Baaghi TV

Category: معاشرہ و ثقافت

  • ‏اسلام، ہم جنس پرستی اورعلما کا کردار . تحریر: نینی ملک

    ‏اسلام، ہم جنس پرستی اورعلما کا کردار . تحریر: نینی ملک

    اسلام میں کسی بھی غیرفطری طریقے کی جنس پرستی بہت سختی سے منع ہے۔ ہم جنس پرستی کی سزا اللہ کے نزدیک اس قدر سخت ہے کہ قوم لوط کے اس عمل پراللہ نے انکی بستی کو زمیں سے اوپر اٹھا کر زمیں پر دے مارا اور ہمیں قرآن میں واضح بتا دیا کہ کس قدرنا پسندیدہ عمل ہے. اس عمل کی سزا جب مقرر کی تو اس پر حد لگا دی کہ فریقین کی رضا مندی سے کیا گیا تو فاعل و مفعل کو عبرتناک سزا دی جائے علاقے کی بلند ترین عمارت سے اوندھے منہ گرایا جائے اور پھر بھی کسی میں زندگی کی رمق باقی رہے تو اسے سنگسار کر دیا جائے۔ اس دور پر فتن میں یہ گناہ عام ہو چکا ہے کالج یونیورسٹی کے طلبا ہوں ہاسٹل میں رہنے والے یا پھر مدرسوں میں پڑھنے والے ۔۔ جی ہاں اسلامی مدارس کے طلبا بھی اس قبیح عمل میں گرے ہیں۔

    کالج و یونیورسٹی میں تو بے راہ روی کے نتائج ہیں لیکن ایسا کیوں ہے کہ مدارس میں بھی ایسا کام ہو رہا ہو؟؟
    تو اسکی وجہ ہے ان مدارس کے وہ معلم جو خود اس گناہ میں ملوث ہیں ۔ جو طلبا کو اپنی جنسی خواہش پوری کرنے کی لیے استعمال کرتے ہیں اور ظلم عظیم کہ خانہ خدا میں ایسے قبیح کام کرتے ہیں۔۔ رفتہ رفتہ طلبا عادی ہونے لگتے ہیں اور وہ بھی اس گناہ کی دلدل میں دھنس جاتے ہیں.

    چند ہفتے قبل ایک ایسا ہی واقعہ منظرعام پر آیا ایک معلم نے اپنے شاگرد کے ساتھ کیا پھراس پر ظلم کہ قرآن پر حلف لیا اپنی بیگناہی پر ادارہ جسے سب سے پہلے اس واقعے کا نوٹس لے کر ایسے حیوان کے لیے اسلامی ریاست میں اسلامی سزا کا مطالبہ کرنا تھا انہوں نے فقط ادارے سے نکال کر اپنا فرض ادا کر دیا۔۔ کیا یہ اللہ کے دین سے خیانت نہیں کی گئ؟؟؟؟ صاحب ارباب نے اس حیوان کو انسانوں کی بستی میں ضمانت پر رہا کر دیا۔ کیا یہ ہے وہ اسلامی ریاست جو کلمے کی نام پر بنائ گئ تھی؟؟؟ یا یہ ہے وہ ریاست مدینہ جسکا خواب عمران خان صاحب نے دیکھا تھا؟؟؟ جواب یہی ہے کہ یقینا نہیں۔

    یہ خیانت ہے علما کی دین کے ساتھ ۔۔ اس اسلام کے نام پر بنی ریاست کے ساتھ کیوں وہ پاکستان میں شریعہ کے نفاذ کا فقط زبانی مطالبہ کرتے ہیں؟؟؟ کیونکہ اس طرح ہو گیا تو سب سے پہلے ان پر حد نافذ ہو گی۔ ایسے نام نہاد علما کو دوسروں کے لیے نشان عبرت بنایا جائےگا۔

    ریاست مدینہ بنانے سب اپنا کردار نبھایئں۔۔ انصار و مہاجرین جیسی تربیت اپنی اولاد کی کریں اپنی اولاد کے قریب ہوں وہ کیا کرتے ہیں کہاں جاتے ہیں آپکو خبر ہونی چاہیے۔۔۔۔ انکے سکول انکے مدارس میں کون ان پر مہربان ہے خدارا خبر رکھیں۔۔ جب بچے والدین سے ایسی شکایت کریں تو خدارا انکو بچے اور اساتذہ کو بڑے اور قابل احترام سمجھ کر اگنور مت کریں ۔

    ریاست کی یہ ذمہ داری ہے اپنی قوم کے آنے والے معماروں کی حفاظت کریں سکول و مدارس میں کیمرے نصب کر کے انکا کنٹرول اپنی پہنچ میں رکھیں تاکہ کسی پر بھی ذہنی جسمانی یا جنسی تشدد نہ ہو پائے۔۔اگر کوئ ایسی شکایت درج کروائے اسکا فورا نوٹس لے کر ملزم کو عبرتناک سزا دی جائے۔
    اس پرفتن دور میں آنے والی نسل کو جنسی درندوں سے محفوظ کرنے کا صرف یہی حل ہے.

    Twitter handle: @NiniYmz

  • قربانی سنت ابراہیمی ہے   تحریر: تماضر خنساء

    قربانی سنت ابراہیمی ہے تحریر: تماضر خنساء

    حلال جانور کو تقرب الہی کیلیے قربان کرنے کا سلسلہ
    حضرت آدم ع سے چلا آرہا ہے جب آپ ع کے دو بیٹوں ہابیل اور قابیل نے بارگاہ ایزدی میں اپنی قربانی پیش کی.
    قرآن پاک اس کو کچھ یوں بیان کرتا ہے :
    وَاتْلُ عَلَيْهِمْ نَبَأَ ابْنَيْ آدَمَ بِالْحَقِّ إِذْ قَرَّبَا قُرْبَانًا فَتُقُبِّلَ مِنْ أَحَدِهِمَا وَلَمْ يُتَقَبَّلْ مِنَ الْآخَرِ قَالَ لَأَقْتُلَنَّكَ ۖ قَالَ إِنَّمَا يَتَقَبَّلُ اللَّـهُ مِنَ الْمُتَّقِينَ ﴿سورۃ المائدۃ ٢٧﴾

    اور پیغمبر علیھم السّلام آپ ان کو آدم علیھم السّلام کے دونوں فرزندوں کا سچا ّقصّہ پڑھ کر سنائیے کہ جب دونوں نے قربانی دی اور ایک کی قربانی قبول ہوگئی اور دوسرے کی نہ ہوئی تو اس نے کہا کہ میں تجھے قتل کردوں گا تو دوسرے نے جواب دیا کہ میرا کیا قصور ہے خدا صرف صاحبان تقوٰی کے اعمال کو قبول
    کرتا ہے (27)

