Baaghi TV

Category: معاشرہ و ثقافت

  • بھیک مانگنا ایک کاروبار . تحریر : اعجازاحمد پاکستانی

    بھیک مانگنا ایک کاروبار . تحریر : اعجازاحمد پاکستانی

    آجکل بھیک مانگنا ایک پیشہ بن گیاہے۔ اوربھکاری لوگوں سے پیسے لینااپنا حق سمجھتے ہیں۔ عموماً بھکاریوں کوشہر کے چوک, چوراہوں, ریسٹورینٹس, شاپنگ مالز, مارکیٹوں اور ہسپتالوں کے باہر دیکھا جاتا ہے۔ ٹریفک سگنلز بند ہوتے ہی بھکاریوں کا ایک ٹولہ امڈ آتا ہے اور ہر گاڑی, رکشے اوربائیک پر بیٹھے لوگوں کوتنگ کرنا شروع کردیتے ہیں۔ اور اسطرح یہ گداگر پورا دن چاروں اطراف کے سگنلز پر گھومتے رہتے ہیں.

    گداگری ایک ایسی بیماری ہے جو ایک دفعہ لگ جائے تو گویا کینسر کیطرح جان لیکر ہی چھوڑتی ہے۔
    ہمارے شہری بھی اس گداگری کو پروان چڑھانے میں ان گداگروں جتنے ہی شامل ہیں۔ کیونکہ ہم جب انکو پیسے دیتے ہیں تو ان کے لاشعور میں یہ بیٹھ جاتا ہیں کہ گویا یہ تو ہمارا حق ہے جو انہوں نے دینا ہے۔ اسطرح یہ لوگ اس میں پختہ ہوجاتے ہیں اور پھر یہ کام تادمِ مرگ جاری رکھتے ہیں اور اپنی اگلی نسلوں کو بھی اس کیلئے تیار کرتے ہیں۔ اسطرح یہ لوگ اپنے بچوں کوانجنیئر, ڈاکٹر, سائنسدان اور تاجر نہیں بناتے بلکہ پیشہ ور اور بے ضمیر گداگر بناتے ہىں جو کہ ملک وقوم کیلئے ایک ناسور ہوتا ہے اور عالمی سطح پر بھی ہمارے لئے شرمندگی باعث ہوتا ہیں.

    من حیث القوم ہمیں اس بیماری کو جڑ سے اکھاڑنا ہوگا اور اپنے آنے والی کو بھی یہ سبق دیکر جائینگے کہ یہ گداگری ختم کرنا ایک تحریک ہے نہ کہ ایک وقتی جدوجہد-

    @IjazPakistani

  • عزت اور زلت  تحریر : اسامہ ذوالفقار

    عزت اور زلت تحریر : اسامہ ذوالفقار

    ‏وَتُعِزُّ مَن تَشَآءُ وَتُذِلُّ مَن تَشَآءُ ۖ بِيَدِكَ ٱلْخَيْرُ ۖ إِنَّكَ عَلَىٰ كُلِّ شَىْءٍۢ قَدِيرٌ

    اس کا یہ ترجمہ کیا جاتا ہے وہ جسے چاہے عزت دے اور جسے چاہے زلت اور اللہ ہر چیز پر قادر ہے۔
    ‏عزت اور زلت کی باتیں ہر گلی محلے میں ہو رہی ہوتی ہیں مثلا ایک شخص ابھی کل جاتیاں چٹخاتا پھر رہا تھا اور آج لاکھوں کا مالک ہو گیا خواہ وہ دولت سٹے بازی چور بازاری سمگلنگ رشوت وغیرہ کے زریعےہی کیوں نہ حاصل ہوئی ہو اور دوسری طرف کوئی نوابوں کےخاندان کا لڑکا جو کل تک مرسیڈیز ہر ‏ہوا خوری کرتا تھا آج بھیک مانگتا دکھائی دےرہا خواہ اس نےاپنی جائیداد شراب خوری میں ہی کیوں نہ آڑا دی ہو۔۔۔ اور لوگ پتہ ہے کیا کہتے ۔۔۔۔ ہاں بھائی اللہ کی شان وہ جسے چاہے شاہ بنا دے جسے چاہے گدا اسکے ہاں کسی کو دم مارنے کی اجازت نہیں یہ ہے باطل مفہوم جو ہم لیتے ہیں.
    ‏پہلی بات قرآن میں جسے عزت اور زلت کہا گیاہے ہمارے معاشرے میں اس عزت اور زلت کا مفہوم بلکل الٹا ہے ہمارے ہاں عزت کا معیار کیا ہے؟ دولت ہے نا؟ خواہ اس کا کیریکٹر جو بھی ہو معاشرہ تو اسے ہی بڑا آدمی سمجھتا ہے اور غریب کا بچہ جتنا ہی شریف کیوں نہ معاشرہ اسے کبھی عزت کی نگاہ ‏سے نہیں دیکھتا ابھی تجربہ کریں آپکے گھر میں ایک کروڑ پتی شخص نے آنا ہو تو آپکا اہتمام قابل دید ہو گا ۔۔۔
    نہ صرف یہ کہ ہمارا عزت اور زلت کا معیار قرآن کے بالکل الٹ ہے اورتو اور ایک ظلم اور کرتے کہ وہ جسے چاہے عزت دیتا ہے بس یونہی اور وہ جسے چاہتا زلت دیتا ہے.
    ‏بس یونہی؟ یعنی اللہ کے ہاں کوئی قانون اور ضابطہ سرے سے ہے ہی نہیں؟؟ نعوذ باللہ؟ یعنی یونہی کسی کو عزت دے اور دل کرے تو زلیل کر دے؟؟ نعوز باللہ؟ یہ ہے ہماری قرآن فہمی؟ یہ تصور ہے اللہ رحمان کا کہ جیسے ہمارے معاشرے میں کوئی قانون قاعدہ نہیں ایسے خدا کےہاں بھی نعوز باللہ ‏کوئی اصول نہیں؟؟؟ کیا اللہ رحمان ایسا ہو سکتا؟؟؟
    اللہ تعالی کے ہاں کوئی بے اصولی نہیں ہوتی اور کائنات کے جملہ امور مشیعت الہی کے کے تحت میرٹ پر انجام پاتے ہیں پہلے اسے تو اپنے پلے سو فیصدی یقین سے باندھ لیں. اللہ کے ہاں کوئی شارٹ کٹ نہیں ایک منظم اور مہذب نظام ہے جس کے تحت ‏عزت اور زلت ملتی ہے اور ہاں ہمارے معاشرے کی جھوٹی عزت اور زلت مراد نہیں قرآن کے اندر عزت اور زلت کے معانی اور ہیں.

