Baaghi TV

Category: معاشرہ و ثقافت

  • بچوں کی نشوونما  تحریر: محمد کامران۔

    بچوں کی نشوونما تحریر: محمد کامران۔

    بچے الله تعالیٰ کا انمول اور خوبصورت تحفہ ہوتے ہیں والدین کی زندگی میں بچوں کی وجہ سے خوشیاں اور رونقیں ہوتی ہیں ماں کی کوکھ سے ہی بچے کی تربیت اور نشوونما شروع ہو جاتی ہے دنیا میں آتے ہی بچے والدین سے سیکھناشروع ہو جاتے ہیں ان کے نقش قدم پر چلنے کی کوششں کرتے ہیں ۔
    گھر کا ماحول اور والدین کی ساکھ بچوں کی ذہنی اور جسمانی نشوونما پر گہرا اثر ڈالتی ہے جہاں ماں کی گود بچے کی پہلی درسگاہ ہے وہیں مدرسہ یا سکو ل کی تعلیم بچوں میں مختلف علوم اور ہنر کو اجاگر کرنے کیلئے ضروری ہے ۔
    بچوں میں ہنر اور علوم ان کی زندگی کو بہتری کی طرف لے جانے کا باعث بنتے ہیں بچوں میں بااخلاق اور ذمہ دار شہری بننے کا سلیقہ پیدا ہوتا ہے ۔اور ان کو اایک متوازن زندگی گزار نے کا موقع ملتا ہے ۔اور بچے زندگی کے نشیب و فراز سے واقف ہوتے ہیں
    والدین کو چاہئے کہ وہ بچوں کی صحیح ذہنی نشوونما کیلئے بہترین سکلول یا مدرسہ اور اساتذہ کا انتخاب کریں اور بچوں کو زیادہ سے زیادہ گھر میں توجہ سے وقت دیں تاکہ مثبت شخصیت اجاگر ہو۔اچھی اور سبق آموز کہانیوں کا انتخاب کریں اور سونے سے قبل کہانیاں سنانے سے ایک تحقیق کے مطابق بچوں میں مطالعے کا شوق پیدا ہو تا ہے اور ان کی ذہنی اور فکری نشوونما ہوتی ہے
    ماحول بچوں کی نشوونما میں اہم کردارادا کرتاہے بچے جس ماحول میں پرورش پاتے ہیں ان میں اسی کی جھلک نظر آتی ہے بہترین ماحول میسر آنے سے بچوں کی نشوونما بھی مثبت انداز میں ہوتی ہے ۔بچے پگھلے ہوئے کانچ کی طرح ہوتے ہیں ان کو جس سانچے میں ڈھالو ڈھل جاتے ہیں
    بتہرین ذہنی اور جسمانی نشوونما کیلئے ان کے اردگرد مثبت چیزوں ،سوچ ،ماحول اوردیکھ بھال کی ضرورت ہوتی ہے ۔

    @kaamm_ii

  • بڑھتی ہوئی قومیت پسندی اور فکری انتشار   تحریر: عرفان محمود گوندل

    بڑھتی ہوئی قومیت پسندی اور فکری انتشار تحریر: عرفان محمود گوندل

    ہم ایک ایسے معاشرے میں رہتے ہیں جہاں مختلف اقوام و ثقافت اور زبان سے تعلق رکھنے والے لوگ بستے ہیں۔
    اور طبقات میں ایسے تقسیم ہیں کہ ہر کوئی خود کو دوسروں سے افضل سمجھتا ہےاور بات یہاں تک کہ کمتری اور برتری کی حد تک چلی جاتی ہے
    پیدائشی طور پر ہمیں جس خاندان کی شناخت ملتی ہے ہم اس کو ہی لاشعوری طور پر دوسروں سے افضل سمجھتے ہیں۔ جو شناخت ہمیں‏ اتفاقً ملی ہے جس کو حاصل کرنے میں ہماری کوئی کوشش نہیں اس کے لئے ہم بعض اوقات مرنے مارنے کو تیار ہو جاتے ہیں۔ ہم میں سے کوئی بھی یہ نہیں چاہتا کہ ہماری اصلاح ہو یہی وجہ ہے کہ ہمارا معاشرہ فکری انتشار کے عروج پر ہے۔کوئی گروہ یا جماعت اپنے سے الگ خیالات رکھنے والے کا نقطہ نظر سننے کو تیار نہیں جس کی وجہ سے معاشرتی بگاڑ دن بدن بڑھتا جا رہا ہے۔ امن کا تعلق معاشرے میں رہنے والوں کی نفسیات پر ہوتا ہے لیکن ہمارے ہاں نفرت اور انا کی ایسی بلندوبالا عمارتیں تعمیر کی گئیں ہیں کہ کوئی گروہ دوسرے کو سننے کو تیار نہیں۔
    فکری انتشار کی ایک بڑی وجہ ہم مسلمانوں میں فرقہ واریت ہے ہمارے بہت سے علماء کرام مختلف فرقوں کے نام پر اسی کوشش میں لگے رہتے ہیں کہ دوسرے فرقے کی برائی اور خود کی اچھائی ثابت کریں۔ہمیشہ خود احتسابی اور حقیقت پسندانہ رویہ اپنانے سے کتراتے ہیں۔
    ہمارے معاشرے میں عدم برداشت کی دوسری بڑی وجہ ہمارا بوسیدہ نظام تعلیم ہے جو پہلے تو مدارس، سرکاری اور پرائیویٹ نظام تعلیم میں تقسیم تھا اوراب مزید تقسیم در تقسیم ہوتا جا رہا ہے اور قوم ایک ہجوم کی شکل اختیار کر چکی ہے۔ مدارس سے نکلنے والے حضرات اپنے مسلمان بھائیوں کو جہنمی اور کفر کے فتوے دیتے ہیں اور سکول اور کالج سے فارغ التحصیل لوگ مدرسوں میں پڑھنے والے لوگوں سے خود کو افضل سمجھتے ہیں۔ بات صرف فطری اختلاف تک نہیں رہتی بلکہ ماردھاڑ تک پہنچ جاتے ہیں۔افسوس کے ساتھ ان ستر سے زیادہ سالوں میں معاشرے کے ساتھ ساتھ ریاست نے بھی کبھی کوشش نہیں کی جس سے معاشرے کے مختلف گروہوں یا طبقوں میں ہم آہنگی بڑھ سکے۔ رہتی کمی ہماری سیاسی جماعتیں نکال دیتی ہیں جو ہماری قوم کو سندھی، پنجابی، بلوچی،پشتون، سرائیکی اور اس کے علاوہ بہت سارے گروہوں میں تقسیم کرنے کی کوشش میں لگی رہتی ہیں اور 70 سالوں میں تقسیم کرو اور حکومت کرو کی پالیسی پر اقتدار سے لطف اندوز ہوتی آئی ہیں۔
    کچھ سیاسی پارٹیاں مذہب کے نام پر اپنا چورن بھیجتی ہیں جن کے بارے میں سعادت حسن منٹو نے کیا خوب کہا تھا لیڈر جب آنسو بہا کر لوگوں سے کہتے ہیں کہ مذہب خطرے میں ہے تو اس میں کوئی حقیقت نہیں ہوتی۔ مذہب ایسی چیز ہی نہیں کہ خطرے میں پڑ سکے، اگر کسی بات کا خطرہ ہے تو وہ لیڈروں کا ہے جو اپنا اُلّو سیدھا کرنے کے لئے مذہب کو خطرے میں ڈالتے ہیں۔یہ لوگ جنہیں عرف عام میں لیڈر کہا جاتا ہے، سیاست اور مذہب کو لنگڑا، لولا اور زخمی آدمی تصور کرتے ہیں۔
    ہمیں اس مذہبی اور سیاسی تقسیم سے نکل کر اپنے بزرگوں کے فرمودات پر عمل کرتے ہوئے ایمان، اتحاد اور تنظیم کے ساتھ آگے بڑھنا ہو گا ورنہ ہم جدید دنیا سے بہت پیچھے رہ جائیں گے۔اللہ تعالی ہم سب کا حامی وناصر ہو۔آمین۔

