Baaghi TV

Category: معاشرہ و ثقافت

  • تحریر معین وجاہت  عنوان :منفی سوچ کے اثرات۔

    تحریر معین وجاہت عنوان :منفی سوچ کے اثرات۔

    منفی سوچ ایک ایسا زہر ہے جو جسم میں سرائیت کر جائے تو فرد معاشرے سے کٹتا ہی ہے ساتھ میں فیملی کے لئے بھی وبال جان بن جاتا ہے۔ایسے انسان سے کنارہ کش ہونا ہی بہتر سمجھا جاتا ہے ۔
    یہ حقیقت ہے کہ منفی سوچ انسان کی شخصیت کو بھی منفی بنا دیتی ہے کیونکہ ایسا فرد ہر مثبت پہلو سے بھی منفی پہلو ہی نکالتا ہے ۔اسی زہریلی سوچ کے زیر اثر انسان آہستہ آہستہ چڑچڑا پن کا شکار ہو جاتا ہے۔معاشرے سے ہٹ کے ایسے لوگ اپنوں کے لئے بھی سوہان روح بن جاتے ہیں۔ان سے لوگ بات کرنے میں ہچکچاہٹ محسوس کرتے اور کوشش کرتے کہ اسے اپنے معاملات سے الگ رکھا جائے جس کے نتیجہ میں ایسے افراد اکیلے رہ جاتے ہیں ۔ان تمام چیزوں سے بچنے کے لئے اپنا کتھارسیس کیجئے کہ کہیں ایسا تو نہیں کہ انجانے میں آپ کا رویہ آپکی سوچ آپکو تنہا تو نہیں کر رہی؟ کہیں آپ کے اپنے آپ سے بات نہ کرنا بہتر تو نہیں سمجھ رہے؟کیا آپ کو اپنی زندگی بوجھ تو نہیں لگنے لگی ؟کہیں آپ ہر لمحہ زہنی ڈیپریشن کا شکار تو نہیں ہو رہے؟اگر ان میں سے کوئ بھی سائین آپکو نظر آ رہا ہے اور آپ نارمل زندگی کی طرف لوٹنا چاہتے ہیں اگر آپ اپنے ارگرد کے ماحول کو خوبصورت بنانا اور دیکھنا چاہتے ہیں زندگی کے تمام لمحوں کی خوبصورتی کو کشید کرنا چاہتے ہیں اس کائنات کے رنگوں میں کھونا اور انہیں محسوس کرنا چاہتے ہیں ؟ آپ اپنے ارد گرد بچوں کی قلقاریوں میں زندگی کا احساس چاہتے ہیں ؟ اور اگر آپ زندگی کو صحیح معنوں میں جینا چاہتے ہیں تو پھر اپنی سوچ کو بدلیں۔اپنی سوچ کے زاویے کو درست کریں ہر منفی سوچ کو جھٹک کر اسے مثبت انداز میں ڈھالیں زندگی کو محسوس کریں اپنوں کو اپنے منفی رویے کی وجہ سے دور نہ کریں۔بلکہ ایسا رویہ اپنائیں کہ آپ کے اپنے آپ کے نزدیک رہنا جنت تصور کریں ۔ جب آپ یہ قدم اٹھائیں گے تو یقین کیجئے آپکو اپنے ارد گرد تتلیاں اڑتی ہوئ محسوس ہوں گی اور آپ خود کو نہ صرف باوقار شہری بلکہ اپنے گھر کا ذمہ دار فرد سمجھیں گے۔ اور ہر قسم کے ڈیپریشن سے آزاد ہوں گے آزمائش شرط ہے

