Baaghi TV

Category: معاشرہ و ثقافت

  • انسانیت . تحریر: شاہ زیب

    انسانیت . تحریر: شاہ زیب

    انسان نے آسمان کی بلندیوں کو چھولیا سمندرکی گہرائی تک کا سفر کیا چاند تک کا سفرکر ڈالا اورترقی کا سفرتیزی سے طے کیا کہ دنیا دنگ رہ گئی کہ یہ اشرف المخلوقات تو ترقی کی منازل طے کرتے کہاں تک پہنچ گی ہے. یہ کیا انسان آسمان کی حد کو چھوگیا مگرافسوس کے ساتھ رہنے والے انسان سے بے خبرہے یہ کیا انسان کی نظرپوری دنیا کے حالات پرمگرساتھ رہنے والے انسان کے حالات سے بے خبر ہے. معلوم ہوا کہ ہم ہرچیز سے باخبر ہوچکے ہیں ہرچیز میں ترقی کرچکے ہیں مگرافسوس ہم انسان ہوکربھی انسانیت سے ناواقف ہیں.

    یہ کیا یہ ہجوم کیسا ہے؟
    کوئی زخمی حالت میں سڑک پرہے اردگرد لوگوں کا مجمہ ہے. سینکڑوں ہاتھ نظرآئے مگر افسوس کوئی ایک ہاتھ مدد کے لیے نا تھا ہر کوئی ویڈیو بنانے میں مصروف تھا. انسان ہی انسانیت کا تماشہ دیکھنے لگا. یہ انسان انسان کا دشمن ہے جائیداد کے نام پرکبھی انسان کا قتل ہورہا ہے تو کبھی غیرت کے نام پرعورت کا قتل ہورہا ہے. انسان اپنے مرتبے سے کسی کو بلند ہوتا دیکھ کردوسرے کا دشمن ہے.

    رکیے!!
    بات ختم نہیں ہوئی یاد کریں کہ کس طرح چارسال کی زینب کو درندگی کا نشانہ بنا کرقتل کیا گیا اورانسانیت شرمندہ ہوگئی، انسانیت نے منہ چھپا لیا، انسانیت انسان سے ڈرگئی

    سوچیے!غورکریں
    ہم اگرانسانیت کو نہ سمجھ پائے توہمیں اشرف المخلاقات ہونے کا کوئی شرف حاصل نہیں ہے. شکریہ

    @shahzeb___

  • عورت اور گالی! . تحریر: حسن ریاض آہیر

    عورت اور گالی! . تحریر: حسن ریاض آہیر

    ہمارے معاشرے میں کچھ لوگ گالی دیے بغیر اپنی بات مکمل نہیں کر سکتے۔ وہ شاید یہ سمجھتے ہیں کہ اپنی بات میں گالی دینے سے انکی بات کا وزن بڑھ جائے گا یا بات سننے والے پراس طرح سے رعب پڑے گا یا اس سے متاثر ہو گا۔ کچھ لوگوں کی تو عادت بن چکی ہے اور کچھ لوگ اس فعل کو فخریہ اپنی مشہوری کے طور پر بیان کر رہے ہوتے ہیں کہ فلاں کو بھئی بڑی گالیاں دی میں نے۔

    ہماری گالیوں میں آخرکون ہوتا ہے ؟ اس کا جواب ہے ” عورت ” ۔

    جی ہاں ہماری گالیوں میں عورت ہوتی ہے۔ آخر وہ عورت کون ہے ؟

    وہ عورت جو تمہیں پیدا کرتی ہے، تمہاری پرورش کرتی ہے اورتمہیں بولنا سکھاتی ہے۔ لیکن تمہاری گالیوں میں پھر بھی اسی کا نام ہوتا ہے۔ بہو کی صورت میں ہوگی۔ پڑھا لکھا انسان ہو یا ان پڑھ یہ بد فعلی اکثرمیں موجود ہوتی ہے۔ آج کل سوشل میڈیا کا استعمال بہت زیادہ بڑھ گیا ہے، کہیں کسی موقع پرکسی بات پراختلاف ہو جائے یا تلخ جملوں کا تبادلہ ہوجائے تو آپ کو وہاں کھلے عام گالیاں بکتے لوگ نظرآئیں گے۔ حتیٰ کہ ہمارے حکمران جو ٹی وی شوزاور پارلیمنٹ میں موجو ہوتے ہیں جو ہماری نمایندگی کررہے ہیں وہ بھی اس برے عمل کا شکارنظرآتے ہیں۔

    اللّٰہ پاک نے ہمیں اشرف المخلوقات بنایا اور ہمیں سمجھ بوجھ عطا کی۔ ہمیں صبرکرنے کا حکم دیا۔ ہمارے نبی حضرت محمد ﷺ کی زندگی ہمارے لیے مشعل راہ ہے اورہمارے پاس قرآنِ کریم ہے جو ہمیں سیدھے راستے پرچلنے کا صحیح راہ دکھاتا ہے توہم کیوں غفلت میں سب بھولائے بیٹھے ہیں۔ ہم مسلمان ہیں اوراسلام ایک مہذب دین ہے اسلیئے اس نےگالی کو سنگین جرم اورگناہ کبیرہ قراردیا ہے۔ اسلامی تعلیمات کا مطالعہ کریں تو یہ بات آشکار ہوتی ہے کہ اسلام میں تو ایک غیرمسلم کو بھی گالی دینا جائزنہیں۔ افسوس کی بات یہ ہے کہ ہمارے معاشرے میں گالم گلوچ کو بطورہتھیار اورآخری حربہ استعمال کیا جاتا ہے جو تعلیمات دین، اسلام اور تعلیمات محمدی ﷺ کی سراسرمنافی ہے۔

    قرآن مجید میں عورت کی اہمیت اورمقام کے بارے میں کئی ایک آیات موجود ہیں۔ اسلام کی آمد سے قبل عورت بہت مظلوم اورمعاشرتی و سماجی عزت واحترام سے محروم تھی۔ اسے تمام برائیوں کا سبب اورقابل نفرت تصورکیا جاتا تھا۔ اہل عرب کا عورت کے ساتھ بدترین رویہ تھا۔ قرآن حکیم نے واضح کیا کہ زمانۂ جاہلیت میں عورت کا مرتبہ ناپسندیدہ تھا وہ مظلوم اورستائی ہوئی تھی اورہرقسم کی بڑائی اورفضیلت مردوں کے لئے تھی۔ اس میں عورتوں کا حصہ نہ تھا حتی کہ عام معاملات زندگی میں بھی مرد اچھی چیزیں خود رکھ لیتے اوربیکارچیزیں عورتوں کو دیتے۔

