Baaghi TV

Category: معاشرہ و ثقافت

  • انصاف کا کٹہرا . تحریر : انجینئرعنصراعوان

    انصاف کا کٹہرا . تحریر : انجینئرعنصراعوان

    گزشتہ کئی دنوں سے ہمیں سوشل میڈیا پر ایک جیسے ہیش ٹیگز گردش کرتے دکھائی دے رہے ہیں. جن میں ہوا کی بیٹیوں کے لیے انصاف کی اپیل کی جا رہی ہے. تین دن ایک جیسے ہیش ٹیگز (جسٹس فار…… ) پر جن کے لیے انصاف مانگا جا رہا ہے انکے نام تبدیل ہیں. یعنی پچھلے دنوں میں مختلف قتل کی  وارداتیں سامنے آئیں جن میں ہوا کی بیٹیوں کو بیہیمانہ تشدد کے بعد قتل کر دیا گیا.
    یہ کوئی پہلی بار نہیں ہوا ہمیں آئے روز ایک نیا واقعہ سننے کو ملتا ہے. کبھی کسی کمسن بچی کو زیادتی کے بعد قتل کر دیا جاتا ہے اور کبھی کسی بچے کو زیادتی کے بعد قتل کر دیے جانے کے واقعات رونما ہوتے ہیں. کبھی کسی کو قتل کر کے غیرت کے نام پر قتل کا ڈھونگ رچایا جاتا ہے.

    یہاں تک کے ہمارے مدرسے سکولز اور یونیورسٹیز جن کا کام معاشرے کو سدھارنا اور معاشرے کو ان معاشرتی برائیوں سے پاک کرنا ہے وہ خود بھی ان معاشرتی برائیوں سے محفوظ نہیں ہیں. آئے روز رونما ہونے والے اسطرح کے واقعات میں کبھی کسی مدرسے یا سکول کے اساتذہ بچوں کے ساتھ زیادتی کے کیسز میں ملوث پائے جاتے ہیں تو کبھی  یونیورسٹیز کے پروفیسرز اپنی سٹوڈنٹس کو جنسی ہراساں کرتے نظر آتے ہیں.

    مختلف کالجز اور یونیورسٹیز میں مختلف فنکشنز کے نام پر ہونے والی بےحیائی اور فحاشی آپ کے سامنے ہے.
    جب بھی ایسا کوئی واقعہ پیش آتا ہے تو سوشل میڈیا پر ایسے ہی ہیش ٹیگز دکھائی دیتے ہیں جن میں عوام کافی غم و غصے میں انصاف کی اپیل کرتی اور مجرموں کو سخت سزائیں دینے اور کیفرکردار تک پہنچانے کی اپیل کرتی نظر آتی ہے. کیسز بھی درج کیے جاتے ہیں اور مقتدر اداروں کی جانب سے ممکنہ انصاف فراہم کرنے کی یقین دہانی بھی کروائی جاتی ہے. لیکن ہمیشہ ملزمان بااثر ہونے کی وجہ سے بچ نکلنے میں کامیاب ہو جاتے ہیں.

    یہاں پرغریبوں کے لیے انصاف ناپید ہو چکا ہے. انسانی زندگی کی کوئی وقعت نظر نہیں آتی یعنی جس کا دل کرے جب چاہے انسانی زندگی کے ساتھ کھلواڑ کرے اور اسے ضائع کر دے کوئی پوچھنے والا نہیں. گزشتہ کئی سالوں سے یہ اسی طرح چلتا آ رہا ہے اور چلتا رہے گا جب تک بر وقت انصاف کی فراہمی ممکن نہیں بنائی جاتی اور ان ملزمان کو قرار واقع سزائیں نہیں دی جاتیں.
    یہ برائیاں ہمارے معاشرے میں ایک ناسور کی طرح پھیل چکی ہیں انکے خاتمے کے لئے بہت ضروری ہے کہ مقتدر ادارے حرکت میں آئیں قانون کا نفاذ کریں اور ایسے تمام ملزمان کو انصاف کے کٹہرے میں لا کر  سخت سے سخت سزائیں دے کر کیفرکردار تک پہنچائیں.