    @iamnoww50

  • تحریر: سید غازی علی زیدی پاکستانی معاشرہ، منتشر یا مستحکم

    تحریر: سید غازی علی زیدی پاکستانی معاشرہ، منتشر یا مستحکم

    ذہنی، فکری اور نظریاتی لحاظ سے زبوں حالی کا شکار، ادراک واحساسات سے عاری، مادیت پرستی و جاہ و نصب کی چاہ میں تمام اقدار وروایات کو ٹھکراتا، پاکستانی معاشرہ۔۔۔حصول زر کیلئے ہر جائز و ناجائز کا سہارا لیتے والدین اور اس حرام کمائی کو عیاشی میں اڑاتی نوجوان نسل، تعلیم کو کمائی کا ذریعہ بناتے اساتذہ اور تربیت سے ناآشنا طلباء، غرض آوے کا آوا ہی بگڑا ہوا ہے۔
    تعلیم و تربیت اور اخلاقی اقدار پاکستانی معاشرے میں ایک قصہ پارینہ بنتے جارہے۔ تمیزوتہذیب کی مذہبی و مشرقی روایات جن پر کبھی فخر کیا جاتا تھا آج ان کو کمزوری سمجھا جاتا ہے۔ معاشرہ بری طرح سے اخلاقی گراوٹ کا شکار ہو رہا ہے۔ بےشعور لوگ تماش بین جبکہ باشعور لوگ بےبسی کی تصویر بنے ہاتھ پر ہاتھ دھرے بیٹھے ہیں۔ بہتان طرازی کو ہتھیار سمجھتے سیاستدان، اخلاقیات سے عاری میڈیا اور گالم گلوچ کو فیشن سمجھتی نوجوان نسل، غرض ایک طوفان بدتمیزی ہے جس نے پورے معاشرے کو یرغمال بنایا ہوا۔ کیا بچے، کیا بوڑھے کیا خواتین، ہر ایک نے تمیز کو بالائے طاق رکھ دیا ہے۔ تنقید برائے تنقید ہم لوگوں کی فطرت ثانیہ بن چکی ہے۔ حسد، غیبت، جھوٹ، چغلی غرض ہر وہ اخلاقی برائی جس پر قرآن وسنت میں سخت سزا کی وعید ہے وہ آج ہمارے سماج میں معمولی بات سمجھی جاتی۔
    پاکستانی عوام ہر بات میں مغرب کی مثال دیتے نہیں تھکتے لیکن جب بات اصولوں کی آئے تو ہم سے بڑا بےاصول کوئی نہیں۔ ایک طوفان بدتمیزی ہے جس کی ہر شعبہ زندگی پر یلغار ہے۔ سوشل میڈیا کے نام نہاد جنگجو اپنا مقصد پورا کرنے کیلئےہر حد پار کرتے نظر آتے۔ سمارٹ فون کی آڑ میں نہ کسی کی عزت محفوظ ہے نہ جان۔ بلاشبہ سوشل میڈیا کے مثبت کردار سے کسی کو انکار نہیں جس کی وجہ سے بڑے بڑے مجرم نہ صرف بینقاب ہوئے بلکہ ان کو سزائیں بھی ہوئیں۔ لیکن وسیع تناظر میں دیکھا جائے تو ہمارا معاشرتی نظام دن بدن زبوں حالی کا شکار ہو رہا اور آنے والے کل کی بنیاد دروغ گوئی، فحاشی اور دشنام طرازی پر رکھی جارہی ہے۔ بلا تحقیق کے کی گئی سوشل میڈیا پر ایک پوسٹ اچھی بھلی زندگیوں کو جہنم بنانے کیلئے کافی ہے۔ بلیک میلنگ کا گھناؤنا کھیل اپنے عروج پر ہے۔
    بقول شاعر!
    انسان کی بلندی و پستی کو دیکھ کر
    انساں کہاں کھڑا ہے ہمیں سوچنا پڑا
    مجموعی طور پر یہ حالات اچھے خاصے انسان کو نفسیاتی مریض بنانے کیلئے کافی ہیں۔ سونے پر سہاگا! مایوسی اور ناامیدی زہر قاتل کی طرح معاشرے کی رگوں میں سرائیت کر چکی ہے۔
    کوئی بھی ذی شعور انسان سوشل میڈیا کا تجزیہ کر کے بآسانی یہ نتیجہ اخذ کر سکتا کہ انتہا پسندی کا شکار، فہم و فراست سے عاری معاشرہ انتشار اور بگاڑ کی راہ پر گامزن ہے۔ تعلیم و آگاہی سے نابلد نوجوان نسل کو انٹرنیٹ کا بے دریغ استعمال جسمانی و ذہنی طور پر تباہ کررہا۔ عامیانہ اور محدود سوچ کے حامل افراد اپنا جاہلانہ نقظہ نظر ہر کس و ناکس پر تھوپتے نظر آتے۔ اخلاقیات اور علم و دانش کا جنازہ نکل چکا ہے جبکہ والدین، اساتذہ و اربابِ اختیار بے بسی سے تماشا دیکھ رہے ہیں۔
    ضرورت اس امر کی ہے کہ معاشرے کے تمام طبقات میں سے باشعور لوگ آگے آئیں اور منظم ہو کر اخلاقی پستی، مذہبی عدم برداشت، بےراہ روی جھوٹ اور فریب کی دلدل میں جکڑے زوال پذیر معاشرے کو باہر نکالنے کا عزم کریں۔
    ارشاد باری تعالیٰ ہے۔ "اللّٰہ تعالیٰ عدل اور احسان اور صلہ رحمی کا حکم دیتا ہے اور بدی اور بے حیائی اور ظلم و زیادتی سے منع کرتا ہے۔وہ تمہیں نصیحت کرتا ہے تاکہ تم سبق لو”(سورہٗ النحل۔90 )
    یہ ایک روشن حقیقت ہے کہ جب کوئی معاشرہ بداعمالیوں میں حد سے تجاوز کر جاتا ہےتو خداایک حد تک اُسے مہلت دیتا ہے کہ وہ اپنی اصلاح کر لے۔ لیکن اگر برائی کی روش برقرار رہے تو قانون قدرت حرکت میں آتا دنیا ہی میں ذلت اور پستی مقدر بن جاتی۔ہم مسلمانوں کیلئے دین اسلام ہی واحد نصب العین اور حضور اکرم ﷺ کی اسوہ حسنہ بہترین نمونہ ہے۔ اور اسی پر عمل کرکے ہم ایک مستحکم معاشرے کی بنیاد رکھ سکتے اور دنیا و آخرت میں سرخروئی حاصل کر سکتے۔

