Baaghi TV

Category: معاشرہ و ثقافت

  • خواجہ سرا اور ہمارا غیر انسانی رویہ .تحریر : فضیلت اجالہ ۔

    خواجہ سرا اور ہمارا غیر انسانی رویہ .تحریر : فضیلت اجالہ ۔

    ہم ایک اسلامی ملک کے آزاد باشندے ہیں ،نا صرف ہمارا مزہب بلکہ ہماری اقتدار و روایات بھی ہمیں انسانیت ،بھائی چارے اور حقوق العباد کا درس دیتیں ہیں
    ہمارے معاشرے میں عورتوں ،یتیموں، مساکین،نادار، اور بے آسرا افراد خواہ وہ مرد ہو یا زن کیساتھ ہمدردی ،انسانیت اور اخلاقیات برتنے کا سبق پڑھایا جاتا ہے جو کہ بہت اچھی بات ہے اس پہ عمل ہونا بھی چاہیے لیکن ان سب سے الگ ،سب سے ہٹ کر خدا تعالی کی بنائی ہوئی ایک اور مخلوق بھی ہے جو تمام رشتے ناتے ہونے کے باوجود ہر رشتے سے ہر حقوق سے محروم ہے ،
    قدرت کی تخلیق کردہ ایک ایسی تخلیق جسے ہمارا معاشرہ ،کھسرے،شی میل،تھرڈ جینڈر،خواجہ سرا اور ہیجڑے کے نام سے جانتا اور پکارتا ہے ۔جسے ہم سب مخلوق خدا تو مانتے ہیں لیکن طنز و تزیحک ، اور جانوروں سے بدتر سلوک کرنے میں بھی خود کو حق بجانب سمجھتے ہیں
    جس طرح ہمارے مکمل انسان ہونے میں ہمارا کوئ ہاتھ نہی یہ تو احسان ہے اس پاک زات کا جس نے ہمیں مکلمل انسان بنایا بلکل اسی طرح خواجہ سرا بھی اللہ ہی کی تخلیق ہیں اس میں انکا اپنا کوئ عمل دخل نہی پھر ان کے ساتھ یہ غیر انسانی سلوک کیوں ،کیوں انہیں اچھوت سمجتے ہوئے خود سے الگ کر دیا جاتا ہے
    ہم معزز انسانو میں بمشکل 10 فیصد لوگ ایسے ہونگے جو انہیں عزت و تکریم دیتے ہونگے ۔کیوں انکے مرنے کے بعد بھی انہی کفن دفن، اور جنازہ جیسے بنیادی حقوق سے محروم رکھا جاتا ہے ،انکے مرنے کا اعلان تک نہی ہوتا یہ کہ کر انکار کردیا جاتا ہے کہ کیا کہیں ؟کون تھا کس کا بیٹا،کس کی بہن ،کسکا بھانجا بھتیجا؟؟؟ زندگی بھر ان رشتوں سے محروم رکھا چلو وقت آخر تو اسکی روح کو یہ سکون بخش دو کہ کوئ اسکا بھی اپنا ہے ۔

    کیا یہ لوگ انسان نہی ہوتے یا انکا دل نہی ہوتا؟
    گلی چوراہوں میں سڑکوں پہ ایسے لوگوں کو اپنے طنز و تضحیک کا نشانہ بناتے ہوئے کیا کبھی ہم میں سے کسی نے ایک پل کہ لیے بھی سوچا ہے کہ یہ لوگ کس قدر ازیت و تنہائ کا شکار ہوتے ہیں اور کس قدر مشکل زندگی گزارتے ہیں۔ کتنا خوفناک اور دلوں کو دھلا دینے والہ تصور ہے نا کہ پیدا ہوئے تو والدین نے رات کے اندھیرے میں والدین نے دنیا کے طعنو ں سے ڈرتے چند پیسے دے کہ کسی کو بھی سونپ دیا کہ اسے یہاں سے گمنام مقام پہ لے جاؤ ،عمر کی کچھ حدیں عبور کی تو نام نہاد معزز اور مکمل انسانوں نے ادھر ادھر چھو کر اپنی حوس کا نشانہ بنانا شروع کر دیا ۔پیٹ کی بھوک مٹانے کیلیے ،ضرورت زنگی پورا کرنے کیلیے روزگار کی تلاش میں نکلا تو کھسرا کہ کر دھتکار دیا گیا ، تھک ہار کر روایتی ناچ گانا شروع کیا ،کسی کے گھر بدھائ لینے گیا تو معززین نےاپنی گندی اور ہوس زدہ نظروں کا نشانہ بنایا ۔

    وہ مولوی حضرا ت جو تنہائی میں ان پر ٹوٹ پڑنے کو تیار رہتے ہیں وہ بھی انکا جنازہ پڑھانے سے انکار کر دیتے ہیں ،نام نہاد تعلیم یافتہ انسان انہیں چھیڑنے ،اور ہنسی مزاق کیلیے مخلتلف فتوے دینے کو ہر وقت تیار لیکن عزت اور نوکری دیتے ہوئے موت پڑتی ہے ۔
    خواجہ سرا وہ مظلوم مخلوق ہیں جنہیں بہن بھائ ،بیٹی سمجھنا تو درکنار انسان بھی نہی سمجھا جاتا اور ایسا غیر انسانی سلوک کیا جاتا ہے جو حیوانیت کو بھی مات دے ۔

