Baaghi TV

Category: معاشرہ و ثقافت

  • نسل نوجواں کو درپیش خطرات  تحریر : محمد شفیق

    نسل نوجواں کو درپیش خطرات تحریر : محمد شفیق

    نوجوان نسل کسی بھی ریاست کیلیے ریڑھ کی ہڈی کی حیثت رکھتی ہے،نوجوان قوم کہ معمار ہوتے ہیں جن کے سر پر ملک کی تعمیر و ترقی کا انحصار ہوتا ہے۔
    انکی مثال ایک قیمتی اثاثے کی ہے جسے اگر نیکی ،ا چھائ اور ترقی کے کاموں میں بروئے کار لایا جائے تو یہ نعمت عظیم سے کم نہی ۔
    اور اگر یہی سرمایا شر اور فساد کے کاموں میں مشغول ہوجائے تو تباہی کا باعث بنتا ہے۔
    بد قسمتی سے ہماری نوجوان نسل تباہی کے کے دھانے پر ہے ۔نوجوانوں کی نوے فیصد آبادی بے راہ روی اور جرائم پیشہ سرگرمیوں کا شکار ہے جو کسی بھی ملک یا قوم کیلیے انتہائ سنگین مسلہ اور مقام فکر ہے کہ، ایسا کیوں ہے؟ ایسے کونسے اسباب ہیں؟
    جو ہمارے سنہرے مستقبل کو تاریکی میں تحلیل کر رہے ہیں ۔
    نسل نوجواں کو درپیش خطرات میں سے کچھ بنیادی مسائی درج زیل ہیں

    سوشل میڈیا نے زندگی کو بہت آسان بنادیا ہے ،میلوں کے فاصلے کو سیکنڈز میں بدل دیا ہے ۔ہر قسم کی معلومات صرف ایک ٹچ کی دوری پہ ہے لیکن وہیں اس کے بہت سے نقصانات بھی ہیں
    کافی عرصے سے سوشل میڈیا کا استعال خطرناک حد تک تجاوز کر چکا ہے،
    اور بلخصوص نوجوان نسل کیلیے یہ نشے کی حیثیت اختیار کر چکا ہے۔جس طرح نشہ کرتے ہوئے دماغ انسانی کا مخصوص حصہ Nucleus accumblance فوران ایکٹو ہوتا ہے بلکل اسی طرح جب کوئ بھی صارف سوشل میڈیا استعمال کر رہا ہوتا ہے تو دماغ کا یہ حصہ ایکٹو ہوجاتا ہے اور انسان سوشل میڈیا کہ نشے میں بری طرح جکڑا جاتا ہے ۔کسی بھی سکرین چاہے موبائل ہو یا لیپ ٹاپ کا مسلسل اور دیرپا استعمال نا صرف انسانی صحت کو متاثر کرتا ہے بلکہ انسان کو حقیقی دنیا سے نکال کر خیالی دنیا میں پھینک دیتا ہے۔

    نوجوان نسل کی مثبت تعلیم و تربیت کا پہلا زریعہ والدین اور پھر مختلف درجات کی تعلیمیی درسگاہیں ہیں۔ جو ایک معمولی انسان کو ایک جوہر شناس جواھر کی طرح تراش کر ھیرے میں ڈھال دیتی ہیں
    لیکن انتہائ افسوسناک امر ہے کہ آجکل تعلیمی درس گاہیں نوجوانوں کے مستقبل سے کھیلتی نظر آتی ہیں ۔تعلیمی اداروں میں فحاشی ،جنس پرستی اور سگریٹ سے لیکر ہر قسم کے نشہ کی نا صرف کھلی آزادی بلکہ تمام سہولیات موجود ہیں ۔ عریانیت اور بیہودہ ڈانس پارٹیوں کو ماڈرن ازم کا نام دیکر تعلیم کا حصہ بنایا جا رہا ہے۔ وہ استاد جسے روحانی باپ کا درجہ دیا جاتا ہے طلبہ کے ساتھ اس قدر شرمناک فعال میں ملوث پایا جاتا ہے کہ انسانیت شرما جاتی ہے ۔اگر اس نظام تعلیم کو تبدیل نہی کیا گیا اس کے خلاف کاروائ نہی کی گئی تو وہ وقت دور نہی جب ہماری تعلیمی درسگاہوں کو فحاشی اور نشے کے اڈو کا نام دیا جائے گا

    نوجوان نسل کو در پیش خطرات میں سے تیسرا بڑا اور اہم خطرہ فحش ویبسائٹس کا استعمال ہے
    نوجوان نسل اس گھٹیا نشے میں اسقدر غرق ہو چکی ہے کہ وہ فحش مواد دیکھتے دیکھتے خود اسکا حصہ بن چکی ہے ،
    اس کی سب سے بڑی وجہ اس قسم کے مواد کی آسانی سے دستیابی ہے۔لمحہ فکریہ ہے کے 8 سال کے بچے سے لیکر 16 سال کے نوجوان تک نوے فیصد لوگ فحش مواد دیکھنے والوں کا حصہ ہیں۔فحش مواد نا صرف اخلاقی طور پہ تباہ و برباد کرتا ہے صحت کو انتہائ بری طرح متاثر کرتا ہے بلکہ اس نے رشتوں کے تقدس کو بھی بری طرح پامال کر کے رکھ دیا ہے۔

    نوجوان نسل کی تباہی کی اور بے راہ روی کی ایک اہم وجہ بےروزگاری اور وسائل کی عدم دستیابی بھی ہے۔ اعلی تعلیم کے باوجود جب نوکری نہی ملتی تو نوجوان چور راستے اختیار کرتے ہیں اور ہر قسم کا جرم چاہے وہ ڈاکہ زنی ہو یا عصمت زنی کرنے میں خود کو حق بجانب سمجھتے ہیں ۔
    روزگار کا نا ملنا ایسا عفریت ہے جو صرف پسماندہ ممالک ہی نہی بلکہ ترقی یافتہ مما لک کو بھی تباہ کرنے کی صلاحیت رکھتا ہے۔

    ان تمام عوامل اور خطرات سے نوجوان نسل کے متاثر ہونے میں والدین بھی برابر کے زمہ دار ہیں۔ نسل نوجواں کو اچھے برے کی تمیز سکھانا ،اس کی ہر حرکت پہ نظر رکھنا والدین کی زمہ داری ہے ،پہلی درسگاہ ماں کی گود ہوتی ہے، لیکن آج کل کے والدین ہر عمل کو معاشرے کے سر ڈال کر خود بری الزماں ہو جاتے ہیں جو کہ سراسر خود کو دھوکہ دینے والی بات ہے ۔

    نوجوان نسل کو ،اپنے ملک کے معماروں کو اور اپنے ملک کو تباہی سے بچانا ہے تو مل کر ان سب عوامل کا حل سوچنا ہوگا
    @IK_fan01

