Baaghi TV

Category: معاشرہ و ثقافت

  • ہمارا قومی المیہ . تحریر : آصف گوہر

    ہمارا قومی المیہ . تحریر : آصف گوہر

    قرآن کریم میں ارشاد باری تعالی ہے
    "آپ فرما دیجیئے کہ ناپاک اور پاک برابر نہیں گو آپ کو ناپاک کی کثرت بھلی لگتی ہو اللہ تعالیٰ سے ڈرتے رہو اے عقل مندو! تاکہ تم کامیاب ہو۔” سورة المائدہ 100 زندہ دل اورمردہ ضمیر برابر نہیں ہوسکتے ۔

    ہمارا یہ المیہ ہے کہ ہم برائی کو برائی نہیں سمجھتے بلکہ ہر برائی کو اپنی سیاسی اور مذہبی وابستگی کی کسوٹی پر جانچتے ہیں اگر برائی میرے سیاسی قائد یا مذہبی پیشوا سے سرزد ہوئی ہے تو پھر یہ میرے نزدیک اچھائی ہے برائی نہیں اور اب یہ میرے اوپر فرض ہوچکا کہ میں نے ہرحال میں اپنےسیاسی رہنماکی وکالت کرنی ہے چاہے اس کے لیے مجهے کسی حد تک گرنا پڑے قومی اداروں کے ساتھ ٹکرانا پڑے. یہ رویہ انتہائی خطرناک ہے جب کسی قوم میں اچھائی اور برائی کا تصور ناپید ہو جائے تو وہ قوم نہیں ہجوم بن جاتا ہے اور ایسا بے سمت ہجوم معاشرہ جلد کسی سانحہ کا شکار ہو جاتا ہے.

    ہمارا قومی مزاج بهی عجیب ہے ہم اکثر حقیقی ہیروز کو متنازع بنا دیتے ہیں اور غداروں ملک دشمنوں کو قومی ہیروز بنا دیتے ہیں
    حتی کہ وہ شخص جو وصیت کرکے مرتا ہے کہ مجهے پاکستان میں دفن نہ کیا جائے ہم اس شخص کے نام پر ایئرپورٹ اور یونیورسٹیاں بنا دیتے ہیں .

    مہذب معاشروں میں اخلاقی اقدار کا معیار یہ ہوتا ہے کہ اگر کسی عہدیدار پر الزام بهی لگ جائے وہ اپنے عہدے سے فوری طور پر دستبردار ہو جاتا ہے ۔موجودہ تحریک انصاف حکومت کو کم از کم یہ کریڈٹ ضرور ملنا چاہیے کہ اس کے جس رہنما پر بھی الزام لگا اس نے فوری رضاکارانہ طور پر اپنے عہدہ سے استعفی دے دیا پنجاب کے سینئر وزیر عبدالعیم خاں ۔وزیر جنگلی حیات و ماہی پروری ملک اسد کھوکھر وزیر جنگلات پنجاب اور زلفی بخاری کی مثالیں ہمارے سامنے ہیں وگرنہ ہمارے ہاں معاملہ بلکل برعکس رہا ہے مالی بدعنوانی ثابت ہو جانے پر بهی ڈھٹائی کے ساتھ اپنے منصب سے اس وقت تک چمٹے رہتے ہیں جب تک عدالت کان سے پکڑ کر وزارت اعظمی سے نیچے نہ اتار دے اور جہالت اور شخصیت پرستی کا یہ عالم ہے کہ چند خوشامدی پوری شد و مد کے ساتھ اپنے بدعنوان اور بدزبان رہنما کا اس بے شرمی کے ساتھ دفاع کرتے ہیں کہ بدعنوانی کرنے والے کو خود گمان ہو جاتا ہے کہ میں نے کوئی غلط کام نہیں کیا.
    گذشتہ چند روز قبل لندن کے ایک ریسٹورنٹ میں مسلم لیگ ن کے رہنما نے بچوں خواتین کے سامنے ننگی گالیاں نکالیں اور اگلے ہی روز مریم نواز کی سربراہی میں چلنے والے سوشل میڈیا گروپ نے ویلڈن عابد شیر علی کا ٹرینڈ چلایا اور ایک ناپسندیدہ عمل کی تائید اور پذیرائی کی جس پر عابد شیر علی کا حوصلہ بڑھا اور موصوف نے ایک ویڈیو کلپ ریکارڈ کروا دیا کہ میں آئیندہ بھی ایسی ہی گالیاں دوں گا
    کچھ میڈیا ہاوسز نے مالی فوائد کے پیش نظر مجرموں کو ہیرو بنانے کا بیڑا اٹھا رکھا ہے اور ہر غلط بات ریاست مخالف بیانیہ کو پروموٹ کرنا اپنے اوپر فرض کرلیا ہے جوکہ کسی طور درست نہیں ۔ اگرآپ انسان ہیں تو اپنے ضمیر کو اس سطح پر نہ لے کرجائیں کہ اچھائی اور برائی میں فرق ہی نہ کر سکیں کیونکہ زندہ دل اور مردہ ضمیر برابر نہیں ہوسکتے ۔

    @EducarePak

  • انفراديت اجتماعیت کوتشکیل دیتی ہے . تحریر :‌ سیدہ بشریٰ شاہ

    انفراديت اجتماعیت کوتشکیل دیتی ہے . تحریر :‌ سیدہ بشریٰ شاہ

    اچھائی اوراچھے کام کی کوشش اور مشق کرو یہ سوچے بغیر کے کیا ہو جائے گا میرے ایک کے کرنے سے راهبر ہمیشہ تنہا چلتا ہے بس اگر ہمت نہ ہارے تو ایک ایک سے گيارہ اور پھر قافله بنتا جاتا ۔الفاظ سے زیادہ عمل کر تبہ ہے جو نئی سوچ کو تشکیل دیتا ہے کچھ بھی کرو یہ سوچے بنا کرو انفرادی کاوش اجتماعی سوچ کو بدلنے میں مدد دیتی ہے یا اجتماع سے انفرادی سوچ بنتی؟