    کوئی خوف خدا کرو زرا تو اپنے ضمر کو جھنجوڑو یہ کیسی غیرت ہے جو کسی کو عزت نہی دے سکتی ،کسی کیلیے زاد راہ نہیں بن سکتے تو پتھر بھی نا بنیے۔
    وہ لوگ جو ہماری خوشیوں میں دعائیں دیتے ہوئے شامل ہوتے ہیں انہیں بدعا مت بنائیں ،انہیں زمانے کی ٹھوکرو کے حوالے مت کریں
    آج یہ کسی اور کی اولاد ہیں کل کو تمھاری اولاد یا آگے اسکی اولاد میں بھی کوئ ایسا بچہ پیدا ہوسکتا ہے ،کیونکہ حقیقت بس اتنی ہے کہ خالق کل کائنات کی لاٹھی بڑی ہی بے آواز ہوتی ہے کب کہاں کس کو پڑ جائے کسی کو خبر نہی ۔اسلیے کوشش کیجے کہ آپ کے ہاتھ ،زبان اور اعمال سے مخلوق خدا کو گر فائدہ نہ پہنچے تو نقصان بھی نا ہو۔
    خدائے بزرگ برتر ہم سب کو اس بات کو سمجھنے اور عمل کرنے کی توفیق دیں ۔آمین

  • عرش سے فرش تک سفر. تحریر:عزیز الرحمن

    عرش سے فرش تک سفر. تحریر:عزیز الرحمن

    اس دنیا میں کوئی بھی انسان جب کامیاب ہوجائے وہ اس وقت توبہت ہی خوشی میں مبتلا ہوجاتا ہے پروقت کے ساتھ ساتھ اس میں غرورتکبر آنا شروع ہوجاتا ہے۔ کیونکہ ہمارے معاشرے میں اس طرح زیادہ تروہ لوگ ہیں جو کامیابی تو حاصل کرتے ہے۔ کیوںکہ وہ غروراورتکبر کی وجہ سے اتنے لاعلم ہوجاتے ہیں کہ اس کواپنے پیچھے کی وہ بدحالی زندگی کو بھول جانے میں ذرا سی بھی دیرنہیں لگتی اوروہ اس قدر اپنے ہرفیصلہ میں جلد بازی کربیٹھتے ہیں۔ بہت سے لوگ آج کل اس قدر مبتلا ہے کہ عرش ملنے کے لئے بےتاب تو ہے ۔ پرانہیں کبھی فرش کے بارے میں سوچا بھی نہیں اورفرش میں آنے کے لئے دیربھی نہیں لگتی آج کل وہ زمانہ ہیں جوآپکو عرش تک لے گئے وہی آپکو فرش تک لے آنے میں ذارسی دیربھی نہیں کرتے، لہذا ہمیں چاہیے کہ فرش سے عرش تک جانے سے پہلے سوچنا بھی اورکبھی پیچھے کی زندگی کونہ بھولنا۔ کیونکہ کچھ لوگ آپ کو نہ توفرش میں رکھنے دیں گے اور نہ ہی عرش میں رکھنے دیں گیں۔ انسان کوچاہیے کہ برابری کے حساب سے چلے کیوں آج کل اس زمانہ میں رہنا ہی بہت ہوگیا ہے.

    اکثراوقات شوشل میڈیا پرمیں نے دیکھا کہ آج فلاں فلاں شخص کو اتنی عزت ملی اورکچھ عرصہ کے بعد وہی شخص پھرشوشل میڈیا پر ٹاپ ٹرینڈ بنا رہتا ہے کہ اس کے ساتھ دھوکا ہوگیا۔ کیوں اس دنیا میں بہت سے فرعون و بادشاہ گزر گئے اورآج بھی ان کو لوگ یاد کرتے ہے کچھ تو اچھے اورکچھ تو برا الفاظ میں کام وہ کرو تاکہ یہ دنیا اچھے لوگوں کے شمارمیں یاد کر لے، آئیں مل کرسب یہ وعدہ کریں کہ جب بھی کسی بھی جگہ پہ آپ کو کامیابی ملے اس کامیابی کو ہمیشہ ضائع مت کیجئے، اگرآپ کو کسی بھی ادارے، کمپنی، پارٹی، یا کوئی گروپ میں اچھے عہدے میں تعینات ہوں گے توکوشش کریں کہ سب کو خوش اوربرابری کی سطح پران پرنظرثانی کرے، کیوںکہ وہ لوگ ہے جو آپ کوعرش تک لے گئ۔

    @Aziz_khattak1

  • بیٹیاں رحمت ہیں . تحریر : مدثر

    بیٹیاں رحمت ہیں . تحریر : مدثر

    ہم بیٹی کی پیدائش پراتنا خوش نہیں ہوتے جتنا بیٹے کی پیدائش پرہوتے ہیں ہم سب سے پہلے ان کا حق کھاتے ہیں ان کی پیدائش پرخوشی نہ کرنے کا ہم بیٹی کی نسبت بیٹے سے زیادہ پیارکرتے ہیں کوئی بھی چیزبازارسے خرید کر لائیں تو سب سے پہلے بیٹے کو دیتے ہیں پھر بیٹی کو دوسرا بڑا حق جو ہم کھا جاتے ہیں بیٹیوں کا وہ ہے تعلیم سے محروم کرنا بیٹے کے لیے خوش ہوکرتمام تعلیمی اخراجات پورے کرتے ہیں اوربیٹی کو یہ کہ کر تعلیم نہیں دلواتے کہ بیٹیاں گھرمیں ہی اچھی لگتی ہیں ان کا کیا کام تعلیم کا بس نام لکھنا، پڑھنا آنا چاہیے بس یہی کافی ہے.