  • شادی میں تاخیر کی وجوہات اور سماجی مسائل – آصف گوہر

    شادی میں تاخیر کی وجوہات اور سماجی مسائل – آصف گوہر

    شادی میں تاخیرکی وجوہات اور سماجی مسائل
    تحریر: آصف گوہر

    قرآن کریم میں ارشاد باری تعالی ہے ۔

    "تم میں سے جو مرد عورت بےنکاح کے ہوں ان کا نکاح کر دو اور اپنے نیک بخت غلام اور لونڈیوں کا بھی۔ اگر وه مفلس بھی ہوں گے تو اللہ تعالیٰ انہیں اپنے فضل سے غنی بنا دے گا۔ اللہ تعالیٰ کشادگی واﻻ اور علم واﻻ ہے.”
    سورة النور 32
    ہمارے ہاں بچوں کی شادیوں میں تاخیر کی جو سب سے بڑی ایک وجہ ہے وہ بچہ ابھی پڑھ رہا ہے تعلیم مکمل نہیں کی اگر تعلیم مکمل ہوچکی ہے تو ابھی ملازمت کی تلاش ہے۔ہم نے اپنے بچوں کو تعلیم اور روزگار کے چکر میں ایسا پھنسایا ہوا ہے کہ شادی کرنے کی جو اصل عمر ہوتی ہے وہ کب کی گزر جاتی ہے جس سے نوجوانوں میں کئ طرح کے نفسیاتی اور سماجی مسائل پیدا ہوتے ہیں جن کا سامنا اکثر معاشرے کو کرنا پڑتا ہے۔ شادی کے بعد بھی تعلیم مکمل کی جاسکتی ہے اس میں کوئی ممانعت نہیں ہے اور رزق کا وعدہ اللہ سبحان و تعالی کا ہے۔ اللہ نکاح کے بعد رزق دروازے کسی پر بند نہیں کرتا۔
    تعلیم اور روزگار میسر آجانے کے بعد دوسرا مرحلہ جو بچوں کی شادی میں مزید تاخیر کا باعث بنتا ہے وہ آئیڈیل بہترین اور ہم پلہ جیسے حیلے ہیں والدین کی کوشش ہوتی ہے کہ بڑی جگہ ہاتھ مارا جائے لڑکے والوں کو اپنے چاند کے لئے لمبے قد والی سمارٹ اعلی تعلیم یافتہ گورے رنگ اور ایسی لڑکی کا رشتہ درکار ہوتا ہے جس کے زیادہ بہن بھائی بھی نہ ہوں چاہے انکا اپنا چاند گرہن زدہ ہی کیوں نہ ہو ان کو لڑکی ماڈل کی طرح ہر لہذا سے مکمل ہی کی طلب ہوتی ہے اور اس آئیڈیل کی تلاش میں بچوں کی عمر میں کئ سال کا اضافہ ہوجاتا ہے۔
    برسر روزگار کمانے والی لڑکیوں کی شادی میں بھی اکثر والدین تاخیر کرتے ہیں کیونکہ بچی اپنے والدین کے لئے آمدنی کا ذریعہ بنی ہوتی ہے اور اس کی آمدنی سے چھوٹے بہن بھائیوں کے تعلیمی یا دیگر اخراجات پورے ہو رہے ہوتے ہیں ۔ اور ہمارے معاشرے اور کلچر میں یہ رواج نہیں کہ بچے اپنی شادی کا مطالبہ والدین کے سامنے پیش کریں
    اور یوں اسطرح کی بچیاں اور بچے نظر انداز ہوتے رہتے ہیں اور شادی کی عمر گزار بیٹھتےہیں ۔
    شادی میں تاخیر کا شکار ہونے والے نوجوان اور افراد اپنی فطری اور جسمانی ضرورت کے لئے کیا کرتے ہیں اور اس کے کیا نتائج سامنے آتے ہیں میں اس پر گفتگو نہیں کروں گا۔
    جن نوجوانوں شادیاں لیٹ ہوتی ہیں انکی تولیدی صلاحیت میں کمی فطری بات ہے ۔
    لیٹ شادی والے والدین کے بچے ابھی چھوٹے ہی ہوتے ہیں کہ وہ بڑھاپے کی دہلیز پر قدم رکھ چکے ہوتے ہیں اور اکثر بچوں کی تعلیم مکمل ہونے سے قبل ہی وفات پا جانے ہیں یا کسی مرض میں مبتلا ہوجاتے ہیں اور اپنی اولاد کی خوشیوں میں شامل ہونے یادیکھنے سے قبل ہی وفات پا جاتے ہیں ۔
    ہمیں اس روش کو بدلنے کی ضرورت ہے والدین اپنے بچوں کی شادیوں میں تاخیر نہ کریں اسطرح ان کے بچے کئ نفسیاتی معاشرتی اور سماجی مسائل سے محفوظ ہو جائیں گے یقینا اس کا اثر معاشرے پر بھی پڑے گا اور بے رہ راوی اور جنسی جرائم میں بھی کمی آئے گی۔

    مضمون نگار ایک فری لانس صحافی، بلاگر اور معروف ماہر تعلیم ہیں۔ سیاسی امور پر بھی عمیق نظر رکھتے ہیں۔ حکومتی اقدامات اور ترقیاتی منصوبوں بارے بہت اچھی اور متناسب رپورٹنگ کرتے ہیں۔ ایک اچھے ایکٹوسٹ کے طور پر سوشل میڈیا پر جانے جاتے ہیں۔ ان کا پرسنل اکاؤنٹ ضرور ملاحظہ فرمائیں۔ آصف گوہر @Educarepak

