Baaghi TV

Category: معاشرہ و ثقافت

  • ٹویٹر پہ میرا پہلا دن .تحریر:بشارت محمود رانا

    ٹویٹر پہ میرا پہلا دن .تحریر:بشارت محمود رانا

    آج میں آپ سب کو سنانے جا رہا ہوں اپنی ٹویٹر پہ ہونے والی پہلی اینٹری مطلب میرا پہلا دن اور اِس دوران پیش آنے والے خوشگوار واقعات پہ مبنی کہانی میری زبانی۔۔۔

    جی ہاں ٹویٹر پہ میرا پہلا دن۔۔

    ویسے تو میں ٹویٹر پہ بہت پہلے سے موجود تھا اور ۲۰۱۲ کے شروع میں ہی میں نے ٹویٹر اور فیس بُک پہ اپنا پہلا پہلا اکاونٹ بنالیا تھا۔ حالانکہ فیس بُک پہ میں نے اپنا ایک پیج بھی بنایا ہواہے جس پہ ہزاروں میں میری فالووئینگ بھی ہے اور لوگ مجھے “Pakistan Ka Tiger” کے نام سے جانتے ہیں۔ مگر اس سب کے باوجود بھی میں ٹویٹر پہ اتنا ایکٹو نہیں رہا کرتا تھا شائد اسکی وجہ بھی فیس بک ہی تھی اور ٹویٹر پہ بس اتنا سمجھ لیں کہ کبھی مہینے بعد ٹویٹر آن کر کے دیکھ لیا کرنا یا پھرکبھی اس سے بھی زیادہ وقت بیت جایا کرتا تھا۔

    لیکن! پھر ایک دم سے میری سوشل میڈیا زندگی میں چینج آیا جب میں نے ٹویٹر پہ ایک ٹرینڈنگ ٹیم میں شمولیت اختیار کی تو اسی دن کو میں ٹویٹر پہ اپنا پہلا دن تصور کرتا ہوں۔

    تب! شروع کے کچھ دن تو مجھے کافی چیزیں سمجھنے میں ہی گزر گئے جیسے کہ کسی کو ہینڈل کے ساتھ کیسے مینشن یا پھر پکچر میں ٹیگ کیسے کرنا ہے

    یہ سب سمجھنے کیلئے ٹویٹر رولز بھی پڑھے اور کچھ آن ائیر اور کچھ آف ائیر دوستوں سے بھی مدد لی اور یوٹیوب کا بھی بہت شکریہ کہ اس سے بھی بہت سی معلومات حاصل کیں جو میرے لئے بہت مفید ثابت ہوئیں اور بہت سے ایسے سینئرز جو بہت عرصے سے ٹویٹر استعمال کر رہی/رہے تھے اُن میں سے چند ایک سے بات بھی ہوئی اور کچھ سے بات کئے بنا ہی مطلب صرف انکی ٹویٹس کو دیکھ دیکھ کے ہی بہت سی چیزیں سیکھنے کوملیں، اُن سب کا بھی مشکور ہوں۔

    اور یہ سب بتاتے ہوئے میں بالکل بھی شرم محسوس نہیں کر رہا ہوں کیوںکہ کسی بھی چیز کو سمجھنے اور پھر اُس کی جانکاری پہ مکمل عبور حاصل کرنے تک کیلئے ایک باقائدہ پروسیس ہوتا ہے جسے پورا کئے بنا کوئی بھی کامیاب نہیں ہو سکتا۔ اور میں بھی اسی پروسیس سے گزرا۔

    جیسے جیسے مجھے چیزوں پہ عبور حاصل ہوتا گیا (البتہ! سیکھنے کیلئے ابھی بھی بہت کچھ باقی ہے) تو میں نے دیکھا کہ یہ تو دنیا ہی الگ تھی کہ جہاں پوری دنیا، مطلب ہر ملک سے تعلق رکھنے والے لوگ موجود تھے جن میں ہیڈ آف سٹیٹس، گورنمنٹس آفیشلز، گورنمنٹس کے ادارے، انٹرنیشنل این جی اوز، انٹرنیشنل نیوز چینلز، انٹرنیشنل نیوز پیپرز، سیاستدان، صحافی، اداکار، سنگرز، رائٹرز، ڈائریکٹرز، شاعر، ادیب، فیشن ڈیزائنرز و آرٹسٹس، بیوٹیشنز یہاں تک کہ ہر طبقہِ فکر سے تعلق رکھنے والے لوگوں کا ٹویٹر پہ اپنے مداحوں کو لبھانے کیلئے ٹویٹس کرنا اور پھر عام عوام یعنی فالوورز کا ان کو ریپلائی کرنا اور پھر جواباً آپس میں بات چیت تک کا بھی ہونا یقیناً میرے لئے یہ ایک انتہائی خوشگوار تجربہ تھا اور اس سے میں بہت محظوظ بھی ہونا شروع ہو گیا تھا۔

    پھر نیشنل اور انٹرنیشل لیول کے جو ٹرینڈز ہوتے ہیں اُن کے بارے میں بھی پتا چلا اور اس کا تجربہ ہونا بھی میرے لئے ایک نئی چیز تھی کیونکہ اس سے پہلے اکثر میں نے نیوز میں سُن اور دیکھ رکھا تھا کہ کسی کے حق میں یا مخالفت میں ٹویٹر پہ ٹرینڈ ہو رہا ہے اور اُس میں ہزاروں، لاکھوں یا کروڑوں ٹویٹس ہوئی ہیں۔