    @I_G68

  • طلاق   تحریر: مدثر حسن

    طلاق تحریر: مدثر حسن

    ہمارے معاشرے میں طلاق کی شرح بڑھتی جا رہی ہے جو کہ ایک پریشانی کا بحث ہے طلاق کا لفظ سن کر ہمیشہ ہماری سوچ لڑکی کے کریکٹر پر جاتی ہے کہ اس کی وجہ یہ لڑکی ہی ہوگی حلانکہ اکثر معمولات میں مرد کی ہی وجہ ہوتی ہے طلاق کا بوجھ اٹھانا ایک لڑکی کی زندگی میں اس سے بڑھ کر کوئی نہیں ہوسکتا وہ وزنی پتھر کا بوجھ اٹھا سکتی ہے لیکن اس کے لیے طلاق کا بوجھ اٹھانا بہت مشکل ہے مرد کے لیے طلاق کے صرف تین حرف ہیں لیکن یہ تین حرف لڑکی کی زندگی اجیرن کر دیتے ہیں!!!!!

    طلاق کی وجوہات میں سے ایک وجہ یہ بھی ہےکہ گھر والوں کی مرضی ہوتی ہے ان کو زبردستی شادی کے بندھن میں بندھ دیتے ہیں لڑکے اور لڑکی کی دلچسپی جانے بغیر لڑکی بیچاری تو کمپرومائز کر جاتی ہے اپنی زندگی پر لیکن مرد ایسا نہیں کرتے وہ کچھ عرصہ بعد طلاق دے دیتے ہیں اور اپنا نیا جیون ساتھی تلاش کرتے ہیں جو ان کی پسند ہو اور وہ لڑکی طلاق کا ٹھپہ لیے اپنے ماں باپ کے گھر چلی جاتی ہے اور اپنی قسمت کو کوستی ہے

    حلانکہ طلاق اللہ اور اللہ کے رسول ﷺ نے ناپسندیدہ عمل قرار دیا ہے اس لیے قرآن میں واضح بتایا ہے کہ جو عورت تمہیں پسند ہو ان سے نکاح کر لو تاکہ یہ طلاق کی نوبت نہ آئے والدین کو چاہیے شادی کرنے سے پہلے لڑکے اور لڑکی کی مرضی جان لیں تاکہ بعد میں ان کو یہ صدمہ برداشت نہ کرنا پڑے!!!!!!!

    اسلام نے ہمیں چار شادیوں کا حکم دیا ہے اس میں طلاق یافتہ سے بیوہ سے شادی کرنا بھی شامل ہے طلاق یافتہ اور بیوہ سے شادی کرنا بھی سنت رسول ﷺ ہے کوشش کریں جس شادی کریں ان سے راشتہ طور نبھائیں تاکہ طلاق کی نوبت نہ آسکے ۔

    طلاق کی وجہ سے والدین بیٹیوں کو بوجھ سمجھتے ہیں اور ان سے نفرت کرتے ہیں حالانکہ قصور بیٹے کا ہوتا ہے اگر بیٹے کی تربیت ٹھیک طریقے سے کی جائے تو
    طلاق کی نوبت بھی نہ آئے

    اس لیے بہن ،بیٹی کے اچھے نصیب کی دعا کی جاتی ہے کہ اللہ ان کے لیے نصیب اچھے کرے اور آسانیاں فرمائے آمین !!!!!!

