Baaghi TV

Category: معاشرہ و ثقافت

  • "لمحہ فکریہ”  تحریر : فرزانہ شریف

    "لمحہ فکریہ” تحریر : فرزانہ شریف

    *چار چیزوں کی قسم کھا کر اللہ سبحان و تعالی نے فرمایا ہے کہ اس نے انسان کو حسین تخلیق کیا۔*
    میں ایک جنرل بات کررہی ہوں کہ ہم کیا کرتے ہیں ۔۔!!
    کسی کے بارے میں یاد دلانا ہو تو ہماری گفتگو کچھ اس قسم کی ہوتی ہے.

    . کونسی ؟
    اچھا وہ جو گنجی ہے اب اس نے سر پر نقلی وگ لگائی ہوئی ہے؟ ہاں اچھا وہ جو چھوٹے سے قد کی ہے چلتی ہوئی ایسے لگتی ہے جیسے کوئی گینڈی جارہی ہے ؟؟
    اچھا وہ بڑے سے منہ والی ؟
    جو یوں چلتی تھی ؟
    نقل اتار کر دکھائی جاتی ہے
    اچھا وہ جو دوسروں کے گھروں میں کام کرتی ہے ؟؟

    کونسا ؟

    اچھا وہ موٹی گردن والا ؟
    وہ جس کی طوطے کی چونچ جیسی ناک ہے۔؟
    اچھا وہ جو لنگڑا کر چلتا ہے ؟
    اچھا وہ جو بیٹھا مٹھ کھڑا گٹھ ۔؟
    وہ جو خود اتنا "کوجا” ہے اور بیوی اسے اتنی پیاری مل گئی ہے ؟ پہلوئے حور میں لنگور۔۔؟

    ہم سورہ تین کی ابتدائی آیات پڑھیں تو واضح ہوتا ہے کہ چار چیزوں کی قسم کھا کر اللہ سبحان و تعالی نے فرمایا ہے کہ اس نے انسان کو حسین تخلیق کیا۔

    *قسم ہے انجیر*
    *اور زیتون کی*
    *اور طورِ سینا کی*
    *اور امن والے اس شہر کی*
    *بیشک ہم نے انسان کو بہترین ساخت پر پیدا کیا۔*

    کتنے آرام سے ہم اللہ کی تخلیق کا مذاق اڑا دیتے ہیں اور محسوس بھی نہیں کرتے کہ دراصل ہم انجانے میں اپنےنامہ اعمال میں مسلسل گناہ لکھوا رہے ہیں ۔
    کسی کو لمبا ہونے پر باتیں سننی پڑتی ہیں،

    کسی کو چھوٹا ہونے پر،
    کسی کا رنگ کالا،
    کسی کی ناک موٹی،
    کسی کو چہرے پر دانے نکل آئیں تو پوچھ پوچھ کر اسکی مت مار دیتے ہیں،
    کسی کے چہرے پر بال ہوں تو اس کا مذاق اڑاتے ہیں
    کسی کی آنکھیں چھوٹی ہیں تو اس کو بھی معاف نہیں کرتے ۔۔!!!

    حالانکہ انسان کا ان میں سے کسی پر بھی اختیار نہیں۔

    یقیناً حسین چہرا سبھی کو اچھا لگتا ہے لیکن وہ حسن بھی رب نے ہی دیا ہےتو تعریف اسی کی، اور اگر کسی کے چہرے کا مذاق آپ اڑا رہے ہیں تو ہم دراصل اس بندے کا مذاق نہیں اڑا رہے ہوتے بلکہ خالق کی تخلیق کا مذاق اڑا رہے ہوتے ہیں ۔ہم خود جو مکھی کا ایک پر بنانے کی سکت نہیں رکھتے اس خالق کی بنائی چیزوں میں نقص نکال رہے ہوتے ہیں استغفراللہ ۔۔!!
    وہ رب جو ایک کے بعد دوسری، تسیری اور پھر چوتھی قسم کھا کر فرماتا ہے کہ اس نے انسان کو بہترین ساخت پر بنایا ہے۔۔

