ہر سال کی طرح اس سال بھی جوں جوں عید الاضحی کے دن نزدیک آ رہے ہیں شہر شہر نگر نگر مویشی منڈیاں سج رہی ہیں بھاو طے پا رہے ہیں جانوروں کی خرید و فروخت ہو رہی ہے۔ مسلمانوں کے اس عظیم تہوار پر اکثر مغرب میں ‘جانوروں کے حقوق’ کے نام پر تنقید ہوتی رہتی ہے تو آج ہم مذہبی تقاضوں سےہٹ کر معاشی پہلو سے عید الضحی کی اہمیت کا جائزہ لینگے اور جانوروںکے حقوق کے نام پر مغرب کی منافقت کو بھی بے نقاب کرنے کی کوشش کرینگے
دنیا کے ہر خطے میں مسلمان پائے جاتے ہیں اور ان تمام خطے میں مسلمانوں سے زیادہ غیرمسلم عیدِ قربانی اور اس سے منسلک کاروبار سے منسوب ہیں۔ عید قربانی پر تقریباً تمام مسلمانوں تک گوشت ضرور پہنچتا ہے جس سے انکی پروٹین کی ضروریات پوری ہوتی ہیں۔ عید پر ناں صرف تمام آبادی تک گوشت پہنچانے کا زریعہ ہے بلکہ اس سے منسلک ہزاروں کاروبار سےلاکھوں لوگوں کا روزگار وابستہ ہے جس سے دنیا کی معیشت میں اربوں ڈالرز کا اضافہ ہوتا ہے۔چمڑہ جو برآمدات میں بہت اہم مقام رکھتا ہے برینڈڈ پرس ، جیکٹس اور جوتوں سمیت بہت سی قیمتی چیزیں اس سے بنتی ہیں۔ چمڑے کی صنعت کا دارومدار عیدِ قربانی پر پیدا ہونے والی کھالوں پر ہوتا ہے سینکڑوں کارخانوں میں لاکھوں جانوروں کی کھالیں لائی جاتی ہیں جن پر لاکھوں مزدور کام کرتے ہیں اور انکے سارے خاندان کی روزی روٹی چلتی ہے۔ عید قرباں سے اور کیا کیا کاروبار چلتے ہیں اور کیسے لوگوں کی زندگی میں خوشحالی آتی ہے اسکی مثال ہم اپنے ملک پاکستان سے لے لیتے ہیں۔ اقتصادی شماریے پاکستان کے مطابق سال 2016 میں پاکستان میں عید قربانی کے موقع پر 3.5 ارب ڈالر کا کاروبار ہوا جس میں مویشی کی خرید و فروخت میں 2.8 ارب ڈالر خرچ ہوئے جبکہ کپڑوں، جوتوں اور دیگر مصارف میں 700 ملین ڈالر کا لین دین ہوا۔ دیہاتوں میں لوگ سارا سال مویشی پالتے ہیں اور عید کے موقع پر اربوں ڈالر صاحب استطاعت مسلمانوں کی جیب سے نکل کر موشی پالنے والوں کی جیب میں آ جاتے ہیں جس سے ان لوگوں کا سارا سال کا خرچ نکل آتا ہے جبکہ 9 کروڑ جانور اللہ کی راہ میں ذبح کیے گئے
امریکی جریدے کی رپورٹ کے مطابق ہر سال عیدِ قربانی کا حجم تقریباً 400 ارب ڈالر ہے دنیا کی معیشت میں 400 ارب ڈالر عید کے تین دنوں میں ڈالے جاتے ہیں جبکہ اس تمام کاروبار میں مسلمانوں سے زیادہ غیر مسلموں کا حصہ ہوتا ہے اور انکو فائدہ پہنچتا ہے.
یہ تو ہو گئے عید الضحی کے اقتصادی پہلو اور اس سے ساری دنیا کو ہونے والے فائدے کی داستان اب ہم آتے ہیں عید الضحی کے خلاف بولنے والے مغرب کی منافقت پر۔۔
ویسے تو سارا سال ہی مگر خاص طور پر عید کے قریبی دنوں میں جانوروں کے حقوق کی علمبردار کئی نام نہاد تنظمیں قربانی کو ظالمانہ اقدام کہہ کر اسکی مزمت کر رہی ہوتی ہیں اور عید الضحی پر پابندی کا مطالبہ ہر رہی ہوتی ہیں ان تمام تنظیموں سے میرا سوال ہے آپکو میکڈونلڈز کا روزانہ 300 جانور ذبح کرنا نظر نہیں آتا ؟ کے ایف سی سالانہ 75 کروڑ مرغیوں کو ظالمانہ طریقے سے مارتی ہے آپکو وہ نظر نہیں آتا ؟ سپین میں کھیل کے نام پر سالانہ ہزاروں بیلوں کو ظالمانہ طریقے سے قتل کیا جاتا ہے لاکھوں لوگ ان مناظر کو دیکھ کر قہقہے لگا رہے ہوتے ہیں اسی طرح نیپال میں بھی ہر پانچ سال بعد گدھیماں دیوی کیلئے لاکھوں جانوروں کی قربانی دی جاتی ہے جانوروں کے حقوق کی تنظیموں کا ان سب پر واجبی سی تنقید کر کے جانوروں کے حقوق کے نام پر مسلمانوں کے عظیم تہوار پر حملہ آور ہو جانا کس طور پر قابل قبول نہیں
Category: معاشرہ و ثقافت

عیدِ قربانی اور اس سے جڑی معیشت تحریر: حسان خان

دولے شاہ کے چوہے. تحریر: راحیلہ عقیل
سید کبیرالدین شاہ کا مزار گجرات شہر کے درمیان میں واقع ہے اس کی وجہ شہرت اس مزار پر پائے جانے والے چھوٹے سروں کے معصوم اور انتہائی مظلوم بچے بڑے ہیں آخر کیا وجہ ہے کیوں ہیں یہ بچے ایسے ؟