    @MudasirWrittes

  • جنت کا ٹکٹ ہمارے ہاتھوں میں ہے؟ تحریر ؛فرزانہ شریف

    جنت کا ٹکٹ ہمارے ہاتھوں میں ہے؟ تحریر ؛فرزانہ شریف

    دین کو لے کر اسلام کے نام پر کسى کا بھى مزاح اڑانا” کسى کلمه گو مسلمان کو کمتر سمجھنا” کمنٹس ميں پوسٹس میں فخر محسوس کرنے سے پہلے ہم اعمال اپنى زندگى کو هى دیکھ لیں’ کیا ہم جانتے ہمارى زندگى کب کس مقام پر اور کس حال میں اختتام پذیر ہو”
    کیا ہم جانتے ہیں ہمارى نماز ہمارے اعمال قبولیت کا شرف پا رہے ہیں” اپنے فرقے کو بہترین سمجھنا اور دوسرے کسى بھى فرقے کے مسلمانوں کو کمتر سمجھنا گالى گلوچ طنزو مزاح کى محفلیں سجانا کم سے کم ہم امتى۔۔۔۔۔۔؟!
    شیوه نهيں دیتا اس فانى زندگى ميں نصیحت کرنا تنقید کرنا بہت آسان ہے مگر اس پر عمل کرنا مشکل ہے”
    برداشت نہیں کسى ميں نفسا نفسى کے دور میں ہر انسان کا خود کو بہترین نیک ایمان دار سمجھنا دوسروں کو کمتر سمجھنا بہت عام بہت آسان بہت قابل فخر بات بن چکى اب ۔۔۔! آج تک ميں نے کوئی فرقہ واریت ٹویٹ یا پوسٹ نہیں کی اچھى بات جو بولے سن بھى لیتى عمل کى کوشش بھى’ اور کبھى کوئی بول دے پوسٹس کمنٹ ڈیلیٹ کرنے کو تو بنا بحث کے کر بھى دیتى’ کبھى کبھار پوچھتى ضرور ہوں’ کیا غلط کا برا هے اس ميں کچھ تفصیل یا تھوڑا سا هى بتا دیں” بات ختم ادھر هى۔۔۔

    ہم نہی جانتے ہم زندگی کے کس موڑ پر ہمارے کس قول فعل عمل سے کسی کی دل آزاری کا سبب بنتے ہیں کبھی کبھار غیر ارادی طور پر بھی ہوجاتا ہے ایسا۔۔
    دعا کریں ہمیں کبھی کسی کی بددعا نہ لگے
    انسان کی زندگى ميں اپنے اتنے معاملات پریشانیاں در پیش لاحق ہوتى ہیں اپنے گناه اپنى نافرمانیاں بجائے اس کے ہم اپنے ایمان کى اپنے اعمال کی فکر کریں مگر نہ جى ہمیں تو یہ ثابت کرنا فلاں جہنمى هے فلاں ایسا ہے صرف
    ہم”اللہ سبحانه وتعالیٰ کے لاڈلے ہیں اور جنت کا ٹکٹ ہمارے ہاتھوں میں ہے انا للہ وانا الیہ راجعون💔
    استغفراللہ ربى من کل ذنب واتوب الیه”
    اللہ الرحمن الرحیم الغفور القدوس السلام المومن العزیز الجبار القہار الرزاق الفتاح العظیم پاک پروردگار ہمیں هدايت کامل ایمان نصیب فرمائے آمین یارب العالمین

  • سوشل میڈیا کو اپنے وطن کے لیئے استعمال کیجئے.تحریر:  امان الرحمٰن

    سوشل میڈیا کو اپنے وطن کے لیئے استعمال کیجئے.تحریر: امان الرحمٰن

    دنیا تیزی سے ترقی کر رہی ہے ۔آج آپ نے کوئی بھی معلومات لینی ہو یا کوئی کتاب ڈاؤن لوڈ کرنی ہو سب انٹرنیٹ پر مل جاتا ۔جہاں ٹیکنالوجی نے ہماری زندگی میں آسانیاں پیدا کی ہیں وہاں اس کے منفی استمعال کا عنصر بھی جنم لے رہاہے، بدقسمتی سے پاکستان میں یہ منفی عنصر بہت زیادہ پایا جاتا ۔آج ہر دوسرے شخص کے پاس اینڈرائیڈ موبائل فون ہے اور ہر شخص فیسبک اور ٹویٹر انسٹاگرام پر ایکٹو رہتا ہے یا یوں سمجھئے کے ہم نے سوشل میڈیا کو اپنی زندگی کا بہت اہم حصہ تصور کرلیا ہے جس کے بغیر زندگی گُزارنا مشکل ہو جائے گی ۔ لیکن اگر ہماری ایسی عادت بن ہی گئی ہے یا ہم اِس کے بنا رہ نہیں سکتے تو کیوں ناں ہم اِس موبائل کے ساتھ جوڑے سوشل میڈیا کو اپنے ملک اپنے مذہب کے لئے استعمال کریں اور ملک و قوم کی بہتری میں اپنا حصہ ڈالیں تاکہ مُعاشرہ بہتری کی طرف آئے اور آپ کی ایک چھوٹی سی پوسٹ یا تحریرکسی کے دل میں گھر کر جائے۔ اب آجائیں کے استعمال کیسے کریں اور کیا کِیا جائے تو دیکھیں کچھ لوگ اس کا مثبت استعمال کر رہے ہیں اورکچھ لوگ منفی،

