Baaghi TV

Category: معاشرہ و ثقافت

  • نور مقدم قتل کیس . تحریر: ازان حمزہ ارشد

    نور مقدم قتل کیس . تحریر: ازان حمزہ ارشد

    نور مقدم کون تھی؟
    نور مقدم کا قاتل کون؟
    پوسٹ مارٹم رپورٹ کے نتائج کیا ہے؟

    پاکستان کے سابق سفیر شوکت مقدم کی بیٹی نور مقدم کو 20 جولائی کی شام اسلام آباد میں بے دردی سے قتل کردیا گیا۔
    نور مقدم 27 سالہ نوجوان زندگی سے بھرپور لڑکی تھی۔ نور مقدم کے والد کا نام شوکت مقدم ہے جو کہ پاکستان کے ساؤتھ کوریا میں سابق سفیر رہ چکے ہیں ۔ نور کے والد اوروالدہ بھی اسلام آباد میں رہائش پذیر ہے۔

    نورمقدم کو بے دردی سے قتل کرنے والے شخص کا نام ظہیرجعفر ہے ۔ ظہیر جعفرایک بہت بڑی کمپنی کا سی ای او ہے۔ اس کے علاوہ ظہیرجعفرایک نفسیات کے شعبے سے تعلق رکھنے والا ڈاکٹر بھی ہے جو کہ اسلام آباد میں اپنا بہت بڑا کلینک بھی چلا رہا ہے۔ ظہیر جعفر کے ایک مریض نے بات چیت کے دوران بتایا کے علاج کے نام پر اسے بہت جسمانی طورپرتکلیف دی گئی اور اسے بلاخر وہاں سے بھاگنا پڑا۔

    پوسٹ مارٹم رپورٹ کے مطابق نورمقدم کی موت کی وجہ دماغ کو آکسیجن سپلائی کی بندش ہے رپورٹ میں یہ بھی پتا چلا ہے کہ مقتولہ کا سردھڑسے الگ کیا گیا ۔ مقتولہ نورمقدم کی داہنی کنپٹی اورسینے پرخنجرکھونپا گیا۔ مقتولہ کے جسم پرتشدد اورتیزدھارآلے سے زخموں کے متعد نشانات پائے گئے ہیں.

    اسلام آبد پولیس کا انکشاف ہے کہ اس قتل میں ظہیرجعفرکے ساتھ کوئی اور قاتل بھی موجود ہے۔ ظہیرجعفرکا تین روزہ ریمانڈ چل رہا ہے جس میں وہ خود کو نفسیاتی مریض ظاہرکرنے کی کوشش کررہا ہے۔ بتایا جا رہا ہے کہ ظہیرجعفر اورنورمقدم لیو ریلیشن شپ میں تھے۔ مزید تحقیقات جاری ہے اسلام آباد پولیس دن رات اس کیس میں اپنی ذمی داری سرانجام دے رہی ہے۔ نورمقدم کی تدفین اسلام آبد کے قبرستان میں کردی گئی ہے۔ نورکے والد اور والدہ نہایت صدمے کی حالت میں ہے۔

    نورمقدم کو انصاف ملے گا یا نہیں؟ کب تک عورت ظلم کا نشان بنتی رہے گی؟ یہ کیس بھی پہلے کی طرح کسی امیرزادے کے حق میں چلا جائے گا؟ کب تک اسی طرح ہمارے معاشرے میں نور قتل ہوتی رہے گی؟ کہاں ہے وہ مجرم جن کو پکڑکرسخت سزا دینے کا دعوی کیا گیا تھا؟
    ان سب سوالوں کے جواب تو فی الوقت ہم میں سے کسی کے پاس نہیں مگر جرم کے خلاف آوازاٹھانا ہمارا فرضِ عین ہیں۔ اس لیے اپنا فرض نبھائے اورنورکے حق میں اپنی آوازاٹھائے۔

    @Aladdin_Hu_Me

  • ‏عنوان ، خواتین بس ہوسٹس کو عزت دو۔ تحریر ۔ شاہ زیب

    ہمارے چاروں اطراف اکثر لوگ ایک جگہ سے دوسری جگہ نقل و حرکت کرتے ہیں۔ اس مقصد کے لئے مختلف ذرائع نقل و حمل استعمال ہوتے، نزدیکی سفر کے لئے رکی ٹیکسی وغیرہ اور لمبے سفر کے لئے کچھ احباب لوکل بسوں کو استعمال کرتے اور کچھ ڈائیو و بس استعمال کرتے۔
    لمبے سفر میں خاص کے ڈائیوو یا ایسی بڑی بس سروسز میں دوران سفر کچھ ایسی چیزیں دیکھیں جس پر آج بات کرنا چاہوں گا۔ ڈائیوو بس میں سفر کریں تو بس میں بس ہوسٹس اکثر خواتین ہوتی ہیں اور محنت مشقت کر کے گھر چلا رہی ہوتی ہیں ،خواتین بس ہوسٹس کو شوق نہیں ہوتا یا تو گھر کا فرد کمانے والا نہیں ہوتا یہ لاچار غربت کی ستائی ہوئی دو وقت کی روٹی کی تلاش میں گھر سے نکلتی ہیں تاکہ بوڑھے ماں باپ یا چھوٹے بچوں کا پیٹ پال سکیں تاکہ گھر کو چلا سکیں اور مینے خود اکثر سفر کیا ہے عموما مردوں سے زیادہ خواتین بس ہوسٹس بسوں میں سروس مہیا کر رہی ہوتیں۔ فرداً فرداً ہر ایک کی سیٹ پر جاکر بوتل لیز اور کچھ کھانے کی اشیاء سرو کرتی۔اس کا بس کے اندر چکر کبھی آگے کبھی پیچھے لگتا رہتا اور اسی دوران کچھ کم ظرف لوگ اسی بس ہوسٹس کو گھٹیا انداز میں ہراساں کرنے کی کوشش میں مصروف ہوتے کبھی ٹانگیں پھیلاتے کبھی کچھ کبھی کچھ کبھی بہانے سے جان بوجھ کر بار بار پانی منگواتے۔ ڈرائیور کو بتائے بھی تو وہ کچھ نہیں کر سکتا کیونکہ دونوں کی نوکری کا سوال۔ہوتا۔ اس مجبوری میں وہ سب سہہ رہی ہوتیں۔ کہ کہیں لگی لگائی نوکری ختم ہو تو گھر کے اخراجات کا بوجھ کیسے اٹھایا جائے گا۔
    اور اکثر دیکھا سٹاپ آتے ہی مائیک سے تمام لوگوں کو اپنی کانپتی آواز مخاطب کرتیں تو اوباش آوارہ قسم کے لوگ مزاق بناتے "روندیں کیو اے” اور ہنسنے لگ جاتے۔۔
    پھر احساس ہوتا ہے ہم کس معاشرے کا حصہ ہے جہاں ایک بہن کسی کی بیٹی تک محفوظ نہیں آخر ہو کیا گیا ہے پھر سوچتا "مکافات عمل” انسان جیسا کرے گا ویسے بھرے گا۔
    کیا کبھی سوچا ہم دوسروں کی بہنوں کو تنگ کرتے کوئی ہماری بہنوں بیٹیوں کو تنگ کرے تو ہم پر کیا گزرے گی کیا بحثیت قوم اتنے بے غیرت ہیں کہ ہمیں سمجھ ہی نہیں آتی ۔ہم اپنی بہن کو محدود رکھتے لیکن دوسروں کی بہنوں پر گندی نظریں،
    دیکھا جائے تو اجتماعی طور پر ہم بڑے بے حس لوگ ہیں ہم تماشہ دیکھتے ہیں کوئی نہیں روکتا کہ بھائی وہ بھی کسی کی عزت ہے اپ ایسا کیو کرتے ہیں
    میں یہی کہو گا اگر خود بدلنا ہے تو اجتماعی طور پر سب کو بدلنا ہوگا کوئی بھی بہن بیٹی ہے اس کی عزت کا تحفظ دینا ہمارا فرض ہے بس ہوسٹس بھی ہماری بہنیں ہیں ہمیں ان کی عزت کو مقدم رکھنا چاہیے جیسے ہم اپنی بہنوں کی عزت کو مقدم سمجھتے ہوئے کرتے ہیں، اگر ایسا ہوا تو یقین کریں بس ہوسٹس خواتین بھی فخر کریں گیں کہ ہمارے معاشرے میں انسانیت ابھی زندہ ہے اور یہی بس ہوسٹس خواتین کام کر کے اپنے اپ کو ایزی محسوس کریں گی کہ ہم محفوظ ہیں اس لیے پھر کہو گا اپنے اپ کو اور معاشرے کو بے راہ روی سے روکنا ہمارے اختیار میں ہے دیری کس بات کی کل سے کیو ابھی کیو نہیں ۔۔