کہا جاتا ہے جو تحقیق سے ثابت بھی ہوا ہے کہ جو جوڑے اولاد کی نعمت سے محروم ہیں وہ اس مزار پر آکر منت مانتے ہیں کہ انکے گھر جو پہلی اولاد پیدا ہوگئی چاہے وہ لڑکا ہو یا لڑکی اس کو مزار پر دیا جائے گا کون سی ماں ایسی ہوگئی جو اپنی پیٹ سے جنمی اولاد کو ایسی جگہ چھوڑ آئے جہاں ہر طرف مظلوم دکھائی دیتے ہوں ” لیکن کہا جاتا ہے کے جس نے منت پوری نا کی انکی دوسری تیسری اولادیں بھی چھوٹے سر والے شاہ دولے کے چوہے پیدا ہونگے حالانکہ بہت سے منتی بچوں کے سر نارمل بچوں جیسے تھے وہ کہیں سے چوہے نہیں لگتے تھے پھر بھی دل پر پھتر رکھ کر والدین کو اپنی اولاد مزار کے کرتا دھرتاوں کے حوالے کرنی پڑتی،دوسرا تاثر یہ ہے کہ یہ بچے بالکل نارمل ہوتے ہیں بھکاری مافیا ان بچوں کو اغوا کرتا ہے بچپن میں ہی ان بچوں کے سروں پر لوہے کے کنٹوپ یا آہنی پتریاں لگا کر رکھا جاتا ہے تاکہ ان کے سر چھوٹے رہ جائیں اور ان کی ذہنی نشوونما نہ ہوسکے تاکہ انہیں درگاہوں پر اور بازاروں میں دولے شاہ کے چوہے کے طور پر پیش کرکے بھیک منگوائی جائے، اکثر والدین اولاد کی ممتا میں مجبور ہوکر مزار کا رخ کرتے ہیں کے اپنی اولاد کو دیکھ سکیں مگر وہاں وہ بچے دوبارہ دکھائی نہیں دیتے سالوں بعد نظر ابھی جائیں تو پہچان میں نہیں آتے،
امریکہ کے نیشنل ہیومن جینوم ریسرچ انسٹیٹیوٹ (NHCRI) نے چند سال پہلے اس معاملے پر تحقیق کی تھی اور اس تحقیق میں ان 33 پاکستانی گھرانوں کو بھی شامل کیا اکثر ماہرین کو کہنا ہے خاندان میں شادیاں کرنے سے ایسے بچے پیدا ہوسکتے ہیں مگر ابھی تک اس پر مکمل اتفاق نہیں ہوا، شاہ دولے کے چوہے تو ذہنی نشوونما رک جانے پر اپنا صحیح غلط پہچان نہیں پاتے مگر کیا آپ نے سوچا ہے کتنی سیاسی جماعتیں ہیں جو عوام کو اپنے مفاد کے لیے انکے ذہنوں کو خراب کرکے اپنے حساب سے چلا رہے کوئی کارکن اپنے لیڈر کے خلاف درست بات بھی سنا برداشت نہیں کرتا، مذہبی جماعتیں ہوں یا ملک دشمن ذہنوں پر ایسی کنٹوپ لگائی ہوئی ہے کہ مرنے مارنے کو تیار رہتے ہیں ایک آواز پر دنگے فساد جلاؤ گھیراؤ یہ ہیں اصل ذہنی بیمار لوگ جنکو صحیح غلط دکھائی نہیں دیتا شاہ دولے کے چوہے نا صحیح ایسے لوگ اپنی نسلوں کو بھی غلامی کی زنجیر پہنا کر چلے جاتے ہیں اور پھر کہتے ہیں ہم پڑھے لکھے باشعور لوگ ہیں

بغاوت کرو اس معاشرے کے خلاف ! تحریر: حسن ریاض آہیر
کبھی کبھی بغاوت بھی کرنی چاہیے، جو بغاوت کسی اچھے مقصد کے لیے کی جائے وہ غداری نہیں ہوتی۔ بغاوت کرنا بھی ہر انسان کے بس کی بات نہیں۔ کیونکہ باغیوں کو نظام اور معاشرہ کبھی قبول نہیں کرتا۔
ذرا غور کریں ان باتوں پر !
ہمارے معاشرے میں اگر عورت پر کوئی جھوٹا الزام لگا دیا جائے تو اس کو وہ ثابت کرتے اپنے کردار پر کئی دھبے لگا بیٹھے گی اور مرد جھوٹ ہی کیوں نا بولے عورت کی بانسبت اس پر زیادہ یقین کر لیا جاتا ہے۔
آخر کیوں ؟
کیوں ایسا ہے کہ مرد موبائل استعمال کریں تو عام بات ہے اور عورت کریں تو شک کی نظر سے دیکھا جاتا ہے ؟کیوں ایسا ہے کہ جائیداد ہمیشہ مرد یعنی بھائیوں میں تقسیم ہو گی اور بہن کا وراثت میں بھی کوئی حق نہیں ؟
کیوں بیٹوں کو اعلیٰ تعلیم دلوائی جاتی ہے اور بیٹیوں کو مخصوص تعلیم دلوا کر انہیں گھر بٹھا لیا جاتا ہے ؟
کہ یہ پڑھ کہ کیا کریں گی اس نے تو ویسے بھی اگلے گھر جانا ہے۔
ہم مسلمان ہیں بےشک ہمیں کبھی وہ حد پار نا کرنی اور نا کرنے دینی ہے جو اسلام نے مقرر کی ہے۔ لیکن جو تم اس خود ساختہ نظام اور معاشرے کی گھٹیا سوچ کی زنجیروں میں جکڑ چکے ہو اس سے باہر نکلو اور عورت کو بھی کھلی فضا میں جینے کا حق دو وہ بھی انسان ہے۔ اس کو پابندیوں کی ایسی زنجیروں میں نا جکڑ ڈالو کے سانس لینا بھی محال ہو جائے۔
یہ نظام کب بدلے گا ؟
جب ہم بدلیں گے تب بدلے گا !
