ اس کے خواب کچلے جائیں، اس کی خواہشات روندی جائیں، یا وہ ذہنی اور جسمانی اذیت سے گزرتا رہے — اس پر فرض ہے کہ وہ والدین کی نااہلی اور غیر ذمہ داری کی قیمت اپنی صحت، اپنی زندگی اور اپنی آزادی سے چکاتا رہے۔

    اس ظلم کو ’’والدین کا حق‘‘ کہہ کر جسٹیفائی کیا جاتا ہے۔ وہ والدین جو خود اپنی زندگی کو بہتر بنانے کی ذمہ داری اٹھانے سے بھاگ جاتے ہیں، وہی اپنے بچوں کی قربانیوں کو اپنا حق سمجھ کر بے حسی سے تماشہ دیکھتے ہیں۔ بچے دل پر پتھر رکھ کر اپنی خوشیاں دفن کر دیتے ہیں، مگر والدین کی بھوک پھر بھی نہیں مٹتی۔

    سوال یہ ہے کہ اگر اولاد ہمارے سہارے کی ضرورت ہے تو کیا ہمیں ان پر بوجھ ڈالنے کا حق ہے؟ کیا ان کی تعلیم، ان کی محنت اور ان کا کمال صرف اس لیے ہے کہ وہ والدین کی ناکامیوں کا بوجھ اٹھائیں؟ کیا یہ انصاف ہے کہ ایک شخص کی پوری زندگی اس امید میں گزر جائے کہ شاید ایک دن وہ اپنی ذات کے لیے بھی جی سکے مگر وہ دن کبھی نہ آئے؟

    ہمیں ماننا ہوگا کہ اولاد پر حق محبت، تربیت اور رہنمائی کا ہے — غلامی کا نہیں۔ اولاد کو اپنی زندگی اپنی مرضی سے جینے کا حق ہے۔ ان کی تعلیم ان کا حق ہے، اس پر والدین کی خدمت کے نام پر قبضہ نہیں۔ ہمیں اپنی سوچ کو بدلنا ہوگا کہ اگر ہم نے زندگی دی ہے تو اس کا مطلب یہ نہیں کہ ہم ان کی زندگی کو اپنی خود غرضی سے برباد کر دیں۔

    اگر ہم واقعی اپنی اولاد سے محبت کرتے ہیں تو ہمیں انہیں محبت دینی ہوگی بوجھ نہیں۔ انہیں سہارا دینا ہوگا . سہارے کے نام پر ان کے کندھے توڑنے نہیں۔ ورنہ ہماری آنے والی نسلیں بھی اسی غلامی کو اپنا مقدر سمجھ کر آگے منتقل کرتی رہیں گی، اور یہ درد کبھی ختم نہیں ہوگا۔

  • زندگی ہر طور جینا ہوتی ہے،تحریر:دعا مرزا

    زندگی ہر طور جینا ہوتی ہے،تحریر:دعا مرزا

    کل میرا زندگی سے نیا تعارف ہوا۔ فیصل ٹاون مون مارکیٹ میں میں نے ایک ایسا واقعہ دیکھا جس نے مجھے جھنجھوڑ دیا۔ شاید اگر میں اس کو ویڈیو کی صورت میں ریکارڈ کرتی تو بات کی تشریح آسان ہوجاتی مگر میں اس وقت بغیر کسی دباو کے مشاہدے کرنا چاہتی تھی۔

    رات کالی ہوچکی تھی ، لوگ کھانے کے بعد چائے کی چسکیاں لگا رہے تھے، کہیں قہقہے اور کہیں زندگی کی تلخیوں کی بات چل رہی تھی۔ مںظر وہاں رکا جب گھاس پر سوئے بچے کی اچانک آواز آئی ” ٹائم ہوگیا؟ ” اس کا تکیہ ٹوٹے جوتے تھے لیکن اس کے چہرے کے اطمینان سے لگا رہا تھا گویا وہ روئی کا گولے ہوں۔ اسکی ماں نے بالوں کا جوڑا بناتے ہوئے جواب دیا ” 10 بج گئے نیں اٹھ جا ” اور ساتھ ہی ایک ڈبہ اٹھایا۔ بچے نے ایک توڑے میں سے گولڈن جیکٹ نکالی، بٹن ٹھیک کئے اور فوری سیدھا ہوکے بیٹھ گیا۔ ماں نے ڈبے میں سے گولڈن رنگ اس کے منہ اور گردن پر ملنا شروع کیا۔ وہ ایسے بیٹھا رہا جیسے اس کو اس کا کام معلوم ہو اور کسی سیٹ پر پرفارمنس کیلئے جارہا ہو۔ اس کے فوری بعد اس نے ٹوپی پہنی اور درخت کے نیچے پڑے تھیلے میں سے لائٹوں والے جوگر نکال کر پہنے۔ مجھے وہ تھکا ہوا دکھائی دیا مگر اس نے کسی جوان مرد کی طرح خود کو تھپکی دی اور وہاں سے نکل پڑا۔ اسکی ماں دوپٹہ اوڑھ کر وہیں زمین پر سو گئی جہاں اس کا باپ پہلے سے سویا ہوا تھا۔
    میں نے گردن موڑ کر اس کا پیچھا کرنا شروع کیا۔ وہ ایک ٹیبل پر گیا اور اچانک روبوٹ بن گیا۔ بچہ بہت چھوٹا تھا لوگ فوری پیسےدے رہے تھے۔ کچھ دیر میں میری باری آئی وہ ایسے ہی مخصوص انداز میں مجھ تک پہنچا میں نے اس سے پیار سے پوچھا ” تھک گئے ہو؟ اس نے کچھ لمحے مجھے دیکھا اور بڑی بردباری سے کہا ” نہیں ” میں نے اس کی ٹوپی کو سرکاتے ہوئے پوچھا سکول جاو گے؟ اس بار اس نے ایک لمحہ بھی نہیں لیا اور ذرا اونچی آواز میں کہا ” نہیں ”