    : @once_says

  • تحریر: مجاہد حسین ابھی کچھ لوگ باقی ہیں جہاں میں

    تحریر: مجاہد حسین ابھی کچھ لوگ باقی ہیں جہاں میں

    ہمارے معاشرے میں ہمیں طرح طرح کے لوگوں سے واسطہ پڑتا ہے۔ ہزاروں قسم کی فطرتیں دیکھنے میں آتی ہے۔ بہت سے لوگوں سے بہت کچھ سیکھنے کو ملتا یے۔ کبھی کبھی کوئی غیر ہمارے دلوں پر ایسا اثر اور نشان چھوڑ جاتا ہے جو کسی اپنے سے امید بھی نہیں کی جا سکتی۔
    کچھ ایسا ہی واقعہ آج ہمارے ساتھ پیش آیا۔
    آج سعودی عرب میں یوم العرفہ تھا۔ آج کو دن یہاں کے مقامی لوگوں کی اکثریت روزہ رکھتی ہے۔ یہاں بھی ہر طرح کے لوگوں سے واسطہ پڑتا ہے۔ آپ نے اکثر سعودی پلٹ پاکستانیوں کے منہ سے کفیلوں کی برائیاں سن رکھی ہونگی۔ اور یقیناً ان میں سے اکثریت کے بارے میں ہماری رائے بھی ایسی ہی ہے۔ لیکن آج ہوئے واقعے نے ہمیں یہ سکھا دیا کہ "ابھی کچھ لوگ باقی ہیں جہاں میں”
    اللہ نے نفلی روزہ رکھنے کی توفیق دی، سارا دن گھر والوں سے باتوں میں، نماز اور ذکر اور سو کے گزر گیا۔ شام ہوئی تو دوست نے کہا کہ آج ریسٹورنٹ سے کھانا کھا کے آتے ہیں۔ رہائش کے پاس ہی ایک ترک ریسٹورنٹ ہے۔ اکثر جانا ہوتا ہے وہاں پر۔ افطار کمرے میں کر کے جب ہم ریسٹورنٹ پہنچے تو وہاں پہلے سے ایک باریش سعودی کھانا نوش فرما رہا تھا۔ میں نے رسماً انہں سلام کہا، انہوں نے میری طرف دیکھا مسکرا کر وعلیکم السلام کہا، میں نے اپنی ٹوٹی پھوٹی عربی میں انہیں عید کی ایڈوانس مبارک بھی دے ڈالی، یہ سب دیکھ کر وہ مسکرائے اور کھانا کھانے میں مصروف ہوگئے۔
    اتنی دیر میں ہمارا آرڈر بھی آ گیا اور ہم نے بھی کھانا شروع کر دیا۔ تھوڑی دیر بعد ویٹر پیپسی لے کے ہمارے پاس آیا اور بولا، "یہ ان صاحب نے آپ کو دینے کے لئے کہا ہے” ہم نے قبول کی اور ان کا شکریہ ادا کر کے کھانا کھانے لگ گئے۔ انہوں نے اپنا کھانا ختم کیا اور کاؤنٹر پہ حساب کتاب کر کے پیسے دے دئیے۔ جاتے وقت مسکراتے ہوئے ہمیں "عید مبارک” بھی کہہ گئے۔
    ہم نے کھانے سے فارغ ہو کے، ہاتھ دھو کے جب بل دینا چاہا تو معلوم ہوا کہ اللہ کا وہ نیک بندہ ہمارے پیسے بھی دے گیا ہے۔ ہم حیرت بھری نگاہوں سے ایک دوسرے کو دیکھنے لگے کہ ایسا کیوں کیا؟
    آخر ایسا کیا تھا جس نے اس شخص کو متاثر کیا؟
    ہوٹل میں اور بھی لوگ تو موجود تھے (کئی تو سعودی بھی تھے) تو ہمارا بل ہی کیوں؟
    کیا ریسٹورنٹ میں آتے ہی ہمارا اسے سلام کرنا، اس سے حال پوچھنا، عید کی مبارک دینا اسے پسند آیا؟
    اللہ ہی بہتر جانتا ہے۔ لیکن ایک بات تو ہے۔ اخلاق آپ کے بڑے سے بڑے دشمن کو بھی دوست بنا دیتا ہے۔ آپ کے قتل کے درپے لوگ آپ کے خادم بھی بن جایا کرتے ہیں یہ چیزیں ہمیں اللہ کے رسول ﷺ کی سیرت سے ملتی ہیں۔
    خیر، وجہ چاہے کچھ بھی ہو، جب آپ کسی سے اخلاق سے پیش آتے ہیں تو آپ کا ایک مثبت اثر اس کے دل میں اتر جاتا ہے۔ حضرت ابودردہ ؓ سے روایت ہے کہ نبی ﷺ نے فرمایا : "میزان میں حسن اخلاق سے بڑھ کر کوئی چیز وزنی نہیں” ایک اور مقام پہ حضرت عائشہ ؓ بیان کرتی ہیں کہ نبی ﷺ نے فرمایا: بیشک مومن اپنے حسن اخلاق کی بدولت روزے رکھنے اور قیام کرنے والے کا درجہ پا لیتا ہے” اللہ سے دعا ہے کہ اللہ ہمیں حسن اخلاق سے نوازے۔ آمین
    @Being_Faani

  • تحریر : روشن دین دیامری :  موجودہ  دور میں ہم سیرتؐ سے کیا سبق حاصل کر سکتے ہیں

