Baaghi TV

Category: معاشرہ و ثقافت

  • پاکستان میں تمباکو نوشی کا سنجیدہ مسئلہ.تحریر:حنا سرور

    پاکستان میں تمباکو نوشی کا سنجیدہ مسئلہ.تحریر:حنا سرور

    ہر سال 31 مئی کو تمباکو نوشی کی روک تھام کا عالمی دن منایا جاتا ہے تاکہ عوام میں تمباکو نوشی کے مضر اثرات کے بارے میں آگاہی بڑھائی جائے اور اس عادت سے چھٹکارہ پانے کی تحریک دی جائے۔ اس دن کا مقصد صرف سگریٹ نوشی کی تباہ کاریوں کی نشاندہی نہیں بلکہ تمباکو کی صنعت کے حربوں کو بے نقاب کرنا بھی ہے جو اپنی منافع بخش مصنوعات کو فروغ دینے کے لیے مختلف چالاکیوں اور نفسیاتی حربوں کا سہارا لیتی ہے۔

    تمباکو صنعت نے سالوں سے اپنے نقصان دہ اثرات کو چھپانے کے لیے مختلف طریقے اپنائے ہیں۔ وہ صرف سگریٹ کی فروخت پر انحصار نہیں کرتے بلکہ نئے ذائقے، خوشبوئیں، اور دلکش پیکجنگ کے ذریعے نوجوانوں کو اپنی طرف راغب کرنے کی کوشش کرتے ہیں۔ یہ "فلیورڈ” سگریٹ، ای سگریٹ، اور دیگر تمباکو مصنوعات نوجوانوں اور نئی نسل کے لیے تمباکو نوشی کو مزید پرکشش بناتی ہیں۔ یہ ایک منظم حکمت عملی ہے جو نہ صرف صحت کو نقصان پہنچاتی ہے بلکہ معاشرتی سطح پر بھی سنگین نتائج کا باعث بنتی ہے۔پاکستان میں ہر سال تقریباً 1,60,000 سے زائد اموات تمباکو سے متعلقہ بیماریوں کی وجہ سے ہوتی ہیں۔ یہ تعداد حیران کن اور دردناک ہے۔ سگریٹ نوشی نہ صرف جسمانی صحت کو نقصان پہنچاتی ہے بلکہ ذہنی اور معاشرتی زندگی پر بھی منفی اثرات مرتب کرتی ہے۔ بہت سے لوگ اس عادت کی وجہ سے اپنی زندگی کے خوشگوار لمحات کھو دیتے ہیں اور اپنی فیملی کو بھی اس کا سامنا کرنا پڑتا ہے۔

    ہم سب کو چاہیے کہ ہم اپنی اور اپنے اہل خانہ کی صحت کے لیے سگریٹ نوشی کی عادت کو چھوڑ دیں۔
    "تمباکو سے انکار، زندگی سے پیار” اور”سگریٹ سے جان چھڑائیں، صحت مند زندگی گزاریں” کا نعرہ ہر پاکستانی کے دل میں بسانا ہوگا۔پاکستان میں تمباکو نوشی کا مکمل خاتمہ ممکن ہے، اگر ہم سب مل کر اس کے خلاف آواز بلند کریں اور اس بیماری کی لپیٹ سے نکلنے کی کوشش کریں۔ پاکستان میں موجودہ قوانین کے تحت سگریٹ کی پیکنگ پر گرافیکل ہیلتھ وارننگ لازمی ہے تاکہ صارفین کو سگریٹ نوشی کے مضر اثرات سے آگاہ کیا جا سکے۔ لیکن افسوسناک حقیقت یہ ہے کہ 286 غیر ملکی سگریٹ برانڈز بغیر گرافیکل ہیلتھ وارننگ کے فروخت ہو رہے ہیں، جو قانون کی کھلی خلاف ورزی ہے۔اس کی وجہ سے حکومت کو سالانہ تقریباً 300 ارب روپے سے زائد کا معاشی نقصان اٹھانا پڑتا ہے۔

    تمباکو نوشی صرف صحت کا مسئلہ نہیں بلکہ ملکی معیشت کے لیے بھی بوجھ ہے۔ جب کمپنیاں قوانین کو توڑ کر اربوں روپے بچاتی ہیں اور عوام بیماریوں میں مبتلا ہوتے ہیں تو یہ نہ صرف بے حسی ہے بلکہ ظلم کے مترادف ہے۔تمباکو نوشی کی روک تھام کے لیے ہر فرد، تنظیم، اور حکومت کو اپنی ذمہ داری سمجھ کر آگے آنا ہوگا۔ ہمیں تمباکو صنعت کے چالاک حربوں کو سمجھ کر ان کا مقابلہ کرنا ہوگا، تاکہ ہماری اگلی نسل صحت مند، خوشحال اور تمباکو سے پاک زندگی گزار سکے۔آئیں، اس عالمی دن پر عہد کریں کہ ہم خود بھی تمباکو نوشی چھوڑیں گے اور دوسروں کو بھی اس کا شعور دیں گے تاکہ پاکستان ایک صحت مند ملک بن سکے۔

  • آسمانی شادی

    آسمانی شادی

    غربت کی رسی سے خودکشی کرنے والے باپ کی بیٹی کے نصیب
    ظفریات کتاب کا حقیقت پر مبنی دل سوز مضمون: آسمانی شادی
    تحریر: ظفر اقبال ظفر
    2020 مجھے ساری زندگی نہیں بھول سکتا۔ اس سال نے انسانیت کو کرونا وائرس جیسی وبا کے امتحان میں ڈالا، جو خود تو نظر نہیں آتی تھی مگر کئی واقعات دکھا کر گئی۔ جب ملک بھر میں لاک ڈاؤن لاگو کر دیا گیا، یہ کہانی ہے ایک ایسے مزدور کی جو روزانہ اپنا کنواں کھود کر پانی نکالتا تھا، یعنی روز کمایا تو کھایا ورنہ فاقہ۔ لاک ڈاؤن کو دوسرا ماہ تھا، عوام گھروں میں قید تھی۔ جن کے گھر وافر راشن اور رقم تھی، وہی بے فکر تھے۔ باقی سبھی خوراک کی خوراک بنتے جا رہے تھے۔

    مشکل میں مصیبت کو دُور کرنے والے انسانوں کے جہان کا تو پتہ نہیں، مگر پاکستان، پنجاب کے مسلمانوں نے اپنی دکانوں پر پڑی چیزیں مہنگی کر دی تھیں۔ دورِ حاضر میں یہ مجبوری کا فائدہ اٹھانے والے لوگ حیوانوں کو اشرف المخلوقات ہونے پر کبھی پچھتانے نہیں دیتے۔ نجانے کتنے لاچار، بے بس، غریب انسانوں کو کرونا وائرس کے دور میں موت کا خوف اپنی لپیٹ میں مبتلا کر چکا تھا، مگر یہ کہانی ایک ایسے غریب مزدور کی، جس نے اپنے بچوں کی بھوک مٹانے میں ناکامی کا یہ حادثہ پیش کیا کہ شہر کے بیچ میں ایک درخت پر پھندہ بنا کر جھول گیا۔

    اس کی تصویریں سوشل میڈیا پر دیکھیں تو رُوح کانپ اُٹھی۔ قریبی شہر کا واقعہ تھا۔ میں بھی دو بچوں کا باپ ہوں، اور باپ کے حساس دل کے ہاتھوں مجبور ہو کر ایک دن اس خوفناک موت کا شکار ہونے والے باپ کے گھر پہنچا۔ایک چھوٹا سا گھر، جس کی کچی دیواریں اور چھت اس میں رہنے والوں کے حالات بیان کر رہی تھیں۔ بیوہ اپنی بچیوں کو آغوش میں لیے خون کے آنسو بہاتی ہوئی کہہ رہی تھی: بیٹی کا رشتہ طے کیا تھا، اس کے سسرالیوں کو گمان تھا کہ باپ جہیز میں کچھ نہ کچھ تو ضرور دے گا، مگر اب وہ بھی دامن چھڑواتے نظر آ رہے ہیں۔ ہو سکتا ہے کچھ روز میں شادی سے انکار کر دیں،مجھ سے کچھ بولا نہ گیا اور اگلے نقصان کا اعلان سن کر دُکھی سا لوٹ آیا۔

    کسی غیبی طاقت نے مجھے ان کے لیے کوشش کرنے پر مجبور کر دیا۔ میں نے اپنے ایک بیرون ملک مقیم کزن سے مدد کی بات کی تو اس نے مجھے بیس ہزار روپے بھیجے۔ کچھ رقم میں نے اپنے شافعِ محشرؑ کے غلام مسیحا سے حاصل ہونے والی شامل کی اور مزید کے لیے بے قرار ہو گیا۔روز میرا دل مجھے کسی نیلام گھر جہیز والے کے پاس پہنچنے کو مجبور کرتا اور میں سوچتا کہ معمولی سی رقم سے جہیز کا سامان متاثرہ گھر میں کیسے پہنچ سکتا ہے، مگر مجھے چلانے والی طاقت نے جہیز مارکیٹ جانے پر مجبور کر دیا۔

    بندے کی جیب میں پچاس ہزار ہو اور دو، ڈھائی، تین لاکھ کا سامان لینے چلا جائے، ظاہری طور پر تو یہ بے وقوفانہ جرات ہے، جس کا نتیجہ شرمندگی کے سوا کچھ نہیں، مگر یہ جو صاحبِ حیثیت لوگ ہوتے ہیں، ان کو قدرت اپنے کسی بندے کی مدد کے لیے صاحبِ دل بھی کر لیتی ہے۔میں دکانوں کے آگے سے گزر رہا ہوں اور میری نظریں دکان میں سامان نہیں، انسان تلاش کر رہی تھیں۔ خدا کی حکمت سے واقفیت کا پہلو بھی سن لیجئے: مالک خوبصورت روحوں پر خوبصورت چہرے سجاتا ہے۔ ہمارا واسطہ کئی ایسے افراد سے پڑتا ہے جن کی شکل دیکھ کر عقل محبت کے احساس کا پتہ دیتی ہے، اور کئی ایسے ہوتے ہیں جنہوں نے ہمارا بگاڑا بھی کچھ نہیں ہوتا، اور وہ ہمیں اچھے بھی نہیں لگتے، یعنی نظریں کئی چہروں کو روح کے فیصلے پر چھوڑ دیتی ہیں اور کئی چہرے دل کے فیصلے میں آ جاتے ہیں۔

