Baaghi TV

Category: معاشرہ و ثقافت

  • خیبر پختونخوا سیلاب، مرکزی مسلم لیگ کی امدادی سرگرمیوں پر ایک نظر

    خیبر پختونخوا سیلاب، مرکزی مسلم لیگ کی امدادی سرگرمیوں پر ایک نظر

    خیبر پختونخوا کے سرسبز وادیوں کا دل مینگورہ، آج ایک المیہ کی تصویر پیش کر رہا ہے، حالیہ دنوں میں آنے والے شدید سیلاب نے علاقے کو بدترین تباہی سے دوچار کر دیا ہے۔ لوگوں کے گھر، کاروبار، خواب اور زندگی کی ساری رونقیں پانی میں بہہ گئیں۔مینگورہ شہر کا نصف حصہ زیرِ آب آ چکا ہے۔10 ہزار سے زائد مکانات مکمل یا جزوی طور پر تباہ ہو چکے ہیں۔گھروں اور دکانوں میں دس دس فٹ پانی داخل ہوا، جس کے بعد گارا اور کیچڑ نے علاقے کو گندگی کے ڈھیر میں بدل دیا۔ہزاروں لوگ بے گھر ہو چکے ہیں اور کھلے آسمان تلے زندگی گزارنے پر مجبور ہیں۔بجلی، گیس اور پانی کی فراہمی معطل ہے، جبکہ خوراک اور طبی سہولیات کی شدید قلت ہے۔ایسے میں مرکزی مسلم لیگ نے فوری اور منظم امدادی سرگرمیاں شروع کیں،مرکزی مسلم لیگ نے صورتحال کو دیکھتے ہوئے فوراً مینگورہ، بونیر، سوات اور گرد و نواح کے علاقوں میں ریلیف کیمپ قائم کیے۔ ان کیمپوں کے ذریعے روزانہ دو ہزار سے زائد افراد کو پکا پکایا کھانا فراہم کیا جا رہا ہے۔خواتین، بچوں اور بزرگوں کو ترجیحی بنیادوں پر محفوظ مقامات پر منتقل کیا جا رہا ہے۔سیلابی پانی کے باعث علاقے میں الرجی، جلدی امراض اور سانس کی بیماریاں تیزی سے پھیل رہی ہیں۔ ایسے میں مرکزی مسلم لیگ نے مفت میڈیکل کیمپ قائم کیے ہیں۔ماہر ڈاکٹرز اور نرسز پر مشتمل طبی ٹیمیں مختلف شہروں سے متاثرہ علاقوں میں پہنچ چکی ہیں۔اب تک ہزاروں مریضوں کا علاج کیا جا چکا ہے، جن میں بچے، خواتین اور بزرگ شامل ہیں۔متاثرین کو پلاسٹک کی چادریں دی جا رہی ہیں تاکہ وہ بارش سے وقتی پناہ لے سکیں۔مرکزی مسلم لیگ کی جانب سے اب تک 500 سے زائد خاندانوں میں خشک راشن (آٹا، چاول، دالیں، چینی، گھی وغیرہ) تقسیم کیا جا چکا ہے۔مرکزی مسلم لیگ کی جانب سے بچوں کے لیے دودھ، بسکٹس اور دیگر بنیادی ضروریات کی اشیاء بھی فراہم کی جا رہی ہیں۔

    مرکزی مسلم لیگ کے ترجمان تابش قیوم خود مینگورہ میں امدادی سرگرمیوں کی نگرانی کر رہے ہیں۔ ان کا کہنا ہے کہ یہ وقت خدمت کا ہے، سیاست کا نہیں۔ ہمارا مشن ہے کہ متاثرہ افراد کو فوری ریلیف دیا جائے اور ان کی زندگی کو بحال کرنے کی کوشش کی جائے ،مرکزی مسلم لیگ کے ہزاروں نوجوان، مرد و خواتین، بزرگ اور طبی عملہ رضاکارانہ بنیادوں پر سیلاب زدگان کی مدد میں مصروف ہیں۔ وہ گھروں سے کیچڑ نکالنے میں مدد دے رہے ہیں۔متاثرین کو نفسیاتی سہارا اور حوصلہ فراہم کر رہے ہیں۔صفائی ستھرائی، پانی کی نکاسی اور بیماریوں کی روک تھام کے کاموں میں بھرپور حصہ لے رہے ہیں۔لیکن افرادی قوت کی مزید ضرورت ہے، کیونکہ ہر متاثرہ گھر کو دوبارہ رہنے کے قابل بنانا ایک بڑا چیلنج ہے۔ یہ وقت سیاست، قومیت یا مسلک کے فرق کا نہیں، بلکہ انسانیت کے ناطے ایک ہونے کا ہے۔ سیلاب متاثرین آج ہماری مدد کے منتظر ہیں۔ ہمیں چاہیے کہ سیلاب متاثرہ علاقوں میں امدادی کام کرنے والی تنظیموں کی مدد کریں،مالی، طبی یا رضاکارانہ خدمات پیش کریں،سوشل میڈیا پر آگاہی پھیلائیں،دعاؤں کے ساتھ عملی مدد کا بھی مظاہرہ کریں

    مرکزی مسلم لیگ نے مینگورہ اور دیگر متاثرہ علاقوں میں اپنی امدادی سرگرمیوں سے ثابت کیا ہے کہ اگر نیت خالص ہو تو کسی بھی آفت کا مقابلہ کیا جا سکتا ہے۔ مگر یہ جنگ صرف ایک جماعت یا تنظیم کی نہیں، ہم سب کی ہے۔

  • پاکستان ہمیشہ زندہ باد .تحریر۔ بنت حوا

    پاکستان ہمیشہ زندہ باد .تحریر۔ بنت حوا

    آج فیلڈ مارشل جنرل عاصم منیر کا ایک بیان نظر سے گزرا جو کہ 14 اگست کے دن کی مناسبت سے پیغام تھا

    "پاکستان بین المذاہب ہم آہنگی اور مذہبی آزادی کا مظہر بھی ہے، مذہبی اقلیتیں آج بھی ملکی ترقی میں اپنا بھرپور کردار ادا کر رہی ہیں۔”فیلڈ مارشل عاصم منیر

