Baaghi TV

Category: معاشرہ و ثقافت

  • پردیسی اور انکی عید . تحریر : حسن ریاض آہیر

    پردیسی اور انکی عید . تحریر : حسن ریاض آہیر

    وہ عید بے دید ہی ہوتی ہے جو اپنے دیس اپنے پیاروں کے درمیان نہیں بلکہ پردیس میں ہو۔ روشن مستقبل کی تلاش میں بہت سے پاکستانی اس وقت بیرون ملک مقیم ہیں جو محنت و مزدوری کر کے پاکستان میں موجود اپنوں اور انکی خوشیوں کے لیے قربانیاں دیں رہے ہیں۔
    پردیس کی ڈیوٹی بہت سخت ہے اکثر تو بیچارے کچھ لوگ عید کی نماز پڑھ کر اپنے کام پر پہنچ جاتے ہیں اور جنکو کو چھٹی ہو وہ موقعے کو غنیمت جان کر اپنی نیند پوری کرتے ہیں۔

    حالات کیسے بھی ہوں، کوئی تہوار ہو، خوشی ہو یا غمی، موسم کیسا بھی ہو پردیسیوں کے لیے راحت کی گنجائش بہت کم ہوتی ہے۔ یہ خود کو مشکل و مصیبت میں ڈال کر تکلیفیں سہہ کر اپنوں کی خوشیوں کا سبب بنتے ہیں۔

    میرے ایک دوست کی مجھے عید کے دن کال آئی اور وہ مجھے پریشانی میں مبتلا محسوس ہوا، جب میں نے اس سے وجہ پوچھی تو اس نے کہا کہ جن کی خاطر اتنے سالوں سے پردیس میں دھکے کھا رہا ہوں، تکلیفیں جھیل رہا ہوں آج عید کا سارا دن گزر گیا اسی انتظار میں کہ ابھی کوئی عید مبارک کہنے کے لیے کال کریں گا لیکن شاید کسی کو یاد ہی نہیں، ہاں لیکن ٹھیک ایک دن پہلے کال آئی تھی اور مجھے کہا گیا تھا کہ عید آ رہی پیسے بھیج دینا اور میں اسی دن کا بھیج چکا ہوں۔ یہ اس کے الفاظ بہت تکلیف دہ تھے۔ انسان کی قدر کم اور پیسے کی قدر زیادہ ہو چکی ہے۔

    تو جن کے گھر کے فرد خواہ کوئی چھوٹا ہو یا بڑا پردیس میں ہو تو اس کو بھولا نا کریں کیونکہ عید کے دن جو آپ خوشیاں منا رہے ہوتے ہیں وہ اسی کے خون اور پسینے کی محنت کے بدولت ممکن ہو پاتا ہے۔

    @HRA_07

  • پیش خیمہ قیامت . تحریر : کامران واحد

    پیش خیمہ قیامت . تحریر : کامران واحد

    ماحولیاتی تبدیلی زمین پر رونما ہونے والی سب سے ہولناک اور تباہ کن تبدیلی ہے اس مسئلےاور اس کی سنگینی کو پچھلی چند دہائیوں میں بالکل نظر انداز کیا گیا اس وقت زمین کی سطح کا درجہ حرارت صنعتی انقلاب سے قبل کے درجہ حرارت سے ۱یک اعشاریہ دو ڈگری سینٹی گریڈ بڑھ چکا ہے.

    ۲۰۱۹ میں زمین پر ماحولیاتی تبدیلی کی وجہ سے جنم لینے والے چند مسائل درج ذیل ہیں
    ۱- گرین لینڈ ، جو کہ ایک جحیم برفانی جزیرہ ہے، اس وقت تیزی سے پگھل رہا ہے جس کی وجہ سے سمندروں کے پانی میں خطرناک حد تک اضافہ ہو رہا ہے-
    ۲- برازیل، کولمبیا اور جنوبی امریکا کے دیگر ممالک میں پھیلا ہوا ایمازون جنگل ،جسے دنیائے ارض کا نظام تنفس سمجھا جاتا ہے ، بہت بڑی آگ کی زد میں آیا جس سے جنگلی حیات کو خطرات کے ساتھ ساتھ موسمی تغیرات میں اضافہ ہورہا ہے-
    ۳- اسی طرز کی ایک آگ انڈونیشیا کے جنگلات میں بھی بھڑک اٹھی ہے
    ۴- مختلف خطوں میں موسم کاشتکاری کیلئے غیر موزوں ہو رہا ہے جس سے دنیا میں غذائی اجناس کی قلت کا خوف ہے-
    ۵- موسمی آفات میں غیر معمولی شدت اور اضافہ ہے جن میں امریکی ریاست باہاماس میں آنے والا “ہری کین” سرِفہرست ہے-
    ۶- فضائی آلودگی کے سبب اس برس دنیا میں ناقابلِ رہائش شہروں کی فہرست مزید طویل ہوئی اور پاکستان کے تین شہر اس میں شامل ہوئے-
    ۷- دنیا میں اس وقت صاف اور تازہ پانی کی شدید قلت کا خطرہ ہے جس میں جنوبی ایشیا اور وسطی ایشیا کے ممالک شامل ہیں.