    ایسے ہی میں ایک دکان مالک بزرگ انسان، گورا چہرہ، سفید داڑھی، سفید لباس، ہونٹوں پہ تبسم، نگاہوں میں مہربانی — ہماری نظریں ملتے ہی توجہ کا جذبہ اجاگر ہوا۔
    میں ان کی طرف کھنچا چلا گیا، اور انہوں نے مجھے اپنی طرف آتے ہی ملازم کو کرسی لانے کا پیغام دیا۔میں قریب پہنچا تو کرسی مجھ سے پہلے پہنچ گئی۔ میں نے سلام کیا۔ جواب دیتے ہی "تشریف رکھیے” کا اشارہ زبان اور ہاتھ پر اتر آیا۔میں کچھ دیر خاموش بیٹھا رہا کہ بات کیسے اور کہاں سے شروع کروں۔ وہ میرا چہرہ دیکھتے رہے۔ میں نے ہمت جمع کرکے کہا: محترم، میں گاہک نہیں، خدا کا پیغام ہوں جو آیا نہیں، بھیجا گیا ہوں۔

    پھر موبائل سے وہ غریب مزدور کی پھانسی لینے والی تصویر سامنے کرتے ہوئے واقعہ بیان کیا کہ میں حادثے کے بعد اس کے گھر گیا تھا۔ اس کی بیوی اور بچیاں اپنی زندگی کا خدا سے اس بات کا شکوہ کر رہی تھیں کہ اس دور میں کیوں پیدا کیا، جس میں انسان تو ہیں، مگر انسانیت نہیں بستی۔کاش ہمارے ہاں ہمسایوں کے حالات سے باخبر رہنے کی روایت زندہ ہوتی تو ہمارا باپ عزتِ نفس کی رسی کو اپنے گلے کا ہار بنا کر انسانوں کے جہاں سے روانہ نہ ہو جاتا، اور چوک میں پھندا لینا یعنی انسانوں میں انسانیت جگانے کی کوشش تھی، ورنہ مر تو وہ گھر کی چار دیواری میں بھی سکتا تھا۔

    اُس بزرگ بندے کی آنکھوں سے آنسو ٹپکنے شروع ہوئے، کہنے لگا: "ہمیں قدرت کا کیا کام کرنا ہے؟”میں نے کہا "اس کی ایک جوان بچی ہے جس کا رشتہ طے کر کے گیا تھا، اب وہ لوگ جہیز کے سامان کے نہ ملنے کی وجہ سے رشتہ توڑ سکتے ہیں۔ اگر کچھ سامان میسر آ جائے تو ہم مرنے والے کو تو نہیں بچا سکے، مگر گھٹ گھٹ کر زندگی اور حالات کو کوسنے والی ایک بچی کا گھر بسنے سے پہلے اُجڑ جانے سے بچا سکتے ہیں۔”
    اور وہ رقم جو میرے پاس تھی نکالتے ہوئے ان کی طرف بڑھا دی۔انہوں نے وہ رقم گنی بھی نہیں اور ملازموں کو بلا کر کہا: "جو سب سے اچھا جہیز کا سیٹ پڑا ہے وہ گاڑی میں لوڈ کرو اور چائے کے لیے آرڈر دو، کہ اللہ کا قاصد ہمارا مہمان بنا ہے۔”

    میں اپنی خود غرضی کی غلاظت سے بھری اوقات دیکھتے ہوئے رو پڑا کہ مالک نے کیسا کام لیا جس نے مجھے انسانیت کا ترجمان بنا دیا۔ بس ایک عیب چھپانے والی رحمت کی چادر تھی، جس نے میرے کردار کو انمول بنایا ہوا تھا۔سامان لوڈ ہوا تو اس بزرگ بندے نے گاڑی ڈرائیور کو کرایہ دیتے ہوئے کہاکہ "کسی سے کوئی پیسوں کا مطالبہ نہ کرنا اور ان صاحب کے ساتھ چلے جاؤ، جہاں یہ کہیں سامان چھوڑ آنا۔”

    میرے پاس اس بزرگ بندے کا شکریہ ادا کرنے کے الفاظ نہیں تھے، مگر اس کا جواب قدرت خود ہی اسے دے گی۔میں گاڑی والے کے ساتھ بیٹھا اور ہم متاثرہ گھر کی جانب روانہ ہو گئے۔ میں دل میں اُس بیوہ ماں کی کیفیت کو محسوس کرکے اشک بہا رہا تھا کہ جب اُس بچی اور ماں کو معلوم ہوگا کہ قدرت نے اُن کی رُوح کا ایک بڑا بوجھ ہلکا کر دیا ہے، تو ان کی کیفیت کیا ہوگی۔

    مجھ سے یہ منظر دیکھا نہ جائے گا۔ مالک ہمت عطا کرے گا۔

    ہم دو گھنٹے بعد اس متاثرہ گھر کے دروازے پر پہنچے، دستک دی، اندر سے بچی کی آواز آئی: "کون؟”
    "بیٹی، اللہ کا بندہ ہوں، اپنی ماں کو کہو وہ جو بندہ دوسرے شہر سے تعزیت کے لیے آیا تھا وہ دوبارہ آیا ہے، ملنا چاہتا ہے۔”
    بچی نے اپنی ماں کو بتایا تو اُس نے اندر آنے کی اجازت دی۔
    میں اندر گیا، ٹوٹی ہوئی چارپائی پر بیٹھی عورت نے میرا دیکھا ہوا چہرہ پہچان لیا۔

    میں نے سلام کیا اور دونوں ہاتھ جوڑ کر کہاکہ "اللہ نے آپ کی بچی کے لیے سامان بھیجا ہے، اسے قبول کرکے مجھ پر احسان کریں۔”
    ان کے ذہن میں آیا کہ کوئی چھوٹی موٹی رقم یا چیز ہوگی جو ابھی میں جیب سے نکال کر ان کے حوالے کروں گا مگر میں نے ان کا ہاتھ تھاما اور انہیں دروازے سے باہر گاڑی کے پاس لے آیا۔
    ڈرائیور سے کہا: "ترپال اُٹھائیں۔”

    جب جہیز کے سامان پر اس عورت اور بچی کی نظر پڑی تو وہ بے اختیار روتے ہوئے آپس میں گلے لگ گئیں۔

    بچی ماں کو کہنے لگی کہ "بابا نے خدا کے پاس جا کر خدا کو منا کر میری زندگی کے آباد ہونے کا سامان بھیجا ہے۔ بھلا ایسا بابا کسی بچی کو نصیب ہوا ہو گا جو مجھے ملا تھا۔”
    ہم نے سامان گاڑی سے نکال کر ان کے کمرے میں رکھنا شروع کیا۔

    گلی میں ہمسائے دیکھتے گزرتے تو وہ عورت کہتی کہ "میرے میاں نے اللہ کے پاس جا کر ہمارے زخم دکھائے تو رب نے مرہم بھیجا ہے۔”مکمل سامان حوالے کرنے کے بعد اس کی تصویریں بچی کے سسرال والوں کو بھیجیں تو انہوں نے فوری آنے کا کہہ کر فون بند کر دیا۔ان کے آنے سے پہلے میں وہاں سے بیوہ کو یہ کہہ کر روانہ ہو گیا کہ "یہ میرا نمبر ہے، شادی کی تاریخ طے کر کے بتا دیجئے گا اور اس کا شکریہ بھیجنے والے رب کو ادا کیجئے گا۔”

    اُس رات اُس گھر میں لاوارثی کا نہ صرف احساس ختم ہوا بلکہ دُکھ کے جسموں نے خوشی کا لباس بھی پہنا۔ افلاس کے ہاتھوں ننگے ہوتے انسان محفوظ ہو گئے۔
    دو روز بعد اُس عورت کا فون آیا کہ بچی کے سسرال والوں نے بچی کو آنکھوں پر بٹھا کر بسانے کا یقین دلایا ہے۔ہم نے ایک ماہ بعد شادی کی تاریخ مقرر کر لی ہے۔
    سو لوگ بارات میں آئیں گے۔

    مجھے طے شدہ تاریخ کا بتایا گیا تو میں کچھ روز بعد ہی اسی شہر کے ایک شادی ہال کے مالک کے پاس پہنچا اور اسے اپنا تعارف کروا کر سارا ماجرہ سنایا۔وہ شخص اس موت سے باخبر تھا مگر جب میری زبانی بات سنتا گیا تو اس کے دل پر قدرت کا احساس نازل ہوتا گیا۔

    وہ میرے جڑے ہاتھ، اشکوں میں بھیگے، منت سے لبریز الفاظ سنتے ہوئے اپنی خاموشی توڑ کر کہنے لگاکہ "بھائی، خدا کا کام ہے، میرے شادی ہال کا مجھ پر کوئی خرچہ نہیں، مگر بارات کا کھانا میری طرف سے ہوگا، ورنہ میں رب کو منہ دکھانے کے قابل نہیں رہوں گا۔””ساری زندگی پیسہ کمایا ہے، آج انسانیت کمانے کا موقع ہاتھ سے جانے نہیں دوں گا۔”ہم دونوں متاثرہ گھر میں گئے اور اُس بیوہ عورت کو بارات کے سارے انتظامات کے بارے میں بتایا۔

    بچی کے دلہن کے لباس سے لے کر عام پہننے کے کپڑے، جوتے اور باقی افراد کے شادی پر پہننے کے جوتے کپڑے جیسی تمام اشیاء سے بے فکر کرکے اُٹھے۔
    کچھ روز بعد یہ سامان شادی ہال کے مالک اور اس کی بیوی کے ہاتھوں پہنچ گیا۔
    مجھے بتایا اور ساتھ کہا کہ جہیز کے موجود سامان کے علاوہ کسی اور سامان کی ضرورت و فکر نہیں۔
    بچی کے سسرال والوں نے ہاتھ جوڑ کر کہا ہے کہ لڑکے نے باقی انتظام کر لیا ہے۔

