Baaghi TV

Category: معاشرہ و ثقافت

  • ہائے غربت.تحریر:مبین خان

    ہائے غربت.تحریر:مبین خان

    کثر و بیشتر لوگ کہا کرتے ہیں کہ غریبوں سے ہمدردی کرنا چاہیے اور یہ بھی کہتے ہیں کہ غریبی بہت اچھی چیز ہے، اسلام غریبی میں پھلا پھولا ہے، کبھی کسی غریب کو دیکھا تو کہا ہائے ہائے، کبھی غریب کو دیکھا تو بات بھی نہیں کی، کبھی ساتھ بیٹھنے بھی نہیں دیا، بعض لوگ ساتھ لیکر کہیں جانے کے لئے تیار نہیں، بعض لوگ بات کرنے کے لئے بھی تیار نہیں۔

    انسان جب کسی دوسرے کو اپنے سے بھی زیادہ خستہ حالت میں دیکھتا ہے تو کچھ تسلی ہوتی ہے،اسے کچھ جینے کا حوصلہ ملتا ہے
    انسان جب کسی دوسرے کو اپنے سے بھی زیادہ خستہ حالت میں دیکھتا ہے تو کچھ تسلی ہوتی ہے،اسے کچھ جینے کا حوصلہ ملتا ہے کہنے کو تو ہر امیر ہر دولتمند یہ بات کہتا ہے کہ پیسہ ہاتھ کی میل ہے آج میرے ہاتھ کل کسی اور کے ہاتھ پھر سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ دولتمند ہوتے ہی مزاج کیوں بدل جاتا ہے۔معلوم یہ ہوا کہ یہ بات وہ ایک محاورے کے طور پر کہہ رہا ہے، دکھاوے کے لئے کہہ رہا ہے حقیقت میں اسے اس بات کا یقین ہے کہ آج میرے پاس پیسہ ہے تو سب کچھ ہے میں جو چاہوں کرسکتا ہوں حکومت بھی غریبی کے خاتمے کا نعرہ بلند کرتی ہے بلکہ پوری دنیا غریبی کے خاتمے کی بات کرتی ہے لیکن جب سے دنیا قائم ہوئی ہے تب سے امیری و غریبی دونوں ہیں، اس لیے کہ یہ نظام الٰہی ہے اور ویسے بھی یہ بات سمجھ میں آتی ہے کہ دنیا میں ہر شخص ایک برابر ہوتا تو دنیا میں کیسے امن و امان قائم رہتا۔جب دنیاوی سطح پر یہ نظام قائم ہے کہ ہر آدمی ایک برابر نہیں ہے تو پھر قدرت کے قانون کو کیسے چیلنج کیا جاسکتا ہے اگر قدرت نے سب کو ایک برابر کیا ہوتا تو سب ووٹ مانگتے پھر ووٹ دیتا کون۔
    پوری دنیا کے انسانوں کا چہرہ الگ الگ ہے، آنکھوں کا لینز الگ ہے، ہاتھوں کا فینگر الگ الگ ہے یہ تینوں چیزیں اس بات کا اعلان کررہی ہیں کہ قدرت کے خزانے میں کوئی کمی نہیں ہے اے انسانو! اگر قدرت تمہیں چھپر پھاڑ کر دے سکتی ہے تو چمڑی ادھیڑ کر لے بھی سکتی ہے اس لئے غریبوں کو حقارت کی نظر سے نہ دیکھو، غریبوں کا دل نہ دکھاؤ فرعون لاؤ لشکر سمیت دریائے نیل میں غرق کردیا گیا، قارون خزانہ سمیت زمین میں دھنسا دیا گیا، نمرود کو ایک مچھر کے ذریعے ہلاک کر دیا گیا، شداد کو خود اس کی بنوائی ہوئی جنت کی چوکھٹ پر موت کے گھاٹ اتار دیا گیاپھر آج کا انسان کس کھیت کی مولی ہے جو یہ سوچ رہا ہے کہ ہم مالدار ہیں تو ہمارا بال بیکا نہیں ہوسکتا ایک دولتمند کے گھر میت ہوتی ہے پورے شہر میں جنگل کی آگ کی طرح خبر پھیل جاتی ہے اس کے آخری رسومات میں لوگوں کا اژدہام ہے

    تاحد نگاہ جم غفیر ہے بڑے بڑے امراء، رؤسا، حکمراں سب کے سب آئے ہوئے ہیں، ایک غریب گھرانے میں موت ہوتی ہے کسی کو پتہ بھی چلتا ہے تو اسے کوئی حیرت نہیں ہوتی وقت مقررہ پر اس کے قریبی ساتھی رشتہ دار کاندھے پر اٹھاتے ہیں آخری رسومات ادا کرتے ہیں اور اسی مٹی میں اسے بھی دفن کیا جاتا ہے۔دنیا میں رہنے کا طریقہ الگ الگ، سوسائٹی الگ الگ نہ دولتمند کے ساتھ ایک دو لوگ دوچار دن قبر میں سونے کے خواہشمند ہوئے نہ غریب کے ساتھ تو پھر یہی احساس وقت رہتے کیوں نہیں ہوتا، جب آخری وقت ہوتا ہے تو غلطی کی معافی تلافی کی جاتی ہے آخر یہی کام صحتمند رہتے ہوئے کیوں نہیں کیا جاتا،، کتنی رشتہ داریاں بگڑجاتی ہیں امیری اور غریبی کے نام پر، کتنی دوستیاں ختم ہو جاتی ہیں امیری اور غریبی کے نام پر، نکاح اور شادی بیاہ کو مشکل بنادیا گیا ۔امیری اور غریبی کے نام پر، جہیز کا بازار بھی لگایا جاتا ہے اور جہیز کی آڑ میں موت کے گھاٹ بھی اتارا جاتا ہے پھر بھی کہا جاتا ہے کہ غریبی بڑی اچھی چیز ہے۔
    ایک طرف کوئی مخمل کے بستر پر سوتا ہے دوسری طرف کوئی اخبار بچھا کر فٹ پاتھ پر سوتا ہے زندگی کا گذر بسر تو دونوں کا ہورہا ہے لیکن ایک کا آرام سے دوسرے کا تکلیف سے لیکن آج کے حالات پر نظر دوڑا نے سے یہ بات تو واضح ہوجاتی ہے کہ انسانوں کی بھیڑ میں اضافہ ہوتا جا رہا ہے مگر انسانیت میں کمی آتی جارہی ہے غریبی کے خاتمے کا خواب دکھا کر سیاست تو خوب کی جاتی ہے مگر غریبوں کو راحت پہنچانے کے لیے کچھ بھی نہیں کیا جاتا اب تو دینی، سیاسی، سماجی غرضی کہ ہر شعبے ہر میدان میں امیری اور غریبی کی کھائی بڑھتی جا رہی ہیزکوٰۃ کی رقم دے کر بھی بہت سے لوگوں کو اس وقت تک چین نہیں ملتا جب تک کہ چار آدمی سے ذکر نہ کر دیں حالانکہ اسلامی تاریخ میں ام المومنین حضرت عائشہ صدیقہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا کا ایک واقعہ ملتا ہے کہ انہوں نے ایک غریب آدمی کے پاس امدادی رقم بھیجی تو یہ کہدیا تھا کہ ان سے یہ نہ بتانا کہ یہ رقم کس نے دی ہے،