    اب جہاں عمران خان صاحب کا بلین ٹری سونامی پاکستان میں پنپ رھا ھے ، اسی طرح ساؤتھ اور سینٹرل ایشیاء کے ممالک کو بھی انیشیٹو لینا ھو گا۔ امید ھے اس بارے میں تمام ممالک سر جوڑ کر بیٹھیں اور مناسب حکمت عملی اپنائیں اور آنے والی نسلوں کا سوچیں۔

    پاکستان زندہ باد
    عمران خان پائندہ باد

    Twitter : @KhanKamoo

  • ٹیچراور سزا . تحریر :  محمد وقاص شریف

    ٹیچراور سزا . تحریر : محمد وقاص شریف

    نبی آ خر الزماں صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے اتنا فخر آخری نبی صلی اللہ علیہ وسلم ہونے پر نہیں کیا۔ جتنا اپنے آپ کو معلم کہنے پر کیا۔ زبان زد عام میں دیکھا جائے تو نبی کا درجہ ایک معلم سے کہیں زیادہ ہے۔ مگر نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم ہے کہ معلم ہونے اور کہلانے پر متفخر ہیں۔ ایک استاد اپنے طالب علم کو سزا دے سکتا ہے یا نہیں اس بات کا اندازہ لگانے سے پہلے یہ دیکھ لیتے ہیں کہ اسلام میں سزا کا تصور ہے یا نہیں۔ انسانی زندگی میں جس طرح جزا کا تصور ہے۔ اسی طرح سزا کا بھی تصور ہے۔ رب العزت نے انسان کو پیدا کیا اور فرمایا کہ نیکی اور بدی کا اختیار تیرے ہاتھ میں دیتا ہوں مگر یاد رکھ نیکی کی صورت میں جنت اور بدی کی صورت میں دوزخ تیرا مقدر ہو گی۔ یہ تو آخرت کی بات تھی۔ دنیا بھر میں عدالتی نظام موجود ہیں۔ پولیس اور ایجنسیز متحرک ہیں.

    وہ مختلف جرائم کرنے والوں پر ہاتھ ڈالتی ہیں۔ ان کو گرفتار کرتی ہیں۔ اور ایک منظم عدالتی نظام کے ذریعے ان کو اپنے کیے کی سزا ملتی ہے۔ اسی دوران بے گناہ افراد کو باعزت رہائی بھی ملتی ہے۔ نماز کے بارے میں حکم ہے۔ کہ بچہ 7سال کا ہو جائے تو اسے پیار سے نماز پڑھنے کا کہیں نہ پڑھے تو ڈانٹے اور اگر ڈانٹ بھی کم پڑ جائے تو آ سے سزا دیں۔ یاد رہے کہ سزا سے مراد تشدد ہرگز نہیں۔ کیونکہ مقصدیت بچے کی اصلاح ہے۔ کھال اتارنا ہرگز نہیں۔ دنیا کا کوئی بھی معاشرہ بچوں پر درندگی کی اجازت نہیں دیتا۔ لیکن سوال یہ ہے کہ اگر استاد بندہ بشر ہونے کی بنیاد پر کسی بچے کو معمول سے زیادہ سزا دے بیٹھتا ہے تو آس کے ساتھ کیا سلوک ہونا چاہئے کہا جاتا ہے کہ” غلطی فطرت آ دم ہے کیا کیا جائے۔ اس کا ایک اعلی ترین اخلاقی اور مذہبی حل یہ ہے کہ اس کو ایک موقع دیا جائے کیونکہ اس نے یہ فعل ذاتی دشمنی یا رنجش کی بنیاد پر نہیں کیا ہوتا بلکہ اس کو اس بات کا صدمہ دکھ اور رنج ہوتا ہے کہ آس کی اتنی زیادہ توجہ اور محنت کے باوجود بچہ اس کے کیے کرائے پر پانی پھینک دیتا ہے اس کی توقعات کا جنازہ نکالتا ہے تو وہ مایوسی اور ذہنی تناؤ کی بنیاد پر بچے پر ہاتھ اٹھا دیتا ہے۔ جس سے بعض اوقات بچے زخمی ہو جاتے ہیں اور والدین اپنے بچوں کی تکلیف برداشت نہیں کر پاتے اور یوں ایک جھگڑے کی فضا پیدا ہو جاتی ہے۔ پچھلے دنوں سند یلیا نوالی کے ایک نجی سکول میں بھی اسی طرح کا واقعہ پیش آیا۔ بچے پر تشدد کا معاملہ سامنے آیا جس پر ورثاء نے ٹیچر کو کوئی موقع دئیے بغیر اس پر چڑھائی کر دی۔ اور بھرے شہر میں اس کی عزت مٹی میں ملا دی۔

