Baaghi TV

Category: معاشرہ و ثقافت

  • عالمی ثقافتی ورثہ ٹیکسلا . تحریر : حسنین مغل

    عالمی ثقافتی ورثہ ٹیکسلا . تحریر : حسنین مغل

    راولپنڈی سے 22 میل دور، شمال مغرب کی جانب ایک قدیم شہر’ٹیکسلا‘ آباد تھا۔ 326 ق م میں سکندراعظم نے اس شہرپرقبضہ کیا اوریہاں پانچ دن ٹھہرا۔ یہیں راجا امبھی نے سکندر کی اطاعت قبول کی، جس کے بعد سکندرراجا پورس سے لڑنے کے لیے جہلم کے کنارے پہنچا۔ باخترکے یونانی حکمران دیمریس نے 190 ق م میں گندھارا کا علاقہ فتح کرکے ٹیکسلا کو اپنا پایۂ تخت بنایا۔ مہاراجا اشوک اعظم کے عہد میں بھی اس شہرکی رونقیں پورے عروج پرتھیں اوریہ بدھ مت تعلیم کا مرکز تھا۔ ساتویں صدی عیسوی میں مشہورچینی سیاح ہیون سانگ یہاں آیا تھا۔ اس نے اپنے سفر نامے میں اس شہرکی عظمت وشوکت کا ذکرکیا ہے۔ یہاں گوتھک اسٹائل کا ایک عجائب گھر ہے، جس میں پانچویں صدی قبل مسیح کے گندھارا آرٹ کے نمونے، دس ہزارسکے ( جن میں بعض یونانی دورکے ہیں ) زیورات، ظروف اوردیگر نوادرات رکھے ہیں۔ ٹیکسلا میں زمانہ قبل ازمسیح کی عظیم باقیات یونیسکو کےعالمی ثقافتی ورثے کی فہرست میں بھی شامل ہیں۔

    مختلف نام ٹیکسلا کا قدیم شہردریائے سندھ اوردریائے جہلم کے درمیانی علاقے میں واقع ہے۔ سنسکرت میں یہ تکشاسلا اورمقامی طورپر تاکاسلہ کے نام سے جانا جاتا تھا۔ یونانیوں اوررومیوں نے اسے ٹیکسلا کہا۔ یہ شہرزمانہ قدیم کے تین اہم تجارتی راستوں کے سنگم پر واقع ہونے کی وجہ سے ایک بڑا تجارتی مرکز تھا۔ جنوبی ہند، مغربی اور وسطی ایشیائی تجارتی راستے یہیں پرملتے تھے۔ قدیم جین مندرقدیم یورپی اقوام سکندراعظم کے ہندوستان پرحملے کرنے کے وقت سے ٹیکسلا کے نام سے واقف تھیں۔ چھٹی صدی قبل ازمسیح میں ٹیکسلا ایران کا ایک صوبہ تھا۔ بعد کی صدیوں میں یہ شہر کم از کم سات ادوار میں مختلف نسلوں کے شاہی خاندانوں کی حکمرانی میں رہا۔
    بازار جواب کھنڈرہیں ٹیکسلا کی قدیم تہذیب کی باقیات کی تلاش کے لیے پہلی مرتبہ کھدائی برطانوی نوآبادیاتی دورمیں آرکیا لوجیکل سروے آف انڈیا نے 1913ء میں شروع کی تھی، جو1934ء تک جاری رہی۔ پھر پاکستان بننے سے پہلے اور بعد میں بھی بہت سے مشہور یورپی اورپاکستانی ماہرین آثار قدیمہ یہاں کھدائی کرتے رہے۔ اس وقت جہاں خشک گھاس اورپتھر نظرآتے ہیں، وہاں صدیوں پہلے بھرے بازاروں میں انسانوں کی چہل پہل ہوا کرتی تھی۔

    اسٹوپے اورخانقاہیںوادی ٹیکسلا میں کھدائی کے نتیجے میں تقریبا دو درجن سے زیادہ اسٹوپے اورخانقاہیں دریافت ہوچکی ہیں۔ ان میں دھرما راجیکا، جولیاں، موہڑہ مرادو، پیلاں، گڑی، بھمالا، جنڈیال، جناں والی ڈھیری، بادل پور، بھلڑ توپ، کنالہ اورکلاوان نامی مقامات شامل ہیں۔
    قدیم ٹیکسلا کی یونیورسٹیقدیم ٹیکسلا شہر کے کھنڈرات کے آخرمیں شہزادہ کنالہ کے اسٹوپا کی جانب ایک مرکزی اورشاندارمقام ایسا بھی آتا ہے، جو پاکستان کے معروف ماہر آثار قدیمہ پروفیسر دانی کے بقول وہی جگہ ہے جہاں صدیوں پہلے ٹیکسلا کی مشہور یونیورسٹی قائم تھی۔
    شہزادہ کنالہ کا اسٹوپا ٹیکسلا کی قدیم یونیورسٹی سے کچھ دورشہزادہ کنالہ کا اسٹوپا ہے۔ اس اسٹوپے کے قریب کبھی ایک شاندارعمارت قائم تھی۔ اب وہاں صرف اس عمارت کی پتھریلی باقیات ہی رہ گئی ہیں۔ اس مقام اوراس کے قرب و جوار میں کھدائی سے بھی ماہرین کو بہت سے قدیم سکوں کے علاوہ مٹی اوردھات کے بنے برتن ملے تھے۔

    نازک لیکن تاحال محفوظماہرین آثارقدیمہ کو موہڑہ مرادو کے ایوان مجلس کے کمرہ نمبر نوسے ملنے والا اسٹوپا ، چونے مٹی کا بنا ہوا ہے لیکن صدیاں گزرجانے کے باوجود اب بھی اپنی اصلی حالت میں موجود ہے۔ اسی خانقاہ سے ماہرین کو چونے مٹی کے بنے ہوئے مجسمے بھی ملے ہیں۔ موہڑہ مرادو سے ملنے والے دیگر نوادرات میں کھانے پینے کے برتن، گھریلو استعمال کا سامان، مختلف اوزاراورتانبے کے برتن بھی شامل ہیں۔ ٹیکسلا میوزیمٹیکسلا میوزیم پاکستان کے خوبصورت ترین عجائب گھروں میں سے ایک ہے۔ ہری پور روڈ پر واقع اس میوزیم کا نقشہ لاہور کے میو اسکول آف آرٹس (موجودہ نیشنل کالج آف آرٹس) کے پرنسپل سلیوان نے تیار کیا تھا۔ اس کی بنیاد برٹش انڈیا کے وائسرائے لارڈ چیمسفورڈ نے رکھی تھی۔ اس میوزیم میں ٹیکسلا سے دریافت شدہ 700 سے زائد نوادرات محفوظ ہیں لیکن عجائب گھر کے اندر فوٹوگرافی کی اجازت نہیں ہے۔