    لیکن دین اسلام کے بعد یہ سب بدل گیا اورہمیں یہ بتایا گیا کہ عورت مقدس ہے، قابل احترام اورقابل عزت ہے۔ ہمیں نا صرف اس کے ساتھ حسن سلوک سے پیش آنا ہے بلکہ وہ تمام حقوق بھی پورے کرنے ہیں جو ہمیں قرآن کریم میں بتائے گئے ہیں. ہمیں خود کو بدلنا ہوگا، ہمیں اس معاشرے کو بدلنا ہوگا۔ میٹھا بولیں، پیارسے بات کریں، کوئی انسان آپ سے بات تلخ کریں تو صبرکریں۔ اکثرکچھ لوگ کہتے ہیں کہ فلاں نے ایسا بولا تو مجھ سے برداشت نہیں ہوا۔ اصل برداشت ہی صبرکرنا ہے۔

    اللّٰہ پاک ہمیں اس بد فعلی اور گندی زبان استعمال کرنے سے اورشیطان کو خود پرہاوی ہونے سے بچائیں۔ اللّٰہ پاک ہمیں اس معاشرے کو اچھائی کی طرف راغب کرنے اور بدلنے کی توفیق عطا فرمائے۔ آمین !

    @HRA_07

  • واٹر کولر اور قربانی .تحریر ماریہ بلوچ

    واٹر کولر اور قربانی .تحریر ماریہ بلوچ

    ہر سال عید قربان پہ ایک خاص طبقہ اس طرح کے ایشوز لے کر آتا ہے اور دلائل ایسے ہوتے ہیں کہ اکثر لوگ قائل ہو جاتے ہیں واٹر کولر نصب کرنا کسی غریب کی بچی کی شادی کرنا وغیرہ ۔ ایسے کام بلاشبہ نیکی کے کام ہیں جن سے انکار نہیں اور عام فہم عوام قربانی اور ان نیک کاموں میں موازنہ کر کے ہاں میں ہاں ملانے لگتی ہے ۔
    قربانی ایک فریضہ ہے جو کہ سال بھر میں صرف ایک بار مخصوص ایام کے لیے ہے جبکہ واٹر کولر شادی کرنا غریبوں کو کھانا کھلانا وغیرہ فلاحی کام ہیں جن کو اسلام نے صدقات کے زمرے میں رکھا ہے اور صدقات بھی اللہ کو بہت محبوب ہیں اسکے قرب کا ذریعہ ہیں۔
    سوچنے کی بات یہ ہے اللہ نے قربانی کو اتنی اہمیت کیوں دی ؟ سنت ابراہیمی کو دین محمدیﷺ کی شریعت میں کیوں لاگو کیا؟؟ کوئ اور چیز یا کام بھی اسکی جگہ مختص کیا جا سکتا تھا مگر اللہ نے کیوں نہیں کیا؟؟؟؟

    جب انسان اس نہج پر سوچتا ہے تو وہ باقی چیزوں میں کنفیوز نہیں ہو پاتا۔۔
    عید قربان دراصل غربا کی عید ہے ۔ وہ غریب جو سال بھر مویشی پالتے ہیں اچھی قیمت وصول کر پاتے ہیں۔
    چارا بیچنے والے ،قصاب، جانور لاد کر لے جانے والے گاڑیوں کے مالکان، منڈیوں میں جانوروں کی دیکھ بھال کرنے والے مزدور یہ سب لوگ صدقات نہیں بلکہ محنت کر کے اسکا اچھا صلہ وصول کر پاتے ہیں ۔ انکی عزت نفس بحال رہتی ہے۔

    قربانی کا گوشت صرف اقربا ہی نہیں بلکہ ان لوگوں کو بھی کھانا نصیب ہوتا ہے جو سال بھر شاید دور سے حسرت بھری نگاہوں میں ہی دیکھ پاتے ہیں ۔ انکو یہ گوشت صدقہ نہیں ہدیہ کیا جاتا ہے. جیسے اپنے عزواقربا کو دیا جاتا ہے اور بالکل جیسے قربانی کرنے والا خود باعزت طریقے سے کھاتا ہے۔
    اس اتنی بڑی نیکی کو ایک واٹر کولر سے موازنہ کرنا بالکل ناانصافی ہے ۔۔ فلاحی کاموں کے لیے اللہ نے آپکو پورا سال اور توفیق دے رکھی ہے دل کھول کر خرچ کیجئے مگر جہاں حکم الہی قربانی مانگے وہاں اسکی تعمیل صرف قربانی ہی ہو گی کوئ دوسرا عمل اسکی جگہ نہیں لے سکتا۔۔

    تحریر ماریہ بلوچ
    @Shezm__

  • ہمارا معاشرہ .تحریر:فرح  خان

    ہمارا معاشرہ .تحریر:فرح خان

    ہمارا ملک بہت سے مسائل میں گھرا ہوا ہے جن میں ناقص نظام تعلیم، بیروزگاری اور غربت جیسے مسائل سر فہرست ہیں۔ تعلیم وہ واحد مسئلہ ہے جس کے زریعے ہم معاشرے میں پیدا ہونے والے بگاڑ کو درست کرسکتے ہیں۔

    اگر ہم نے اپنے معاشرے کو درست سمت میں لانا ہے تو ہمیں نظام تعلیم کو بہتر کرنا ہوگا غربت اور بیروزگاری پر قابو پانا ہوگا کیونکہ غربت اور بیروزگاری ایسے مسائل ہیں جن سے مزید بگاڑ پیدا ہونے کا اندیشہ رہتا ہے۔

    بیروزگاری کی وجہ سے بہت سے نوجوان منشیات کی فروخت، چوری اور ڈکیتی جیسے گھناؤنے جرائم میں ملوث ہوجاتے ہیں جس سے معاشرہ خراب ہوتا ہے۔

    اگر آپ اپنے اردگرد کے ماحول کا جائزہ لینے کے لیے گھر سے باہر نکلیں تو اندازہ ہوتا ہے ہماری نوجوان نسل کتنے گندے گندے الفاظ اپنی گفتگو میں استعمال کرتی ہے جسے سن کر شرم آتی ہے لیکن وہ لوگ ایسے لفظ کہتے ہوئے زرا بھی نہیں شرماتے جیسے انہوں نے کچھ کہا ہی نہ ہو لیکن جانے انجانے میں وہ لوگ اپنے گناہوں کی گٹھری کو بھاری کر رہے ہوتے ہیں۔