    بات یہیں پر ختم نہیں ہوئی دوران تشدد ٹیچر کی نہ صرف ویڈیو بنائی گئی بلکہ اسے وائرل بھی کیا گیا۔ پیغمبرانہ پیشے کے حامل استاد پر جس درندگی کا مظاہرہ کیا گیا وہ باعث شرم ہے۔ اگر استاد کو ایک موقع دیا جاتا تو یقیناً اس طرح کا واقعہ کبھی بھی پیش نہ آتا لیکن ایک عالم کو جہالت کی بھینٹ چڑھا دیا گیا۔ جس سے انسانی سر شرم سے جھک گئے اس تشدد سے بچے کے زخم تو نہیں بھرے لیکن استاد کے زخم ہمیشہ کے لئے ہرے ہو گئے۔ حضرت علی کرم اللہ وجہہ الکریم کا ارشاد ہے جس نے مجھے ایک لفظ بھی پڑھایا وہ میرا آ قا اور مولا ہو گیا۔مہذب معاشرے میں انجانے میں کسی شخص کو عدالت میں بلایا جاتا ہے جب جج صاحب کو پتا چلتا ہے کہ یہ شخص جو اس وقت عدالت میں موجود ہے وہ ایک ٹیچر ہے تو وہ کرسی چھوڑ کر احتراماً کھڑا ہو جاتا ہے۔غور طلب بات یہ ہے جس بچے کو ٹیچر چھ سال سے پڑھا رہا تھا اور اس کی تعلیم و تربیت کر رہا تھا اس کے مرتبے کا اندازہ لگانا ناممکن ہے۔
    تھوڑا کہئیے کو بہت جانئے گا۔

    @joinwsharif7

  • حجاب پر پابندی . تحریر : محمد ذیشان

    حجاب پر پابندی . تحریر : محمد ذیشان

    یوروپی عدالت انصاف نے اس ہفتے فیصلہ دیا تھا کہ مسلمان خواتین کو حجاب پہننے کی وجہ سے برطرف کیا جاسکتا ہے۔ اس جارحانہ فیصلے سے اسلامو فوبیا کو مزید تقویت ملے گی ، مسلم خواتین کو مزید پسماندہ اور الگ تھلگ کیا جائے گا ، اور اس خلاء کو اور گہرا کیا جائے گا، یہ فیصلہ بدلا جانا چاہئے۔ ایک مسلمان عورت کا حجاب عیسائی راہبہ کے حجاب سے کس طرح مختلف ہے سوائے اس کے کہ یہ الگ عقیدے کے لئے ہے؟ خواتین کو یہ بتانا مضحکہ خیز ہے کہ وہ اس طرح پہن سکتی ہیں نہ کہ اس طرح۔

    یوروپی یونین اور نام نہاد عدالتی نظام دوسرے مذاہب کے احترام اور فرائض کی خلاف ورزی کرکے مذہب کی جنگ لڑ رہے ہیں ، جس سے تشدد میں خوفناک حد تک اضافہ ہوگا۔ یہ فیصلہ بین المذاہب ہم آہنگی کی تمام کوششوں کو الٹ دے گا۔ مجھے٪ 99 فیصد یقین ہے کہ وہ یہ نہیں سوچیں گے کہ دوسرے مذہبی گروہوں نے بھی ایسے ہی احکامات لگانا قبول کرلیا ہے جنہوں نے اپنے بالوں کو ڈھانپنے کا انتخاب کیا ہے (آرتھوڈوکس یہودی خواتین ، راہبہ وغیرہ) اگر آپ مختصر یا مکمل طور پر لباس پہننا چاہتے ہیں اور آپ مسلمان نہیں ہیں تو کیا اس کی اجازت ہوگی؟

    میرا جسم میری مرضی کا کیا ہوا؟ یوروپی یونین کی سپریم کورٹ نے فیصلہ دیا ہے کہ اگر مسلمان خواتین گاہکوں کے ساتھ آمنے سامنے کام کریں یا ملازمت کی جگہ پر مذہبی لباس پہنیں تو حجاب یا ہیڈ سکارف پہننے والی خواتین کو برطرف کردیا جائے۔ یوروپی یونین کی عدالتوں نے فیصلہ دیا ہے کہ اگر ان کا مذہبی لباس کام کی جگہ پر تنازعہ پیدا کرتا ہے تو کمپنیاں حجاب کرنے والی خواتین کو برطرف کرسکتی ہیں۔
    کاش وہ متعصب افراد اور نسل پرستوں کے معاملے میں اتنے سخت ہوتے جن کا کام ہی اسلامو فوبیا کی اصل وجہ ہے۔ ہزاروں مسلم خواتین اور مذہبی گروہوں نے یورپی یونین کی عدالت کے کام کے مقام پر ہیڈ سکارف پر پابندی عائد کرنے کے فیصلے کو مسترد کرتے ہوئے اسے "امتیازی سلوک” اور "مسلم خواتین کی پولیسنگ” قرار دیا ہے۔

    تو مغربی ممالک کی بڑی بڑی باتیں کہاں ہیں جو کہتے ہیں کہ ‘عورتیں جو چاہیں پہن سکتی ہیں’۔ اس غیرجانبداری سے اندازہ لگائیں، اس معاملے میں پگڑی یا صلیب پہننا شامل نہیں ہے۔ یورپ کی اعلیٰ عدالت نے صنفی اسلامو فوبیا کو بڑھانے اور مسلم خواتین کو نشانہ بنانے والی نفرت سے نمٹنے کے بجائے ، نفرت کا اظہار کیا اور نفرت کو فروغ دیا۔

    اسلامو فوبیا کے بڑھتے ہوئے واقعات خاص طور پر مغرب میں تشویش کا باعث ہیں، جس پر عالمی برادری کی فوری توجہ کی ضرورت ہے۔ یورپی یونین کو ان کے حجاب پر پابندی پر شرم آنی چاہئے! کسی کے مذہب کا اظہار کرنا گاہکوں کے ساتھ کسی کے معاملات کو محدود یا تبدیل نہیں کرتا ہے یا کسی کے ساتھ سلوک کرنے کے اس طریقے کو متاثر نہیں کرتا ہے، یہ غنڈہ گردی اور اسلامو فوبیا ہے۔
    نفرت انگیز جرائم ، امتیازی سلوک، اسلامو فوبیا اور باقی سبھی چیزوں پر پردہ پوشی اوران کی رپورٹنگ کرنے کے لئے تمام مسلم صحافیوں کا بہت بہت شکریہ اور ہم سب کو اس معاملے میں اپنی آواز بلند کرنی چاہیے.