    اس سفر میں جو کہ اب تک صرف چند ماہ پر ہی محیط ہے، تو اپنے اس سفر کے دوران ایک انٹرسٹنگ بات یہ تھی جس پہ آپ بھی ہنسیں گے کہ میں نے ہر اُس ٹرینڈنگ ٹیمز میں شمولیت اختیار کی جس کے کسی ایک میمبر کا بھی مجھے آٹو انویٹیشن ملا تھا کیونکہ تب تک مجھے آٹو میسج کا بھی پتا نہیں تھا ( اور اب پتا چل جانے پہ میں کسی بھی آٹو میسج پہ کبھی کان ہی نہیں دھرتا) اور پھر میرے اپنے خود کے اصولوں پہ پورا نہ اترنے پہ میں نے کافی ٹرینڈنگ ٹیمز کو خیر باد بھی کہا (اپنے طور پہ وہ سب بھی اچھا کام کر رہی ہیں اُن کیلئے بھی میری نیک خواہشات ہیں) اور پھر اِن ٹرینڈز کے دوران میں نے اِن چند ماہ میں ہی اپنے بہت سے اکاونٹس سسپینڈ بھی کروائے، انٹرسٹنگلی ایک بار تو ایسا ہوا کہ ایک ہی دن میں میرے چار اکاونٹ سسپنڈ ہوگئے وہ لمحہ میرے لئے بہت ہی شاکنگ تھا لیکن! اسے میں اپنے لئے اعزاز بھی سمجھتا ہوں۔ کیونکہ یہ سب اسلام، پاکستان، کشمیر و فلسطین اور اپنے کپتان جناب وزیراعظم عمران خان کے حق میں آواز اٹھانے کا ہی نتیجہ تھا۔ تو ٹویٹر کے اس سفر میں مجھے بہت سے نئے اور اچھے دوست بھی ملے اور بہت سے نئے تجربات سے بھی گزرا۔

    جن میں سے ایک یہ کہ بعض افراد کے اکثر ٹویٹر پہ پیش آنے والے ناخوشگوار واقعات اور مطلب پرستی والی دوستیوں کے بارے ٹویٹس بھی نظر سے گزرے تاہم اب تک میرا ایسے کسی بھی تجربے سے بالکل بھی پالا نہیں پڑا کیونکہ میں تو شروع سے ہی عزت دو کی پالیسی پہ عمل پیرا ہوں اور دوسرے فریق سے کبھی بھی عزت ملنے کی توقع سے نہیں ملا اور ہمیشہ اگلے کو خود سے زیادہ عزت دار اور معتبر سمجھاہے۔

    اور ہمارا پیارا دینِ اسلام اور ہمارے پیارے نبی ص کی تعلیمات بھی ہمیں یہی اصول سکھاتی ہیں کہ “جو تم سے توڑے اُس سے جوڑو اور جو تم سے جوڑے تم اُس سے مزید مضبوطی سے جُڑو” مطلب کہ عزت اور پیار دینے والوں کو ہمیشہ اُن سے بڑھ کے عزت و احترام اور پیار دو اور جو عزت نہیں کرتے اُن کی اور زیادہ عزت کرو تاکہ وہ بھی دوسروں کو عزت دینا سیکھ سکیں۔

    باقی سوشل میڈیا کی طرح ٹویٹر کو بھی میں نے ایک آئینے کی طرح پایا جس میں آپ خود کو اور دوسروں کو اچھے سے جانچ اور پرکھ سکتے ہیں۔ ہر کوئی اپنی ٹویٹس، پوسٹس اور کمنٹس کے ذریعے اپنے آپ اور اپنی تربیت و اخلاقیات کو عیاں کر رہا ہوتا ہے۔

    اس لئے میرے مطابق تو ہر کسی کو عزت اور احترام دینا ہی مناسب ترین عمل ہے اور اللہ تعالی ہم سب کو اسی پہ عمل پیرا فرمائیں۔ آمین

    چونکہ ہر کسی کا کسی کو (افراد یا ماحول) کو جانچنے اور پرکھنے کا پیمانہ الگ ہو سکتا ہے مگر میں نے تو سوشل میڈیا کو ایسا پایا جسے میں نے اپنی تحریر کے زریعے آپ تک پہنچایا اور یہ تو تھا میرا اب تک کا ٹویٹر کا سفرنامہ جس میں اور بھی بہت سے انٹرسٹنگ واقعات اور تجربات ہیں جو کہ سب اس ایک تحریر میں سنانا ناممکن ہے اور کوشش کروں گا کہ اپنی کسی آنے والی تحریر میں وہ بھی سُنا سکوں

    امید ہے کہ آپ کو میرا یہ خوشگوار سفرنامہ پسند آیا ہو گا۔

  • وقت کی قدر کریں.تحریر: ملک ضماد

    وقت کی قدر کریں.تحریر: ملک ضماد

    بس صبح ہوئی شام ہوئی
    عمر یوں ہی تمام ہوئی

    اللہ تعالٰی نے انسان کو اپنی زندگی کو سنوارنے یا بگاڑنے کے لیے عمر کا تعین کر کے اس مخصوص وقت دیا ہے
    ہر انسان کے پاس اتنا ہی وقت ہے جتنا اس کے نصیب میں لکھ دیا گیا ہے
    بہترین انسان وہ ہے جو وقت کی قدر و اہمیت کو سمجھ کر مخصوص اوقات میں مخصوص کام جو اس کو اللہ پاک کی طرف سے بتائے گئے اور نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے کر کے بتائے وہ کرے
    گیا وقت ہاتھ نہیں آتا
    انسان اپنی جتنی زندگی گزار چکا ہے وہ قصہ پارینہ بن چکی ہے
    اب وہ وقت کسی بھی صورت واپس نہیں آ سکتا
    اگر گزرے وقت میں اچھے کام کیے تو وہ اس کو آنے والی دنیاوی اور آخرت کی زندگی میں کام آئیں گے
    انسان کے پاس جو وقت ہے وہ اس کو اگر قیمتی بنا لے تو اس کی باقی زندگی آسان گزرتی ہے
    اللہ تعالٰی نے قرآن پاک میں بھی بار ہا وقت کی قسمیں کھا کر انسان کو بتایا
    اللہ تعالیٰ قرآن کریم میں فرماتا ہے۔