    Twitter id : RaisaniUZ_

  • عورت اور ہمارا معاشرہ  تحریر : امیرحمزہ کمبوہ

    عورت اور ہمارا معاشرہ تحریر : امیرحمزہ کمبوہ

    ‏ہمارے معاشرے میں عمومی طور پر ایسا ہی ہوتا ہے کہ جب بہو بیاہ کر گھر میں آتی ہے تو اس سے بیٹا پیدا ہونے کی امیدیں لگا لی جاتی ہیں ، اگر بیٹا پیدا نہ ہو اور بیٹی کے بعد پھر بیٹی پیدا ہو جائے تو جب تک بیٹا پیدا نہ ہو تب تک خاندان میں اضافہ جاری رکھنے کا سوچا جاتا ہے چاہے اس کوشش میں پہلے سے موجود بیٹیوں کی صحیح تربیت ، صحت اور خوراک کو نظر انداز ہی کیوں نہ کرنا پڑے

    اور اس بات کا الزام بھی ہمیشہ عورت کو ہی ٹھہرایا جاتا ہے کہ تیسری بیٹی کے بعد چوتھی بیٹی پیدا کیوں ہوئی ہے ، لیکن شاید کبھی کسی کے دل میں یہ خواہش پیدا ہوئی ہو کے تیسرے بیٹے کے بعد چلو چوتھی بیٹی ہی پیدا ہو جاتی

    ہمارے معاشرے میں آنے والے بچے کی جنس چاہے مرد ہو یا عورت لیکن اس عمل میں ہمیشہ عورت کو ہی کٹہرے میں کھڑا کیا جاتا ہے جس عورت کے ہاں خدانخواستہ زیادہ بیٹیاں پیدا ہوجائیں تو اس کے سسرال والے بھی اسے حقارت کی نگاہ سے دیکھتے ہیں اور یہاں پر قابل ذکر بات یہ ہے کہ اس کے ساتھ برا سلوک کیا جاتا ہے اور یہ سب کرنے والی بھی ایک عورت یعنی کے اس کی ساس ہی ہوتی ہے

    لیکن اگر عورت کے بھائی اور ماں باپ کا سایہ سر پر ہوگا اور وہ خیال کرنے والے ہوئے تو عورت کا قادر سسرال میں قدرے مضبوط ہوگا ، لیکن اگر اسی عورت کے ہاں بیٹے پیدا ہوجائیں تو اس کی بطور بیوی اور بہو کی حثیت مضبوط ہوگی اور اس سے گھر میں بطور خوشیاں لانے والی عورت کا تصور کیا جائے گا

    اللہ پاک سورہ شوری میں ارشاد فرماتے ہیں
    ترجمہ: اللہ جو چاہتا ہے پیدا کرتا ہے، جس کو چاہتا ہے بیٹیاں دیتا ہے اور جس کو چاہتا ہے بیٹے دیتا ہے۔اور جس کو چاہتا ہے بیٹے اور بیٹیاں دونوں دیتا ہے۔

    اگر اس ارشاد باری کو مدنظر رکھا جائے تو آج کی عورت سمجھنے سے قاصر ہے کہ اولاد کی جنس کا ذمہ دار ہمیشہ عورت کو ہی کیوں ٹھہرایا جاتا ہے !

    اور نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے ارشاد باری کا مفہوم ہے کہ
    جس نے اپنی دو بیٹیوں کو پالا پرورش کی اور ان کا نکاح کر دیا تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے دو انگلیوں کا اشارہ کرتے ہوئے فرمایا کہ وہ جنت میں میرے ساتھ ایسے ہوگا جیسے یہ دو انگلیاں آپس میں جڑی ہوئی ہیں

    اس لیے ہمیشہ بیٹی کی پیدائش پر مجرم عورت کو ٹھہرانا بالکل بھی درست نہیں ہے

    Twitter handle @AHK_313

  • ٹک ٹاک پر پابندی مسئلے کا حل ہے  ؟  تحریر: احسن ننکانوی

    ٹک ٹاک پر پابندی مسئلے کا حل ہے ؟ تحریر: احسن ننکانوی

    پاکستان میں ٹک ٹاک پر ایک بار پھر پابندی ۔

    ذرائع کے مطابق :
    ٹک ٹاک پر پابندی غلط مواد اپلوڈ کرنے کی وجہ سے لگائی گئی ہے ۔
    پریوینشن آف الیکٹرانک کرائمز ایکٹ 2016 کی متعلقہ دفعات کی روشنی میں پاکستان ٹیلی کمیونیکیشن نے ملک میں ٹِک ٹاک ایپ اور ویب سائٹ پر پابندی لگا دی ہے۔
    جس پر پی ٹی اے نے بیان دیا کے نا مناسب مواد اپلوڈ کرنے کی وجہ سے ٹک ٹاک پر پابندی لگائی گئی۔