    اس سے ثابت ہوتا ہے کہ قربانی کی عبادت آدم ع کے زمانے سے ہی چلی آرہی ہے مگر اس کی خاص پہچان خلیل اللہ کی وہ عظیم قربانی ہے کہ جس پر زمین و آسماں انگشت بدنداں تھے ۔
    اور اسی عظیم واقعے کی بنا پر یہ امت محمدیہ پر واجب کردیا گیا کہ ہر سال خلیل اللہ کی اس عظیم قربانی کا عمل دہرایا جاتا رہے گا ۔
    اس عظیم قربانی کا واقعہ کچھ یوں ہے کہ
    سید نا ابراہیم علیہ السلام نے خواب میں دیکھا کہ وہ اپنے بیٹے اسماعیل علیہ السلام کو ذبح کر رہے ہیں ۔انھوں نے اس کا تذکرہ اپنے بیٹے سے کیا تو اسماعیل نے کہا : آپ کو جو حکم دیا جا رہا ہے اسے کر ڈالیے ، ان شاء اللہ آپ مجھے صبر کرنے والوں میں پائیں گے۔ رب العزت نے اس بارے میں فرمایا:
    پھر جب دونوں مطیع ہو گئے اور ابراہیم نے اسے پیشانی کے بل گرادیا اور ہم نے اسے ندادی کہ اے ابراہیم علیہ السلام ! یقینا تو نے خواب سچ کر دکھایا۔ یقینا ہم نیکی کرنے والوں کوایسا ہی بدلہ دیتے ہیں.
    (سورۃ الصافات: 103 – 105 )

    یہ قربانی کیاتھی؟ محض خون اور گوشت کی قربانی نہ تھی بلکہ روح اور دل کی قربانی تھی ۔ یہ محض باپ کا اپنے اکلوتے بیٹے کے خون سے زمین کو رنگین کرد ینا نہ تھا بلکہ اللہ تعالی کے سامنے اپنے ہرقسم کے ارادے اور مرضی کومٹادینا تھا۔ یہ اپنی عزیز ترین متاع کو اللہ تعالی کے سامنے پیش کرنا تھا۔ یہ تسلیم ورضا ،صبراور شکر کا وہ امتحان تھا جس کو پورا کیے بغیر اللہ تعالی کی رضا نہیں مل سکتی ۔ یہ غیر اللہ کی محبت کی قربانی اللہ تعالی کے راستے میں تھی۔ یہ اللہ تعالی کی اطاعت اور عبودیت کا بے مثال منظر تھا۔ جانوروں کی ظاہری قربانی دراصل اپنی روح اور دل کی قربانی ہے ۔اسلام قربانی ہے۔اسلام کے لفظی معنی اپنے آپ کو اپنی مرضی کو اللہ تعالی کے سپرد کردینا اور اس کی اطاعت اور بندگی کے لیے گردن سر تسلیم خم کر دینا ہے ۔قربانی قرب کا ذریعہ بنتی ہے ،اسی سے انسان سیکھتا ہے کہ اللہ تعالی کی خاطر کیسے اپنا سب کچھ قربان کرنا ہے ؟ اپنامال ، صلاحیتیں ،قوتیں ، وقت اور ضرورت پڑنے پر جان بھی جو کچھ بھی رب کی طرف سے ملا ہو، سب کچھ قربان کرنا ہے ۔ جانور کو قربان کر کے انسان قربانی کا سبق سیکھتا ہے ۔ یہی وہ حقیقت ہے جو سیدنا ابراہیم علیہ السلام اور سیدنا اسماعیل علیہ کے اس ایثار اور قربانی سے ظاہر ہوتی ہے ۔ یہی وہ برکت ہے جس کو مسلمان دن میں پانچ مرتبہ اپنے رب کے سامنے یاد کرتے ہیں: اللهم بارك على محمد وعلى آل محمد كما باركت على إبراهيم وعلى آل إبراهيم اے اللہ تو محمد اور محمد کی آل پر برکت نازل کر، جس طرح تو نے ابراہیم اورا براہیم کی آل پر برکت نازل کی
    قربانی ایک اہم عبادت اور شعائر اسلام میں سے ہے،یہ نمائش یا کسی رسم کا نام نہیں بلکہ یہ ایک عبادت اور مذہبی فریضہ ہے، کیونکہ فرمایا گیا کہ ”اللہ تعالیٰ کو ان جانوروں کا گوشت اور خون ہرگز نہیں پہنچتا، بلکہ اسکو تمہاری جانب سے تمہارا تقویٰ پہنچتا ہے۔
    اگر ایسا نہیں تو ہمارا رد عمل کیا ہے؟ ہمارے دور میں ”سنت ابراہیمی“ ہم سے کیا تقاضا کرتی ہے؟
    بس یہی بتانا تھا کہ اللہ کے پاس تو نیت اور تقوی پہنچے گا اور ہم کیا پہنچا رہے ہیں؟

    @timazer_K
    Twiter handle

  • مطلقہ اور بیوہ کہاں جائیں . تحریر : سیدہ بخاری

    مطلقہ اور بیوہ کہاں جائیں . تحریر : سیدہ بخاری

    لوگ بہت سی معاشرتی برائیوں پر آواز اٹھاتے ہیں، کبھی جہیز لینے کے خلاف ، کم عمری میں شادی کے خلاف، کبھی چائلڈ لیبر کے خلاف تو کبھی والدین کو اولڈ ہوم میں داخل کروانے کے خلاف، بچوں اور بچیوں سے جنسی ذیادتی کے خلاف، یہ سب بہت اچھا ہے کہ ان معاشرتی برائیوں کے خلاف نہ صرف آواز اٹھائی جائے بلکہ انکے سدباب کیلئے موثر اقدامات بھی کئے جائیں لیکن آج میں جس موضوع پر لکھ رہی ہوں اس پر کہیں بات نہیں ہوتی، اور وہ ہیں شادی کے بعد ناموافق حالات کی وجہ سے اپنے میکے کی دہلیز پر واپس آ کر بیٹھ جانے والی طلاق یافتہ یا بیوہ لڑکیوں کے دکھ، وہ بدقسمت لڑکیاں جو سسرال کے جہنم سے نکل کر جب ماں باپ کی دہلیز پر آتی ہیں تو انکو خوش آمدید نہیں کیا جاتا بلکہ مصیبت اور بوجھ تصورکیا جاتا ہے، اس چیزپرشکر نہیں کیا جاتا کہ بیٹی ذہنی مریضہ بننے سے بچ گئی اورصحیح سلامت آپکو واپس مل گئی۔ پھر ہمارا معاشرہ انکے ساتھ جو سلوک کرتا ہے وہ ایک الگ کہانی ہے. جب یہ بدقسمت لڑکیاں پھر سے گھر بسانے کی آس میں نیا ہمسفر تلاش کرنے کی کوشش کریں تو اس میں جن مشکلات کا سامنا کرنا پڑتا ہے وہ بھی ایک الگ داستان ہے، میں نے جو سروے کیا اس میں ایک طلاق یافتہ مرد کو کنواری لڑکی کا رشتہ بھی آسانی سے مل جاتا ہے لیکن ایک طلاق یافتہ یا بیوہ کو ایسا رشتہ ملا ہو یہ شاذو نادر ہی دیکھا گیا ہے۔