    اس کے بعد وہ خاموش کھڑا رہا وہ میرے لیے آج بہت سے سوال چھوڑ گیا تھا کیونکہ اس کی نم آنکھیں، تھکا ہوا چہرہ اور دوسری طرف سوئے ہوئے اس کے ماں باپ اور بہن بھائی اسکی ہمت نہیں آزمائش تھے۔ اسکا لہجہ بہت تکلیف دہ تھا۔
    وہ وہاں سے چلا تھا زندگی کے 5 سال نے اسکو 50 سال کا درد دیا تھا۔
    میں ہرگز نہیں کہہ رہی کہ وہ قابل ترس ہے مگر میں نے اسکے حوصلے سے سیکھا کہ زندگی ہر طور جینا ہوتی ہے۔

  • غریب کا جہاں اور امیر کا اور.تحریر:غنی محمود قصوری

    غریب کا جہاں اور امیر کا اور.تحریر:غنی محمود قصوری

    ویسے تو ارض پاکستان ایک انتہائی اعلیٰ اور متبرک نظریہ کے تحت بنایا گیا تھا اور الحمدللہ شروع میں یہ نظریہ چلتا بھی رہا اور پھر رفتہ رفتہ انگریز کی باقیات نے اپنا اثر بڑھانا شروع کیا اور اس نظریہ کو دبانا شروع کر دیا
    الحمدللہ میں مایوس نہیں نا ہی کبھی مایوسی کی باتیں کیں بلکہ جس قدر میں پاکستان سے باامید ہوں واللہ دنیا میں کسی ملک سے اتنا نہیں ہوں
    الحمدللہ قیام پاکستان کے بعد سے ابتک ترقی ہوئی ہے ضرور ہوئی ہے مگر رفتار بہت سست ہے جس کی وجہ دو قومی نظریہ اور اسلامی تعلیمات سے منہ موڑنا ہے
    ایک دو قومی نظریہ اقبال نے دیا تھا جسے قائد اعظم نے ان کی وفات کے بعد پیش کیا تھا جس کے تحت پاکستان معرض وجود میں آیا اور وہ دو قومی نظریہ قرآن و حدیث اور اسلام کے نظریہ کے تحت تھا
    مگر یہ والا دو قومی نظریہ جو آج ہم پر ہمارے حکمرانوں نے مسلط کیا ہوا ہے یہ غریب اور امیر والا ہے
    جو ہمارے حکمرانوں نے ہمارے سامنے پیش کیا ہے کہ ہم یعنی وہ اشرافیہ الگ قوم ہے اور تم یعنی ان کے نزدیک ہم عوام ایک الگ قوم ہیں
    وہ صاحب عزت ہیں اور ہم اچھوت اور نیچ لوگ نہیں یقین تو ان کی مراعات اور تنخواہیں دیکھ لیں اور پھر ہماری تنخواہیں اور ہم پر لگا ٹیکس دیکھ لیں
    وہ خود ایک تو ایک اعلی و ارفع قوم ہے جسے ہر مراعات حاصل ہیں جبکہ عوام اچھوت ذات جسے کوئی مراعات میسر نہیں بلکہ سانسیں بھی پیسوں سے اپنے پلے سے خریدنی پڑتی ہیں

    ہمارے ہاں ترقی کی رفتار اس لئے سست ہے کہ غریب کا جہاں اور جبکہ امیر کا جہاں اور ہے
    ہم مسلمان ہیں الحمدللہ اسی بناء پر دو قومی نظریہ پیش کرکے آزادی حاصل کی گئی تھی
    اور پاکستان ایک ایسا ملک تھا کہ شاید بہت لمبے عرصے تک ماضی میں کسی ریاست کے قیام کیلئے اتنی قربانیاں نا پیش کی گئی ہونگی جتنی قیام پاکستان کیلئے پیش کی گئیں
    ویسے تو ہمارے ہاں ہر ادارہ موجود ہے جو کہنے کو بغیر غریب امیر کی تمیز کئے کام کرتا ہے مگر یہ بات بہت مشکل ہو چکی ہے

    ارشار باری تعالی ہے

    فَاحۡکُمۡ بَیۡنَ النَّاسِ بِالۡحَقِّ وَ لَا تَتَّبِعِ الۡہَوٰی

    لوگوں میں انصاف کے فیصلے کیا کرو اور خواہش کی پیروی نہ کرنا
    یہ آیت ہماری عدالتوں میں لکھی ہوتی ہے مگر آپ اور میں بخوبی جانتے ہیں انصاف سستا اور فوری امیر کیلئے ہے جبکہ غریب کیلئے اللہ کسی جج کے دل میں رحم ڈال دے تو ٹھیک وگرنہ 50 سال تک عدالتوں کے چکر لگائے بھی نہیں ملتا