    سِرکپسِرکپ شہرکی تاریخی باقیات ٹیکسلا میوزیم سے قریب دو کلومیٹرکے فاصلے پرہیں۔ دوسری صدی قبل ازمسیح میں باخترکے یونانی ٹیکسلا پر حملہ آور ہوئے تو موریہ سلطنت ختم کر کے انہوں نے اپنی حکومت قائم کی اورایک نیا شہرسِرکپ آباد کیا۔ یہ شہرشطرنج کی بساط کی طرزپرآباد کیا گیا تھا۔ سیدھی گلیوں اوربازار کے باعث اس کے کھنڈرات بھی بہت منفرد ہیں۔ یہ شہرایک ایسی فصیل کے اندرآباد تھا، جس میں چاردروازے تھے۔

    موہڑہ مرادوٹیکسلا میوزیم سے مشرق کی سمت قریب پانچ کلومیٹر کے فاصلے پر خانقاہ موہڑہ مرادو واقع ہے۔ یہ بدھ مت عبادت گاہ، مرکزی اسٹوپا اورخانقاہ کی باقیات پرمشتمل ہے، جہاں پُجاریوں کے رہائشی کمرے، ان کا ایوان، باورچی خانہ، غسل خانہ اورگودام ہوا کرتے تھے۔ باقیات اس بات کا پتہ دیتی ہیں کہ اس دور میں بھی کتنے تعمیراتی نظم و ضبط سے کام لیا گیا تھا۔ دو ہزارسال پرانی باقیات وادی ٹیکسلا سے ملنے والی بدھ مت کی عبادت گاہوں کی زیادہ تر باقیات پہلی صدی عیسوی سے پانچویں صدی عیسوی تک کے زمانے سے تعلق رکھتی ہیں۔ دھرما راجیکا اسٹوپا تیسری صدی عیسوی کے دورکا ہے، جسے 1980ء میں یونیسکو نے عالمی ثقافتی ورثے کی فہرست میں شامل کیا۔ ان میں سے بہت سے تاریخی مقامات آج بھی حیران کن حد تک اچھی اورواضح حالت میں موجود ہیں۔

    @HasiPTI

  • صنفی امتیاز کا خاتمہ . تحریر: عابد خان اتوزئی

    صنفی امتیاز کا خاتمہ . تحریر: عابد خان اتوزئی

    دنیا کی تخلیق کے طریقہ کارپردنیا بھرمیں اختلافات پایا جاتا ہے۔ دنیا کے ہرکونے سے تعلق رکھنے والے لوگوں کا اپنا ایک نظریہ ہے، دنیا کی تخلیق کیسی ہوئی؟

    ہرکوئی اس ضمن میں اپنی رائے کودلا ئل کے ساتھ پیش کرکے خود کو درست ثابت کرنے کیلئے کوشاں ہے۔ اس ضمن میں بے شمارکتابیں بھی موجود ہیں۔ اس پرسائنس اورمذہب بھی کئی جگہوں پرآمنے سا منے آچکے ہیں ۔یہی صورتحال کچھ معاشروں کے وجود کا بھی ہے۔معاشرے کا وجود مختلف معاشرے کے اقدارمختلف معاشرے کے اصول مختلف رسم ورواج مختلف حتیٰ کہ مقاصد بھی مختلف لیکن ایک چیزایسی بھی ہے کہ جس کے بارے میں دنیا کا ہرانسان متفق بھی ہے اوردرست بھی ہے وہ یہ کہ زمین کی پیدا ئش انسان کیلئے ہوئی ہے دنیا میں کہی بھی کسی سے بھی اگرپوچھا جائے کہ کیا دنیا انسان کے رہنے کیلئے بنائی گئی ہے اس کا جواب مثبت ہوگا۔ یہ حقیقت بھی ہے.

    دوسری بات جس میں لوگ بظاہراختلافات نہیں رکھتے وہ انسان کی برابری ہے، اگرسوال کیا جائے کہ آیا دنیا کے تمام انسان حقوق کے لحاظ سے برابرہیں؟ توفخریہ اندازمیں جواب ہاں میں ملے گا۔ یہی وہ نقاطہ ہے جہاں سے انسان کے نظریات اورمنافقت کا بخوبی اندازہ لگایا جاسکتا ہے دنیا اورزمین کی پیدائش کے اختلافات کے پیچھے ہرایک کا اپنا ایک نظریہ کارفرما ہوتا ہے جو درست بھی ہوسکتا ہے اورغلط بھی لیکن جس چیز کے بارے میں بظاہر سب کے سب انسان متفق ہے یعنی زمین انسان رہنے کی جگہ اورسب انسان برابرہیں کے پیچھے دنیا کی کثیرتعداد کی چھپی ہوئی منافقت موجود ہے، یہی وجہ ہے کہ دنیا کے ہرتیسرے اورچوتھے ملک میں ایک فساد برپا ہے، اس کے علاوہ ہرملک میں انسانوں کے مابین حقوق کے غیرمساوی تقسیم نے کہرام برپا کیا ہے۔ ایک انسان دوسرے انسان کوخود سے بہترتصورکرتا ہے اس کی نسبت اپنے آپ کو زیادہ مراعات کا حقدارسمجھتا ہے، اس نقطہ سے لوگوں کے حقوق کی حق تلفی کا باقاعدہ آغازہوتا ہے۔

    دنیا کے کسی بھی کونے میں بھی کسی بھی انسان کے مابین اختلافات اورجھگڑے کی بنیادی وجہ حق تلفی ہی ہوتی ہے۔ اس کے برعکس کسی بھی خوشحال ملک یا معاشرہ کا جائزہ لیا جائے تومعلوم ہوتا ہے کہ خوشحالی کہ اصل وجہ لوگوں کے مابین حقوق کی مساوی تقسیم ہے، اس معاشرے میں ان گنت مسائل اوربے چینی پائی جاتی ہے جہاں پرمساوات کی قبریں موجود ہوتی ہیں اگران حق تلفیوں کی حوصلہ شکنی نہ کی جائے تو وقت کے ساتھ ساتھ یہ رویہ کا شکل اختیارکرلیتا ہے، یہاں سے یہ مسئلہ انفرادیت سے اجتما عت کے مدارمیں داخل ہوجاتا ہے اورجب اجتماعیت کے ہاتھ میں ایک خاص رویہ پنپنا ہے تو وہ روایت بن جایا کرتی ہے۔ کسی بھی معاشرے کے تجزئیے سے یہ بات بخوبی جانی جاسکتی ہے کہ ہراک روایت کے پیچھے ایک خاص رویہ مضمر ہے۔ روایات میں اپنی رویوں کا اظہارہوتا رہتا ہے، روئیے اور روایت کی بنیاد کسی قوم یا معاشرے کے حامل کردہ علوم پرہوتا ہے جو وہ حقوق کی تقسیم کے بارے میں رکھتے ہیں۔