    @A_Awan11

  • بیروزگاری اور ڈیجیٹل میڈیا سکلز . تحریر: حسنین احمد

    بیروزگاری اور ڈیجیٹل میڈیا سکلز . تحریر: حسنین احمد

    پاکستان کی کل ابادی کا ٪60 فیصد حصہ 30 سال سے کم عمر نوجوانوں پر مشتمل ہے۔اتنی بڑی نوجوان ابادی کیلئے تعلیم اور روزگار کے یکساں مواقع فراہم کرنا پاکستان جیسے ترقی پذیر ملک کیلئے مشکل کام ہے۔ اس ٪60 فیصد ابادی کا زیادہ حصہ متوسط اور نچلے طبقے کے لوگوں پر مشتمل ہے جو تعلیم مکمل کرنے کے بعد روزگار تلاش کرنے کی کوشش میں ہوتے ہیں۔مگر حکومت وسائل کی کمی کی وجہ سے ان کو روزگار فراہم نہیں کرسکتی جس کی وجہ سے زیادہ نوجوان بیروزگاری کا شکار ہوجاتے ہیں اور یو ملک میں غربت کی شرح میں مسلسل اضافہ ہوتا ہے۔مگر اب ای-کامرس کے نام سے ایک نئی انڈسٹری ابھر رہی ہیں جس سے یہ بڑھتی ہوئی بیروزگاری کم کی جاسکتی ہیں۔ای-کامرس ایک اسی انڈسٹری ہے جس میں انلائن خرید وفروخت کی جاتی ہیں،مختلف چیزیں بیچی اور خریدی جاسکتی ہیں، مختلف فلیٹ فارمز جیسا کہ ایمازون،فے فال وغیرہ پر انلائن کاروبار شروع کیا جا سکتا ہیں اور گھر بیٹھے ہی ڈالر کما جا سکتے ہیں۔ ۔اس انڈسٹری میں فری لانسنگ کافی مقبول ہے۔بالعموم پوری دنیا اور بالخصوص پاکستان میں کرونا کے بعد فری لانسنگ کی شرح میں کافی حد تک اضافہ ہوا ہے۔فری لانسرز گھر بیٹھے ہی لیپ ٹاپ کے زریعے کام کرکے پیسے کماتے ہیں۔فری لانسنگ کیلئے کسی ہنر جیسا کہ "ڈیجیٹل مارکیٹنگ،ویب ڈیزائننگ،گرافکس ڈیزائننگ،سوشل میڈیا ہینڈلنگ وغیرہ کا ہونا ضروری ہے۔کئی نجی ایسے فلیٹ فارمز موجود ہے جس سے اپ انلائن سکل یا ہنر سیکھ کر خود کفیل بن سکتے ہیں۔۔ہزاروں لوگ اس اندسٹری سے اپنی روزی روٹی کمارہے ہیں مگر پاکستان میں بہت کم لوگ اس انڈسٹری سے فائدہ اٹھارہے ہیں جس کی اصل وجہ اس بارے میں معلومات کا نہ ہونا ہے۔

    حکومت کو ای-کامرس بارے اگاہی پھیلانی چاہیے اور ایسے ادارے قائم کرنے چاہیے جس میں یہ چیزیں سکھائی جاتی ہو۔اس انڈسٹری کے بدولت نہ صرف بیروزگاری میں کمی لائی جاسکتی ہیں بلکہ ملک میں غربت کی شرح میں بھی کمی لائی جاسکتی ہیں اور ملک کی 60 فیصد نوجوان ابادی ملک کی تعمیر وترقی میں کردار کی قابل ہوسکتی ہیں۔

    @Itx__Hasnain

  • معاشرتی بگاڑ اورعام آدمی . تحریر : عرفان محمود گوندل

    معاشرتی بگاڑ اورعام آدمی . تحریر : عرفان محمود گوندل

    شیخ سعدی نے کہا تھا کہ کبوتر کبوتروں کے ساتھ اڑتے ہیں اور باز بازوں کے ساتھ دراصل یہ معاشرتی طبقات کی طرف اشارہ تھا ۔
    ہمارا معاشرہ اب اتنے ہی طبقات میں تقسیم ہوچکا ہے جتنے حشرات چرند پرند اس زمین پر بستے ہیں۔ اس طبقات کی جنگ میں اب عام آدمی کو اپنا معیار پرکھنا پڑے گا کہ وہ کون ہے. لیکن عام آدمی کو یہ معیار کیسے پتہ چلے گا کہ وہ کون ہے ۔ ہمارے ہاں اتنے طبقات ہیں کہ گننا مشکل ہے۔ چلیں سب سے کمزور طبقہ پکھی واس اس سے اوپر فقیر اس سے اوپر مزدور دیہاڑی داراس سے اوپر ریڑھی والے اس سے اوپر چھابڑی والے اس سے اوپر سب سے اوپر وہ جن کا یہاں وجود بھی نہیں لیکن حکم انہی کا چلتا ہے ۔۔

