Baaghi TV

Category: معاشرہ و ثقافت

  • کرپشن کیس ساوتھ افریقہ کے سابق صدر کو گرفتاری دینا پڑی ، تحریر:عینی سحر

    کرپشن کیس ساوتھ افریقہ کے سابق صدر کو گرفتاری دینا پڑی ، تحریر:عینی سحر

    ساوتھ افریقہ کے 79 سالہ سابق صدر جیکب زوما جنہوں نے ٢٠٠٩ سے ٢٠١٨ تک حکمرانی کی ان پر کرپشن کے الزامات تھے جن پر انہوں اکڑ دکھاتے ہوئے آئینی عدالت میں پیش نہ ہونے کو ترجیح دی اور عدالتی کاروائی میں شامل نہ ہوۓ جس پر عدالت نے انھیں چار جولائی تک کی مہلت دی کے یا تو گرفتاری دیں یا پھر پولیس سابق صدر کو گرفتار کرے سابق صدر جیکب زوما نے مہلت ختم ہونے سے چند لمحے پہلے خود کو حکام کے حوالے کردیا اور اب قانون کے مطابق وہ پندرہ ماہ کی جیل کی سزا کاٹیں گے

    عدل و انصاف کا نظام اسلامی ریاست کی اساس رہا ہے لیکن دیکھا جاۓ توعدل وانصاف کے اس نظام کا مملکت خدا داد پاکستان میں فقدان ہے ہمارے سامنے ایسی کئی مثالیں ہیں لیکن اسکے برعکس ہمارے سزا یافتہ حکمران بلندوبانگ دعووں کیساتھ عیش و آرام سے رہتے ہیں اور آزادی سے بیرون ملک سفر کرتےاور پھر عدالتی بلاوے کو روندڈالتے ہیں_

    ساوتھ افریقہ کے صدر کے حق میں کسی نے نعرہ نہیں لگایا اسکو چھوڑ دو اور ووٹ کو عزت دو . بلکہ وہاں پر عوامی تجسس یہ تھا کہ آیا سابق صدر اور پولیس آئینی عدالت کے حکم کا پاس کریں گے یا نہیں کیوں کہ قانون سے بالاتر کوئی نہیں اور قانون کے احترام میں معاشرے کی بقا ہے ہمارے سیاستدان عدالتی فیصلوں اور تصدیق شدہ جرائم کے باوجود ضمانتیں لیکر انتخابی تحریکیں چلاتے اور اپنا نظریہ عوام میں پھیلاتے ہیں اور یہ سوال پوچھتے ہیں ‘کیا آپ ایسا ملک چاہتے ہیں جہاں کا وزیراعظم عدالتوں میں پیش ہو ؟_

    ہمارے ہاں قانون اور عدالتی بالادستی کیساتھ عوامی شعور اجاگر کرنے کی بھی ضرورت ہے کے قانون سے کوئی افضل نہیں اگر خلیفہ امیر المومنین حضرت عمر رضی اللہ عنہہ اپنی زائد چادر کا حساب دینے کے پابند تھے تو آج کےاور سابقہ حکمران خود کو قانون سے بالاتر سمجھتے ہوۓ جوابدہی میں اپنی ہتک نہیں سمجھ سکتے اس لیے کے قانون سب کیلئے برابر ہونا چائیے

  • اڑان .تحریر: ‏حمیرا الیاس

    اڑان .تحریر: ‏حمیرا الیاس

    وہ روز صبح ہی صبح اڑان بھرتی، اور اپنی چونچ میں کچھ نا کچھ بھر کر لاتی ریتی،تب تک جب تک بچوں کی بھوک ختم نا ہو جاتی،اور وہ خاموش نا ہو جاتے
    اور میں روزانہ یہ اڑان دیکھتی
    پھر ایک دن کیا ہوا کہ صبح دم کی چہل پہل میرے روشن دان میں ختم ہو چکی تھی۔ اور وہاں بس خاموشی کا راج تھا۔ چڑیا کے بچے اڑنا سیکھ چکے تھے، اور وہ گھونسلا چھوڑ کر اڑ گئے۔ چڑیا بھی دوبارہ نظر ناآئی، کافی دن انتظار کر کے گھونسلہ ادھر سے ہٹادیا۔ تھوڑے دن گزرے تھے کہ ہماری کام والی واویلا کرتی آن موجود ہوئی، امی کے سامنے بیٹھےروئے جائے، پانی کھانا،چائے پینے کے بعد کچھ ڈھارس بندھی تو پتا چلا کہ بیٹے کی نوکری دوسرے شہر میں ہو گئی، بہت اچھی تنخواہ مل رہی اب ماں کے لئے اس گھر کو چھوڑنا اپنے محلے داروں رشتے داروں سے دور رہنا ممکن نہیں ہو رہا، اور وہ زور دے رہی تھی کہ کوئی اس کے بیٹے کو سمجھائے اپنے شہر سے دور نوکری نا کرے۔
    اور وہ رات اس سوچ میں گزری کہ ماں تو ماں ہے، وہ کیوں اتنا کچھ کرتی، وہ کسی پرندے کی ہو یا انسان کی،خود سے بڑھ کر اپنی اولاد کو دیتی۔ ہر سکھ کے لئے بار بار اڑان بھرتی۔ اندر باہر کے چکر کاٹتی۔

    لیکن کیاوجہ ہے کہ چڑیا اپنے بچوں کو گھونسلے سے اڑان بھرنا سکھاتی!!!
    جبکہ ہمارے معاشرہ کی ماں اسے اڑان سکھانے کے بجائے خود خوفزدہ اور غیر محفوظ ہوجاتی!!!
    کیوں؟؟
    بہت سی وجوہات میں سے ایک یہ ہے کہ ہمارے ہاں ہم پہلے سے ہی یہ سوچ کر بچے پیدا کرتے کہ یہ ہمارے بڑھاپے کا سہارا ہوںگے۔

    ہجرت ہر پیغمبر کی نسبت سے ہمارے لئے سنت ہے، لیکن ہم ہجرت کے نام سے ہی خوفزدہ ہونے لگتے۔ ہم گھروندے بنا کر انہی میں اپنی وابستگیاں اتنی گہری لگاتے کہ ان کے ٹوٹ جانے سے ڈرنے لگتے۔
    یہی خوف بڑھ کر ہمارے بچوں کے اوپر ہر وقت پروں کی چھایا کئے رکھنے کی ترغیب دیتا، ہم ان کی پرواز سے ڈر جاتے کہ کہیں کچھ گزند نا پہنچے، اور یوں ان کی اونچی اڑان کی راہ میں ہم خود رکاوٹ بن جاتے

    کیا ایسے ہم اس چڑیا سے زیادہ بے بس اور کمزور نا ہوئے؟ جس نے اپنی اولاد کو پرواز کرنا سکھایا، آر آزاد کر دیا کہ کاؤ، اس دنیا میں گھومو، پھرو اور اللہ کی تسبیح بیان کرو۔
    ہمارے معاشرہ میں ہر جگہ پر محدود سوچ کی بنیادی وجہ ہمارا اپنے بچوں کو یہ ترغیب دینے سے کوتاہی ہی ہے۔
    ذمہ داری بحیثیت والدین یا اساتذہ یہی ہے کہ ہم انہیں اڑان بھرنا سکھائیں اور جب وہ آزادانہ رہنے کے قابل ہو جائیں تو انہیں اپنی زندگی کو جی کر دیکھنے دیں۔

    ہاں ایک انسان اور چڑیا میں اتنا فرق ضرور ہے، کہ والدین اپنی اولاد کی کونسلنگ اور حوصلہ افزائی دونوں کے لئے ان کے پیچھے موجود رہیں تاکہ ان کے پروں کی سمت صرف اونچی پرواز ہی کی طرف اشارہ کرے، بس یہی ایک طریقہ ہو سکتا اسوقت گرتی معاشرتی اقدار کو سہارا دینے اور واپس اوج ثریا کو پانے کا۔