    آخر پر اتنا کہو گا خدارا ان بس ہوسٹس خواتین کی عزت کیا کریں بلاوجہ تنگ کرنے سے اجتناب کریں اگر اپ کسی دوسرے کے بہن بیٹی کی عزت کریں گیں تو کل کو کوئی دوسرا شخص اپ کی بہن بیٹی کی عزت کی حفاظت کرے گا ۔۔ شکریہ۔۔

    ‎@shahzeb___

  • ساس! ماں، بہو اور بیٹی بھی . تحریر : انجینیئر مدثرحسین

    ساس! ماں، بہو اور بیٹی بھی . تحریر : انجینیئر مدثرحسین

    ساس بھی ماں اور بہو بھی بیٹی ہے
    اس سب کی وجہ کیا ہے؟
    ساس یا بہو کی شرعی حیثیت کیا ہے؟
    کیا ازدواجی زندگی صرف جنسی سکون کا نام ہے؟
    مرد شادی کیوں کرتا ہے؟
    عموماً ہنستا بستا گھر کیوں ٹوٹتا ہے؟
    اس تحریر میں ان سوالات سے متعلق گفتگو کی جائے گی. تاکہ سمجھا جائے اور اپنے اپنے کردار سے منسلک کمی کو دور کیا جائے.
    سب سے پہلی بات یہ کہ آخر فی زمانہ جن رشتوں سے ہمیں روشناس کرایا جاتا ہے ہمارے بزرگوں میں انکی کیا روایات ملتی ہیں جنکی بدولت ایک کامیاب زندگی کی مثال ہمیں ماضی میں ملتی ہے اور شریعت اس بارے کیا کہتی ہے؟
    کچھ چیزیں مقامی روایات سے ملتی ہیں اور علاقائی رسم و رواج کے مطابق چلتی ہیں. شریعت سے انکا کوئی تعلق نہیں ہوتا. جیسے پکارے جانے والے رشتے مثلاً ساس، بہو، دیور، بھابی، نند، جیٹھ، سالا یا سالی وغیرہ ایسے رشتے ہیں جن کا شریعت میں تزکرہ ان ناموں سے نہیں ملتا ہاں! جہاں پردے کی آیات اور احکام درج ہیں قرآن و حدیث میں وہاں ان رشتوں کی پہچان تو کرائی گئی لیکن رشتے کی اصل حیثیت کو برقرار رکھا گیا ہے. اللہ رب العزت نے قرآن کریم میں سورۃ النور کی آیت نبر 31 میں ارشاد فرمایا
    اور مسلمان عورتوں کو حکم دے دو کہ وہ اپنی نگاہیں کچھ نیچی رکھیں اور اپنی پارسائی کی حفاظت کریں اور اپنی زینت نہ ظاہر کریں مگر جتنا (بدن کا حصہ) خود ہی ظاہر ہے اور وہ اپنے دوپٹے اپنے گریبانوں پر ڈالے رکھیں اور اپنی زینت نہ دکھائیں مگر اپنے شوہروں پر یا اپنے والد یا شوہروں کے والد یا اپنے بیٹوں یا شوہروں کے بیٹے یا اپنے بھائیوں یا اپنے بھائی کے بیٹوں یا اپنے بہن کے بیٹوں یا اپنی (مسلمان) عورتوں یا اپنی کنیزوں پر جو انکی ملکیت ہوں یا مردوں میں سے وہ نوکر جو شہوت والے نہ ہوں یا وہ بچے جنہیں عورتوں کی شرم کی چیزوں کی خبر نہیں اور زمین پر اپنے پاؤں اسلئے زور سے نہ ماریں کہ ان کی اس زینت کا پتہ چل جائے جو انہوں نے چھپا رکھی ہے.

    معلوم ہوا کہ رشتوں میں سسر، بھتیجے، بھانجے کی پہچان انکے اصلی حیثیت شوہر کا باپ، بھائی کا بیٹا اور بہن کے بیٹے سے کرائی گئی.
    مطلب سسر کی حیثیت باپ کی اور بھانجوں اور بھتیجوں کی حیثیت بیٹوں کی ہوئی.
    اسی طرح سسر کی حیثیت باپ کی ہونے سے ساس کی حیثیت ماں کی ہوئی. اب ہم نے جو رشتوں کی پہچان سمجھنے کیلیے بنا رکھی ہے وہ سمجھنے کی حد تک ہونی چاہیے ناکہ رشتے کا اصل مقام اور حیثیت ہی بدل دی جائے.