    شادی ہال کے مالک نے اپنے صاحبِ حیثیت دوستوں کو بتایا تو وقت آنے پر ان میں کسی نے مہندی کا سامان پہنچایا تو کسی نے کھانا۔ہمسایوں کے ساتھ بیوہ عورت کے اپنے اور خاوند کے قریبی عزیز و اقارب نے ان متاثرہ افراد کے سر پر چھوٹی چھوٹی مہربانیوں کی چھت بنا ڈالی۔اگلے دن شادی ہال میں بارات پہنچی، نکاح پڑھایا گیا، شاہی کھانا کھلایا گیا۔

    مجھے یقین ہے یہ شادی آسمان والے کے کیمرے میں ریکارڈ کی گئی، اور خودکشی کرنے والے باپ کی رُوح نے آسمان سے رب کی رحمت کے پھول اپنی بچی پر برسا کر رُخصت کیا ہوگا۔کیونکہ دلہن اس موقع پر اپنے بابل کے سینے لگ کر کندھے پہ سر رکھ کے رونے والے احساس میں جکڑی کہہ رہی تھی کہ "یہ وہی شادی ہے جس کا میرا بابل دلاسہ دیا کرتا تھا۔”

    میں اس موقع پر جان بوجھ کر شریک نہیں ہوا کہ بچی یا اس کی ماں کی عزتِ نفس مجروح نہ ہو۔اُن کی نگاہوں میں اُس احسان کی تصویر نہ اتر آئے جو میں نے کیا ہی نہیں، بلکہ میں تو خود اپنی روح کا سجدہ خدا کے حضور پیش کر رہا تھا، جس نے مجھے آسمانی فیصلے کی تکمیل کا حصہ بنایا۔

    ہاں، میں اتنا ضرور کہوں گاکہ اس سوئے ہوئے احساسِ انسانیت کے معاشرے میں دردِ انسانیت کے شعور کو اجاگر کیا جائے، تو کوئی غریب لاچار، بے بس زندگی خودکشی نہ کرے۔
    انسان موت کو گلے تب لگاتا ہے، جب معاشرہ انسانیت کو گلے لگانا چھوڑ دیتا ہے۔

  • ہمارا کزنز کے ساتھ رشتہ .تحریر: شمائل عبداللہ

    ہمارا کزنز کے ساتھ رشتہ .تحریر: شمائل عبداللہ

    یہ ایک اہم نقطہ تھا جو اکثر خاندانوں میں مسئلہ جس پر مجھے لکھنا مناسب لگا۔ لیکن اس عنوان کو اکثر ہلکل پھلکا سمجھ کر نظر انداز کیا جاتا ہے۔ ہمارے معاشرے میں اکثر لوگ کزن کا مطلب ہی نہیں جانتے میں ایک بار اپنے عزیز و اقارب کے رشتہ داروں کے پاس گیا! وہاں کزن کا ذکر چھڑا تو انہوں نے برا منایا پھر میں نے بتایا کہ بھئی یہ انگریزی زبان کا لفظ ہے ہمارے دور پار کے بہن بھائیوں کیلئے استعمال ہوتا ہے ۔۔۔ پھر کزن سسٹر اور کزن پر بحث ہوتی رہی کہ کزن سسٹر جو ہے چچازاد ہے اور کزن ماموں پھپھو خالہ زاد میں نے کہا بھئی نظریہ ہے ورنہ خالہ زاد اور دوسرے کزنز کو بھی بہن بھائی کہتے ہیں۔ پھر فرسٹ سکینڈ تھرڈ کزنز پر بات ہونے لگی۔ میں نے بتایا کہ یہ بھی نظریہ ہے حقیقت نہیں کزن کزن ہی ہوتا ہے اکثر ہم کزنز کے ساتھ فرینک ہونے لگ جائیں تو ہم پر شک کیا جاتا ہے اور چچازاد پر نہیں۔ بات محبت کی ہے تو محبت تو کچھ بھی نہیں دیکھتی اور کزنز کا رشتہ دوستانہ ہے یہ انجیل بتاتی ہے کہ یوحنا یسوع کا خالہ زاد تھا۔ محبت سے خوفزدہ ہونے کی ضرورت نہیں کیونکہ اسے ہم روک نہیں سکتے جہاں ہونی ہوتی ہے ہو جاتی ہے! ایک مثال ہے یہودیوں کا ایک مذہبی گروہ ہے جو کہ بہن بھائی کی شادی بھی کر دیتا ہے تو کیا ہم ان سے بھی پرہیز کریں ؟ لیکن قانون قدرت ہے کہ ان رشتوں میں ویسی محبت نہیں ہوتی اگر ہو تو ہوس کہلاتی ہے سو مسیحیت میں کزنز میرج نہیں کزن فرینڈ شپ جائز ہے کزن میرج ہماری وہ غلطی ہے جس نے ہمیں نہ صرف شک بلکہ آپس میں دوریاں رکھنے پر مجبور کیا ہے۔ اور یہ تو میڈیکل میں بھی غلط ہے اور خروج میں بھی لکھا ہے

    یورپ میں ہر رشتے کا دن منایا جاتا ہے ہر جنس کا بھی چوبیس جولائی کو کزنز ڈے بھی منایا جاتا ہے لیکن ہمارے معاشرے میں ان کا اور ہی مطلب لیا جاتا ہے
    ” تو اپنے کسی قریبی رشتے دار کے پاس نہ جانا خواہ وہ تیرے باپ کی بیٹی ہو یا ماں کی کیونکہ وہ تیرا اپنا خون ہے ” خروج 17 باب ” اور لفظوں پر غور ضرور کریں لیکن انکی پکڑ سے گریز کریں کیونکہ وہ ہمارے بس میں نہیں اور بچوں کی چھیڑ چھاڑ نہ کیجئے کیونکہ اس سے ہم یہ بتاتے ہیں کہ مرد و عورت کا ایک ہی رشتہ ہے اور عشق انتہا ہے اس لیے صرف خدا سے ہے
    ” فی امان اللہ "

  • دوہرا معیار ایک گورکھ دھندہ .تحریر :عائشہ اسحاق

    دوہرا معیار ایک گورکھ دھندہ .تحریر :عائشہ اسحاق

    یوں تو ہم پاکستان کے بیشتر مسائل سے بخوبی واقف ہیں جو اکثر زیر بحث رہتے ہیں، ان تمام مسائل اور ان کی مختلف وجوہات کے متعلق گفتگو کرنا اپنے اور اپنی نسلوں کے انجام سے بے خبر عوام کا پسندیدہ مشغلہ ہے۔ کیا آپ جانتے ہیں کہ پاکستان کے تمام تر مسائل کی جڑ دوہرا معیار ہے، اس دوہرے معیاری نظام کی وجہ سے پاکستان مسلسل بدحالی اور غربت کا شکار ہے۔اصل میں دوہرا معیار ی نظام ایک ایسا گورکھ دھندا ہے جس میں ایک غریب کا بچہ ساری زندگی امیر کے بچے کی جیسی زندگی حاصل کرنے کے لیے کوشش میں لگا رہتا ہے مگر وہ مقام پر نہیں پہنچ سکتا جہاں امیر کا بچہ پیدائشی طور پر ہی مزے اڑا رہا ہوتا ہے اسی طرح زندگی کی بھول بھلیوں میں بھٹکتے بھٹکتے تھک کر غریب اپنی زندگی تمام کر بیٹھتے ہیں مگر کبھی بھی وہ ترقی وہ آسائشات حاصل نہیں کر پاتے جو انہیں دور کہیں دکھائی دیتی ہیں، غریب لوگ صرف کامیابی ترقی دولت آسائشات ایک دھندلے آئینے میں دیکھ سکتے ہیں مگر ان تک کبھی پہنچ نہیں سکتے۔یہ کوئی تقدیر کا لکھا ہوا عمل نہیں ہے بلکہ یہ ایک انسانی گھناؤنا جال ہے۔دوہرا معیار ایک ایسا نظام ہے جس کے تحت ملک میں دو گروہ قائم ہیں پہلا گروہ وہ ایلیٹ کلاس طبقہ ہے جس میں سیاستدان, بیوروکریٹس, بڑے بڑے سرمایہ دار, جاگیردار, زمیندار اور اعلی افسران شامل ہیں۔ دوسرا گروہ عوام کا ہے جس میں مڈل کلاس یعنی درمیانے درجے کے لوگ جو اپنا گزر بسر کسی نہ کسی طرح کچھ بہتر انداز میں چلا رہے ہوتے ہیں اس کے بعد نہایت غریب لوگ آتے ہیں جنہیں پہننے کے لیے کپڑا رہنے کے لیے چھت تو دور کی بات ہے کھانے کے لیے دو وقت کی روٹی بھی ہوئی میسر نہیں ہوتی یہ وہ بد قسمت طبقہ جن کی زندگی جانوروں سے بھی زیادہ بدتر ہے ساری زندگی چھوٹی سے چھوٹی چیز کے لیے ترستے ترستے آخر کار فانی دنیا سے رخصت ہو جاتے ہیں ہزاروں خوابوں اور امیدوں سے بھری آنکھیں کسی روز بے نور ہو جاتی ہیں۔