@HRA_07
عنوان : صرف 30 سال اور ہم تحریر: سہیل احمد چوہدری
زیادہ دور جانے کی ضرورت نہیں بس 30 سال پیچھے کا چکر لگائیں
زندگی کتنی خوش و خرم گزر رہی تھی چھوٹے بڑے اپنے دائرے میں رہ کر چل رہے تھے.ادب و احترام کا انحصار تربیت پر سوال اٹھانے سے بچاتا تھا.علاقےیں کچھ ایسی بیٹھک بھی ہوا کرتیں تھیں جہاں مسائل کو پولیس اسٹیشن تک جانے نہیں دیا جاتا تھا.لوگ بخوشی.اطمعنان سکون سے گھروں کے دروازے کھلے رکھنے رکھ کر تسلی محسوس کیا کرتے تھے.اگر کوئی بزرگ کسی کو ڈانٹتا تو اپنائیت کا احساس اجاگر ہوتا .گھر سے ماں کی گود کو پہلی درسگاہ تصور کیا جاتا تھا.اردو کی بجائے پنجابی کو فرض سمجھا جاتا تھا.بچوں کے سامنے رکھی اشیاء بھی اپنی جگہ سے ہلنے کی اجازت نہیں دیتیں تھیں. اچھے برے کی تمیز پر ہر کوئی زور دیتا. خواہشات میں اہم چیز حق حلال کی روزی اور اولاد کو نیک انسان بنانے پر فوکس کیا جاتا تھا.محنت چاہے پڑھائی میں ہو یاں کام میں .بھرپور پذیرائی ملتی تھی.بزرگوں کے جیون ساتھی کے ساتھ ساتھ انکے جہیز کا سامان بھی آخر تک چلتا.رشتوں میں منافقت اور اشیاء میں ملاوٹ نہ ہونے کے برابر تھی .کم سے کم اولاد کی تعداد 7 تو ہوتی ہی تھی.ایک ماں نماز کی پابندی کے ساتھ ساتھ گھر کے کام تو الگ بچوں کو برابر ٹائم بھی دیتیں تھیں.اکیلا باپ 8 , 8 بچوں کیلیے اکیلا کافی تھا.اللہ کی شکر گزاری پر بار بار زور دیا جاتا تھا.بچے بوڑھے ہونے پر بھی ماں باپ کی آواز سے تجاوز ناں کرتے تھے.گھر کی بہو سسرال سے اپنی میت اٹھوانا پسند کرتیں تھیں .گھر کے مسئلے مسائل پر پردہ ڈال کر مرد تک بات نہیں جانے دیا کرتیں تھیں.علیحدگی نام کی کوئی چیز نہیں تھی.ٹرالی والے ٹیلیوزن اور گھر کے دروازے رات 8 بجے پی ٹی وی کے ڈرامے سے شروع ہوکر 9.30 بجے کے خبر نامے کے اختتام کے ساتھ بند کر دیئے جاتے.بچوں کو ٹی وی سے اتنے فاصلے پر بیٹھنے کا حکم تھا جیسے آجکل کورونا کے دوران سماجی فاصلے پر زور دیا جاتا یے.بہو کو بیٹی کا درجہ دیا جاتا تھا..داماد کو بیٹا تصور کیا جاتا تھا پرائیویٹ سکول نہ ہونے کے برابر تھے.سرکاری سکول میں کلاس کے نالائق سٹوڈنٹس بھی اساتذہ کے آگے سر نہ اٹھاتے تھے. اساتذہ گھڑی کو دیکھنے کی بجائے شاگردوں کے متعلق زیادہ سوچتے تھے اور نالائق شاگردوں پر زیادہ فوکس کرنا اپنی زمہ داری سمجھتے تھے.
کل ملا کر بہترین انسان بنا کر روزگار کیلیے مارکیٹ میں بھیجا جاتا تھا.
انکی مثبت سوچ اور رویہ سے ان کی تربیت اور افکار کا پتا چلتا تھا.کم تعلیم یافتہ والدین نے بہترین آفیسرز پیدا کیے.
ہر بندہ اپنی جگہ پر ایسے براجمان ہو کر زمہ داری نبھاتا تھا جیسے جانور اور چرند پرند اپنے بچوں کی دیکھ بھال کرتے ہیں.
کھلے مکان .اونچی چھتوں والے کھلے کلاس روم.مٹی کی دیواریں وہ بھی 22 انچ تک چوڑی.گلیوں میں سولنگ.سنگل اسٹوری مکان .شرم و حیاء.ماں باپ اساتذہ کا تعلیم کے ساتھ ساتھ معاشرتی لیکچر اور مثالوں کی بھرمار نے صحت مند مثبت دماغ والے انسان پیدا کیے.مہنگائی نام کو دشمن تصور کیا جاتا تھا
اب آتے ہیں 2000 کے دور میں جس میں ہم ایٹمی طاقت .جدید جنگی سامان .بہترین ٹیکنالوجی.
پر سبقت لے گئے.اور خود کو بیرونی طاقتوں کے آگے مضبوط پیش کیا.
پر ایک چیز جو جوں کی توں ہے وہ بیرونی قرضہ جات.خیر اس جو تو رجگتے ہی الگ ہیں جس پر دو رائے نہیں.
کیا کھویا کیا پایا.