    یہ وہ عمل اور سوچ ہے جسکے جو تغیر اور سوچ کو زنگ لگا دیتا ۔احتساب خود سے ہو گا تو دوسرے کی پوچھ کر سکیں گے ۔
    من حسیت قوم ہمارے اندر سب سے بڑی خامی ہم آج بھی ذات برادری قبیلے علاقے پیشے اور گروہ کے لحاظ سے بنی سوچوں روایتوں کے بندھن میں مقید ہیں ۔ہم پركھ اور سوچ کو مستعا ر لیکر بات کرتے یا رائے بناتے کیونكہ ہم تحقیق کرنے کھوجنے کا تردد نہیں کرتے ۔
    کچھ بھی برا لگے پہلے اپنی ذات اور آپنے عمل سے اسکو منہا کرو ۔ دوسرے جو آپ کے ساتھ ہوتے ان پر آپکا عمل خودسے اثر انداز ہو گا ۔لفاظی آپکو مقرر بنا دے گی پر رهبر نہیں ۔جو عمل سچا ہو سہی ہو اور اگر تعصب کی نگاہ سے پاک ہوکر صحیح لگے اسکو کرو بھلے سب حق کے مخالف ہوں ۔ایک وقت آئے گا خود آپکے شانہ بشانہ لوگ کھڑے ہونے لگیں گے ۔بے ہنگم ہجوم کے سپیکر بننے سے بہتر ہے سمجھدار افراد بھلے وہ تعداد میں بہت کم ہوں انکےسنگی ساتھی بنو ۔۔فتح اور کامیابی اور پھر حکومت وہی کرتے جو خود حق پر رہ کر حق کے ساتھ ہوں ۔مکار یا طاقت ور وقتی زور پکڑ بھی لے تو جب سامنے والا اگر حق پرست ہو حق کے لئے کھڑا ہو تو 313 ہزاروں پر بھاری ہو جاتے پھر خدا بھی ساتھ ہوتا ۔ سہارے غیر ضروری امیدیں اور غلط تواقعات افراد کریں قومیں کریں یا گروہ وہ برباد ہو جاتے آگے وہی بڑھتا جو ٹوٹی بیسا كهيو ں کا اعتبار نہیں کرتا ۔

    انفرادی تربیت کے عوامل میں گھر سکول بنیادی اكای ہیں ۔من حثیت قوم ہمیں اب آواز اٹھانا ہی ہو گی آنے والی نسل کی اخلاقی قومی تربیت کی ۔عدل ،سچائ ذمداری ، تہذیب اسکے ضامن ہم ہیں اور ہماری ذمداری اگلی نسل کو یہ بتانا ۔۔اگر گزشتہ چند دہایوں کا محاسبه کریں تو بنا مبا لغہ آرائی کے ہم اخلاقی تہذیبی لحاظ سے پست ہوتے جا رہے ۔ہم بنيادی معاشرتی مذہبی اقدار کو اتار کر کہیں دور پھینک چکے ۔یہ سب ایک یا دو روز کی دین نہیں یہ پستی کمانے میں ہم نے دہایاں لگا دی اور اسکو فكس کرنے کو ہمارا دھیان ہے جو جاتا نہیں ۔اس معاملے کو اب بھی اگر ہم نے سیریس نہ لیا تو تباہی کے علاوہ اور کچھ بھی حصول نہیں ہو گا ۔۔کیونکہ ببول بو کر کبھی گندم یا گلاب نہیں ملتا۔جس قوم میں کرپشن چوری اتنی بڑھ جائے کے گھر کے باہر رکھنے والی بن چوری ہو جائے ۔کچرا کنڈی کے اندر کوڑا ڈالنے کے بجائے لوگ اسکے باہر ڈال جائیں جہاں عصمتیں مردوزن محفوظ نہ رہیں۔جہاں سڑک پر نصب سٹچو سے ہاکی بال لٹ جائے جہاں عدم برداشت اتنی ہو معمولی بات پر قتل ہو جائے وہاں اب مزید لٹنے کو کچھ نہیں بچا ہمیں معاشی سے زیادہ اخلاقی پستی کا سامنا ہے جہاں ادب تہزیب کی جگہ بد فطری بد فعلی نے لے لی ۔نا شائستہ زبان اخلاقی مذہبی روایات سب نا پید ہو چکا ہم نے اپنی نسل کو اندھی نمبروں کی دوڑ میں ڈال دیا اور تربیت کا خانہ خالی چھوڑ رہے ۔یہ تو انفرادی كمياں گھروں سے ملی رہی کثر میڈیا کے بہت سے عوامل اور ہماری سیاسی سماجی تعلیمی کرتا دھرتا نے پوری کر دی ۔ابھی بھی کچھ گیا نہیں اپنی نسل کو سدهار لو انکو انکی ذمداری حق سچ کے ساتھ سمجھ کے سمجهاو ۔یہی لوگ آگے چل کر اہل اختیار بنتے بڑے دفتروں کے مالک بنتے اگر یہ ایسے ہی آگے جا پہنچیں گے تو ان سے بہترین یا بہتر کی امید غلط ہو گا ۔ہمیں اب سدھرنا ہی ہو گا اگر ابھی نہیں تو پھر کبھی نہیں سدھر سکیں گے ۔معاشرتی تنزلی قوم کی بربادی ہے جسکا خمیازہ ہم بھگت رہے ۔
    خود کو سنوار کے حق کے لئے ڈٹ جانے والے بنو ۔راستہ بنا بہت کم کو ملتا ۔راستہ بنا کر دینے والے بنو سیدھا راستہ جسکی منزل گلستان ہو۔