    حقیقت کچھ اس طرح سے ہے کہ پہلا گروہ یعنی ایلیٹ کلاس سارا کھیل عام مڈل کلاس اور غریب عوام کے ذریعے ہی کھیلتا ہے سادہ الفاظ میں ہم کہہ سکتے ہیں کہ ایلیٹ کلاس ہی عام عوام کے تمام حقوق پر قابض ہے یہ نہایت منظم طبقہ ہے جو اپنی طاقت کا پرزور استعمال کرنے کے ساتھ ساتھ نہایت ہوشیاری اور مکاری کے ساتھ مڈل کلاس اور غریب عوام کو بے وقوف بناتے ہوئے ان کے تمام تر حقوق اور وسائل کو ہڑپ کر جاتا ہے اور یہی چیز انہیں مزید دولت مند اور طاقتور بنا رہی ہے۔جس طرح ایک شکاری بخوبی جانتا ہے کہ اسے اپنا مطلوب شکار پھانسنے کی خاطر جال کس طرح بچھانا ہے اور اس میں شکار پکڑنے کے لیے دانہ کس طرح ڈالنا ہے اسی طرح یہ ایلیٹ کلاس طبقہ بھی بخوبی جانتا ہے کہ عوام کو کس طرح اپنے ذاتی مفادات کی خاطر استعمال کرنا ہے ۔تمام تر قوانین پالیسیاں اور ایکٹ یہ با اثر طبقہ اپنے ذاتی مفاد کو مد نظر رکھتے ہوئے ہی بناتا ہے جس سے غریب عوام کا کوئی فائدہ نہیں۔واضح الفاظ میں بات کی جائے تو ان لوگوں کی نظر میں عام غریب عوام احمق غلاموں اور کیڑے مکوڑوں سے زیادہ کچھ بھی نہیں۔ اور یہ دیکھتے ہیں کہ یہ لوگ کس طرح سے عام عوام کا استعمال کرتے ہیں، یوں تو غیر منصفانہ اور انسانی حقوق کی پامالی کی داستانیں بہت طویل اور قصے بے شمار ہیں مگر یہاں کچھ ایسی مثالیں ہیں جو واضح کر سکتی ہیں کہ یہ الیٹ کلاس طبقہ کس طرح سے عوام کو بے وقوف بنانے میں سرگرم ہے۔

    جیسا کہ ہم جانتے ہیں کہ عوام جن میں اکثریت زیادہ پڑھی لکھی نہیں ہے یہ پولیٹیکل اور ایلیٹ سادہ عوام کو ایسے سنہرے خواب دکھاتے ہیں کہ آپ اور آپ کی نسلیں سنور جائیں گی،آپ بہت خوشحال ہو جائیں گے ملک کی تقدیر بدل جائے گی، وغیرہ وغیرہ جب کہ حقیقت میں وہ تمام پالیسیاں اور منصوبے ان لوگوں کے ذاتی فائدے کی خاطر ہوتے ہیں۔مثال کے طور پر آج سے غالبا 22 سال پہلے جنرل مشرف نے کہا کہ گوادر پورٹ پاکستان کی قسمت بدل کر رکھ دے گا ہمارا ملک دبئی بن جائے گا ایسا سننا ہی تھا کہ پاکستانیوں نے خوشی میں جھومتے ہوئے رییل اسٹیٹ میں انویسٹمنٹ کرنا شروع کر دیا پورا ملک پھولے نہ سما رہا تھا۔ لیکن ہوا کیا ہے کیا اج وہاں پر گوادر پورٹ تو موجود ہے ہوٹل موجود ہیں مگر وہ معاشی معجزہ کہیں نظر نہیں آیا جس کا خواب عوام کو دکھایا گیا تھا ،عام عوام کی حالت کل بھی خستہ تھی اور آج بھی ویسی ہی ہے۔ اسی طرح 2014 میں سی پیک کا اعلان کیا گیا جس کو پاکستان کے حوالے سے کہا گیا تھا کہ یہ گیم چینجر ثابت ہوگا اس کی بیس پر چائنا نے کافی انویسٹمنٹ کی مگر اس انویسٹمنٹ کا کوئی رزلٹ پاکستانی عوام تک نہیں پہنچ سکا، گیم چینج تو بالکل نہ ہوا البتہ چائنہ کا قرض عوام پر ضرور پڑھتا چلا گیا۔شروع میں دکھائے جانے والے سنہرے خواب عوام کے لیے ڈراؤنے خواب بن جاتے ہیں اور ان کا اصل فائدہ اور مزہ پولیٹیکل اور ایلیٹ کلاس طبقہ ہی لیتا ہے۔

    صرف اتنا ہی نہیں غریب عوام کے نام پر جو قرض آئی ایم ایف سے لیا جاتا ہے وہ پیسہ بھی ایلیٹ کلاس اپنے لائف سٹائل کو مزید بہتر بنانے میں ہی اڑاتے ہیں اور جو بچ جاتا ہے اسے ڈبل پرافٹ والی سکیمو ں میں لگا دیا جاتا ہے بجائے اس کے کہ عوام کی فلاح و بہبود پر استعمال کیا جائے وہ پیسہ بھی انہی لوگوں کی لگژری لائف کو مزید لگژری بنانے کی نذر ہو جاتا ہے۔ اس سے جو خلا پیدا ہوتا ہے اس کو پورا کرنے کے لیے پاکستان مزید قرض اٹھاتا ہے یعنی قرض کی ادائیگی کے لیے مزید قرض اٹھانے کی وجہ سے مہنگائی کی شرح بڑھ جاتی ہے اور عوام پر مزید اضافی ٹیکس لگا دیے جاتے ہیں۔ پورا پیسہ اپنے ذاتی مفاد کے لیے استعمال کرنے کے بعد عوام کو مہنگائی اور بے جا ٹیکس کا تحفہ دیا جاتا ہے۔پاکستان 40 فیصد قرضوں کی ادائیگی میں دیتا ہے تو ایسے میں فلاح و بہبود کیسے ہو سکتی ہے قرض دینے والے اور قرض لینے والے دونوں ہی پیسوں کے مزے اڑاتے ہیں اور عوام کو ایوانوں میں کھڑے ہو کر نعرے لگا لگا کر بے وقوف بنایا جاتا ہے کہ ملک کو اسلام کا قلعہ بنا دو سیسہ پلائی دیوار بن جاؤ ایوانوں کی تقریریں آج بھی سن لیں وہی جوش ولولہ اور سنسنی نظر اتی ہے کہ یہ ہو جائے گا وہ ہو جائے گا مگر کچھ بھی بہتر نہیں ہوتا ہے۔

    عوام کی بے وقوفی، غفلت اور بزدلانہ سوچ کی وجہ سے یہ طبقہ بوتل سے آزاد ہوئے جن کی مانند کھلے عام قانون کی خلاف ورزی اور حقوق کی پامالی ڈنکے کی چوٹ پر کر رہا ہے۔گویا انہیں اس بات پر یقین ہو چکا ہے کہ ان کیڑے مکوڑوں اور غلاموں میں سے کوئی ہمارا کیا بگاڑ سکتا ہے۔ کوئی عام شہری ٹریفک قوانین کی معمولی خلاف ورزی کرنے کے جرم میں بھاری چالان اور شدید خواری کا سامنا کرتا ہے جبکہ ایک ایسا واقعہ جو 19 اگست 2024 کو کراچی میں پیش ایا جس میں ایک بڑے صنعت کار کی بیٹی اور چیئرمین گل احمد انرجی لیمٹڈ دانش اقبال کی بیوی نتاشا دانش نشے میں ڈرائیو کرتے ہوئے باپ بیٹی کو موقع پر کچل ڈالتی ہے عوام کہ گھیرنے پرسیکورٹی اہلکار ایک قاتل عورت کی حفاظت کے لیے فورا موقع پر پہنچ جاتے ہیں یہ ایلیٹ کلاس کے نہایت منظم ہونے کا بھی ثبوت ہے۔نتیجہ کیا چند دنوں بعد وہ عورت وکٹری کا نشان بناتے ہوئے رہا ہو جاتی ہے جو غریب عوام کے منہ پر طمانچہ ہے۔یہ کوئی ایک واقعہ نہیں ایسے اور بھی بہت سارے واقعات ہیں جو اس نظام کو ننگا کرتے ہیں۔ یہ طبقہ اپنے لیے جب چاہے جیسے چاہے قوانین قائم کر لیتا ہے ،

    طبقاتی فرق ملک کا سب سے گھمبیر مسئلہ ہے۔ جس میں غریب غربت کی دلدل سے کبھی باہر نہیں ا سکتا لیکن جس طرح کوئی تالا چابی کے بغیر نہیں بنتا اسی طرح کوئی مسئلہ بھی ہلکے بغیر نہیں ہوتا ہے حل جاننے کے لیے مسئلے کو سمجھنا ضروری ہوتا ہے جو کہ غریب عوام سمجھ کر بھی سمجھنا نہیں چاہتی۔ ایلیٹ کلاس لوگ جو تعداد میں کم ہے اور ہم عوام تعداد میں بہت زیادہ ہیں مگر یہ لوگ عوام کی سوچ پر قابو پا لیتے ہیں عوام کی اکثریت یہی بات سوچتی رہتی ہے کہ پاکستان کا تو کچھ نہیں ہو سکتا ہے کچھ نہیں ہوگا ،دراصل یہ مایوسی میری سوچ ہے عوام کے ذہن میں آتی نہیں ہے بلکہ ڈالی جاتی ہے ایلیٹ کلاس تمام تر قوانین کو اپنے مفاد میں استعمال کرنا بخوبی جانتے ہیں جب بھی کوئی ان کے نظام کے خلاف آگاہی یا مہم چلانے کی کوشش کرتا ہے یہ طبقہ فورا حرکت میں آ جاتا ہے اور ایسی تحریکوں کو دبا دیا جاتاہے، عام عوام کا دماغ فورا تبدیل کر دیا جاتا ہے۔ عوام سے گزارش ہے کہ اپنے حقوق کو حاصل کرنا سیکھیں آپ بھی منظم ہوں، اتحاد بنائیں اور کسی کے پٹواری یا کسی کے جیا لے بننے سے گریز کریں اپنی بقا کی جنگ لڑیں، یاد رکھیں یہ وہ طبقہ ہے جو آپ کو کبھی نہیں اٹھنے دے گا کیونکہ ان کا مفاد آپ کی غربت سے جڑا ہے ۔آپ نے ان سے اپنے حقوق خود حاصل کرنے ہیں۔یہ بدحالی یہ بدقسمتی کوئی تقدیر کا لکھا ہوا نہیں ہے بلکہ نہایت ہوشیاری کے ساتھ آپ پر مسلط کی گئی ہے اور آپ کو ایک ایسے شکنجے میں جکڑ لیا گیا ہے جہاں سے نکلنے کے لیے آپ کو متحد اور باہمت ہونا پڑے گا۔ اگر آپ بھی متحد ہو جائیں گے تو وہ دن دور نہیں جب آپ ان کے چنگل سے آزاد ہو جائیں گے۔