1-اردو اسپیکنگ مائیں پر بچوں میں انسانیت کا فقدان
2- ایجوکیٹڈ والدین پر اولاد معاشی بے راہ روی کا شکار
3- ٹی وی .ریموٹ ہر ایک کی دسترس میں پر توجہ کا مرکز بےہودہ اور نان سیئریس وقت کا ضیاع
4- موبائل .موٹر سائیکل وقت کی ضرورت پر مقاصد آوارہ گردی
5- مہنگے پرائیویٹ اسکول, اسٹوڈنٹ کی تعداد بھی مختصر پر فیسوں کا بوجھ اور پڑھائی اور ڈگری برائے نام
6- سکیورٹی اداروں کی کارکردگی اور جرائم کا بڑھنا
انسانیت پر سے یقین کا خاتمہ خوف کا چورن سرعام بکنا.
7-انصاف کے اداروں میں انصاف کی دھجیاں سر عام
دو قانون .غریب کیلیے الگ امیر کیلیے الگ. ناامیدی
8-عورت کا بے جا بوجھ مرد پر
سورس کوئی بھی ہو
مقاصد پر کوئی سمجھوتا نہ کرنا.
9- ہر ایک کی جیب میں اپنے مسلک کا فتوئ
10- بناوٹی سوچ . ہر حال ہر قیمت پر آگے نکلنے کی سوچ
11- صبر .توکل.توبہ سے دوری وغیرہ وغیرہ
12- چھوٹے بڑے کا ادب ممنوع.
اپنے بچوں کو دوسروں پر فوقیت کی فکر
اتنی بے فکری میں تو جانور بھی بچے نہیں پالتے شاید .جتنے ہم بے فکر ہو گئے ہیں
13- ہٹلر نے کہا تھا
اچھی مائیں دو اچھا معاشرہ لے لو .
14- حلال حرام سے زیادہ حیثیت برقرار رکھنے پر زور.
15- بے شمار پیسا ہونے کے باوجود اںسانیت کا فقدان
سارا قصور ریاست کا نہیں
کچھ ہمارا بھی فرض بنتا ہے
مرد کا کام بہتر رزق حلال کما کر گھر کو اسپورٹ کرنا ہے
ماں کا کیا کام ہے شاید اس پر سوال بنتا ہے
کیونکہ مولانق طارق جمیل صاحب نے کیا خوب کہا تھ کہ صبح صبح مائیں بچوں کو اپنی جان چھڑانے کیلیے اسکول بھیج دیتی ہیں اسکول میں بچوں کو کارٹون دکھائے جاتے ہیں تاکہ بچے کا دل اسکول میں لگے اور ماوں کی مجبوری کے ساتھ اسکول مافیا کا وظیفہ لگا رہے.
باقی بچے گھر پر ہیں اور فیسیں آسمان پر .
جب بچہ گھر آتا ہے تو موبائل یاں ٹی وی دیجھتا یے تو اسے والدین بھی کارٹون نظر آتے ہیں
ہمیں مل کر اس نظام کو بدلنا ہوگا
ہم نہیں بدلیں گے تو جیسے 30 سال پہلے کی محنت کو چںد سالوں نے بدل کر درہم برہم کر دیا کسی ناں جسی کو تو شروعات کرنا ہو گی.
خود کو بدلیں .جیسے چین نے صرف 30 سالوں میں اپنے آپ کو دنیا کی بہترین قوم ثابت کر دکھایا.
خدارا آپس کی منافقت سے نکلیں اور پچھلے 30 سال کو مثال بنا کر اپنا ٹائم ٹیبل ترتیب دیں .
کسی کے چہرے کو سرخ دیکھ کر اپنے منہ کو ٹھپڑ مار کر لال کرنے سے گریز کریں.
اپنے لال کی فکر کریں دوسروں کی گال کو چھوڑیں .
بچوں کی نشوونما تحریر: محمد کامران۔
بچے الله تعالیٰ کا انمول اور خوبصورت تحفہ ہوتے ہیں والدین کی زندگی میں بچوں کی وجہ سے خوشیاں اور رونقیں ہوتی ہیں ماں کی کوکھ سے ہی بچے کی تربیت اور نشوونما شروع ہو جاتی ہے دنیا میں آتے ہی بچے والدین سے سیکھناشروع ہو جاتے ہیں ان کے نقش قدم پر چلنے کی کوششں کرتے ہیں ۔
گھر کا ماحول اور والدین کی ساکھ بچوں کی ذہنی اور جسمانی نشوونما پر گہرا اثر ڈالتی ہے جہاں ماں کی گود بچے کی پہلی درسگاہ ہے وہیں مدرسہ یا سکو ل کی تعلیم بچوں میں مختلف علوم اور ہنر کو اجاگر کرنے کیلئے ضروری ہے ۔
بچوں میں ہنر اور علوم ان کی زندگی کو بہتری کی طرف لے جانے کا باعث بنتے ہیں بچوں میں بااخلاق اور ذمہ دار شہری بننے کا سلیقہ پیدا ہوتا ہے ۔اور ان کو اایک متوازن زندگی گزار نے کا موقع ملتا ہے ۔اور بچے زندگی کے نشیب و فراز سے واقف ہوتے ہیں
والدین کو چاہئے کہ وہ بچوں کی صحیح ذہنی نشوونما کیلئے بہترین سکلول یا مدرسہ اور اساتذہ کا انتخاب کریں اور بچوں کو زیادہ سے زیادہ گھر میں توجہ سے وقت دیں تاکہ مثبت شخصیت اجاگر ہو۔اچھی اور سبق آموز کہانیوں کا انتخاب کریں اور سونے سے قبل کہانیاں سنانے سے ایک تحقیق کے مطابق بچوں میں مطالعے کا شوق پیدا ہو تا ہے اور ان کی ذہنی اور فکری نشوونما ہوتی ہے
ماحول بچوں کی نشوونما میں اہم کردارادا کرتاہے بچے جس ماحول میں پرورش پاتے ہیں ان میں اسی کی جھلک نظر آتی ہے بہترین ماحول میسر آنے سے بچوں کی نشوونما بھی مثبت انداز میں ہوتی ہے ۔بچے پگھلے ہوئے کانچ کی طرح ہوتے ہیں ان کو جس سانچے میں ڈھالو ڈھل جاتے ہیں