    اگر بات بنیادی سہولیات کی تو ملک چلانے والوں کیلئے تعلیم ،صحت، سیکیورٹی جیسی سہولیات سب مفت ہیں جبکہ عوام کو یہ سب پیسے سے لینا پڑتا ہے
    آپ بجلی کو ہی دیکھ لیں جو پہلے سے کئی لاکھ ماہانہ لیتے ہیں ان کو بجلی مفت دی جاتی ہے جبکہ ایک مزدور کو بجلی کی قیمت اس کی ماہانہ انکم سے بھی زیادہ قیمت کی لگائی جاتی ہے جس کے باعث وہ بیچارہ چوری ڈاکہ ڈالنے پر مجبور ہوتا ہے تو پھر وہی بات عدالتوں کی ،قانون فوری حرکت میں آتا ہے اور اسے پکڑ کر اندر کر دیا جاتا ہے جبکہ اس کے برعکس بڑے بڑے مقدموں میں نامزد لوگ ہم پر حکومت کر رہے ہوتے ہیں
    غریب عوام کو گورنمنٹ سے قرض لینے کے لئے لاکھوں جتن کرنے پڑتے ہیں جبکہ اشرفیہ کو گورنمنٹ نت نئے طریقوں سے قرض دیتی ہے اور اگر گورنمنٹ بدل جائے تو پھر وارے نیارے وہ قرض معاف بھی ہو جاتا ہے
    الغرض جتنا بھی لکھوں کم ہو گا غریب کیلئے صرف تسلیاں ہی ہیں جبکہ اشرافیہ کو اس قدر نوازہ جا رہا ہے کہ وہ پہلے سے پھلتا پھولتا جا رہا ہے
    آپ حالیہ بجٹ دیکھ لیں خود ہی اندازہ ہو جائے گا
    مگر اس سب کے باوجود میں مایوس نہیں اگر یہ حکمران انصاف نہیں کر رہے تو وہ عرش والا رب کریم تو ہے نا وہ ان شاءاللہ خوب انصاف کرنے والا ہے ہماری ساری امیدیں اسی رب تعالی سے ہیں ان شاءاللہ وہ اس دنیا میں بھی انصاف کرتا ہے اور اگلے جہاں میں بھی شاید ہماری عوام کی کچھ کمیاں کوتاہیاں ضرور ہیں کہ ہمارے ساتھ یہ سب ہو رہا ہے
    اللہ رب العزت ہماری کمیاں کوتاہیاں معاف کرکے ہمیں ایک اچھی قوم بننے کی توفیق عطا فرمائے آمین

  • سانحۂ سوات، کوتاہی، لاپرواہی یا ناقص حکمت عملی

    سانحۂ سوات، کوتاہی، لاپرواہی یا ناقص حکمت عملی

    دریائے سوات میں پکنک منانے آئے سیاحوں کی ہولناک ہلاکتوں نے پورے ملک کو افسردہ کر دیا ہے۔ حادثے میں جاں بحق ہونے والے 11 افراد میں سے 8 کی نماز جنازہ ڈسکہ میں ادا کر دی گئی جبکہ 2 افراد کی تلاش اب بھی جاری ہے۔ یہ اندوہناک واقعہ کئی سوالات چھوڑ گیا ہے جن کے جوابات لواحقین، عوام، اور سوسائٹی مانگ رہی ہے۔

    جاں بحق افراد کے اہل خانہ اور عینی شاہدین نے الزام عائد کیا ہے کہ ریسکیو 1122 کی ٹیمیں ڈیڑھ گھنٹے کی تاخیر سے پہنچیں، اور جب پہنچیں تو ان کے پاس نہ کشتیاں تھیں، نہ جال۔ متاثرین بتاتے ہیں کہ ان کے عزیز دریا کے بیچ ایک ٹِیلے پر پھنسے رہے، چیختے رہے، مدد کے لیے پکارا، مگر موجیں سب کچھ بہا لے گئیں۔ضلعی انتظامیہ کا دعویٰ ہے کہ سیاحوں کو خطرے سے خبردار کیا گیا تھا اور انہیں روکا بھی گیا، لیکن وہ نہ مانے۔ ذرائع کے مطابق متاثرہ فیملی صبح 8:30 پر ہوٹل کے کیفے میں ناشتے کے لیے پہنچی مگر ہوٹل بند تھا، جس کے بعد وہ پچھلے راستے سے دریا کے اندر چلے گئے۔ سیاحوں نے دریا کے اندر جا کر سیلفیاں لینا شروع کر دیں، مقامی لوگوں نے بار بار خبردار کیا کہ پانی کا ریلا آ سکتا ہے، مگر وہ باز نہ آئے۔

    سرکاری ذرائع کے مطابق 9:50 پر ریسکیو 1122 کو کال کی گئی، مگر حادثے کی نوعیت کا اندازہ نہ ہونے کے باعث ٹیمیں بغیر کشتی و جال کے پہنچیں۔ بعد ازاں 10 منٹ میں یہ سامان منگوایا گیا اور کارروائی شروع کی گئی۔ کارروائی کے دوران تین سیاحوں اور ایک مقامی شخص کو بچایا گیا۔

    واقعے کی سنگینی کے پیش نظر خیبر پختونخوا حکومت نے ڈپٹی کمشنر سوات سمیت متعدد افسران کو معطل کر دیا ہے اور ایک انکوائری کمیٹی قائم کر دی گئی ہے تاکہ ذمہ داروں کا تعین ہو سکے۔ اس کے ساتھ ساتھ سوات بار ایسوسی ایشن نے احتجاجاً عدالتوں کا بائیکاٹ کیا اور سانحے میں غفلت برتنے والوں کے خلاف کارروائی کا مطالبہ کیا۔