  • ہمیں سوگئے داستاں  کہتے کہتے  .تحریر:فیصل رمضان اعوان

    ہمیں سوگئے داستاں کہتے کہتے .تحریر:فیصل رمضان اعوان

    پنجاب کے مختلف علاقوں میں ان دنوں گندم کی کٹائی زوروشور سے جاری ہے بارانی علاقوں میں کٹائی کا عمل تقریبا مکمل ہوچکا ہے جبکہ نہری علاقے جہاں گندم کے فصل کو پانی دیا جاتا ہے وہاں یہ سلسلہ کہیں کہیں اب شروع ہورہا ہے اور کچھ علاقوں میں ابھی کٹائی ہونا باقی ہے ہم چونکہ بارانی علاقوں سے تعلق رکھتے ہیں جہاں زیر زمین پانی بھی بہت گہرائی میں ہے اور ہمارے لوگوں کو زراعت میں اتنی دلچسپی بھی نہیں ہے خیر یہ ایک الگ موضوع ہے آج کل کچھ لوگ جدیدیت کی طرف بھی آرہے ہیں منی ڈیم کنووں اور بور کی مدد سے پانی حاصل کرکے زمینوں کو سیراب کیا جارہا ہے اور مختلف فصل سبزیاں اگائی جارہی ہیں لیکن بہت کم تعداد میں لوگ اس طرف آئے ہیں
    تو یوں ہمیشہ کی طرح اس بار بھی ہمارے اس پوٹھوہاری علاقے تلہ گنگ کے گردونواح میں گندم کی کٹائی کا کام مکمل کرلیا گیا ہے اب ہر طرف تھریشر سے اٹھتے گردوغبار ہیں جو دن بھر دیکھنے کو ملتے ہیں یہ ماضی سے بالکل مختلف زمانہ ہے اس وقت ہم ایک دوسرے زمانے میں داخل ہوچکے ہیں

    آج کی تحریر کا مقصد ماضی کی کچھ یادوں کو ہی تازہ کرنے کا ہے چونکہ موسم بھی گندم کی کٹائی کا ہے اور ہمارا آج کا موضوع بھی یہی ہے تو ہم ذرا اسی اور نوے کی دہائی میں یادوں کے سہارے واپس اسی سہانے زمانے میں چلتے ہیں اور ان بیتے سنہری دنوں کی یاد میں کچھ لمحے گزارنے کی کوشش کرتے ہیں اسی اور نوے کی دہائی کا ذکر اس لئے ضروری سمجھا کہ یہی وہ دن تھے جب ہم نے یہ سب اپنی آنکھوں سے دیکھا اور والدین کا ہاتھ بٹانے کا عملی کردار بھی ادا کیا بے شک وہ کردار ہم سے زبردستی ادا کروایا گیا لیکن ہم اس کا مکمل حصہ تھے اور آج وہ بیتے دن وہ سہانے دن بہت یاد آتے ہیں ہاں کچھ دماغ سے محو بھی ہوئے کیونکہ اب ہم چپکے سے جوانی کی دہلیز کو پارکرچکے ہیں اور اس عمر میں اکثر بھولنے کی عادت بھی ہو جاتی ہے اور آج کل تو آئے روز ہمارے ساتھ کوئی ایسا واقعہ ہوہی جاتا ہے جس میں ہمیں یہ پریشانی لاحق رہتی ہے کہ واقعی بڑھاپا کتنا مشکل ہوتا ہوگا جو بہت قریب بھی آچکا ہے

    صبح سویرے فجر کی اذان سے قبل کسان حضرات اپنی کھیتوں میں گندم کی کٹائی میں جانے کے لئے اٹھ جایا کرتے تھے گھر کی عورتیں روٹیاں پکانے اور لسی مکھن بنانے کے کام کو جلد نمٹاکر مردوں کے شانہ بشانہ پورا دن گندم کی کٹائی میں مصروف عمل رہا کرتی تھیں نماز ظہر سے تھوڑا پہلے کھانے اور چائے کا وقفہ ہوتا تھا اس سے قبل پانی کے ساتھ گڑ کھانے کا ایک آدھ وقفہ بھی ہوتا تھا جو بہت ہی مختصر وقت کے لئے ہوتا تھا نماز ظہر کی ادائیگی انہیں کھیتوں میں لگے گھنے درختوں کے نیچے ادا کی جاتی تھی اور کچھ وقت سستانے کے بعد پھر سے کھیتوں میں یہی عمل دہرایا جاتا تھا عصر کی نماز کے بعد چھٹی ہوتی تھی اور لوگ گھروں کو روانہ ہوجایا کرتے تھے تب ٹریکٹر نہ ہونے کے برابر تھے اکثر کسان اپنے جانور گائے بیل کی مدد سے ہل چلا کر اور زمین کو اچھی طرح ہموار کرکے اس میں گندم یا اور فصل بویا کرتے تھے یقین کریں اس زمانے میں لفظ خیروبرکت کی اہمیت کا ذرا بھر علم نہ تھا بالکل سمجھ نہیں تھی گزرے دنوں کی خیروبرکت کا آج سے موازنہ کیا تو اپنا دامن خالی پایا اور غموں کی اس دنیا میں اپنے آپ کو غفلت میں ڈوبتا دیکھا آج خیروبرکت ہمارے گھروں کھیتوں اور کہیں بھی پورا وجود نہیں رکھتی یہ حقیقت ہم پر اب عیاں ہوئی ہےاس وقت جدید مشینری کے ذریعے کھیتی باڑی کی جارہی ہے اسی زمین سے سوسو بوری گندم کی پیداوار ہوتی تھی اور آج دس سے پندرہ بوری بمشکل ۔۔۔

    کٹائی کا یہ عمل آٹھ دس روز رہتا اس کے بعد مقامی اوٹھی اپنے اونٹوں پر گندم لاد کر کھلیان تک پہنچایا کرتے تھے اور اپنا پہاڑہ وصول کرتے تھے جو اناج کی شکل میں ہوتا تھا کھلیان پر ایک ڈھیر سا لگ جایا کرتا تھا اور کچھ دن بعد اس گندم کو کھلیان پر بکھیر کر گائے اور بیل کے پیچھے میڑھے باندھ کر گندم کو گہائی کے عمل سے گزارا جاتا ہم اکثر ان میڑھوں پر بیٹھ کر سواری سے بھی لطف اندوز ہواکرتے تھے یوں دن بھر بکھری گندم پرجانوروں کو گھماگھما کرگہائی کے بعد گندم کو اکٹھا کیا جاتا اور ایک لمبا سا ڈھیر لگایا جاتا اور دور کہیں سے ہوا کا جھونکا آتا تو ترینگل کی مدد سے اس گندم کوہوا میں اڑایا جاتا جس سے گندم کا بھوسہ الگ اور دانے الگ ہوا کرتے تھے

    بعد ازاں گندم کے دانوں کا ایک بڑا سا ڈھیر لگ جاتا جسے گاؤں کے موچی کی مدد سے صاف کیا جاتا کسان کرائی سے دانے ہوا میں اچھالتا اور موچی کا کام ان دانوں کی مزید صفائی کے لئے جھاڑو لگانا ہوتا تھا اس کے بعد گندم کے دانوں کی بوریاں بھریں جاتیں اور کسان اپنے کندھے یا کچھ فاصلہ ہوا تو گدھی کی پیٹھ پر بوری لاد کر اپنے گھروں تک پہنچایا کرتے تھے ماضی میں گندم کی کٹائی کے زمانے بڑے دلچسپ بڑے سحرانگیز ہوا کرتے تھے گاؤں میں ہمارے گھر کے عقب میں آباد ی نہیں تھی ایک جنگل سا تھا جنگلی جانور پرندے آزادانہ گھوما کرتے تھے گندم کی کٹائی کے دنوں میں جب ہم صبح سویرے بیدار ہوتے تو ایک پرندہ جسے ہم مقامی زبان میں ڈورڑی کہتے تھے روزانہ اللہ رب العزت کی تسبیح بیان کرتا سنائی دیتا تھا اور ایسا لگتا تھا کہ اس پرندے کا گھونسلہ ہم سے چالیس پچاس فٹ اونچا کھلے آسمان تلے معلق ہے لیکن ہمیں بعد میں پتا چلا کہ اس کا گھونسلہ تو زمین پر پھیلے کھپی کے پودوں میں ہے جس کے انڈے اور بچے بھی ہم کبھی کبھی چرا لیا کرتے تھے وہ پرندہ چالیس پچاس فٹ کے فاصلے کی اونچائی پر اپنے معصوم سے پروں کو پھیلا کر ایک جگہ رک جاتا تھا اور اپنے رب کی تسبیح بیان کرتا رہتا تھا

    برسوں بعد اس پرندے کی موجودگی بارے ہم نے ایک دفعہ اپنی والدہ محترمہ سے پوچھا کہ کیا اب بھی وہ پرندہ صبح منہ اندھیرے اٹھ کر کھلے آسمان کے نیچے ہوا میں معلق ہوکر اپنی معصوم سی بولی میں اپنے رب کی حمد سناتا ہے تو والدہ محترمہ نے ہمیں بتایا کہ نہیں اب وہ پرندہ ناپید ہوچکا ہے یہاں اس کی نسل ختم ہوچکی ہے اوراس کی آواز ایک عرصے سے سنائی نہیں دی ، ہمارے ہاں مقامی سطح پر اب وہ ماضی کی یادیں ہی بچی ہیں اوراب ان یادوں کو سنانے والے بھی دھیرے دھیرے اس معصوم پرندے کی مانند غائب ہوتے جارہے ہیں ہماری طرح کے چند لوگ آج بھی ماضی کے اس خوبصورت زمانے کو یاد کرتے ہیں لیکن وہ زمانہ اب گزر چکا ہے بس یادیں ہی بچی ہیں باقی کچھ بھی نہیں بچا نہ وہ محبتیں رہیں نہ وہ رشتوں کے احترام رہے اور نہ ہی وہ اعلی اقدار اور روایات زندہ رہیں
    زمانہ بڑی شوق سے سن رہا تھا
    ہمیں سو گئے داستاں کہتے کہتے