بتہرین ذہنی اور جسمانی نشوونما کیلئے ان کے اردگرد مثبت چیزوں ،سوچ ،ماحول اوردیکھ بھال کی ضرورت ہوتی ہے ۔@kaamm_ii

بڑھتی ہوئی قومیت پسندی اور فکری انتشار تحریر: عرفان محمود گوندل
ہم ایک ایسے معاشرے میں رہتے ہیں جہاں مختلف اقوام و ثقافت اور زبان سے تعلق رکھنے والے لوگ بستے ہیں۔
اور طبقات میں ایسے تقسیم ہیں کہ ہر کوئی خود کو دوسروں سے افضل سمجھتا ہےاور بات یہاں تک کہ کمتری اور برتری کی حد تک چلی جاتی ہے
پیدائشی طور پر ہمیں جس خاندان کی شناخت ملتی ہے ہم اس کو ہی لاشعوری طور پر دوسروں سے افضل سمجھتے ہیں۔ جو شناخت ہمیں اتفاقً ملی ہے جس کو حاصل کرنے میں ہماری کوئی کوشش نہیں اس کے لئے ہم بعض اوقات مرنے مارنے کو تیار ہو جاتے ہیں۔ ہم میں سے کوئی بھی یہ نہیں چاہتا کہ ہماری اصلاح ہو یہی وجہ ہے کہ ہمارا معاشرہ فکری انتشار کے عروج پر ہے۔کوئی گروہ یا جماعت اپنے سے الگ خیالات رکھنے والے کا نقطہ نظر سننے کو تیار نہیں جس کی وجہ سے معاشرتی بگاڑ دن بدن بڑھتا جا رہا ہے۔ امن کا تعلق معاشرے میں رہنے والوں کی نفسیات پر ہوتا ہے لیکن ہمارے ہاں نفرت اور انا کی ایسی بلندوبالا عمارتیں تعمیر کی گئیں ہیں کہ کوئی گروہ دوسرے کو سننے کو تیار نہیں۔
فکری انتشار کی ایک بڑی وجہ ہم مسلمانوں میں فرقہ واریت ہے ہمارے بہت سے علماء کرام مختلف فرقوں کے نام پر اسی کوشش میں لگے رہتے ہیں کہ دوسرے فرقے کی برائی اور خود کی اچھائی ثابت کریں۔ہمیشہ خود احتسابی اور حقیقت پسندانہ رویہ اپنانے سے کتراتے ہیں۔
ہمارے معاشرے میں عدم برداشت کی دوسری بڑی وجہ ہمارا بوسیدہ نظام تعلیم ہے جو پہلے تو مدارس، سرکاری اور پرائیویٹ نظام تعلیم میں تقسیم تھا اوراب مزید تقسیم در تقسیم ہوتا جا رہا ہے اور قوم ایک ہجوم کی شکل اختیار کر چکی ہے۔ مدارس سے نکلنے والے حضرات اپنے مسلمان بھائیوں کو جہنمی اور کفر کے فتوے دیتے ہیں اور سکول اور کالج سے فارغ التحصیل لوگ مدرسوں میں پڑھنے والے لوگوں سے خود کو افضل سمجھتے ہیں۔ بات صرف فطری اختلاف تک نہیں رہتی بلکہ ماردھاڑ تک پہنچ جاتے ہیں۔افسوس کے ساتھ ان ستر سے زیادہ سالوں میں معاشرے کے ساتھ ساتھ ریاست نے بھی کبھی کوشش نہیں کی جس سے معاشرے کے مختلف گروہوں یا طبقوں میں ہم آہنگی بڑھ سکے۔ رہتی کمی ہماری سیاسی جماعتیں نکال دیتی ہیں جو ہماری قوم کو سندھی، پنجابی، بلوچی،پشتون، سرائیکی اور اس کے علاوہ بہت سارے گروہوں میں تقسیم کرنے کی کوشش میں لگی رہتی ہیں اور 70 سالوں میں تقسیم کرو اور حکومت کرو کی پالیسی پر اقتدار سے لطف اندوز ہوتی آئی ہیں۔
کچھ سیاسی پارٹیاں مذہب کے نام پر اپنا چورن بھیجتی ہیں جن کے بارے میں سعادت حسن منٹو نے کیا خوب کہا تھا لیڈر جب آنسو بہا کر لوگوں سے کہتے ہیں کہ مذہب خطرے میں ہے تو اس میں کوئی حقیقت نہیں ہوتی۔ مذہب ایسی چیز ہی نہیں کہ خطرے میں پڑ سکے، اگر کسی بات کا خطرہ ہے تو وہ لیڈروں کا ہے جو اپنا اُلّو سیدھا کرنے کے لئے مذہب کو خطرے میں ڈالتے ہیں۔یہ لوگ جنہیں عرف عام میں لیڈر کہا جاتا ہے، سیاست اور مذہب کو لنگڑا، لولا اور زخمی آدمی تصور کرتے ہیں۔
ہمیں اس مذہبی اور سیاسی تقسیم سے نکل کر اپنے بزرگوں کے فرمودات پر عمل کرتے ہوئے ایمان، اتحاد اور تنظیم کے ساتھ آگے بڑھنا ہو گا ورنہ ہم جدید دنیا سے بہت پیچھے رہ جائیں گے۔اللہ تعالی ہم سب کا حامی وناصر ہو۔آمین۔@I_G68

طلاق تحریر: مدثر حسن
ہمارے معاشرے میں طلاق کی شرح بڑھتی جا رہی ہے جو کہ ایک پریشانی کا بحث ہے طلاق کا لفظ سن کر ہمیشہ ہماری سوچ لڑکی کے کریکٹر پر جاتی ہے کہ اس کی وجہ یہ لڑکی ہی ہوگی حلانکہ اکثر معمولات میں مرد کی ہی وجہ ہوتی ہے طلاق کا بوجھ اٹھانا ایک لڑکی کی زندگی میں اس سے بڑھ کر کوئی نہیں ہوسکتا وہ وزنی پتھر کا بوجھ اٹھا سکتی ہے لیکن اس کے لیے طلاق کا بوجھ اٹھانا بہت مشکل ہے مرد کے لیے طلاق کے صرف تین حرف ہیں لیکن یہ تین حرف لڑکی کی زندگی اجیرن کر دیتے ہیں!!!!!
