Baaghi TV

Category: معاشرہ و ثقافت

  • تو یہ نہیں کرسکتا لوگوں کے ناکام ہونے کی سب سے بڑی وجہ .  تحریر: شعیب

    تو یہ نہیں کرسکتا لوگوں کے ناکام ہونے کی سب سے بڑی وجہ . تحریر: شعیب

    ایک سٹوڈنٹ تھا اس کے پیپر قریب تھے وہ اچھے نمبر لینے کے لیے بہت محنت کا رہا تھا ایک رات وہ پڑھتے پڑھتے دیر سے سویا اور اگلے دن وقت پر صبح اٹھ نہ سکا اور کلاس کے لیے لیٹ ہو گیا جب وہ کلاس روم میں پہنچا تو کلاس ختم ہو چکی تھی اور سارے سٹوڈنٹ جا چکے تھے وہ برا لائق سٹوڈنٹ تھا اسے افسوس ہو رہا تھا کہ اس کی کلاس مس ہوگی اس کی نظر بلیک بورڈ پر پڑی تو اس نے دیکھا کہ وہاں دو سوال لکھے ہوئے تھے وہ خوش ہو گیا کہ چلو کلاس تو مس ہوگئی لیکن کم از کم اسائنمنٹ تو نوٹ کرنے کو مل گئی آنے کا کچھ فائدہ تو ہوا اس نے وہ دونوں سوال نوٹ کر لئے اور گھر آ کر اسے حل کرنے میں لگ گیا بڑی محنت کے بعد بالآخر اس نے اسائنمنٹ تیار کر ہی لی اگلے دن وہ ٹیچر کے آنے سے پہلے ہی کلاس روم میں موجود تھا ٹیچر کے آتے ہی اس نے کھڑے ہو کر اسائنمنٹ ٹیچر کے ہاتھ میں تھما دی ٹیچر نے پوچھا کہ یہ کیا ہے سر یہ اسائنمنٹ ہے جو کل آپ نے دی تھی میں نے تو کوئی اسائنمنٹ نہیں دی تھی سر میں کل کلاس کے لیے لیٹ ہو گیا تھا جب میں آیا تو یہ بلیک بورڈ پر سوال لکھے ہوئے تھے میں نے ساری یہی سے نوٹ کئے تھے ٹیچر اس کی بات سن کر حیران رہ گیا وہ سوال تم نے حل کر لیے یہ تم نے کیسے کیا یہ تو ناقابل یقین ہے سر ان میں ایسی کیا خاص بات ھے تھوڑے مشکل ضرور تھے لیکن ان کو تو کوئی بھی حل کرسکتا ہے ارے یہ تو وہ سوال تھے وہ تھیورم تھے جن کو سٹیٹسٹک کی ہسٹری میں آج تک کوئی حل نہیں کر سکا سالوں سے ان کا سلوشن کوئی نہیں نکال سکا میں نے صرف سٹوڈنٹ کو یہی بتانے کے لئے ان کو بلیک بورڈ پر نوٹ کیا تھا اور تم ان کو حل کرکے لے آئے ہو یہ تم نے کیسے کیا یہ تو معجزہ ہو گیا ہے یہ تو ناقابل یقین ہے یہ ایک سچا واقعہ ہے جو 1939 میں پیش آیا تھا اس سٹوڈنٹ کا نام George dantzig تھا جو کہ یونیورسٹی آف کیلیفورنیا میں پڑھتا تھا اور اس کے اسٹیٹسٹک کی کلاس مس ہوگئی تھی اور جو تھیورم جارج نے حل کیے تھے وہ اسٹیٹسٹک تھیورم تھے جن کو آج تک کوئی حل نہیں کر سکا تھا بڑے بڑے قابل لوگ بڑے بڑے پروفیسر ان کا حل نہیں نکال سکے تھے کیا آپ جانتے ہیں کہ وہ تھیورم سالوں سے کوئی حال نہیں کر سکا تھا انہیں ایک عام سے سٹوڈنٹ نے کیسے حل کر لیا جارج نے یہ اس لیئے کرلیا کہ جس وقت جورج انہیں حل کر رہا تھا اس وقت اس کے پاس کوئی نہیں تھا اسے یہ بتانے کے لئے کہ تو یہ نہیں کر سکتا ارے یہ تو بہت مشکل تھیورم ہیں انہیں سالوں سے کوئی نہیں حل کر سکا تو تم کیسے کر لو گے اسے یہ بتانے والا کوئی نہیں تھا.

    زندگی میں ہم بھی جب کوئی کام کرنے لگتے ہیں کوئی کام کرنے کا سوچتے ہیں وہ آئیڈیا ہمارے ذہن میں آتا ہے تو سامنے سے چار لوگ آ جاتے ہیں ہمیں روکنے کے لیے ارے یہ آئیڈیا تو فضول ہے یہ کام تو فلاپ ہے بڑا ہی مشکل ہے تو نہیں کر سکے گا یہ یہ تجھ سے نہیں ہوگا اس کو تو فلاں نے بھی ٹرائی کیا تھا فلاں نے بھی کیا تھا بڑے قابل لوگ تھے وہ تم سے کئی زیادہ قابل تھے وہ نہیں کر سکے تھے تو تم کیسے کر لو گے تم کس کھیت کی مولی ہو.