    تحریر : روشن دین دیامری : موجودہ دور میں ہم سیرتؐ سے کیا سبق حاصل کر سکتے ہیں

    حضرت محمد صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی ولادت پوری انسانیت کے لئے بہت بڑی نعمت ہے۔ اپؐ کی تعلیمات ہمارے لے ثقافت یا مذہب سے قطع نظر اس دنیا کی ہر قوم کے لئے معاشرتی ترقی اور خوشحالی کے مثال کے طور پر کام کرتی ہیں۔ اپؐ کی ولادت ہم سب کے لے باعث رحمت ہے ، یہ بہت اہم ہے کہ ہم اپؐ کے پیروکار ہونے کے ناطے ، ان کی پیش کردہ اسلامی تعلیمات کے تناظر میں اپنے موجودہ معاشرتی الجھنوں کا سنجیدگی سے تجزیہ کریں اور انسانیت کو ناانصافی اور جبر سے آزاد کرنے کے لئے اپؐ کے حکمت عملی پہ عمل کرے ۔ ہم اپؐ کے زندگی کے مختلف پہلوں کا تجزیہ کرکے جس میں اپؐ کی طرف سے اجتماعی بنیادوں پر شروع کی گئی جدوجہد کا طریقہ کار پہ عمل کر سکتے ہیں ، ہم استحصالی قوتوں کے ہاتھوں انسانیت کی مروجہ پریشانی اور بدحالی کو ختم کرنے کے لئے یقینی طور پر اپنے لائحہ عمل کو طے کرسکتے ہیں۔ حضور نبی اکرم (ص) کی زندگی سے متعلق پہلا اور اہم تصور یہ ہے کہ ان کی آمد کا واحد مقصد اس وقت کے ظالم نظام سرمایہ دارانہ طاقتوں کے ذریعہ مسلط انسانیت کو ظلم ، جبر اور استحصال سے آزاد کرنا تھا۔ بلا شبہ ، اپؐ اور جماعت صحابہؓ نے اس مشن کو کامیابی کے ساتھ انجام دیا اپنے دور کے استحصالی معاشی اور سیاسی نظام کو جڑ سے اکھاڑ پھینک کر ، معاشی انصاف ، معاشرتی مساوات ، اجتماعیت ، امن ، اور انسانیت پسندی کے اصولوں پر مبنی معاشرتی نظام کی بنیاد رکھی۔ اپؐ کی زندگی کا ہر پہلو اسلامی اصولوں پر زور دیتا ہے۔ مثال کے طور پر ، حضور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے الوداعی خطبہ میں ، انہوں نے کہا ، "لوگو ، بیشک آپ کا رب اور پالنے والا ایک ہے اور آپ کا آباؤ اجداد ایک ہے۔ آپ سب حضرت آدم علیہ السلام کے اولاد ہو اور آدم علیہ السلام مٹی سے بنے تھے۔ اللہ کے سامنے تم میں سب سے ممتاز وہ ہے جو سب سے زیادہ پرہیزگار ہے۔ کسی
    عربی کو کسی عجمی پر فضیلت نہیں ہے اور نہ ہی کسی عربی پر کسی عجمی کو فضیلت حاصل ہے نہ ہی کسی گورے کو سیاہ پر اور نہ ہی کسی سیاہ کو کسی گورے پر ، سوائے اس کے کہ جس کا تقویٰ ذیادہ ہو۔ قبل از اسلام میں ، خواتین کو انتہائی شرم کی علامت سمجھی جاتی تھی اور ان کے معاشرے میں کوئی قابل احترام حیثیت حاصل نہی تھی۔ ہمارے نبی پاک صلی اللہ علیہ وسلم نے معاشرتی مساوات پر مبنی نظام کے نفاذ کے ذریعہ ان سے باوقار اور خود مختار زندگی جینے کا حق دیا۔ اپؐ کے متعدد تعلیمات خواتین کی عزت اور معاشرے میں ان کے کردار پر زور دیتی ہیں۔
    مثال کے طور پر ، اپنے الوداعی خطبے میں ، حضور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے یہ بھی فرمایا ، "اپنی عورتوں کے ساتھ اچھا سلوک کرو کیونکہ یہ یہ ان کا حق ہے ۔اور وہ بہت سارے معاملات خود سنبھالنے سے قاصر ہیں۔ لہذا اللہ سے ڈرو اور ان کے بارے میں شعور رکھو ،اور ان کے جائر مطالبات پورے کرو جسے میں نے اپ کو کر کے دیکھایا ہے۔ ، آپ کا باہمی رشتہ مقدس ہے۔ اجتماعی اور ایمانداری کی بنیاد پر آنحضرتؐ کی زندگی کے مذکورہ بالا اصولوں کا تجزیہ کرکے ، ہم اپنے موجودہ معاشرتی بحران پر قابو پانے کے لئے حکمت عملی مرتب کرسکتے ہیں۔ سنت نبوی (ص) کا دوسرا پہلو اس بات پر زور دیتا ہے کہ اس کی باضابطہ جدوجہد ، معاشرے کے غلط لوگو ں کی نشاندہی کرکے ایک اچھا معاشرہ بنایا جاائے ۔اپؐ اور جماعت صحابہؓ نے حکمران طبقے کے استحصال ایجنڈوں کا مقابلہ کرنے کے لئے ایک اجتماعی حکمت عملی تیار کی۔ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی زندگی کا گہرا تجزیہ یہ واضح کرتا ہے کہ ان کی پوری جدوجہد کا جو کہ دنیا بھر استحصال زدہ سیاسی ، معاشی اور معاشرتی نظام کو ختم کرنا تھا۔ اس وقت ، مکہ مکرمہ کے خود غرض حکمران طبقے نے اپنی قوم کو دھوکہ دہی سے غلام بنانے کے لئے ایک بے رحمانہ سیاسی نظام بنایا تھا۔ اور وحشیانہ اور غیر انسانی سلطنتں جیسے روم اور فارس کی وجہ سے بین الاقوامی سطح پر بھی یہی معاملہ تھا۔ مکہ مکرمہ کے اس مستند حکمران فرقے نے آنحضرت صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے انسانیت دوست مشن کی شدید مخالفت کی اور انہیں اور ان کے ساتھیوں کو سخت تکلیف پہنچائی۔ انہوں نے معاشرے کے کمزور اور لاچار لوگوں کو اپنی نمائندگی قبول کرنے اور اپنے مسلط کردہ آمرانہ نظام کی بالادستی کی مکمل پابندی کا مظاہرہ کرنے پر مجبور کیا۔ ان کا ماننا تھا کہ حضور (ص) عرب ممالک پر ذاتی شان و شوکت کی خواہش رکھتے ہیں۔لیکن اپؐ اور جماعت صحابہؓ نے مل کراس ظالمانہ نظام کو ختم کر دیا اور ایک عادلانہ معاشرہ قائم کیا۔ اللہ تعالی سے دے دعا ہے ہم اپؐ اور جماعت صحابہؓ کے طرز زندگی پہ عمل کر کے ایک انسانی معاشرہ ترتیب دیں۔امین

    @rohshan_Din

  • تحریر :تہران الحسن خان : حب الوطن من الایمان

    تحریر :تہران الحسن خان : حب الوطن من الایمان

    ”یعنی وطن کی محبت ایمان کا جز ہے۔
    حب الوطنی یعنی وطن سے دلوں جان سے محبت کے ہیں۔ انسان کا یہ فطری عمل ہے کہ وہ جس جگہ رہتا ہے اس جگہ سے انسیت لگاؤ ہو ہی جاتا ہے۔ جس جگہ ساری زندگی رہا ہو آب وہوا، لوگ حتی کہ وہاں کی چیزوں سے محبت کرنا اس کے فطرت میں شامل ہوتا جاتا ہے. ہم جس جگہ پیدا ہوئے ہوں پھلے پھولے ہوں جوان ہوئے ہوں اس جگہ اس مقام کا عادی ہو جاتا ہے اور اس سے اتنی محبت ہو جاتی ہے دنیا میں کہیں بھی جائےگا اپنا وطن اس کی پہچان بنے گا.. اور ہم کتنا بھی دنیا میں گھوم آئیں جو اپنے وطن اپنی کی اپنی مٹی اپنے گھر کا سکون ہے وہ کہیں بھی نہیں ہے..
    انسان اپنے وطن سے دور ہوتا ہے تو تب ہی اس کو وطن سے محبت کا احساس شدت سے ہونے لگتا ہے
    وہ اپنے وطن کیی محبت میں ذاتی اغراض ومقاصد کو بے دریغ قربان کر دیتے ہیں

    وطن چمکتے ہوئے کنکروں کا نام نہیں
    خونِ دل دے کے نکھاریں گے رُخِ برگِ گلاب
    ہم نے گلشن کے تحفظ کی قسم کھائی ہے.

    وطن سے محبت ہے تو اس کا ثبوت بھی دیں۔ ملک سے رشوت، سفارش، ملاوٹ، ذخیرہ اندوزی،جیسے نظام کو مل کر ختم کریں ۔ یہ کہنا مشکل نہیں کہ ہم ایسا کر سکتے ہیں۔ یہ سمجھنا مشکل ہےاور بے شک عمل کرنا مشکل ہے. ۔ خود کو بدل لینا کافی نہیں۔ ہمیں یہ بیداری عام کرنی ہے ہم سب کو بدلنا ہو گا.

