Baaghi TV

Category: معاشرہ و ثقافت

  • سوشل میڈیا کے مضر اثرات. تحریر: فروا نذیر

    سوشل میڈیا کے مضر اثرات. تحریر: فروا نذیر

    سوشل میڈیا کا مطلب ہے کہ.جو انسان اہنی آواز کو پہنچانا چاہتا ہو پبلک تک وہ سوشل میڈیا کا استعمال کرتا ہے..

    لیکن جیسے جیسے دنیاکے لوگ ترقی کر رہے ہیں اسی طرح ہر چیز میں مثبت اور منفی اثرات آگئے ہیں

    جہاں پہلے صرف بڑے لوگ موبائل اور سوشل.میڈیا کا استعمال.کرتے تھے آج بچے بچے کے پاس یہ چیزیں ہیں اور انکو منع نہیں کیا جا رہا…
    یہ کیسا معاشرہ آگیا یے…؟

    یہ سب معاشرے میں انتشار پیدا کررہا ہے
    لوگ ناسمجھ ہو رہے ہیں زندگی کو مشکل بنایا جارہا ہے دو قدم پاس لوگوں کی خبر نہیں ہوتی.. کیا فائدہ پغر اس طرح کی ٹیکنالوجی کا اس طرح کی ترقی کا جہاں معاشرے میں لوگ ایک دوسرے کو جانتے ہی نہ ہو..

    – سوشل میڈیا کس کس لیول کے انسان کے اوپر مضر اثرات مرتب کر رہا ہے
    جن میں سے کچھ درج ذیل ہیں

    • بچوں پر
    • یوتھ جنریشن پر
    • سٹوڈنٹس پر
    •نوجوان خواتین پر
    •شادی شدہ خواتین پر
    •بڑی عمر کے لوگوں پر

    – سوشل میڈیا بچوں پر بری طرح اثر کرتا ہے سب سے پہلے تو والدین کا موبائل دینا سب سے بڑی غلطی ہے جو ہر بچے کو پڑھائی سے غلط چیزوں کی طرف لے جاتی ہے جس کا نتیجہ بعد میں پتا چلتا ہے جب وہ نافرمان ہوتے ہیں بات نہیں مانتے وغیرہ

    – سوشل میڈیا کے جہاں فائدے ہیں وہی نقصانات ہیں جہاں یوتھ کیلیے سوشل.میڈیا فائدہ مند ہے کہ آواز اٹھا سکے وہی بہت سے نقصان ہیں
    یوتھ ابھی جوان ہو رہی ہوتی ہے کوئی تھوڑے سے مسئلے پر یہ انا پر لے جاتے ہیں جس سے بہت سے اختلافات انتشار آتے ہیں جو کہ ایک انسان کیلیے مؤثر نہیں ہیں
    اور اس سے یہ نقصان کہ بہت سی خقد کشی کے کیسز آئے کسی کو کوئی سزا ہوئی وغیرہ

    اب آتے ہیں سٹوڈنٹس پر.. سٹوڈنٹس کیلیے تو سوشل میڈیا بالکل بھی اچھی نہیں ہے جب کوئی ایک نوجوان غلط کام میں جائے تو باقی سب دیکھا دیکھی وہی لگ جاتے ہیں
    تو پڑھائی سے دور ہو جاتے جو سب سے بڑا نقصان ہے..
    سٹوڈنٹس کوپڑھنا چاہیے لیکن وہ دوسرے کاموں میں دلچسپی لیتے ہیں جس کی وجہ سے پاکستان میں.سٹڈی کا ریٹ کم ہوتا جا رہا ہے جس کی سب سےبڑی وجہ سوشل.میڈیا ہے

    ہمارے پیارے نبی پاک صلی اللہ علیہ واٰلہ وسلم کی آمد سے پہلے عورت بے نام تھی معاشرے میں عزت نہیں دی جاتی تھی لیکن حضرت محمد(صلی اللہ علیہ واٰلہ وسلم) کے آتے ہی عورت کو بلند مقام دیا گیا..
    جیسے کہ نبی پاک نے فرمایا:
    لوگوں کی نسل بیٹے سے چلتی ہے میری نسل عورت سے یعنی حضرت فاطمہ(رضی اللہ تعالٰہ عنہ) سے چلے گی

    عورت کو بلند مرتبہ ملا..
    لیکن معاشرے بدلنے کے ساتھ ساتھ عورت میں جو تبدیلیاں آتی گئی سوشل میڈیا کو صہحیح استعمال.کی جگہ غلط استعمال کرنے لگی جسکا نقصان بھی عورت ہی اٹھاتی ہے وہ گھر والوں سے دور ہوتی اور اردگرد سے بے خبر رہتی یے..

    اور ایک شادی شدہ خواتین اگر سوشل میڈیا کو غلط استعمال.کرے تو اس کے اثرات اس کی اہنی فیملی پر ہوتے ہیں جس کا الزام وہ دوسروں کو دیتی یے گھر پر توجہ کم دیتی ہے بچے فرمانبردار نہیں ہوتے اور گھر کھنڈر کی طرح بن جاتا ہے اور اسج طرح گھر برباد ہوتے ہیں

    ~ اینڈ پر یہ کہنا چاہوں گی:
    ” سوشل میڈیا کو استعمال کر لیکن ایک حد تک جس طرح ہم کھانا کھاتے ہیں
    ایک حد تک اسی طرح
    سوشل میڈیا کو ایک لمٹ میں رہ کر استعمال کرنا چاہیے تاکہ ہم سب اختلافات سے بچ سکیں اور کام پر توجہ دے سکیں

    > بس ہم سب کو عمل کرنے کی ضرورت ہے
    کیونکہ عمل سے زندگی بنتی یے
    عمل کرنا بے حد ضروری یے
    تو اب لازمی کوشش کریں اس پر عمل کرنے کی.

  • اصلاح انتہائی ضروری.تحریر محمد وقاص شریف

    اصلاح انتہائی ضروری.تحریر محمد وقاص شریف

    معاشرہ کسی قوم کے لیے ریڑھ کی ہڈی کی حیثیت رکھتا ہے ، جس کی قوت اور درستی پر قوم کے وجود استحکام اور بقاء کا انحصار ہے معاشرہ کے بناؤ اور بگاڑ سے قوم براہ راست متاثر ہوتی ہے. معاشرہ اصلاح پذیر ہو تو اس سے ایک قومی، صحت مند اور با صلاحیت قوم وجود میں آتی ہے اور اگر معاشرہ بگڑا ہوا ہو تو اس کا فساد قوم کو گھن کی طرح کھا جاتا ہے۔
    معاشرے کا کردار بننے یا بگڑنے کا عمل فی الفور مکمل نہیں ہو جاتا، بلکہ اس میں طویل مدت صرف ہوتی ہے۔ بگاڑ کی راہ پر چلنے والے معاشرہ میں اچھی اقدار ایک ایک کرکے منہدم ہوتی چلی جاتی ہیں۔ نیک و بد کے بارے میں شدید احساس رکھنے والے لوگ تو اس خرابی کو جلد بھانپ جاتے ہیں، لیکن عام لوگوں پر یہ مدتوں کے بعد کھلتی ہے۔ اسی طرح معاشرہ کی اصلاح کا کام بھی ہے۔ جس طرح ایک بنیاد اٹھا کر اس پر ایک ایک اینٹ جوڑنے سے دیوار مکمل ہوتی ہے۔ اسی طرح اصلاح کا کام بھی ایک تعمیر کی منصوبہ بندی چاہتا ہے۔ جب یہ کام منصوبہ بندی کے بغیر کیا جائے تو اس کی کامیابی محل نظر ہوتی ہے۔