  • دہرا معیار – توقیر عالم

    دہرا معیار – توقیر عالم

    دہرا میعار
    تحریر : توقیر عالم

    ہم پاکستانی بحثیت قوم جس زوال کا شکار ہیں اس کی بنیادی وجوہات میں سے ایک وجہ ہمارا دہرا میعار ہے حدیث نبوی ہے ” تم میں سے کوئی شخص اُس وقت تک کامل ایمان والا نہیں ہوسکتا جب تک کہ اپنے بھائی کے لیے وہی چیز پسند نہ کرے جو وہ اپنے لیے پسند کرتا ہے ”
    اگر ہم اپنے اردگرد نظر دوڑائیں تو آپ کو اس بات کا بخوبی اندازہ ھو گا کہ ہمارا میعار اپنے مفادات اور ترجیحات کی بنیاد پر بدل جاتا ھے
    سارا دن ٹھنڈے کمرے میں بیٹھنے والا افسر شام کو واپسی پر چند منٹ کی گرمی برداشت نہیں کر پاتا اور سخت گرمی کے سٹیٹس لگاتا ہے مگر اپنے نیچے سخت گرمی میں کام کرنے والے مزدور کو چند منٹ سکون کرتا دیکھ کر برہم ھو جاتا ہے
    خدا سے دن میں پانچ وقت نماز میں رحم اور کرم کی دعا مانگنے والا امید رکھتا ہے خدا اسے معاف کرے مگر خود نہ تو کسی دوسرے انسان کو معاف کرنا گوارہ کرتا ہے نہ ہی کسی کے عیب چھپاتا ہے الٹا اس کے جہنمی ھونے کے فتوے جاری کرتا ہے کیا معلوم اس انسان کی کونسی ادا بارگاہ خداوندی میں مقبول ھو جائے اور بخشش کا وسیلہ بن جائے ایسے ہی اگر آپ کہیں مہمان جا رہے ہیں تو جان لیں آپ کی عزت اور مہمان نوازی آپ کی مالی حیثیت کے مطابق کی جائے گئی اب تو غریب بھائی سے تعلق منقطع کر لیا جاتا ہے اور امیر دوستوں کو بھائی بنا لمیا جاتا ہے
    نظام عدل کی بات کی جائے تو انصاف کا میعار آپ کی مالی حیثت طے کرے گی اگر آپ غریب ہیں تو سمجھ لیں جمع پونجی اور وقت برباد ھو گا مگر انصاف ملنے کی امید بہت کم ہے اگر آپ صاحب حثیت ہیں تو خوش خبری ہے آپ کو بہت جلد انصاف مل جاے گا بلکہ آپ کی مالی حالت کے حساب سے بہت زیادہ بھی مل سکتا ہے اگر آپ سابقہ وزیر اعظم ہیں تو آپ کو اربوں روہے کی کرپشن کے الزامات کے باوجود عدالت کے ذریعے لندن جانے کی اجازت مل جاتی ھے البتہ اگر آپ غریب صلاح الدین ہیں تو پولیس کی حراست میں مارے جائیں گے
    ہماری صحافت میں دوہرے میعار کی بہت سی مثالیں پیش کی جا سکتی ہیں ابھی چند روز پہلے دو صحافیوں پر تشدد کیا گیا اک صحافی کی بھرپور حمایت کی گئی جبکہ دوسرے صحافی کے معاملے میں خاموشی اس بات کا منہ بولتا ثبوت ہے کہ ہمارا میعار اخلاقیات نہیں اپنے تعلقات ہیں آج عیدالضحیٰ کے موقع جب تمام مسلمان اللہ کی راہ میں جانور قربان کر رہے ہیں تو سارا سال کے ایف سی میکڈونلڈ نہاری اور بریانی کھانے اور ان کی مشہوری کرنے والے صحافی ہمیں جانوروں کی قربانی سے باز رہنے کی تلقین فرما رہے ہیں
    سیاست میں بھی معاملہ کچھ مختلف نہیں کرونا سے بچنے کی تدابیر کے بارے میں میڈیا پر آگاہی مہم میں حکومت اور اپوزیش بھرپور طریقے سے حصہ لیتی ہے مگر پھر پی ڈی ایم کے پورے پاکستان میں جلسے اور ان میں احتیاطی تدابیر کو مکمل طور پر نظر انداز کیا جاتا ہے گلگت بلتستان اور کشمیر کے الیکشن میں حکومت اور اپوزیشن نے انسانی جانوں کی پرواہ کئیے بغیر بیسیوں جلسے کئیے اور ان میں کسی احتیاطی تدبیر کا خیال نہیں رکھا گیا
    ضیاالحق کے دور حکومت میں جہاد کو حکومتی سطح پر بھرپور تعاون حاصل رہا اور افغانستان میں روس کو شکست دی گئی مجاھدین ہمارے ہیرو قرار پائے
    وقت اور حالات بدلے اور انہیں مجاھدین کو دہشتگرد قرار دے دیا گیا مجاھدین کے خلاف بیس سال تک امریکہ کی مدد کی گئی وقت نے ایک بار پھر کروٹ بدلی امریکہ رات کی تاریکی میں افغانستان سے نکل بھاگا اور مجاھدین پھر سے ہمارے محسن اور ہیرو قرار پائے افغانستان میں طالبان کی فتح پر خوشیاں منانے والی پاکستانی حکومت خود پاکستان میں جماعت الدعوۃ اور تحریک لبیک جیسی مذہبی تنظیموں پر پابندی لگا چکی ہے اور ان کی قیادت پابند سلاسل ہے کشمیر و فلسطین پر آواز بلند کرنے والے چین کے اویغور مسلمانوں کے حق میں ایک بیان تک نہیں دے سکے
    الغرض ہمارے مفادات اور ترجیحات کے باعث ہمارے میعار بدل جاتے ہیں
    خدا ہم سب کو حق اور سچ کا ساتھ دینے کی توفیق عطا کرے۔

    پاکستان کے حالات اور امید کی کرن
    توقیر عالم

    توقیر عالم ایک پر امید فری لانس رائٹر ہیں۔ ان کی تحاریر ملک عزیز کے نمایاں پہلوؤں کو اجاگر کرتی ہیں۔ ان کے ذاتی ٹویٹر اکاؤنٹ پر وزٹ کریں۔
    @lovepakistan000

  • عید_قرباں اظہارِ قربت ہے اور شکر رب العالمین کا زریعہ ہے تحریر: انجینئر مدثر

    عید_قرباں اظہارِ قربت ہے اور شکر رب العالمین کا زریعہ ہے تحریر: انجینئر مدثر

    عید قرباں ہے ہر سو ہر جگہ اسی کی برکتیں دکھائی دیتی ہیں. کہیں بکروں کی رونقیں تو کہیں بچھڑوں کے پاؤں میں بندھے کھنکتے گھنگطروں کی چھنکاریں ہیں. کہیں عید کی نماز کے بعد قربانی شروع تو کہیں قصائی کا انتظار جاری ہے.
    اس سب کشمکش میں ایک اہم کام جو کرنے کا ہے اور جو عید کے مقاصد میں سے ایک ہے وہ ہے خوشیاں بانٹنا اور گلے شکوے بھلا کر پھر سے متحد ہونا. ٹوٹے تعلقات کی از سرنو بحالی اور کمزوروں کا احساس.

    *قربانی کے گوشت کو تین حصوں میں تقسیم کرنے کے پیچھے مقصد بھی تو یہی ہے.*
    اپنے حصے کے بعد رشتاداروں اور دوست احباب کو جو حصہ دیا جاتا ہے یہ وہ تحفہ ہوتا ہے جو پرانی رنجشوں کو مٹانے اور از سر نو رشتوں کی تکمیل کے لیے انتہائی کارآمد نسخہ ہے

    *بلا شبہ شریعت کی ہر ایک چیز میں بھلائی ہی بھلائی ہے*
    رشتہ داروں میں سے ٹوٹے دلوں پر مرہم رکھنا عید کے کاموں میں اہم کام ہے.
    تیسرا حصہ غریبوں مسکینوں اور ان لوگوں کے نام جو قربانی میں شریک ہو کر اپنی قربانی نا کر سکے. دیں اسلام کی خوبصورتی ہی یہی ہے ہر کسی کو خوشیوں میں شامل کرنے کی ترغیب دیتا ہے. تاکہ کسی کے دل میں مفلسی یا مجبوری کا خیال تک نا رہے اور ہر مسلمان خوشی خوشی عید کی خوشیاں منا سکے. غریبوں کا غریب ہونا ان کا اپنا اختیار ہرگز نہیں یہ تو اللہ رب العزت کی تقسیم ہے جسے چاہے امیری دے اور جسے چاہے غریبی. جسے چاہے مں کی امیری اور خرچ کرنے کا جزبہ دے اور جسے چاہے من کی غریبی اور کنجوسی.
    اگر ہم فراغ دلی کا مظاہرہ کریں تو رب تعالیٰ پسد فرمائے گا اور مزید برکتیں عطا فرمائے گا.
    اللہ رب العزت نے اپنی پاک کتاب میں ارشادفرمایا.
    سورۃ ابراہیم آیت نمبر 7.
    وَ اِذْ تَاَذَّنَ رَبُّكُمْ لَىٕنْ شَكَرْتُمْ لَاَزِیْدَنَّكُمْ
    اور یاد کرو جب تمہارے رب نے اعلان فرمادیا کہ اگر تم میرا شکر ادا کرو گے تو میں تمہیں اور زیادہ عطا کروں گا
    حضرت عبد اللّٰہ بن مسعود رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہُ سے روایت ہے،سرکارِ دو عالَم صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ نے ارشاد فرمایا ’’جسے شکر کرنے کی توفیق ملی وہ نعمت کی زیادتی سے محروم نہ ہو گا کیونکہ اللّٰہ تعالیٰ نے ارشاد فرمایا ہے ’’ لَىٕنْ شَكَرْتُمْ لَاَزِیْدَنَّكُمْ‘‘ یعنی اگر تم میرا شکر ادا کرو گے تو میں تمہیں اور زیادہ عطا کروں گا۔ جسے توبہ کرنے کی توفیق عطا ہوئی وہ توبہ کی قبولیت سے محروم نہ ہو گا کیونکہ اللّٰہ تعالیٰ نے ارشاد فرمایا ہے’’وَ هُوَ الَّذِیْ یَقْبَلُ التَّوْبَةَ عَنْ عِبَادِهٖ‘‘ یعنی اور وہی ہے جو اپنے بندوں سے توبہ قبول فرماتا ہے ۔ (در منثور، ابراہیم، تحت الآیۃ: ۷، ۵ / ۹)