    منشیات کا استعمال نوجوان نسل میں ایک معمول بن گیا ہے چرس اور شراب ہر جگہ فروخت ہورہی ہوتی ہے لیکن اس منشیات مافیا کے خلاف کوئی قانونی کاروائی نہیں کی جاتی یہ مافیا ہماری جوانوں کی رگوں میں زہر گھول رہی ہے جس سے معاشرے میں بگاڑ پیدا ہورہا ہے۔ نشے کے عادی لوگوں کو جب اپنا مطلوبہ نشہ چاہیے ہوتا ہے اور انکے پاس منشیات خریدنے کے پیسے نہیں ہوتے تو وہ لوگ چوری ڈکیتی کرنے لگتے ہیں یا اپنے گھروں سے سامان چوری کرکے باہر بیچ کر اپنے لیے منشیات خریدتے ہیں۔

    والدین اپنی اولاد کے سب سے بڑے زمہ دار ہیں اپنے بچوں کی اچھی تعلیم و تربیت کریں تاکہ وہ معاشرے میں اچھے فرد کی طرح جانے جائیں تاکہ وہ اپنے ساتھ اپنے ملک کا نام روشن کر سکیں کیونکہ نوجوان پاکستان کا مستقبل ہیں انہیں ضائع نہ ہونے دیں۔

  • سوشل میڈیا کے مضر اثرات. تحریر: فروا نذیر

    سوشل میڈیا کے مضر اثرات. تحریر: فروا نذیر

    سوشل میڈیا کا مطلب ہے کہ.جو انسان اہنی آواز کو پہنچانا چاہتا ہو پبلک تک وہ سوشل میڈیا کا استعمال کرتا ہے..

    لیکن جیسے جیسے دنیاکے لوگ ترقی کر رہے ہیں اسی طرح ہر چیز میں مثبت اور منفی اثرات آگئے ہیں

    جہاں پہلے صرف بڑے لوگ موبائل اور سوشل.میڈیا کا استعمال.کرتے تھے آج بچے بچے کے پاس یہ چیزیں ہیں اور انکو منع نہیں کیا جا رہا…
    یہ کیسا معاشرہ آگیا یے…؟

    یہ سب معاشرے میں انتشار پیدا کررہا ہے
    لوگ ناسمجھ ہو رہے ہیں زندگی کو مشکل بنایا جارہا ہے دو قدم پاس لوگوں کی خبر نہیں ہوتی.. کیا فائدہ پغر اس طرح کی ٹیکنالوجی کا اس طرح کی ترقی کا جہاں معاشرے میں لوگ ایک دوسرے کو جانتے ہی نہ ہو..

    – سوشل میڈیا کس کس لیول کے انسان کے اوپر مضر اثرات مرتب کر رہا ہے
    جن میں سے کچھ درج ذیل ہیں

    • بچوں پر
    • یوتھ جنریشن پر
    • سٹوڈنٹس پر
    •نوجوان خواتین پر
    •شادی شدہ خواتین پر
    •بڑی عمر کے لوگوں پر

    – سوشل میڈیا بچوں پر بری طرح اثر کرتا ہے سب سے پہلے تو والدین کا موبائل دینا سب سے بڑی غلطی ہے جو ہر بچے کو پڑھائی سے غلط چیزوں کی طرف لے جاتی ہے جس کا نتیجہ بعد میں پتا چلتا ہے جب وہ نافرمان ہوتے ہیں بات نہیں مانتے وغیرہ

    – سوشل میڈیا کے جہاں فائدے ہیں وہی نقصانات ہیں جہاں یوتھ کیلیے سوشل.میڈیا فائدہ مند ہے کہ آواز اٹھا سکے وہی بہت سے نقصان ہیں
    یوتھ ابھی جوان ہو رہی ہوتی ہے کوئی تھوڑے سے مسئلے پر یہ انا پر لے جاتے ہیں جس سے بہت سے اختلافات انتشار آتے ہیں جو کہ ایک انسان کیلیے مؤثر نہیں ہیں
    اور اس سے یہ نقصان کہ بہت سی خقد کشی کے کیسز آئے کسی کو کوئی سزا ہوئی وغیرہ

    اب آتے ہیں سٹوڈنٹس پر.. سٹوڈنٹس کیلیے تو سوشل میڈیا بالکل بھی اچھی نہیں ہے جب کوئی ایک نوجوان غلط کام میں جائے تو باقی سب دیکھا دیکھی وہی لگ جاتے ہیں
    تو پڑھائی سے دور ہو جاتے جو سب سے بڑا نقصان ہے..
    سٹوڈنٹس کوپڑھنا چاہیے لیکن وہ دوسرے کاموں میں دلچسپی لیتے ہیں جس کی وجہ سے پاکستان میں.سٹڈی کا ریٹ کم ہوتا جا رہا ہے جس کی سب سےبڑی وجہ سوشل.میڈیا ہے

    ہمارے پیارے نبی پاک صلی اللہ علیہ واٰلہ وسلم کی آمد سے پہلے عورت بے نام تھی معاشرے میں عزت نہیں دی جاتی تھی لیکن حضرت محمد(صلی اللہ علیہ واٰلہ وسلم) کے آتے ہی عورت کو بلند مقام دیا گیا..
    جیسے کہ نبی پاک نے فرمایا:
    لوگوں کی نسل بیٹے سے چلتی ہے میری نسل عورت سے یعنی حضرت فاطمہ(رضی اللہ تعالٰہ عنہ) سے چلے گی

    عورت کو بلند مرتبہ ملا..
    لیکن معاشرے بدلنے کے ساتھ ساتھ عورت میں جو تبدیلیاں آتی گئی سوشل میڈیا کو صہحیح استعمال.کی جگہ غلط استعمال کرنے لگی جسکا نقصان بھی عورت ہی اٹھاتی ہے وہ گھر والوں سے دور ہوتی اور اردگرد سے بے خبر رہتی یے..

    اور ایک شادی شدہ خواتین اگر سوشل میڈیا کو غلط استعمال.کرے تو اس کے اثرات اس کی اہنی فیملی پر ہوتے ہیں جس کا الزام وہ دوسروں کو دیتی یے گھر پر توجہ کم دیتی ہے بچے فرمانبردار نہیں ہوتے اور گھر کھنڈر کی طرح بن جاتا ہے اور اسج طرح گھر برباد ہوتے ہیں

    ~ اینڈ پر یہ کہنا چاہوں گی:
    ” سوشل میڈیا کو استعمال کر لیکن ایک حد تک جس طرح ہم کھانا کھاتے ہیں
    ایک حد تک اسی طرح
    سوشل میڈیا کو ایک لمٹ میں رہ کر استعمال کرنا چاہیے تاکہ ہم سب اختلافات سے بچ سکیں اور کام پر توجہ دے سکیں

    > بس ہم سب کو عمل کرنے کی ضرورت ہے
    کیونکہ عمل سے زندگی بنتی یے
    عمل کرنا بے حد ضروری یے
    تو اب لازمی کوشش کریں اس پر عمل کرنے کی.