  • تمباکو نوشی کیخلاف پنجاب حکومت کا احسن فیصلہ،تحریر: نور فاطمہ

    تمباکو نوشی کیخلاف پنجاب حکومت کا احسن فیصلہ،تحریر: نور فاطمہ

    تمباکو نوشی دنیا بھر میں لاکھوں جانیں لینے والی ایک خاموش قاتل ہے۔ پاکستان میں بھی ہر سال ہزاروں افراد سگریٹ نوشی سے پیدا ہونے والی بیماریوں کا شکار ہو جاتے ہیں۔ ان حالات میں حکومتِ پنجاب نے ایک جرات مندانہ اور بروقت فیصلہ کرتے ہوئے انسدادِ تمباکو نوشی آرڈیننس 2002 پر سختی سے عملدرآمد کا اعلان کیا ہے، جس کا مقصد شہریوں، خاص طور پر نوجوان نسل کو سگریٹ نوشی کے مضر اثرات سے بچانا ہے۔پنجاب حکومت کی جانب سے جاری کردہ احکامات کے مطابق، اب راولپنڈی سمیت پورے صوبے میں عوامی مقامات پر سگریٹ نوشی پر مکمل پابندی عائد کر دی گئی ہے۔ اس فیصلے کے تحت مخصوص مقامات پر سگریٹ نوشی پر جرمانے کی رقم 1000 روپے سے لے کر 1 لاکھ روپے تک ہو سکتی ہے۔

    تمام سرکاری اور نجی دفاتر،تعلیمی ادارے (اسکول، کالج، یونیورسٹیاں)،اسپتال، کلینکس اور دیگر طبی مراکز،شاپنگ مالز، مارکیٹیں، ہوٹلز،پبلک ٹرانسپورٹ، بس اسٹینڈز، ریلوے اسٹیشنز اور ہوائی اڈے ان تمام مقامات پر تمباکو نوشی پر پابندی ہو گی،یہ فیصلہ نہ صرف عوامی صحت کی بہتری کے لیے ہے بلکہ صاف ستھری اور تمباکو سے پاک فضا کے قیام کی طرف ایک مثبت قدم بھی ہے۔حکومت نے سگریٹ و تمباکو مصنوعات فروخت کرنے والے دکانداروں کے لیے بھی سخت ضابطے متعارف کرائے ہیں،ہر دکان پر نمایاں طور پر “تمباکو نوشی صحت کے لیے مضر ہے” کا نوٹس آویزاں کرنا لازمی ہوگا۔کسی بھی تعلیمی ادارے کے 50 میٹر کے اندر سگریٹ یا کسی بھی تمباکو مصنوعات کی فروخت پر مکمل پابندی ہو گی۔یہ ضابطے اس لیے بھی اہم ہیں تاکہ بچوں اور نوجوانوں کو کم عمری میں اس لت سے دور رکھا جا سکے۔

    حکومتِ پنجاب نے متعلقہ اداروں کو ہدایت دی ہے کہ وہ اس قانون پر سختی سے عملدرآمد کو یقینی بنائیں۔ پولیس، مقامی انتظامیہ، محکمۂ صحت اور سول سوسائٹی کے اشتراک سے ایک جامع حکمت عملی تیار کی جا رہی ہے ،تمباکو نوشی کے خلاف مہمات چلائی جائیں گی،خلاف ورزی کرنے والوں کو موقع پر جرمانے کیے جائیں گے،عوام میں شعور و آگاہی بڑھانے کے لیے آگاہی مہمات کا انعقاد کیا جائے گا

    سگریٹ نوشی صرف ایک عادت نہیں، بلکہ ایک ایسا خطرناک عمل ہے جو کئی جان لیوا بیماریوں کا پیش خیمہ ہے، جیسے کہ پھیپھڑوں کا کینسر،دل کی بیماریاں،سانس کی بیماریاں (دمہ، برونکائٹس)،منہ، گلے اور معدے کا کینسر و دیگر،عالمی ادارہ صحت کے مطابق، ہر سال دنیا بھر میں تمباکو نوشی سے 80 لاکھ سے زائد اموات واقع ہوتی ہیں۔یہ قانون صرف حکومت کا نہیں بلکہ ہر شہری کی ذمہ داری ہے کہ وہ نہ صرف خود سگریٹ نوشی سے پرہیز کرے، بلکہ دوسروں کو بھی اس سے باز رکھے۔ معاشرے کے تمام طبقات بشمول والدین،اساتذہ،دکاندار،میڈیا،سوشل ایکٹیوسٹکو چاہیے کہ وہ اس قومی مہم کا حصہ بنیں اور اپنے اردگرد تمباکو نوشی کے خلاف آواز بلند کریں۔حکومت پنجاب کا انسدادِ تمباکو نوشی آرڈیننس پر سختی سے عملدرآمد کا فیصلہ وقت کی اہم ضرورت ہے۔ اگر یہ فیصلہ سنجیدگی سے نافذ کیا گیا اور عوامی شعور کو بھی بیدار کیا گیا تو یہ نہ صرف ایک صحت مند معاشرے کی بنیاد بنے گا بلکہ آئندہ نسلوں کو ایک صاف ستھرا اور تمباکو سے پاک ماحول فراہم کرنے میں بھی مدد دے گا۔آئیے! ہم سب مل کر اس مہم کا حصہ بنیں اور ایک تمباکو فری پاکستان کی طرف قدم بڑھائیں۔

  • شہید صفدر علی ، چیف جسٹس سے ازخود نوٹس کی اپیل۔ تحریر:شاہد نسیم چوہدری

    شہید صفدر علی ، چیف جسٹس سے ازخود نوٹس کی اپیل۔ تحریر:شاہد نسیم چوہدری

    22 فروری 2025 کا دن فیصل آباد کی تاریخ میں ایک سیاہ دن کے طور پر یاد رکھا جائے گا، جب ایک عام، محنت کش نوجوان صفدر علی، پاپا نانا پیزا شاپ کے اندر بے دردی سے شہید کر دیا گیا۔ شہادت ایک عظمت کا رتبہ ہے، جو اکثر ظالم کے ہاتھوں، بے گناہی کی سزا بن کر نصیب ہوتا ہے۔ صفدر علی کی شہادت نہ صرف ایک فرد کا نقصان ہے، بلکہ یہ ہمارے سماجی و عدالتی نظام کے ماتھے پر ایک نہ مٹنے والا دھبہ ہے۔
    صفدر علی نہ کوئی مجرم تھا، نہ کسی جھگڑے کا حصہ، نہ کسی ذاتی دشمنی کا شکار۔ وہ صرف پیزا لینے گیا تھا، تاکہ اپنے اہلِ خانہ کے ساتھ ایک خوشگوار لمحہ گزار سکے۔ مگر ظالموں نے اس کی مسکراہٹ کو گولیوں سے چھین لیا۔ ایف آئی آر نمبر 375/25 کے مطابق، پیزا شاپ پر تعینات سیکیورٹی گارڈ بصویر نے مالک آصف کے اشتعال دلانے پر صفدر پر فائرنگ کی۔ وہ سڑک پر تڑپتا رہا، اور لوگ تماشائی بنے کھڑے رہے۔ پیزا شاپ کا مالک بھی قریب کھڑا تھا، مگر اس نے مدد کرنے کے بجائے تماشا دیکھا۔یہ صرف صفدر علی کی شہادت نہیں تھی، بلکہ یہ ہمارے ضمیر کی موت تھی۔ ایک زندہ انسان کے بے گناہ قتل پر معاشرہ خاموش رہا، نظامِ قانون خاموش رہا، اور وہ ادارے بھی خاموش رہے جو عوام کی حفاظت کے دعویدار ہیں۔مگر صفدر کے والد، حیدر علی، خاموش نہیں رہے۔ وہ اپنے بیٹے کی لاش کو دفن کرنے کے بعد انصاف کی راہوں پر نکل پڑے۔ انہوں نے تھانہ سمن آباد میں مقدمہ درج کروایا، قاتلوں کو نامزد کیا، مگر شہید حیدر علی کے والد کا کہنا ہے کہ قانون نے جیسے ان کے بیٹے کے خون پر سودا کر لیا ہو۔ ایس ایچ او امتیاز جپہ اور تفتیشی افسر ناصر عباس نے آصف کو دس دن مہمان بنا کر تھانے میں رکھا، ریمانڈ بھی نہ لیا، اور پھر "بے گناہ” قرار دے کر چھوڑ دیا۔یہ وہی ایس ایچ او ہے، جو اب اینٹی نارکاٹکس فورس کے ہاتھوں بھاری منشیات سمیت رنگے ہاتھوں گرفتار ہو کر معطل ہو چکا ہے۔ حیدر علی کا کہنا ہے کہ کیا اب بھی یہ سوال باقی ہے کہ منشیات فروش ایس ایچ او کی زیر نگرانی تفتیشی ناصر عباس نے صفدر علی کے قاتل کو بے گناہ کیوں قرار دیا؟ کیا وہی ہاتھ جو منشیات بیچتے ہیں، قاتلوں کو بھی بچاتے ہیں؟

    صفدر علی کی شہادت، پاکستان کے اس نظامِ انصاف پر ایک سنگین سوال ہے، جو طاقتور کے سامنے جھک جاتا ہے، اور مظلوم کے دروازے بند کر دیتا ہے۔ آج حیدر علی دربدر کی ٹھوکریں کھا رہے ہیں۔ وہ وزیر اعلیٰ پنجاب مریم نواز شریف سے لے کر چیف جسٹس پاکستان تک سب کو پکار رہے ہیں۔ وہ پوچھتے ہیں:”میرا بیٹا بے گناہ تھا، شہید ہوا۔ اس کا قاتل آزاد کیسے ہے؟”یہ سوال صرف حیدر علی کا نہیں، یہ ہر اس باپ کا ہے جس کا بیٹا ظلم کا نشانہ بن کر انصاف سے محروم ہو گیا۔ صفدر علی کی شہادت اس بات کی علامت ہے کہ ہم ایک ایسے معاشرے میں جی رہے ہیں جہاں عام آدمی کا خون پانی سے بھی سستا ہو چکا ہے، اور طاقتور کے لیے قانون فقط ایک تماشا بن گیا ہے۔
    اب ہمیں فیصلہ کرنا ہوگا:
    کیا ہم صفدر علی کی شہادت کو یونہی فراموش کر دیں؟.کیا ہم حیدر علی کی فریاد کو در و دیوار سے ٹکرا کر خاموش ہونے دیں؟یا ہم سب اس باپ کے ساتھ کھڑے ہوں گے، اور اس بے گناہ شہید کے لیے آواز بلند کریں گے؟.ہمیں اب خاموشی توڑنی ہوگی۔ہمیں درج ذیل اقدامات پر زور دینا ہوگا:1. شہید صفدر علی قتل کیس کی غیر جانبدارانہ، نئی تفتیش کا حکم دیا جائے – اعلیٰ پولیس افسران پر مشتمل شفاف تحقیقاتی ٹیم بنائی جائے۔2. تھانہ سمن آباد کے ملوث افسران کے خلاف سخت کارروائی کی جائے – امتیاز جپہ اور تفتیشی ناصر عباس جیسے اہلکاروں کے کردار کا بھی جائزہ لینا ہوگا۔3. عدلیہ ازخود نوٹس لے – تاکہ یہ ثابت ہو کہ عدالتیں صرف طاقتور کے لیے نہیں، عام انسان کے لیے بھی ہیں۔4. پولیس اصلاحات کو فوری طور پر نافذ کیا جائے – سیاسی اثر و رسوخ سے آزاد تفتیشی نظام بنایا جائے۔5. شہید صفدر علی کو ریاستی سطح پر انصاف دلایا جائے – تاکہ اس کی شہادت رائیگاں نہ جائے۔
    حکومت، ریاست اور ادارے اگر اب بھی نہ جاگے، تو آنے والے وقت میں صفدر علی جیسے معصوم شہید ہوتے رہیں گے، اور حیدر علی جیسے باپ انصاف کے لیے در بدر ہوتے رہیں گے۔
    صفدر علی ہم سب کا بیٹا ہے۔ اگر ہم نے آج اس کے لیےے آواز نہ اٹھائی، تو کل ہمارا اپنا بچہ بھی کسی پیزا شاپ کے اندرظلم کا نشانہ بن سکتا ہے۔کیا ہم شہید صفدر علی کے لیے کھڑے ہوں گے؟ یا ایک بار پھر خاموش تماشائی بنے رہیں گے ؟ شہید صفدر علی کے دکھی ماں باپ نےچیف جسٹس سپریم کورٹ سے ازخود نوٹس لینے کی اپیل کی ہے ۔۔۔!!

  • مکمل انسان .تحریر : شمائل عبداللہ

    مکمل انسان .تحریر : شمائل عبداللہ

    ہمارے معاشرے میں اکثر معذور افراد کو ” ایب نارمل ” کہا جاتا ہے لیکن دیکھا جائے تو یہ نامکمل انسان ہی حقیقت میں مکمل ہوتا ہے۔ کہ کبھی کسی معذور کی نظر میں حوس نہیں دیکھی گئی سوائے خواجہ سرا کے وہ بھی اس لئے کہ ان کی معذوری میں ذرا فرق ہے لیکن باوجود اس کے وہی اس چیز کا زیادہ شکار ہوئے کبھی کسی معذور نے ریپ نہیں کیا۔ اور تو اور کہیں کہیں لفظوں اور باتوں کو سمجھنے کا شعور بھی سب سے زیادہ انہی میں پایا گیا ۔ لیکن یہ بھی سچ ہے کہ ایک معذور کے احساس و جذبات کو نہ تو سمجھا گیا نہ لکھا گیا۔ ابھی پرسوں کی ہی بات ہے میں خبروں میں سن رہا تھا۔ ویسے تو میری دلچسپی نہیں ہے خبروں میں لیکن والد محترم لگاتے ہیں تو سن لیتا ہوں۔ دو بچے کنوئیں میں گر گئے تھے کوئی ان کی مدد کو نہ گیا سب کو اپنی جان بچانی تھی اور جنہوں نے انہیں بچایا وہ ایک معذور طبقہ تھا بغیر جان کی پرواہ کئے۔ اب بتائیے نامکمل کون؟ انسانیت کن میں ہے؟ حقیقی معذور کون؟ میں جب اس طرح کے واقعات دیکھتا ہوں تو کہانیوں پر یقین آنے لگتا ہے ہاں یہ الگ بات ہے کہ محبت سب کو ہوتی ہے شاید انہیں بھی ہو آخر کو وہ انسان تو ہیں؟ لیکن عام لوگوں کی طرح کی سوچ سے وہ پرے ہیں تو ایب نارمل کون ہوا؟ کئی مرتبہ دوست انہیں بھی چاہئیے ہوتے ہیں لیکن یہ اتنے باہمت ہوتے ہیں کہ اکیلے جی سکیں۔ ان کا واحد سہارا خدا اور ان کے اپنے ہیں اور یہ اسی میں خوش ہیں لیکن عام عوام کبھی خوش نہیں ہوتی بعض اوقات اپنے بھی اکتا جاتے ہیں لیکن خدا تو نہیں اکتاتا ناں ؟ یہ اس میں بھی خوش ہیں کیونکہ خدا کی مرضی بھی یہی ہے کہ ہم خوشی اور شکر گزاری کریں اور بلا ناغہ دعا کریں اور یہ لوگ ایسے ہی ہیں عام لوگوں میں یہ بات ہے کہ وہ خود پہ اور خدا پہ یقین رکھتے ہیں لیکن ان کا خود پہ نہیں بلکہ یقین کامل ایمان توکل سب خدا پر ہوتا ہے ان کی امید و محبت بھی دنیا نہیں بلکہ خدا ہے کیونکہ دنیا سے دوستی خدا سے دشمنی ہے ہمیں اس جہاں میں تو رہنا ہے مگر اس کے ہم شکل نہیں بننا بقول شاعر :-
    زمانہ دوست ہو جائے تو بہت محتاط ہو جانا
    منافق لوگ بڑے مخلص ہوا کرتے ہیں اکثر

    میں نے کہیں پہ لکھا تھا کہ محبت ہونا ضروری ہے لیکن شادی ضروری نہیں یہ بات میں نے کسی غلط ارادے نہیں لکھی تھی بلکہ اس لئے لکھی کہ ہم محبت کا مقابلہ نہیں کر سکتے یہ کچھ نہیں دیکھتی لیکن شادی بہت بڑا زندگی بدل دینے والا فیصلہ ہے۔ سو ہم اپنے احساسات و جذبات پر صبر کر سکتے ہیں۔ یہی بہتر ہوگا کیونکہ محبت تو سات پردوں میں بھی واجب ہے امید ہے پڑھنے والے بات کو سمجھیں۔ لیکن عام لوگوں کا کردار دیکھوں تو مجھے وہ شعر یاد آتا ہے کیا خوب کہا ہے کسی نے کہ:-
    جسم کی پوجا کرتا ہے یہ آج کا فلسفہ
    یہی اگر محبت ہے تو ہم جاہل ہی اچھے
    فی امان اللہ

  • اسٹیج ڈراموں کا معاشرتی اثر اور فحاشی،تحریر:جان محمد رمضان

    اسٹیج ڈراموں کا معاشرتی اثر اور فحاشی،تحریر:جان محمد رمضان

    پاکستان میں اسٹیج ڈرامے ایک طویل عرصے سے مختلف نوعیت کی محافل کا حصہ بنے ہوئے ہیں، مگر ان ڈراموں میں عورت کے کردار اور اس کے ساتھ ہونے والے سلوک پر مسلسل سوالات اٹھائے جا رہے ہیں۔ ان ڈراموں میں عورت کو جس طریقے سے پیش کیا جاتا ہے اور ان میں جو نازیبہ اور فحاشی بھرے جملے استعمال کیے جاتے ہیں، وہ نہ صرف ان ڈراموں کو ایک تفریح کا ذریعہ بناتے ہیں بلکہ معاشرتی اقدار کو بھی شدید نقصان پہنچاتے ہیں۔

    اسٹیج ڈراموں میں فحاشی کا استعمال ایک معمول بن چکا ہے، جہاں عورت کو صرف تفریح کا سامان سمجھا جاتا ہے۔ ایک طرف ڈرامے میں عورت کو بیوی، ماں، بہن یا بیٹی کے روپ میں دکھایا جاتا ہے، تو دوسری طرف اسے نازیبہ اور فحاش جملوں کے ذریعے تماشائیوں کو ہنسانے کے لیے استعمال کیا جاتا ہے۔ ان ڈراموں میں عورت کی عزت کو مسلسل پامال کیا جاتا ہے، چاہے وہ کسی گانے کی صورت میں ہو یا پھر غیر اخلاقی شاعری کے ذریعے۔ اس سب کا مقصد صرف اور صرف تماشائیوں کی ہنسی ہنسانا اور اس کے بدلے مال و دولت کمانا ہوتا ہے۔یہ اسٹیج ڈرامے دراصل معاشرے کے لیے ایک منفی پیغام دیتے ہیں، جس میں خواتین کو جنسی طور پر ابھارنے کے لیے استعمال کیا جاتا ہے۔ ان ڈراموں میں عورت کے کردار کو ناپاک اور بے عزت کیا جاتا ہے، جس کا براہ راست اثر نوجوان نسل پر پڑتا ہے۔ یہ ڈرامے صرف تفریح کا ذریعہ نہیں بلکہ ایک ایسا طریقہ ہیں جس سے عورت کے حقوق کی پامالی کی جاتی ہے اور اس کے ساتھ غیر اخلاقی سلوک کو معمول بنایا جاتا ہے۔

    کچھ عرصے سے حکومت کے نمائندے، جیسے عظمیٰ بخاری صاحبہ نے اس صورتحال پر سختی سے اعتراض کیا ہے اور اس پر پابندی عائد کرنے کا مطالبہ کیا ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ یہ اسٹیج ڈرامے خواتین کی توہین کر رہے ہیں اور انہیں بے پردہ کرنے کو فن سمجھا جا رہا ہے، جو کسی طور بھی قابل قبول نہیں ہے۔ انہوں نے اس بات پر زور دیا کہ اس نوعیت کے ڈراموں پر مکمل پابندی لگائی جائے تاکہ معاشرتی اقدار کی حفاظت کی جا سکے۔بہت سے اسٹیج ڈراموں میں کام کرنے والے اداکار اور اداکارائیں خود کو "فنکار” کہلانے کی کوشش کرتے ہیں، لیکن حقیقت یہ ہے کہ ان کا یہ طرز عمل نہ صرف ان کی ذاتی عزت کو نقصان پہنچا رہا ہے بلکہ پورے معاشرے کو بھی بے عزتی کی طرف دھکیل رہا ہے۔ ان فنکاروں کے بارے میں سکھ برادری اور دیگر غیر مسلم کمیونٹیز بھی یہی رائے رکھتی ہیں کہ عورت کے ساتھ اس طرح کی توہین کرنا کسی بھی معاشرتی یا مذہبی اصول کے خلاف ہے۔