    @humerafs

  • ‏گھریلوتشدد بل کے نام پرآزاد خیال معاشرے کا قیام  .تحریر:عنقودہ

    ‏گھریلوتشدد بل کے نام پرآزاد خیال معاشرے کا قیام .تحریر:عنقودہ

    گھریلو تشدد بل سینٹ سے منظور ہوکر آئینِ پاکستان کا حصہ بن چکا ہے۔ ایک خوشنما نام لیکن اس کے مندرجات دیکھیں تو یوں لگے گا کہ جیسے کسی سیکولر / لبرل مغربی فنڈڈ این جی او نے اپنا منشور ہی آئین پاکستان کا حصہ بنا دیا ہے۔ یہ خاندانی نظام، خونی رشتوں اور خصوصاً والدین اور اولاد، میاں بیوی کے درمیان تعلقات، خانگی زندگی کی بنیادیں ہلا کے رکھ دے گا۔

    آئیے پہلے اس کے چیدہ چیدہ پوائنٹس دیکھتے ہیں۔ ان کی گہرائی میں جانا، مستقبل کی تصویر سوچنا آپ پر ہے۔

    گھریلو تشدد بل کے اہم نقاط یہ درج ذیل ہیں.
    🔥والدین کا اپنے بچوں کی پرائیویسی، آزادی میں حائل ہونا جرم ہوگا
    🔥اولاد کے بارے میں ناگوار بات کرنا / شک کا اظہار کرنا بھی جرم ہوگا
    🔥معاشی تشدد یعنی کسی بھی قسم کے اختلاف، نافرمانی، کسی بھی وجہ سے بچے کا خرچہ کم یا بند نہیں کیا جاسکتا ہے۔ اگر ایسا کیا گیا تو یہ جرم ہوگا، اس پر سزا ملے گی
    🔥جذباتی / نفسیاتی اور زبانی ہراسمینٹ کی اصطلاحات متعارف کرائی گئیں ہیں، یعنی کسی بھی بات کو ہراسمنٹ قرار دے سکتے ہیں
    🔥خاوند کا دوسری شادی کا کہنا، خواہش کا اظہار کرنا جرم ہو گا، اسے گھریلو تشدد قرار دیا گیا ہے۔
    🔥طلاق کی بات کرنا بھی جرم، جس کی سزا ہوگی، اسی طرح کوئی غصے والی بات، اونچی آواز میں بولنا، کوئی بھی ایسا جملہ جو کہ جذباتی، نفسیاتی یا زبانی اذیت کا باعث بنے وہ جرم تصور ہوگا
    🔥اگر باپ نے مندرجہ بالا "جرائم” میں سے کوئی ایک سرزد کیا تو بطور سزا وہ اپنے گھر نہیں جاسکتا، اسے اولاد سے "محفوظ” فاصلے پر رہنا ہوگا۔ جی پی ایس کڑا پہننا ہوگا۔ کسی شیلٹر ہوم / یا تھانے میں سزا کاٹنی ہوگی
    🔥کم سے کم 6 ماہ جبکہ 3 سال تک سزا سنائی جاسکتی ہے۔ ایک لاکھ تک جرمانہ بھی ہوگا، اگر جرمانہ نہ دیا تو مزید 3 سال قید
    🔥اس میں ساتھ دینے والے کو بھی برابر کی قید ہوگی، یعنی ماں اور باپ دونوں مجرم بنیں گے😨

    اس بل کو بجٹ اجلاس میں انتہائی عجلت میں منظور کیا گیا، تمام سیاسی جماعتوں نے حق میں ووٹ دیا، جبکہ صرف چند مذھبی جماعتوں نے محض علامتی طور پر مخالفت کی۔
    صحافی اوریا مقبول جان کے مطابق اب تو والدین اس قدر قانون کے شکنجے میں ہوں گے کہ اگر بیٹا آوارہ پھرتا ہے ، نشہ استعمال کرتا ہے ، کسی بھی اخلاقی جرم میں مبتلا ہوتا ہے تو والدین اس کو روک نہیں سکیں گے ، اسی طرح بیٹی ، بیٹے کی ” آزادی ” اور پرائیویسی میں دخل دینا قابل سزا جرم بنا دیا گیا ہے ۔ یہ تو جیسے عورت مارچ کا ایجنڈا پاکستانی قانون بن گیا ہے ، مہر گڑھ ، الف اعلان ، عورت فاؤنڈیشن وغیرہ جیسی این جی اوز ایسے قوانین منظور کراتی ہیں ۔ معاشرے کے سنجیدہ حلقوں کو احساس تک نہیں کہ ان کے ساتھ کیا کھیل کھیلا جا رہا ہے ۔ چند طاقتور این جی اوز کس طرح ملکی آئین میں اپنا ایجنڈا شامل کر رہی ہیں ۔

    والدین کو مجرم بناکر پیش کرنا ایک ایجنڈا ہے ۔ اس کے کئی مقاصد ہیں ۔ جب ان قوانین کے تحت والدین جیلوں میں جائیں گے تو باقی رہ جانے والے اولاد پیدا کرنے کے بارے بھی سوچیں گے ۔ نوجوان شادی کے بندھن سے آزادی چاہیں گے ۔ اگر شادی ہو بھی گئی تو گھریلو زندگی ان قوانین کے شکنجے میں رہے گی ۔ اولاد ہوئی تو اس کے ہاتھوں جیل کی ہوا کھانے کا ڈر ہو گا ۔ کون یہ ذمہ داریاں نبھائے گا ۔ پھر وہی تصور جو عورت مارچ کے نعرے ہیں ۔ ذرا ان کو یاد کر لیں ۔ شادی کے بغیر زندگی ، گھر سنبھالنے سے انکار ، میرا جسم میری مرضی کے تحت اولاد سے انکار ، طلاق کی آسانی اور اس کو خوشنما بنا دینا ۔

    مغربی معاشرت کی ایک جھلک کا تصور کریں
    اس کے خاندانی نظام پر انتہائی گمراہ کن اثرات مرتب ہوں گے۔یہ ایک مخصوص ایجنڈا ہے جس کے مقاصد بڑے واضح ہیں ۔اسی کے تحت شادی کی عمر بڑھانے، دوسری شادی کو مشکل بلکہ ناممکن بنانے ۔ طلاق کو قابل تعریف اور آسان بنانا۔ حدود آرڈیننس ، مردوں کو کڑے پہنانے کے قوانین، غیرت کے نام پر قتل کے حوالے سے قوانین کورٹ میرج کی آسانی، خواجہ سراؤں کے تحفظ ہم جنس پرستی اور اسقاط حمل کے قوانین میں سے کچھ بن چکے ہیں باقی پر کام جاری ہے ۔

    ماروی سرمد جو ببانگ دہل کہتی ہے کہ یہ ملک سیکولر ہو کر رہے گا تو ایویں نہیں کہتی
    کیونکہ اسے فنانسرز کی طاقت ، دولت اور ایجنڈے کا علم ہے وہ انہی کیساتھ ملکر کام کرتی ہے ۔
    ان کو اپنے ایجنڈے کا پورا اندازہ ہے اور کام خاموشی سے جاری ہے.

