Baaghi TV

Category: معاشرہ و ثقافت

  • عدم برداشت . تحریر : معین الدین بخاری

    عدم برداشت . تحریر : معین الدین بخاری

    ایک معاشرتی ناسورجس کا قلع قمع انتہائی ضروری عدم برداشت کے ناسورنے زندگی کے ہرشعبے کومتاثر کیا ہے مثلاً بیوی نے اس لیے خلع کا کیس دائرکردیا کہ اسکا شوہرکام سے تھکا ہوا آیا تھا اوراسے آج کے بجائے کل کو باہر لے جانے کہا، ایک کاروالا اس لیے رکشے والے سے لڑ پڑا کہ وہ اس کو اوورٹیک کر گیا اورایک خاتونِ خانہ نے اپنی ملازمہ کو اس لیے پیٹ دیا کہ وہ اپنا دو سالہ بچہ ساتھ لائی تھی جس نے الٹی کر دی غرض زندگی کا کوئی شعبہ ایسا نہیں رہا کہ جہاں عدم برداشت کا واقعہ رونما نہ ہوا ہو.

    لیوی ایڈل مین Levi Adelman نے اپنی سائیکالوجیکل ریسرچ میں لکھا ہے کہ عدم برداشت کی تین قسمیں ہیں. ایک متعصبانہ عدم برداشت دوسری بدیہی عدم برداشت اسے ہم خود ساختہ عدم برداشت یا کسی کے بارے میں بغیرکسی وجہ کے بدگمانی پیداکرلینا بھی کہ سکتے ہیں اور تیسری قسم Deliberately Intolerance یعنی جان بوجھ کر کسی کو برداشت نہ کرنا یا کسی کے بارے میں بغض رکھنا کہہ سکتے ہیں.

    بہرحال عدم برداشت چاہے کسی بھی قسم کی ہو، معاشرے میں بگاراور پر تشدد واقعات کی ایک بڑی وجہ بن گئی ہے. اگر کھانے میں نمک کم یا زیادہ ہو جائے تو شوہر بیوی کی 99 اچھائیاں بھلا کر اسے تنقید یا تشدد کا نشانہ بنا دیتا ہے اور بیوی بھی معمولی سی بات پر خلع کا مطالبہ کر دیتی ہے جس سے نہ صرف ایک خاندان بلکہ اس سے جڑے درجنوں افراد اذیت کا شکار ہوجاتے ہیں.
    اس طرح سے عدم برداشت نے ہمارے معاشرے کو تباہی کے دہانے پر لا کھڑا کیا ہے. لیکن اگر دیکھا جائے تو کسی بھی ناگوار بات پر کچھ لمحہ کا صبر ہمیں اس اذیت اور شرمندگی سے بچا سکتا ہے. ہمیں ایک دوسرے کو اس لیے برداشت کرنا ہے کہ سب ہی ہماری طرح انسان ہیں جنہیں اپنی زندگی گزارنے کا حق اللہ تعالیٰ سے ملا ہے چاہے وہ رکشہ ڈرائیور یے، ہمارے گھر کام کرنے والی خاتون ہے یا پھر کوئی غریب معصوم بچہ، سب کو ایک ہی رب العالمين نے پیدا فرمایا اور ایک دوسرے کے لیے لازم و ملزوم بھی بنا دیا.
    بحیثیت مسلمان اس معاشرتی بگاڑ کو سدھارنے کا نسخہ یہی ہے کہ ہم ہمہ وقت صبر اور شکر کا دامن مضبوطی سے پکڑے رکھیں. مثال کے طور پر اگر بیوی کھانے میں نمک ڈالنا بھول گئی ہے تو یہ سوچ لیں کہ وہ بھی انسان ہے اور انسان غلطی سے مبرا نہیں ہے. مفہوم حدیث ہے کہ صبر اور شکر کرنے والے جنتی ہیں. (کشاف، ص 572 ج اول قاہرہ 1325 ھ)
    آخر میں یہی کہوں گا کہ معاشرے افراد سے بنتا ہے اور اسکی اصلاح یا بگاڑ کا انحصار بھی افراد کے رویہ پر ہوتا ہے اس لیے ہم میں سے ہر فرد (عورت، مرد) کو فیصلہ کرنا ہے کہ وہ معاشرے کی اصلاح میں حصہ لیں گے یا بگاڑ میں.
    معین الدین بخاری
    ٹویٹر آئی ڈی @BukhariM9

  • لڑکی جب کسی سے محبّت کرتی ہے تو اپنے گھر والوں کو کیوں نہیں بتاتی . تحریر : فوزیہ چوہدری

    لڑکی جب کسی سے محبّت کرتی ہے تو اپنے گھر والوں کو کیوں نہیں بتاتی . تحریر : فوزیہ چوہدری

    کہتے ہیں لڑکی محبت میں بے وفا ہوتی ہے
    لیکن میں کہتی ہوں نہیں لڑکی بے وفا نہیں ہوتی

    جب لڑکی کسی لڑکے سے محبت کرتی ہے تو وہ یہ ہی چاہتی ہے کے اس کی محبّت کو نکاح کا نام ملے جس سے محبّت کرتی ہے وہ محرم بن جائے لیکن لڑکی بہت دور تک سوچتی ہے
    وہ یہ سوچتی ہے کہ کیسے اس کی محبت ملے گی کیسے اس کا نکاح ہوگا لڑکی بہت ہمت والی ہوتی ہے لیکن اپنے گھر والوں کو بتانے سے ڈرتی ہے کہ کہی کچھ غلط نہ ہو جاۓ گھر والے اس کے کردارپرشک نہ کرے ماں باپ اس پر پابندیاں نہ لگادیں جس سے وہ محبت کرتی ہے اس کو کچھ نہ کردیں لوگوں کی باتوں سے ڈرتی ہے رشتے داروں کے طنے سے ڈرتی ہے لیکن اپنی محبت کو چھوڑتی نہیں.