    یاد رکھئیے ساس بھی ماں ہے اسکو ماں کا درجہ دیجئے اور ماں کی طرح خدمت کیجئے. آخر کیوں اس مقدس رشتے کو بگاڑ کر اس کی حیثیت ختم کی گئی؟ آج کی ڈرامہ انڈسٹری نے جس چالبازی سے اس رشتے کی حرمت کا تقدس پامال کیا ہے اس کی مثال نہیں ملتی. ہر ڈرامہ ساس بہو کی لڑائی اور تزلیل کا شاخسانہ دکھائی دیتا ہے. حالانکہ کی شریعت میں اس رشتے کا وجود ہی نہیں. اور اس اصول کے پیش نظر بہو بھی آپکے ماں ہونے کے ناطے بیٹی ہے جومقام آپکے گھر آپکی اپنی پیدا کی گئی بیٹی کو حاصل اپنے گھر اپنے بیٹے کے لیے لائی گئی دلہن کو بھی اس مقام اور درجہ سے نوازیں اور اسی حیثیت سے اس سے تعلق رکھیں. اصول ہر گھر کے الگ ہوتے روایات الگ ہوتی ہیں. اس بیٹی کو ان اصولوں سے اپنی پیدا کی گئی بیٹی کی طرح ترتیب کر کے روشناس کرائیں اور لعن طعن اور غلط القابات سے اجتناب کریں کیونک یہی وہ حقیقی بیٹی ہے جس نے بقیہ زندگی آپکی خدمت کرنی ہے اور اس گھر کو آشیانہ بنانا ہے. دلہن کے عہدے پر فائز ہوتے ہی اپنی انا کو فروغ دینے والی بہنوں سے بھی گزارش ہے کہ آپ کے شوہر کی ماں ہی آپکےلیے ماں کا درجہ رکھتی ہے شادی کے بعد اسی نے آپکی اگلی زندگی کے لیے آپ کو اپنے خاندان کے اصول و ضوابط سے نا صرف روشناس کرانا ہوتا ہے تربیت کرنی ہوتی ہے بلکہ آپ کو اپنے بیٹے کی طبیعت اور مزاج سے بھی روشناس کراناہوتا ہے. ہر رشتہ جب قدر اور عزت کا دامن تھامے چلتا ہے تو ہی گھر سکون کا گہوارہ بنتا ہے. یاد رکھیں ماں اگر کچھ کہ بھی دے تو بھلائی کیلئے ہی کہتی ہے اسلیے اسے ساس بنا کر تلخیوں میں بدلنے سے گریز کرنا چاہیے. چند دنوں میں مزاج ملنے لگتے اور ہر طرف خوشیاں دکھنے لگتی ہیں. یہاں ان ماؤں سے بھی گزارش ہے جو فی زمانہ بیٹی کو بیاہتے وقت تلقین کرتے نظر آتی ہیں کہ شوہر کو ہاتھ میں کرو بس. ایک سوال ان سے کہ کیا جس ماں کی محبت اور شفقت نے ایک نومولود کو 25 سال اپنے حصار میں رکھا ہر طرح کی برائی سے بچا کر آپکی بیٹی کو سونپ دیا کیا اب اس ماں باپ کا حق ختم ہو گیا؟ آپکی بیٹی چکنی چپٹی اداؤں سے اس کا وہ حصار کمزور تو کر سکتی ہے لیکن جب خمار اترتا ہے تو پھر وہی دلہن اور اسکی چالبازی اسی کے لیے تباہی کا سبب بنتی ہے لہٰذا اپنی بیٹی کو گھر بنانے اور ماں باپ کی خدمت کرنے شوہر کے لیے سکون بننے کی ترغیب دیں شوہر کو وقتی طور پٹانے کی نہیں. کیونکہ جس پودے کی بنیاد اچھی ہو وہی مضبوط بھی ہوتا اور پھل بھی اچھا دیتا ہے.

    شوہر شادی کیوں کرتا ہے کیا اس کو صرف جنسی تسکین چاہیے؟ جوکہ فی زمانہ اسے معاشرے سے بیوی کے اخراجات سے کئی گنا کم خرچ میں مل سکتی ہے. وہ زہنی سکون کے لیے کسی کو اپنی عزت بناتا اور اس عزت کو سجاتا سنوارتا اس کے نخرے اٹھاتا اس کیلیے اپنا تن من قربان کر کے اس
    کی خوشیوں پر خرچ کرتا ہے کیوں؟

    تاکہ وہ جب ہر طرح کا ظلم و ستم اپنی زات پر برداشت کر کے گھر لوٹے تو اس کا مسکرا کر گھر استقبال کیا جائے اس کی آو بھگت کی جائے. اسے زہنی سکون چاہیے. یاد رکھیں جو خواتین معاشرے میں لوگوں کی غلط نظروں اور القاب سے حراساں ہوتی ہیں ان سے پوچھئے مرد انہی مشقتوں سے اپنی بیوی اپنی عزت کو بچاتا ہے اور اس کے ناز و نرخوں کیلیے سبب سختیاں سب کچھ اپنی زات ہر برداشت کرتا کبھی موسم کی سختیاں تو کبھی پردیس کے جھمیلے سب صرف اپنی بیوی کے لیے تو اس کو زہنی سکون ملنا اس کا حق ہے. اگر وہ آپ ساس بہو کی لڑائی میں الجھے گا تو اس کو اس رشتے کا کوئی فائدہ نہیں ہوا. یہ سب چیزیں ایک ہنستے بستے گھر اور ازدواجی زندگی کے کامیاب پہلو ہیں. زہنی سکون ہی نا ہوا تو گھر کا آشیانہ ٹوٹ جاتا ہے. اپنی انا کی بھینٹ اپنے رشتوں کو چڑھنے سے بچائیے. رشتوں کی اصل حیثیت کو سمجھیں آپس میں درگزر والا معاملہ رکھیں. ساس بہو نہیں ماں بیٹی بنیں. غلطی ہو جائے ماں بن کر سمجھائیں اور سکھائیں. اپنی غلطی کو سمجھیں مانیں اسے درست کریں اور اچھی بیٹی کی طرح مستقبل میں غلطی سے اجتناب کریں. گھر کو کھنڈر نہیں جنت بنائیں

    @EngrMuddsairH

  • عورت کارڈ اور مردانگی . تحریر : سیدہ ام حبیبہ

    عورت کارڈ اور مردانگی . تحریر : سیدہ ام حبیبہ

    قارئین محترم ہم جس معاشرے میں رہ رہے ہیں وہ تقسیم در تقسیم در تقسیم ہے.
    *ذات پات رنگ و نسل کی تقسیم
    *لسانیات کی بنا پہ تقسیم
    *صوبائی تقسیم
    یہ سب کسی طور قابل قبول ہیں اور تبدیل کیے جانے کی گنجائش موجود ہے مگر کوشش نہیں کی جاتیاور اگر کوشش کی جارہی ہے تو
    ناقابل تبدیلی تقسیم کو جو جنس کی بنا پہ ہے.