  • پڑی اپنی برائیوں پر جو نظر تو نگاہ میں کوئی برا نہ رہا .تحریر:حنا

    پڑی اپنی برائیوں پر جو نظر تو نگاہ میں کوئی برا نہ رہا .تحریر:حنا

    انسانوں میں عیب دیکھنا
    القرآن:
    قسم ہے انجیر کی اور زیتون کی.
    اور طور سیناء کی.
    اور اس پر امن شہر (مکہ) کی.
    البتہ یقینا ہم نے انسان کو بہترین شکل و صورت میں پیدا کیا ۔
    کبھی دل چاہتا ہے خدا سے کلام کرنے کو، لوگوں کے رویوں پر آہ وبکاہ کرنے کو۔ ہم دل تو رکھتے ہیں درد نہیں، ضمیر تو رکھتے ہیں بیداری نہیں، الفاظ تو رکھتے ہیں انداز بیان نہیں؟ ہم ہیں کیا؟ کیا انسان ہیں؟ مسلماں ہیں؟ کیا پہچان ہے ہماری؟ ہمارا وجود؟ ہمارا مذہب؟ ہمارا نام؟ ہمارا کام؟ ا ٓخر کیا ہے ہم میں خاص جو ہمیں لوگوں کے جذبات سے کھیلنے کی اجازت دیتا ہے؟ انسان کتنا ہی خود پر ناز کرے، غرور کرے لیکن کہیں نہ کہیں وہ اپنے نا مکمل وجود کی ترجمانی کر ہی دیتا ہے، خدا کی تخلیق میں نقص نکالنا، انسان ہو کر غیرانسانی سلوک کرنا، خود کو فرشتہ اور دوسرے کو شیطان سمجھنا لیکن جب اس کیاپنی ذات کی بات آجاتی ہے تو خود کو انتہائی مہذب، نیک گفتار، عاجز اور خوش طبع شخصیت تسلیم کروانے میں کوئی کثر نہیں چھوڑتا، یہ درست ہے کہ شکل صورت خدا کی دین ہے، اور کسی کو بھی اس میں کسی قسم کا نقص نکالنے کا کوئی حق حاصل نہیں، اس بات کا صرف اور صرف یہ مطلب ہوتا ہے کہ آپکو خدا کی تخلیق پر عتراض ہے لیکن آپ کی خود کی شکل و صورت، مزاج، کردار کی بات آئےتو، میں تو ایسا؟ میں تو ویسا؟ میں اتنا محنت کش؟ میں اتنا صابر؟ میں اتنا دانش؟ میں اتنا خوش شکل؟ میں سب کچھ مگر تم کچھ بھی نہیں کا نعرہ! توبہ استغفار، اللہ بچائے ایسے مرد اور خواتین سے، پیٹ بھرنے کے لئے کھانا نہیں بس عیب نکانے کی مہم ہی کافی ہوتی ہیں ایسا معلوم ہوتا ہے۔

    دوسروں سے تو پیدائشی دشمنی لے کر پیدا ہوتے ہیں کچھ لوگ یا یہ کہہ لیجیے خود پسندی کا شکار ہوتے ہیں، یہ الفاظ اٰپ نے اکثر سنے ہوں گے:

    ارے یہ بھی کوئی طریقہ ہوا کرتا ہے، یہ بھی کوئی انداز ہے،
    فلاں لڑکی ایسی فلاں ایسی
    اچھا ﻭﮦ ﭼﮭﻮﭨﮯ ﺳﮯ ﻗﺪ والی لڑکی ؟
    اچھا وہ ﺑﮍﮮ ﺳﮯ ﻣﻨﮧ ﻭﺍﻟﯽ؟
    ﺟﻮ ﯾﻮﮞ ﭼﻠﺘﯽ ﺗﮭﯽ؟ ( ﻧﻘﻞ ﺍﺗﺎﺭ ﮐﺮ ﺩﮐﮭﺎﺋﯽ ﺟﺎﺗﯽ ﮨﮯ )
    ﮐﻮﻧﺴﺎ لڑکا ؟
    ﻭﮦ ﮔﻨﺠﺎ؟
    وہ ﻣﻮﭨﯽ ﮔﺮﺩﻥ ﻭﺍﻻ؟
    ﻭﮦ ﺟﻮ ﺧﻮﺩ ﺍﺗﻨﺎ ” ﮐﻮﺟﺎ ” ﮨﮯ ﺍﻭﺭ ﺑﯿﻮﯼ ﺍﺳﮯ ﺍﺗﻨﯽ ﭘﯿﺎﺭﯼ ﻣﻞ ﮔﺌﯽ ﮨﮯ؟
    ﮨﻢ “ﺳﻮﺭﮦ ﺗﯿﻦ” ﮐﯽ ﺍﺑﺘﺪﺍﺋﯽ ﺁﯾﺎﺕ ﭘﮍﮬﯿﮟ ﺗﻮ ﻭﺍﺿﺢ ﮨﻮﺗﺎ ﮨﮯ ﮐﮧ ﭼﺎﺭ ﭼﯿﺰﻭﮞ ﮐﯽ ﻗﺴﻢ ﮐﮭﺎ ﮐﺮ ﺍﻟﻠﮧ ﺳﺒﺤﺎﻥ ﻭ ﺗﻌﺎﻟﯽ ﻧﮯ ﻓﺮﻣﺎﯾﺎ ﮨﮯ ﮐﮧ ﺍﺱ ﻧﮯ ﺍﻧﺴﺎﻥ ﮐﻮ ﺣﺴﯿﻦ ﺗﺨﻠﯿﻖ ﮐﯿﺎ۔
    ﮐﺘﻨﮯ ﺁﺭﺍﻡ ﺳﮯ ﮨﻢ ﺍﻟﻠﮧ ﮐﯽ ﺗﺨﻠﯿﻖ ﮐﺎ ﻣﺬﺍﻕ ﺍﮌﺍ ﻟﯿﺘﮯ ﮨﯿﮟ ﺍﻭﺭ ﻣﺤﺴﻮﺱ ﺑﮭﯽ ﻧﮩﯿﮟ ﮐﺮﺗﮯ۔ ﮐﺴﯽ ﮐﻮ ﻟﻤﺒﺎ ﮨﻮﻧﮯ ﭘﺮ ﺑﺎﺗﯿﮟ ﺳﻨﻨﯽ ﭘﮍﺗﯽ ﮨﯿﮟ، ﮐﺴﯽ ﮐﻮ ﭼﮭﻮﭨﺎ ﮨﻮﻧﮯ ﭘﺮ، ﮐﺴﯽ ﮐﺎ ﺭﻧﮓ ﮐﺎﻻ، ﮐﺴﯽ ﮐﯽ ﻧﺎﮎ ﻣﻮﭨﯽ، ﮐﺴﯽ ﮐﻮ ﭼﮩﺮﮮ ﭘﺮ ﺩﺍﻧﮯ ﻧﮑﻞ ﺁﺋﯿﮟ ﺗﻮ ﭘﻮﭼﮫ ﭘﻮﭼﮫ ﮐﺮ ﺍﺳﮑﯽ ﻣﺖ ﻣﺎﺭ ﺩﯾﺘﮯ ﮨﯿﮟ، ﺑﺎﻟﻮﮞ ﭘﺮ ﺗﺒﺼﺮﮮ، ﮨﻮﻧﭩﻮﮞ ﭘﺮ ﺑﺎﺗﯿﮟ۔۔ ﺣﺎﻻﻧﮑﮧ ﺍﻧﺴﺎﻥ ﮐﺎ ﺍﻥ ﻣﯿﮟ ﺳﮯ ﮐﺴﯽ ﭘﺮ ﺑﮭﯽ ﺍﺧﺘﯿﺎﺭ ﻧﮩﯿﮟ۔ ﯾﻘﯿﻨﺎً ﺣﺴﯿﻦ ﭼﮩﺮﺍ ﺳﺒﮭﯽ ﮐﻮ ﺍﭼﮭﺎ ﻟﮕﺘﺎ ﮨﮯ ﻟﯿﮑﻦ ﻭﮦ ﺣﺴﻦ ﺑﮭﯽ ﺭﺏ ﻧﮯ ﮨﯽ ﺩﯾﺎ ﺗﻮ ﺗﻌﺮﯾﻒ ﺍﺳﯽ ﮐﯽ، ﺍﻭﺭ ﺍﮔﺮ ﮐﺴﯽ ﮐﮯ ﭼﮩﺮﮮ ﻣﮩﺮﮮ ﮐﺎ ﻣﺬﺍﻕ ﺁﭖ ﺍﮌﺍ ﺭﮨﮯ ﮨﯿﮟ ﺗﻮ ﮐﺲ ﺫﺍﺕ ﮐﺎ ﻣﺬﺍﻕ ﺍﮌﺍﻧﮯ ﮐﮯ ﻣﺮﺗﮑﺐ ﮨﻮ ﺭﮨﮯ ﮨﯿﮟ، ﯾﮧ ﺟﺎﻧﻨﺎ ﺯﯾﺎﺩﮦ ﻣﺸﮑﻞ ﻧﮩﯿﮟ۔ ﻭﮦ ﺭﺏ ﺟﻮ ﺍﯾﮏ ﮐﮯ ﺑﻌﺪ ﺩﻭﺳﺮﯼ، ﺗﺴﯿﺮﯼ ﺍﻭﺭ ﭘﮭﺮ ﭼﻮﺗﮭﯽ ﻗﺴﻢ ﮐﮭﺎ ﮐﺮ ﻓﺮﻣﺎﺗﺎ ﮨﮯ ﮐﮧ ﺍﺱ ﻧﮯ ﺍﻧﺴﺎﻥ ﮐﻮ ﺍﺣﺴﻦ ﺗﻘﻮﯾﻢ ( ﺑﮩﺘﺮﯾﻦ ﺳﺎﺧﺖ ) ﭘﺮ ﺑﻨﺎﯾﺎ ﮨﮯ ﻟﯿﮑﻦ ﮨﻤﯿﮟ ﺩﻭﺳﺮﻭﮞ ﮐﺎ ﻣﺬﻕ ﺍﮌﺍﺗﮯ ﻭﻗﺖ ﯾﮧ ﯾﺎﺩ ﮨﯽ ﮐﺐ ﺭﮨﺘﺎ ﮨﮯ؟ !