    کمشنر مالاکنڈ عابد وزیر نے نجی ٹی وی سے گفتگو میں انکشاف کیا کہ سیاحتی پوائنٹس پر تجاوزات کے خلاف آپریشن شروع کیا جا رہا ہے۔ جس نجی ہوٹل سے سیاح دریا کی طرف گئے تھے، اسے سیل کر کے مالک کو گرفتار کر لیا گیا ہے۔ مزید یہ کہ دریائے سوات کے اندر اور اطراف غیر قانونی مائننگ پر مکمل پابندی لگا دی گئی ہے۔سرکاری رپورٹ کے مطابق ضلع بھر میں دفعہ 144 نافذ تھی، جس پر عملدرآمد پولیس کی ذمہ داری تھی۔ مگر حیرت انگیز طور پر پولیس جائے وقوعہ پر سب سے آخر میں پہنچی۔ سوال یہ ہے کہ جب قانون لاگو تھا تو دریا کے اندر سیاح کیسے پہنچے؟ ہوٹل کا پچھلا راستہ کیوں کھلا تھا؟ پولیس اور انتظامیہ کہاں تھی؟

    اہم سوالات جو اب بھی جواب طلب ہیں ،اگر دفعہ 144 نافذ تھی تو سیاحوں کو دریا میں جانے سے کس نے روکا؟ریسکیو اہلکار بغیر سامان کیوں پہنچے؟حادثے کے وقت ہوٹل کھلا کیوں نہ تھا، اور پچھلا راستہ بند کیوں نہ تھا؟انتظامیہ اور پولیس موقع پر تاخیر سے کیوں پہنچے؟اگر سیاحوں نے مقامی لوگوں کی بات نہ مانی تو کیا سرکاری ادارے مزید سختی نہیں کر سکتے تھے؟

    سانحہ سوات صرف ایک حادثہ نہیں بلکہ ایک نظام کی ناکامی کی علامت بن گیا ہے۔ انتظامیہ، پولیس، ریسکیو ادارے، سب کی کارکردگی پر سوالیہ نشان لگ گیا ہے۔ یہ وقت ہے کہ حکومتی سطح پر ٹھوس اقدامات کیے جائیں تاکہ آئندہ ایسی غفلت انسانی جانوں کے ضیاع کا سبب نہ بنے۔

  • سانحہ سوات،ذمہ دارکون، تحریر:ملک سلمان

    سانحہ سوات،ذمہ دارکون، تحریر:ملک سلمان

    بہت کوشش کے باوجود ساری رات نیند کوسوں دور رہی۔ سوشل میڈیا پر درجنوں افراد کی طرف سے اپلوڈ کی گئی سانحہ سوات کی ویڈیو کو بار بار اور مختلف زاویوں سے دیکھتا رہا۔

    دریائی گزرگاہ پر مشتمل خیبر پختونخوا کے تمام تفریحی علاقوں میں انتظامی افسران کو منتھلی دے کر تو کچھ سیاسی پشت پناہی سے دریا کنارے غیرقانونی طور پر قائم ریور ویو ہوٹلز اور ریسٹورنٹس کی بھرمار ہے ان غیر قانونی ہوٹلز میں سے ہی سوات کے ایک ریسٹورنٹ میں سیالکوٹ سے تفریح کی غرض سے آئے اس خاندان کے تمام چراغ بجھ گئے۔

    شروع میں جب دریا میں اچانک طغیانی آئی تو متاثرہ خاندان کے تمام افراد مطمئن تھے کہ انکو ریسکیو کرلیا جائے گا ننھے بچے اچانک آنے والے پانی کو ایڈوینچر سمجھ کر انتہائی پر امید انداز میں ہاتھ ہلاتے ہوئے مدد کیلئے پکار رہے تھے۔ دریا میں طغیانی اور پانی کے بہاؤ میں شدت سے بدقسمت خاندان کے چہرے پر پریشانی نمایاں ہوئی لیکن وہ پھر بھی پرامید تھے کہ وہ بچ جائیں گے، کسی مسیحا کے انتظار میں صدائیں لگاتے خاندان کو موت کا احساس اس وقت ہوا جب اس پندرہ رکنی خاندان کے تین افراد پانی برد ہوئے۔ دریا میں گرنے والے بھی اس ناگہانی افتاد کو نہیں سمجھ پارہے تھے اور باقی بھی اس سب پر یقین نہیں کر پا رہے تھے، مدد کیلے پکارتی آوازیں آنہوں اور سسکیوں میں بدل گئیں تو کچھ کے حلق خشک ہوگئے۔ بچے ماں باپ کی طرف دیکھ رہے تھے کہ ہمیشہ پچانے والے انہیں بچالیں گے جبکہ بزرگ والدین بچوں سے امید لگائے بیٹھے تھے کہ جوان بازو انکو موت کی آغوش میں نہیں جانے دیں گے۔ زندگی اور موت کی کشمکش میں ایک دوسرے کو تسلیاں دے رہے تھے کہ کچھ نہیں ہوتا دریا برد ہونے والے اگلے کنارے پر بچ جائیں گے۔ تسلی کے الفاظ اور مسیحا کے منتظر باقی افراد بھی ایک ایک کرکے پانی میں بہتے جارہے تھے۔ قیمتی ترین انسانی جانوں کو اس طرح جاتے دیکھ کر آنکھیں پتھرا گئیں ہیں۔

