Baaghi TV

Category: معاشرہ و ثقافت

  • نیا زمانہ نۓ فتنے تحریر: ایم.ایم.صدیقی صاحب

    عہد جدید کا فتنۂ کبرٰی کیا ہے …؟
    مندوبین کرام۔۔۔۔! زمانے کے نۓ چیلینج کو آپ نظر انداز نہیں کرسکتے کم از کم امت مسلمہ کے لۓ اس چیلینج کو نظرانداز کرنے کا کوٸ جواز نہیں ..! فتنے کسی زمانے کے ساتھ مخصوص نہیں اور ایک ہی فتنہ ہمیشہ نہیں ہوتا نۓ نۓ فتنے سراٹھاتے ہیں اور اسلام اور مسلمانوں کے لۓ نۓ نۓخطرے سامنے آتے ہیں جاہلیت نۓ نۓ رنگ وروپ میں سامنے آتی ہے اور بڑے دم خم کے ساتھ میدان میں اترتی ہے

    اقبالؒ نے غلط نہیں کہا تھا
    اگرچہ پیر ہےمٶمن جواں ہیں لات ومنات

    بڑی خطرناک بات ہے کہ لات و منات یعنی باطل طاقتیں اور جاہلیتِ قدیم تو زندگی اور جوش و خروش سے بھرپور ہوں اور مٶمن میں جو سیدنا ابراہیم علیہ السلام کا وارث اور ناٸب ہے
    کہنگی اور فرسوگی پستی اور افسردگی کنارہ کشی اور پسپاٸ کی ذہنیت پیدا ہوجاۓ لات ومنات نۓ دم خم کے ساتھ نٸ امنگوں اور ولولوں کے ساتھ نٸ تیاریوں اور نۓ طریقوں کے ساتھ نۓ نعروں اور نٸ للکار کے ساتھ میدان میں آٸیں اور مٶمن پر موت طاری ہوجاۓ اس کے قُوٰی میں افسردگی اور اضمحلال پیدا ہوجاۓ وہ زندگی کے میدان سے فرار اختیار کرکے یا کنارہ کش ہوکر گوشۂ عافیت تلاش کرلے جہاں وہ اپنی زندگی کے دن گزار سکے اور لات و منات خم ٹھونک کر میدان میں کھزے ہوں اوردعوت مبارزت دے رہے ہوں
    اس زمانے کا فتنہ اور چیلینج کیا ہے …؟ اس زمانے کا چیلینچ یہ ہے کہ اسلام کو اس کی جداگانہ تہذیب اس کی مخصوص معاشرت اس کے عاٸلی قوانین اس کے نظام تعلیم اس کے زبان و ادب اس کے رسم الخط اور اس کے پورے ورثے سے الگ کردیا جاۓاور اسلام محض چند عبادات اور چندمذہبی و معاشرتی رسوم و تقریبات کا مجموعہ بن کر رہ جاۓ

    ✍️….رشحات قلم….
    @soxcn

  • ہم قوم کب بنیں گے؟؟؟ . تحریر: احمد فراز گبول

    ہم قوم کب بنیں گے؟؟؟ . تحریر: احمد فراز گبول

    ایک موضوعِ بحث ہے جو کہ ہر جگہ زبانِ زد خاص و عام ہے کہ قوم کیا ہوتی ہے؟ قوم کن عناصر پہ مبنی ہوتی ہے؟ قوم کی بنیاد کیا ہے؟ یا ایک قوم کیسے بنتی ہے؟
    گو کہ ان سوالات کے جوابات ہمارے پاس نہیں ہیں کیونکہ ہم ابھی تک ایک قوم نہیں بن سکے بلکہ ایک ریوڑ کی مانند ہانکے جا رہے ہیں۔ آج تک تو ہماری منزل کا تعین بھی نہیں ہو سکا بلکہ ہر چرواہا اپنی مرضی کی چراگاہ کے خواب اور لالچ دے کر ہانکتا رہتا ہے۔ کسی شخص نے دوسرے شخص کے بارے میں کہا تھا کہ "سائنس کہتی ہے کہ انسان پہلے بندر تھے پھر انسان بنے لیکن آپ تو ابھی تک بندر بھی نہیں بنے سوچو انسان کب بنو گے؟”

    بالکل یہی حال کچھ ہمارا بھی ہے۔ ہم تو ابھی تک منظم ہجوم بھی نہیں بن پائے قوم کب بنیں گے۔ ہم میں سے ہر فرد کی اپنی ترجیحات ہیں، ہر فرد اپنے ذاتی مفادات کے پیچھے ہے، ہر کسی کی اپنی پسند ناپسند ہے اور ہر فرد کی اپنی پسند کی "چراگاہ” ہے۔ کسی کا جھکاؤ "مشرق وسطیٰ” کی طرف ہے تو کوئی "مغرب” کی طرف بانہیں پھیلائے ہوئے۔ کسی کا رخ "مغربی پڑوسی” کی طرف ہے تو کوئی "سرخ ہاتھی” کی طرف کھنچا جلا رہا ہے۔ غرضیکہ ہر بندہ اپنی مرضی اور مستی میں مگن ہے۔ کسی کے بھی اغراض و مقاصد مشترک نہیں ہیں۔ اب ان حالات میں ہم کیسے اقوامِ عالم کا مقابلہ کریں گے؟ جس قوم کو ایسے حالات درپیش ہوں اسے تو اپنی بقا کی فکر ہونی چاہئے لیکن ہمیں یہ فکر ہے کہ دانش مر گیا تو کیا ہو گا؟ فرہاد اور ماہی مل بھی سکیں گے یا نہیں؟ زارا موسیٰ کی ہو گی یا نہیں؟