    SyedaBushraSha

  • ہمارا معاشرہ اور نوجوان نسل  تحریر:محمد اصغر

    ہمارا معاشرہ اور نوجوان نسل تحریر:محمد اصغر

    ہمارا معاشرہ اس وقت تباہی کی طرف جارہی ہے اسکی اصل وجہ فحاشی، شراب نوشی،جاہلیت، اور اسلام سے دوری ہے نوجوان نسل میں آجکل انٹرنیٹ کی دنیا نے ایسی ہلچل مچا رکھی کہ وہ تعلیم سے میلوں دور ہوتے جارہے ہیں، تعلیم سے دوری یقینا انسان کو اسلام سے دوری کا سبب بنتا ہے
    نوجوان نسل کو انٹرنیٹ کے استعمال نے اس قدر
    گھیر رکھا ہے کہ نہ دین کا پتہ نہ ماں باپ کا پتہ نہ اپنے ہوش رہ گئے ہیں سارا دن انٹرنیٹ پر غیر مواد ایشیاء کی تحریریں ڈرامے فلمے دیکھتے رہتے ہیں
    یہ سب چیزیں پھر نشے کا سبب بنتی ہے جو ہمارے معاشرے میں عام ہوچکا ہے کوئی ایسا خوش نصیب گھر ہو جہاں باپ، بھائی، بھتیجے، کوئی نا کوئی نشہ نہ کرتا ہو، نشے کی لت جس انسان کو لگ جاتی ہے اسکی زندگی دنیا اور آخرت دونوں تباہ ہوجاتے ہیں ماں باپ کو چایئے اپنے اولاد پر کنٹرول رکھے انکی اچھی تریبت کریں، انکی تعلیم پر خاص توجہ دیں، انہیں اچھے دوستوں کے ساتھ چلنے پھرنے کی تلقین کریں، اگر آپکا بیٹا کسی برے انسان کے ساتھ دوستی رکھتا ہے تو اسکے اثرات آپکے گھر پر بھی پڑیں گے، کیونکہ وہ کہتے ہیں نا ایک مچھلی پورے تالاب کو گندہ کردیتی ہے
    اپنے اولاد کی تریبت دین اسلام کے امنگوں کے مطابق کریں تو وہ آپکے لئے دنیا اور آپکے مرنے کے بعد بھی آپ کے لیے صدقہ جاریہ ہوتی ہیں اپنے بچوں کو دین اسلام کے بارے میں بتائیں، نماز قرآن، حقوق اللہ، اور حقوق العباد کی تلقین کریں
    اسکا اجر اللہ عزوجل تمھیں دنیا میں بھی آخرت میں عطاء کرے گا ہماری دعا ہے اللہ عزوجل ہماری اولاد پر رحم کریں اور انہیں نشے سے میلوں دور رکھے ہمیں اور ہماری آنی والی نسل کو دین اسلام پر چلنے کی توفیق عطا فرمائے آمین آمین
    Twitter Handle @ZiDDiBlochPTI

  • بیٹی . تحریر : محمد علی شیخ

    بیٹی . تحریر : محمد علی شیخ

    بیٹی کو ایک بوجھ کی طرح سمجھنا آخر کیوں بیٹیوں کے بارے میں دو باتیں ہر کسی کی زبان پر ہوتی ہیں بیٹیاں بوجھ ہوتی ہیں، جتنی جلدی اتر جائے اچھا ہے۔ بیٹیاں پرایا دھن ہوتی ہیں۔ آخکیوں ایسا سمجھا جاتا ہے کیا ہم مکمل دین اسلام میں داخل نہیں ہیں کیوں ان کے لیے ایسی منفی سوچ رکھتے ہیں ۔ جب کے ہم بھی کیسی بیٹی کی اولاد ہی ہیں۔

    زمانہ جہالت میں بیٹی کو زندہ درگور کر دیا جاتا تھا قبائلِ عرب میں عورت کےحقوق واحترام کا تصور بھی بے عزتی سمجھا جاتا تھا انسانی تاریخ نےوہ ہولناک منظر بھی پیش کیا جب ایک باپ مفلسی اورکبھی شرمندگی کےخوف سےنومولودبیٹیوں کوزندہ درگورکر دیتےتھےاوراس عظیم گناہ پر عمل کرنے سےسکون اوراطمینان محسوس کرتے۔خاص طورپرقبیلہ مضر، خزاعہ اور بنوتیم کےقبائل میں یہ رواج عام تھا۔کتنے بے حس اور پتھر دل انسان ہونگے جو اس حد تک چلے جاتے تھے لاکھوں کروڑوں درود و سلام سرکارِدوعالم حضرت محمدﷺ جملہ کائنات کے لیے رحمۃ للعالمین ﷺ نے اس عمل کو جڑ سے اکھاڑ پھینکا اور قرآن کریم میں ان دل سوز واقعات کی منظر کشی یوں کی گئی ہے: اور جب ان میں سے کسی کو بیٹی (پیدا ہونے) کی خوشخبری ملتی ہے تو اس کا چہرہ (افسوس کی وجہ سے) کالا پڑجاتا ہے اور وہ دکھ سےبھرجاتاہے۔(سورۃالنحل:۵۸)

    اب صرف فرق اتنا ہے کچھ گھرانے اسے بیٹی کو اس کی نظروں میں درگور کر دیتے ہیں۔۔ ہر قسم کی روک ٹوک ہر جگہ اسے احساس دیلانا تم بیٹی ہو بیٹی بن کے رہو۔۔یہ مت کرو وہ مت کرو۔ ہمیں تمام شریعت کے احکامات دین دنیا کی تعلیم اور معاشرے کے بدلتے رنگ ڈھنگ سب بتانے چاہیں۔ روک ٹوک ایسے کرو کے اس کے ذہنی نشونما ہو ایسا نا ہو وہ خود پر ہی اپنا اعتماد کھو دے
    بیٹی کی طاقت بنا چاہیے نا کہ اس کی کمزوری بنیں۔ اولاد اللہ پاک کی نعمت ہے، خواہ بیٹا ہو یا بیٹی۔ اصل اولاد کا نیک وصالح ہونا ہے ، صرف اپنی صنف کی وجہ سے بیٹے کو بیٹی پر کسی قسم کی برتری حاصل نہیں تو خدارا ہمیں ان کی تربیت کی ضرورت ہے ان کو نیچا دیکھانے کی ضرورت نہیں ہے۔۔ میری بیٹیوں نے مجھ سے سوال کیا پاپا آپ نے آج تک ہمارے لیے اللہ تعالی سے کونسی خاص دعا کی ہے تو میں نے کہا بیٹا ماں باپ کی ہر دعا بیٹیوں کے لیے خاص ہی ہوتی لیکن وہ سب ضد کرنے لگیں تو میں نے کہا تو سنو میں نے اللہ سے دعا کی ہے یا رب میری اگر میری بیٹیوں کے حصے میں کوئی دکھ تکلیف ہے تو وہ بھی مجھے دے دینا میری حصے کے سکھ چین میری بیٹیوں کو دے دینا ۔ وہ تینوں مجھے سے چمٹ گئیں رونے لگیں بار بار بولتی رہی یہ دعا واپس لو اپنی آج بھی وہ منظر یاد کرتا ہوں تو آنکھ بھر آتی ہے یہ سب بتانے کا مقصد صرف اتنا ہے بیٹی لازوال محبت کا نام ہے اللہ ربالعزت تمام بیٹیوں کی حفاظت فرمائے.
    آمین ثم آمین