طلاق کی وجوہات میں سے ایک وجہ یہ بھی ہےکہ گھر والوں کی مرضی ہوتی ہے ان کو زبردستی شادی کے بندھن میں بندھ دیتے ہیں لڑکے اور لڑکی کی دلچسپی جانے بغیر لڑکی بیچاری تو کمپرومائز کر جاتی ہے اپنی زندگی پر لیکن مرد ایسا نہیں کرتے وہ کچھ عرصہ بعد طلاق دے دیتے ہیں اور اپنا نیا جیون ساتھی تلاش کرتے ہیں جو ان کی پسند ہو اور وہ لڑکی طلاق کا ٹھپہ لیے اپنے ماں باپ کے گھر چلی جاتی ہے اور اپنی قسمت کو کوستی ہے
حلانکہ طلاق اللہ اور اللہ کے رسول ﷺ نے ناپسندیدہ عمل قرار دیا ہے اس لیے قرآن میں واضح بتایا ہے کہ جو عورت تمہیں پسند ہو ان سے نکاح کر لو تاکہ یہ طلاق کی نوبت نہ آئے والدین کو چاہیے شادی کرنے سے پہلے لڑکے اور لڑکی کی مرضی جان لیں تاکہ بعد میں ان کو یہ صدمہ برداشت نہ کرنا پڑے!!!!!!!
اسلام نے ہمیں چار شادیوں کا حکم دیا ہے اس میں طلاق یافتہ سے بیوہ سے شادی کرنا بھی شامل ہے طلاق یافتہ اور بیوہ سے شادی کرنا بھی سنت رسول ﷺ ہے کوشش کریں جس شادی کریں ان سے راشتہ طور نبھائیں تاکہ طلاق کی نوبت نہ آسکے ۔
طلاق کی وجہ سے والدین بیٹیوں کو بوجھ سمجھتے ہیں اور ان سے نفرت کرتے ہیں حالانکہ قصور بیٹے کا ہوتا ہے اگر بیٹے کی تربیت ٹھیک طریقے سے کی جائے تو
طلاق کی نوبت بھی نہ آئےاس لیے بہن ،بیٹی کے اچھے نصیب کی دعا کی جاتی ہے کہ اللہ ان کے لیے نصیب اچھے کرے اور آسانیاں فرمائے آمین !!!!!!
@MudasirWrittes

جنت کا ٹکٹ ہمارے ہاتھوں میں ہے؟ تحریر ؛فرزانہ شریف
دین کو لے کر اسلام کے نام پر کسى کا بھى مزاح اڑانا” کسى کلمه گو مسلمان کو کمتر سمجھنا” کمنٹس ميں پوسٹس میں فخر محسوس کرنے سے پہلے ہم اعمال اپنى زندگى کو هى دیکھ لیں’ کیا ہم جانتے ہمارى زندگى کب کس مقام پر اور کس حال میں اختتام پذیر ہو”
کیا ہم جانتے ہیں ہمارى نماز ہمارے اعمال قبولیت کا شرف پا رہے ہیں” اپنے فرقے کو بہترین سمجھنا اور دوسرے کسى بھى فرقے کے مسلمانوں کو کمتر سمجھنا گالى گلوچ طنزو مزاح کى محفلیں سجانا کم سے کم ہم امتى۔۔۔۔۔۔؟!