    ان سے تم بھلے سلام کرنا لیکن میرا سلام نہ کہنا، ہوسکے تو ان کے ہاتھ میں رقم نہ دیکر ان کی طرف بڑھاتے ہوئے ان کے قریب رکھ دینا وہ صاحب جب رقم دیکر واپس آئے تو حضرت عائشہ صدیقہ سے پوچھا کہ آپ نے اپنا سلام کہنے سے کیوں منع کیا اور دوسری بات یہ کہ پیسہ ہاتھ میں دینے سے کیوں منع کیا تو حضرت عائشہ ؓنے کہا کہ تم میرا سلام کہتے تو ہوسکتا ہے کہ وہ پھر کبھی ایسی حالت میں ہوتے کہ انہیں پھر امداد کی ضرورت پڑتی اور مجھ تک پیغام یہ سوچ کر نہیں پہچا تے کہ ان کے پاس سے ایک بار امدادی رقم آچکی ہے۔
    اس لیے میں نے یہ سوچا کہ انہیں معلوم ہی نہ ہو کہ یہ رقم عائشہؓ نے بھیجی ہے اور ہاتھ میں نہ دینے کے لیے اس وجہ سے کہا کہ تم ہاتھ میں دیتے تو ہوسکتا تھا کہ ان کا ہاتھ نیچا ہوتا اور تمہارا ہاتھ اوپر ہوتا تو کہیں تمہارے دل میں یہ خیال نہ پیدا ہوجاتا کے لینے والے کا ہاتھ نیچے اور دینے والے کا ہاتھ اوپر ہے تو کہیں تم تکبر نہ کر بیٹھتے بہت سے علماء کرام نے بیان کیا ہے کہ حضرت عائشہ ؓنے اپنے بھانجے عروہ کویہ رقم بھیجی تھی۔
    بہر حال اس واقعے سے امدادی سامان و رقم کا پرچار پرسار کرنے والوں کو عبرت حاصل کرنا چاہیئے بلکہ اس واقعے سے ہر خاص و عام کو سبق حاصل کرنے کی ضرورت ہے اس لیے صحابہ کرام رضی اللہ عنہم اجمعین جو مالدار تھے وہ اپنی دولت سے جنت کا سامان خریدا کرتے تھے اور آج کا مسلمان بھی مدارس سے لیکر خانقاہوں تک صرف مرغ و ماہی کا انتظام کرنے والوں اور مٹھیوں کو موٹی موٹی رقم سے گرم کرنے والوں کو اہمیت دیتا ہے اور غریب مریدین تک کو قریب تک بیٹھنے کی جگہ نہیں دیتا کوئی بڑے حوصلے سے دعوت دیتا ہے تو اس کے وہاں جانے سے کتراتے ہیں اور کسی کے ہاں اس انداز سے جاتے ہیں کہ کھانے کے بعد دسترخوان پر ہاتھ اٹھاکر اجتماعی دعا تک کرتے ہیں۔
    کیا اس سے غریبوں کو ٹھیس نہیں لگتی، کوئی آپ کو نذرانہ دے تو اس سے مصافحہ کریں اور گلے بھی لگائیں اور کوئی ہاتھ بڑھائے تو اسے اشاروں اشاروں میں کہیں ہاں ٹھیک ہے ٹھیک ہے تو کیا اس غریب مرید کو ٹھیس نہیں پہنچے گی پھر بھی اسٹیج سے خطابت کے انداز میں کہیں کہ غریبی بڑی اچھی چیز ہے تو دنیا چاہے کچھ بھی کہے میں تو یہی کہوں گا کہ ایسا کرنے والا رہنما نہیں بلکہ روٹی توڑ فقیر ہے، یہ واعظ نہیں بلکہ یہ ایک شعبدہ باز ہے اس کا انداز خطابت ایک فن ہے ،فن سے بڑھ کر کچھ نہیں۔
    ہر انسان کی زندگی میں اتار چڑھائو تو آتے ہی ہیں اس بات سے انکار نہیں کیا جا سکتا ہے کوئی بھی انسان اچھے برے حالات سے بھاگ نہیں سکتا ہے انسان کے لیے لازمی ہے کہ وہ اچھے اور موافق حالات میں اللہ رب العزت کا شکر ادا کرے اور غرور و تکبر سے بچنے کی کوشش کرے اور برے حالات کا مقابلہ بھی اعتماد اور خوش اسلوبی سے کرے اور کبھی بھی اپنی زندگی سے بیزار اور ناامید نہ ہو جائے کیوں کہ نہ ہی اچھے حالات ہمیشہ کے لیے رہتے ہیں اور نہ ہی برے حالات، لیکن برے حالات میں کام آئے لوگ ہمیشہ یاد رہتے ہیں ان ہی برے حالات اور مصائب میں ایک پریشانی اور مسئلہ غریبی ہے یہ ایسی بیماری ہے کہ جس کو بھی لگ جاتی ہے اسے کہیں کا نہیں چھوڑتی غریب انسان کسی کا نہیں رہتا اور نہ ہی اسے کوئی اپناتا ہیں یہاں تک کہ سگے بھائی بہن بھی ایسے شخص سے رشتہ ناطہ رکھنا گوارا نہیں کرتے۔
    انساں سے غریب انسان اپنا بسر اوقات کیسے مہیا کرتا ہے یہ صرف ایک غریب ہی جانتا ہے۔ ہمیں غریب کا مذاق اڑا کر ان کا دل نہیں دکھانا چاہیئے کیونکہ غریب ہونے میں دیر نہیں لگتی۔ غریب انسان دن رات ایک کر کے اپنے اہل و اعیال کے لیے دو وقت کا کھانا ممکن بنا تا ہے بہت سے غریب لوگ غربت سے تنگ آ کر مختلف جرائم میں مبتلا ہوجاتے ہیں یا خدا نخواستہ اپنی زندگی کا خاتمہ کر کے سنگین جرم کے مرتکب ہوتے ہیں حالانکہ مجرم بننے کے لیے، یا خودکشی جیسا سنگین قدم اٹھانے کے لیے غریب ہونے کی دلیل دینا کسی بھی صورت میں صحیح نہیں ہے لیکن غربت کی وجہ سے جرائم میں اضافہ ضرور ہوتا ہے اور بہت سے لوگ جانوں سے ہاتھ دھو بیٹھتے ہیں اس سے بھی انکار نہیں کیا جا سکتا ہے آئے دن سوشل میڈیا پر مختلف قسم کے ویڈیوز اور پوسٹس نظر آتے ہیں جن میں مختلف سماجی کارکن کسی غریب کی حالت زار سے عوام کو آگاہ کرتے ہیں اور ساتھ ہی ایسے مفلوک الحال لوگوں کے لیے مدد کی درخواست بھی کی جاتی ہے ساتھ ہی ضرورت مند لوگوں کا اکائونٹ نمبر بھی دے دیا جاتا ہے جس سے پیسہ براہ راست ضرورت مند کے کھاتے میں جاتا ہے اور گڑبڑ کی زیادہ گنجائش نہیں رہتی یہ ایک اچھا کام ہے بلکہ اس عمل کو سراہا جانا چاہئے کیوں اس طرح بہت سے غریب لوگوں کی مدد ہو جاتی ہے بہت سے بیمار لوگوں کی مالی معاونت کی جاتی ہے ایسی درجنوں مثالیں دی جا سکتی ہیں

    جہاں لوگوں کی اس طریقے سے بہت مدد کی گئی یہ سوشل میڈیا کا بہترین استعمال ہے لیکن حیرت تب ہوتی ہے جب بہت سے صاحب ثروت لوگوں کو میڈیا کے ذریعے ہی پتا چلتا ہے کہ ان کا ہمسایہ اتنا غریب ہے کہ وہ اپنی داستان لے کر سوشل میڈیا پر آ گیا ہے آخر ہمارے آس پڑوس میں رہنے والے لوگوں کی غربت ہمیں نظر کیوں نہیں آتی؟ ہمیں بھی پتہ کیوں نہیں چلتا کہ ہمارے ارد گرد کتنی بیوائیں ہیں جن کے پاس آمدنی کا کوئی ذریعہ نہیں ہے؟ کتنے یتیم بچے ہیں جو محض غربت کی وجہ سے تعلیم چھوڑ کر مزدوری کرتے ہیں؟ کتنی ایسی لڑکیاں ہیں جن کی عمر ڈھلتی جا رہی ہے لیکن محض غربت کی وجہ سے ان کی شادی نہیں ہو پاتی ہے؟ کتنے ایسے بیمار ہونگے جن کے پاس ادویات کے لئے پیسے نہیں ہونگے؟ اور کتنے ایسے گھر ہونگے جہاں کئی کئی دنوں تک چولھا نہیں جلتا ہو گا؟

    آخر ہم سوشل میڈیا کا انتظار کیوں کرتے ہیں شاید محض اس وجہ سے کہ وہ ہمارے آس پڑوس میں رہتے ہیں ہمیں ان کی غربت نظر نہیں آتی نتیجہ یہ نکلتا ہے کہ ایسے لوگوں کو سوشل میڈیا پر پوری دنیا کو اپنے حالات بتانے پڑتے ہیں لیکن بہت سارے لوگ ایسے بھی ہیں جو غربت میں گھٹ گھٹ کر جینا پسند کرتے ہیں لیکن سوشل میڈیا پر نہیں آتے ہیں ایسے لوگوں تک پہنچنے کے لئے بہترین راستہ یہی تھا کہ صاحب ثروت لوگ اپنی آنکھوں سے پردہ ہٹا کر اپنے آس پڑوس میں رہنے والے لوگوں کی خفیہ طور پر مدد کر کے اللہ کے دربار میں خوشنودی حاصل کریں۔غریبی غریب انسان کے لئے تو امتحان ہے ہی ساتھ ہی یہ صاحب ثروت لوگوں کے لیے بھی آزمائش کی گھڑی ہوتی ہے خاص طور پر ایسے وقت میں جب کورونا کی وبانے غریب افراد کا جینا محال کردیا ہے۔
    تحریر:مبین خان
    سٹی خان پور ضلع رحیم یار خان.

