Baaghi TV

Category: معاشرہ و ثقافت

  • ویڈیو اسسٹڈ ایکشن۔ تحریر: ڈاکٹر محمد عمیر اسلم

    ویڈیو اسسٹڈ ایکشن۔ تحریر: ڈاکٹر محمد عمیر اسلم

    دُنیا جیسے جیسے ترقی کر رہی ہے ویسے ہی جدید ایجادات انسانی زندگی میں آسانی پیدا کر رہی ہیں۔ ان جدید ایجادات میں ایک ویڈیو شیئرنگ ٹیکنالوجی بھی ہے۔ آج کے جدید دور میں ویڈیو اسسٹڈ کانفرنس، ویڈیو اسسٹڈ میٹنگز، ویڈیو اسسٹڈ تعلیم اور حتیٰ کہ ویڈیو اسسٹڈ سرجريز بھی ہو رہی ہیں۔ کچھ بعید نہیں کہ مستقبل میں یہ ٹیکنالوجی بہت کچھ بدل دے گی۔ دور دراز علاقوں میں تعلیم، علاج اور کاروبار آسان ہو جائے گا۔

    لیکن ہمارا پیارا پاکستان اِس ٹیکنالوجی کے استعمال میں بھی سب سے آگے ہے۔ آج یہاں ہر چیز ویڈیو اسسٹڈ ہو چکی ہے۔ ہمارا معاشرہ اور تمام ادارے ویڈیو اسسٹنس کے عادی ہو چُکے ہیں۔ جب تک کسی جُرم، ظُلم یا زیادتی کی ویڈیو وائرل نہیں ہوتی مُجرم کے خلاف کوئی ریاستی ادارہ حرکت میں نہیں آتا۔

    گزشتہ دنوں ایک ویڈیو وائرل ہوئی جس میں مدرسے کا ایک استاد اپنے شاگرد کے ساتھ نازیبا حرکات کر رہا تھا۔ لیکن تصویر کا دوسرا رخ اس سے بھی زیادہ قبیح نکلا۔ متاثرہ لڑکا ایک عرصے سے اپنے استاد کی طرف سے زیادتی کا نشانہ بن رہا تھا، لیکن جب اُس نے شکایت کرنے کی کوشش کی تو نہ ہی مدرسہ انتظامیہ نے اور نہ ہی پولیس نے کوئی ایکشن لیا۔ استاد کی گرفتاری کے لیے مجبوراً لڑکے کو ایک ویڈیو بنا کر وائرل کروانی پڑی، پھر جا کر ہمارے ادارے حرکت میں آئے۔

    ہمارے معاشرے میں پنپنے والی چھوٹی بڑی برائیوں کو اُس وقت تک بُرا نہیں سمجھا جاتا جب تک اس برائی کی ویڈیو فیس بک یا ٹویٹر کی زینت نہیں بنتی۔ کچھ عرصہ قبل ایک یونیورسٹی میں ایک لڑکے نے ایک ساتھی لڑکی کو پرپوز کیا۔ یہاں تک تو بات ٹھیک تھی لیکن پروپوزل قبول ہونے کے بعد دونوں نے سرِ عام نازیبا حرکات کی۔ اس واقعہ کی ویڈیو بھی وائرل ہوئی اور جب بہت سارے مہذب شہریوں نے اس واقعے کی تنقید کی تو پھر جا کر یونیورسٹی نے ایکشن لیا۔

    ایک اور واقعہ جو کہ کچھ روز قبل ہی وقوع ہوا تھا، ایک موٹر سائیکل سوار لڑکے نے راہ چلتی لڑکی سے پرس چھینا اور دھکا دے کر گرا دیا۔ اس واقعے کی بھی ویڈیو وائرل ہوئی، ہمارے ادارے حرکت میں آئے اور ایک ہی روز میں ملزم گرفتار ہو گیا۔ تحقیقات سے انکشاف ہوا کہ ملزم کافی عرصے سے یہ کام کر رہا ہے لیکن کبھی پکڑا نہیں گیا۔ اگر اس واقعہ کی ویڈیو وائرل نہ ہوتی تو نا جانے کتنے اور جرم ہوتے۔

    حال ہی میں ایک ویڈیو سکینڈل منظر عام پر آیا۔ با اثر افراد نے ایک جوڑے (کپل) کو مارنے پینے کے ساتھ نہ صرف لڑکی کو برہنہ کیا بلکہ ان سے زبردستی نازیبا حرکات کروائی گئیں۔ اسکے بعد لڑکی کو زیادتی کا نشانہ بنایا گیا اور اس سب کی ویڈیو بنائی گئی۔ یہ واقعہ تقریباً 8 ماہ قبل پیش آیا تھا، اتنے عرصے میں مُجرم کھلے عام گھومتے رہے اور پولیس کو اُنہیں گرفتار کرنے کی توفیق نہ ہوئی۔ شاید اسی لیے لڑکا یا لڑکی میں سے کسی نے پولیس رپورٹ نہیں کی کیوں کہ وہ جانتے تھے کہ اُنہیں انصاف نہیں ملے گا۔ ان کی بھی داد رسی ہوئی لیکن ویڈیو وائرل ہونے کے بعد۔ ویڈیو وائرل ہونے کے کچھ ہی دنوں میں نہ صرف سب مُجرم گرفتار ہو گئے بلکہ ان کے پاس سے ایسی کئی دوسری ویڈیوز بھی برآمد ہوئیں۔

    اگر اس جوڑے کو انصاف کی تھوڑی سی بھی امید ہوتی تو شاید وہ بہت پہلے پولیس کے پاس چلے جاتے۔ لیکن انصاف ملا بھی تو رُسوا ہونے کے بعد۔ بلکہ ابھی انصاف کہاں ملا ہے۔ کچھ دن بعد ہم یہ قصہ بھول بھال کر ایک نئی ویڈیو وائرل کریں گے جیسے ہم سیالکوٹ موٹروے والے واقعے کو بھول چکے ہیں۔ یہ سلسلہ یونہی چلتا رہے گا، ظلم ہوتا رہے گا، ویڈیوز بنتی رہیں گے، ہم واویلہ کرتے رہیں گے اور کچھ دن بعد ایک نئی ویڈیو وائرل ہوتے ہی پچھلے واقعات بھولتے جائیں گے۔