    کیا ایک مطلقہ یا بیوہ اس بات کا حق نہیں رکھتی کہ اسکو اسکی عمر کے مطابق اچھا ہمسفر مل سکے؟
    کیا انکے نصیب میں بس پانچ بچوں کا ادھیڑ عمر باپ ہی ہوتا ہے جسکے بچوں کی ساری عمر خدمت کرنے کے باوجود بھی وہ سوتیلی کا ٹیگ سر پر سجائے پھرتی ہے؟
    ہمارے معاشرے میں مردوں کی نا انصافیوں اور عورتوں کے غلط رویوں، حسد اور عدم برداشت کیوجہ سے دوسری شادی بھی ایک گناہ کبیرہ بن کر رہ گئی ہے ورنہ اس میں کیا مضائقہ ہے کہ ایک صاحب حیثیت مرد انصاف کے تقاضوں پر پورا اترتے ہوئے ایسی خواتین سے نکاح ثانی کریں جو کہ عرب میں عام رواج ہے، جہاں مطلقہ اور بیوہ خواتین کو دوسری شادی کے لئے عمریں گلانی نہیں پڑتیں۔
    طلاق ہونے سے ذندگی ختم نہیں ہوتی لیکن ہمارے معاشرے میں تصور یہی ہے کہ اگر ایک لڑکی کو طلاق ہوئی ہو تو وہ اپنی تمام حسرتوں کو دفن کرتے ہوئے کسی بھی ایسے مرد کیلئے حامی بھرے جس کو کہ اسکا دل ماننے کو بھی تیار نہ ہو۔
    لیکن اس پر ہمارے ہاں کوئی بات نہیں کرتا، اپنے ماں باپ کی دہلیز پر بیٹھی ان مجبور بے بس لڑکیوں کے بارے میں کوئی بات نہیں کرتا جنکی آنکھیں اچھے رشتے کی راہ تکتے ویران ہو جاتی ہیں اور پھر مجبورا انکے حصے میں دوگنی عمر کا مرد ہی آتا ہے۔

    ایک مطلقہ /بیوہ لڑکی اس بات کا پورا حق رکھتی ہے کہ اسکو اچھا ہمسفر ملے اور وہ اچھی ذندگی گزارے جیسا کہ کسی بھی عام لڑکی کا حق ہے۔ طلاق سے کوئی لڑکی اچھوت نہیں بن جاتی نہ ہی اس میں کوئی ایسی نامناسب تبدیلی واقعہ ہو جاتی ہے کہ اس سے شادی کرنے کو غلط سمجھا جائے، ہمیں اپنے معاشرے سے ان فرسودہ ،جاہلانہ اور ہندوانہ رواجوں کا خاتمہ کرنا ہوگا اور اسکے لئے کسی کو تو پہلا قدم اٹھانا ہوگا۔

  • کب بدلے گا پاکستان؟ . تحریر: فیصل فرحان

    کب بدلے گا پاکستان؟ . تحریر: فیصل فرحان

    یہ سوال پچھلے ستر سالوں سے ہر پاکستانی کی جانب سے کیا جاتا ہے کہ آخر کب بدلے گا ہمارا پاکستان؟ کب ظلم و انصافی ختم ہوگی اور کب ہم ترقی کی منزل پر پینچے گے، کب آئے گا وہ دن جب ایک ماں بھوک کی وجہ سے اپنے بچوں کا گلا نہ گھونٹیں۔ میں آج اس سوال کا جواب دینے کی کوشش کرونگا۔ جب سے ملک پاکستان بنا ہے تب سے لے کر آج تک اس پر مافیا حکومت کرتا آرہا ہے ہے۔ ایک عالمی جریدے کی رپورٹ کے مطابق پچھلے ستر سالوں سے 22 خاندان پاکستان پر حکومت کرتے آرہے ہے۔ مطلب قائد کی وفات کے بعد جن وڈیروں نے ملک کا اقتدار سنبھالا آج بھی انہی کی اولادیں ہم پر مسلط ہے اور آگے بھی وہی مسلط رہے گی کیونکہ کسی مڈل کلاس بندے کو سیاست میں آنے ہی نہیں دیا جاتا اور اگر کوئی آ جائے تو اسے زلیل کر کے بھگا دیا جاتا ہے۔ اس وقت ہمارے ملک کے سارے سیاستدان بڑی بڑی فیملیوں سے تعلق رکھتے ہے اوران لوگوں نے کبھی غربت یا مشکلیں نہیں دیکھی اور نہ ہی انہیں اندازا ہے کہ ایک غریب بندہ اپنی زندگی میں کیا کیا فیس کرتا ہے اسلیے یہ لوگ اقتدار میں آ کر کبھی غریب کا نہیں سوچتے بلکہ عوام کو ٹرک کی بتی کے پیچھے لگائے رکھتے ہے اور ہم عوام بھی لکیر کے فقیر ہے جو ان لوگوں کی جھوٹی باتوں میں آ کران کے جلسوں میں بھنگڑے ڈالتے ہے اوران رنگ بازو کی خاطر اپنے دوستوں اور فیملیوں سے لڑتے ہے۔ یقین جانیے یہ سارے سیاستدان ان پڑھ ہے یقین نہیں تو ان کی پارلیمنٹ اجلاسوں والی ویڈیوز دیکھ لو جس میں یہ ایک دوسرے کی ماں بہن کو گالیاں نکالتے ہے، تو خود سوچوں ایسے لوگ ہماری بہتری کیلیے کیا قانون سازی کرے گے؟؟