    @Zeeshanvfp

  • ‏مرد کو بھی درد ہوتا ہے!  تحریر: ماہ رخ اعظم

    ‏مرد کو بھی درد ہوتا ہے! تحریر: ماہ رخ اعظم

    بچپن سے والدین اپنے بیٹے کے ذہن پر یہ بات نقش کردیتےہیں کہ مرد روتا نہیں ، انہیں درد نہیں ہوتا ہے جو انہیں نفسياتی مریض بنا دیتا ہے حقیقت تو یہ ہے کہ مرد کو بھی درد ہوتا ہے اسے بھی تکلیف ہوتی ہے اسکے بھی جذبات ہوتے ہیں انہیں بھی ایسے سہارے کی ضرورت ہوتی ہے جو انہیں راحت فراہم کریں مرد کا بھی دل کرتا ہے کہ کوٸی اس بھی ویسا خیال رکھے جیسا وہ سب کا رکھتا ہے مرد بھی چاہتا ہے کہ وہ کھل زندگی جی سکے مگر ذمہ داریوں کے بوجھ تلے دب کر رہ جاتا ہے

    اگر بات کریں اپنے والد کی تو والد کی قربانیاں کا تذکرہ کرتے کرتے زندگی کی شام ہوجاٸے کیونکہ باپ جو اپنی اولاد کے لیے قربان کرتا ہے ناں وہ اولاد کبھی اس کی قیمت ادا نہیں کرسکتی ہے والد بھی توایک مرد ہوتا ہے جو اولاد کے لیے زمانے کی سختیاں تک برداشت کرلیتا ہے والد بےشک سخت مزاج کے ہو مگر ان کا دل بھی بہت نازک ہوتا ہے جب اولاد اپنے باپ یہ کہتی تو میرے کیا ہے تب بھی مرد کو درد ہوتا ہے کیوں ناں جس اولاد کے لیے وہ خواب مار دیتے ہے اس اولاد کے آرام و سکون کے لیے اپنا آرام سکون برباد کرتا ہے اپنی اولاد کے اپنے بوس سے گالیاں تک کھا لیتا ہے انکی خواہشات کو پورا کرتے کرتے ان کی کمر تر جھک جاتی ہے اور اولاد کہہ دیتی ہے تو نے میرے لیے کیا کیا ہے

    یہ الفاظ باپ کے دل کو توڑ کر رکھ دیتے ہیں اور زمانے کے ڈر سے باپ کھل کر رو بھی نہیں پتا ہے ہر درد چپ چاپ سہتا ہے اندر اندر مرتا رہتا ہے کیونکہ ہمارا معاشرے کا یہ تصور بنا ہوا ہے کہ مرد کو درد نہیں ہوتا ہے یہاں تو مرد کے ایک روپ کی بات کی ہے باقی کے روپ کا درد جان کر آپ کلیجہ منہ کوآجاٸے گا

    آخر میں بس اتنی گزارش ہے کہ معاشرے اس تصور کو مٹا دیا جاٸے کہ مرد کو درد نہیں ہوتاہے انہیں اپنے درد بانٹنے دیں اور اس جہالہانہ سوچ کو ختم کردے کیونکہ درد تو سب کو ہوتا ہے۔۔