    کچھ لڑکیاں اس ڈرکی وجہ سے گھر سے بھاگ جاتی ہے زمانے میں بدنام ہوجاتی ہے اورجو لڑکیاں کچھ نہیں کرسکتی وہ خاموش ہوکراپنی محبت کوقربان کرکے زندگی بھر کا دکھ تکلیف لے لیتی ہیں

    اب رہا سوال محبّت کا ؟؟؟ اگر کسی لڑکی کو محبّت ہے تو وہ اپنے ماں باپ سے بات کرے ان کو بتا دے کہ میں کسی کو پسند کرتی ہوں ماں باپ کو بھی چاہیے کہ وہ بھی لڑکی کی بات سن لیں دیکھ لیں وہ رشتہ کیا وہ صحیح ہے یا غلط ہے وہ فیصلہ ماں باپ نے کرنا ہوتا ہے
    کیوں کے ماں باپ اپنے بچوں کا غلط نہیں سوچ سکتے اور وہ لڑکیوں کو بھی چاہیے کہ اپنے ماں باپ کی عزت کی قدر کریں دو دن کی محبت کے لیے گھر سے بھاگنا اچھی بات نہیں کیونکہ والدین کی محبت سب سے پہلے ہے اگر آپ کو کوئی لڑکا پسند ہے تو اپنے ماں باپ سے بات کریں ان کو بتادیں کے میرے لیے صحیح ہے باقی جو فیصلہ ماں باپ کریں تو وہ مان لیں کم سے کم آپ کو اس بات کا دکھ تو نہیں ہو گا کہ آپ نے اپنے ماں باپ سے بات نہیں کی.

    باقی قسمت پر چھوڑ دیں اور اللہ پاک سے دعا کریں اگر کوئی آپ سے سچی محبت کر تا ہے تو اس کی قدر کریں کیوں کہ سچی محبّت کرنے والے بار بار زندگی میں نہیں.

    یہ میرے دل کی تھوڑی سی بات ہے جو کہہ دی اب پتا نہیں کسی کو اچھی لگتی ہے یا نہیں اگربات بری لگی ہو تو معافی چاہتی ہوں.

    @iam_FoziaCh

  • بچوں کے سامنے سگریٹ نوشی کرنا . تحریر: شمس الدین

    بچوں کے سامنے سگریٹ نوشی کرنا . تحریر: شمس الدین

    سگریٹ نوشی کرنا صحت کے لیے انتہائی خطرناک ہے. کچھ لوگ شروع شروع میں سگریٹ شوق کی خاطر یہ کسی پارٹی وغیرہ میں دھواں اڑانے کی خاطر پیتے ہیں. پہر آہستہ آہستہ ان لوگوں کو سگریٹ نوشی کی لت لگ جاتی ہے. ان کا شوق مجبوری بن جاتی ہے. پہر سگریٹ سے جان چھڑانہ انتہائی مشکل ہوجاتی ہے.

    سگریٹ کا نشہ بہت عام ہوچکا ہے سگریٹ بہت عام ہوچکا ہے ہر جگہ ہر شہر میں باآسانی مل جاتا ہے. جو لوگ سگریٹ کے عادی ہیں سگریٹ چھوڑنا ان کے لیے مشکل ہے لہٰذا ان لوگوں سے گذارش ہے کبھی بھی اپنے بچوں کے سامنے سگریٹ مت پیئں. اس سے آپ کا بچہ بھی سگریٹ کی لت میں آجائیگا. جب آپ اپنے بچوں کے سامنے سگریٹ پیئں گے تو وہ بچے بھی سگریٹ کے عادی بن جائیں گے. بچے تو بچے ہوتے ہیں ان کو پتا نہیں ہوتا کیا چیز درست ہے کیا غلط ہے کون سی چیز صحت کے لیے اچھی ہے کون سی متاثرکن.

    آپ اپنے بچوں کے سامنے سگریٹ پیئں گے تو لازمی ہے اس کا اثر آپ کے بچوں پر پڑیگا. ظاہری بات ہے جب آپ کا بچہ آپ کو سگریٹ پیتے دیکھے گا تو کل آپ کا بچہ بھی سگریٹ پینے لگے گا. ایسا ہوتا ہے اولاد بھی اپنے والدین کے نقش قدم پر چلتی ہے. والدین کو خاص کر باپ کو چاہیے کبھی بھی اپنی اولاد کے سامنے سگریٹ مت پیئے. اس طرح آپ کی نوجوان اولاد بری عادت میں مبتلا ہوسکتی ہے.

    تمام والدین سے گذارش ہے اپنی اولاد کے سامنے کبھی بھی سگریٹ نوشی مت کریں. آج نہیں تو کل آپ کا بچہ بھی سگریٹ کی بری عادت میں مبتلا ہوسکتا ہے. پہر ایسا نہ ہو آپ کا بچہ سگریٹ کی بری عادت پر چل پڑے اور جب آپ اسے منع کریں تو وہ آپ کا کہنا نہ مانے! ایسا ہوتا ہے جوان اولاد جب باپ کے سامنے کھڑی ہوتی ہے تو باپ کے لیے بھی مشکل ہوجاتی ہے کے اپنی اولاد کو کیسے درست راہ پر لیکر آئیں.

    اکثر دیکھا ہے جب باپ کسی نشے کا عادی ہوتا ہے اور وہ اپنے بچوں کے سامنے نشہ کرتا ہے تو اس کا اثر اس کے بچوں پر پڑتا ہے. پہر آہستہ آہستہ اس کے بچے بھی اسی نشے کی عادی بن جاتے ہیں. والدین کبھی نہیں چاہیں گے کے اس کی اولاد نشہ جیسی بری عادت میں مبتلا ہوجائے. والدین تو چاہتے ہیں اس کی اولاد ایسے برے کاموں سے دور رہیں. تو اس لیے یہ والدین کی ذمہ داری ہے کے وہ اپنی اولاد کو صحیح راستہ دکھائیں یا غلط یہ سب ان تمام والدین پر فرض ہوتا ہے.

    ہم امید کرتے ہیں وہ تمام والدین جو سگریٹ کی بری عادت میں مبتلا ہوچکے ہیں. وہ کبھی بھی اپنے بچوں کے سامنے سگریٹ نہیں پیئں گے. میں ان تمام والدین کو ہاتھ جوڑ عرض کر رہا ہوں اپنا نہ صحیح اپنی اولاد کا خیال کریں اپنی اولاد کو بری عادتوں سے بچائیں. سب پہلے تو آپ خود اس بری عادت سے جان چھڑوائیں اگر آپ بہت دور نکل چکے ہیں آپ سے یہ بری عادت نہیں چھوٹ رہی تو کم از کم اپنی اولاد کو اس بری عادت سے دور رکھیں. اپنے بچوں کو بری عادتوں سے محفوظ رکھیں.