  • تحریر ماریہ بلوچ  عنوان: ناشکرے ہم

    تحریر ماریہ بلوچ عنوان: ناشکرے ہم

    بحثیت انسان مسلمان قوم و امت ہم ناشکرے لوگ ہیں ۔ ہم میسر نعمتوں کا شکر ادا نہیں کرتے اور الٹا جو ہمیں حکمت الہی سے دیا نہیں گیا اسکی طرف دھیان لگائے رکھتے ہیں جب ہم بھوکے ہوتے ہیں ہم خواہش کرتے ہیں بس کہیں سے کچھ بھی کھانے کو مل جائے اور کھانے کے بعد شکر ادا نہیں کرتے بلکہ کہتے ہیں کاش ہمیں کچھ اچھا کھانے کو مل جاتا۔ اور یہی حال ہم تمام نعمتوں کے ساتھ کرتے ہیں ۔
    مجھے ذاتی طور پر اسکی صرف ایک ہی وجہ نظر آتی ہے کہ ہم اللہ کی تقسیم پر راضی نہیں ہوتے ہمیں لگتا ہے جو ہمیں دیا گیا ہے ہم اس سے بہتر کے حقدار تھے۔ نادانستہ ہم اللہ کی حکمت کے منکر ہو رہے ہوتے ہیں۔ قرآن کی ایک مختصر سی آیت میں اللہ نے بہت جامعیت سے بتایا کہ
    "اگر تم شکر کرو گے تو میں تمہیں اور دونگا اور اگر تم نے کفر کرو گے تو عذاب شدید ہے”
    مطلب اگر شکر نہیں تو پھر وہاں کفر ہے ۔۔ کفر کس چیز کا؟؟ کفر اللہ کی نعمتوں کس انکار ہے جو اس نے دی ہیں اور پھر ایسے کفر پر عذاب بھی شدیدکہا۔۔
    بہت حیرت کی بات ہے ہمارے معاشرے میں انفرادی و اجتماعی کفر اس قدر عام ہو چکا ہے کہ اب ہمیں اسکا ادراک بھی نہیں ہوتا۔
    کل 100 روپیہ کمانے والا آج 1000 کما رہا ہے اپنی ضروریات پوری کرنے کے بعد لگثریز کا عادی ہو رہا ہے اور زبان پر ایک ہی کلمہ ہے کیا کریں اخراجات ہی پورے نہیں ہوتے۔ اگر ہم قوم ہیں تو بھی ہمارا یہی حال ہے ہم اپنے ملک میں آذادی سے رہتے ہیں ہمارے جان مال و عزت کو وہ تحفظ اجتماعی طور پر حاصل ہے جس کے لیے ہم نے قربانیوں کی لازوال داستانیں رقم کر کے یہ ملک حاصل کیا تھا لیکن اب ہم اس پر بھی شاکر نہیں ہمیں ہمارے ہی ملک میں نقائص نظر آتے ہیں ہماری نظریں یورپ کے بظاہر ترقی یافتہ مگر اخلاقی اقدار میں پست ممالک پر ہیں۔اور ہم ان جیسا ہونا چاہتے ہیں ۔
    ہمیں اپنا ملک اپنا نظام دیا گیا مگر ہم اسکو نہیں اپنانا چاہتے ناشکرے پن ہی میں ہم اللہ کے نظام کو ناکافی سمجھتے ہیں ہمیں اس میں نقائص نظر آتے ہیں۔۔
    اب بھی وقت ہے ہمارے لیے شکر کو اپنانے کا اپنی انفرادی و اجتماعی زندگیوں میں یہی ہمارے لیے راہ نجات و وسیلہ کامیابی ہے

    Twitter handle: @ShezM__

  • تحریر: تصوّر جٹ  ‏جدیدیت اسلام سے دوری کا باعث

    تحریر: تصوّر جٹ ‏جدیدیت اسلام سے دوری کا باعث

    بے حیائی کیا ہے؟ گناہوں پر شرم نہ محسوس کرنا بلکہ ان کا کھلے عام اعتراف کرنا،  بے حیائی ہے۔

    ہمارا معاشرہ بے حیائی کے اس راستے پر چل پڑا ہے جہاں عروج نہیں بلکہ زوال ہے۔

    جدید دور کے نام پر مسلمانوں کو گمراہ کیا جا رہا ہے اور مسلمان اس گمراہی کو خوشی سے قبول کر رھے ھیں۔

    اگر آج کے دورِ جدید میں دیکھا جائے تو مختلف ایپس نے پوری دنیا میں فحاشی کا بازار گرم کر رکھا ہے۔ جن کی مقبولیت ایسے شیطانی ذرائع ہیں جن کی وجہ سے بے حیائی مسلمانوں کے گھروں تک پہنچ رہی ہے۔ جس کی زد میں آ کر مسلمان اپنی اسلامی اقدار سے دور ہوتے جا رہے ہیں۔

    مسلمان عورتوں میں پردہ اور مردوں میں حیا کا خاتمہ ہوتا جا رہا ہے۔ جس سے کسی بھی معاشرے کو زوال کا شکار ہوتا دیکھ سکتے ہیں۔

    ایسے لوگ جو مسلمانوں کو دین اسلام سے دور اور ان میں بے حیائی و فحاشی کو پھیلاتے ہیں ایسے لوگوں کے بارے میں اللہ تعالیٰ نے قرآن مجید میں ارشاد فرمایا ہے کہ

    “جو لوگ مسلمانوں میں بے حیائی پھیلانے کے آرزو مند رہتے ہیں ان کے لیے دنیا و آخرت میں درد ناک عذاب ہیں، اللہ سب کچھ جانتا ہے اور تم کچھ بھی نہیں جانتے۔”
    مسلمان سمجھ رھے ھیں کہ ھم جدید دور کی طرف جا رہے ھیں لیکن وہ یہ نہیں سمجھ رہے کہ وہ اسلام سے کتنا دُور ہو گئے ہیں

    کبھی کبھی میرے ذہین میں سوال پیدا ہوتا ہے کہ کیا یہ وہی پاکستان ہے جس کو اسلام کے نام پر حاصل کیا تھا ہمارے آباؤ اجداد نے بے شمار جانوں کے نذرانہ پیش کیے تھے۔

    ہم آج پاکستان کو بنانے کا مقصد بُھول گئے ہیں اور دین اسلام سے اتنا دُور چلے گئے ہیں یہ ہم سوچ بھی نہیں سکتے۔

    ہمیں اپنے مقصد کی طرف واپس آنا ہو گا اور اللہ اور اس کے رسولِ کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے بتائے ہوئے طریقے کے مطابق زندگی بسر کرنی ہو گی۔

