Baaghi TV

Category: معاشرہ و ثقافت

  • احتجاج اور اسلام پسند طبقہ . تحریر: وقاص رضوی جٹ

    احتجاج اور اسلام پسند طبقہ . تحریر: وقاص رضوی جٹ

    اگر پاکستان کی تاریخ پر نظر دوڑاٸی جاۓ تو یہ بات واضح ہےکہ اسلامی جمہوریہ پاکستان میں اسلامی قوانین کےنفاذ اور اسلامی شعاٸر کی حفاظت کےحوالےسےہر عشرےمیں ایک یا دو منظم اور بااثر تحریکیں چلتی رہی ہیں۔ چاہے 1950کی دہاٸی ہو جب 1953میں قادیانیوں کیخلاف چلنےوالی تحریک سےلیکر 2017میں ختم نبوت ﷺ کےقانون میں تبدیلی کیخلاف چلنےوالی تحریک تک کہیں نا کہیں اسلام پسند طبقہ اپنےمطالبات منوانےکیلیے احتجاج کاسہارا لیتارہاہے۔

    اگرمذہبی جماعتوں کےاحتجاج پرغور کریں تو یہ بات واضح نظر آتی ہےکہ انہوں نےاپنےمطالبات منوانےکیلیےاحتجاج کاراستہ اپنایااور اس میں کافی حد تک کامیاب بھی رہے۔مگر سوال یہ ہےکہ اسلامی جمہوریہ پاکستان میں اسلامی قوانین اور اسلامی شعاٸر کی حفاظت کیلیےاحتجاج کی ضرورت کیوں پیش آتی ہے؟دوسرا سوال یہ پیدا ہوتاہےکہ مختلف ادوار میں حکومتیں اسلامی جماعتوں کیخلاف متشدد رویہ کیوں اپناتی ہیں؟تیسرا سوال یہ ہےکہ اسلامی جماعتیں جن کےپاس بہت زیادہ سٹریٹ پاور ہونےکےبعدآج تک اقتدار میں نہیں آ سکیں؟
    ان تمام سوالوں کےجواب ڈھونڈنےکیلیے پاکستان میں تعلیمی نظام کوسمجھناضروری ہے۔اس وقت پاکستان میں تین قسم کےتعلیمی نظام موجود ہے۔ایک تعلیم نظام وہ ہے جس میں اشرافیہ کےبچےتعلیم حاصل کرتےہیں۔ان تعلیمی اداروں میں سرِ فہرست ایچیسن کالج لاہور ہے۔اس کالج کاقومی سیاست میں کردار کااندازہ اس بات سے لگایاجاسکتاہے کہ موجودہ وزیراعظم عمران خان وزیرِخارجہ شاہ محمود قریشی وزیرِدفاع پرویزخٹک سمیت بہت سےوفاقی و صوباٸی وزرا ایچیسن کےپڑھےہوۓ ہیں ایچیسن کےعلاوہ دیگر اداروں میں LUMSیونیورسٹی لارینس کالج مری سمیت بیکن ہاٶس اور لاہور گرامر سکول شامل ہیں جبکہ غیرملکی گریجوایٹس بھی شامل ہیں جن میں بلاول بھٹو سرفہرست ہیں درج بالاتعلیمی اداروں میں صرف جدید تعلیم پرتوجہ دی جاتی ہےاور سیکولرزم کی ترویج کی جاتی ہے۔ اس لیےجب یہ لوگ نظام پرقابض ہونگے جو سیکولراداروں سےپڑھےہونگےتویہ سیکولرزم کی ترویج کریں گے ناکہ اسلام کو۔دوسرا طبقہ متوسط طبقہ جو اسلام کےقریب توہوتےہیں مگر اپنی روزی روٹی کےچکرسےباہر نہیں نکل پاتےاسلام بماقبلہ سیکولرزم کی جنگ میں عملاً شریک نہیں ہوتے۔اس لیے انہیں ملکی حالات سےخاص غرض نہیں ہوتی۔

    جبکہ تیسرا طبقہ مذہبی طبقہ ہے جوحکومت کی غیراسلامی قوانین اور غیرشریعی پالیسیوں کےخلاف نکلتےہیں۔مگر چونکہ نظام پر سیکولر اشرافیہ کا قبضہ ہےاس لیےیہ اپنےمطالبات نہیں منوا پاتےاور مجبوراً پہیہ جام ہڑتال کرتےہیں اور سیکولر اشرافیہ کی حکومت مجبوراً انکےمطالبات وقتی طور پر مان لیتی ہے۔ مگر بعدمیں پھر کسی نا کسی موقع پہ سیکولر پاکیسیاں جاری رکھتی ہے۔
    اب وقت آگیاہےکہ اسلام پسند طبقےکو نظام میں اپنےپنجے گاڑھنےچاہیں اورتمام اہم اداروں خاص کر ملٹری اسٹیبلشمنٹ ٗ سیاستٗ عدالتی نظام ٗ بیوروکریسی ٗ میڈیا اورصنعت و تجارت میں اپنے نوجوانوں کو شامل کرنےکیلیے جدید تعلیم پرتوجہ دینی چاہیے۔اگر ایسا نہ کیاگیا تولبرل اور سیکولر طبقہ جوپہلےہی اتنامظبوط ہوچکاہے اسے روکناناممکن ہوجاۓگا۔

    @waqasRizviJutt

  • ریٹیل تھراپی اور اسکے نقصانات . تحریر : حُسنِ قدرت

    ریٹیل تھراپی اور اسکے نقصانات . تحریر : حُسنِ قدرت

    ریٹیل تھراپی کیا ہے؟ جب ہم پریشان ہوں اور ہمیں کوئی چیز خرید کر خوشی ملے جبکہ اس چیز کی ہمیں ضرورت نہ ہو تو اسے ریٹیل تھراپی کہتے ہیں.