    جو مثبت استعمال کر رہے وہ اپنے فارغ وقت میں سوشل میڈیا کے زریعے اپنے وطن اور افواج پاکستان کے ساتھ یکجحتی کا اظہار کرتے ہیں اور ان کے خلاف دشمنوں کے پروپیگنڈہ کو ناکام بناتے ہیں ۔ جو لوگ منفی استعمال کر رہے ہیں وہ ہوش میں آئیں زندگی چھوٹی ہے اس کو فضولیات میں برباد نہ کریں۔
    کمنٹ میں "گو” لکھ کر ٹرک چلنے کا انتظار نا کریں۔۔!’
    جو دس گروپوں میں شیئر کرے گا اس کو اپنا نمبر دوں والی پوسٹ شیئر کر کے اپنے ضمیر کو مردہ مت بنائیں۔ کبھی خُود کا اپنا مُحاسبہ بھی کر لیا کریں کے زندگی کا مقصد کہیں فوت تو نہیں کر دیا میں نے۔۔؟ اب دیکھیں ایسی ایسی پوسٹس اور مضمون یا لطیفے ہیں کےاگر سنجیدگی سے غور کریں تو اِن فضولیات کا کتنا گہرا اثر لوگوں کی سوچ پر پڑ رہا ہے کہ کسی کو اندازہ ہی نہیں کے ہم کیا کر رہے ، یہ وقت کا ضیاء نہیں تو اور کیا ہے ؟ صحیح معنوں میں اِن فضولیات نے ہمیں اللہ سے دور کر دیا ہے مگر یہ سلو پوائیزن کی طرح ہم میں رچ بس گیا ہے اور ہمیں آہستہ آہستہ نقصان اور بربادی کی طرف لیجا رہا ہے، اور اِس کا علاج صرف اپنا مُحاسبہ ہے اور اِس سے بھی آسان یہ کے آپ اپنے موبائل کو اپنا ہتھیار اپنا مورچہ بنائیں ہر برائی کے خلاف، اِس لئے سب سے پہلے کون سا ٹب بھرے گا والی پوسٹ کر کے نا تو آپ کو کچھ حاصل ہوگا نا دوسروں کو، خُدارا ایک ذمہ دار شہری بنیں اللہ نے جو یہ زندگی آپ کو دی ہے اِسے ہر اُس بہتر کام میں صرف کریں ناں کے فضولیات میں ، سوشل میڈیا کو تفریح کا ذریعہ مت بنائیں،

    اس کا بہترین استعمال کریں اور آج کل مثبت استعمال یہ ہے آپ ففتھ جنریشن وار کے سپاہی بن جائیں اور دشمنوں کی پاکستان کے خلاف شروع کی جنگ میں ایک دوسرے کے ہاتھ میں ہاتھ ڈالے شانہ بشانہ لڑیں ، اس سے أپ کی ذات کو فائدہ ہوگا، اگر آپ ایسا کرتے ہیں تو یقین جانیئے آپ کو ہندوستان اور بالی وڈ سے نفرت ہو جائے گی،
    آپ عالمی سازشوں کو سمجھنے لگیں گے، وطن پرستی پروان چڑھے گی، آپ کے پاس فضول کاموں کے لیے وقت نہیں ہوگا ، آپ کے علم میں اضافہ ہوگا ، اسلام اور پاکستان کی مکمل تاریخ جاننے میں آپ کو مدد ملے گی۔ اِن شاء اللہ
    اس لئے آئیے اور وطن کا دفاع کیجئے۔اگر آپ کسی پارٹی کے کارکن ہیں اور افواج پاکستان سے اپنے لیڈروں کی وجہ سے بغض میں مبتلا ہو گئے ہیں تو اس راہ پر آپ پر بہت حقائق آشکار ہوں گے ، آئیے اور سوشل میڈیا کا اپنے وطن کے لیے استعمال کیجئے، آپ کو لگے گا کہ آپ اپنا وقت برباد نہیں کر رہے آپ کا ضمیر مطمئن رہے گا۔

    کچھ لوگ کہتے ہیں سوشل میڈیا پر پاکستان کو دفاع کیسے کریں ہمیں سکھایا جائے۔
    تو دوستو اگر آپ نئے ہیں تو جو لوگ پہلے سے کام کر رہے ہیں ان کا حوصلہ بڑھائیں ان کی پوسٹوں کو مختلف گروپس میں شئیر کریں، ٹویٹر پر ہیں تو کوئی اچھی بات ہے تو اُسے واٹس ایپ پر شیئر کریں، واٹس ایپ پر ہے تو فیس بک پر شیئر کیجئے۔۔۔۔ ہاں ایک بات اچھے سے ذہن نشین کرلیں کے یہ سوشل میڈیا اکثر و بیشتر آپ کو فیک نیوز جعلی خبریں بھی ملیں گی نظر آئیں گی مگر آپ نے یہاں ایک ذمہ دار پاکستانی سے پہلے نبیﷺ کی وہ حدیث یاد رکھنا ہے کے بنا تصدیق آپ نے وہ بات آگے نہیں پہنچانی جس کا آپ کو کوئی ثبوت نہیں ملا ہو ہاں اگر ثبوت ہیں تو شیئر ضرور کیجئے۔ دیکھیں آپ جب بہتری کی نیت سے خالص ہو کر کسی اچھے مقصد سے سوشل میڈیا کا استعمال کریں گے تب آپ کا ضمیر بھی پُر سکون ہوگا اور اِس جھوٹ کی جنگ جو ہم پر قومی اور مذہبی روایات پر ایک حملہ کی صورت مسلط ہے جسے ففتھ جنریشن وار کہا جاتا ہے آپ اِس کے گُمنام سپاہی بن جائیں گے ۔ اور آہستہ آہستہ آپ سب جان جائیں گے اِس ففتھ جنریشن وار کے بارے میں کے یہ کتنی گہری ضرب ہے ہے ہم پر اور ہمیں کیسے اِس نہ نظر آنے والی جنگ سے اپنی پاک سرزمین کو محفوظ بنانا ہے۔
    آئیے اور سوشل میڈیا کا اپنے وطن کے لیے استعمال کیجیے۔ اللہ کریم ہمیں ہر برائی سے دور رکھے آمین