    (2)… حضرت نعمان بن بشیر رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہُ سے روایت ہے، حضورِ اقدس صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ نے ارشاد فرمایا ’’جو تھوڑی نعمتوں کا شکر ادا نہیں کرتا وہ زیادہ نعمتوں کا بھی شکر ادا نہیں کرتا اور جو لوگوں کا شکر ادا نہیں کرتا وہ اللّٰہ تعالیٰ کابھی شکر ادا نہیں کرتا اوراللّٰہ تعالیٰ کی نعمتوں کو بیان کرنا شکر ہے اور انہیں بیان نہ کرنا ناشکری ہے۔ (شعب الایمان، الثانی والستون من شعب الایمان۔۔۔ الخ، فصل فی المکافأۃ بالصنائع، ۶ / ۵۱۶، الحدیث: ۹۱۱۹)

    (3)…حضرت حسن رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہُ فرماتے ہیں ، مجھے یہ حدیث پہنچی ہے کہ اللّٰہ تعالیٰ جب کسی قوم کو نعمت عطا فرماتا ہے تو ان سے شکر ادا کرنے کا مطالبہ فرماتا ہے، جب وہ شکر کریں تو اللّٰہ تعالیٰ ان کی نعمت کو زیادہ کرنے پر قادر ہے اور جب وہ نا شکری کریں تو اللّٰہ تعالیٰ ان کو عذاب دینے پر قادر ہے اور وہ ان کی نعمت کو ان پر عذاب بنا دیتا ہے۔ (رسائل ابن ابی دنیا، کتاب الشکر للّٰہ عزّوجلّ، ۱ / ۴۸۴، الحدیث: ۶۰)

    (4)…سنن ابو داؤد میں ہے کہ رسول اکرم صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ نے حضرت معاذ بن جبل رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہُ کو ہر نماز کے بعد یہ دعا مانگنے کی وصیت فرمائی ’’اَللّٰہُمَّ اَعِنِّیْ عَلٰی ذِکْرِکَ وَشُکْرِکَ وَحُسْنِ عِبَادَتِکَ‘‘ یعنی اے اللّٰہ ! عَزَّوَجَلَّ، تو اپنے ذکر، اپنے شکر اور اچھے طریقے سے اپنی عبادت کرنے پر میری مدد فرما۔ (ابو داؤد، کتاب الوتر، باب فی الاستغفار، ۲ / ۱۲۳، الحدیث: ۱۵۲۲) اللّٰہ تعالیٰ اپنے فضل سے ہمیں کثرت کے ساتھ اپنا ذکر اورشکر کرنے کی توفیق عطا فرمائے اوراپنی نعمتوں کی ناشکری کرنے سے محفوظ فرمائے ، اٰمین۔([1])
    عید ہمارے لیے پیغام محبت لاتی ہے. لہٰذا محبت بانٹیں. گوشت کے ساتھ ساتھ مخلصی کو فروغ دیں. رشتوں میں پیار بڑھائیں. اپنی شادی شدہ بہن بھائیو کے گھر ضرور جائیں عید کی خوشیوں کو گقشت کے ساتھ تقسیم کریں. اپنے بچوں میں اپنے رشتہ داروں کی محبت کو پروان چڑھائیں. ان کے دلوں میں بڑوں کی تعظیم کا بیج بوؤیں.

    یتیم اور مسکین سے شفقت والا معاملہ کریں. ایسا نہ ہو کہ آپ کا اندازِ تقسیم کسی کے لئیے باعثِ تقلیف بن جائے. عید خوشیاں بانٹنے کا نام ہے اس لئے اس کے اصل مقصد کو ملحوظ خاطر رکھا جائے. کیونکہ یہ رضا الہی کے لیے قربانی کی جاتی ہے تو رضا الہی والے اعمال سے ہی اس عید کو منائیں. ٹوٹے تعلق جوڑیں محلے داروں رشتہ داروں دوستوں یاروں اپنے پیاروں میں خوشیاں بانٹیں. دکھ مٹائیں. احساس اور نرمی والا معاملہ کریں اور عید منائیں.

  • دیسی لبرلز کا دیسی فیمنزم تحریر: چوہدری یاسف نذیر

    دیسی لبرلز کا دیسی فیمنزم تحریر: چوہدری یاسف نذیر

    پاکستان میں فیمینزم یا لبرل ازم کی بابت بہت کچھ پڑھا ،سنا اور دیکھا جس کے بعد اس نتیجہ پر پہنچا ہوں کہ یہ محض کچھ آزاد خیال عورتوں کے کھیل ،تماشا ،تفریح اور کچھ ذاتی مقاصد کے لیے رچایا گیا ایک ڈھونگ ہے جو نہ کسی تحریک کی تعریف پر پورا اترتا ہے اور نہ یہاں حقیقی مسائل زیر بحث ہیں

    ‎پاکستان میں موجود نام نہاد عورتوں کا حقیقت میں فیمینزم سے دور دور تک کوئی تعلق ہی نہیں ۔یا یوں کہئے کہ انکو فیمینزم کا مطلب ہی نہیں پتہ ۔ انہیں بس اپنی ناجائز خواہشات کی تکمیل فییمنزم کی آڑ میں کرنی ہے ۔ اس لئے انکی فیمینزم بے ہودگی سے شروع ہو کر اسلام دشمنی پر ختم ہو جاتی ہے

    ‎اگر پاکستان میں موجود دیسی لبرلز خواتین کی خیر خواہ ہوتی تو انکے اصل حقوق کے لیے آواز بلند کرتی ۔ انکے مطالبات میں سرفہرست عورتوں کے بنیادی حقوق کے لیے آواز اٹھانا ہوتا ، عورتوں کو غیرت کے نام پر قتل نہ کیا جائے اس سے متعلق عملی اقدامات اٹھاے جاتے ، انہیں آزادی اظہار راے کا حق حاصل ہو، انکو اپنا شریک حیات چننے کی مکمل آزادی ہو، اس سے متعلق بحث و مباحثے کئے جاتے ۔انہیں علم حاصل کرنے کی اجازت ہو اسلامی نقطہ نظر سے اسکے حوالہ دے کر لوگوں میں شعور بیدار کیا جاتا۔ عورتوں کو جہیز کی بجائے وارثت میں انکا مکمل حق دیئے جانے سے متعلق بات کی جاتی لیکن پاکستان میں موجود برائے نام فیمینسٹ ان مسائل پر بات کرتے کبھی نظر نہیں آتے۔