    @MSA_47

  • نیا زمانہ نۓ فتنے تحریر: ایم.ایم.صدیقی صاحب

    عہد جدید کا فتنۂ کبرٰی کیا ہے …؟
    مندوبین کرام۔۔۔۔! زمانے کے نۓ چیلینج کو آپ نظر انداز نہیں کرسکتے کم از کم امت مسلمہ کے لۓ اس چیلینج کو نظرانداز کرنے کا کوٸ جواز نہیں ..! فتنے کسی زمانے کے ساتھ مخصوص نہیں اور ایک ہی فتنہ ہمیشہ نہیں ہوتا نۓ نۓ فتنے سراٹھاتے ہیں اور اسلام اور مسلمانوں کے لۓ نۓ نۓخطرے سامنے آتے ہیں جاہلیت نۓ نۓ رنگ وروپ میں سامنے آتی ہے اور بڑے دم خم کے ساتھ میدان میں اترتی ہے

    اقبالؒ نے غلط نہیں کہا تھا
    اگرچہ پیر ہےمٶمن جواں ہیں لات ومنات

    بڑی خطرناک بات ہے کہ لات و منات یعنی باطل طاقتیں اور جاہلیتِ قدیم تو زندگی اور جوش و خروش سے بھرپور ہوں اور مٶمن میں جو سیدنا ابراہیم علیہ السلام کا وارث اور ناٸب ہے
    کہنگی اور فرسوگی پستی اور افسردگی کنارہ کشی اور پسپاٸ کی ذہنیت پیدا ہوجاۓ لات ومنات نۓ دم خم کے ساتھ نٸ امنگوں اور ولولوں کے ساتھ نٸ تیاریوں اور نۓ طریقوں کے ساتھ نۓ نعروں اور نٸ للکار کے ساتھ میدان میں آٸیں اور مٶمن پر موت طاری ہوجاۓ اس کے قُوٰی میں افسردگی اور اضمحلال پیدا ہوجاۓ وہ زندگی کے میدان سے فرار اختیار کرکے یا کنارہ کش ہوکر گوشۂ عافیت تلاش کرلے جہاں وہ اپنی زندگی کے دن گزار سکے اور لات و منات خم ٹھونک کر میدان میں کھزے ہوں اوردعوت مبارزت دے رہے ہوں
    اس زمانے کا فتنہ اور چیلینج کیا ہے …؟ اس زمانے کا چیلینچ یہ ہے کہ اسلام کو اس کی جداگانہ تہذیب اس کی مخصوص معاشرت اس کے عاٸلی قوانین اس کے نظام تعلیم اس کے زبان و ادب اس کے رسم الخط اور اس کے پورے ورثے سے الگ کردیا جاۓاور اسلام محض چند عبادات اور چندمذہبی و معاشرتی رسوم و تقریبات کا مجموعہ بن کر رہ جاۓ

    ✍️….رشحات قلم….
    @soxcn

  • ہم قوم کب بنیں گے؟؟؟ . تحریر: احمد فراز گبول

    ہم قوم کب بنیں گے؟؟؟ . تحریر: احمد فراز گبول

    ایک موضوعِ بحث ہے جو کہ ہر جگہ زبانِ زد خاص و عام ہے کہ قوم کیا ہوتی ہے؟ قوم کن عناصر پہ مبنی ہوتی ہے؟ قوم کی بنیاد کیا ہے؟ یا ایک قوم کیسے بنتی ہے؟
    گو کہ ان سوالات کے جوابات ہمارے پاس نہیں ہیں کیونکہ ہم ابھی تک ایک قوم نہیں بن سکے بلکہ ایک ریوڑ کی مانند ہانکے جا رہے ہیں۔ آج تک تو ہماری منزل کا تعین بھی نہیں ہو سکا بلکہ ہر چرواہا اپنی مرضی کی چراگاہ کے خواب اور لالچ دے کر ہانکتا رہتا ہے۔ کسی شخص نے دوسرے شخص کے بارے میں کہا تھا کہ "سائنس کہتی ہے کہ انسان پہلے بندر تھے پھر انسان بنے لیکن آپ تو ابھی تک بندر بھی نہیں بنے سوچو انسان کب بنو گے؟”

    بالکل یہی حال کچھ ہمارا بھی ہے۔ ہم تو ابھی تک منظم ہجوم بھی نہیں بن پائے قوم کب بنیں گے۔ ہم میں سے ہر فرد کی اپنی ترجیحات ہیں، ہر فرد اپنے ذاتی مفادات کے پیچھے ہے، ہر کسی کی اپنی پسند ناپسند ہے اور ہر فرد کی اپنی پسند کی "چراگاہ” ہے۔ کسی کا جھکاؤ "مشرق وسطیٰ” کی طرف ہے تو کوئی "مغرب” کی طرف بانہیں پھیلائے ہوئے۔ کسی کا رخ "مغربی پڑوسی” کی طرف ہے تو کوئی "سرخ ہاتھی” کی طرف کھنچا جلا رہا ہے۔ غرضیکہ ہر بندہ اپنی مرضی اور مستی میں مگن ہے۔ کسی کے بھی اغراض و مقاصد مشترک نہیں ہیں۔ اب ان حالات میں ہم کیسے اقوامِ عالم کا مقابلہ کریں گے؟ جس قوم کو ایسے حالات درپیش ہوں اسے تو اپنی بقا کی فکر ہونی چاہئے لیکن ہمیں یہ فکر ہے کہ دانش مر گیا تو کیا ہو گا؟ فرہاد اور ماہی مل بھی سکیں گے یا نہیں؟ زارا موسیٰ کی ہو گی یا نہیں؟

