Baaghi TV

Category: معاشرہ و ثقافت

  • خدا کی بستی اور ہم . ‏تحریر : سہیل احمد

    خدا کی بستی اور ہم . ‏تحریر : سہیل احمد

    عجیب سلسلہ چل پڑا ہے. کہاں کی بات کہاں تک آگئی. ہر دورمیں ایک مشترکہ لائعہ عمل اور مشاہدہ. ہر بشر کو گزرا زمانہ کیوں بہتر لگتا ہے. پرانی پیڑی والے اپنا رونا روتے ہیں. ایک تحقیق کے مطابق اںگریزوں کے پاس ایک سسٹم موجود ہے زندگی گزارنے کا. اور اس کو تسلیم کرکے ہنسی خوشی نظام کا حصہ بھی رہتے ہیں . لیکن عمر کی آخری حد تک ان کو بھی اگر کوئی خوف ہوتا ہے تو وہ ہے موت کا ڈر. پاکستان میں ہر بندہ نواب . جبکہ اسکولوں تعلیم یوں پڑھائی جاتی ہے کہ ہاتھ سے کمانے والا اللہ کا دوست. میرا ماننا ہے کہ تعلیم اور روزگار میں دوہرا معیار کس لیے. کیوں بچوں کو سہانا خواب دکھانے پر ترجیح دی جاتی ہے. 16 سال پڑھائی کرنے والا کم تعلیم یافتہ سیٹھ کے نیچے کیوں جاب مانگنے کیلیے سفارش ڈھونڈتا ہے.دوسری تحقیق کے مطابق شہر کی زندگی میں سرکاری نوکری کیلیے گاوں کے لوگوں کی بھرمار کیوں.

    عرف عام میں مشہور ہے کہ سرکاری ادارے صبح 8 بجے سے 2 بجے تک ناں کام کرنے کی تنخواہ لیتے ہیں اور کام کرنے کی رشوت.
    غلط زرائع سے پیسا کماکر اللہ کی راہ پر خرچ کرنا کہاں کی منطق. ہم کس گلی سے نکلے اور کس طرف چل دیئے. فیصل آباد کا ایک مشہور جھول وہ بھی سرکاری ادارے میں .ہوا کچھ یوں کہ کافی سال پہلے نواز شریف کی گورنمنٹ میں رانا ثناءاللہ خان کے عہد میں چیف فوڈ انسپکٹر جناب صاحب کو پروموٹ کیا.

    نیچے پوری ٹیم دی گئی.پورے علاقے میں شور ڈالا گیا تاکہ جناب آفیسر صاحب کا کشکا اور رعب ڈالا جائے اور رشوت کے ریٹ کا تعین کیا جائے .نیچے کیش ریکوری کیلیے نام نہاد کرتے دھرتے بھی دیئے گئے. اور انکے ہاتھ میں ایک عام کمپیوٹر سے پرنٹ کروایا ہوا کھاتا بھی تھما دیا گیا جہاں جہاں جوان جاتے کاغذ دکھاتے اور روکڑا وصول کرکے صاحب نامدار اور خود بھی رکھتے. سننے میں آیا تھا کہ صاحب نامدار کی بیٹیاں بھی ڈاکٹر بن رہی تھیں . اور بہت بڑے بنگلے میں بھی رہائش پزیر تھے. پھر ایک دن وہی ہوا جس کا خطرہ لاحق تھا ات خدا دا ویرپوری ٹیم کے پیچھے کچھ رپورٹس موصول ہوئیں اور ٹیم کو لائن حاضر کر لیا گیا.انکوائری کے مطابق جناب آفسر صاحب میونسپل کارپوریشن میں ماشقی (پانی سپلائی کرنے والے) بھرتی ہوئے تھے پھر منظور نظر ہونے کے ان کو پروموٹ کیا گیا وہ بھی وہاں جہاں اوپر زکر کر دیا گیا .

    بالآخر مراعات .پروٹوکول.ہر چیز پر پانی پھر گیا. اپنے مفادات کیلیے آنکھوں پر پٹی باندھنا کیوں ضروری. ہر ایک نے اپنا فتوئ اپنی جیب میں فوٹو کاپی کروا کر رکھ لیا ہے مثال کی بنیاد یہ ہے کہ ہم اپنا احتساب کیوں نہیں کرنا چاہتے ہماری پیدائش پر تو شروعات اللہ رسول کے نام پر کی جاتی ہے حتئ کہ نام رکھنے پر بھی اور آزان بھی دی جاتی ہے. کیا ہمارے مسلمان ہونے کا تقاضا 7 سال تک کی عمر تک متعین ہے. ایک بات تو طے ہے کہ پریشانی میں خدا زیادہ یاد آتا ہے.
    لیکن اب پچھتائے کیا ہوت جب چڑیاں چگ گئیں کھیت آجکل گھروں میں بچوں کے ہاتھ میں مسلسل موبائل چلانے کے اثرات سے ہم کیوں غافل ہو چکے ہیں کیا ہم نہیں جانتے کہ آنے والی نسلوں کو ہم سوشل میڈیا پر سہانے خواب دکھا ریے ہیں جبکہ پریکٹیکل لائف بہت مختلف ہوتی ہے. کیا ہم انکے ساتھ انصاف کر پا رہے ہیں کیا ہم انہیں بہتر مستقبل کی جانب گامزن کر پائیں گے جبکہ ہمارے اسکول کاروبار بن چکے ہیں . لاکھوں روپیہ کمانے کے بعد بھی گھروں میں بے سکونی کی کیفیت کیوں جی.
    لوگ پیسا دیکھتے ہیں سورس نہیں دیکھتے بس چڑھتے سورج کو سلام بیٹی کی شادی کیلیے داماد کے ماتھے پر محراب اور مال دولت کو ترجیحی بنیادوں پر دیکھا جاتا ہے