    اگر حاصل کردہ علم زندگی گزارنے کے لئے ناکافی اورناقص ہے تو منفی رویہ بنے گا، منفی روایات بنے گئے اورمنفی معاشرے کی بنیاد پڑے گی اوراگر حاصل کردہ علم مثبت ہے اورایک بہترزندگی گزارنے کے لئے کافی ہے تو مساوی حقوق، مثبت رویہ، مثبت روایات اور مثبت معاشرہ بنے گا۔اس علم کی بنیاد پرمعاشرے میں ہرچیزکے بارے میں ایک خاص رویہ موجود ہے، اب اگرمعاشرے میں موجود رویے سے مسا ئل پیدا ہورہے ہیں توہمیں علم کے وہ سرچشمے بدلنے ہوں گے جن کی بنیاد پررویہ یا روایت بنتی ہے۔اب اگراپنے معاشرے کا جائزہ لیا جائے تو بہت سے تکلیف دہ منفی روئیے سامنے آئے ہیں۔ان میں سے ایک منفی رویہ معاشرے میں موجود صنفی امتیاز ہے جس نے باقاعدہ تشدد کی شکل اختیارکررکھی ہے جس کا ثبوت چند دن قبل روالپنڈی کے علاقہ ثاقب آباد میں ہونے والا واقعہ ہے۔قارئین بخوبی جانتے ہیں کہ ارسلان نامی جوان نے اپنی ماں پرتشدد کیا ہمارے معاشرے میں خواتین کے بارے میں موجود منفی رویے نے ہمیں دنیا میں چھٹے نمبرپرلا کھڑا کردیا صنفی امتیازی کی بدولت ہم دنیا میں جانے جاتے ہیں ”بدنام جو ہو گے تو کیا نام نہ ہو گا“ صنفی امتیاز کوختم کرانے اورخواتین کے بارے میں قائم منفی رویوں اورروایات کو جڑ سے اکھاڑنے کے لئے ہمیں آنے والی نسلوں کو مثبت علم دینا ہوگی ورنہ جو حالت گلنازبی بی کے ہیں وہ ہرگھرمیں موجود ہرعورت کے ہونگے.

    @AtozaiKhan

  • محب  وطن پاکستانی . تحریر: محمد آصف شفیق

    محب وطن پاکستانی . تحریر: محمد آصف شفیق

    پاکستانی قوم ایک محب وطن قوم ہے جس کے افراد دنیا میں کسی بھی ملک کے کسی بھی شہر میں ہوں ان کی حب الوطنی میں کمی نہیں آتی، دوسرے بہت سے بیرون ملک مقیم (Overseas Pakistani) کی طرح میں بھی گزشتہ 16 سال سے بیرون ملک مقیم میں جہاں میں نے پاکستانیوں کی حب الوطنی کی کئی مثالیں دیکھیں، جب بھی کسی پارٹی رہنما نے یہاں وزٹ کیا ہرپاکستانی نے اپنے پارٹی تعلق سے بالا تر ہو کراس پروگرام میں بھرپورشرکت کی اورکوئی ناخوشگوارواقعہ بھی کبھی پیش نہیں آیا، امیر جماعت اسلامی پاکستان محترم سراج الحق صاحب کے سعودیہ میں دوروں کے دوران بہت سے بڑے پروگرامات میں شرکت کا موقع ملا جن میں تقریباً تمام پاکستانی سیاسی ودینی جماعتوں کے افراد موجود ہوتے تھے، اسی طرح مستقل پاکستان واپس جانے والوں کیلئے الوادعی تقریبات کا اہتمام کیا جاتا ہے، کسی بھائی کی خوشی غمی میں شرکت ہو یا کسی فرد کی نمازجنازہ کبھی احساس ہی نہیں ہونے دیتے کہ ہم دیس میں نہیں پردیس میں ہیں، اگر کوئی بھائی فوت ہوجائے تواس کے پروسس میں پاکستانی ایمیبسی کی مدد درکار ہوتی ہے اورالحمد للہ جن بھائیوں کو ویلفئرسیکشن میں ذمہ داری دی ہوتی ہے وہ ہمیشہ بہترین تعاون کرتے ہیں اللہ تعالیٰ ان بھائیوں کواجرعظیم سے نوازیں جو پردیس میں رہ کر ایک دوسرے سے ایسے جڑے ہیں جیسے سیسہ پلائی دیوار

    یوم آزادی ہو یا یوم دفاع پاکستان یا کشمیرڈے ہویا کوئی بھی قومی دن پردیس میں موجود پردیسی اپنی گاڑیوں اپنے کپڑوں اوراپنی تیاریوں سے کسی بھی فرد جو کہ پاکستان میں موجود ہوکم محبت کا اظہار نہیں کرتا، مملکت سعودیہ میں موجود سفارتخانہ بھی ان اسپیشل دنوں کیلئے اپنے دروازے کھولتا ہے اپنے ہال میں بڑے بڑے پروگرامات ترتیب دیتا ہے، جن میں ہرپارٹی کے افراد کواظہارخیال کا بھرپورموقع فراہم کیا جاتا ہے.

  • عیب پوشی . تحریر:عائشہ شاہد

    عیب پوشی . تحریر:عائشہ شاہد

    "ﺣﺎﻝِ ﺩﻝ ﮐﺲ ﮐﻮ ﺳﻨﺎﺋﯿﮟ ﮐﮧ سب ﺷﮩﺮ ﮐﮯ ﻟﻮﮒ
    ﻗﺼﮧ ﻏﻢ ﮐﻮ ﺑﮭﯽ ﮈﮬﻮﻟﮏ ﮐﯽ ﺗﮭﺎﭖ ﮐﮩﺘﮯ هیں.”