  • اصلاح انتہائی ضروری.تحریر محمد وقاص شریف

    اصلاح انتہائی ضروری.تحریر محمد وقاص شریف

    معاشرہ کسی قوم کے لیے ریڑھ کی ہڈی کی حیثیت رکھتا ہے ، جس کی قوت اور درستی پر قوم کے وجود استحکام اور بقاء کا انحصار ہے معاشرہ کے بناؤ اور بگاڑ سے قوم براہ راست متاثر ہوتی ہے. معاشرہ اصلاح پذیر ہو تو اس سے ایک قومی، صحت مند اور با صلاحیت قوم وجود میں آتی ہے اور اگر معاشرہ بگڑا ہوا ہو تو اس کا فساد قوم کو گھن کی طرح کھا جاتا ہے۔
    معاشرے کا کردار بننے یا بگڑنے کا عمل فی الفور مکمل نہیں ہو جاتا، بلکہ اس میں طویل مدت صرف ہوتی ہے۔ بگاڑ کی راہ پر چلنے والے معاشرہ میں اچھی اقدار ایک ایک کرکے منہدم ہوتی چلی جاتی ہیں۔ نیک و بد کے بارے میں شدید احساس رکھنے والے لوگ تو اس خرابی کو جلد بھانپ جاتے ہیں، لیکن عام لوگوں پر یہ مدتوں کے بعد کھلتی ہے۔ اسی طرح معاشرہ کی اصلاح کا کام بھی ہے۔ جس طرح ایک بنیاد اٹھا کر اس پر ایک ایک اینٹ جوڑنے سے دیوار مکمل ہوتی ہے۔ اسی طرح اصلاح کا کام بھی ایک تعمیر کی منصوبہ بندی چاہتا ہے۔ جب یہ کام منصوبہ بندی کے بغیر کیا جائے تو اس کی کامیابی محل نظر ہوتی ہے۔

    قرآن مجید نے قوموں کے عروج و زوال کی جو تاریخ بیان کی ہے اس سے معلوم ہوتا ہے کہ قومیں جب بھی خدا اور آخرت کے تصور سے بے نیاز ہوتی ہیں یا ان کا یہ تصور ناقص ہوا ہے اور ان میں اخلاقی مفاسد سرایت کر گئے ہیں تو اگر قوم میں اصلاح احوال کا جذبہ پیدا نہیں ہوا تو وہ ہمیشہ برباد ہو گئی ہے۔ اس کی تباہی میں اس سوال کو کبھی کوئی اہمیت نہیں رہی کہ اس کے فساد کی نوعیت کیا ہے، بلکہ ہر برا عمل، خواہ اس کی نوعیت اس تکبر کی رہی ہو جو عاد اور ثمود میں تھا، اس اخلاقی گراوٹ کی رہی ہو جو قوم لوط میں پائی جاتی تھی یا اس تاجرانہ بدمعاملگی اور بد دیانتی کی ہو جس کا مظاہرہ قوم شعیب نے کیا، جب بھی وہ معاشرہ کا اجتماعی کردار بن گیا تو اس کی موت کا پیغام لے آیا۔ قرآن مجید کے اس فلسفہ کی رو سے ایک قوم کے برمندہونے کے لیے یہ ضروری ہے کہ معاشرہ کے اندر خدا کا خوف اور اس کے ساتھ صحیح بنیادوں پر تعلق پایا جائے۔ دلوں میں آخرت کے محاسبہ کا اندیشہ موجود ہو اور کسی بھی قسم کے فساد اعمال کو معاشرہ پر مسلط ہونے کا موقع نہ دیا جائے۔ یہ مقصد ظاہر ہے کہ صرف اس صورت میں حاصل ہو سکتا ہے جب قوم کے اندر اصلاح معاشرہ کے لیے ایک مسلسل جدوجہد کی جاتی رہے۔ اور کسی بھی فساد کے معاملے میں چشم پوشی سے کام لے کر اسے قوم کے اجتماعی وجود میں راہ پانے کا موقع نہ دیا جائے.

  • والدین  کی عظمت ۔ خدمت اور احساس .تحریر ۔ ڈاکٹر راہی

    والدین کی عظمت ۔ خدمت اور احساس .تحریر ۔ ڈاکٹر راہی

    میں نے جب جب بھی والدین کی عظمت، خدمت اور اُن کے احساس کے حوالے سے لکھا، مجھے اولاد کی طرف سے ڈھیروں ڈھیر شکوے، شکایتیں، دل شکن زیادتیوں کی رودادیں سُننے کو ملتی ہیں۔ میں بھی ظاہر ہے کہ آپ سب کا ہی ایک حصّہ ہوں، اسی معاشرے کا فرد ہوں، جس میں آپ زندگی گزار رہے ہیں، سو میں بھی اس طرح کے کئی سارے معاملات دیکھتا ہوں۔ اس حقیقت سے مُجھے کوئی انکار نہیں کہ برِّصغیری معاشرہ بالعموم بچّوں اور بالخصوص بیٹوں اور بہوءوں کیلئے ایک شدّید قسم کا استحصالی معاشرہ ہے۔ بیٹوں میں سے جو حسّاس ہو، احساسِ ذمہ داری کا مالک ہو، محنتی ہو اور تھوڑا سا اپنی شدّید محنت کے باعث باوسائل ہو، وہ ساری زندگی ایک نادیدہ چکّی میں پستا رہتا ہے اور اُسے اس چکّی کے پاٹوں میں پیسنے والے اُس کے والدین ہوتے ہیں، الّا ماشاءاللّٰہ۔ اور بہوءوں اور بیٹیوں کے ساتھ معاملات میں واضح منافقت اور دوہرا معیار کوئی ڈھکی چھپی بات نہیں ہے۔ اب سوال۔یہ پیدا ہوتا ہے کہ جب والدین زیادتی کر رہے ہوں تو اولاد کیا کرے؟؟ یہ سوال بہت بار مُجھ سے پوچھا گیا اور میں خود بھی بہت عرصے سے اس پہ لکھنا چاہ رہا تھا