    جبکہ بیٹے کی شادی پر جہیز میں ہنڈا سوک ہوجائے تو کوئی مضائکہ نہیں .الفاظ میں وزن بس یونہی . کہ زندگی تو انہوں نے گزارنی ہے
    پھر تو کون تے میں کون .روز گھروں میں طعنوں کا تڑکا اور الزامات کی دال پکتی رہتی.سمجھ سے باہر کہ قصور وار کس کو کہوں
    معاشرے کو, خود کو.حکومت کو, ایسا لگتا ہے کہاب تو گھبرا کے کہتے ہیں کہ مر جائیں گےمر کہ بھی چین نہ پایا تو کدھر جائیں گے.

    ‎@iSohailCh

  • پاکستانیوں کے جذبات کا دوہرہ میعار .  تحریر: صالح ساحل

    پاکستانیوں کے جذبات کا دوہرہ میعار . تحریر: صالح ساحل

    گزشتہ چند دنوں سے سوشل میڈیا پر اس لڑکے کی ویڈیو وائرل ہوئ جس میں دیکھا گیا کے جج نے اس کو چوبیس سال کی عمر قید سنائی دل میں تجس ہوا کے معلوم کریں کے جس کے لیے پاکستان کی عوام رو رہی ہے کون ہے کیا جرم کیا پتہ کرنے پر معلوم ہوا جناب کا نام کیمرون ہے اور امریکہ کا شہری ہے جناب نے پارٹی سے واپسی پر ریس لگاتے ہوئے ایک ماں اور بچی کو کچل کر مار دیا جس کے جرم میں اس کو چوبیس سال کی قید ہوئ اس سے پہلے بھی اس کو کی دفعہ وارننگ دی جا چکی تھی سزا قانون کے مطابق دی گی مگر کسی امریکی شہری نے مجرم کے ساتھ ہمداری نہیں کی مگر جب پاکستان میں یہ خبر آئ تو ایک طوفان بد تمیزی شروع ہو گیا اس کی خوب صورتی کی وجہ سے اچانک لڑکیوں کے دلوں میں رحم پیدا ہو گیا لڑکے رقیق القلب بن گے اور رونے دھونے کا سماں سوشل میڈیا پر شروع ہوگیا تب مجھے اس بات پر یقین ہو گیا کے یہ قوم واقعی خود انصاف پسند نہیں اس قوم کو امریکہ میں پچھلے سال مرنے والے کالے نظر نہیں آئے اس قوم کو عافیہ صدیقی نظر نا آئ ان کو فلسطین میں مرنے والے نظر نا آئے غرض یہ کے دنیا میں روانہ کتنے کالے اور کم خوب صورت لوگ بے گناہ مر رہے کوئ فکر نہیں لیکن جب ایک خوب صورت کی بات آئ تو انصاف کے پیمانے بدل گیا سب سے پہلے اس قوم کو اپنے آپ کو انصاف کا قائل کرنا ہو گا دوہرا میعار رکھ کر انصاف کا سوچ ایک دیوانے کا خواب ہے جو دیکھتے رہو.

    @painandsimle334

  • شعور ہمارا مفادات،دولت اور شہرت  تحریر: راجہ ارشد

    شعور ہمارا مفادات،دولت اور شہرت تحریر: راجہ ارشد

    یہ دنیا بڑی ظالم ہے
    دنیا کا اصول ہے یہاں جو بولتا ہے اسے خاموش کروا دیا جاتا ہے۔
    زور بازو کے ذریعے اس آواز کو دبا دیا جاتا ہے حق پر ڈٹ جانے والے یا تو مار دیئے جاتے ہیں یا پھر ان کو قید کر دیا جاتا ہے کیونکہ وہی آواز زیادہ گونجتی اور اثر رکھتی ہے جو آواز مظلوم طبقے کے لئے ظالم کے خلاف بلند کی جاتی ہے۔

    اس سماج میں رہنے والا ہر طاقتور جب اپنی رعایا پر ظلم کے پہاڑ توڑتا ہے تو ہمیشہ اس کے خلاف اعلان بغاوت ہوتا ہے لیکن میرا تعلق ایک ایسے معاشرے سے ہے جہاں آواز بلند کرنے کی جرات نہیں ہے بولنے والا ہو یا پھر لکھنے والا مفادات کے سامنے اپنے ضمیر اپنے قلم اور الفاظ کا سوداگر بن جاتا ہے تاریخ کے اوراق میں جتنے بھی ظالم کو للکارنے والے اپنی جگہ بنانے میں کامیاب ہوئے

    ان کی زندگیوں کو موت سے بھی مشکل بنا دیا گیا تھا دور حاضر میں شاید یہ جرات کسی کی نہیں لکھنے والے ہاتھ کانپتے ہیں تو بولنے والی زبان لڑکھڑا جاتی ہے لیکن یہ جہاد ہے کہ آپ اپنے قلم کی طاقت سے جب وقت کے خدائوں کو للکارتے ہیں تو ان کے محلات کی دیواریں بھی کانپ جاتی ہیں۔