    ہر وقت گاڑیاں اور وسائل مانگنے والے ڈپٹی کمشنر اور انتظامی ٹیم میں سے کسی نے بچانے کی کوشش نہیں کی۔ انتظامی اور سیاسی لیڈرشپ میں سے کسی نے کوشش نہیں کی کہ ہیلی کاپٹر کی مدد سے قیمتی جانوں کو بچا لیا جائے۔ یہ حادثہ نہیں قتل ہے، ایک خاندان کا نہیں، انسانیت کا قتل ہے، سوات، خیبر پختونخوا اور پاکستان میں سیاحت کا قتل ہے۔ ایسے بدترین حالات میں بیرونی سیاح تو دور مقامی افراد بھی سیاحت سے ڈر اور سہم کر رہ گئے ہیں۔ سیاسی لیڈرشپ اور انتظامی افسران نے آفیشل سوشل میڈیا پیجز پر عمران خان کی فوٹو لگا کر عوام کو بیوقوف بنایا ہوا ہے اور دونوں عوام کو مسائل کے سپرد کرکے مل بانٹ کر وسائل لوٹ رہے ہیں۔ اس قتل کامقدمہ سیاسی لیڈرشپ اور انتظامی افسران دونوں کے خلاف ہونا چاہئے۔

    چند روز قبل ہم گلگت بلتستان سے واپس آرہے تھے تو مشہور سیاحتی مقام بابو سر ٹاپ جو سطح سمندر سے اونچائی اور تیزسرد ہواؤں کی وجہ سے سیاحوں کا لازم والا سٹاپ ہوتا ہے وہاں غیرقانونی تجاوزات اور آدھ درجن کے قریب زپ لائنز نے اس کی قدرتی خوبصورتی کو بری طرح متاثر کیا ہوا تھا۔ بیچ سڑک پھل فروش سے پھل خریدتے وقت پوچھا کہ تم کتنا کرایہ دیتے ہو اس نے کہا کہ اس ریڑھی کا پچاس ہزار روپے ماہانہ، میں نے پوچھا کہ زپ لائن اور باقی بڑی شاپس کا کیا کرایہ ہوگا تو اس نے کہا کہ مختلف ہوتا ہے کوئی ماہانہ دیتا ہے تو کسی سے ڈپٹی کمشنر آفس والے سیزن کا ریٹ کرلیتے ہیں۔ ناران کاغان، مہاندری سے مانسہرہ تک سڑک کے دونوں اطراف سرکاری گزرگاہ پر غیرقانونی تعمیرات کی بھرمار۔ ایسا لگتا تھا کہ ڈپٹی کمشنر آفس کے انتظامی افسران اسی پوسٹنگ سے اتنی کمائی کرنا چاہتے ہیں کہ زندگی بھر کی محرومیاں ختم ہو جائیں۔ اپنی حرام کی کمائی سے معاشی محرومیاں ختم کرتے کرتے یہ بے رحم اور سفاک افسران بھول جاتے ہیں کہ ان کی حرام کمائی کے عوض قائم ہونے والی تجاوزات سے ٹریفک کی روانی متاثر ہوتی ہے اور منٹوں کا سفر گھنٹوں میں جبکہ منتھلی کے عوض دریا کنارے غیر قانونی ریسٹورنٹس اچانک ہونے والی دریائی طغیانی میں ہر سال قیمتی جانی و مالی نقصاں کا باعث بنتے ہیں۔ اسی ہفتے 20جون کو تین سیاح ناران میں ہلاک ہوئے لیکن مانسہرہ اور خیبرپختونخوا کے انتظامی افسران اور سیاسی قیادت کی بے حسی میں ذرا برابر کمی نہ آئی۔ جیسی صوبائی سیاسی لیڈرشپ ہو گی ویسے ہی بے حس اور لٹیرے افسران۔ گذشتہ 12سال سے خیبرپختونخوا کرپشن اور بیڈ گوورننس کی بدترین تصویر بنا ہوا ہے۔ ہیلی کاپٹر کو پشاور سے سوات پہنچنے میں صرف 40منٹ درکار ہوتے ہیں لیکن 120منٹ میں نہ تو ہیلی کاپٹر آیا اور نہ ہی کسی سیاسی لیڈر اور انتظامی افسر نے پہنچنے کی زحمت کی۔ کیونکہ سیاسی و انتظامی گٹھ جوڑ تو صوبے بھر کے وسائل لوٹنے کیلئے متحد ہے دونوں مل کر کر اسمگلنگ، منرلز، معدنیات اور ٹمبرچور ی میں مصروف ہوتے ہیں۔ چند سال قبل جب گلگت بلتستان میں سابق وزیراعلیٰ خالد خورشید کا کار خاص بنا ایک افسر ڈپٹی کمشنر سکردو تھا مجھے وہاں کے ایک مقامی سوشل ایکٹیوسٹ نے کہا کہ ڈاؤن (پنجاب) سے آنے والے افسر تو بہت اچھے ہوتے ہیں لیکن یہ والا صاحب تو اتنا لٹیرا ہے کہ اس کا بس نہیں چلتا کہ پیسے کمانے کیلئے ساری زمین بیچ دے۔ انتظامی افسران کا عوام سے رویہ سیاسی لیڈرشب طے کرتی ہے بزدار دور سے پنجاب میں تعینات افسران کی اکثریت قانون شکن اور کرپٹ پریکٹس کی عادی تھے لیکن جب سے مریم نواز شریف وزیراعلیٰ بنی ہیں ان کرپٹ افسران کی وہ والی موجیں نہیں رہیں کیونکہ انکو اندازہ ہے کہ وزیراعلیٰ تک پہنچنے والی شکایت کے بعد معافی نہیں۔
    ملک سلمان
    maliksalman2008@gmail.com