    قرآن مجید نے قوموں کے عروج و زوال کی جو تاریخ بیان کی ہے اس سے معلوم ہوتا ہے کہ قومیں جب بھی خدا اور آخرت کے تصور سے بے نیاز ہوتی ہیں یا ان کا یہ تصور ناقص ہوا ہے اور ان میں اخلاقی مفاسد سرایت کر گئے ہیں تو اگر قوم میں اصلاح احوال کا جذبہ پیدا نہیں ہوا تو وہ ہمیشہ برباد ہو گئی ہے۔ اس کی تباہی میں اس سوال کو کبھی کوئی اہمیت نہیں رہی کہ اس کے فساد کی نوعیت کیا ہے، بلکہ ہر برا عمل، خواہ اس کی نوعیت اس تکبر کی رہی ہو جو عاد اور ثمود میں تھا، اس اخلاقی گراوٹ کی رہی ہو جو قوم لوط میں پائی جاتی تھی یا اس تاجرانہ بدمعاملگی اور بد دیانتی کی ہو جس کا مظاہرہ قوم شعیب نے کیا، جب بھی وہ معاشرہ کا اجتماعی کردار بن گیا تو اس کی موت کا پیغام لے آیا۔ قرآن مجید کے اس فلسفہ کی رو سے ایک قوم کے برمندہونے کے لیے یہ ضروری ہے کہ معاشرہ کے اندر خدا کا خوف اور اس کے ساتھ صحیح بنیادوں پر تعلق پایا جائے۔ دلوں میں آخرت کے محاسبہ کا اندیشہ موجود ہو اور کسی بھی قسم کے فساد اعمال کو معاشرہ پر مسلط ہونے کا موقع نہ دیا جائے۔ یہ مقصد ظاہر ہے کہ صرف اس صورت میں حاصل ہو سکتا ہے جب قوم کے اندر اصلاح معاشرہ کے لیے ایک مسلسل جدوجہد کی جاتی رہے۔ اور کسی بھی فساد کے معاملے میں چشم پوشی سے کام لے کر اسے قوم کے اجتماعی وجود میں راہ پانے کا موقع نہ دیا جائے.

  • والدین  کی عظمت ۔ خدمت اور احساس .تحریر ۔ ڈاکٹر راہی

    والدین کی عظمت ۔ خدمت اور احساس .تحریر ۔ ڈاکٹر راہی

    میں نے جب جب بھی والدین کی عظمت، خدمت اور اُن کے احساس کے حوالے سے لکھا، مجھے اولاد کی طرف سے ڈھیروں ڈھیر شکوے، شکایتیں، دل شکن زیادتیوں کی رودادیں سُننے کو ملتی ہیں۔ میں بھی ظاہر ہے کہ آپ سب کا ہی ایک حصّہ ہوں، اسی معاشرے کا فرد ہوں، جس میں آپ زندگی گزار رہے ہیں، سو میں بھی اس طرح کے کئی سارے معاملات دیکھتا ہوں۔ اس حقیقت سے مُجھے کوئی انکار نہیں کہ برِّصغیری معاشرہ بالعموم بچّوں اور بالخصوص بیٹوں اور بہوءوں کیلئے ایک شدّید قسم کا استحصالی معاشرہ ہے۔ بیٹوں میں سے جو حسّاس ہو، احساسِ ذمہ داری کا مالک ہو، محنتی ہو اور تھوڑا سا اپنی شدّید محنت کے باعث باوسائل ہو، وہ ساری زندگی ایک نادیدہ چکّی میں پستا رہتا ہے اور اُسے اس چکّی کے پاٹوں میں پیسنے والے اُس کے والدین ہوتے ہیں، الّا ماشاءاللّٰہ۔ اور بہوءوں اور بیٹیوں کے ساتھ معاملات میں واضح منافقت اور دوہرا معیار کوئی ڈھکی چھپی بات نہیں ہے۔ اب سوال۔یہ پیدا ہوتا ہے کہ جب والدین زیادتی کر رہے ہوں تو اولاد کیا کرے؟؟ یہ سوال بہت بار مُجھ سے پوچھا گیا اور میں خود بھی بہت عرصے سے اس پہ لکھنا چاہ رہا تھا

    قرآنِ حکیم میں جا بجا ربِّ کائنات نے شرک کی ممانعت کے فی الفور بعد والدین کے ساتھ احسان کرنے کا حُکم دیا ہے، احسان یعنی نیکی، بھلائی، خیر خواہی۔ یعنی رب کو رب تسلیم۔کرنے کے بعد سب سے اہم کام والدین کے ساتھ بھلائی ہے۔ آج اگر والدین کے حقوق کا احساس دلانے کیلئے اولاد کو والدین کی قربانیاں گنوائی جائیں تو کہا جاتا ہے کہ آپ نے اپنی خواہش سے یہ سب کیا، ہم پہ احسان نہیں کیا!!! جب کہ قرآنِ مجید نے ربِّ کائنات نے خود ماں کے احسانات گنوائے ہیں "اور ہم نے انسان کو ماں باپ کے ساتھ نیک سلوک کرنے کا حُکم دیا ہے، اُس کی ماں نے اُس کو بڑی مشقّت سے جنا اور اُس کو پیٹ میں رکھنا اور دودھ چھڑوانا تیس ماہ میں پورا ہوتا ہے”۔ اگر صرف اس ضمن میں قرآنی آیات ہی لکھنا شروع کر دوں تو ایک طویل تحریر مرتّب ہو جائے، احادیث اُس کے علاوہ ہیں اور والدین کی اطاعت اور فرمانبرداری کی بےےے تحاشہ تاکید قرآن اور حدیث شریف میں ملتی ہے۔ اب پھر وہی سوال کہ والدین زیادتی کریں تو کیا کیا جائے۔۔

    پہلے بیٹوں سے بات کروں گا۔ دیکھیں حضراتِ محترم۔۔ سب سے پہلی بات تو یہ ذہن میں رکھیں کہ آپ کے والدین بھی آپ۔کی طرح انسان ہیں۔ اُن سے فرشتوں والے معاملات کی توقّع رکھنا عبث ہے۔ آپ یہ سمجھیں کہ وہ ہر لمحہ، ہر وقت انصاف کا ترازو لے کے پھرتے رہیں گے کہ مُجھ سے زیادتی نہ سرزد ہو جائے تو یہ سعادت بہت کم والدین کے حصّے کے آتی ہے کہ وہ اپنے ضمیر کی عدالت میں خود اپنا احتساب کر کے، اولاد کے ساتھ اپنے معاملات چلائیں۔ والدین کی اکثرہّت ایسا نہیں سوچتی۔ اگر تو آپ باوسائل ہیں اور اپنے بیوی بچّوں کے معاملات بحُسن و خوبی چلانے کے ساتھ باقی بھائیوں سے زیادہ آپ پہ ذمہ داری کا بوجھ ڈالا جاتا ہے اور آپ وہ بآسانی اُٹھانے کے قابل۔ہوں، معاشی طور پر، پھر کہوں گا کہ اپنے بیوی بچّوں کے معاملات بحُسن و خوبی ادا کرنے کے بعد، تو میرا خیال ہے کہ اس معاملے میں آپ اگر اعلٰی ظرفی کا مظاہرہ کریں گے تو آپ پہ اللّٰہ کی رحمت ضرور نازل ہو گی۔ لیکن اگر معاملات ایسے ہوں کہ جہاں۔آپ کو اپنے بیوی بچّوں کے لالے پڑے ہوں اور والدین غیر اخلاقی بوجھ ڈالیں تب آپ پہ سب سے پہلے اپنے بیوی بچّوں کے معاملات ادا کرنا فرض ہے۔ فرض کریں کہ آپ والدین کی کسی حقیقی زیادتی کے باعث اُن سے اپنے معاملات الگ کر چُکے ہیں، گھر کے اندر ہی یا گھر سے باہر کسی اور جگہ، تو کیا آپ کو والدین کو مُردہ تصوّر کر لینا چاہیئے؟؟ آپ سال سال بھر اُن سے ملیں نہ، بیوی بچّوں کو اُن سے نہ ملوائیں، اُن کی کسی ضرورت پہ نظر نہ رکھیں، کیا یہ ردِّ عمل ہونا چاہیئے؟؟ ہر گز نہیں!! آپ اُن سے الگ ہو کے دُنیا کے کسی بھی کونے میں چلے جائیں، آپ کی بنیاد، دنیا اور آخرت کی بھلائی صرف ان دو انسانوں۔کے ساتھ منسلک ہے، جو آپ کے والدین ہیں۔ یاد رکھیں کہ اگر والدین زندگی کے کسی موڑ پہ اولاد کے ساتھ زیادتی کرتے بھی ہیں تو وہ اپنی زیادتیوں، ظلم اور ناانصافیوں کیلئے ربِّ کائنات کی بارگاہ میں از خود ذمہ دار اور جوابدہ ہیں، اُن کی زیادتی آپ کی زیادتی کیلئے کبھی جواز نہیں بن سکتی. آپ اپنے حقوق کا تحفّظ کر چُکنے کے بعد اُن کے ساتھ ہر طرح سے حُسنِ سلوک کرنے کے پابند ہیں۔ وہ ناراض ہیں تو اُنہیں منائیں، بےشک آپ اُس معاملے میں واقعتاً مظلوم ہوں، تب بھی، جہاں تک ممکن ہو اُن کی ضروریات کا ازخود خیال رکھیں اور دو گھروں میں رہ کے بھی، احساس زندہ ہو تو والدین کی خدمت کرنا کوئی مشکل امر نہیں۔ قرآنِ حکیم۔میں مُشرک والدین کی شرک میں اطاعت سے منع فرمانے کے بعد ربِّ کائنا ت نے دُنیاوی معاملات میں اُن کے ساتھ حُسنِ سلوک کا حُکم دیا ہے۔ مُراد یہ کہ اُن۔کے وہ احکامات جن سے دین۔کے کسی بھی حُکم کی روح مجروح ہوتی ہو، وہاں اطاعت ساقط ہو جاتی ہے لیکن خدمت اس کے باوجود بھی فرض ہی رہتی ہے۔