    قرآنِ حکیم میں جا بجا ربِّ کائنات نے شرک کی ممانعت کے فی الفور بعد والدین کے ساتھ احسان کرنے کا حُکم دیا ہے، احسان یعنی نیکی، بھلائی، خیر خواہی۔ یعنی رب کو رب تسلیم۔کرنے کے بعد سب سے اہم کام والدین کے ساتھ بھلائی ہے۔ آج اگر والدین کے حقوق کا احساس دلانے کیلئے اولاد کو والدین کی قربانیاں گنوائی جائیں تو کہا جاتا ہے کہ آپ نے اپنی خواہش سے یہ سب کیا، ہم پہ احسان نہیں کیا!!! جب کہ قرآنِ مجید نے ربِّ کائنات نے خود ماں کے احسانات گنوائے ہیں "اور ہم نے انسان کو ماں باپ کے ساتھ نیک سلوک کرنے کا حُکم دیا ہے، اُس کی ماں نے اُس کو بڑی مشقّت سے جنا اور اُس کو پیٹ میں رکھنا اور دودھ چھڑوانا تیس ماہ میں پورا ہوتا ہے”۔ اگر صرف اس ضمن میں قرآنی آیات ہی لکھنا شروع کر دوں تو ایک طویل تحریر مرتّب ہو جائے، احادیث اُس کے علاوہ ہیں اور والدین کی اطاعت اور فرمانبرداری کی بےےے تحاشہ تاکید قرآن اور حدیث شریف میں ملتی ہے۔ اب پھر وہی سوال کہ والدین زیادتی کریں تو کیا کیا جائے۔۔

    پہلے بیٹوں سے بات کروں گا۔ دیکھیں حضراتِ محترم۔۔ سب سے پہلی بات تو یہ ذہن میں رکھیں کہ آپ کے والدین بھی آپ۔کی طرح انسان ہیں۔ اُن سے فرشتوں والے معاملات کی توقّع رکھنا عبث ہے۔ آپ یہ سمجھیں کہ وہ ہر لمحہ، ہر وقت انصاف کا ترازو لے کے پھرتے رہیں گے کہ مُجھ سے زیادتی نہ سرزد ہو جائے تو یہ سعادت بہت کم والدین کے حصّے کے آتی ہے کہ وہ اپنے ضمیر کی عدالت میں خود اپنا احتساب کر کے، اولاد کے ساتھ اپنے معاملات چلائیں۔ والدین کی اکثرہّت ایسا نہیں سوچتی۔ اگر تو آپ باوسائل ہیں اور اپنے بیوی بچّوں کے معاملات بحُسن و خوبی چلانے کے ساتھ باقی بھائیوں سے زیادہ آپ پہ ذمہ داری کا بوجھ ڈالا جاتا ہے اور آپ وہ بآسانی اُٹھانے کے قابل۔ہوں، معاشی طور پر، پھر کہوں گا کہ اپنے بیوی بچّوں کے معاملات بحُسن و خوبی ادا کرنے کے بعد، تو میرا خیال ہے کہ اس معاملے میں آپ اگر اعلٰی ظرفی کا مظاہرہ کریں گے تو آپ پہ اللّٰہ کی رحمت ضرور نازل ہو گی۔ لیکن اگر معاملات ایسے ہوں کہ جہاں۔آپ کو اپنے بیوی بچّوں کے لالے پڑے ہوں اور والدین غیر اخلاقی بوجھ ڈالیں تب آپ پہ سب سے پہلے اپنے بیوی بچّوں کے معاملات ادا کرنا فرض ہے۔ فرض کریں کہ آپ والدین کی کسی حقیقی زیادتی کے باعث اُن سے اپنے معاملات الگ کر چُکے ہیں، گھر کے اندر ہی یا گھر سے باہر کسی اور جگہ، تو کیا آپ کو والدین کو مُردہ تصوّر کر لینا چاہیئے؟؟ آپ سال سال بھر اُن سے ملیں نہ، بیوی بچّوں کو اُن سے نہ ملوائیں، اُن کی کسی ضرورت پہ نظر نہ رکھیں، کیا یہ ردِّ عمل ہونا چاہیئے؟؟ ہر گز نہیں!! آپ اُن سے الگ ہو کے دُنیا کے کسی بھی کونے میں چلے جائیں، آپ کی بنیاد، دنیا اور آخرت کی بھلائی صرف ان دو انسانوں۔کے ساتھ منسلک ہے، جو آپ کے والدین ہیں۔ یاد رکھیں کہ اگر والدین زندگی کے کسی موڑ پہ اولاد کے ساتھ زیادتی کرتے بھی ہیں تو وہ اپنی زیادتیوں، ظلم اور ناانصافیوں کیلئے ربِّ کائنات کی بارگاہ میں از خود ذمہ دار اور جوابدہ ہیں، اُن کی زیادتی آپ کی زیادتی کیلئے کبھی جواز نہیں بن سکتی. آپ اپنے حقوق کا تحفّظ کر چُکنے کے بعد اُن کے ساتھ ہر طرح سے حُسنِ سلوک کرنے کے پابند ہیں۔ وہ ناراض ہیں تو اُنہیں منائیں، بےشک آپ اُس معاملے میں واقعتاً مظلوم ہوں، تب بھی، جہاں تک ممکن ہو اُن کی ضروریات کا ازخود خیال رکھیں اور دو گھروں میں رہ کے بھی، احساس زندہ ہو تو والدین کی خدمت کرنا کوئی مشکل امر نہیں۔ قرآنِ حکیم۔میں مُشرک والدین کی شرک میں اطاعت سے منع فرمانے کے بعد ربِّ کائنا ت نے دُنیاوی معاملات میں اُن کے ساتھ حُسنِ سلوک کا حُکم دیا ہے۔ مُراد یہ کہ اُن۔کے وہ احکامات جن سے دین۔کے کسی بھی حُکم کی روح مجروح ہوتی ہو، وہاں اطاعت ساقط ہو جاتی ہے لیکن خدمت اس کے باوجود بھی فرض ہی رہتی ہے۔

    اب آتا ہوں بہوءوں کی طرف۔۔! آپ کو دورِ جدید کی علم۔کی فراوانی نے یہ تو بتا دیا ہے کہ ساس سُسر کی خدمت کرنا آپ پہ شرعاً فرض نہیں لیکن کسی نے آپ کو یہ نہیں بتایا کہ اسلامی قانون اور فقہ کے مطابق اخلاقی فرض شرعی فرض پہ مقدّم ہوتا ہے۔ اس کی مثال علماء کُچھ یوں دیتے ہیں کہ سوءر ایک نجس العین جانور ہے، اس کو چھونا بھی ناپاکی کا باعث بنتا ہے۔ شرعاً اس کو چھونے کی سختی سے ممانعت ہے، لیکن فرض کریں کہ آپ کہیں جا رہے ہوں اور آپ کے رستے میں ایک سوءر زخمی حالت میں موجود ہے تو اُس کی زندگی بچانے کی تگ و دو کرنا آپ کا اخلاقی فرض بن جاتا ہے، یہاں اُسے چھونے کی شرعی ممانعت ساقط ہو جائے گی اور آپ کا اخلاقی فریضہ مقدّم ہو جائے گا اور آپ اُسے اُٹھا کے طبّی امداد دینے کیلئے لے کے جائیں گے۔ تو آپ کا کیا خیال ہے کہ جن والدین کی مشقّتّوں اور رہاضتوں کا ثمر، اُن کا بیٹا آپ کی زندگی میں ہر لمحہ آسانیاں پیدا کر رہا ہے، اُن کی خدمت سے بڑا بھی کوئی اخلاقی فریضہ ہو گا؟؟ چھوٹی موٹی زیادتیوں سے ویسے ہی صرفِ نظر کر دیا کریں، جیسے شادی سے پہلے اپنی امّی کی ڈانٹ ڈپٹ اور ابّو جی کی کسی وقت کی سختی برداشت کیا کرتی تھیں۔ اگر زیادتی حد سے سوا ہو جائے تو اپنا تحفُظ ضرور کریں، اُن سے ایک فاصلہ پیدا کر لیں۔ الگ گرہستی رکھنا آپ کا حق اور آپ کے شوہر کا فرض ہے، لیکن اپنا الگ سے گھر بسانے کا مطلب یہ ہرگز نہیں کہ والدین سے قطع تعلّق کر لیا جائے، اُن کے ساتھ دل۔میں احساس، اور مروّت کا رشتہ کم از کم قائم رکھیں۔ وہ اپنی زیادتیوں کیلئے رب کی بارگاہ میں خود جوابدہ ہیں، اُن کے ساتھ روا رکھے گئے سلوک کے بارے میں آپ سے بہر صورت سوال کیا جائے گا۔ وما علینا الّا لبلٰغ۔۔