    @shamsp6

  • گڑیا . تحریر: محسن زید

    گڑیا . تحریر: محسن زید

    وہ اپنا بدبودارجانوروں جیسا وجود لے کرگڑیا کے اوپرجھک رہا تھا اورگڑیا جیسے ایک لاش کی مانند آنکھوں میں پانی کا سمندر لئے چھت کو گھور رہی تھی منہ سے آواز نہیں نکل رہی تھی لیکن اندر دنیا جہاں کا شور تھا، نام تھا یاسمین ابا پیارسے گڑیا کہتے تھے، پھر گھر والے رشتہ دارمحلے والے سب گڑیا کہنے لگے، گڑیا تین بھائیوں اوردو بہنوں میں سب سے چھوٹی تھی، باپ قدرت اللہ گاؤں کی ایک چھوٹی سی مسجد کا امام تھا ماں ایک سیدھی سادھی گھردارخاتون تھی قدرت اللہ کی بات ماں کیلئے فرض ہوا کرتی تھی، وقت گزرا گڑیا نے بھی باقی بہن بھائیوں کی طرح گاؤں میں موجود پرائمری سکول سے پانچویں پاس کی اورگھر داری میں مصروف ہوگئی،

    ابا کی بڑی خواہش تھی کہ وہ اپنی گڑیا کے ہاتھ پیلے ہوتے دیکھے، لیکن یہ خواہش پوری نہ ہو سکی قدرت اللہ عشاء کی نماز پڑھا کر واپس گھرآیا لیکن صبح فجر کی نماز کیلئے اٹھ نہ سکا، گڑیا کیلئے یہ دکھ آسمان کے پھٹ جانے سے کم نہیں تھا اسکا باپ ہی تو گھر میں ایک انسان تھا جو گڑیا سے پیار کرتا تھا اسکا ماتھا چومتا تھا، گڑیا بڑی ہورہی تھی جوانی کی دہلیز پر پہنچ کر بھی اس نے شرم و حیاء کو اپنائے رکھا اسکی خواہش تھی اسکا پیار اسکی محبت چاہت اسکے وجود اور روح کا مالک اسکا شوہر ہو بس،
    ایک دن گڑیا کی ماں نے بتایا کہ کل کوئی دور پرے کے رشتہ دار آرہے ہیں تمہیں دیکھنے گڑیا نہ چاہتے ہوئے بھی چپ رہی، وہ آئے اور رشتہ پکا ہوگیا ، گڑیا سن رہی تھی کہ وہ جلدی شادی کرنا چاہتے ہیں،

    خیربڑے بھائیوں اور ماں نے شادی کی تاریخ تہہ کردی، شادی ہوگئی گڑیا کے بھائیوں اورماں نے صرف ایک ہی بات سمجھائی کہ اب تمہارا وہی گھر ہے تمہارا شوہر تمہارا خدا ہے تمہاری ساس تمہاری ماں ہے تم کبھی زندہ انکو دکھ دے کراس گھرمیں واپس نہیں آنا وہ جو بھی کہیں جیسے بھی ہو اب تمہارا مرنا جینا وہی ہے، شادی وہی روائتی انداز میں ہوئی دن گزرتے گئے شادی کے چھ ماہ تک کوئی اولاد جیسی خوشی گڑیا کو نصیب نہ ہوئی تو ساس نے باتوں باتوں میں سنانا شروع کر دیا، نندوں نے بھی اپنی زبان کی مٹھاس دیکھانا شروع کر دی، گڑیا کہاں جائے کس سے کہے۔؟

    خیر ایک دن ساس نے صاف کہہ دیا بات سن کڑیے بہت ہوگیا اب ہمیں اولاد چاہیے ورنہ اپنے گھر والوں کو بُلا وہ تمہں لے جائیں ہمیں یہ بانجھ عورت نہیں چاہیے، گڑیا نے بھری آنکھوں کیساتھ اپنے شوہرکی طرف دیکھا جو منہ لٹکائے چارپائی پربیٹھا ماں کی ہاں میں ہاں ملا رہا تھا، صبح ہوتے ہی ساس بولی چل ساتھ والے گاؤں ایک بابا جی ہیں تمہیں لے کرجانا ہے وہاں بہت پہچے ہوئے ہیں گڑیا چپ کرکے اپنی ساس کے ساتھ چل پڑی، وہاں کافی عورتوں کے درمیان ایک کالے رنگ کا بدشکل اوربدبودار کپڑے پہنے ایک بابا بیٹھا تھا گڑیا اسے دیکھ کر ہی اندر سے ڈرگئی تھی لیکن کیا کرسکتی تھی،

    خیر جب لوگ چلے گئے بابا جی نے گڑیا کی طرف بڑی بھوکی سی نظروں سے دیکھتے ہوئے اسکی ساس سے پوچھا کیا مسئلہ ہے مائی،
    وہ بولی بابا جی یہ میری بہو ہے دو سال سے بچہ نہیں ہوا، بابا جی نے ہاتھ بلند کیا اور زور سے بولا بس یہی بات۔؟
    گڑیا سہم گئی بابا جی نے کہا چلو اٹھو لڑکی اس کمرے میں چلو، تم پر کوئی جادو ہے اسکا توڑ ضروری ہے،
    گڑیا نے سہمی نظروں سے ساس کی طرف دیکھا ، ساس نے فوراً ایسے انداز سے گڑیا کی طرف دیکھا کہ تم ابھی تک گئی کیوں نہیں،
    گڑیا ڈرتے ہوئے بھاری قدموں سے کمرے میں چلی گئی،

    بابا کمرے میں آیا اندر سے دروازہ لاک کیا گریا ڈر کے مارے کاپنے لگی بابا پاس آیا اپنے گندے دانت دیکھاتے ہوئے بولا تیرا بندہ ٹھیک نہیں ہے میں تمہیں اولاد دے سکتا ہوں یا پھرتیرے ساس تمہیں طلاق کروا دے گی تو تم ہوتی رہنا زلیل دنیا بھر میں، گڑیا جو سہمی ہوئی ایک کونے میں بیٹھی تھی اسکے کانوں میں غریب بھائی اور بوڑھی ماں کی آواز گونجنے لگی کہ کبھی واپس مت آنا وہ جو کہیں وہ کرنا ،
    گڑیا دنیا جہاں کے شورکے درمیان زندہ لاش کی مانند بیٹھی تھی جس نے کبھی اپنے مرد کے علاوہ کسی دوسرے مرد کو اپنا ہاتھ تک نظر آنے نہیں دیا تھا اسکا وجود ڈھیلا ہونے لگا وہ سیدھی زمیں پرلیٹ گئی۔