    افسوس صد افسوس ہم نے اپنی حقیقی زندگی کو بھی ڈرامہ سیریل کی طرح "ڈرامہ باز” بنا لیا ہے۔
    پاکستانیوں کو اس وقت ہوا اور پانی سے بھی زیادہ ضرورت تعمیرِ ملت کی ہے۔ ہم بجائے اپنی شناخت کی تعمیر میں سرکرداں ہونے کے دوسروں کے معاملات میں الجھنا بہت پسند کرتے ہیں۔ ہمارے اردگرد رونما ہونے والے جملہ واقعات میں ہم پہلا تجزیہ یہی پیش کرتے ہیں کہ زیادتی ہماری ریاست کی ہی ہو گی۔ ہم حقائق کی طرف دیکھنا بھی گوارہ نہیں کرتے۔ ابھی کچھ دنوں پہلے افغان سفیر کی بیٹی کے اغوا کا ڈراپ سین ہوا۔ ایک فرضی تصویر کو سفیر کی بیٹی بنا کر خوب ڈھنڈورا پیٹا گیا۔ افسوس کہ خود کو عوامی لیڈر کہنے والی سیاستدانوں نے بھی ریاستی مؤقف کی تائید نہ کی اور آزاد کشمیر کے الیکشن کی گہما گہمی میں صرف اور صرف سیاسی مفادات کے پیشِ نظر ریاست پاکستان کو موردِ الزام ٹھہرا دیا۔ حالانکہ حقیقت اس کے برعکس تھی اور اغوا ہوا ہی نہیں تھا۔ جس ملک کی عوام خارجہ معاملات میں بھی

    اپنی ریاست کے بیانیے کو سپورٹ نہیں کر سکتی کیا وہ خود کو قوم کہہ سکتی ہے؟
    محال است و محال است و محال است ضرورت اس امر کی ہے کہ ہمیں اپنے ہومیوپیتھک نظریات کو پسِ پشت ڈال کر نظریۂ اسلام و پاکستان کو مضبوطی سے تھامنا ہو گا۔ کیونکہ یہی وہ وقت ہے جب ہمیں ایک قوم بننے کی اشد ضرورت ہے۔ اس وقت پاکستان کے تمام دشمن ایک پیج پہ آ چکے ہیں لیکن ہم ابھی تک خوابِ خرگوش کے مزے میں محو ہیں۔
    میرے پاکستانیو! اس سے پہلے کہ دشمن آپ کے ناخن نوچیں، خدارا اب ہوش کے ناخن لو۔ ہمیں ایک مضبوط اور منظم قوم بننا ہے۔ اپنے تابناک ماضی کی طرح ایک روشن مستقبل پیدا کرنا ہے۔ اگر ہمارا حال ہمارے "حال” والا ہی رہا تو ہمارا کوئی حال نہیں ہو گا۔ جب تک ہم اپنی "میں” کو نہیں مار لیتے تب تک بس بکریوں کا ریوڑ بن کر "میں میں” ہی کرتے رہیں گے۔

    اس موقع پر سب سے اہم ذمہ داری ہمارے نوجوانوں کے کندھوں پہ ہے، جو آج کل رانجھے اور مجنوں بننے کے چکروں میں ہیں۔ ہر دوسرا نوجوان محبت میں ناکام اور زندگی سے تنگ نظر آتا ہے۔ کوئی بات کر لیں تو ایسے ایسے انمول فلسفے سننے کو ملتے ہیں کہ عقل بحرِ حیرت کی طلاطم خیز لہروں میں غرق ہو جاتی ہے۔ جس عمر میں بچے کھلونے ٹوٹنے پر روتے ہیں یہاں اس عمر کے بچے دل ٹوٹنے پہ نشے میں مگن ہیں۔ لیکن ہمیں آج تک اپنی قوم کے اس حال کا خیال نہیں آیا۔ کیونکہ ہم ابھی تک قوم بن ہی نہیں پائے۔ نوجوان ہی اس ملک کی وہ واحد طاقت ہیں جو اس ملک کو جہالت کے گھٹاٹوپ اندھیروں سے نکال کر روشنی اور عظمت کی بلندیوں تک پہنچا سکتے ہیں۔
    دعا ہے کہ خدائے تعالیٰ ہمیں ایک قوم بننے کی توفیق دے اور ہم عظیم مستقبل کی حامل ایک مضبوط قوم اور طاقت ور ریاست بن سکیں۔
    پاکستان پائندہ باد

    @1nVi5ibL3_

  • آپ کا ذہنی نمونہ کیا ہے؟ . تحریر : عثمان لاشاری

    آپ کا ذہنی نمونہ کیا ہے؟ . تحریر : عثمان لاشاری

    1. "شکاری” ذہنی نمونہ "” کسان "ذہنی نمونہ جو ایک شکاری کی طرح کامیابی کے راستے پر جیتے اور چلتے ہیں وہ اپنی زندگی کے سارے لمحات” شکار "کو تلاش کرتے ہیں۔ ان کے نقطہ نظر سے ، ہر چیز ایک موقع یا خطرہ ہے۔

    ہرسرگوشی، ہر روشنی کی روشنی، تاریکی کا ہر راستہ، ان میں امید یا خوف پیدا کرسکتا ہے۔ قابل جسم شکاری جانتا ہے کہ رات کے وقت ، ہاتھ سے ہاتھ سے شکار گھر واپس آجائے گا۔ اپنے گھر کے دروازے اور دیوار پر ، وہ ہرنوں کے پوشاک اور ہرن کے سینگ اور سواروں کے دانت نصب کرتا ہے ، اور کل شکار کا سوچ کر ہر رات سوتا ہے۔ شکاری کی زندگی کا طریقہ یہ ہے کہ وہ ہر جاندار کو شکاری یا شکاری کے طور پر جانتا ہے۔