  • آج کا نوجوان اور تہذیب

    آج کا نوجوان اور تہذیب

    آج کا نوجوان اور تہذیب
    تحریر: ملک ظفر اقبال بھوہڑ
    پاکستانی معاشرے میں اگر آج کے نوجوان کی بات کی جائے تو دل خون کے آنسو روتا ہے۔ آج کا نوجوان تعلیم یافتہ ہے، باخبر ہے، جدید ٹیکنالوجی سے لیس ہے، مگر جب بات تہذیب و اخلاق کی ہو، تو ایک نمایاں خلا دکھائی دیتا ہے۔ حیرت اس بات پر ہے کہ ترقی کی اس دوڑ میں نوجوان نے علم تو حاصل کر لیا، مگر تہذیب کہیں پیچھے رہ گئی۔ سوال یہ ہے کہ کیا تعلیم اور تہذیب الگ الگ چیزیں ہیں؟ اور اگر نہیں، تو پھر آج کا تعلیم یافتہ نوجوان بدتہذیبی کا شکار کیوں ہے؟

    تہذیب کا مطلب ہے: انسان کے ظاہر و باطن کو پاکیزہ اور متوازن بنانا، اخلاق، رویوں، اور معاملات کو نکھارنا۔ اسلامی تہذیب میں شائستہ گفتار، والدین کا ادب، بڑوں کا احترام، حقوق العباد، سچائی، دیانتداری، حیا اور صفائی جیسے اصول شامل ہیں۔

    نوجوان اور تہذیب میں فاصلے کی وجوہات کیا ہیں جو پاکستانی معاشرے میں نمایاں کردار ادا کر رہی ہیں؟ مغربی طرزِ زندگی کو "ترقی” سمجھا جانے لگا ہے، جس میں فیشن، آزاد خیالی، مادہ پرستی اور خود غرضی غالب ہیں۔ یہ یلغار میڈیا، سوشل نیٹ ورکس اور انٹرنیٹ کے ذریعے ہر گھر میں داخل ہو چکی ہے۔

    آج والدین بچوں کو موبائل، ٹی وی اور گیجٹس تو دے دیتے ہیں، مگر وقت اور تربیت نہیں دیتے۔ ماں باپ خود مصروف، اور بچے اکیلے — نتیجہ یہ کہ تہذیب سکھانے والا کوئی نہیں۔

    ہمارا تعلیمی نظام ڈگریاں دیتا ہے، لیکن کردار سازی نہیں کرتا۔ نہ نصاب میں اخلاقیات کی تربیت ہے، نہ اساتذہ کردار کے نمونے ہیں۔

    نوجوانوں کی زندگی کا بڑا حصہ انسٹاگرام، ٹک ٹاک اور یوٹیوب پر گزرتا ہے، جہاں نام نہاد "ستارے” فحاشی، شہرت، اور شہوت کو "کامیابی” کی علامت بنا کر پیش کرتے ہیں، جو ہمارے معاشرے میں برائی کی جڑ ہے۔

    نماز، قرآن، سیرتِ نبوی ﷺ، اور اسلامی تاریخ سے نابلد نوجوان، صرف دنیا کی چکا چوند کو جانتا ہے، مگر روحانی روشنی سے محروم ہے۔

    آج ڈاکٹر، انجینئر، وکیل، اور افسر بھی جھوٹ بولتے ہیں، رشوت لیتے ہیں، بڑوں سے بدتمیزی کرتے ہیں، فحاشی میں مبتلا ہوتے ہیں، جس کی کئی ایک مثالیں ہماری معاشرتی زندگی میں موجود ہیں تو کیا ایسی تعلیم کا کوئی فائدہ ہے؟

    حضرت علی کرم اللہ وجہہ کا قول ہے:> "بدترین جاہل وہ ہے جو تعلیم یافتہ ہو کر بھی ادب سے خالی ہو۔”

    تہذیب سے محرومی کے نتائج

    * والدین اور اساتذہ کا احترام ختم
    * معاشرے میں بدتمیزی، جھوٹ، بے حسی
    * فحاشی، بے حیائی، اور اخلاقی زوال
    * خودغرضی، مادہ پرستی، اور بے سکونی
    * دین سے دوری اور دنیا پرستی

    حل کیا ہے؟ نوجوان کو مہذب کیسے بنائیں؟

    اسلامی تعلیمات کو بنیاد بنایا جائے
    قرآن، سیرتِ نبوی ﷺ، اور دینی تعلیم لازمی کی جائے۔

    خاندان میں تربیت کو ترجیح دی جائے

    والدین وقت دیں، کردار سے سکھائیں، دعاؤں پر نہ چھوڑیں۔

    اساتذہ اور ادارے تربیت کے مراکز بنیں
    صرف نصاب نہ پڑھائیں، اخلاقیات، کردار اور انسانیت بھی سکھائیں۔

    میڈیا کی اصلاح ہو
    ایسے کردار سامنے لائے جائیں جو اخلاق، حیا اور تہذیب کا نمونہ ہوں۔