    افسوس صد افسوس ہم نے اپنی حقیقی زندگی کو بھی ڈرامہ سیریل کی طرح "ڈرامہ باز” بنا لیا ہے۔
    پاکستانیوں کو اس وقت ہوا اور پانی سے بھی زیادہ ضرورت تعمیرِ ملت کی ہے۔ ہم بجائے اپنی شناخت کی تعمیر میں سرکرداں ہونے کے دوسروں کے معاملات میں الجھنا بہت پسند کرتے ہیں۔ ہمارے اردگرد رونما ہونے والے جملہ واقعات میں ہم پہلا تجزیہ یہی پیش کرتے ہیں کہ زیادتی ہماری ریاست کی ہی ہو گی۔ ہم حقائق کی طرف دیکھنا بھی گوارہ نہیں کرتے۔ ابھی کچھ دنوں پہلے افغان سفیر کی بیٹی کے اغوا کا ڈراپ سین ہوا۔ ایک فرضی تصویر کو سفیر کی بیٹی بنا کر خوب ڈھنڈورا پیٹا گیا۔ افسوس کہ خود کو عوامی لیڈر کہنے والی سیاستدانوں نے بھی ریاستی مؤقف کی تائید نہ کی اور آزاد کشمیر کے الیکشن کی گہما گہمی میں صرف اور صرف سیاسی مفادات کے پیشِ نظر ریاست پاکستان کو موردِ الزام ٹھہرا دیا۔ حالانکہ حقیقت اس کے برعکس تھی اور اغوا ہوا ہی نہیں تھا۔ جس ملک کی عوام خارجہ معاملات میں بھی

    اپنی ریاست کے بیانیے کو سپورٹ نہیں کر سکتی کیا وہ خود کو قوم کہہ سکتی ہے؟
    محال است و محال است و محال است ضرورت اس امر کی ہے کہ ہمیں اپنے ہومیوپیتھک نظریات کو پسِ پشت ڈال کر نظریۂ اسلام و پاکستان کو مضبوطی سے تھامنا ہو گا۔ کیونکہ یہی وہ وقت ہے جب ہمیں ایک قوم بننے کی اشد ضرورت ہے۔ اس وقت پاکستان کے تمام دشمن ایک پیج پہ آ چکے ہیں لیکن ہم ابھی تک خوابِ خرگوش کے مزے میں محو ہیں۔
    میرے پاکستانیو! اس سے پہلے کہ دشمن آپ کے ناخن نوچیں، خدارا اب ہوش کے ناخن لو۔ ہمیں ایک مضبوط اور منظم قوم بننا ہے۔ اپنے تابناک ماضی کی طرح ایک روشن مستقبل پیدا کرنا ہے۔ اگر ہمارا حال ہمارے "حال” والا ہی رہا تو ہمارا کوئی حال نہیں ہو گا۔ جب تک ہم اپنی "میں” کو نہیں مار لیتے تب تک بس بکریوں کا ریوڑ بن کر "میں میں” ہی کرتے رہیں گے۔

    اس موقع پر سب سے اہم ذمہ داری ہمارے نوجوانوں کے کندھوں پہ ہے، جو آج کل رانجھے اور مجنوں بننے کے چکروں میں ہیں۔ ہر دوسرا نوجوان محبت میں ناکام اور زندگی سے تنگ نظر آتا ہے۔ کوئی بات کر لیں تو ایسے ایسے انمول فلسفے سننے کو ملتے ہیں کہ عقل بحرِ حیرت کی طلاطم خیز لہروں میں غرق ہو جاتی ہے۔ جس عمر میں بچے کھلونے ٹوٹنے پر روتے ہیں یہاں اس عمر کے بچے دل ٹوٹنے پہ نشے میں مگن ہیں۔ لیکن ہمیں آج تک اپنی قوم کے اس حال کا خیال نہیں آیا۔ کیونکہ ہم ابھی تک قوم بن ہی نہیں پائے۔ نوجوان ہی اس ملک کی وہ واحد طاقت ہیں جو اس ملک کو جہالت کے گھٹاٹوپ اندھیروں سے نکال کر روشنی اور عظمت کی بلندیوں تک پہنچا سکتے ہیں۔
    دعا ہے کہ خدائے تعالیٰ ہمیں ایک قوم بننے کی توفیق دے اور ہم عظیم مستقبل کی حامل ایک مضبوط قوم اور طاقت ور ریاست بن سکیں۔
    پاکستان پائندہ باد

    @1nVi5ibL3_

  • آپ کا ذہنی نمونہ کیا ہے؟ . تحریر : عثمان لاشاری

    آپ کا ذہنی نمونہ کیا ہے؟ . تحریر : عثمان لاشاری

    1. "شکاری” ذہنی نمونہ "” کسان "ذہنی نمونہ جو ایک شکاری کی طرح کامیابی کے راستے پر جیتے اور چلتے ہیں وہ اپنی زندگی کے سارے لمحات” شکار "کو تلاش کرتے ہیں۔ ان کے نقطہ نظر سے ، ہر چیز ایک موقع یا خطرہ ہے۔