    اس میں کوئی بری بات نہیں بظاہر لیکن جو کام ہمیں اچھا لگتا ہے ہمیں اسکی عادت ہو جاتی ہےاور ہم اس میں مبتلا ہو جاتے ہیں ریٹیل تھراپی کے کچھ نقصانات یہ ہیں اس عادت سے ہم دھڑا دھڑ خریداری کرتے ہیں اور ہماری شاپنگ کنٹرول میں نہیں رہتی
    یہ تھراپی جب عادت کی صورت اختیار کرلیتی ہے تو مہنگی سے مہنگی چیزوں کی خریداری کی طرف لے جاتی ہے اور یہ غلط فہمی بڑھتی چلی جاتی ہے کہ میں نا خوش ہوں ،کیونکہ میرے پاس یہ چیز نہیں ہے یا میرے پیسے ختم ہو گئے ہیں میں نے شاپنگ نہیں کی اب میں خوش کیسے ہوں گی.

    یہ عادت ایسے شدت اختیار کرسکتی ہے جیسے کسی نشے کی لت میں مبتلا انسان کو نشے کی طلب ڈاکٹررونلڈریوڈن نے اس بارے میں تحقیق کی ہے کہ ہمارے دماغ میں موجود خوشی کے ایک ہارمون "سیروٹونین” کا تعلق خوشی سے ہوتا ہے اور اسی وجہ سے ہم شاپنگ کے نشے میں مبتلا ہو جاتے ہیں.

    جب ہم کوئی ایسی شے خریدتے ہیں جسکا تعلق دماغ کے سکون پہنچانے والے ہارمون سیروٹونین سے ہوتا ہے تو وہ شے خریدنے پر ہمیں خوشی ہوتی ہے یہ بالکل اسی طرح ہوتا ہے جیسا کہ سکون آور دوا کھانے پہ ہوتا ہے.

    اسلیے ہم بہت سی چیزیں بلاوجہ اور بغیر کسی ضرورت کے خود کو مختلف محسوس کرنے کےلئے خریدتے ہیں اور ہمارا بجٹ ڈسڑب ہونے لگتا ہے ہم بچت نہیں کر سکتے جسکی وجہ سے پیسے ختم ہونے پہ ہم پریشان ہوتے ہیں اگر ہمیں پتہ چل جائے کہ ہم اس عادت میں خطرناک طور پہ مبتلا ہو چکے ہیں یا ہونے والے ہیں تو ہم اسے چھوڑ سکتے ہیں یہ ایک لاشعوری عادت ہے اور اسے ختم کرنے کے لیے ہمیں اپنے ذہن میں یہ بات بٹھانی ہوگی کہ اس ماہ اتنے پیسے اگر میں نے بچا لیے تو میں خوش ہوں گی اس طرح آہستہ آہستہ ہم اپنی پرانی روٹین کی طرف آسکتے ہیں اور ریٹیل تھراپی کے برے اثرات سے بچ سکتے ہیں.

    Twitter: @HusnHere

  • انسان کی پیدائش، اس کی مرضی سے نہیں ہوتی . تحریر : زینب فاطمہ

    انسان کی پیدائش، اس کی مرضی سے نہیں ہوتی . تحریر : زینب فاطمہ

    مومن کا کامل ایمان ہوتا ہے کہ تمام جہانوں کی مخلوقات کا خالق "اللہ” ہے ۔ اس نے اپنی مخلوقات کو اپنی مرضی و رضا سے تخلیق کیا۔ وہ جب جہاں جسے چاہے جیسے چاہے تخلیق کر دیتا ہے۔ میرا اللہ کامل ہے، بے شک اس میں کوئی عیب نہیں، میرا مالک ہر عیب سے پاک ہے۔ اپنی مخلوق کو پیدا کرتے ہوئے وقت،جگہ،عمر،موت یہ سب اللہ اپنی مرضی سے طے کرتا ہے۔اگر بات کی جائے اشرف لمخلوقات کی تو انسان کی جائے پیدائش میں خدا کی ہی مرضی ہوتی ہے۔ یوں تو مومن زبان سےبولتا ہے کہ اللہ کی رضا میں اس کی رضا ہے مگر کچھ لوگوں کا دل ان کی زبان کا ساتھ نہیں دیتا ۔ عموماً انسان کو یہ دیکھ کر پہچانا جاتا ہے کہ وہ کس خاندان میں پیدا ہوتا ہے اگر اونچے، اچھے خاندان سے ہو تو اس انسان کو بغیر جانے بغیر پرکھے اچھا سمجھا جاتا ہے۔ جبکہ اس کہ  بر عکس جو شخص بُرے یا کسی نیچ خاندان میں جنم لے تو اس کہ بارے میں یہی گمان کیا جاتا ہے کہ وہ بھی گھٹیا ہی ہے۔ انسان کو جانے بغیر جو یہ اچھے اور بُرے ہونے کا پیمانہ رکھا جاتا ہے یہ بہت غلط ہے۔

    کسی کو اس بِنا پر دھتکار دینا اور اس سے دُور ہو جانا کہ وہ اچھے خاندان سے نہیں ہے اور اسی وجہ سے اس کی تمام اچھی باتوں کو نظر انداز کر کے اس خاندان سے جُڑی نصبت کو اپنے دل و دماغ میں رکھنا اور اس نے نفرت کرنا کیا صحیح ہے؟
    اسی طرح اگر کوئی اچھے خاندان سے ہو تو اس کی تمام تر خامیاں جانتے ہوئے بھی اس کے گُن گانا کیا صحیح ہے؟
    نہیں ہر گِذ نہیں۔

    انسان کے اچھے برے ہونے کا اندازہ اس کے خاندان کو دیکھ کر نہیں لگایا جا سکتا۔ کس انسان نے کب کہاں اور کس خاندان میں پیدا ہونا ہے یہ تو میرے اللہ کا فیصلہ ہوتا ہے نا۔ ہم اگر اچھے خاندان میں پیدا ہو جائیں تو اس میں ہمارا کوئی کمال نہیں۔ تو یہ اکڑ اور انا کس بات کی ؟؟
    اسی طرح اگر ہم برے خاندان میں جنم لے لیں اور کوئی یہ سوچ کر ہم سے دور ہو جائے کہ ہمارا تعلق فلاں فلاں خاندان سے ہے، اور اس شخص کے سامنے اس کا اخلاق  اور محبت ایک طرف رکھ کہ  یہ بات بولی جائے کہ اس کے خاندان کی نسل کی نسل سے بھی دور رہنا چاہیے۔ کیا یہ سب درست ہے؟؟
    اُس شخص نے تو نہیں کہا تھا اللہ سے کہ مجھے فلاں خاندان میں پیدا کرے۔