    پاکستان جس کو دنیا کے نقشے میں ابھرے صرف 74 برس ہی ہوئے ہیں اس کا مقابلہ ان ممالک سے کرنا کہاں کی سمجھ داری ہے. 237سال پہلے دریافت ہوا بھلاکیونکر درست ہو سکتا ہے۔ خدارا اپنی خودی کو پہچانیں ۔ بس ایک ہی التجا ہے موجودہ دور کی افراتفری کو خود پر حاوی مت کریں ۔

    پاکستان کلمہِٕ طیبہ”لا الہ اللہُ محمدُ الرسول اللّٰہ“ کی بنیاد پر وجود میں آیا، اس آزاد وطن کے حصول کا بنیادی مقصد مسلمانوں کے مذہبی نظریات، عقاٸد، عبادات کا بھر پور تحفظ اور آزادی تھا۔ تاکہ آزاد وطن میں رہتے ہوٸے ہر مسلمان اپنے مذہب کا دفاع کرسکے.. امن، انصاف، احساس، ہمدردی، اور دوسروں پر احسان کرنے کو ترجیع دیں ، دوسروں کو ترقی کرتے دیکھ کر دلی مسرت محسوس کریں اللّہ ہم سب کو منافقت کینہ بغض جیسی گندی بیماریوں سے بچنے کی توفیق عطا فرمائے تاکہ ہم صحیح معاشرہ تشکیل دے سکیں. اللّہ ہم سب کا حامی وناصر ہو. آمین ثم آمین


    Freelance Content Writer, Blogger, Social Media Activist
    To find more about him check 

     

  • تحریر : انوشہ امتیاز : صفائی نفس کی بھی اور ملک و قوم کی بھی ۔

    تحریر : انوشہ امتیاز : صفائی نفس کی بھی اور ملک و قوم کی بھی ۔

    آج ہمارا معاشرہ قربانی کے جذبے سے عاری اور نفسانفسی کا شکار ہوچکا ہے۔ ضرورت اس امر کی ہے کہ ہم ذخیرہ اندوزی ، حب مال، اور حب جاہ کے ان جانوروں کی قربانی بھی دیں جو ہمارے اندر پلتے بڑھتے رہتے ہیں اور پھر ہمیشہ ہمیشہ کے لئے ان آلائشوں سے تائب ہو جائیں۔جو معاشرے ایک دوسرے کے لئے قربانی دیتے ہیں، ایک دوسرے کے دکھ درد کا خیال رکھتے ہیں اورایک دوسرے سے نرمی اور خوش اخلاقی سے پیش آتے ہیں وہ معاشرے اس دنیا میں ہی جنتِ نظیرہو جاتے ہیں۔۔۔
    البتہ جن معاشروں کے انسانوں میں خواہشات سینوں میں حرص و ہوس کے بت تراش لیتی ہیں۔وہ جنت کا نہیں جنگل کا منظر پیش کرتے ہیں۔ عیدالاضحی کے موقع پر حکمرانوں اور سیاست دانوں سمیت ہم میں سے ہر شخص کا فرض ہے کہ وہ حرص و ہوس کے بتوں کی قربانی دے اور انہیں پاش پاش کر دے۔۔
    اس کے ساتھ ساتھ صفائی پر خصوصی توجہ دینا نہ صرف حکومت بلکہ عوام کا بھی فرض ہے۔۔۔

    اس حوالے سے اگرچہ سرکاری طور پر بھی بہت انتظامات کیے جاتے ہیں لیکن کروڑوں افراد کی آبادی کے لیے سرکاری انتظامات کافی نہیں ہوتے، اس لیے عوام کا سرکاری انتظامات کا ساتھ دینے کی اہمیت سے انکار نہیں کیا جا سکتا۔ عید قربان کے بعد عام شہروں اور قصبوں میں عام دنوں کی نسبت صفائی ستھرائی کی ضرورت بہت بڑھ جاتی ہے۔

    اس عید قربان پرعہد کریں کہ اپنے گلی محلوں اور نفس کی صفائی بھی اسی طرح کریں گے جیسے اپنے گھر کو صاف رکھتے ہیں ۔۔
    اگر شہری اپنی گلی، محلے کو صاف رکھنے کی خود کوشش کریں تو شہر خود بخود صاف ہوجائیں گے۔
    اسی طرح ارد گرد کے غربا کا بھی خیال رکھیں ۔
    وطنِ عزیز میں ایک بڑی آبادی خطِ غربت کے نیچے زندگی بسر کرنے پر مجبور ہے۔ اہل ثروث کی مذہبی اور اخلاقی ذمہ داری ہے کہ وہ اپنے ارد گرد فاقہ مست لوگوں کو ضرور یاد رکھیں۔
    حضرات ایک سے زائد قربانیاں کر رہے تھے انہیں چاہئے کہ وہ باقی گوشت غریب علاقوں میں بھیجیں اور انہیں بھی اپنی خوشیوں میں شامل کریں۔
    صفائی ستھرائی صرف حکومت ہی کا کام نہیں ہے اپنے گرد و نواح کو گندگی سے پاک رکھنا ہر شہری کی ذمہ داری ہے۔
    قربانی کرنے والوں کو چاہئے کہ جانوروں کی آلائشوں کو فوری طور پر ٹھکانے لگا کر ایک ذمہ دار شہری ہونے کا ثبوت دیں۔۔۔
    آج ہمارا معاشرہ قربانی کے جذبے سے عاری اور نفسانفسی کا شکار ہوچکا ہے۔ ضرورت اس امر کی ہے کہ ہم ذخیرہ اندوزی ، حب مال، اور حب جاہ کے ان جانوروں کی قربانی بھی دیں جو ہمارے اندر پلتے بڑھتے رہتے ہیں اور پھر ہمیشہ ہمیشہ کے لئے ان آلائشوں سے تائب ہو جائیں۔جو معاشرے ایک دوسرے کے لئے قربانی دیتے ہیں، ایک دوسرے کے دکھ درد کا خیال رکھتے ہیں۔۔
    البتہ جن معاشروں کے انسانوں میں خواہشات سینوں میں حرص و ہوس کے بت تراش لیتی ہیں۔وہ جنت کا نہیں جنگل کا منظر پیش کرتے ہیں۔ عیدالاضحی کے موقع پر حکمرانوں اور سیاست دانوں سمیت ہم میں سے ہر شخص کا فرض ہے کہ وہ حرص و ہوس کے بتوں کی قربانی دے اور انہیں پاش پاش کر دے۔۔
    @e_m_ee_