    ‎ان نام نہاد فیمینسٹ کا اصل مقصد اپنی خواھشات کی تکمیل ، مغربی ایجنڈے کو فروغ دینا ، اور اسلامی اقدار کو مجروع کرنا ہے۔ جس یورپ کی گردان الاپ کر یہ نام نہاد فیمینسٹ عورتوں کی آزادی کی بات کرتی ہیں آئیے ایک نظر یورپ میں عورتوں کی اس آزادی پر بھی کرتے ہیں ۔ یورپ میں آج عورت آزاد ہے عورت کے جسم پر عورت کی مرضی ہی چلتی ہے لیکن کیسے مرضی چلتی ہے اس کے بارے میں آپ بخوبی جانتے ہیں

    ‎عورت وہاں گھر کی نہیں بلکہ کلبوں کی، شراب خانوں کی، جوے کے اڈوں کی فحاشی کے اڈوں کی، دوستوں کی محفلیں میں تحفے کے طور پر پیش کرنے کی حد تک رہ گئی ہے اگر نہیں رہی تو گھر کی نہیں رہی۔ جب سے عورت نے میرا جسم میری مرضی کا نعرہ لگایا ہے یورپی معاشرے میں عورت صرف استعمال کی حد تک رہ چکی ہے نہ عورت ماں ہے نہ بہن ہے نہ بیوی ہے نہ بیٹی ہے بلکہ جس رشتے میں جہاں ملے اسے استعمال کرو، یورپ کی گلیوں میں شام کے بعد یہی آزادی پسند عورتیں بازاروں میں ٹھہری میرا جسم میری مرضی کرتی ہیں اور وہی بھیڑیے جو انہیں آزادی اور حققوقِ نسواں کے نام پر آزاد خیالی کا درس دیتے تھے وہ انہی خواتین کو اپنی ہوس کے لیے استعمال کرکے گھر سے باہر پھینک کر سو جاتے ہیں۔ آزادی آزادی کرتی یورپی خواتین کو یورپ میں اس قدر بےدردی سے استعمال کیا گیا کہ اب وہاں کے مرد عورت کی بجائے کتے اور گدھے سے تعلقات تو قائم کرنا چاہتے ہیں مگر عورت سے اکتا چکے ہیں کیونکہ وہاں عورت کی قیمت ایک جنسی کھلونے سے ذیادہ کچھ نہیں۔

    ‎آج پاکستان میں چند آزاد خیال عورتیں اسی یورپ کی آزادی کو پاکستان میں لانا چاہتی ہیں کہ عورت مرد کے تحفظ سے آزاد ہو کر استعمال ہو اسے اس کا جسم اسکی مرضی کا ایک جھوٹا نعرہ پکڑا کر گلی گلی چوراہے ذلیل کیا جائے

    ‎جسے اللہ پاک نے شادی جیسے ایک مقدس رشتے میں باندھ کر ایک شوہر تک ہی محدود کرکے محفوظ کردیا وہ عورت ہر گندی نظر کا شکار ہو وہ ایک شوہر کی بجائے ہر مرد سے استعمال ہو یہ ہے ان پاکستانی فیمینیسٹ کی سوچ اور انکے مقاصد ۔۔۔

    ‎پاکستانی مہذب معاشرہ اپنی خواتین کو مکمل عزت و احترام سے نوازتا ہے دین اسلام پر عمل پیرا ہوتے ہوے عورت کو وه تمام حقوق حاصل ہیں جنکا تصور ہی دین اسلام سے پہلے ممکن نہیں تھا ۔ ہمارا مذہب اور معاشرہ ہی عورت کی حفاظت اور اسکی عزت و تکريم کا باعث ہے جس کو تباہ کرنے کے لیے یہ تمام نام نہاد عورتیں اپنے مقاصد کو پورا کرنے کے لئے عمل پیرا ہیں۔

    Chaudhry Yasif Nazir

    Chaudhry Yasif Nazir is digital media journalist, Columnist and Writer who writes for baaghitv.com . He raises social and political issues through his articles, for more info visit his twitter account

    Follow @IamYasif

  • اس دنیا میں کچھ بھی ناممکن نہیں تحریر: شعیب

    اس دنیا میں کچھ بھی ناممکن نہیں تحریر: شعیب

    دوست کسی نے کیا خوب کہا تھا کہ حرف حرف رٹ کر بھی آگاہی نہیں ملتی آگ نام رکھ لینے سے روشنی نہیں ملتی آدمی سے انسان تک آؤ گے تو سمجھو گے کہ کیوں چراغ کے نیچے روشنی نہیں ملتی اور کہتے ہیں کسی نے سو سالہ بزرگ سے پوچھا زندگی میں خوشی کو کیسے پایا جائے تو اس بزرگ نے بہت ہی پیارا جواب دیا جتنا پاس ہے اسے کم دکھاوا کرو اور جتنا جانتے ہو اسے کب بولا کرو زندگی ہنسی خوشی گزر جائے گی آج کے دور میں تو لوگ ہر ایپ کو اپ ڈیٹ کرتے ہیں مگر کبھی کوئی اپڈیٹ کرنے کی بات کرتا ہے تو لوگ اس کا مذاق اڑاتے ہیں اور یہی اس دنیا کی کڑوی سچائی ہے

    لوگ بڑی سوچ سوچنے والوں کی باتوں پر یقین کرنے کی بجائے ان کا مذاق اڑانے لگ جاتے ہیں اس لئے تو بڑا سوچنے والے ہی بڑا کر کے جاتے ہیں جبکہ چھوٹی سوچ رکھنے والے صرف مذاق بناتے ہی رہ جاتے ہیں آج سے چالیس سال پہلے اگر کوئی سمارٹ فون کی بات کرتا تو لوگ اس کا مذاق اڑاتے کہ ایسا ممکن ہی نہیں کہ کوئی ڈیوائس ٹچ کرنے سے چلی تصویر بھی کیپچر کریں کال بھی کروائے ایس ایم ایس بھی بھجوائے ویڈیو بھی دکھائے اور ویڈیو کال بھی کروائیں پوری دنیا میں سے کہیں سے بھی انفارمیشن اکٹھی کرکے آپ تک پہنچ جائے ایسا ناممکن ہے مگر آج سب کچھ آپ کے سامنے ہے لوگوں نے جتنا کہا کہ نہیں ہوسکتا اتنی بار بڑے لوگوں نے وہ کر کے دکھایا اس لئے ایک بات ذہن میں باندھ لیں اس دنیا میں کچھ بھی ناممکن نہیں ہے اور کہتے ہیں اللہ نے انسان کو رنگنے کے لئے نہیں بلکہ ایک باعزت باوقار زندگی گزارنے کے لیے پیدا کیا ہے اس لئے خود کو عزت دو محنت کرو اپنے خوابوں کو پورا کرنے کے لیے وقت دو خود کی عزت کرو کیوں کہ جب تک آپ خود کی عزت نہیں کریں گے تو کوئی بھی آپ کی عزت نہیں کرے گا اپنے دماغ میں منفی خیالات کی بجائے مثبت خیالات کو جگا دو اپنے مقصد کو وقت دو اور خود کو قبول کرو آپ کے ذہن میں آپ کا ایک خوبصورت اور من پسند سیلف امیج ہونا چاہیے یاد رکھیں کہ کوئی بھی انسان پرفیکٹ نہیں ہوتا انسان نے ہمیشہ مزید کچھ سیکھنے مزید اچھی کارکردگی دکھانے کی گنجائش
    @Shabi_223