    ایک حدیث پاک کا مفہوم ہے کہ !!
    ( جو شخص مسلمان کی پردہ پوشی کرے گا ، اللہ تعالیٰ قیامت کے دن اس کی پردہ پوشی کرے گا ) (بخاری و مسلم)

    یہاں میں ہم سب کی رہنمائی کے لیے ایک واقع شئیرکرنا چاہوں گی کسی ملک میں ایک نہایت ہی انصاف پسند اورعوام کے دکھ درد بانٹنے والا بادشاہ رہتا تھا مگرجسمانی طورپرایک ٹانگ اورایک آنکھ سے محروم تھا ایک دن بادشاہ نے اپنی مملکت کے ماہرمصوروں کواپنی تصویربنوانے کیلئے بلوا لیا اوروہ بھی اس شرط پرکہ تصویرمیں اُس کے یہ عیوب نہ دکھائی دیں۔ سارے کے سارے مصوروں نے یہ تصویر بنانے سے انکارکردیا اوروہ بھلا بادشاہ کی دو آنکھوں والی تصویربناتے بھی کیسے جب بادشاہ تھا ہی ایک آنکھ سے محروم اوروہ کیسے اُسے دو ٹانگوں پرکھڑا ہوا دکھاتے جبکہ وہ ایک ٹانگ سے بھی معزورتھا.

    لیکن اس اجتماعی انکارمیں ایک نہایت ہی ہوشیارمصورنے کہا :
    بادشاہ سلامت میں بناؤں گا آپ کی تصویراورجب تصویرتیارہوئی تو اپنی خوبصورتی میں ایک مثال اورشاہکار تھی۔

    وہ کیسے؟؟
    تصویرمیں بادشاہ شکارکرتا دیکھائی دے رہا تھا ہاتھ میں تیرکمان تھا اوروہ گھوڑے پرسوارتھا اورشکار کرتے ہوئے اس نے ایک آنکھ بند کر رکھی تھی جس آنکھ سے وہ محروم تھا اورجس ٹانگ سے وہ معزورتھا وہ ٹانگ گھوڑے کے دوسری جانب تھی جوکہ دیکھائی نہ دیتی تھی
    اوراس طرح بڑی آسانی سے ہی بادشاہ کی بے عیب تصویرتیارہوگئی تھی بادشاہ نےاس مصورکو اس عیب پوشی پربے انتہا انعام سے نوازا۔

    یہ صرف کہانی نہیں بلکہ ایک سبق ہے کیوں کہ ہم بھی اِسی طرح دوسروں کی بے عیب تصویربنا لیا کریں اوراپنے رب کریم سے انعامات حاصل کیا کریں آج اس نفسا نفسی کے دور میں ہر ایک دوسرے میں مصروف ہے حالانکہ ہمارے اندر بھی بے شمارعیب موجود ہیں۔ آج ہم دوسرے مسلمانوں کے عیوب پرپردہ ڈالیں گے کل ان شاء اللہ رب رحیم ہمارے عیوب سے درگزر فرمائے گا۔ تو آج سے کوشش کریں دوسرے کے عیبوں کو چھپایا کریں گے خواہ ان کے عیب کتنے ہی واضح ہی نظر آ رہے ہوں اورجب بھی لوگوں کی تصویر دوسروں کے سامنے پیش کیا کریں اُن کے عیبوں کی پردہ پوشی کریں گے کیونکہ انبیاء کے علاوہ کوئی شخص بھی عیبوں سے خالی نہیں بے شک

    اے انسان یہ جان لوتم کسی بشرمیں ہزارخامی اگرجودیکھو تو چپ ہی رہنا کسی بشرکا جو راز پاؤ یا عیب دیکھوتو چپ ہی رہنا اگرمنادی کو لوگ آئیں تمہیں کوئی کُریدیں یا تمہیں منائیں تمہاری ہستی کے گیت گائیں تمہیں کہیں کہ بشرمیں دیکھی برائیوں کو بیان کردو تو چپ ہی رہنا
    جواز یہ ہے دلیل یہ ہے
    ضعیف لمحوں کی لغزشوں کو
    بے محر ناطے کی قربتوں کو
    ہماری ساری حماقتوں کو
    ہماری ساری خباثتوں کو
    وہ جانتا ہے
    وہ دیکھتا ہے
    مگر وہ چپ ہے
    اگر وہ چپ ہے
    تو میری مانو
    وہ کہہ رہا ہے
    چپ ہی رہنا

    @BinteChinte

  • خواجہ سرا اور ہمارا غیر انسانی رویہ .تحریر : فضیلت اجالہ ۔

    خواجہ سرا اور ہمارا غیر انسانی رویہ .تحریر : فضیلت اجالہ ۔

    ہم ایک اسلامی ملک کے آزاد باشندے ہیں ،نا صرف ہمارا مزہب بلکہ ہماری اقتدار و روایات بھی ہمیں انسانیت ،بھائی چارے اور حقوق العباد کا درس دیتیں ہیں
    ہمارے معاشرے میں عورتوں ،یتیموں، مساکین،نادار، اور بے آسرا افراد خواہ وہ مرد ہو یا زن کیساتھ ہمدردی ،انسانیت اور اخلاقیات برتنے کا سبق پڑھایا جاتا ہے جو کہ بہت اچھی بات ہے اس پہ عمل ہونا بھی چاہیے لیکن ان سب سے الگ ،سب سے ہٹ کر خدا تعالی کی بنائی ہوئی ایک اور مخلوق بھی ہے جو تمام رشتے ناتے ہونے کے باوجود ہر رشتے سے ہر حقوق سے محروم ہے ،
    قدرت کی تخلیق کردہ ایک ایسی تخلیق جسے ہمارا معاشرہ ،کھسرے،شی میل،تھرڈ جینڈر،خواجہ سرا اور ہیجڑے کے نام سے جانتا اور پکارتا ہے ۔جسے ہم سب مخلوق خدا تو مانتے ہیں لیکن طنز و تزیحک ، اور جانوروں سے بدتر سلوک کرنے میں بھی خود کو حق بجانب سمجھتے ہیں
    جس طرح ہمارے مکمل انسان ہونے میں ہمارا کوئ ہاتھ نہی یہ تو احسان ہے اس پاک زات کا جس نے ہمیں مکلمل انسان بنایا بلکل اسی طرح خواجہ سرا بھی اللہ ہی کی تخلیق ہیں اس میں انکا اپنا کوئ عمل دخل نہی پھر ان کے ساتھ یہ غیر انسانی سلوک کیوں ،کیوں انہیں اچھوت سمجتے ہوئے خود سے الگ کر دیا جاتا ہے
    ہم معزز انسانو میں بمشکل 10 فیصد لوگ ایسے ہونگے جو انہیں عزت و تکریم دیتے ہونگے ۔کیوں انکے مرنے کے بعد بھی انہی کفن دفن، اور جنازہ جیسے بنیادی حقوق سے محروم رکھا جاتا ہے ،انکے مرنے کا اعلان تک نہی ہوتا یہ کہ کر انکار کردیا جاتا ہے کہ کیا کہیں ؟کون تھا کس کا بیٹا،کس کی بہن ،کسکا بھانجا بھتیجا؟؟؟ زندگی بھر ان رشتوں سے محروم رکھا چلو وقت آخر تو اسکی روح کو یہ سکون بخش دو کہ کوئ اسکا بھی اپنا ہے ۔