  • جب دوست بن جائے دشمن . تحریر : واحید خان

    جب دوست بن جائے دشمن . تحریر : واحید خان

    انسانی رشتوں کے ساتھ اگر جذبات کا گہرائی تک جانا محبت کہلاتا ہے تو نفرتوں کے ساتھ ا نتقام کے جذبات کا انتہاہ تک جانا دشمنی کے زمرے میں اتا ہے اور پھر دوستی کے گہرائی سے پیار اور اخلاص کے جذبات کا اہستہ اہستہ دشمنی کے سفر میں جو درد سینے میں محسوس ہوتا ہے وہ وحشت کا ایک بھیانک تصویر بن جاتا ہے۔جس تصویر میں اپ ساری عمر محبتوں اور چاہتوں کے رنگ بھرتے بھرتے خودایک لازوال کہانی کا تصور بن گئے ہو،اپکی دوستی اور قربانی کی مثالیں دی جاتی رہی ہواور پھر اُسی تصویر سے اپ ایک ایک کرکے محبتوں کے رنگ مٹانے پر مجبور ہو اور اندر سے ہر رنگ کے مٹانے کے ساتھ ساتھ اپکے حواص میں ایک درد سا محسوس ہو رہا ہو مگر پھر بھی دوستی سے دشمنی کا سفر جاری ہو تو اللہ نہ کرے کہ یہ درد اور یہ کرب کسی کو نصیب ہو،،

    انسان عمرکے اُس حصے میں پہنچ جائے جہاں سے دنیا کے ہر چیز کو سنجیدگی سے دیکھا جاتا ہے تو وہاں سے اپنے بچپن کے دوستوں کو بہت ہی مقدس مقام پر محسوس کیا جاتا ہے ایک ایک لمحہ نہ بھولا نے والا ہوتا ہے اور پھر بچپن سے جو اپکے ساتھ ایک ساتھ چلتا ایا ہو ،اپکے راز و نیاز کا ساتھی ہو،دکھ درد کا ساتھی ہو،محبتوں کے سیکھنے اور سیکھانے کے عمل سے ایک ساتھ ہو کر گزرے ہو محبت کے نشیب و فراز میں ایک دوسرے کے ساتھ جذبات کی حد وابستگی ہو اور پھر وقت اور حالات اپکو انا کے ہاتھی پر سوار کر کے اُسی دوست کے مقابل ایک ناقابل برداشت دشمن کے شکل میں لاکھڑا کردے تو یہ عمل بہت ہی کربناک ہوتا ہے۔دوستوں کے درمیان دشمنی کے سفر میں اگر پیسہ ،دولت اور لالچ کو دخل حاصل ہے تو ساتھ ساتھ اس میں طاقت اور اختیار کا بہت بڑا ہاتھ ہو تا ہے،،،بعض دوستوں کو طاقت اور اختیار کے بنے ہوئے سانپ ڈس جاتے ہیں ،دوستوں میں جب کوئی ایک دوست طاقت اور اختیار انے کے بعد گرگٹ کی طرح رنگ بدلے،منہ میں پیار کی جگہ حکم کی زبان بولنے لگے،انکھوں میں احترام کے بجائے تضحیک بھر جائے ،اخلاص کے بجائے رسمی ادائیں سمو جائے،حقیقت کے بجائے خوش امدیوں کے فرضی کہانیوں سے فیصلے کرکے اپنے دوست کے ہر حقیقی اور سچی بات کا الٹ مطلب لینا شروع کرے ،زمینی حقائق کے بجائے مولا دوپیازہ جیسے لوگوں کے نخروں والی وقتی اور غیر حقیقی کہانیوں کو اپنی مشعل راہ بنانیکی کوشش کرے تو پھر ایسے ماحول میں دوستی کا جنازہ اغیار اپنے کندھے پر اٹھا کر بے ضمیروں کے قبرستان میں بغیر کفن کے ہی دفن کرتے ہیں۔

    @waheed859

  • تنگ نظری اورحقیقت سے خوف زدہ .  تحریر: صالح

    تنگ نظری اورحقیقت سے خوف زدہ . تحریر: صالح

    ہم کہنے کو تو ایک آزاد ریاست پاکستان میں رہتے ہیں لیکن کیا ہم واقعی آزاد ہیں یہ سوال ہمیشہ سے میرے ذہن کو مطمئن نہیں کرتا اگر ہم آزاد ہیں تو پھر یہ آزادی نظر کیوں نہیں آتی حقیقت تو یہ ہے کے ہم کبھی آزاد ہوئے ہی نہیں آزادی وہاں ہوتی ہیں جہاں سوال اٹھانے کی اجازت ہو جہاں اپنے موقف اور نظریہ کو رکھنے کا موقعہ ہو جہاں آپ کے موقف کو سنا جائے لیکن پاکستان میں آپ سوال اٹھائے گے تو آپ کو ہر وقت اس بات کا خوف ہو گا کے نہ جانے کب کوئ گولی آئے اور مجھے قبرستان کا راستہ دیکھا دے یا آپ کی فیملی کا مستقبل خطرے میں ہو آپ اپنے نظریات صرف اس وجہ سے بیان نا کریں کے آپ پرسیکولرزم لبرلزم انتہا پسند کے فتوے نا لگا دیے جائے آپ کا جینا مشکل کر دیا جائے اور آپ کی رائے اورموقف کو سنا تک نا جائے مگر افسوس موقف تو وہاں سنا جاتا یا رائے کی آزادی ہو مکالمہ تو اس قوم سے پہلے ہی چھین لیا گیا اب آپ کا موقف آپ کی رائے وہی ہونی چاہیے جو ریاست کی ہے نہیں تو آپ غدار ملک دشمن کہلائے گے اس کے بعد ہمارے ہاں مذہب کو سیاست میں جس طرح سے استعمال کیا گیا اس نے آزادی کو مزید ختم کر دیے اب تو کوئ شخص مذہبی فکر میں موجود خرابی پر بھی اس ڈر سے بات نہیں کرتا کے اسے کافر اور گستاخ قرار دے کر دن دہاڑے مر دیا جائے گا تاریخ کو بھی مسخ کرنے میں ہم نے کوئ کسر نا چھوڑی اور خود کو تیس مار خان سمجھنے لگے ہیں کے دیکھو جو بیان کیا جا رہا ہے اس کو مانا جا رہا ہے اس سے آپ شاید اپنی آنکھوں میں تو دھول جھونک سکتے ہیں مگر تاریخ کو مسخ کرنے سے تاریخ کا کچھ نہیں ہو گا وہ آپ کو مسخ کر دے گی حقیقت تو یہ ہے کے پہلے ہم انگریز کے جسمانی غلام تھے ہماری سوچ فکر اور نظریے آزاد تھے مگر اب جسمانی غلام تو نا رہے مگر نظریات و افکار میں ہم پہلے سے زیادہ غلام بن گے اور بنتے جائیں گے جب تک سوال نہیں اٹھائیں گے.