    مرد و زن سے معاشرے کا حسن ہے مگر یہی معاشرہ اس قدر پستی کا شکار ہو چکا ہے کہ کہیں تو صنف کی بنیاد پہ برتری کا احساس نمایاں کیے ہوئے ہے تو کہیں ہر جرم کے باوجود صنف کی آڑ میں چھپنے میں مصروف. یہ عورت کارڈ اورمردانگی دو ایسی اصطلاحات ہیں جو تقریبا روزانہ ہماری سماعتوں سے گزرتی ہیں. سیاست ہو یا نجی زندگی دونوں طرف اس کی گونج ہے.
    جہاں مرد اپنی برتری اپنی طاقت کی بنا پہ عورت پہ ہاتھ اٹھا کر ثابت کرے تو وہ مرد ہے ہی نہیں. جہاں عورت مرد کے مقابل آکر تمام وار آزمائے اور مذاحمت پہ رونا دھونا شروع ہو جائے کہ عورت ہے عورت کے ساتھ یہ ہو گیا وہ ہو گیا مرد ظالم ہے . تو جناب بلکل یہ عورت کارڈ ہے.

    بہت سی لبرل خواتین کے منہ سے سیاسی مخالفت کی بنا پہ سیاسی لیڈرز کو اور فوج کو اسٹیبلشمنٹ کو گالیاں پڑتے سنا ہے.انکی ٹائم لائن پہ گالیاں اور ذومعنی گفتگو بھری ملے گی اور اظہار رائے اور مرد کی برابری کا مکمل احساس ملے گا
    مگر جونہی کسی ایک مرد نے اس کا جواب اسی انداز میں دیا تو وہی مظلومیت در آتی ہے کہ عورت ہے. عورت کی تذلیل ہو گئی تو جناب یہ "عورت کارڈ” ہے. عورت سیاستدان مرد سیاستدان کی جلسے میں تذلیل کرے اور بار بار کرے تو وہ بے باک اور نڈر کہلاتی ہے مگرمرد سیاستدان اسی عورت پہ اسی قسم کا وار واپس پلٹائے تو جن مردوں کا معاشرہ ہے عورت کی تذلیل کرتا ہے جناب یہ عورت کارڈ ہے. ایک اینکرمردوں پہ درشتی سے زبانی حملہ کرتی ہے مرد جواب میں بی بی زبان سنبھال کے کہہ دے تو عورت کی مظلومیت پہ لیکچر ہر طرف سے آتے ہیں تو جناب یہ عورت کارڈ ہے.

    جہاں مرد اختیارات کے ناجائز استعمال اور طاقت کے بل پہ صنف مخالف کا استحصال کرے تو یہ” مردانگی” نہیں ہے اسی طرح عورت بدزبانی کرنے کے بعد اپنے عورت کارڈ کے پیچھے چھپے تو یہ عورت پنا نہیں ہے.

    آفرین ہے ایک سیاستدان پہ کہ جس نے آج تک کسی عورت کو جواب نہیں دیا چاہے اس نے اس کے خلاف کیسی بھی زبان استعمال کی کیسا بھی الزام لگا اس نے خاموشی اختیار کی.عورت کو عورت کارڈ استعمال کرنے کا موقع ہی نہیں دیا.مرد کو بہر حال برداشت کا مظاہرہ کرنا چاہیے کیونکہ وہ مرد ہے اسکی مضبوطی اسکی طاقت اسکے جسم نہیں برداشت سے عبارت ہے.

    @hsbuddy18

  • جدیدیت یا عریانی . تحریر : ہادی سرور

    جدیدیت یا عریانی . تحریر : ہادی سرور

    جیسے جیسے ہم ترقی کرتے جا رہے ہیں اور سائنس نئی نئی ایجادات کرتی جا رہی ہے ویسے ویسے ہم دینِ اسلام اور رسول اللہﷺ کی تعلیمات کو بھولتے جا رہے ہیں۔ ہمارے ایمان کمزور ہوتے جا رہے ہیں ۔آج کل کچھ لوگ موڈرنزم یعنی جدیدیت کا ٹھپہ لگوا کر کہتے ہیں ہماری سوچ تو ایڈوانس ہے ہم اکیسویں صدی کے لوگ ہیں جو چاہیں کریں ۔ان لوگوں کو میں بتا دینا چاہتی ہوں یہ جدیدیت نہیں ہے یہ بغیرتی ہے۔ جس میں آج کل کے مسلمان دینِ اسلام کو بھول کر یہودی و أنصاریٰ کے نقشے قدم پر چلنا شروع ہوگے ہیں۔
    جس میں پردہ والی خواتین, داڑھی والے مرد اور سنت نبویﷺ پر چلنے والے مسلمان مرد و خواتین کو پتھر کے زمانے کا کہا جاتا ہے ۔جبکہ اگر کوئی لڑکی یا مرد آدھے کپڑے پہن لے یا مرد خواتین اور خواتین مرد کے کپڑے پہن لیں تو اس کو فیشن ایبل کہا جاتا ہے اس کی واہ واہ کی جاتی ہے ۔ایک ناچنے والے کنجر مرد و خواتین کو مختلف ٹیلی ویژن پروگرامز میں بلا کر ان کی تعریفوں کے امبار لگاۓ جاتے ہیں۔ لیکن ایک حافظ قران ایک عالم کو کبھی مدعو کر کے حوصلہ افزائی نہیں کی جاتی۔ ان کے خیال میں ٹیلی ویژن میں معذرت کے ساس بہو سسر ،بھابی دیور کے افیئرز تو دیکھاۓ جاتے ہیں لیکن یہ کبھی نہیں دیکھایا جاتا کہ ہمارا دین اسلام گھریلو نظام پر کیا تعلیمات دیتا ہے ۔ آج کل کی کچھ نام نہاد عورتوں کو آزادی چاہیے آزادی کس سے چاہیے مذہب سے چاہیے یا بھائی شوہر باپ خاوند سے! عورت کو اسلام سے بڑھ کر عزت اور آزادی اور کون دے گا جس اسلام سے پہلے جب بیٹی پیدا ہوا کرتی تھی تو عورت کو زندہ دفن کر دیا جاتا اسی اسلام نے عورت کو عزت دی زندگی بخشی اور عورت کو اللّٰہ کی رحمت کہا۔

    اب بات کی جاۓ عورت کے حقوق کی تو عورت اور مرد گاڑی کے دو پہیے ہوتے ہیں ۔ایک عورت کا حق ہے اس کا شوہر اس کا مکمل خیال رکھے اس بنیادی ضروریات اوراسکی خوشی اور پریشانی میں اس کا ساتھ دے۔ اگر ایک مرد اپنی بیوی کے ساتھ اس کا ہاتھ بٹاتا ہے تو اس میں شرم کی کوئی بات نہیں رسول اللّٰہ ﷺ بھی اپنی ازواج مطہرات ؓ کے ساتھ گھر کے کام کاج کروایا کرتے تھے۔ یہ بیغیرتی نہیں تو اور کیا جب میرا جسم میری مرضی کے نعرے لگتے ہیں ان کو کوئی چیلنج کرنے والا نہیں ہوتا۔ سرِعام خواتین کچھ طلاق یافتہ عورتین خاندانی نظام کی دھجیاں اڑاتی پھرتی ہیں ان کو کوئی پوچھنے والا نہیں ہوتا جو جسم جو جان ہمارے پاس اللّٰہ تعالی کی امانت ہے ہم ایک ایک سانس تک اللّٰہ تعالی کے مہتاج ہیں اس پر ہماری مرضی کیسے ہو سکتی ہے ۔قران و حدیث میں زندگی گزارنے کے تمام اصول و ضوابط اور مکمل رہنمائی موجود ہے لیکن افسوس ہمارے قران تو الماریوں میں پڑے پڑے ان پر دھول اور مٹی چڑھ چکی ہے ہم کو یاد نہیں کہ آخری مرتبہ ہم نے قران پاک کو کب ترجمہ کے ساتھ پڑھا تھا۔