    بقول ایک شاعر کے کہ جب وہ فیصلے کرتے ہیں تو خدا بھی احتیاطاََ آسمانوں میں کہیں خاموش بیٹھ جاتا ہے
    ہمیں اب اس درجاتی تقسیم کے مطابق اپنے شہروں دیہاتوں اور جنگلوں کو تقسیم کرلینا چاہیے۔ جنگلوں میں بھی جانوروں کے اپنے اپنے علاقے ہوتے ہیں جیسے جنگل میں جس گوشت خور جانور کا جتنا بڑا جبڑا ہوتا ہے وہ اتنا ہی بڑا حصہ وصول کرتا ہے ہمارے انسانوں کے جنگلوں میں بھی یہی دستور رواج پا چکے ہیں ۔ ہم نے پہلے ہی اپنی طبقاتی طاقت کے حساب سے
    سکول کالونیاں شاپنگ مال تھانوں میں حصہ کچہریوں میں پروٹوکول عدالتوں میں انصاف کا معیاراسمبلیوں میں حصہ سب کچھ بنا لیا ہے
    صرف اعلان کرنا باقی ہے۔

    اگراعلان کردیا جائے اور متناسب نمائندگی کے حساب سے ہر ایک کو زندہ رہنے کا کوٹہ بھی فراہم کردیا جائے
    تو شاید کچھ ایسے لوگوں کی توقعات ختم ہوجائیں جن کے دلوں میں ابھی تک ایک امید انگڑائی لیتی ہے کہ شاید ان کے لئے بھی کچھ ہوگا۔۔۔ کہ شاید وہ اس غلامانہ زندگی سے آزاد ہوجائیں گے ۔ شاید انہیں بھی وہی سب میسر ہوگا جو ترقی یافتہ علاقوں میں لوگوں کو میسر ہے ۔
    اگر یہ اعلان کر دیا جائے کہ اس معیار سے نیچے والے غلام ہوں گے اور اس معیار سے اوپر والے آقا تو شاید بہت سے لوگوں کے دلوں کو سکون مل جائے۔

    قدیم عرب میں رواج تھا کہ جب مال غنیمت میں حاصل ہونے والی عورتیں اور مرد بازار میں باقاعدہ فروخت ہوتی تھیں۔ جانوروں کی طرح ان کی بولیاں لگتی تھیں اور بیوپاری جانوروں کی طرح ہی ان کا بہاؤ کرتے تھے کسی کو سرکشی کی اجازت نہ تھی ۔قدیم وقت میں امریکہ میں تو غلاموں کو کام پر لگانے سے پہلے ان کے منہ پر ایک لوہے کا خول چڑھا دیا جاتا تھا کہ پھل توڑتے ہوئے یہ لوگ پھل نہ کھا سکیں یا اناج نہ کھا سکیں ۔ امریکہ میں غلاموں کے بچوں کو مگر مچھ پکڑنے کے لئے بطور چارہ استعمال کرنے کی اجازت ہوتی تھی۔۔
    جو حد سے گزرتا تھا اسے کوئی بھی قتل کردیتا تھا اور پوچھ پکڑ کرنے والا کوئی نہیں ہوتا تھا۔
    ادھر بھی اب ایسا ہی چلتا ہے۔ سر کشی کرنے والوں کو ادھیڑ کے رکھ دیا جاتا ہے اور ظالم کی آرام سے ضمانت ہوجاتی ہے۔یہاں غلاموں کے بچوں کو مگر مچھ کھاتے نہیں لیکن جنسی تشدد کا نشانہ بنا کر مار ڈالتے ہیں ۔ ظلم کرنے والے کو ملک چھوڑ کر کسی دوسرے ملک میں رہنے کی کھلے عام اجازت ہوتی ہے جبکہ غلام نسلوں کو ویزہ بھی نہیں ملتا۔۔۔ہزار طرح کے بہانے ہوتے ہیں۔ جیسے جیسے سوچتا ہوں میرے دل میں یہ خواہش مزید پختہ ہوتی جاتی ہے کہ اگر ہمارا معاشرہ باقاعدہ انسانیت کے معیارمقررکردے۔ جیسے پڑوس میں اچھوت، شودر کھتری برہمن ہیں۔ ہم بھی تو ایسے ہوسکتے ہیں ۔۔ جیسے ابن عربی نے کہا تھا۔