  • ‏محبت اورہمارا معاشرہ . تحریر : صالح_ساحل

    ‏محبت اورہمارا معاشرہ . تحریر : صالح_ساحل

    اس کائنات میں سب سے خوبصورت جذبہ محبت ہے محبت کس حد کی پابند نہیں پھر چاہیے یہ درختوں سے ہو پرندوں سے ہو انسانوں سے وہ یا مرد اور عورت کے درمیان ہو مگر ہمارے معاشرہ محبت کے قصے کہانی بڑھے شوق سے پسند کرتا ہے ان کہانیوں داستانوں میں محبت کے مخالفین کو برا کہتا ہے مثال کے طور پر آپ ہیرے رانجھے کی کہانی اٹھا کے پڑھ لے بچپن سے جہاں سنی سب قیدو نامی کراردر کے سخت مخالف مگر جب یہ محبت ہمارے گھر میں لڑکا یا لڑکی کرے تو ہم خود قیدو بند جاتے ہیں تب مجھے یہ سمجھ آتی ہے کے ہمارہ معاشرہ دوہرہ معیار رکھتا ہے.

    اب چلیں آگے تو یہ کہانی اور اور اس جیسی ہر کہانی تو پرانی ہوئ نئے دور کی بات کرتے ہیں ہر آدمی کے پاس موبائل ہے جن کے پاس موبائل نہیں ان کے پاس ٹی وی لازمی ہو گا فلموں اور ڈرموں میں ہمیشہ لوگ محبت کے مخالف کو ویلن قرار دیتے ہیں اور ان کے جذبات دیکھنے والے ہوتے ہیں کے ان کا بس نہیں چلتا کے ڈرامہ یا فلم کے درمیان اٹھ کر ایک دوسرے کو ملا دیں مگر جب یہ محبت جن ان کے آس پاس کوئ کرتا ہے تو اس ویلن کا کردار خود ادا کرتے ہیں مگر جب اپنا معاملہ ہو تو ان کو سہی لگتا ہے دوسرے کے بارے میں غلط آخر یہ معاشرہ ڈبل سٹینڈرڈ کے ساتھ منافق بھی ہے اگر آج کسی لڑکے یا لڑکی کو یہ ڈر نا ہو کے اس کے اظہار محبت پر گھر والے اس کے مخالف نہیں ہوں گے تو وہ کبھی غلط قدم نا اٹھے مگر بڑے افسوس سے کہنا پڑتا ہے ہر شخص اپنے لیے تو رانجھا اور دوسروں کے لیے قیدو کا کردار ادا کرتا ہے تو ایسے معاشرے کو چاہیے اپنا نام منافق معاشرہ رکھ لے.

  • دورحاضر کی جنگی حکمت عملی . تحریر: چوہدری یاسف نذیر

    دورحاضر کی جنگی حکمت عملی . تحریر: چوہدری یاسف نذیر

    ‎اٹھارہویں صدی میں جنگ کا پہلا طریقہ یہ سامنے آیا کہ کسی ملک کی فوج اور ہتھیاروں کا رخ دوسرے ملک کی جانب موڑ دیا جاتا تھا اور یوں ایک دوسرے کی آنکھوں میں آنکھیں ڈال کر مقابلہ ہوتا تھا۔اُنیسویں صدی میں جنگ کا دوسرا طریقہ متعارف ہوا جس میں صف بندی کر کے حملہ نہیں کیا جاتا تھا بلکہ منتشر اور بیک وقت کئی مقامات سے حملہ آور ہوا جانے لگا۔ دوسری قسم کی جنگ میں افرادی قوت کی بجائے ہتھیاروں پر زیادہ زور رہا۔ بیسوی صدی میں جنگ کا تیسرا طریقہ متعارف ہوا جو چار طریقوں کا مجموعہ تھا۔ اِس میں حملہ کرنے کی رفتار‘ حملہ کرتے ہوئے خود کو مخفی رکھنا‘ اچانک حملہ آورہونا اورکسی ملک کے دفاعی نظام میں موجود خامیوں کی تلاش کر کے اُس کی پشت سے حملہ کرنا تھا۔ اِس قسم کی جنگی حکمت عملی میں ٹینک‘ بھاری توپ خانہ اور جنگی ہوائی جہاز استعمال کئے گئے۔انسانی تاریخ میں باالخصوص اگر 300 برس کا مطالعہ کیا جائے تو اِس میں ایسی کئی مثالیں موجود ہیں جن میں جنگ کے اِنہی تین طریقوں کا استعمال کیا گیا.