    اللہ پاک ہم سب کو اپنے حفظ وامان میں رکھے۔ آمین۔

    @T_jutt17

  • معاشرے میں تربیت کا کردار   تحریر : اعزاز شوکت

    معاشرے میں تربیت کا کردار تحریر : اعزاز شوکت

    کوئی معاشرہ بننے میں سب سے اہم کردار تربیت کا ہوتا ہے۔اور معاشرہ اسی کی بناء پر چلتا ہے۔
    جب ایک فرد کا جنم ہوتا ہے تو وہ پہلے جانداروں کی رو میں گنا جاتا ہے ۔پھر وہ حیوانوں اور جانوروں میں گنا جاتا ہے پھر وہ ایک چیز یعنی تربیت جس سے وہ ایک انسان بنتا ہے ۔یہ اُسکی تربیت پر ہوتا ہے کہ وہ ایک اچھا انسان بنے گا يا برا اور اُسکی تربیت میں معاشرے میں اچھے کام کے لیے استعمال ہو گی یا بری۔

    دوسرے جاندار بھی بالکل انسانوں کی طرح رہتے, کھاتے, سوتے اور نسل بڑھاتے ہیں۔ لیکن انسان کی عقل, تعلیم تربیت ,شعور انکو ان سے علحیدہ کرتا ہے. اسلیے اللہ نے انسان کو اشرف المخلوقات کا درجہ دیا ہے۔

    انسان کے پیدا ہونے سے شروع ہونے والی ماں کی دی گئی تربیت تا عمر انسان کے کردار کو متاثر کرتی ہے. انسان کی پہلی درسگاہ اس کی ماں کی گود ہوتی ہے جہاں سے اسکی تعلیم و تربیت شروع ہوتی ہے۔وہاں سے حاصل کی گئی تربیت آگے معاشرے پر اثرانداز ہوتی ہے۔

    معاشرہ خاندانی نظام سے بنتا ہے اور خاندان ایک ایک فرد سے ملکر بنتا ہے. یعنی ایک ایک انسان کو ملا کر پورا معاشرہ تیار ہوتا ہے.اس سے یہ ثابت ہوتا ہے کہ اگر آپکو مہذب معاشرہ چاہیے تو اس کے لیے آپکو مہذب انسانوں کی ضرورت ہے. اور مہذب انسان بننے کے لیے اچھی تربیت ہونا بہت لازم ہے.
    ابتدا میں ماں معاشرے کے بنیادی جز یعنی ایک انسان کی تربیت شروع کر کے معاشرے کی تشکیل شروع کرتی ہے. اب یہ تربیت جتنی زیادہ اچھی ہو گی وہ انسان آپکو بہترین خوش اخلاق معاشرہ دے گا. لیکن اگر کچھ خامی ۔رہ گئی تو معاشرہ کی بربادی کا سبب بنے گی
    تربیت معاشرے کے لیے ریڑھ کی ہڈی کی حیثیت کا کام کرتی ہے۔کسی بھی قوم کی پہچان اسکی تعلیم, تربیت اور اخلاق سے ہوتی ہیں۔
    ہمیں یہ سوچنا ہو گا کہ صرف تعلیم سے ہی انسان کو باشعور باکردار نہیں بنا سکتی بلکہ ساتھ ساتھ تربیت بھی لازم و ملزوم ہے. اگر تعلیم کے ساتھ تربیت نہ ہوگی تو کبھی کوئی معاشرہ عظیم ترین نہیں بن سکتا
    آپ نے دیکھا ہو گا کہ کچھ لوگ کتنی اعلی تعلیم حاصل کر لیتے ہیں، ڈگریوں کی قطار لگا دیتے ہیں، پھر اعلی عہدوں تک پہنچ جاتے ہیں، مگر پھر وہ اخلاق طور پر پست ہوتے ہیں، مہذب نہیں ہوتے۔اتنا پڑھ لکھ کر بھی بد عنوانی بے ایمانی لوٹ مار کرتے ہیں،اور ایسے وہ معاشرے کی تباہی کا سبب بنتے ہیں. اس سے یہ اخذ کیا جا سکتا ہے کہ تعلیم کے ساتھ تربیت کتنی ضروری ہے

    انسان نہ تو پیدائشی شریف ہوتا ہے اور نہ ہی پیدائشی مجرم ،بلکہ یہ اس کی تربیت پر منحصر ہوتا ہے.۔اگر اس کے آس پاس اچھے اخلاق والے لوگ ہیں تو انکی تربیت بھی اچھی ہو گی اور وہ فطری طور پر باشعور بنے گا. اس کے برعکس اگر وہ اچھی تربیت سے عاری معاشرے میں رہے گا تو بلاشبہ وہ بد اخلاق اور برا ہوگا اور معاشرے پر منفی اثر چھوڑے گا

    نچوڑ یہ ہے کہ بہترین معاشرے کے لیے اچھی تربیت ایسے لازم ہے جیسے زندہ رہنے کے لیے سانس ,خوراک اور پانی
    تربیت کا ہمارے معاشرے پر اتنا گہرا اثر پڑتا ہے کہ اگر اچھی تربیت ہو گی تو معاشرے میں امن و سکون ہو گا۔اور اگر بری تربیت ہو گی تو اِس سے نہ صرف اُسکے خاندان والے بلکہ پورا معاشرہ اثر انداز ہو گا۔ہر کوئی ڈر ڈر کر زندگی گزارے گا کیونکہ ایسے لوگ برے کاموں میں ملوث ہو کر لوگوں کو نقصان پہنچاتے ہیں۔
    اگر تربیت اچھی ہو گی تو معاشرہ بھی اچھا ہو گا۔
    لیکن اگر تربیت بری ہو گی تو معاشرے کا نظام درہم برہم ہو جاۓ گا

    @Zee_PMIK

  • انسان کی میں نہیں ختم ہوتی . تحریر : احسن علی بٹ

    انسان کی میں نہیں ختم ہوتی . تحریر : احسن علی بٹ

    آج کے دور میں ہر کوئی کامیاب ہونے کیلئے آگے بڑھنے کیلئے ایک دوسرے کو نیچا دیکھانے کیلئے کوشاں ہیں لیکن حقیقت تو یہ ہے اگر انسان میں "میں” ختم ہوجائے تو کامیابی انسان کے قدم چومے گی لیکن یہاں سب اس کے برعکس ہے یہاں ہر کوئی صرف اپنے ہی گن گاتا ہے کہ میں ہی میں ہوں میرے سے بڑا کوئی دانش وار نہیں، انسان کو دوسروں کی محنت سے سیکھنا چاہیے نہ کہ اس سے حسد اور بعض کرنا چاہیے.