    لیکن یاد رکھیں اس طاقت سے آپ کسی بھی معاشرے کے اندر انقلاب برپا نہیں کر سکتے میری قوم کی سوچ کو نہیں بدل سکتے کیونکہ ہماری ترجیحات میں نظام کی تبدیلی اور اپنی نسلوں کے بہتر مستقبل کا شعور ہی نہیں ہے ہمیں اپنے مفادات دولت اور شہرت کے لالچ سے فرصت نہیں ہے ہم خود پرسکون رہنا چاہتے ہیں اپنے ارد گرد سے بے خبر ہو کر اپنی ذات کو فائدہ پہنچا رہے ہیں۔

    جب ظلم کی دیواروں کو گرانے کے لئے کوئی آواز کہیں دور سے گونجتی ہے تو بجائے ہم اس آواز کو روشنی کی پہلی کرن سمجھیں اسے اندھیروں میں ہی ڈبو دینے کے لیے ہر طاقتور کا بازو بن جاتے ہیں

    او آج ہم عہد کریں ہمیں ہر ظلم کا جواب اپنی بھرپور طاقت سے دینا ہے کیونکہ ہم آزاد ہیں کسی حاکم کے غلام نہیں ہیں ہم آزاد قوم ہیں دنیا کی کسی سپرپاور کے سامنے بے بس اور مجبور نہیں ہیں

    اللہ پاک ہم سب کو سمجھ کر عمل کرنے کی توفیق دیں ۔ آمین

    @RajaArshad56

  • اے بنت حوا کی بیٹی سنبھل کے چل  تحریر ارشاد حسین

    اے بنت حوا کی بیٹی سنبھل کے چل تحریر ارشاد حسین

    افسوس سے کہنا پڑتا ہے سوشل میڈیا پر کچھ ایسی تحریریں یا تصویریں بھی دکھائی دیتی ہیں دیکھنا اور پڑھنا بھی شرم آتی ہے ۔سوشل میڈیا عمومی تاثر یہ ہے کہ بس خود کو پوشیدہ رکھنا ہی کافی ہے۔۔ شخصیت کی پردہ داری بہت ہے۔۔اسکے بعد کھلی چھٹی ھے جو مرضی کہیں اور جیسی مرضی چاہیں پوسٹس لگائیں۔۔ دراصل بدقسمتی سے ہمارے ہاں حیا کا بہت عام اور سطحی پیمانہ صرف پردے اور ساتر لباس سے ہی مشروط سمجھا جاتا ہے جبکہ ” حیا” کے لغوی معنی وقار ، سنجیدگی اور متانت کے ہیں۔۔ حیا صرف اپنی شخصیت کو پردے میں ملفوف کرنے کا نام نہیں ہے۔۔ یہ گفتار میں بھی نظر آنی چاھیئے اور تحریر میں بھی اور اپنی پبلک پوسٹوں میں بھی یہی احتیاط ملحوظ رکھنا بہت ضروری ہے اکثر وبیشتر کتنی ہی ایسی پوسٹس نظر سے گزرتی ہیں جس میں نوعمر بچیاں جوکہ بظاہر خود کو پردہ دار اور باحجاب کہتی ہیں اپنی تحاریر میں اپنے مستقبل ، اپنی شادی اور اپنے ہونے والے شوہر سے متعلق اپنے بہت ہی ذاتی خیالات اور خواہشات بلاجھجھک شئیر کر دیتی ہیں ۔۔۔ سپنے دیکھنا غلط نہیں ہے لیکن ان سپنوں کی اپنی وال پہ اور خصوصاً پبلک پوسٹس میں یوں تشہیر ضرور معیوب ہے ۔۔ اور اس سے ذیادہ حیرت اس بات پر ہوتی ہے جب ایسی پوسٹس پر دین کی علمبردار اور بہت سی سمجھدار خواتین بھی دعائیہ ، تعریفی اور ستائشی کمنٹس پاس کر رہی ہوتی ہیں۔۔۔ کیوں نہیں اس خاتون یا بچی کی مناسب انداز میں اصلاح کی جاتی کہ آپ کے لیے حیا کے تقاضے پورے کرنا تحریر میں بھی اتنا ہی لازم ہے جتنا کے لباس میں ۔۔ یہ نجی نہیں بلکہ عوامی پلیٹ فارم ہے۔۔ ایسی پبلک پوسٹس لگا کر ہزاروں لوگوں کو متوجہ کرنا بہت نامناسب اور خطرناک عمل ہے ۔۔بلاوجہ کیوں لوگوں کی آتشِ شوق بھڑکائی جائے کبھی کوئی باحجاب خاتون اپنی پوسٹس میں اپنے "گمنام فالورز” کی جانب سے ملنے والے تحائف کی فخریہ تشہیر کر دیتیں ہیں۔۔یوں باقی فالورز کو بھی اس ‘نیکی’ کی ترغیب دلاتی ہیں کوئی سیر سپاٹوں پہ جانے کے لیے اپنے محرم کی تلاش میں دعائیں کر کر ہلکان ہیں پھر بہت سی باپردہ خواتین ایسی بھی ہیں کہ مختلف بولڈ موضوعات پہ انکے بے محابا کمنٹس حیران ہی کر دیتے ہیں۔۔۔ مرد حضرات کی وال پہ اگر کوئی گرما گرم موضوع ، سوشل ایشو چھڑا ہوا ہے تو ضروری نہیں کہ آپ وہاں آستینیں چڑھا کر بے دھڑک کوئی بھی بیان جاری کرنے پہنچ جائیں۔۔۔بس کہیں بھی کچھ بھی کھل کے کہہ دو کہ کونسا ہم پہچان لی جائیں گی۔۔ کیونکہ بھئی نہ تو ہم یہاں دیگر خواتین کی طرح اپنی شکل دکھانے کی بےحیائی کرتے ہیں اور نہ ہی ہم یہاں اپنے اصل نام سے موجود ہیں۔۔ لہذا پردہ داری کی آڑ میں سب کہہ دو ۔۔ دھیان رکھیئے کہ یہ ” پاپا کی پرنسس ، بنت ، ام ، اخت ، اہلیہ ، مسز ، زوجہ ، سونو ، مونو اور دیگر سوشل میڈیا ناموں کی آئی ڈیز ہیں ” یہ سب بھی صنف نازک ہونے کے حوالے ہی ہیں ۔۔۔اور آپ یہاں بہرحال ایک خاتون کی حیثیت سے ہی موجود ہیں ان سب باتوں کا مطلب یہ ہرگز نہیں کے ہماری خواتین اپنی صنف کی نمائندگی ہی نہ کریں سوشل میڈیا پر متحرک نہ ہوں۔۔۔ پتھر کے دور میں چلی جائیں اور اپنی شخصیت کو گمنام کرلیں۔۔۔ ہرگز نہیں۔۔
    اپنا بھرپور کردار ادا کرنا اور اپنی موجودگی یا اپنی رائے کا اظہار بھی کرنا۔۔ اور اس طاقتور پلیٹ فارم سے مثبت چیزیں سیکھنے اور سکھانے کا عمل ضرور جاری رکھنا چاھیئے لیکن ہر قدم پہ احتیاط پسندی ، نپا تلا اور باوقار انداز اولین ترجیح ہونا چاھیئے ۔۔۔ خصوصاً پبلک پوسٹ سے کیسا پیغام جا رہا ہے یہ لحاظ رکھنا اور اپنی حدود متعین کرنا بہت ضروری ہے سارا قصور مردوں ہی پر نہ ڈالیئے۔۔کچھ تو خود بھی احتیاط کیجیئے۔۔ ورنہ پھر یہ رونے بھی مت رویئے کہ لوگ فضول سے کمنٹس کر دیتے ہیں ، انباکس اپروچ کرتے ہیں ، ہمیں پریشان کرتے ہیں۔۔
    صرف باپردہ ہونا ہی عفت مآب ہونے کی دلیل نہیں ہوا کرتا۔۔اور حیاداری صرف چہرے کا پردہ کرنے سے ہی ظاہر نہیں ہوتی بلکہ ہمارے کمنٹس اور ہماری پوسٹس بھی انکی عکاس ہوتی ہیں۔۔
    تحریر ارشاد حسین
    twitter.com/ir_Pti
    @ir_Pti