    ان لوگوں کو الف ب کا بھی نہیں پتہ کہ غریب کس قرب سے گزر رہا ہے ملک میں، ان لوگوں کے سامبے ہماری کوئی حیثیت نہیں ہے یہ ہم عوام کو ایک کیڑے مکوڑے کی طرح سمجھتے ہے تبھی تو ملک میں بچوں کے ساتھ ریپ ہوتے ہے ہمارے پیارے سرعام قتل ہو جاتے ہے لیکن ان لوگوں کی جانب سے سوائے بیان کے کچھ نہیں آتا۔ کیونکہ ان کے نزدیک ہماری زندگیوں کی کوئی ویلیو نہیں جبکہ خود ان کو معمولی سا بخار ہو جائے تو بیرون ملک علاج کیلیے چلے جاتے ہے۔ اس سارے کے کہنے کا مقصد یہ تھا کہ آپ کو بارآور کروا سکوں کہ ان سیاستدانوں کے ہوتے ہمارا ملک کبھی ترقی نہیں کر سکتا کیونکہ ہر بار یہی لوگ چہرے بدل بدل کر آتے رہتے ہے۔ اب ہمیں نیچے سے لوگ سیاست میں لانا ہونگے اور خود اس فیلڈ میں قدم رکھنا ہوگا۔ جب مڈل کلاس بندہ اقتدار میں ہوگا تو اسے بخوبی اندازہ ہوگا کہ عام پاکستانی کن حالات میں جی رہا ہے اور پھر اسے احساس ہوگا۔ اب ہمیں ان 22 خاندانوں سے جان چھڑوانا ہوگی اور ملک میں انقلاب لانا ہوگا۔ اب پاکستان کی بھلائی کیلیے انقلاب ناگزیر ہوچکا ہے۔ اٹھوں نوجوانوں اور پاکستان کی خاطر میدان میں آو۔ جب ہم خود ہی میدان میں نہیں آئے گے تو ان ظالموں سے چھٹکارا کون دے گا؟
    اگر پاکستان کو بدلنا ہے تو ہم سب کو بدلنا ہوگا، ان شا اللہ پھر بہت جلد پاکستان ترقی کی راہ پر گامزن ہوگا.

    @Farhan_Speaks_

  • تحریر معین وجاہت  عنوان :منفی سوچ کے اثرات۔

    تحریر معین وجاہت عنوان :منفی سوچ کے اثرات۔

    منفی سوچ ایک ایسا زہر ہے جو جسم میں سرائیت کر جائے تو فرد معاشرے سے کٹتا ہی ہے ساتھ میں فیملی کے لئے بھی وبال جان بن جاتا ہے۔ایسے انسان سے کنارہ کش ہونا ہی بہتر سمجھا جاتا ہے ۔
    یہ حقیقت ہے کہ منفی سوچ انسان کی شخصیت کو بھی منفی بنا دیتی ہے کیونکہ ایسا فرد ہر مثبت پہلو سے بھی منفی پہلو ہی نکالتا ہے ۔اسی زہریلی سوچ کے زیر اثر انسان آہستہ آہستہ چڑچڑا پن کا شکار ہو جاتا ہے۔معاشرے سے ہٹ کے ایسے لوگ اپنوں کے لئے بھی سوہان روح بن جاتے ہیں۔ان سے لوگ بات کرنے میں ہچکچاہٹ محسوس کرتے اور کوشش کرتے کہ اسے اپنے معاملات سے الگ رکھا جائے جس کے نتیجہ میں ایسے افراد اکیلے رہ جاتے ہیں ۔ان تمام چیزوں سے بچنے کے لئے اپنا کتھارسیس کیجئے کہ کہیں ایسا تو نہیں کہ انجانے میں آپ کا رویہ آپکی سوچ آپکو تنہا تو نہیں کر رہی؟ کہیں آپ کے اپنے آپ سے بات نہ کرنا بہتر تو نہیں سمجھ رہے؟کیا آپ کو اپنی زندگی بوجھ تو نہیں لگنے لگی ؟کہیں آپ ہر لمحہ زہنی ڈیپریشن کا شکار تو نہیں ہو رہے؟اگر ان میں سے کوئ بھی سائین آپکو نظر آ رہا ہے اور آپ نارمل زندگی کی طرف لوٹنا چاہتے ہیں اگر آپ اپنے ارگرد کے ماحول کو خوبصورت بنانا اور دیکھنا چاہتے ہیں زندگی کے تمام لمحوں کی خوبصورتی کو کشید کرنا چاہتے ہیں اس کائنات کے رنگوں میں کھونا اور انہیں محسوس کرنا چاہتے ہیں ؟ آپ اپنے ارد گرد بچوں کی قلقاریوں میں زندگی کا احساس چاہتے ہیں ؟ اور اگر آپ زندگی کو صحیح معنوں میں جینا چاہتے ہیں تو پھر اپنی سوچ کو بدلیں۔اپنی سوچ کے زاویے کو درست کریں ہر منفی سوچ کو جھٹک کر اسے مثبت انداز میں ڈھالیں زندگی کو محسوس کریں اپنوں کو اپنے منفی رویے کی وجہ سے دور نہ کریں۔بلکہ ایسا رویہ اپنائیں کہ آپ کے اپنے آپ کے نزدیک رہنا جنت تصور کریں ۔ جب آپ یہ قدم اٹھائیں گے تو یقین کیجئے آپکو اپنے ارد گرد تتلیاں اڑتی ہوئ محسوس ہوں گی اور آپ خود کو نہ صرف باوقار شہری بلکہ اپنے گھر کا ذمہ دار فرد سمجھیں گے۔ اور ہر قسم کے ڈیپریشن سے آزاد ہوں گے آزمائش شرط ہے