    اللہ آپکا حامی و ناصر ہو آمین

     blockquote>

  • لبرلزم  تحریر : عثمان غنی

    لبرلزم تحریر : عثمان غنی

    عزتوں کے کچرا دان میں ایک اور بھرے ہوئے شاپر کا اضافہ۔ڈالنے والے صاحب نے بڑی شان سے زلت کے بازار سےبےغیرتی کی چادر لی اور تمکنت بھری چال چلتا ہوابے حیائی کے دفتر پہنچا۔وہاں ایک لمبا عرصہ غلیض زہنیت کی کلاس لی۔اب تربیت مکمل ،جزبے بلند ،سوچ پختہ،اور دماغ اپنی حفظ کی گئی چیزوں کو عمل میں لانے کے لئے بےتاب ہے۔۔۔غالبا تھیوری کو جتنا بھی کلاس میں رٹا جائے مگر جب تک اسے پریکٹکلی پرفارم نہ کیا جائے وہ کسی کام کی نہیں ہوتی۔اب وہ صاحب بھی عملی زندگی میں ہیں۔اور وہ کس حد تک کامیاب ہوتے ہیں اس بات کا انحصار اس سے بلواسطہ یا بلاواسطہ منسلک لوگوں کی بزدلی اور کم فہمی پر ہے۔ایسے لوگ اس کا زبردست ترین شکار ہیں جو لبرل ازم (اندر ہی اندر اسی سے دوستی کے خواہاں)کے خواہاں ہیں۔وہ صاحب آہستہ آہستہ اپنا حلقہ احباب بڑھاتے جاتے ہیں۔اور حلقہ احباب میں ہے کون۔۔۔۔۔یا تو کچے زہن کا کم عمر طبقہ یا پھر انہیں صاحب جیسے آزادی (بےراہ روی)طلب گار۔۔یہ صاحب اپنی تبلیغ کا آغاز اخلاق سے عاری گفتگو کر کے کرتے ہیں۔اور اس گفتگو کے بعد ان کو تین طرگ کے لوگ ملتے ہیں ۔ایک وہ جو ان کا بھرپور ساتھ دیتے ہیں۔دوسرے وہ جو چپ رہتے ہیں ۔تیسرے وہ جو ان کو برا خیال کرتے ہین اور ممکن حد تک ٹوکنے کی کوشش بھی کرتے ہیں۔اب جو پہلے گرہ کے لوگ ہوتے ہیں بغیر کسی محنت کے ان صاحب کی باتوں میں آجاتے ہیں۔بلکہ وہ ہوتے ہی انکے چیلے ہیں۔دوسرے لوگ ان کا مشکل ہدف ہیں مگر یہ بھی نا ممکن ثابت نہیں ہوتے۔اور آخری گرہ کو فرسودہ کہے کر ان پر خاص محنت نہین کی جاتی۔
    زرا سوچئے۔۔۔ایسے لوگ ہمارے درمیان بیٹھ کر ایسی گندی گفتگو کرتے ہیں ۔اور ہم سنتے رہتے ہین کہ صرف زبان خراب ہے دل کے صاف ہیں ۔ہماری زبان ہماری پہچان ہوتی ہے۔اس سے ہمارے خاندان ہماری روایات ہمارے مزہب کا پتہ چلتا ہے۔یہ لوگ کہیں باہر سے نہیں ہماری فیملیز سے ہوتے ہیں ۔ہمارے دوستوں میں سے ہوتے ہیں۔مگر ہم ان کو مارجن دیتے ہیں۔ایک ہدیث کے مطابق اگر کسی ن شخص نےجو چیز دو ٹانگوں کے درمیان ہے اور جو اور دو جبڑوں کے درمیان ہے اس کی حفاظت کر لی اس پر جنت واجب ہے گئی۔
    اور آج حالت ایسی ہے کہ گالی فیشن ہے گندی اور غلیظ گفتگو خوش اخلاقی ہے۔کیا آج جو گفتگو عام گھروں میں ہورہی ہوتی ہے وہ درست ہوتی ہے ؟؟؟؟کیا اس کو کچے زہن کے کم عمر بچوں کے سامنے کرنا درست ہے؟؟؟
    وہ لباس جو آپ روزانہ کی بنیاد پر زیب تن کر کے جاتے ہیں کیا درست ہے ۔چھوٹی بچیوں کے کپڑوں سے بازو غائب اور عورتوں کے کپڑوں سے دوپٹہ اور گفتگو کو تو رہنے ہی دیجئے
    آہستہ آہستہ عزتیں کچرا دانون کی زینت بنتی جارہی ہیں ۔اور جن لوگ ان کو اب سر کا تاج بنا رکھا ہے ان بیک ورڈ کہا جاتا ہے ہے۔
    کہتے ہیں زمانہ جاہلیت میں ایک شخص نے اپنی کزن کے نام پرلکھ کر غیر اخلاقی شاعری خانہ کعبہ میں لگا رکھی تھی۔واضح رہے کہ ان لوگوں کے لئے ایک مخصوص لفظ جاہل اور اس زمانے کے لئے جاہلیت کا لفظ استعمال کیا جاتا ہے۔اور آج کے ماڈرن زمانے میں ہر شخص "کزن”کے عنوان سے آنے والی پوسٹس کو لائک کرتا ہے کمنٹ کرتا ہے وغیرو وغیرہ۔آج کل فیس بک کی مشہور پرسنیلٹی پھپھو کی بیٹی ہے۔زمانہ "جاہلیت”اور جدید دور میں بس اتنا فرق رہے گیا ہے کہ اس قت خالا کی بیٹی "تھی "اب پھپھو کی بیٹی "ہے”۔اور ہاں خصوصا سرائیکی و کو چاچے کی چھوکری نے بھی تنگ کر رکھا ہے۔بلکہ اب یہ کہنا زیادہ مناسب ہوگا کہ پہلے ایک تھی اب تو ساری ہی آگئیں۔
    زرا سوچئے ۔۔۔کیا ہوا کی بیٹیاں اتنی ارزان ہیں کہ ان کے کردار کو فیس بک کی زینت بنا دیا جائے؟؟؟اگر کوئی مرد کہے دے کے فلاں لڑکی مجھ پر مرتی ہے تو ہم بغیر کسی تحقیق کے مان لیتے ہیں۔اور آگے بھی اس کو خوب مرچ مسالے لگا کر پیش بھی کرتے ہیں۔اس سے ہم خود کو کیا ثابت کر نا چاہ رہے ہیں؟؟؟؟جبکہ ہم جاہل بھی نہیں ہیں ۔۔۔
    میں نے اکثر باپردہ لڑکیوں یونیورسٹیوں میں آتے ہی پردہ اتارتے دیکھا ہے۔غالبا پردہ ان کے لئے ایک تنگ زہنیت ہے ۔جب لوگ کہتے ہیں کہ اب جدید دور ہے اور ہر چیز میں تیزی آگئی ہے تو میں مان لیتی ہوں۔روز ہی ہزاروں لڑکیاں تنگ زہنوں(گھروںمیں پردہ) سےکھلے زہنوں (یونیورسٹیوں میں پردہ اتار دینے)میں سفر کرتی ہیں۔
    ہمیں ان فتنوں سے نکلنا ہے ۔ورنہ آج ہم میں اور زمانہ جاہلیت میں کوئی فرق نہیں رہے گیا۔جدید دور نے ہمیں اپنے پیچھے اسقدر ہلکان کر رکھا ہے ۔کہ ہم اپنا سب کچھ بھول چکے ہیں۔ہم آئڈیلزم کا شکار قوم ہیں ۔ہم میں اگر ایک شخص کوئی غلط راہ اختیار کرتا ہے تو اس کے بھی فالورز نکل آتے ہیں۔ہمیں اپنے زہنوں کو اسلام کے نور سے منور کرنا ہوگا۔ہمیں اپنے اندر سے چھوٹی چھوٹی برائیاں ختم کرنی ہوں گی۔ہمیں دوبارہ انہیں "فرسودہ”روایات کو اپنانا ہوگا۔تب کہیں جاکر ہم اپنا آپ پہچانے گے۔۔