    *اللَّهُمَّ أَنْتَ حَسَّنْتَ خَلْقِي فَحَسِّنْ خُلُقِي*

    اے اللہ ! جس طرح تو نے ہمیں باہرخوبصورت بنایا ہے، ہمارا اندرکردار بھی خوبصورت بنا دے۔

    روزویلٹ کا ایک بڑا مشہور قول یاد آ رہا ہے :

    *” Great Minds Discuss ideas;*
    *Average Minds Discuss Events;*
    *Small Minds Discuss People.”*
    .

  • یہ عوام کی پارلیمنٹ ہے ۔ تحریر: ملک حسن وزیر

    یہ عوام کی پارلیمنٹ ہے ۔ تحریر: ملک حسن وزیر

    جی جناب! یہ وہ مقدس پارلیمنٹ ہے جہاں آپ کے بھیجے ہوئے نمائندے جاگیردار، بزنس مین، وڈیرے، سیاستدان جن کو آپ اپنے حقوق کے لئے اس ایوان میں نعرے مار کر کرسیاں لگا کر، نہ آپ سردی دیکھتے ہے، نہ آپ گرمی دیکھتے ہے، نہ آپ بزرگ دیکھتے ہے، نہ آپ کوئی پڑھا لکھا نوجوان ان لوگوں کے پیچھے سب کی تزلیل کر کے آپ اپنے پسند کے سرمایہ دار کو اس ایوان میں بھیجتے ہیں شاید کہ وہ آپ کے حقوق کی جنگ لڑے۔

    پھر کچھ یوں ہوتا ہے کہ وہ اس ایوان میں بیٹھ کر سودے بازی کرتے ہیں آپ لوگوں کے نام پر اپنی جائیدادیں بناتے ہیں تسلی سے اپنے اور اپنی اولاد کا بنک بیلنس بڑھاتے ہیں۔ لیکن آپ لوگ صرف ایک چمچے بن کران کی غلامی کرتے رہتے ہیں۔ آپ کو وہ اس ایوان میں جانے کے بعد منہ تک نہیں لگاتے۔

    جب وہ بھول کے اپنے علاقے میں کبھی واپس آ بھی جائیں تو آپ لوگ ہاتھ جوڑ کرسائیں کے سامنے بیٹھے ہوتے ہیں کیونکہ یہ لوگ آپ کو اچھے سے جانتے ہیں کہ کوئی ایک آدھا تھانے کا کام کروا دیا اور آپ لوگ ایک اچھی سی سیلفی لے کے پوسٹ کر دیتے ہے۔ اندر سے آپ بھی انہیں گندی گالیاں دے رہے ہوتے ہیں پر آپ ڈھیٹ بن کر ساتھ ہوتے ہیں۔ آپ کو آپ کی اوقات پتہ ہوتی ہے جب یہ ایوان اقتدار میں چلے جائے آپ کی اوقات ان کے سامنے ایک جوتی پالش کرنے والے نوکر کی ہوتی ہے. آپ دنیا کے سامنے اپنے ناک کو بچانے کی خاطر مطمئن ڈھیٹ بن کے نعرےمارتے رہتے ہیں اور ان کی ذاتی تشہیر کرتے رہتے ہیں۔ بس کیا کریں جب تک مطمئن غلام زندہ ہیں وہ اس ایوان میں جا کر اپنی اولادوں کی جائیدادیں بنا رہے ہیں۔ آپ اپنی اولادوں کو ان کی اولاد کی غلامی کے لئے تیار کریں۔