    اس میں کوئی شک یا دو رائے نہیں کہ پاکستان میں ہر مذہب کے لوگوں کو تحفظ حاصل ہے لیکن یہاں مسلمانوں کو خاص کر اہل تشیع کو اپنے عقیدے کے مطابق اجتماع کرنے کی آزادی نہیں بلکہ اہلِ تشیع کو اپنے عقیدے کے مطابق اجتماع کرنے میں مشکلات کا سامنا کرنا پڑتا ہے۔کے پی کے سے لے کر پنجاب تک اربعین واک اور دیگر علامتی اجتماعات پر پابندیاں عائد کی جاتی ہیں۔ ایک طرف داتاصاحب کے عرس مبارک پر ہماری سی ایم صاحبہ کا بیان کہ زائرین کو ہر طرح سکیورٹی فراہم کی جائے اور سبیلیں اور لنگر نیاز دیئے جائیں نے عجیب کیفیت کر دی ،ایک طرف ہماری سی ایم بزرگان دین اللہ کے ولی کے زائرین کے لئے ایسا حکم دے رہی اور دوسری طرف نواسہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ والہ وسلم کے زائرین کی علامتی اربعین واک پر پابندی عائد کردی جاتی ہے اور مسافروں کو کھانا اور سبیل اور پانی دینے والوں کو سخت کارروائی کی دھمکی دی جاتی ہےواک کا آغاز کرونا کی وبا کے وقت ہوا اور چہلم امام حسین علیہ السلام پر جو لوگ نجف سے کربلا جانے کی استطاعت نہیں رکھتے وہ عشق حسین میں یہاں پر ہی پیدل چل کر ضریح عباس،ضریح حسین علیہ السلام پر حاضری دیتے اور عقیدت کا اظہار کرتے ہیں
    یہ نہ تو سیاسی جلوس ہوتا اور نہ ہی اس میں بد امنی ہوتی ہے
    ہر زائر کے لبوں پر صرف عشق حسین علیہ السلام کےاس طرح کے نعرے ہوتے
    "ہے ہماری درسگاہ،کربلا کربلا ”
    لبیک یا حسین علیہ السلام
    سلام شہنشاہ وفا
    جو نہ تو کسی کی دل آزاری کرتے اور نہ ہی کسی کے خلاف بلکہ انسانیت اور وفا کی علامت ہیں لیکن سلام ہے ہماری صوبائی حکومت خاص کر ہمارے وزیر داخلہ محسن نقوی اور ہماری سی ایم صاحبہ پر اور ضلعی انتظامیہ چکوال پر جنھوں نے پیدل چلنے والے افراد کے خلاف دفعہ ایک سو چوالیس کا نفاذ کیا اور کنٹینر لگا کر رستے بلاک کئے اور ٹریفک بلاک کر دی گئی لیکن وہ بھول گئے کہ ایسے اقدامات سے سفر عشق کے مسافر رکتے نہیں اور زائرین کا سفر رکا نہیں لیکن مریضوں اور دوسرے لوگوں کے لئے زندگی مشکل ضرور بن گئی

    ضلعی انتظامیہ چکوال کی کیا بات ہے 12 سے 15 اگست 144 کا نفاذ ہوتا ہے وہ بھی صرف اربعین واک پر باقی پوری تقریبات کو آزادی تھی خود 144 لگا کر پبلک ایونٹ محفل موسیقی پروگرام ہوتا ہے ،13 اگست کو ہی کریالہ کے مقام پر کبڈی میچ ہوتا ہے 14 اگست کھوکھر زیر کبڈی میچ کا انعقاد ہوتا ہے لیکن نہ تو "انصاف پسند "ڈی پی او چکوال اور نہ ہی ڈی سی صاحبہ کو خلاف ورزی نظر آتی ہے ۔زائرین کے لئے پانی اور کھانا دینے پر پابندی ہوتی ہے اور جگہ جگہ زائرین کو کھانا دینے والوں کو تنگ کیا جاتا ہے اور ایک زائر کے گھر سے پکی ہوئی دیگیں اٹھا کر اپنے مہمانوں کو کھلادی جاتی ہیں

    یہ دوہرا معیار کیوں؟ اگر ہمارے اعلی حکام کو سمجھ لگتی تو اربعین واک سے بہت سے لوگوں کو معاشی فائدہ حاصل ہوتا ہے

    لنگر،فروٹ،خشک میوہ جات،پیکٹ والی اشیاء،دودھ دہی غرض ہر طرح کی اشیا خوردو نوش کی خریداری پر فائدہ ہی تھا نقصان نہیں لیکن یہاں دوہرا معیار ہے اس سے نقصان کس کا ہوا ؟حکومت پنجاب اور ضلعی انتظامیہ کے امیج کا کیونکہ جب عوام دیکھتے ہیں کہ ایک طرف اجتماعات کو آزادی ہے اور دوسری طرف اہل بیت کے نام پر نکلنے والے مسافروں کو رکاوٹوں،کنٹینرز اور مقدمات کا سامنا ہے تو پھر مثبت سوچ نہیں رکھی جا سکتی
    اگر ریاست واقعی مذہبی آزادی اور ہم آہنگی چاہتی ہےاور پاکستان کو پر امن،ہم آہنگی،اور یکجہتی کا مرکز دیکھنا چاہتی ہے اسے تمام مسالک،ہر عقیدے کے ساتھ برابری کا رویہ اور یکساں سلوک اپنانا ہوگا بصورتِ دیگر یہ دوہرا معیار نہ صرف عوام کے اعتماد کو کھوکھلا کرے گا بلکہ معاشرتی تقسیم کو مزید گہرا کرے گا اور معاشرتی ہم آہنگی کو نقصان پہنچائے گا
    پاکستان کو زندہ باد کہنا آسان ہے، مگر اس نعرے کو حقیقت بنانے کے لیے تلخ حقائق کا سامنا کرنا اور انصاف کے ترازو کو برابر رکھنا ناگزیر ہے۔

    سوچئے گا ضرور اللہ ہم سب کا حامی و ناصر ہو آمین

  • کیا مسائل کا حل خود کشی ہے .تحریر: انجینیئر علی رضوان چوہدری

    کیا مسائل کا حل خود کشی ہے .تحریر: انجینیئر علی رضوان چوہدری

    ہمارے معاشرے میں اپنے ارد گرد نظر دوڑائیں تو ہمیں ہزاروں کیس ایسے ملیں گے جنہوں نے اپنی زندگی کا خاتمہ کر لیا ۔اپنی ہی زندگی کو اپنے ہی ہاتھوں سے ختم کرنے کے پیچھے کیا مسائل ہو سکتے ہیں ۔آج کل نوجوان نسل جس میں بالکل برداشت ختم ہو گئی ہے ۔محبت اور عشق کے پیچھے اپنے جانوں کو ہی اپنے ہاتھوں سے ختم کر رہے ہیں ۔دوسری بڑی وجہ گھریلو مسائل بے روزگاری اور بڑھتی ہوئی مہنگائی کے پیش نظر خاص کر نوجوان نسل مسائل کے حل کے لیے واحد خودکشی کا راستہ اپنانا شروع ہو گئے ہیں ۔کیا ہمارا معاشرہ ایسے لوگوں کا دست بازو نہیں بن سکتا جو گھریلو مسائل بے روزگاری تنگ دستی کی وجہ سے اپنی زندگیوں کا خاتمہ کر رہے ہیں۔خدارا اپنے ارد گرد نظر رکھیں ایسے لوگوں کا دست بازو بنے ۔