    Usman Ghani is a Freelancer, Blogger He is associated with many leading digital media sites in Pakistan. To find out more about him visit her        Twitter Account(@UsmanSay_)  

    Other Article Usman Ghani

     

     

  • معذور افراد باہمت اور باصلاحیت افراد  تحریر : محمد نوید

    معذور افراد باہمت اور باصلاحیت افراد تحریر : محمد نوید

    اقوام متحدہ کے قانون کے تحت معذور افراد جنہیں خصوصی افراد یا اسپیشل پرسن بھی کہا جاتا ہے ایسے افراد کو کہتے ہیں جو کسی ایسی جسمانی یا دماغی بیماری میں مبتلا ہوں جو انسان کے روزانہ کے معمولات زندگی سرانجام دینے کی اہلیت و صلاحیت پرگہرے اور طویل اثرات مرتب کرے یا وہ بیماری اس فرد کے کام کرنے کی اہلیت یا صلاحیت کو ختم کرے۔ معذوری ذہنی بھی ہو سکتی ہے جسمانی بھی، پیدائشی بھی ہو سکتی ہے اور حادثاتی بھی
    معذور افراد کے لیے نوکریوں میں 3 فیصد کوٹہ متعین ہے جبکہ اس کو بڑھا کر 5 فیصد کرنا چاہیے
    اب آتے ہیں انکے مسائل کی طرف ایک جگہ سے دوسرے مقام تک سفر میں اُن کی راہ میں رکاوٹ نہیں بلکہ وہ روڈ انفراسٹرکچر حائل ہوتا ہے۔سڑک پار کرنا ایک امتحان ہوتا ہے۔ حکومت سے درخواست ہے کہ معذور افراد کی رسائی کے لیے سرکاری اداروں اور بلڈنگ اور پرائیویٹ سیکٹرز کو باور کروایں کہ معذور افراد کو ایکسیسبلٹی مہیا کی جاۓ ریمپ بنا کر دیے جائیں
    حکومت ماہانہ وظیفہ مقرر کرے
    مفت وہیل چیئرز فراہم کی جاۓ تاکہ وہ آنے جانے کیلئے کسی کے محتاج نہ ہو مفت علاج کی سہولیات مہیا کی جائیں اور گاہے بگاہے سیمینارز منعقد کئے جائیں جہاں ان کے حقوق کے لیے آواز بلند کی جا سکے

    @naveedofficial_

  • پاکستان اور دیسی لبرلز   تحریر: فیصل فرحان

    پاکستان اور دیسی لبرلز تحریر: فیصل فرحان

    اصطلاح میں لبرل اسے کہتے ہے جو مخالف کی بات کو تحمل سے سنے اور مخالف کی رائے کی قدر کریں المختصر یہ کہ صرف خود کو ہی عقل کل نہ سمجھے بلکہ دوسرے کی رائے کو بھی مانیں لیکن جناب ہمارے پاکستانی لبرلز تو سب سے انوکھے اور نرالے ہے کیونکہ ان لوگوں کو لفظ لبرلاازم کے مطلب کا ہی نہیں پتہ ان لوگوں کے نزدیک لبرل وہ ہوتا ہے جو اسلام اور پاکستان کی ہر چیز کی مخالفت کرے۔ یہ صرف میں کہہ نہیں رہا بلکہ ثبوت موجود ہے، یقین نہیں تو پاکستانی لبرلز کے سوشل میڈیا اکونٹس اٹھا کر دیکھ لیں آپ ان پر صرف پاکستان اور اسلام مخالف ہی مواد دیکھے گے۔