    ﯾﮩﺎﮞ ﺍﯾﮏ ﺑﺎﺕ ﺍﻭﺭ ﻗﺎﺑﻞِ ﺫﮐﺮ ﮨﮯ ﮐﮧ ﮨﻢ ﺍﮔﺮ ﺍﯾﮏ ﺩﻭﺳﺮﮮ ﮐﯽ ﺷﮑﻞ ﮐﺎ ﻣﺬﺍﻕ ﻧﮧ ﺑﮭﯽ ﺍﮌﺍﺗﮯ ﮨﻮﮞ ﺗﻮ ﺑﮭﯽ ﻣﺨﺘﻠﻒ ﺟﻐﺮﺍﻓﯿﺎﺋﯽ ﻋﻼﻗﻮﮞ ﻣﯿﮟ ﺭﮨﻨﮯ ﻭﺍﻟﻮﮞ ﮐﮯ ﻟﺌﮯ ﮨﻢ ﺑﻐﯿﺮ ﺳﻮﭼﮯ ﺳﻤﺠﮭﮯ ﺍﯾﺴﮯ ﺍﻟﻔﺎﻅ ﺍﺩﺍ ﮐﺮ ﺩﯾﺘﮯ ﮨﯿﮟ۔ ﭼﺎﺋﻨﯿﺰ ﻟﻮﮔﻮﮞ ﮐﺎ ﺫﮐﺮ ﮨﻮ ﺗﻮ ﻣﻤﮑﻦ ﻧﮩﯿﮟ ﮐﮧ ﺍﻧﮑﮯ ﻗﺪ ﺍﻭﺭ ﻧﺎﮎ ﮐﺎ، ﺍﻧﮑﯽ ﺁﻧﮑﮭﻮﮞ ﮐﺎ ﺫﮐﺮ ﻧﮧ ﮐﺮﯾﮟ۔ ﻋﻤﻮﻣﺎً ﭘﮭﯿﻨﯽ / ﭼﭙﭩﯽ ﻧﺎﮎ ﻭﺍﻟﮯ ﮐﮩﮧ ﮐﺮ ﺍﻧﮑﯽ ﻃﺮﻑ refer ﮐﯿﺎ ﺟﺎﺗﺎ ﮨﮯ۔ ﺍﺳﯽ ﻃﺮﺡ ﺍﻓﺮﯾﻘﻦ ﻟﻮﮔﻮﮞ ﮐﮯ ﮔﮭﻨﮕﺮﯾﺎﻟﮯ ﺑﺎﻝ، ﭼﻮﮌﯼ ﺟﺴﺎﻣﺖ، ﺍﻭﺭ ﺑﮭﺮﮮ ﮨﻮﻧﭩﻮﮞ ﮐﻮ ﺑﮭﯽ ﺣﻘﺎﺭﺕ ﮐﯽ ﻧﻈﺮ ﺳﮯ ﺩﯾﮑﮭﺎ ﺟﺎﺗﺎ ﮨﮯ۔ ﺣﺎﻻﻧﮑﮧ ﺍﻧﮑﻮ ﺗﺨﻠﯿﻖ ﮐﺮﻧﮯ ﻭﺍﻻ ﺑﮭﯽ ﻭﮨﯽ ﻣﺼﻮﺭ ﮨﮯ ﺟﺲ ﻧﮯ ﮨﻤﯿﮟ ﺧﻮﺑﺼﻮﺭﺕ ﺑﻨﺎﯾﺎ۔
    ﺍﻟﻠَّﻬُﻢَّ ﺃَﻧْﺖَ ﺣَﺴَّﻨْﺖَ ﺧَﻠْﻘِﻲ ﻓَﺤَﺴِّﻦْ ﺧُﻠُﻘِﻲ
    ﺍﮮ ﺍﻟﻠﮧ ! ﺟﺲ ﻃﺮﺡ ﺗﻮ ﻧﮯ ﮨﻤﯿﮟ ( ﺑﺎﮨﺮ ) ﺧﻮﺑﺼﻮﺭﺕ ﺑﻨﺎﯾﺎ ﮨﮯ، ﮨﻤﺎﺭﺍ ( ﺍﻧﺪﺭ ) ﮐﺮﺩﺍﺭ ﺑﮭﯽ ﺧﻮﺑﺼﻮﺭﺕ ﺑﻨﺎ ﺩﮮ۔

    ﺭﻭﺯﻭﯾﻠﭧ ﮐﺎ ﺍﯾﮏ ﺑﮍﺍ ﻣﺸﮩﻮﺭ ﻗﻮﻝ ﯾﺎﺩ ﺁ ﺭﮨﺎ ﮨﮯ :
    ”Great minds discuss ideas; average minds discuss events; small minds discuss people.” ﺍﺳﮑﯽ ﺭﻭﺷﻨﯽ ﻣﯿﮟ ﺍﭘﻨﯽ ﮔﻔﺘﮕﻮ ﺍﻭﺭ ﺍﭘﻨﮯ ﺁﭖ ﮐﻮ ﭘﺮﮐﮭﻨﮯ ﺳﮯ ﮨﻢ ﺑﮍﯼ ﺁﺳﺎﻧﯽ ﺳﮯ ﺍﻧﺪﺍﺯﮦ ﻟﮕﺎ ﻟﯿﮟ ﮔﮯ ﮐﮧ ﮨﻤﺎﺭﺍ ﺷﻤﺎﺭ ﮐﺲ کیٹاگری میں ہوتا ہے

  • غریب کا احساس ‏.تحریر: لاریب اطہر

    غریب کا احساس ‏.تحریر: لاریب اطہر

    ہمارے ارد گرد بہت سے لوگ ایسے ہیں جو اپنی زندگی بہت مشکل سے گزار رہے ہیں
    اکثر تو ایسے ہیں جو 2 وقت کا کھانا بھی پورا نہیں کر سکتے اور ہم ایک وقت کا اتنا کھانا بنا رہے ہوتے ہیں جو غریب کو مل جائے تو وہ 4 دن اس سے آرام سے گزار سکے
    ہم اپنی ضرورت سے زیادہ کھانے کو کچرے میں پھینک دیتے ہیں لیکن پڑوس میں غریب کو اس کی بو تک نہیں لگنے دیتے
    اگر وہ ہی کھانا ہم خود سے بچا ہوا ہی کیوں نا ہو پڑوسی ی
    کو دے دیں اس کے بچے بھوکے نا سوئیں
    وہ کم از کم 2 ٹائم پیٹ بھر کر کھانا تو کھا سکے
    اس کے دل سے ہمارے دعائیں نکلیں
    اللہ پاک ہمارے گھروں، ہمارے رزق میں برکت ڈالیں لیکن ایسا ہم سوچتے بھی نہیں ہیں
    ہم صرف اپنا پیٹ بھرنے کی سوچ میں لگے رہتے ہیں
    ہم ہار سنگار تو کر لیتے ہیں غریب کے بچے کو پورے کپڑے بھی نہیں ملتے
    ہم پر ہفتے شاپنگ تو کر لیتے ہیں لیکن غریب کو 2 روپے دیتے ہوئے تکلیف ہوتی ہے
    ہم بڑے بڑے ہوٹلوں میں کھانے کھا اور کھلا رہے ہوتے ہیں لیکن غریب کا نہیں سوچتے