    ہرسرگوشی، ہر روشنی کی روشنی، تاریکی کا ہر راستہ، ان میں امید یا خوف پیدا کرسکتا ہے۔ قابل جسم شکاری جانتا ہے کہ رات کے وقت ، ہاتھ سے ہاتھ سے شکار گھر واپس آجائے گا۔ اپنے گھر کے دروازے اور دیوار پر ، وہ ہرنوں کے پوشاک اور ہرن کے سینگ اور سواروں کے دانت نصب کرتا ہے ، اور کل شکار کا سوچ کر ہر رات سوتا ہے۔ شکاری کی زندگی کا طریقہ یہ ہے کہ وہ ہر جاندار کو شکاری یا شکاری کے طور پر جانتا ہے۔

    اگر وہ اسے شکار دیکھے گا ، تب تک وہ سکون کا تجربہ نہیں کرے گا جب تک کہ وہ اسے پکڑ نہ لے اور اسے پکڑ نہ لے ، اور اگر وہ دوسرا شکاری دیکھے تو مقابلہ کی مشکل اس کے لئے hunting شکار کا میٹھا ذائقہ تلخ کردے گی۔ کیا آپ نے ان شکاریوں کو ماحول اور کاروباری ماحول میں دیکھا ہے؟ سارا دن کوشش اور کامیابی اور ترقی اور ترقی اور رقم کی تلاش میں رہتا ہے۔ اور ان کے کمروں کی دیواریں دستاویزات اور تعریفی خطوط سے ڈھکی ہوئی ہیں۔

    لیکن کسان … وہ ہیں جو کامیابی کی راہ پر گامزن ہیں ، جیسے کسان کی طرح۔ وہ بیج بوتے ہیں اور خاموشی سے بیٹھتے ہیں۔ وہ جانتے ہیں کہ ایک دن یہ بیج پھل میں بدل جائے گا۔ وہ اس دن تک انتظار کرتے ہیں۔ وقتا فوقتا ، وہ کھیت پر پانی چھڑکتے ہیں اور مٹی کو سیراب کرتے ہیں۔ وقتا فوقتا ، وہ انکروں پر ہاتھ رکھتے ہیں اور شکاری سے زیادہ خاموش رہتے ہیں۔ عام عوام ان دو ذہنی عقائد میں سے کسی ایک میں پھنس چکا ہے۔ پہلا گروہ ترقی اور کامیابی سے اس قدر مشغول ہے کہ وہ زندگی کے دوسرے پہلوؤں کو بھول جاتے ہیں … اور دوسرا گروہ امن کی تلاش میں اس قدر مشغول ہے کہ وہ تناؤ اور کوشش کی مٹھاس کو بھول جاتے ہیں۔💡

    لیکن ایک تیسرا راستہ ہے! تیسرا طریقہ "ماہی گیر” کا ذہنی نمونہ ہوسکتا ہے۔ امن ، خاموشی ، خوشی اور موقع کے منتظر۔ جب موقع پیدا ہوتا ہے ، ہمیں تیز رفتار اور توانائی سے اس پر قبضہ کرنے کی کوشش کرنی چاہئے اور انتظار اور آرام سے بیٹھ جانا چاہئے۔ زندگی میں کامیابی مطلق امن سے حاصل نہیں ہوتی اور نہ ہی سخت کوششوں سے۔ کامیابی دونوں کا کامل امتزاج ہے۔ اپنے آپ سے پوچھنے کا وقت آگیا ہے ، ‘میں واقعتا میں کیا کر رہا ہوں؟ "کسان؟ "ہنٹر۔ یا ایک ماہی گیر؟

    Twitter @UsmanLashari

  • انٹرنیٹ کے نقصانات اور فوائد تحریر انجینئرمحمد امیر عالم

    انٹرنیٹ کے نقصانات اور فوائد تحریر انجینئرمحمد امیر عالم

    دورِ حاضر میں موبائل ہر انسان کی ضرورت بن چکا ہے اور اس موبائل فون کے ذریعے ہر دوسرا انسان اپنا بیشتر وقت انٹریٹ پر خرچ کرتا ہے۔
    مرد عورت اور بچے سب انٹرنیٹ کا استعمال کئے بغیر نہیں رہ سکتے۔
    اب انٹرنیٹ استعمال کرنے کے دو قسم کے طریقے ہیں ایک غلط اور دوسرا صحیح۔
    انٹرنیٹ کا غلط استعمال کرنے کے کئی نقصانات ہیں جبکہ صحیح استعمال کرنے کے بہت سارے فوائد۔
    ہم پہلے نقصانات کا ذکر کریں گے۔

    انٹرنیٹ کے نقاصانات:۔

    1) نوجوان نسل کا فحش فلمیں اور تصویریں دیکھنا:۔

    یوٹیوب اور فیس بک پر فحش ویڈیوز اور ننگی تصویریں دیکھ کر نوجوان نسل تباہ ہو رہی ہے۔
    اسلام ہمیں پاکیزہ اور با حیا زندگی گزارنے کا درس دیتا ہے لیکن ان گندی ویڈیوز کو دیکھ کر ہماری نو جوان نسل نہ صرف دنیا بلکہ اپنی آخرت اور اپنے ایمان کو بھی برباد کر رہی ہے اور اس طرح نوجوانوں پر شہوت کاغلبہ ہوتا بے جس سے آئے روز ایک معصوم بچی کی عزت کو تار تار کرکے اسے بے دردی سے ماردیا جاتا ہے۔

    2) وقت کا ضیاع:۔

    انسان کی زندگی کی ہر ساعت بہت قیمتی ہوتی ہے لیکن ہم اکثر اپنا زیادہ تر وقت انٹرنیٹ پر غیر ضروری کاموں میں صرف کرتے ہیں۔
    کبھی آن لائن گیم کھیل کر اپنا وقت ضائع کر رہے ہوتے ہیں تو کبھی اور کسی غیر ضروری سرگرمی میں مثلاََ کبھی پول کریٹ کر کے ایک دو دو ہفتے اس کے لئے مہم چلانا اور دوسرے دوستوں کو بھی پریشان کرنا اس کے علاوہ طلبا و طالبات کا کثرت سے انٹرنیٹ استعمال کرنے سے مطالعہ پر اثر پڑتا ہے اور خاص کر امتحانات کے دوران انٹرنیٹ پر وقت ضائع کرنےسے امتحان میں اچھی کاردگی نہیں دکھا سکتے اور اپنا مستقبل داؤ پر لگا دیتے ہیں۔