    آج کل الیکٹرانک میڈیا پر صرف فحاشی دیکھائی جاتی نوجوان نسل کے زہنوں کو گندہ اور زنگ آلود کیا جارہا ہے ۔ایسے ڈرامے بناۓ جا رہے ہیں جو ایک عزت دار بندہ خاندان کے ساتھ بیٹھ کر نہیں دیکھ سکتا ۔ اب تو اتنی بیغیرتی بڑھ گئی کے دل خون کے آنسو روتا ہے کہ ہم پستی کی کس انتہا کو پہنچ گے ہیں کہ یورپ کی طرح اب یہاں بھی مرد کی مرد کے ساتھ شادی کی باتیں ہونے لگی ۔مطلب کہاں گیا ہمارا اسلامی جمہوریہ پاکستان کیا ان کو کوئی روکنے والا نہیں ! کیا ان پر کوئی کاروائی نہیں کر سکتا ! کیا کوئی اسلامی قانون چلے گا ہمارے ملک میں !

    آج کل بہت سے ممالک اَن گنت ڈالر صرف اس پر خرچ رہے ہیں کہ ایک مسلمان لڑکی اپنا پردہ اتار دے نقاب نا پہنے آج کل مختلف کیمپئن کے نام پر پردہ کے خلاف پروپیگینڈہ کیا جاتا ہے میں یہاں اپنی بہنوں کو بتا دینا چاہتی ہوں آپ کی عزت نقاب اور پردہ میں ہے۔ جب دنیا کی سب سے عزت دار عورت جو جنت میں عورت کی سردار ہیں حضرت فاطمہ ؓ ان پر پردہ فرض تھا تو آپ اور میں کیا ان سے پاک دامن آگئی ہیں !! آج جب پردہ کی بات کی جاۓ تو جواز یہ پیش کیا جاتا ہے ہمارا زہن صاف ہے کیا آپ کا زہن حضرت فاطمہ ؓ سے صاف ہے ! کیا آپ ان سے بھی پاک ہیں ! اگر نہیں تو جب انہوں نے ساری زندگی پردے میں گزاری تو آپ اور میں کیوں نہیں !
    پرسوں ایک محترمہ نے کہا عید الضحی پر جانور قربان کرنے والے خواتین و حضرات کے علاوہ سب کو عید مبارک ۔۔میں اس محترمہ کو بتاتی چلوں آپ رکھیں اپنی مبارکباد اپنے پاس ہمیں تو قران سے یہ درس ملتا آپ کی عید الضحی اس وقت ہوگی جب آپ جانور قربان کریں گے ۔تو آپ نام نہاد کون ہوتی ہیں مسلمانوں اور عید الضحی پر تنقید اور طنز کرنے والی !
    جب کے ایف سی اور میکڈونلڈ روزانہ ملین کے حساب سے مرغیاں زبح کرتے ہیں اور آپ شوق سے کھاتی ہیں تب آپ جانوروں کے حقوق کےلیے کیوں نہیں بولتی ہیں ! جب سپین میں ایک تہوار میں لاکھوں بیلوں کو چھریوں سے کاٹ دیا جاتا ہے تب آپ کی جانوروں سے ہمدردی کہاں جاتی ہے !

    ایک اندازے کے مطابق برازیل نے صرف سال 2021 ایک اعشاریہ آٹھ ملین میٹرک ٹن جانور زبح کیے اسی طرح امریکہ اور انڈیا نے بھی ایک اعشاریہ چار ملین میٹرک ٹن جانور زبح کیے تب آپ کیوں نہیں بولی ! سب سے بڑھ کر جب فلسطین اور کشمیر میں انسانوں کے ساتھ جانوروں جیسا سلوک کیا جاتا ہے ۔ان کو جانوروں سے بھی درد ناک طریقے سے شہید کیا جاتا ہے آپ تب کیوں نہیں بولتی ہیں؟
    یہ جانوروں سے ہمدری آپ کو صرف عید الضحی پر یاد آتی ہے جب ان غریبوں اور مستحق افراد میں گوشت تقسم کیا جاتا ہے جو سارا سال گوشت کھانے کےلیے صرف عید الضحی کا انتظار کرتے ہیں ! میں تمام مسلمان خواتین بہن بھائیوں سے التجاء کروں گی قربانی کی ہڈیا ضائع نا کریں بلکہ اس جیسے جدت پسند بیغرتوں کو ڈالیں ۔

    آخرمیں میری جسم میری مرضی اور تمام ان جدت پسند اور اسلام کو بھول کر یورپ اور یہود و نصاریٰ کی پیروی کرنے والے مرد و خواتین کو بتا دوں کامیابی جدیدت میں نہیں بلکہ چودہ سو سال پیچھے جا کر ہم سب کے پیارے رسول اللّٰہ ﷺ کی تعلیمات ان کی سنت اور قران مجید کی پیروی کرنے سے آۓ گی ۔ اللّٰہ پاک سب کو ہدایت دے.

    @iitx_hadii

  • اخلاقی دیوالیہ پن . تحریر : آصف گوہر

    اخلاقی دیوالیہ پن . تحریر : آصف گوہر

    بچے کسی بھی قوم کا اثاثہ ہوتے ہیں آج کے بچے کل کے جوان اور قوم کے افراد بنتے ہیں ہمارا معاشرہ ایک تسلسل کے ساتھ انحطاط کا شکارہے ایسے جرائم بھی دیکھنے کو مل رہے ہیں جن کا دنیا کے دیگر ممالک میں تصور بھی نہیں کیا جاسکتا اگر ہم اپنے معاشرے کے بچوں کے احوال پر نظر ڈالیں تو بچے ہماری سوسائٹی میں غیر محفوظ نظر آتے ہیں۔

    یہاں پرکم سن بچوں کے ساتھ جنسی درندگی کے واقعات عام ہیں جنسی زیادتی بعد پھولوں کو موت کی نیند سلادیا جاتاہے ۔ بچوں پر تشدد اور جنسی درندگی کے واقعات میں روز بروز اضافہ ہو رہا ہے۔ اضافہ کا سبب بچوں کے ساتھ درندگی کرنے والوں کو پکڑا ہی نہیں جاتا بہت سارے کیسز تو رپورٹ ہی نہیں ہوتے مقامی طور پر ملزم کو صلح صفائی کے نام پر دوبارہ سفاکیت کے لئے چھوڑ دیا جاتا ہے۔اور جو کیسز میدیا اور سوشل ایکٹیویزم کے باعث رپورٹ ہوجاتے ہیں ان میں بھی بہت سارے کمزور عدالتی نظام اور پراسیکیوشن کی وجہ سے ضمانت حاصل کرنے میں کامیاب ہوجاتے ہیں ۔