  • پاکستان میں فرقہ واریت کی آگ کیسے ٹھنڈی ہو گی؟ تحریر:سید عمیر شیرازی

    پاکستان میں فرقہ واریت کی آگ کیسے ٹھنڈی ہو گی؟ تحریر:سید عمیر شیرازی

    پاکستان اسلام کے نام پر حاصل کیا گیا ملک ہے جس کے حصول کا مقصد دین اسلام کا نفاذ تھا، لیکن آج تک سات دہائیاں گزرنے کے باوجود ہم اس مقصد کی تکمیل حاصل نہیں کر سکے جس کے لئے ملک حاصل کیا گیا تھا کیونکہ پاکستان میں فرقہ واریت نے اپنے مقصد تک پہنچنے ہی نہیں دیا،پاکستان میں بظاہر تو مسلمان ،لیکن گروہوں اور فرقوں میں بٹے ہوئے ہیں جس کا فائدہ ہمارا دشمن مسلسل اٹھا رہا ہے،کون اکثریت میں ہے کس کی تعداد زیادہ ہے؟ دیکھا جائے تو پاکستان میں اکثریت سنیوں کی ہے اسکے باوجود فرقہ واریت کی لپیٹ میں ہے اسکی بنیادی وجہ جو مجھے دیکھنے کو ملی وہ ہے ایران میں خمینی انقلاب وہاں جب خمینی نے تحریک چلائی اسکے منفی اثرات پاکستان میں پھیلے ،اس تحریک سے پہلے دیکھیں تو پاکستان میں کسی بھی طرح کا فساد فرقہ وارانہ دہشت گردی دیکھنے کو نہیں ملی۔۔۔

    پاکستان میں اہل سنت کے مقدس شخصیات بلکے اسلام کی مقدس شخصیات حضرات صحابہ کرام رضوان اللہ تعالی علیہم اجمعین کی شان میں گستاخانہ اشعر اور جو تبرا کیا گیا اسکے بعد امت مسلمہ میں جو غم و غصہ پایا گیا اسکی تاریخ میں کوئی مثال نہیں ملتی۔ ایران سے نفرت انگیز لٹریچر پاکستان لایا جاتا رہا اور عوام کو آپس میں فرقہ واریت کے نام پر لڑوانے کی بھرپور کوشش کی گئی،جب یہ سب ہوا تو پھر پاکستان میں مذہبی جماعتیں وجود میں آئی جن کا مقصد دفاع صحابہؓ اور حضرات صحابہؓ کی ناموس کا دفاع کرنا تھا ،اور ایسے یہ ایک نہ رکنے والا سلسلہ شروع ہوا ۔۔۔

    حضرات صحابہ کرامؓ پوری امت مسلمہ کی مقدس شخصیات ہیں جن کے ذریعے ہم تک اسلام پہنچا یہ وہ شخصیات ہیں جن کی تربیت خود حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمائی ،حضرات صحابہؓ کے بارے میں اللہ پاک قرآن میں فرماتے ہیں ،”رضی اللہ تعالی عنہ و رضو عنہ”
    جب امت مسلمہ کی عظیم شخصیات کی شان اقدس میں گستاخی کی جائے گئی تو مسلمان کب خاموش رہ سکتے ہیں۔۔

    اسی بات کا فائدہ اٹھاتے ہوئے اسلام دشمن عناصر نے پاکستان کو فرقہ واریت میں دھکیل دیا آج ہم سنی،شیعہ دیوبندی،بریلوی اہل دیث،وہابی تو ہیں لیکن کیا ہم مسلمان بھی ہیں؟؟
    یہ سوال ہمیں اپنے دل سے کرنا ہے
    چاہے ہم سنی ہوں یا شیعہ سب سے پہلے انسان ہیں اور اگر ہم اپنے آپ کو کلمہ گو مسلمان سمجھتے ہیں  تو اسلام کی مقدس شخصیات پر تبرا کرنا چھوڑنا ہوگا تبھی جاکر یہ فرقہ واریت کی آگ ٹھنڈی ہوگی۔

  • بھارتی حملہ. تحریر :ارم رائے

    بھارتی حملہ. تحریر :ارم رائے

    یہ پاکستان ہے۔ اور اس دھرتی پہ صبح کے 3:00AM .ہورہے ہیں لوگ معمول کے مطابق اپنی اپنی خواب گاہوں سوئے ہوِئے ہیں اور کچھ تہجد گزار مسجدوں میں ہیں ، جو اللہ کے حضور سجدہ ریز ہیں اور دعاوں اور سسکیوں میں امت مسلم کی کامیابی و کامرانی کے لیے دعاوں میں مشغول ہیں۔ پرندے کچھ دیر تک چہچہانے میں لگ جائیں گے۔ دو دوست رات گئے کی محفل برخاست کر کے اپنے گھر کی طرف آ رہے ہیں، کہ اچانک ٹینکوں کے گولوں اور جنگی جہازوں کی دل ہلا دینے والی آوازیں سماعتوں سے ٹکرانا شروع ہو جاتی ہیں،لوگ مارے خوف سے ششدر میں ہیں کہ کیا ہو گیا ہے۔دل کی دھڑکنوں کی بے ترتیبی زور پکڑتی ہے ۔ ہیبت ناک اور کلیجے کو پھٹا دینے والی آوازویں بہت قریب ہوتی جارہی ہیں۔ساتھ ساتھ تیز ہوتی جا رہی ہیں۔ اتنے میں مسجد کے لاوڈ سپیکر سے جان لیوا الفاظ کچھ یوں سنائی دیتے ہیں کہ۔۔۔۔۔۔بزدل بھارت نے لاہور کی جانب سے پھر حملہ کر دیا ہے اور عوام سے اپیل ہے کہ فوجی بھائیوں کے کندھے سے کندھا ملائے۔ اعلان ختم ہو جاتا ہے۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

    اک ماں سب سے پہلے اپنے جوان بیٹے کو کہتی ہے میرے بیٹے آج اسلام اور کفر کی جنگ چھڑ گئ ہے ۔میں اس وقت تک آپ راضی نہیں ہوں گی جب تک تیرا لہو کفر کے شعلے کو ٹھنڈا نہیں کر دیتا۔ یہ سننا تھا کہ بیٹا خالی ہاتھ بارڈر کی طرف دوڑ لگا دیتا ہے۔جب نوجوان بارڈر پر پہنچتا ہے تو عوام کا ٹھاٹھیں مارتا سمندر فوجی بھائیوں کی امداد کے لیے نقل و حرکت میں ہے ۔ہر سو عوام ہی عوام ہے ۔عوام کے ہاتھوں میں کوئی نہ کوئی ضروری سامان ہے۔ کسی کے ہاتھ میں پھولوں کے گل دستے ہیں۔بچوں کے پاس پاس پانی کی بو تلیں ہیں۔ تو کسی کے ہاتھ میں میں گھریلو بندوقیں ہیں۔کسی کے ہاتھ میں فروٹ ہیں جو گھر میں رکھے فریزروں سے لئے گئے ہیں۔ ایک کے پاس تو کپڑے میں بندھی ہوئی دال روٹی اور گھر کے دروازے کو توڑ کر لی گئ اک مضبوط چوکھاٹ بھی ہے۔ اس سے پوچھا گیا کہ یہ چوکھاٹ کس لیے لائے ہو تو جواب ملا، جب اسلحہ ختم ہو جائے گا تو جا ئے گا تو یہ چوکھاٹ بندوق بن جائے گی۔۔۔۔اس کے اس جواب نے عوام اور افواج میں مزید انرجی پیدا کر دی ۔۔۔۔۔۔۔۔۔

    ۔ فوجی ٹینکوں کو عوام نے اپنے حصار میں گھیر رکھا ہے ۔ہر سو ملی نغموں کی بہار ہے۔ لوگ بارڈر پر سیسہ پلائی دیوار بنے ہوئے ہیں ۔آس پاس جنگی جہازوں کی گھن گرج اور ٹینکوں کی ہیبت ناک اوازوں نے دشمن پر دھاک بٹھا رکھی ہے۔ دونوں جانب فائرنگ کا سلسلہ جاری ہے تھنڈر جہاز اور ایف سولہ جہازوں نے فضا کو دھواں دھواں اور گردو غبار سے آلودہ کر رکھا ہے ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