    پیدائش کے وقت انسان خود تو اپنا خاندان پسند کر کہ پیدا نہیں ہوتا ۔اسے اگر اللہ نے نیچ خاندان میں پیدا کر دیا تو اس میں اس کا تو کوئی قصور نہیں۔ اسی طرح اچھے خاندان میں پیدا ہونےوالے شخص کا بھی اس میں کوئی کمال نہیں ۔ کوئی بھی یہ ضمانت دے کر جنم نہیں لیتا کہ وہ جس خاندان میں پیدا ہو رہا ہے بالکل اسی خاندان کے لوگوں پر جائے گا۔
    اچھےخاندان سے برے ، اور برے خاندان سے اچھے لوگ بھی موجود ہیں اس دنیا میں جنہیں ہمارا معاشرہ کھلی آنکھوں سے بھی نہیں دیکھ پاتا یا شاید دیکھنا ہی نہیں چاہتا۔ خدارا اس بات کو سمجھ جائیں کہ اللہ نے اپنی مرضی سے سب کو اپنی مرضی کی جگہ پہ پیدا کیا ہے۔
    وہ چاہتا تو ہمیں جانور بنا دیتا۔ اس میں ہمارا کوئی کمال نہیں کہ ہمیں انسان پیدا کیا گیا یہ خدا کی رضا تھی وہ چاھتا تو ہمیں جانور بناتا اور ہم کچھ نہ کر پاتے۔ ٹھیک اسی طرح نیچ خاندان میں پیدا ہونے والوں کا اس میں کوئی قصور نہیں، نہ ہی ان کی پیدائش سے پہلے خدا نے ان سے ان کی مرضی پوچھ کر وہاں پیدا کیا۔
    تو پھر ایسے لوگوں کا دل کیوں دکھایا جاتا ہے؟
    کیوں ان کے ہر اچھے عمل کو بھی نظر انداز کر دیا جاتا ہے؟ صرف یہ دیکھ کر کہ وہ اچھے خاندان سے نہیں ۔
    دوسری جانب کسی اچھے خاندان میں پیدا ہونے والے بُرے شخص کے ہر عیب اور ہر گناہ کو کیوں نظر انداز کیا جاتا ہے؟
    کیا یہی مومنوں کا طریقہ ہے ؟
    جبکہ میرا اللہ تو صاف صاف کہہ چکا ہے کہ روزِ حشر ذات پات اونچ نیچ اس سب سےکچھ نہیں ہوگا، خدا کی نظر میں اگر کچھ اہم ہے تو وہ ہے پرہیزگاری۔

    @zaynistic_13

  • انتہا پسندی اوراس کا سدِباب . تحریر : سعد طارق

    انتہا پسندی اوراس کا سدِباب . تحریر : سعد طارق

    انتہاپسندی ایک ایسی دماغی کیفیت نام ہے جس میں کوئی انسان ہر چیز اور ہر واقعہ کو ایک ہی زاویہ میں دیکھے اور اختلاف رائے کو بالکل برداشت نہ کرے۔ کسی بھی معاشرے میں انتہاپسندی کا وجود وہاں کے لوگوں کو دنیا و آخرت کی رسوائی کا مستحق بنا دیتا ہے۔ اگرچہ تاریخ انسانی کے آغاز سے ہی انتہا پسندی کا بھی آغاز ہو گیا تھا، جب اللّٰہ کے پہلے نبی حضرت آدم علیہ السّلام کے بیٹے قابیل نے اپنے بھائی ہابیل کو حسد کی بناء پر قتل کیا۔ ہر نبی کے دور میں مذہبی و نظریاتی اختلافات تشدد کا باعث بنتے رہے ۔ کبھی اللّٰہ کے رسولوں کی توہین ہوئی بعض دفعہ نبیوں کے ماننے والوں کو بھی ظلم و جبر کا نشانہ بنایا گیا۔ بنی اسرائیل نے تو ایک ایک دن میں کئی انبیاء کو قتل کیا۔، حتی کہ لوگوں نے اس بناء پر حضرت محمد صلی اللّٰہ وآلہ وسلّم کو اس حد تک اذیتیں دیں کہ آپ صلی اللّٰہ وآلہ وسلّم نے فرمایا” اتنا کسی نبی کو نہیں ستایا گیا جتنا مجھے ستایا گیا۔”

    پس معلوم ہوا ہے کہ انسان ہر دور میں انتہا پسندی کا شکار رہے ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ ایک ہی معاشرے میں مختلف الخیال لوگوں نے فکری اختلاف کو ذاتی اختلاف میں تبدیل کیا، اپنی بات کو دوسروں پر مسلط کرنے کے لیے تمام اخلاقی حدود کو عبور
    کر کے معاشرتی اقدار کو اپنے پاؤں تلے روند دیا۔ انتہا پسندی معاشرے کے امن و سکون کو غارت کر دیتی ہے۔کسی بھی معاشرے میں انتہا پسندی کے بڑھنے کی کئی وجوہات ہو سکتی ہیں۔

    معاشرے میں انتہا پسندی کے فروغ کے لیے سب سے بڑا ہاتھ معاشی صورتحال کا ہے ۔ تعلیم کو کسی بھی معاشرے میں قوم کی فلاح و بہبود کے لیے لازمی قرار دیا جاتا ہے۔ تعلیم کی اہمیت کے لیے ایک ہی مثال کافی ہے کہ جب اللّٰہ نے اپنی محبوب ہستی حضرت محمد صلی اللّٰہ وآلہ وسلّم کو پہلی وحی بھیجی تو وہ سارے علم و تعلیم پر تھی۔