    چند دن قبل ایک پاکستانی دیسی لبرل نے ٹویٹ کیا کہ قربانی پر جانور ذبح کرنے کی بجائے واٹر کولر لگوا دیں تاکہ غریب لوگ ٹھنڈا پانی پی سکے۔ اور وہ جناب ٹویٹ بھی آئی فون سے کر رہے تھے۔ سوال یہ ہے کہ بندہ تھوڑا سستا موبائل بھی تو چلا سکتا ہے؟ پھر آئی فوج جیسا مہنگا فون کیو خریدا؟؟ تب کیو غریب یاد نہ آیا؟ یہی لوگ بڑی بڑی کوٹھیوں میں رہتے ہے لیکن تب بھی ان لوگوں کو غریب یاد نہیں رہتا، بس یہ غریب سے ہمدردی صرف اسلامی تہوار کے وقت ہی ہوتی ہے؟؟

    ایک اور دیسی لبرل کی روداد سنیے۔ کل ایک نجی ٹی وی کی مشہور صحافی نے ٹویٹ داغا کہ جانوروں کو جینے دیا جائے اور عید جانور کی قربانی کے بغیر کی جائے۔ مطلب یہ محترمہ اللہ اور نبیؐ سے بھی زیادہ ہمدردی رکھتی ہے جانوروں سے؟ جبکہ اسی عورت کی ٹائم لائن دیکھے تو پورانے ٹویٹس میں محترمہ کبھی بیف کھانے کی پوسٹ کر رہی ہے تو کبھی نہاری۔ پوچھنا بس یہ ہے کہ کیا بیف اور نہاری زمین سے اگتی ہے؟ اور جناب یہی محترمہ اپنی ملازمہ پر تشدد میں ملوث تھی، جی ہاں اس نے ایک کمسن ملازمہ پر بدترین تشدد کیا تھا یہ خبر میڈیا کی زینت بھی بنی رہی تو یہاں پر بھی سوال اٹھتا ہے کہ کیا انسان کی قدر جانور سے کم ہے؟ کیونکہ یہ عورت جانور کی حرمت کی بات تو کرتی ہے جبکہ خود انسان پر تشدد کرتی ہے۔ جی ہاں اسے منافقت اور دین بیزاری کہتے ہے۔

    اب آتے ہے دوسرے رخ کی طرف۔ پوری دنیا میں سب سے سے زیادہ جانوروں کا گوشت امریکہ میں کھایا جاتا ہے جو کہ کل دنیا کا 20 فیصد بنتا ہے اسی طرح ٹاپ بیس ملکوں میں ایک بھی اسلامی ملک نہیں تب ان سستے لبرلز کو ہمدردی اور جانوروں کی زندگی یاد کیو نہیں آتی؟ آپکو پتہ ہے کہ ایک دن میں مکڈونلڈ 67 ہزار جانروں کو ذبح کر کے اپنے ریسٹورینٹس میں سپلائی کرتا ہے لیکن تب یہ لوگ نہیں بولتے کیونکہ یہ گوشت ان امیروں کے پیٹ میں جو جاتا ہے لیکن جب اسلام اللہ کی رضا کیلیے جانور ذبح کر کے غریبوں میں بانٹنے کا حکم دیتا ہے تو سارے لبرلز کے ہاں ماتم بچھ جاتا ہے کسی کو غریب کا جہیز یاد آجاتا ہے تو کسی کو جانوری کی زندگی کی اہمیت۔

    المختصر ان لوگوں کو نہ تو غریب سے ہمدردی ہے اور نہ جانوروں کی ودر ان لوگوں کو بس تکلیف اسلام اور پاکستان سے ہے اور دوسری بڑی وجہ بیرونی این جی اوز سے پیسہ بٹورنا بھی ہے۔ بیچارے کیا کریں اسلام اور پاکستان پر تنقید کر کے ہی تو چند ڈالرز کماتے ہے اور اپنا پیٹ پالتے ہے لیکن یاد رکھوں یہ ڈالرز صرف چند دن کیلیے ہے بہت جلد ہم سب نے مرجانا ہے پھر یہ دولت کام نہیں آئے گی پھر درد ناک عذاب ہوگا بس۔ اسلیے چند ڈالرز کی خاطر اپنی آخرت تباہ مت کیجیے۔