    @iamnoww50

  • تحریر: سید غازی علی زیدی پاکستانی معاشرہ، منتشر یا مستحکم

    تحریر: سید غازی علی زیدی پاکستانی معاشرہ، منتشر یا مستحکم

    ذہنی، فکری اور نظریاتی لحاظ سے زبوں حالی کا شکار، ادراک واحساسات سے عاری، مادیت پرستی و جاہ و نصب کی چاہ میں تمام اقدار وروایات کو ٹھکراتا، پاکستانی معاشرہ۔۔۔حصول زر کیلئے ہر جائز و ناجائز کا سہارا لیتے والدین اور اس حرام کمائی کو عیاشی میں اڑاتی نوجوان نسل، تعلیم کو کمائی کا ذریعہ بناتے اساتذہ اور تربیت سے ناآشنا طلباء، غرض آوے کا آوا ہی بگڑا ہوا ہے۔
    تعلیم و تربیت اور اخلاقی اقدار پاکستانی معاشرے میں ایک قصہ پارینہ بنتے جارہے۔ تمیزوتہذیب کی مذہبی و مشرقی روایات جن پر کبھی فخر کیا جاتا تھا آج ان کو کمزوری سمجھا جاتا ہے۔ معاشرہ بری طرح سے اخلاقی گراوٹ کا شکار ہو رہا ہے۔ بےشعور لوگ تماش بین جبکہ باشعور لوگ بےبسی کی تصویر بنے ہاتھ پر ہاتھ دھرے بیٹھے ہیں۔ بہتان طرازی کو ہتھیار سمجھتے سیاستدان، اخلاقیات سے عاری میڈیا اور گالم گلوچ کو فیشن سمجھتی نوجوان نسل، غرض ایک طوفان بدتمیزی ہے جس نے پورے معاشرے کو یرغمال بنایا ہوا۔ کیا بچے، کیا بوڑھے کیا خواتین، ہر ایک نے تمیز کو بالائے طاق رکھ دیا ہے۔ تنقید برائے تنقید ہم لوگوں کی فطرت ثانیہ بن چکی ہے۔ حسد، غیبت، جھوٹ، چغلی غرض ہر وہ اخلاقی برائی جس پر قرآن وسنت میں سخت سزا کی وعید ہے وہ آج ہمارے سماج میں معمولی بات سمجھی جاتی۔
    پاکستانی عوام ہر بات میں مغرب کی مثال دیتے نہیں تھکتے لیکن جب بات اصولوں کی آئے تو ہم سے بڑا بےاصول کوئی نہیں۔ ایک طوفان بدتمیزی ہے جس کی ہر شعبہ زندگی پر یلغار ہے۔ سوشل میڈیا کے نام نہاد جنگجو اپنا مقصد پورا کرنے کیلئےہر حد پار کرتے نظر آتے۔ سمارٹ فون کی آڑ میں نہ کسی کی عزت محفوظ ہے نہ جان۔ بلاشبہ سوشل میڈیا کے مثبت کردار سے کسی کو انکار نہیں جس کی وجہ سے بڑے بڑے مجرم نہ صرف بینقاب ہوئے بلکہ ان کو سزائیں بھی ہوئیں۔ لیکن وسیع تناظر میں دیکھا جائے تو ہمارا معاشرتی نظام دن بدن زبوں حالی کا شکار ہو رہا اور آنے والے کل کی بنیاد دروغ گوئی، فحاشی اور دشنام طرازی پر رکھی جارہی ہے۔ بلا تحقیق کے کی گئی سوشل میڈیا پر ایک پوسٹ اچھی بھلی زندگیوں کو جہنم بنانے کیلئے کافی ہے۔ بلیک میلنگ کا گھناؤنا کھیل اپنے عروج پر ہے۔
    بقول شاعر!
    انسان کی بلندی و پستی کو دیکھ کر
    انساں کہاں کھڑا ہے ہمیں سوچنا پڑا
    مجموعی طور پر یہ حالات اچھے خاصے انسان کو نفسیاتی مریض بنانے کیلئے کافی ہیں۔ سونے پر سہاگا! مایوسی اور ناامیدی زہر قاتل کی طرح معاشرے کی رگوں میں سرائیت کر چکی ہے۔
    کوئی بھی ذی شعور انسان سوشل میڈیا کا تجزیہ کر کے بآسانی یہ نتیجہ اخذ کر سکتا کہ انتہا پسندی کا شکار، فہم و فراست سے عاری معاشرہ انتشار اور بگاڑ کی راہ پر گامزن ہے۔ تعلیم و آگاہی سے نابلد نوجوان نسل کو انٹرنیٹ کا بے دریغ استعمال جسمانی و ذہنی طور پر تباہ کررہا۔ عامیانہ اور محدود سوچ کے حامل افراد اپنا جاہلانہ نقظہ نظر ہر کس و ناکس پر تھوپتے نظر آتے۔ اخلاقیات اور علم و دانش کا جنازہ نکل چکا ہے جبکہ والدین، اساتذہ و اربابِ اختیار بے بسی سے تماشا دیکھ رہے ہیں۔
    ضرورت اس امر کی ہے کہ معاشرے کے تمام طبقات میں سے باشعور لوگ آگے آئیں اور منظم ہو کر اخلاقی پستی، مذہبی عدم برداشت، بےراہ روی جھوٹ اور فریب کی دلدل میں جکڑے زوال پذیر معاشرے کو باہر نکالنے کا عزم کریں۔
    ارشاد باری تعالیٰ ہے۔ "اللّٰہ تعالیٰ عدل اور احسان اور صلہ رحمی کا حکم دیتا ہے اور بدی اور بے حیائی اور ظلم و زیادتی سے منع کرتا ہے۔وہ تمہیں نصیحت کرتا ہے تاکہ تم سبق لو”(سورہٗ النحل۔90 )
    یہ ایک روشن حقیقت ہے کہ جب کوئی معاشرہ بداعمالیوں میں حد سے تجاوز کر جاتا ہےتو خداایک حد تک اُسے مہلت دیتا ہے کہ وہ اپنی اصلاح کر لے۔ لیکن اگر برائی کی روش برقرار رہے تو قانون قدرت حرکت میں آتا دنیا ہی میں ذلت اور پستی مقدر بن جاتی۔ہم مسلمانوں کیلئے دین اسلام ہی واحد نصب العین اور حضور اکرم ﷺ کی اسوہ حسنہ بہترین نمونہ ہے۔ اور اسی پر عمل کرکے ہم ایک مستحکم معاشرے کی بنیاد رکھ سکتے اور دنیا و آخرت میں سرخروئی حاصل کر سکتے۔