    تعلیم و قلم سے انکار نہیں لیکن جس ملک کی 28 فیصد عوام غربت کی لکیر سے نیچے کی زندگی گزارنے پر مجبور ہوں ، وہاں والدین اپنے بچوں کو اعلیٰ تعلیم کے لیے کیسے بھیج سکتے ہیں۔ لہٰذا بچوں کو ابتدائی تعلیم کے لیے مدارس میں بھیج دیا جاتا ہے۔ اگرچہ ہمارے بیشتر دینی مدارس دین کی فلاح و بہبود کے کاموں میں مصروف لیکن اس حقیقت سے انکار ممکن نہیں کہ بہت سے دینی مدارس ملک میں انتہا پسندی کے فروغ میں نمایاں کردار ادا کر رہے ہیں۔ دینی مدارس پر چھاپے مارے جاتے ہیں جہاں سے اسلحہ اور انتہا پسندی کو فروغ دینے والے لڑیچر برآمد ہوتے ہیں۔

    ہمارے حکمران اور ریاست گزشتہ کئی دہائیوں سے جارحانہ رہی ہے۔ اس تعلیمی پالیسی کے زیر اثر تیار والی نسل کو وہ بطور ایندھن استعمال کرتے رہے ہیں۔تنگ نظری، اپنے مذہبی حریفوں سے نفرت،عدم برداشت جیسی عادتیں ہمارے مزاج کا حصہ بنتی رہیں۔ آج بھی پاکستان کا نظام تعلیم ایسا کوئی کردار ادا کرنے میں ناکام ہے کہ جس میں انسان کو سماجی شعور اور انسانی رویے فروغ پا سکیں۔ آج بھی ہمارا نصاب تعلیم رواداری ، انسان دوستی اور مسلمہ انسانی اقدار پر خاموش ہے اور ہم خطے میں امن ، سلامتی اور بھائی چارے کی فضا قائم کرنے میں ناکام رہے ہیں ۔ آج بھی ہمارے نصاب تعلیم فرسودہ ہے۔

    انتہا پسندی کی ایک اہم قانون کی عملداری نہ ہونا بھی ہے ۔ کسی بھی معاشرے میں قوانین دراصل معاشرتی جرائم کی پیشگی روک تھام کے لیے بنائے جاتے ہیں اگر اس کے باوجود کوئی جرم کر بھی لے تو اسے قانون کی مطابق سزا دی جاتی ہے ۔ اگر کسی معاشرے میں قانون کی پاسداری نہ ہو تو وہاں انتہاپسندی کا فروغ یقینی ہوتا ہے ۔ایسے معاشرے میں ظالم طاقتور اور مظلوم کمزور ہوتا ہے۔
    انتہا پسندی کی ایک اور اہم وجہ مذہبی ،لسانی اختلاف کو رنگ دے نفرتوں کو فروغ دیا گیا۔ جو رسول اللہ صلی اللّٰہ وآلہ وسلّم رحمت بنا کر بھیجے گئے، انہیں کی نام پر مذہبی اکثریتی طبقے کی طرف سے بعض اوقات اقلیتوں کے حقوق کو بھی روند دیا جاتا ہے ۔ ان کی عبادت گاہوں اور انسانوں کو زندہ جلا دیا جاتا ہے۔ انتہا پسندی کے اسں تدارک سے نکلنے کے لیے ضروری ہے کہ عوام الناس کو شعور و آگہی دی جائے ۔ مختلف مذاہب ، لسانی اور نسلی سے تعلق رکھنے والے والوں کے مابین بامقصد مباحث کا اہتمام کیا جائے تاکہ وہ آپس میں پائی جانے والی غلط فہمیوں کو دور کریں ۔

    رشوت اور میرٹ کا قتل انتہا پسندی کے فروغ کے لیے اہم کردار ادا کر رہا ہے۔ اس کی وجہ نوجوان مایوسی کا شکار ہو رہے ہیں ، اور وہ سوچنے پر مجبور ہو جاتے ہیں کہ کسی انتہا پسندی کے گروپ میں شامل ہو کے اپنی محرومیوں کا ازالہ کریں۔ انتہا پسندی کسی مخصوص طبقے تک محدود نہیں بلکہ معاشرے کے ہر طبقے میں موجود ہے۔ ملک کی اہم سیاسی جماعتوں کا کہنا ہے کہ ان کے کارکنان ذرا بھی اختلاف رائے کو برداشت نہیں کرتے ۔ ان سیاسی جماعتوں کا دعویٰ ہے کہ ملک کے نوجوانوں کی اکثریت ان کی حامی ہے ۔ اگر ایسا ہے تو ہمارے نوجوان تہذیب کے دائرے سے کیوں نکل رہے ہیں؟ کیونکہ نوجوانوں کی اکثریت استحصال کا شکار ہیں اور جب کبھی کسی نے ان کو تبدیلی کا خواب دیکھایا تو وہ اس کی طرف نکل پڑتے ہیں۔

    اگر ہم معاشرے کو انتہا پسندی سے پاک کرنا چاہتے ہیں تو ہمیں اپنے تعلیمی نظام کو از سر نو مرتب کرنا ہو گا اور اس میں ایسے ابواب شامل کرنے ہوں گے جس میں انتہا پسندی سے بچنے کے اصول شامل ہوں ۔ عرض یہ کہ اگر ہم سب مل کر انتہا پسندی تدارک کے لیے صدق نیت سے اقدامات کریں تو یقیناً ہر لمحہ اللّٰہ کی مدد کے حقدار ٹھہریں گے کیونکہ اللّٰہ نے سورہ مبارکہ نجم کی آیت مبارکہ 39 میں ارشاد فرمایا ہے کہ ” اور انسان کے لیے وہی کچھ ہے جس کے لیے وہ کوشش کرتا ہے۔