    کیا یہ لوگ انسان نہی ہوتے یا انکا دل نہی ہوتا؟
    گلی چوراہوں میں سڑکوں پہ ایسے لوگوں کو اپنے طنز و تضحیک کا نشانہ بناتے ہوئے کیا کبھی ہم میں سے کسی نے ایک پل کہ لیے بھی سوچا ہے کہ یہ لوگ کس قدر ازیت و تنہائ کا شکار ہوتے ہیں اور کس قدر مشکل زندگی گزارتے ہیں۔ کتنا خوفناک اور دلوں کو دھلا دینے والہ تصور ہے نا کہ پیدا ہوئے تو والدین نے رات کے اندھیرے میں والدین نے دنیا کے طعنو ں سے ڈرتے چند پیسے دے کہ کسی کو بھی سونپ دیا کہ اسے یہاں سے گمنام مقام پہ لے جاؤ ،عمر کی کچھ حدیں عبور کی تو نام نہاد معزز اور مکمل انسانوں نے ادھر ادھر چھو کر اپنی حوس کا نشانہ بنانا شروع کر دیا ۔پیٹ کی بھوک مٹانے کیلیے ،ضرورت زنگی پورا کرنے کیلیے روزگار کی تلاش میں نکلا تو کھسرا کہ کر دھتکار دیا گیا ، تھک ہار کر روایتی ناچ گانا شروع کیا ،کسی کے گھر بدھائ لینے گیا تو معززین نےاپنی گندی اور ہوس زدہ نظروں کا نشانہ بنایا ۔

    وہ مولوی حضرا ت جو تنہائی میں ان پر ٹوٹ پڑنے کو تیار رہتے ہیں وہ بھی انکا جنازہ پڑھانے سے انکار کر دیتے ہیں ،نام نہاد تعلیم یافتہ انسان انہیں چھیڑنے ،اور ہنسی مزاق کیلیے مخلتلف فتوے دینے کو ہر وقت تیار لیکن عزت اور نوکری دیتے ہوئے موت پڑتی ہے ۔
    خواجہ سرا وہ مظلوم مخلوق ہیں جنہیں بہن بھائ ،بیٹی سمجھنا تو درکنار انسان بھی نہی سمجھا جاتا اور ایسا غیر انسانی سلوک کیا جاتا ہے جو حیوانیت کو بھی مات دے ۔

    کوئی خوف خدا کرو زرا تو اپنے ضمر کو جھنجوڑو یہ کیسی غیرت ہے جو کسی کو عزت نہی دے سکتی ،کسی کیلیے زاد راہ نہیں بن سکتے تو پتھر بھی نا بنیے۔
    وہ لوگ جو ہماری خوشیوں میں دعائیں دیتے ہوئے شامل ہوتے ہیں انہیں بدعا مت بنائیں ،انہیں زمانے کی ٹھوکرو کے حوالے مت کریں
    آج یہ کسی اور کی اولاد ہیں کل کو تمھاری اولاد یا آگے اسکی اولاد میں بھی کوئ ایسا بچہ پیدا ہوسکتا ہے ،کیونکہ حقیقت بس اتنی ہے کہ خالق کل کائنات کی لاٹھی بڑی ہی بے آواز ہوتی ہے کب کہاں کس کو پڑ جائے کسی کو خبر نہی ۔اسلیے کوشش کیجے کہ آپ کے ہاتھ ،زبان اور اعمال سے مخلوق خدا کو گر فائدہ نہ پہنچے تو نقصان بھی نا ہو۔
    خدائے بزرگ برتر ہم سب کو اس بات کو سمجھنے اور عمل کرنے کی توفیق دیں ۔آمین

  • عرش سے فرش تک سفر. تحریر:عزیز الرحمن

    عرش سے فرش تک سفر. تحریر:عزیز الرحمن

    اس دنیا میں کوئی بھی انسان جب کامیاب ہوجائے وہ اس وقت توبہت ہی خوشی میں مبتلا ہوجاتا ہے پروقت کے ساتھ ساتھ اس میں غرورتکبر آنا شروع ہوجاتا ہے۔ کیونکہ ہمارے معاشرے میں اس طرح زیادہ تروہ لوگ ہیں جو کامیابی تو حاصل کرتے ہے۔ کیوںکہ وہ غروراورتکبر کی وجہ سے اتنے لاعلم ہوجاتے ہیں کہ اس کواپنے پیچھے کی وہ بدحالی زندگی کو بھول جانے میں ذرا سی بھی دیرنہیں لگتی اوروہ اس قدر اپنے ہرفیصلہ میں جلد بازی کربیٹھتے ہیں۔ بہت سے لوگ آج کل اس قدر مبتلا ہے کہ عرش ملنے کے لئے بےتاب تو ہے ۔ پرانہیں کبھی فرش کے بارے میں سوچا بھی نہیں اورفرش میں آنے کے لئے دیربھی نہیں لگتی آج کل وہ زمانہ ہیں جوآپکو عرش تک لے گئے وہی آپکو فرش تک لے آنے میں ذارسی دیربھی نہیں کرتے، لہذا ہمیں چاہیے کہ فرش سے عرش تک جانے سے پہلے سوچنا بھی اورکبھی پیچھے کی زندگی کونہ بھولنا۔ کیونکہ کچھ لوگ آپ کو نہ توفرش میں رکھنے دیں گے اور نہ ہی عرش میں رکھنے دیں گیں۔ انسان کوچاہیے کہ برابری کے حساب سے چلے کیوں آج کل اس زمانہ میں رہنا ہی بہت ہوگیا ہے.