    ہماری سوچ ایک پسماندہ سوچ ہے اسی پسماندہ سوچ کی وجہ سے ہم بیٹیوں کا بنیادی حق تلف کر جاتے ہیں حالانکہ بیٹیاں جتنا اپنے کام سے لگاؤ رکھتی اورایمانداری سے سرانجام دیتی ہیں اتنا لڑکے بھی نہیں کرتے بیٹیوں کی فضیلت بھی کوئی قسمت والا جانتا ہوگا اگربیٹی کی فضیلت کا پتہ لگ جائے لوگوں کو تو سب نے بیٹے کی بجائے بیٹی کی فرمائش کرنی ہے

    بیٹی کی فضیلت تو اللہ نے خود بیان کی ہے کہ میں جس پر بے حد خوش ہوتا ہوں تو ان کے گھررحمت (بیٹی) عطا کرتا ہوں اوراللہ کہتا ہے کہ جب میں بیٹا عطاء کرتا ہوں تو بیٹے کو کہتا ہوں جاؤ اپنے باپ کا ہاتھ بٹاؤ۔ جب میں بیٹی دیتا ہوں تو اس کے باپ کا ہاتھ پاؤں خود بن جاتا ہوں۔

    بیٹے باپ کی جائیداد کے مالک بنتے ہیں اوربیٹیاں باپ کی بخشش کا ذریعہ بنتی ہیں ان کی مغفرت کے لیے دم درود قل پڑھتی رہتی ہیں. اللہ ہمیں سچے دل سے بیٹیوں سے پیار کرنے اور ان کی عزت کرنے کی توفیق عطا فرمائے. آمین.

    @MudasirWrittes

  • ہے زندگی کا مقصد اوروں کے کام آنا؛تحریر۔سمیرہ جمال

    ہے زندگی کا مقصد اوروں کے کام آنا؛تحریر۔سمیرہ جمال

    اسلام صرف عبادت کا ہی نام نہیں بلکہ زندگی کے ہر پہلو کو کیسے گزارنا ہے بہت خوبصورتی سے بتایا ہے
    اسلام میں باہمی رویوں میں توازن ہے۔ اسلام وہ مذہب ہے جہاں دوسروں کے حقوق پہ بھی بہت زور دیا گیا ہے۔ہمیں خالص اللہ کی رضا کے لئے جہاں تک ہو سکے نفع بخش بننا چاہیے، اور اپنی زندگی کو انسانیت کی بھلائی میں کسی نہ کسی طرح مصروف رکھنا چاہیے ۔ کبھی کبھار ایسا ہوتا ہے کہ زندگی ہمیں بہت کم وقت میں بہت سبق سکھا دیتی ہے۔ انسان کی زندگی میں رونما ہونے والے حوادث ہی انسان کی سوچ کا دھارا بدل دیتے ہیں۔ سوچ میں میں پختگی آجاتی ہے، انسان اپنی ,میں؛ سےنکل آتا ہے۔یہ وہ اسٹیج ہوتی ہے جہاں پھر آپ کی اپنی خواہشات ،اپنی تمنائیں، اپنی خوشیاں اتنی اہم دکھائی نہیں دیتی جتنا دوسروں کے کام آنا، ان کے دکھ، ان کے غم ،ان کے آنسو سمیٹنا آپ کو اچھا لگتا ہے
    میں سمجھتی ہوں یہاں اس اسٹیج پر آکر دراصل انسان کا اپنے رب سے رشتہ اتنا مضبوط ہو چکا ہوتا ہے کہ دنیا ہیچ نظر آتی ہے۔ تب سوچ بدلتی ہے اور اللہ کی مخلوق کی خدمت زیادہ سکون دیتی ہے۔ یہاں میں چند چھوٹے چھوٹے کاموں کا ذکر کروں گی کہ جن کو کرنے کے بعد انسان بہت پرسکون حالت میں ہو جاتا ہے ۔
    اگر آپ کو اللہ تعالی نے صاحب مال کیا ہوا ہے تو اسی کے دیے ہوئے مال میں سے لوگوں کی چھوٹی چھوٹی ضروریات پوری کرنے کی کوشش کریں۔
    زیادہ دور نہیں کبھی اپنے اردگرد نظر دوڑائیں یقین کیجئے اتنے سفید پوش آپ کو نظر آئیں گے جو آپ کی مدد کے منتظر ہیں
    کبھی کہیں اگر آپ کو محسوس ہو کہ یہاں پہ کوئی شجر لگانا چاہیے لوگوں کی گزر گاہ تو وہاں پہ ایک سایہ دار شجر لگا دیں
    کبھی دیکھیں جہاں لوگوں کو پانی کی زیادہ ضرورت ہو یا گزرگاہ ہو تونلکا یعنی ہینڈ پمپ لگا کر دیکھیں اور مشاہدہ کریں آپ کے اس سے لوگوں کی دعائیں آپ کے شامل حال ہوگئی ہیں ۔اگر اللہ تعالی نے آپ کو اس سے زیادہ دے رکھا ہے تو آپ الیکٹرک کولر بھی لگوا سکتے ہیں۔
    گرمیاں سردیاں جب بھی موسم کا آ غا ز ہو آ پ اپنی فیملی کے کپڑے دھلوا کر پیک کروا کے اسے کسی کا تن ڈھانپنے کے لئے استعمال کرسکتے ہیں