    شروعات کرنے سے پہلے ہی وہ ہماری ہمت کو توڑ دیتے ہیں کسی کا اگر کوئی پورا اکسپیرئینس ہے کوئی فیل ہو گیا تھا تو کسی کو اگر ناکامی ملی تھی تو اس سے ہمارا کیا لینا دینا اس کی ناکامی کا ہماری کامیابی سے کیا واسطہ ہو سکتا ہے وہ اپنی کسی غلطی کی وجہ سے فیل ہوا ہوں ہو سکتا ہے اس وقت حالات کچھ اور ہوں ہو سکتا ہے اس کو کوئی موقع نہ ملا ہو یا اس نے موقعے سے فائدہ نہ اٹھایا ہوا اس کے ہم ذمہ دار تو نہیں ہیں وہ نہیں کر سکا تو ہم بھی نہیں کر سکتے یہ کہاں کا اصول ہے اگر آپ خود پر یقین رکھیں گے اپنے اندر کے ڈر کو ختم کریں گے اور لوگوں کی باتوں پر کان نہ دھرنا چھوڑ دیں گے تو کوئی آپ کو روک نہیں سکتا کیوں کہ جو صرف ٹھان لیتے ہیں وہ صرف اپنے دل کی مانتے ہیں یہ بات یاد رکھنا اگر آپ کو ہارنے کا ڈر ہے تو آپ ضرور ہاریں گے آپ کو جیتنے کا یقین ہے تو آپ ضرور جیتیں گے.

    @Shabi_223

  • معاشرہ اور بیٹی . تحریر: ام امیمہ (زہرا )

    معاشرہ اور بیٹی . تحریر: ام امیمہ (زہرا )

    حیدر آباد میں کل قتل ہونے والی چار بچوں کی ماں عینی بلوچ کی ایک تصویر نظر سے گزری خوبصورت لڑکی دلہن کے روپ میں اپنی زندگی میں شامل ہونے والے محرم کے ساتھ خوش و خرم نظر آ رہی ہے ۔ساتھ ہی دوسری تصویر تھی جس میں بتایا جا رہا ہے کے محرم بن کر زندگی میں شامل ہونے والا اس سے جینے کا حق چھین گیا ۔

    یاد رکھیے ! نہ تو یہ واقعہ پہلا ہے نہ ہی آخری لیکن قصور وار کہیں نہ کہیں ہم ہی ہیں ۔ بحثیت معاشرہ ہمارے اپنے قوانین ہیں نہ تو ہم اسلام نہ ہی قانون کے پابند ہیں۔ یہ کیا کہے گا وہ کیا کہے گا بیٹی واپس آ گئی اف اب کیا منہ دکھائیں ۔ ایسی ہزاروں باتیں جبکہ اسلام نے تو عورت کو معتبر کیا ۔ بیٹی کو اسلام نے بہت سے حقوق اور رتبے دیے وہ بیٹی جسے اسلام سے قبل زندہ درگور کیا جاتا تھا اسلام نے اسے وارثت میں حقدار ٹہرایا ۔ بیٹی کے ساتھ حسن سلوک پر بہت سی احادیث ہیں جن میں سے ایک یہ ہے

    مفہوم حدیث ہے !
    ” حضرت انس ( رضی اللہ تعالیٰ عنہ) سے روایت ہے ”
    نبی کریم ﷺ کا ارشاد ہے فرمایا
    ” جس شخص کی دو یا تین بیٹیاں ہوں اور وہ ان کی اچھے انداز میں پرورش کرے (اور جب شادی کے قابل ہوں تو ان کی شادی کرے ) تو میں اور وہ جنت میں اس طرح داخل ہوں گے جیسے یہ دو انگلیاں ملی ہوئی ہیں
    (بحوالہ ترمذی ۔باب ماجاء فی النفقہ علی البنات )

    لیکن افسوس ناک پہلو یہ ہے کے ہم نے اسلام اور قانون سے مکمل رو گردانی کی اور اپنی دو اینچ کی مسجد بنا کر بیٹھ گئے ۔
    جہاں بیٹی کی طلاق اور خلع کو ہم نے اپنے ماتھے پر بد نما کلنک سے تعبیر کیا بد قسمتی سے ہمارا معاشرہ بیٹی کی موت تو قبول کرتا ہے لیکن اگر اس کا شوہر اس پر عرصہ حیات تنگ کر دے تو اسے شوہر سے الگ ہو کر جینے کا حق نہیں دیتا

    بہت افسوسناک لیکن تلخ حقیقت یہ ہے
    ” پہلے بیٹی دفنائی جاتی تھی اور اب بھی بہت سی جگہوں پر ایسا ہو رہا ہے فرق اتنا ہے ۔
    اب بیاہی جاتی ہے ”
    ہم اسلام سے محبت کے دعویدار رسول ﷺ کے عشق میں مر مٹنے والے ان کی تعلیمات سے منحرف کیوں ہوے؟
    کیوں ہم بیٹی بہن ماں کو اسلام کے دیئے گئے اصولوں کے مطابق حقوق نہ دے سکے وارثت میں حصہ تو دور کی بات شادی کر کے گھر سے رخصت کرتے وقت واپس نہ آنے کی تاکید ایسے کرتے ہیں
    کے بیٹی سمجھ جاتی ہے اب یہاں واپسی کی گجائش نہیں
    پھر اگربد قسمتی سے شوہر کے روپ میں ظالم جابر شخص مل جائے تو یا تو ہمت ہار کر زندگی کا خاتمہ کرتی ہے ۔وجہ ؟
    "اخلاقی معاشی جذباتی مدد کا نہ ہونا ”
    یا وہ اس ظالم کے ہاتھوں ماری جاتی ہے

    ہاں ! ایک تیسری قسم لڑکیوں کی جو جرات کرتی ہیں ہار نہیں مانتی اور خود اس ظلم سے چھٹکارا حاصل کرتی ہیں
    لیکن یقین جانئے ۔
    وہ جتنی مضبوط پڑھی لکھی اور کمانے والی ہوں یہ معاشرہ ان کو قدم قدم خون کے آنسو رلاتا ہے وجہ ؟
    ان کی زندگی میں شوہر کا نہ ہونا

    تو خدا راہ آئیے !
    خود سے ابتدا کریں خود کو بدلیں اپنی سوچ بدلیں مردہ بیٹی کے بجائے زندہ بیٹی کو کھلی باہوں سے قبول کریں زندگی نے اگر اسے دھوپ میں لا کھڑا کیا اس کے لئے سایہ دار درخت بن جائیں تاکہ پھر کوئی بیٹی قتل نہ کی جائے آئیں اپنے حصے کا چراغ جلائیں

    @zarasani87

  • جھوٹ ۔ تحریر: ہما ہادی

    جھوٹ ۔ تحریر: ہما ہادی

    معاشرے میں تیزی سے پھیلتی برائی۔۔۔۔!!!