    اب آتا ہوں بہوءوں کی طرف۔۔! آپ کو دورِ جدید کی علم۔کی فراوانی نے یہ تو بتا دیا ہے کہ ساس سُسر کی خدمت کرنا آپ پہ شرعاً فرض نہیں لیکن کسی نے آپ کو یہ نہیں بتایا کہ اسلامی قانون اور فقہ کے مطابق اخلاقی فرض شرعی فرض پہ مقدّم ہوتا ہے۔ اس کی مثال علماء کُچھ یوں دیتے ہیں کہ سوءر ایک نجس العین جانور ہے، اس کو چھونا بھی ناپاکی کا باعث بنتا ہے۔ شرعاً اس کو چھونے کی سختی سے ممانعت ہے، لیکن فرض کریں کہ آپ کہیں جا رہے ہوں اور آپ کے رستے میں ایک سوءر زخمی حالت میں موجود ہے تو اُس کی زندگی بچانے کی تگ و دو کرنا آپ کا اخلاقی فرض بن جاتا ہے، یہاں اُسے چھونے کی شرعی ممانعت ساقط ہو جائے گی اور آپ کا اخلاقی فریضہ مقدّم ہو جائے گا اور آپ اُسے اُٹھا کے طبّی امداد دینے کیلئے لے کے جائیں گے۔ تو آپ کا کیا خیال ہے کہ جن والدین کی مشقّتّوں اور رہاضتوں کا ثمر، اُن کا بیٹا آپ کی زندگی میں ہر لمحہ آسانیاں پیدا کر رہا ہے، اُن کی خدمت سے بڑا بھی کوئی اخلاقی فریضہ ہو گا؟؟ چھوٹی موٹی زیادتیوں سے ویسے ہی صرفِ نظر کر دیا کریں، جیسے شادی سے پہلے اپنی امّی کی ڈانٹ ڈپٹ اور ابّو جی کی کسی وقت کی سختی برداشت کیا کرتی تھیں۔ اگر زیادتی حد سے سوا ہو جائے تو اپنا تحفُظ ضرور کریں، اُن سے ایک فاصلہ پیدا کر لیں۔ الگ گرہستی رکھنا آپ کا حق اور آپ کے شوہر کا فرض ہے، لیکن اپنا الگ سے گھر بسانے کا مطلب یہ ہرگز نہیں کہ والدین سے قطع تعلّق کر لیا جائے، اُن کے ساتھ دل۔میں احساس، اور مروّت کا رشتہ کم از کم قائم رکھیں۔ وہ اپنی زیادتیوں کیلئے رب کی بارگاہ میں خود جوابدہ ہیں، اُن کے ساتھ روا رکھے گئے سلوک کے بارے میں آپ سے بہر صورت سوال کیا جائے گا۔ وما علینا الّا لبلٰغ۔۔

  • انسان نما بھیڑیے . تحریر : سہیل احمد چوہدری

    انسان نما بھیڑیے . تحریر : سہیل احمد چوہدری

    کووڈ -19 نام تو ابھی یاد ہی ہوگا جس نے ساری دنیا میں ہلچل مچا دی. زندگی جیسی بھی سہی گزر رہی تھی. ہر کوئی اپنی چال چل رہا تھا. اپنی خواہش اوراستطاعت کے مطابق زندگی کے پلان بنا رہا تھا.یہ ہوگا تو وہ ہوگا ایسے کریں گے ویسے کریں گےوغیرہ وغیرہ.

    پریقینا ہم یہ شاید بھول چکے رھے کہ "سامان سو سال کا پل کی خبر نہیں” کیونکہ ہوگا وہی جو اسکی چاہت ہے. اچانک ایک بات نکلی اور آہستہ آہستہ پوری دنیا میں اس کے چرچے ہونے لگے. توجہ کا مرکز چین نکلا. چین کے شہر ووہان جو کہ تجارتی مرکز تصور کیا جاتا ہے.کچھ سمجھ نہیں آرہی تھی.جس کی جتنی سمجھ تھی اس نے اس کا چورن سوشل میڈیا پر بیچا.

    بات کچھ یوں ہے کہ امریکہ اورچائنہ کی عالمی طاقت ہونے پر سوال اٹھنے لگے. کبھیG-5 پر ملینڈا ایڈ کمپنی کو رگڑا گیا. کبھی چائنہ میں چمگادڑوں.بندروں. سانپوں. کتوں کے کھانے پرمورد الزام ٹھہرائے گئے. رہے سہے چائنہ نے جو اقدامات ووہان شہرمیں کئے وہ سب آپ جانتے ییں. پھراسی فضاء نے یورپ کا رخ کیا اور اپنی لپیٹ میں کے لیا. فکر اس بات کی ہے جن کو ہم کافر کہتے ہیں پھر ہم انسانیت کے لحاظ سے انکی تعریف کیوں کرتے ییں؟ وہاں وباء کے دوران روزمرہ زندگی کی ہرشے کو سستا کیا گیا اورنظم ضبط کو ہمیشہ ملحوظ خاطررکھا گیا.

    اب آتے ہیں اپنے پیارے ملک پاکستان میں بحثیت ملازم کام کی وجہ سے مارکیٹ کے لوگوں کے ساتھ کافی میل جول یے. اس لیے سچ لکھنے پربضد ہوں. جیسےںی کورونا 2020 کے اوائل میں اپنا سراٹھانے لگا تو کسی کو کچھ سمجھ نہیں آرہی تھی. کاروباری حضرات نے وباء کے دوران سر میں چمپی لگا کر سوچنا شروع کیا کہ اس وباء پر کیسے کاروبار کیا جائے. ملک پہلے ہی قرض کے بوجھ تلے ڈوبا ہوا تھا اوپر سے ڈالرکی اڑتی اڑان کم تھی جو یورپ میں وباء کی تباہ کاریوں کی بدولت مزید پریشانیاں پی ٹی آئی کی حکومت کے آڑے آئیں. ڈبلیوایچ اوکی خدمات لی گئیں.مختلف ٹیٹو پاٹیاں اورلفظوں کے ہیر پھیرپرخطاب وارد ہوئے. احساس پروگرام.ہیلتھ کارڈ.راشن کارڈ.موضوع بحث رہے.

    ملکی مافیا چاہے کسی شعبہ زندگی سے تعلق ہو حکومت کے آگے تن کرکھڑی ہوگئی. پٹرول مافیا. چینی مافیا. مہنگائی کے چکرمیں بیچاری غریب عوام دردرکی ٹھوکریں کھانے پرمجبورہوئی. پردوسری طرف حکومت کے لگائے لاک ڈاون اور وقت کی بندش اور تجاوزات ہٹانے پر بےچارہ غریب مرتا ناں تو کیا کرتا. بڑے بڑے پرائیویٹ اداروں کو ملازمین کو منٹوں میں نوکری سے فارغ کرتے دیکھا. خالی ہاتھ گھروں میں بھیج دیا گیا. 2020 میں اسکول بںد ہونے پر 20 فیصد فیس میں کمی وہ بھی عدالت کے نوٹس لینے پرجو 2021 میں شاید عدالت کو اپنی غلطی کا احساس ہونے پریاد آگیا.
    حیرت ہے مافیا ڈھونڈنے والوں کو اسکول کیوں بھول جاتے ہیں ایسا لگتا ہے جیسے کورونا صرف غریبوں کیلیے آیا کیونکہ ماسک سے لے کر ادویات اور کپڑے والوں کو شاید استثنی حاصل رہا. رہے سہے 2020 گزرگیا پر شاید ہم نے سیکھا کچھ نہیں.