  • قربانی جذبہ بھی فریضہ بھی.  تحریر:شمیل آعوان

    قربانی جذبہ بھی فریضہ بھی. تحریر:شمیل آعوان

    قربانی سنت ابراہیمی ہے جو ہر سال ہم اہنا اولین فریضہ سمجھ کے اپناتے اور نبھاتے ہیں..
    عید قربان نا صرف سنت ہے بلکہ یہ ایک ایسا درس ہے
    جو ہماری زندگی کو ہمارے کردار کو بہت سوچنے پہ آمادہ کرتی ہے. اسلام نے کتنی خوبصورتی سے اس دن کو غرباء کے لیے بھی بہترین بنایا. اس قربانی کا اللہ پاک کی نظر میں سب سے بڑا فائدہ یہ ہے کہ وہ غرباء مساکین لوگ جو سارا سال شاید بکرے گاے کا گوشت کھانے خریدنے کی استطاعت نہیں رکھتے وہ اس دن پیٹ بھر کے کھانا کھاتے ہیں اور اللہ پاک اپنے بندوں کی خوشی میں ہی خوش ہوتے ہیں.
    اس طرح قربانی کے گوشت میں بھی ان مستحقین کے باقاعدہ حصے طے کیے گئے ہیں تاکہ ان تک پہنچ سکے.
    یہ قربانی نا صرف جانوروں تک محدود ہے یہ ہمیں درس دیتی ہے ایثار کا برابری کا احساس کا بندگی کا حقوق العباد کا جو کہ اللہ رب العزت کو بہت پسند ہے.
    ہمارے معاشرے میں حقوق العباد تقریباً ناپید ہوتا جا رہا ہے مگر بحیثیت ابسان تو ہم کبھی مکمل ہونے کا دعویٰ کر ہی نہیں سکتے اگر کوئی ذات مکمل ہے تو وہ رب ذوالجلال کی ہے جو ہر سال حقوق العباد کو دہرابے اور یاد دہانی کروانے کو اس دن کو ہماری زندگیوں میں لاتا ہے اور ہم اس دن دل کھول کے ہر گھر میں استطاعت کے مطابق گوشت دیتے ہیں دروازے پہ آئے مساکین اور ضرورت مندوں کو بانٹ کر دلی سکون اور اللہ کا قُرب حاصل کرتے ہیں.

    قصہ مختصر یہ کہ…

    وہی ذات ہے جو بے شک یقیناً سب جانتی ہے اور ہماری زندگیوں کو انسانیت کی خدنت کی طرف کب کیسے مائل کرتی ہے وہ وہی رب خود ہی جانتا ہے ہم بہت چھوٹے اور
    گناہگار ہیں.
    اللہ پاک اس موقع پہ بھی ہم انسانوں کو حقیقی جذبہ قربانی سے نواز دیں.
    آمین
    @shameel512

  • کیا "واقعی میں ہم سب منافق ہیں  تحریر : مسکان اشرف

    کیا "واقعی میں ہم سب منافق ہیں تحریر : مسکان اشرف

    لفظ منافقت سے ہم سب واقف ہیں ۔
    منافقت کرنے والا منافق کہلاتا ہے ۔ اب منافقت کیا ہوتی ہے اس سوال کا جواب بھی کچھ زیادہ مشکل نہیں کیونکہ ہمارے پیارے مذہب اسلام نے منافق اور منافقت کی واضح نشانیاں دیں ہیں جو چمکتے سورج کی طرح عیاں ہیں ۔ منافق کی سب سے بڑی نشانی یہ ہیں کہ وہ اندر سے کچھ اور باہر سے کچھ اور ہوتا ہے ۔ باالفاظ دیگر منافق کے قول و فعل میں تضاد ہوتا ہے ۔ انسان فطری طور پر گویا ہوتا ہے اور اللہ رب العزت نے اسے زبان دی ہے جس کی مدد سے وہ بولتا رہتا ہے ۔ بولتے بولتے اس کی زبان سے مختلف لہجوں میں الفاظ کی صورت میں باتیں نکلتی ہیں ۔ یہ باتیں دیگر انسان پرکھتے ہیں، جانچتے ہیں، تولتے ہیں، حتی کے چکتے بھی ہیں بعد ازاں ان ہی باتوں کو جانچنے اور پرکھنے کے بعد اس انسان کے حوالے سے رائے قائم کی جاتی ہے کہ بولنے والا کیسا انسان ہے ۔ کیا اس کا قول ، فعل سے مطابقت رکھتا ہے یا نہیں ۔ اگر رکھتا ہے تو ٹھیک، نہیں رکھتا تو منافق ٹھہرتا ہے ۔
    آئیں !!!! اب اسی فارمولے کو خود پہ آزماتے ہیں ۔ روزمرہ زندگی میں ہمارے قول و فعل میں کتنا تضاد ہوتا ہے ؟؟؟ کیا ہم جو کہتے ہیں وہ کرتے بھی ہیں؟؟؟؟ کیا رسماً، عادتاََ اور مجبوراً ہمارے قول و فعل ایک دوسرے کے برعکس نہیں ہوتے؟؟؟
    ایک دن میں ہم جتنے متعلقین سے ملتے ہیں اور ان سے ہم کلام ہوتے ہیں تو خدا کو گواہ بنا کر خود ہی کو جواب دیجیے کہ کیا ہم اُن سے ملتے ہوئے، باتیں کرتے ہوئے، اُن کے ساتھ بیٹھتے ہوئے یا کھاتے ہوئے منافقت کرتے ہیں یا نہیں ؟؟؟ ہم باتوں ہی باتوں میں ان کو ورغلاتے ہیں کہ نہیں ؟؟؟ جس بات میں ہمارا نفع اور فائدہ نہ ہو اس بات کو توڑ مروڑ کر پیش کرتے ہیں کہ نہیں ؟؟؟ کیا پورے مہینے میں ہم کوئی ایسا کام نہیں کرتے کہ جس کام کے بارے میں ہمارا قول کچھ اور ہمارا فعل کچھ اور ہو ؟؟؟ جس بات کو کرنے سے ہماری شخصیت سنورتی ہے خواہ وہ جھوٹ کیوں نہ ہو اور حقیقت کا اس سے کوئی تعلق نہ ہو، کیا ایسی باتیں ہم کرتے ہیں یا نہیں ؟؟ ہم دوسروں کی بیگار (مدد) سے جان چھڑوانے کے لیے بے دریغ جھوٹ بولتے ہیں یا نہیں؟؟ کیا ہم اپنے ہی جگریوں کو دھوکہ دیتے ہیں یا نہیں؟؟؟؟ اگر ان جیسے اور درجنوں سوالات کا جواب آپ کا "نہیں” میں ہے تو پھر تو آپ فرشتہ ہیں لیکن اگر آپ کا جواب ہ ہ ہ ہ ہ ہ ہاں میں ہے تو پھر تو آپ بھی ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ ہیں ۔
    میرے اندازے کے مطابق پڑھنے والوں میں اکثریت کے جواب کا تعلق "ہاں” سے ہے تو پھر تو مبارک ہو کیونکہ پھر تو "واقعی میں ہم سب منافق ہیں ”