    Twitter account @MH__586

  • نکاح میں برکت تحریر:  فریال نیازی

    نکاح میں برکت تحریر: فریال نیازی

    مغرب میں اوپن relationships، گرل فرینڈ، بوائے فرینڈ وغیرہ انتہائی عام ہونے کے باوجود وہاں کی عورت آج بھی شادی کے بندھن سے کس قدر جذباتی لگاؤ رکھتی ہے، اسے سمجھنے کے لیے آپ marriage proposal reaction پر بننے والی لاتعداد ویڈیوز دیکھ لیں

    مغربی عورت کے لیے، آج بھی کسی لڑکے کی گرل فرینڈ بننے سے کہیں زیادہ خوبصورت احساس اسکی بیوی بننے میں ہے

    ایسے ری ایکشنز متعدد ہالی وڈ موویز میں بھی فلمائے جاتے ہیں جو یقیناً اپنی سوسائٹی سے انسپائر ہوکر ڈائریکٹ کیے جاتے ہیں

    افسوس کے ہم مشرق میں اب اس خوبصورت اور باوقار بندھن سے بیزاری کے اظہار کو ماڈرنزم سمجھنے لگیں ہیں

    ہمارے احساس کمتری کے مارے کچھ لوگ جب پہلی بار مغرب کی چکاچوند دیکھتے ہیں تو وہ الٹا اپنے کلچر پر شرمسار ہوکر اسے بوجھ گردانتے ہیں

    حقیقت تو یہ ہے کہ وہ بہت کم جانتے ہیں…

    @Missfaryalniazi

  • حُسنِ اخلاق اور ہمارا معاشرہ   تحریر : ایم ابراہیم

    حُسنِ اخلاق اور ہمارا معاشرہ تحریر : ایم ابراہیم

    اعلان نبوت سے پہلے ہمارے نبی حضرت محمد صلی اللہ علیہ والہ وسلم نے اخلاق کے ذریعے لوگوں کو اپنی طرف متوجہ کیا یہی وجہ تھی کہ دشمنان اسلام بھی آپ صلی اللہ علیہ والہ وسلم کے گرویدہ ہوگئے اور آپ کو صادق و امین کے القابات سے پکارنے لگے. بعثت سے پہلے آپ صلی اللہ علیہ والہ وسلم نے اخلاق کی تبلیغ کی. آدابِ گفتگو، لوگوں سے اچھا رویہ، عہد وفا کرنے اور سچ بولنے کی تربیت فرمائی. اور اسی اخلاق ہی کا نتیجہ تھا کہ آپ صلی اللہ علیہ والہ وسلم نے جب اعلان نبوت کیا تو لوگوں نے دعوت حق کو تسلیم کرنا شروع کیا. آپ اخلاق کے بلند ترین درجہ پر فائز تھے اور ہمارے لئے نمونہ عمل ہیں. حضرت محمد صلی اللہ علیہ والہ وسلم نے فرمایا "تم میں سے سب سے اچھا وہ ہے جو اخلاق میں سب سے اچھا ہے”.
    لیکن بدقسمتی سے آج ہمارے معاشرے میں حسن اخلاق کا بحران نظر آتا ہے. ہم اپنی اخلاقی اقدار اور اسلامی تعلیمات کو بھول گئے. ہمارے معاشرے میں عدم برداشت، جھوٹ، وعدہ خلافی، گالم گلوچ اور بہتان بازی جیسے عناصر سرایت کر گئے ہیں. نوجوان نسل سوشل میڈیا اور انٹرنیٹ کے ذریعے بے راہ روی کا شکار ہے. خواتین کی عزت و عصمت غیر محفوظ اور بے حیائی کا بازار گرم ہے. ہم نے اپنے خود احتسابی کے بجائے دوسروں پر انگلیاں اٹھانا شروع کر دیں گالم گلوچ کا کلچر اور دوسروں پر کیچڑ اچھالنا معمول بن گیا. مذہبی یا سیاسی اختلافات کی بنیاد پر پر ہم نے ایک دوسرے کو برا بھلا کہنا شروع کر دیا حالانکہ اپنی بات صبر و تحمل اور منطق و دلیل سے بھی سمجھائی جا سکتی ہے. جمہوریت میں بے شک آپ کو تنقید کا حق ہے لیکن اخلاق کے دائرے میں رہ کر آپ تنقید برائے اصلاح کریں نا کہ اگر آپ کو کوئی حکومتی پالیسی یا فیصلہ اچھا نہیں لگتا تو گالم گلوچ شروع کر دیں.
    زندگی گزارنا سب کا آئینی و اسلامی حق ہے، ان کو حق حاصل ہے کہ وہ کسی بھی سیاسی یا مذہبی مکتب فکر سے منسلک ہوں. ہمیں اس سے کوئی غرض نہیں ہونی چاہیے کہ وہ کیا کھاتے ہیں یا کیا پہنتے ہیں، یہ ان کے ذاتی معاملات ہیں اور انہوں نے خود ہی فیصلہ کرنا ہے. بغیر حقائق جانے ہم نے دوسروں کی ذاتی زندگی پر بھی تبصرہ کرنے شروع کر دئے جو کہ نا صرف ناانصافی ہے بلکہ اسلامی تعلیمات کے بھی منافی ہے. یہ سب چیزیں کبھی بھی اسلامی معاشرے کو زیب نہیں دیتیں.
    ہمیں اپنی کھوئی ہوئی اخلاقی اقدار کو واپس لانے کی ضرورت ہے. ہمیں اُس عصرِ مصطفیٰ کی تعلیمات پر عمل پیرا ہونے کی ضرورت ہے جس کی دشمن بھی تعریف کیا کرتے تھے. ایک سچا مسلمان، اسلامی ریاست کا زمہ دار شہری اور اسلامی معاشرے کا فرد ہونے کی حیثیت سے ہم پہ فرض ہے کہ ہم حُسنِ اخلاق کا دامن ہاتھ سے نہ چھوڑیں. منظم، با ادب اور تہذیب و ترقی یافتہ اقوام کی فہرست میں شامل ہونے کے لیے ہم اخلاق کو اپنانا ہو گا جو ہمارے پیارے نبی صلی اللہ علیہ والہ وسلم نے سکھائے ہیں.