  • عید قرباں کا مقصد اور پیغام تحریر : فہد ملک

    عید قرباں کا مقصد اور پیغام تحریر : فہد ملک

    اپنے اردگرد رہنے والے مسلمانوں بھائیوں کا خیال رکھیں۔اپنے اندر خلوصِ محبت، ایثار اور قربانی کا جذبہ پیدا کریں۔
    کیونکہ عید قرباں کا مقصد ہی یہی ہے۔جس طرح حضرت سیدنا ابراہیم علیہ السلام نے اپنی سب سے قیمتی چیز کو اللّٰہ تعالیٰ کی راہ میں قربان کرنا کا فیصلہ کیا۔اور آزمائش پر پورا پورا اترے۔
    اس طرح ہم بھی اللّٰہ تعالٰی کے احکامات پر عمل کر کے اپنے رب تعالٰی کی رضاوقرب حاصل کر سکتے ہیں۔

    جس طرح حضرت سیدنا اسماعیل علیہ السلام نے اللّٰہ تعالٰی کے حکم کے سامنے اپنا سر جھکا دیا۔
    اسی طرح ہمیں بھظ چاہیئے کہ اپنے بچوں کو بھی اللّٰہ تعالٰی کے احکامات کی پابندی کرنے کی تاکید کرتے رہے
    انہیں معاشرے میں بسنے والے دیگر افراد کے ساتھ حسن سلوک ہمدردی اور پیار سے پیش آنے کا درس دیں۔ ان کی خوشی غمی میں شریک ہونے اور ان کی خاطر اپنے جل کو قربان کرنے کا سبق دیاجائے
    ‏جانور کی قربانی تو محض ایک علامت ہے اصل قربانی تو یہ ہے کہ حکام الہی اور شرعیت کو پورا کیا جائے اپنی نفسانی اور دنیاوی خواہشات کو قربان کیا جائے اپنی سہولیات کو نظر انداز کر کے اپنے مسلمان بھائیوں کا خیال رکھا جائے۔ اپنی ذات کو تقوی اورایثار کا پیکر بنایا جائے۔
    قربانی کرتے وقت اس بات کا خیال رکھا جائے کہ جس مقصد کیلئے قربانی ہو رہی ہو وہ مقصد ضرور پورا ہو اس مینث کسی بھی قسم کا ریاکاری یا دکھاوا نہ خا لص اللہ تعالٰی کی رضا کیلئے قربانی کی جائے
    نبی اکرم صلی اللّٰہ علیہ وآلہ وسلم نے ارشاد فرمایا
    ترجمہ: "جس نے خوش دلی کے ساتھ طالب ثواب ہو کر قربانی کی اس کیلئے وہ قربانی آتش جہنم کئیلے حجاب بن جائے گی”