شیوه نهيں دیتا اس فانى زندگى ميں نصیحت کرنا تنقید کرنا بہت آسان ہے مگر اس پر عمل کرنا مشکل ہے”
برداشت نہیں کسى ميں نفسا نفسى کے دور میں ہر انسان کا خود کو بہترین نیک ایمان دار سمجھنا دوسروں کو کمتر سمجھنا بہت عام بہت آسان بہت قابل فخر بات بن چکى اب ۔۔۔! آج تک ميں نے کوئی فرقہ واریت ٹویٹ یا پوسٹ نہیں کی اچھى بات جو بولے سن بھى لیتى عمل کى کوشش بھى’ اور کبھى کوئی بول دے پوسٹس کمنٹ ڈیلیٹ کرنے کو تو بنا بحث کے کر بھى دیتى’ کبھى کبھار پوچھتى ضرور ہوں’ کیا غلط کا برا هے اس ميں کچھ تفصیل یا تھوڑا سا هى بتا دیں” بات ختم ادھر هى۔۔۔ہم نہی جانتے ہم زندگی کے کس موڑ پر ہمارے کس قول فعل عمل سے کسی کی دل آزاری کا سبب بنتے ہیں کبھی کبھار غیر ارادی طور پر بھی ہوجاتا ہے ایسا۔۔
دعا کریں ہمیں کبھی کسی کی بددعا نہ لگے
انسان کی زندگى ميں اپنے اتنے معاملات پریشانیاں در پیش لاحق ہوتى ہیں اپنے گناه اپنى نافرمانیاں بجائے اس کے ہم اپنے ایمان کى اپنے اعمال کی فکر کریں مگر نہ جى ہمیں تو یہ ثابت کرنا فلاں جہنمى هے فلاں ایسا ہے صرف
ہم”اللہ سبحانه وتعالیٰ کے لاڈلے ہیں اور جنت کا ٹکٹ ہمارے ہاتھوں میں ہے انا للہ وانا الیہ راجعون💔
استغفراللہ ربى من کل ذنب واتوب الیه”
اللہ الرحمن الرحیم الغفور القدوس السلام المومن العزیز الجبار القہار الرزاق الفتاح العظیم پاک پروردگار ہمیں هدايت کامل ایمان نصیب فرمائے آمین یارب العالمین
سوشل میڈیا کو اپنے وطن کے لیئے استعمال کیجئے.تحریر: امان الرحمٰن
دنیا تیزی سے ترقی کر رہی ہے ۔آج آپ نے کوئی بھی معلومات لینی ہو یا کوئی کتاب ڈاؤن لوڈ کرنی ہو سب انٹرنیٹ پر مل جاتا ۔جہاں ٹیکنالوجی نے ہماری زندگی میں آسانیاں پیدا کی ہیں وہاں اس کے منفی استمعال کا عنصر بھی جنم لے رہاہے، بدقسمتی سے پاکستان میں یہ منفی عنصر بہت زیادہ پایا جاتا ۔آج ہر دوسرے شخص کے پاس اینڈرائیڈ موبائل فون ہے اور ہر شخص فیسبک اور ٹویٹر انسٹاگرام پر ایکٹو رہتا ہے یا یوں سمجھئے کے ہم نے سوشل میڈیا کو اپنی زندگی کا بہت اہم حصہ تصور کرلیا ہے جس کے بغیر زندگی گُزارنا مشکل ہو جائے گی ۔ لیکن اگر ہماری ایسی عادت بن ہی گئی ہے یا ہم اِس کے بنا رہ نہیں سکتے تو کیوں ناں ہم اِس موبائل کے ساتھ جوڑے سوشل میڈیا کو اپنے ملک اپنے مذہب کے لئے استعمال کریں اور ملک و قوم کی بہتری میں اپنا حصہ ڈالیں تاکہ مُعاشرہ بہتری کی طرف آئے اور آپ کی ایک چھوٹی سی پوسٹ یا تحریرکسی کے دل میں گھر کر جائے۔ اب آجائیں کے استعمال کیسے کریں اور کیا کِیا جائے تو دیکھیں کچھ لوگ اس کا مثبت استعمال کر رہے ہیں اورکچھ لوگ منفی،
جو مثبت استعمال کر رہے وہ اپنے فارغ وقت میں سوشل میڈیا کے زریعے اپنے وطن اور افواج پاکستان کے ساتھ یکجحتی کا اظہار کرتے ہیں اور ان کے خلاف دشمنوں کے پروپیگنڈہ کو ناکام بناتے ہیں ۔ جو لوگ منفی استعمال کر رہے ہیں وہ ہوش میں آئیں زندگی چھوٹی ہے اس کو فضولیات میں برباد نہ کریں۔
کمنٹ میں "گو” لکھ کر ٹرک چلنے کا انتظار نا کریں۔۔!’
جو دس گروپوں میں شیئر کرے گا اس کو اپنا نمبر دوں والی پوسٹ شیئر کر کے اپنے ضمیر کو مردہ مت بنائیں۔ کبھی خُود کا اپنا مُحاسبہ بھی کر لیا کریں کے زندگی کا مقصد کہیں فوت تو نہیں کر دیا میں نے۔۔؟ اب دیکھیں ایسی ایسی پوسٹس اور مضمون یا لطیفے ہیں کےاگر سنجیدگی سے غور کریں تو اِن فضولیات کا کتنا گہرا اثر لوگوں کی سوچ پر پڑ رہا ہے کہ کسی کو اندازہ ہی نہیں کے ہم کیا کر رہے ، یہ وقت کا ضیاء نہیں تو اور کیا ہے ؟ صحیح معنوں میں اِن فضولیات نے ہمیں اللہ سے دور کر دیا ہے مگر یہ سلو پوائیزن کی طرح ہم میں رچ بس گیا ہے اور ہمیں آہستہ آہستہ نقصان اور بربادی کی طرف لیجا رہا ہے، اور اِس کا علاج صرف اپنا مُحاسبہ ہے اور اِس سے بھی آسان یہ کے آپ اپنے موبائل کو اپنا ہتھیار اپنا مورچہ بنائیں ہر برائی کے خلاف، اِس لئے سب سے پہلے کون سا ٹب بھرے گا والی پوسٹ کر کے نا تو آپ کو کچھ حاصل ہوگا نا دوسروں کو، خُدارا ایک ذمہ دار شہری بنیں اللہ نے جو یہ زندگی آپ کو دی ہے اِسے ہر اُس بہتر کام میں صرف کریں ناں کے فضولیات میں ، سوشل میڈیا کو تفریح کا ذریعہ مت بنائیں،اس کا بہترین استعمال کریں اور آج کل مثبت استعمال یہ ہے آپ ففتھ جنریشن وار کے سپاہی بن جائیں اور دشمنوں کی پاکستان کے خلاف شروع کی جنگ میں ایک دوسرے کے ہاتھ میں ہاتھ ڈالے شانہ بشانہ لڑیں ، اس سے أپ کی ذات کو فائدہ ہوگا، اگر آپ ایسا کرتے ہیں تو یقین جانیئے آپ کو ہندوستان اور بالی وڈ سے نفرت ہو جائے گی،