    اس سے پہلے رواں برس مارچ میں بھی پی ٹی اے نے پشاور ہائی کورٹ کے حکم پر ٹک ٹاک ایپلی کیشن پر پابندی عائد کی۔

    پشاور ہائی کورٹ کے چیف جسٹس نے ٹک ٹاک کے خلاف درخواست پر سماعت کرتے ہوئے کہا تھا کہ ’ٹک ٹاک پر ڈالی جانے والی ویڈیوز ہمارے معاشرے کے لیے قابل قبول نہیں ہیں۔‘ ہاں ایسا ہے بھی بہت ساری ویڈیوز ایسی ہوتی ہیں جو بالکل نا مناسب ہوتی ہیں

    چیف جسٹس کا کہنا تھا کہ ٹک ٹاک ویڈیوز سے معاشرے میں بے راہ روی پھیل رہی ہے، اسے فوری طورپر بند کیا جائے۔

    رواں برس جون میں سندھ ہائی کورٹ نے بھی ٹک ٹاک پر غیر اخلاقی مواد اپلوڈ کیے جانے کے حوالے سے دائر درخواست پر فیصلہ سناتے ہوئے ایپ پر پاکستان بھر میں پابندی عائد کرنے کا حکم صادر کیا تھا۔
    درخواست گزار کا کہنا تھا کہ بہت بار اس کی شکایت پی ٹی اے کو کی ہے لیکن انہوں نے اس پر ایکشن نہیں لیا ہے ۔
    درخواست گزار کی بات مانتے ہوئے ۔
    پھر سندھ ہائیکورٹ نے اس ایپ پر پابندی لگوا دی۔
    اب بات یہ ہے کیا ٹک ٹاک پر پابندی لگانا مسئلے کا حل ہے؟
    جب ٹک ٹاک پر پابندی لگائی جاتی ہے تو اس کے مقابلے والی ویب سائٹس ہیں۔ لوگ ان پر منتقل ہوجاتے ہیں۔
    اس طرح جتنے بھی لوگ ٹک ٹاک پر موجود ہیں وہ سارے اب ایپس کو استعمال کرتے ہیں۔
    اور ان کی ریٹنگ بڑھتی ہے ۔
    ٹک ٹاک پر پابندی لگانے سے مسئلہ حل نہیں ہوگا۔
    مسئلہ حل ہوگا جو مواد اپلوڈ کیا جاتا ہے ۔
    بے ہودہ اور غیر اخلاقی مواد اس کی روک تھام کی جائے ٹک ٹاک پر بہت سارے لوگ ایسے ہیں جو پاکستان کے کلچر کو پروموٹ کر رہے ہیں۔
    جن میں سر فہرست ‘زنیر کمبوہ ‘ کبیر آفریدی ‘ اور بھی بہت سارے بھائی ہیں۔
    اس کے علاوہ بہت ساری معلوماتی ویڈیوز بھی لوگ بناتے ہیں۔
    میں کچھ ایسے لوگوں کو بھی جانتا ہوں جو خالص اسلامی ویڈیوز بناتے ہیں اور لوگ کو شعور دلاتے ہیں۔
    بہت سارے دوست شاعری کی ویڈیوز بناتے ہیں اور اپنے ادبی ورثہ کو پروموٹ کرتے ہیں جن میں میں بھی سر فہرست ہوں۔
    میں یہ بات نہیں کرتا کہ پابندی لگی ہے تو کیوں۔ اس پر ٹک ٹاک ایپلی کیشن کی کمپنی کے ساتھ بات کرنی چاہیے۔
    کہ فلاں فلاں مواد کو اپنے ایلگورتھم میں ڈالے اور اگر ایسا مواد اپلوڈ ہو تو اس اکاؤنٹ کو فوری طور پر بلاک کیا جائے ۔
    اور ان کو کمیونٹی گائیڈ لائنز کا میسج بیجھا کیا جائے ۔
    اگر ہم کوئی اسلامی بات کرتے ہیں تو ہم کو کمیونٹی گائیڈ لائنز کا پیغام آ جاتا ہے۔
    اس کے علاوہ جیسے اگر کوئی بندہ اسلحہ اور کوئی لڑائی کی ویڈیوز ڈالتا ہے تو اس کی ویڈیو بلاک کر دی جاتی ہے۔
    ایسے ہی اگر کوئی غیر اخلاقی مواد اپلوڈ کرتا ہے۔تو اس کی ویڈیو فوری طور پر بلاک کرنی چاہیے۔
    ٹک ٹاک پر پابندی مسئلے کا حل نہیں ہے۔
    کیوں اس ایپلیکیشن سے ہمیں بہت کچھ سیکھنے کو ملتا ہے۔
    اسلامک کلپس ، پاکستان کے سیاحتی مقامات، کھانے پکانے کی ٹپس، ادبی ورثہ شاعری، ایجوکیشنل اقوال ، اب ہم ٹیکنالوجی کی دنیا میں جی رہے ہیں۔
    تو ہم اس حالات کے مطابق چلنا ہوگا۔
    اگر لوگ اس کو غلط استعمال کر رہے ہیں۔ تو تم اس کو اچھائی کے لئے استعمال کرو ۔
    پابندی مسئلے کا حل نہیں ہوتی یہ تو اس بات کی دلیل ہے کہ تم اس سے ہار گئے۔