    نماز عید کی دعا میں کفار کے ظلم وبربریت کا شکار فلسطینی اور کشمیری مسلمان بہن بھائیوں کی آزادی کیلئے دعا کریں اللّٰہ تعالٰی ان کی عزت و ابرو کی حفاظت فرمائے اور ان کے مسائل کو خیر برکت کے ساتھ فرمائے آمین
    کیونکہ قربانی کا ایک اہم مقصد یہی ہے اور یہی اسکا تقاضا ہے

    ‎@Malik_Fahad333

  • ددھیال  ننھیال اور ماں کا کردار  تحریر :  سیدہ ام حبیبہ

    ددھیال ننھیال اور ماں کا کردار تحریر : سیدہ ام حبیبہ

    قارئین محترم آج میرا موضوع بہت حساس ہے. تنقید اور اصلاح کی گنجائش رکھتے ہوئے لکھوں گی.
    ہمارے معاشرے میں ماں کا کردار ناقابل فراموش ہے وہیں پہ. ددھیالی رشتوں کی سازشیں ، دشمنیاں، اور انتقام بھی زبان زد عام رہتے ہیں.
    اپنی زندگی کی سیکھ کے مطابق ایک مشاہدہ آپ سب کے سامنے رکھوں گی پھر فیصلہ آپ کا
    میں نے ایک لڑکی کو دیکھا جس کو ایک بھرے خاندان میں رسم و رواج سے بیاہ کے لایا گیا پہلی بہو کے چاؤ لاڈ کے ساتھ ہی اس سے گھر کی ذمہ داریوں میں تعاون کی امید بھی رکھی گئی.
    پہلی اولاد کے پیدا ہوتے ہی ہر رشتے کو ایک نیا نام ملا، دادا دادی نانا نانی چچا پھوپھو خالہ
    ہر رشتے نے بڑھ چڑھ کے پیار جتایا.
    یہاں تک سب درست بات بگڑتی ہے ماں کے کردار سے اب اس کی ذمہ داری شروع ہوتی ہے.
    وہ بچے کو سہلاتی بہلاتی ہی رشتوں میں بھید بھاؤ شروع کر دیتی ہے
    چندہ ماموں کی ہی مثال لے لیجیے
    خالہ جان اور پھوپھو پہ لطیفے ..
    جہاں تک میرا مشاہدہ ہے میں نے پھوپھو سے ذیادہ مخلص اور بے لوث محبت نہیں دیکھی بے وجہ …
    ایسا کیا ہوتا ہے کہ دھدھیالی رشتے بچوں کو سمجھدار ہوتے ہی کھلنے لگتے ہیں؟
    ماں کی دادی سے مڈبھیڑ ہوئی ہے مگر وہ اس کا اور ساس کا معاملہ ہے بچوں کو کیوں فریق بنایا گیا؟
    کیا انجانے میں بچوں سے بے لوث محبتیں چھیننے والی اپنی ماں ہی نہیں؟
    ایک جملہ اکثر مائیں کہتی ہیں تمہارے باپ نے مجھے دیا ہی کیا ہے …
    جواب اگر حقیقی ہو تو جوانی کے بہترین سال مشقت کر کے رازق بنا رہا سایہ بنا رہا اور کیا دیتا..
    ماں چاہے تو بچوں کو پھوپھو پہ لطیفے بنانے کی نوبت نہ آئے
    بلکہ بچوں کے پاس ہر مشکل میں صدقے واری جانے والی پھوپھو میسر آ سکتی ہے .
    مائیں جس طرح خالہ اور ماموں اور نانا نانی سی بچوں کی محبت اور قربت بنانے کے لیے کوشش کرتی ہیں اس کا آدھا بھی ددھیالی رشتوں کو وقت دیں تو ہر گھر سے قہقہے اور خوشیاں جھلکیں.
    دوسری طرف ددھیالی رشتے جتنی محبت جتنا مان اپنی بیٹی پہ لٹاتے وہی بہو پہ بھی لٹائیں، جہاں بیٹی بی چاری لگتی وہیں بہو کو سوچیں تو بعید نہیں کہ گھر جنت بننے لگیں.
    مگر سو باتوں کی ایک بات ماں کا کردار
    ماں چاہے تو دونوں طرف توازن پیدا کر سکتی سازشیں یہ اتنے خوبصورت رشتوں کی تذلیل رک سکتی ہے

    اگر ماں چاہے تو بچوں کو فریق بنانے کی بجائے انکو رشتوں کا ادب احترام سکھائے .