  • صفائی نصف ایمان ہے . تحریر: نعمان خان

    صفائی نصف ایمان ہے . تحریر: نعمان خان

    اللہ پاک نے دین اسلام کو کتنا آسان کر دیا کہ آدھا ایمان صرف صفائی کو قرار دے دیا۔
    لیکن کیا ہم پاکستانی اس پر عمل کرتے ہیں؟
    جواب اکثریت کا نہیں میں ہو گا کیونکہ ہم اپنی ذمےداری سے بھاگتے ہیں۔ہر کام حکومت کے ذمے نہیں ڈالا جا سکتا۔بحثیت شہری ہماری بھی ذمےداری ہے کہ جس طرح ہم اپنے گھر کو صاف رکھتے ہیں بلکل اسی طرح اپنے محلے اور شہر کو صاف رکھیں۔
    ہر جگہ کچرا پھینکنے سے گریز کریں۔جہاں حکومت نے جگہ بنائی ہے کسی کاغز کے بڑے تھیلے میں اس جگہ ہی رکھیں تاکہ گند تمام جگہ نا پھیلے۔

    کیا ہم پان سگریٹ اپنے گھر میں ہر جگہ پھینک دیتے ہیں؟
    کوئی ایسا نہیں کرتا کیونکہ ہم گھر میں صفائی پسند ہیں لیکن باہر جا کر ہم ایسا نہیں کرتے کہ یہ حکومت کی ذمےداری ہے جبکہ ایسا بلکل نہیں۔غلط جگہ کچرا پھینکنے پر جرمانہ ہے۔
    یہ تمام غلطیاں کہیں نا کہیں مجھ سے بھی ہوتی ہیں۔
    آئیں مل کر کوشش کریں کہ ایسی غلطیاں نہیں کریں گے اور اللہ کے حکم کو دل سے مانیں گے اور اپنے محلے اور شہر کو صاف رکھیں گے۔ساتھ حکومت کی یہ ذمےداری ہے کہ جس جگہ کچرا پھینکنے کی جگہ بنائی گئی ہے اسے روز کی بنیاد پر صاف رکھے تاکہ بہت ذیادہ کچرا جمع نا ہو۔