    آپ کو معیوب لگے گا مگر کبھی ایسا کر کے دیکھیے کہ چھوٹی مارکیٹ میں شاپنگ کا بہانہ کر کے چکر لگائیں کہیں اگر آپ محسوس کریں کہ دکاندار کی مطلوبہ رقم گاہک ادا نہیں کر سکتا اندازہ ہو جاتا ہے کہ یہ مستحق ہے تو خاموشی سے دکاندار کو اشارہ کیجئے اس گاہک کی عزت نفس کا خیال رکھتے ہوئے دوکاندار ان کی خواہش کے مطابق رقم لے اور اوپر والے پیسے آ پ ادا کر دیجیے ۔
    جب بھی آپ کسی تہوار کے لیے نیا لباس لیں تو کوشش کریں کہ ایک اپنا پرانا لباس جیسا کہ میں نے پہلے کہا کہ اسے و شکر کے بیک کیجئے اور کسی مستحق کے گھر رات کے اندھیرے میں دے آئیے یہ بھی ایک قسم کا صدقہ ہے۔
    ہر مہینے کوشش کریں کہ کم از کم ایک یا دوفیملیز کو راشن کے ذریعے سپورٹ کیجئے ۔
    یاد رہے کہ اوپر والا ہاتھ نیچے والے ہاتھ سے بہتر ہے کوشش کریں کہ یہ چند چھوٹی چھوٹی نیکیوں کو ان سفید پوشوں کی بے بسی کو کیمرے میں مقید کرکے ضائع مت کیجئے
    خوش قسمت ہیں وہ لوگ جو اللہ کی رضا کی خاطر نیکیاں سمیٹ رہے ہیں
    جس سماج میں عدم مساوات ، دولت کی غلط تقسیم ، معاشی بدعنوانی اور سیاسی خود غرضی اور موقع پرستی جیسے رجحانات ہوں ،وہاں آپکی یہ چند چھوٹی چھوٹی نیکیاں ہوا کا جھونکا ہوں گی جہاں آپ دعائیں تو سمیٹے گے وہیں آپ خود کو بہت مطمئن بہت پرسکون محسوس کریں گے
    اللہ آپ کا، میرا، ہم سب کا حامی و ناصر ہو

    تحریر۔۔ سمیرہ جمال
    @sumairajamalkha

  • پاکستان کی یوم آزادی ایک لمحہ فکریہ . تحریر :‌ ابوبکراورکزئی

    پاکستان کی یوم آزادی ایک لمحہ فکریہ . تحریر :‌ ابوبکراورکزئی

    اس میں کوئی شک نہیں کہ آزادی کا حصول اورمسلمانوں کے لئے الگ مملکیت کا قیام اللہ تعالی کی عظیم الشان نعمت تھی جو اس خطے کے مسلمانوں پرنازل ہوئی۔ یہ اہلِ پاکستان کا فرض تھا کہ وہ اس نعمیتںِ عظمی کو ہرقدم پریاد رکھتے اوراسے فراموش نہ ہونے دیتے۔ اس سلسلے میں چند گزارشات پیشںِ خدمت ہیں.

    1. جس طرح پاکستان کا قیام مسلمانوں پراللہ کا انعام تھا اس طرح اس کا عظیم اشان کرم یہ تھا کہاس مملکیت کے قیام کے لئے 27 رمضان اور جمعہ کے دن کا انتخاب کیا گیا۔ اس دن کا انتخاب کسی انسان کی سوچ کا نتیجہ نہیں تھا کیونکہ اس دن کا یقین تنہا مسلمانوں کے اختیار میں نہیں تھا۔ بلکہ اس فیصلے میں انگریز، ہندواورسکھ بھی شامل تھے۔ ظاہرہے وہ اس نقطہ نظرسے اس دن کا انتخاب نہیں کرسکتے تھے۔ کہ یہ مسلمانوں کے لئے ہرلحاظ سے خیروبرکت کا دن ہے۔ ظاہرمیں نگاہیں اس بات کو مخص اتفاق سمجھتی ہیں کہ جو دن اِن اقوام کے اتفاق سے قیامِ پاکستان کا دن قرارپایا وہ جمعہ 27 رمضان کا دن تھا۔ لیکن جس شخص کا ایمان، قدرت کاملہ اورحکمت بالغہ پرہواس کے نزدیک اس کائنات کا کوئی واقعہ مخص بحث واتفاق کا نتیجہ نہیں ہوتا ان میں سے بعض حکمتوں کا علم انسان کو ہو جاتا ہے اوربہت سی حکمتیں اس کے پروازِ تخیل سے ماورا ہوتی ہیں اوروہ اپنی محدود فکر کے نتیجے میں ہی ان واقعات کو بحث واتفاق کا کرشما قراردیتے ہیں۔ لہذا قیامِ پاکستان کے مہینے، اس مہینے کے آخری عشرے، اور آخری عرشے میں 27 رمضان اوراس میں بھی جمعہ کے دن کا انتخاب نہ تو انسانی منصوبہ بندی کا نتیجہ تھا اور نہ بحث و اتفاق کا۔ بلکہ یقینا یہ یقین منجانب اللہ تھا۔