    اب آتے ہیں اصل مدعا پر2021 میں تیسری لہر آئی تو لوگوں نے حکومت کے ایس او پیز کے مطابق 20 % عمل کیااور اس کو محض ایک ڈرامہ اورسازش سمجھا. آہستہ آہستہ جب کورونا نے ہسپتالوں کی ایمرجنسیز اور گھروں کا رخ کیا تو لوگ کو 30 % یقین ہونے لگا
    خیر ایک سال کی تحقیق کے بعد یہ رزلٹ آیا کہ کورونا کے مریض کو فوری طورپرجس چیز سے بچانا ہے وہ ہے اس کا Clotting Factor
    D-Dimer جس کاپرائیویٹ لیبارٹری میں ٹیسٹ تقریبا 2000 کا اور دوسرے فیکٹر ڈال کر 6500 ٹوٹل خرچا. کورونا کے مریض کا خون گاڑھا ہوجاتا یے جس کی وجہ سے خون کی نالیوں میں انجماد کی وجہ ہے ہارٹ اٹیک پربندہ فارغ.

    اب مسئلہ یہ تھا کہ اس ضمن میں جو دوائی موجود ہے وہ hyprin .Clexin انجیکشن یاں آخرمیں لوپرن یاں اسکارڈ رہ جاتی ہے.ہوا یوں کہ مافیا پھرسرگرم رہا اوردیکھا کہ کووڈ کے مریضوں کیلیے یی ادویات بہت ضروری بلکہ لائف سیونگ ڈرگزبن گئیں تو انھوں نے اس موقع کو غنیمت جانا اور اپنا کاروبار کوچارچاند لگانے کیلیے بلیک کا گنوونا دھندہ شروع کیا اوراپنے پاس اسٹاک جمع کرلیا. لوگ دوا کے ناں ملنے سے مرنا شروع ہو گئے. رہی بات دوا ساز کمپنی کی تو دوا کا ناں ملنا صرف یہ تھا کہ 2020 میں دوا ساز کنپنی دوا کی قیمت بڑھا چکی تھی .اس پر وقت مقرر کیا جاتا ہے خیر انہوں نے بھی اس موقع سے فائدہ اٹھانا چاہا اور حکومت سے دوا کا ریٹ بڑھانے پر بات کی پر حکومت کے ساتھ ان کے مزاکرات ناکام ہوگئے.

    جیسا کہ ہم خوف اورمجبوری کی بناء پرلوگوں کو لوٹتے ہیں اور یہی سچ ہے. جب ان انجیکشن کا پتا کیا گیا تو جنہوں نے بلیک کیا تھا ان کو ناں تو کوئی پکڑنے والا اورناں کاروائی کرنے والاہے. انہوں نے لوگوں کے پیاروں کے پیار میں بچھڑنے کی مجبوری میں خوب پیسا کمایا.
    میرا گلہ صرف یہ ہے کہ کیا ہم نے یاں ہمارے کسی پیارے عزیز نے کیا کبھی بیمارنہیں ہونا، کیا وہ اس انجیکشن کو بلیک میں بیچ کر اپنے پیاروں کو ہر بیماری سے محفوظ رکھ پائیں گے.

    خدارا انسان بنیں، کیونکہ حقوق العباد پر معافی شاید وہ بھی ناں دے، کیونکہ جس نے ایک انسان کی جان بچائی گویا اس نے ساری انسانیت کی جان بچائی.
    "” جان دی دی ہوئی اسی کی تھی
    حق تو یہ ہے کہ حق ادا نہ ہوا”
    ذرہ سوچیئے……

    @iSohailCh

  • پولیس محافظ یا ڈاکو . تحریر: شاہ زیب

    پولیس محافظ یا ڈاکو . تحریر: شاہ زیب

    بنی نوعِ انسان غیرمتمدن زندگی سے بتدریج تمدن پذیرہوئی ہے. نیکی و بدی، اچھائی وبرائی، مثبت و منفی ہمیشہ ساتھ ساتھ متوازی چلتے ہیں
    اسی طرح انسانی رویوں میں تضاد فطری بات ہے. معاشرے کو نظم و ضبط کا پابند بنانے اوربگاڑ سے روکنے کے لئے اخلاقی تعلیمات کے ساتھ ساتھ قانون پرعمل درآمد کروانے کے اداروں کی ضرورت پیدا ہوئی اور پولیس جیسا محکمہ وجود میں آیا. ترقی یافتہ ممالک میں پولیس کا آپ کے آس پاس ہونا تحفظ کا احساس فراہم کرتا ہے. کسی بھی جرم یا بدنظمی کی شکایت کے لئے پولیس کے پاس جانا نہایت آسان اور حوصلہ افزاء ہے. ان ممالک میں پولیس قانونی کارروائی اور سزا دینےوالے ادارے سے زیادہ معاشرے کی ایک مثبت اور اکائی اور چھتری تصور کی جاتی ہے.

    اب آتے ہیں اپنے محبوب وطن کی طرف جہاں پولیس کا نام ہی دہشت کی علامت ہے. بدعنوانی, رشوت, کرپشن, ناانصافی, جرم اور مجرم کی پشت پناہی جیسے مکروہ کام ہماری پولیس کا "طرۂِ امتیاز ” تصورکئے جاتے ہیں. ہمارے ہاں مشہور ہے کہ پولیس کی دوستی اچھی نہ دشمنی. پولیس میں رپورٹ درج کروانے کے لئے پیسے کے ساتھ ساتھ کوئی تگڑی سفارش درکار ہوتی ہے, رپورٹ درج ہونے کے بعد کارروائی کے لئے آپکی جیب چلتی رہے گی تو پولیس وین کا پہیہ اور تفتیشی کا قلم چلتا رہے گا ورنہ سائل کے جوتے گِھس کر پھٹ جائیں گے, کندھے جھک جائیں گے بھاگ بھاگ کر لیکن اس کیس کا کوئی نتیجہ نہیں نکلے گا. جُوا خانے، شراب فروشی و منشیات فروشی کے اڈے اورقحبہ خانے منتھلی کی مد میں ایک بڑی رقم متعلقہ تھانے کو دیتے ہیں اور قانون کے محافظوں کی چھتر چھایا میں بے فکرہوکر اپنے دھندے چلاتے ہیں. قانون انکے دروازوں کے باہر اونگھ رہا ہوتا ہے.

    سیاستدانوں کی وابستگیاں ایک الگ فیکٹر ہے، سیاستدان اپنا دبدبہ اور رسوخ برقرار رکھنے کے لئے اپنی مرضی کے افسران اپنے علاقوں میں تعینات کرواتے ہیں. مجرم اور ظالم پولیس کی فطرت کو سمجھتے ہیں اس لئے افسران کی "خدمت” کردی جاتی ہے. جبکہ غریب اور کم اثرورسوخ والا شہری عتاب کا شکارہوجاتا ہے.

    اگرپاکستانی معاشرے کو بہتراورجرائم سے پاک محفوظ معاشرہ بنانا ہے تو پولیس ماڈل میں اصلاحات اورسخت تبدیلیاں لانا ہونگی، پولیس کو غیر سیاسی کیا جانا ضروری ہے، درج شدہ کیسزپرکارروائی کے لئے ایک مخصوص مدت مقررکرنی چاہئے اورکارروائی نہ ہونے یا مناسب نہ ہونے پر تفتیشی افسران اور تھانہ انچارج کو احتساب کے کٹہرے میں کھڑا کیا جانا ضروری ہے ورنہ یہ معاشرہ انسانوں کے رہنے کے قابل نہیں رہے گا.

    @shahzeb___

  • وطن عزیزکی حالت اورعوام کی اندھی تقلید . تحریر: علی حسن

    وطن عزیزکی حالت اورعوام کی اندھی تقلید . تحریر: علی حسن

    پاکستان کی صورتحال ہرکسی پرعیاں ہے، ملک کو لوٹنے والے سیاست دان جو کروڑوں روپے الیکشن میں لگا کر حکومت میں آتے ہیں وہ عوام کی خدمت کرنے نہیں آتے بلکہ وہ لوٹ مارکے زریعے سود سمیت اپنا سارا پیسا واپس وصول کرلیتے ہیں. اس ساری صورتحال کی اصل ذمہ دارعوام ہے جو آج تک اپنے حکمران کا سہی انتخاب نہیں کرسکی. پاکستان کا آئین جس پرسارے ملک کا دارومدارہوتا ہے، جس کے تحت ملک کا قانون ہوتا ہے. اسی آئین کی رو سے ہمارے ملک کا حکمران کس طرح کا ہونا چاہیے یہ بہت ساری عوام جانتی ہی نہیں.