    اگر وہ اسے شکار دیکھے گا ، تب تک وہ سکون کا تجربہ نہیں کرے گا جب تک کہ وہ اسے پکڑ نہ لے اور اسے پکڑ نہ لے ، اور اگر وہ دوسرا شکاری دیکھے تو مقابلہ کی مشکل اس کے لئے hunting شکار کا میٹھا ذائقہ تلخ کردے گی۔ کیا آپ نے ان شکاریوں کو ماحول اور کاروباری ماحول میں دیکھا ہے؟ سارا دن کوشش اور کامیابی اور ترقی اور ترقی اور رقم کی تلاش میں رہتا ہے۔ اور ان کے کمروں کی دیواریں دستاویزات اور تعریفی خطوط سے ڈھکی ہوئی ہیں۔

    لیکن کسان … وہ ہیں جو کامیابی کی راہ پر گامزن ہیں ، جیسے کسان کی طرح۔ وہ بیج بوتے ہیں اور خاموشی سے بیٹھتے ہیں۔ وہ جانتے ہیں کہ ایک دن یہ بیج پھل میں بدل جائے گا۔ وہ اس دن تک انتظار کرتے ہیں۔ وقتا فوقتا ، وہ کھیت پر پانی چھڑکتے ہیں اور مٹی کو سیراب کرتے ہیں۔ وقتا فوقتا ، وہ انکروں پر ہاتھ رکھتے ہیں اور شکاری سے زیادہ خاموش رہتے ہیں۔ عام عوام ان دو ذہنی عقائد میں سے کسی ایک میں پھنس چکا ہے۔ پہلا گروہ ترقی اور کامیابی سے اس قدر مشغول ہے کہ وہ زندگی کے دوسرے پہلوؤں کو بھول جاتے ہیں … اور دوسرا گروہ امن کی تلاش میں اس قدر مشغول ہے کہ وہ تناؤ اور کوشش کی مٹھاس کو بھول جاتے ہیں۔💡

    لیکن ایک تیسرا راستہ ہے! تیسرا طریقہ "ماہی گیر” کا ذہنی نمونہ ہوسکتا ہے۔ امن ، خاموشی ، خوشی اور موقع کے منتظر۔ جب موقع پیدا ہوتا ہے ، ہمیں تیز رفتار اور توانائی سے اس پر قبضہ کرنے کی کوشش کرنی چاہئے اور انتظار اور آرام سے بیٹھ جانا چاہئے۔ زندگی میں کامیابی مطلق امن سے حاصل نہیں ہوتی اور نہ ہی سخت کوششوں سے۔ کامیابی دونوں کا کامل امتزاج ہے۔ اپنے آپ سے پوچھنے کا وقت آگیا ہے ، ‘میں واقعتا میں کیا کر رہا ہوں؟ "کسان؟ "ہنٹر۔ یا ایک ماہی گیر؟

    Twitter @UsmanLashari

  • انٹرنیٹ کے نقصانات اور فوائد تحریر انجینئرمحمد امیر عالم

    انٹرنیٹ کے نقصانات اور فوائد تحریر انجینئرمحمد امیر عالم

    دورِ حاضر میں موبائل ہر انسان کی ضرورت بن چکا ہے اور اس موبائل فون کے ذریعے ہر دوسرا انسان اپنا بیشتر وقت انٹریٹ پر خرچ کرتا ہے۔
    مرد عورت اور بچے سب انٹرنیٹ کا استعمال کئے بغیر نہیں رہ سکتے۔
    اب انٹرنیٹ استعمال کرنے کے دو قسم کے طریقے ہیں ایک غلط اور دوسرا صحیح۔
    انٹرنیٹ کا غلط استعمال کرنے کے کئی نقصانات ہیں جبکہ صحیح استعمال کرنے کے بہت سارے فوائد۔
    ہم پہلے نقصانات کا ذکر کریں گے۔

    انٹرنیٹ کے نقاصانات:۔

    1) نوجوان نسل کا فحش فلمیں اور تصویریں دیکھنا:۔

    یوٹیوب اور فیس بک پر فحش ویڈیوز اور ننگی تصویریں دیکھ کر نوجوان نسل تباہ ہو رہی ہے۔
    اسلام ہمیں پاکیزہ اور با حیا زندگی گزارنے کا درس دیتا ہے لیکن ان گندی ویڈیوز کو دیکھ کر ہماری نو جوان نسل نہ صرف دنیا بلکہ اپنی آخرت اور اپنے ایمان کو بھی برباد کر رہی ہے اور اس طرح نوجوانوں پر شہوت کاغلبہ ہوتا بے جس سے آئے روز ایک معصوم بچی کی عزت کو تار تار کرکے اسے بے دردی سے ماردیا جاتا ہے۔

    2) وقت کا ضیاع:۔

    انسان کی زندگی کی ہر ساعت بہت قیمتی ہوتی ہے لیکن ہم اکثر اپنا زیادہ تر وقت انٹرنیٹ پر غیر ضروری کاموں میں صرف کرتے ہیں۔
    کبھی آن لائن گیم کھیل کر اپنا وقت ضائع کر رہے ہوتے ہیں تو کبھی اور کسی غیر ضروری سرگرمی میں مثلاََ کبھی پول کریٹ کر کے ایک دو دو ہفتے اس کے لئے مہم چلانا اور دوسرے دوستوں کو بھی پریشان کرنا اس کے علاوہ طلبا و طالبات کا کثرت سے انٹرنیٹ استعمال کرنے سے مطالعہ پر اثر پڑتا ہے اور خاص کر امتحانات کے دوران انٹرنیٹ پر وقت ضائع کرنےسے امتحان میں اچھی کاردگی نہیں دکھا سکتے اور اپنا مستقبل داؤ پر لگا دیتے ہیں۔