    قرآن مجید فرقان حمید میں ارشاد باری تعالیٰ ہے ” نیکی صرف یہی نہیں کہ آپ لوگ اپنے منہ مشرق اور مغرب کی طرف پھیر لیں بلکہ اصل نیکی تو اس شخص کی ہے جو اللہ پر اور قیامت کے دن پر اور فرشتوں پر اور (آسمانی) کتابوں پر اور پیغمبروں پر ایمان لائے،اور مال سے محبت کے باوجود اسے قرابت داروں ،یتیموں،محتاجوں، مسافروں، سوال کرنے والوں، اور غلاموں کی آزادی پر خرچ کرے۔یہ وہ لوگ ہیں جو نماز قائم کرتے ہیں، زکوٰة دیتے ہیں اور جب کوئی وعدہ کریں تو اسے پورا کرتے ہیں۔ سختی، مصیبت اور جہاد کے وقت صبر کرتے ہیں۔ یہی لوگ سچے ہیں اور یہی پرہیزگار ہیں
    (سورة البقرةآیت177)

    قرآن حکیم کی سورة البقرہ ہی میں ارشاد ہے” (لوگ) آپ صلی اللہ علیہ و سلم سے پوچھتے ہیں کہ (اللہ کی راہ میں) کیا خرچ کریں۔ فرما دیجئے کہ جس قدر بھی مال خرچ کرو (درست ہے) مگر اس کے حق دار تمہارے ماں باپ ہیں اور قریبی رشتے دار ہیں اور یتیم ہیں اور محتاج ہیں اور مسافر ہیں اور جو نیکی بھی تم کرتے ہو، بے شک اللہ اسے خوب جاننے والا ہے۔“ 

    اللہ تعالٰی نے بھی ہمیں غریب کا احساس کرنے کا حکم دیا ہے
    خود ہمارے پیارے نبی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے اپنی زندگی میں غریبوں کا احساس، غریب کا ساتھ کر عملی نمونہ بتاتا

    محسن انسانیت نبی کریم محمد صلی اللہ علیہ و سلم نے نہ صرف حاجت مندوں کی حاجت روائی کرنے کا حکم دیا بلکہ عملی طور پر آپ صلی اللہ علیہ و سلم خود بھی ہمیشہ غریبوں، یتیموں، مسکینوں اور ضرورتمندوں کی مدد کرتے

    ایک مرتبہ آپ صلی اللہ علیہ و سلم مسجد نبوی میں صحابہ کرام کے ساتھ تشریف فرما تھے کہ ایک عورت اپنی کسی ضرورت کے لئے آپ کے پاس آئی ، آپ صلی اللہ علیہ و سلم صحابہ کرام کے درمیان سے اٹھ کر دیر تک مسجد کے صحن میں اس کی باتیں سنتے رہے اور اس کی حاجت روائی کا یقین دلا کر ،مطمئن کر کے اسے بھیج دیا

    آپ کا فرمان ہے کہ حاجت مندوں کی مدد کیلئے میں مدینہ کے دوسرے سرے تک جا نے کیلئے تیا ر ہوں

    حدیث نبوی صلی اللہ علیہ و سلم ہے کہ ایک مسلمان دوسرے مسلمان کا بھائی ہے وہ نہ اس پر ظلم کرتا ہے اور نہ اسے بے یارومددگا ر چھوڑتا ہے
    جو شخص اپنے کسی مسلمان بھائی کی حاجت روائی کرتا ہے ،اللہ تعالیٰ اس کی حاجت روائی فرماتا ہے اور جو شخص کسی مسلمان کی سترپوشی کرتا ہے اللہ تعالیٰ قیا مت کے دن اس کی ستر پوشی فرمائے گا
    ارشاد نبوی صلی اللہ علیہ و سلم ہے کہ اللہ تعالیٰ اس وقت تک اپنے بندے کے کام میں (مدد کرتا )رہتا ہے جب تک بندہ اپنے مسلمان بھائی کے کام میں مدد کرتا رہتا ہے

    اج ہم بھی اگر مل کر اپنے معاشرے میں غریبوں کا احساس شروع کر دیں تو غریبوں کے بچے بھی بھوکے نا سوئیں، ننگے نا گھومیں، اچھے نہیں تو کم از کم سرکاری سکولز میں پی پڑھ سکیں

    ہمیں دوسروں کی طرف دیکھنے کے بجائے خود اپنے آپ کو پہلے پیش کرنا ہو گا غریب کا ساتھ دینے کے لیے

  • "بانجھ پن” اور بیٹیاں .تحریر: ارم رائے

    "بانجھ پن” اور بیٹیاں .تحریر: ارم رائے

    آج دو موضوعات پر بات کرونگی۔ پہلا ہے بانجھ پن جسکا مطلب عام طور پر یہ لیا جاتا ہے کسی عورت کا ماں نا بن سکنا، بانجھ پن بھی ایک بیماری ہے جس طرح اور کئی بیماریاں ہیں اور یہ بیماری بھی قابل علاج ہے۔ اور اہم بات کہ یہ بیماری عورت اور مرد دونوں میں ہوتی ہے۔ پھر اسکا الزام صرف عورت پر ہی کیوں؟ صرف عورت ہی کیوں یہ طعنہ سنتی اور برداشت کرتی ہے؟ کوئی مرد کو طعنہ کیوں نہیں دیتا کہ تم باپ نہیں بن سکتے ہو؟ کسی بھی بازار میں چلے جائیں، شاپنگ مالز میں چلے جائیں، ہسپتالوں میں چلے جائیں، دیواروں کو دیکھیں یا پھر حکیموں کے اشتہارات کو ہر جگہ اپ کو مردانہ کمزوری کے علاج کے طریقے بتانے والوں کے نام اور مقام کی تفصیل ملےگی۔ کسی عورت کے بارے میں نہیںلکھا ہوگا کہ اسکا علاج موجود ہے۔ پھر عورت ہی کیوں یہ ظلم سہتی کہ وہ بانجھ ہے ماں نہیں بن سکتی، اسکا مطلب تو یہ ہے کہ 80فیصد مرد باپ نہیں بن سکتے ہیں۔ پھر علاج کے نام پر صرف عورت کی زندگی کو کیوں کھلواڑ بنایا جاتا ہے؟ اسلام کے نقطہ نظر سے بھی دیکھیں تو اولاد مرد کے نصیب سے ہے پھر مورد الزام عورت کیوں؟ ماں نا بننے کے طعنے کے ساتھ چھوڑ دینے والے مرد کیا عورت کو اسکی عمر اور جوانی بھی لوٹا سکتے ہیں؟ اس مردوں کے معاشرے میں رہتے ہوئے کیا کبھی کسی عورت نے مرد کو اس لیے چھوڑا کہ وہ باپ نہیں بن سکتا اور عورت کو بچے چاہییں؟ کیا کبھی عورت نے سرعام مرد کو طعنہ دیا؟ کبھی اولاد نا ہونے کا بہانہ بنا کر چھوڑا؟ طلاق کی وجوہات کچھ بھی ہوسکتی ہیں لیکن کبھی یہ نہیں ہوتی کہ مردچونکہ باپ بننے کی صلاحیت نہیں رکھتا اس لیے چھوڑ رہی ہوں۔ اس لیے جب بھی کوئی ایسا معاملہ درپیش ہو تو برائے مہربانی اپنا چیک آپ بھی کروا لیں اگر خود کو دوائی کی ضرورت ہے تو وہ بھی استعمال کر لیں صرف عورت کو الزام لگا کر اسکی زندگی کے بہترین سال ضائع کر کے اسے چھوڑ کر معاشرے کے رحم و کرم پر نا چھوڑیں۔ آخرت میں جواب صرف نماز کا نہیں لیا جانا بلکہ ہر اس بات کا لیا جانا ہے جسکے لیے نگران بنایا گیا۔ حاکم بنایا گیا ہے۔