    معاشرے میں ہر برائی جھوٹ سے شروع ہوتی ہے
    اگر ہم اپنے اردگرد نظر دوڑائیں تو ہمیں پتہ چل جائے گا کہ اصل چیز جو اس برائی کے پیچھے کار فرما ہے وہ جھوٹ ہی تو ہیں
    اگر بچے والدین کیساتھ اور اپنے بڑے بہن بھائیوں کیساتھ سچ بولنا شروع کرے تو کوئی بھی زانی نہیں بن سکتا نہ کوئی سمگلر ، نہ غنڈہ اور نہ ہی نشئی ایک دفعہ ایک شحص حضرت محمدﷺ کی خدمت میں حاضر ہوا اور کہنے لگا مجھے بہت سی برائیوں کی عادت ہے
    حضرت محمّدﷺ کے استفسار پر کہا میں چوری کرتا ہوں ، زنا کرتا ہوں شراب پیتا ہوں اور بھی بہت سی برائیاں ہے حضرت محمّدﷺ نے اسے جھوٹ چھوڑنے کی نصیحت کر کے رخصت کر دیا اور ایک جھوٹ کو چھوڑنے کی بناء پر اس شخص کی تمام بری عادتیں چوٹ گئی کیونکہ اس نے جھوٹ نہ بولنے کا وعدہ کیا تھا اور اگر وہ سچ بولتا تو سچ اسکے لئے شرمندگی کا باعث بن جاتا ہمارے پیارے نبی حضرت محمدﷺ کا فرمان ہے ”

    میرا امتی ہر گناہ کرسکتا ہے لیکن کبھی کسی کو دھوکا نہیں دے گا اور جھوٹ نہیں بولے گے”
    افسوس کا مقام ہے کہ ہم وہی جھوٹ دھوکہ و فریب سے کام لیتے ہیں
    جس بات کی نہ کرنے کی امید سرور کونینﷺ نے ہم سے رکھی اب ہم وہی کر رہے ہیں
    روزانہ کے لین دین میں جھوٹ بولتے ہیں ایک لمحے کے لئے یہ نہیں سوچتے کہ ہم جس کے امتی ہیں اس عظیم ہستی نے ہم سے کیا کیا امیدیں وابستہ کی ہے؟ جہاں ہمیں یہ لگا کہ سچ بولنے میں نقصان ہوگا تو ہم بلا جھجک جھوٹ بول لیتے ہیں اور پھر اسی جھوٹ کے لئے اور سو جھوٹ بولنے پڑتے ہیں جھوٹ سے انسان اعلیٰ اخلاق کے درجے پر فائز نہیں ہوگا بلکہ معاشرے میں جوبگاڑ پیدا ہوتی ہے اس میں یہ جھوٹ سر فہرست ہے جھوٹ معاشرے میں رونما ہونے والی ہر برائی کی جڑ ہے.

    دکانداروں کی کبھی قیمتوں پر تو کبھی کوالٹی پر جھوٹی قسمیں ہوتی ہے عدالتوں میں جھوٹ بولنا جیسے پاکستانی وکیلوں اور گواہوں کے لئے ایک لازمی چیز بن گئی ہے جسکے نتیجے میں جج کے فیصلے سے حق دار اپنے حق سے محروم ہو جاتا ہے تعلیمی اداروں میں جھوٹ کی جعلی ڈگریاں دینے میں کوئی قباحت محسوس نہیں کرتے بلکہ جی یہ تو انکا حق ہے جو یہ ایک اھل بندے سے چھین کے نا اھل کے ہاتھوں میں سونپ رہے ہیں کچھ لوگ ایک چھٹی کے لئے مختلف جھوٹ بولتے ہے بلکہ کبھی تو حد ہی کر دیتے ہیں زندہ انسان کو مار دیتے ہیں یا پھر مرے ہوئے انسان کو دوسری دفعہ مار دیتے ہیں کچھ لوگ دیر سے پہنچنے پر آرام سے جھوٹ بول لیتے ہیں مختلف اداروں میں وہاں کے ماحول کو مدنظر رکھ کر بہت سے جھوٹ بولے جاتے ہے حلانکہ یہ جانتے ہوئے بھی کہ وہ جھوٹ بول رہا ہے
    اور جھوٹ بولنا گناہ کبیرہ ہے.

    لیکن انکو جب کسی نے بتایا ہوگا تب پتہ چلے گا کہ جھوٹ گناہ کبیرہ ہے جھوٹ سے ہمیں اپنے معاشرے میں زیادہ تر بگڑے ہوئے لوگ ہی ملے گے بچپن سے جب بچے جھوٹ بولنا شروع کرے تو یہ جھوٹ انکی فطرت بن جاتی ہے اور فطرت ناقابلِ تغیر ہے بچوں کو اگر بچپن میں یہ بات سمجھائی جائے کہ چاہے کچھ بھی ہو جتنا بھی نقصان ہو سچ بولنے میں ، تو ہونے دو لیکن جھوٹ نہیں بولنا تو یقین مانے جو ماں باپ پھر یہ رونا روتے ہے کہ میرا بیٹا یا بیٹی غلط کاموں میں پڑ گئے یہ ہر گز نہیں ہوگا کیونکہ جب کبھی ماں باپ اس سے کسی بھی بات کے متعلق پوچھے گے تو وہ بات کو اِدھر اُدھر کرنے کے بجائے سچ بولیں گے جھوٹ سے اجتناب کی بدولت وہ شرمندگی کی ڈر سے کسی غلط کام کا نہیں سوچے گا کیونکہ جھوٹ ایک دو باتوں پر مشتمل نہیں ہوتا بلکہ ایک جھوٹ انسان کی زندگی کو برباد کرنے کا سبب بنتی ہے
    جس بات کے لئے حضرت محمّدﷺ نے منع فرمایا آج کے دور میں یہ ایک عام بات ہے ہربندہ روزانہ کے حساب سے نجانے کتنا جھوٹ بولتے ہیں کبھی یہ سوچا ہے کہ ہم روز محشر کس منہ سے اپنے پیغمبر پاک کے سامنے جائیں گے ہم تو ہر دعا میں حضرت محمّدﷺ کی شفاعت مانگتے ہیں اور یہ نہیں سوچتے کہ ہم کر کیا رہے ہیں؟