  • انسان نما بھیڑیے . تحریر : سہیل احمد چوہدری

    انسان نما بھیڑیے . تحریر : سہیل احمد چوہدری

    کووڈ -19 نام تو ابھی یاد ہی ہوگا جس نے ساری دنیا میں ہلچل مچا دی. زندگی جیسی بھی سہی گزر رہی تھی. ہر کوئی اپنی چال چل رہا تھا. اپنی خواہش اوراستطاعت کے مطابق زندگی کے پلان بنا رہا تھا.یہ ہوگا تو وہ ہوگا ایسے کریں گے ویسے کریں گےوغیرہ وغیرہ.

    پریقینا ہم یہ شاید بھول چکے رھے کہ "سامان سو سال کا پل کی خبر نہیں” کیونکہ ہوگا وہی جو اسکی چاہت ہے. اچانک ایک بات نکلی اور آہستہ آہستہ پوری دنیا میں اس کے چرچے ہونے لگے. توجہ کا مرکز چین نکلا. چین کے شہر ووہان جو کہ تجارتی مرکز تصور کیا جاتا ہے.کچھ سمجھ نہیں آرہی تھی.جس کی جتنی سمجھ تھی اس نے اس کا چورن سوشل میڈیا پر بیچا.

    بات کچھ یوں ہے کہ امریکہ اورچائنہ کی عالمی طاقت ہونے پر سوال اٹھنے لگے. کبھیG-5 پر ملینڈا ایڈ کمپنی کو رگڑا گیا. کبھی چائنہ میں چمگادڑوں.بندروں. سانپوں. کتوں کے کھانے پرمورد الزام ٹھہرائے گئے. رہے سہے چائنہ نے جو اقدامات ووہان شہرمیں کئے وہ سب آپ جانتے ییں. پھراسی فضاء نے یورپ کا رخ کیا اور اپنی لپیٹ میں کے لیا. فکر اس بات کی ہے جن کو ہم کافر کہتے ہیں پھر ہم انسانیت کے لحاظ سے انکی تعریف کیوں کرتے ییں؟ وہاں وباء کے دوران روزمرہ زندگی کی ہرشے کو سستا کیا گیا اورنظم ضبط کو ہمیشہ ملحوظ خاطررکھا گیا.

    اب آتے ہیں اپنے پیارے ملک پاکستان میں بحثیت ملازم کام کی وجہ سے مارکیٹ کے لوگوں کے ساتھ کافی میل جول یے. اس لیے سچ لکھنے پربضد ہوں. جیسےںی کورونا 2020 کے اوائل میں اپنا سراٹھانے لگا تو کسی کو کچھ سمجھ نہیں آرہی تھی. کاروباری حضرات نے وباء کے دوران سر میں چمپی لگا کر سوچنا شروع کیا کہ اس وباء پر کیسے کاروبار کیا جائے. ملک پہلے ہی قرض کے بوجھ تلے ڈوبا ہوا تھا اوپر سے ڈالرکی اڑتی اڑان کم تھی جو یورپ میں وباء کی تباہ کاریوں کی بدولت مزید پریشانیاں پی ٹی آئی کی حکومت کے آڑے آئیں. ڈبلیوایچ اوکی خدمات لی گئیں.مختلف ٹیٹو پاٹیاں اورلفظوں کے ہیر پھیرپرخطاب وارد ہوئے. احساس پروگرام.ہیلتھ کارڈ.راشن کارڈ.موضوع بحث رہے.

    ملکی مافیا چاہے کسی شعبہ زندگی سے تعلق ہو حکومت کے آگے تن کرکھڑی ہوگئی. پٹرول مافیا. چینی مافیا. مہنگائی کے چکرمیں بیچاری غریب عوام دردرکی ٹھوکریں کھانے پرمجبورہوئی. پردوسری طرف حکومت کے لگائے لاک ڈاون اور وقت کی بندش اور تجاوزات ہٹانے پر بےچارہ غریب مرتا ناں تو کیا کرتا. بڑے بڑے پرائیویٹ اداروں کو ملازمین کو منٹوں میں نوکری سے فارغ کرتے دیکھا. خالی ہاتھ گھروں میں بھیج دیا گیا. 2020 میں اسکول بںد ہونے پر 20 فیصد فیس میں کمی وہ بھی عدالت کے نوٹس لینے پرجو 2021 میں شاید عدالت کو اپنی غلطی کا احساس ہونے پریاد آگیا.
    حیرت ہے مافیا ڈھونڈنے والوں کو اسکول کیوں بھول جاتے ہیں ایسا لگتا ہے جیسے کورونا صرف غریبوں کیلیے آیا کیونکہ ماسک سے لے کر ادویات اور کپڑے والوں کو شاید استثنی حاصل رہا. رہے سہے 2020 گزرگیا پر شاید ہم نے سیکھا کچھ نہیں.

    اب آتے ہیں اصل مدعا پر2021 میں تیسری لہر آئی تو لوگوں نے حکومت کے ایس او پیز کے مطابق 20 % عمل کیااور اس کو محض ایک ڈرامہ اورسازش سمجھا. آہستہ آہستہ جب کورونا نے ہسپتالوں کی ایمرجنسیز اور گھروں کا رخ کیا تو لوگ کو 30 % یقین ہونے لگا
    خیر ایک سال کی تحقیق کے بعد یہ رزلٹ آیا کہ کورونا کے مریض کو فوری طورپرجس چیز سے بچانا ہے وہ ہے اس کا Clotting Factor
    D-Dimer جس کاپرائیویٹ لیبارٹری میں ٹیسٹ تقریبا 2000 کا اور دوسرے فیکٹر ڈال کر 6500 ٹوٹل خرچا. کورونا کے مریض کا خون گاڑھا ہوجاتا یے جس کی وجہ سے خون کی نالیوں میں انجماد کی وجہ ہے ہارٹ اٹیک پربندہ فارغ.