    @I_G68

  • سوشل میڈیا اور  آج کی جنریشن   تحریر: ایمن زاھد حسین

    سوشل میڈیا اور آج کی جنریشن تحریر: ایمن زاھد حسین

    میڈیا ان دنوں کی ایک اہم ضرورت بن گیا ہے ، ہم کچھ کھائے پیئے بغیر دن تک زندہ رہ سکتے ہیں لیکن سوشل میڈیا کے بغیر ایک دن زندہ رہنا مشکل ہے کیونکہ ہم نے ٹیکنالوجی کو ہم پر حاوی ہونے دیا۔

    کبھی کبھی کاش سیل فون کبھی ایجاد نہ ہوتے۔ بلاشبہ ، اس کے بہت سے فوائد ہیں مثلا فون کالز ، ایس ایم ایس اور سوشل میڈیا ، لیکن اس کے اثرات مضر ہیں اور حقیقت یہ ہے کہ سوشل میڈیا نوجوانوں کے لئے منی سوشل کنٹرول رومز میں تبدیل ہوجاتا ہے ، جو ان کے دماغی خلیوں کو تنزلی کا شکار کررہا ہے۔

    بیس سال پہلے کا طرز زندگی بالکل مختلف تھا۔ جہاں سیل فونز اور سوشل میڈیا نے لوگوں کو عالمگیر بنادیا ہے ، وہیں وقت کے ساتھ آمنے سامنے گفتگو اور خاندانی منسلکات بھی ویران ہوتے جارہے ہیں۔ سوشل میڈیا کی جھوٹی خبروں نے کیریئر کو بھی ختم کردیا ہے۔ ان دنوں سوشل میڈیا ایک لذت کا نشہ بن گیا ہے ، جو ہمیں اس سے بے خبر کر دیتا ہے کہ ہم اس کی کتنی عادت ڈال چکے ہیں۔ سائبر بدمعاشی ، ہیکنگ ، گھوٹالے اور دھوکہ دہی یہ سب سوشل میڈیا کی برکات ہیں۔ لوگوں کی زندگیوں میں کچھ بھی نجی نہیں رہتا ہے اور اب ، وہ سب کچھ بانٹنا پسند کرتے ہیں۔ ٹِک ٹوک جدید دور کا ایک بہت بڑا فساد ہے۔ یہ نوجوانوں کو تباہ کررہا ہے۔ ٹک ٹوک نوجوانوں کو خودغرض رہنے اور شہرت حاصل کرنے کے لئے کسی حد تک جانے پر مجبور کررہا ہے۔ وہ اس بکواس کے ساتھ نہ صرف اپنا قیمتی وقت ضائع کررہے ہیں بلکہ اخلاقیات کی تمام حدیں بھی عبور کررہے ہیں۔ اور اسلامی نکتہ سے یہ دیکھا جاسکتا ہے جب ویڈیوز میں لڑکوں کو لڑکیوں کی طرح بنا دیا جاتا ہے جو شرمناک ہے اور قیامت کے دن کی ایک بہت سی علامت ہے۔ ’لڑکیاں لڑکے اور لڑکے لڑکیوں کے کپڑے پہنے ہوئے ہیں‘۔ اس کے علاوہ ، ٹک ٹوک ہمارے معاشرے میں ایک فطری اقدار کو فروغ دیتا ہے کم سے کم مغربی لباس و ملبوس لڑکیاں جو کہ فحاش کو فروغ دی رھی ھیں اور فضول باتوں سے بھری ویڈیو عام طور پر پائی جاسکتی ہے ، جس کا کوئی مذہب اور اخلاقیات تائید نہیں کرسکتے۔ بہت اچھا فیصلہ کیا تھا اس پر پابندی لگا کر گورنمنٹ آف پاکسان نے۔…

    @ummeAeman

  • "لمحہ فکریہ”  تحریر : فرزانہ شریف

    "لمحہ فکریہ” تحریر : فرزانہ شریف

    *چار چیزوں کی قسم کھا کر اللہ سبحان و تعالی نے فرمایا ہے کہ اس نے انسان کو حسین تخلیق کیا۔*
    میں ایک جنرل بات کررہی ہوں کہ ہم کیا کرتے ہیں ۔۔!!
    کسی کے بارے میں یاد دلانا ہو تو ہماری گفتگو کچھ اس قسم کی ہوتی ہے.