    جو طریقے پیغمبر پاک نے بتائیں ہیں کیا ہم اسکے مطابق زندگی گزار رہے ہیں؟ اگر ہم انکے بتائیں ہوئے طریقوں کے مطابق زندگی گزاریں گے تو کیا ہمیں روز محشر انکی شفاعت نصیب نہیں ہوگی؟ ہم انسانوں کے کام اتنے خراب ہے ہمیں تو جھوٹ گناہ ہے والی بات اس وقت یاد آتی ہے جہاں جھوٹ بولنے کا ثواب ملتا ہو ایک گھرانے کو بچانے کے لئے جب سب کچھ بکھرنے والا ہو تو ہم وہاں زرہ برابر جھوٹ نہ بولے کہ یہ تو گناہ ہے حسد بعض میں ایک دوسرے کو نیچا ثابت کرنے کے لئے ہی تو جھوٹ بولتے ہیں کبھی کسی کی بھلائی کے لئے جھوٹ بولتے ہوئے ہمیں یہ یاد آ جاتا ہے کہ جھوٹ گناہ کبیرہ ہے وہ جو دن میں ہم کبھی ماں باپ سے کبھی بہن بھائیوں سے کبھی کسی عزیز رشتے دار سے جھوٹ کے بہانے کر کے جان چھڑاتے ہیں اس وقت وہ جھوٹ جھوٹ نہیں ثواب ہے تو بس ہمارا اللّٰہ ہی مالک ہے
    اللّٰہ پاک ہم سب کو سچ بولنے اور سچ کی راہ پر چلنے کی توفیق عطاء فرمائے.
    {آمین ثمہ آمین}

    @honeykhan_11

  • “ جادو ٹونے اور دم دعا “تحریر۔ جواد خان یوسفزئی

    “ جادو ٹونے اور دم دعا “تحریر۔ جواد خان یوسفزئی

    جادو کی حرمت قران و حدیث سے ثابت ہے۔لیکن کیا عمل جادو ہے اور کیا نہیں، یہ چیز ہمیشہ موضوع بحث رہی ہے۔ کچھ لوگ سفلی اور علوی اعمال کے نام سے اس کو حلال کرنے کی کوشش کرتے ہیں۔
    جادو جیسے اعمال تقریباً ہر معاشرے میں موجود رہے ہیں اور بیشتر مذاہب میں اسے نا پسندیدہ سمجھا گیا ہے۔لیکن جادو کو مذہب سے الگ کرنا بھی ایک مشکل عمل رہا ہے کیونکہ بہت سے مذاہب میں جادو جیسے اعمال شامل ہیں۔مذہب اور جادو کی ایک تعریف ماہرین بشریات کچھ یوں کرتے ہیں:
    "مذہب اپنے آپ کو کسی مافوق الفطرت طاقت کے تابع بنانے کا نام ہے جب کہ جادو کسی ما فوق الفطرت طاقت کو قابو میں لا کر اس سے فائدہ اٹھانے کی کوشش کا”۔
    اسلام بطور مذہب اس تعریف پر بالکل پورا اترتا ہے کیونکہ اسلام کے معنی ہی اطاعت تسلیم کرنے کے ہیں۔ جادو کی مذکورہ تعریف بھی اسلام کے نقطہ نظر سے زیادہ مختلف نہیں۔خود جادو کے اعمال کرنے والے بھی دعویٰ کرتے ہیں کہ وہ جن بھوت، ہمزاد اور شیاطین وغیرہ کو قابو کرکے ان سے مادی فوائد حاصل کرتے ہیں۔
    جب کوئی اس قسم کی کوشش کرتا ہے تو وہ اسلام کے نزدیک مبعوض ہے، قطع نظر اس سے کہ وہ اس مقصد کے حصول کے لیے کس قسم کے یا کس زبان کے کلمات استعمال کرتا ہے۔ قران مجید میں جادو ٹونے اور فال گیری وغیرہ کو بلا استثنیٰ حرام قرار دیا گیا ہے اور اس کی کسی حلال قسم کا ذکر نہیں۔

    قران مجید میں جادو کا ذکر ایک تو سورہ بقرہ میں ہے جہاں اس گمراہ کن خیال کی تردید کی گئی ہے کہ حضرت سلیمان کا جادو ٹونے سے کوئی تعلق تھا۔واضح کیا گیا ہے کہ جادو کفر اور شیاطین کا کام ہے، خدا کا پیعمبر کفریہ کام کیسے کر سکتے تھے۔ اور جو دو فرشتے کچھ ایسے اعمال لوگوں کو بتاتے تھے تو وہ واضح کرتے تھے کہ یہ غلط کام ہے اور تمہاری آزمائش کے لیے ہے۔
    دلچسپ بات یہ ہے کہ قران کی اس قدر وضاحت کے باوجود اب بھی جادو ٹونا کرنے والے سلیمانؑ کا نام کسی نہ کسی طریقے سے اس معاملے سے جوڑنے کی کوشش کرتے ہیں۔
    اس کے علاوہ قران مجید کی آخری دو سورتوں میں جادو کرنے والوں کے شر سے پناہ مانگنے کا حکم دیا گیا ہے۔سورہ فلق میں جھاڑ پھونک کرنے والوں اور سورہ الناس میں وسوسہ ڈالنے والے جنی اور انسی شیاطین کے شر سے بناہ مانگنے کا حکم ہے۔
    سورہ بقرہ کی آیات کو معوذتین سے ملا کر پڑھنے سے جادو ٹونے کے بارے میں کچھ یوں صورت حال سامنے آتی ہے:

    جادو ٹونا ایک شیطانی عمل ہے جس کا کام انسانوں کو خدا سے دور کرنا ہے۔ کوئی پیعمبر(اور اس کا ماننے والا) ایسا کوئی کام نہیں کرسکتا۔ جنی اور انسی شیاطین یہ کام انسانوں کو گمراہ کرنے کے لیے کرتے ہیں۔ جنی شیاطین انسانوں میں سے اپنے ایجنٹ بھرتی کرتے ہیں جن کے ذریعے لوگوں کو جادو ٹونے کی طرف راغب کرنے کی کوشش کرتے ہیں۔ جادو ٹونا اور دم دعا کرنے والے یہی ایجنٹ ہیں۔ جنی شیاطین اپنے ایجنٹوں کو چھوٹی موٹی اطلاعات پہنچاتے ہیں جن کی بنیاد پر وہ لوگوں کا اعتماد حاصل کرتے ہیں۔ مثلاً آپ کسی عامل کے پاس جائیں گے تو وہ آپ کو کچھ ایسی باتیں بتائے گا جو آپ کے علاوہ کسی کو معلوم نہیں۔ یہ باتیں جنی شیطان اسے پہنچاتا ہے۔ ان شیاطین کا ایک وسیع نیٹ ورک ہوتا ہے جو دور دراز تک کام کرتے ہیں۔ لیکن ان کا دائرہ کار بہت محدود ہوتا ہے۔ وہ کسی کو نہ فائدہ پہنچا سکتے ہیں نہ نقصان۔
    بس وسوسہ ڈال کر گمراہ کر سکتے ہیں۔

  • ‏بامقصد تحریراثرکرتی ہے . تحریر: دانش اقبال

    ‏بامقصد تحریراثرکرتی ہے . تحریر: دانش اقبال

    کہتے ہیں معاشرتی براٸیوں پہ کچھ لکھنے کا فاٸدہ نہیں لوگ پڑھنے میں دلچسپی نہیں رکھتے اور جو پڑھتے ہیں وہ اگلے ہی لمحے سب بھلا کے اسی براٸی میں مگن ہو جاتے ہیں. میرا ماننا ہے کہ اپنی کوشش جاری رکھنی چاہیے اور آپ کی تحریر پڑھ کے کوٸی ایک انسان بھی اس براٸی سے توبہ کرلے یا اپنی بری عادت چھوڑ دے تو آپ اپنے مقصد میں کامیاب ہو گۓ.

    میرے ذہن میں میرے ایک دوست کی مثال ہے جو اپنی بیوی سے مار پیٹ کرتا تھا اور فخر سے دوستوں کو بتاتا بھی تھا اور کہتا تھا ایسے رکھتے ہیں بیویوں کو !!!

    پھر ایک دن اس نے کسی خاتون لکھاری کی ایک تحریر پڑھی اس تحریر میں اس خاتون نے خود سے ہونے والی مار پیٹ اور وحشیانہ سلوک کے بارے میں لکھا اور انتہاٸی تکلیف دہ الفاظ میں اس کرب کا اظہار کیا جس سے عورت گزرتی ہے جب مرد اپنی بیوی کو دوست سمجھنے کے بجاۓ اپنی جاگیر یا زرخرید سمجھتا ہے .

    میں نے وہ تحریر پڑھنے کے بعد اس انسان کو کٸ دفعہ روتے دیکھا اور خدا سے معافی مانگتے دیکھا اپنی بیوی سے معافی ملنے کے بعد پرسکون دیکھا اور آج وہ مثالی جوڑی بن کے زندگی گزار رہے ہیں یا یوں کہیں کہ مثالی دوست بن کے ذندگی کا لطف اٹھا رہے ہیں.

    توعرض یہ ہے کہ ضرور لکھیں بامقصد لکھیں اپنے تجربات لکھیں معاشرتی براٸیوں پہ لکھیں اچھی اور بامقصد تحریر اثر کرتی ہے شاید کوٸی براٸی میں گھرا انسان سدھرنے کے لۓ آپکی تحریر کے انتظار میں ہو مطلب اللہ پاک نے وسیلہ آپ کو بنایا ہو.

    اللہ سب کا حامی و ناصر ہو،

    @Ch_danishh

  • اولاد کا غم تحریر:  عائشہ رسول

    اولاد کا غم تحریر: عائشہ رسول

    اولاد ایک بڑی نعمت ہے. جنکی اولاد نہیں ہوتی وہ طرح طرح کے جتن کرتے ہیں. اگر اولاد راہ راست پر نہ ہو یعنی نافرمان ہو تو ایسی اولاد زندگی بھر کے لیے روگ بن جاتی ہے
    دورہ حاضر میں پاکستان میں ہی نہیں پوری دنیا میں ہی اس مسئلے کو لے کر لوگ پریشان ہیں

    اولاد کا غم’ غموں کا بادشاہ ہے جسے بھلایا نہیں جاسکتا’ جب یاد آتاہے تازہ ہو جاتا ہے
    نافرمان اولاد ہو یا بیوی وہ قابل قبول نہیں خواہ وہ نبی کی ہی کیوں نہ ہوں

    اسماعیل علیہ السلام بھی نبی کا بیٹا تھا اور نوح علیہ السلام کا بیٹا بھی نبی کا بیٹا تھا. نوح علیہ السلام کی بیوی بھی نبی کی بیوی تھی اور خدیجۃ الکبریٰ رضی اللہ عنہا بھی نبی کی بیوی تھی جنہیں جبرائیل علیہ السلام سلام بھیجتا تھا. حضرت مریم علیہا السلام بھی نبی ہی کی ماں تھیں.