  • پردیسی اور انکی عید . تحریر : حسن ریاض آہیر

    پردیسی اور انکی عید . تحریر : حسن ریاض آہیر

    وہ عید بے دید ہی ہوتی ہے جو اپنے دیس اپنے پیاروں کے درمیان نہیں بلکہ پردیس میں ہو۔ روشن مستقبل کی تلاش میں بہت سے پاکستانی اس وقت بیرون ملک مقیم ہیں جو محنت و مزدوری کر کے پاکستان میں موجود اپنوں اور انکی خوشیوں کے لیے قربانیاں دیں رہے ہیں۔
    پردیس کی ڈیوٹی بہت سخت ہے اکثر تو بیچارے کچھ لوگ عید کی نماز پڑھ کر اپنے کام پر پہنچ جاتے ہیں اور جنکو کو چھٹی ہو وہ موقعے کو غنیمت جان کر اپنی نیند پوری کرتے ہیں۔

    حالات کیسے بھی ہوں، کوئی تہوار ہو، خوشی ہو یا غمی، موسم کیسا بھی ہو پردیسیوں کے لیے راحت کی گنجائش بہت کم ہوتی ہے۔ یہ خود کو مشکل و مصیبت میں ڈال کر تکلیفیں سہہ کر اپنوں کی خوشیوں کا سبب بنتے ہیں۔

    میرے ایک دوست کی مجھے عید کے دن کال آئی اور وہ مجھے پریشانی میں مبتلا محسوس ہوا، جب میں نے اس سے وجہ پوچھی تو اس نے کہا کہ جن کی خاطر اتنے سالوں سے پردیس میں دھکے کھا رہا ہوں، تکلیفیں جھیل رہا ہوں آج عید کا سارا دن گزر گیا اسی انتظار میں کہ ابھی کوئی عید مبارک کہنے کے لیے کال کریں گا لیکن شاید کسی کو یاد ہی نہیں، ہاں لیکن ٹھیک ایک دن پہلے کال آئی تھی اور مجھے کہا گیا تھا کہ عید آ رہی پیسے بھیج دینا اور میں اسی دن کا بھیج چکا ہوں۔ یہ اس کے الفاظ بہت تکلیف دہ تھے۔ انسان کی قدر کم اور پیسے کی قدر زیادہ ہو چکی ہے۔

    تو جن کے گھر کے فرد خواہ کوئی چھوٹا ہو یا بڑا پردیس میں ہو تو اس کو بھولا نا کریں کیونکہ عید کے دن جو آپ خوشیاں منا رہے ہوتے ہیں وہ اسی کے خون اور پسینے کی محنت کے بدولت ممکن ہو پاتا ہے۔

    @HRA_07

  • پیش خیمہ قیامت . تحریر : کامران واحد

    پیش خیمہ قیامت . تحریر : کامران واحد

    ماحولیاتی تبدیلی زمین پر رونما ہونے والی سب سے ہولناک اور تباہ کن تبدیلی ہے اس مسئلےاور اس کی سنگینی کو پچھلی چند دہائیوں میں بالکل نظر انداز کیا گیا اس وقت زمین کی سطح کا درجہ حرارت صنعتی انقلاب سے قبل کے درجہ حرارت سے ۱یک اعشاریہ دو ڈگری سینٹی گریڈ بڑھ چکا ہے.

    ۲۰۱۹ میں زمین پر ماحولیاتی تبدیلی کی وجہ سے جنم لینے والے چند مسائل درج ذیل ہیں
    ۱- گرین لینڈ ، جو کہ ایک جحیم برفانی جزیرہ ہے، اس وقت تیزی سے پگھل رہا ہے جس کی وجہ سے سمندروں کے پانی میں خطرناک حد تک اضافہ ہو رہا ہے-
    ۲- برازیل، کولمبیا اور جنوبی امریکا کے دیگر ممالک میں پھیلا ہوا ایمازون جنگل ،جسے دنیائے ارض کا نظام تنفس سمجھا جاتا ہے ، بہت بڑی آگ کی زد میں آیا جس سے جنگلی حیات کو خطرات کے ساتھ ساتھ موسمی تغیرات میں اضافہ ہورہا ہے-
    ۳- اسی طرز کی ایک آگ انڈونیشیا کے جنگلات میں بھی بھڑک اٹھی ہے
    ۴- مختلف خطوں میں موسم کاشتکاری کیلئے غیر موزوں ہو رہا ہے جس سے دنیا میں غذائی اجناس کی قلت کا خوف ہے-
    ۵- موسمی آفات میں غیر معمولی شدت اور اضافہ ہے جن میں امریکی ریاست باہاماس میں آنے والا “ہری کین” سرِفہرست ہے-
    ۶- فضائی آلودگی کے سبب اس برس دنیا میں ناقابلِ رہائش شہروں کی فہرست مزید طویل ہوئی اور پاکستان کے تین شہر اس میں شامل ہوئے-
    ۷- دنیا میں اس وقت صاف اور تازہ پانی کی شدید قلت کا خطرہ ہے جس میں جنوبی ایشیا اور وسطی ایشیا کے ممالک شامل ہیں.