    بچے جب فریق بنتے ہیں تو وہ باپ کو بھی دشمن سمجھنے لگتے ہیں.
    ماؤں سے التجا ہے. اپنے رشتوں سے لڑائیوں کو بچوں میں منتقل نہ کریں.انکو ان کی محبتوں سے محروم نہ کریں.
    سیدہ ام حبیبہ
    Hspurwa198@gmail.com
    @hsbuddy18

  • تحریر : حلیمہ اعجاز ملک  وقت کی قدر کیجئے

    تحریر : حلیمہ اعجاز ملک وقت کی قدر کیجئے

    وقت کی قدر کسی سے ڈھکی چھپی نہیں بلکہ ہر کوئی اس کی اہمیت کو جانتا ہے

    جو شخص اپنی زندگی کے انمول لمحات کو بے مقصد کاموں میں برباد کرتا ہے وہ یہ بھول جاتا ہے کہ اللّٰه نے دنیا میں کوئی بھی حقیر سی شے خواہ وہ پتھر ہی کیوں نہ ہو بے مقصد پیدا نہیں کیا تو انسان کو بھی بے مقصد پیدا کیا ہوگا

    وقت کی برباد کرنا چھوڑ کر اپنا مقصد جانیے اور اس کو مکمل کرنے کے لیے کوشش کریں

    جو لوگ دنیا میں اپنے وقت کی قدر کرتے ہیں اور منزلِ حقیقی تک پہنچنے کے لیے وافر مقدار میں زادِ راہ اکٹھا کر لیتے ہیں تو اس جہانِ فانی سے کوچ کرتے وقت انہیں کوئی افسوس نہیں ہوتا بلکہ وہ تو بخوشی آگے بڑھ کر موت کو بھی اس لیے گلے سے لگاتے ہیں کہ فانی لذتوں سے جان چھڑا کر ابدی نعمتوں کے سائے میں جلد از جلد جا پہنچیں

    لہٰذا آپ زندگی کے کسی بھی شعبے سے ہوں یہ بات بخوبی جان لیں کہ جس مقصد کے تحت آپ نے یہ شعبہ اختیار کیا ہے وہ اسی صورت میں حاصل ہوگا جب آپ اپنے اوقاتِ کار کا درست استعمال کرتے ہوئے بھرپور محنت اور لگن کے ساتھ کوشاں رہیں گے

    اس لیے کہ جو اپنے مقصد کو جس قدر زیادہ اہمیت دے گا اور اس کے حصول کے لیے کوشش کرے گا اس کے کامیابی کے امکانات اتنے ہی زیادہ روشن ہوں گے اور جو اس کے برعکس اپنے اوقات کو فضولیات میں برباد کرے گا ناکامی اور نامرادی اس کا مقدر ٹھہرے گی

    Twitter Account Link

    @H___Malik

  • ہمارے نوجوانوں کا مغربی طرز معاشرت کی طرف بڑھتا ہوا رجحان  تحریر ۔مدثر حسین ادلکہ