    یہ جنگ ایک میلہ بن گئ ہے جیسے بازار ہو ۔جیسے لوگ خرید و فروخت کے لیے آئے ہوں ۔کسی پر کوئی خوف کے آثار نہیں ہیں ۔مشکل وقت میں اتفاق مشکلات کو بے معنی کر دیتا ہے۔ فوجی بھائیوں سے عوام کی محبت نے جنگ کا پانسہ یک طرفہ کردیا ۔فوجی کو گولی لگتے لگتے ایک عام سے ادمی کے سینے سے گزر جاتی ہے ۔ فوجی زخمی ہوتے ہوتے عام ادمی زخمی ہو جاتا ہے۔ دور سے فوجیوں کو بچانے کے مزید کھدائیاں جاری ہیں۔ یہ جذبہ ایمانی دیکھ کر اور فوج سے محبت نے افواج کے لہو گرما دئے ۔ فوجی دستوں نے نعرہ تکبیر کے فلک شگاف نعرے ایسے لگائےکہ ٹینکوں سے نکلنے والے گولوں کی رفتار دوگنی ہو گئی۔ جہاں اک منٹ میں ایک گولہ جانا تھا وہاں ایک منٹ تین تین گولے دشمن کی طرف نکلے۔ جہاں فضائیہ نے منٹوں میں ہدف تباہ کرنا تھا وہاں سیکنڈوں میں ہدف مکمل ہونے لگا۔ جنگ تیز ہو گئ نتائج فوری آنے لگ گئے۔ ہر پانچ منٹ دشمن کا اہم ترین مقام تباہ ہونے لگا نعرہ تکبیر اللہ اکبر کے نعروں نے ایسی توانائی بخشی کہ پاک آرمی کے کے دستے دشمن کی سر زمین میں ٹینکوں کو آگے بڑھاتے گئے۔ٹینک کے گولوں سے دشمن کو نیست و نابود کرتے گئے اور اوپر سے ایف سولہ اور تھنڈر جیسے پاور فل جنگی جہازوں نے دشمن کے علاقے کو تباہ برباد کر کے رکھ دیا۔۔

    ادھر لمبی اور کالی زلفوں والے بڑی اور مضبوط قدو قامت کے مالک اللہ کے شیر کہیں سے آ نکلتے ہیں جیسے یہ غاروں میں سے نکل کے آئے ہوں جیسے یہ خاص وقت کے انتظار میں تھے جیسے یہ آئے نہیں بھیجے گئے ہوں۔جیسے یہ غزوہ ہند کے حصے دار ہوں۔۔ان کی آمد نے جنگ میں ہلچل مچا دی اور دیکھتے ہی دیکھتے دشمن کی بھاری نفری لاشوں کی شکل اختیار گئ ۔لاشیں لاشیں اتنی پڑی ہیں کہ گدھ سالہا سال مزے ا ڑا سکتے ہیں

    یِہ خواب میں ابھی دیکھ رہی تھی کہ کسی نے مجھے کہا کہ ہندوستان فتح ہو گیا ہے اور دہلی کی بڑی مسجد پر سبز ہلالی جھنڈا لگا دیا گیا ہے۔ آئیے اس لہراتے سبز ہلالی جھنڈے کو دیکھتے ہیں۔اس خوشی میں میری آنکھ کھل گئ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

    یہ آرٹیکل عوام اور افواج کی یکجہتی کے فوائد پر لکھا گیا ہے اسے عوام میں آگہی کے لئے ضرور شیر کیجئے

  • جذبہ حب الوطنی، ہمت و حوصلے کی زندہ مثال .خیبر پختونخوا بم ڈسپوزل سکواڈ کا قابل فخر سپاہی .تحریر: محمد مستنصر

    جذبہ حب الوطنی، ہمت و حوصلے کی زندہ مثال .خیبر پختونخوا بم ڈسپوزل سکواڈ کا قابل فخر سپاہی .تحریر: محمد مستنصر

    اکیسویں صدی کے اوائل میں جب امریکا اسامہ بن لادن کی تلاش میں افغانستان پر حملہ آور ہوا تو دہستگردی کے خلاف اس جنگ میں امریکا کے اتحادی کے طور پر سب سے ذیادہ نقصان پاکستان کو برداشت کرنا پڑا، پاکستان نے دہشتگردی کے خلاف جنگ میں امریکی افواج کے اتحادی کے طور پر فرنٹ رول کردار ادا کرنے کا فیصلہ کیاتو بالخصوص افغانستان کی سرحد سے ملحقہ قبائلی اضلاع کے ساتھ خیبرپختونخوا کے بندوبستی اضلاع بھی دہشتگردی کی لپیٹ میں آگئے، اور یوں پاکستان کو دو دہائیوں کے دوران اربوں روپے کے مالی نقصان کے علاوہ ہزاروں قیمتی جانوں کی قربانی بھی دینا پڑی۔ قوم کو دہشتگردی کے عذاب سے نجات دلانے کے لئے دیگر سیکیورٹی اداروں کے ساتھ مل کر خیبر پختونخوا پولیس کے افسروں اور جوانوں نے بھی کم وسائل کے باوجود گراں قدر قربانیاں دیتے ہوئے اہم کردار ادا کیا۔
    دہشتگردی کے خلاف جنگ میں جب بھی خیبر پختونخوا پولیس کی قربانیوں کا ذکر کیا جاتا ہے تو ڈیرہ اسماعیل خان بم ڈسپوزل یونٹ کے انچارج عنائیت اللہ ٹائیگر کا نام ہمت، حوصلے اور جذبہ حب الوطنی کی زندہ مثال کے طور پر سامنے آتا ہے۔
    ڈیرہ اسماعیل خان کے رہائشی عنایت اللہ نے 1998 میں بطور کانسٹیبل خیبرپختونخوا پولیس جائن کی جبکہ سال 2000 میں بم ڈسپوزل سکواڈ کا حصہ بن گئے، عنایت اللہ نے اپنے کیریئر کا پہلا بم سال 2001 میں ناکارہ بنایا 21 سال کے اس مشکل اور کٹھن میں متعدد بار عنایت اللہ زخمی بھی ہوئے مگر کسی بھی موقع پر عنایت اللہ ٹائیگر کا حوصلہ پست ہوا نہ ہی بم ناکارہ بناتے وقت کبھی زخمی ہاتھوں میں کپکپاہٹ کا احساس ہوا۔
    عنایت اللہ ٹائیگر نے جب بم ڈسپوزل سکواڈ کا حصہ بن کر کام شروع کیا تو ایک موٹر سائیکل، بیگ میں موجود ایک خنجر، پستول اور بارودی مواد کے ساتھ جڑی تاریں کاٹنے کے لئے ایک کٹر، ان اوزاروں کے سہارے محض جذبہ ایمانی ، شوق شہادت اور حب الوطنی کے جذبے سے سرشار ہو کر مختصر عرصہ میں 150 سے زائد مختلف اقسام کے بم ناکارہ بنا ڈالے یہی وجہ تھی کہ بم دھماکوں، ٹارگٹ کلنگ اور دہشتگردی کے ستائے ڈیرہ اسماعیل کے باسیوں نے عنایت اللہ کو نہ صرف ایک مسیحا اور ہیرو کے طور پر جانا بلکہ انکی جاں فشانی کے جذبے کو خراج تحسین پیش کرتے ہوئے انہیں "ٹائیگر” کے ٹائٹل سے بھی نواز دیا۔
    اکیس سال کے کیریئر کے دوران عنایت اللہ ٹائیگر مختلف نوعیت کے 3 ہزار سے زائد بموں، خود کش جیکٹس ، راکٹ لانچرز، دستی بموں اور دھماکا خیز مواد کو ناکارہ بنا چکے ہیں۔

    اپنے کیریئر کے دوران عنایت اللہ ٹائیگر ہمیشہ سے ہی شرپسندوں کے نشانے پر رہے اور متعدد بار زخمی بھی ہوئے۔سال 2012 میں پیش آنے والے ایک حادثہ کے دوران عنایت اللہ ٹائیگر کا بایاں بازو بری طرح متاثر ہوا جبکہ سال 2014 کے دوران ایک بارودی سرنگ کے دھماکے میں عنایت اللہ ٹائیگر کی ٹانگ کٹ گئی مگر عنایت اللہ ٹائیگر عزم و ہمت کے ساتھ مصنوعی ٹانگ کے ساتھ آج بھی اپنے ہم وطنوں کی جانوں کے تحفظ میں پیش پیش رہتے ہیں۔
    ۔
    سال 2014 میں شدید زخمی ہونے کے باوجود عنایت اللہ ٹائیگر نے کبھی اپنی مصنوعی ٹانگ کو فرض کی ادائیگی میں آڑے نہیں آنے دیا اور صحت مند ہوتے ہی دو مہینے کی سخت فزیکل ٹریننگ کے بعد دوبارہ ناصرف بم ڈسپوزل سکواڈ جائن کیا بلکہ سال 2014 سے اب تک 82 بم ناکارہ بنا چکے ہیں۔

    عنایت اللہ ٹائیگر لگن، تجربے اور مہارت کے باعث خیبر پختونخوا پولیس میں ایک اکیڈمی کا درجہ رکھتے ہیں، عنایت ٹائیگر کو مخصوص صورتحال کے پیش نظر نہ صرف خیبر پختونخوا کے سرکاری و نجی اداروں اور یونیورسٹیز میں لیکچرز کے لئے مدعو کیا جاتا ہے بلکہ دیگر صوبوں میں بھی بم ڈسپوزل اہلکار عنایت اللہ ٹائیگر کے تجربے سے مستفید ہو رہے ہیں۔