    @mohsin__zaid

  • مرد کو سمجھنے کی جتنی صلاحیت اللہ تعالیٰ نےعورت کو بخشی ہے، مرد کو اس کی ہوا بھی نہیں لگی . تحریر: حنبل ریاض

    مرد کو سمجھنے کی جتنی صلاحیت اللہ تعالیٰ نےعورت کو بخشی ہے، مرد کو اس کی ہوا بھی نہیں لگی . تحریر: حنبل ریاض

    مرد کے معاملے میں خود اللہ پاک نے عورت میں وہ (Sensor) لگایا ہے جو دھواں سونگھ کر آگ کی خبر دیتا ہے، MBA شوہردوست کو گھر لاتا ہے اور مڈل پاس بیوی اس کو دس منٹ میں بتا دیتی ہے کہ اس کی نظر ٹھیک نہیں، عورت میں مرد کے بارے میں اتنی Applications رکھی گئی ہیں کہ وہ اس کی نظر پڑھ سکتی ہے، اس کی چال پڑھ سکتی ہے، اس کے الفاظ پڑھ سکتی ہے، یہاں تک کہ وہ مرد کی مصنوعی اورحقیقی مسکراہٹ کے فرق کو دن اوررات کی طرح جانتی ہے۔

    جھوٹ پکڑنے والی مشین کو دھوکا دیا جاسکتا ہے، عورت کو دھوکا دینا نا ممکن ہے، وہ مروت سے چپ کر جائے تو اس کی مہربانی ہے، جھگڑا دفتر میں ہوتا ہے اور اس کی خبر وہ آپ کا مُکھڑا دیکھ کر دے دیتی ہے، آپ ٹریفک وارڈن سے لڑ کرمسکراتے ہوئے گھر میں داخل ہوں مگر وہ اچانک پیچھے سے آ کر کہتی ہے ” کس سے لڑ کر آئے ہیں ؟ ” اور آپ کا تراہ نکل جاتا ہے،  جس خدا نے عورت کو جسمانی طور پہ نازک بنایا ہے اس خدا نے نفسیاتی طور پراس کو بڑا قوی بنایا ہے۔

    پیغمبروں کی حفاظت عورت کو سونپی گئی، کتنے بڑے امتحان کے لئے بھولی بھالی مریم علیہ السلام کو چنا گیا موسی علیہ السلام کی ماں سے کیا کام لیا ؟ موسی علیہ السلام کی 9 سال کی بہن سے کیا کام لے لیا ؟ فرعون کی بیوی سے کیا کام لے لیا ؟ اورشیخِ مدین کی بیٹی نے باپ کے سامنے اجنبی موسی کا پورا Curriculum بیان کیا تھا یا نہیں ؟ 

    کیا وہ ان کو جانتی تھی ؟ اسے کیسے پتہ چل گیا کہ وہ مارشل آرٹس کے ماہر ہیں اورامین بھی ہیں حیاء والے بھی ہیں؟ جس اللہ نے عورت کو جسمانی طور پہ کمزور بنایا ہے اس اللہ نے ہی اسے نفسیاتی طور پر بہت مظبوط بھی بنایا ہے لہذا عورتوں کو ہر لحاظ سے کمزور سمجھنا یہ مردوں کی غلط فہمی ہے، اور ایک عورت کو وہی مقام دینا چاہئیے جو ایک مرد اپنے لئے حاصل کرنا چاہتا ہے، ان کی عزت ان کا احترام ایسا ہی ضروری ہے جیسے وہ اپنے لئے دوسروں سے سوچتا ہے.

    تحریر ۔۔ حنبل ریاض
    Twitter @Iamhunbli

  • باشعور قوم . تحریر:تحریر چوہدری عطا نت محمد

    باشعور قوم . تحریر:تحریر چوہدری عطا نت محمد

    بڑی قومیں ہمیشہ جدوجہد پر یقین رکھتی ہیں سب سے پہلی ترجیح اپنی سرحدوں اور آزادی کی حفاظت ہوتی ہے اس کے بعد اجتماعی طور پر پورا معاشرہ اپنے آپ کو معاشی طور پر مضبوط کرنے کے لیے مسلسل جدوجہد کرتا ہے جہاں ہر فرد انفرادی طور پر اپنا فرض سمجھ کر اپنے حصے کا کام پورا کرتا ہے۔

    دنیا میں کیا ہو رہا ہے کس ملک کی فوجیں کونسی جنگ لڑ رہی ہیں یہ کام دیکھنا سرکار کی ذمہ داری ہوتی ہے لیکن بدقسمتی سے پاکستان میں رہنے والے ہر فرد نے یہ ذمہ داری بھی خود لے رکھی ہے جہاں اس ملک کے اندر تقریبا دو دہائیوں پر مسلط جنگ نے ہزاروں بے گناہوں کے خون سے سر سبز و شاداب سرزمین کو رنگین کر دیا ہے۔

    آج اسی سوچ اور نظریہ کو پروان چڑھانے والے کسی دوسری سرزمین پر ہمارے محسن ٹھہرے ہیں جہاں انسانیت اور احساس مر چکا ہے اقتدار کی اس جنگ میں کوئی بھی باشعور قوم جذباتی فیصلے نہیں کر سکتی جہاں مذہب کے نام کو استعمال کر کے انسانوں کو بھیڑ بکریوں کی طرح ذبح کیا جاتا ہے اپنے مفادات اور ملکی سلامتی کے لیے جس نظریے کو دفن کرنے کے لیے ہم نے پوری دنیا میں بدنامی حاصل کی 70 ہزار سے زائد افراد کی قربانی دی لاکھوں افراد نے گھر بار چھوڑ کر ہجرت کی ہے کاروبار اور اولاد کی قربانیاں دی ہیں آج کسی دوسری سرزمین پر صرف اپنی ضد اور انا کی تسکین کے لئے اسی نظریے کے ساتھ کھڑے ہو گئے ہیں۔