    وَالْعَصْرِ اِنَّ ا لْاِنْسَانَ لَفِیْ خُسْرٍ
    (العصر:3،2)

    قسم ہے زمانہ کی۔ یقیناً انسان خسارے میں ہے۔

    اللہ تعالیٰ نے جن چیزوں کی قسم اٹھائی ہے ان میں سے ایک وقت بھی ہے۔ اللہ تعالیٰ نے سورۃ الفجر میں صبح کی قسم، سورۃاللّیل میں رات کی قسم، سورۃالضحیٰ میں چاشت کے وقت کی قسم اور سورۃ العصر میں زمانہ کی قسم کھائی ہے

    اس لیے انسان کو اپنا موجودہ وقت جو وہ گزار رہا ہے اس کو قیمتی بنانے اور آگے کی زندگی کو آسان کرنے کے لیے وقت کی قدر کرنی چاہیے

    وقت کی قدر ان لوگوں سے پوچھیں جن کے پاس وقت، موقع، پیسہ سب کچھ تھا لیکن انہوں نے وقت کی قدر نہیں تو وہ لوگ آج رو رہے ہیں اقر چیخ چیخ کر دنیا کو بتا رہے ہیں خدا راہ وقت کی قدر کر لو آج وقت ہے تو اس کے قدر کرو کل نہیں ہو گا تو پچھتاوا ہو گا

    وقت انسان کو خود اپنی قدر کرنے کے لیے بلاتا ہے لیکن انسان غافل ہے جو وقت کی قدر نہیں کرتا
    وقت انسان کو بار بار موقع دیتا ہے اپنے آپ کو سنبھال لو، سنوار لو، کچھ کما لو، لیکن انسان کی آنکھوں پے لمبی عمر جینے اور صحت مند رہنے کی پٹی بندھی ہوئی ہے جو اس کو سمجھ نہیں آتی
    اگر لمبی عمر کا انتظار وقت کرتا تو نوح علیہ السلام 9 سو سال سے زیادہ عمر پا کر بھی دنیا سے چلے گئے

    اگر صحت پکی پکی تندرست رہتی تو اللہ کے پیارے حبیب نبی صلی اﷲ علیہ وآلہ وسلم بیمار نا ہوتے

    اس لیے انسان کو آنکھیں کھول کر اللہ کے حکم اور نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے طریقوں پر زندگی گزارنی چاہئے تاکہ دنیا و آخرت میں کامیابی حاصل کر سکے

    جب ہم اپنے کاروبار، نوکری، پیشہ کو پورا ٹائم نہیں دیتے تو وہ کاروبار تباہ ہو جاتا ہے
    نوکری سے ہمیں نکال دیا جاتا ہے
    اس طرح ہم آپ زندگی میں اگر زندگی کو گزارنے کے لئے ٹائم نہیں دیں گے
    وقت کی قدر نہیں کریں گے تو کیسے ہم سوچ سکتے ہیں ہماری زندگی آرام دہ، اور خوشیوں سے بھری گزرے گی

    جو وقت کو مفت گنوائے گا
    وہ آخر کو پچھتائے گا
    کچھ بیٹھے ہاتھ نہ آئے گا
    جو بوئے گا سو کھائے گا
    تو کب تک دیر لگائے گا
    یہ وقت بھی آخر جائے گا
    اُٹھ باندھ کمر کیا ڈرتا ہے
    پھر دیکھ خدا کیا کرتا ہے

  • منشیات اور ہمارا معاشرہ .تحریر : ریحانہ جدون

    منشیات اور ہمارا معاشرہ .تحریر : ریحانہ جدون

    منشیات وہ اشیاء جات ہیں جن کے استعمال کی وجوہات میں سے ایک بنیادی وجہ ذہنی و جسمانی آسودگی ہے- دنیا بھر میں سینکڑوں اور ہزاروں نہیں بلکہ لاکھوں کروڑوں انسان منشیات کے نشے میں گرفتار ہیں اور اس کی وجوہات میں میڈیا (رسائل، فلم، ٹی وی، ناول، کہانی وغیرہ) پر منشیات کے استعمال کو دلفریب انداز میں پیش کرنا، والدین کی ناقص توجہ اور تربیت، سنگت و صحبت کا اثر، دوسروں کو دیکھ کر رشک و طلب وغیرہ شامل ہیں- لیکن سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ آیا نشے کی عادت کیوں لاحق ہوجاتی ہے؟
    پہلی بات کہ اسلام میں ہے کہ ہر نشہ آور چیز حرام ہے اور اسکی خرابیوں سے ہر کوئی واقف بھی ہے اس لئے اسے ایک صحت مند انسان قبول نہیں کرسکتے.