    ماں کا نیک ہونا اولاد کیلئے فضیلت اور اولاد کا نیک ہونا والدین کیلئے. جو اولاد ماں باپ کی عزت و احترام کا خیال نہیں رکھتی وہ ساری زندگی گرم ریت اور کانٹوں پہ بسر کرتی ہے خواہ اس کے محلات اور دولت کے انبار ہی کیوں نہ ہوں. سکون انکے نصیب میں نہیں ہوتا
    والدین مہمان ہوتے اور اولاد میزبان. قدرت کے نظام میں تبدیلی نہیں آئی اج جو کچھ ہم اپنے والدین کے ساتھ کریں گے کل ہمارے ساتھ بھی ایسا ہی ہوگا

    اولاد جزبات سے سوچتی اور والدین جزبوں سے والدین کے جزبات بہت نازک ہوتے ایسے رویے مت رکھیں کہ والدین منہ بند ہو جائے اور آنکھیں ہونے کے باوجود اپکو دیکھنا بند کر دیں. اس عذاب کا بڑا سخت حساب ہوتا. اللہ تعالیٰ مجھے اور آپ سب کو والدین کا فرمانبردار فرمائے.
    آمین ثم آمین

    @Ayesha__ra

  • ‏ تحریر ۔ ڈاکٹر زونیرا   ریاست ہماری ماں

    ‏ تحریر ۔ ڈاکٹر زونیرا ریاست ہماری ماں

    ہم میں سے بہت سے لوگ اکثر یہ کہتے ہیں ریاست ہمیں کیا دیتی ہے؟؟؟ ہمارے لیے کرتی ہی کیا ہے؟؟؟ 

    کبھی ان لوگوں نے خود سے سوال کیا ہے کہ یہ ریاست کو کیا دیتے ہیں ؟؟؟ یہ ریاست کے لیے کیا کر رہے ہیں ؟؟؟

    من حیث القوم ہم اپنی اصلاح کرنے کی بجائے ہمیشہ ریاستی اداروں کو ہی موردِ الزام ٹھہراتے ہیں۔ 

    کوئی سانحہ رونما ہو جائے تو فوراً کہنا شروع ہوجاتے۔ ریاست سو رہی ہے۔ اس کے بس کی بات ہی نہیں۔ اصل بات یہ ہے کہ ہم اپنی ریاست کے لیے اپنے وطن کے لیے کیا کر رہے ہیں۔ 

    سب سے پہلے تو پراپیگنڈہ کرنے میں ہم لوگ ہی پیش پیش ہوتے ہیں۔ تحقیق کی ہمیں بالکل بھی عادت نہیں ہے۔ بس جس طرف سیاسی مفاد پرست ٹولے ہمیں ہانک دیتے ہم اسی طرف بنا سوچے سمجھے چل پڑتے ہیں۔ 

    اپنا مفاد عزیز ہوتا ہے۔ وطن کے مفاد کی بات آئے تو ریاست ہی ذمہ دار ہے۔ بھارتی عوام اپنی ریاست کے ہر جھوٹ کے ساتھ کھڑی ہوتی ہے مگر افسوس ہماری قوم اپنی ریاست کے سچ کا ساتھ بھی نہیں دیتی۔ غداروں کی جھوٹی باتیں ہی سچ لگتی ہیں۔ اسی روش نے ہمیں سیاسی, مذہبی ٹولیوں میں بانٹ رکھا ہے۔ 

    پاکستان کے سبھی اداروں کا ساتھ دینا پاکستان کا ساتھ دینا ہے۔ تنقید برائے اصلاح کیجیے مگر پراپیگنڈہ نہیں۔ 

    ہماری ریاست کی فلاح اسی میں ہے کہ ہم مخلص ہو کے سبھی اختلافات ختم کر کے اس کے لیے کام کریں۔ اپنے اپنے شعبوں میں اخلاص کے ساتھ,  ایمانداری اور محنت کے جزبے سے کام کریں تاکہ ہمارے ادارے مضبوط ہوں۔ 