    بیٹیاں
    آج کا دوسرا موضوع بیٹیاں ہیں۔ بیٹیاں جنہیں رحمت کہاگیا، بیٹیاں جو گھر کی رونق ہیں، بیٹیاں جو تتلیاں ہیں، بیٹیاں جن کی وجہ سے گھروں میں رونق زندگی میں سکون ہے بیٹیاں جنہیں میرے رب نے والدین کی بخشش کا زریعہ بنایا، بیٹیاں جو ہمارے آخری نبی صلی اللهعلیہ والہ وسلم کی سنت کی وارث، وہ بیٹیاں جنہیں اسلام کی آمد سے قبل دفن کردیا جاتا تھا انکی عزت، حرمت، کا تحفظ کیا ہمارے دین اسلام نے۔

    آپ صلی الله والہ وسلم کے ایک فرمان کا مفہوم ہے کہ فرمایا
    بیٹیوں کی پرورش کرنے والا قیامت کے دن میرے ساتھ یوں کھڑا ہوگا جیسے انگلیاں ایک دوسرے کے ساتھ ہیں۔ ہم اسلام کے پیروکار ہیں، ہم اس دین کو پھیلانے والے اس سنت کا پرچار کرنے والے کیسے اتنے بڑے فرمان سے انحراف کر سکتے ہیں؟ کیسے بیٹیوں کو زحمت کہہ سکتے ہیں؟ کیسے بیٹی کے پیدائش کا الزام عورت پر لگا کر اسے چھوڑ سکتے ہیں؟ کیسے بیٹیوں کو بوجھ سمجھ سکتے ہیں؟ میں نے ایک دو لوگ ایسے دیکھے جو باقائدہ خوشی مناتے ہیں کہ بیٹیاں ہیں انکی تعلیم اور تربیت کرتے ہیں اچھے طریقے سے انکانکاح کرتے ہیں۔ کیا سب لوگ ایسے نہیں ہوسکتے؟ گھریلوتشدد کے واقعات میں سب سے زیادہ جم باتوں پر تشدد ہوتا ہے عورت پر وہ بانجھ پن اور بیٹیوں کی پیدائش پر ہے۔ جب بیٹا، بیٹی ہے ہی الله کی طرف سے تو مجرم عورت کیسے؟ اب تو سائنس نے بھی یہ بات ثابت کردی کہ بیٹی یا بیٹے کی پیدائش میں عورت سے زیادہ مرد کا ہاتھ ہے تو پھر الزام عورت پر کیوں؟ مرد اپنے آپ کو جب حاکم سمجھتے ہوئے عورت کو بیٹیوں کی پیدائش کا مجرم ٹھہرا کر چھوڑ دیتا ہے بیٹیوں سے رخ موڑ لیتا ہے اس عورت کو اور بیٹیوں کو معاشرے کے رحم و کرم پر چھوڑ دیتا ہے تو اس عورت اور بیٹیوں کے ہر قسم کے نقصانات کا زمہ دار وہ مرد ہوتا ہے۔ دنیا میں بھی گنہگار اور آخرت کے عذاب کا بھی مستحق ہوتا ہے۔ زندگی کتنی مختصر اور عارضی ہےیہاں کس نے قیامت تک رہنا ہے رہنی صرف رب کی زات ہے۔ بیٹیوں کے بغیر تو والدین کے جنازے تک خالی ہوتے ہیں۔ رحمت کی قدر کریں تاکہ نعمت سے نوازے جا سکیں۔ بیٹیوں کی پیدائش پر خوش ہوں انکی تربیت کریں انکا ساتھ دیں معاشرے میں جینے کے قابل بنائیں۔ انہیں انکے پاؤں پر کھڑا کریں۔ انہیں بوجھ نہیں گھر کی رونق بڑھاپے کا سہارا سمجھیں۔ اور ان سب سے بڑھ کر آخری الزمان نبی کریم صلی الله عليه والہ وسلم کا آخرت میں ساتھ پانے کی سعی کریں۔ الله پاک ہمیں اپنے راستے پر چلانے کی توفیق عطاء فرمائے۔ اپکی دعاؤں کی طلبگار

  • قصور کس کا؟ از قلم: فیصل فرحان

    قصور کس کا؟ از قلم: فیصل فرحان

    پاکستان میں روز ظلم و بربریت کی نئی نئی داستانیں رقم ہو رہی ہے۔ کبھی خبر سننے کو ملتی ہے کہ فلا امیر زادے نے فلا عورت کے ساتھ ریپ کر دیا فلا وڈیرے نے فلا غریب کو سرعام قتل کر دیا۔ اور یہ سارے واقعات چوری چھپے نہیں ہو رہے بلکہ سرعام ہزاروں گواہوں کے سامنے بلکہ ویڈیوز تک موجود ہوتی ہے لیکن ان سب ثبوتوں کے باوجود یہ درندے چند مہینوں بعد آزاد کیسے ہو جاتے ہے؟ یقینً ہمارے ذہن میں پہلا سوال عدلیہ کا آتا ہے لیکن اکیلی عدلیہ ان سب کی قصور وار نہیں ہے۔ سب سے بڑا قصور تو ہمارے غیر مکمل اور کالے قانون کا ہے۔ ہمارا ملکی آئین خود چوروں اور لٹیروں کو آزادی دیتا ہے پھر عدلیہ کیسے سزا دے؟؟ آپ سب کو بلوچستان والا واقعہ یاد ہوگا جس میں ایک پولیس والے کو بلوچستان کے وڈیرے نے ڈیوٹی کے دوران گاڑی سے کچل دیا اور اس کیس کا سب سے اہم ثبوت ویڈیو تھی جس میں صاف نظر آرہا تھا لیکن اس وڈیرے نے اس شہید پولیس والے کی فیملی کو ڈرا دھمکا کر دیت کا نام دے کر کیس معاف کروا لیا اور پکا ثبوت ہونے کے باوجود باعزت بری ہوگیا۔ اسی طرح کشمالہ طارق کے بیٹے والا کیس بھی یاد ہوگا جس میں کئی گھروں کے چراغ بجھا کر ان کو ڈرا دھمکا کر دیت دے کر کیس معاف کروا لیا ۔

    یاد رکھیں اسلام نے دیت والی حد صرف اس کیلیے رکھی جس سے غلطی ہو جائے یا جھگڑے میں قتل ہو جائے اسلام ہرگز کسی ظالم یا بدمعاش کی دیت قبول نہیں کرتا بلکہ اسے کڑی سے کڑی سزا دیتا ہے لیکن ہمارے ملک میں سسٹم الٹا ہے یہاں پر ہر امیر اور بدمعاش کی دیت قبول کر لی جاتی ہے جو کہ ہمارے قانون میں شامل ہے۔ اب خود بتاو یہاں پر عدلیہ کیا کرے؟ جب قانون خود راستہ دے رہا ہو۔ میں یہ نہیں کہہ رہا کہ ہمارے ججز بہت پارسا ہے یقینًا بہت سے ججز کرپٹ ہے جو بڑی بڑی پارٹیوں سے پیسے لے کر فیصلہ کرتے ہے لیکن وہ ججز بھی قانون کا استعمال کر کے ہی ظالموں کو رہا کرتے ہے اسلیے آج تک کسی جج کو کوئی افف تک نہیں کر سکا کیونکہ سارا پراسس قانون کے مطابق ہوتا ہے۔ اسلیے اگر ہمیں ملک میں ظلم اور نا انصافی کو ختم کرنا ہے تو ہنگامی بنیادو پر لاء ریفارمز کرنی ہوگی اور سخت شقیں شامل کرنی ہونگی تاکہ ہر ظالم اور چور کو کڑی سے کڑی سزا ہوسکے اور پھر کوئی جج چاہ کر بھی دونمبری نہیں کر سکے گا اگر کرے گا تو پکڑا جائے گا۔ انصاف کسی بھی معاشرے کیلیے سب سے اہم جز ہے۔ نبی کریمؐ نے پورانی اقوام کی تباہی کا یہی سبب بتایا کہ وہ لوگ غریب کو سزا دیتے تھے اور امیر کو چھوڑ دیے تھے جیسا آجکل ہمارے ملک میں ہورہا ہے۔