    سب سے پہلا سوال کہ منشیات کیا ہے ؟؟
    منشیات مختلف کیمیائی مرکبات سے بنائی جاتی ہے جو ایک انسانی جسم میں معمول سے ہٹ کر وہ کیفیت پیدا کرے جسے استعمال کرنے والے شخص کی چاہ ہو.. منشیات میں مبتلا نوجوانوں کی تعداد زیادہ ہے
    منشیات کا استعمال تو آدمی اپنے اختیار سے شروع کرتا ہے؛ لیکن جب وہ اس لت میں پڑ جاتا ہے تو آپ اپنے قابو میں نہیں رہتا، وہ اضطراراً منشیات کے خرید نے اوراستعمال کرنے پر گویا مجبور ہوتا ہے ، چاہے کھانے کو دو روٹی میسر نہ ہو ، گھر کے لوگ بھوک اور فاقہ سے گذار رہے ہوں ، علاج کے لئے پیسے میسر نہ ہوں ؛ لیکن جو اس عادت کا اسیر ہو گا، وہ انسانی ضروریات کو پس پشت ڈال کر پہلے اپنی اس بری عادت کو پورا کرنے کی کوشش کرے گا ، اس لئے اسراف اور فضولی خرچی کا یہ بہت بڑا محرک ہے، نشہ خوری نے خاندان کے خاندان کو تباہ کر کے رکھ دیا ہے ، …

    دیکھا جائے تو اس کے استعمال پر پابندی ہونے کے باوجود یہ آ سانی سے دستیاب ہے بلکہ اب تو رواج کے طور پر استعمال کیا جارہا ہے.
    اور جس طرح ہماری نوجوان نسل نشے کی لت میں مبتلا ہورہی ہے وہ تشویش ناک ہے, اتنی پابندیوں کے باوجود اسکے استعمال کی شرح میں کمی کی بجائے اضافہ ہوتا جا رہا ہے,
    نوجوانوں میں یہ وباء عام ہونے کی وجوہات میں کچھ وجوہات یہ بھی ہیں مثلاً بےخوفی کا بڑھ جانا
    موت سے غافل ہونا
    آ خرت کی فکر اور اللہ کی بارگاہ میں حاضری اور جواب دہی کا استحضار نہ رہنا,
    جب یہ سب ہوگا تو یہ گناہوں کی طرف جائیں گے ایسا لگتا ہے کہ انکی لگام انکے نفس کے قبضے میں ہے,
    افسوس کے کچھ لوگ معاشرے میں اسکا عادی ہونا فخر سمجھتے ہیں
    منشیات کے بہت سی اقسام ہیں جن میں چرس, نشہ آور ادویات, تمباکو نوشی, شراب, گھٹکا وغیرہ…
    سب سے زیادہ خطرناک نشہ ہیروئن کا ہے, جب کوئی شخص ہیروئن کی لت میں پڑ جاتا ہے وہ نشے کا مریض کہلاتا ہے.
    آ ج پاکستان کی کئ مصروف شاہراہیں دیکھ لیں سینکڑوں نوجوان وہاں نیم بےہوشی میں پڑے نظر آ ئیں گے, ان میں کچھ گھریلو مسائل سے تنگ آ کے نشے کی طرف راغب ہوئے اور کچھ لیلیٰ مجنوں کی کہانی کا حصہ خود کو سمجھنے لگے تھے, کچھ بےروزگاری اور معاشرتی بے حسی کی وجہ سے…. وہ اسطرح کہ جب معاشرتی طعنوں کی ضد میں انسان تنہائی پسند رہتا ہے اور اسکی بےسکونی اسکی توجہ نشے کی طرف مبذول کرتی ہے جس کی وجہ سے وہ معاشرتی لعن طعن سے بےحس ہونے کے لئے اسکا استعمال کرتا ہے.

    ویسے نشے کا استعمال کس دور میں ہوا یہ معلوم نہیں اور جو لوگ نشے کے استعمال سے تکلیف, ذہنی دباؤ ختم کرنا چاہتے ہیں وہ اسکا بےدریغ استعمال کرتے ہیں پر وہ نہیں جانتے کہ اس سے ذہنی دباؤ وقتی طور پر ختم ہوجاتا ہے پھر مصیبت ہمیشہ گلے پڑ جاتی ہے.
    نشے کا استعمال کرنے والے افراد حقیقت میں کمزور قوت ارادی کے ہوتے ہیں, اس لئے بعض اوقات بے سکونی اور اضطرابی کی کیفیت بھی انسان کو نشے میں مبتلا کرسکتی ہے.
    نشے کے نقصانات زیادہ ہیں یہ تیزی سے انسان کو اسکے منطقی انجام تک پہنچاتے ہیں, ایسے لوگ معاشرے میں دوسروں کی نظروں سے گر جاتے ہیں اور کئی تو اپنا گھر بار نشے کی لت میں بیچ دیتے ہیں,
    انکے بچے رُل جاتے ہیں. انکے خاندان بکھر جاتے ہیں.
    منشیات کا عادی انسان نہ صرف خود کا نقصان کردیتا ہے بلکہ اپنے سے جُڑی زندگیوں پر بھی اثرانداز ہوتا ہے انکی زندگی کو بھی توڑ پھوڑ کا شکار بنا دیتا ہے .
    ایسے لوگ حقیقت میں بہت مظلوم ہوتے ہیں انکو ہماری مدد کی ضرورت ہوتی ہے اور ہم انکو دوبارہ سے زندگی کی سہی راہ پہ لا سکتے ہیں. اس لئے انکو حقارت سے نہ دیکھیں, انکی عزت نفس مجروح ہونے سے بچائیں, ایسے لوگوں کو توجہ کی ضرورت ہوتی ہے اور انھیں احساس دلانا ہے کہ وہ بھی اس معاشرے کا فرد ہیں…