    3) رشتوں کے احساس اور محبت میں کمی:۔

    کبھی دوستوں کا مل بیٹھ کر خوب محفل جمانا ان میں ایک اپنایئت کا احساس دلاتا تھا اور اس سے محبت بڑھتی تھی لیکن اب دوستوں کو ساتھ بیٹھ کر بھی ساتھ ہونے کا احساس نہیں ہوتا ہے ایک ساتھ بیٹھے ہوئے دوست بھی ایک دوسرے سے بات کرنے کی بجائے اپنے اپنے موبائل میں کہیں اور لگے ہوتے ہیں۔
    بوڑھے ماں باپ اپنی اولاد سے بات کرنے کے لئے ترستے ہیں لیکن اولاد کو نیٹ سے فرصت ہی نہیں ملتی۔

    4) اصراف:۔
    غیر ضروری انٹرنیٹ استعمال کرنے سے نیٹ پیکیج پر پیسہ خرچ کرنا بھی پیسوں کی نا قدری اور صریحاََ اصراف ہے۔ جن پیسوں سے ہم کسی غریب کی مدد کر سکتے تھے یا جن پیسوں کو ہم کسی اور بھلائی کے کام میں خرچ کرسکتے تھے انھیں ہم انٹرنیٹ کے بےجا استعمال میں خرچ کرتے ہیں۔

    انٹرنیٹ کے فوائد:۔

    جہاں انٹرنیٹ استعمال کرنے کے کچھ نقصانات ہیں وہاں اس کے کچھ فوائد بھی ہیں۔

    1) گھر بیٹھے علم حاصل کرنا:۔

    انٹرنیٹ کے ذریعے گھر بیٹھے آسانی سے علم حاصل کیا جاسکتا ہے یوٹیوب پر ہر قسم کے لیکچرز موجو ہوتے ہیں جن سے ہر کوئی با آسانی گھر بیٹھے مستفید ہوسکتا ہے۔
    گوگل سے آپ کوئی بھی کتاب جس کی آپ کو ضرورت ہو یا کوئی بھی لغت آپ با آسانی ڈاؤن لوڈ کر سکتے ہیں۔
    آپ جس شعبے سے منسلک ہیں اسی شعبے کے اعلٰی تعلیم یافتہ لوگوں کو ایڈ کر کے انباکس میں آپ ہر قسم کا سوال پوچھ سکتےہیں۔

    2) گھر بیٹھے آن لائن اپنے کاروبار کی تشہیر کرنا:۔

    ہم انٹرنیٹ کے ذریعے اپنے کاروبار کی خوب تشہیر بھی کرسکتے ہیں۔
    مثلاََ ایک دوکان دار اپنی دکان میں میں رکھی گئیں نایاب چیزوں کی انٹرنیٹ پر تشہیر کرتا ہے اور میلوں دور بیٹھے کسی کو وہ چیزیں پسند آتی ہیں تو وہ آن لائن آرڈر کرتا ہے اور اسی طرح اس کا کاروبار خوب ترقی کرتا ہے۔

    3) پر دیس میں رہ کر بھی اپنوں سے با آسانی ہم کلام ہونا:۔

    کسی زمانے میں پردیس میں رہنے والے اپنے رشتہ داروں تک کوئی پیغام بھیجتے تھے تو کئی مہینوں بعد وہ پیغام ان تک پہنچتا تھا اور پھر جواب میں ان کے پیغام کا بھی مہینوں انتظار کر نا پڑتا تھا لیکن اب نیٹ کے ذریعے اپنا پیغام ٹائپ کر کے ایک منٹ میں ہم دنیا کے کسی کونے تک پہنچا سکتے ہیں بلکہ اب تو وٹس ایپ پر ویڈیوں کال کے ذریعے سکرین پر بالکل آمنے سامنے ہوکر بات کرسکتے ہیں۔

    4) با آسانی پیسے اور ڈاکومینٹز بھیجنے کا ذریعہ:۔

    پہلے زمانے میں کسی کو پیسے بھیجنا ہو تو جہاں پیسے بھیجنا مقصود ہوتا تھا وہاں جانے والے کسی شخص کو ڈھونڈنا اور اس کا انتظار کر نا کہ وہ کب جارہا ہے اور پھر اس بات کا بھی خیال رکھنا کہ آدمی بھروسے کا ہے کہ نہیں مطلب بہت انتظار اور بہت احتیاط کے بعد کسی کے ہاتھ پیسے بھیج دیتے تھے اب اپنے موبائل اکاؤنٹ سے آسانی کے کے ساتھ چند منٹوں میں کہیں بھی پیسہ بھیج سکتے ہیں۔
    اسی طرح اور کوئی ڈاکومینٹز یا کاغذات مثلاََ ڈومیسائل ڈی ایم سی یا شناختی کارڈ کی فوٹو کاپی کہیں دور بھیجنا ہو تو یا تو خود جانا پڑتا تھا یا بذریعہ ڈاک کافی دنوں بعد پہنچا سکتے تھے اب موبائل سے تصویر لے کر ایک منٹ میں وٹس ایپ پر بھیج سکتے ہیں۔