    گزشتہ دنوں ہمارے شہر پیرمحل میں بھی ایک ایسے نوجوان نے اپنی زندگی کا خاتمہ کر لیا ۔جس کا تعلق غریب گھرانے سے تھا۔اس نوجوان کا نام عدنان تھا جو فٹ بال کا پلیئر تھا جو گھریلو مسائل کا شکار تھا اس کے قریبی دوستوں سے پتہ چلا کہ وہ فٹ بال کھیلنا چاہتا تھا لیکن گھر والے اس کو کام کرنے پر فورس کرتے تھے ۔ظاہری بات ہے کہ ہر والدین کی خواہش ہوتی ہے کہ ان کا بیٹا اچھے کام پر لگ جائے روزگار کمانا شروع کر دے ۔لیکن عدنان کافی دنوں سے ڈپریشن کا شکار تھا ۔بس اس نے زہریلی گولیاں کھا کر اپنی زندگی کا خاتمہ کر لیا ۔جب اس کی موت کی خبر سنی تو یقین جانیے کہ رونگٹے کھڑے ہو گئے اور دل بہت افسردہ تھا ۔کہ ہمارے نوجوانوں کو کیا ہو گیا ہے ۔کیا مسائل کا حل خودکشی ہی رہ گئی ہے کیا اس کے بغیر مسائل کو شکست نہیں دی جا سکتی ۔بحیثیت مسلمان ہمیں بھی معاشرے میں رہتے ہوئے اپنی ذمہ داریاں ادا کرنی چاہیے ۔اپنے لیے تو سب ہی جیتے ہیں مزہ تو تب ہے اگر دوسروں کے لیے جیا جائے ۔

    اسلام میں خود کشی کی سختی سے ممانعت کی گئی ہے ہمارے نبی حضرت محمد صلی اللہ علیہ والہ وسلم نے خودکشی کرنے والے کا نماز جنازہ بھی نہیں پڑھایا ۔
    "حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ آپﷺ نے فرمايا: جس نے اپنے آپ كو پہاڑ سے گرا كر قتل كيا تو وہ جہنم كى آگ ميں ہميشہ كے ليے گرتا رہے گا، اور جس نے زہر پي كر اپنے آپ كو قتل كيا تو جہنم كى آگ ميں زہر ہاتھ ميں پكڑ كر اسے ہميشہ پيتا رہے گا، اور جس نے كسى لوہے كے ہتھيار كے ساتھ اپنے آپ كو قتل كيا تو وہ ہتھيار اس كے ہاتھ ميں ہو گا اور ہميشہ وہ اسے جہنم كى آگ ميں اپنے پيٹ ميں مارتا رہے گا۔

    ناامیدی اور امید ایک ساتھ جڑے دو راستے ہیں، جس میں سے امید کا انتخاب خدا کے وہ بندے کرتے ہیں جنہیں اس پر بھروسہ ہوتا ہے۔ زندگی کا سفر چاہے کتنا ہی دشوار ہو ان کی آخرت سنور جاتی ہے۔ اس کے برعکس جو لوگ ناامیدی میں خودکشی کا حرام راستہ اختیار کرتے ہیں، وہ نا تو زندگی کو صحیح طور گزار پاتے ہیں بلکہ اپنی آ خرت بھی تباہ و برباد کر دیتے ہیں ۔
    ان معمولی پیار،عشق اور محبت کی باتوں اور گھریلو مسائل کو سر پر سوار کرکے زندگی کے مقصد کو بھلا دینا سب سے بڑی ناکامی ہے۔
    زندگی خدا کا دیا ہو انمول تحفہ ہے جس کی قدر نا کرنا خدا کی قدرت سے منحرف ہونا ہے۔ میری تو والدین سے صرف اتنی گزارش ہے کہ اپنے بچوں کی خوشیوں کا خیال رکھیں۔

  • خاموش تبدیلی کا سفر،تحریر: اقصیٰ جبار

    خاموش تبدیلی کا سفر،تحریر: اقصیٰ جبار

    ہم اکثر یہ شکایت کرتے ہیں کہ معاشرہ بگڑ چکا ہے، لوگ خود غرض ہو گئے ہیں، رشتے بے معنی ہو چکے ہیں، تعلیم صرف ڈگری کی حد تک رہ گئی ہے، عبادات رسم بن چکی ہیں، اور محبت ایک سودا بن کر رہ گئی ہے۔ یہ تمام مشاہدات کسی حد تک درست بھی ہو سکتے ہیں، مگر سوال یہ ہے کہ ہم ان باتوں کو دہرا کر آخر حاصل کیا کرتے ہیں؟ کیا یہ مسلسل دہرانا دراصل ہماری اپنی بے بسی اور داخلی مایوسی کا اظہار نہیں بن چکا؟

    درحقیقت تبدیلی کبھی شور و غوغا سے نہیں آتی۔ وہ ایک خاموش، مسلسل، اور اندرونی سفر کا نتیجہ ہوتی ہے۔ تاریخ کے بڑے انقلابات نعروں یا ہتھیاروں سے نہیں، نظریات، کردار اور حسنِ عمل سے وجود میں آئے۔ ہمیں یہ سوچنے کی اشد ضرورت ہے کہ اگر ہم خود کو بہتر بنا لیں، تو کیا معاشرہ ویسا ہی بگڑا ہوا رہے گا جیسا ہمیں دکھائی دیتا ہے؟ شاید نہیں۔

    اگر ایک چراغ جلایا جائے تو اندھیرے کو چیرنے کی کوشش شروع ہو جاتی ہے۔ اگر ہر شخص اپنی ذات کے اندھیروں کو پہچان کر اُن سے نبرد آزما ہو، تو مجموعی ماحول خودبخود روشن ہونے لگتا ہے۔ مگر المیہ یہ ہے کہ ہم روشنی پیدا کرنے کے بجائے صرف اندھیروں پر گفتگو کرنے کو "شعور” سمجھ بیٹھے ہیں۔

    ہم دوسروں کی غلطیوں، لغزشوں، اور کمزوریوں پر بڑی روانی سے بولتے ہیں، مگر کیا کبھی خود پر سوال اٹھایا؟ کیا ہم نے کبھی یہ جاننے کی کوشش کی کہ ہم دوسروں کو معاف کرنے کے بجائے، ان کی ایک خطا کو ان کی مکمل شناخت کیوں بنا لیتے ہیں؟ شاید اس لیے کہ خود احتسابی کا راستہ سب سے مشکل مگر سب سے مؤثر ہوتا ہے۔

    تبدیلی کی پہلی اینٹ اپنے اندر جھانکنے سے رکھی جاتی ہے۔ خاموشی سے، بغیر کسی اعلان کے، اپنی سوچ، اپنے عمل اور اپنے رویے کا محاسبہ کیے بغیر اصلاح ممکن نہیں۔ یہ مان لینا ہی پہلا قدم ہے کہ ہم سب سیکھنے کے عمل میں ہیں، کوئی کامل نہیں۔ جب ہم خود میں بہتری کی کوشش کرتے ہیں، تو دوسروں کو بھی بہتر دیکھنے کی امید جاگنے لگتی ہے۔

    کسی کو نصیحت کرنے سے پہلے اُس کی حالت کو سمجھنا سیکھنا چاہیے۔ ہر انسان ایک مکمل کہانی ہے، ایک مکمل جہان — جسے سمجھے بغیر دی جانے والی کوئی بھی نصیحت، چاہے وہ کتنی ہی سچ کیوں نہ ہو، بے اثر ہو جاتی ہے۔ اصلاح کے سب سے مؤثر ذرائع خلوصِ دل، نرم گفتگو، اور حسنِ سلوک ہیں۔