    اس خطے کے مسلمانوں پراللہ تعالی کے بے پناہ کرم کا نتیجہ تھا کہ ہمیں پاکستان جیسی عظیم نعمت عطا فرمانے کے لئے اس مبارک دن کا انتخاب کیا گیا جو اپنی رحمتوں اور برکتوں کے لحاظ سے سال کا افضل ترین دن تھا۔ یہ تو اللہ تعالی کی عطا تھی جو ہماری کسی کوشش اور طلب کے بغیر مخص اس کے فضل وکرم سے حاصل ہوئی۔ لیکن اس عطا کے مقابلے میں اپنی ناشکری اورناقدری ملاحظہ فرمائیے کہ اس نعمت کا اتنا ادراک و احساس کرنے کی توفیق بھی نہ ہمیں ہوئی؟ کہ ہم 27 رمضان کو پورا پاکستان اور اپنا یومِ استقلال تسلیم کر لیتے۔ چنانچہ جب یومِ آزادی کے لئے دن کی یقینی کا سوال آیا تو ہم نے 27 رمضان کی بجائے 14 اگست کو اپنا یومِ آزادی قرار دے دیا۔
    مختصر یہ کہ اللہ تعالی کی اس غیبی تاہیک کی اس سے بڑھ کر ماقدری، احسان فراموشی اورکوتاہی کیا ہو گی؟ کہ سال کے جس افضل ترین دن کو اللہ تعالی نے ہمارے لئے یومِ پاکستان قرار دیا تھا ہم نے اس کو اپنا یوم آزادی تسیلم کرنے سے انکار کر دیا اور اس کو نظر انداز کر کے اپنی محبت اور عقیدت کا مرکز 14 اگست کو بنا لیا۔ میں سمجھتا ہوں یہ ہماری احسان فراموشی کا پہلا امتحان تھا۔ جس میں ہم "اللہ معاف فرمائے” بری طرح ناکام ہوئے۔ حکومت اس سنگین غلطی کی تلافی کرے اور ہم سے ماضی میں 27 رمضان کی ناقدری کا جو جرم سرزد ہوا اس سے اجتماعی توبہ کر کے آنئدہ کے لئے 14 اگست کی بجائے 27 رمضان کو یوِم استقلال ٹھہرائے۔

    2. ہمارا یومِ آزادی، اس پر منایا جانے والا جشن اور اس موقع پر منعقد ہونے والی تقاریب ان دوسری اقوام کے جشن آزادی سے مختلف اور ممتاز ہونی چاہئے جن کے نزدیک آزادی کی مسرت جیت رسمی کھیل تماشوں سے عبارت ہے۔ اللہ نے اس مملکیت کے ذریعے ہمیں بیک وقت انگریزی استعار اور ہندو سامراج دونوں سے نجات عطا فرمائی اور اپنی تعمیر کرنے کا خود موقع دیا۔ ہمارا یومِ آزادی درحقیقت یومِ شکر ہونا چاہئے جس میں صرف ہماری زبان نہیں بلکہ ہماری ایک ایک نقل و حرکت شکر گزاری کی آئینہ دار ہو۔

    پاکستان کا یوم استقلال ہر سال ہم سے یہ سوال بھی کرتا ہے کہ جس ملک کے قیام کے لئے ہزاروں مسلمانوں نے اپنے جان و مال اپنے جذبات اور اپنی عزت وآبرو کی جتنی قربانیاں دی تھیں جس کی بنیاد میں نا جانے کتنے مسلمانوں کا خون شامل تھا اس کے قیام کے لئے ہم نے کتنی جانیں رخصت کی ہیں؟ جب تک ہم اس سوال کے جواب میں اپنے پروردگار کے سامنے سرخرو ہونے کے اسباب پیدا نہ کر لیں اس وقت تک یوم آزادی کی یہ تقریبات مخص ایک رسمی کاروائی ہی رہیں گی اور قیام پاکستان کے اصل مقصد کے پیشِ نظر ان کی حیثیت ہماری بے عملی پر ایک بھرپور طنز سے زیادہ کچھ نہیں ہو سکتی۔