    اپنے حکمران کا سہی انتخاب بہت ضروری ہے.
    پاکستان کی عوام میں بہت بڑی خامی یہ کہ یہ قانون کے بارے میں کچھ نہیں جانتے.
    پاکستان کا آئین کیا ہے کسی کو کچھ نہیں پتا.
    یہ تعلیم کا فقدان اندھی تقلید کا باعث ہے.

    پاکستان کے نظام تعلیم میں آئین پاکستان کی تعلیم لازمی شامل کرنی چاہیے تاکہ نئ نسل کو اپنے ملک کے قوانین کے بارے میں آگاہی حاصل ہو.عوام میں شعور کا فقدان اس قدر ہے کہ ہر کوئی انہیں اپنی باتوں میں لگا سکتا ہے آج تک کسی بھی حکومت نے عوام کی عزت کی بالادستی کی بات نہیں کی. اور ستم ظریفی یہ کہ ہمارے حکمران اسلامی اقدار پر بھی حملے کر چکے اس کے باوجود عوام ان کو ووٹ دیتے ہیں. کوئی اپنی گلی کے لیے ووٹ دے رہا ہے، کوئی نالیوں کے لیے اورکچھ لوگ تو کہتے ہیں یہ حکمران کچھ بھی نا کرے پھر بھی ووٹ اسی کو دینا ہے. اس قدر اندھی تقلید سے ملک کا نظام ٹھیک نہیں ہو سکتا.

    سیاست میں عوام کا کیا کردار ہونا چاہیے؟

    ہم مسلمان ہیں ہمارا سب سے اہم فریضہ اسلام کی سر بلندی ہے عوام کو یہ لازمی دیکھنا ہو گا کہ ہم جس کو ووٹ دے رہے ہیں، ہم جس کو اسلامی ریاست کا سربراہ تسلیم کر رہے ہیں کیا وہ اسلامی تعلیمات پرکم از کم اتنا عبوررکھتا ہے وہ ملک کے ہرشعبے کواللہ تعالیٰ کی قائم کردہ حدود میں رہ کر چلاسکے گا. اس کے بعد کیا وہ عوامی مسائل کو جانتا ہے کہ عوام کن مسائل سے دوچار ہے.

    کیا وہ عام آدمی کو عزت دلا سکتا ہے جس کے ووٹوں پر وہ حکمرانی کرے گا؟
    کیا وہ اتنا مضبوط ہے کہ ریاست کا بوجھ اٹھا سکے؟

    آج کل عوام کو بےوقوف بنانے کے لیے لبرل قسم کے لوگ بہت سر گرم ہیں جن کہنا ہے کہ اسلام اور سیاست الگ الگ ہیں.
    ایسا بلکل بھی نہیں ہے اسلام مکمل ضابطہ حیات ہے اس میں دنیا کے ہر شعبے کے لیے راہنمائی موجود ہے.
    اس میں عدل کرنے کے احکامات موجود ہیں، اس میں حکومت کرنے کا طریقہ کار موجود ہے، اس میں تجارت کے اصول موجود ہیں حتیٰ کہ اس میں تمام شعبہ زندگی کے لیے راہنمائی موجود ہے. اسی لیے بحیثیت محب اسلام اور محب وطن ہمیں اسلام کا علم رکھنے والے حکمران کا انتخاب کرنا ہوگا. اللہ تعالیٰ تمام کائنات کا خالق اور مالک ہے دنیا کے تمام خزانے اللہ کے ہیں جب ہم اسلام کو ترجیحات میں سر فہرست رکھیں گے تو اللہ تعالیٰ ہمارے ہر کام آسان فرمائے گا. یہی ہماراعقیدہ ہونا چاہیے. اچھے حکمران کا انتخاب کرنے کے بعد بھی ہماری ذمہ داری ختم نہیں ہوگی.

    عوام کو اپنی طاقت کا علم ہونا چاہیے جس طرح عوام اپنے ووٹوں کی طاقت سے حکمران بناتے ہیں ویسے ہی عوام حکمران کے غلط کاموں پر اسے طاقت کی کرسی سے اٹھا بھی سکتے ہیں. آج کل لوگ اپنی سیاسی جماعت سے اس قدر لگاو رکھتے ہیں کہ ان کے ہر اچھے اور برے کام کا دفاع کرتے ہیں. یہ بہت بڑا ظلم کرتے ہیں. کوئی بھی حکمران ہو چاہے ہمارا حمایت یافتہ ہو یا کوئی اور اگرغلط کام کرنے پر بضد ہے تو اس کے خلاف کھڑے ہو جائیں تاکہ ہرآنے والے کو پتا ہو کہ ہمارا کوئی غلط کام برداشت نہیں کیا جائے گا. خدارا غلط کو غلط کہنا سیکھ لیں ورنہ ہم کبھی بھی اپنی عزت نہیں کروا سکیں گے. حکمران عوام کو کچھ سمجھتے ہی نہیں ان کو پتا ہے ہمارے ہر غلط کام کا دفاع کرنے والے لوگ موجود ہیں. اسلام میں حکمرانی عیاشیوں کا نام نہیں بلکہ خدمت خلق کا نام ہے.

    اللہ تعالیٰ ساری عوام کو شعور عطاء فرمائے تاکہ ہم بحیثیت قوم اپنے فرائض ادا کریں اورحکمرانوں کا بہترانتخاب کرسکیں.
    فی امان اللہ.

  • جہیز لعنت نہیں رشتوں کا قاتل ہے .تحریر ماشا نور

    جہیز لعنت نہیں رشتوں کا قاتل ہے .تحریر ماشا نور

    جہیز سے ہمیں کوئی سروکار نہیں ہمیں بس اپکی بیٹی پسند ہے ہمارے گھر میں اللہ کا دیا سب کچھ ہے ” یہ وہ جمعلے ہیں تو تقریباً 70 فیصد رشتہ دیکھنے آنے والے لوگ اپنے منہ سے کہتے بات نکاح تک پہنچ جاتی تب انکی اصلیت کے دروازے کھلنے شروع ہوتے آپ جو دینگے اپنی بیٹی کو دینگے آخر اسکے ہی تو کام آئے گا چائیے پھر جہیز دیں یا موٹی رقم دونوں صورتوں میں آپکی بیٹی کا ہوگا ” اچھے کھاتے پیتے گھرانوں کے لوگ بھی جہیز کی مانگ کرتے ہیں بس طریقہ واردات الگ ہوتا ہے ہمارا بیٹا شادی کے بعد باہر جاے گا آپکی بیٹی بھی ساتھ جاے گی انکے کام آئے گا پیسہ، بڑی بڑی شاندار شادیوں میں اربوں روپیہ خرچ کرنے والے اداکار سیاستدان کہتے ہیں جہیز لعنت ہے ون ڈش پر عدالتی فیصلے آئے دن سنائی دیتے ہیں مگر یہ سب صرف کہنے کی باتیں ہے ایک غریب بات ساری زندگی یہی جمع جوڑ کرتا رہتا ہے کہ بیٹی کو بیاہ کر اسکے گھر کا کرنا ہے جیسے تیسے جہیز جمع کربھی لیں تو عین موقع پر سسرال والے گاڑی کی ڈیمانڈ کرتے بیٹی سسرال میں وہ مقام نا حاصل کر پاتی جو ٹرک بھر کر جہیز لانے والی بڑی بہو کو حاصل تھا روز روز طعنے مار پیٹ جھگڑے ذہنی اذیت لڑکی کا مقدر بن جاتی، باپ بیچارہ قرضوں کے بوجھ تلے دب کر دوسری بیٹی کو اسکے گھر کا کرنا ہے سوچ سوچ کر روز مرتا ہے،
    کچھ عرصہ قبل انڈیا میں ایک عائشہ نامی لڑکی نے تالاب میں کود کر اپنی جان دے دی وجہ جہیز سسرال والے اسکو قبول نہیں کررہے تھے شوہر روزانا پیسوں کی مانگ کرتا آخر عائشہ نے ماں باپ کی مجبوری بےبسی کو دیکھتے ہوئے موت کو گلے لگا لیا ایسی کتنی ہی لڑکیاں ہیں جو سسرال والوں کے تشدد سے تنگ آکر خود کو ختم کرلیتی ہیں یا اکثر جہیز نا ہونے پر گھروں میں بیٹھی ہیں آخر کب اس سوچ کو ختم کیا جاے گا، ہم بہو نہیں بیٹی بناکر لےجارے ہیں عورت کے نصیب سے آدمی بنتا ہے کیوں یہ بات مردوں کو سمجھ نہیں آتی