    امام علیؓ کا قول ہے کہ کفر کا نظام تو چل سکتا ہے لیکن انصافی کا نظام کبھی نہیں چل سکتا اور یہی پاکستان کی پستی کی سب سے بڑی وجہ ہے۔اگر پاکستان کو بہترین ملک بنانا ہے تو سب سے پہلے نئے قانون بنائے جائے اور ہر قانون کو مکمل سٹڈی کے بعد پاس کیا جائے تاکہ کسی قسم کی جھول باقی نہ رہے پھر ان شا اللہ جلد ہمارا ملک عظیم اقوام میں شامل ہوگا

  • انسان اور انسان سے جڑے رشتے.تحریر : ریحانہ جدون

    انسان اور انسان سے جڑے رشتے.تحریر : ریحانہ جدون

    انسان جب پیدا ہوتا ہے تو اپنے ساتھ رشتوں اور تعلق کا ایک سلسلہ لے کر آتا ہے, والدین , بہن بھائی, دادا دادی, نانا نانی, وغیرہ
    پر جیسے جیسے وقت گزرتا جاتا ہے تو تعلق کا دائرہ وسیع ہوجاتا ہے جن میں دوست, اسکول فیلوز پارٹنر وغیرہ شامل ہوجاتے ہیں.
    کوئی انسان خوش نصیب ہوتا ہے کہ اسکو مخلص اور وفادار دوست مل جاتے ہیں اور کوئی کی زندگی اس نعمت سے خالی ہوتی ہے.
    رشتے اور تعلق کے اعتبار سے اگر ہم اپنے اردگرد دیکھیں تو ہمیں دو طرح کی انتہا ملتی ہیں. ایک انتہا وہ ہے جس میں انسان سب رشتوں سے لاتعلق بن جاتا ہے اور صرف اپنی دنیا بسا لیتا ہے اور دوسری انتہا یہ کہ انسان اپنے دوستوں کو اپنی دنیا سمجھنے لگتا ہے.
    یہ دونوں صورتیں ایک انسان کو معیاری زندگی سے دور لے جاتی ہیں.
    بعض دفعہ ایسی صورتحال پیدا ہو جاتی ہے کہ انسان اپنے تعلقات کو اپنے رشتوں پہ فوقیت دینے لگتا ہے اور اسطرح اپنے رشتوں سے بےحس ہوجاتا ہے.
    وہی رشتے جو پیدا ہوتے ہی اپنے ساتھ لے کے آ یا ہوتا ہے.
    ایک مثال دیتی ہوں..
    جن بہن بھائیوں کے ساتھ میں کھیل کود کے بڑا ہوا ہوتا ہے, دن میں 50 بار ان سے لڑ جھگڑ کے ایک دوسرے کو مار پیٹ کے) رات کو پھر ایک ساتھ ایک دسترخوان پہ اکٹھے بیٹھے ہوتے ہیں.
    ایسی کیا وجہ ہے کہ وہ اپنے ان رشتوں سے دوری اختیار کرلیتا ہے ؟؟
    میرا جانا ایک گھر ہوا وہاں کچھ دیر باتوں باتوں میں پتا چلا کہ چار بہنیں ہیں ایک بھائی ہے ( جو انکو چھوڑ چکا ہے)
    اس عورت کی زبانی کے ماں کی وفات بہت پہلے ہوگئی تھی اور بابا نے دوسری شادی نہیں کی ہم بہن بھائی کو پالا.
    بھائی سب سے چھوٹا تھا اس لئے بہت لاڈلا بھی تھا. دو بہنوں کی اور بھائی کی شادی ہوگئی ایک دن باپ نے اپنی 3 دکانیں ایک گھر بھائی کے نام کردیا اور بھائی کو بیٹھا کے کہا کہ تمھارا حصہ میں نے اپنی زندگی میں دے دیا ہے اب یہ گھر رہ گیا ہے یہ گھر میری چارو بیٹیو کو دونگا.
    یہ سن کے بیٹا غصے میں آ گیا اور کہا کہ بہنوں کو کیوں دوگے یہ بھی میرا ہے..
    اس بات پہ باپ بیٹے کی بحث اس حد تک بڑھ گئی کہ بیٹا اپنی بیوی کو لے کے لاہور شفٹ ہوگیا.
    باپ کو فالج ہوا اسکی بیماری میں بھی باپ کو ملنے نہ آ یا اور 4 سال تک وہ بستر پر رہا…
    اس دوران اسکو بیٹیاں ہی سنبھالتی رہی اور پھر ایک دن باپ فوت ہوگیا باپ کی فوتگی کی خبر بیٹے کو دی گئی مگر وہ باپ کے جنازے کو کندھا دینے تک کو نہ آ یا.

    جیسے جیسے وہ عورت داستان سنا رہی تھی کہ آ نسو میری آنکھوں سے نکل رہے تھے اور بار بار ایک ہی سوال میرے زہن میں گونج رہا تھا کہ کیا پیسہ, جائیداد اتنی قیمتی ہوجاتی ہے کہ اپنے رشتوں کی کوئی اہمیت نہیں رہتی ؟؟؟
    یا شاید اس اولاد کی بدقسمتی تھی کہ دنیا میں ہی اپنی جنت اپنے ہاتھوں سے گنوا دیا..
    ہم جانتے ہیں کہ کوئی بھی انسان ایک دم اتنا بےحس, بے درد نہیں ہوجاتا جب تک خود اسکے ساتھ ایسا مسلسل نہ ہورہا ہو جو اسکی برداشت سے باہر ہوگیا ہو….
    پر میرے خیال میں رشتوں کو برداشت نہیں کیا جاتا انکو نبھایا جاتا ہے اپنا فرض سمجھ کے.
    پر جب دُنیاوی محبت انسان پہ حاوی ہو جائے تو پھر کچھ نہیں کہا جاسکتا…

    لوگوں کے اس جنگل میں ہر طرح کے لوگوں سے آ پکا واسطہ پڑا ہوگا یا پڑ سکتا ہے بعض دفعہ آ پکو ایسے لوگ بھی ملتے ہیں جو بظاہر بڑے نیک, خوش اخلاق ہوتے ہیں لیکن بدقسمتی سے ایسا ہوتا نہیں ہے..
    یاد رکھیں عظیم انسان وہ ہے جو اپنے ساتھ جڑے رشتوں کو کبھی نہیں چھوڑتا .
    اور ماں باپ کو تو کبھی بھی نہیں..
    خدارا اپنے تعلقات نبھائیے پر اپنے رشتے بھی مت توڑیں..
    دنیا کی عیش کی زندگی کی خاطر ان قیمتی رشتوں سے خود کو محروم نہ کریں.
    عارضی چیزوں میں سکون تلاش کرنے کی بجائے اللہ کی رضا میں خوش رہنا سیکھیں اللہ کی محبت تمھیں بھٹکنے نہیں دے گی.
    اس محبت میں اتنی طاقت ہے کہ اللہ کے ایک حکم پر عمل کرنے کے لیے انسان اس فانی دنیا سے لڑ جاتا ہے وہی کام کرنے لگتا ہے جو اللہ کو پسند ہو جب اسے اللہ کی رضا میں رہنا آ جاتا ہے تو پھر ہر طرف سکون ہی سکون,
    دنیا کی محبت دنیا کے تعلقات ایک سائیڈ کرکے اللہ کے بتائے راستے پر چل کے تو دیکھو ہر طرح کی ڈپریشن سے آ زاد ہوجائیں گے
    امید ہے یا شاید آ پ میرا پیغام سمجھ گئے ہونگے