    اب مسئلہ یہ تھا کہ اس ضمن میں جو دوائی موجود ہے وہ hyprin .Clexin انجیکشن یاں آخرمیں لوپرن یاں اسکارڈ رہ جاتی ہے.ہوا یوں کہ مافیا پھرسرگرم رہا اوردیکھا کہ کووڈ کے مریضوں کیلیے یی ادویات بہت ضروری بلکہ لائف سیونگ ڈرگزبن گئیں تو انھوں نے اس موقع کو غنیمت جانا اور اپنا کاروبار کوچارچاند لگانے کیلیے بلیک کا گنوونا دھندہ شروع کیا اوراپنے پاس اسٹاک جمع کرلیا. لوگ دوا کے ناں ملنے سے مرنا شروع ہو گئے. رہی بات دوا ساز کمپنی کی تو دوا کا ناں ملنا صرف یہ تھا کہ 2020 میں دوا ساز کنپنی دوا کی قیمت بڑھا چکی تھی .اس پر وقت مقرر کیا جاتا ہے خیر انہوں نے بھی اس موقع سے فائدہ اٹھانا چاہا اور حکومت سے دوا کا ریٹ بڑھانے پر بات کی پر حکومت کے ساتھ ان کے مزاکرات ناکام ہوگئے.

    جیسا کہ ہم خوف اورمجبوری کی بناء پرلوگوں کو لوٹتے ہیں اور یہی سچ ہے. جب ان انجیکشن کا پتا کیا گیا تو جنہوں نے بلیک کیا تھا ان کو ناں تو کوئی پکڑنے والا اورناں کاروائی کرنے والاہے. انہوں نے لوگوں کے پیاروں کے پیار میں بچھڑنے کی مجبوری میں خوب پیسا کمایا.
    میرا گلہ صرف یہ ہے کہ کیا ہم نے یاں ہمارے کسی پیارے عزیز نے کیا کبھی بیمارنہیں ہونا، کیا وہ اس انجیکشن کو بلیک میں بیچ کر اپنے پیاروں کو ہر بیماری سے محفوظ رکھ پائیں گے.

    خدارا انسان بنیں، کیونکہ حقوق العباد پر معافی شاید وہ بھی ناں دے، کیونکہ جس نے ایک انسان کی جان بچائی گویا اس نے ساری انسانیت کی جان بچائی.
    "” جان دی دی ہوئی اسی کی تھی
    حق تو یہ ہے کہ حق ادا نہ ہوا”
    ذرہ سوچیئے……

    @iSohailCh

  • پولیس محافظ یا ڈاکو . تحریر: شاہ زیب

    پولیس محافظ یا ڈاکو . تحریر: شاہ زیب

    بنی نوعِ انسان غیرمتمدن زندگی سے بتدریج تمدن پذیرہوئی ہے. نیکی و بدی، اچھائی وبرائی، مثبت و منفی ہمیشہ ساتھ ساتھ متوازی چلتے ہیں
    اسی طرح انسانی رویوں میں تضاد فطری بات ہے. معاشرے کو نظم و ضبط کا پابند بنانے اوربگاڑ سے روکنے کے لئے اخلاقی تعلیمات کے ساتھ ساتھ قانون پرعمل درآمد کروانے کے اداروں کی ضرورت پیدا ہوئی اور پولیس جیسا محکمہ وجود میں آیا. ترقی یافتہ ممالک میں پولیس کا آپ کے آس پاس ہونا تحفظ کا احساس فراہم کرتا ہے. کسی بھی جرم یا بدنظمی کی شکایت کے لئے پولیس کے پاس جانا نہایت آسان اور حوصلہ افزاء ہے. ان ممالک میں پولیس قانونی کارروائی اور سزا دینےوالے ادارے سے زیادہ معاشرے کی ایک مثبت اور اکائی اور چھتری تصور کی جاتی ہے.

    اب آتے ہیں اپنے محبوب وطن کی طرف جہاں پولیس کا نام ہی دہشت کی علامت ہے. بدعنوانی, رشوت, کرپشن, ناانصافی, جرم اور مجرم کی پشت پناہی جیسے مکروہ کام ہماری پولیس کا "طرۂِ امتیاز ” تصورکئے جاتے ہیں. ہمارے ہاں مشہور ہے کہ پولیس کی دوستی اچھی نہ دشمنی. پولیس میں رپورٹ درج کروانے کے لئے پیسے کے ساتھ ساتھ کوئی تگڑی سفارش درکار ہوتی ہے, رپورٹ درج ہونے کے بعد کارروائی کے لئے آپکی جیب چلتی رہے گی تو پولیس وین کا پہیہ اور تفتیشی کا قلم چلتا رہے گا ورنہ سائل کے جوتے گِھس کر پھٹ جائیں گے, کندھے جھک جائیں گے بھاگ بھاگ کر لیکن اس کیس کا کوئی نتیجہ نہیں نکلے گا. جُوا خانے، شراب فروشی و منشیات فروشی کے اڈے اورقحبہ خانے منتھلی کی مد میں ایک بڑی رقم متعلقہ تھانے کو دیتے ہیں اور قانون کے محافظوں کی چھتر چھایا میں بے فکرہوکر اپنے دھندے چلاتے ہیں. قانون انکے دروازوں کے باہر اونگھ رہا ہوتا ہے.

    سیاستدانوں کی وابستگیاں ایک الگ فیکٹر ہے، سیاستدان اپنا دبدبہ اور رسوخ برقرار رکھنے کے لئے اپنی مرضی کے افسران اپنے علاقوں میں تعینات کرواتے ہیں. مجرم اور ظالم پولیس کی فطرت کو سمجھتے ہیں اس لئے افسران کی "خدمت” کردی جاتی ہے. جبکہ غریب اور کم اثرورسوخ والا شہری عتاب کا شکارہوجاتا ہے.

    اگرپاکستانی معاشرے کو بہتراورجرائم سے پاک محفوظ معاشرہ بنانا ہے تو پولیس ماڈل میں اصلاحات اورسخت تبدیلیاں لانا ہونگی، پولیس کو غیر سیاسی کیا جانا ضروری ہے، درج شدہ کیسزپرکارروائی کے لئے ایک مخصوص مدت مقررکرنی چاہئے اورکارروائی نہ ہونے یا مناسب نہ ہونے پر تفتیشی افسران اور تھانہ انچارج کو احتساب کے کٹہرے میں کھڑا کیا جانا ضروری ہے ورنہ یہ معاشرہ انسانوں کے رہنے کے قابل نہیں رہے گا.