    معذرت
    Twitter @IamBlackninaj05

  • قربانی…!!! . تحریر : محمد اسامہ

    قربانی…!!! . تحریر : محمد اسامہ

    الله اكبر الله اكبر لا اله الا الله والله اكبر وله الحمد الله اكبر كبيرا والحمد كثيرا واسبحان الله بكرة وأصيلا

    کچھ ممالک میں کل عید الاضحٰی منائی گئی تھی اور کچھ ممالک میں آج عید الاضحٰی منائی جارہی ہے. اس عید کا صرف ایک ہی پیغام ہے.

    "قربانی”

    بظاہر تو ہم جانور اللّٰه کی راہ میں قربان کرتے ہیں. ان کا خون بہا کرتے ہیں. ان کا گوشت تقسیم کرتے ہیں. دعوتیں کی جاتی ہیں. غرباء و مساکین کو بھی خوشیوں میں شامل کیا جاتا ہے.

    قربانی، انا کی، رویوں کی، حق پر ہوتے ہوئے پہل کرنے کی، ناراضگی کو دور کرنے کی اور ہر اس چیز کی جس سے محبت اور ایثار کا بول بالا ہو.
    جانوروں کی قربانی کے ساتھ ساتھ ان چیزوں کی قربانی بھی دی جائے تو قربانی کا مقصد پورا ہوجاتا ہے.

    الله ہمیں توفیق عطا فرمائے. آمین.

    تقبل الله منا ومنكم صالح الأعمال
    عید الاضحٰی🐑 مبارك

    @its_usamaislam

  • اولاد کی تعلیم و تربیت . تحریر : محمد وقار

    اولاد کی تعلیم و تربیت . تحریر : محمد وقار

    اولاد قدرت کا انمول تحفہ ہوتی ہے. جب اللہ اس نعمت سے نواز دے تو پھر اس کی پرورش کے ساتھ ساتھ تعلیم و تربیت کی ایک بھاری ذمہ داری بھی والدین پر عائد ہوتی ہے.اپنے بچوں پرورش و پرداخت کے لیے ماں باپ سے جو بن پڑتا ہے وہ کرتے ہیں. لیکن انجانے میں والدین سے اولاد کی تربیت کے حوالے سے بہت کوتاہیاں ہو جاتی ہیں.
    .اس ضمن میں سب سے پہلی غلطی ہے بے جا لاڈ پیار… تمام والدین کو اپنی اولاد عزیز از جان ہوتی ہے لیکن بچے کی ہر بات پر لبیک کہنا کوئی عقلمندی نہیں. بچے کو دل پسند چیزوں کی عدم دستیابی پر چپ رہنا سکھانا ہوگا…. موجود اشیا پر شکرگزاری کی عادت ڈالنی ہو گی.
    بے جا ڈانٹ ڈپٹ اور روک ٹوک بھی بچے کی شخصیت کو تباہ کر دیتی ہے. اس سے بچہ ضدی ہو جاتا ہے.. بچے میں اخلاقیات منتقل کرنے لیے آپ کا اپنا اخلاقی ہونا بہت ضروری ہے… مار دھاڑ، غصے اور چڑچڑے پن سے تمیز سکھانا امرِ محال ہے.
    جب بچہ سکول جانے لگتا ہے تو والدین اس پر پڑھائی بہت زیادہ بوجھ ڈال دیتے ہیں اور کھیل کود کے لیے وقت بچتا ہی نہیں، بچوں کی ذہنی اور جسمانی نشو و نما کے لیے کھیل اور ورزش بہت ضروری ہے.

    اکثر والدین تعلیم پر بہت توجہ دیتے ہیں جبکہ تربیتی پہلو کو یکسر نظر انداز کر دیتے ہیں..تعلیم کی اہمیت اپنی جگہ مسلّم ہے لیکن تربیت بچے کی شخصیت کو چار چاند لگاتی ہے.. اور اچھی تربیت کا سب سے بہترین اور آسان طریقہ یہ ہے کہ جو اوصاف آپ اپنے بچے کے اندر دیکھنا چاہتے ہیں وہ اپنے اندر بھی پیدا کر لیں اور جو کام پسندیدہ نہیں ہیں ان اعمال سے خود کو بھی پاک رکھیں. کیونکہ بچہ وہ نہیں سیکھتا جو آپ سکھاتے ہیں بلکہ بچہ وہی سیکھتا ہے جو آپ کرتے ہیں.

    بچہ جب لاڈ پیار سے بگڑ جاتا ہےتو اس سے جان چھڑانے کے لیے اس کے ہاتھ میں موبائل تھما دیا جاتا ہے جو کہ مزید تباہ کن ثابت ہوتا ہے… والدین کو چاہیے کہ بچے کو وقت دیں اور ایک دوستانہ ماحول میں ان سے گفتگو کریں تا کہ ان میں خود اعتمادی پیدا ہو بچے کو سکول بھیجتے وقت یہ تا کید مت کریں کہ اپنا لنچ کسی کوبھی مت دینا بلکہ بچے کے بیگ میں ایک اضافی لنچ بھی بھیج دیں اور اسے یہ بتائیں کہ جو بچہ لنچ گھر بھول آیا ہو یہ آپ اسے دیں گے اور اس سلسلے میں اس بات کی بھی تربیت ضروری ہے کہ بچہ لنچ شیئر کرتے وقت ایسے الفاظ کا استعمال نہ کرے کہ جس سے دوسرے بچے کی عزتِ نفس مجروح ہو دنیاوی تعلیم اور کامیابی کے لیے والدین ہر وقت متفکر نظر آتے ہیں جبکہ دینی تعلیم اور اخروی نجات کی سوچ خال خال ہی نظر آتی ہے. بچوں میں دین کی فکر پیدا کرنا ہی اصل کامیابی ہے.