    ہمیں چاہیے ہماری جو بھی منزل ہو ہم اسکو حاصل کرنے کیلئے دل و لگن سے کام کریں اور اسکے لیے ہمیں اپنے اپ کی "میں” کو مارنا چاہیے کوئی بھی انسان مکمل نہیں ہر انسان میں کوئی نہ کوئی غلطی کوتاہی ہوتی ہے اسلیے ہمیں دوسروں سے سیکھنا چاہیے اور سیکھ کر اس پر عمل کرنا چاہیے بہترین انسان وه ہی ہے جس نے سیکھا اور سیکھایا.

    ایک اور بہت اہم چیز دن بہ دن ہمارے میں برداشت اور بردباری کم ہوتی جارہی ہے انسان کو ہمشہ درگزری سے کام لینا چاہیے اور اپنی منزل کی طرف گامزن رہنا چاہیے آئیں آج اس بات کا عزم کرتے ہیں کہ اپنی اندر کی میں کو ختم کر کہ دوسروں کے کام آئیں گے اور جہاں کسی ضرورت مند کو ہماری ضرورت درپیش ہوگی ہم حاضر ہونگے.

    @AhsanAliButtPTI

  • گھریلو تشدد بل کے پاکستانی معاشرے پراثرات . تحریر: عمران خان رند بلوچ

    گھریلو تشدد بل کے پاکستانی معاشرے پراثرات . تحریر: عمران خان رند بلوچ

    میرے معزز قارئین، پاکستان کا قیام دراصل ایک اسلامی فلاحی ریاست کے طور پر عمل میں آیا۔ ہمارے عظیم قائد محمد علی جناح نے اپنی زندگی اس مشن کےلیے وقف کردی کہ مسلمانوں کے لیے اک الگ اسلامی فلاحی ریاست قائم ہو جس میں وہ اسلام کے اصولوں کے مطابق اپنی زندگی گزاریں۔ پاکستانی معاشرے میں گھریلو تشدد بھی ایک حقیقت ہے جسے پس پردہ نہیں ڈالا جاسکتا، اس تشدد کے نتیجے میں کئی گھر ویراں ہوجاتے ہیں،تیزاب گردی کا نشانہ بنی خواتین اپنی باقی ماندہ زندگی میں اصلی صورت کو گنوا دیتی ہیں۔

    لیکن ان واقعات کی روک تھام کےلیے ہمارے معاشرے کی اسلامی اصولوں کے مطابق تربیت کی ضرورت پر زور دیا جانا چاہیے۔
    پاکستانی معاشرے کی اصلاح صرف اسلامی قوانین کو نافذ العمل کرنے سے ہی ممکن ہے نہ کہ مغرب کی تقلید کرنے سے۔ قارئین کرام ہمارے حکمران اک طرف تو ریاست مدینہ کے اصولوں پر عمل پیرا ہونے کی باتیں کرتے ہیں جبکہ دوسری طرف یہ حکومت مغرب کی تقلید کرتی نظر آرہی ہے۔

    اسکی واضح مثال گھریلو تشدد بل کی منظوری ہے۔
    میرے معزز قارئین گھریلو تشدد بل اپریل میں محترمہ شیریں مزاری وزیر برائے انسانی حقوق نے مختلف عالمی تنظیموں کی ایماء پر اس بل کو تشکیل دیا۔اور قومی اسمبلی سے منظور کروا لیا۔ قومی اسمبلی سے منظوری کے بعد یہ بل سینٹ کو بھجوایا گیا۔ ایوانِ بالا نے اس بل میں چند ترامیم کے بعد منظور کر کے واپس قومی اسمبلی کو بھجوا دیا گیا۔

    اس بل کی منظوری کے بعد سے معاشرے کے مختلف طبقات خصوصاً مذہبی جماعتوں کی جانب سے شدید تحفظات کا اظہار کیا گیا ۔
    اس بل میں ہر قسم کے گھریلو تشدد کے خلاف سخت اقدامات کی تجویز دی گئی۔ بل میں کہا گیا کہ گھریلو تشدد کا مرتکب پائے گئے شخص کو زیادہ سے زیادہ تین سال اور کم سے کم چھ ماہ قید کی سزا ہوگی مزید مجرم کو بیس ہزارسے ایک لاکھ روپے تک کا جرمانہ بھی عائد کیا جا سکے گا ۔

    قارئین اس بل کی شق تین میں بیوی کو دوسری شادی یا طلاق کی دھمکی یا بانجھ پن کا طعنہ دینا یا خاتون کے کردار پر شک کرنا یا بیٹے یا بیٹی کی مرضی کو ٹھکرانے یا کسی کو مارنا ، ہراسانی کرنے وغیرہ کو زیادتی قرار دیا گیا ہے۔
    مزید یہ کہ عدالت میں درخواست دائر ہونے کے سات روز کے اندر کیس کی سماعت ہوگی اور نو روز میں فیصلہ سنایا جائے گا۔
    جب اس بل کی مخالفت میں ملک میں احتجاج ہونا شروع ہوئے تو حکومت نے اسے اسلامی نظریاتی کونسل کو بھجوانے کا اعلان کیا۔
    جب اس بل کو اسلامی نظریاتی کونسل کو بھیجا تو سوشل میڈیا پر چند NGO’s کی جانب سے حکومت مخالف ٹرینڈز بننا شروع ہوگئے۔
    فیمینزم اور سیکولر طبقے کی جانب سے اس اقدام کو مذہبی دباؤ کی وجہ قرار دیا گیا۔
    فیمینزم ماہر قانون اوروباستاراحمد نے ٹویٹ میں کہا کہ اسلامی نظریاتی کونسل کی ساخت ہی غیر قانونی ہے جس میں کوئی خاتون شامل نہیں وہ کیسے خواتین کے حقوق کا دفاع کرے گی۔

    جماعت اسلامی کے رہنما سینیٹر مشتاق احمد خان نے بل کے متن میں شامل زیادتی کی ان وضاحتوں پر اعتراض کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ یہ بل ہمارے خاندانی نظام کےلیے ٹائم بم ہے جو ہمارے خاندانی نظام کو تباہ کردے گا۔سینیٹر مشتاق احمد خان ان چند سینیٹرز میں شامل ہے جنہوں نے اس بل کی مخالفت میں ووٹ دیا جبکہ دوسری تمام سیاسی جماعتوں مسلم لیگ ن، پی پی پی اور تحریک انصاف نے س بل کی حمایت میں رائے کا استعمال کیا۔

    سربراہ تحریک بیداری امت مصطفیٰ علامہ جواد نقوی کا کہنا تھا کہ اس قسم کے اقدامات فہم سے بالا ہیں انہوں نے بل کی منظوری پر شدید تشویش کا اظہار کیا ۔ ان کا مزید کہنا تھا کہ اک طرف تو حکومت ریاست مدینہ کے نعرے لگاتی ہے دوسری طرف مغرب کی پیروی کرتے تھکتی نہیں۔