  • بیروزگاری کا خاتمہ پر کیسے؟؟ تحریر : حمزہ بن شکیل

    بیروزگاری کا خاتمہ پر کیسے؟؟ تحریر : حمزہ بن شکیل

    اس وقت دنیا بھر میں بیروزگاری ایک بہت سنگین مسئلہ بن چکا ہے جس سے دنیا کے بیشتر ترقی یافتہ ممالک بھی متاثر ہیں۔ بیروز گاری کے باعث معاشرہ میں بیشمار سماجی برائیاں سر اٹھاتی ہیں جن کی روک تھام کے لئے ہمیں حکومتی اور انفرادی سطح پر چند ضروری اقدامات اٹھانے کی ضرورت ہے۔

    ویسے تو بیروزگاری کی بیشمار وجوہات ہیں پر ان میں ایک سب سے بڑی وجہ ہماری دن بدن بڑھتی آبادی بے جس کی وجہ سے وسائل کم ہوتے جا رہے ہیں۔ اس کی ایک تازہ مثال اس سال ہونے والے ایف آئی اے کے امتحان ہیں جن کے لئے اب تک 12 لاکھ امیدواروں نے 1137 سیٹوں کے لئے درخواستیں جمع کرائی ہیں جو کے ٹوٹل کا دس فیصد بھی نہیں بنتا۔ بیروز گاری کی دوسری سب سے اہم وجہ آئے روز بڑھتی مہنگائی اور ٹیکس ہیں جس کی وجہ سے بہت سے لوگ اپنے روزگار سے ہاتھ دھو بیٹھتے ہیں۔ اس سب نے غریب اور بیروز گار شخص کی کمر توڑ کر رکھ دی ہے۔ اس کے علاوہ گزشتہ دو سال میں جہاں کورونا وائرس نے کئی انسانی جانیں نگلی ہیں وہیں اس کی وجہ سے بہت سے لوگ اپنے روزگار سے بھی ہاتھ دھو بیٹھے ہیں اور بیروز گاری کی سطح میں بہت خطر ناک حد تک اضافہ ہوا ہے۔ سفارشی کلچر جیسی معاشرتی برائیاں بھی بے روزگاری کی ایک بڑی وجہ میں سے ایک ہیں جس کے باعث بہت سے محنتی اور ہنر مند افراد کو اچھی نوکری حاصل کرنے میں ناکام رہتے ہیں۔ اندازہ لگائیں پاکستان میں ہر سال قریب 28 ہزار نوجوان گریجویشن مکمل کرنے کے باوجود اچھی ملازمت حاصل کرنے میں کامیاب نہیں ہو پاتے۔

    بے روزگار افراد کو پریشانی اور ذہنی تناؤ کے باعث بہت سی جسمانی بیماریوں کا سامنا کرنا پڑتا ہے۔ ایسے افراد اموماً معاشی بدحالی اور مایوسی کی دلدل میں پھنسنے کے بعد فرار اختیار کرنے کے لئے نشے کی لت میں لگ جاتے ہیں اور کچھ تو خودکشی تک کر لیتے ہیں۔

    ہر حکومت کا فرض ہے کہ وہ بیروزگاری جیسی سنگین اور سماجی برائی کو کسی صورت نظر انداز نہ کرے اور اپنی طرف سے ہر ممکن اقدامات کرے تا کہ بیروزگاری کو جلد از جلد جڑ سے ختم کیا جا سکے۔ اس مسئلے کے خاتمے کیلئے حکومت کو مناسب معاشی منصوبہ بندی، موثر حکومتی پالیسیاں اور ملک میں امن و امان کی صورتحال کو بہتر بنانے کے لئے اٹھائے جانے والے اقدامات بیروز گاری کے خاتمے میں اہم کردار ادا کر سکتے ہیں۔ اس کے علاوہ سفارش جیسے ترجیحی سلوک کا خاتمہ ضروری ہے تا کہ نوکریاں میرٹ کی بنیاد پر مل سکیں۔

    حکومت کے ساتھ ساتھ تمام مخیر حضرات کو بھی اس کار خیر میں کھل کر اپنا حصہ ڈالنا چاہئے تاکہ ہم مل کر معاشرے سے بیروزگاری کو ختم کر سکیں اور ایک خوشحال معاشرہ تشکیل پا سکے۔

  • برداشت ۔ تحریر : منیب جنجوعہ

    برداشت ۔ تحریر : منیب جنجوعہ

    اعلیٰ انسانی اخلاق کیا ہیں اور زندگی میں ان کی اہمیت کیا ہے، اس مسئلے پر مختلف علمائے عمرانیات اور دوسرے اہلِ فکر نے بہت کچھ لکھا اور کہا ہے۔ اس سے اندازہ ہوتا ہے کہ یہ مسئلہ زندگی کے بنیادی مسائل میں سے ہے۔ اخلاق کی حیثیت اور اہمیت کو مختصر ترین لفظوں میں یوں بیان کیا جا سکتا ہے کہ اخلاق دراصل زندگی کے طریقے، سلیقے اور قرینے کا نام ہے، اور اس طریقے کا تعین اور اس سلیقے اور قرینے کا حصول ہی دراصل اخلاقیات کا حقیقی موضوع ہے
    کیا وجہ ہے کہ معاشرے میں عدم برداشت بڑھتی جا رہی ہے ہم سیاسی جماعتوں کے کارکنان پر نظر لگاہیں تو ایک دوسرے کو گالی کے اعلاوہ کچھ نہیں اگر مذہب بحث کو دیکھیں تو فقہ واریت عروج پر ہے۔
    کیا ہوگیا ہے معاشرے کو؟
    ملک کے کرتا دھرتا تو سکون سے ملتے جلتے اور رہتے ہیں لیکن عام سیاسی کارکن کیوں ان کی خاطر ایک دوسرے سے نفرت کر رہا ہے ہر فورم پر ایک نفرت کیوں عیاں ہے؟
    پالیسی پر بحث کریں لیکن ذاتیات پر حملے نہ کریں۔

    قومی طور پر بھی برداشت ختم ہوچکی ہے گلی کوچے پر ایک دوسرے سے نفرت اور گالی نظر ا رہی ہے اخلاق اور دین کے حکم کو ہم نےچھوڑ دیا ہے۔

    عہد کریں
    ہر لفظ محبت کا بولیں گے کوئی گالی دے گا تو بھی محبت سے دلیل سے بات کریں گے

    بُعِثْتُ لِاُتَمِّمَ مَکَارِمَ الْاَخْلَاق۔ یعنی ’’میں مکارمِ اخلاق کی تکمیل کے لئے مبعوث کیا گیا ہوں۔‘‘

    دوسری روایت میں حُسْنَ الْاَخْلَاق کے الفاظ آئے ہیں۔
    حضرت انسؓ کا بیان ہے کہ کَانَ رَسُوْلُ اللّٰہِ ﷺ اَحْسَنَ النَّاسِ خُلْقًا رسول اللہ ﷺ تمام انسانوں سے اعلیٰ اخلاق رکھتے تھے۔ (متفق علیہ)

    حضور ﷺ کے اخلاقِ حسنہ کے بارے میں قرآن مجید کی شہادت یہ ہے کہ:
    اِنَّکَ لَعَلٰی خُلُقٍ عَظِیْمٍ۔
    ’’بے شک آپ اخلاق کے بلند ترین مرتبہ پر فائز ہیں۔‘‘

    معاف کرنا، برداشت کرنا، محبت کرنا اللہ کے محبوب رسول صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی مقبول سنت ہے: