Baaghi TV

Category: معاشرہ و ثقافت

  • معذور افراد باہمت اور باصلاحیت افراد  تحریر : محمد نوید

    معذور افراد باہمت اور باصلاحیت افراد تحریر : محمد نوید

    اقوام متحدہ کے قانون کے تحت معذور افراد جنہیں خصوصی افراد یا اسپیشل پرسن بھی کہا جاتا ہے ایسے افراد کو کہتے ہیں جو کسی ایسی جسمانی یا دماغی بیماری میں مبتلا ہوں جو انسان کے روزانہ کے معمولات زندگی سرانجام دینے کی اہلیت و صلاحیت پرگہرے اور طویل اثرات مرتب کرے یا وہ بیماری اس فرد کے کام کرنے کی اہلیت یا صلاحیت کو ختم کرے۔ معذوری ذہنی بھی ہو سکتی ہے جسمانی بھی، پیدائشی بھی ہو سکتی ہے اور حادثاتی بھی
    معذور افراد کے لیے نوکریوں میں 3 فیصد کوٹہ متعین ہے جبکہ اس کو بڑھا کر 5 فیصد کرنا چاہیے
    اب آتے ہیں انکے مسائل کی طرف ایک جگہ سے دوسرے مقام تک سفر میں اُن کی راہ میں رکاوٹ نہیں بلکہ وہ روڈ انفراسٹرکچر حائل ہوتا ہے۔سڑک پار کرنا ایک امتحان ہوتا ہے۔ حکومت سے درخواست ہے کہ معذور افراد کی رسائی کے لیے سرکاری اداروں اور بلڈنگ اور پرائیویٹ سیکٹرز کو باور کروایں کہ معذور افراد کو ایکسیسبلٹی مہیا کی جاۓ ریمپ بنا کر دیے جائیں
    حکومت ماہانہ وظیفہ مقرر کرے
    مفت وہیل چیئرز فراہم کی جاۓ تاکہ وہ آنے جانے کیلئے کسی کے محتاج نہ ہو مفت علاج کی سہولیات مہیا کی جائیں اور گاہے بگاہے سیمینارز منعقد کئے جائیں جہاں ان کے حقوق کے لیے آواز بلند کی جا سکے

    @naveedofficial_

  • پاکستان اور دیسی لبرلز   تحریر: فیصل فرحان

    پاکستان اور دیسی لبرلز تحریر: فیصل فرحان

    اصطلاح میں لبرل اسے کہتے ہے جو مخالف کی بات کو تحمل سے سنے اور مخالف کی رائے کی قدر کریں المختصر یہ کہ صرف خود کو ہی عقل کل نہ سمجھے بلکہ دوسرے کی رائے کو بھی مانیں لیکن جناب ہمارے پاکستانی لبرلز تو سب سے انوکھے اور نرالے ہے کیونکہ ان لوگوں کو لفظ لبرلاازم کے مطلب کا ہی نہیں پتہ ان لوگوں کے نزدیک لبرل وہ ہوتا ہے جو اسلام اور پاکستان کی ہر چیز کی مخالفت کرے۔ یہ صرف میں کہہ نہیں رہا بلکہ ثبوت موجود ہے، یقین نہیں تو پاکستانی لبرلز کے سوشل میڈیا اکونٹس اٹھا کر دیکھ لیں آپ ان پر صرف پاکستان اور اسلام مخالف ہی مواد دیکھے گے۔

    چند دن قبل ایک پاکستانی دیسی لبرل نے ٹویٹ کیا کہ قربانی پر جانور ذبح کرنے کی بجائے واٹر کولر لگوا دیں تاکہ غریب لوگ ٹھنڈا پانی پی سکے۔ اور وہ جناب ٹویٹ بھی آئی فون سے کر رہے تھے۔ سوال یہ ہے کہ بندہ تھوڑا سستا موبائل بھی تو چلا سکتا ہے؟ پھر آئی فوج جیسا مہنگا فون کیو خریدا؟؟ تب کیو غریب یاد نہ آیا؟ یہی لوگ بڑی بڑی کوٹھیوں میں رہتے ہے لیکن تب بھی ان لوگوں کو غریب یاد نہیں رہتا، بس یہ غریب سے ہمدردی صرف اسلامی تہوار کے وقت ہی ہوتی ہے؟؟

    ایک اور دیسی لبرل کی روداد سنیے۔ کل ایک نجی ٹی وی کی مشہور صحافی نے ٹویٹ داغا کہ جانوروں کو جینے دیا جائے اور عید جانور کی قربانی کے بغیر کی جائے۔ مطلب یہ محترمہ اللہ اور نبیؐ سے بھی زیادہ ہمدردی رکھتی ہے جانوروں سے؟ جبکہ اسی عورت کی ٹائم لائن دیکھے تو پورانے ٹویٹس میں محترمہ کبھی بیف کھانے کی پوسٹ کر رہی ہے تو کبھی نہاری۔ پوچھنا بس یہ ہے کہ کیا بیف اور نہاری زمین سے اگتی ہے؟ اور جناب یہی محترمہ اپنی ملازمہ پر تشدد میں ملوث تھی، جی ہاں اس نے ایک کمسن ملازمہ پر بدترین تشدد کیا تھا یہ خبر میڈیا کی زینت بھی بنی رہی تو یہاں پر بھی سوال اٹھتا ہے کہ کیا انسان کی قدر جانور سے کم ہے؟ کیونکہ یہ عورت جانور کی حرمت کی بات تو کرتی ہے جبکہ خود انسان پر تشدد کرتی ہے۔ جی ہاں اسے منافقت اور دین بیزاری کہتے ہے۔

    اب آتے ہے دوسرے رخ کی طرف۔ پوری دنیا میں سب سے سے زیادہ جانوروں کا گوشت امریکہ میں کھایا جاتا ہے جو کہ کل دنیا کا 20 فیصد بنتا ہے اسی طرح ٹاپ بیس ملکوں میں ایک بھی اسلامی ملک نہیں تب ان سستے لبرلز کو ہمدردی اور جانوروں کی زندگی یاد کیو نہیں آتی؟ آپکو پتہ ہے کہ ایک دن میں مکڈونلڈ 67 ہزار جانروں کو ذبح کر کے اپنے ریسٹورینٹس میں سپلائی کرتا ہے لیکن تب یہ لوگ نہیں بولتے کیونکہ یہ گوشت ان امیروں کے پیٹ میں جو جاتا ہے لیکن جب اسلام اللہ کی رضا کیلیے جانور ذبح کر کے غریبوں میں بانٹنے کا حکم دیتا ہے تو سارے لبرلز کے ہاں ماتم بچھ جاتا ہے کسی کو غریب کا جہیز یاد آجاتا ہے تو کسی کو جانوری کی زندگی کی اہمیت۔

    المختصر ان لوگوں کو نہ تو غریب سے ہمدردی ہے اور نہ جانوروں کی ودر ان لوگوں کو بس تکلیف اسلام اور پاکستان سے ہے اور دوسری بڑی وجہ بیرونی این جی اوز سے پیسہ بٹورنا بھی ہے۔ بیچارے کیا کریں اسلام اور پاکستان پر تنقید کر کے ہی تو چند ڈالرز کماتے ہے اور اپنا پیٹ پالتے ہے لیکن یاد رکھوں یہ ڈالرز صرف چند دن کیلیے ہے بہت جلد ہم سب نے مرجانا ہے پھر یہ دولت کام نہیں آئے گی پھر درد ناک عذاب ہوگا بس۔ اسلیے چند ڈالرز کی خاطر اپنی آخرت تباہ مت کیجیے۔

    اسلام زندہ آباد، پاکستان زندہ آباد
    @Farhan_Speaks_

  • علم  تحریر : عائشہ رسول

    علم تحریر : عائشہ رسول


    علم زندگی کا بہترین زاویہ ہے. جس سے انسان بنتا ہے اور انسانیت کی طرف سفر شروع کرتا ہے. علم ہو اور انسان تبدیل نہ ہو تو یہ علم نہیں علم کے ساتھ ظلم ہے.
    علم کی روشنی سے زہن اور فکر منور ہوتی ہے. جو علم زہن کو تاریک کرے وہ علم نہیں… وہ کسی کا یاد کروایا ہوا سبق ہوتا ہے.. . علم انسانی احساسات کو زندگی بخشتا اور شعور کی آبیاری کرتا ہے.جو علم انسان کو اندھے راستوں پہ لے جائے وہ خدا کا عطا کردہ علم نہیں. جو رزق حلال کھاتے ہیں وہ جانتے ہیں علم کیا ہے, عالم کیسا ہوتا ہے اور عالمیت کیا ہے جو خدا کی بخشی ہوئی نعمتوں کا شکر بجالاتے ہیں وہ ان نعمتوں سے واقف ہیں.
    وہ علم سب سے بڑی نعمت ہے جس سے انسانیت کی تعمیرِنو ہوتی ہے.
    علم انسان کو زھنی بلندیوں تک لے جاتاہے مگر سن لو… وہ علم”علم” نھیں’جو زھنی پستیوں سے نکلنے نہ دے, جو خیالوں سے باندھ دے, جو بے غرض سوچ میں جکڑ دے… بلکہ علم تو وہ ہے…. جو فکرکو ھر لمحہ ایک نئی حیات بخش دے, جو روح کو سیراب کردے, جو زہن کو ضیابخش دے.
    علم اس وقت تک باقی رہے گا جب تک علم والے اور علم کے مطابق عمل کرنے والے زندہ ہیں
    سب سے بڑا علم یہی ہے کہ موت یقینی ہے اور ایک دن ہمارے اعمال کا حساب ہوگا اور نامہ اعمال ہمارے
    ہاتھوں میں تھما دیے جائیں گے اور وہ "یوم حساب”ہوگا
    اور جو لوگ ہر یوم کو "یوم حساب” سمجھ کر گزارتے ہیں میں انکے علم کی قدر کرتی ہوں

    آؤ سب مل کراس علم سے دوستی, آشنائی اور شناسائی کر لیں
    ہماری دین, دنیا اور آخرت سب کے لیے یہ کامیاب ترین نسخہ ہے اور یہ وہ علم ہے جس علم سے نجات ہو گی
    اللہ ہمیں علم حاصل کرنے کے ساتھ ساتھ عمل کی بھی توفیق عطا کرے… آمین…
    "وما علینا الا البلاغ المبین ”

    Official Twitter handle
    ‎@Ayesha__ra

  • ہماری غربت کی بنیادی وجہ تحریر: حمزہ بن شکیل

    ہماری غربت کی بنیادی وجہ تحریر: حمزہ بن شکیل

    بل گیٹس نے ٹھیک ہی تو کہا ہے کہ اگر ہم غریب گھرانے میں پیدا ھوتے ہیں تو اس میں ہمارا کوئی قصور نہیں لیکن اگر ہم غریب مرتے ہیں تو اس میں سو فیصد ہمارا قصور ہے۔

    کامیابی حاصل کرنے کے لئے قابل ہونا بنیادی شرط ہے لیکن المیہ یہ بے کہ آج کے دور کے بیشتر طالب علم خاص طور پر لڑکے تو پڑھنا ہی نہیں چاہتے۔ وہ محنت نہیں کرنا چاہتے۔ ان کی زندگی میں نظم وضبط نام کی کوئی چیز نہیں۔انھیں کھیل کود، موبائل ، کمپیوٹر اور ٹک ٹاک ہی سے فرصت نہیں۔

    وہ چاہتے ہیں کہ کسی بھی طریقے سے زیادہ سے زیادہ نمبر حاصل کیے جائیں۔وہ کسی شارٹ کٹ کی تلاش میں ہیں۔
    لیکن وہ نہیں جانتے کہ ان کی آئندہ کی زندگی کس قدر سخت بے۔ چھوٹی موٹی نوکری کے عوض جو تنخواہ ملتی ہے اس سے تو بجلی وگیس کے بل اور مکان کے کراۓ بھی ادا نہیں ہو پاتے۔

    آج کے طالب علموں کے رپورٹ کارڈ تو نمبروں سے بھرے ھوتے ہیں لیکن ان میں قابلیت نام کی کوئی چیز نہیں ھوتی۔ ایسے نوجوان گریجویشن اور ماسٹر کرنے کے بعد سرٹیفیکیٹس کی فائل ہاتھوں میں تھامے، ملازمت کی تلاش میں مختلف دفاتر کے چکر لگاتے نظر آتے ہیں۔

    سفارش کے بعد انھیں کوئی معمولی سی ملازمت تو حاصل ھو جاتی ہے لیکن معمولی تنخواہ کی وجہ سے وہ پوری عمر غربت کی چکی میں پستے رہتے ہیں اور اپنی بنیادی ضروریات بھی پوری کرنے سے قاصر رہتے ہیں۔ اور یوں غربت ایک نسل سے دوسری نسل کو منتقل ھو جاتی ھے۔ معیار زندگی بہتر بنانے اور مہنگائی کو شکست دینے کے لیے ایسی تعلیم کا حصول ضروری ہے جس سے طالب علموں کی قابلیت میں اضافہ ہو۔ جس کی بدولت وہ باآسانی اچھی ملازمت حاصل کر سکتے ہیں۔ طالب علموں کی آج کی محنت سے بھر پور سخت زندگی ان کی آئندہ کی زندگی کو آرام دہ اور پرآسائش بنا سکتی ہے۔

    اپنے بچوں کو کامیاب بنانے اور غربت کے چنگل سے نکالنے کے لیے انھیں ایسے تعلیمی اداروں میں داخل کروائیے جہاں نظم وضبط ھو اور جہاں نمبروں کی نہیں قابلیت کی اہمیت ھو۔

    ہم ہیں غربت میں گزارے ہوئے ایّام جنہیں
    لوگ جب تخت پر آتے ہیں تو بھلا دیتے ہیں


  • غربت کیا ہے؟؟ نصیب یا عادت . تحریر : احمد فراض

    غربت کیا ہے؟؟ نصیب یا عادت . تحریر : احمد فراض

    90 فیصد لوگ اپنے انتخاب اور اپنی عادات کی وجہ سے غریب ہوتے ہیں، اب آپ کہیں گے کہ کون ہے جو اپنی مرضی سے غریب ہونے کا انتخاب کرے گا
    تو جناب فرض کریں آپ کے سامنے پانی کا جگ بھرا پڑا ہو اور آپ بجائے آگے بڑھ کر پانی گلاس میں ڈال کر اپنی پیاس بجانے کے یہ راگ الاپتے رہیں کہ میں پیاسا ہوں میں پیاسا ہو تو یہ پیاسا رہنا آپ کا انتخاب ہی ہوا ناں اسی طرح ہمارے یہاں بالخصوص مڈل کلاس اور لوئر مڈل کلاس خاندانوں میں پڑھائی چھوڑ دیتے ہیں یہ وہ پہلا انتخاب ہوتا ہے جب آپ اپنے لئے غربت چنتے ہیں پھر ایسے افراد کوئی ایسا کام اور ہنر نہیں سیکھتے جس سے زیادہ آمدن ہو یا معیار زندگی بہتر ہو اور مجبورا کوئی ہنر سیکھتے بھی ہیں تو وہ جس میں آمدن کم ہو مثلاً ڈرائیور، مکینک، مستری یا کوئی چھوٹی موٹی دکان… یہاں بھی انتخاب کیا جا رہا ہے کہ ہم نے اس معیار کی زندگی گزارنی ہے
    پھر کام چوری کر کے، دھیان نا دیکر، پورا وقت نا دیکر ہم اس انتخاب ہر مہر لگا دیتے ہیں کہ بھئی ہم نے تو غریب ہی رہنا ہے
    یوں ہم خود غریب رہنے کا انتخاب کرتے ہیں لیکن ملبہ ہم ڈال دیں گے نصیب پر اور ساری عمر مقدروں کو کوستے رہیں گے جب تک ہم کام کرنے کی اور محنت کرنے کی عادت نہیں ڈالیں گے ہم غربت سے نکل ہی نہیں سکتے چاہے کوئی آپکو سونے کی کان پر بٹھا دے آپ اسکا بھی بیڑہ غرق کر دیں گے.

    ‏خدا اس قوم کی تقدیر نہیں بدلتا جو اپنی تقدیر خود نہ بدلے…
    تو بجائے غربت کا رونا رونے کے اپنی عادت بدلیں محنت کرنے کی عادت ڈالیں کام کرنے کی عادت ڈالیں اگر کوئی کام نہیں چل رہا تو کچھ دوسرا کام سیکھیں اور اپنی تقدیر خود لکھیں پر پہلے صرف عادت بدلیں.

    @AhmdTeam

  • اپنے حصے کی شمع روشن کرنی ہے تحریر : راجہ ارشد

    اپنے حصے کی شمع روشن کرنی ہے تحریر : راجہ ارشد

    ہم ہر روز سینکڑوں ایسے بچوں کو دیکھتے ہیں جو کسی شاہراہ پر کھڑے پانی کی بوتلیں اٹھائے رزق کی تلاش میں نکلتے ہیں کئی کسی پارک میں غبارے بیچتے نظر آئیں گے یا کسی ہوٹل پر برتن دھوتے دکھائی دیتے ہیں یہ میرے بچے اس قوم کا اس وطن کا مستقبل ہیں۔

    یہ اس مٹی کے محافظ آزادی کے امین ہیں ہم ایسے کرداروں کو دیکھ کر اپنی زندگی کی مصروفیات میں مگن ہو جاتے ہیں احساس کا ایک لفظ بھی نہیں بول سکتے عملی طور پر تو کچھ کرنا شاید ہم اپنی توہین سمجھتے ہیں یا پھر اپنی ذمہ داری ہی نہیں سمجھتے یہ غربت میں پلنے والے میرے بچے محنت کش اللہ کے بہترین دوست ہیں۔

    جو روز قیامت صرف حکمرانوں کی ہی نہیں ہر صاحب استطاعت کی شکایت کریں گے بڑے محلات میں رہنے والے آرام دہ گاڑیوں میں سفر کرنے والے میدان حشر میں ان بچوں کے مجرم ہوں گے وطن عزیز کی آزادی کے وقت جسم پر جو دو کپڑے تھے سات دہائیوں کے بعد اپنے تن کو ڈھانپنے کے لئے ایک چادر بھی مشکل سے ملتی ہے سندھ کے تھر میں چلیں جائیں یا بلوچستان کے ریگستانوں میں پنجاب کے دیہاتوں کی بات ہو یا پھر پختونخواہ کے دور دراز پہاڑی علاقوں کی جہاں غربت نے اس قدر ڈیرے ڈالے ہیں کہ بچوں کی تعلیم تو درکنار لباس اور خوراک بھی پوری طرح نہیں ملتی ہے۔

    جہاں پینے کا صاف پانی نہیں ہے بھوک سے بچے مر رہے ہیں میرے بچوں نے یہ سوال ہم سب سے کرنا ہے اس کا ذمہ دار کون ہے سوال تو ہو گا نماز روزوں کا لیکن بات جب بھوک کی ہو گی تو شاید وہ شکایت ہمارے لیے سزا کا باعث بن جائے یہ میرے بچے رزق حلال کماتے ہیں ان کو تعلیم کی ضرورت ہے ان کے بھی خواب ہیں وہ بھی شہر میں جانا چاہتے ہیں ایئر کنڈیشن روم میں بیٹھ کر نوکری کرنا چاہتے ہیں کاروبار کرنا چاہتے ہیں ان کے بھی ارمان ہیں اچھے کپڑے پہننا چاہتے ہیں زندگی کو جینا چاہتے ہیں۔

    چھوٹی چھوٹی خوشیاں دیکھنا چاہتے ہیں یہ اس قوم کا مستقبل ہیں ان کی تربیت ان کی تعلیم اچھا لباس اچھا گھر ہم سب کی ذمہ داری ہے حکمرانوں سے امید رکھنا اور صرف حاکم وقت کی ذمہ داری سمجھ کر آنکھیں بند کر لینے سے ہم اپنی ذمہ داریوں اور فرائض سے دستبردار نہیں ہو سکتے۔

    ہر انسان کو انفرادی طور پر اپنے حصے کی شمع روشن کرنی ہے ایک ایسے بچے کی اچھی تربیت کرنا اسے تعلیم دلانا اچھا اور قابل شہری بنانا نا صرف دلی سکون دے گا بلکہ صدقہ جاریہ ہو گا ہمیں عہد کرنا ہے اپنی حیثیت کے مطابق اس کام کو اپنا فرض سمجھ کر ادا کرنا ہے کسی کے دکھاوے یا شاباش لینے کے لئے نہیں۔

    بلکہ اللہ کی رضا کے لیے کرنا ہے انشاءاللہ جس دن ہم اپنی انفرادی ذمہ داریوں کو پورا کرنے لگے تو میری قوم کے بچے نہ بھوکے سوئیں گے نا ہی سڑکوں پر ننگے پائوں پھرتے نظر آئیں گے بلکہ اس قوم کا ہر فرد پڑھا لکھا باشعور معزز شہری ہو گا یہی ترقی کی طرف جاتا راستہ ہے جس سے ہم عظیم قوم بن سکتے ہیں۔

    اللہ پاک سمجھ کر عمل کرنے کی توفیق عطا فرمائیں۔آمین

    @RajaArshad56

  • قومی مفاد اورھم . تحریر :  کیکاؤس کیانی

    قومی مفاد اورھم . تحریر : کیکاؤس کیانی

    جس كا ميں بهى طالب علم تها- جناب تاكا هاشى صاحب نے اپنى دهواں دار تقرير ميں عالمى جنگ كى تباه كارى، هيروشيما اور ناگاساكى پر ايٹمى حملے، اس كے اثرات اور مستقبل كے لائحه عمل كے بارے ‏جاپان كى حكمت عملى كى تصوير كشى كى- جنگ ميں تباه حال ملك كس طرح ترقى كى منازل طے كرتا گيا- قوم نے زبوں حالى سے كس طرح ترقى كى منازل طے كيں- كيسے جنگ سے تباه حال قوم نے معيشيت كى دنيا ميں اپنا لوها منوايا- آخر ميں سوال و جواب كى ايك نشست هوئى- جہاں اور بہت سے سوال پوچهے گئے و‏ہاں ايك احمقانه سوال بهى پوچها گيا‘ سوال تها كه جاپان اور پاكستان نے تقريباً ايك ساتهہ سفر شروع كيا- جاپان نے 1945 ميں عالمى جنگ كے بعد تعميرنو شروع كى اور پاكستان نے 1947 ميں معرض وجود ميں آنے كے بعد- تو ايسا كيا هوا كه جاپان تو ترقى كى اوج ثريا كو چهونے لگا اور پاكستان وه كچهہ حاصل نه كر سكا جو اٌسكى نظرياتى اساس تهى- پروفيسر صاحب هلكا سا مسكرائے اور حاضرين كے خفت زده چہروں پر ايك طائرانه نظر ڈالتے هوئے يوں گويا هوئے: ميں ايك جاپانى كى حثيت سے سوال كے اس حصے كا جواب دينے سے قاصر هوں كه پاكستان ترقى كيوں نه كرپايا كه ميں پاكستانيات پر اتهارٹى نهيں ركهتا ليكن جاپان كى ترقى كى كہانى بيان كر ديتا هوں اورآپ خود موازنه كر ليجيے گا كه هم بحثيت قوم كيسے ترقى كرگئے اور آپ نه كر سكے-

    پروفيسر صاحب نے بتايا كه كس طرح جنگ كے فوراً بعد جاپانى قوم نے عزم اور تندهى سے تعمير نو كا كام شروع كيا- جنگ اور ايٹمى تابكارى كے سامنے سينه سپر هو كر اك نئى تاريخ لكهنے كى ابتدا كى- اس هولناك سانحے نے بهى قوم كو منتشر نه هونے ديا اور قوم نے متحد هو كر وه كر دكهايا جسكى مثال رهتى دنيا تك دى جا سكتى هے- مختلف زاويوں سے قومى ترقى كے لمحه به لمحه سفر كى روداد بيان كى- اور آخر ميں اس سوال كا جواب ديا جس ميں جاپانى ترقى كا راز پنہاں تها- بقول پروفيسر قوم افراد كے مجموع سے بنتى هے نه كه هجوم سے- جاپانى قوم نے ترقى كي سيڑهى پر يقين محكم سے قدم ركها اور ان كے عزم و حوصلے كى داستان كو صرف ايك چيز نے تقويت دى اور وه تهى "خوددارى”- اور اس خودى كو بلند كرنے كيليے صرف ايك چيز كى ضرورت تهى اور وه تهى "مفاد پرستى”- مفاد, غرض, وفا اور خلوص كو اگر انسان كے اندر ايك پيمانے سے ماپا جائے تو جاپانى قوم نے اس كى تقسيم يوں كى: هر جاپانى كے نزديك سب سے اولين مفاد كا حق شاه يا ملك تها اور اسكے ليے 100% وفادارى و جان نثارى اور خلوص نيت مشروط تهى- اس كے بعد اگر مفاد اور وفا كا حقدار تها تو وه اسكا صوبه تها- پهر اسكا شهر, پهر تحصيل, پهر محله, پهر اوس پڑوس اور اسكے بعد گر كوئى رتى باقى بچتى تو وه خود اسكا حقدار تها-  پروفيسر صاحب يہاں پہنچ كر تهوڑا سا مسكرائے اور حاضرين پر نظر ڈالتے هوئے بولے, اب آپ اپنا موازنه خود كريں كه آپ كہاں كهڑے هيں اور اسں غرض, مفاد اور ايثار كى تقسيم كيسے كرتے رهے-  حاضرين كو سانپ سونگهہ گيا كه اپنے كهلے گريبان سب كو نظر آ گئے-

    همارى تقسيم هي الٹى هے- اپنى زات مقدم اور ستم ظريفى يه كه ايك ايسے حصار ميں خود كو بند كر ليا كه اسكے باهر مفاد كى رتى بهى نهيں جاتى- آج اگر هم اپنا مواخذه كريں اور موجوده افراتفرى و انتشار كو ديكهيں تو دو جمع دو كى طرح حقيقت عياں هو جاتى هے كه اس ابترى ميں حصه بقدر جثه هم سب برابر كے شريك هيں- هم اقدار كى تنزلى كے اس مقام پر كهڑے هيں جہاں قوميں بنتى نهيں بلكه صفحه هستى سے مٹ جاتى هيں-  مفاد پرستى كى اس دنيا ميں همارى حثيت اس موٹرسائكل سوار جيسى هے جو موت كے كنويں ميں چكر لگا رها هوتا هے- جسكى دنيا اس كنويں كے اندر هے-

    ايسا كيوں هے؟ ايسا كيا هوا كه هم اتنے بيحس هو گئے؟ سانحات هميں جهنجوڑتے ضرور هيں ليكن كيا وجه هے كه:

    مرا دل جو کبھی رنگیں تمنّاؤں کا مسکن تھا
    ہوا جاتا ہے اب خانہ خراب آہستہ آہستہ

    انسانى نفسيات كا مطالعه كيا جائے تو پته چلتا هے كه فطرت انسانى كا تغير چشم زدن ميں نهيں هوتا اور بات اگر ضمير كو سلانے كى هو تو سلوپائزنگ سے بہتر نسخه كوئى نهيں- اور اس زهر كو نسلوں كى رگوں ميں اتارنے كے طريقے بہت سے هيں, جيسے فن و ادب كے نام  پر ثقافتى يلغار, بهلے وه پڑوس كى هو يا آزادى فن و تقرير كے نام  پر همارى اپنى تخليق هو, مذهبى انتہا پسندى هو يا آزادى مذهب كے نام پر لبرل ازم- نوع انسانى مختلف طبقات  ميں منقسم هے ليكن شعوروآگہى اسكو تمدنى, معاشرتى اور معاشىی زندگى ميں آگے بڑهاتا هے- شعورى نمو تعليم كى مرهون منت هے- همارا شعورى قتل تعليم كے دوهرے معيار سے كيا گيا تاكه ايك مخصوص طبقه تقسيم حقوق ومعاش كى بندر بانٹ سے لطف اندوز هوتا رهے- هم نے تعليمى تقسيم ميڈئيم كے نام پركى- مذهب كو مساجد تك اس طرح محدود كيا عام آدمى كيليے مذهبى رائے شجر ممنوع قرار دے دى گئى- محرومى كو اسقدر هوا دى كه زنده رهنے كيليے دو هى راستے بچے,  پس جاؤ يا چهين لو- غير محسوس انداز ميں يه ايك تطہيرى عمل تها- پہلے پہل تو يہى لگا كه اچه

    هم نے آزادی کا اک خواب سا دیکھا تھا کبھی 
    واۓ افسوس یہ اس خواب کی تعبیر نہیں 

    ٹویٹر : @kaikauskiani

  • رزق کمانا آسان کام نہیں  تحریر : چوہدری  عطا محمد

    رزق کمانا آسان کام نہیں تحریر : چوہدری عطا محمد

    اللّٰہ تعالٰی نےرزق تو نصیب میں لکھ دیا لیکن وسیلہ بنایا پردیس
    اور پردیس کی زندگی اک ایسی میٹھی جیل ہے جو انسان چاہ کر بھی نہیں چھوڑ سکتا.
    اپنے پیاروں سے بچھڑ کر کسی کا باپ تو کسی کا بھائی اور کسی کا شوہر زرق حلال کی خاطر میلوں دور نکل جاتا ہے۔اور کئی سال بچارا دن رات خون پسینہ اک کر کے اپنے اہل خانہ کے روشن مستقبل کی خاطر اپنی، ندگی کے قیمتی دن اپنوں پر وار دیتا ہے اور رب تعالی کے حکم سے جب کئی سالوں بعد واپس لوٹتا تو ایسا لگتا کہ کسی اجنبی شہر کی طرف سفر کر رہاے اور اسکے ساتھ رویہ بھی وہی اپنایا جاتا کہ یہ تو مہمان ہے اور حقیقت ہے بھی یہی کہ اب اس کا دیس پردیس بن چکا ہوتا کیونکہ وہ چند دنوں کا مہمان ہی تو بن کر جاتا ہے اور پردیس ہی اب اسکا دیس ہے.

    اپنوں سے بچھڑ کر کون پردیس جانا چاہتا ہے مگر اپنوں کی ہی خاطر جانا پڑتا ہے۔۔جانا پڑتا ہے۔۔۔

    اور اگر اک جائزہ لیا جاے تو دنیا میں سب سے بڑی غربت غریب الوطنی ہے حصول رزق کے لیے اپنے وطن کو چھوڑ کر سے دیار غیر میں جوان گیا اور پردیس میں بوڑھے ہوگئے ان کا درد وہی جانتے ہیں جب اپنے والدین کی دروازے پر لگی آنکھیں بند ہو جانے کے بعد بھی گھر نا آسکے وہ اپنے بچوں کے بچپن کے دنوں کو محسوس نہ کر سکے انکی کلکاریاں نا سن سکے ان کو ننھے ننھے ہاتھوں کو چھو کر پیار سے چوم نہ سکے اپنے بچے کو گود میں لے کر اسے باپ کا پیار نہ دے سکے باپ کے ہوتے ہوے بھی بنا باپ کی زندگی کے عادی بنا دیے یہ کیسا ستم ہے ان معصوم کلیوں پر جن کی خاطر وہ ہزاروں میل دور بیٹھا محنت مزدوری کر رہا وہ ان کے سکول کا پہلا دن سکول تک نہ چھوڑ سکے نا دیکھ سکے وہ ان کی زبان سے نکلا پہلا لفظ نا سن سکے.
    وہ انکی کمی کو شدید محسوس کرتے رہے تب جب دوسرے بچے اپنے بابا کے کندھوں پر بیٹھ سکول جاتے دیکھتے وہ دیکھتے کہ انکے بابا انہیں سکول کے دروازے پر پیار کرتے انکے چہرے پر شفت بھرا ہاتھ پھیرتے اور کہتے کہ بیٹا میں چھٹی ٹائم لینے آ جاؤں گا تب کیا بیتتی ہے ان بچوں کے دلوں پر وہ معصوم کلیاں تب انکے دل مرجھا جاتے اور دل میں حسرت لیے سکول کی سیڑھیوں پر قدم رکھتے ہو بوجھل قدموں سے اندر داخل ہو جاتے ہیں مگر یہ واقعہ انکے دل ودماغ میں نقش ہو جاتا ہے اور بچہ احساس کمتری کا شکار ہو جاتا باپ کا سایہ پاس ہونا بھی خدا کی بہت بڑی نعمت ہے. اللّہ تعالیٰ کسی باپ کو اسکے بچوں سے دور نہ کرے اور اسکی قسمت میں پردیس نہ لکھے.

    پردیس میں بیٹھا شخص اپنے کئی رشتوں کو کھو چکا جن کے ساتھ زندگی کے کئی سال گڈار چکا ہوتا وہ آج منو مٹی تلے دب چکے مگر وہ بیچارہ پردیس کی کی جیل میں قید انکے آخری دیدار کو بھی نہ آ سکے

    یہ غریب الوطنی کا درد وہی جانتا ہے جو اس سے گزرتا ہے وہ اپنی بیوی کے ساتھ جوانی کے خوبصورت ایام نا گزار سکا تب جب اسکی شادی کو کچھ ماہ ہی ہوے تھے وہ اسے اپنی بنا جرم قید میں ڈال کر اس سے دور چلا جاتا ہے.
    وقت و حالات نے اس کی تمام توانائیاں نچوڑ ڈالیں وہ اپنے اہل خانہ کی خوشحال زندگی کے لیے اپنا سب کچھ قربان کرگیا تب جب یہ اسکی زندگی کے خوبصورت دن اور لمحات تھے انکی اس قربانی کو کون لوٹا کردے گا شایداس کا کوئی ازالہ نہیں اور نہ ملے گا.

    پردیس کی قید میں وہ تنہا بیمار ہوا ٹھیک ہوگیا اپنوں سے دور رہ کر اداس ہوا پھر ہنس دیا اپنوں کی آواز فون پر سنی تو تسلی کرلی مگر وہاں دیس میں بیٹھے اپنے گھروں بیٹھے اسکی کال کو بھی اک فضول وقت گذاری کا کہہ کر مرضی سے سنتے وہ پھر بھی انہیں محسوس نہیں کرواتا اور مصنوعی مسکراہٹ اور جھوٹے لب ولہجہ سے کچھ لمحے بات کر لیتا اور خود ہی خود یہ کہہ کر تسلی دے لیتا کہ وہ مصروف تھے تم نے کیوں مجبور کیا انہیں مگر وہ نہیں جانتے کہ اسکے دل پر کیا گذر رہی ہوتی وہ اک تو اپنا سب کچھ قربان کر چکا ہوتا اپنی جوانی اپنی شادی کے بعد کے خوبصورت دن اپنے بچوں بچپن مگر پھر بھی اسکی زبان سے کبھی شکوہ وگلہ نہ نکلا ٹھیک ہوکر بھی خود کو غلط کہہ لیا اورجب دل بہت تنگ ہوا تو اٹھا اور اپنے وطن اپنے گھر کی یاد میں چائے بنائی اور کھڑکی میں کھڑا ہوکر پینے لگا آسمان کی طرف نظر دوڑائی چاند کو دیکھا اور سوچوں پڑ گیا کہ یہ مرے گاؤں میں بھی نکلا ہوگا

    یہ سردیوں کا موسم یہ بلا کی سردی اپنے گھر کی رضائی میں بیٹھا چائے پکوڑے کے مزے لینے والا شخص اپنوں کے ساتھ بیٹھ کر خوش گپیوں کو یاد کر کے ہنسنے لگتا اور وہ ہنسی مزاق جو سب بہن بھائی مل کر کرتے تھے سب بہت یاد آتا ہے مگر وہ پھر بھی اپنوں کے لیے آنسو آنکھوں میں بھینچ لیتا ہے خود کو سنبھالتا ہے اور بے دھیانی میں اک آدھ آنسو اسکی کی چائے کی پیالی میں گر جاتا ہے اور وہ دل کو تسلی دے کر چاے کی چسکی لیتا اور کہتا ہے پہلے والا گذر گیا یہ بھی گذر جاے گا.
    اور قسمت اچھی ہو تو کمرے میں ساتھ رہنے والے اگر کوئی اچھے ساتھ مل جائیں تو پھر کبھی کبھی مل جل کر ایک دوسرے کا درد بانٹ لیتے ہیں اور پردیس کی گرمی میں اپنی وطن کی سردی یاد کرکے چائے سے دل ٹھنڈا کرلیتے ہیں.

    پردیسیوں کے نام

    ایک ایسا سفر کروایا زندگی نے
    جس میں پاؤں نہیں میری روح تھک گئی

    @ChAttaMuhNatt

  • موقع تلاش کرو کامیاب ہوجاو . تحریر : شعیب علی

    موقع تلاش کرو کامیاب ہوجاو . تحریر : شعیب علی

    کسی نے کیا خوب کہا تھا کہ دنیا میں بے شمار موقع ہے جن کو استعمال کرکے انسان کچھ بڑا کر سکتا ہے کامیاب ہونا یا نہ ہونا تو انسان کی اپنی سوچ پر ڈیپینڈ کرتا ہے زندگی تو سمندر کی طرح موقع لے کر تمہارے آگے کھڑی ہے مگر یہ تم پر منحصر ہے کہ تم بالٹی بھرتے ہو یا صرف چمچ.

    زندگی انسان کو دینا تو بہت کچھ چاہتی ہے مگر انسان لینا کچھ نہیں چاہتا زندگی کہتی ہے محنت کرو جو لینا چاہتا ہے لے جا مگر انسان ہے کہ محنت ہی نہیں کرتا اسے موبائل سے ہی فرصت نہیں واٹس اپ پر بڑا اسٹیٹس لگا کر سمجھتا ہے کہ اس کا سٹیٹس بھی بڑا ہو گیا مگر ہوتا کچھ نہیں اور کسی نے کیا خوب کہا تھا کے یہ زندگی ہے دوست کبھی ہنسائے گی کبھی رُلائے گی لیکن جو خاموشی سے لگا رہا وہ نکھڑ جائے گا اور جو بیچ میں ہی چھوڑ گیا ایک دن وہ بہت پچھتائے گا کہ اس لیے زندگی میں کبھی بھی آگے بڑھنے سے ڈرو مت کیونکہ یہاں تو پھر جیت جاؤ گے یا اگر ہار گے تو ایک نئی سیکھ ہو گی اور کہتے ہیں انسان کو کبھی بھی اپنے وقت پر غرور نہیں کرنا چاہیے کیونکہ وقت تو کبھی ان نوٹوں کا بھی نہیں ہوا جو کبھی پورا بازار خریدنے کی طاقت رکھتے تھے.

    @Shabi_223

  • "لڑکیوں کو محبت سے پرہیز کرنا چاہیے  تحریر : نــــازش احمــــد

    "لڑکیوں کو محبت سے پرہیز کرنا چاہیے تحریر : نــــازش احمــــد

    اب بات کو آگے بڑھاتے ہیں اور بتاتی ہوں کے محبت سے پرہیز کیوں کرنا چاہیے ؟؟ بات کرتے ہیں سوشل میڈیا کی محبت کی وہ محبت جو صرف چار دن کی ہوتی ہے؟ جو صرف جسم دیکھنے کی حد تک ہوتی ہے ؟ وہ محبت جو صرف مزا چکھنے کی ہوتی ہے لڑکیوں کو محبت سے پرہیز اس لیے کرنا چاہیئے کے آپ جس کو اپنا محبوب اور ایک سچے پیار کرنے والے سمجھتی ہیں نا وہ اور بھی کسی کا محبوب ہوتا ہے آپ کیا سمجھتی ہیں وہ صرف آپ کا ہے نہیں ایسا بلکل بھی نہیں ہوتا اگر آپ سے وہ محبت کرتا ہی ہے تو نکاح کے لیے راضی کیوں نہیں ہوتا پھر اس کے گھر والے نہیں مانتے کیا محبت کرتے وقت وہ گھر والوں سے پوچھ کر محبت کرتے ہے کے میں اس لڑکی سے محبت کرلوں ؟؟ جو آپ سے محبت کرے گا تو آپ سے ہی نکاح کریگا کیا اپنے یہ نہیں سنا ؟ "جس سے محبت کرو تو نکاح بھی اس سے کرو”پھر یہ کیسی محبت ہے اور ہر دوسری لڑکی سے ہو جاتی ہے اور ہر لڑکی سے محبت کا جھوٹا دعویٰ ہوتا ہے” لڑکیوں کو محبت سے پرہیز اس لیے بھی کرنا چاہیے ” جس کو آپ محبت کا نام دے رہی ہوتی ہیں نا وہ محبت نہیں ہے محبت کے نام پر ٹائم پاس ہوتا ہے ۔ آپ محبت کرو گھر والوں کی نظروں میں گر جاؤ آپ شادی کے لیے گھر والوں کو راضی بھی کرلو لیکن اگر لڑکے کے گھر والے راضی نہیں ہوے تو کیا ہوگا ؟؟ آپکی اپنی value اور ختم ہو جائیگی آپ کی جو گھر میں عزت ہوتی ہیں نا وہ نہیں ہوگی بات بات پر طعنے ملتے ہیں خاندان ِ میں لوگ ماں باپ کو ہی کہتے ہیں جس میں ماں باپ کا کوئ قصور بھی نہیں ہوتا وہ تو بیٹی پر بہت بھروس کرتے ہیں لڑکیوں کو محبت سے پرہیز اس لیے کرنا چاہیے کہ اس میں صرف لڑکیوں کی زندگی برباد ہوتی ہیں اس میں ماں اور باپ کی بھی زندگی خراب ہوتی ہیں لڑکوں کا کیا وہ تو پھر کسی اور سے محبت کر کے بیٹھ جاتے ہیں انکو ٹائم پاس کے لئے اور مزا چکھنے لئے اور ملتی ہیں اور ہم لڑکیوں اتنی پاگل ہوتی ہیں وہ اسکو ہی اپنا سب کچھ مان کر بیٹھ جاتی ہیں ۔ یاد رکھئے جو آپ سے محبت کریگا اس کو کسی کا بھی ڈر نہیں ہوگا وہ گھر والوں کو بھی راضی کر سکتا ہے بس شرت یہی ہے کی محبت سچی ہونا چاہیے بس آخری میں اتنا کہنا چاہتی ہوں کے خدا را یہ جھوٹی اور دھوکے باز ڈیجیٹل محبت سے باز آجائیں یہ کوئی محبت نہیں ہوتی محبت صرف نکاح کے بعد ہوتی ہے صرف اپنے شوہر سے ہوتی ہے اور کوئی محبت نہیں ہوتی ہے

    "محبت کرو تو نکاح کرو
    بے نام رشتہ خُدا کو پسند نہیں”
    @itx_Nazish