  • سب سے پہلے پاکستان .تحریر : ملک علی رضا

    سب سے پہلے پاکستان .تحریر : ملک علی رضا

     
    ہم امن کے ساتھی ہیں مگر کسی قسم کی جنگ میں ہم امریکہ کا ساتھ نہیں دے سکتے، ایسا کہنا تھا وزیر اعظم پاکستان عمران خان کا  قومی اسمبلی میں بجٹ سیشن کے دوران خطاب میں۔حالیہ خطے کی  بدلتی صورتحال اور افغانستان سے امریکی اتحادی افواج کے انخلا کی وجہ سے اس وقت پاکستان پر سخت پریشر ہے کیونکہ امریکہ نے اپنی افغانستان میں ناکامی کے بعد پاکستان سے مطالبہ کیا تھا کہ پاکستان اپنی سرزمین میں امریکی اتحادی فوجیوں کو جگہ فراہم کرے تا کہ وہ پاکستان میں رہ کر افغانستا ن کے علاقوں پر اپنی نظر رکھ سکے۔ مگر پاکستان نے عالمی دباو  اور خطرات کو پس پُشت ڈال کر امریکہ کا یہ مطالبہ مسترد کر دیا اور ساتھ یہ بھی کہہ دیا کہ اب پاکستان کسی بھی دوسرے کی جنگ میں براہ راست شامل نہیں ہوگا جیسے پہلے پاکستان نے امریکہ کے کہنے پر سب کچھ کیا اور اس جنگ میں پاکستان کو ناقابل تلافی نقصان اُٹھانا پڑا  ۔

    اسی اثنا میں امریکہ نے افغانستان میں  رہ کر پاکستان میں 430 کے قریب ڈرون اسٹرائیک کیے جس میں ہزاروں بے گناہ افراد کی جانیں گئیں اور بہت نقصان اُٹھانا پڑا ۔ عمران خان کی حکومت شروع ہوتے ہی وزیر اعظم کا خاصی تنقید کا نشانہ بنایا گیا کہ عمران خان یہودی ایجنٹ ہے مگر  یہ کیسا ایجنٹ ہے کہ جس نے یہودیوں کے سامنے پاکستان نے عزت وقار کی خاطر گُھٹنے ٹیکنے سے انکار کر دیا جیسا کہ گزشتہ ادوار میں کیا گیا ۔پاکستان نے طالبان ، امریکی اتحادی فوجوں اور افغانستان حکومت میں امن کی خاطر ثالث کا کردار ادا کیا یہی وجہ ہے کہ اب کی بار امریکہ کو پاکستان کی منت سماجت کرنی پڑی کہ وہ افغانستان سے انخلا میں انکی مدد کرے اور طالبان کیساتھ امن کی فضا قائم کرنے میں مدد کرے اور پاکستان نے جہاں تک ممکن ہوا مدد کی تا کہ خطے میں امن قائم ہو سکے۔ دوسری جانب امریکہ ایک طرف پاکستان کے ثالثی کا کردار ادا کرنے کا کہہ رہا ہے اور دوسری جانب بھارت کو افغانستان میں کنٹرول دلوانے کے لیے جو اس سے بن پڑ رہا ہے وہ کر رہا ہے ۔ اسی وجہ سے 25 سال بعد ایسا موقع آیا ہے کہ بھارت کی افغان طالبان سے ملاقاتیں ہوئی ہیں۔ عمران خان نے کچھ دن پہلے ایک امریکی جریدے کو انٹرویو میں بھی امریکہ کو اپنی سرزمین دینے پر   دو ٹوک جواب دیا تھا  کہ پاکستان اب اپنی سرزمین کسی بھی قسم کی جنگ کے لیے استعمال ہونے نہیں دےگا۔

    اپوزیشن جماعتیں عمران خان پر تنقید کے نشتر چلاتے رہتے ہیں اور  دنیا بھر  کے ممالک اس وقت عمران خان کے کسی بھی بیان کو لیکر طرح طرح کی باتیں کرتے ہیں۔ اور انٹرنیشنل میڈیا تو عمران خان کے کسی بھی بیان کو جو امریکہ ، اسرائیل یا انکے اتحادیوں کے بارے میں بات ہوتی اس میں سے ہر منفی پوائنٹ کو اُٹھا کر دنیا کے سامنے اس طرح سے لاتے ہیں جیسے عمران کان نے انکے خلاف بات کر کے کوئی جُرم کر دیا ہو۔یہ بات تو کنفر م ہو چکی ہے ایک تُرکی کے صدر رجب طیب ادرغان اور دوسرا اب عمران خان ایسا لیڈر ہے جس کی بات پوری دنیا میں گونجتی ہے۔ کشمیر کے معاملے پر بھی اقوام متحدہ سے لیکر او آئی سی جیسے فورمز یورپین پارلیمنٹ تک کشمیر کے حوالے سے بات کی گئی جو کہ وزیر اعظم عمران خان اور وزیر خارجہ شاہ محمود قریشی کی خارجہ پالیسی کی کامیابی کی ضمانت ہے۔ یہاں اگر ہم پاکستان کے سکیورٹی اداروں کے کردار کی تعریف نہ کی جائے تو یہ سراسر زیادتی ہوگی یہاں تک کہ اس سب کے پیچھے جو اصل محنت ہے وہ پاکستان کے سکیورٹی اداروں کی محنت ہےجنہوں نے  پاکستان کے وقار کی خاطر امریکہ اور اسکے اتحادیوں کو بھی اب انکی اصل جگہ پر رکھ دیا۔آرمی چیف جنرل قمر جاوید باجوہ اور ڈی جی آئی ایس آئی  لیفٹینت جنرل فیض حمید کے مختلف ممالک کے دوروں اور خاص طور پر تُرکی ، قطر اور افغانستان کے دوروں کی خاصی اہمیت رہی۔ عمران خان کا بیان اس بات کی عکاسی کرتا ہے کہ اس وقت پاکستانی کی سول اور عسکری قیادت ایک پیج پر ہے۔ عمران خان کے   ہر بیان کے بعد بھارت میں ایک آگ سی لگ جاتی ہےا ور  اتنی تکلیف امریکہ کو نہیں ہوتی جتنی بھارت کو ہوتی ہے۔عمران خان کے پارلیمنٹ میں دیے جانے والے بیان کو اپوزیشن کی جماعتو ں نے بھی سراہا جس کے بعد عوام  کو یہ محسوس ہو رہا ہے کہ جو بات عرصہ دراز سے حکومتیں کرنے والوں کے کرنی چائیں تھیں اور پہلی بار بننے والا وزیر اعظم عمران خان کر رہا ہے۔ عمران خان نے پاکستان کے وقار اور عزت کی خاطر بیرونی دباو کو مسترد کر دیا ہےاور اب  اس کے آفٹر شاکس پاکستان میں متعدد جگہوں سے آئیں گے کیونکہ اس بات کی تکلیف کارد عمل پاکستان میں آئے گا ۔ اب اس معاملے پر اپوزیشن جماعتوں اور تمام سیاسی جماعتوں کو  عمران خان کا ساتھ دینا چائیے۔ آنے والے وقت میں پاکستان کے لیے مزید مشکلات میں اضافہ کیا جا سکتا ہے تا کہ پاکستان اپنے موقعف سے پیچھے ہٹ جائے تو اس کے لیے عوام کو چائیے کہ وہ فیصلہ کریں کہ انہوں نے سیاسی قیادتوں کے لیے کام کرنا ہے یا پاکستان کی عزت و وقار کے لیے ؟۔ عمران خان نے کشمیر کے حوالے سے بھی پھر سے کہہ دیا کہ اگر بھارت اپنے  فیصلوں سے پیچھے نہیں ہٹے گا تب تک  بھارت کے ساتھ بات چیت نہیں ہوگی ۔