    عبدالستار ایدھی کی مثال ہمارے سامنے ہے۔ نہ کوئی نعرہ، نہ کوئی طعنہ — صرف کردار کی روشنی۔ ان کے خاموش عمل نے ہزاروں زندگیاں بدل ڈالیں۔ ایسے لوگ ہمیں یاد دلاتے ہیں کہ صرف الفاظ کافی نہیں، بلکہ عمل ہی اصل ترجمان ہوتا ہے۔

    آج کے بچے کل کے رہنما ہیں۔ مگر یہ رہنمائی صرف کتابوں سے نہیں، بلکہ ماحول، رویوں، اور مشاہدات سے جنم لیتی ہے۔ اگر ہم چاہتے ہیں کہ نئی نسل ایماندار، بااخلاق اور نرم خو ہو، تو ہمیں خود اپنی زندگیوں میں سادگی، احترام اور دیانت داری کو اپنا معمول بنانا ہوگا۔

    سوشل میڈیا کے شور میں ہمیں لگتا ہے کہ صرف بڑی باتیں اور وائرل جملے ہی تبدیلی لا سکتے ہیں، مگر حقیقت یہ ہے کہ ایک چھوٹا سا عمل، جیسے کسی غم زدہ دل کی خاموش دلجوئی، کسی تھکے چہرے پر مسکراہٹ، یا کسی الجھے ذہن کے لیے ایک مثبت لفظ — یہ سب تبدیلی کی وہ چنگاریاں ہیں جو اگر بھڑک اٹھیں تو انقلاب بن سکتی ہیں۔

    ہمیں ایسے کرداروں کی ضرورت ہے جو چیخے نہ، صرف جئیں؛ جو نصیحت نہ کریں، مگر زندگی میں ایسی سادگی، نرمی، اور سچائی لے آئیں کہ لوگ ان کو دیکھ کر خود اپنی اصلاح کا سفر شروع کر دیں۔

    ہمیں اپنے رویّوں، لہجوں، گفتگو اور سوچ کے زاویوں پر نظرثانی کرنی ہو گی۔ اصلاح کا راستہ بلاشبہ طویل اور مشکل ہے، مگر یہی وہ واحد راستہ ہے جس پر چل کر ہم ایک ایسا معاشرہ تشکیل دے سکتے ہیں، جہاں محبت الزام سے بالاتر ہو، رشتے مفاد سے آزاد ہوں، اور اخلاق کسی رسم کا محتاج نہ ہو۔

    آخر میں صرف اتنا کہنا کافی ہو گا کہ:
    "اصلاح ایک آواز نہیں، ایک طرزِ زندگی ہے۔”
    اگر ہم اسے خاموشی سے اپنا لیں تو تنقید کے بغیر بھی بہت کچھ بدل سکتا ہے۔

  • خواتین کی نازیبا ویڈیو،قانون کے رکھوالے درندے کیوں؟ تجزیہ:شہزاد قریشی

    خواتین کی نازیبا ویڈیو،قانون کے رکھوالے درندے کیوں؟ تجزیہ:شہزاد قریشی

    یہ سارے پارسا چہرے میری تسبیح کے دانے ہیں،
    کیا مقدمہ درج کرنے سے انصاف مکمل ہوگیا،سخت احتساب کرنا ہوگا
    راولپنڈی کے بڑے کہاں سو گئے،فون کال لینا بھی گوارا نہیں کرتے
    نازیبا ویڈیو کس کو دی گئیں معاملے کی تہہ تک جانا ہوگا کیاشہیدوں کے شہر کی خواتین معاف کریں گی؟
    تجزیہ ،شہزاد قریشی
    بلوچستان کے ایک سردار کی عدالت کے فیصلے پر خاتون کے بارے میں ابھی سینہ کوبی کر رہے تھے کہ راولپنڈی اور اسلام آباد سے 30 کلومیٹر شہر گوجرخان جس کو شہیدوں اور غازیوں کا درجہ حاصل ہے وہاں کی سینکڑوں خواتین کی نازیبا ویڈیوز بنانے والے پولیس اہلکار اور ایک ٹیچر کو بلیک میل کرنے والے پولیس اہلکار کی دو ایف آئی آرز سامنے آنے پر سر شرم سے جھک گیا پنجاب اور بالخصوص راولپنڈی پولیس کے اعلی افسران جو کسی نہ کسی اعلی شخصیت کی سفارش پر تعینات ہیں ایک سوالیہ نشان ہے آئی جی پنجاب ڈاکٹر عثمان بلا شبہ پولیس اور عوام کے درمیان دوستی کا رشتہ بنانے کے لیے لاتعداد اقدامات کر رہے ہیں جبکہ اس سلسلے میں وزیراعلی پنجاب مریم نواز بھی روزانہ کی بنیاد پر اقدامات کر رہی ہے حیرانگی اس بات پر ہے کہ جس ہسپتال میں یہ شرمناک واقعہ ہوا اس ہسپتال میں 32 سی سی ٹی وی کیمرے موجود ہیں کہا جاتا ہے کہ 26 کیمرے عرصہ دراز سے خراب ہیں اور چھ عدد کیمرے ٹھیک ہیں ضلعی ہیلتھ افسران پر بھی سوالیہ نشان ہے کہ وہ کس قدر ذمہ دار ہیں اور اپنی وزیراعلی کے حکم پر وہ کس قدر عمل کرتے ہیں،

    مقامی پولیس کی حالت یہ ہے کہ انہوں نے دو پولیس اہلکاروں کے خلاف مقدمہ درج کر کے شام کو جیل بھیج دیا تفتیش کرتے کہ وہ اہلکار عورتوں کی نازیبا ویڈیو بنا کر اتنی بڑی تعداد میں کس کو دیتا تھا؟ کوشش کے باوجود کہ آر پی او راولپنڈی اور سی پی او راولپنڈی کا اس سلسلے میں موقف لیا جائے لیکن دونوں ذمہ داران افسران فون کال ہی کسی کی نہیں سنتے تاہم نہ جانے راولپنڈی کو کس کی نظر کھا گئی جرائم کے حوالے سے بھی راولپنڈی کی خبریں اعلی پولیس افسران کے لیے سوالیہ نشان ہیں؟ اگر گوجرخان کے اس شرمناک واقعہ کو لے کر ایف آئی اے سائبر کرائم وزیراعلی پنجاب سپریم کورٹ آف پاکستان دیگر ذمہ داران ریاست کو نوٹس لینا چاہیے اس تحصیل کی ماؤں نے ملک و قوم کی خاطر اپنے بیٹوں کو شہید کروایا اور شہید ہو رہے ہیں کیا اس کا صلہ یہ ہے کہ اس تحصیل کی ماؤں بیٹیوں کی نازیبا ویڈیو بنائی جائیں؟ وہ بھی ایک سرکاری ہسپتال میں جو علاج معالجہ کے لیے دور دراز دیہات سے گوجرخان شہر کے سرکاری ہسپتال کا رخ کرتی ہیں.