    . کونسی ؟
    اچھا وہ جو گنجی ہے اب اس نے سر پر نقلی وگ لگائی ہوئی ہے؟ ہاں اچھا وہ جو چھوٹے سے قد کی ہے چلتی ہوئی ایسے لگتی ہے جیسے کوئی گینڈی جارہی ہے ؟؟
    اچھا وہ بڑے سے منہ والی ؟
    جو یوں چلتی تھی ؟
    نقل اتار کر دکھائی جاتی ہے
    اچھا وہ جو دوسروں کے گھروں میں کام کرتی ہے ؟؟

    کونسا ؟

    اچھا وہ موٹی گردن والا ؟
    وہ جس کی طوطے کی چونچ جیسی ناک ہے۔؟
    اچھا وہ جو لنگڑا کر چلتا ہے ؟
    اچھا وہ جو بیٹھا مٹھ کھڑا گٹھ ۔؟
    وہ جو خود اتنا "کوجا” ہے اور بیوی اسے اتنی پیاری مل گئی ہے ؟ پہلوئے حور میں لنگور۔۔؟

    ہم سورہ تین کی ابتدائی آیات پڑھیں تو واضح ہوتا ہے کہ چار چیزوں کی قسم کھا کر اللہ سبحان و تعالی نے فرمایا ہے کہ اس نے انسان کو حسین تخلیق کیا۔

    *قسم ہے انجیر*
    *اور زیتون کی*
    *اور طورِ سینا کی*
    *اور امن والے اس شہر کی*
    *بیشک ہم نے انسان کو بہترین ساخت پر پیدا کیا۔*

    کتنے آرام سے ہم اللہ کی تخلیق کا مذاق اڑا دیتے ہیں اور محسوس بھی نہیں کرتے کہ دراصل ہم انجانے میں اپنےنامہ اعمال میں مسلسل گناہ لکھوا رہے ہیں ۔
    کسی کو لمبا ہونے پر باتیں سننی پڑتی ہیں،

    کسی کو چھوٹا ہونے پر،
    کسی کا رنگ کالا،
    کسی کی ناک موٹی،
    کسی کو چہرے پر دانے نکل آئیں تو پوچھ پوچھ کر اسکی مت مار دیتے ہیں،
    کسی کے چہرے پر بال ہوں تو اس کا مذاق اڑاتے ہیں
    کسی کی آنکھیں چھوٹی ہیں تو اس کو بھی معاف نہیں کرتے ۔۔!!!

    حالانکہ انسان کا ان میں سے کسی پر بھی اختیار نہیں۔

    یقیناً حسین چہرا سبھی کو اچھا لگتا ہے لیکن وہ حسن بھی رب نے ہی دیا ہےتو تعریف اسی کی، اور اگر کسی کے چہرے کا مذاق آپ اڑا رہے ہیں تو ہم دراصل اس بندے کا مذاق نہیں اڑا رہے ہوتے بلکہ خالق کی تخلیق کا مذاق اڑا رہے ہوتے ہیں ۔ہم خود جو مکھی کا ایک پر بنانے کی سکت نہیں رکھتے اس خالق کی بنائی چیزوں میں نقص نکال رہے ہوتے ہیں استغفراللہ ۔۔!!
    وہ رب جو ایک کے بعد دوسری، تسیری اور پھر چوتھی قسم کھا کر فرماتا ہے کہ اس نے انسان کو بہترین ساخت پر بنایا ہے۔۔

    *اللَّهُمَّ أَنْتَ حَسَّنْتَ خَلْقِي فَحَسِّنْ خُلُقِي*

    اے اللہ ! جس طرح تو نے ہمیں باہرخوبصورت بنایا ہے، ہمارا اندرکردار بھی خوبصورت بنا دے۔

    روزویلٹ کا ایک بڑا مشہور قول یاد آ رہا ہے :

    *” Great Minds Discuss ideas;*
    *Average Minds Discuss Events;*
    *Small Minds Discuss People.”*
    .