    @shahzeb___

  • وطن عزیزکی حالت اورعوام کی اندھی تقلید . تحریر: علی حسن

    وطن عزیزکی حالت اورعوام کی اندھی تقلید . تحریر: علی حسن

    پاکستان کی صورتحال ہرکسی پرعیاں ہے، ملک کو لوٹنے والے سیاست دان جو کروڑوں روپے الیکشن میں لگا کر حکومت میں آتے ہیں وہ عوام کی خدمت کرنے نہیں آتے بلکہ وہ لوٹ مارکے زریعے سود سمیت اپنا سارا پیسا واپس وصول کرلیتے ہیں. اس ساری صورتحال کی اصل ذمہ دارعوام ہے جو آج تک اپنے حکمران کا سہی انتخاب نہیں کرسکی. پاکستان کا آئین جس پرسارے ملک کا دارومدارہوتا ہے، جس کے تحت ملک کا قانون ہوتا ہے. اسی آئین کی رو سے ہمارے ملک کا حکمران کس طرح کا ہونا چاہیے یہ بہت ساری عوام جانتی ہی نہیں.

    اپنے حکمران کا سہی انتخاب بہت ضروری ہے.
    پاکستان کی عوام میں بہت بڑی خامی یہ کہ یہ قانون کے بارے میں کچھ نہیں جانتے.
    پاکستان کا آئین کیا ہے کسی کو کچھ نہیں پتا.
    یہ تعلیم کا فقدان اندھی تقلید کا باعث ہے.

    پاکستان کے نظام تعلیم میں آئین پاکستان کی تعلیم لازمی شامل کرنی چاہیے تاکہ نئ نسل کو اپنے ملک کے قوانین کے بارے میں آگاہی حاصل ہو.عوام میں شعور کا فقدان اس قدر ہے کہ ہر کوئی انہیں اپنی باتوں میں لگا سکتا ہے آج تک کسی بھی حکومت نے عوام کی عزت کی بالادستی کی بات نہیں کی. اور ستم ظریفی یہ کہ ہمارے حکمران اسلامی اقدار پر بھی حملے کر چکے اس کے باوجود عوام ان کو ووٹ دیتے ہیں. کوئی اپنی گلی کے لیے ووٹ دے رہا ہے، کوئی نالیوں کے لیے اورکچھ لوگ تو کہتے ہیں یہ حکمران کچھ بھی نا کرے پھر بھی ووٹ اسی کو دینا ہے. اس قدر اندھی تقلید سے ملک کا نظام ٹھیک نہیں ہو سکتا.

    سیاست میں عوام کا کیا کردار ہونا چاہیے؟

    ہم مسلمان ہیں ہمارا سب سے اہم فریضہ اسلام کی سر بلندی ہے عوام کو یہ لازمی دیکھنا ہو گا کہ ہم جس کو ووٹ دے رہے ہیں، ہم جس کو اسلامی ریاست کا سربراہ تسلیم کر رہے ہیں کیا وہ اسلامی تعلیمات پرکم از کم اتنا عبوررکھتا ہے وہ ملک کے ہرشعبے کواللہ تعالیٰ کی قائم کردہ حدود میں رہ کر چلاسکے گا. اس کے بعد کیا وہ عوامی مسائل کو جانتا ہے کہ عوام کن مسائل سے دوچار ہے.

    کیا وہ عام آدمی کو عزت دلا سکتا ہے جس کے ووٹوں پر وہ حکمرانی کرے گا؟
    کیا وہ اتنا مضبوط ہے کہ ریاست کا بوجھ اٹھا سکے؟

    آج کل عوام کو بےوقوف بنانے کے لیے لبرل قسم کے لوگ بہت سر گرم ہیں جن کہنا ہے کہ اسلام اور سیاست الگ الگ ہیں.
    ایسا بلکل بھی نہیں ہے اسلام مکمل ضابطہ حیات ہے اس میں دنیا کے ہر شعبے کے لیے راہنمائی موجود ہے.
    اس میں عدل کرنے کے احکامات موجود ہیں، اس میں حکومت کرنے کا طریقہ کار موجود ہے، اس میں تجارت کے اصول موجود ہیں حتیٰ کہ اس میں تمام شعبہ زندگی کے لیے راہنمائی موجود ہے. اسی لیے بحیثیت محب اسلام اور محب وطن ہمیں اسلام کا علم رکھنے والے حکمران کا انتخاب کرنا ہوگا. اللہ تعالیٰ تمام کائنات کا خالق اور مالک ہے دنیا کے تمام خزانے اللہ کے ہیں جب ہم اسلام کو ترجیحات میں سر فہرست رکھیں گے تو اللہ تعالیٰ ہمارے ہر کام آسان فرمائے گا. یہی ہماراعقیدہ ہونا چاہیے. اچھے حکمران کا انتخاب کرنے کے بعد بھی ہماری ذمہ داری ختم نہیں ہوگی.

    عوام کو اپنی طاقت کا علم ہونا چاہیے جس طرح عوام اپنے ووٹوں کی طاقت سے حکمران بناتے ہیں ویسے ہی عوام حکمران کے غلط کاموں پر اسے طاقت کی کرسی سے اٹھا بھی سکتے ہیں. آج کل لوگ اپنی سیاسی جماعت سے اس قدر لگاو رکھتے ہیں کہ ان کے ہر اچھے اور برے کام کا دفاع کرتے ہیں. یہ بہت بڑا ظلم کرتے ہیں. کوئی بھی حکمران ہو چاہے ہمارا حمایت یافتہ ہو یا کوئی اور اگرغلط کام کرنے پر بضد ہے تو اس کے خلاف کھڑے ہو جائیں تاکہ ہرآنے والے کو پتا ہو کہ ہمارا کوئی غلط کام برداشت نہیں کیا جائے گا. خدارا غلط کو غلط کہنا سیکھ لیں ورنہ ہم کبھی بھی اپنی عزت نہیں کروا سکیں گے. حکمران عوام کو کچھ سمجھتے ہی نہیں ان کو پتا ہے ہمارے ہر غلط کام کا دفاع کرنے والے لوگ موجود ہیں. اسلام میں حکمرانی عیاشیوں کا نام نہیں بلکہ خدمت خلق کا نام ہے.

    اللہ تعالیٰ ساری عوام کو شعور عطاء فرمائے تاکہ ہم بحیثیت قوم اپنے فرائض ادا کریں اورحکمرانوں کا بہترانتخاب کرسکیں.
    فی امان اللہ.