    @SaadTariqPTI

  • طوائف کی زندگی  تحریر: فوزیہ چوہدری

    طوائف کی زندگی تحریر: فوزیہ چوہدری

    طوائف تو دنیا کی تھی بے حیاء
    رہے نسبتاً ہم ہی بےباک کم

    آ پ نے اکثر دیکھا ہو گا نئی چم چماتی گاڑیاں لیکن ان گاڑیوں کا استعمال لوگ کچرہ اٹھانے کے لئے گندگی صاف کرنے کے لیے نہیں کر سکتے بلکہ اس کام کے لئے الگ سے گاڑیاں ہوتی ہیں جو کہ آ پ کو کم ہی دیکھنے کو ملتی ہیں اور اگر آپ پاس سے گزر جائیں تا ناک پر رومال رکھ لیتے ہیں کیوں؟ کراہت محسوس ہوتی ہے بدبو آ تی ہے اسی لیے نہ ؟ پر ان گاڑیوں کا ہونا بھی ضروری ہے ورنہ آ پ کو ہر گلی کوچے میں گندگی کے ڈھیر نظر آ ئیں گے اور آ پکا جینا مشکل ہو جائے گا۔
    بلکل اسی طرح طوائف کی بھی زندگی ہے یہ وہ عورت ہوتی ہے جو ایسے مردوں کی گندی کو اپنے اندر سمیٹ لیتی ہے جو عیاش ہوتے ہیں حوس کے پوجاری ہوتے ہیں اور جیب میں چاندی کے سکے اور بہت سے پیسے لے کر گھومتے ہیں۔
    ایک عورت کو طوائف بنانے والے بھی مرد ہی ہوتے ہیں وہ لڑکی جو کسی مرد کے پیار میں گھر سے بھاگ جاتی ہے یا تو اسے بیچ دیا جاتا ہے یا چھوڑ دیا جاتا ہے تو وہ لڑکی کیا کرے جس کے پاس واپسی کا کوئی راستہ نہیں تو ایسی ہی لڑکی پھر ٹوٹ کر بکھر جاتی ہے اور زندگی گزارنے کے لئیے غلط راستہ اختیار کر لیتی ہے۔
    یقین جانیں اگر یہ طوائف نہ ہو تو مرد کی گندگی آ پ کو ہر جگہ دکھائی دے گی اور شاید حوس کا پوجاری مرد اپنے ہی گھر کی بہو بیٹیوں کے ساتھ گندہ کھیل کھیل بیٹھے اور میں ایسے واقعات سنے بھی ہیں کہ باپ نے بیٹی کے ساتھ زیادتی کی،یہاں تک کہ بے زبان جانور تک کو نہیں چھوڑتے یہ لوگ،ایک معصوم بلی کے ساتھ لڑکوں کا وحشیانہ سلوک تو سب کو یاد ہی ہو گا ۔
    جس چیز کی مانگ زیادہ ہوگی وہ تو مارکیٹ میں ضرور آئے گی اور مرد کی مانگ ہے عورت اور رنگین رات اسی لیے آ ج بھی کہیں نہ کہیں چکلہ آ پکو ملے گا اور اگر مرد اچھا ہو جائے تو یقین کیجیے یہ چکلے ہر جگہ سے خود بخود بند ہو جائیں ۔
    ایک عام عورت اور ایک طوائف میں یہ فرق ہے کہ طوائف اپنے لیے خود کماتی ہے اور عام عورت کے پاس کمانے کے بہت لوگ ہوتے ہیں اسکا باپ بھائی یا بیٹا۔
    اور ایک بات یہ کہ اچھے اور برے لوگوں میں فرق صرف ہم انسان کرتے ہیں خدا تو کسی کو اکیلا نہیں چھوڑتا۔
    میں نے دیکھا ہے نیک لوگوں کو دوسروں کا مذاق اڑاتے ہوئے ان پر ہنستے ہوئے اور گناہ میں ڈوبے لوگوں کو راتوں میں اللّٰہ کے سامنے روتے ہوئے۔ہم نہیں جانتے کون اچھا ہے کون برا تو ہم کون ہوتے ہیں کسی پر بھی فتوا لگانے والے۔
    یہاں آ پ کو ایک مثال سے بھی سمجھا دیتی ہوں کہ آپ کی اولاد میں سے ایک بچہ لائق اور ایک نالائق ہے تو کیا آ پ اپنے نالائق بیٹے کو اکیلا چھوڑ دیں گے نہیں بلکہ اس پر زیادہ توجہ دیں گے کہ کسی طرح یہ بھی لائق ہو جائے پر آ پ انکا موازنہ یا مقابلہ ہر گز نہیں کریں گے۔
    بلکل اسی طرح ایک عام عورت اور طوائف کا کوئی مقابلہ ہے ہی نہیں بلکہ کسی ایک انسان کا دوسرے انسان سے نہیں ہے ہر انسان اپنے آ پ میں ایک ہیرا ہے کوئی نہ کوئی خوبی موجود ہے کیونکہ اللّٰہ نے کسی کو بھی فضول نہیں بنایا ہے۔
    بی
    بہت سے لوگ مجھے کہتے ہیں کہ آ پ سیاہ قلم ہو کڑوا لکھتی ہو تو میں کہنا چاہوں گی کہ میں معاشرے کا چہرہ دکھاتی ہوں اور اگر آپ میرا لکھا آ پ برداشت نہیں کر سکتے تو پھر یہ معاشرہ بھی بھیانک ہے جسے برداشت نہیں کیا جا سکتا۔
    نوٹ: میں نے اس تحریر میں ہر مرد کو برا نہیں کہا ہے جو برے ہیں انکو برا لکھا اور بیان کیا ہے بے شک پانچوں انگلیاں برابر نہیں ہوتی ایسے ہی ہر مرد ایک جیسا نہیں ہوتا شکریہ تحریر کیسی لگی ضرور بتائیے گا۔ خوش رہیں محبتیں بانٹتے رہیں