  • یہ عوام کی پارلیمنٹ ہے ۔ تحریر: ملک حسن وزیر

    یہ عوام کی پارلیمنٹ ہے ۔ تحریر: ملک حسن وزیر

    جی جناب! یہ وہ مقدس پارلیمنٹ ہے جہاں آپ کے بھیجے ہوئے نمائندے جاگیردار، بزنس مین، وڈیرے، سیاستدان جن کو آپ اپنے حقوق کے لئے اس ایوان میں نعرے مار کر کرسیاں لگا کر، نہ آپ سردی دیکھتے ہے، نہ آپ گرمی دیکھتے ہے، نہ آپ بزرگ دیکھتے ہے، نہ آپ کوئی پڑھا لکھا نوجوان ان لوگوں کے پیچھے سب کی تزلیل کر کے آپ اپنے پسند کے سرمایہ دار کو اس ایوان میں بھیجتے ہیں شاید کہ وہ آپ کے حقوق کی جنگ لڑے۔

    پھر کچھ یوں ہوتا ہے کہ وہ اس ایوان میں بیٹھ کر سودے بازی کرتے ہیں آپ لوگوں کے نام پر اپنی جائیدادیں بناتے ہیں تسلی سے اپنے اور اپنی اولاد کا بنک بیلنس بڑھاتے ہیں۔ لیکن آپ لوگ صرف ایک چمچے بن کران کی غلامی کرتے رہتے ہیں۔ آپ کو وہ اس ایوان میں جانے کے بعد منہ تک نہیں لگاتے۔

    جب وہ بھول کے اپنے علاقے میں کبھی واپس آ بھی جائیں تو آپ لوگ ہاتھ جوڑ کرسائیں کے سامنے بیٹھے ہوتے ہیں کیونکہ یہ لوگ آپ کو اچھے سے جانتے ہیں کہ کوئی ایک آدھا تھانے کا کام کروا دیا اور آپ لوگ ایک اچھی سی سیلفی لے کے پوسٹ کر دیتے ہے۔ اندر سے آپ بھی انہیں گندی گالیاں دے رہے ہوتے ہیں پر آپ ڈھیٹ بن کر ساتھ ہوتے ہیں۔ آپ کو آپ کی اوقات پتہ ہوتی ہے جب یہ ایوان اقتدار میں چلے جائے آپ کی اوقات ان کے سامنے ایک جوتی پالش کرنے والے نوکر کی ہوتی ہے. آپ دنیا کے سامنے اپنے ناک کو بچانے کی خاطر مطمئن ڈھیٹ بن کے نعرےمارتے رہتے ہیں اور ان کی ذاتی تشہیر کرتے رہتے ہیں۔ بس کیا کریں جب تک مطمئن غلام زندہ ہیں وہ اس ایوان میں جا کر اپنی اولادوں کی جائیدادیں بنا رہے ہیں۔ آپ اپنی اولادوں کو ان کی اولاد کی غلامی کے لئے تیار کریں۔

    Twitter account @MH__586

  • نکاح میں برکت تحریر:  فریال نیازی

    نکاح میں برکت تحریر: فریال نیازی

    مغرب میں اوپن relationships، گرل فرینڈ، بوائے فرینڈ وغیرہ انتہائی عام ہونے کے باوجود وہاں کی عورت آج بھی شادی کے بندھن سے کس قدر جذباتی لگاؤ رکھتی ہے، اسے سمجھنے کے لیے آپ marriage proposal reaction پر بننے والی لاتعداد ویڈیوز دیکھ لیں

    مغربی عورت کے لیے، آج بھی کسی لڑکے کی گرل فرینڈ بننے سے کہیں زیادہ خوبصورت احساس اسکی بیوی بننے میں ہے

    ایسے ری ایکشنز متعدد ہالی وڈ موویز میں بھی فلمائے جاتے ہیں جو یقیناً اپنی سوسائٹی سے انسپائر ہوکر ڈائریکٹ کیے جاتے ہیں

    افسوس کے ہم مشرق میں اب اس خوبصورت اور باوقار بندھن سے بیزاری کے اظہار کو ماڈرنزم سمجھنے لگیں ہیں

    ہمارے احساس کمتری کے مارے کچھ لوگ جب پہلی بار مغرب کی چکاچوند دیکھتے ہیں تو وہ الٹا اپنے کلچر پر شرمسار ہوکر اسے بوجھ گردانتے ہیں