    Twitter ID:@dtnoorkhan

  • ‏نوجوان اور گمراہ کن تحریکیں  تحریر  ہادیہ سرور

    ‏نوجوان اور گمراہ کن تحریکیں تحریر ہادیہ سرور

    نوجوان کی مثال ایک ایسے برتن کی مانند ہے جو بالکل خالی ہو اور پھر اس میں جو چیز بھی ڈالی جاۓبرتن اس سے بھر جاتا ہے۔ اسی طرح نوجوان کا ذہن بھی جوانی کی دہلیز پر پہنچنے تک بالکل خالی ہوتا ہے،اس میں جس طرح کے بھی خیالات ڈالے جاتے ہیں، ذہن انہیں قبول کر لیتا ہے اور پھر وہی اچھے یا برے خیالات اس کے دین، اخلاق و کردار اور معاشرتی ادب و آداب کی بہتری یا برائی کی صورت میں سامنے آتے ہیں۔اور وہ لوگ جو دینی گمراہیوں،شیطانی قوتوں اور فحاشی و عریانیت کے فروغ کی لیے کام کرتے ہیں، وہ ایسے نوجوانوں کو اپنا خصوصی ہدف بناتے ہیں اور ان کے سامنے دنیا کی رنگینیوں اور عیاشیوں کی ایسی دلکش اور خوشنما تصویر پیش کرتے ہیں کہ نوجوان بغیر سوچے سمجھے اور اپنے اُخروی انجام سے بےپرواہ ہو کر مقناطیسی کشش کی مانند ان کے پیچھے چلنا شروع کر دیتے ہیں۔
    لیکن اس حوالے سے اگر نوجوان اپنی فطری صلاحیتوں کا صحیح استعمال کریں، گمراہ کرنے والے لوگوں کی گمراہ کن باتوں سے اپنا دامن بچا کر رکھیں،ان سے مکمل کنارہ کشی اختیار کر لیں اور خالصتًا قرآن و حدیث سے اپنا دامن وابستہ کر لیں تو کچھ بعید نہیں کہ یہ ساری گمراہ کن تحریکیں اپنی موت آپ مر جائیں گی۔
    @iitx_Hadii

  • پردیسوں کی عید قربان  تحریر: راشد عباسی ریاض سعودی عرب

    پردیسوں کی عید قربان تحریر: راشد عباسی ریاض سعودی عرب

    بقول غلام فرید

    عیداں والے پئے عیداں کر دے
    اساں رو رو عید لنگائی
    غلام فریدا اس عید توں صدقے
    جس عید تےملسی ماہی

    کسی نے سچ کہا ہے

    کہ پردیس ماں کے شیر پتر ہی کاٹتے ہیں بزدل نہیں
    بزدل تو اپنے باپ کے پیسے پر عیاشی کرتے ہیں.

    اج چودیویں عیدِ قرباں ہے جو میں اپنے وطنِ عزیز اور اپنے پیاروں سے دور صحرا عرب کے ریگستانوں میں منا رہا ہوں اب تو بھول ہی گیا ہو کہ عید قرباں کیسے منائی جاتی ہے

    ان چودہ سال میں ایک مشاہدہ رہا ہے کہ سب پردیسوں کی عید والے دن تقریباً ایک ہی روٹین ھوتی ہے. عید پڑھ کر واپس رہائش پر آکر باری باری سب رشتہ داروں اور دوستوں کو عید مبارک باد کے پیغامات دینے کے بعد پھر لمبی تان کر سو جاناہے