  • میٹنگ میں جنرل باجوہ نے نواز شریف کو کیا پراسرار پیغام دیا؟ .تحریر: رانا عزیر

    میٹنگ میں جنرل باجوہ نے نواز شریف کو کیا پراسرار پیغام دیا؟ .تحریر: رانا عزیر

    گزشتہ روز پاکستان کی تاریخ انتہائی اہم میٹنگ ہوئی جس میں آرمی چیف اور دیگر فوجی حکام سمیت پاکستان کی اعلیٰ سیاسی قیادت نے شرکت کی۔ یہ میٹنگ چونکہ خفیہ تھی اس لیے اس کے مندرجات کھل کر سامنے نہیں آئے، لیکن جو ذرائع نے بتایا ہے وہ بہت دلچسب ہے، آرمی چیف نے نوازشریف کا ذکر کیا، اور کچھ اہم اشارے دیے جس نے ن لیگ کی کشتی میں بڑاسوراخ کردیا اور لندن میں بیٹھا کاغذی شیر بھی رسوا ہوگیا۔
    سیاسی عسکری قیادت میں زیادہ گپ شپ کھانے کی میز پر ہوئی۔ اجلاس میں ماحول اچھا تھا، کسی معاملے پر بھی تلخی نہیں ہوئی،اجلاس میں اسٹیبلشمنٹ اور اپوزیشن کے درمیان برف پگھل گئی۔

    پہلا سوال مشاہد حسین، دوسرا شہباز شریف اور تیسرا بلاول بھٹو جبکہ تیسرا شاہ محمود نے کیا۔

    ذرائع کے مطابق شہباز شریف نے اسپیکر قومی اسمبلی کو کہا تھا کہ وزیراعظم اجلاس میں نہ آئیں۔حکومت اور فوج ایک ہی پالیسی پر نظر آئے۔سوال جواب کا سیشن طویل ہو گیا جس پر آرمی چیف نے کہا کہ کوئی اعتراض نہیں ، اجلاس بے شک ہفتے کے آخر پر رکھ لیں۔ آپ کے ساتھ ہم کھانا کھائیں گے ناشتہ کرنے کو بھی تیار ہیں۔اس موقع پر اسپیکر قومی اسمبلی اسد قیصر نے کہا کہ مسئلہ کشمیر اور سیکیورٹی صورتحال پر بریفنگ لینا ہے۔
    آرمی چیف نے کہا کہ مسئلہ کشمیر اور سیکیورٹی صورتحال پر اجلاس کچھ دن بعد پھر بلا لیتے ہیں۔ اجلاس میں آرمی چیف نے لیگی رہنما احسن اقبال سے مکالمہ کرتے ہوئے کہا کہ آپ کے بیٹے سے نیشنل ڈیفینس یونیورسٹی میں ملا تھا، رہنما ن لیگ مشاہد حسین نے کہا کہ اپوزیشن بالخصوص مسلم لیگ ن پر ہاتھ ہولہ رکھیں جس پر آرمی چیف سے مسکراتے ہوئے کہا کہ فواد چوہدری بھی ساتھے کھڑے ہیں آپ کے۔
    ذرائع کے مطابق کھانے کی میز پر رانا ثناء اللہ اور رانا تنویز بھی آ گئے۔ تو جنرل باجوہ نے کہا کہ میری تو بیوی بھی راجپوت ہے، میرے چھوٹے بیٹے کی منگنی پشتونوں میں ہوئی ہے۔اس کے علاوہ پاکستان کی فوج میں 40 فیصد پشتون ہیں۔اس موقع پر پیپلز پارٹی کے چئیرمین بلاول بھٹو نے کہا کہ پی ٹی ایم کے ایم این اے علی وزیر کو معاف کر دیں، آرمی چیف نے جواب دیا کہ پاکستانی فوج پر تنقید برداشت نہیں کریں گے۔