    علامہ جواد نقوی کا کہنا تھا کہ اس بل کے لاگو ہونے سے مغربی بے ہودہ کلچر کو فروغ ملے گا جو کہ اسلامی معاشرے اور خاندانی روایات کے صراصر خلاف ہے۔

    معروف عالم دین مفتی طارق مسعود نے اس بل کی مخالفت میں کہا کہ ایسے قوانین ہماری آنے والی نسلوں کےلیے تباہ کن ثابت ہوں گے۔
    میرے خیال میں حکومت کو چاہیے کہ جلد سے جلد اس بل کو واپس لے اور منسوخ کرنے کا اعلان کرے۔
    حکومت کو ایسے قوانین بنانے سے اجتناب کرنا چاہیے جن کی کوئی واضح ساخت نہ ہو تاکہ اسکا غلط استعمال کم ہو

    @ibaloch007

  • تو یہ نہیں کرسکتا لوگوں کے ناکام ہونے کی سب سے بڑی وجہ .  تحریر: شعیب

    تو یہ نہیں کرسکتا لوگوں کے ناکام ہونے کی سب سے بڑی وجہ . تحریر: شعیب

    ایک سٹوڈنٹ تھا اس کے پیپر قریب تھے وہ اچھے نمبر لینے کے لیے بہت محنت کا رہا تھا ایک رات وہ پڑھتے پڑھتے دیر سے سویا اور اگلے دن وقت پر صبح اٹھ نہ سکا اور کلاس کے لیے لیٹ ہو گیا جب وہ کلاس روم میں پہنچا تو کلاس ختم ہو چکی تھی اور سارے سٹوڈنٹ جا چکے تھے وہ برا لائق سٹوڈنٹ تھا اسے افسوس ہو رہا تھا کہ اس کی کلاس مس ہوگی اس کی نظر بلیک بورڈ پر پڑی تو اس نے دیکھا کہ وہاں دو سوال لکھے ہوئے تھے وہ خوش ہو گیا کہ چلو کلاس تو مس ہوگئی لیکن کم از کم اسائنمنٹ تو نوٹ کرنے کو مل گئی آنے کا کچھ فائدہ تو ہوا اس نے وہ دونوں سوال نوٹ کر لئے اور گھر آ کر اسے حل کرنے میں لگ گیا بڑی محنت کے بعد بالآخر اس نے اسائنمنٹ تیار کر ہی لی اگلے دن وہ ٹیچر کے آنے سے پہلے ہی کلاس روم میں موجود تھا ٹیچر کے آتے ہی اس نے کھڑے ہو کر اسائنمنٹ ٹیچر کے ہاتھ میں تھما دی ٹیچر نے پوچھا کہ یہ کیا ہے سر یہ اسائنمنٹ ہے جو کل آپ نے دی تھی میں نے تو کوئی اسائنمنٹ نہیں دی تھی سر میں کل کلاس کے لیے لیٹ ہو گیا تھا جب میں آیا تو یہ بلیک بورڈ پر سوال لکھے ہوئے تھے میں نے ساری یہی سے نوٹ کئے تھے ٹیچر اس کی بات سن کر حیران رہ گیا وہ سوال تم نے حل کر لیے یہ تم نے کیسے کیا یہ تو ناقابل یقین ہے سر ان میں ایسی کیا خاص بات ھے تھوڑے مشکل ضرور تھے لیکن ان کو تو کوئی بھی حل کرسکتا ہے ارے یہ تو وہ سوال تھے وہ تھیورم تھے جن کو سٹیٹسٹک کی ہسٹری میں آج تک کوئی حل نہیں کر سکا سالوں سے ان کا سلوشن کوئی نہیں نکال سکا میں نے صرف سٹوڈنٹ کو یہی بتانے کے لئے ان کو بلیک بورڈ پر نوٹ کیا تھا اور تم ان کو حل کرکے لے آئے ہو یہ تم نے کیسے کیا یہ تو معجزہ ہو گیا ہے یہ تو ناقابل یقین ہے یہ ایک سچا واقعہ ہے جو 1939 میں پیش آیا تھا اس سٹوڈنٹ کا نام George dantzig تھا جو کہ یونیورسٹی آف کیلیفورنیا میں پڑھتا تھا اور اس کے اسٹیٹسٹک کی کلاس مس ہوگئی تھی اور جو تھیورم جارج نے حل کیے تھے وہ اسٹیٹسٹک تھیورم تھے جن کو آج تک کوئی حل نہیں کر سکا تھا بڑے بڑے قابل لوگ بڑے بڑے پروفیسر ان کا حل نہیں نکال سکے تھے کیا آپ جانتے ہیں کہ وہ تھیورم سالوں سے کوئی حال نہیں کر سکا تھا انہیں ایک عام سے سٹوڈنٹ نے کیسے حل کر لیا جارج نے یہ اس لیئے کرلیا کہ جس وقت جورج انہیں حل کر رہا تھا اس وقت اس کے پاس کوئی نہیں تھا اسے یہ بتانے کے لئے کہ تو یہ نہیں کر سکتا ارے یہ تو بہت مشکل تھیورم ہیں انہیں سالوں سے کوئی نہیں حل کر سکا تو تم کیسے کر لو گے اسے یہ بتانے والا کوئی نہیں تھا.

    زندگی میں ہم بھی جب کوئی کام کرنے لگتے ہیں کوئی کام کرنے کا سوچتے ہیں وہ آئیڈیا ہمارے ذہن میں آتا ہے تو سامنے سے چار لوگ آ جاتے ہیں ہمیں روکنے کے لیے ارے یہ آئیڈیا تو فضول ہے یہ کام تو فلاپ ہے بڑا ہی مشکل ہے تو نہیں کر سکے گا یہ یہ تجھ سے نہیں ہوگا اس کو تو فلاں نے بھی ٹرائی کیا تھا فلاں نے بھی کیا تھا بڑے قابل لوگ تھے وہ تم سے کئی زیادہ قابل تھے وہ نہیں کر سکے تھے تو تم کیسے کر لو گے تم کس کھیت کی مولی ہو.