    @iam_FoziaCh

  • نکاح کو آسان بنائیں  تحریر:فرزانہ شریف

    نکاح کو آسان بنائیں تحریر:فرزانہ شریف

    جب ایک مڈل کلاس گھرانے میں بیٹی پیدا ہوتی ہے تو اس کے والدین اس کی پیدائش پر وہ خوشی نہیں مناسکتے جو بیٹے کی پیدائش پر خوشی منائی جاتی ہے حالانکہ بیٹیاں بیٹوں سے بھی ذیادہ پیاری ہوتی ہیں
    والدین کو وقت سے پہلے ہی اس کو رخصت کرنے کی فکر لگ جاتی ہے ۔
    لاکھوں کا جہیز اور جہیز میں وہ قیمتی چیزیں بھی شامل ہوتی ہیں جو لڑکی کے والدین کے اپنے گھر میں بھی نہیں ہوتیں
    پھر اعلی قسم کا برات کے لیے لاکھوں کا کھانا۔۔۔
    دلہے والوں کو قیمتی گفٹ دینا
    بچہ پیدا ہونے پر پھرخرچہ۔۔۔
    بیٹی ہے یا سزا ہے کوئی۔۔۔؟
    اور پھر جب مرد کہتے ہیں ہمیں چار شادیوں کی اجازت اللہ نے دے رکھی ہے یہ سنت بھی ہے
    مرد ہو ناں۔۔۔آگے بڑھو۔۔۔کرو یہ سب خرچہ خود۔۔۔اور کرو چار شادیاں۔۔۔!!
    سنت کیا صرف چار شادیوں پر ہی یاد ہے۔۔؟
    باقی سنتوں پر عقل کام کرنا چھوڑ دیتی ہے کیا۔۔؟
    بیٹی اکثر اس لیے اپنے والدین اپنے بھائی سے فرمائشیں نہیں کرتی تھی کہ پہلے ہی اسکی شادی کا خرچ اور جہیز بناتے بناتے اس کے باپ اور بھائی نے اپنی ساری جمع پونجی لٹا دی تھی

    منگنی کے بعد اکثر لڑکے والے آتے رہتے تھے اور مہمان نوازی کرتے کرتے اس کی ماں تھک چُکی تھی۔۔۔مگر پھر بھی خالی جیب کے ساتھ مسکراہٹ چہرے پر سجائے ہر آنے والے کو اعلیٰ سے اعلیٰ کھانے کھلاتی اور خوش کر کے بھیجتی تھی
    ایسے میں بیٹی اپنے والدین اور بھائی کے سامنے شرمندہ سی ان کا ہرکام خوشی خوشی کر کےجیسے باپ اور بھائی کو ہمت دلا رہی ہو یا یہ کہنا چاہ رہی ہو کہ سوری بابا میری وجہ سے آپ قرض لینے پر مجبور ہیں۔۔۔!!

    شادی کی تاریخ فکس کرنا ایک تہوار بن چکا ہے، لڑکی والوں کو پتہ ہی نہیں ہوتا کہ کتنے لوگ آئیں گے، انکے کھانے پینے کے علاوہ سب کیلئے کپڑے خرید کر رکھنے ہوتے ہیں چاہے 5 لوگ ہوں یا 100۔۔۔!!

    پھر بارات پر لڑکی کے باپ کودس بندے گھیر کر پوچھتے ہیں، جی کتنے بندے آجائیں۔۔۔؟؟؟ کیا بولے گا وہ۔۔۔؟؟؟

    اگر 100 کہے تو جواب ملتا ہے 100 تو ہمارے گھر کے قریبی رشتہ دار بن جاتے ہیں پھر محلے دار ۔۔برادری کے لوگ…!!کچھ نہیں تو 500 افراد تو مجبوراً لانے پڑیں گے ساتھ……..!!
    اب لڑکی کا باپ کیا کہے۔۔؟ مت لانا۔۔؟ سارے پیسے قیمتی جہیز خریدنے میں ہی خرچ ہوگے ہیں ۔۔۔؟؟؟

    لڑکی ہر دکھ درد سسرال میں صبر سے برداشت کرتی ہے اپنے والدین کو بھنک بھی پڑنے نہیں دیتی کہ وہ سسرال میں کتنا مشکل وقت گزار رہی ہے صرف اس لیے کہ اس کا باپ اور بھائی پریشان نہ ہوجائیں کہ شہزادیوں کی طرح رخصت کرنے پر بھی ہماری بیٹی سکھ سے نہیں رہ رہی

    آخر میں ۔مرد حضرات سے یہ کہتی ہوں کیا آپ کے لیے یہ کافی نہیں کہ والدین پال پوس کے پڑھا لکھا کر اپنے جگر کا ٹکڑا آپکو سونپتے ہیں آپ اپنے گھر والوں کے ساتھ شادی کرنے کی شرط ہی یہ رکھیں کہ آپ نے جس سے شادی کرنی ہے اس کے والدین سے جہیز نہیں لینا ۔۔آپ
    اپنی ہونے والی بیٹی پر ترس کھائیں جو کل کو تمہارے خراب حالات سے اتنی ہی پریشان ہوسکتی ہے جتنی آج تمہاری ہونے والی بیوی پریشان ہے….!!

    اللہ نے تمہیں مرد پیدا کیا ہے مرد بنیں خود میں اتنی ہمت پیدا کریں دوسروں کی محنت سے کمائی ہوئی دولت کے مزے لینے کے بجائے خود
    کما کر اپنی بیوی کو خوشیاں خرید کر دیں
    شوہر کی حیثیت ایک سائبان کی سی ہوتی ہے جو اپنی بیوی کو ہر طرح کے حالات میں تحفظ کا احساس دیتا ہے اور بیوی اس کے لیے راحت سکون کا باعث بننے کے لیے ہر وہ اچھا کام کرتی ہے جو اس کے شوہر کو پسند ہواس طرح گھر جنت بن جاتے ہیں