    لڑکی والے جہاں اپنی بیٹی کا مستقبل محفوظ کرنے کے لیے اچھی نوکری گھر کاروباری رشتہ ڈھونڈتے تو وہی لڑکے والے بھی خوبصورت ،کم عمر ،جہیز لانے والی لڑکی کی ڈیمانڈ کرتے ہیں ہم یہ کیوں نہیں سوچتے کے ہمارے گھروں میں بھی بیٹیاں بیٹھی ہیں آج دوسرے کی بیٹی پر ظلم کریں گے کل خود کی بہن بیٹی کے ساتھ ہوگا چار برتن دو کپڑوں کے ساتھ بیٹی کو بیانے کے خواب کب حقیقت ہونگے ہمیں خود یہ روایات توڑنی ہونگی جہیز لعنت نہیں جہیز رشتوں کا قاتل ہے پڑھے لکھے نوجوان اس بلا سے کنارہ اختیار کرنے کی کوشش کررہے ہیں مگر خاندانی روایات کو ختم کرنا جیسے گناہ عظیم ہے کہیں سے کوئی تو اس کی شروعات کرے لڑکوں کو چائیے اپنے والدین کو اعتماد میں لیں اپنی کمائی پر بنانے کا جذبہ دکھائیں انھیں ہوسکتا ہے تب یہ سلسلہ اک نیا رخ اختیار کرے اور بہت سی لڑکیاں اپنے گھروں کی ہوجاہیں جو غربت کے باعث بالوں میں چاندی لیے گھروں میں زندگی گزار رہی ہیں قدم بڑھائیے آپ ہی وہ پہلے انسان ہوسکتے ہیں

  • عدل و انصاف کا حصول ناگزیر . تحریر: زمان خان

    عدل و انصاف کا حصول ناگزیر . تحریر: زمان خان

    کیا آپ جانتے ہیں
    جو ترازوعدالت کے باہر لٹک رہی ہوتی ہے وہ انصاف کی قیمت اپنے اپنے وزن کے مطابق طے کرنے کے لیئے ہوتی ہے۔ عوام تو بھولی بادشاہ، عدل کے وہ پلڑے سمجھ بیٹھی جو انصاف دیا کرتے ہیں۔ بھلا کیا یہ ممکن ہے کہ جھوٹ بیچنے، کمانے اور کھانے والے کرپٹ ترین وکلاء جن پر سیاستدانوں کی نظر کرم نے جج کا تمغہ عطا کیا ہو وہ نیک اورصالح لوگ عوام کو انصاف دے سکیں؟
    جو جتنا بڑا چور،غنڈہ اتنا ہی اثرو رسوخ والا وکیل!
    جس کے نام سے جج کی بھی ٹانگیں کانپتی ہوں!
    یہ کہاں ہوتا ہے؟
    جی ہاں یہ سب ملک خداداد اسلامی جمہوریہ پاکستان میں ہوتا ہے.
    آخریہ سب کب تک چلے گا؟
    آخریہ حرام کی نرسری میں پیدا ہونے والے کب تک ہمارے ملک کی اعلی عدلیہ کا وقاراسی طرح مجروح کرتے رہیں گے؟
    کیوں انصاف کرنے والا بلا خوف و خطر فیصلہ سنانے کی ہمت نہیں رکھتا؟
    کیوں ایک غریب پھانسی کے پھندے تک آسانی سے پہنچ جاتا ہے اور ایک سیاسی گدھ کے تمام گناہ یا تو معاف کر دیئے جاتے ہیں یاتو سیاسی مصلحتوں کا شکار کر دیئے جاتے ہیں۔
    کیوں سیاسی مقدموں کا فیصلہ نہیں ہوتا؟
    اگرہوبھی تو لولا لنگڑا
    آخرکیوں
    ایان علی کیس رزلٹ صفر
    ارسلان افتخار کیس رزلٹ صفر
    ڈاکٹرعاصم کیس رزلٹ صفر
    سستی روٹی کرپشن کیس رزلٹ صفر
    احد چیمہ صرف ریمانڈ رزلٹ صفر
    بینظیرایئرپورٹ کرپشن کیس رزلٹ صفر
    رئیسانی حرام کمائی گھرسے برآمد رزلٹ صفر
    شرجیل میمن کرپشن کیس رزلٹ صفر
    صاف پانی کرپشن کیس رزلٹ صفر
    ماڈل ٹاون کیس رزلٹ صف
    شہد کی بوتل کیس رزلٹ صفر
    مجید MPA اہلکار قتل کیس رزلٹ صفر
    بلدیہ ٹاون کیس رزلٹ صفر
    سانحہ ساہیوال کیس رزلٹ صفر
    شاہ رخ جتوئی کیس رزلٹ صفر
    پرویز رشید غداری کیس رزلٹ صفر
    راجہ رینٹل کیس رزلٹ صفر
    حسین حقانی کیس رزلٹ صفر
    فائز عیسی کیس رزلٹ صفر

    کیا کبھی نیک اوردیندار لوگ جو آخرت اور یوم حساب کا خوف رکھتے ہوں انصاف کی کرسی پربیٹھیں گے؟
    کیا کبھی قرآن و سنت کے مطابق نظام عدل قائم کیا جاسکے گا؟
    کیا انگریزکا دیے ہوئے نظام عدل میں اسلامی اقداراورقرآن و سنت کے مطابق ترامیم کر کے عملاً رائج کیا جا سکے گا؟
    کیا نظام عدل کے بنیادی اصول جو کہ اصل میں ایک اسلامی معاشرے کی بنیاد ہیں ایمانداری، نیک نامی، دیانتداری، امانتداری نہیں ہونے چاہئیے؟

    کیا ہمارا معاشرہ ان تمام بنیادی اسلامی اقدار اور رہنما اصولوں سے بہت دور نہیں نکل آیا؟

    کیا یہ تمام خوبیاں ہمیں اپنے نظام میں کہیں نظر آتی ہیں؟
    تو پھر کیوں نا ملک بھر کے غیر سیاسی اور نیک نامی علماء کرام کی زیر نگرانی چلنے والے مدارس سے تعلیم حاصل کرنے والے قابل نوجوانوں کو قانون کے شبعہ میں لایا جائے؟
    دین جن کے سینوں میں ہو گا
    جنہیں کم ازکم خوف خدا تو ہو گا
    جنہیں سچ اورجھوٹ کی تمیزتو ہوگی
    جنہیں ناانصافی کرنے اورجھوٹ کا ساتھ دینے پراللہ کا خوف تو آئے گا
    جنہیں رشوت کے عوض انصاف بیچنے پرعذاب الہی تو یاد ہوگا اورخوف خدا سے انکے ہاتھ توکانپیں گے

    کیونکہ عدل وانصاف ہی وہ پیمانہ ہے جس کی بدولت انسانیت زندہ ہے
    اگر معاشرہ عدل وانصاف سے عاری ہو تو وہ معاشرہ ظلم و جبر کی آماجگاہ تو ضروربن سکتا ہے مگر صالح معاشرہ نہیں بن سکتا۔
    عدل وانصاف کا جذبہ ہی وہ جذبہ ہے جو انسان کو بلندی کی طرف لے جاتا ہے.
    یہی وجہ ہے کہ اللہ رب العزت نے اخلاقی و معاشرتی احکام کے ساتھ عدل و انصاف کو بیان فرمایا ہے.
    ارشاد باری تعالی ہے.
    ” اللہ تمہیں عدل و احسان کا حکم دیتا ہے”

    ‎@Zaman_Lalaa

  • کورونا وائرس کے اثرات اوربدلتے حالات . تحریر: حافظ اسامہ ابوبکر

    کورونا وائرس کے اثرات اوربدلتے حالات . تحریر: حافظ اسامہ ابوبکر

    COVID-19 کی وجہ سے جن حالات میں سے زندگی گزری ہرطرف ایک عجیب ڈرخوف اورکشمکش کی صورت حال دکھائی دی ہے.
    ایسا پہلے نہ کبھی کسی نے سنا نہ دیکھا کہ ایک ایسی بیماری جس نے یک لخت پوری دنیا کو لپیٹ میں لے کرحیران کردیا ہے.
    مارچ 2019 تک سب ٹھیک تھا زندگی اپنے پورے وجود کے ساتھ گنگناتی تھی دنیا کے وہم و گماں میں بھی نہیں تھا کوئی ایسی وبا آۓ گی جو دنیا کا نقشہ بدل کر رکھ دے گی ہے.