  • عیدِ قربانی اور اس سے جڑی معیشت تحریر: حسان خان

    عیدِ قربانی اور اس سے جڑی معیشت تحریر: حسان خان

    ہر سال کی طرح اس سال بھی جوں جوں عید الاضحی کے دن نزدیک آ رہے ہیں شہر شہر نگر نگر مویشی منڈیاں سج رہی ہیں بھاو طے پا رہے ہیں جانوروں کی خرید و فروخت ہو رہی ہے۔ مسلمانوں کے اس عظیم تہوار پر اکثر مغرب میں ‘جانوروں کے حقوق’ کے نام پر تنقید ہوتی رہتی ہے تو آج ہم مذہبی تقاضوں سےہٹ کر معاشی پہلو سے عید الضحی کی اہمیت کا جائزہ لینگے اور جانوروںکے حقوق کے نام پر مغرب کی منافقت کو بھی بے نقاب کرنے کی کوشش کرینگے
    دنیا کے ہر خطے میں مسلمان پائے جاتے ہیں اور ان تمام خطے میں مسلمانوں سے زیادہ غیرمسلم عیدِ قربانی اور اس سے منسلک کاروبار سے منسوب ہیں۔ عید قربانی پر تقریباً تمام مسلمانوں تک گوشت ضرور پہنچتا ہے جس سے انکی پروٹین کی ضروریات پوری ہوتی ہیں۔ عید پر ناں صرف تمام آبادی تک گوشت پہنچانے کا زریعہ ہے بلکہ اس سے منسلک ہزاروں کاروبار سےلاکھوں لوگوں کا روزگار وابستہ ہے جس سے دنیا کی معیشت میں اربوں ڈالرز کا اضافہ ہوتا ہے۔چمڑہ جو برآمدات میں بہت اہم مقام رکھتا ہے برینڈڈ پرس ، جیکٹس اور جوتوں سمیت بہت سی قیمتی چیزیں اس سے بنتی ہیں۔ چمڑے کی صنعت کا دارومدار عیدِ قربانی پر پیدا ہونے والی کھالوں پر ہوتا ہے سینکڑوں کارخانوں میں لاکھوں جانوروں کی کھالیں لائی جاتی ہیں جن پر لاکھوں مزدور کام کرتے ہیں اور انکے سارے خاندان کی روزی روٹی چلتی ہے۔ عید قرباں سے اور کیا کیا کاروبار چلتے ہیں اور کیسے لوگوں کی زندگی میں خوشحالی آتی ہے اسکی مثال ہم اپنے ملک پاکستان سے لے لیتے ہیں۔ اقتصادی شماریے پاکستان کے مطابق سال 2016 میں پاکستان میں عید قربانی کے موقع پر 3.5 ارب ڈالر کا کاروبار ہوا جس میں مویشی کی خرید و فروخت میں 2.8 ارب ڈالر خرچ ہوئے جبکہ کپڑوں، جوتوں اور دیگر مصارف میں 700 ملین ڈالر کا لین دین ہوا۔ دیہاتوں میں لوگ سارا سال مویشی پالتے ہیں اور عید کے موقع پر اربوں ڈالر صاحب استطاعت مسلمانوں کی جیب سے نکل کر موشی پالنے والوں کی جیب میں آ جاتے ہیں جس سے ان لوگوں کا سارا سال کا خرچ نکل آتا ہے جبکہ 9 کروڑ جانور اللہ کی راہ میں ذبح کیے گئے
    امریکی جریدے کی رپورٹ کے مطابق ہر سال عیدِ قربانی کا حجم تقریباً 400 ارب ڈالر ہے دنیا کی معیشت میں 400 ارب ڈالر عید کے تین دنوں میں ڈالے جاتے ہیں جبکہ اس تمام کاروبار میں مسلمانوں سے زیادہ غیر مسلموں کا حصہ ہوتا ہے اور انکو فائدہ پہنچتا ہے.
    یہ تو ہو گئے عید الضحی کے اقتصادی پہلو اور اس سے ساری دنیا کو ہونے والے فائدے کی داستان اب ہم آتے ہیں عید الضحی کے خلاف بولنے والے مغرب کی منافقت پر۔۔
    ویسے تو سارا سال ہی مگر خاص طور پر عید کے قریبی دنوں میں جانوروں کے حقوق کی علمبردار کئی نام نہاد تنظمیں قربانی کو ظالمانہ اقدام کہہ کر اسکی مزمت کر رہی ہوتی ہیں اور عید الضحی پر پابندی کا مطالبہ ہر رہی ہوتی ہیں ان تمام تنظیموں سے میرا سوال ہے آپکو میکڈونلڈز کا روزانہ 300 جانور ذبح کرنا نظر نہیں آتا ؟ کے ایف سی سالانہ 75 کروڑ مرغیوں کو ظالمانہ طریقے سے مارتی ہے آپکو وہ نظر نہیں آتا ؟ سپین میں کھیل کے نام پر سالانہ ہزاروں بیلوں کو ظالمانہ طریقے سے قتل کیا جاتا ہے لاکھوں لوگ ان مناظر کو دیکھ کر قہقہے لگا رہے ہوتے ہیں اسی طرح نیپال میں بھی ہر پانچ سال بعد گدھیماں دیوی کیلئے لاکھوں جانوروں کی قربانی دی جاتی ہے جانوروں کے حقوق کی تنظیموں کا ان سب پر واجبی سی تنقید کر کے جانوروں کے حقوق کے نام پر مسلمانوں کے عظیم تہوار پر حملہ آور ہو جانا کس طور پر قابل قبول نہیں

  • دولے شاہ کے چوہے. تحریر: راحیلہ عقیل

    دولے شاہ کے چوہے. تحریر: راحیلہ عقیل

    سید کبیرالدین شاہ کا مزار گجرات شہر کے درمیان میں واقع ہے اس کی وجہ شہرت اس مزار پر پائے جانے والے چھوٹے سروں کے معصوم اور انتہائی مظلوم بچے بڑے ہیں آخر کیا وجہ ہے کیوں ہیں یہ بچے ایسے ؟