    دوپہر کے وقت آٹھ کر یا تو کمپنی کے کیفے ٹیریا پر روایتی کھانے یا پھر چند دوستوں کے ساتھ مل کر مارکیٹ سے مہنیوں سے منجمد گوشت خرید کر حسب معمول طریقے سے سالن بنا کر عید منا لیتے ہیں. اور بعض بیچارے پہلے سے فریج میں موجود سالن پر گزارا کر لیتے ہیں اور بعض کمپنی کے رحم و کرم میں ھوتے ہیں مدیر (منیجر)کی مرضی ہے منیو میں دال رکھ لیں یا سبزی .

    ایک پردیسی کے لئے تکلیف دہ لمحہ وہ ہوتا ہیں جب گھر والوں کی طرف سے پاکستان سے عید کے مختلف جانوروں کی تصاویر اور وڈیوز بھیجی جاتی ہیں حالانکہ اس جانور کے پیسے ان پردیسیوں کی جیب سے ہی گۓ ہوتے ہیں.اور پھر وطن عزیز سے دوستوں اور رشتے داروں کے منہ سے قربانی کے جانور کی بڑھا چڑھا کر خوبیاں اور خصوصیات بعد میں اسکے ذبح کرنے کے واقعات اور گوشت کا لذیذ ہونے کے تبصرے (گائے کے گوشت کو ہرن کا گوشت ثابت کرتے ہیں)اور پھر اس پر مزید چٹخارے دار کھانوں بار بی کیو کے تذکروں سے پردیسوں کے دلوں پر مزید نشتر چلائے جاتے ہیں.
    لیکن ھم پردیسی اپنے پیاروں کی چہروں پر وہ خوشیاں دیکھ کر اپنے سب دردبھول جاتیں ہیں.
    واقعی پردیس کاٹنا کافی کٹھن ھوتا لیکن ہر لمحہ جب اپنے پیاروں کی خوشیاں جو ھماری قربانی کی وجہ سے میسر ھوتی ہیں اس سے ایک عجیب راحت محسوس ھوتی ہے ۔
    دعا ہے اللہ تعالیٰ ھم سب کا رزق اپنے وطن میں لکھ آمین ثم آمین