    پھراچانک چائنہ میں ایک ایسی بیماری کا جنم ہوا جس نے دیکھتے ہی دیکھتے پوری دنیا کو ہلا کررکھ دیا بیماری جسے Covid-19 کا نام دیا گیا اس نے ہر ملک شہر، گاؤں، دیہات میں اپنے پنجے گاڑ لیے اورزندگی کو مکمل مفلوج کرکے رکھ دیا سکول کالجز، دفاتر، کاروباری اداروں کے ساتھ ساتھ تفریحی مقامات بھی بند کردیے گئے اور یوں لاک ڈاؤن میں مقید ہوکردنیا حقیقی معنوں میں مفلوج ہو کررہ گئی ہے.

    کاروباری لحاظ سے کرونا کی وبا سے ہونے والے نقصان پر قابو پانے کے لیے اقوامِ عالم متحرک ہوگیا ہے. یورپی یونین میں شامل ممالک کو گرانٹ اورآسان شرائط پرقرضے دینے کی تنظیم نے سات سوپچاس ارب یورو مختص کردیے بدا منی بھوک اورافلاس زدہ افریقی ممالک بھی باہمی تعاون کے منتظراورانکی بحالی کی کوششیں شروع کردی گئیں ہیں. مگر جنوبی ایشیا کی بدقسمتی ختم نہیں ہوسکی اور ہرگزرتے دن کے ساتھ کورونا کی تباہی کے ساتھ جنگ کے سائے گہرے ہو رہے ہیں. بھارت کومذہبی انتہا پسندی کا مرکز بنانے کے بعد مودی سرکار نے جارحانہ عزائم چھپانے کا تکلف بھی چھوڑ دیا ہے اورہمسایہ ممالک سے تعلقات بگاڑ کرخطے کی بالادستی حاصل کرنے کے بعد طاقتوراورسپرپاوربننا چاہتا ہے جو کہ ممکن نہیں ہے کیوں کہ پاکستان خطے میں امن کے لئے ہروقت کوشاں ہے اور چائنہ اس کے ساتھ کھڑا ہے لیکن بھارت کی شر پسندانہ سرگرمیوں کی بنا پر ہمسایہ ممالک بدظن ضرور ہوئے ہیں خاص کر افغانستان جہاں طالبان کے ساتھ اس کے رابطے مضبوط ہیں بھارت جن خبروں کی پہلے ہٹ دھرمی سے تردید کرتا رہا لیکن حالیہ دنوں میں اس نے کھلے عام اس بات کا اعتراف کیا ہے.

    پاکستان سے اپنی ازلی مخاصمت کی طویل تاریخ کے باوجود خطے کی بالادست قوت تو نہیں بن سکا مگر سارک تنظیم کو کمزور کرنے میں ضرورکامیاب ہوگیا ہے. حالانکہ بھارت کی جنونی حکومت اگر امن پسندی کا مظاہرہ کرتی تو نہ صرف یورپی ملکوں کی طرح سارک ممالک بھی ترقی کی منازل طے کر سکتے تھے. بلکہ سارک تنظیم دنیا کی مضبوط ترین تنظیم بن سکتی تھی. بھارت کی ہٹ دھرمی کا دنیا ادراک نہیں کرتی بھارت کے کرتوتوں پر چشم پوشی سے کام لیتی ہے. بالخصوص امریکہ جو کہ پاکستان سمیت تمام ہمسایہ ممالک کے لئے خوفناک تصادم کی راہ ہموارہوسکتی ہے.

    موجودہ صورتحال کے پیش نظر کسی بھی طرح کوئی بھی ملک معاشی لحاظ سے مزید بد امنی کا متحمل نہیں ہے اور بھارت میں کورونا کی تباہی مودی سرکارکی ناکامی کا منہ بولتا ثبوت ہے. بھارت کا نظام صحت کسی بھی ناگہانی صورت حال کے لائق نہیں ایسے میں بھارت کی پہلی ترجیح اسکی عوام کی فلاح و بہبود ہونی چاہئے نہ کہ جنگ جبکہ گذشتہ چند روز قبل بھارت سے کورونا کے باعث ہونے والی ہلاکتوں کی افسوسناک خبریں دیکھ کر پاکستانیوں کے دل بھی پگھلتے ہوئے نظر آئے دشمنی مقابلہ سب بھلا کرہرپاکستانی انسانیت کے لیے دعا گو دیکھا گیا ہے.

    پاکستانی حکومت اور فیصل ایدھی صاحب کی جانب سے خیرسگالی کےطورپرامدادی پیکج ایمبولینسز، آکسیجن بذریعہ کنٹینرز واگہ بارڈر بھیجی گئی عمومی طور پرسوشل میڈیا کے پلیٹ فارمزپردونوں ملکوں کے شہریوں کے درمیان ہرمعاملے پرنوک جھونک اورجنگی کیفیت رہتی ہے تاہم کورونا کے معاملے پرحالات مختلف نظرآئے اورپاکستانی صارفین انڈین شہریوں کی خیریت کے لیے فکرمند دکھائی دیے کیوں کہ ہمارے دین میں سب سے پہلے انسانیت کو ترجیح دی گئی ہے.
    دعا گو ہوں اللہ رب العزت امن سلامتی کے ساتھ تمام دنیا کے لئے خوشحالی کے اسباب پیدا کرے. آمین یارب العالمین.

    تحریر: حافظ اسامہ ابوبکر
    @AmUsamaCh

  • جنریشن گیپ،دنیا کا بڑھتا ہوا ایک مسئلہ .محمد عتیق الرحمن گورائیہ

    جنریشن گیپ،دنیا کا بڑھتا ہوا ایک مسئلہ .محمد عتیق الرحمن گورائیہ

    احمد پچھلے کافی دنوں سے پریشان تھا کہ وہ والدین سے بات کرے یانہ کرے ۔ اسی سوچ نے اس میں چڑچڑا پن پیدا کردیا تھا ۔ بات یہ تھی کہ وہ انجینئرنگ کے شعبے میں جانا چاہتا تھا لیکن اس کے والدین اسے ڈاکٹر بنانا چاہتے تھے ۔ یہ نہیں تھا کہ وہ ذہین نہیں یا پھر وہ محنت سے جی چراتا ہے ۔ وہ جب بھی ہمت کرتا اس کے سامنے والدین کا ادب واحترام اور ایک لاینحل سوال حائل ہوجاتا جسے حل کرنا اس کے بس کی بات نہ تھی ۔ یہ ایک احمد کا مسئلہ ہی نہیں بلکہ ہر چھوٹے کا بڑے سے اور بڑے کا چھوٹے سے مسئلہ ہے ۔ بڑوں کا اپنے چھوٹوں سے مسئلہ یہ ہے کہ وہ ان کی بات نہیں مانتے اور ان کی خواہشات کا احترام نہیں کرتے ،نتیجے میں نالائق،سست ،بے ادب ،کمزور اور بدتمیز جیسے القابات ملتے ہیں ۔ آج کی نسل اپنے بڑوں مثلاََ والدین ،خاندان کے بزرگوں اور اساتذہ سے شاکی رہتی ہے کہ ہمارے جذبات وخیالات کو نہیں سمجھ سکتے ۔ ایسا کیوں ہوتا ہے؟