    حقیقت تو یہ ہے کہ وہ بہت کم جانتے ہیں…

    @Missfaryalniazi

  • حُسنِ اخلاق اور ہمارا معاشرہ   تحریر : ایم ابراہیم

    حُسنِ اخلاق اور ہمارا معاشرہ تحریر : ایم ابراہیم

    اعلان نبوت سے پہلے ہمارے نبی حضرت محمد صلی اللہ علیہ والہ وسلم نے اخلاق کے ذریعے لوگوں کو اپنی طرف متوجہ کیا یہی وجہ تھی کہ دشمنان اسلام بھی آپ صلی اللہ علیہ والہ وسلم کے گرویدہ ہوگئے اور آپ کو صادق و امین کے القابات سے پکارنے لگے. بعثت سے پہلے آپ صلی اللہ علیہ والہ وسلم نے اخلاق کی تبلیغ کی. آدابِ گفتگو، لوگوں سے اچھا رویہ، عہد وفا کرنے اور سچ بولنے کی تربیت فرمائی. اور اسی اخلاق ہی کا نتیجہ تھا کہ آپ صلی اللہ علیہ والہ وسلم نے جب اعلان نبوت کیا تو لوگوں نے دعوت حق کو تسلیم کرنا شروع کیا. آپ اخلاق کے بلند ترین درجہ پر فائز تھے اور ہمارے لئے نمونہ عمل ہیں. حضرت محمد صلی اللہ علیہ والہ وسلم نے فرمایا "تم میں سے سب سے اچھا وہ ہے جو اخلاق میں سب سے اچھا ہے”.
    لیکن بدقسمتی سے آج ہمارے معاشرے میں حسن اخلاق کا بحران نظر آتا ہے. ہم اپنی اخلاقی اقدار اور اسلامی تعلیمات کو بھول گئے. ہمارے معاشرے میں عدم برداشت، جھوٹ، وعدہ خلافی، گالم گلوچ اور بہتان بازی جیسے عناصر سرایت کر گئے ہیں. نوجوان نسل سوشل میڈیا اور انٹرنیٹ کے ذریعے بے راہ روی کا شکار ہے. خواتین کی عزت و عصمت غیر محفوظ اور بے حیائی کا بازار گرم ہے. ہم نے اپنے خود احتسابی کے بجائے دوسروں پر انگلیاں اٹھانا شروع کر دیں گالم گلوچ کا کلچر اور دوسروں پر کیچڑ اچھالنا معمول بن گیا. مذہبی یا سیاسی اختلافات کی بنیاد پر پر ہم نے ایک دوسرے کو برا بھلا کہنا شروع کر دیا حالانکہ اپنی بات صبر و تحمل اور منطق و دلیل سے بھی سمجھائی جا سکتی ہے. جمہوریت میں بے شک آپ کو تنقید کا حق ہے لیکن اخلاق کے دائرے میں رہ کر آپ تنقید برائے اصلاح کریں نا کہ اگر آپ کو کوئی حکومتی پالیسی یا فیصلہ اچھا نہیں لگتا تو گالم گلوچ شروع کر دیں.
    زندگی گزارنا سب کا آئینی و اسلامی حق ہے، ان کو حق حاصل ہے کہ وہ کسی بھی سیاسی یا مذہبی مکتب فکر سے منسلک ہوں. ہمیں اس سے کوئی غرض نہیں ہونی چاہیے کہ وہ کیا کھاتے ہیں یا کیا پہنتے ہیں، یہ ان کے ذاتی معاملات ہیں اور انہوں نے خود ہی فیصلہ کرنا ہے. بغیر حقائق جانے ہم نے دوسروں کی ذاتی زندگی پر بھی تبصرہ کرنے شروع کر دئے جو کہ نا صرف ناانصافی ہے بلکہ اسلامی تعلیمات کے بھی منافی ہے. یہ سب چیزیں کبھی بھی اسلامی معاشرے کو زیب نہیں دیتیں.
    ہمیں اپنی کھوئی ہوئی اخلاقی اقدار کو واپس لانے کی ضرورت ہے. ہمیں اُس عصرِ مصطفیٰ کی تعلیمات پر عمل پیرا ہونے کی ضرورت ہے جس کی دشمن بھی تعریف کیا کرتے تھے. ایک سچا مسلمان، اسلامی ریاست کا زمہ دار شہری اور اسلامی معاشرے کا فرد ہونے کی حیثیت سے ہم پہ فرض ہے کہ ہم حُسنِ اخلاق کا دامن ہاتھ سے نہ چھوڑیں. منظم، با ادب اور تہذیب و ترقی یافتہ اقوام کی فہرست میں شامل ہونے کے لیے ہم اخلاق کو اپنانا ہو گا جو ہمارے پیارے نبی صلی اللہ علیہ والہ وسلم نے سکھائے ہیں.