    افسوس صد افسوس اس پر جتنا ماتم کیا جائے وہ کم ہے معاملے کی نزاکت کو مدنظر رکھتے ہوئے انکوائری متعلقہ ڈسٹرکٹ ہیلتھ اتھارٹی راولپنڈی اور متعلقہ ضلع کے ڈاکٹرز کی زیر نگرانی نہیں ہونی چاہیے سی ایم پنجاب انکوائری ٹیم دوسرے اضلاع کی ڈسٹرکٹ ہیلتھ اتھارٹی کے ڈاکٹرز کی تشکیل دے کر صاف اور شفاف انکوائری کروانے میں اپنا کلیدی کردار ادا کریں محکمہ پولیس راولپنڈی کے اعلی افسران اور محکمہ ہیلتھ کے افسران کہ اس دلخراش واقعہ کو لے کر بقول شاعر
    یہ سارے پارسا چہرے میری تسبیح کے دانے ہیں
    نظر سے گرتے رہتے ہیں عبادت ہوتی رہتی ہے

  • میں خود معاشرہ ہوں

    میں خود معاشرہ ہوں

    "میں خود معاشرہ ہوں،مگر میں اپنی برائی چھپا کر دوسروں کی نشاندہی کرتا ہوں”
    تحریر:ملک ظفراقبال بھوہڑ
    آج ہم اپنے معاشرے کے وہ خدوخال آپ کے ذوقِ مطالعہ کے لئے رکھیں جو یقیناً آپ کو بھی اچھے لگیں گے مگر عملاً کچھ نہیں ہوگا کیونکہ یہ انسانی فطرت ہے کہ ہم دوسروں پر تنقید کرتے ہیں مگر اپنے گریبان میں جھانکنے سے گریزاں ہیں ۔جی ہاں یہ ایک ایسا آئینہ ہے جس میں ہر شخص کو اپنا چہرہ دیکھنا چاہیے۔ معاشرتی اصلاح کی راہ اسی وقت کھلتی ہے جب انسان اپنی ذات کا محاسبہ کرے، بجائے اس کے کہ ہر وقت دوسروں پر انگلی اٹھائے۔
    میں خود معاشرہ ہوں، مگر میں اپنی برائی چھپا کر دوسروں کی نشاندہی کرتا ہوں مگر ہمیں ضرورت کس چیز ہے۔

    خود احتسابی کی ضرورت . جواصلاح کی پہلی شرط
    ہم اکثر کہتے ہیں کہ ہمارا معاشرہ بگڑ گیا ہے، لوگ برے ہو گئے ہیں، ایمانداری ختم ہو گئی ہے، اور اخلاقیات ناپید ہو چکی ہیں۔ لیکن یہ "معاشرہ” کون ہے؟ یہ لوگ کون ہیں؟ اگر ہم غور کریں تو جواب واضح ہے — "یہ معاشرہ میں خود ہوں، آپ خود ہیں، ہم سب ہیں۔”
    مگر سچ یہ ہے کہ ہم میں سے اکثر لوگ دوسروں کی برائیوں پر تو تنقید کرتے ہیں، مگر جب اپنی باری آتی ہے، تو ہم یا تو خاموش ہو جاتے ہیں یا دفاع میں آ جاتے ہیں۔ ہم دوسروں کے جھوٹ، فریب، کرپشن، ریاکاری اور بدتمیزی پر تو چیختے ہیں، مگر اپنے جھوٹ، چغل خوری، حسد، بغض اور خود غرضی کو "چالاکی” یا "مجبوری” کا نام دے دیتے ہیں۔
    اسلامی تعلیمات کی روشنی میں خود احتسابی کیا ہے
    اسلام نے فرد کو معاشرے کی اصلاح کا پہلا قدم قرار دیا۔ قرآن و حدیث میں بارہا "نفس کا محاسبہ” کرنے کی تاکید کی گئی ہے۔

    قرآن:
    "يَا أَيُّهَا الَّذِينَ آمَنُوا عَلَيْكُمْ أَنْفُسَكُمْ…”
    (سورۃ المائدہ: 105)
    ترجمہ: "اے ایمان والو! اپنی ذات کی فکر کرو…”
    حضرت عمر بن خطابؓ کا قول:
    "اپنا محاسبہ کرو قبل اس کے کہ تمہارا محاسبہ کیا جائے…”

    حدیث نبوی ﷺ:
    "مومن اپنی خطاؤں پر نگاہ رکھتا ہے، اور منافق دوسروں کی برائیاں تلاش کرتا ہے۔”
    دوسروں کی نشاندہی، اپنی برائی سے فرار ہے
    ہم دوسروں کو نصیحت کرنے کے شوقین ضرور ہیں، مگر خود عمل سے محروم ہیں
    ہم کہتے ہیں لوگ جھوٹ بولتے ہیں،
    مگر خود سچ چھپاتے ہیں۔
    ہم کہتے ہیں لوگ بدعنوان ہیں،
    مگر خود سفارش اور رشوت کو "ترجیحات میں شامل کرتے ہیں
    ہم کہتے ہیں قوم تباہ ہو رہی ہے،
    مگر خود وقت، بجلی، پانی، وسائل ضائع کرتے ہیں۔
    ہم کہتے ہیں: نوجوان بگڑ گئے ہیں،
    مگر ان کے سامنے ہم نے کون سی اچھی مثال قائم کی؟
    اصلاح کا آغاز خود سے تو معاشرے میں مثبت تبدیلیاں رونما ہو سکتی ہیں

    اگر ہر فرد یہ سوچ لے کہ:
    مجھے سچ بولنا ہے، چاہے نقصان ہو
    مجھے اپنا وعدہ نبھانا ہے، چاہے مشکل ہو
    مجھے اپنے اندر کی کینہ پروری اور خود غرضی کو ختم کرنا ہے
    مجھے تنقید سے پہلے اپنا کردار درست کرنا ہے
    تو صرف ایک شخص کی اصلاح نہیں ہوگی، بلکہ ایک نیا معاشرہ جنم لے گا۔
    آئیں چند عملی قدم خود کو بدلنے کے لیے استعمال کرتے ہیں

    روزانہ اپنا محاسبہ کریں:
    آج میں نے کیا غلط کام کیا؟ کسی کا دل تو نہیں دکھایا؟ کوئی وعدہ توڑ تو نہیں دیا؟
    تنقید سے پہلے خود پر نظر ڈالیں۔
    جو بات میں دوسروں کو کہہ رہا ہوں، کیا وہ مجھ پر بھی لاگو ہوتی ہے؟
    سوشل میڈیا پر دوسروں کو نہیں، خود کو درست کریں:
    کسی پر تنقیدی پوسٹ لگانے سے پہلے سوچیں کہ میں خود کہاں کھڑا ہوں؟
    اپنے بچوں، شاگردوں یا کارکنوں کے سامنے اپنی اصلاحی مثال بنیں۔

    معافی مانگنا سیکھیں:
    اپنی غلطی تسلیم کرنا کمزوری نہیں، بلکہ انسانیت کی معراج ہے۔
    ہم سب چاہتے ہیں کہ معاشرہ بہتر ہو، لوگ نیک ہوں، جھوٹ، فریب، کرپشن ختم ہو۔
    لیکن اگر ہم خود کو تبدیل نہیں کرتے، اور صرف دوسروں کی کمزوریوں کو نشانہ بناتے ہیں، تو یہ رویہ معاشرتی بگاڑ کو اور بڑھائے گا۔
    یاد رکھیں،
    "معاشرہ وہ نہیں جو ہم تنقید سے بدلیں، بلکہ وہ ہے جو ہم کردار سے سنواریں۔”