    ‎@EKohee

  • خدمت خلق  تحریر: فیصل شہزاد گوندل

    خدمت خلق تحریر: فیصل شہزاد گوندل

    کسی قوم کے زندہ قوم کہلانے کی سب سے بڑی دلیل یہ سمجھی جاتی ہے کہ اس کے افراد کے دل میں انسانوں کے لٸے کتنا احساس اور رحمدلی ہے اور اس کے یہی جذبات اس بات کا فیصلہ کرنے کے لیے بھی ایک دلیل کی حیثیت رکھتے ہیں کہ وہ قوم دنیا کی قیادت کا حق رکھتی ہے یا نہیں ۔ درحقیقت افراد اور قوموں کے درمیان برتری کا فیصلہ بھی انہی آثار کے مطابق ہوتا ہے جو اس میدان میں چھوڑتی ہیں ۔ اسلام قدرت رکھنے والے ہر شخص کو خیر کی دعوت دیتا ہے اور یہ دعوت اس طرح کی ہے کہ ایک مالدار، غریب ،مزدور تاجر ،زمیندار ، شاگرد، استاد، عورت مرد ،بوڑھا ،اندھا، کمزور بھی نیکی کا کام بنا کسی تردد کے کر سکتا ہے اور اس کے مالی حالات معاشرے میں نیکی اور بھلائی کے کام کر نے میں اس کے لیے کوئی رکاوٹ نہیں بنتے ۔ دین اسلام میں کوئی ایسا انسان نہیں پایا جاتا جو کسی نہ کسی طریقے سے بھلائی کا کام نہ کر سکتا ہو۔ ہر انسان اپنی حیثیت اور بساط کے مطابق بھلاٸی کے کام کر سکتا ہے۔ مالدار اپنے مال اور اپنے مرتبے کے ذریعے نیکی کا کام کرے گا۔ غریب ہے تو اسے چاہیے کہ وہ یہ کام اپنے ہاتھ اپنے دل ،اور اپنی زبان سے کرے۔ حضورﷺ کے زمانے میں بعض ناداروں نے آپ سے شکایت کی کہ مالدار لوگ نیکی کے میدان میں ان سے آگے بڑھ گئے ہیں کیونکہ وہ لوگ اپنی دولت کو فاہ عامہ اور نیکی کے کاموں میں خرچ کرر ہے ہیں اور ناداروں کے پاس کوئی چیز نہیں ہے جو وہ نیکی کی راہ میں دیں ۔ ان کے سامنے حضورﷺ نے وضاحت کی کہ نیکی کے کام کا ذریعہ صرف مال ہی نہیں ہے بلکہ ہر وہ کام نیکی اور بھلائی کا کام ہے جس سے دوسرے انسانوں کو فائدہ پہنچے ۔ آپﷺ نے فرمایا: ’تم جو ایک دفعہ اللہ کی تسبیح کرتے ہو یہ بھی نیکی ہے ، کسی بھلائی کا حکم دینا بھی نیکی ہے، برائی سے روکنا بھی نیکی ہے،راستے سے کانئے وغیرہ تکلیف دینے والی چیز کا ہٹانا بھی نیکی ہے،دو آدمیوں میں صلح کرا دینا بھی نیکی ہے، اور کسی یتیم کے سر پر شفقت سے ہاتھ رکھ دینا بھی نیکی ہے۔ اس طرح اسلام خیر کے دروازے معاشرے کے تمام لوگوں کے لیے کھول دیتا ہے ۔ اور یہ خیر اور فلاح صرف ہم مذہب کے لیے نہیں بلکہ اسلام انسان کو انسان دوستی کے اس اونچے مقام پر لا کھڑا کرتا ہے جہاں سے خیر و نیکی کے کام تمام انسانی برادری کے لیے عام ہو جاتے ہیں چاہے ان کا مذہب ،ان کی زبان ،ان کا ملک اور ان کی قومیت کوٸی بھی ہو۔ ہمارے نبی ﷺ فرماتے ہیں: لوگ اللہ کے عیال ( خاندان) ہیں اللہ کے نزدیک محبوب وہ ہے جو اس کے عیال کے لیے زیادہ سے زیادہ فائدہ پہنچانے والا ہو۔

    @MrGondalll

  • سوشل میڈیا کا بہترین استعمال   تحریر: فرمان اللہ

    سوشل میڈیا کا بہترین استعمال تحریر: فرمان اللہ

    سوشل میڈیا ایک ایسا پلیٹ فارم ہے جس نے ایک عام انسان کو بھی دوسروں کے سامنے اپنے خیالات کا اظہار کرنے کا موقع دیا۔ جس طرح الیکٹرانک میڈیا کے آنے کے بعد پرنٹ میڈیا کی اہمیت کافی حد تک ختم ہوئی اِسی طرح سوشل میڈیا کے آنے کے بعد الیکٹرانک میڈیا کی اہمیت میں بھی کافی حد تک کمی ہو چکی ہے.

    ایک وقت تھا جب ملک میں صرف پرنٹ میڈیا اور الیکٹرانک میڈیا کا راج تھا اور بہت سارے مسائل جن کا تعلق ایک عام انسان سے ہوتا تھا اُن مسائل کی نشاندہی کبھی نہیں ہوتی تھی لیکن آجکل سوشل میڈیا کی بدولت کوئی بھی انسان اپنے ساتھ ہونے والے ظلم اور زیادتی کے بارے میں پوری دنیا کو بتا سکتا ہے لیکن میں نے نوٹ کیا ہے کہ آج بھی ہم کافی حد تک سوشل میڈیا کا استعمال بہترین انداز سے نہیں کر رہے۔

    بہت سارے لوگ اسے ٹائم پاس کے لیے استعمال کرتے ہیں فیک نیوز اور پروپیگنڈا کے لیے استعمال کرتے ہیں جس کی وجہ سے سوشل میڈیا کی اہمیت میں کمی واقع ہوئی ہے۔

    سوشل میڈیا کے بڑے فوائد ہیں اچھی باتوں کو شیئر کرنا جس سے کسی اور کا اچھا ہو سکے، کسی مظلوم لاچار کی آواز بننا اور اس کی فریاد اعلی حکام تک پہنچانا، ملک میں ہونے والے ہر غلط کام کی نشاندہی کرنا اس پر بول کر اپنے آواز لاکھوں لوگوں تک پہنچانا، ملک و قوم کی بہتری میں اپنا کردار ادا کرنا، دشمن کے غلط بیانیہ کو دھبڑدوس کرنا اس کی غلط چالوں کو بے نقاب کرنا۔ ایسے بے شمار فوائد ہیں سوشل میڈیا کے اگر آپ اِس کا بہتر استعمال کریں تو