    اب جہاں عمران خان صاحب کا بلین ٹری سونامی پاکستان میں پنپ رھا ھے ، اسی طرح ساؤتھ اور سینٹرل ایشیاء کے ممالک کو بھی انیشیٹو لینا ھو گا۔ امید ھے اس بارے میں تمام ممالک سر جوڑ کر بیٹھیں اور مناسب حکمت عملی اپنائیں اور آنے والی نسلوں کا سوچیں۔

    پاکستان زندہ باد
    عمران خان پائندہ باد

    Twitter : @KhanKamoo

  • ٹیچراور سزا . تحریر :  محمد وقاص شریف

    ٹیچراور سزا . تحریر : محمد وقاص شریف

    نبی آ خر الزماں صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے اتنا فخر آخری نبی صلی اللہ علیہ وسلم ہونے پر نہیں کیا۔ جتنا اپنے آپ کو معلم کہنے پر کیا۔ زبان زد عام میں دیکھا جائے تو نبی کا درجہ ایک معلم سے کہیں زیادہ ہے۔ مگر نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم ہے کہ معلم ہونے اور کہلانے پر متفخر ہیں۔ ایک استاد اپنے طالب علم کو سزا دے سکتا ہے یا نہیں اس بات کا اندازہ لگانے سے پہلے یہ دیکھ لیتے ہیں کہ اسلام میں سزا کا تصور ہے یا نہیں۔ انسانی زندگی میں جس طرح جزا کا تصور ہے۔ اسی طرح سزا کا بھی تصور ہے۔ رب العزت نے انسان کو پیدا کیا اور فرمایا کہ نیکی اور بدی کا اختیار تیرے ہاتھ میں دیتا ہوں مگر یاد رکھ نیکی کی صورت میں جنت اور بدی کی صورت میں دوزخ تیرا مقدر ہو گی۔ یہ تو آخرت کی بات تھی۔ دنیا بھر میں عدالتی نظام موجود ہیں۔ پولیس اور ایجنسیز متحرک ہیں.

    وہ مختلف جرائم کرنے والوں پر ہاتھ ڈالتی ہیں۔ ان کو گرفتار کرتی ہیں۔ اور ایک منظم عدالتی نظام کے ذریعے ان کو اپنے کیے کی سزا ملتی ہے۔ اسی دوران بے گناہ افراد کو باعزت رہائی بھی ملتی ہے۔ نماز کے بارے میں حکم ہے۔ کہ بچہ 7سال کا ہو جائے تو اسے پیار سے نماز پڑھنے کا کہیں نہ پڑھے تو ڈانٹے اور اگر ڈانٹ بھی کم پڑ جائے تو آ سے سزا دیں۔ یاد رہے کہ سزا سے مراد تشدد ہرگز نہیں۔ کیونکہ مقصدیت بچے کی اصلاح ہے۔ کھال اتارنا ہرگز نہیں۔ دنیا کا کوئی بھی معاشرہ بچوں پر درندگی کی اجازت نہیں دیتا۔ لیکن سوال یہ ہے کہ اگر استاد بندہ بشر ہونے کی بنیاد پر کسی بچے کو معمول سے زیادہ سزا دے بیٹھتا ہے تو آس کے ساتھ کیا سلوک ہونا چاہئے کہا جاتا ہے کہ” غلطی فطرت آ دم ہے کیا کیا جائے۔ اس کا ایک اعلی ترین اخلاقی اور مذہبی حل یہ ہے کہ اس کو ایک موقع دیا جائے کیونکہ اس نے یہ فعل ذاتی دشمنی یا رنجش کی بنیاد پر نہیں کیا ہوتا بلکہ اس کو اس بات کا صدمہ دکھ اور رنج ہوتا ہے کہ آس کی اتنی زیادہ توجہ اور محنت کے باوجود بچہ اس کے کیے کرائے پر پانی پھینک دیتا ہے اس کی توقعات کا جنازہ نکالتا ہے تو وہ مایوسی اور ذہنی تناؤ کی بنیاد پر بچے پر ہاتھ اٹھا دیتا ہے۔ جس سے بعض اوقات بچے زخمی ہو جاتے ہیں اور والدین اپنے بچوں کی تکلیف برداشت نہیں کر پاتے اور یوں ایک جھگڑے کی فضا پیدا ہو جاتی ہے۔ پچھلے دنوں سند یلیا نوالی کے ایک نجی سکول میں بھی اسی طرح کا واقعہ پیش آیا۔ بچے پر تشدد کا معاملہ سامنے آیا جس پر ورثاء نے ٹیچر کو کوئی موقع دئیے بغیر اس پر چڑھائی کر دی۔ اور بھرے شہر میں اس کی عزت مٹی میں ملا دی۔

    بات یہیں پر ختم نہیں ہوئی دوران تشدد ٹیچر کی نہ صرف ویڈیو بنائی گئی بلکہ اسے وائرل بھی کیا گیا۔ پیغمبرانہ پیشے کے حامل استاد پر جس درندگی کا مظاہرہ کیا گیا وہ باعث شرم ہے۔ اگر استاد کو ایک موقع دیا جاتا تو یقیناً اس طرح کا واقعہ کبھی بھی پیش نہ آتا لیکن ایک عالم کو جہالت کی بھینٹ چڑھا دیا گیا۔ جس سے انسانی سر شرم سے جھک گئے اس تشدد سے بچے کے زخم تو نہیں بھرے لیکن استاد کے زخم ہمیشہ کے لئے ہرے ہو گئے۔ حضرت علی کرم اللہ وجہہ الکریم کا ارشاد ہے جس نے مجھے ایک لفظ بھی پڑھایا وہ میرا آ قا اور مولا ہو گیا۔مہذب معاشرے میں انجانے میں کسی شخص کو عدالت میں بلایا جاتا ہے جب جج صاحب کو پتا چلتا ہے کہ یہ شخص جو اس وقت عدالت میں موجود ہے وہ ایک ٹیچر ہے تو وہ کرسی چھوڑ کر احتراماً کھڑا ہو جاتا ہے۔غور طلب بات یہ ہے جس بچے کو ٹیچر چھ سال سے پڑھا رہا تھا اور اس کی تعلیم و تربیت کر رہا تھا اس کے مرتبے کا اندازہ لگانا ناممکن ہے۔
    تھوڑا کہئیے کو بہت جانئے گا۔