    اس ضمن میں زینب الرٹ بل ایک اچھا اقدام ہے ۔لیکن اس سے ایک قدم آگے بڑھنے کی ضرورت ہے بچوں پر تشدد اور جنسی جرائم کے مقدمات فوجی عدالتوں میں چلائے جائیں اور ان خصوصی عدالتوں کے فیصلوں کے خلاف اپیل کے حق کو ختم کیا جائےاور مجرموں کو معاشرے میں نشانہ عبرت بنانے کے لئے مجرم کی شناخت نہ چھپائی جائے اورایسے درندوں کی تصاویر قومی پرنٹ اور الیکٹرانک میڈیا پر دیکھائی جائیں تاکہ یہ شرم سے ڈوب مریں اور اپنی فیملی برادری میں بھی منہ دیکھانے کے قابل نہ ہوں ایسے افراد کے شناختی کارڈزپر چائیلڈ ابیوزر لکھ دیا جائے۔

    اگر ہم نے بچوں کو آج محفوظ معاشرے نہ مہیا کیا تو ایسے دلخراش واقعات میں اضافہ ہوتا رہے گا ۔ اگر آج بچوں کے خلاف یہ درندگی کو نہ روکا گیا تو اس استحصالی سلوک کا شکار ہونے والے بچے کل کو خود معاشرے سے انتقام لیں گے اور خود چائیلڈ ابیوزر بن جائیں گے لہذا خیال کیجئے کہیں بہت دیر نہ ہوجائے۔

    @EducarePak

  • ہمارا قومی المیہ . تحریر : آصف گوہر

    ہمارا قومی المیہ . تحریر : آصف گوہر

    قرآن کریم میں ارشاد باری تعالی ہے
    "آپ فرما دیجیئے کہ ناپاک اور پاک برابر نہیں گو آپ کو ناپاک کی کثرت بھلی لگتی ہو اللہ تعالیٰ سے ڈرتے رہو اے عقل مندو! تاکہ تم کامیاب ہو۔” سورة المائدہ 100 زندہ دل اورمردہ ضمیر برابر نہیں ہوسکتے ۔

    ہمارا یہ المیہ ہے کہ ہم برائی کو برائی نہیں سمجھتے بلکہ ہر برائی کو اپنی سیاسی اور مذہبی وابستگی کی کسوٹی پر جانچتے ہیں اگر برائی میرے سیاسی قائد یا مذہبی پیشوا سے سرزد ہوئی ہے تو پھر یہ میرے نزدیک اچھائی ہے برائی نہیں اور اب یہ میرے اوپر فرض ہوچکا کہ میں نے ہرحال میں اپنےسیاسی رہنماکی وکالت کرنی ہے چاہے اس کے لیے مجهے کسی حد تک گرنا پڑے قومی اداروں کے ساتھ ٹکرانا پڑے. یہ رویہ انتہائی خطرناک ہے جب کسی قوم میں اچھائی اور برائی کا تصور ناپید ہو جائے تو وہ قوم نہیں ہجوم بن جاتا ہے اور ایسا بے سمت ہجوم معاشرہ جلد کسی سانحہ کا شکار ہو جاتا ہے.

    ہمارا قومی مزاج بهی عجیب ہے ہم اکثر حقیقی ہیروز کو متنازع بنا دیتے ہیں اور غداروں ملک دشمنوں کو قومی ہیروز بنا دیتے ہیں
    حتی کہ وہ شخص جو وصیت کرکے مرتا ہے کہ مجهے پاکستان میں دفن نہ کیا جائے ہم اس شخص کے نام پر ایئرپورٹ اور یونیورسٹیاں بنا دیتے ہیں .

    مہذب معاشروں میں اخلاقی اقدار کا معیار یہ ہوتا ہے کہ اگر کسی عہدیدار پر الزام بهی لگ جائے وہ اپنے عہدے سے فوری طور پر دستبردار ہو جاتا ہے ۔موجودہ تحریک انصاف حکومت کو کم از کم یہ کریڈٹ ضرور ملنا چاہیے کہ اس کے جس رہنما پر بھی الزام لگا اس نے فوری رضاکارانہ طور پر اپنے عہدہ سے استعفی دے دیا پنجاب کے سینئر وزیر عبدالعیم خاں ۔وزیر جنگلی حیات و ماہی پروری ملک اسد کھوکھر وزیر جنگلات پنجاب اور زلفی بخاری کی مثالیں ہمارے سامنے ہیں وگرنہ ہمارے ہاں معاملہ بلکل برعکس رہا ہے مالی بدعنوانی ثابت ہو جانے پر بهی ڈھٹائی کے ساتھ اپنے منصب سے اس وقت تک چمٹے رہتے ہیں جب تک عدالت کان سے پکڑ کر وزارت اعظمی سے نیچے نہ اتار دے اور جہالت اور شخصیت پرستی کا یہ عالم ہے کہ چند خوشامدی پوری شد و مد کے ساتھ اپنے بدعنوان اور بدزبان رہنما کا اس بے شرمی کے ساتھ دفاع کرتے ہیں کہ بدعنوانی کرنے والے کو خود گمان ہو جاتا ہے کہ میں نے کوئی غلط کام نہیں کیا.
    گذشتہ چند روز قبل لندن کے ایک ریسٹورنٹ میں مسلم لیگ ن کے رہنما نے بچوں خواتین کے سامنے ننگی گالیاں نکالیں اور اگلے ہی روز مریم نواز کی سربراہی میں چلنے والے سوشل میڈیا گروپ نے ویلڈن عابد شیر علی کا ٹرینڈ چلایا اور ایک ناپسندیدہ عمل کی تائید اور پذیرائی کی جس پر عابد شیر علی کا حوصلہ بڑھا اور موصوف نے ایک ویڈیو کلپ ریکارڈ کروا دیا کہ میں آئیندہ بھی ایسی ہی گالیاں دوں گا
    کچھ میڈیا ہاوسز نے مالی فوائد کے پیش نظر مجرموں کو ہیرو بنانے کا بیڑا اٹھا رکھا ہے اور ہر غلط بات ریاست مخالف بیانیہ کو پروموٹ کرنا اپنے اوپر فرض کرلیا ہے جوکہ کسی طور درست نہیں ۔ اگرآپ انسان ہیں تو اپنے ضمیر کو اس سطح پر نہ لے کرجائیں کہ اچھائی اور برائی میں فرق ہی نہ کر سکیں کیونکہ زندہ دل اور مردہ ضمیر برابر نہیں ہوسکتے ۔