    اکثراوقات شوشل میڈیا پرمیں نے دیکھا کہ آج فلاں فلاں شخص کو اتنی عزت ملی اورکچھ عرصہ کے بعد وہی شخص پھرشوشل میڈیا پر ٹاپ ٹرینڈ بنا رہتا ہے کہ اس کے ساتھ دھوکا ہوگیا۔ کیوں اس دنیا میں بہت سے فرعون و بادشاہ گزر گئے اورآج بھی ان کو لوگ یاد کرتے ہے کچھ تو اچھے اورکچھ تو برا الفاظ میں کام وہ کرو تاکہ یہ دنیا اچھے لوگوں کے شمارمیں یاد کر لے، آئیں مل کرسب یہ وعدہ کریں کہ جب بھی کسی بھی جگہ پہ آپ کو کامیابی ملے اس کامیابی کو ہمیشہ ضائع مت کیجئے، اگرآپ کو کسی بھی ادارے، کمپنی، پارٹی، یا کوئی گروپ میں اچھے عہدے میں تعینات ہوں گے توکوشش کریں کہ سب کو خوش اوربرابری کی سطح پران پرنظرثانی کرے، کیوںکہ وہ لوگ ہے جو آپ کوعرش تک لے گئ۔

    @Aziz_khattak1

  • بیٹیاں رحمت ہیں . تحریر : مدثر

    بیٹیاں رحمت ہیں . تحریر : مدثر

    ہم بیٹی کی پیدائش پراتنا خوش نہیں ہوتے جتنا بیٹے کی پیدائش پرہوتے ہیں ہم سب سے پہلے ان کا حق کھاتے ہیں ان کی پیدائش پرخوشی نہ کرنے کا ہم بیٹی کی نسبت بیٹے سے زیادہ پیارکرتے ہیں کوئی بھی چیزبازارسے خرید کر لائیں تو سب سے پہلے بیٹے کو دیتے ہیں پھر بیٹی کو دوسرا بڑا حق جو ہم کھا جاتے ہیں بیٹیوں کا وہ ہے تعلیم سے محروم کرنا بیٹے کے لیے خوش ہوکرتمام تعلیمی اخراجات پورے کرتے ہیں اوربیٹی کو یہ کہ کر تعلیم نہیں دلواتے کہ بیٹیاں گھرمیں ہی اچھی لگتی ہیں ان کا کیا کام تعلیم کا بس نام لکھنا، پڑھنا آنا چاہیے بس یہی کافی ہے.

    ہماری سوچ ایک پسماندہ سوچ ہے اسی پسماندہ سوچ کی وجہ سے ہم بیٹیوں کا بنیادی حق تلف کر جاتے ہیں حالانکہ بیٹیاں جتنا اپنے کام سے لگاؤ رکھتی اورایمانداری سے سرانجام دیتی ہیں اتنا لڑکے بھی نہیں کرتے بیٹیوں کی فضیلت بھی کوئی قسمت والا جانتا ہوگا اگربیٹی کی فضیلت کا پتہ لگ جائے لوگوں کو تو سب نے بیٹے کی بجائے بیٹی کی فرمائش کرنی ہے

    بیٹی کی فضیلت تو اللہ نے خود بیان کی ہے کہ میں جس پر بے حد خوش ہوتا ہوں تو ان کے گھررحمت (بیٹی) عطا کرتا ہوں اوراللہ کہتا ہے کہ جب میں بیٹا عطاء کرتا ہوں تو بیٹے کو کہتا ہوں جاؤ اپنے باپ کا ہاتھ بٹاؤ۔ جب میں بیٹی دیتا ہوں تو اس کے باپ کا ہاتھ پاؤں خود بن جاتا ہوں۔

    بیٹے باپ کی جائیداد کے مالک بنتے ہیں اوربیٹیاں باپ کی بخشش کا ذریعہ بنتی ہیں ان کی مغفرت کے لیے دم درود قل پڑھتی رہتی ہیں. اللہ ہمیں سچے دل سے بیٹیوں سے پیار کرنے اور ان کی عزت کرنے کی توفیق عطا فرمائے. آمین.

    @MudasirWrittes

  • ہے زندگی کا مقصد اوروں کے کام آنا؛تحریر۔سمیرہ جمال

    ہے زندگی کا مقصد اوروں کے کام آنا؛تحریر۔سمیرہ جمال

    اسلام صرف عبادت کا ہی نام نہیں بلکہ زندگی کے ہر پہلو کو کیسے گزارنا ہے بہت خوبصورتی سے بتایا ہے
    اسلام میں باہمی رویوں میں توازن ہے۔ اسلام وہ مذہب ہے جہاں دوسروں کے حقوق پہ بھی بہت زور دیا گیا ہے۔ہمیں خالص اللہ کی رضا کے لئے جہاں تک ہو سکے نفع بخش بننا چاہیے، اور اپنی زندگی کو انسانیت کی بھلائی میں کسی نہ کسی طرح مصروف رکھنا چاہیے ۔ کبھی کبھار ایسا ہوتا ہے کہ زندگی ہمیں بہت کم وقت میں بہت سبق سکھا دیتی ہے۔ انسان کی زندگی میں رونما ہونے والے حوادث ہی انسان کی سوچ کا دھارا بدل دیتے ہیں۔ سوچ میں میں پختگی آجاتی ہے، انسان اپنی ,میں؛ سےنکل آتا ہے۔یہ وہ اسٹیج ہوتی ہے جہاں پھر آپ کی اپنی خواہشات ،اپنی تمنائیں، اپنی خوشیاں اتنی اہم دکھائی نہیں دیتی جتنا دوسروں کے کام آنا، ان کے دکھ، ان کے غم ،ان کے آنسو سمیٹنا آپ کو اچھا لگتا ہے
    میں سمجھتی ہوں یہاں اس اسٹیج پر آکر دراصل انسان کا اپنے رب سے رشتہ اتنا مضبوط ہو چکا ہوتا ہے کہ دنیا ہیچ نظر آتی ہے۔ تب سوچ بدلتی ہے اور اللہ کی مخلوق کی خدمت زیادہ سکون دیتی ہے۔ یہاں میں چند چھوٹے چھوٹے کاموں کا ذکر کروں گی کہ جن کو کرنے کے بعد انسان بہت پرسکون حالت میں ہو جاتا ہے ۔
    اگر آپ کو اللہ تعالی نے صاحب مال کیا ہوا ہے تو اسی کے دیے ہوئے مال میں سے لوگوں کی چھوٹی چھوٹی ضروریات پوری کرنے کی کوشش کریں۔
    زیادہ دور نہیں کبھی اپنے اردگرد نظر دوڑائیں یقین کیجئے اتنے سفید پوش آپ کو نظر آئیں گے جو آپ کی مدد کے منتظر ہیں
    کبھی کہیں اگر آپ کو محسوس ہو کہ یہاں پہ کوئی شجر لگانا چاہیے لوگوں کی گزر گاہ تو وہاں پہ ایک سایہ دار شجر لگا دیں
    کبھی دیکھیں جہاں لوگوں کو پانی کی زیادہ ضرورت ہو یا گزرگاہ ہو تونلکا یعنی ہینڈ پمپ لگا کر دیکھیں اور مشاہدہ کریں آپ کے اس سے لوگوں کی دعائیں آپ کے شامل حال ہوگئی ہیں ۔اگر اللہ تعالی نے آپ کو اس سے زیادہ دے رکھا ہے تو آپ الیکٹرک کولر بھی لگوا سکتے ہیں۔
    گرمیاں سردیاں جب بھی موسم کا آ غا ز ہو آ پ اپنی فیملی کے کپڑے دھلوا کر پیک کروا کے اسے کسی کا تن ڈھانپنے کے لئے استعمال کرسکتے ہیں