    @joinwsharif7

  • حجاب پر پابندی . تحریر : محمد ذیشان

    حجاب پر پابندی . تحریر : محمد ذیشان

    یوروپی عدالت انصاف نے اس ہفتے فیصلہ دیا تھا کہ مسلمان خواتین کو حجاب پہننے کی وجہ سے برطرف کیا جاسکتا ہے۔ اس جارحانہ فیصلے سے اسلامو فوبیا کو مزید تقویت ملے گی ، مسلم خواتین کو مزید پسماندہ اور الگ تھلگ کیا جائے گا ، اور اس خلاء کو اور گہرا کیا جائے گا، یہ فیصلہ بدلا جانا چاہئے۔ ایک مسلمان عورت کا حجاب عیسائی راہبہ کے حجاب سے کس طرح مختلف ہے سوائے اس کے کہ یہ الگ عقیدے کے لئے ہے؟ خواتین کو یہ بتانا مضحکہ خیز ہے کہ وہ اس طرح پہن سکتی ہیں نہ کہ اس طرح۔

    یوروپی یونین اور نام نہاد عدالتی نظام دوسرے مذاہب کے احترام اور فرائض کی خلاف ورزی کرکے مذہب کی جنگ لڑ رہے ہیں ، جس سے تشدد میں خوفناک حد تک اضافہ ہوگا۔ یہ فیصلہ بین المذاہب ہم آہنگی کی تمام کوششوں کو الٹ دے گا۔ مجھے٪ 99 فیصد یقین ہے کہ وہ یہ نہیں سوچیں گے کہ دوسرے مذہبی گروہوں نے بھی ایسے ہی احکامات لگانا قبول کرلیا ہے جنہوں نے اپنے بالوں کو ڈھانپنے کا انتخاب کیا ہے (آرتھوڈوکس یہودی خواتین ، راہبہ وغیرہ) اگر آپ مختصر یا مکمل طور پر لباس پہننا چاہتے ہیں اور آپ مسلمان نہیں ہیں تو کیا اس کی اجازت ہوگی؟

    میرا جسم میری مرضی کا کیا ہوا؟ یوروپی یونین کی سپریم کورٹ نے فیصلہ دیا ہے کہ اگر مسلمان خواتین گاہکوں کے ساتھ آمنے سامنے کام کریں یا ملازمت کی جگہ پر مذہبی لباس پہنیں تو حجاب یا ہیڈ سکارف پہننے والی خواتین کو برطرف کردیا جائے۔ یوروپی یونین کی عدالتوں نے فیصلہ دیا ہے کہ اگر ان کا مذہبی لباس کام کی جگہ پر تنازعہ پیدا کرتا ہے تو کمپنیاں حجاب کرنے والی خواتین کو برطرف کرسکتی ہیں۔
    کاش وہ متعصب افراد اور نسل پرستوں کے معاملے میں اتنے سخت ہوتے جن کا کام ہی اسلامو فوبیا کی اصل وجہ ہے۔ ہزاروں مسلم خواتین اور مذہبی گروہوں نے یورپی یونین کی عدالت کے کام کے مقام پر ہیڈ سکارف پر پابندی عائد کرنے کے فیصلے کو مسترد کرتے ہوئے اسے "امتیازی سلوک” اور "مسلم خواتین کی پولیسنگ” قرار دیا ہے۔

    تو مغربی ممالک کی بڑی بڑی باتیں کہاں ہیں جو کہتے ہیں کہ ‘عورتیں جو چاہیں پہن سکتی ہیں’۔ اس غیرجانبداری سے اندازہ لگائیں، اس معاملے میں پگڑی یا صلیب پہننا شامل نہیں ہے۔ یورپ کی اعلیٰ عدالت نے صنفی اسلامو فوبیا کو بڑھانے اور مسلم خواتین کو نشانہ بنانے والی نفرت سے نمٹنے کے بجائے ، نفرت کا اظہار کیا اور نفرت کو فروغ دیا۔

    اسلامو فوبیا کے بڑھتے ہوئے واقعات خاص طور پر مغرب میں تشویش کا باعث ہیں، جس پر عالمی برادری کی فوری توجہ کی ضرورت ہے۔ یورپی یونین کو ان کے حجاب پر پابندی پر شرم آنی چاہئے! کسی کے مذہب کا اظہار کرنا گاہکوں کے ساتھ کسی کے معاملات کو محدود یا تبدیل نہیں کرتا ہے یا کسی کے ساتھ سلوک کرنے کے اس طریقے کو متاثر نہیں کرتا ہے، یہ غنڈہ گردی اور اسلامو فوبیا ہے۔
    نفرت انگیز جرائم ، امتیازی سلوک، اسلامو فوبیا اور باقی سبھی چیزوں پر پردہ پوشی اوران کی رپورٹنگ کرنے کے لئے تمام مسلم صحافیوں کا بہت بہت شکریہ اور ہم سب کو اس معاملے میں اپنی آواز بلند کرنی چاہیے.