    سوشل میڈیا پر نگرانی اور رہنمائی ہو
    نوجوانوں کو بامقصد استعمال کا شعور دیا جائے۔

    سچی بات تو یہ ہے کہ ہمارا معاشرہ اخلاقی زوال کا شکار ہے، مگر امید کا دامن کبھی بھی نہیں چھوڑنا چاہی۔

  • زندگی خوبصورت ہے، اسے برباد مت کرو،تحریر:نور فاطمہ

    زندگی خوبصورت ہے، اسے برباد مت کرو،تحریر:نور فاطمہ

    26 جون کو دنیا بھر میں انسداد منشیات کا عالمی دن منایا جاتا ہے۔ اس دن کا مقصد نہ صرف منشیات کے استعمال اور اسمگلنگ کی روک تھام ہے بلکہ معاشرے کو آگاہی دینا اور خاص طور پر نوجوان نسل کو اس ناسور سے بچانا بھی ہے جو ان کی زندگیوں، تعلیم، صحت، اور مستقبل کو نگل رہا ہے۔نوجوان کسی بھی قوم کا قیمتی اثاثہ ہوتے ہیں۔ یہی وہ عمر ہے جب انسان اپنے خوابوں کو تعبیر دینے کے سفر پر نکلتا ہے، لیکن بدقسمتی سے یہی عمر منشیات جیسے مہلک جال میں سب سے زیادہ الجھتی ہے۔ سگریٹ، گٹکا، چرس، آئس، ہیروئن اور دیگر نشہ آور اشیاء آج ہمارے نوجوانوں کے لیے ایک سنگین خطرہ بن چکی ہیں۔

    منشیات صرف جسم کو تباہ نہیں کرتیں بلکہ ذہن، کردار، رشتے، اور مستقبل کو بھی کھوکھلا کر دیتی ہیں۔تعلیمی اداروں میں پڑھنے والے طلباء جب منشیات کے عادی ہو جاتے ہیں تو ان کی تعلیمی کارکردگی بری طرح متاثر ہوتی ہے۔منشیات کی لت جرائم، بے راہ روی اور ذہنی دباؤ کو جنم دیتی ہے، جس سے پورا معاشرہ عدم تحفظ کا شکار ہو جاتا ہے۔

    دوستوں کی غلط صحبت،ذہنی دباؤ، امتحانی ناکامیاں یا خاندانی تنازعات کی وجہ سے نوجوان منشیات کی طرف جاتے ہیں،انٹرنیٹ اور سوشل میڈیا پر منشیات کو "فیشن” کے طور پر دکھایا جاتا ہے اس وجہ سے بھی نوجوان منشیات کی طرف راغب ہوتے ہیں،آسانی سے دستیابی اور قانون نافذ کرنے والے اداروں کی غفلت کی وجہ بھی منشیات کی طرف لے جاتی ہے، ضرورت اس امر کی ہے کہ اچھے دوست چُنیں، وہ دوست بنائیں جو مثبت سوچ رکھتے ہوں، تعلیم میں دلچسپی لیتے ہوں اور آپ کو برے راستوں سے روکیں۔خاندانی رشتوں کو مضبوط کریں،والدین اور بہن بھائیوں کے ساتھ بہتر تعلق نوجوان کو تنہائی اور ذہنی دباؤ سے بچاتا ہے۔مذہب اور روحانیت سے رشتہ جوڑیں،اللہ تعالیٰ پر یقین، نماز، ذکر اور قرآن فہمی ایک مضبوط کردار کی بنیاد بنتی ہے۔

    حکومت اور معاشرے کی ذمہ داری ہے کہ تعلیمی اداروں میں منشیات کے خلاف آگاہی مہم چلائی جائے۔کھیلوں، آرٹس اور ثقافتی سرگرمیوں کو فروغ دیا جائے تاکہ نوجوان مثبت سرگرمیوں میں مشغول رہیں۔منشیات فروشوں کے خلاف سخت کارروائی کی جائے اور ان کے نیٹ ورکس کو جڑ سے ختم کیا جائے۔منشیات وقتی سکون دے سکتی ہیں، لیکن زندگی بھر کی پشیمانی اور تباہی کا باعث بنتی ہیں۔ نوجوانو، تمہیں اس قوم کا معمار بننا ہے، تمہاری آنکھوں میں پاکستان کا مستقبل بسا ہوا ہے۔ آؤ آج یہ عہد کریں کہ نشے کو نہیں، علم، کردار، محنت اور عزت کو اپنائیں گے۔ کیونکہ "زندگی خوبصورت ہے، اسے برباد مت کرو!”

  • وطنیت کے جال میں امت کی وحدت,تحریر؛ اقصیٰ جبار

    وطنیت کے جال میں امت کی وحدت,تحریر؛ اقصیٰ جبار

    دنیا میں قوموں کی شناخت ان کے اصولوں اور اقدار سے ہوتی ہے۔ اسلام نے ہمیں ایک امت کی شکل میں جینے کا درس دیا، اور یہی اتحاد مسلمانوں کی سب سے بڑی طاقت تھا۔ قرآن کہتا ہے:
    "تم سب اللہ کی رسی کو مضبوطی سے تھامے رکھو اور فرقہ بندی میں نہ پڑو۔”
    مگر آج، افسوس کے ساتھ کہنا پڑتا ہے کہ امت مسلمہ اس رسی کو چھوڑ چکی ہے، اور اس کے نتیجے میں ہماری طاقت منتشر ہو گئی ہے۔