    اسلام زندہ آباد، پاکستان زندہ آباد
    @Farhan_Speaks_

  • علم  تحریر : عائشہ رسول

    علم تحریر : عائشہ رسول


    علم زندگی کا بہترین زاویہ ہے. جس سے انسان بنتا ہے اور انسانیت کی طرف سفر شروع کرتا ہے. علم ہو اور انسان تبدیل نہ ہو تو یہ علم نہیں علم کے ساتھ ظلم ہے.
    علم کی روشنی سے زہن اور فکر منور ہوتی ہے. جو علم زہن کو تاریک کرے وہ علم نہیں… وہ کسی کا یاد کروایا ہوا سبق ہوتا ہے.. . علم انسانی احساسات کو زندگی بخشتا اور شعور کی آبیاری کرتا ہے.جو علم انسان کو اندھے راستوں پہ لے جائے وہ خدا کا عطا کردہ علم نہیں. جو رزق حلال کھاتے ہیں وہ جانتے ہیں علم کیا ہے, عالم کیسا ہوتا ہے اور عالمیت کیا ہے جو خدا کی بخشی ہوئی نعمتوں کا شکر بجالاتے ہیں وہ ان نعمتوں سے واقف ہیں.
    وہ علم سب سے بڑی نعمت ہے جس سے انسانیت کی تعمیرِنو ہوتی ہے.
    علم انسان کو زھنی بلندیوں تک لے جاتاہے مگر سن لو… وہ علم”علم” نھیں’جو زھنی پستیوں سے نکلنے نہ دے, جو خیالوں سے باندھ دے, جو بے غرض سوچ میں جکڑ دے… بلکہ علم تو وہ ہے…. جو فکرکو ھر لمحہ ایک نئی حیات بخش دے, جو روح کو سیراب کردے, جو زہن کو ضیابخش دے.
    علم اس وقت تک باقی رہے گا جب تک علم والے اور علم کے مطابق عمل کرنے والے زندہ ہیں
    سب سے بڑا علم یہی ہے کہ موت یقینی ہے اور ایک دن ہمارے اعمال کا حساب ہوگا اور نامہ اعمال ہمارے
    ہاتھوں میں تھما دیے جائیں گے اور وہ "یوم حساب”ہوگا
    اور جو لوگ ہر یوم کو "یوم حساب” سمجھ کر گزارتے ہیں میں انکے علم کی قدر کرتی ہوں

    آؤ سب مل کراس علم سے دوستی, آشنائی اور شناسائی کر لیں
    ہماری دین, دنیا اور آخرت سب کے لیے یہ کامیاب ترین نسخہ ہے اور یہ وہ علم ہے جس علم سے نجات ہو گی
    اللہ ہمیں علم حاصل کرنے کے ساتھ ساتھ عمل کی بھی توفیق عطا کرے… آمین…
    "وما علینا الا البلاغ المبین ”

    Official Twitter handle
    ‎@Ayesha__ra

  • ہماری غربت کی بنیادی وجہ تحریر: حمزہ بن شکیل

    ہماری غربت کی بنیادی وجہ تحریر: حمزہ بن شکیل

    بل گیٹس نے ٹھیک ہی تو کہا ہے کہ اگر ہم غریب گھرانے میں پیدا ھوتے ہیں تو اس میں ہمارا کوئی قصور نہیں لیکن اگر ہم غریب مرتے ہیں تو اس میں سو فیصد ہمارا قصور ہے۔

    کامیابی حاصل کرنے کے لئے قابل ہونا بنیادی شرط ہے لیکن المیہ یہ بے کہ آج کے دور کے بیشتر طالب علم خاص طور پر لڑکے تو پڑھنا ہی نہیں چاہتے۔ وہ محنت نہیں کرنا چاہتے۔ ان کی زندگی میں نظم وضبط نام کی کوئی چیز نہیں۔انھیں کھیل کود، موبائل ، کمپیوٹر اور ٹک ٹاک ہی سے فرصت نہیں۔

    وہ چاہتے ہیں کہ کسی بھی طریقے سے زیادہ سے زیادہ نمبر حاصل کیے جائیں۔وہ کسی شارٹ کٹ کی تلاش میں ہیں۔
    لیکن وہ نہیں جانتے کہ ان کی آئندہ کی زندگی کس قدر سخت بے۔ چھوٹی موٹی نوکری کے عوض جو تنخواہ ملتی ہے اس سے تو بجلی وگیس کے بل اور مکان کے کراۓ بھی ادا نہیں ہو پاتے۔

    آج کے طالب علموں کے رپورٹ کارڈ تو نمبروں سے بھرے ھوتے ہیں لیکن ان میں قابلیت نام کی کوئی چیز نہیں ھوتی۔ ایسے نوجوان گریجویشن اور ماسٹر کرنے کے بعد سرٹیفیکیٹس کی فائل ہاتھوں میں تھامے، ملازمت کی تلاش میں مختلف دفاتر کے چکر لگاتے نظر آتے ہیں۔

    سفارش کے بعد انھیں کوئی معمولی سی ملازمت تو حاصل ھو جاتی ہے لیکن معمولی تنخواہ کی وجہ سے وہ پوری عمر غربت کی چکی میں پستے رہتے ہیں اور اپنی بنیادی ضروریات بھی پوری کرنے سے قاصر رہتے ہیں۔ اور یوں غربت ایک نسل سے دوسری نسل کو منتقل ھو جاتی ھے۔ معیار زندگی بہتر بنانے اور مہنگائی کو شکست دینے کے لیے ایسی تعلیم کا حصول ضروری ہے جس سے طالب علموں کی قابلیت میں اضافہ ہو۔ جس کی بدولت وہ باآسانی اچھی ملازمت حاصل کر سکتے ہیں۔ طالب علموں کی آج کی محنت سے بھر پور سخت زندگی ان کی آئندہ کی زندگی کو آرام دہ اور پرآسائش بنا سکتی ہے۔

    اپنے بچوں کو کامیاب بنانے اور غربت کے چنگل سے نکالنے کے لیے انھیں ایسے تعلیمی اداروں میں داخل کروائیے جہاں نظم وضبط ھو اور جہاں نمبروں کی نہیں قابلیت کی اہمیت ھو۔

    ہم ہیں غربت میں گزارے ہوئے ایّام جنہیں
    لوگ جب تخت پر آتے ہیں تو بھلا دیتے ہیں