    @merayTweets

  • عورت ! . تحریر: مزمل حسین

    عورت ! . تحریر: مزمل حسین

    چودہ سے بیس سال کی عمرمیں عورت گلاب کی ایک شگفتہ کلی ہے نسیمِ سحر کا ایک جھونکا ہے شفاف پانی کا ایک چشمہ ہےسراپا محبت ہے.
    عورت اکیس سے پچیس سال کی عمر میں ایک سایہ داردرخت ہے اس کے جذبے شبنم کے قطروں کی طرح پاکیزہ ہوتے ہیں سراپا محبت ہے.
    عورت چھبیس سے تیس سال کی عمرمیں پھولوں سے بھری ہوئی ایک شاخ کی مانند ہے جس سے گھر کی آرائش ہوتی ہے یہ ویرانوں کو زندگی بخشتی ہے اس کی محبت چاند کی روشن کرنوں کی طرح دلکش ہوتی ہے یہ سراپا زندگی ہے.
    اکتیس سے پینتیس سال کی عورت اس باغباں کی مانند ہے جو گلستانِ حیات میں خوش رنگ پھول لگاتا ہے اور پھر ان کی نشوونما کرتا ہے اس عمرمیں عورت اولادِ آدم کی تعمیر کے لیے کوشاں رہتی ہے. سراپا جدوجہد ہے.
    چھتیس سے چالیس سال کی عمر میں عورت ایک ایسی چٹان ہے جو طوفان سے ٹکرا جانے کی ہمت رکھتی ہے اس کے چہرے پر کامرانی کے نقوش واضح ہوتے ہیں یہ اس فاتح کی مانند ہے جو زندگی کی بیشتر مہمات کو سر کر چکا ہو سراپا عزم ہے.
    عورت اکتالیس سے ساٹھ سال کی عمر میں ایک ایسی کتاب ہے جو سنہری تجربات سے بھری ہو یہ دوسروں کے لیے راستے کا ٹھیک تعین کر سکتی ہے یہ ایک ایسی روشنی ہے جو منزل کا ٹھیک پتہ دیتی ہے سراپا شفقت ہے.

    لیکن آجکل کی ماڈرن عورت کو دیکھتے ہوئے احساس ہورہا ہے ہماری آنے والی نسلیں خدا نہ کرے وہ پیدا ہونگی جیسی نسل امریکہ یورپ کی ہے.

    میری تمام ماؤں بہنوں سے گزارش ہے خود پررحم کریں آپ صرف ایک صنفِ نازک ہی نہیں قوم کے مستقبل کی بنیاد بھی ہیں تو اپنے آپکو اسلامی طریقہ زندگی کے مطابق ڈھالیں.

    @Muzii_2

  • انسانیت . تحریر: شاہ زیب

    انسانیت . تحریر: شاہ زیب

    انسان نے آسمان کی بلندیوں کو چھولیا سمندرکی گہرائی تک کا سفر کیا چاند تک کا سفرکر ڈالا اورترقی کا سفرتیزی سے طے کیا کہ دنیا دنگ رہ گئی کہ یہ اشرف المخلوقات تو ترقی کی منازل طے کرتے کہاں تک پہنچ گی ہے. یہ کیا انسان آسمان کی حد کو چھوگیا مگرافسوس کے ساتھ رہنے والے انسان سے بے خبرہے یہ کیا انسان کی نظرپوری دنیا کے حالات پرمگرساتھ رہنے والے انسان کے حالات سے بے خبر ہے. معلوم ہوا کہ ہم ہرچیز سے باخبر ہوچکے ہیں ہرچیز میں ترقی کرچکے ہیں مگرافسوس ہم انسان ہوکربھی انسانیت سے ناواقف ہیں.

    یہ کیا یہ ہجوم کیسا ہے؟
    کوئی زخمی حالت میں سڑک پرہے اردگرد لوگوں کا مجمہ ہے. سینکڑوں ہاتھ نظرآئے مگر افسوس کوئی ایک ہاتھ مدد کے لیے نا تھا ہر کوئی ویڈیو بنانے میں مصروف تھا. انسان ہی انسانیت کا تماشہ دیکھنے لگا. یہ انسان انسان کا دشمن ہے جائیداد کے نام پرکبھی انسان کا قتل ہورہا ہے تو کبھی غیرت کے نام پرعورت کا قتل ہورہا ہے. انسان اپنے مرتبے سے کسی کو بلند ہوتا دیکھ کردوسرے کا دشمن ہے.

    رکیے!!
    بات ختم نہیں ہوئی یاد کریں کہ کس طرح چارسال کی زینب کو درندگی کا نشانہ بنا کرقتل کیا گیا اورانسانیت شرمندہ ہوگئی، انسانیت نے منہ چھپا لیا، انسانیت انسان سے ڈرگئی

    سوچیے!غورکریں
    ہم اگرانسانیت کو نہ سمجھ پائے توہمیں اشرف المخلاقات ہونے کا کوئی شرف حاصل نہیں ہے. شکریہ

    @shahzeb___

  • عورت اور گالی! . تحریر: حسن ریاض آہیر

    عورت اور گالی! . تحریر: حسن ریاض آہیر

    ہمارے معاشرے میں کچھ لوگ گالی دیے بغیر اپنی بات مکمل نہیں کر سکتے۔ وہ شاید یہ سمجھتے ہیں کہ اپنی بات میں گالی دینے سے انکی بات کا وزن بڑھ جائے گا یا بات سننے والے پراس طرح سے رعب پڑے گا یا اس سے متاثر ہو گا۔ کچھ لوگوں کی تو عادت بن چکی ہے اور کچھ لوگ اس فعل کو فخریہ اپنی مشہوری کے طور پر بیان کر رہے ہوتے ہیں کہ فلاں کو بھئی بڑی گالیاں دی میں نے۔