    لہٰذا، آئیں آج سے عہد کریں:
    "میں خود معاشرہ ہوں، اور تبدیلی کا آغاز میں خود سے کروں گا!”
    امید ہے آپ کو آج کا موضوع پسند آیا ہوگا اور تبدیلی بھی انشاء اللہ

  • جب اسلام گواہ ہو، اور معاشرہ قاتل، تحریر؛ اقصیٰ جبار

    جب اسلام گواہ ہو، اور معاشرہ قاتل، تحریر؛ اقصیٰ جبار

    ہم ایک ایسے سماج میں سانس لے رہے ہیں جہاں نکاح، جو قرآن کی رو سے عبادت ہے، معاشرتی عزت کے "قانون” کے خلاف جائے تو جرم بن جاتا ہے۔ جہاں بیٹی کا مسکرانا گوارا ہے، مگر اس کا فیصلہ کرنا ناقابلِ برداشت۔ جہاں بیٹی کے ہاتھ میں اگر قرآن ہو بھی، تب بھی اس کے حقِ انتخاب پر گولی حلال اور محبت حرام سمجھی جاتی ہے۔

    حالیہ دنوں ایک ایسا لرزہ خیز واقعہ پیش آیا، جس میں ایک جوڑے کو، جو مکمل شرعی نکاح کے ساتھ اپنی زندگی گزار رہے تھے، ایک قبائلی غیرت کے نام پر موت کے گھاٹ اتار دیا گیا۔ انہیں خوشی کی تقریب کے بہانے بلایا گیا، مگر وہ دعوت کھانے کی نہیں تھی، وہ غیرت دکھانے کی تھی۔ قرآن کے سائے میں بندوقوں کے سامنے کھڑے کیے گئے ان دو انسانوں نے موت کو سامنے دیکھا، مگر پیچھے نہیں ہٹے۔ لڑکی کے ہاتھ میں قرآن تھا، اور زبان پر سکوت۔ اس نے بس اتنا کہا: "صرف گولی مارنے کی اجازت ہے۔”

    یہ جملہ فقط ایک جملہ نہیں تھا، یہ پوری صدیوں پر محیط خاموش چیخ تھی—اس چیخ سے بلند، جو مظلوم عورتوں نے آج تک کبھی نہ نکالی۔ لیکن جو نکاح کے دائرے میں اپنی مرضی سے جینا چاہے، اس کے لیے نہ چیخ کا حق ہوتا ہے، نہ رحم کی کوئی گنجائش۔

    ہمیں سوچنا ہوگا:
    اگر نکاح جرم بن جائے،
    اور محبت گناہ،
    تو پھر دین کی کون سی بنیاد سلامت رہے گی؟

    قرآن مجید سورۃ النساء کی تیسری آیت میں واضح ارشاد فرماتا ہے:
    "فَانكِحُوا مَا طَابَ لَكُم…”
    "نکاح کرو ان عورتوں سے جو تمہیں پسند آئیں۔۔۔”

    یہ آیت دونوں فریقین کے انتخاب کی آزادی کو تسلیم کرتی ہے۔ نہ صرف مرد کو، بلکہ عورت کو بھی یہ حق دیا گیا ہے کہ وہ نکاح کے فیصلے میں اپنی پسند کو مقدم رکھے۔ یہ شریعت کا دیا ہوا اختیار ہے، نہ کہ کوئی مغربی نظریہ یا غیر شرعی دعویٰ۔ مگر افسوس، ہمارے قبائل، ہمارے معاشرتی ادارے، اور بعض اوقات ہمارے گھروں کے در و دیوار بھی اس اختیار کو بغاوت سمجھتے ہیں۔

    اصل مسئلہ غیرت نہیں، بلکہ اختیار کا ہے۔ عورت کے فیصلے کو تسلیم کرنا، ایک ایسی برابری ہے جو مردانہ انا کو قبول نہیں۔ اسی لیے جب کوئی عورت اپنی مرضی کا اظہار کرتی ہے، تو یہ "غیرت کے خلاف” گناہ قرار پاتا ہے۔ اور اس گناہ کا کفارہ صرف موت ہے—وہ بھی زندہ گواہیوں کے سامنے۔

    اسلام میں غیرت کا مفہوم عزت، حیاء، اور طہارت سے جڑا ہوا ہے۔ مگر ہم نے اسے بندوق، قتل اور دھمکی سے منسلک کر دیا ہے۔ غیرت اب ایمان کا جزو نہیں رہی، بلکہ مردانگی کے زخم پر رکھی جانے والی پٹی بن چکی ہے۔ جس کی تہذیب، تربیت اور تقویٰ سے کوئی نسبت نہیں۔

    سوال یہ نہیں کہ صرف ایک بیٹی ماری گئی۔ سوال یہ ہے کہ جس معاشرے میں قرآن کے ساتھ کھڑے ہونے والی کو گولی مار دی جائے، وہاں دین اور ظلم کا فاصلہ کتنا رہ جاتا ہے؟

    یہ قتل ایک لڑکی کا نہیں تھا—یہ قتل تھا اُس حق کا جو دین نے اسے دیا۔ یہ قتل تھا اُس قرآن کی سچائی کا، جسے اس نے اپنا محافظ سمجھا۔ یہ قتل تھا اُس اسلام کا، جس نے لڑکی کو دفن ہونے سے بچایا، مگر ہم نے اُسے نکاح کے بعد دفن کر دیا۔

    آج اگر ہم خاموش رہے، تو کل نہ صرف مزید بیٹیاں مریں گی، بلکہ اسلام کی روح، اس کی تعلیمات، اور اس کا پیغام بھی قاتلوں کی زبان پر رسوا ہوتا رہے گا۔

    وقت آ گیا ہے کہ ہم پگڑی بچانے کی غیرت کے بجائے بیٹی بچانے کی غیرت کو زندہ کریں۔ وقت آ گیا ہے کہ قبیلے کی عدالت کے بجائے قرآن کی عدالت کو مانا جائے۔ وقت آ گیا ہے کہ ہم فیصلہ کریں—کیا ہم قرآن کے ساتھ ہیں یا اس کے خلاف؟

    اگر معاشرہ قاتل ہے،
    تو ہمیں گواہ بننا ہوگا—
    اسلام کے، انصاف کے، اور انسانیت کے۔

  • یہی وہ روشنی ہے

    یہی وہ روشنی ہے

    جب قدرتی آفات آتی ہیں تو صرف وہی جماعتیں انسانیت کی خدمت کا فریضہ بخوبی ادا کرتی ہیں جو حقیقی معنوں میں عوام کے درد کو محسوس کرتی ہیں،عوام کے ووٹوں سے حکمرانی کرنے والی جماعتیں صرف بیانات،وعدے اور دعوے کرتی ہیں تو وہیں کچھ جماعتیں خدمت انسانیت کے فریضہ میں مصروف عمل ہوتی ہیں، پاکستان مرکزی مسلم لیگ نے حالیہ مون سون بارشوں کے نتیجے میں پیدا ہونے والی تباہ کاریوں کے بعد جس انداز میں فوری امدادی کارروائیوں کا آغاز کیا، وہ اس بات کا ثبوت ہے کہ سیاست صرف اقتدار کی جنگ نہیں، بلکہ خلقِ خدا کی خدمت کا نام بھی ہے۔