    ہماری ریاست ہمارا فخر ہے۔ 

    اللہ ہم سب کا پاکستان کا حامی و ناصر ہو۔ آمین

    ‎@DoctorZunera

  • انصاف کمانا تحریر: عتیق الرحمان

    انصاف کمانا تحریر: عتیق الرحمان

    کسی بھی معاشرے کے بہتر نظام کی بنیادی اکائی انصاف ہے جو امیر اور غریب کے درمیان امتیازی سلوک کے بغیر فراہم کیا جانا چاہیے
    کھانے کے لئے روٹی رہنے کے لئے چھت اور صحت کے لئے دوائی ہر کوئی کسی نا کسی طرح حاصل کرہی لیتا ہے کیونکہ ان سب کے لئے بس ایک شرط ہے وہ ہے محنت
    لیکن انصاف کمایا نہیں جاسکتا بلکہ یہ معاشرے کے فیصلے کن افراد فراہم کرتے ہیں تاکہ معاشرے میں بگاڑ پیدا کرنے والی چیزوں کا تدارک ہوسکے
    بدقسمتی سےپاکستان میں اس سے بلکل اُلٹ ہے
    انصاف فراہم نہیں جا رہا بلکہ لوگوں سے کہا جارہا ہے کہ ہمت ہے تو کماؤ اور حاصل کرلو۔ اب یہاں بات ہے کہ انصاف کمانے سے کیا مراد ہے تو اسکا مطلب ہے خریدنا۔ یعنی جس کے پاس پیسہ ہے وسائل ہیں تو انصاف بھی اسی کو ملے گا ورنہ جس کے پاس یہ سب نہیں ہے وہ مظلوم ہوتے ہوئے بھی سزا کا حق دار کہلائے گا
    اسکی تازہ مثال عبدالمجید اچکزئی ہے جس نے سرعام لوگوں کے سامنے ایک کانسٹیبل کو اپنی لینڈ کروزر کے نیچے روند کر قتل کردیا لیکن عدالت نے فیصلہ دیا کہ ان کے خلاف کوئی ثبوت نہیں لحاظہ انہیں باعزت بری کیا جاتا ہے۔ وہ قتل جسے بیچ چوراہے ہزاروں افراد نے اور سی سی ٹی وی فوٹیج لاکھوں افراد نے دیکھی اسکے خلاف کوئی ثبوت نہیں ملا۔ اسکا کیا مطلب ہوا کہ عبدالمجید اچکزئی نے انصاف کمایا اور کانسٹیبل کے گھر والے کما نہ سکے
    اس سے بدتر مثال یہ کہ تفتیش کرنے والے بھی بک جاتے ہیں۔ گاڑی میں سفر کررہا تھا تو ساتھ والی سیٹ پر سب انسپیکٹر پولیس بیٹھا ہوا تھا۔ اس راستے میں اسے بے شمار کالز آرہی تھی جس سے مجھے اندازہ ہوا کہ کسی ریپ کیس کا تفتیشی آفیسر مقرر ہے یہ۔ پہلی کال مدعی کی آئی جسے جناب نے پیار سے بہلا پھسلا کر نہ جانے کون کون سے میڈیکلز کروانے کا کہہ کے بات ایک ہفتہ آگے کردی اور دوسری کال خود ان افراد کو ملائی جو مجرم تھے اور انہیں کہتا کہ میں جتنا ہوسکتا تھا اتنا آگے کردیا ہے معاملہ تو اب اس بیچ میں معاملات طے کرنے کی کوشش کرو میں صلح نامہ کروا دونگا
    اب ایسے حالات میں مظلوم جائے تو کہاں جائے جس کے پاس نہ وسائل نہ پیسہ نہ کوئی تگڑی سفارش تو وہ ظلم سہہ کہر بھی سزا پاتا ہے
    اللّہ ہمارے منصفوں کو ہدایت نصیب کرے

    تحریر: عتیق الرحمان
    @AtiqPTI_1

  • میرا وطن . تحریر: عائشہ رسول

    میرا وطن . تحریر: عائشہ رسول

    وطن کی مٹی میں جو خوشبو ہے وہ پردیس کے پھولوں میں کہاں ہے. ہم وطن کو برابھلا کہتے ہیں جبکہ وطن نے ہمیں پہچان اور ایمان دیا ہے .میری روح میرے وطن پر قربان. اے میرے وطن! کوئی ہے جو مجھے امن و سلامتی دے مجھے انصاف دے عزت نفس دے میرے بھروسے پر پورا اترے .! اے میرے وطن! میرے حکمرانوں نے میری کشادہ مزاجی چھین لی ہے میں حوصلہ افزائی سے مرحوم کر دیا گیا ہوں میرے زہن کی تمام صلاحیتوں کو مفلوج کر دیا گیا. میں خود پر رو نہیں سکتا.. میرے سوتے خشک ہوگئے ہیں۔ ظلم دیکھ دیکھ کر میری آنکھوں کا نور زائل ہوگیا ہے. اے میرے وطن! تیری کھیتاں صحراوں میں تبدیل ہو نے والی ہیں تو بوند بوند پانی کو ترس جائے گایہ آب فروش حکمران تیری رگوں سے خون نچوڑ لیں گے انکی بانجھ نسلیں ہمارا مستقبل تباہ کردیں گی.

    اے میرے وطن! میرے پاس میری پاس اپنی درد مندی کا علاج نہیں تیرا رزق کھاتے ہیں اور تیرے لیے انکی زبان پر دعا نہیں رعایا اور حاکم کا رشتہ کمزور ہوتا جا رہا ہے… یہ وطن. سے محبت کی کمی کی وجہ سے ہے اے میرے وطن! عزت سے خود کشی بھی کر لوں تو میرے لیے باعثِ فخر ہے ؛ بیگانے دیس میں عیش و عشرت کی زندگی بسر کروں اور وصیت یہ ہو کہ مجھے وطن میں دفن کیا جائے .یہ کتنا بڑا اپنے نفس کے ساتھ دھوکا ہےوطن سے بغاوت ہے وطن کی نافرمانی ہے.

    اے وطن! میں زہنی غلام بن کر نہیں رہنا چاہتا. مجھے اجازت دے کی میں خود کشی کر لوں میں زندہ نہیں رہنا چاہتا جہاں میرے لیے امن و سلامتی اور انصاف نہیں. جہاں میرے پاس انصاف خریدنے کے لیے دولت نہیں میں اپنی عزت نفس بیچ کر بھی زندگی کو امن نہیں دے سکتا
    بتا اے وطن! میرا گناہ کیا ہے یہ کہ میرے آباؤاجداد نے اپنا خون دے کر تجھے حاصل کیا تھا اور آج میں اپنے ہی وطن میں لاوارث ہوں قانون مجھے تحفظ نہیں دے رہا.

    کیا اب بھی میں غلام ہوں غلام زہنی غلام ہوں مجھے اپنے ہی وطن میں بے گناہ مارا جا رہا ہے میں اپنا عقیدہ چھپا رہا ہوں .مجھے عقیدت کے نام پر قتل کیا جا رہا ہے میرا وطن قتل گاہ بن گیا.