    لہذا علی وزیر کو بھی معافی مانگنی ہو گی۔مجھ پر تنقید تو نواز شریف اور ایاز صادق نے بھی کی تاہم ہم نے برداشت کی۔اس دوران محسن داوڑ نے اٹھ کر بولنے کی کوشش کی تو اسپیکر نے روک لیا جس پر قمر جاوید باجوہ نے کہا کہ آپ کھل کر بات کریں۔محسن داورڈ آپ مجھ سے علحیدگی میں بھی ملیں،کبھی آپ کا راستہ نہیں روکا۔آپ الیکشن جیت کر آئے ہیں لہذا آپ کی بات سننے کو تیار ہیں۔
    بلاول بھٹو نے آرمی چیف سے مطالبہ کیا کہ علی وزیر کو معاف کردیا جائے جس میں نوازشریف کو بھی گہرا پیغام پہنچا۔ آرمی چیف نے جواب دیا : میری ذات کو گالیاں دیں میں نے کچھ نہیں کہا، جنرل فیض کو دیں خیر ہے لیکن ان لوگوں نے فوج کو گالیاں دیں وہ قابل برداشت نہیں ہے۔ اب اس سے کیا واضح ہوتا ہے؟ جو صحافی دن رات یہ گن گا رہے تھے کہ نواز شریف کی ڈیل ہوچکی ہے، نوازشریف نے فوج کو الٹا لٹکانا تھا اس وجہ سے فوج نے اسے باہر بھیج دیا ان کا ڈراپ سین ہوگیا، پس ثابت ہوا ہے اب اگر نوازشریف وطن واپس آئیں گے، ان کو پاکستان کے ادارے الٹا لٹکانے کے لیے تیار ہیں، اور اس ڈر سے آج کے بعد نوازشریف وطن واپس نہیں آئیں گے اور وہ غدار الطاف حسین کا روپ دھار چکے ہیں۔

  • خود احتسابی .تحریر: مزمل مسعود دیو

    خود احتسابی .تحریر: مزمل مسعود دیو

    بزرگ فرماتے ہیں کہ جب آپ کسی دوسرے کی طرف انگلی اٹھاتے ہیں تو ذرا غور سے دیکھا کرو کیونکہ اسی ہاتھ کی تین انگلیاں تمہاری طرف اشارہ کررہی ہوتی ہیں اس لیے کسی کو وہ بات کہنے سےُپہلے تین بار سوچو کہ کہیں وہ بات جس پر تم انگلی اٹھا رہے ہو تمہارے اپنے اندر تو نہیں پائی جاتی پھر اگلے کو تلقین کرو ایسا نہ ہو کہ پھر بعد میں شرمندگی اٹھانی پڑے۔
    قرآن کریم میں ارشاد باری تعالی ہے

    (لِمَ تَقُوْلُوْنَ مَا لَا تَفْعَلُوْنَ ﴿٢﴾ كَبُرَ مَقْتًا عِنْدَ اللّٰهِ اَنْ تَقُوْلُوْا مَا لَا تَفْعَلُوْنَ 61۔ الصف:2-3) کیوں تم وہ کہتے ہو جو خود نہیں کرتے؟ اللہ کے نزدیک یہ بڑی ناپسندیدہ بات ہے کہ تم وہ کہو جو خود نہ کرو۔

    ہم جس معاشرے میں رہ رہے ہیں اس میں اکثریت کا کام دوسروں پر تنقید کرنا ہے لیکن وہی لوگ جب اس تنقید میں زد میں آتے ہیں تو بلبلا اُٹھتے ہیں کیونکہ انکے مطابق وہ معاشرے کے سب سے بہترین لوگ ہیں۔ حالانکہ اگر دیکھا جائے تو جو انسان کسی دوسرے کی برائیاں ڈھونڈ رہا ہوتا ہے اس میں پہلے سے وہ برائی موجود ہوتی ہے کیونکہ کہیں نہ کہیں اس کے ذہن میں اس برائی کے خواص موجود ہوتے ہیں۔

    خود احتسابی مطلب اپنے آپ کو انصاف کے کٹہرے میں لانا اور خود ہی ملزم، خود ہی وکیل اور خود ہی جج بن کر گنہگار اور بے گناہ کا فیصلہ کرنا۔ گنہگار ثابت ہونے پر اپنے آپ کو سدھارنا اور ان غلطیوں کو چھوڑنے کا ارادہ بنانا۔
    اکثر اوقات ہم دیکھتے ہیں کہ گھر کے اندر باپ خود سگریٹ پیتا ہے۔ کئی لوگ نشہ کرتے ہیں، جوا، زنا جیسی غلط کاریوں میں ملوث ہوتے ہیں لیکن اپنے بچوں کو ان سب سے منع کر رہے ہوتے ہیں۔ گھر کا بڑا ہونے کے ناطے تو درست ہے لیکن یہ کیسے ممکن ہے کہ آپ خود ان برائیوں میں ملوث ہوں اور دوسروں کو اس سے بچنے کا درس دیں۔ پہلے اپنے آپ کو ان برائیوں سے دور کریں اپنے بچوں اور معاشرے کے سامنے ایک نمونہ بنیں پھر آپکی بات کا دوسروں پر بہت گہرا اثر ہوگا۔
    سکول وکالجز میں زیادہ تو اساتذہ اپنے کلاس ٹائم میں بچوں کو نہیں پڑھاتے اور کل کے لیے ہوم ورک دے دیتے ہیں۔ آہستہ آہستہ یہ نوبت آجاتی ہے کہ وہ ہوم ورک بھی چیک نہیں کرتے اسطرح بچوں کے اندر اس استاد کا خوف ختم ہوجاتا ہے اور بچوں کے نزدیک ٹائم پاس کی حیثیت رہ جاتی ہے لیکن اگر آپ انکو دوبارہ کام پڑھنے کے لیے بولو تو اس بات کو ٹال مٹول کردیتے ہیں اس میں قصوروار بچے نہیں وہ استاد ہے جس نے اپنے آپ کو اس مقام تک پہنچایا۔ اگر وہی استاد اپنا محاسبہ کریں تو انہیں پتا چلے گا کہ انہیں جس کام کی تنخواہ ملتی تھی وہ کام انہوں نے سرانجام نہیں دیا اسلیے یہ نوبت آئی۔