    راولپنڈی، چکوال، جہلم اور گردونواح کے علاقے مون سون کی شدید بارشوں سے شدید متاثر ہوئے۔ کئی گھروں کی چھتیں زمین بوس ہو گئیں، ندی نالے بپھر گئے، سڑکیں ندیوں کا منظر پیش کرنے لگیں اور متعدد خاندان بے سروسامانی کی حالت میں کھلے آسمان تلے زندگی گزارنے پر مجبور ہو گئے۔چکوال کے علاقے کھیوال میں ایک دل خراش واقعہ پیش آیا جہاں محمد افضل کا بیٹا اور پوتا بارش کے باعث چھت گرنے سے جان کی بازی ہار گئے۔ یہ المیہ صرف ایک خاندان کا نہیں بلکہ پوری قوم کے ضمیر کو جھنجھوڑنے والا لمحہ تھا۔ ایسے میں مرکزی مسلم لیگ نے متاثرہ خاندان کے غم میں شریک ہو کر نہ صرف دکھ بانٹا بلکہ متاثرہ گھر کی دوبارہ تعمیر کا اعلان بھی کیا۔

    مرکزی مسلم لیگ کی امدادی مہمات بارشوں سے متاثرہ علاقوں میں جاری ہیں، راولپنڈی کے خیابان سیکٹر 3 میں مفت میڈیکل کیمپ کا قیام عمل میں لایا گیا جہاں مریضوں کو ماہر ڈاکٹروں اور تربیت یافتہ پیرا میڈیکل اسٹاف کے ذریعے مفت علاج و معالجہ اور ادویات فراہم کی گئیں۔ جہلم میں بھی اسی طرز کے کیمپ قائم کیے گئے جہاں خواتین، بچے اور بزرگ طبّی سہولیات سے مستفید ہو رہے ہیں،صرف طبّی سہولتیں ہی نہیں بلکہ متاثرہ خاندانوں کے لیے پکی پکائی خوراک کی فراہمی کا سلسلہ بھی بلا تعطل جاری ہے۔ وہ علاقے جہاں سڑکیں زیر آب آ چکی ہیں، وہاں مرکزی مسلم لیگ کے رضاکار کشتیوں کے ذریعے خوراک، صاف پانی اور ضروریاتِ زندگی متاثرین تک پہنچا رہے ہیں۔ یہ مناظر انسانیت کی معراج اور سیاسی شعور کی بہترین عکاسی کرتے ہیں۔مرکزی مسلم لیگ کے ترجمان تابش قیوم اپنی تمام تر مصروفیات ترک کر کےبارش سے متاثرہ علاقوں میں پہنچے ہیں اور نہ صرف امدادی سرگرمیوں کی نگرانی کر رہے ہیں بلکہ متاثرہ خاندانوں سے براہِ راست ملاقات کر کے ان کے دکھ درد میں شریک بھی ہو رہے ہیں۔

    مرکزی مسلم لیگ کے صدر خالد مسعود سندھو کی ہدایت پر امدادی سرگرمیوں کا دائرہ روز بروز وسیع ہوتا جا رہا ہے۔ اُن کا یہ جملہ دلوں کو چھو جاتا ہے،ہماری سیاست خدمت کی سیاست ہے، اور آزمائش کی ہر گھڑی میں ہم اپنی قوم کے ساتھ کھڑے ہیں۔ اس تمام منظرنامے میں سب سے اہم پہلو یہ ہے کہ مرکزی مسلم لیگ نے سیاست کو صرف انتخابی میدان تک محدود نہیں رکھا بلکہ اسے ایک خدمت خلق کا ذریعہ بنایا۔ ان کا یہ طرزِعمل دیگر سیاسی جماعتوں کے لیے بھی مشعلِ راہ ہے کہ جب قوم پر مشکل وقت آئے، تو صرف دعوے نہیں بلکہ عملی اقدامات کیے جائیں۔

    بارشوں کا سلسلہ تو قدرت کا حصہ ہے، مگر ان بارشوں میں بھیگتے، بلکتے، تڑپتے انسانوں کو سہارا دینا ہی اصل انسانیت ہے۔ مرکزی مسلم لیگ نے یہی پیغام دیا ہے – کہ انسانیت کی خدمت ہی اصل سیاست ہے۔پاکستان مرکزی مسلم لیگ کی امدادی سرگرمیاں اس بات کی علامت ہیں کہ جب قیادت مخلص ہو، اور کارکنان خدمت کے جذبے سے لبریز ہوں تو کوئی آفت، کوئی مصیبت قوم کو زیر نہیں کر سکتی۔ قدرتی آفات عارضی ہوتی ہیں، مگر انسانیت کی خدمت کا اثر ہمیشہ قائم رہتا ہے۔یہی وہ روشنی ہے جو اندھیروں میں بھی امید کا دیا جلاتی ہے۔

  • خدایا…ماں کو سلامت رکھ،تحریر:نور فاطمہ

    خدایا…ماں کو سلامت رکھ،تحریر:نور فاطمہ

    ماں، وہ لفظ جس میں دنیا کی ساری محبت اور شفقت سمٹ کر آتی ہے۔ ماں وہ ذات ہے جس کے قدموں تلے جنت بستی ہے، جس کی دعاؤں میں ہزاروں خوشیاں پنہاں ہوتی ہیں، اور جس کی محبت میں انسان کو زندگی کا حقیقی مطلب سمجھ آتا ہے۔ ماں کی عظمت کا اندازہ صرف ان لمحوں میں ہوتا ہے جب ہم اس کے بغیر زندگی کا تصور کرنے کی کوشش کرتے ہیں۔

    یا اللہ! میرے رب، تو ہی سب کا خالق اور سب کا مالک ہے، ماں کی صحت، اس کی سلامتی، اور اس کی زندگی میں برکت دے۔ ماں کی ہنسی کبھی ختم نہ ہو، اس کے قدموں کی تھکن دور کر، اس کے دل کو سکون دے، اور اس کی عمر دراز فرما۔ ماں کی دعاؤں کی روشنی ہماری زندگیوں کو ہمیشہ روشن رکھے، اور اسے ہر بیماری، ہر دکھ، اور ہر تکلیف سے محفوظ رکھ۔ اے رب، ماں کی صحت کو اپنی رحمتوں کی چھاؤں میں رکھ، اور اسے ہمیشہ خوش و خرم رکھ۔آمین