    Twitter id
    @rashidabbasy

  • ہمارے صدقہ کے معیار بہت ہی عجیب ہیں: تحریر فاطمہ بلوچ

    ہمارے صدقہ کے معیار بہت ہی عجیب ہیں: تحریر فاطمہ بلوچ

    ‏اللہ کی راہ میں صدقہ صرف یہ نہیں کہ صرف مانگنے والے فقیروں کی مدد کر دی جائے. بہت سے ایسے سفید پوش ضرورت مند لوگ ہیں جو مانگ نہیں سکتے. جن کو کوئی ادھار بھی اس لیے نہیں دیتا کہ واپس کہاں سے کریں گے. ایسے لوگ بہت زیادہ محتاج ہوتے ہیں مگر عزت دار ہونے کی وجہ سے کھُل کر کسی کے آگے اپنی محتاجی بیان نہیں کر سکتے. جب مہینہ ختم ہو رہا ہو گھر میں راشن بھی ختم ہو ابھی تنخواہ آنے میں دس دن رہتے ہوں اوپر سے بجلی کا بل آ جائے. جو اگر نہ دیا گیا تو میٹر کٹ جائے گا.
    ‏اگر کوئی اس وجہ سے ادھار مانگنے آئے کہ دوائیاں لینے جانا ہے، بجلی کا بل دینا ہے. بچے کی فیس دینی ہے. فوتگی پہ جانا ہے. گھر کا راشن لینا ہے. وائف کا آپریشن ہے. بیٹی کی شادی ہے. دو مہینے سے تنخواہ نہیں ملی دودھ اور کریانہ والے کے پیسے دینے ہیں. عید پہ بچوں کے کپڑے لینے ہیں. کوئی اچانک بیمار ہو گیا اسے ہاسپیٹل لے کر جانا ہے. ایسے لوگوں کو کبھی یہ سوچ کر انکار نہ کیا کرو کہ یہ تو واپس ہی نہیں دیتا یا یہ کہاں سے واپس کرے گا. بلکہ جتنا زیادہ ہو سکے انھیں دی دیا کریں کیونکہ وہ اس وقت بہت مجبور ہوتا ہے. اور یہ سوچ لیا کرو کہ یہ اگر واپس نہ بھی کرے تو میری طرف سے صدقہ ہو گیا. یقین کرو اللہ بندے کی ایسی نیکی کو کبھی ضائع نہیں جانے دیتا اور کئی گناہ بڑھا کر بندے کو لوٹاتا ہے.
    ‏ہمارے صدقہ کے معیار بہت ہی عجیب ہیں. ہم مسجد کے مینار کے لیے بڑے فخر سے پچاس ہزار دے دیتے ہیں مگر 10 غریب خاندانوں کو پانچ ، پانچ ہزار نہیں دیں گے. ہم یہ نہیں دیکھتے کہ کس کا اجر زیادہ ہے. کہاں اس کا فائدہ زیادہ لوگوں کو پہنچے گا. ہم یہ دیکھتے ہیں کہاں خرچ کروں کہ لوگوں میں میرا نام اونچا ہو. جبکہ اللہ بندے کی نیت دیکھ رہا ہوتا ہے کہ یہ چاہتا کیا ہے.

    @FLSARM

  • خدمتِ خلق . تحریر: اسد ملک

    خدمتِ خلق . تحریر: اسد ملک

    قوموں کی ترقی کا انحصار ان کی عوام پر ہوتا ہے۔اگر یہ عوام دھوکے باز ہو بڑے افسروں سے لیکر چوکیداروں تک سب کے سب بےایمان ہوں تو قومیں ترقی نہیں کرتیں۔ جن قوموں کی نوجوان نسل ٹک ٹاک تک محدود ہو جاۓ جس قوم کی نوجوان نسل چارسو کی خاطر اپنا ایمان تک بیچ دیں ایسی قومیں ترقی نہیں کرتی۔ آج ملک میں لوگ عارضی دنیاوی دولت کی خاطر اشرف المخلوقات کو کتوں کا گوشت کھلا رہے ہیں۔ آج ہمارے سرکاری ہسپتالوں میں ڈاکٹروں کی عدم توجہئ کی وجہ سے سیکنڑوں مریض مر رہے ہیں۔

    مطلب ہمارے ملک میں ہر وہ کام ہو رہا ہے جس سے غریب غریب تر ہوتا جا رہا اور امیر امیر تر ہوتا جا رہا ہے۔ملک کو ترقی کی راہ پر گامزن کرنا ایک بندے کا کام نہیں ہے چاہے وہ وزیراعظم ہی کیوں نہ ہو۔جب تک ملک میں وہ ڈاکیا(جو سڑکوں پر مارا مارا پھرتا ہے کہ کوئ خطوط کو ان کے مالک تک پہنچا سے تا کہ میرا سو روپیہ پٹرول کا بچ جاۓ گا) ٹھیک نہیں ہو گا۔

    آج ہمیں ایسے لوگوں کا ساتھ دینا چاہیے جو اپنی جان کی پرواہ کیے بغیراس بے حس قوم کو خواب غفلت سے نکالنے کی کوشش کر رہے ہیں ایسے لوگ بھی ہماری طرح انسان ہی ہیں بس فرق یہی ہے کہ وہ انسان بھی ہیں اور ان کے اندر انسانیت بھی موجود ہے۔ کیونکہ انسان اور انسانیت میں بڑا فرق ہے بظاہر تو لگتا ہے کہ یہ دونوں ایک ہی سکے کے دو رُخ ہیں لیکن ان کے اندر زمین و آسمان کا فرق ہے۔انسانیت آج کی اس دنیا میں بہت کم پائی جاتی ہے۔