    آپ کو معیوب لگے گا مگر کبھی ایسا کر کے دیکھیے کہ چھوٹی مارکیٹ میں شاپنگ کا بہانہ کر کے چکر لگائیں کہیں اگر آپ محسوس کریں کہ دکاندار کی مطلوبہ رقم گاہک ادا نہیں کر سکتا اندازہ ہو جاتا ہے کہ یہ مستحق ہے تو خاموشی سے دکاندار کو اشارہ کیجئے اس گاہک کی عزت نفس کا خیال رکھتے ہوئے دوکاندار ان کی خواہش کے مطابق رقم لے اور اوپر والے پیسے آ پ ادا کر دیجیے ۔
    جب بھی آپ کسی تہوار کے لیے نیا لباس لیں تو کوشش کریں کہ ایک اپنا پرانا لباس جیسا کہ میں نے پہلے کہا کہ اسے و شکر کے بیک کیجئے اور کسی مستحق کے گھر رات کے اندھیرے میں دے آئیے یہ بھی ایک قسم کا صدقہ ہے۔
    ہر مہینے کوشش کریں کہ کم از کم ایک یا دوفیملیز کو راشن کے ذریعے سپورٹ کیجئے ۔
    یاد رہے کہ اوپر والا ہاتھ نیچے والے ہاتھ سے بہتر ہے کوشش کریں کہ یہ چند چھوٹی چھوٹی نیکیوں کو ان سفید پوشوں کی بے بسی کو کیمرے میں مقید کرکے ضائع مت کیجئے
    خوش قسمت ہیں وہ لوگ جو اللہ کی رضا کی خاطر نیکیاں سمیٹ رہے ہیں
    جس سماج میں عدم مساوات ، دولت کی غلط تقسیم ، معاشی بدعنوانی اور سیاسی خود غرضی اور موقع پرستی جیسے رجحانات ہوں ،وہاں آپکی یہ چند چھوٹی چھوٹی نیکیاں ہوا کا جھونکا ہوں گی جہاں آپ دعائیں تو سمیٹے گے وہیں آپ خود کو بہت مطمئن بہت پرسکون محسوس کریں گے
    اللہ آپ کا، میرا، ہم سب کا حامی و ناصر ہو

    تحریر۔۔ سمیرہ جمال
    @sumairajamalkha

  • پاکستان کی یوم آزادی ایک لمحہ فکریہ . تحریر :‌ ابوبکراورکزئی

    پاکستان کی یوم آزادی ایک لمحہ فکریہ . تحریر :‌ ابوبکراورکزئی

    اس میں کوئی شک نہیں کہ آزادی کا حصول اورمسلمانوں کے لئے الگ مملکیت کا قیام اللہ تعالی کی عظیم الشان نعمت تھی جو اس خطے کے مسلمانوں پرنازل ہوئی۔ یہ اہلِ پاکستان کا فرض تھا کہ وہ اس نعمیتںِ عظمی کو ہرقدم پریاد رکھتے اوراسے فراموش نہ ہونے دیتے۔ اس سلسلے میں چند گزارشات پیشںِ خدمت ہیں.

    1. جس طرح پاکستان کا قیام مسلمانوں پراللہ کا انعام تھا اس طرح اس کا عظیم اشان کرم یہ تھا کہاس مملکیت کے قیام کے لئے 27 رمضان اور جمعہ کے دن کا انتخاب کیا گیا۔ اس دن کا انتخاب کسی انسان کی سوچ کا نتیجہ نہیں تھا کیونکہ اس دن کا یقین تنہا مسلمانوں کے اختیار میں نہیں تھا۔ بلکہ اس فیصلے میں انگریز، ہندواورسکھ بھی شامل تھے۔ ظاہرہے وہ اس نقطہ نظرسے اس دن کا انتخاب نہیں کرسکتے تھے۔ کہ یہ مسلمانوں کے لئے ہرلحاظ سے خیروبرکت کا دن ہے۔ ظاہرمیں نگاہیں اس بات کو مخص اتفاق سمجھتی ہیں کہ جو دن اِن اقوام کے اتفاق سے قیامِ پاکستان کا دن قرارپایا وہ جمعہ 27 رمضان کا دن تھا۔ لیکن جس شخص کا ایمان، قدرت کاملہ اورحکمت بالغہ پرہواس کے نزدیک اس کائنات کا کوئی واقعہ مخص بحث واتفاق کا نتیجہ نہیں ہوتا ان میں سے بعض حکمتوں کا علم انسان کو ہو جاتا ہے اوربہت سی حکمتیں اس کے پروازِ تخیل سے ماورا ہوتی ہیں اوروہ اپنی محدود فکر کے نتیجے میں ہی ان واقعات کو بحث واتفاق کا کرشما قراردیتے ہیں۔ لہذا قیامِ پاکستان کے مہینے، اس مہینے کے آخری عشرے، اور آخری عرشے میں 27 رمضان اوراس میں بھی جمعہ کے دن کا انتخاب نہ تو انسانی منصوبہ بندی کا نتیجہ تھا اور نہ بحث و اتفاق کا۔ بلکہ یقینا یہ یقین منجانب اللہ تھا۔