    ملک وقوم کی عظیم خدمات کے اعتراف میں عنایت اللہ ٹائیگر کو چیف آف آرمی سٹاف جنرل قمر جاوید باجوہ کی طرف سے پانچ لاکھ روپے نقد جبکہ حکومت کی طرف سے صدارتی تمغہ شجاعت سےبھی نوازا گیا تاہم عنایت اللہ ٹائیگر کا کہنا ہے کہ ہم وطنوں کی طرف سے ملنے والی محبت، دعائیں اور پیار اس کے لئے سرمایہ حیات کی حیثیت رکھتا ہے۔

  • محل سے میوزیم میں تبدیل ہونے والا "مُکھی ہاؤس”

    محل سے میوزیم میں تبدیل ہونے والا "مُکھی ہاؤس”

    1921 میں ، جیٹھانند مکھی نے حیدرآباد میں مکھی ہاؤس (مکھی بیٹی کا نام تھا) تعمیر کیا۔ اس وقت اسے سونے کے حقیقی پانی سے پینٹ کیا گیا تھا۔ 2008 میں ، مکھی خاندان کی اولادوں نے مکھی ہاؤس کے مستقبل کے دعوؤں کو اس شرط پر چھوڑ دیا کہ اسے محفوظ کرکے میوزیم میں تبدیل کردیا جائے۔

    باغی ٹی وی : اس تحفظ کی سربراہی ڈاکٹر کلیم لاشاری نے سندھ کے محکمہ نوادرات سے کی تھی ، جس کا سن 2014 میں میوزیم کے منصوبے کا افتتاح کیا گیا تھا۔ بڑے گھر میں سندھی ہندوؤں کا وہ متمول حصہ دکھاتا ہے جس کی تعلیم سے لے کر معاشرتی بہبود تک ہر شعبے میں نمایاں رہی ہے تقسیم ہند کے دوران کنبے کو چھوڑنا پڑا۔

    اب ایک صدی ہونے کو آئی ہے۔ یہ گھر آج بھی نظر رکھنے والی آنکھوں کو اپنی طرف متوجہ کرتا ہے، اور دیکھنے والے کو مسحور کر دیتا ہے۔ یہ گھر حیدرآباد میں ہوم اسٹیڈ ہال کے سامنے مکھی ہاؤس کے نام سے مشہور ہے جسے ‘مکھی محل’ بھی کہتے ہیں۔

    یہ عمارت 1921 میں اس وقت کی مشہور شخصیت جیٹھانند مکھی نے اپنی خواہش کے مطابق تعمیر کروائی تھی، جسے انہوں نے گھر کا نہیں بلکہ مکھی محل کا نام دیا تھا، اور یہ واقعی ایک محل سے کم نہیں ہے۔ جیٹھانند مکھی اس زمانے میں حیدرآباد کی شہری انتطامیہ کے سربراہ تھے۔ شہر کے کافی انتظامی معاملات ان کے سپرد تھے۔ اسی مکھی ہاؤس سے تھوڑے سے فاصلے پر مکھی باغ بھی تھا مگر اب اس باغ کے کوئی بھی آثار دکھائی نہیں دیتے، جہاں پر اب گنجان آبادی ہے۔ اس شاہکار گھر کی تعمیر کے سات برس بعد جیٹھانند مکھی 1927 میں انتقال کر گئے۔

    برصغیر کی تقیسم کے بعد جو ہجرت کا سلسلہ شروع ہوا وہ سالہا سال تک جاری رہا۔ شاید ان گھروں کے در و دیوار کو کبھی یہ اندازہ نہیں رہا ہو گا کہ وہ تنہا رہ جائیں گے اور ان گھروں کی کہانیاں صرف ہم لوگوں سے زبانی ہی سنتے رہیں گے، لیکن مکھی خاندان پاکستان بننے کے بعد بھی اسی شہر اور گھر میں مقیم تھا۔

    1957 کو انہیں اس شہر کو چھوڑ کر جانا پڑا۔ جیٹھانند مکھی کی وفات کے بعد ان کی بیوہ اور دو بیٹے یہاں پر رہ رہے تھے، مگر انہیں یہ کہا گیا تھا کہ اگر وہ یہاں مزید رہے تو ان پر حملہ ہو سکتا ہے۔ یہی وجہ تھی کہ انہیں اس محل نما گھر کو خیرباد کہنا پڑا اور یہ خاندان ہمیشہ ہمیشہ کے لیے ہندوستان چلا گیا۔

    یہاں پر کسی زمانے میں ہندوستانی سفارت خانہ بھی قائم کیا گیا تھا۔ اس کے بعد یہ ایف سی کا ہیڈ کوارٹر بھی رہا، جبکہ اسے کے نچلے حصے کو اسکول میں تبدیل کر دیا گیا تھا۔

    حیدرآباد کے شہر نے اس وقت اپنا سکون کھو دیا جب 1988 میں یہاں لسانی فسادات ہوئے تھے۔ انہی دنوں مکھی ہاؤس کو نذر آتش کر دیا گیا تھا۔ گھر کے دروازے، کھڑکیاں اور کمروں میں رکھا فرنیچر جل کر خاک ہو گئے تھے مگر اس کے باوجود بھی آج مکھی ہاؤس سلامت ہے۔

    2009 میں سندھ حکومت کے محکمہء آثارِ قدیمہ نے اس گھر کو سنبھالنے کا فیصلہ کیا، جس کے بعد 2013 میں مکھی خاندان نے اپنے قدیم گھر کا دورہ کیا اور اسے سندھ حکومت کے حوالے کرنے کے بعد میوزیم میں تبدیل کرنے کی اجازت دی گئی، چنانچہ اب اسے ایک میوزیم میں تبدیل کیا گیا ہے۔

    مکھی ہاؤس ایک دو منزلہ عمارت ہے، جس میں 12 کمرے اور دو بڑے ہال ہیں۔ نذر آتش ہو جانے کے بعد دیواروں پر کیے گئے نقش و نگار بھی مٹ گئے تھے مگر چند بچ جانے والے نقوش کو دیکھ کر دیواروں اور چھت پر اسی قسم کے نقش و نگار بنائے گئے ہیں، تاکہ اس کی قدامت برقرار رہے۔

    موٹی دیواروں میں کافی کھڑکیاں اور دروازے بنائے گئے ہیں، جن میں شیشم اور ساگوان کی لکڑی کا استعمال کیا گیا ہے۔ ہر کمرے کی دیوار میں الماریاں نصب کی گئی ہیں، روشندان بنائے گئے ہیں۔ اس دور میں جو فن تعمیر کے رجحانات تھے، انہیں برقرار رکھتے ہوئے گھر کو بنایا گیا ہے۔ مگر اس گھر کی خاص بات یہ کہ اس کا ایک مرکزی گنبد بھی ہے جو اسے تمام عمارات سے ممتاز بناتا ہے، اور اسے دور سے دیکھا جا سکتا ہے۔ کشادہ کمرے اور رہداریاں بھی گھر کی زینت میں اضافہ کرتے ہیں۔ عمارت کی تعمیر میں اینٹ کے بجائے بلاکس کا استعمال کیا گیا ہے-

    اس گھر میں ان لوگوں کی یادیں بسی ہیں جن میں سے کافی اب اس دنیا میں نہیں رہے، مگر یہ گھر ایک ایسا تاریخی ورثہ بن چکا ہے جس کی حفاظت نہ صرف شہریوں پر بلکہ حکومت پر بھی لازم ہے تاکہ یہ دوبارہ کسی زوال کا شکار نہ ہو، کیونکہ اس طرح کی عمارات اب حیدرآباد میں نایاب ہوتی جا رہی ہیں۔

     

    پاکستان کے تاریخی شہر لاہور پر مر مٹنے والی شہزادی بامبا سدھر لینڈ
  • نیوٹرل ہونے اور پروفیشنلزم کا ڈھکوسلہ. تحریر ‏حمیرا الیاس

    نیوٹرل ہونے اور پروفیشنلزم کا ڈھکوسلہ. تحریر ‏حمیرا الیاس

    میرے بھائی ہم صحافی ہیں۔۔ہمارے پروفیشن کے مطابق ہم سائیڈز نہیں لے سکتے۔ہمیں نیوٹرل ہو کر رہنا پڑتا ہے ورنہ آپ اپنے پیشے کے ساتھ ساتھ خیانت کرتے ہیں۔

    دیکھئے ہم کیریئر ڈپلومیٹ ہیں اور ہمارا کام ہے کہ ریاست ہمیں جو چیز کہے ہم اس کے لئے لوبنگ کریں اور ان مفادات کو حاصل کریں۔ ہم خود سے یہ تعین نہیں کر سکتے کہ کیا چیز ہمارے ملک کے لیے اچھی یا بری ہے۔۔۔ ہم وہ کریں گے جو ہمیں ریاست کہے گی۔ یہی پروفیشنلزم ہے۔

    دیکھیں میں ایک پروفیشنل سولجر ہوں۔میرا یہ کام نہیں ہے کہ اس بات کا تعین کرو کہ کون سا آپریشن صحیح ہے یا غلط۔ ہمیں قیادت جو حکم دیتی ہے بطور پروفیشنل فوجی میرا کام ہے اس پر عمل کرنا۔ صحیح ہے یا غلط پالیسی۔۔ اچھا یا برا کام۔۔۔ یہ تعین کرنا قیادت کا کام ہے۔

    دیکھیں میں ایک پروفیشنل وکیل ہوں۔۔۔میرا کام موکل کا دفاع کرنا ہے۔ اور میرے انکل ایک پروفیشنل جج ہیں۔ ان کا کام موجودہ قانون اور اس کے اصولوں کے مطابق مقدمے کا فیصلہ کرنا ہے ۔۔۔وہ قانون سخت ہے یا نرم۔۔ اسلامی ہے یا غیر اسلامی۔۔۔ یہ دیکھنا ان کا کام نہیں ہے۔ بطور پروفیشنل، ان کا کام قانون جو بھی ہے اس کے مطابق فیصلہ کرنا ہے۔

    اوکے اوکے اوکے!
    او۔۔۔۔کے!
    او۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔کے!!!!!

    تو جناب میرے آپ سے کچھ سوال ہے!!!

    کہ آپ کے لیے شریعت کا قانون زیادہ معتبر ہے یا آپ کا پروفیشنل کوڈ آف ایتھکس اور پروفیشن کے قوانین؟

    آپ اللہ کو سب سے پہلے بطور مسلمان جواب دینگے یا بطور صحافی؟

    آپ کو اللہ نے اپنے بندے کی حیثیت میں پیدا کیا ہے یا صحافی کی حیثیت میں؟

    آپ بطور مسلمان اسلام کے وکیل پہلے نہیں ہیں؟

    آپ کا کام اسلام اور مسلمانوں کے مفادات کا تحفظ نہیں ہے؟

    آپ کا کام امر بالمعروف ونہی عن المنکر نہیں ہے؟

    کیوں کیا آپ اسلام سے کوئی بالاتر کسی پوزیشن پر کھڑے ہیں؟

    بطور صحافی نیوٹرل ہونے کا دعوی کرنا خود ایک آئیڈیالوجیکل پوزیشن ہے۔ جو مغربی ماڈل کی پوزیشن ہے۔ کیا مغرب کا ہر صحافی جمہوریت، لبرل رائٹس، ہیومن رائٹس کو نیوٹرل پوزیشن نہیں سمجھتا؟ آپ کی نظر میں عورت کو کیا حق ملنا چاہئے؟ آپ کا جو بھی جواب ہوگا یہ ایک آئیڈیالوجیکل پوزیشن ہوگی۔۔۔ تو نیوٹرل بھلا کیسے کوئی ہو سکتا ہے؟ اور کیا آپ ملک کے مفادات کو بھی نیوٹرل ہونے کے نام پر اگنور کر دیں گے، جس چیز کو بھی بے شک آپ ملک کا مفاد سمجھیں؟

    اگر آپ کیریئر ڈپلومیٹ ہیں۔۔ تو آپ جانتے بوجھتے کشمیر پر سودا بازی کی حکومتی ہدایات کو بیک ڈور ڈپلومیسی سے کیوں پرفارم کریں گے۔ جبکہ آپ کو یہ معلوم ہو کہ یہ امریکی ہدایت پر کیا جا رہا ہے۔ اور یہ براہ راست ملکی مفاد کے خلاف ہے۔ کیوں کیا آپ کا پروفیشن ملک یا اسلام سے پہلے ہے؟ اگر آپ ملازم ہیں اور آپ کی قیادت آپ کو ان آپریشنز کا حکم دیں جس کے لیے وہ امریکہ سے ڈالر وصول کر رہے ہو اور آپ اچھی طرح جانتے ہو کہ یہ امریکی پالیسی ہے تو اس کے لئے آپ اپنے لوگوں کو کیسے تاراج کر سکتے ہیں؟ کیا آپ اللہ کو جواب دہ نہیں ہے؟ اللہ سبحان تعالی نے قرآن میں پہلے ہی واضح کر دیا ہے کہ اللہ اس عذر کو قبول نہیں کرے گا کہ آپ اپنے بڑوں کی اطاعت کر رہے تھے۔

    اور آپ ایک پروفیشنل جج ہیں تو کیا آپ قرآن کے اس حکم سے مبرا ہے جس میں کہا گیا کہ جو کوئی اس چیز سے فیصلے نہ کرے جو اللہ نے نازل کر دیا ہے تو وہ ظالم ہیں وہ فاسق ہے اور وہ کافر ہے۔

    تو یہ نیوٹرل ہونا ایک ڈھکوسلہ ہے جسکو مغرب نے ڈیزائن کیا ہے اور یہ بنیادی طور پر مغربی آئیڈیالوجیکل پوزیشن ہے جس کو آپ نیوٹرل نیوٹرل کا راگ الاپ کر اپنائے ہوئے ہیں۔
    ‎@humerafs

  • انسان کو کوئی چیز نہیں ہرا سکتی . تحریر: مبین خان

    انسان کو کوئی چیز نہیں ہرا سکتی . تحریر: مبین خان

    انسان کو کوئی چیز نہیں ہرا سکتی .جب تک کے وہ خود ہار نہ مان لے۔

    ہمارے سامنے اکثر ایسے لوگ موجود ہوتے ہیں جو قسمت اور نصیب کی خرابی کا شکوہ کرنے میں ہمہ وقت مصروف رہتے ہیں۔ حقیقت یہ ہوتی ہے کہ یا تو وہ خود محنت نہیں کرتے، کام سے جی چراتے ہیں یا پھر انہیں انکی نیت کا بدلہ مل رہا ہوتا ہے۔ مگر ہوتا یہ ہے کہ بجائے اپنی غلطی ماننے کے وہ سارا الزام قسمت کو دے رہے ہوتے ہیں کہ خدا ہمیں دینا ہی نہیں چاہتا یا پھر یہ کہ کر بات ختم کر دیتے ہیں کہ نصیب میں ہی یہ ملنا نہ تھا۔ یہ سراسر ایک غلط نظریہ ہے۔ خدا پاک کبھی کسی کے ساتھ زیادتی یا نا انصافی نہیں کرتا۔ ہر کسی کو اسکی محنت کا ثمر ضرور ملتا ہے۔ ہاں مگر اسکے لیے محنت تو ضروری ہے۔

    اللہ پاک نے ہمیشہ انسان کیلئے کئی راستے کھول رکھے ہوتے ہیں، اب اہم یہ ہے کہ کون اپنی مرضی کا مقام پانے یا اپنی خواہش بر لانے کیلئے محنت جاری رکھتا ہے ۔ آزمائشیں بھی آتی ہیں مگر وہ ہمرے خدا پر ایمان اور یقین کا ایک امتحان ہوتی ہیں۔ جو انہیں صبر شکر سے گزارنے میں کامیا ب ہو جاتا ہے اسکے لیے اللہ پاک بہت اچھا اجر تیار کر رکھتے ہیں۔

    اس لیے کبھی کبھی ہمیں ہماری من پسند چیز یا راہ مل نہیں پاتی۔ مگر ایک حقیقت یہ بھی ہے کہ کبھی کبیھی خدا اپنے بندے کی محنت ، نیت اور اسکا جذبہ پرکھنا چاہ رہا ہوتا ہے، اسی لیے کوئی ایک راہ بند کردی جاتی ہیں مگر ساتھ ہی ساتھ مزید کئی راہیں کھول دی جاتی ہیں۔ بحیثیت مسلمان ہمیں اس بات کو بھی ذہن نشین کر لینا چاہیے کہ خدا پاک کے ہر فیصلے میں حکمت ہوتی ہے۔ اگر ہمیں محنت مشقت کے بعد بھی کچھ مل نہیں پا رہا تو ہو سکتا ہے کہ وہ ہمارے لیے بہتر نہ ہو۔ اگر آزمائش آ جائے تو

    بے صبری کا مظاہرہ کیوں؟
    کیا ہمیں اللہ پاک پر یقین نہیں ؟
    کیا ہمارا ایمان اتنا کمزور ہے؟
    لیکن جب محنت اور کوشش کی ہی نہ جائے تو نصیب یا قسمت کو الزام دینا کہاں کا انصاف ہے؟

  • کراچی کی تباہی کا ذمہ دار کون ؟ .تحریر:سید عمیر شیرازی

    کراچی کی تباہی کا ذمہ دار کون ؟ .تحریر:سید عمیر شیرازی

    کراچی میں ہر طبقے سے تعلق رکھنے والے لوگ رہتے ہیں اگر ہم تاریخ کی ان ورق کو دیکھیں جب کراچی کولاچی ہوا کرتا تھا تو اس شہر میں امن و سکون سے لوگ رہا کرتے تھے نا مذہب کے نام پر کوئی فساد ہوتا تھا نا ہی لسانیت کی بنیاد پر جھگڑے ہوتے دیکھے، جسے جسے وقت کا پہیہ تیزی سے گھومنے لگا آپسی پیار محبت لوگوں کی دلوں سے ختم ہونا شروع ہوگی،