    شروعات کرنے سے پہلے ہی وہ ہماری ہمت کو توڑ دیتے ہیں کسی کا اگر کوئی پورا اکسپیرئینس ہے کوئی فیل ہو گیا تھا تو کسی کو اگر ناکامی ملی تھی تو اس سے ہمارا کیا لینا دینا اس کی ناکامی کا ہماری کامیابی سے کیا واسطہ ہو سکتا ہے وہ اپنی کسی غلطی کی وجہ سے فیل ہوا ہوں ہو سکتا ہے اس وقت حالات کچھ اور ہوں ہو سکتا ہے اس کو کوئی موقع نہ ملا ہو یا اس نے موقعے سے فائدہ نہ اٹھایا ہوا اس کے ہم ذمہ دار تو نہیں ہیں وہ نہیں کر سکا تو ہم بھی نہیں کر سکتے یہ کہاں کا اصول ہے اگر آپ خود پر یقین رکھیں گے اپنے اندر کے ڈر کو ختم کریں گے اور لوگوں کی باتوں پر کان نہ دھرنا چھوڑ دیں گے تو کوئی آپ کو روک نہیں سکتا کیوں کہ جو صرف ٹھان لیتے ہیں وہ صرف اپنے دل کی مانتے ہیں یہ بات یاد رکھنا اگر آپ کو ہارنے کا ڈر ہے تو آپ ضرور ہاریں گے آپ کو جیتنے کا یقین ہے تو آپ ضرور جیتیں گے.

    @Shabi_223

  • معاشرہ اور بیٹی . تحریر: ام امیمہ (زہرا )

    معاشرہ اور بیٹی . تحریر: ام امیمہ (زہرا )

    حیدر آباد میں کل قتل ہونے والی چار بچوں کی ماں عینی بلوچ کی ایک تصویر نظر سے گزری خوبصورت لڑکی دلہن کے روپ میں اپنی زندگی میں شامل ہونے والے محرم کے ساتھ خوش و خرم نظر آ رہی ہے ۔ساتھ ہی دوسری تصویر تھی جس میں بتایا جا رہا ہے کے محرم بن کر زندگی میں شامل ہونے والا اس سے جینے کا حق چھین گیا ۔

    یاد رکھیے ! نہ تو یہ واقعہ پہلا ہے نہ ہی آخری لیکن قصور وار کہیں نہ کہیں ہم ہی ہیں ۔ بحثیت معاشرہ ہمارے اپنے قوانین ہیں نہ تو ہم اسلام نہ ہی قانون کے پابند ہیں۔ یہ کیا کہے گا وہ کیا کہے گا بیٹی واپس آ گئی اف اب کیا منہ دکھائیں ۔ ایسی ہزاروں باتیں جبکہ اسلام نے تو عورت کو معتبر کیا ۔ بیٹی کو اسلام نے بہت سے حقوق اور رتبے دیے وہ بیٹی جسے اسلام سے قبل زندہ درگور کیا جاتا تھا اسلام نے اسے وارثت میں حقدار ٹہرایا ۔ بیٹی کے ساتھ حسن سلوک پر بہت سی احادیث ہیں جن میں سے ایک یہ ہے

    مفہوم حدیث ہے !
    ” حضرت انس ( رضی اللہ تعالیٰ عنہ) سے روایت ہے ”
    نبی کریم ﷺ کا ارشاد ہے فرمایا
    ” جس شخص کی دو یا تین بیٹیاں ہوں اور وہ ان کی اچھے انداز میں پرورش کرے (اور جب شادی کے قابل ہوں تو ان کی شادی کرے ) تو میں اور وہ جنت میں اس طرح داخل ہوں گے جیسے یہ دو انگلیاں ملی ہوئی ہیں
    (بحوالہ ترمذی ۔باب ماجاء فی النفقہ علی البنات )

    لیکن افسوس ناک پہلو یہ ہے کے ہم نے اسلام اور قانون سے مکمل رو گردانی کی اور اپنی دو اینچ کی مسجد بنا کر بیٹھ گئے ۔
    جہاں بیٹی کی طلاق اور خلع کو ہم نے اپنے ماتھے پر بد نما کلنک سے تعبیر کیا بد قسمتی سے ہمارا معاشرہ بیٹی کی موت تو قبول کرتا ہے لیکن اگر اس کا شوہر اس پر عرصہ حیات تنگ کر دے تو اسے شوہر سے الگ ہو کر جینے کا حق نہیں دیتا

    بہت افسوسناک لیکن تلخ حقیقت یہ ہے
    ” پہلے بیٹی دفنائی جاتی تھی اور اب بھی بہت سی جگہوں پر ایسا ہو رہا ہے فرق اتنا ہے ۔
    اب بیاہی جاتی ہے ”
    ہم اسلام سے محبت کے دعویدار رسول ﷺ کے عشق میں مر مٹنے والے ان کی تعلیمات سے منحرف کیوں ہوے؟
    کیوں ہم بیٹی بہن ماں کو اسلام کے دیئے گئے اصولوں کے مطابق حقوق نہ دے سکے وارثت میں حصہ تو دور کی بات شادی کر کے گھر سے رخصت کرتے وقت واپس نہ آنے کی تاکید ایسے کرتے ہیں
    کے بیٹی سمجھ جاتی ہے اب یہاں واپسی کی گجائش نہیں
    پھر اگربد قسمتی سے شوہر کے روپ میں ظالم جابر شخص مل جائے تو یا تو ہمت ہار کر زندگی کا خاتمہ کرتی ہے ۔وجہ ؟
    "اخلاقی معاشی جذباتی مدد کا نہ ہونا ”
    یا وہ اس ظالم کے ہاتھوں ماری جاتی ہے

    ہاں ! ایک تیسری قسم لڑکیوں کی جو جرات کرتی ہیں ہار نہیں مانتی اور خود اس ظلم سے چھٹکارا حاصل کرتی ہیں
    لیکن یقین جانئے ۔
    وہ جتنی مضبوط پڑھی لکھی اور کمانے والی ہوں یہ معاشرہ ان کو قدم قدم خون کے آنسو رلاتا ہے وجہ ؟
    ان کی زندگی میں شوہر کا نہ ہونا

    تو خدا راہ آئیے !
    خود سے ابتدا کریں خود کو بدلیں اپنی سوچ بدلیں مردہ بیٹی کے بجائے زندہ بیٹی کو کھلی باہوں سے قبول کریں زندگی نے اگر اسے دھوپ میں لا کھڑا کیا اس کے لئے سایہ دار درخت بن جائیں تاکہ پھر کوئی بیٹی قتل نہ کی جائے آئیں اپنے حصے کا چراغ جلائیں

    @zarasani87

  • جھوٹ ۔ تحریر: ہما ہادی

    جھوٹ ۔ تحریر: ہما ہادی

    معاشرے میں تیزی سے پھیلتی برائی۔۔۔۔!!!