    @EducarePak

  • انفراديت اجتماعیت کوتشکیل دیتی ہے . تحریر :‌ سیدہ بشریٰ شاہ

    انفراديت اجتماعیت کوتشکیل دیتی ہے . تحریر :‌ سیدہ بشریٰ شاہ

    اچھائی اوراچھے کام کی کوشش اور مشق کرو یہ سوچے بغیر کے کیا ہو جائے گا میرے ایک کے کرنے سے راهبر ہمیشہ تنہا چلتا ہے بس اگر ہمت نہ ہارے تو ایک ایک سے گيارہ اور پھر قافله بنتا جاتا ۔الفاظ سے زیادہ عمل کر تبہ ہے جو نئی سوچ کو تشکیل دیتا ہے کچھ بھی کرو یہ سوچے بنا کرو انفرادی کاوش اجتماعی سوچ کو بدلنے میں مدد دیتی ہے یا اجتماع سے انفرادی سوچ بنتی؟

    یہ وہ عمل اور سوچ ہے جسکے جو تغیر اور سوچ کو زنگ لگا دیتا ۔احتساب خود سے ہو گا تو دوسرے کی پوچھ کر سکیں گے ۔
    من حسیت قوم ہمارے اندر سب سے بڑی خامی ہم آج بھی ذات برادری قبیلے علاقے پیشے اور گروہ کے لحاظ سے بنی سوچوں روایتوں کے بندھن میں مقید ہیں ۔ہم پركھ اور سوچ کو مستعا ر لیکر بات کرتے یا رائے بناتے کیونكہ ہم تحقیق کرنے کھوجنے کا تردد نہیں کرتے ۔
    کچھ بھی برا لگے پہلے اپنی ذات اور آپنے عمل سے اسکو منہا کرو ۔ دوسرے جو آپ کے ساتھ ہوتے ان پر آپکا عمل خودسے اثر انداز ہو گا ۔لفاظی آپکو مقرر بنا دے گی پر رهبر نہیں ۔جو عمل سچا ہو سہی ہو اور اگر تعصب کی نگاہ سے پاک ہوکر صحیح لگے اسکو کرو بھلے سب حق کے مخالف ہوں ۔ایک وقت آئے گا خود آپکے شانہ بشانہ لوگ کھڑے ہونے لگیں گے ۔بے ہنگم ہجوم کے سپیکر بننے سے بہتر ہے سمجھدار افراد بھلے وہ تعداد میں بہت کم ہوں انکےسنگی ساتھی بنو ۔۔فتح اور کامیابی اور پھر حکومت وہی کرتے جو خود حق پر رہ کر حق کے ساتھ ہوں ۔مکار یا طاقت ور وقتی زور پکڑ بھی لے تو جب سامنے والا اگر حق پرست ہو حق کے لئے کھڑا ہو تو 313 ہزاروں پر بھاری ہو جاتے پھر خدا بھی ساتھ ہوتا ۔ سہارے غیر ضروری امیدیں اور غلط تواقعات افراد کریں قومیں کریں یا گروہ وہ برباد ہو جاتے آگے وہی بڑھتا جو ٹوٹی بیسا كهيو ں کا اعتبار نہیں کرتا ۔

    انفرادی تربیت کے عوامل میں گھر سکول بنیادی اكای ہیں ۔من حثیت قوم ہمیں اب آواز اٹھانا ہی ہو گی آنے والی نسل کی اخلاقی قومی تربیت کی ۔عدل ،سچائ ذمداری ، تہذیب اسکے ضامن ہم ہیں اور ہماری ذمداری اگلی نسل کو یہ بتانا ۔۔اگر گزشتہ چند دہایوں کا محاسبه کریں تو بنا مبا لغہ آرائی کے ہم اخلاقی تہذیبی لحاظ سے پست ہوتے جا رہے ۔ہم بنيادی معاشرتی مذہبی اقدار کو اتار کر کہیں دور پھینک چکے ۔یہ سب ایک یا دو روز کی دین نہیں یہ پستی کمانے میں ہم نے دہایاں لگا دی اور اسکو فكس کرنے کو ہمارا دھیان ہے جو جاتا نہیں ۔اس معاملے کو اب بھی اگر ہم نے سیریس نہ لیا تو تباہی کے علاوہ اور کچھ بھی حصول نہیں ہو گا ۔۔کیونکہ ببول بو کر کبھی گندم یا گلاب نہیں ملتا۔جس قوم میں کرپشن چوری اتنی بڑھ جائے کے گھر کے باہر رکھنے والی بن چوری ہو جائے ۔کچرا کنڈی کے اندر کوڑا ڈالنے کے بجائے لوگ اسکے باہر ڈال جائیں جہاں عصمتیں مردوزن محفوظ نہ رہیں۔جہاں سڑک پر نصب سٹچو سے ہاکی بال لٹ جائے جہاں عدم برداشت اتنی ہو معمولی بات پر قتل ہو جائے وہاں اب مزید لٹنے کو کچھ نہیں بچا ہمیں معاشی سے زیادہ اخلاقی پستی کا سامنا ہے جہاں ادب تہزیب کی جگہ بد فطری بد فعلی نے لے لی ۔نا شائستہ زبان اخلاقی مذہبی روایات سب نا پید ہو چکا ہم نے اپنی نسل کو اندھی نمبروں کی دوڑ میں ڈال دیا اور تربیت کا خانہ خالی چھوڑ رہے ۔یہ تو انفرادی كمياں گھروں سے ملی رہی کثر میڈیا کے بہت سے عوامل اور ہماری سیاسی سماجی تعلیمی کرتا دھرتا نے پوری کر دی ۔ابھی بھی کچھ گیا نہیں اپنی نسل کو سدهار لو انکو انکی ذمداری حق سچ کے ساتھ سمجھ کے سمجهاو ۔یہی لوگ آگے چل کر اہل اختیار بنتے بڑے دفتروں کے مالک بنتے اگر یہ ایسے ہی آگے جا پہنچیں گے تو ان سے بہترین یا بہتر کی امید غلط ہو گا ۔ہمیں اب سدھرنا ہی ہو گا اگر ابھی نہیں تو پھر کبھی نہیں سدھر سکیں گے ۔معاشرتی تنزلی قوم کی بربادی ہے جسکا خمیازہ ہم بھگت رہے ۔
    خود کو سنوار کے حق کے لئے ڈٹ جانے والے بنو ۔راستہ بنا بہت کم کو ملتا ۔راستہ بنا کر دینے والے بنو سیدھا راستہ جسکی منزل گلستان ہو۔