    ہماری گالیوں میں آخرکون ہوتا ہے ؟ اس کا جواب ہے ” عورت ” ۔

    جی ہاں ہماری گالیوں میں عورت ہوتی ہے۔ آخر وہ عورت کون ہے ؟

    وہ عورت جو تمہیں پیدا کرتی ہے، تمہاری پرورش کرتی ہے اورتمہیں بولنا سکھاتی ہے۔ لیکن تمہاری گالیوں میں پھر بھی اسی کا نام ہوتا ہے۔ بہو کی صورت میں ہوگی۔ پڑھا لکھا انسان ہو یا ان پڑھ یہ بد فعلی اکثرمیں موجود ہوتی ہے۔ آج کل سوشل میڈیا کا استعمال بہت زیادہ بڑھ گیا ہے، کہیں کسی موقع پرکسی بات پراختلاف ہو جائے یا تلخ جملوں کا تبادلہ ہوجائے تو آپ کو وہاں کھلے عام گالیاں بکتے لوگ نظرآئیں گے۔ حتیٰ کہ ہمارے حکمران جو ٹی وی شوزاور پارلیمنٹ میں موجو ہوتے ہیں جو ہماری نمایندگی کررہے ہیں وہ بھی اس برے عمل کا شکارنظرآتے ہیں۔

    اللّٰہ پاک نے ہمیں اشرف المخلوقات بنایا اور ہمیں سمجھ بوجھ عطا کی۔ ہمیں صبرکرنے کا حکم دیا۔ ہمارے نبی حضرت محمد ﷺ کی زندگی ہمارے لیے مشعل راہ ہے اورہمارے پاس قرآنِ کریم ہے جو ہمیں سیدھے راستے پرچلنے کا صحیح راہ دکھاتا ہے توہم کیوں غفلت میں سب بھولائے بیٹھے ہیں۔ ہم مسلمان ہیں اوراسلام ایک مہذب دین ہے اسلیئے اس نےگالی کو سنگین جرم اورگناہ کبیرہ قراردیا ہے۔ اسلامی تعلیمات کا مطالعہ کریں تو یہ بات آشکار ہوتی ہے کہ اسلام میں تو ایک غیرمسلم کو بھی گالی دینا جائزنہیں۔ افسوس کی بات یہ ہے کہ ہمارے معاشرے میں گالم گلوچ کو بطورہتھیار اورآخری حربہ استعمال کیا جاتا ہے جو تعلیمات دین، اسلام اور تعلیمات محمدی ﷺ کی سراسرمنافی ہے۔

    قرآن مجید میں عورت کی اہمیت اورمقام کے بارے میں کئی ایک آیات موجود ہیں۔ اسلام کی آمد سے قبل عورت بہت مظلوم اورمعاشرتی و سماجی عزت واحترام سے محروم تھی۔ اسے تمام برائیوں کا سبب اورقابل نفرت تصورکیا جاتا تھا۔ اہل عرب کا عورت کے ساتھ بدترین رویہ تھا۔ قرآن حکیم نے واضح کیا کہ زمانۂ جاہلیت میں عورت کا مرتبہ ناپسندیدہ تھا وہ مظلوم اورستائی ہوئی تھی اورہرقسم کی بڑائی اورفضیلت مردوں کے لئے تھی۔ اس میں عورتوں کا حصہ نہ تھا حتی کہ عام معاملات زندگی میں بھی مرد اچھی چیزیں خود رکھ لیتے اوربیکارچیزیں عورتوں کو دیتے۔

    لیکن دین اسلام کے بعد یہ سب بدل گیا اورہمیں یہ بتایا گیا کہ عورت مقدس ہے، قابل احترام اورقابل عزت ہے۔ ہمیں نا صرف اس کے ساتھ حسن سلوک سے پیش آنا ہے بلکہ وہ تمام حقوق بھی پورے کرنے ہیں جو ہمیں قرآن کریم میں بتائے گئے ہیں. ہمیں خود کو بدلنا ہوگا، ہمیں اس معاشرے کو بدلنا ہوگا۔ میٹھا بولیں، پیارسے بات کریں، کوئی انسان آپ سے بات تلخ کریں تو صبرکریں۔ اکثرکچھ لوگ کہتے ہیں کہ فلاں نے ایسا بولا تو مجھ سے برداشت نہیں ہوا۔ اصل برداشت ہی صبرکرنا ہے۔

    اللّٰہ پاک ہمیں اس بد فعلی اور گندی زبان استعمال کرنے سے اورشیطان کو خود پرہاوی ہونے سے بچائیں۔ اللّٰہ پاک ہمیں اس معاشرے کو اچھائی کی طرف راغب کرنے اور بدلنے کی توفیق عطا فرمائے۔ آمین !

    @HRA_07

  • واٹر کولر اور قربانی .تحریر ماریہ بلوچ

    واٹر کولر اور قربانی .تحریر ماریہ بلوچ

    ہر سال عید قربان پہ ایک خاص طبقہ اس طرح کے ایشوز لے کر آتا ہے اور دلائل ایسے ہوتے ہیں کہ اکثر لوگ قائل ہو جاتے ہیں واٹر کولر نصب کرنا کسی غریب کی بچی کی شادی کرنا وغیرہ ۔ ایسے کام بلاشبہ نیکی کے کام ہیں جن سے انکار نہیں اور عام فہم عوام قربانی اور ان نیک کاموں میں موازنہ کر کے ہاں میں ہاں ملانے لگتی ہے ۔
    قربانی ایک فریضہ ہے جو کہ سال بھر میں صرف ایک بار مخصوص ایام کے لیے ہے جبکہ واٹر کولر شادی کرنا غریبوں کو کھانا کھلانا وغیرہ فلاحی کام ہیں جن کو اسلام نے صدقات کے زمرے میں رکھا ہے اور صدقات بھی اللہ کو بہت محبوب ہیں اسکے قرب کا ذریعہ ہیں۔
    سوچنے کی بات یہ ہے اللہ نے قربانی کو اتنی اہمیت کیوں دی ؟ سنت ابراہیمی کو دین محمدیﷺ کی شریعت میں کیوں لاگو کیا؟؟ کوئ اور چیز یا کام بھی اسکی جگہ مختص کیا جا سکتا تھا مگر اللہ نے کیوں نہیں کیا؟؟؟؟