    @Ayesha__ra

  • تحریر:مریم صدیق  والدین اور بچوں کے درمیان بڑھتے تنازعاتہ

    تحریر:مریم صدیق والدین اور بچوں کے درمیان بڑھتے تنازعاتہ

    والدین اور بچوں کے درمیان بڑھتے تنازعات آج بھی ایک بہت اہم ملہچو ہے ۔ تاہم انسانی تاریخ کے مختلف ادوار میں اس کی شدت میں بدلاو نظر آتا رہا جیسا کہ روایتی اور صنعتی دور کے آغاز میں نوجوان آزادانہ طور پر اپنے خیالات کا اظہار اور کسی بھی حالت میں ان کا عملی مظاہرہ نہیں کر سکتے تھےلیکن پھر گزرتے وقت اور ترقی کے ساتھ آپس میں خاندانی تعلقات بھی بدلتے رہے اور آزادی رائے عام ہوتی رہی مگر اب بھی پہلے کی نسبت دو نسلوں کے مابین تنازعات زیادہ عام ہیں۔
    دراصل اس مےئلا کی بنیادی وجہ یہ ہے کہ تمام نسلیں اپنے اپنے دور میں رہنا چاہتی ہیں اور ہر دور کا ایک اپنا اصول و اقدار کا نظام ہوتا ہے جوکہ ہر نسل کے لیے بہت اہم ہے جس کا دفاع کرنے کےلیے وہ ہر وقت تیار رہتے ہیں۔ کسی زمانے میں پرانی نسل کی زندگی سے متعلق نظریات کو انسانی وجود کی بنیاد سمجھا جاتا تھا ۔ اب اکثر بچےایک طرف اپنے کنبے کی زندگی کے تجربے کو اپناتے ہیں تو دوسری طرف بڑوں کے دباو سے بھی آزاد ی حاصل کرنے کی کوشش میں لگے رہتے اور سامنے آنے والی ہر چیز کو مسترد کر دیتے ہیں کہ انہیں اپنی زندگی مختف انداز میں گزارنی ہے۔
    دراصل مسئلے کی بنیادی وجہ جنریشن گیپ ہے جس کا اثر دونوں کی سوچ پر مرتب ہوتا ہے۔اور اس مسئلے کا حل نوجوان نسل کی تعلیم اور اخلاقیات میں ہے۔ تعلیم کے معاملات میں سب سے پہلے آزادی رائے سے متعلق آگاہی،پھر شعوری طور پر فیصلے کرنے کی صلاحیت اور ان کے لئے ذمہ دار بننے کی اہلیت ، پھر خود اپنے آپ کو جاننے اوردنیاوی علم حاصل کرنے کی جستجو پر سب سے زیادہ توجہ دی جانی چاہئے۔ اخلاقی تعلیم کے امور خصوصی توجہ کے مستحق ہیں مگر بدقسمتی سے فی الحال نئی نسل زندگی کی اقدار کے بارے میں بالکل مختلف نظریات رکھتی ہے اور یہی وجہ ہے کہ تعلیم اور اخلاقیات کے علم کو معاشرتی طور پر عام ہونا چاہئے۔ جب نئی نسل جوانی کے دور میں داخل ہوتی ہے تو اسے معاشرے میں کئی ماںئل کا سامنا کرنا پڑتا ہے جیسا کہ کرپشن، معاشرتی انصاف اور ثقافتی و معاشرتی ترقی میں کمی اس کا حل نوجوان نسل کو آگاہی دینے اور انکی لاعلمی کو ختم کرنے کی کوششوں سے ہی ممکن ہے تا کہ معاشرے اور ملک میں ثقافت کی سطح کو بلند کیا جا سکے۔
    والدین اور بچوں کے مسائل کی "جنریشن گیپ” کے علاوہ اور بھی بہت سی وجوہات ہیں جو انہیں نفسیاتی طور پر بھی متاثر کر سکتی ہیں۔ اور یہ وجوہات دور کی تبدیلی یا معاشی و معاشرتی ترقی کے برعکس ہر وقت موجود رہتی ہیں۔ اس کی ایک وجہ بچوں اور والدین کے مابین مفادات کا تصادم ہے۔نوجوان خود کو ہر طرح سے قابل سمجھتے ہیں کہ وہ اپنی پریشانیوں کا حل بخوبی نکال سکتے ہیں لیکن والدین کے لیے ان کے بچے ہمیشہ چھوٹے ، ناتجربہ کار رہیں گے جنھیں پہلے کی طرح معاشرے میں موجود خراب اثرورسوخ سے بچانے کی ضرورت ہے۔ فطرتی طور پر والدین تحفظ کے لیےبچوں سے طرح طرح کی گفتگو کرتے ہیں جن کو اکثر ہدایات کے طور پر پیش کیا جاتا ہے اور بچے عام طور پر تنازعے کے اس حل کو مسترد کرتےدیتے ہیں ، کیونکہ انہیں یقین ہوتاہے کہ وہ پہلے ہی کافی عمر کے اور سمجھدار ہو چکے ہیں۔ نوجوان خود ہی مسائل کو حل کرنا اور ان کے لئے خود ذمہ دار بننا چاہتے ہیں۔ یقینا وہ غلط فیصلہ کرسکتے ہیں لیکن یہ سمجھنا ضروری ہے کہ انہی غلطیوں کی وجہ سے وہ اپنی زندگی کا تجربہ حاصل کرتے ہیں۔ لہذا نفسیاتی سطح پر اس مسئلے کا حل دونوں نسلوں کو ہی آنا چاہئے۔ میری رائے میں والدین کو بات چیت کی شکل اور بچے کے ساتھ اپنا رویہ تبدیل کرنا چاہئے ۔ یہ ظاہر کریں کہ وہ ان کے معاملات میں اس کا راستہ روکنے کا ارادہ نہیں رکھتے بلکہ اس کے برعکس ، کسی بھی چیز میں مدد کرنے کے لئے تیار ہیں۔ اور بچوں کو یہ سمجھنا چاہئے کہ ان کو سب سے پہلے والدین کی تندرستی کا خیال رکھنا ہےاور اپنی حد میں رہ کر معاملات کو سلجھانے اور والدین کو سمجھنے کی بھی کوشش کرنی ہے۔
    عمر بڑھنے کا تقاضا یہ ہے کہ آپ نوجوان نسل کی مدد کریں نا کہ ان کے لیے روکاوٹ بنیں اور نا ہی ان کے حریف۔ ان ساری باتوں سے یہی نتیجہ اخذ ہوا کہ "والدین” اور "بچوں” کے مابین مسائل نےنہ صرف بہت سارے تنازعات اور تضادات کو جنم دیا ہے ، بلکہ اسے حل کرنے کے بہت سارے طریقے بھی پیدا کیے ہیں۔

    @MS_14_1