    حاصلِ کلام یہ ہے کہ ماں باپ کو چاہیے کہ اولاد کو دین و دنیا کے حقیقی مدارج سکھائیں اور انہیں محبِ وطن شہری اور اچھا مسلمان بنانے میں اپنا بھر پور کردار ادا کریں..

    waqarkhan104@

  • کامیابی کا راز . تحریر : صائم مصطفیٰ

    کامیابی کا راز . تحریر : صائم مصطفیٰ

    ہم نے بچپن میں ایک مکڑی کی کہانی سنی ہوئی ہے جو جال بنتی ہے لیکن بار بار ناکام ہونے کے بعد بھی اپنی کوشش جاری رکھتی ہے اور آخر کار کامیاب ہو جاتی ہے ۔اسکی یہ کوشش سکھاتی ہے کہ جب تک مطلوبہ ہدف نہ حاصل کر لیں تب تک محنت اور لگن کو روکنا نہیں چاہیے ۔

    "If you stop learning, failure is your destiny”
    ہار کسی بھی چیز میں ہو یا کسی بھی حالات میں ، جیتنے کی لگن ہمیشہ دل میں رکھنی چاہیے ۔
    آپ تب ہارتے ہیں جب کوشش کرنا چھوڑ دیتے ہو

    ایسے حالات میں ہمیشہ ذہن سازی اور مشاورت کی ضرورت ہوتی ہے. ان ہارے ہوئے لوگوں کو غیر صحت مند مقابلوں میں جانے سے روکا جانا چاہیے۔
    مزید برآں، انہیں ایسے ٹاک شوز دیکھنے کے پابند بنایا جانا چاہئے جو اس بات پر تبادلہ خیال کرتے ہیں کہ ناکامی مواقع فراہم کرتی ہے۔ اسی طرح ان کے لئے ہمت نہ ہارنے اور کوشش کو ترک نہ کرنے کے بارے آگاہی ہونی چاہیے اور ایسے طریقے جو ناکامی پر قابو پانے کے لیے مفید ہوں ان کو بتانے چاہیے ۔ یہ ایک معروف حقیقت ہے کہ ناکامی سے اس وقت تک بچا نہیں جاسکتا جب تک کوئی کسی کام کو کرنے سے بالکل گریز نہ کرے۔

    مندرجہ ذیل تین طریقے ہیں جو آپ کو شکست کے درد کو کم کرنے
    اور دوبارہ کوشش شروع کرنے میں مدد کر سکتے ہیں اپنی خامیوں کو قبول کریں
    بالکل کامل ہونے کی کوشش کرنے کے بجائے (جو کبھی بھی حاصل نہیں ہوتا)، ہمیں خامیوں میں خوبصورتی تلاش کرنا شروع کرنی چاہئے۔ ہر ایک کی خامیاں ہیں لیکن کچھ لوگ ایسا دکھاوا کرتے ہیں جیسے وہ غلط نہیں ہیں کیونکہ وہ دوسروں کو مشکل وقت دینا چاہتے ہیں۔ یہ وہ لوگ ہیں جو دوسروں کی مصیبتوں پر خوش ہوتے ہیں ۔ وہ دوسروں کو یہ سوچ دے کر معاشرے کے امن کو خراب کرتے ہیں کہ ان کی خامیاں کسی گناہ سے کم نہیں۔
    اگر کوئی شخص زندگی میں "کسی” کا خاص بننا چاہتا ہے تو اسے اپنی خامیوں کو قبول کرنے کی ضرورت ہے۔ کسی کی خامیوں کو گلے لگانے کا مطلب یہ نہیں ہے کہ وہ ہمیشہ کے لئے ان کے ساتھ رہیں لیکن اس کا مطلب یہ ہے کہ ان کو ٹھیک کرنے کی ہمت ہو۔ اسی طرح جب کوئی شخص ناکام ہوجاتا ہے تو وہ اپنے بے عیب نفس کو ملامت کرتا ہے اور کبھی اس کی اصلاح کی کوشش نہیں کرتا۔ اپنی کمزوری پر کام کرنے سے وہ اپنی کمزوری کو قوت میں بدل دیتا ہے۔ ایک بار جب آپ اپنی خامیوں کا سامنا کرتے ہیں تو، آپ بڑھتے ہیں۔
    مثال کے طور پر اگر آپ سست لکھتے ہیں اور کسی کاغذ کو مکمل کرنے کے لیے مطلوبہ وقت آپ کی ضرورت کے وقت سے کم ہوتا ہے تو آپ کو اس سچائی کو قبول کرنا ہوگا جو آپ کو اپنی ہینڈ رائٹنگ کو تیز کرنے کے لیے زیادہ محنت کرنے کی ضرورت ہے۔ اس سے بھاگو نہیں۔ کسی کے کمزور پہلو کا سامنا کرنے کی ہمت ان چیزوں کو ہونے دیتی ہے جس کا کسی نے کبھی تصور بھی کیا تھا۔
    ایک کہاوت ہے ہارتا وہی ہے جو کوشش کرنا چھوڑ دیتا ہے ۔ بہتر ہے۔ جب آپ اس سچائی کو مضبوطی سے تھام لیتے ہیں تو، آپ اپنے ارد گرد پرورش کا ماحول پیدا کرتے ہیں۔
    آپ مضبوط اور پراعتماد ہوجاتے ہیں اور اس طرح، کائنات وہ ساری کامیابی مہیا کرتی ہے جس کا آپ مقصد رکھتے ہیں