    جب انسان اس نہج پر سوچتا ہے تو وہ باقی چیزوں میں کنفیوز نہیں ہو پاتا۔۔
    عید قربان دراصل غربا کی عید ہے ۔ وہ غریب جو سال بھر مویشی پالتے ہیں اچھی قیمت وصول کر پاتے ہیں۔
    چارا بیچنے والے ،قصاب، جانور لاد کر لے جانے والے گاڑیوں کے مالکان، منڈیوں میں جانوروں کی دیکھ بھال کرنے والے مزدور یہ سب لوگ صدقات نہیں بلکہ محنت کر کے اسکا اچھا صلہ وصول کر پاتے ہیں ۔ انکی عزت نفس بحال رہتی ہے۔

    قربانی کا گوشت صرف اقربا ہی نہیں بلکہ ان لوگوں کو بھی کھانا نصیب ہوتا ہے جو سال بھر شاید دور سے حسرت بھری نگاہوں میں ہی دیکھ پاتے ہیں ۔ انکو یہ گوشت صدقہ نہیں ہدیہ کیا جاتا ہے. جیسے اپنے عزواقربا کو دیا جاتا ہے اور بالکل جیسے قربانی کرنے والا خود باعزت طریقے سے کھاتا ہے۔
    اس اتنی بڑی نیکی کو ایک واٹر کولر سے موازنہ کرنا بالکل ناانصافی ہے ۔۔ فلاحی کاموں کے لیے اللہ نے آپکو پورا سال اور توفیق دے رکھی ہے دل کھول کر خرچ کیجئے مگر جہاں حکم الہی قربانی مانگے وہاں اسکی تعمیل صرف قربانی ہی ہو گی کوئ دوسرا عمل اسکی جگہ نہیں لے سکتا۔۔

    تحریر ماریہ بلوچ
    @Shezm__

  • ہمارا معاشرہ .تحریر:فرح  خان

    ہمارا معاشرہ .تحریر:فرح خان

    ہمارا ملک بہت سے مسائل میں گھرا ہوا ہے جن میں ناقص نظام تعلیم، بیروزگاری اور غربت جیسے مسائل سر فہرست ہیں۔ تعلیم وہ واحد مسئلہ ہے جس کے زریعے ہم معاشرے میں پیدا ہونے والے بگاڑ کو درست کرسکتے ہیں۔

    اگر ہم نے اپنے معاشرے کو درست سمت میں لانا ہے تو ہمیں نظام تعلیم کو بہتر کرنا ہوگا غربت اور بیروزگاری پر قابو پانا ہوگا کیونکہ غربت اور بیروزگاری ایسے مسائل ہیں جن سے مزید بگاڑ پیدا ہونے کا اندیشہ رہتا ہے۔

    بیروزگاری کی وجہ سے بہت سے نوجوان منشیات کی فروخت، چوری اور ڈکیتی جیسے گھناؤنے جرائم میں ملوث ہوجاتے ہیں جس سے معاشرہ خراب ہوتا ہے۔

    اگر آپ اپنے اردگرد کے ماحول کا جائزہ لینے کے لیے گھر سے باہر نکلیں تو اندازہ ہوتا ہے ہماری نوجوان نسل کتنے گندے گندے الفاظ اپنی گفتگو میں استعمال کرتی ہے جسے سن کر شرم آتی ہے لیکن وہ لوگ ایسے لفظ کہتے ہوئے زرا بھی نہیں شرماتے جیسے انہوں نے کچھ کہا ہی نہ ہو لیکن جانے انجانے میں وہ لوگ اپنے گناہوں کی گٹھری کو بھاری کر رہے ہوتے ہیں۔

    منشیات کا استعمال نوجوان نسل میں ایک معمول بن گیا ہے چرس اور شراب ہر جگہ فروخت ہورہی ہوتی ہے لیکن اس منشیات مافیا کے خلاف کوئی قانونی کاروائی نہیں کی جاتی یہ مافیا ہماری جوانوں کی رگوں میں زہر گھول رہی ہے جس سے معاشرے میں بگاڑ پیدا ہورہا ہے۔ نشے کے عادی لوگوں کو جب اپنا مطلوبہ نشہ چاہیے ہوتا ہے اور انکے پاس منشیات خریدنے کے پیسے نہیں ہوتے تو وہ لوگ چوری ڈکیتی کرنے لگتے ہیں یا اپنے گھروں سے سامان چوری کرکے باہر بیچ کر اپنے لیے منشیات خریدتے ہیں۔

    والدین اپنی اولاد کے سب سے بڑے زمہ دار ہیں اپنے بچوں کی اچھی تعلیم و تربیت کریں تاکہ وہ معاشرے میں اچھے فرد کی طرح جانے جائیں تاکہ وہ اپنے ساتھ اپنے ملک کا نام روشن کر سکیں کیونکہ نوجوان پاکستان کا مستقبل ہیں انہیں ضائع نہ ہونے دیں۔