  • احساس برتری ایک خطرناک بیماری تحریر: شازیہ ستار

    احساس برتری ایک خطرناک بیماری تحریر: شازیہ ستار

    کتنی عجیب بات ھے کہ ھم احساس کمتری کو تو بہت تذکروں میں لاتے ہیں اور فٹ سے کسی کو طعنہ بھی دے دیتے ہیں مگر ھم احساس برتری کا نہ ھی ذکر کرتے اور نہ ھی اسکو بیماری گردانتے ہیں یہ بہت خطرناک بیماری کی ایک قسم ھے احساس برتری کا شکار انسان خود کو حراست کسی سے برتر و بالا سمجھتا ھے اور اپنے عہدے اور حسب نسب پہ فخر کرتا ھے کیونکہ اس کی ذات میں کوئی صفات نہین ھوتی ہے اور اسکے اندر بےچینی اور بے سکونی ھوتی ھے تو وہ ھر وقت اپنے لباس اور اپنے گھر اور گاڑی کی تعریف ھی سُننا چاہتا ھے پھر ایسے لوگ دوسروں کی ھر وقت تضحیک کرنے سے بھی باز نہیں آتے کیونکہ اس سے انکے احساس فخر کو تسکین مل رھی ھوتی ھے ۔۔۔یہ بیماری معاشرے کے لئے پھر فساد اور بگاڑ کا سبب بنتی ھے اور بہت سے لوگوں کی دل آزاری کا ذریعہ بھی ۔۔لہذا اسکو بھی بیماری مان کر اسکا تدارک بہت ضروری ھے
    ورنہ یہ بیماری معاشرے میں ناسور کی طرح بڑھتی جارہی ہے اسکی وجوہات کو جاننا بھی ضروری ہے وجہ پتہ ھو گی تو قابو پایا جا سکتا ہے
    اس میں مبتلا لوگ اپنے ساتھ رہنے والوں اپنے کولیگز اپنے رشتہ داروں کی زندگی کو اجیرن کئے رکھتے ہیں
    بدقسمتی سے ھر دوسرے بندے میں یہ بیماری موجود ھے مادیت پرستی اور بے حسی بھی اسکی وجوہات میں شامل ہے ۔جس انسان میں تکبر نہیں ھوتا عاجزی ھوتی ھے وہ کبھی کسی کو کم تر نہیں سمجھتا اسلام میں تکبر کو شرک کے گناہ جیسا سمجھا جاتا ھے کہ جس کے دل میں رائی برابر تکبر آیا اس نے بہت بڑا گناہ کیا ۔۔اللہ پاک ھمین اپنی غلطیوں کو سمجھنے اور انکو سدھارنے کی توفیق عطا فرمائے آمین

    @ALLAHknowbetter

  • ماں کے ساتھ حُسنِ سلوک . تحریر: محمداحمد

    ماں کے ساتھ حُسنِ سلوک . تحریر: محمداحمد

    انسان کی زندگی کا سب سے خوبصورت لمحات ماں کے ساتھ گزارے لمحات ہے جن کے بغیر زندگی میں اندھیرا نظر آتا ہے مولانا رومی فرماتے تھے "کہ ماں باپ کے ساتھ تمہارا سلوک ایسی کہانی ہے جو لکھتے تم ہو لیکن پڑھ کر تمہاری اولاد سناتی ہے” اسی لئے اللہ پاک میں ماں کے قدموں تلے جنت رکھی ہے.

    خداراہ ماں باپ کے ساتھ ظلم و زیادتی نہ کریں بیشک آپ کسی بھی مزہب سے ہوں معاشرے میں دیکھا جاتا ہے کہ بچوں کی جب شادی ہو جاتی ہے تو ماں باپ کے ساتھ رویہ بدل جاتا ہے انسان اپنی انسانیت بھول جاتا ہے لیکن انسان کو ہمیشہ یاد رکھنا چاہیے جو آج حال ماں باپ کا ہے وہ حال کل تمہارا بھی ہوگا جو سوالات آج بچے اپنے ماں باپ سے کر رہے ہیں وہی سوالات کل آپ کے بچے آپ سے کریں گے اس لئے ماں باپ کی قدر کریں.

    قرآن کریم میں ارشاد ہے کہ ماں باپ کو اُف تک نہ کہو
    اللہ تعالیٰ نے عورتوں کے ساتھ حسن سلوک کا حکم فرمایا جو بچے ماں کی خدمت کرتے ہیں ماں کی عزت کرتے ہیں ماں کو اپنی کامیابی سمجھتے ہیں اس کا کوئی نعم البدل نہیں ہے ماں کی دعا ہر رستے انسان کے ساتھ ہوتی ہے.

    اج کل کے دور میں لوگ ماں کو اولڈ ایج ہوم میں چھوڑ آتے ہیں ماں کو اولڈ ایج چھوڑتے وقت ہم سب کچھ بھول جاتے ہیں کہ اللہ تعالیٰ کا فرمان اور قرآن مجید کی تعلیم ہمیں کیا درس دیتی ہے اسلام میں ماں کے احترام کا درس دیا گیا ہے خداراہ اپنے اپنے والدین کی عزت احترام کریں جن کو والدین وفات پا گے ہیں اُن کیلئے دعا خیر کریں اللہ تعالیٰ ہم سب کو اپنے والدین کی خدمت کرنے کی توفیق عطا فرمائے ۔ آمین

    @JingoAlpha

  • نوجوان  تحریر :عائشہ رسول

    نوجوان تحریر :عائشہ رسول


    نوجوانی اور صبر کا آپس میں کوئی تعلق نہیں ہوتا… جس معاشرہ کا نوجوان خاموش ہو جائے وہ معاشرہ تباہ ہو جاتا ہے…. .وہاں ظلم وناانصافی کو روکنے والا کوئی نہیں ہوتا…… وہاں بلند آوازوں اور نعروں کا رواج ختم ہوجاتا ہے۔ جلسے اور جلوس نہیں ہوتے… وہاں طاقت کے پاس حکمرانی کا حق چلاجاتا ہے. قانون بے حثیت ہوجاتا ہے وہاں قوم نہیں رعایا ہوتی ہےاور رعایا کے نوجوان انقلاب نہیں لاسکتے…. .غلاموں کی اولاد آزاد نہیں ہوتی….!!
    میرے دوستوں! قوم وہی قوم ہی بنے گی جس میں نوجوان کا شعور بھڑکے گا… حق مانگنے کا جزبہ انگڑائی لے گا… جب وقت اسے بیدار کرے گا.
    جب وہ سوچے گا اس میں کیا کمی ہے کیا وہ سرمایہ داروں کے نوجوانوں جیسا نہیں ہے .. کیا جاگیرداروں کے نوجوان کسی خاص مٹی سے بنے ہیں کیا خالق نے انہیں کسی خاص طریقہ سے پیدا کیا ہے?
    نوجوانوں صبر کا دامن چھوڑو انقلاب کا دامن تھام لو. تمہاری صلاحیتوں کو انڑنیٹ کھا ریا ہے. زہنی آورگی تمہاری دشمن ہے جو تمہارے زہنوں کو منجمد کر رہی ہے خیالوں کا بنا رہی ہے. کبھی نام نہاد سیاست اور جمہوریت کے نام پر اور کبھی ملائیت کے رویوں نام پر…
    اے غریب اور نوجوانو! اپنی مردہ صلاحیتوں کو زندگی دو. میدان عمل میں نکلو اور دشمنوں پر ٹوٹ پڑو..
    کون کون آپ کا استحصال کرہا ہے ان سے اپنا حق واپس لو.
    دیکھو تو تمہارے زہن کتنے آسودہ ہو اور کتنی زرخیزی آجاتی ہے. تمہارے زہن بڑے زرخیز ہیں زرا اس مٹی کو نم تو ہو لینے دو