    لیکن اِن تین سو سالہ جنگی تاریخ میں ممالک کے درمیان جنگ کا میدان بدل گیاہے اوراب فوجیوں کا ایک دوسرے کے سامنے صف آراہونا ضروری بھی نہیں ہے۔ چلتے چلتے ہم اکیسویں صدی میں آ پہنچے ہیں اور یہاں جنگیں ممالک کے بارے میں غلط معلومات پھیلانے کی صورت میں لڑی جاتی ہیں۔ آج کی جنگوں کا ایک ہتھیار ’انفارمیشن ‘ بھی ہے۔ امریکہ کے ایک اعلیٰ فوجی اہلکار جنرل (ریٹائرڈ) سٹینلے میک کرسٹل نے ایک تقریب کے دوران خطاب کرتے ہوئے کہا تھا کہ ”عصر حاضر کی دفاعی حکمت عملی اور کسی ملک پر حملے میں وہاں کے سوشل میڈیا کا استعمال بھی اہم ہے۔ انہوں نے کہا جنگیں آج سچ جاننے اور سچ کی کھوج کے لئے لڑی جائیں گی اور جہاں معلومات اور غلط معلومات کی کھوج کے لئے جنگیں ہوں وہاں جنگ کا میدان اور جغرافیائی حدود و قیود بے معنی ہو کر رہ جاتی ہیں۔آج کی جنگ کسی میدان میں نہیں لڑی جاتی بلکہ یہ اعصاب اور ذہنوں پر مسلط کر دی جاتی ہے۔ کسی ملک پر حملہ آور ہونے کی ایک صورت یہ بھی ہے کہ وہاں کے رہنے والوں کی سوچ پر تسلط حاصل کر لیا جائے اور انہیں وہی سچ لگے جو بتایا جائے اور اُنہیں وہی جھوٹ لگے جو بتایا جائے یعنی اُن کے اپنے فیصلہ کرنے کی قوت و صلاحیت ختم ہو جائے اور وہ سوچنے سمجھنے میں اِس حد تک محتاج ہو جائیں کہ اُن کے لئے قابل یقین حکمت عملی یہی ہو جو اُن تک سوشل میڈیا کے ذریعے پہنچ رہی ہو۔ آج کی حقیقت کا رخ یہ ہے کہ سوشل میڈیا جنگ کے ایک ہتھیار کے طور پر استعمال ہو رہے ہیں اورممالک کے لئے جہاں یہ بات ضروری ہے کہ وہ خود کو دشمن کی دفاعی صلاحیت سے باخبر رکھیں اوراُس کے ہتھیاروں کو توڑ بناتے رہیں وہیں غلط معلومات پھیلانے کا بھی سدباب کیا جائے ۔کسی ملک کے خلاف شروع ہونے والی جنگ کے آغاز کا ایک وقت مقرر ہوتا ہے اور یہ مقررہ وقت سے شروع ہونے کے بعد اختتام تک وقت کے حساب کتاب کے ساتھ جاری رہتی ہے کہ کوئی جنگ کتنے منٹ اور کتنے سیکنڈ جاری رہی اور اِس دورانئے کے دوران کتنا جانی و مالی نقصان یا اخراجات ہوئے۔

    موجودہ دور کی ’ہائبرڈ جنگ‘ ایسی ہے کہ یہ دن رات جاری رہتی ہے۔ اِس کا دورانیہ لامحدود ہے اور اِس کا کوئی مقررہ وقت بھی نہیں کہ یہ کب شروع اور کب ختم ہوگی بلکہ اِسے مسلسل جاری رکھا جاتا ہے کیونکہ اِس کا ہدف انسانوں کے اعصاب اور سوچ ہوتی ہے۔ یہ جنگ انٹرنیٹ کے ذریعے ’آن لائن‘ لڑی جا رہی ہے۔ انسانی تاریخ میں جنگوں نے افرادی قوت و ہتھیاروں سے ذہنی و نفسیاتی شکل اختیار کرنے میں 300 سال کا وقت لیا ہے۔ اِسی طرح مشینوں سے انفارمیشن پر مبنی جنگ شروع ہونے میں 10برس کا عرصہ لگا ہے۔ آج کی جنگ مصنوعی ذہانت کے ذریعے لڑی جا رہی ہے ۔ انسانی معاشروں میں جنگیں جاری رہتی ہیں یا پھر جنگوں کی تیاری جاری رہتی ہے لیکن اِن کے ہتھیار‘ طریقہ کار اور انداز بدلتے رہتے ہیں۔ آج ”سوشل میڈیا‘ ‘کا دور ہے۔ آج کے دور کی جنگ چوبیس گھنٹے جاری ہے۔

    ‎موجودہ دور میں سوشل میڈیا کسی بھی ملک میں ایک اہم حیثیت رکھتا ہے ویسے ہی پاکستان میں بھی سوشل میڈیا کا اہم کردار ہے۔ ہماری نوجوان نسل کی بہت زیادہ تعداد سوشل میڈیا کا غیر ضروری استعمال کرتی ہے جبکہ ہمارا کردار ریاست کو مظبوط کرنے ، اسلام اور پاکستان کا مثبت امیج دنیا کے سامنے لانے، پاکستان کے خلاف جاری پروپگنڈا کو کاونٹر کرنے، حکومت کی غلطیوں کی نشاندہی ،اداروں میں خرابیوں اور پاکستان کے مسائل کو آجاگر کرنے میں ہونا چاہیے

    ‎حکومت پاکستان کو چاہیے کے سوشل میڈیا کا استعمال اور اس دور میں اسکی ضرورت کو مدنظررکھتے ہوے عوام میں شعور بیدار کرے، عوام کو پاکستان کا بیانیہ سامنے لانے پرراغب کیا جائے۔ سوشل میڈیا صارفین کی پزیرائی، انکے مسائل پر اٹھائی جانے والی آواز پر ایکشن، لوگوں کو اس طرف راغب کرنے میں اہم کردار ادا کریگا۔ اگر حکومت کی جانب سے سوشل میڈیا کے حوالے سے کانفرس وغیرہ ہوتی رہیں تو لوگوں کو مثبت کام کی طرف لانے میں آسانی ہوگی

    ‎ہائبرڈ وار فئیر کا شکار ہونے سے بچنے کا بہترین طریقہ ہمیں ملکی مفادات کو پہلے رکھنا ہو گا۔پاکستان کے دشمن پاکستان کو زیر کرنے کے لئے کروڑوں ڈالرز ہر سال اسی پر خرچ کرتے ہیں۔ کئی محب وطن پاکستانئ سوشل میڈیا پر منہ توڑ جواب دے رہے ہیں جس کے بہترین نتائج ہمارے ملک کو ملے ہیں۔ماضی قریب میں اسکی مثال ابھی نندن کی گرفتاری ہے جب 27 فروری 2019 کو سوشل میڈیا پر بیانیئے کی جنگ کامیابی سے لڑی گئی

    Chaudhry Yasif Nazir

    Chaudhry Yasif Nazir is digital media journalist, Columnist and Writer who writes for baaghitv.com . He raises social and political issues through his articles, for more info visit his twitter account