    گزرتے وقت کے ساتھ کراچی میں رہنے والے خواہ وہ کسی بھی زبان سے تعلق رکھتے ہوں ایک دوسرے کے جانی دشمن بن گئے اور آپسی بھائی چارہ ختم ہوتا چلا گیا یہ کہنا غلط نہ ہوگا کچھ ایسی جماعتیں وجود میں آئی جن کا مقصد تعصب اور لسانیت کو ہوا دینا تھا کوئی مہاجر کے نام پر تو کوئی سندھی کے نام پر آپس میں لڑواتا کہی پٹھان تو کہی پنجابی دست گربان دکھائی دیے

    جس قوم کو قائد اعظم محمد علی جناح رحمتہ اللہ علیہ نے ایک جھنڈے تلے جمع کیا تھا وہ قوم لسانیت کی بھینٹ چڑھ گئی۔۔
    کولاچی سے کراچی تک کا سفر بہت کٹھن رہا اس درمیان بہت سے گھر اجڑے بہت سے بچے یتیم ہوئے خون کی ہولیاں کھیلی گئی…..
    آج تہتر سال گزر جانے کے باوجود ہم کہاں کھڑے ہیں ؟؟

    آج تہیہ کرلیں ہم نے یا تو مفاد پرست ٹولے کو اپنے اوپر مسلط کرنا ہے یا پھر ان سے جان چھڑانی ہے۔
    فیصلہ آپ کا..!!

  • غصہ عقل کو کھا جاتا ہے .تحریر: مہرالنساء رانا

    غصہ عقل کو کھا جاتا ہے .تحریر: مہرالنساء رانا

    اللہ تعالیٰ نے انسان کو احساسات اور جذبات دے کر پیدا کیا ہے -یہ جذبات ہی ہیں جن کا اظہار ہمارے رویوں سے ہوتا ہے کہ جہاں انسان اپنی خوشی پر خوش ہوتا ہے، وہیں اگر ناپسندیدہ اور اپنی توقعات سے مختلف امور دیکھ لے تو اس کے اندر غصہ بھی پیدا ہو جاتا ہے
    انسان کو اللہ پاک نے اشرف المخلوقات بنایا ہے تو اس کے ساتھ ساتھ خواہشات بھی رکھ دی

    انسان کو جب غصہ آتا ہے تو انسان اپنے جذبات پر قابو نہیں پا سکتا
    انسان کا دماغ کام کرنا چھوڑ دیتا ہے
    انسان کی عقل ساتھ نہیں دیتی
    انسان غصے میں غیر فطری اور غیر اخلاقی کام بھی کر جاتا ہے
    غصے کی حالت میں انسان خود کا بھی اور اپنے ارد گرد کے لوگوں کا بھ نقصان کر دیتا ہے
    وقتی طور پر انسان جو کرتا ہے وہ اس کو ٹھیک لگ رہا ہوتا ہے لیکن بعد میں جب غصہ ختم ہوتا ہے
    انسان ہوش میں آتا ہے تو پھر سمجھ آتی ہے وہ جو کر رہا تھا وہ غلط تھا لیکن گیا وقت ہاتھ نہیں آتا
    اللہ پاک اور ان کے پیارے حبیب نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے بھی غصہ کرنے سے منع کیا ہے
    اللہ کے نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے صحابہ کرام رضی اللہ تعالٰی عنہ سے بھی بہت دفعہ غصہ کو قابو کرنے کا کہا
    قرآن مجید میں غصہ نہ کرنے اور معاف کر دینے کی فضیلت کا بیان:

    1-’’وَالَّذِیْنَ یَجْتَنِبُوْنَ کَبٰٓـئِرَ الْاِثْمِ وَ الْفَوَاحِشَ وَاِذَا مَا غَضِبُوْا ہُمْ یَغْفِرُوْنَ‘‘[1]

     ’’اور جو لوگ کبیرہ گناہوں اور بے حیائی کے کاموں سے پرہیز کرتے ہیں اور جب انہیں غصّہ آتا ہے تو معاف کر دیتے ہیں‘‘-

    -’’الَّذِیْنَ یُنْفِقُوْنَ فِی السَّرَّآئِ وَالضَّرَّآئِ وَالْکَاظِمِیْنَ الْغَیْظَ وَالْعَافِیْنَ عَنِ النَّاسِط وَاللہُ  یُحِبُّ الْمُحْسِنِیْنَ‘‘[2]

    ’’یہ وہ لوگ ہیں جو فراخی اور تنگی (دونوں حالتوں) میں خرچ کرتے ہیں اور غصہ ضبط کرنے والے ہیں اور لوگوں سے (ان کی غلطیوں پر) درگزر کرنے والے ہیں؛ اور اللہ احسان کرنے والوں سے محبت فرماتا ہے‘‘-

    چند احادیث
      ’’حضرت عطیہ (رضی اللہ عنہما) بیان کرتی ہیں کہ رسول اکرم (ﷺ) نے فرمایا، غضب شیطان کے اثر سے اور شیطان آگ سے پیدا کیا گیا ہے اور آگ پانی سے بجھائی جاتی ہے تو جب تم میں سے کوئی شخص غضب ناک ہو تو وہ وضو کرے‘‘-

    ’’حضرت ابوذر (رضی اللہ عنہ)بیان کرتے ہیں کہ رسول کریم (ﷺ)نے فرمایا،جب تم میں سے کسی شخص کو غصہ آجائے کھڑا ہو تو بیٹھ جائے پھر اس کا غصہ ختم ہو جائے توٹھیک، ورنہ وہ لیٹ جائے‘‘

    حضرت ابو ہریرہ (رضی اللہ عنہ) بیان کرتے ہیں کہ نبی اکرم (ﷺ)نے فرمایا جس شخص نےغصہ ضبط کر لیا حالانکہ وہ اس کے اظہار پر قادر تھا ،اللہ تعالیٰ اس کو امن اور ایمان سے بھر دے گا‘‘-

    اللہ اور ان کے پیارے حبیب نبی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے بھی جب منع کر دیا تو پھر انسان کے پاس کوئی جواز، کوئی دلیل نہیں بچتی وہ غصہ کرے
    ہمیں بھی چاہئے ہم اپنے غصے پر قابو رکھیں اور اللہ پاک کے احکامات اور نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے طریقوں پر زندگی گزاریں

  • اسلام، حجاب اور عورت مارچ .تحریر:حسن ساجد

    اسلام، حجاب اور عورت مارچ .تحریر:حسن ساجد

    اسلام ایک جامع، فطری اور کامل دین ہے جس کے تمام قوانین  اور اصول و ضوابط فطرت کے تمام تقاضوں کے عین مطابق ہیں۔ اسلامی نصب العین انسانیت کی بقا، ترقی، خوشحالی اور فلاح و بہبود سے بھرپور ہے کیونکہ اسلام واحد دین ہے جو زندگی سے متعلق تمام معاملات (دینی و دنیاوی، سیاسی و سماجی، معاشی و معاشرتی) میں مکمل اور جامع ترین رہنمائی فراہم کرتا ہے۔ اسلام ایک مکمل نظام حیات ہے جو انسانی زندگی اور مہذب معاشرتی تکمیل کے تمام پہلووں کا مکمل احاطہ کیا ہوئے ہے۔ اگر حسن معاشرت کی بات کی جائے تو انسانوں کے مابین ہمدردی، اخلاص، اتفاق، باہمی تعلقات اور خدمت کی غرض سے جڑے رشتوں اور باہمی حقوق و فرائض کو جس خوش اسلوبی سے اسلام نے بیان کیا ہے  وہ کہیں اور میسر نہیں آتے۔ حقوق العباد کے عمومی موضوع سے اگر ہم اپنے مخصوص موضوع یعنی عورت کے حقوق و فرائض کی طرف متوجہ ہوں تو ہمیں تاریخ کی ورق گردانی سے معلوم ہو گا کہ اسلام سے قبل رومی، یونانی اور زمانہ جاہلیت کے ادوار میں عورت سے ساتھ کس قدر بدتر اور تضحیک آمیز برتاؤ رکھا جاتا تھا۔ وہ ظلم و ستم کسی سے ڈھکا چھپا نہیں جو عورت ان تمام ادوار میں سہہ چکی ہے۔  آپ کو تاریخ انسانی میں اسلام وہ واحد دین ملے گا جس نے نہ صرف عورت کی تضحیک منع فرمایا بلکہ عورت کو معاشرے میں رتبہ، مقام اور عزت و آبرو سے بھی سرفراز فرمایا۔ اسلام نے عورت کا وراثت میں حصہ مقررکیا اور دیگر اسے وہ تمام حقوق عطا کیے جن سے اسے محروم رکھا جاتا تھا۔ اسلام نے عورت کو معاشرے میں وہ مقام عطا کیا جس کی وہ صدیوں سے متلاشی تھی۔ اسلام نے دنیا کو عام پیغام دیا کہ عورت سامان عیش و عشرت نہیں بلکہ نسل انسانی کی بقا اور سلامتی کا نام ہے۔ جہاں اسلام نے عورتوں کے بے شمار حقوق مقرر کیے ہیں وہیں ان پر کچھ ذمہ داریاں اور فرائض بھی عائد کیے ہیں جن کی پاسداری تہذیب یافتہ معاشرے کی تشکیل کے لیے نہایت ضروری ہے۔ عورت کے ذمہ تمام فرائض میں سب سے اہم اور اولین فرض  احکام الہی کی روشنی میں اپنی عصمت اور آبرو کی حفاظت کرنا ہے۔ اس فرض کی تکمیل کے لیے اللہ رب العزت نے خواتین کو باکردار اور باپردہ ہونے کا حکم دیا ہے تاکہ معاشرے میں ان کا وقار بلند ہو۔ اللہ رب العزت سورہ النور کی آیت نمبر 31 میں ارشاد فرماتا ہے کہ، 