    وہ سوچ جس نے پوری دنیا میں اسلام کو بدنام کرنے کے لئے ہر طرح سے اپنا کام دکھایا ہے میری قوم اس جنگ میں آج فریق بن چکی ہے جہاں دونوں طرف سے اللہ اکبر کا نعرہ لگتا ہے جہاں دونوں طرف سے اسلام کو سچا مذہب مانا جاتا ہے جہاں دونوں اطراف سے رسول صلی اللہ علیہ وسلم کو اللہ کا آخری نبی مانا جاتا ہے جہاں دونوں افواج اللہ کی وحدانیت پر یقین رکھتی ہیں۔

    وہاں حق اور باطل کا فیصلہ ہم اتنی آسانی سے کیسے کر سکتے ہیں اس اقتدار کی جنگ میں ہر باشعور قوم اس ملک کی منتخب جمہوری حکومت کا ساتھ دے گی جو عوام کی طاقت سے اقتدار میں آئی ہے اگر عوامی اعتماد کھو چکی ہے تو جمہوری راستے کا استعمال کر کے ایوان تک پہنچا جا سکتا ہے لیکن طاقت اور بدمعاشی سے کسی بھی جمہوری ملک کے اندر یا آزاد قوم کو یرغمال نہیں بنایا جا سکتا اس دوہرے معیار سے نکلیں اور دوسروں کے بارے بھی اتنا ہی بہتر سوچیں جو آپ اپنے گھر اپنے ملک اپنی سرزمین کے بارے میں جذبات رکھتے ہیں۔

    اللہ پاک ہم سب کو آچھی سوچ اور ایک قوم بن کر رہنے کی توفیق دیں

    آمین ثم آمین یا رب العالمین

  • عالمی ثقافتی ورثہ ٹیکسلا . تحریر : حسنین مغل

    عالمی ثقافتی ورثہ ٹیکسلا . تحریر : حسنین مغل

    راولپنڈی سے 22 میل دور، شمال مغرب کی جانب ایک قدیم شہر’ٹیکسلا‘ آباد تھا۔ 326 ق م میں سکندراعظم نے اس شہرپرقبضہ کیا اوریہاں پانچ دن ٹھہرا۔ یہیں راجا امبھی نے سکندر کی اطاعت قبول کی، جس کے بعد سکندرراجا پورس سے لڑنے کے لیے جہلم کے کنارے پہنچا۔ باخترکے یونانی حکمران دیمریس نے 190 ق م میں گندھارا کا علاقہ فتح کرکے ٹیکسلا کو اپنا پایۂ تخت بنایا۔ مہاراجا اشوک اعظم کے عہد میں بھی اس شہرکی رونقیں پورے عروج پرتھیں اوریہ بدھ مت تعلیم کا مرکز تھا۔ ساتویں صدی عیسوی میں مشہورچینی سیاح ہیون سانگ یہاں آیا تھا۔ اس نے اپنے سفر نامے میں اس شہرکی عظمت وشوکت کا ذکرکیا ہے۔ یہاں گوتھک اسٹائل کا ایک عجائب گھر ہے، جس میں پانچویں صدی قبل مسیح کے گندھارا آرٹ کے نمونے، دس ہزارسکے ( جن میں بعض یونانی دورکے ہیں ) زیورات، ظروف اوردیگر نوادرات رکھے ہیں۔ ٹیکسلا میں زمانہ قبل ازمسیح کی عظیم باقیات یونیسکو کےعالمی ثقافتی ورثے کی فہرست میں بھی شامل ہیں۔

    مختلف نام ٹیکسلا کا قدیم شہردریائے سندھ اوردریائے جہلم کے درمیانی علاقے میں واقع ہے۔ سنسکرت میں یہ تکشاسلا اورمقامی طورپر تاکاسلہ کے نام سے جانا جاتا تھا۔ یونانیوں اوررومیوں نے اسے ٹیکسلا کہا۔ یہ شہرزمانہ قدیم کے تین اہم تجارتی راستوں کے سنگم پر واقع ہونے کی وجہ سے ایک بڑا تجارتی مرکز تھا۔ جنوبی ہند، مغربی اور وسطی ایشیائی تجارتی راستے یہیں پرملتے تھے۔ قدیم جین مندرقدیم یورپی اقوام سکندراعظم کے ہندوستان پرحملے کرنے کے وقت سے ٹیکسلا کے نام سے واقف تھیں۔ چھٹی صدی قبل ازمسیح میں ٹیکسلا ایران کا ایک صوبہ تھا۔ بعد کی صدیوں میں یہ شہر کم از کم سات ادوار میں مختلف نسلوں کے شاہی خاندانوں کی حکمرانی میں رہا۔
    بازار جواب کھنڈرہیں ٹیکسلا کی قدیم تہذیب کی باقیات کی تلاش کے لیے پہلی مرتبہ کھدائی برطانوی نوآبادیاتی دورمیں آرکیا لوجیکل سروے آف انڈیا نے 1913ء میں شروع کی تھی، جو1934ء تک جاری رہی۔ پھر پاکستان بننے سے پہلے اور بعد میں بھی بہت سے مشہور یورپی اورپاکستانی ماہرین آثار قدیمہ یہاں کھدائی کرتے رہے۔ اس وقت جہاں خشک گھاس اورپتھر نظرآتے ہیں، وہاں صدیوں پہلے بھرے بازاروں میں انسانوں کی چہل پہل ہوا کرتی تھی۔

    اسٹوپے اورخانقاہیںوادی ٹیکسلا میں کھدائی کے نتیجے میں تقریبا دو درجن سے زیادہ اسٹوپے اورخانقاہیں دریافت ہوچکی ہیں۔ ان میں دھرما راجیکا، جولیاں، موہڑہ مرادو، پیلاں، گڑی، بھمالا، جنڈیال، جناں والی ڈھیری، بادل پور، بھلڑ توپ، کنالہ اورکلاوان نامی مقامات شامل ہیں۔
    قدیم ٹیکسلا کی یونیورسٹیقدیم ٹیکسلا شہر کے کھنڈرات کے آخرمیں شہزادہ کنالہ کے اسٹوپا کی جانب ایک مرکزی اورشاندارمقام ایسا بھی آتا ہے، جو پاکستان کے معروف ماہر آثار قدیمہ پروفیسر دانی کے بقول وہی جگہ ہے جہاں صدیوں پہلے ٹیکسلا کی مشہور یونیورسٹی قائم تھی۔
    شہزادہ کنالہ کا اسٹوپا ٹیکسلا کی قدیم یونیورسٹی سے کچھ دورشہزادہ کنالہ کا اسٹوپا ہے۔ اس اسٹوپے کے قریب کبھی ایک شاندارعمارت قائم تھی۔ اب وہاں صرف اس عمارت کی پتھریلی باقیات ہی رہ گئی ہیں۔ اس مقام اوراس کے قرب و جوار میں کھدائی سے بھی ماہرین کو بہت سے قدیم سکوں کے علاوہ مٹی اوردھات کے بنے برتن ملے تھے۔