    ہمارے نوجوانوں کا مغربی طرز معاشرت کی طرف بڑھتا ہوا رجحان تحریر ۔مدثر حسین ادلکہ

    جہاں ہماری روزمرہ زندگی کے استعمال کی بہت سی چیزوں میں جدت آئی ہے، وہاں ہمارے رویوں اور رہن سہن کے طریقوں میں بھی کافی بدلاؤ آ چکا ہے. ہمارے ہاں اب مغربی تہواروں کو بھی خاص اہمیت دی جانے لگی ہے. اور انہیں مغربی طور طریقوں سے منانے کا عمل ہمارے ہاں واضح طور پر دیکھا جا سکتا ہے. ہمارے زیر استعمال چیزوں میں ایک طویل فہرست ان مصنوعات کی ہے جو مغربی دنیا کی پیداوار ہیں. ہماری تفریح سے جڑی بہت سی چیزیں مغربی پیداوار کا حصہ ہیں جن میں مغربی فلمیں اور ڈرامے قابل زکر ہیں.
    ہمارے میڈیا پہ چلائے جانے والی مغربی مصنوعات کے اشتہارات عوام الناس کو ان کو استعمال کرنے کی جانب مبذول کر رہے ہیں.
    اپنے قومی، ثقافتی تشخص کی جس قدر پامالی آج کے دور میں دیکھی جا رہی ہے ماضی میں اسکی مثال نہیں ملتی.
    مغربی معاشرے کے اپنائے جانے کا یہ رجحان ہماری نسل میں اپنے آبائی کلچر سے محرومی کا باعث تو بن ہی رہا ہے ساتھ ساتھ یہ مغربی نظام معاشرت کی خصلتوں کو بھی ہماری نسل میں پروان چڑھا رہا ہے. نوجوانوں کے رہن سہن کے طریقوں میں معربی فلموں میں دکھائے گئے ہیرو جیسے اوصاف دکھائی دے رہے ہیں، جن میں سے بیشتر اسلام کے اصولوں کے منافی ہیں.
    کھانے پینے سے لیکر اوڑھنے بچھونے تک اپنی مصنوعات کو ترک کیا جانے لگا ہے اور انکی جگہ ہمارے میڈیا پہ دکھائے جانے والی مغربی مصنوعات کو فوقیت دی جا رہی ہے. جس سے معاشی طور پہ نقصان کے ساتھ ساتھ خالص حلال کھانوں کے میسر ہونے کا مسئلہ پیدا ہو رہا ہے.
    اس وقت ملک میں کرونا وبا سے بچاؤ کی احتیاطی تدابیر کے سلسلے میں ملک کے بیشتر نجی و سرکاری تعلیمی اداروں میں آن لائن درس و تدریس کے اقدامات اٹھائے گئے ہیں. انٹرنیٹ کی دستیابی اور والدین کی عدم دلچسپی کے باعث طلباء فارغ اوقات میں بھی انٹرنیٹ سے جڑے رہتے ہیں اور اس وقت انٹرنیٹ پہ موجود زیادہ تر ویب سائٹ کا تعلق معربی دنیا سے ہے جس پہ ان کی دلچسپی کے اشتہارات چلتے دکھائی دیتے ہیں ہماری نوجوان نسل ان اشتہارات کے باعث ان ویب سائٹس تک رسائی حاصل کرنے کی وجہ سے تشویش ناک حد تک عادی ہوتی جا رہی ہے.
    خواتین میں مغربی طرز کا لباس پہننے کا رواج عام ہوتا جا رہا ہے. اکثر دفعہ قابل اعتراض اور اسلام کے اصولوں کے برعکس لباس زیب تن کئے کئ ڈرامہ ایکٹرز کو ٹی وی کی سکرین پہ دیکھا جا سکتا ہے. ہمارے فلمی اداکاراؤں کا یہ رویہ ہماری نسل کو انتہائی سنگین نتائج کی طرف دھکیل رہا ہے. ملک کے چند بڑے شہروں میں انہی لباس میں ملبوس خواتین کو دیکھا جا رہا ہے جیسے لباس کو اشتہارات میں ایکٹرز کو پہنایا جاتا ہے.
    جہاں نوجوان نسل جنسی دلچسپی کی چیزوں کے باعث گمراہی کا شکار ہو رہی ہے وہاں بچوں کے دیکھنے کے پروگراموں میں بھی بچوں کو شرمناک حد تک مختصر لباس پہنا کر مختلف سرگرمیاں کرتے دکھایا جا رہا ہے.
    ہمیں اپنی نوجوان نسل اور اپنی ثقافتی اقدار کو بچانے کے لئے فوری طور پہ اقدامات کرنے ہوں گے. پاکستان اسلام کے نام پہ معرض وجود میں آیا لیکن یہاں اسلام مکمل طور پہ کبھی رائج نہیں ہو سکا. ہمیں اپنی مصنوعات سے لیکر میڈیا پہ دکھائے جانے والے پروگراموں تک اصلاحات کرنا ہوں گی تا کہ ہمارا قومی تشخص قائم رہ سکے. جس قوم کے ہاتھ سے اس کا نظریہ چھن جائے وہ قوم بہت جلد تباہی و بربادی کا شکار ہو جاتی ہے.
    ہمیں اپنی مصنوعات کا معیار بہتر بنا کر انکے استعمال کے فروغ کے لئے میڈیا اور علاقائی سطح پہ کوششیں کرنا ہوں گی تا کہ ملک کو معاشی طور پہ مضبوط بنانے کے ساتھ ساتھ عوام میں اپنے ملک کی ترقی کا احساس اجاگر کیا جا سکے.
    اللہ تعالیٰ ہم سب کا حامی و ناصر ہو

    @MudassirAdlaka

  • تحریر : ولید عاشق  قربانی اور اس کی فضیلت

    تحریر : ولید عاشق قربانی اور اس کی فضیلت

    حضور سید عالم صلی اللہ تعالی علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا:
    جس نے قربانی کی ہوگی جب وہ قبر سے نکلے گا تو اپنی قربانی کو قبر کے سرہانے کھڑا پائے گا۔
    اوراس کے بال سونے کے تاروں کے ہوں گے،آنکھ یاقوت کی اور دونوں سینگیں سونے کی ہوں گی۔
    وہ اس سے پوچھے گا میں نے تجھ سے بہتر تو کوئی شے نہیں دیکھی۔
    قربانی کہے گی میں تیری قربانی ہوں جو دنیا میں تونے کی تھی۔میری پشت پر سوار ہوجا۔وہ سوار ہوجائے گا
    اور اس کی قربانی زمین وآسمان کے درمیان عرش کے سایہ تک اسے لے کر چلی جائے گی۔

    ہمہارے پیارے نبی صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّم نے بھی امت مسلمہ کے لیے قربانی ایک بہت بری فضیلت قرار دی ،
    حضرت ابن عباس ہمہارے پیارے نبی صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّم کے چچا زاد تھے،وہ کہتے ہے ہمہارے پیارے نبی صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّم نے فرمایا فاطمہ اپنی قربانی کے قریب آجاؤ اور گواہ بن جاؤ ،اور فرمایا کے اس کے خون کا قطرہ بعد میں زمین پے گرتا ہے اور اللہ‎ پاک قربانی کرنے والے کے گناہ پہلے معاف کر دیتا ہے، حضرت فاطؓمہ پوچھتی ہے کے یا رسول اللہ‎ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّم یہ صرف اہل بیت کے لیے ہے یا سارے مسلمانوں کے لیے ہے،نبی پاک صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّم نے فرمایا نہیں فاطمہ یہ ساری امت مسلمہ کے لیے فضیلت ہے،اور فرمایا سن لو قربانی اپنے صاحب کو نجات دلانے والی ہے،یعنی قربانی کرنے والے کو دنیا اور آخرت کے شر سے نجات ہوگی۔مزید فرمایا کہ اپنی قربانیوں کی تعظیم کیا کرو کہ وہ پل صراط پر تمہاری سواریاں ہوں گی۔قربانی خالص اللہ‎ پاک کی رضا کے لیے ہونی چاہیے اس میں تکلوفات نہ پیدا کرے ،کوشیش کرے قربانی کا سارے کا سارا گوشت غریبوں اور مستحق لوگوں میں تقسیم ہوجاۓ،
    اللہ رب العزت اپنے محبوب کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے صدقے میں ہمیں سنت ابراہیمی پر خلوص نیت سے اپنی اپنی استطاعت کے مطابق ریا کاری و نمائش سے پاک بہترین انداز میں عمل کی توفیق عطا فرمائے۔آمین!