    SyedaBushraSha

  • ہمارا معاشرہ اور نوجوان نسل  تحریر:محمد اصغر

    ہمارا معاشرہ اور نوجوان نسل تحریر:محمد اصغر

    ہمارا معاشرہ اس وقت تباہی کی طرف جارہی ہے اسکی اصل وجہ فحاشی، شراب نوشی،جاہلیت، اور اسلام سے دوری ہے نوجوان نسل میں آجکل انٹرنیٹ کی دنیا نے ایسی ہلچل مچا رکھی کہ وہ تعلیم سے میلوں دور ہوتے جارہے ہیں، تعلیم سے دوری یقینا انسان کو اسلام سے دوری کا سبب بنتا ہے
    نوجوان نسل کو انٹرنیٹ کے استعمال نے اس قدر
    گھیر رکھا ہے کہ نہ دین کا پتہ نہ ماں باپ کا پتہ نہ اپنے ہوش رہ گئے ہیں سارا دن انٹرنیٹ پر غیر مواد ایشیاء کی تحریریں ڈرامے فلمے دیکھتے رہتے ہیں
    یہ سب چیزیں پھر نشے کا سبب بنتی ہے جو ہمارے معاشرے میں عام ہوچکا ہے کوئی ایسا خوش نصیب گھر ہو جہاں باپ، بھائی، بھتیجے، کوئی نا کوئی نشہ نہ کرتا ہو، نشے کی لت جس انسان کو لگ جاتی ہے اسکی زندگی دنیا اور آخرت دونوں تباہ ہوجاتے ہیں ماں باپ کو چایئے اپنے اولاد پر کنٹرول رکھے انکی اچھی تریبت کریں، انکی تعلیم پر خاص توجہ دیں، انہیں اچھے دوستوں کے ساتھ چلنے پھرنے کی تلقین کریں، اگر آپکا بیٹا کسی برے انسان کے ساتھ دوستی رکھتا ہے تو اسکے اثرات آپکے گھر پر بھی پڑیں گے، کیونکہ وہ کہتے ہیں نا ایک مچھلی پورے تالاب کو گندہ کردیتی ہے
    اپنے اولاد کی تریبت دین اسلام کے امنگوں کے مطابق کریں تو وہ آپکے لئے دنیا اور آپکے مرنے کے بعد بھی آپ کے لیے صدقہ جاریہ ہوتی ہیں اپنے بچوں کو دین اسلام کے بارے میں بتائیں، نماز قرآن، حقوق اللہ، اور حقوق العباد کی تلقین کریں
    اسکا اجر اللہ عزوجل تمھیں دنیا میں بھی آخرت میں عطاء کرے گا ہماری دعا ہے اللہ عزوجل ہماری اولاد پر رحم کریں اور انہیں نشے سے میلوں دور رکھے ہمیں اور ہماری آنی والی نسل کو دین اسلام پر چلنے کی توفیق عطا فرمائے آمین آمین
    Twitter Handle @ZiDDiBlochPTI

  • بیٹی . تحریر : محمد علی شیخ

    بیٹی . تحریر : محمد علی شیخ

    بیٹی کو ایک بوجھ کی طرح سمجھنا آخر کیوں بیٹیوں کے بارے میں دو باتیں ہر کسی کی زبان پر ہوتی ہیں بیٹیاں بوجھ ہوتی ہیں، جتنی جلدی اتر جائے اچھا ہے۔ بیٹیاں پرایا دھن ہوتی ہیں۔ آخکیوں ایسا سمجھا جاتا ہے کیا ہم مکمل دین اسلام میں داخل نہیں ہیں کیوں ان کے لیے ایسی منفی سوچ رکھتے ہیں ۔ جب کے ہم بھی کیسی بیٹی کی اولاد ہی ہیں۔

    زمانہ جہالت میں بیٹی کو زندہ درگور کر دیا جاتا تھا قبائلِ عرب میں عورت کےحقوق واحترام کا تصور بھی بے عزتی سمجھا جاتا تھا انسانی تاریخ نےوہ ہولناک منظر بھی پیش کیا جب ایک باپ مفلسی اورکبھی شرمندگی کےخوف سےنومولودبیٹیوں کوزندہ درگورکر دیتےتھےاوراس عظیم گناہ پر عمل کرنے سےسکون اوراطمینان محسوس کرتے۔خاص طورپرقبیلہ مضر، خزاعہ اور بنوتیم کےقبائل میں یہ رواج عام تھا۔کتنے بے حس اور پتھر دل انسان ہونگے جو اس حد تک چلے جاتے تھے لاکھوں کروڑوں درود و سلام سرکارِدوعالم حضرت محمدﷺ جملہ کائنات کے لیے رحمۃ للعالمین ﷺ نے اس عمل کو جڑ سے اکھاڑ پھینکا اور قرآن کریم میں ان دل سوز واقعات کی منظر کشی یوں کی گئی ہے: اور جب ان میں سے کسی کو بیٹی (پیدا ہونے) کی خوشخبری ملتی ہے تو اس کا چہرہ (افسوس کی وجہ سے) کالا پڑجاتا ہے اور وہ دکھ سےبھرجاتاہے۔(سورۃالنحل:۵۸)

    اب صرف فرق اتنا ہے کچھ گھرانے اسے بیٹی کو اس کی نظروں میں درگور کر دیتے ہیں۔۔ ہر قسم کی روک ٹوک ہر جگہ اسے احساس دیلانا تم بیٹی ہو بیٹی بن کے رہو۔۔یہ مت کرو وہ مت کرو۔ ہمیں تمام شریعت کے احکامات دین دنیا کی تعلیم اور معاشرے کے بدلتے رنگ ڈھنگ سب بتانے چاہیں۔ روک ٹوک ایسے کرو کے اس کے ذہنی نشونما ہو ایسا نا ہو وہ خود پر ہی اپنا اعتماد کھو دے
    بیٹی کی طاقت بنا چاہیے نا کہ اس کی کمزوری بنیں۔ اولاد اللہ پاک کی نعمت ہے، خواہ بیٹا ہو یا بیٹی۔ اصل اولاد کا نیک وصالح ہونا ہے ، صرف اپنی صنف کی وجہ سے بیٹے کو بیٹی پر کسی قسم کی برتری حاصل نہیں تو خدارا ہمیں ان کی تربیت کی ضرورت ہے ان کو نیچا دیکھانے کی ضرورت نہیں ہے۔۔ میری بیٹیوں نے مجھ سے سوال کیا پاپا آپ نے آج تک ہمارے لیے اللہ تعالی سے کونسی خاص دعا کی ہے تو میں نے کہا بیٹا ماں باپ کی ہر دعا بیٹیوں کے لیے خاص ہی ہوتی لیکن وہ سب ضد کرنے لگیں تو میں نے کہا تو سنو میں نے اللہ سے دعا کی ہے یا رب میری اگر میری بیٹیوں کے حصے میں کوئی دکھ تکلیف ہے تو وہ بھی مجھے دے دینا میری حصے کے سکھ چین میری بیٹیوں کو دے دینا ۔ وہ تینوں مجھے سے چمٹ گئیں رونے لگیں بار بار بولتی رہی یہ دعا واپس لو اپنی آج بھی وہ منظر یاد کرتا ہوں تو آنکھ بھر آتی ہے یہ سب بتانے کا مقصد صرف اتنا ہے بیٹی لازوال محبت کا نام ہے اللہ ربالعزت تمام بیٹیوں کی حفاظت فرمائے.
    آمین ثم آمین

    @MSA_47