    ” ترجمہ: اور ایمان والیوں سے کہہ دو کہ اپنی نگاہ نیچی رکھیں اور اپنی عصمت کی حفاظت کریں اور اپنی زینت کو ظاہر نہ کریں مگر جو جگہ اس میں سے کھلی رہتی ہے، اور اپنے دوپٹے اپنے سینوں پر ڈالے رکھیں، اور اپنی زینت ظاہر نہ کریں مگر اپنے خاوندوں پر یا اپنے باپ یا خاوند کے باپ یا اپنے بیٹوں یا خاوند کے بیٹوں یا اپنے بھائیوں یا بھتیجوں یا بھانجوں پر یا اپنی عورتوں پر یا اپنے غلاموں پر یا ان خدمت گاروں پر جنہیں عورت کی حاجت نہیں یا ان لڑکوں پر جو عورتوں کی پردہ کی چیزوں سے واقف نہیں، اور اپنے پاؤں زمین پر زور سے نہ ماریں کہ ان کا مخفی زیور معلوم ہوجائے، اور اے مسلمانو! تم سب اللہ کے سامنے توبہ کرو تاکہ تم نجات پاؤ۔  النور31″۔ احکام پردہ اور عصمت کے تحفظ پر اس کے علاوہ بھی بیسیوں آیات اور احادیث مبارکہ موجود ہیں جن میں عورت کو باپردہ اور باحیا رہنے کا حکم دیا گیا ہے۔

    الحمدللہ پاکستان ایک اسلامی ملک ہے جو نظریہ اسلام کی بنیاد پر معرض وجود میں آیا ہے لہذا یہاں کی تہذیب و ثقافت اور ملکی قوانین کا اسلامی قوانین کے ساتھ مطابقت رکھنا بے حد ضروری ہے۔ مسلمان ہونے کی حیثیت سے احکام الہی اور اسلامی قوانین کی پاسداری ہم پر فرض ہے اگر ہم اس سے روگردانی کریں گے تو یہ ہمارا یہ عمل اللہ اور اسکے رسول صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی نافرمانی ، سرکشی اور قانون شکنی کے زمرے میں آئے گا۔ اسلام نے عورت کو جس انداز سے باپردہ رہنے کا حکم صادر کیا ہے اس کی ہوبہو پیروی ہم سب پر فرض ہے اور اس پر کسی قسم کی ذاتی رائے کو فوقیت دینا گناہ کبیرہ ہے۔ اسلام ایک دین فطرت ہے اور اسکے احکامات مہذب اور باوقار معاشرت کے تمام اصولوں کے عین مطابق ہیں۔ اسلام نے عورت کو پردے کا حکم اس لیے صادر فرمایا ہے کہ معاشرہ اس بے حیائی اور فحاشی سے  بچ سکے جو نسل انسانی اور خاندانی نظام کو تباہ و برباد کررہی ہے۔ گزشتہ چند سالوں سے وطن عزیز بھی عورت کی آزاد طرز زندگی کے نام پر بے پردگی، بے حیائی اور فحاشی پھیلانے والے اسلام اور پاکستان دشمن عناصر کی زد میں ہے۔ اس پھیلتی ہوئی بے شرمی اور بے حیائی کا نتیجہ ہمیں بڑھتے ہوئے جنسی جرائم اور خواتین کی عصمت دری کی صورت میں بھگتنا پڑ رہا ہے۔ ہم دیکھ رہے ہیں کہ پاکستان میں جنسی جرائم کی وارداتوں میں خطرناک حد تک اضافہ ہوچکا ہے۔ 

    اس سنگین صورت حال کا نوٹس لیتے ہوئے وزیراعظم پاکستان نے اپنے اہم بیان میں خواتین کو مختصر لباس زیب تن کرنے سے اجتناب کرنے کی ہدایت جاری کی۔ وزیراعظم پاکستان نے خواتین کو پردے کا اہتمام کرنے کی ہدایت دی تاکہ معاشرے میں بڑھتے ہوئے جنسی جرائم اور بے راہ روی کو روکا جاسکے۔ مگر افسوس اس بات کا ہے کہ یہاں ہر شخص ذاتی مفاد کے لیے خیر و شر اور احکام الہی کو فراموش کیے بیٹھا ہے۔ وزیراعظم کے اس بیان پر سیاست دان اپنی سیاست چمکانے کی غرض سے مخالف بیانات دے رہے ہیں تو دوسری لبرل مافیہ اور اسلام دشمن قوتیں سیخ پا ہیں۔ اس بیان کے باعث اصل مروڑ لبرلز اور انسانی حقوق کے نام نہاد ٹھیکے داروں کے پیٹ کیں اٹھ رہے ہیں جنہیں پاکستان میں اپنا دھندہ چوپٹ ہوتا دکھائی دے رہا ہے۔ مادر پدر آزاد خیالات کا حامی یہ طبقہ جو "عورت مارچ” کے نام سے خواتین کے حقوق کے تحفظ کا ڈھونگ رچا کر در پردہ بے حیائی اور فحاشی کو فروغ دے رہا ہے۔ ہم سب اس بات کے شاہد ہیں کہ کس طرح عورت کارڈ استعمال کرتے ہوئے اس طبقے نے ملک میں فحاشی کو عام کیا ہے۔ یہ لوگ دوبارہ سے "عورت مارچ” کے لیے پر تول رہے ہیں مگر گزشتہ عورت مارچ کے جلسے جلوسوں میں استعمال ہونیوالے بینرز، نعروں اور اسکے علمبرداروں کے کرتوت ہم سب کے سامنے ہیں۔ جن سے بخوبی اندازہ کیا جاسکتا ہے کہ ان کا مقصد عورت کے حقوق کا تحفظ نہیں بلکہ یہ لوگ عورت کو آزادی اور حقوق کی جنگ کے نام پر گمراہ کرکے بے حیائی اور فحاشی کی جانب راغب کررہے ہیں۔ عورت کی تعلیم، وراثت میں اسکا حق، ملازمت کے یکساں مواقع اور دیگر حقوق کو چھوڑ کر انکی سوئی گھوم گھما کر بے پردگی اور بے حیائی پر ہی آکر ٹکتی ہے۔ وزیراعظم کے بیان کے بعد اس طبقے کے اس قدر متحرک ہونے کی وجہ یہ ہے کہ لبرل طبقہ عمران خان صاحب کی عوام میں مقبولیت سے بخوبی واقف ہے۔ یہ لوگ جانتے ہیں کہ خان صاحب کے اس بیان کے بعد پردے کے معاملے میں نوجوان نسل کا وہ طبقہ بھی اس معاملے میں محتاط ہوجائے گا جو اس سے قبل پردے کی پابندی کا قائل نہ تھا۔ یہی وجہ ہے کہ یہ لوگ اپنا دھندہ بچانے اور فحاشی پھیلا کر ہماری نوجوان نسل کو بہکانے کے لیے نئے اور منفرد انداز سے وارد ہوں گے۔ بحیثیت مسلمان اب یہ ہمارا فرض ہے کہ ہم اسلامی قوانین، اسلامی رویات اور تہذیب و ثقافت کو اپناتے ہوئے ان اسلام اور پاکستان دشمن قوتوں کو شکست دیں ۔ ہمیں چاہیے کہ ہم اسلام کے سنہری اصولوں کی بنیاد پر ایک ایسا فلاحی، صحت مند اور مذہب معاشرہ تشکیل دیں جہاں ہررنگ و نسل کے لوگ طبقاتی اور جنسی تقسیم سے آزاد پرامن زندگی گزار سکیں۔ 

    اللہ اقوام عالم میں پاکستان کو رفعتیں اور بلندیاں عطا فرمائے آمین