    اس خطے کے مسلمانوں پراللہ تعالی کے بے پناہ کرم کا نتیجہ تھا کہ ہمیں پاکستان جیسی عظیم نعمت عطا فرمانے کے لئے اس مبارک دن کا انتخاب کیا گیا جو اپنی رحمتوں اور برکتوں کے لحاظ سے سال کا افضل ترین دن تھا۔ یہ تو اللہ تعالی کی عطا تھی جو ہماری کسی کوشش اور طلب کے بغیر مخص اس کے فضل وکرم سے حاصل ہوئی۔ لیکن اس عطا کے مقابلے میں اپنی ناشکری اورناقدری ملاحظہ فرمائیے کہ اس نعمت کا اتنا ادراک و احساس کرنے کی توفیق بھی نہ ہمیں ہوئی؟ کہ ہم 27 رمضان کو پورا پاکستان اور اپنا یومِ استقلال تسلیم کر لیتے۔ چنانچہ جب یومِ آزادی کے لئے دن کی یقینی کا سوال آیا تو ہم نے 27 رمضان کی بجائے 14 اگست کو اپنا یومِ آزادی قرار دے دیا۔
    مختصر یہ کہ اللہ تعالی کی اس غیبی تاہیک کی اس سے بڑھ کر ماقدری، احسان فراموشی اورکوتاہی کیا ہو گی؟ کہ سال کے جس افضل ترین دن کو اللہ تعالی نے ہمارے لئے یومِ پاکستان قرار دیا تھا ہم نے اس کو اپنا یوم آزادی تسیلم کرنے سے انکار کر دیا اور اس کو نظر انداز کر کے اپنی محبت اور عقیدت کا مرکز 14 اگست کو بنا لیا۔ میں سمجھتا ہوں یہ ہماری احسان فراموشی کا پہلا امتحان تھا۔ جس میں ہم "اللہ معاف فرمائے” بری طرح ناکام ہوئے۔ حکومت اس سنگین غلطی کی تلافی کرے اور ہم سے ماضی میں 27 رمضان کی ناقدری کا جو جرم سرزد ہوا اس سے اجتماعی توبہ کر کے آنئدہ کے لئے 14 اگست کی بجائے 27 رمضان کو یوِم استقلال ٹھہرائے۔

    2. ہمارا یومِ آزادی، اس پر منایا جانے والا جشن اور اس موقع پر منعقد ہونے والی تقاریب ان دوسری اقوام کے جشن آزادی سے مختلف اور ممتاز ہونی چاہئے جن کے نزدیک آزادی کی مسرت جیت رسمی کھیل تماشوں سے عبارت ہے۔ اللہ نے اس مملکیت کے ذریعے ہمیں بیک وقت انگریزی استعار اور ہندو سامراج دونوں سے نجات عطا فرمائی اور اپنی تعمیر کرنے کا خود موقع دیا۔ ہمارا یومِ آزادی درحقیقت یومِ شکر ہونا چاہئے جس میں صرف ہماری زبان نہیں بلکہ ہماری ایک ایک نقل و حرکت شکر گزاری کی آئینہ دار ہو۔

    پاکستان کا یوم استقلال ہر سال ہم سے یہ سوال بھی کرتا ہے کہ جس ملک کے قیام کے لئے ہزاروں مسلمانوں نے اپنے جان و مال اپنے جذبات اور اپنی عزت وآبرو کی جتنی قربانیاں دی تھیں جس کی بنیاد میں نا جانے کتنے مسلمانوں کا خون شامل تھا اس کے قیام کے لئے ہم نے کتنی جانیں رخصت کی ہیں؟ جب تک ہم اس سوال کے جواب میں اپنے پروردگار کے سامنے سرخرو ہونے کے اسباب پیدا نہ کر لیں اس وقت تک یوم آزادی کی یہ تقریبات مخص ایک رسمی کاروائی ہی رہیں گی اور قیام پاکستان کے اصل مقصد کے پیشِ نظر ان کی حیثیت ہماری بے عملی پر ایک بھرپور طنز سے زیادہ کچھ نہیں ہو سکتی۔

    @merayTweets

  • عورت ! . تحریر: مزمل حسین

    عورت ! . تحریر: مزمل حسین

    چودہ سے بیس سال کی عمرمیں عورت گلاب کی ایک شگفتہ کلی ہے نسیمِ سحر کا ایک جھونکا ہے شفاف پانی کا ایک چشمہ ہےسراپا محبت ہے.
    عورت اکیس سے پچیس سال کی عمر میں ایک سایہ داردرخت ہے اس کے جذبے شبنم کے قطروں کی طرح پاکیزہ ہوتے ہیں سراپا محبت ہے.
    عورت چھبیس سے تیس سال کی عمرمیں پھولوں سے بھری ہوئی ایک شاخ کی مانند ہے جس سے گھر کی آرائش ہوتی ہے یہ ویرانوں کو زندگی بخشتی ہے اس کی محبت چاند کی روشن کرنوں کی طرح دلکش ہوتی ہے یہ سراپا زندگی ہے.
    اکتیس سے پینتیس سال کی عورت اس باغباں کی مانند ہے جو گلستانِ حیات میں خوش رنگ پھول لگاتا ہے اور پھر ان کی نشوونما کرتا ہے اس عمرمیں عورت اولادِ آدم کی تعمیر کے لیے کوشاں رہتی ہے. سراپا جدوجہد ہے.
    چھتیس سے چالیس سال کی عمر میں عورت ایک ایسی چٹان ہے جو طوفان سے ٹکرا جانے کی ہمت رکھتی ہے اس کے چہرے پر کامرانی کے نقوش واضح ہوتے ہیں یہ اس فاتح کی مانند ہے جو زندگی کی بیشتر مہمات کو سر کر چکا ہو سراپا عزم ہے.
    عورت اکتالیس سے ساٹھ سال کی عمر میں ایک ایسی کتاب ہے جو سنہری تجربات سے بھری ہو یہ دوسروں کے لیے راستے کا ٹھیک تعین کر سکتی ہے یہ ایک ایسی روشنی ہے جو منزل کا ٹھیک پتہ دیتی ہے سراپا شفقت ہے.

    لیکن آجکل کی ماڈرن عورت کو دیکھتے ہوئے احساس ہورہا ہے ہماری آنے والی نسلیں خدا نہ کرے وہ پیدا ہونگی جیسی نسل امریکہ یورپ کی ہے.

    میری تمام ماؤں بہنوں سے گزارش ہے خود پررحم کریں آپ صرف ایک صنفِ نازک ہی نہیں قوم کے مستقبل کی بنیاد بھی ہیں تو اپنے آپکو اسلامی طریقہ زندگی کے مطابق ڈھالیں.

    @Muzii_2