    ہمارا طرز زندگی ،سائنس اور ٹیکنالوجی میں تیزی سے تبدیلیوں نے یکسر بدل کر رکھ دیا ہے مگر ہمارے رویوں میں کوئی خاطر خواہ مثبت تبدیلی رونما نہیں ہوسکی ۔ تعلیم سے معاشرے میں کسی حد تک تبدیلی تو ممکن ہوئی ہے لیکن معاشرتی سوچ اور رویے اب تک محدود ہیں ۔ جھوٹی انا اور دین سے دوری نے نوجوان نسل اور والدین میں کبھی ختم نہ ہونے والی دوریوں کو جنم دیا ہے اور اس دوری نے کئی گھروں کو تباہ کرکے رکھ دیا ہے ۔ جنریشن گیپ جو کہ والدین اور اولاد کے درمیان رویوں ،ترجیحات اور خیالات پر اختلافات اور غلط فہمیوں کاباعث بنتاہے ،وہیں اس سے کئی گھرانے ٹوٹ پھوٹ کا شکار ہوتے ہیں اور یہ دوریاں کئی اور معاشرتی برائیوں کو جنم دیتی ہیں ۔ دیکھنے میں آیاہے کہ جنریشن گیپ دونوں نسلوں کو تقسیم (دور) کردیتاہے ۔ جنریشن گیپ سے مراد وہ ذہنی فاصلہ ہے جو ناقابل قبول حد تک محسوس ہونے والی تبدیلیوں کی بنیاد پر پیداہوتاہے ۔ عام طور پر یہ گیپ اٹھارہ سے چالیس سال کی عمر یا اس سے زائد کے افراد کے درمیان پایاجاتا ہے جہاں دونوں اپنی اپنی جگہ الگ زاویے سے سوچتے ہیں ۔ دونوں نسلیں ایک ہی چیز کو مختلف زاویوں سے تولتی ہیں ۔ یہ باہمی فرق کام کرنے کے انداز ،ماضی کے تجربات اور ٹیکنالوجی کے استعمال تک واضح نظر آتاہے ۔ مثلاََاگر بات کی جائے ’’رابطہ رکھنے کی‘‘ تو ہمارے بزرگ آمنے سامنے بیٹھ کر بات کرنے کے قائل ہیں اور خط کی شکل ہے جس کے بعد کہیں جاکر کال نظر آتی ہے جبکہ ہماری نسل کے نوجوان صرف ٹیکسٹ میسج سے ہی کام چلاتے ہیں یاپھر واٹس ایپ پر میسج کرکے اپنا پیغام پہنچادیتے ہیں ۔

    خلیل جبران کہتے ہیں کہ ہم اپنی اولاد کو بے پناہ محبت تو دے سکتے ہیں لیکن اپنے خیالات نہیں ۔ اس لئے کہ ہر کسی کے خیالات اپنے ہوتے ہیں ۔ اولاد اور والدین میں دوری کی بنیادی وجہ یہی ہے کہ والدین اپنے خیالات وخواہشات اولاد پر تھوپنا چاہتے ہیں اور اولاد اپنی زندگی اپنی مرضی بلکہ اپنی خواہشات کے لئے گذارنے کی کوشش میں ہوتی ہے ۔ یہی وجہ آگے چل کر والدین اور اولاد کے درمیان دوری اور باہمی چپقلش کا باعث بنتی ہے ۔ جیسے کوئی خود ڈاکٹر تونہیں بن سکا لیکن وہ اپنی اولاد کو ڈاکٹر بنانے کی مکمل کوشش کرے گا ۔ یہ درست ہے کہ والدین کا تجربہ اور زمانہ سازی بچوں سے کہیں زیادہ اور مضبوط ہوتا ہے لیکن اس حقیقت کے باوجود بچے اس سے مستفید نہیں ہونا چاہتے ۔ ہم اپنی فعال زندگی میں تقریباََ بیس سال تک اس تبدیلی کو محسوس نہیں کرپاتے لیکن اپنی اولاد کے لڑکپن میں ہ میں دنیا نہیں بلکہ اپنی اولاد یا اگلی نسل بدلی ہوئی محسوس ہوتی ہے ۔ گویا زمانے میں ہونے والی سست رفتار تبدیلی اگلی نسل کی شکل میں اچانک انقلاب کی صورت اختیار کرلیتی ہے ۔ جب تک ہ میں زمانے کی تبدیلی کا احساس ہوتا ہے تب تک بہت دیر ہوچکی ہوتی ہے ۔ اگر میں اپنی بات کروں تو میں شاید 15سال کی عمر کے لگ بھگ کمپیوٹر سے روشناس ہواتھا لیکن میرے چھوٹے بھائی اسی عمر میں مجھ سے کہیں بہتر طور پر کمپیوٹر سے بہر ہ مند ہورہے ہیں مثلاََ وہ اس وقت ہر نئی آنے والی فلم ،ویڈیو گیم اور سافٹ وئیر سے باخبر ہوتے ہیں اور میں اُس عمر میں ماءوس پکڑنا سیکھ رہا تھا ۔ اسی تناظر میں اگر ان کے بعد آنے والی نسل کی بات کروں تو میری بیٹی 3سال کی عمر میں ہی موبائل پکڑ کر یوٹیوب اور گیلری سے ویڈیوزاور تصاویر دیکھنا شروع کرچکی ہے ۔

    ہماری تعلیم و تربیت ،حالات اور ماحول ہماری شخصیت سازی میں بنیادی کردار اداکرتے ہیں ۔ اگر وقت کے ساتھ آنے والی تبدیلیوں کو لازم قرار دیاجائے اور ان تبدیلیوں کو قبول کرنے کی ہم اپنے اندر قوت پیداکرلیں توآئندہ نسل کی ہم بہتر طور پر تربیت کرکے اس جنریشن گیپ کو کم کرسکتے ہیں ۔ اس سے یہ مراد نہیں کہ ہم ہر آنے والی تبدیلی کو قبول کرتے جائیں اور علم واخلاق جس کا حکم ہمارامذہب دیتا ہے اسے مفلوج کرکے بس ایک مفعول کی طرح جینا شروع کردیں بلکہ تبدیلی کے ہونے کے عمل کو مسلسل مان کر اپنا مثبت کردار اداکریں ۔ ہمارا یہ کردار ہم سے پہلی نسل اور آئندہ آنے والی نسل کے درمیان ایک پل کا سا ہوسکتا ہے ۔ ہم پہلی نسلوں پر اس طرح اثر انداز ہوسکتے ہیں کہ ان کے معاملے میں سوچ لیں کہ ان کی تربیت مسلسل ہونے والی تبدیلیوں کے مطابق نہیں ہوئی ۔ درمیانی نسل کے طور پر ہ میں مسلسل فعال کرداراداکرنا ہوگا ۔ ہرپرانی نسل کو آئندہ نسل کو یہ رعایت دینا ہوگی کہ وہ ان کے زمانے میں بننے والے معیارات کا احترام کرے اور جس حد تک ممکن ہوان کا پاس کرے ۔ نبی مکرم ﷺ نے ارشاد فرمایا جو چھوٹوں پر شفقت نہیں کرتا اور بڑوں کا احترام نہیں کرتا وہ ہم میں سے نہیں ( سنن ابی داءود،باب فی الرحمۃ ) ۔ اس حدیث سے ہمیں سمجھنا چاہیے کہ ہم اپنے چھوٹوں کے ساتھ کس رویہ سے پیش آتے ہیں اوراپنے بڑوں کے ساتھ ہمارا رویہ کیسا جارحانہ بلکہ گستاخانہ ہوتا ہے ۔ والدین کو یہ سمجھنا ہو گا کہ اولاد ایک چلتی پھرتی مشین نہیں بلکہ ایک انسان ہے اسے گھر میں ایک دوست کی ضرورت ہوتی ہے ناکہ ایک داروغہ کی جس کاکام ہی ہر غلطی پر سرزنش اور ماردھاڑ ہوتا ہے ۔ والدین اپنا رویہ اپنی اولاد کے ساتھ دوستانہ اور مشفقانہ رکھیں اور ان کے ساتھ اپنی ماضی کی باتیں شئیر کریں لیکن کو شش کریں کہ اس میں اولاد کے متعلق ہتک کا کوئی پہلو نہ ہو ۔ نتیجے کے طور پر اولاد بھی اپنے مسائل اور اپنی خواہشات آپ ساتھ شئیر کرے گی ۔ کوشش کریں کہ اولاد کی جائز خواہشات کو مانیں اور ان پر اپنی خواہشات نہ تھوپیں ۔ اولاد کا بھی یہ فرض بنتا ہے کہ وہ اپنے والدین کے ساتھ اپنے مسائل وخواہشات شئیر کریں اور یقین رکھیں کہ ان کا مشورہ ان کے لئے بہترین ہوگا ۔ ان کی خواہشات کو حتی الامکان فوقیت دیں اور کوشش کریں کہ والدین کے ساتھ زیادہ سے زیادہ وقت گذاریں اور ان کے تجربات سے مستفید ہوں