    آج اگر عظمیٰ بخاری صاحبہ اس اسٹیج ڈراموں پر پابندی کی بات کر رہی ہیں تو یہ دراصل اس بات کی ضرورت ہے کہ اس نوعیت کے فحاشی بھرے ڈراموں کو بند کیا جائے اور ایک ایسا ماحول بنایا جائے جس میں عورت کی عزت و احترام کو مقدم رکھا جائے۔ ان اسٹیج ڈراموں میں کام کرنے والے افراد کو محض فنکار نہ سمجھا جائے بلکہ انہیں وہ مقام اور عزت دی جائے جس کے وہ حقدار ہیں۔ ان ڈراموں کی روک تھام سے نہ صرف معاشرتی تبدیلی ممکن ہے بلکہ ایک صحت مند اور اخلاقی ماحول بھی قائم کیا جا سکتا ہے۔عظمیٰ بخاری صاحبہ سے درخواست ہے کہ ان اسٹیج ڈراموں پر مکمل پابندی عائد کی جائے تاکہ ہمارا معاشرہ بہتر اور اخلاقی اصولوں پر قائم ہو سکے۔

  • ساڈا کتا،کتا ۔۔۔تے،تواڈا کتا ٹومی ،خدارا لوگوں کو جینے دو،تحریر:ملک سلمان

    ساڈا کتا،کتا ۔۔۔تے،تواڈا کتا ٹومی ،خدارا لوگوں کو جینے دو،تحریر:ملک سلمان

    ساڈا کتا،کتا ۔۔۔تے،تواڈا کتا ٹومی ،خدارا لوگوں کو جینے دو،
    ادھر دیکھو، باہر دے ملکاں والیاں نے ویکھنی اے، کی کہن گے سانو، اسکو پکڑو سیدھا کرو
    یہ الفاظ قانون کے محافظوں کے قوم کی عزتوں کے بارے ہیں۔ پولیس تو عزتوں کی محافظ ہوتی ہے تم کیونکر عزتوں کو پامال کرنے والے اور لٹیرے بن گئے۔ خواتین کے چہروں پر تیز ٹارچ کی روشنی کرتے ہوئے ویڈیو بنانا اور یہ کہنا کہ یہ ویڈیو وائرل ہوگی ناصرف پاکستان بلکہ بیرون ملک بھی۔ اسی طرح لڑکوں کو بھی ویڈیو بناتے وقت پولیس کی طرف سے اس بات کا اعلان کیا گیا کہ ”تواڈی ویڈیو ٹک ٹاک تے آوے گی“

    جس نے جو جرم کیا اس کیلئے اسے عدالت میں پیش کرنا چاہئے تھا ناکہ ویڈیو بنا کر سوشل میڈیا پر وائرل کرنا۔ یہ اختیارات سے تجاوز اور لاقانونیت کی انتہا ہے۔ چیف جسٹس آف پاکستان، چیف جسٹس لاہور ہائی کورٹ میڈم عالیہ نیلم اور چیف منسٹر پنجاب مریم نواز شریف سے گزارش ہے کہ انصاف کا ترازو اس بات کا متقاضی ہے کہ ویڈیو بنانے اور وائرل کرنے والے تمام پولیس افسران و اہلکاروں کو اس مجرمانہ غفلت پر ناصرف نوکریوں سے فارغ کیا جائے بلکہ پیکا ایکٹ کے تحت مقدمہ درج کرکے پیڈا ایکٹ کی کاروائی کی جائے۔ انسانی حقوق کی تنظیموں، قانون نافظ کرنے والے اداروں اور وزیراعلیٰ پنجاب کیلئے یہ ٹیسٹ کیس ہے کہ پنجاب میں پولیس گردی چلنی ہے یہ انصاف اور انسانیت۔ یہ پہلا واقع نہیں ہے آئے دن پولیس کی طرف سے ایسی کاروائیاں دیکھنے کو ملتی ہیں۔ لوگوں میں خوف و ہراس پیدا نا کریں اس طرح تو پولیس شک کی بنیاد پر جس کے گھر مرضی گھس جائے۔ چادر اور چار دیواری کا تقدس پامال نہ کریں۔ ہاں اگر کوئی سرعام فحاشی کرتا ہے یا غیر قانونی ڈانسنگ کلب بنا رہا ہے تو قانونی کاروائی کریں نہ کہ ویڈیو بنا کر شوشل میڈیا پر وائرل کریں۔

    پولیس اہلکاروں کی طرف سے ویڈیو وائرل کرنے کے الفاظ کے عین مطابق بالکل ویسا ہی ہوا 24گھنٹے سے بھی کم وقت میں ایف آئی آر میں نامزد 34مردوں اور 21خواتین کو سوشل میڈیا پر سارے پاکستان اور کئی ممالک نے دیکھا۔ اس بدنامی کی بعد ان میں سے کتنے ہی جوان ہیں جو اس شرمندگی کے باعث پاکستان میں نہیں رہ سکیں گے، کتنے ذہین افراد ذہنی ازیت کا شکار ہو جائیں گے۔ جس کسی کو بھی ان نوجوانوں کے بارے ذہین کہنے پر اعتراض ہے ان کی یاداشت کیلئے عرض کرنا چاہتا ہوں کہ بیوروکریسی اور سیاسی افراد کی ذہانت پر تو کوئی شک نہیں۔ پولیس افسران، بیوروکریسی اور سیاستدانوں کے ڈرگ ٹیسٹ کروا لیں وثوق سے کہتا ہوں کے کم از کم ایک تہائی شراب نوشی اور منشیات کے عادی ملیں گے۔ اسی طرح انہی ذہین افراد کی دو تہائی یعنی ڈبل تعداد شیشہ، سگریٹ نوشی اور مجرہ پارٹیوں کے رسیا ملیں گے۔

    2023کی بات ہے لاہور میں ایک اہم سیٹ پر پوسٹڈ آفیسر کے سٹاف کی لیٹ نائٹ کال آئی سر معذرت آپ کو ڈسٹرب کر رہا ہوں۔۔۔۔صاحب نے زیادہ پی لی ہے اور اپنے کپڑے پھاڑ کر عجیب حرکتیں کر رہے ہیں ایسی حالت میں انکو گھر کیسے لیکر جاؤں۔ میں نے اس سے لوکیشن پوچھی اور رات گئے اسے وہاں سے ریسکیو کیا۔ جب اسے ریسکیو کرنے گیا تو اس محفل میں بیوروکریسی کے افسران ہول سیل میں موجود تھے۔ پولیس افسران، بیوروکریسی اور سیاستدان ریگولر بنیادوں پر ایسی پارٹیوں کا اہتمام کرتے رہتے ہیں۔سرکاری افسران اور سیاستدانوں میں پارٹی گروپ جوائن کرنا کامیابی کی سیڑھی سمجھا جاتا ہے۔ بیوروکریسی میں پارٹی گروپ کی گیم بہت بلند ہے جہاں پاکستان ایڈمنسٹریٹو سروس، پولیس سروس آف پاکستان اور پی ایم ایس اور دیگر سروس گروپس کی باہمی عداوت کے برعکس اس بزم (پارٹی گروپ) میں برابری اور بھائی چارے کا عظیم مظاہرہ دیکھنے کو ملتا ہے۔ ان سارے سخت گیر اور معزز افسران کی کہانی لاہور کی پچیس، کراچی کی چھتیس اور اسلام آباد کی بیالیس رقاصاؤں کی گرد گھومتی ہے۔ حسین زلفوں کے اسیر ہونے والے بڑے بڑے ناموں کے چھوٹے کرتوت سن کر یہ چکڑ چوہدری نما مخلوق انتہائی حقیر لگنے لگتے ہیں۔ لاہور کے چند افسران نے گینگ بنا رکھا ہے جو اپنے سنئیر افسران کی مخصوص لڑکیوں سے دوستیاں کرواتے ہیں اور بعد میں انکے زیعے اہم پوسٹنگ لیتے اور اپنے کام نکلواتے ہیں۔ اگر پکڑنا ہے تو ان بلیک میلرز کو پکڑیں۔ شوگر ڈیڈی یا جیسا بھی کلچر ہے اگر دونوں فریق طے شدہ مفادات کے تحت تعلق رکھتے ہیں تو کسی بھی فریق کو بلیک میلنگ نہیں کرنی چاہئے۔

    جہاں تک شیشہ کیفے پر پابندی کی بات ہے لاہور، اسلام آباد کراچی سمیت تمام بڑے شہروں میں سینکڑوں کے حساب سے شیشہ کیفے موجود ہیں۔ شیشہ کیفے والے لوکیشن کے حساب سے ایک لاکھ سے تیس لاکھ ماہانہ تک پولیس اور انتظامی افسران کو بھتہ دیتے ہیں۔ سوال یہ ہے کہ حکومت شیشہ کیفے کی حد تک لیگل ٹیکس کیوں نہیں اکٹھا کرتی بجائے اس کے کہ کروڑوں اور اربوں روپیہ افسران کی جیبوں میں جاتا ہے۔پبلک مقامات، سرکاری و پرائیویٹ دفاتر میں سگریٹ نوشی کرنا جرم ہے جس کی سزا قید اور جرمانہ ہے لیکن یہ سیگریت نوشی کرنے والے افسران و افراد پبلک مقامات اور سرکاری دفاتر میں سرعام سگریٹ نوشی کرکے دوسروں کو اذیت دیتے ہیں۔
    جو کوئی جیسی بھی تفریح کرتا ہے اگر وہ اپنے گھر کی چار دیواری میں کرتا ہے تو اسے جینے دیں۔ پہلے ہی بہت سٹریس ہے لوگوں کی زندگیوں کو عذاب نہ بنائیں۔