    Twitter account: @ForIkPakistan

  • بھیک مانگنا ایک کاروبار . تحریر : اعجازاحمد پاکستانی

    بھیک مانگنا ایک کاروبار . تحریر : اعجازاحمد پاکستانی

    آجکل بھیک مانگنا ایک پیشہ بن گیاہے۔ اوربھکاری لوگوں سے پیسے لینااپنا حق سمجھتے ہیں۔ عموماً بھکاریوں کوشہر کے چوک, چوراہوں, ریسٹورینٹس, شاپنگ مالز, مارکیٹوں اور ہسپتالوں کے باہر دیکھا جاتا ہے۔ ٹریفک سگنلز بند ہوتے ہی بھکاریوں کا ایک ٹولہ امڈ آتا ہے اور ہر گاڑی, رکشے اوربائیک پر بیٹھے لوگوں کوتنگ کرنا شروع کردیتے ہیں۔ اور اسطرح یہ گداگر پورا دن چاروں اطراف کے سگنلز پر گھومتے رہتے ہیں.

    گداگری ایک ایسی بیماری ہے جو ایک دفعہ لگ جائے تو گویا کینسر کیطرح جان لیکر ہی چھوڑتی ہے۔
    ہمارے شہری بھی اس گداگری کو پروان چڑھانے میں ان گداگروں جتنے ہی شامل ہیں۔ کیونکہ ہم جب انکو پیسے دیتے ہیں تو ان کے لاشعور میں یہ بیٹھ جاتا ہیں کہ گویا یہ تو ہمارا حق ہے جو انہوں نے دینا ہے۔ اسطرح یہ لوگ اس میں پختہ ہوجاتے ہیں اور پھر یہ کام تادمِ مرگ جاری رکھتے ہیں اور اپنی اگلی نسلوں کو بھی اس کیلئے تیار کرتے ہیں۔ اسطرح یہ لوگ اپنے بچوں کوانجنیئر, ڈاکٹر, سائنسدان اور تاجر نہیں بناتے بلکہ پیشہ ور اور بے ضمیر گداگر بناتے ہىں جو کہ ملک وقوم کیلئے ایک ناسور ہوتا ہے اور عالمی سطح پر بھی ہمارے لئے شرمندگی باعث ہوتا ہیں.

    من حیث القوم ہمیں اس بیماری کو جڑ سے اکھاڑنا ہوگا اور اپنے آنے والی کو بھی یہ سبق دیکر جائینگے کہ یہ گداگری ختم کرنا ایک تحریک ہے نہ کہ ایک وقتی جدوجہد-

    @IjazPakistani

  • عزت اور زلت  تحریر : اسامہ ذوالفقار

    عزت اور زلت تحریر : اسامہ ذوالفقار

    ‏وَتُعِزُّ مَن تَشَآءُ وَتُذِلُّ مَن تَشَآءُ ۖ بِيَدِكَ ٱلْخَيْرُ ۖ إِنَّكَ عَلَىٰ كُلِّ شَىْءٍۢ قَدِيرٌ

    اس کا یہ ترجمہ کیا جاتا ہے وہ جسے چاہے عزت دے اور جسے چاہے زلت اور اللہ ہر چیز پر قادر ہے۔
    ‏عزت اور زلت کی باتیں ہر گلی محلے میں ہو رہی ہوتی ہیں مثلا ایک شخص ابھی کل جاتیاں چٹخاتا پھر رہا تھا اور آج لاکھوں کا مالک ہو گیا خواہ وہ دولت سٹے بازی چور بازاری سمگلنگ رشوت وغیرہ کے زریعےہی کیوں نہ حاصل ہوئی ہو اور دوسری طرف کوئی نوابوں کےخاندان کا لڑکا جو کل تک مرسیڈیز ہر ‏ہوا خوری کرتا تھا آج بھیک مانگتا دکھائی دےرہا خواہ اس نےاپنی جائیداد شراب خوری میں ہی کیوں نہ آڑا دی ہو۔۔۔ اور لوگ پتہ ہے کیا کہتے ۔۔۔۔ ہاں بھائی اللہ کی شان وہ جسے چاہے شاہ بنا دے جسے چاہے گدا اسکے ہاں کسی کو دم مارنے کی اجازت نہیں یہ ہے باطل مفہوم جو ہم لیتے ہیں.
    ‏پہلی بات قرآن میں جسے عزت اور زلت کہا گیاہے ہمارے معاشرے میں اس عزت اور زلت کا مفہوم بلکل الٹا ہے ہمارے ہاں عزت کا معیار کیا ہے؟ دولت ہے نا؟ خواہ اس کا کیریکٹر جو بھی ہو معاشرہ تو اسے ہی بڑا آدمی سمجھتا ہے اور غریب کا بچہ جتنا ہی شریف کیوں نہ معاشرہ اسے کبھی عزت کی نگاہ ‏سے نہیں دیکھتا ابھی تجربہ کریں آپکے گھر میں ایک کروڑ پتی شخص نے آنا ہو تو آپکا اہتمام قابل دید ہو گا ۔۔۔
    نہ صرف یہ کہ ہمارا عزت اور زلت کا معیار قرآن کے بالکل الٹ ہے اورتو اور ایک ظلم اور کرتے کہ وہ جسے چاہے عزت دیتا ہے بس یونہی اور وہ جسے چاہتا زلت دیتا ہے.
    ‏بس یونہی؟ یعنی اللہ کے ہاں کوئی قانون اور ضابطہ سرے سے ہے ہی نہیں؟؟ نعوذ باللہ؟ یعنی یونہی کسی کو عزت دے اور دل کرے تو زلیل کر دے؟؟ نعوز باللہ؟ یہ ہے ہماری قرآن فہمی؟ یہ تصور ہے اللہ رحمان کا کہ جیسے ہمارے معاشرے میں کوئی قانون قاعدہ نہیں ایسے خدا کےہاں بھی نعوز باللہ ‏کوئی اصول نہیں؟؟؟ کیا اللہ رحمان ایسا ہو سکتا؟؟؟
    اللہ تعالی کے ہاں کوئی بے اصولی نہیں ہوتی اور کائنات کے جملہ امور مشیعت الہی کے کے تحت میرٹ پر انجام پاتے ہیں پہلے اسے تو اپنے پلے سو فیصدی یقین سے باندھ لیں. اللہ کے ہاں کوئی شارٹ کٹ نہیں ایک منظم اور مہذب نظام ہے جس کے تحت ‏عزت اور زلت ملتی ہے اور ہاں ہمارے معاشرے کی جھوٹی عزت اور زلت مراد نہیں قرآن کے اندر عزت اور زلت کے معانی اور ہیں.