    کہا جاتا ہے جو تحقیق سے ثابت بھی ہوا ہے کہ جو جوڑے اولاد کی نعمت سے محروم ہیں وہ اس مزار پر آکر منت مانتے ہیں کہ انکے گھر جو پہلی اولاد پیدا ہوگئی چاہے وہ لڑکا ہو یا لڑکی اس کو مزار پر دیا جائے گا کون سی ماں ایسی ہوگئی جو اپنی پیٹ سے جنمی اولاد کو ایسی جگہ چھوڑ آئے جہاں ہر طرف مظلوم دکھائی دیتے ہوں ” لیکن کہا جاتا ہے کے جس نے منت پوری نا کی انکی دوسری تیسری اولادیں بھی چھوٹے سر والے شاہ دولے کے چوہے پیدا ہونگے حالانکہ بہت سے منتی بچوں کے سر نارمل بچوں جیسے تھے وہ کہیں سے چوہے نہیں لگتے تھے پھر بھی دل پر پھتر رکھ کر والدین کو اپنی اولاد مزار کے کرتا دھرتاوں کے حوالے کرنی پڑتی،دوسرا تاثر یہ ہے کہ یہ بچے بالکل نارمل ہوتے ہیں بھکاری مافیا ان بچوں کو اغوا کرتا ہے بچپن میں ہی ان بچوں کے سروں پر لوہے کے کنٹوپ یا آہنی پتریاں لگا کر رکھا جاتا ہے تاکہ ان کے سر چھوٹے رہ جائیں اور ان کی ذہنی نشوونما نہ ہوسکے تاکہ انہیں درگاہوں پر اور بازاروں میں دولے شاہ کے چوہے کے طور پر پیش کرکے بھیک منگوائی جائے، اکثر والدین اولاد کی ممتا میں مجبور ہوکر مزار کا رخ کرتے ہیں کے اپنی اولاد کو دیکھ سکیں مگر وہاں وہ بچے دوبارہ دکھائی نہیں دیتے سالوں بعد نظر ابھی جائیں تو پہچان میں نہیں آتے،

    امریکہ کے نیشنل ہیومن جینوم ریسرچ انسٹیٹیوٹ (NHCRI) نے چند سال پہلے اس معاملے پر تحقیق کی تھی اور اس تحقیق میں ان 33 پاکستانی گھرانوں کو بھی شامل کیا اکثر ماہرین کو کہنا ہے خاندان میں شادیاں کرنے سے ایسے بچے پیدا ہوسکتے ہیں مگر ابھی تک اس پر مکمل اتفاق نہیں ہوا، شاہ دولے کے چوہے تو ذہنی نشوونما رک جانے پر اپنا صحیح غلط پہچان نہیں پاتے مگر کیا آپ نے سوچا ہے کتنی سیاسی جماعتیں ہیں جو عوام کو اپنے مفاد کے لیے انکے ذہنوں کو خراب کرکے اپنے حساب سے چلا رہے کوئی کارکن اپنے لیڈر کے خلاف درست بات بھی سنا برداشت نہیں کرتا، مذہبی جماعتیں ہوں یا ملک دشمن ذہنوں پر ایسی کنٹوپ لگائی ہوئی ہے کہ مرنے مارنے کو تیار رہتے ہیں ایک آواز پر دنگے فساد جلاؤ گھیراؤ یہ ہیں اصل ذہنی بیمار لوگ جنکو صحیح غلط دکھائی نہیں دیتا شاہ دولے کے چوہے نا صحیح ایسے لوگ اپنی نسلوں کو بھی غلامی کی زنجیر پہنا کر چلے جاتے ہیں اور پھر کہتے ہیں ہم پڑھے لکھے باشعور لوگ ہیں

  • بغاوت کرو اس معاشرے کے خلاف !  تحریر: حسن ریاض آہیر

    بغاوت کرو اس معاشرے کے خلاف ! تحریر: حسن ریاض آہیر

    کبھی کبھی بغاوت بھی کرنی چاہیے، جو بغاوت کسی اچھے مقصد کے لیے کی جائے وہ غداری نہیں ہوتی۔ بغاوت کرنا بھی ہر انسان کے بس کی بات نہیں۔ کیونکہ باغیوں کو نظام اور معاشرہ کبھی قبول نہیں کرتا۔

    ذرا غور کریں ان باتوں پر !

    ہمارے معاشرے میں اگر عورت پر کوئی جھوٹا الزام لگا دیا جائے تو اس کو وہ ثابت کرتے اپنے کردار پر کئی دھبے لگا بیٹھے گی اور مرد جھوٹ ہی کیوں نا بولے عورت کی بانسبت اس پر زیادہ یقین کر لیا جاتا ہے۔
    آخر کیوں ؟
    کیوں ایسا ہے کہ مرد موبائل استعمال کریں تو عام بات ہے اور عورت کریں تو شک کی نظر سے دیکھا جاتا ہے ؟

    کیوں ایسا ہے کہ جائیداد ہمیشہ مرد یعنی بھائیوں میں تقسیم ہو گی اور بہن کا وراثت میں بھی کوئی حق نہیں ؟
    کیوں بیٹوں کو اعلیٰ تعلیم دلوائی جاتی ہے اور بیٹیوں کو مخصوص تعلیم دلوا کر انہیں گھر بٹھا لیا جاتا ہے ؟
    کہ یہ پڑھ کہ کیا کریں گی اس نے تو ویسے بھی اگلے گھر جانا ہے۔
    ہم مسلمان ہیں بےشک ہمیں کبھی وہ حد پار نا کرنی اور نا کرنے دینی ہے جو اسلام نے مقرر کی ہے۔ لیکن جو تم اس خود ساختہ نظام اور معاشرے کی گھٹیا سوچ کی زنجیروں میں جکڑ چکے ہو اس سے باہر نکلو اور عورت کو بھی کھلی فضا میں جینے کا حق دو وہ بھی انسان ہے۔ اس کو پابندیوں کی ایسی زنجیروں میں نا جکڑ ڈالو کے سانس لینا بھی محال ہو جائے۔
    یہ نظام کب بدلے گا ؟
    جب ہم بدلیں گے تب بدلے گا !
    @HRA_07