    3) رشتوں کے احساس اور محبت میں کمی:۔

    کبھی دوستوں کا مل بیٹھ کر خوب محفل جمانا ان میں ایک اپنایئت کا احساس دلاتا تھا اور اس سے محبت بڑھتی تھی لیکن اب دوستوں کو ساتھ بیٹھ کر بھی ساتھ ہونے کا احساس نہیں ہوتا ہے ایک ساتھ بیٹھے ہوئے دوست بھی ایک دوسرے سے بات کرنے کی بجائے اپنے اپنے موبائل میں کہیں اور لگے ہوتے ہیں۔
    بوڑھے ماں باپ اپنی اولاد سے بات کرنے کے لئے ترستے ہیں لیکن اولاد کو نیٹ سے فرصت ہی نہیں ملتی۔

    4) اصراف:۔
    غیر ضروری انٹرنیٹ استعمال کرنے سے نیٹ پیکیج پر پیسہ خرچ کرنا بھی پیسوں کی نا قدری اور صریحاََ اصراف ہے۔ جن پیسوں سے ہم کسی غریب کی مدد کر سکتے تھے یا جن پیسوں کو ہم کسی اور بھلائی کے کام میں خرچ کرسکتے تھے انھیں ہم انٹرنیٹ کے بےجا استعمال میں خرچ کرتے ہیں۔

    انٹرنیٹ کے فوائد:۔

    جہاں انٹرنیٹ استعمال کرنے کے کچھ نقصانات ہیں وہاں اس کے کچھ فوائد بھی ہیں۔

    1) گھر بیٹھے علم حاصل کرنا:۔

    انٹرنیٹ کے ذریعے گھر بیٹھے آسانی سے علم حاصل کیا جاسکتا ہے یوٹیوب پر ہر قسم کے لیکچرز موجو ہوتے ہیں جن سے ہر کوئی با آسانی گھر بیٹھے مستفید ہوسکتا ہے۔
    گوگل سے آپ کوئی بھی کتاب جس کی آپ کو ضرورت ہو یا کوئی بھی لغت آپ با آسانی ڈاؤن لوڈ کر سکتے ہیں۔
    آپ جس شعبے سے منسلک ہیں اسی شعبے کے اعلٰی تعلیم یافتہ لوگوں کو ایڈ کر کے انباکس میں آپ ہر قسم کا سوال پوچھ سکتےہیں۔

    2) گھر بیٹھے آن لائن اپنے کاروبار کی تشہیر کرنا:۔

    ہم انٹرنیٹ کے ذریعے اپنے کاروبار کی خوب تشہیر بھی کرسکتے ہیں۔
    مثلاََ ایک دوکان دار اپنی دکان میں میں رکھی گئیں نایاب چیزوں کی انٹرنیٹ پر تشہیر کرتا ہے اور میلوں دور بیٹھے کسی کو وہ چیزیں پسند آتی ہیں تو وہ آن لائن آرڈر کرتا ہے اور اسی طرح اس کا کاروبار خوب ترقی کرتا ہے۔

    3) پر دیس میں رہ کر بھی اپنوں سے با آسانی ہم کلام ہونا:۔

    کسی زمانے میں پردیس میں رہنے والے اپنے رشتہ داروں تک کوئی پیغام بھیجتے تھے تو کئی مہینوں بعد وہ پیغام ان تک پہنچتا تھا اور پھر جواب میں ان کے پیغام کا بھی مہینوں انتظار کر نا پڑتا تھا لیکن اب نیٹ کے ذریعے اپنا پیغام ٹائپ کر کے ایک منٹ میں ہم دنیا کے کسی کونے تک پہنچا سکتے ہیں بلکہ اب تو وٹس ایپ پر ویڈیوں کال کے ذریعے سکرین پر بالکل آمنے سامنے ہوکر بات کرسکتے ہیں۔

    4) با آسانی پیسے اور ڈاکومینٹز بھیجنے کا ذریعہ:۔

    پہلے زمانے میں کسی کو پیسے بھیجنا ہو تو جہاں پیسے بھیجنا مقصود ہوتا تھا وہاں جانے والے کسی شخص کو ڈھونڈنا اور اس کا انتظار کر نا کہ وہ کب جارہا ہے اور پھر اس بات کا بھی خیال رکھنا کہ آدمی بھروسے کا ہے کہ نہیں مطلب بہت انتظار اور بہت احتیاط کے بعد کسی کے ہاتھ پیسے بھیج دیتے تھے اب اپنے موبائل اکاؤنٹ سے آسانی کے کے ساتھ چند منٹوں میں کہیں بھی پیسہ بھیج سکتے ہیں۔
    اسی طرح اور کوئی ڈاکومینٹز یا کاغذات مثلاََ ڈومیسائل ڈی ایم سی یا شناختی کارڈ کی فوٹو کاپی کہیں دور بھیجنا ہو تو یا تو خود جانا پڑتا تھا یا بذریعہ ڈاک کافی دنوں بعد پہنچا سکتے تھے اب موبائل سے تصویر لے کر ایک منٹ میں وٹس ایپ پر بھیج سکتے ہیں۔