    تاریخ گواہ ہے کہ جب مسلمان متحد تھے، دنیا ان کے قدموں میں جھکتی تھی۔ خلافت راشدہ کے دور میں مسلمانوں نے نہ صرف دنیا کو بہترین عدل و انصاف دیا بلکہ علم، حکمت، اور ثقافت کا چراغ بھی روشن کیا۔ سلطنت عثمانیہ کا زوال ہماری وحدت کے خاتمے کی داستان سناتا ہے، اور آج کی حالت تو یہ ہے کہ ہم قوموں کی صف میں اپنے وقار سے محروم ہو چکے ہیں۔

    ہماری وحدت کا خاتمہ کیسے ہوا؟ یہ ایک ایسا سوال ہے جو ہمیں اپنی اجتماعی ناکامیوں پر غور کرنے کی دعوت دیتا ہے۔ وطن پرستی نے ہمیں ایک قوم کے بجائے مختلف ٹکڑوں میں بانٹ دیا ہے۔ ہر ملک، ہر قوم اپنی سرحدوں کے اندر محدود ہو کر رہ گئی ہے، اور اس محدود سوچ نے امت کے تصور کو دھندلا کر دیا ہے۔

    اقبال نے اسی حقیقت کو بڑے زور دار الفاظ میں بیان کیا تھا:
    ان تازہ خداؤں میں بڑا سب سے وطن ہے
    جو پیرہن اس کا ہے، وہ ملت کا کفن ہے

    وطن سے محبت فطری ہے، اور اسلام اسے روکتا بھی نہیں، لیکن مسئلہ تب پیدا ہوتا ہے جب یہ محبت ہماری اصل شناخت، یعنی امت مسلمہ، پر غالب آ جاتی ہے۔ ایک وقت تھا جب ہم ایک دوسرے کے دکھ درد میں شریک تھے۔ آج ہم ان حدود کے قیدی بن چکے ہیں جو ہم نے خود کھینچی ہیں۔

    ہماری سیاسی قیادت، جو امت کی رہنمائی کی ذمہ دار تھی، اب خود مفادات کی سیاست کا شکار ہو چکی ہے۔ ایک طرف ہمارے اندرونی اختلافات نے ہمیں کمزور کر دیا ہے، اور دوسری طرف بیرونی طاقتیں ہمیں تقسیم کرنے کے لیے ہمیشہ تیار رہتی ہیں۔ یہ ایک کھلا راز ہے کہ دنیا کی بڑی طاقتیں چاہتی ہیں کہ مسلمان کبھی ایک پلیٹ فارم پر نہ آئیں، کیونکہ ہمارا اتحاد ہی ہماری اصل طاقت ہے۔

    اقبال نے ہمیں بار بار یاد دلایا کہ مسلمانوں کی اصل طاقت ان کا ایک امت ہونا ہے:
    ایک ہوں مسلم حرم کی پاسبانی کے لیے
    نیل کے ساحل سے لے کر تابخاکِ کاشغر

    اب سوال یہ ہے کہ اس زوال کا علاج کیا ہے؟ کیا ہم اپنی تاریخ سے کچھ سیکھ سکتے ہیں؟ کیا ہم اپنی نئی نسل کو یہ سبق دے سکتے ہیں کہ اسلام کے پیروکار ہونے کا مطلب صرف عبادات تک محدود نہیں، بلکہ یہ ہمیں ایک امت بن کر جینے کا درس دیتا ہے؟ یہ کام مشکل ضرور ہے، لیکن ناممکن نہیں۔

    ضرورت اس بات کی ہے کہ ہم اپنی ترجیحات کو بدلیں۔ مدارس اور جامعات میں ایسا نصاب متعارف کرائیں جو امت کے تصور کو زندہ کرے۔ علماء اپنے خطبوں میں اختلافات کو ہوا دینے کے بجائے اتحاد کا درس دیں۔ میڈیا، جو آج زیادہ تر نفرت کے بیج بوتا ہے، اسے ایک مثبت پیغام کے فروغ کا ذریعہ بنایا جائے۔ اور سب سے اہم، ہر مسلمان اپنے دل میں یہ عزم کرے کہ وہ امت مسلمہ کا حصہ ہے اور اس کا کردار اسی وحدت کو مضبوط کرنے میں ہے۔

    یہ یاد رکھنا ضروری ہے کہ اگر آج بھی ہم اپنی سمت درست کر لیں اور اللہ کی رسی کو تھام لیں، تو کوئی طاقت ہمیں شکست نہیں دے سکتی۔ یہ امت ایک بار پھر دنیا کے سامنے اپنی عظمت کا لوہا منوا سکتی ہے، بس شرط یہ ہے کہ ہم اپنے درمیان کی دیواریں گرا دیں اور ایک جسم بن جائیں، جیسا کہ ہمارے نبی ﷺ نے فرمایا:
    "مسلمان آپس میں ایک جسم کی مانند ہیں؛ اگر جسم کے کسی حصے کو تکلیف ہو تو پورا جسم درد محسوس کرتا ہے۔”

    وقت آ گیا ہے کہ ہم اپنی حقیقت کو پہچانیں اور ان نظریاتی دیواروں کو گرا دیں جو ہمیں ایک دوسرے سے جدا کرتی ہیں۔ تب ہی ہم اس امت کی عظمت کو دوبارہ حاصل کر سکتے ہیں۔