    @Zeeshanvfp

  • ‏مرد کو بھی درد ہوتا ہے!  تحریر: ماہ رخ اعظم

    ‏مرد کو بھی درد ہوتا ہے! تحریر: ماہ رخ اعظم

    بچپن سے والدین اپنے بیٹے کے ذہن پر یہ بات نقش کردیتےہیں کہ مرد روتا نہیں ، انہیں درد نہیں ہوتا ہے جو انہیں نفسياتی مریض بنا دیتا ہے حقیقت تو یہ ہے کہ مرد کو بھی درد ہوتا ہے اسے بھی تکلیف ہوتی ہے اسکے بھی جذبات ہوتے ہیں انہیں بھی ایسے سہارے کی ضرورت ہوتی ہے جو انہیں راحت فراہم کریں مرد کا بھی دل کرتا ہے کہ کوٸی اس بھی ویسا خیال رکھے جیسا وہ سب کا رکھتا ہے مرد بھی چاہتا ہے کہ وہ کھل زندگی جی سکے مگر ذمہ داریوں کے بوجھ تلے دب کر رہ جاتا ہے

    اگر بات کریں اپنے والد کی تو والد کی قربانیاں کا تذکرہ کرتے کرتے زندگی کی شام ہوجاٸے کیونکہ باپ جو اپنی اولاد کے لیے قربان کرتا ہے ناں وہ اولاد کبھی اس کی قیمت ادا نہیں کرسکتی ہے والد بھی توایک مرد ہوتا ہے جو اولاد کے لیے زمانے کی سختیاں تک برداشت کرلیتا ہے والد بےشک سخت مزاج کے ہو مگر ان کا دل بھی بہت نازک ہوتا ہے جب اولاد اپنے باپ یہ کہتی تو میرے کیا ہے تب بھی مرد کو درد ہوتا ہے کیوں ناں جس اولاد کے لیے وہ خواب مار دیتے ہے اس اولاد کے آرام و سکون کے لیے اپنا آرام سکون برباد کرتا ہے اپنی اولاد کے اپنے بوس سے گالیاں تک کھا لیتا ہے انکی خواہشات کو پورا کرتے کرتے ان کی کمر تر جھک جاتی ہے اور اولاد کہہ دیتی ہے تو نے میرے لیے کیا کیا ہے

    یہ الفاظ باپ کے دل کو توڑ کر رکھ دیتے ہیں اور زمانے کے ڈر سے باپ کھل کر رو بھی نہیں پتا ہے ہر درد چپ چاپ سہتا ہے اندر اندر مرتا رہتا ہے کیونکہ ہمارا معاشرے کا یہ تصور بنا ہوا ہے کہ مرد کو درد نہیں ہوتا ہے یہاں تو مرد کے ایک روپ کی بات کی ہے باقی کے روپ کا درد جان کر آپ کلیجہ منہ کوآجاٸے گا

    آخر میں بس اتنی گزارش ہے کہ معاشرے اس تصور کو مٹا دیا جاٸے کہ مرد کو درد نہیں ہوتاہے انہیں اپنے درد بانٹنے دیں اور اس جہالہانہ سوچ کو ختم کردے کیونکہ درد تو سب کو ہوتا ہے۔۔