    ماں کی محبت اور قربانی کے سامنے دنیا کی تمام نعمتیں بے رنگ ہیں۔ ماں وہ پھول ہے جو اپنی خوشبو سے گھر کو مہکاتا ہے، وہ روشنی ہے جو اندھیروں میں بھی امید جگاتی ہے۔ ماں کے بغیر گھر خالی سا لگتا ہے، اس کی دعا کے بغیر انسان بے سہارا سا محسوس کرتا ہے۔ماں ایک ایسی مخلوق ہے جس کی ہمت، صبر، اور محبت کی کوئی حد نہیں۔ اس کی محبت بے لوث اور بے مثال ہوتی ہے۔ وہ اپنے خوابوں کو پیچھے رکھ کر اپنے بچوں کی خوشیوں کے لیے زندگی وقف کر دیتی ہے۔ ماں کی گود میں انسان کو سکون ملتا ہے، اس کے سینے سے چمٹ کر دنیا کی ہر پریشانی بھاگ جاتی ہے۔

    ادب اور شعور نے ہمیشہ ماں کی عظمت کو اپنی زبانوں میں پرویا ہے۔ شاعر کہتے ہیں،ماں کی دعا میں جنت بسی ہے، ماں کے قدموں تلے دنیا چھپی ہے۔اور سچ یہی ہے کہ ماں کی دعا میں جنت کی خوشبو ہے، جو ہر دکھ کو دور کر دیتی ہے۔ماں کی محبت نہ صرف ہماری زندگی کو روشن کرتی ہے بلکہ ہمیں انسانیت، اخلاقیات، اور قربانی کا درس بھی دیتی ہے۔ ماں کے بغیر زندگی ایک کتاب ہے جس کے صفحات خالی ہوں۔

    آئیے ہم سب مل کر دعا کریں کہ اللہ تعالیٰ ہماری ماؤں کو صحت مند رکھے، انہیں خوش رکھے، اور ان کی عمر میں برکت دے۔ ماں کی عظمت کو پہچانیں اور ان کی خدمت کو اپنا فرض سمجھیں کیونکہ ماں کی خدمت ہی خدا کی محبت کا سب سے بڑا ذریعہ ہے۔

  • اکیلے پن کی موت: کمزور رشتے، زہریلی قربت اور ہماری اجتماعی بے حسی، تحریر :صدف ابرار

    اکیلے پن کی موت: کمزور رشتے، زہریلی قربت اور ہماری اجتماعی بے حسی، تحریر :صدف ابرار

    جب سے پاکستانی اداکارہ حمیرا اصغر کی موت کی خبر سامنے آئی ہے، پورا ملک چونک گیا ہے۔ ایک زندہ دل، خوبصورت، کامیاب اداکارہ نو ماہ تک اپنے ہی گھر میں مردہ پڑی رہی اور کسی کو خبر تک نہ ہوئی۔ کچھ عرصہ پہلے مشہور اداکارہ عائشہ خان کی تنہائی میں موت نے بھی یہی سوال چھوڑا تھا آخر ہم سب اتنے تنہا کیوں ہیں؟

    نفسیاتی پہلو ٹوکسک رشتے، تنہائی کا زہر
    اکثر لوگ کہتے ہیں کہ انسان اکیلا کیوں رہتا ہے؟ اس کا جواب اتنا سادہ نہیں۔ بعض اوقات سب کچھ موجود ہوتا ہے — والدین، بچے، بہن بھائی، شوہر، بیوی، دوست لیکن اس کے باوجود دل اکیلا رہتا ہے۔ کیوں؟ کیونکہ ان رشتوں میں محبت کی بجائے زہر بھر جاتا ہے۔

    ایسے رشتے جو ظاہری طور پر ساتھ ہوں لیکن اندر سے توڑ ڈالیں، انہیں نفسیات کی زبان میں ٹوکسک ریلیشن شپ کہا جاتا ہے۔ ان رشتوں میں عزت نہیں ہوتی، بس حکم اور طعنے ہوتے ہیں۔بات چیت نہیں ہوتی، صرف الزام تراشی ہوتی ہے۔احساس نہیں ہوتا، بس ضرورت پوری ہونے تک ساتھ دیا جاتا ہے۔

    ایسے ماحول میں رہنے والا انسان گھر والوں کے بیچ رہ کر بھی اکیلا ہوتا ہے۔ کبھی کبھی اس تنہائی سے مر جانا جینا ہی زیادہ آسان لگتا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ بہت سے لوگ ایسے رشتے توڑ بھی نہیں پاتے ، کیونکہ معاشرہ، بدنامی، بچوں کا ڈر، یا مالی مجبوریاں انہیں باندھے رکھتی ہیں۔

    نفسیاتی اثرات

    ٹوکسک رشتے انسان کی ذہنی صحت کو خاموشی سے چاٹ جاتے ہیں۔ اس کا نتیجہ یہ ہوتا ہے کہ انسان ڈپریشن کا شکار ہو جاتا ہے۔ خود اعتمادی ختم ہو جاتی ہے۔ اس کی زندگی کی خوشیاں اس کے اندر ہی مر جاتی ہیں۔اسے یہ بھی احساس نہیں رہتا کہ اسے مدد کی ضرورت ہے۔

    یوں ایک زندہ انسان اپنے گھر، خاندان یا فلیٹ کے اندر خاموشی سے ‘مر’ چکا ہوتا ہے جسمانی موت تو صرف ایک آخری خبر بن کر سامنے آتی ہے۔

    حل کہاں ہے؟

    ہمیں یہ سمجھنا ہو گا کہ ہر رشتہ ‘رشتہ’ کہلانے کے لائق نہیں ہوتا۔ زہریلے رشتوں کو ختم کرنے کی ہمت سیکھنی چاہیے۔

    اپنی ذہنی صحت کو قربان کرنا عقلمندی نہیں، ظلم ہے خود پر بھی اور معاشرے پر بھی۔ ہمیں ایسے لوگوں کی مدد کرنی چاہیے جو اکیلے ہیں یا مشکل رشتوں میں پھنسے ہیں۔

    اکیلے پن کو روکنا کیسے ممکن ہے؟

    اپنے اردگرد دیکھیں، کون ہے جو بہت خاموش ہے؟ بات کریں۔
    ماں باپ ہیں تو بچوں کو صرف ڈانٹیں نہیں، ان سے دوستی کریں
    بچے ہیں تو والدین کو ‘پرانی نسل’ کہہ کر نظر انداز نہ کریں، انہیں وقت دیں۔
    دوست ہیں تو صرف پارٹیوں میں نہیں، ان کے برے وقت میں بھی ساتھ کھڑے ہوں۔
    اگر آپ خود ٹوکسک رشتے میں ہیں، تو مدد لینے میں ہچکچائیں نہیں — کوئی دوست، کونسلر، یا اعتماد والا رشتہ ڈھونڈیں۔

    حمیرا اصغر، عائشہ خان یہ کہانیاں ہمیں جگانے کے لیے کافی ہیں کہ اکیلا پن صرف اس وقت نہیں مار دیتا جب کوئی ساتھ نہ ہو، بلکہ یہ تب بھی مار دیتا ہے جب اردگرد سب ہوں مگر محبت کوئی نہ دے۔

    رشتے جیتے جاگتے انسان کی روح کو تازگی دیتے ہیں لیکن جب وہی رشتے زہر بن جائیں تو انسان اندر ہی اندر مر جاتا ہے۔

    کیا آپ کے رشتے آپ کو زندہ رکھتے ہیں؟ اگر نہیں تو بدلیں ورنہ زندگی آپ کو بدل دے گی۔