    Twitter id : RaisaniUZ_

  • عورت اور ہمارا معاشرہ  تحریر : امیرحمزہ کمبوہ

    عورت اور ہمارا معاشرہ تحریر : امیرحمزہ کمبوہ

    ‏ہمارے معاشرے میں عمومی طور پر ایسا ہی ہوتا ہے کہ جب بہو بیاہ کر گھر میں آتی ہے تو اس سے بیٹا پیدا ہونے کی امیدیں لگا لی جاتی ہیں ، اگر بیٹا پیدا نہ ہو اور بیٹی کے بعد پھر بیٹی پیدا ہو جائے تو جب تک بیٹا پیدا نہ ہو تب تک خاندان میں اضافہ جاری رکھنے کا سوچا جاتا ہے چاہے اس کوشش میں پہلے سے موجود بیٹیوں کی صحیح تربیت ، صحت اور خوراک کو نظر انداز ہی کیوں نہ کرنا پڑے

    اور اس بات کا الزام بھی ہمیشہ عورت کو ہی ٹھہرایا جاتا ہے کہ تیسری بیٹی کے بعد چوتھی بیٹی پیدا کیوں ہوئی ہے ، لیکن شاید کبھی کسی کے دل میں یہ خواہش پیدا ہوئی ہو کے تیسرے بیٹے کے بعد چلو چوتھی بیٹی ہی پیدا ہو جاتی

    ہمارے معاشرے میں آنے والے بچے کی جنس چاہے مرد ہو یا عورت لیکن اس عمل میں ہمیشہ عورت کو ہی کٹہرے میں کھڑا کیا جاتا ہے جس عورت کے ہاں خدانخواستہ زیادہ بیٹیاں پیدا ہوجائیں تو اس کے سسرال والے بھی اسے حقارت کی نگاہ سے دیکھتے ہیں اور یہاں پر قابل ذکر بات یہ ہے کہ اس کے ساتھ برا سلوک کیا جاتا ہے اور یہ سب کرنے والی بھی ایک عورت یعنی کے اس کی ساس ہی ہوتی ہے

    لیکن اگر عورت کے بھائی اور ماں باپ کا سایہ سر پر ہوگا اور وہ خیال کرنے والے ہوئے تو عورت کا قادر سسرال میں قدرے مضبوط ہوگا ، لیکن اگر اسی عورت کے ہاں بیٹے پیدا ہوجائیں تو اس کی بطور بیوی اور بہو کی حثیت مضبوط ہوگی اور اس سے گھر میں بطور خوشیاں لانے والی عورت کا تصور کیا جائے گا

    اللہ پاک سورہ شوری میں ارشاد فرماتے ہیں
    ترجمہ: اللہ جو چاہتا ہے پیدا کرتا ہے، جس کو چاہتا ہے بیٹیاں دیتا ہے اور جس کو چاہتا ہے بیٹے دیتا ہے۔اور جس کو چاہتا ہے بیٹے اور بیٹیاں دونوں دیتا ہے۔

    اگر اس ارشاد باری کو مدنظر رکھا جائے تو آج کی عورت سمجھنے سے قاصر ہے کہ اولاد کی جنس کا ذمہ دار ہمیشہ عورت کو ہی کیوں ٹھہرایا جاتا ہے !

    اور نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے ارشاد باری کا مفہوم ہے کہ
    جس نے اپنی دو بیٹیوں کو پالا پرورش کی اور ان کا نکاح کر دیا تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے دو انگلیوں کا اشارہ کرتے ہوئے فرمایا کہ وہ جنت میں میرے ساتھ ایسے ہوگا جیسے یہ دو انگلیاں آپس میں جڑی ہوئی ہیں

    اس لیے ہمیشہ بیٹی کی پیدائش پر مجرم عورت کو ٹھہرانا بالکل بھی درست نہیں ہے

    Twitter handle @AHK_313

  • ٹک ٹاک پر پابندی مسئلے کا حل ہے  ؟  تحریر: احسن ننکانوی

    ٹک ٹاک پر پابندی مسئلے کا حل ہے ؟ تحریر: احسن ننکانوی

    پاکستان میں ٹک ٹاک پر ایک بار پھر پابندی ۔

    ذرائع کے مطابق :
    ٹک ٹاک پر پابندی غلط مواد اپلوڈ کرنے کی وجہ سے لگائی گئی ہے ۔
    پریوینشن آف الیکٹرانک کرائمز ایکٹ 2016 کی متعلقہ دفعات کی روشنی میں پاکستان ٹیلی کمیونیکیشن نے ملک میں ٹِک ٹاک ایپ اور ویب سائٹ پر پابندی لگا دی ہے۔
    جس پر پی ٹی اے نے بیان دیا کے نا مناسب مواد اپلوڈ کرنے کی وجہ سے ٹک ٹاک پر پابندی لگائی گئی۔