    : @once_says

  • تحریر: مجاہد حسین ابھی کچھ لوگ باقی ہیں جہاں میں

    تحریر: مجاہد حسین ابھی کچھ لوگ باقی ہیں جہاں میں

    ہمارے معاشرے میں ہمیں طرح طرح کے لوگوں سے واسطہ پڑتا ہے۔ ہزاروں قسم کی فطرتیں دیکھنے میں آتی ہے۔ بہت سے لوگوں سے بہت کچھ سیکھنے کو ملتا یے۔ کبھی کبھی کوئی غیر ہمارے دلوں پر ایسا اثر اور نشان چھوڑ جاتا ہے جو کسی اپنے سے امید بھی نہیں کی جا سکتی۔
    کچھ ایسا ہی واقعہ آج ہمارے ساتھ پیش آیا۔
    آج سعودی عرب میں یوم العرفہ تھا۔ آج کو دن یہاں کے مقامی لوگوں کی اکثریت روزہ رکھتی ہے۔ یہاں بھی ہر طرح کے لوگوں سے واسطہ پڑتا ہے۔ آپ نے اکثر سعودی پلٹ پاکستانیوں کے منہ سے کفیلوں کی برائیاں سن رکھی ہونگی۔ اور یقیناً ان میں سے اکثریت کے بارے میں ہماری رائے بھی ایسی ہی ہے۔ لیکن آج ہوئے واقعے نے ہمیں یہ سکھا دیا کہ "ابھی کچھ لوگ باقی ہیں جہاں میں”
    اللہ نے نفلی روزہ رکھنے کی توفیق دی، سارا دن گھر والوں سے باتوں میں، نماز اور ذکر اور سو کے گزر گیا۔ شام ہوئی تو دوست نے کہا کہ آج ریسٹورنٹ سے کھانا کھا کے آتے ہیں۔ رہائش کے پاس ہی ایک ترک ریسٹورنٹ ہے۔ اکثر جانا ہوتا ہے وہاں پر۔ افطار کمرے میں کر کے جب ہم ریسٹورنٹ پہنچے تو وہاں پہلے سے ایک باریش سعودی کھانا نوش فرما رہا تھا۔ میں نے رسماً انہں سلام کہا، انہوں نے میری طرف دیکھا مسکرا کر وعلیکم السلام کہا، میں نے اپنی ٹوٹی پھوٹی عربی میں انہیں عید کی ایڈوانس مبارک بھی دے ڈالی، یہ سب دیکھ کر وہ مسکرائے اور کھانا کھانے میں مصروف ہوگئے۔
    اتنی دیر میں ہمارا آرڈر بھی آ گیا اور ہم نے بھی کھانا شروع کر دیا۔ تھوڑی دیر بعد ویٹر پیپسی لے کے ہمارے پاس آیا اور بولا، "یہ ان صاحب نے آپ کو دینے کے لئے کہا ہے” ہم نے قبول کی اور ان کا شکریہ ادا کر کے کھانا کھانے لگ گئے۔ انہوں نے اپنا کھانا ختم کیا اور کاؤنٹر پہ حساب کتاب کر کے پیسے دے دئیے۔ جاتے وقت مسکراتے ہوئے ہمیں "عید مبارک” بھی کہہ گئے۔
    ہم نے کھانے سے فارغ ہو کے، ہاتھ دھو کے جب بل دینا چاہا تو معلوم ہوا کہ اللہ کا وہ نیک بندہ ہمارے پیسے بھی دے گیا ہے۔ ہم حیرت بھری نگاہوں سے ایک دوسرے کو دیکھنے لگے کہ ایسا کیوں کیا؟
    آخر ایسا کیا تھا جس نے اس شخص کو متاثر کیا؟
    ہوٹل میں اور بھی لوگ تو موجود تھے (کئی تو سعودی بھی تھے) تو ہمارا بل ہی کیوں؟
    کیا ریسٹورنٹ میں آتے ہی ہمارا اسے سلام کرنا، اس سے حال پوچھنا، عید کی مبارک دینا اسے پسند آیا؟
    اللہ ہی بہتر جانتا ہے۔ لیکن ایک بات تو ہے۔ اخلاق آپ کے بڑے سے بڑے دشمن کو بھی دوست بنا دیتا ہے۔ آپ کے قتل کے درپے لوگ آپ کے خادم بھی بن جایا کرتے ہیں یہ چیزیں ہمیں اللہ کے رسول ﷺ کی سیرت سے ملتی ہیں۔
    خیر، وجہ چاہے کچھ بھی ہو، جب آپ کسی سے اخلاق سے پیش آتے ہیں تو آپ کا ایک مثبت اثر اس کے دل میں اتر جاتا ہے۔ حضرت ابودردہ ؓ سے روایت ہے کہ نبی ﷺ نے فرمایا : "میزان میں حسن اخلاق سے بڑھ کر کوئی چیز وزنی نہیں” ایک اور مقام پہ حضرت عائشہ ؓ بیان کرتی ہیں کہ نبی ﷺ نے فرمایا: بیشک مومن اپنے حسن اخلاق کی بدولت روزے رکھنے اور قیام کرنے والے کا درجہ پا لیتا ہے” اللہ سے دعا ہے کہ اللہ ہمیں حسن اخلاق سے نوازے۔ آمین
    @Being_Faani

  • تحریر : روشن دین دیامری :  موجودہ  دور میں ہم سیرتؐ سے کیا سبق حاصل کر سکتے ہیں