    ‎@EKohee

  • خدمت خلق  تحریر: فیصل شہزاد گوندل

    خدمت خلق تحریر: فیصل شہزاد گوندل

    کسی قوم کے زندہ قوم کہلانے کی سب سے بڑی دلیل یہ سمجھی جاتی ہے کہ اس کے افراد کے دل میں انسانوں کے لٸے کتنا احساس اور رحمدلی ہے اور اس کے یہی جذبات اس بات کا فیصلہ کرنے کے لیے بھی ایک دلیل کی حیثیت رکھتے ہیں کہ وہ قوم دنیا کی قیادت کا حق رکھتی ہے یا نہیں ۔ درحقیقت افراد اور قوموں کے درمیان برتری کا فیصلہ بھی انہی آثار کے مطابق ہوتا ہے جو اس میدان میں چھوڑتی ہیں ۔ اسلام قدرت رکھنے والے ہر شخص کو خیر کی دعوت دیتا ہے اور یہ دعوت اس طرح کی ہے کہ ایک مالدار، غریب ،مزدور تاجر ،زمیندار ، شاگرد، استاد، عورت مرد ،بوڑھا ،اندھا، کمزور بھی نیکی کا کام بنا کسی تردد کے کر سکتا ہے اور اس کے مالی حالات معاشرے میں نیکی اور بھلائی کے کام کر نے میں اس کے لیے کوئی رکاوٹ نہیں بنتے ۔ دین اسلام میں کوئی ایسا انسان نہیں پایا جاتا جو کسی نہ کسی طریقے سے بھلائی کا کام نہ کر سکتا ہو۔ ہر انسان اپنی حیثیت اور بساط کے مطابق بھلاٸی کے کام کر سکتا ہے۔ مالدار اپنے مال اور اپنے مرتبے کے ذریعے نیکی کا کام کرے گا۔ غریب ہے تو اسے چاہیے کہ وہ یہ کام اپنے ہاتھ اپنے دل ،اور اپنی زبان سے کرے۔ حضورﷺ کے زمانے میں بعض ناداروں نے آپ سے شکایت کی کہ مالدار لوگ نیکی کے میدان میں ان سے آگے بڑھ گئے ہیں کیونکہ وہ لوگ اپنی دولت کو فاہ عامہ اور نیکی کے کاموں میں خرچ کرر ہے ہیں اور ناداروں کے پاس کوئی چیز نہیں ہے جو وہ نیکی کی راہ میں دیں ۔ ان کے سامنے حضورﷺ نے وضاحت کی کہ نیکی کے کام کا ذریعہ صرف مال ہی نہیں ہے بلکہ ہر وہ کام نیکی اور بھلائی کا کام ہے جس سے دوسرے انسانوں کو فائدہ پہنچے ۔ آپﷺ نے فرمایا: ’تم جو ایک دفعہ اللہ کی تسبیح کرتے ہو یہ بھی نیکی ہے ، کسی بھلائی کا حکم دینا بھی نیکی ہے، برائی سے روکنا بھی نیکی ہے،راستے سے کانئے وغیرہ تکلیف دینے والی چیز کا ہٹانا بھی نیکی ہے،دو آدمیوں میں صلح کرا دینا بھی نیکی ہے، اور کسی یتیم کے سر پر شفقت سے ہاتھ رکھ دینا بھی نیکی ہے۔ اس طرح اسلام خیر کے دروازے معاشرے کے تمام لوگوں کے لیے کھول دیتا ہے ۔ اور یہ خیر اور فلاح صرف ہم مذہب کے لیے نہیں بلکہ اسلام انسان کو انسان دوستی کے اس اونچے مقام پر لا کھڑا کرتا ہے جہاں سے خیر و نیکی کے کام تمام انسانی برادری کے لیے عام ہو جاتے ہیں چاہے ان کا مذہب ،ان کی زبان ،ان کا ملک اور ان کی قومیت کوٸی بھی ہو۔ ہمارے نبی ﷺ فرماتے ہیں: لوگ اللہ کے عیال ( خاندان) ہیں اللہ کے نزدیک محبوب وہ ہے جو اس کے عیال کے لیے زیادہ سے زیادہ فائدہ پہنچانے والا ہو۔

    @MrGondalll

  • سوشل میڈیا کا بہترین استعمال   تحریر: فرمان اللہ

    سوشل میڈیا کا بہترین استعمال تحریر: فرمان اللہ

    سوشل میڈیا ایک ایسا پلیٹ فارم ہے جس نے ایک عام انسان کو بھی دوسروں کے سامنے اپنے خیالات کا اظہار کرنے کا موقع دیا۔ جس طرح الیکٹرانک میڈیا کے آنے کے بعد پرنٹ میڈیا کی اہمیت کافی حد تک ختم ہوئی اِسی طرح سوشل میڈیا کے آنے کے بعد الیکٹرانک میڈیا کی اہمیت میں بھی کافی حد تک کمی ہو چکی ہے.

    ایک وقت تھا جب ملک میں صرف پرنٹ میڈیا اور الیکٹرانک میڈیا کا راج تھا اور بہت سارے مسائل جن کا تعلق ایک عام انسان سے ہوتا تھا اُن مسائل کی نشاندہی کبھی نہیں ہوتی تھی لیکن آجکل سوشل میڈیا کی بدولت کوئی بھی انسان اپنے ساتھ ہونے والے ظلم اور زیادتی کے بارے میں پوری دنیا کو بتا سکتا ہے لیکن میں نے نوٹ کیا ہے کہ آج بھی ہم کافی حد تک سوشل میڈیا کا استعمال بہترین انداز سے نہیں کر رہے۔

    بہت سارے لوگ اسے ٹائم پاس کے لیے استعمال کرتے ہیں فیک نیوز اور پروپیگنڈا کے لیے استعمال کرتے ہیں جس کی وجہ سے سوشل میڈیا کی اہمیت میں کمی واقع ہوئی ہے۔

    سوشل میڈیا کے بڑے فوائد ہیں اچھی باتوں کو شیئر کرنا جس سے کسی اور کا اچھا ہو سکے، کسی مظلوم لاچار کی آواز بننا اور اس کی فریاد اعلی حکام تک پہنچانا، ملک میں ہونے والے ہر غلط کام کی نشاندہی کرنا اس پر بول کر اپنے آواز لاکھوں لوگوں تک پہنچانا، ملک و قوم کی بہتری میں اپنا کردار ادا کرنا، دشمن کے غلط بیانیہ کو دھبڑدوس کرنا اس کی غلط چالوں کو بے نقاب کرنا۔ ایسے بے شمار فوائد ہیں سوشل میڈیا کے اگر آپ اِس کا بہتر استعمال کریں تو

    Twitter account: @ForIkPakistan