    اس سے پہلے رواں برس مارچ میں بھی پی ٹی اے نے پشاور ہائی کورٹ کے حکم پر ٹک ٹاک ایپلی کیشن پر پابندی عائد کی۔

    پشاور ہائی کورٹ کے چیف جسٹس نے ٹک ٹاک کے خلاف درخواست پر سماعت کرتے ہوئے کہا تھا کہ ’ٹک ٹاک پر ڈالی جانے والی ویڈیوز ہمارے معاشرے کے لیے قابل قبول نہیں ہیں۔‘ ہاں ایسا ہے بھی بہت ساری ویڈیوز ایسی ہوتی ہیں جو بالکل نا مناسب ہوتی ہیں

    چیف جسٹس کا کہنا تھا کہ ٹک ٹاک ویڈیوز سے معاشرے میں بے راہ روی پھیل رہی ہے، اسے فوری طورپر بند کیا جائے۔

    رواں برس جون میں سندھ ہائی کورٹ نے بھی ٹک ٹاک پر غیر اخلاقی مواد اپلوڈ کیے جانے کے حوالے سے دائر درخواست پر فیصلہ سناتے ہوئے ایپ پر پاکستان بھر میں پابندی عائد کرنے کا حکم صادر کیا تھا۔
    درخواست گزار کا کہنا تھا کہ بہت بار اس کی شکایت پی ٹی اے کو کی ہے لیکن انہوں نے اس پر ایکشن نہیں لیا ہے ۔
    درخواست گزار کی بات مانتے ہوئے ۔
    پھر سندھ ہائیکورٹ نے اس ایپ پر پابندی لگوا دی۔
    اب بات یہ ہے کیا ٹک ٹاک پر پابندی لگانا مسئلے کا حل ہے؟
    جب ٹک ٹاک پر پابندی لگائی جاتی ہے تو اس کے مقابلے والی ویب سائٹس ہیں۔ لوگ ان پر منتقل ہوجاتے ہیں۔
    اس طرح جتنے بھی لوگ ٹک ٹاک پر موجود ہیں وہ سارے اب ایپس کو استعمال کرتے ہیں۔
    اور ان کی ریٹنگ بڑھتی ہے ۔
    ٹک ٹاک پر پابندی لگانے سے مسئلہ حل نہیں ہوگا۔
    مسئلہ حل ہوگا جو مواد اپلوڈ کیا جاتا ہے ۔
    بے ہودہ اور غیر اخلاقی مواد اس کی روک تھام کی جائے ٹک ٹاک پر بہت سارے لوگ ایسے ہیں جو پاکستان کے کلچر کو پروموٹ کر رہے ہیں۔
    جن میں سر فہرست ‘زنیر کمبوہ ‘ کبیر آفریدی ‘ اور بھی بہت سارے بھائی ہیں۔
    اس کے علاوہ بہت ساری معلوماتی ویڈیوز بھی لوگ بناتے ہیں۔
    میں کچھ ایسے لوگوں کو بھی جانتا ہوں جو خالص اسلامی ویڈیوز بناتے ہیں اور لوگ کو شعور دلاتے ہیں۔
    بہت سارے دوست شاعری کی ویڈیوز بناتے ہیں اور اپنے ادبی ورثہ کو پروموٹ کرتے ہیں جن میں میں بھی سر فہرست ہوں۔
    میں یہ بات نہیں کرتا کہ پابندی لگی ہے تو کیوں۔ اس پر ٹک ٹاک ایپلی کیشن کی کمپنی کے ساتھ بات کرنی چاہیے۔
    کہ فلاں فلاں مواد کو اپنے ایلگورتھم میں ڈالے اور اگر ایسا مواد اپلوڈ ہو تو اس اکاؤنٹ کو فوری طور پر بلاک کیا جائے ۔
    اور ان کو کمیونٹی گائیڈ لائنز کا میسج بیجھا کیا جائے ۔
    اگر ہم کوئی اسلامی بات کرتے ہیں تو ہم کو کمیونٹی گائیڈ لائنز کا پیغام آ جاتا ہے۔
    اس کے علاوہ جیسے اگر کوئی بندہ اسلحہ اور کوئی لڑائی کی ویڈیوز ڈالتا ہے تو اس کی ویڈیو بلاک کر دی جاتی ہے۔
    ایسے ہی اگر کوئی غیر اخلاقی مواد اپلوڈ کرتا ہے۔تو اس کی ویڈیو فوری طور پر بلاک کرنی چاہیے۔
    ٹک ٹاک پر پابندی مسئلے کا حل نہیں ہے۔
    کیوں اس ایپلیکیشن سے ہمیں بہت کچھ سیکھنے کو ملتا ہے۔
    اسلامک کلپس ، پاکستان کے سیاحتی مقامات، کھانے پکانے کی ٹپس، ادبی ورثہ شاعری، ایجوکیشنل اقوال ، اب ہم ٹیکنالوجی کی دنیا میں جی رہے ہیں۔
    تو ہم اس حالات کے مطابق چلنا ہوگا۔
    اگر لوگ اس کو غلط استعمال کر رہے ہیں۔ تو تم اس کو اچھائی کے لئے استعمال کرو ۔
    پابندی مسئلے کا حل نہیں ہوتی یہ تو اس بات کی دلیل ہے کہ تم اس سے ہار گئے۔