    اللہ آپکا حامی و ناصر ہو آمین

     blockquote>

  • لبرلزم  تحریر : عثمان غنی

    لبرلزم تحریر : عثمان غنی

    عزتوں کے کچرا دان میں ایک اور بھرے ہوئے شاپر کا اضافہ۔ڈالنے والے صاحب نے بڑی شان سے زلت کے بازار سےبےغیرتی کی چادر لی اور تمکنت بھری چال چلتا ہوابے حیائی کے دفتر پہنچا۔وہاں ایک لمبا عرصہ غلیض زہنیت کی کلاس لی۔اب تربیت مکمل ،جزبے بلند ،سوچ پختہ،اور دماغ اپنی حفظ کی گئی چیزوں کو عمل میں لانے کے لئے بےتاب ہے۔۔۔غالبا تھیوری کو جتنا بھی کلاس میں رٹا جائے مگر جب تک اسے پریکٹکلی پرفارم نہ کیا جائے وہ کسی کام کی نہیں ہوتی۔اب وہ صاحب بھی عملی زندگی میں ہیں۔اور وہ کس حد تک کامیاب ہوتے ہیں اس بات کا انحصار اس سے بلواسطہ یا بلاواسطہ منسلک لوگوں کی بزدلی اور کم فہمی پر ہے۔ایسے لوگ اس کا زبردست ترین شکار ہیں جو لبرل ازم (اندر ہی اندر اسی سے دوستی کے خواہاں)کے خواہاں ہیں۔وہ صاحب آہستہ آہستہ اپنا حلقہ احباب بڑھاتے جاتے ہیں۔اور حلقہ احباب میں ہے کون۔۔۔۔۔یا تو کچے زہن کا کم عمر طبقہ یا پھر انہیں صاحب جیسے آزادی (بےراہ روی)طلب گار۔۔یہ صاحب اپنی تبلیغ کا آغاز اخلاق سے عاری گفتگو کر کے کرتے ہیں۔اور اس گفتگو کے بعد ان کو تین طرگ کے لوگ ملتے ہیں ۔ایک وہ جو ان کا بھرپور ساتھ دیتے ہیں۔دوسرے وہ جو چپ رہتے ہیں ۔تیسرے وہ جو ان کو برا خیال کرتے ہین اور ممکن حد تک ٹوکنے کی کوشش بھی کرتے ہیں۔اب جو پہلے گرہ کے لوگ ہوتے ہیں بغیر کسی محنت کے ان صاحب کی باتوں میں آجاتے ہیں۔بلکہ وہ ہوتے ہی انکے چیلے ہیں۔دوسرے لوگ ان کا مشکل ہدف ہیں مگر یہ بھی نا ممکن ثابت نہیں ہوتے۔اور آخری گرہ کو فرسودہ کہے کر ان پر خاص محنت نہین کی جاتی۔
    زرا سوچئے۔۔۔ایسے لوگ ہمارے درمیان بیٹھ کر ایسی گندی گفتگو کرتے ہیں ۔اور ہم سنتے رہتے ہین کہ صرف زبان خراب ہے دل کے صاف ہیں ۔ہماری زبان ہماری پہچان ہوتی ہے۔اس سے ہمارے خاندان ہماری روایات ہمارے مزہب کا پتہ چلتا ہے۔یہ لوگ کہیں باہر سے نہیں ہماری فیملیز سے ہوتے ہیں ۔ہمارے دوستوں میں سے ہوتے ہیں۔مگر ہم ان کو مارجن دیتے ہیں۔ایک ہدیث کے مطابق اگر کسی ن شخص نےجو چیز دو ٹانگوں کے درمیان ہے اور جو اور دو جبڑوں کے درمیان ہے اس کی حفاظت کر لی اس پر جنت واجب ہے گئی۔
    اور آج حالت ایسی ہے کہ گالی فیشن ہے گندی اور غلیظ گفتگو خوش اخلاقی ہے۔کیا آج جو گفتگو عام گھروں میں ہورہی ہوتی ہے وہ درست ہوتی ہے ؟؟؟؟کیا اس کو کچے زہن کے کم عمر بچوں کے سامنے کرنا درست ہے؟؟؟
    وہ لباس جو آپ روزانہ کی بنیاد پر زیب تن کر کے جاتے ہیں کیا درست ہے ۔چھوٹی بچیوں کے کپڑوں سے بازو غائب اور عورتوں کے کپڑوں سے دوپٹہ اور گفتگو کو تو رہنے ہی دیجئے
    آہستہ آہستہ عزتیں کچرا دانون کی زینت بنتی جارہی ہیں ۔اور جن لوگ ان کو اب سر کا تاج بنا رکھا ہے ان بیک ورڈ کہا جاتا ہے ہے۔
    کہتے ہیں زمانہ جاہلیت میں ایک شخص نے اپنی کزن کے نام پرلکھ کر غیر اخلاقی شاعری خانہ کعبہ میں لگا رکھی تھی۔واضح رہے کہ ان لوگوں کے لئے ایک مخصوص لفظ جاہل اور اس زمانے کے لئے جاہلیت کا لفظ استعمال کیا جاتا ہے۔اور آج کے ماڈرن زمانے میں ہر شخص "کزن”کے عنوان سے آنے والی پوسٹس کو لائک کرتا ہے کمنٹ کرتا ہے وغیرو وغیرہ۔آج کل فیس بک کی مشہور پرسنیلٹی پھپھو کی بیٹی ہے۔زمانہ "جاہلیت”اور جدید دور میں بس اتنا فرق رہے گیا ہے کہ اس قت خالا کی بیٹی "تھی "اب پھپھو کی بیٹی "ہے”۔اور ہاں خصوصا سرائیکی و کو چاچے کی چھوکری نے بھی تنگ کر رکھا ہے۔بلکہ اب یہ کہنا زیادہ مناسب ہوگا کہ پہلے ایک تھی اب تو ساری ہی آگئیں۔
    زرا سوچئے ۔۔۔کیا ہوا کی بیٹیاں اتنی ارزان ہیں کہ ان کے کردار کو فیس بک کی زینت بنا دیا جائے؟؟؟اگر کوئی مرد کہے دے کے فلاں لڑکی مجھ پر مرتی ہے تو ہم بغیر کسی تحقیق کے مان لیتے ہیں۔اور آگے بھی اس کو خوب مرچ مسالے لگا کر پیش بھی کرتے ہیں۔اس سے ہم خود کو کیا ثابت کر نا چاہ رہے ہیں؟؟؟؟جبکہ ہم جاہل بھی نہیں ہیں ۔۔۔
    میں نے اکثر باپردہ لڑکیوں یونیورسٹیوں میں آتے ہی پردہ اتارتے دیکھا ہے۔غالبا پردہ ان کے لئے ایک تنگ زہنیت ہے ۔جب لوگ کہتے ہیں کہ اب جدید دور ہے اور ہر چیز میں تیزی آگئی ہے تو میں مان لیتی ہوں۔روز ہی ہزاروں لڑکیاں تنگ زہنوں(گھروںمیں پردہ) سےکھلے زہنوں (یونیورسٹیوں میں پردہ اتار دینے)میں سفر کرتی ہیں۔
    ہمیں ان فتنوں سے نکلنا ہے ۔ورنہ آج ہم میں اور زمانہ جاہلیت میں کوئی فرق نہیں رہے گیا۔جدید دور نے ہمیں اپنے پیچھے اسقدر ہلکان کر رکھا ہے ۔کہ ہم اپنا سب کچھ بھول چکے ہیں۔ہم آئڈیلزم کا شکار قوم ہیں ۔ہم میں اگر ایک شخص کوئی غلط راہ اختیار کرتا ہے تو اس کے بھی فالورز نکل آتے ہیں۔ہمیں اپنے زہنوں کو اسلام کے نور سے منور کرنا ہوگا۔ہمیں اپنے اندر سے چھوٹی چھوٹی برائیاں ختم کرنی ہوں گی۔ہمیں دوبارہ انہیں "فرسودہ”روایات کو اپنانا ہوگا۔تب کہیں جاکر ہم اپنا آپ پہچانے گے۔۔


    Usman Ghani is a Freelancer, Blogger He is associated with many leading digital media sites in Pakistan. To find out more about him visit her        Twitter Account(@UsmanSay_)  

    Other Article Usman Ghani