    نازک لیکن تاحال محفوظماہرین آثارقدیمہ کو موہڑہ مرادو کے ایوان مجلس کے کمرہ نمبر نوسے ملنے والا اسٹوپا ، چونے مٹی کا بنا ہوا ہے لیکن صدیاں گزرجانے کے باوجود اب بھی اپنی اصلی حالت میں موجود ہے۔ اسی خانقاہ سے ماہرین کو چونے مٹی کے بنے ہوئے مجسمے بھی ملے ہیں۔ موہڑہ مرادو سے ملنے والے دیگر نوادرات میں کھانے پینے کے برتن، گھریلو استعمال کا سامان، مختلف اوزاراورتانبے کے برتن بھی شامل ہیں۔ ٹیکسلا میوزیمٹیکسلا میوزیم پاکستان کے خوبصورت ترین عجائب گھروں میں سے ایک ہے۔ ہری پور روڈ پر واقع اس میوزیم کا نقشہ لاہور کے میو اسکول آف آرٹس (موجودہ نیشنل کالج آف آرٹس) کے پرنسپل سلیوان نے تیار کیا تھا۔ اس کی بنیاد برٹش انڈیا کے وائسرائے لارڈ چیمسفورڈ نے رکھی تھی۔ اس میوزیم میں ٹیکسلا سے دریافت شدہ 700 سے زائد نوادرات محفوظ ہیں لیکن عجائب گھر کے اندر فوٹوگرافی کی اجازت نہیں ہے۔

    سِرکپسِرکپ شہرکی تاریخی باقیات ٹیکسلا میوزیم سے قریب دو کلومیٹرکے فاصلے پرہیں۔ دوسری صدی قبل ازمسیح میں باخترکے یونانی ٹیکسلا پر حملہ آور ہوئے تو موریہ سلطنت ختم کر کے انہوں نے اپنی حکومت قائم کی اورایک نیا شہرسِرکپ آباد کیا۔ یہ شہرشطرنج کی بساط کی طرزپرآباد کیا گیا تھا۔ سیدھی گلیوں اوربازار کے باعث اس کے کھنڈرات بھی بہت منفرد ہیں۔ یہ شہرایک ایسی فصیل کے اندرآباد تھا، جس میں چاردروازے تھے۔

    موہڑہ مرادوٹیکسلا میوزیم سے مشرق کی سمت قریب پانچ کلومیٹر کے فاصلے پر خانقاہ موہڑہ مرادو واقع ہے۔ یہ بدھ مت عبادت گاہ، مرکزی اسٹوپا اورخانقاہ کی باقیات پرمشتمل ہے، جہاں پُجاریوں کے رہائشی کمرے، ان کا ایوان، باورچی خانہ، غسل خانہ اورگودام ہوا کرتے تھے۔ باقیات اس بات کا پتہ دیتی ہیں کہ اس دور میں بھی کتنے تعمیراتی نظم و ضبط سے کام لیا گیا تھا۔ دو ہزارسال پرانی باقیات وادی ٹیکسلا سے ملنے والی بدھ مت کی عبادت گاہوں کی زیادہ تر باقیات پہلی صدی عیسوی سے پانچویں صدی عیسوی تک کے زمانے سے تعلق رکھتی ہیں۔ دھرما راجیکا اسٹوپا تیسری صدی عیسوی کے دورکا ہے، جسے 1980ء میں یونیسکو نے عالمی ثقافتی ورثے کی فہرست میں شامل کیا۔ ان میں سے بہت سے تاریخی مقامات آج بھی حیران کن حد تک اچھی اورواضح حالت میں موجود ہیں۔

    @HasiPTI

  • صنفی امتیاز کا خاتمہ . تحریر: عابد خان اتوزئی

    صنفی امتیاز کا خاتمہ . تحریر: عابد خان اتوزئی

    دنیا کی تخلیق کے طریقہ کارپردنیا بھرمیں اختلافات پایا جاتا ہے۔ دنیا کے ہرکونے سے تعلق رکھنے والے لوگوں کا اپنا ایک نظریہ ہے، دنیا کی تخلیق کیسی ہوئی؟

    ہرکوئی اس ضمن میں اپنی رائے کودلا ئل کے ساتھ پیش کرکے خود کو درست ثابت کرنے کیلئے کوشاں ہے۔ اس ضمن میں بے شمارکتابیں بھی موجود ہیں۔ اس پرسائنس اورمذہب بھی کئی جگہوں پرآمنے سا منے آچکے ہیں ۔یہی صورتحال کچھ معاشروں کے وجود کا بھی ہے۔معاشرے کا وجود مختلف معاشرے کے اقدارمختلف معاشرے کے اصول مختلف رسم ورواج مختلف حتیٰ کہ مقاصد بھی مختلف لیکن ایک چیزایسی بھی ہے کہ جس کے بارے میں دنیا کا ہرانسان متفق بھی ہے اوردرست بھی ہے وہ یہ کہ زمین کی پیدا ئش انسان کیلئے ہوئی ہے دنیا میں کہی بھی کسی سے بھی اگرپوچھا جائے کہ کیا دنیا انسان کے رہنے کیلئے بنائی گئی ہے اس کا جواب مثبت ہوگا۔ یہ حقیقت بھی ہے.