    معاشرے میں ہر برائی جھوٹ سے شروع ہوتی ہے
    اگر ہم اپنے اردگرد نظر دوڑائیں تو ہمیں پتہ چل جائے گا کہ اصل چیز جو اس برائی کے پیچھے کار فرما ہے وہ جھوٹ ہی تو ہیں
    اگر بچے والدین کیساتھ اور اپنے بڑے بہن بھائیوں کیساتھ سچ بولنا شروع کرے تو کوئی بھی زانی نہیں بن سکتا نہ کوئی سمگلر ، نہ غنڈہ اور نہ ہی نشئی ایک دفعہ ایک شحص حضرت محمدﷺ کی خدمت میں حاضر ہوا اور کہنے لگا مجھے بہت سی برائیوں کی عادت ہے
    حضرت محمّدﷺ کے استفسار پر کہا میں چوری کرتا ہوں ، زنا کرتا ہوں شراب پیتا ہوں اور بھی بہت سی برائیاں ہے حضرت محمّدﷺ نے اسے جھوٹ چھوڑنے کی نصیحت کر کے رخصت کر دیا اور ایک جھوٹ کو چھوڑنے کی بناء پر اس شخص کی تمام بری عادتیں چوٹ گئی کیونکہ اس نے جھوٹ نہ بولنے کا وعدہ کیا تھا اور اگر وہ سچ بولتا تو سچ اسکے لئے شرمندگی کا باعث بن جاتا ہمارے پیارے نبی حضرت محمدﷺ کا فرمان ہے ”

    میرا امتی ہر گناہ کرسکتا ہے لیکن کبھی کسی کو دھوکا نہیں دے گا اور جھوٹ نہیں بولے گے”
    افسوس کا مقام ہے کہ ہم وہی جھوٹ دھوکہ و فریب سے کام لیتے ہیں
    جس بات کی نہ کرنے کی امید سرور کونینﷺ نے ہم سے رکھی اب ہم وہی کر رہے ہیں
    روزانہ کے لین دین میں جھوٹ بولتے ہیں ایک لمحے کے لئے یہ نہیں سوچتے کہ ہم جس کے امتی ہیں اس عظیم ہستی نے ہم سے کیا کیا امیدیں وابستہ کی ہے؟ جہاں ہمیں یہ لگا کہ سچ بولنے میں نقصان ہوگا تو ہم بلا جھجک جھوٹ بول لیتے ہیں اور پھر اسی جھوٹ کے لئے اور سو جھوٹ بولنے پڑتے ہیں جھوٹ سے انسان اعلیٰ اخلاق کے درجے پر فائز نہیں ہوگا بلکہ معاشرے میں جوبگاڑ پیدا ہوتی ہے اس میں یہ جھوٹ سر فہرست ہے جھوٹ معاشرے میں رونما ہونے والی ہر برائی کی جڑ ہے.

    دکانداروں کی کبھی قیمتوں پر تو کبھی کوالٹی پر جھوٹی قسمیں ہوتی ہے عدالتوں میں جھوٹ بولنا جیسے پاکستانی وکیلوں اور گواہوں کے لئے ایک لازمی چیز بن گئی ہے جسکے نتیجے میں جج کے فیصلے سے حق دار اپنے حق سے محروم ہو جاتا ہے تعلیمی اداروں میں جھوٹ کی جعلی ڈگریاں دینے میں کوئی قباحت محسوس نہیں کرتے بلکہ جی یہ تو انکا حق ہے جو یہ ایک اھل بندے سے چھین کے نا اھل کے ہاتھوں میں سونپ رہے ہیں کچھ لوگ ایک چھٹی کے لئے مختلف جھوٹ بولتے ہے بلکہ کبھی تو حد ہی کر دیتے ہیں زندہ انسان کو مار دیتے ہیں یا پھر مرے ہوئے انسان کو دوسری دفعہ مار دیتے ہیں کچھ لوگ دیر سے پہنچنے پر آرام سے جھوٹ بول لیتے ہیں مختلف اداروں میں وہاں کے ماحول کو مدنظر رکھ کر بہت سے جھوٹ بولے جاتے ہے حلانکہ یہ جانتے ہوئے بھی کہ وہ جھوٹ بول رہا ہے
    اور جھوٹ بولنا گناہ کبیرہ ہے.

    لیکن انکو جب کسی نے بتایا ہوگا تب پتہ چلے گا کہ جھوٹ گناہ کبیرہ ہے جھوٹ سے ہمیں اپنے معاشرے میں زیادہ تر بگڑے ہوئے لوگ ہی ملے گے بچپن سے جب بچے جھوٹ بولنا شروع کرے تو یہ جھوٹ انکی فطرت بن جاتی ہے اور فطرت ناقابلِ تغیر ہے بچوں کو اگر بچپن میں یہ بات سمجھائی جائے کہ چاہے کچھ بھی ہو جتنا بھی نقصان ہو سچ بولنے میں ، تو ہونے دو لیکن جھوٹ نہیں بولنا تو یقین مانے جو ماں باپ پھر یہ رونا روتے ہے کہ میرا بیٹا یا بیٹی غلط کاموں میں پڑ گئے یہ ہر گز نہیں ہوگا کیونکہ جب کبھی ماں باپ اس سے کسی بھی بات کے متعلق پوچھے گے تو وہ بات کو اِدھر اُدھر کرنے کے بجائے سچ بولیں گے جھوٹ سے اجتناب کی بدولت وہ شرمندگی کی ڈر سے کسی غلط کام کا نہیں سوچے گا کیونکہ جھوٹ ایک دو باتوں پر مشتمل نہیں ہوتا بلکہ ایک جھوٹ انسان کی زندگی کو برباد کرنے کا سبب بنتی ہے
    جس بات کے لئے حضرت محمّدﷺ نے منع فرمایا آج کے دور میں یہ ایک عام بات ہے ہربندہ روزانہ کے حساب سے نجانے کتنا جھوٹ بولتے ہیں کبھی یہ سوچا ہے کہ ہم روز محشر کس منہ سے اپنے پیغمبر پاک کے سامنے جائیں گے ہم تو ہر دعا میں حضرت محمّدﷺ کی شفاعت مانگتے ہیں اور یہ نہیں سوچتے کہ ہم کر کیا رہے ہیں؟