    تحریر : روشن دین دیامری : موجودہ دور میں ہم سیرتؐ سے کیا سبق حاصل کر سکتے ہیں

    حضرت محمد صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی ولادت پوری انسانیت کے لئے بہت بڑی نعمت ہے۔ اپؐ کی تعلیمات ہمارے لے ثقافت یا مذہب سے قطع نظر اس دنیا کی ہر قوم کے لئے معاشرتی ترقی اور خوشحالی کے مثال کے طور پر کام کرتی ہیں۔ اپؐ کی ولادت ہم سب کے لے باعث رحمت ہے ، یہ بہت اہم ہے کہ ہم اپؐ کے پیروکار ہونے کے ناطے ، ان کی پیش کردہ اسلامی تعلیمات کے تناظر میں اپنے موجودہ معاشرتی الجھنوں کا سنجیدگی سے تجزیہ کریں اور انسانیت کو ناانصافی اور جبر سے آزاد کرنے کے لئے اپؐ کے حکمت عملی پہ عمل کرے ۔ ہم اپؐ کے زندگی کے مختلف پہلوں کا تجزیہ کرکے جس میں اپؐ کی طرف سے اجتماعی بنیادوں پر شروع کی گئی جدوجہد کا طریقہ کار پہ عمل کر سکتے ہیں ، ہم استحصالی قوتوں کے ہاتھوں انسانیت کی مروجہ پریشانی اور بدحالی کو ختم کرنے کے لئے یقینی طور پر اپنے لائحہ عمل کو طے کرسکتے ہیں۔ حضور نبی اکرم (ص) کی زندگی سے متعلق پہلا اور اہم تصور یہ ہے کہ ان کی آمد کا واحد مقصد اس وقت کے ظالم نظام سرمایہ دارانہ طاقتوں کے ذریعہ مسلط انسانیت کو ظلم ، جبر اور استحصال سے آزاد کرنا تھا۔ بلا شبہ ، اپؐ اور جماعت صحابہؓ نے اس مشن کو کامیابی کے ساتھ انجام دیا اپنے دور کے استحصالی معاشی اور سیاسی نظام کو جڑ سے اکھاڑ پھینک کر ، معاشی انصاف ، معاشرتی مساوات ، اجتماعیت ، امن ، اور انسانیت پسندی کے اصولوں پر مبنی معاشرتی نظام کی بنیاد رکھی۔ اپؐ کی زندگی کا ہر پہلو اسلامی اصولوں پر زور دیتا ہے۔ مثال کے طور پر ، حضور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے الوداعی خطبہ میں ، انہوں نے کہا ، "لوگو ، بیشک آپ کا رب اور پالنے والا ایک ہے اور آپ کا آباؤ اجداد ایک ہے۔ آپ سب حضرت آدم علیہ السلام کے اولاد ہو اور آدم علیہ السلام مٹی سے بنے تھے۔ اللہ کے سامنے تم میں سب سے ممتاز وہ ہے جو سب سے زیادہ پرہیزگار ہے۔ کسی
    عربی کو کسی عجمی پر فضیلت نہیں ہے اور نہ ہی کسی عربی پر کسی عجمی کو فضیلت حاصل ہے نہ ہی کسی گورے کو سیاہ پر اور نہ ہی کسی سیاہ کو کسی گورے پر ، سوائے اس کے کہ جس کا تقویٰ ذیادہ ہو۔ قبل از اسلام میں ، خواتین کو انتہائی شرم کی علامت سمجھی جاتی تھی اور ان کے معاشرے میں کوئی قابل احترام حیثیت حاصل نہی تھی۔ ہمارے نبی پاک صلی اللہ علیہ وسلم نے معاشرتی مساوات پر مبنی نظام کے نفاذ کے ذریعہ ان سے باوقار اور خود مختار زندگی جینے کا حق دیا۔ اپؐ کے متعدد تعلیمات خواتین کی عزت اور معاشرے میں ان کے کردار پر زور دیتی ہیں۔
    مثال کے طور پر ، اپنے الوداعی خطبے میں ، حضور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے یہ بھی فرمایا ، "اپنی عورتوں کے ساتھ اچھا سلوک کرو کیونکہ یہ یہ ان کا حق ہے ۔اور وہ بہت سارے معاملات خود سنبھالنے سے قاصر ہیں۔ لہذا اللہ سے ڈرو اور ان کے بارے میں شعور رکھو ،اور ان کے جائر مطالبات پورے کرو جسے میں نے اپ کو کر کے دیکھایا ہے۔ ، آپ کا باہمی رشتہ مقدس ہے۔ اجتماعی اور ایمانداری کی بنیاد پر آنحضرتؐ کی زندگی کے مذکورہ بالا اصولوں کا تجزیہ کرکے ، ہم اپنے موجودہ معاشرتی بحران پر قابو پانے کے لئے حکمت عملی مرتب کرسکتے ہیں۔ سنت نبوی (ص) کا دوسرا پہلو اس بات پر زور دیتا ہے کہ اس کی باضابطہ جدوجہد ، معاشرے کے غلط لوگو ں کی نشاندہی کرکے ایک اچھا معاشرہ بنایا جاائے ۔اپؐ اور جماعت صحابہؓ نے حکمران طبقے کے استحصال ایجنڈوں کا مقابلہ کرنے کے لئے ایک اجتماعی حکمت عملی تیار کی۔ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی زندگی کا گہرا تجزیہ یہ واضح کرتا ہے کہ ان کی پوری جدوجہد کا جو کہ دنیا بھر استحصال زدہ سیاسی ، معاشی اور معاشرتی نظام کو ختم کرنا تھا۔ اس وقت ، مکہ مکرمہ کے خود غرض حکمران طبقے نے اپنی قوم کو دھوکہ دہی سے غلام بنانے کے لئے ایک بے رحمانہ سیاسی نظام بنایا تھا۔ اور وحشیانہ اور غیر انسانی سلطنتں جیسے روم اور فارس کی وجہ سے بین الاقوامی سطح پر بھی یہی معاملہ تھا۔ مکہ مکرمہ کے اس مستند حکمران فرقے نے آنحضرت صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے انسانیت دوست مشن کی شدید مخالفت کی اور انہیں اور ان کے ساتھیوں کو سخت تکلیف پہنچائی۔ انہوں نے معاشرے کے کمزور اور لاچار لوگوں کو اپنی نمائندگی قبول کرنے اور اپنے مسلط کردہ آمرانہ نظام کی بالادستی کی مکمل پابندی کا مظاہرہ کرنے پر مجبور کیا۔ ان کا ماننا تھا کہ حضور (ص) عرب ممالک پر ذاتی شان و شوکت کی خواہش رکھتے ہیں۔لیکن اپؐ اور جماعت صحابہؓ نے مل کراس ظالمانہ نظام کو ختم کر دیا اور ایک عادلانہ معاشرہ قائم کیا۔ اللہ تعالی سے دے دعا ہے ہم اپؐ اور جماعت صحابہؓ کے طرز زندگی پہ عمل کر کے ایک انسانی معاشرہ ترتیب دیں۔امین

    @rohshan_Din

  • تحریر :تہران الحسن خان : حب الوطن من الایمان

    تحریر :تہران الحسن خان : حب الوطن من الایمان

    ”یعنی وطن کی محبت ایمان کا جز ہے۔
    حب الوطنی یعنی وطن سے دلوں جان سے محبت کے ہیں۔ انسان کا یہ فطری عمل ہے کہ وہ جس جگہ رہتا ہے اس جگہ سے انسیت لگاؤ ہو ہی جاتا ہے۔ جس جگہ ساری زندگی رہا ہو آب وہوا، لوگ حتی کہ وہاں کی چیزوں سے محبت کرنا اس کے فطرت میں شامل ہوتا جاتا ہے. ہم جس جگہ پیدا ہوئے ہوں پھلے پھولے ہوں جوان ہوئے ہوں اس جگہ اس مقام کا عادی ہو جاتا ہے اور اس سے اتنی محبت ہو جاتی ہے دنیا میں کہیں بھی جائےگا اپنا وطن اس کی پہچان بنے گا.. اور ہم کتنا بھی دنیا میں گھوم آئیں جو اپنے وطن اپنی کی اپنی مٹی اپنے گھر کا سکون ہے وہ کہیں بھی نہیں ہے..
    انسان اپنے وطن سے دور ہوتا ہے تو تب ہی اس کو وطن سے محبت کا احساس شدت سے ہونے لگتا ہے
    وہ اپنے وطن کیی محبت میں ذاتی اغراض ومقاصد کو بے دریغ قربان کر دیتے ہیں

    وطن چمکتے ہوئے کنکروں کا نام نہیں
    خونِ دل دے کے نکھاریں گے رُخِ برگِ گلاب
    ہم نے گلشن کے تحفظ کی قسم کھائی ہے.

    وطن سے محبت ہے تو اس کا ثبوت بھی دیں۔ ملک سے رشوت، سفارش، ملاوٹ، ذخیرہ اندوزی،جیسے نظام کو مل کر ختم کریں ۔ یہ کہنا مشکل نہیں کہ ہم ایسا کر سکتے ہیں۔ یہ سمجھنا مشکل ہےاور بے شک عمل کرنا مشکل ہے. ۔ خود کو بدل لینا کافی نہیں۔ ہمیں یہ بیداری عام کرنی ہے ہم سب کو بدلنا ہو گا.