  • صفائی نصف ایمان ہے . تحریر: نعمان خان

    صفائی نصف ایمان ہے . تحریر: نعمان خان

    اللہ پاک نے دین اسلام کو کتنا آسان کر دیا کہ آدھا ایمان صرف صفائی کو قرار دے دیا۔
    لیکن کیا ہم پاکستانی اس پر عمل کرتے ہیں؟
    جواب اکثریت کا نہیں میں ہو گا کیونکہ ہم اپنی ذمےداری سے بھاگتے ہیں۔ہر کام حکومت کے ذمے نہیں ڈالا جا سکتا۔بحثیت شہری ہماری بھی ذمےداری ہے کہ جس طرح ہم اپنے گھر کو صاف رکھتے ہیں بلکل اسی طرح اپنے محلے اور شہر کو صاف رکھیں۔
    ہر جگہ کچرا پھینکنے سے گریز کریں۔جہاں حکومت نے جگہ بنائی ہے کسی کاغز کے بڑے تھیلے میں اس جگہ ہی رکھیں تاکہ گند تمام جگہ نا پھیلے۔

    کیا ہم پان سگریٹ اپنے گھر میں ہر جگہ پھینک دیتے ہیں؟
    کوئی ایسا نہیں کرتا کیونکہ ہم گھر میں صفائی پسند ہیں لیکن باہر جا کر ہم ایسا نہیں کرتے کہ یہ حکومت کی ذمےداری ہے جبکہ ایسا بلکل نہیں۔غلط جگہ کچرا پھینکنے پر جرمانہ ہے۔
    یہ تمام غلطیاں کہیں نا کہیں مجھ سے بھی ہوتی ہیں۔
    آئیں مل کر کوشش کریں کہ ایسی غلطیاں نہیں کریں گے اور اللہ کے حکم کو دل سے مانیں گے اور اپنے محلے اور شہر کو صاف رکھیں گے۔ساتھ حکومت کی یہ ذمےداری ہے کہ جس جگہ کچرا پھینکنے کی جگہ بنائی گئی ہے اسے روز کی بنیاد پر صاف رکھے تاکہ بہت ذیادہ کچرا جمع نا ہو۔

    Twitter ID:@dtnoorkhan

  • ‏نوجوان اور گمراہ کن تحریکیں  تحریر  ہادیہ سرور

    ‏نوجوان اور گمراہ کن تحریکیں تحریر ہادیہ سرور

    نوجوان کی مثال ایک ایسے برتن کی مانند ہے جو بالکل خالی ہو اور پھر اس میں جو چیز بھی ڈالی جاۓبرتن اس سے بھر جاتا ہے۔ اسی طرح نوجوان کا ذہن بھی جوانی کی دہلیز پر پہنچنے تک بالکل خالی ہوتا ہے،اس میں جس طرح کے بھی خیالات ڈالے جاتے ہیں، ذہن انہیں قبول کر لیتا ہے اور پھر وہی اچھے یا برے خیالات اس کے دین، اخلاق و کردار اور معاشرتی ادب و آداب کی بہتری یا برائی کی صورت میں سامنے آتے ہیں۔اور وہ لوگ جو دینی گمراہیوں،شیطانی قوتوں اور فحاشی و عریانیت کے فروغ کی لیے کام کرتے ہیں، وہ ایسے نوجوانوں کو اپنا خصوصی ہدف بناتے ہیں اور ان کے سامنے دنیا کی رنگینیوں اور عیاشیوں کی ایسی دلکش اور خوشنما تصویر پیش کرتے ہیں کہ نوجوان بغیر سوچے سمجھے اور اپنے اُخروی انجام سے بےپرواہ ہو کر مقناطیسی کشش کی مانند ان کے پیچھے چلنا شروع کر دیتے ہیں۔
    لیکن اس حوالے سے اگر نوجوان اپنی فطری صلاحیتوں کا صحیح استعمال کریں، گمراہ کرنے والے لوگوں کی گمراہ کن باتوں سے اپنا دامن بچا کر رکھیں،ان سے مکمل کنارہ کشی اختیار کر لیں اور خالصتًا قرآن و حدیث سے اپنا دامن وابستہ کر لیں تو کچھ بعید نہیں کہ یہ ساری گمراہ کن تحریکیں اپنی موت آپ مر جائیں گی۔
    @iitx_Hadii