  • عنوان : صرف 30 سال اور ہم    تحریر: سہیل احمد چوہدری

    عنوان : صرف 30 سال اور ہم تحریر: سہیل احمد چوہدری

    زیادہ دور جانے کی ضرورت نہیں بس 30 سال پیچھے کا چکر لگائیں
    زندگی کتنی خوش و خرم گزر رہی تھی چھوٹے بڑے اپنے دائرے میں رہ کر چل رہے تھے.ادب و احترام کا انحصار تربیت پر سوال اٹھانے سے بچاتا تھا.علاقےیں کچھ ایسی بیٹھک بھی ہوا کرتیں تھیں جہاں مسائل کو پولیس اسٹیشن تک جانے نہیں دیا جاتا تھا.لوگ بخوشی.اطمعنان سکون سے گھروں کے دروازے کھلے رکھنے رکھ کر تسلی محسوس کیا کرتے تھے.اگر کوئی بزرگ کسی کو ڈانٹتا تو اپنائیت کا احساس اجاگر ہوتا .گھر سے ماں کی گود کو پہلی درسگاہ تصور کیا جاتا تھا.اردو کی بجائے پنجابی کو فرض سمجھا جاتا تھا.بچوں کے سامنے رکھی اشیاء بھی اپنی جگہ سے ہلنے کی اجازت نہیں دیتیں تھیں. اچھے برے کی تمیز پر ہر کوئی زور دیتا. خواہشات میں اہم چیز حق حلال کی روزی اور اولاد کو نیک انسان بنانے پر فوکس کیا جاتا تھا.محنت چاہے پڑھائی میں ہو یاں کام میں .بھرپور پذیرائی ملتی تھی.بزرگوں کے جیون ساتھی کے ساتھ ساتھ انکے جہیز کا سامان بھی آخر تک چلتا.رشتوں میں منافقت اور اشیاء میں ملاوٹ نہ ہونے کے برابر تھی .کم سے کم اولاد کی تعداد 7 تو ہوتی ہی تھی.ایک ماں نماز کی پابندی کے ساتھ ساتھ گھر کے کام تو الگ بچوں کو برابر ٹائم بھی دیتیں تھیں.اکیلا باپ 8 , 8 بچوں کیلیے اکیلا کافی تھا.اللہ کی شکر گزاری پر بار بار زور دیا جاتا تھا.بچے بوڑھے ہونے پر بھی ماں باپ کی آواز سے تجاوز ناں کرتے تھے.گھر کی بہو سسرال سے اپنی میت اٹھوانا پسند کرتیں تھیں .گھر کے مسئلے مسائل پر پردہ ڈال کر مرد تک بات نہیں جانے دیا کرتیں تھیں.علیحدگی نام کی کوئی چیز نہیں تھی.ٹرالی والے ٹیلیوزن اور گھر کے دروازے رات 8 بجے پی ٹی وی کے ڈرامے سے شروع ہوکر 9.30 بجے کے خبر نامے کے اختتام کے ساتھ بند کر دیئے جاتے.بچوں کو ٹی وی سے اتنے فاصلے پر بیٹھنے کا حکم تھا جیسے آجکل کورونا کے دوران سماجی فاصلے پر زور دیا جاتا یے.بہو کو بیٹی کا درجہ دیا جاتا تھا..داماد کو بیٹا تصور کیا جاتا تھا پرائیویٹ سکول نہ ہونے کے برابر تھے.سرکاری سکول میں کلاس کے نالائق سٹوڈنٹس بھی اساتذہ کے آگے سر نہ اٹھاتے تھے. اساتذہ گھڑی کو دیکھنے کی بجائے شاگردوں کے متعلق زیادہ سوچتے تھے اور نالائق شاگردوں پر زیادہ فوکس کرنا اپنی زمہ داری سمجھتے تھے.
    کل ملا کر بہترین انسان بنا کر روزگار کیلیے مارکیٹ میں بھیجا جاتا تھا.
    انکی مثبت سوچ اور رویہ سے ان کی تربیت اور افکار کا پتا چلتا تھا.کم تعلیم یافتہ والدین نے بہترین آفیسرز پیدا کیے.
    ہر بندہ اپنی جگہ پر ایسے براجمان ہو کر زمہ داری نبھاتا تھا جیسے جانور اور چرند پرند اپنے بچوں کی دیکھ بھال کرتے ہیں.
    کھلے مکان .اونچی چھتوں والے کھلے کلاس روم.مٹی کی دیواریں وہ بھی 22 انچ تک چوڑی.گلیوں میں سولنگ.سنگل اسٹوری مکان .شرم و حیاء.ماں باپ اساتذہ کا تعلیم کے ساتھ ساتھ معاشرتی لیکچر اور مثالوں کی بھرمار نے صحت مند مثبت دماغ والے انسان پیدا کیے.مہنگائی نام کو دشمن تصور کیا جاتا تھا
    اب آتے ہیں 2000 کے دور میں جس میں ہم ایٹمی طاقت .جدید جنگی سامان .بہترین ٹیکنالوجی.
    پر سبقت لے گئے.اور خود کو بیرونی طاقتوں کے آگے مضبوط پیش کیا.
    پر ایک چیز جو جوں کی توں ہے وہ بیرونی قرضہ جات.خیر اس جو تو رجگتے ہی الگ ہیں جس پر دو رائے نہیں.
    کیا کھویا کیا پایا.
    1-اردو اسپیکنگ مائیں پر بچوں میں انسانیت کا فقدان
    2- ایجوکیٹڈ والدین پر اولاد معاشی بے راہ روی کا شکار
    3- ٹی وی .ریموٹ ہر ایک کی دسترس میں پر توجہ کا مرکز بےہودہ اور نان سیئریس وقت کا ضیاع
    4- موبائل .موٹر سائیکل وقت کی ضرورت پر مقاصد آوارہ گردی
    5- مہنگے پرائیویٹ اسکول, اسٹوڈنٹ کی تعداد بھی مختصر پر فیسوں کا بوجھ اور پڑھائی اور ڈگری برائے نام
    6- سکیورٹی اداروں کی کارکردگی اور جرائم کا بڑھنا
    انسانیت پر سے یقین کا خاتمہ خوف کا چورن سرعام بکنا.
    7-انصاف کے اداروں میں انصاف کی دھجیاں سر عام
    دو قانون .غریب کیلیے الگ امیر کیلیے الگ. ناامیدی
    8-عورت کا بے جا بوجھ مرد پر
    سورس کوئی بھی ہو
    مقاصد پر کوئی سمجھوتا نہ کرنا.
    9- ہر ایک کی جیب میں اپنے مسلک کا فتوئ
    10- بناوٹی سوچ . ہر حال ہر قیمت پر آگے نکلنے کی سوچ
    11- صبر .توکل.توبہ سے دوری وغیرہ وغیرہ
    12- چھوٹے بڑے کا ادب ممنوع.
    اپنے بچوں کو دوسروں پر فوقیت کی فکر
    اتنی بے فکری میں تو جانور بھی بچے نہیں پالتے شاید .جتنے ہم بے فکر ہو گئے ہیں
    13- ہٹلر نے کہا تھا
    اچھی مائیں دو اچھا معاشرہ لے لو .
    14- حلال حرام سے زیادہ حیثیت برقرار رکھنے پر زور.
    15- بے شمار پیسا ہونے کے باوجود اںسانیت کا فقدان
    سارا قصور ریاست کا نہیں
    کچھ ہمارا بھی فرض بنتا ہے
    مرد کا کام بہتر رزق حلال کما کر گھر کو اسپورٹ کرنا ہے
    ماں کا کیا کام ہے شاید اس پر سوال بنتا ہے
    کیونکہ مولانق طارق جمیل صاحب نے کیا خوب کہا تھ کہ صبح صبح مائیں بچوں کو اپنی جان چھڑانے کیلیے اسکول بھیج دیتی ہیں اسکول میں بچوں کو کارٹون دکھائے جاتے ہیں تاکہ بچے کا دل اسکول میں لگے اور ماوں کی مجبوری کے ساتھ اسکول مافیا کا وظیفہ لگا رہے.
    باقی بچے گھر پر ہیں اور فیسیں آسمان پر .
    جب بچہ گھر آتا ہے تو موبائل یاں ٹی وی دیجھتا یے تو اسے والدین بھی کارٹون نظر آتے ہیں
    ہمیں مل کر اس نظام کو بدلنا ہوگا
    ہم نہیں بدلیں گے تو جیسے 30 سال پہلے کی محنت کو چںد سالوں نے بدل کر درہم برہم کر دیا کسی ناں جسی کو تو شروعات کرنا ہو گی.
    خود کو بدلیں .جیسے چین نے صرف 30 سالوں میں اپنے آپ کو دنیا کی بہترین قوم ثابت کر دکھایا.
    خدارا آپس کی منافقت سے نکلیں اور پچھلے 30 سال کو مثال بنا کر اپنا ٹائم ٹیبل ترتیب دیں .
    کسی کے چہرے کو سرخ دیکھ کر اپنے منہ کو ٹھپڑ مار کر لال کرنے سے گریز کریں.
    اپنے لال کی فکر کریں دوسروں کی گال کو چھوڑیں .