    دوسری بات جس میں لوگ بظاہراختلافات نہیں رکھتے وہ انسان کی برابری ہے، اگرسوال کیا جائے کہ آیا دنیا کے تمام انسان حقوق کے لحاظ سے برابرہیں؟ توفخریہ اندازمیں جواب ہاں میں ملے گا۔ یہی وہ نقاطہ ہے جہاں سے انسان کے نظریات اورمنافقت کا بخوبی اندازہ لگایا جاسکتا ہے دنیا اورزمین کی پیدائش کے اختلافات کے پیچھے ہرایک کا اپنا ایک نظریہ کارفرما ہوتا ہے جو درست بھی ہوسکتا ہے اورغلط بھی لیکن جس چیز کے بارے میں بظاہر سب کے سب انسان متفق ہے یعنی زمین انسان رہنے کی جگہ اورسب انسان برابرہیں کے پیچھے دنیا کی کثیرتعداد کی چھپی ہوئی منافقت موجود ہے، یہی وجہ ہے کہ دنیا کے ہرتیسرے اورچوتھے ملک میں ایک فساد برپا ہے، اس کے علاوہ ہرملک میں انسانوں کے مابین حقوق کے غیرمساوی تقسیم نے کہرام برپا کیا ہے۔ ایک انسان دوسرے انسان کوخود سے بہترتصورکرتا ہے اس کی نسبت اپنے آپ کو زیادہ مراعات کا حقدارسمجھتا ہے، اس نقطہ سے لوگوں کے حقوق کی حق تلفی کا باقاعدہ آغازہوتا ہے۔

    دنیا کے کسی بھی کونے میں بھی کسی بھی انسان کے مابین اختلافات اورجھگڑے کی بنیادی وجہ حق تلفی ہی ہوتی ہے۔ اس کے برعکس کسی بھی خوشحال ملک یا معاشرہ کا جائزہ لیا جائے تومعلوم ہوتا ہے کہ خوشحالی کہ اصل وجہ لوگوں کے مابین حقوق کی مساوی تقسیم ہے، اس معاشرے میں ان گنت مسائل اوربے چینی پائی جاتی ہے جہاں پرمساوات کی قبریں موجود ہوتی ہیں اگران حق تلفیوں کی حوصلہ شکنی نہ کی جائے تو وقت کے ساتھ ساتھ یہ رویہ کا شکل اختیارکرلیتا ہے، یہاں سے یہ مسئلہ انفرادیت سے اجتما عت کے مدارمیں داخل ہوجاتا ہے اورجب اجتماعیت کے ہاتھ میں ایک خاص رویہ پنپنا ہے تو وہ روایت بن جایا کرتی ہے۔ کسی بھی معاشرے کے تجزئیے سے یہ بات بخوبی جانی جاسکتی ہے کہ ہراک روایت کے پیچھے ایک خاص رویہ مضمر ہے۔ روایات میں اپنی رویوں کا اظہارہوتا رہتا ہے، روئیے اور روایت کی بنیاد کسی قوم یا معاشرے کے حامل کردہ علوم پرہوتا ہے جو وہ حقوق کی تقسیم کے بارے میں رکھتے ہیں۔

    اگر حاصل کردہ علم زندگی گزارنے کے لئے ناکافی اورناقص ہے تو منفی رویہ بنے گا، منفی روایات بنے گئے اورمنفی معاشرے کی بنیاد پڑے گی اوراگر حاصل کردہ علم مثبت ہے اورایک بہترزندگی گزارنے کے لئے کافی ہے تو مساوی حقوق، مثبت رویہ، مثبت روایات اور مثبت معاشرہ بنے گا۔اس علم کی بنیاد پرمعاشرے میں ہرچیزکے بارے میں ایک خاص رویہ موجود ہے، اب اگرمعاشرے میں موجود رویے سے مسا ئل پیدا ہورہے ہیں توہمیں علم کے وہ سرچشمے بدلنے ہوں گے جن کی بنیاد پررویہ یا روایت بنتی ہے۔اب اگراپنے معاشرے کا جائزہ لیا جائے تو بہت سے تکلیف دہ منفی روئیے سامنے آئے ہیں۔ان میں سے ایک منفی رویہ معاشرے میں موجود صنفی امتیاز ہے جس نے باقاعدہ تشدد کی شکل اختیارکررکھی ہے جس کا ثبوت چند دن قبل روالپنڈی کے علاقہ ثاقب آباد میں ہونے والا واقعہ ہے۔قارئین بخوبی جانتے ہیں کہ ارسلان نامی جوان نے اپنی ماں پرتشدد کیا ہمارے معاشرے میں خواتین کے بارے میں موجود منفی رویے نے ہمیں دنیا میں چھٹے نمبرپرلا کھڑا کردیا صنفی امتیازی کی بدولت ہم دنیا میں جانے جاتے ہیں ”بدنام جو ہو گے تو کیا نام نہ ہو گا“ صنفی امتیاز کوختم کرانے اورخواتین کے بارے میں قائم منفی رویوں اورروایات کو جڑ سے اکھاڑنے کے لئے ہمیں آنے والی نسلوں کو مثبت علم دینا ہوگی ورنہ جو حالت گلنازبی بی کے ہیں وہ ہرگھرمیں موجود ہرعورت کے ہونگے.

    @AtozaiKhan

  • محب  وطن پاکستانی . تحریر: محمد آصف شفیق

    محب وطن پاکستانی . تحریر: محمد آصف شفیق

    پاکستانی قوم ایک محب وطن قوم ہے جس کے افراد دنیا میں کسی بھی ملک کے کسی بھی شہر میں ہوں ان کی حب الوطنی میں کمی نہیں آتی، دوسرے بہت سے بیرون ملک مقیم (Overseas Pakistani) کی طرح میں بھی گزشتہ 16 سال سے بیرون ملک مقیم میں جہاں میں نے پاکستانیوں کی حب الوطنی کی کئی مثالیں دیکھیں، جب بھی کسی پارٹی رہنما نے یہاں وزٹ کیا ہرپاکستانی نے اپنے پارٹی تعلق سے بالا تر ہو کراس پروگرام میں بھرپورشرکت کی اورکوئی ناخوشگوارواقعہ بھی کبھی پیش نہیں آیا، امیر جماعت اسلامی پاکستان محترم سراج الحق صاحب کے سعودیہ میں دوروں کے دوران بہت سے بڑے پروگرامات میں شرکت کا موقع ملا جن میں تقریباً تمام پاکستانی سیاسی ودینی جماعتوں کے افراد موجود ہوتے تھے، اسی طرح مستقل پاکستان واپس جانے والوں کیلئے الوادعی تقریبات کا اہتمام کیا جاتا ہے، کسی بھائی کی خوشی غمی میں شرکت ہو یا کسی فرد کی نمازجنازہ کبھی احساس ہی نہیں ہونے دیتے کہ ہم دیس میں نہیں پردیس میں ہیں، اگر کوئی بھائی فوت ہوجائے تواس کے پروسس میں پاکستانی ایمیبسی کی مدد درکار ہوتی ہے اورالحمد للہ جن بھائیوں کو ویلفئرسیکشن میں ذمہ داری دی ہوتی ہے وہ ہمیشہ بہترین تعاون کرتے ہیں اللہ تعالیٰ ان بھائیوں کواجرعظیم سے نوازیں جو پردیس میں رہ کر ایک دوسرے سے ایسے جڑے ہیں جیسے سیسہ پلائی دیوار