    Walees Ashiq

    Waleed Ashiq is a Freelance Journalist and blogger find more about his visit twitter Account


  • انا پرستی،معاشرے کا ناسور  تحریر حمزہ احمد صدیقی

    انا پرستی،معاشرے کا ناسور تحریر حمزہ احمد صدیقی

    "اَنا پرستی” ایک خطرناک نفسیاتی مرض ہے۔ اَنا پرستی ہی کی وجہ سے انسان منافق، جھوٹا اور غیر شفاف ہے۔ آج جب ہم اپنے اردگرد نظر دوڑاتے ہیں تو اس عفریت نے ہر دوسرے شخص کو اپنا گرویدہ بنا رکھا ہے۔

    اَنا اُس زہر كی مانند ہے، جو انسان كو تباہ وبرباد كر دیتا ہے، جب تک انسان میں اَنا نہیں ہوتی وه سكون سے رہتا ہے، لیكن جیسے ہی اس میں اَنا آجاتی ہے، اس كا سكون محال ہو جاتا ہے، اَنا پرست لوگ اپنی "میں” میں مبتلا آگے بڑھتے ہوئے نہ جانے کتنے دلوں كو اپنے تلخ جملوں سے زخمی كر چكے ہوتے ہیں۔

    بدقسمتی سے ہمارا معاشرہ اس اَنا پستی کے مرض کا کمینگی کی حد تک اسیر ہو چکا ہے، یہاں دو گز زمیں پر قتل ،گاڑی سٹینڈ کی پرچی پر قتل اور متعد واقعات پر جان کا خاتمہ۔ ہم نے اپنی اقدار اور اخلاقیات کو پس پشت ڈال دیا ہے اور ہمیں اس کا ادراک تک نہیں جو کہ زیادہ ہولناک ہے۔

    لفظ” مَیں” اور” اَنا "ہر شخص میں رچ بس چکا ہے ۔چاہے وہ چھوٹا ہے ،بڑا ہے، بوڑھا ہے، غریب ہے ،امیر ہے ،سیاستدان ہے، حکمران ہے ،مذہبی اسکالر ہے ،صحافی ہے، پولیس آفیسر ہے ،مالک ہے یا ملازمکوئی شرط نہیں۔سب ” میں ” اور "اَنا” کے مرض میں مبتلا ہیں۔

    ہم سب نے ایک زعم پال رکھا ہے کہ کرہ ارض پر مجھ سے بہتر عقل و دانش کا پیکر کوئی دوسرا نہیں۔ ہم دوسروں کو خود سے کم تر اور حقیر جانتے ہیں اور ہم خود کو علم و فضل اور لیاقت کا ہمالیہ سمجھ بیٹھے ہیں اور ہمارے نزدیک دوسروں کی اہمیت محض اجڈ، گنوار، کوڑھ مغز اور زمیں پر رینگنے والے حشرات کے برابر ہے۔ اَنا پرستی کے زیر سایہ ہم اس قدر تعصب پسند اور تنگ نظر ہو چکے ہیں، کہ ہمیں اپنی ذات کے سوا دوسرا کوئی نظر ہی نہیں آتا-

    معاشرے کو اَناٶں کے خاتمے کی اشد ضرورت ہے۔ یہاں ہر کوئی اپنی اَنا کی وجہ سے پھنے خاں بنا پھرتا اور دوسروں کو حقیر جانتا ہے، جس دن انسان اپنی اَنا پرستی کو شکست دے گا، اس کے اندر اور باہر کی دنیا میں تازگی اور کشادگی نازل ہو جائے گی۔ رسوم، رواج اور دستور کچھ نہیں، یہ انسانوں کی اَناؤں کی مدد کرتے ہیں اور انسان کو اپنا قیدی بناتے ہیں۔

    قارئين اکرام! ہم عہد کرتے ہیں اس عید پہ اپنی” اَنا” کو ذبح کردوں، جو بات بات پر میں میں کرتی ہے۔ہمارا
    معاشرہ میں” اَنا” و” میں” کی بھینٹ سینکڑوں لوگ چڑھ رہے ہیں۔یہ انا عید پر ہی نہیں زندگی کے ہر معاملے میں اکڑ جاتی اور معاشرے میں ناہمواری اور عدم استحکام پیدا کرتی ہے اس لیے اس عید پر اس” اَنا” کو قربان کر دیاجائے تو معاشرہ بربادہونے سے بچ سکتا ہے ۔”اَنا” کو شکست دو اور سچ کو پالو یہی حقیقت ہے اور زندگی کی حقیقی دلکشی ہے۔۔!!

    اللہ پاکﷻ ہمیں ہدایت دے- آمین یارب العالمین!!

    @HamxaSiddiqi