    عبدالستارایدھی کی طرح آج بھی ایسے بہت لوگ اُن کی طرح موجود ہیں جو بغیر کسی معاوضے و کانچ کے انسانیت کی خدمت کر رہے ہیں تو ہمیں بھی چاہیے کہ ایسے لوگوں کا ساتھ دینا چاہیے۔ ہمارا تعلق چاہے کسی بھی علاقے سے ہو ہمیں ان کا حصہ بننا چاہیے اور انسانیت کی خدمت کرنی چاہیے۔ ہمیں اپنے نزدیکی مستحق لوگوں کی مدد کرنی چاہیے ایسے لوگ ہی جب بڑے بن جاتے ہیں تو پھر کوئی عبدالستارایدھی تو کوئی قاسم علی شاہ بن جاتا ہے تو کوئی طارق عزیز بن جاتا ہے۔
    پاکستان زندہ باد🇵🇰

    @ asad_malik333

  • بحثیت قوم .  تحریر: مدثر حسن

    بحثیت قوم . تحریر: مدثر حسن

    بحثیت قوم

    بحثیت قوم ہم ایک سست قوم ہیں ہم اپنی منزل کو پانے کے شارٹ کٹ طریقے ڈھونڈتے ہیں ہم چاہتے ہیں کہ ہمیں کوئی مشقت نہ کرنی پڑے اور ہمارے کام ہو جائے ہم خود کو تبدیل نہیں کرنا آج جتنے بھی ترقی یافتہ ممالک ہیں ان کو دیکھ لیں ان کی عوام میں سستی نہیں وہ محنت کش لوگ ہیں شارٹ کٹ کے طریقے نہیں ڈھونڈتے اپنا کام پوری لگن سے کرتے ہیں ۔۔۔۔

    اور ہم بحیثیت قوم چور کرپٹ بھی ہیں بجلی چوری ہم کرتے ہیں رشوت ہم کھاتے ہیں ملاوٹ ہم کرتے ہیں سود خوری ہم کرتے ہیں کوئی ناگہانی آفت آجائے تو ذخیرہ اندوزی کرنا شروع کر دیتے ہیں اور ہم تبدیلی چاہتے ہیں لیکن خود کو تبدیل نہیں کرنا چاہتے ہم چاہتے ہیں ہم خود کو تبدیل کیے بغیر تبدیلی لے آئے حلانکہ تبدیلی ہمیشہ فرد سے شروع ہوتی ہے اور فرد سے تبدیلی کے اثرات بڑے پیمانے پر ہوتے ہیں

    ایک بندہ اگر تبدیلی کا دعویٰ کرتا ہے تو اس کا مطلب یہ نہیں کہ وہ پورے پاکستان میں تبدیلی لے آئے گا اکیلا ہاں البتہ وہ اپنے حصے کا کام کر جائے گا اگر یہ ہم سب اپنے اوپر فرض کر لیں کہ تبدیلی لانی ہے تو اس کے لیے سب کو اپنا اپنا کام کرنا ہوگا ایمانداری سے جس طرح قطرے قطرے سے سمندر بنتا ہے اسی فرد سے کارواں بنتا ہے ۔۔۔۔۔۔

    قرآن مجید میں واضح بتایا گیا ہے کہ

    اِنَّ اللّٰہَ لایُغَیِّرُ مَا بِقَوْمٍ حَتّٰی یُغَیِّرُوا مَا بِأنفُسِہِمْ الرعد، آیت 11

    ترجمہ: بیشک اللہ کسی قوم کی حالت نہیں بدلتا؛ جب تک وہ خود اپنے آپ کو نہ بدل ڈالے

    خود کو بدلے ان شاءاللہ وہی ہوگا جو آپ چاہیں گے بس شروعات اپنے سے کریں ۔۔۔۔۔

    تحریر: مدثر حسن
    @MudasirWrittes