    یوم آزادی ہو یا یوم دفاع پاکستان یا کشمیرڈے ہویا کوئی بھی قومی دن پردیس میں موجود پردیسی اپنی گاڑیوں اپنے کپڑوں اوراپنی تیاریوں سے کسی بھی فرد جو کہ پاکستان میں موجود ہوکم محبت کا اظہار نہیں کرتا، مملکت سعودیہ میں موجود سفارتخانہ بھی ان اسپیشل دنوں کیلئے اپنے دروازے کھولتا ہے اپنے ہال میں بڑے بڑے پروگرامات ترتیب دیتا ہے، جن میں ہرپارٹی کے افراد کواظہارخیال کا بھرپورموقع فراہم کیا جاتا ہے.

  • عیب پوشی . تحریر:عائشہ شاہد

    عیب پوشی . تحریر:عائشہ شاہد

    "ﺣﺎﻝِ ﺩﻝ ﮐﺲ ﮐﻮ ﺳﻨﺎﺋﯿﮟ ﮐﮧ سب ﺷﮩﺮ ﮐﮯ ﻟﻮﮒ
    ﻗﺼﮧ ﻏﻢ ﮐﻮ ﺑﮭﯽ ﮈﮬﻮﻟﮏ ﮐﯽ ﺗﮭﺎﭖ ﮐﮩﺘﮯ هیں.”

    ایک حدیث پاک کا مفہوم ہے کہ !!
    ( جو شخص مسلمان کی پردہ پوشی کرے گا ، اللہ تعالیٰ قیامت کے دن اس کی پردہ پوشی کرے گا ) (بخاری و مسلم)

    یہاں میں ہم سب کی رہنمائی کے لیے ایک واقع شئیرکرنا چاہوں گی کسی ملک میں ایک نہایت ہی انصاف پسند اورعوام کے دکھ درد بانٹنے والا بادشاہ رہتا تھا مگرجسمانی طورپرایک ٹانگ اورایک آنکھ سے محروم تھا ایک دن بادشاہ نے اپنی مملکت کے ماہرمصوروں کواپنی تصویربنوانے کیلئے بلوا لیا اوروہ بھی اس شرط پرکہ تصویرمیں اُس کے یہ عیوب نہ دکھائی دیں۔ سارے کے سارے مصوروں نے یہ تصویر بنانے سے انکارکردیا اوروہ بھلا بادشاہ کی دو آنکھوں والی تصویربناتے بھی کیسے جب بادشاہ تھا ہی ایک آنکھ سے محروم اوروہ کیسے اُسے دو ٹانگوں پرکھڑا ہوا دکھاتے جبکہ وہ ایک ٹانگ سے بھی معزورتھا.

    لیکن اس اجتماعی انکارمیں ایک نہایت ہی ہوشیارمصورنے کہا :
    بادشاہ سلامت میں بناؤں گا آپ کی تصویراورجب تصویرتیارہوئی تو اپنی خوبصورتی میں ایک مثال اورشاہکار تھی۔

    وہ کیسے؟؟
    تصویرمیں بادشاہ شکارکرتا دیکھائی دے رہا تھا ہاتھ میں تیرکمان تھا اوروہ گھوڑے پرسوارتھا اورشکار کرتے ہوئے اس نے ایک آنکھ بند کر رکھی تھی جس آنکھ سے وہ محروم تھا اورجس ٹانگ سے وہ معزورتھا وہ ٹانگ گھوڑے کے دوسری جانب تھی جوکہ دیکھائی نہ دیتی تھی
    اوراس طرح بڑی آسانی سے ہی بادشاہ کی بے عیب تصویرتیارہوگئی تھی بادشاہ نےاس مصورکو اس عیب پوشی پربے انتہا انعام سے نوازا۔

    یہ صرف کہانی نہیں بلکہ ایک سبق ہے کیوں کہ ہم بھی اِسی طرح دوسروں کی بے عیب تصویربنا لیا کریں اوراپنے رب کریم سے انعامات حاصل کیا کریں آج اس نفسا نفسی کے دور میں ہر ایک دوسرے میں مصروف ہے حالانکہ ہمارے اندر بھی بے شمارعیب موجود ہیں۔ آج ہم دوسرے مسلمانوں کے عیوب پرپردہ ڈالیں گے کل ان شاء اللہ رب رحیم ہمارے عیوب سے درگزر فرمائے گا۔ تو آج سے کوشش کریں دوسرے کے عیبوں کو چھپایا کریں گے خواہ ان کے عیب کتنے ہی واضح ہی نظر آ رہے ہوں اورجب بھی لوگوں کی تصویر دوسروں کے سامنے پیش کیا کریں اُن کے عیبوں کی پردہ پوشی کریں گے کیونکہ انبیاء کے علاوہ کوئی شخص بھی عیبوں سے خالی نہیں بے شک

    اے انسان یہ جان لوتم کسی بشرمیں ہزارخامی اگرجودیکھو تو چپ ہی رہنا کسی بشرکا جو راز پاؤ یا عیب دیکھوتو چپ ہی رہنا اگرمنادی کو لوگ آئیں تمہیں کوئی کُریدیں یا تمہیں منائیں تمہاری ہستی کے گیت گائیں تمہیں کہیں کہ بشرمیں دیکھی برائیوں کو بیان کردو تو چپ ہی رہنا
    جواز یہ ہے دلیل یہ ہے
    ضعیف لمحوں کی لغزشوں کو
    بے محر ناطے کی قربتوں کو
    ہماری ساری حماقتوں کو
    ہماری ساری خباثتوں کو
    وہ جانتا ہے
    وہ دیکھتا ہے
    مگر وہ چپ ہے
    اگر وہ چپ ہے
    تو میری مانو
    وہ کہہ رہا ہے
    چپ ہی رہنا

    @BinteChinte