آپ عالمی سازشوں کو سمجھنے لگیں گے، وطن پرستی پروان چڑھے گی، آپ کے پاس فضول کاموں کے لیے وقت نہیں ہوگا ، آپ کے علم میں اضافہ ہوگا ، اسلام اور پاکستان کی مکمل تاریخ جاننے میں آپ کو مدد ملے گی۔ اِن شاء اللہ
اس لئے آئیے اور وطن کا دفاع کیجئے۔اگر آپ کسی پارٹی کے کارکن ہیں اور افواج پاکستان سے اپنے لیڈروں کی وجہ سے بغض میں مبتلا ہو گئے ہیں تو اس راہ پر آپ پر بہت حقائق آشکار ہوں گے ، آئیے اور سوشل میڈیا کا اپنے وطن کے لیے استعمال کیجئے، آپ کو لگے گا کہ آپ اپنا وقت برباد نہیں کر رہے آپ کا ضمیر مطمئن رہے گا۔کچھ لوگ کہتے ہیں سوشل میڈیا پر پاکستان کو دفاع کیسے کریں ہمیں سکھایا جائے۔
تو دوستو اگر آپ نئے ہیں تو جو لوگ پہلے سے کام کر رہے ہیں ان کا حوصلہ بڑھائیں ان کی پوسٹوں کو مختلف گروپس میں شئیر کریں، ٹویٹر پر ہیں تو کوئی اچھی بات ہے تو اُسے واٹس ایپ پر شیئر کریں، واٹس ایپ پر ہے تو فیس بک پر شیئر کیجئے۔۔۔۔ ہاں ایک بات اچھے سے ذہن نشین کرلیں کے یہ سوشل میڈیا اکثر و بیشتر آپ کو فیک نیوز جعلی خبریں بھی ملیں گی نظر آئیں گی مگر آپ نے یہاں ایک ذمہ دار پاکستانی سے پہلے نبیﷺ کی وہ حدیث یاد رکھنا ہے کے بنا تصدیق آپ نے وہ بات آگے نہیں پہنچانی جس کا آپ کو کوئی ثبوت نہیں ملا ہو ہاں اگر ثبوت ہیں تو شیئر ضرور کیجئے۔ دیکھیں آپ جب بہتری کی نیت سے خالص ہو کر کسی اچھے مقصد سے سوشل میڈیا کا استعمال کریں گے تب آپ کا ضمیر بھی پُر سکون ہوگا اور اِس جھوٹ کی جنگ جو ہم پر قومی اور مذہبی روایات پر ایک حملہ کی صورت مسلط ہے جسے ففتھ جنریشن وار کہا جاتا ہے آپ اِس کے گُمنام سپاہی بن جائیں گے ۔ اور آہستہ آہستہ آپ سب جان جائیں گے اِس ففتھ جنریشن وار کے بارے میں کے یہ کتنی گہری ضرب ہے ہے ہم پر اور ہمیں کیسے اِس نہ نظر آنے والی جنگ سے اپنی پاک سرزمین کو محفوظ بنانا ہے۔
آئیے اور سوشل میڈیا کا اپنے وطن کے لیے استعمال کیجیے۔ اللہ کریم ہمیں ہر برائی سے دور رکھے آمین
قربانی جذبہ بھی فریضہ بھی. تحریر:شمیل آعوان
قربانی سنت ابراہیمی ہے جو ہر سال ہم اہنا اولین فریضہ سمجھ کے اپناتے اور نبھاتے ہیں..
عید قربان نا صرف سنت ہے بلکہ یہ ایک ایسا درس ہے
جو ہماری زندگی کو ہمارے کردار کو بہت سوچنے پہ آمادہ کرتی ہے. اسلام نے کتنی خوبصورتی سے اس دن کو غرباء کے لیے بھی بہترین بنایا. اس قربانی کا اللہ پاک کی نظر میں سب سے بڑا فائدہ یہ ہے کہ وہ غرباء مساکین لوگ جو سارا سال شاید بکرے گاے کا گوشت کھانے خریدنے کی استطاعت نہیں رکھتے وہ اس دن پیٹ بھر کے کھانا کھاتے ہیں اور اللہ پاک اپنے بندوں کی خوشی میں ہی خوش ہوتے ہیں.
اس طرح قربانی کے گوشت میں بھی ان مستحقین کے باقاعدہ حصے طے کیے گئے ہیں تاکہ ان تک پہنچ سکے.
یہ قربانی نا صرف جانوروں تک محدود ہے یہ ہمیں درس دیتی ہے ایثار کا برابری کا احساس کا بندگی کا حقوق العباد کا جو کہ اللہ رب العزت کو بہت پسند ہے.
ہمارے معاشرے میں حقوق العباد تقریباً ناپید ہوتا جا رہا ہے مگر بحیثیت ابسان تو ہم کبھی مکمل ہونے کا دعویٰ کر ہی نہیں سکتے اگر کوئی ذات مکمل ہے تو وہ رب ذوالجلال کی ہے جو ہر سال حقوق العباد کو دہرابے اور یاد دہانی کروانے کو اس دن کو ہماری زندگیوں میں لاتا ہے اور ہم اس دن دل کھول کے ہر گھر میں استطاعت کے مطابق گوشت دیتے ہیں دروازے پہ آئے مساکین اور ضرورت مندوں کو بانٹ کر دلی سکون اور اللہ کا قُرب حاصل کرتے ہیں.قصہ مختصر یہ کہ…
وہی ذات ہے جو بے شک یقیناً سب جانتی ہے اور ہماری زندگیوں کو انسانیت کی خدنت کی طرف کب کیسے مائل کرتی ہے وہ وہی رب خود ہی جانتا ہے ہم بہت چھوٹے اور
گناہگار ہیں.
اللہ پاک اس موقع پہ بھی ہم انسانوں کو حقیقی جذبہ قربانی سے نواز دیں.
آمین
@shameel512