    2. ان لوگوں کی پرواہ مت کرو جو آپ کو Judge کرتے ہیں
    ایک چیز جو سب سے زیادہ تکلیف دیتی ہے اور وہ آپ کو کسی بھی کوشش کرنے سے روکتی ہے وہ لوگوں کی نظر ہے جو فیصلوں اور آراء سے بھرا ہوا ہے۔ آپ کو ان لوگوں کی پرواہ بالکل نہیں کرنی چاہیے جو آپ کی غلطیوں سے آپ کا فیصلہ کرتے ہیں۔ ایسے لوگ ہمیں ہماری ناکامی کی یاد دلاتے رہتے ہیں۔

    زندگی کا خاتمہ۔ وہ نہیں جانتے کہ یہ ایک سیکھنے کا موقع تھا اور اس نے ذہن کے افق کو مزید نظریات کو گلے لگانے اور اس میں ضم کرنے کو وسیع کیا۔
    جب غلطی کی جاتی ہے تو قدرت ہمیں سدھرنے کا موقع دیتی ہے۔
    ایک دوسرا مختلف طریقہ یہ ہے۔ کہ وہ لوگ جو اپنا نکتہ نظر رکھتے ہیں اس کسوٹی پر دوسروں کی ناکامی کو پرکھتے ہیں اور آوازیں کستے ہیں ۔ آپ کے اعصاب پر ان کے خیالات اور آوازوں کا اثر نہیں جانا چاہئیے بلکہ جذبات پر قابو رکھنا اور سیکھنا چاہئے۔ جب اس طرح کے لوگ تبصرے پاس، یہ آپ کے بارے میں نہیں ہے۔ یہ ان کی تنگ نظر، عدم تحفظ اور حدود کے بارے میں ہے۔ ان کی سوچ صرف اس تک پہنچ جاتی ہے کہ آپ کس طرح ناکام ہوئے۔ لیکن، وہ کبھی نہیں سوچ سکتے کہ آپ کتنا اچھا اور بہتر کرسکتے ہیں اور آپ کریں گے۔ کبھی کبھی، لوگ اپنی ناکامی کے مایوس کن جذبات پر قابو پا لیتے ہیں، لیکن دوسروں کے دماغ وہاں پھنس جاتے ہیں۔ وہ فیصلہ کرتے ہیں کہ ترقی ناکامی کے بغیر ممکن نہیں۔ زندگی میں کامیابی یہ سیکھنے کا مطالبہ کرتی ہے کہ وہ لوگ جو فیصلہ کرتے ہیں وہ حیرت انگیز کام کر گزرنے کی صلاحیت نہیں دیکھ سکتے ہیں۔

    وہ لوگ جو آپ کو قابل سمجھتے ہیں، آپ کو اپنی تنگ نظری کی کسوٹی پر نہیں پرکھتے۔
    اس وجہ سے آپ کی صلاحیتوں پر شک کرنے والوں سے جہاں تک ممکن ہو قائم رہنا ہی دانش مندی ہے۔ اپنے آپ کو ان مثبت ذہنیت رکھنے والے لوگوں کے ساتھ جوڑ لیں جو ہر بار آپ کو ناکام محسوس نہیں کراتے بلکہ اسے ترقی اور کامیابی کی طرف اپنے سفر میں ایک سنگ میل کے طور پر دیکھتے ہیں۔
    3. اپنے آپ کو حوصلہ افزائی کرنا کسی ناکامی اور ہارنے پر رونے کے بجائے آپ کو فوری طور پر اٹھنے اور اپنے محرک بننے کی ضرورت ہے۔یہ ایک بیوقوفانہ سوچ ہے کہ آپ کسی انسان کے انتظار میں ہیں جو آپ کا ہاتھ پکڑ کر آپ کو اس دلدل سے نکالے گا۔ آپ کو اس حقیقت پر اعتماد کرنا چاہئے کہ آپ اپنے لئے کافی ہیں۔

    اس سلسلے میں ایک بات جو واقعی کام کرتی ہے وہ یہ ہے کہ آرام دہ طریقے سے بیٹھ کر اپنے ساتھ ون ٹو ون گفتگو کی جائے۔ اپنے آپ کو یہ سمجھنے کی ضرورت ہے کہ آپ اپنی صلاحیتوں کو جانتے ہیں، اور کوئی اور نہیں کرتا ہے۔ اب، جب آپ ناکام ہوگئے ہیں، تو آپ جانتے ہیں کہ آپ کو کیا کام کرنے کی ضرورت ہے اور آپ کو کیا حوصلہ افزائی چاہیے . ناکامی کو کامیابی میں تبدیل کرنے کی ضرورت ہے
    ایک اور چیز جو آپ کو dustractions سے بچنے میں معاون ثابت ہو گی وہ یہ ہے کہ زہریلے لوگ، غیر متوازن خوراک ، غیر ضروری منفی باتیں اور زیادہ سوچنا ان تمام باتوں سے خود کو دور رکھا جائے ۔ آپ کو چاہیے آپ ہر وہ چیز چھوڑ دیں جو
    آپکی ہمت کو توڑتی ہے ۔

    Winston Churchill said,
    ” The pessimist sees difficulty in every opportunity ”

    جو کچھ گزر چکا ہے اس پر رونے کی بجائے، ایک دیانت دار اور وفادار جدوجہد اس سے بہتر پیدا کرسکتی ہے جو چھوٹ رہا ہے۔
    کامیابی اور ناکامی ساتھ ساتھ چلتی ہے۔ ایک کے حصول کے لیے دوسرے کو نظرانداز نہیں کیا جا سکتا۔ اس وجہ سے ایک بابرکت اور اطمینان بخش زندگی کا راز اس حقیقت میں مضمر ہے کہ ہمیں ناکامی کو وقار کے ساتھ قبول کرنا چاہیے اور ہار ماننے کی بجائے کوشش کرتے رہنا چاہیے۔

    @saimmustafa9