    یہاں اقبال صاحب کا شعر یاد آیا کہ

    نہیں ہے نا اُمید اقبالؔ اپنی کشتِ ویراں سے
    ذرا نم ہو تو یہ مٹّی بہت زرخیز ہے ساقی

    اے نوجوانو! تم قوم کا قیمتی سرمایہ ہو. تم لازوال قوم کے بچے ہو.. مسلم قوم ایک لازوال قوم ہے. پاکستانی قوم ایک جری اور بہادر قوم ہے اِسے ایک دلیر اور دیانتدار رہنما ملا ہے.. اے خدا تیرا شکریہ تو نے ہمیں ایک ایساعمران خان جیسا لیڈر عطا کیا جو نہ خود جھکتا ہے نہ ہمیں جکھنے دے گا. آئیں سب ملا کر اپنے ملک و قوم کی ترقی و خوشحالی میں اپنے محبوب لیڈر وزیراعظم عمران خان صاحب کا ساتھ دیں…

    Official Twitter handle
    ‎@Ayesha__ra

  • جس تن لاگے، اوہی جانڑے تحریر: مجاہد حسین

    میں 5 سال کا تھا جب ابو فوت ہوئے (اللہ ان کے درجات بلند فرمائے)
    بھائیوں کے اصرار کے باوجود امی نے دوسری شادی نہیں کی،
    تین بھائی سکول میں تھے۔
    میں اور ایک چھوٹا بھائی ابھی سکول نہیں جاتے تھے۔
    ورثے میں تین کنال زمین ملی، دو کنال زرعی ایک بنجر۔
    ‏دو گائے تھیں ایک وچّھا ایک وچّھی تھی۔
    تین بکریاں تھیں۔
    شروع شروع میں رشتہ داروں اور عزیز و اقارب کی طرف سے فصل کٹائی پر صدقات کی مد میں اتنی گندم جمع ہو جاتی تھی کہ سال بھر کے لئے کافی ہوتی تھی۔
    کچھ عرصے بعد بڑے بھائی کو کالج چھوڑنا پڑا اور ویک ویگن پر کنڈکٹر لگ گیا۔
    ‏وقت گزرتا گیا
    ہماری ضروریات اس زمین اور جانوروں سے پوری ہوتی رہیں۔
    بڑے تینوں بھائی کام کاج پہ لگ گئے۔ سب سے بڑے کی شادی بھی ہوگئی۔ سرکاری ملازمت بھی لگ گئی۔
    اب اس کے بچے بھی ہو گئے تھے تو شہر میں الگ گھر بھی بنا لیا،
    لیکن ماں کو کب آرام تھا۔ ہم چھوٹے تھے
    اب توجہ کا مرکز بنے۔
    ‏کسی بھی طرح میں نے سکول (اول پوزیشن سے) پاس تو کر لیا لیکن آگے کالج داخلے کے لئے اخراجات نہیں تھے۔ بڑا بھائی جو شہر میں رہتا تھا، میرے کاغذات جمع کروا دئے اور انٹریو کی تاریخ بھی آگئی۔
    سوال یہ تھا کہ پیسے کہاں سے آئیں؟؟
    ‏اماں نے ایک وچھا پال پوس کے بیل بنایا تھا، چنگا سوہنڑا۔
    بیچنا پڑا۔۔۔
    داخلہ ہو گیا
    اور میں کالج سے گریجویٹ ہو گیا۔
    اماں کی دعا سے رزلٹ سے پہلے ہی نوکری مل گئی۔
    اور آج بیرون ملک اللہ کے فضل سے اپنی سوچ سے بھی زیادہ کما رہا ہوں۔
    سب بھائی خود مختار ہیں۔
    اپنے اپنے گھر خوش ہیں۔
    ‏ہم نے ایسے بھی دن دیکھے ہیں کہ کبھی کبھی دو دو دن تک گندم کے دلیئے میں لسی ڈال کر کھا کے گزارا کرنا پڑا۔
    اس دن ہماری عید ہوتی تھی جس دن گڑ والے چاول بنتے تھے۔
    حالات کا احساس اورادراک تھا اس لئے عید اور میلوں کا شوق پیدا ہی نہیں ہوا۔
    آج الحمدللہ خود مختار ہیں۔
    ‏سوال یہ ہے کہ جناب! یہ سب ممکن کیسے ہوا۔
    تو محترم! ماں نے کبھی ہمت نہیں ہاری۔
    نا کبھی نا شکری کی نہ ہمیں سکھائی۔
    گھر میں بندھی ان دو گائیوں، چند مرغیوں اور دو تین کنال زمین سے رب نے ماں کے وسیلے سے ایسا انتظام چلایا کہ کبھی کبھی جب آج سوچتے ہیں تو رونگٹے کھڑے ہو جاتے ہیں۔
    ‏قصہ مختصر: عمران خان نے جو غریبوں کو بھینسیں، بکریاں یا مرغیاں دی ہیں ان کی اہمیت کا اندازہ ملاوٹ والا دودھ، پلاسٹک کے انڈے اور پانی سے بھرا گوشت کھا کر اسٹنٹڈ گروتھ کے حامل ٹھنڈے کمروں میں بیٹھے بے ضمیروں کو نہیں ہوگا۔

    کیونکہ جناب!
    جس تن لاگے، اوہی جانے

    @Being_Faani