    پاکستان جس کو دنیا کے نقشے میں ابھرے صرف 74 برس ہی ہوئے ہیں اس کا مقابلہ ان ممالک سے کرنا کہاں کی سمجھ داری ہے. 237سال پہلے دریافت ہوا بھلاکیونکر درست ہو سکتا ہے۔ خدارا اپنی خودی کو پہچانیں ۔ بس ایک ہی التجا ہے موجودہ دور کی افراتفری کو خود پر حاوی مت کریں ۔

    پاکستان کلمہِٕ طیبہ”لا الہ اللہُ محمدُ الرسول اللّٰہ“ کی بنیاد پر وجود میں آیا، اس آزاد وطن کے حصول کا بنیادی مقصد مسلمانوں کے مذہبی نظریات، عقاٸد، عبادات کا بھر پور تحفظ اور آزادی تھا۔ تاکہ آزاد وطن میں رہتے ہوٸے ہر مسلمان اپنے مذہب کا دفاع کرسکے.. امن، انصاف، احساس، ہمدردی، اور دوسروں پر احسان کرنے کو ترجیع دیں ، دوسروں کو ترقی کرتے دیکھ کر دلی مسرت محسوس کریں اللّہ ہم سب کو منافقت کینہ بغض جیسی گندی بیماریوں سے بچنے کی توفیق عطا فرمائے تاکہ ہم صحیح معاشرہ تشکیل دے سکیں. اللّہ ہم سب کا حامی وناصر ہو. آمین ثم آمین


    Freelance Content Writer, Blogger, Social Media Activist
    To find more about him check 

     

  • تحریر : انوشہ امتیاز : صفائی نفس کی بھی اور ملک و قوم کی بھی ۔

    تحریر : انوشہ امتیاز : صفائی نفس کی بھی اور ملک و قوم کی بھی ۔

    آج ہمارا معاشرہ قربانی کے جذبے سے عاری اور نفسانفسی کا شکار ہوچکا ہے۔ ضرورت اس امر کی ہے کہ ہم ذخیرہ اندوزی ، حب مال، اور حب جاہ کے ان جانوروں کی قربانی بھی دیں جو ہمارے اندر پلتے بڑھتے رہتے ہیں اور پھر ہمیشہ ہمیشہ کے لئے ان آلائشوں سے تائب ہو جائیں۔جو معاشرے ایک دوسرے کے لئے قربانی دیتے ہیں، ایک دوسرے کے دکھ درد کا خیال رکھتے ہیں اورایک دوسرے سے نرمی اور خوش اخلاقی سے پیش آتے ہیں وہ معاشرے اس دنیا میں ہی جنتِ نظیرہو جاتے ہیں۔۔۔
    البتہ جن معاشروں کے انسانوں میں خواہشات سینوں میں حرص و ہوس کے بت تراش لیتی ہیں۔وہ جنت کا نہیں جنگل کا منظر پیش کرتے ہیں۔ عیدالاضحی کے موقع پر حکمرانوں اور سیاست دانوں سمیت ہم میں سے ہر شخص کا فرض ہے کہ وہ حرص و ہوس کے بتوں کی قربانی دے اور انہیں پاش پاش کر دے۔۔
    اس کے ساتھ ساتھ صفائی پر خصوصی توجہ دینا نہ صرف حکومت بلکہ عوام کا بھی فرض ہے۔۔۔

    اس حوالے سے اگرچہ سرکاری طور پر بھی بہت انتظامات کیے جاتے ہیں لیکن کروڑوں افراد کی آبادی کے لیے سرکاری انتظامات کافی نہیں ہوتے، اس لیے عوام کا سرکاری انتظامات کا ساتھ دینے کی اہمیت سے انکار نہیں کیا جا سکتا۔ عید قربان کے بعد عام شہروں اور قصبوں میں عام دنوں کی نسبت صفائی ستھرائی کی ضرورت بہت بڑھ جاتی ہے۔

    اس عید قربان پرعہد کریں کہ اپنے گلی محلوں اور نفس کی صفائی بھی اسی طرح کریں گے جیسے اپنے گھر کو صاف رکھتے ہیں ۔۔
    اگر شہری اپنی گلی، محلے کو صاف رکھنے کی خود کوشش کریں تو شہر خود بخود صاف ہوجائیں گے۔
    اسی طرح ارد گرد کے غربا کا بھی خیال رکھیں ۔
    وطنِ عزیز میں ایک بڑی آبادی خطِ غربت کے نیچے زندگی بسر کرنے پر مجبور ہے۔ اہل ثروث کی مذہبی اور اخلاقی ذمہ داری ہے کہ وہ اپنے ارد گرد فاقہ مست لوگوں کو ضرور یاد رکھیں۔
    حضرات ایک سے زائد قربانیاں کر رہے تھے انہیں چاہئے کہ وہ باقی گوشت غریب علاقوں میں بھیجیں اور انہیں بھی اپنی خوشیوں میں شامل کریں۔
    صفائی ستھرائی صرف حکومت ہی کا کام نہیں ہے اپنے گرد و نواح کو گندگی سے پاک رکھنا ہر شہری کی ذمہ داری ہے۔
    قربانی کرنے والوں کو چاہئے کہ جانوروں کی آلائشوں کو فوری طور پر ٹھکانے لگا کر ایک ذمہ دار شہری ہونے کا ثبوت دیں۔۔۔
    آج ہمارا معاشرہ قربانی کے جذبے سے عاری اور نفسانفسی کا شکار ہوچکا ہے۔ ضرورت اس امر کی ہے کہ ہم ذخیرہ اندوزی ، حب مال، اور حب جاہ کے ان جانوروں کی قربانی بھی دیں جو ہمارے اندر پلتے بڑھتے رہتے ہیں اور پھر ہمیشہ ہمیشہ کے لئے ان آلائشوں سے تائب ہو جائیں۔جو معاشرے ایک دوسرے کے لئے قربانی دیتے ہیں، ایک دوسرے کے دکھ درد کا خیال رکھتے ہیں۔۔
    البتہ جن معاشروں کے انسانوں میں خواہشات سینوں میں حرص و ہوس کے بت تراش لیتی ہیں۔وہ جنت کا نہیں جنگل کا منظر پیش کرتے ہیں۔ عیدالاضحی کے موقع پر حکمرانوں اور سیاست دانوں سمیت ہم میں سے ہر شخص کا فرض ہے کہ وہ حرص و ہوس کے بتوں کی قربانی دے اور انہیں پاش پاش کر دے۔۔
    @e_m_ee_