    جو طریقے پیغمبر پاک نے بتائیں ہیں کیا ہم اسکے مطابق زندگی گزار رہے ہیں؟ اگر ہم انکے بتائیں ہوئے طریقوں کے مطابق زندگی گزاریں گے تو کیا ہمیں روز محشر انکی شفاعت نصیب نہیں ہوگی؟ ہم انسانوں کے کام اتنے خراب ہے ہمیں تو جھوٹ گناہ ہے والی بات اس وقت یاد آتی ہے جہاں جھوٹ بولنے کا ثواب ملتا ہو ایک گھرانے کو بچانے کے لئے جب سب کچھ بکھرنے والا ہو تو ہم وہاں زرہ برابر جھوٹ نہ بولے کہ یہ تو گناہ ہے حسد بعض میں ایک دوسرے کو نیچا ثابت کرنے کے لئے ہی تو جھوٹ بولتے ہیں کبھی کسی کی بھلائی کے لئے جھوٹ بولتے ہوئے ہمیں یہ یاد آ جاتا ہے کہ جھوٹ گناہ کبیرہ ہے وہ جو دن میں ہم کبھی ماں باپ سے کبھی بہن بھائیوں سے کبھی کسی عزیز رشتے دار سے جھوٹ کے بہانے کر کے جان چھڑاتے ہیں اس وقت وہ جھوٹ جھوٹ نہیں ثواب ہے تو بس ہمارا اللّٰہ ہی مالک ہے
    اللّٰہ پاک ہم سب کو سچ بولنے اور سچ کی راہ پر چلنے کی توفیق عطاء فرمائے.
    {آمین ثمہ آمین}

    @honeykhan_11

  • “ جادو ٹونے اور دم دعا “تحریر۔ جواد خان یوسفزئی

    “ جادو ٹونے اور دم دعا “تحریر۔ جواد خان یوسفزئی

    جادو کی حرمت قران و حدیث سے ثابت ہے۔لیکن کیا عمل جادو ہے اور کیا نہیں، یہ چیز ہمیشہ موضوع بحث رہی ہے۔ کچھ لوگ سفلی اور علوی اعمال کے نام سے اس کو حلال کرنے کی کوشش کرتے ہیں۔
    جادو جیسے اعمال تقریباً ہر معاشرے میں موجود رہے ہیں اور بیشتر مذاہب میں اسے نا پسندیدہ سمجھا گیا ہے۔لیکن جادو کو مذہب سے الگ کرنا بھی ایک مشکل عمل رہا ہے کیونکہ بہت سے مذاہب میں جادو جیسے اعمال شامل ہیں۔مذہب اور جادو کی ایک تعریف ماہرین بشریات کچھ یوں کرتے ہیں:
    "مذہب اپنے آپ کو کسی مافوق الفطرت طاقت کے تابع بنانے کا نام ہے جب کہ جادو کسی ما فوق الفطرت طاقت کو قابو میں لا کر اس سے فائدہ اٹھانے کی کوشش کا”۔
    اسلام بطور مذہب اس تعریف پر بالکل پورا اترتا ہے کیونکہ اسلام کے معنی ہی اطاعت تسلیم کرنے کے ہیں۔ جادو کی مذکورہ تعریف بھی اسلام کے نقطہ نظر سے زیادہ مختلف نہیں۔خود جادو کے اعمال کرنے والے بھی دعویٰ کرتے ہیں کہ وہ جن بھوت، ہمزاد اور شیاطین وغیرہ کو قابو کرکے ان سے مادی فوائد حاصل کرتے ہیں۔
    جب کوئی اس قسم کی کوشش کرتا ہے تو وہ اسلام کے نزدیک مبعوض ہے، قطع نظر اس سے کہ وہ اس مقصد کے حصول کے لیے کس قسم کے یا کس زبان کے کلمات استعمال کرتا ہے۔ قران مجید میں جادو ٹونے اور فال گیری وغیرہ کو بلا استثنیٰ حرام قرار دیا گیا ہے اور اس کی کسی حلال قسم کا ذکر نہیں۔

    قران مجید میں جادو کا ذکر ایک تو سورہ بقرہ میں ہے جہاں اس گمراہ کن خیال کی تردید کی گئی ہے کہ حضرت سلیمان کا جادو ٹونے سے کوئی تعلق تھا۔واضح کیا گیا ہے کہ جادو کفر اور شیاطین کا کام ہے، خدا کا پیعمبر کفریہ کام کیسے کر سکتے تھے۔ اور جو دو فرشتے کچھ ایسے اعمال لوگوں کو بتاتے تھے تو وہ واضح کرتے تھے کہ یہ غلط کام ہے اور تمہاری آزمائش کے لیے ہے۔
    دلچسپ بات یہ ہے کہ قران کی اس قدر وضاحت کے باوجود اب بھی جادو ٹونا کرنے والے سلیمانؑ کا نام کسی نہ کسی طریقے سے اس معاملے سے جوڑنے کی کوشش کرتے ہیں۔
    اس کے علاوہ قران مجید کی آخری دو سورتوں میں جادو کرنے والوں کے شر سے پناہ مانگنے کا حکم دیا گیا ہے۔سورہ فلق میں جھاڑ پھونک کرنے والوں اور سورہ الناس میں وسوسہ ڈالنے والے جنی اور انسی شیاطین کے شر سے بناہ مانگنے کا حکم ہے۔
    سورہ بقرہ کی آیات کو معوذتین سے ملا کر پڑھنے سے جادو ٹونے کے بارے میں کچھ یوں صورت حال سامنے آتی ہے:

    جادو ٹونا ایک شیطانی عمل ہے جس کا کام انسانوں کو خدا سے دور کرنا ہے۔ کوئی پیعمبر(اور اس کا ماننے والا) ایسا کوئی کام نہیں کرسکتا۔ جنی اور انسی شیاطین یہ کام انسانوں کو گمراہ کرنے کے لیے کرتے ہیں۔ جنی شیاطین انسانوں میں سے اپنے ایجنٹ بھرتی کرتے ہیں جن کے ذریعے لوگوں کو جادو ٹونے کی طرف راغب کرنے کی کوشش کرتے ہیں۔ جادو ٹونا اور دم دعا کرنے والے یہی ایجنٹ ہیں۔ جنی شیاطین اپنے ایجنٹوں کو چھوٹی موٹی اطلاعات پہنچاتے ہیں جن کی بنیاد پر وہ لوگوں کا اعتماد حاصل کرتے ہیں۔ مثلاً آپ کسی عامل کے پاس جائیں گے تو وہ آپ کو کچھ ایسی باتیں بتائے گا جو آپ کے علاوہ کسی کو معلوم نہیں۔ یہ باتیں جنی شیطان اسے پہنچاتا ہے۔ ان شیاطین کا ایک وسیع نیٹ ورک ہوتا ہے جو دور دراز تک کام کرتے ہیں۔ لیکن ان کا دائرہ کار بہت محدود ہوتا ہے۔ وہ کسی کو نہ فائدہ پہنچا سکتے ہیں نہ نقصان۔
    بس وسوسہ ڈال کر گمراہ کر سکتے ہیں۔