    بہت سی ایسی مثالیں ہیں جو معاشرے کی تباہی کا سبب بن رہی ہیں لیکن اگر ہر فرد، ادارہ اپنا اپنا محاسبہ کرے تو کوئی شک نہیں کہ بہت ساری برائیوں کا خاتمہ ممکن ہے۔

  • ہائے غربت.تحریر:مبین خان

    ہائے غربت.تحریر:مبین خان

    کثر و بیشتر لوگ کہا کرتے ہیں کہ غریبوں سے ہمدردی کرنا چاہیے اور یہ بھی کہتے ہیں کہ غریبی بہت اچھی چیز ہے، اسلام غریبی میں پھلا پھولا ہے، کبھی کسی غریب کو دیکھا تو کہا ہائے ہائے، کبھی غریب کو دیکھا تو بات بھی نہیں کی، کبھی ساتھ بیٹھنے بھی نہیں دیا، بعض لوگ ساتھ لیکر کہیں جانے کے لئے تیار نہیں، بعض لوگ بات کرنے کے لئے بھی تیار نہیں۔

    انسان جب کسی دوسرے کو اپنے سے بھی زیادہ خستہ حالت میں دیکھتا ہے تو کچھ تسلی ہوتی ہے،اسے کچھ جینے کا حوصلہ ملتا ہے
    انسان جب کسی دوسرے کو اپنے سے بھی زیادہ خستہ حالت میں دیکھتا ہے تو کچھ تسلی ہوتی ہے،اسے کچھ جینے کا حوصلہ ملتا ہے کہنے کو تو ہر امیر ہر دولتمند یہ بات کہتا ہے کہ پیسہ ہاتھ کی میل ہے آج میرے ہاتھ کل کسی اور کے ہاتھ پھر سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ دولتمند ہوتے ہی مزاج کیوں بدل جاتا ہے۔معلوم یہ ہوا کہ یہ بات وہ ایک محاورے کے طور پر کہہ رہا ہے، دکھاوے کے لئے کہہ رہا ہے حقیقت میں اسے اس بات کا یقین ہے کہ آج میرے پاس پیسہ ہے تو سب کچھ ہے میں جو چاہوں کرسکتا ہوں حکومت بھی غریبی کے خاتمے کا نعرہ بلند کرتی ہے بلکہ پوری دنیا غریبی کے خاتمے کی بات کرتی ہے لیکن جب سے دنیا قائم ہوئی ہے تب سے امیری و غریبی دونوں ہیں، اس لیے کہ یہ نظام الٰہی ہے اور ویسے بھی یہ بات سمجھ میں آتی ہے کہ دنیا میں ہر شخص ایک برابر ہوتا تو دنیا میں کیسے امن و امان قائم رہتا۔جب دنیاوی سطح پر یہ نظام قائم ہے کہ ہر آدمی ایک برابر نہیں ہے تو پھر قدرت کے قانون کو کیسے چیلنج کیا جاسکتا ہے اگر قدرت نے سب کو ایک برابر کیا ہوتا تو سب ووٹ مانگتے پھر ووٹ دیتا کون۔
    پوری دنیا کے انسانوں کا چہرہ الگ الگ ہے، آنکھوں کا لینز الگ ہے، ہاتھوں کا فینگر الگ الگ ہے یہ تینوں چیزیں اس بات کا اعلان کررہی ہیں کہ قدرت کے خزانے میں کوئی کمی نہیں ہے اے انسانو! اگر قدرت تمہیں چھپر پھاڑ کر دے سکتی ہے تو چمڑی ادھیڑ کر لے بھی سکتی ہے اس لئے غریبوں کو حقارت کی نظر سے نہ دیکھو، غریبوں کا دل نہ دکھاؤ فرعون لاؤ لشکر سمیت دریائے نیل میں غرق کردیا گیا، قارون خزانہ سمیت زمین میں دھنسا دیا گیا، نمرود کو ایک مچھر کے ذریعے ہلاک کر دیا گیا، شداد کو خود اس کی بنوائی ہوئی جنت کی چوکھٹ پر موت کے گھاٹ اتار دیا گیاپھر آج کا انسان کس کھیت کی مولی ہے جو یہ سوچ رہا ہے کہ ہم مالدار ہیں تو ہمارا بال بیکا نہیں ہوسکتا ایک دولتمند کے گھر میت ہوتی ہے پورے شہر میں جنگل کی آگ کی طرح خبر پھیل جاتی ہے اس کے آخری رسومات میں لوگوں کا اژدہام ہے

    تاحد نگاہ جم غفیر ہے بڑے بڑے امراء، رؤسا، حکمراں سب کے سب آئے ہوئے ہیں، ایک غریب گھرانے میں موت ہوتی ہے کسی کو پتہ بھی چلتا ہے تو اسے کوئی حیرت نہیں ہوتی وقت مقررہ پر اس کے قریبی ساتھی رشتہ دار کاندھے پر اٹھاتے ہیں آخری رسومات ادا کرتے ہیں اور اسی مٹی میں اسے بھی دفن کیا جاتا ہے۔دنیا میں رہنے کا طریقہ الگ الگ، سوسائٹی الگ الگ نہ دولتمند کے ساتھ ایک دو لوگ دوچار دن قبر میں سونے کے خواہشمند ہوئے نہ غریب کے ساتھ تو پھر یہی احساس وقت رہتے کیوں نہیں ہوتا، جب آخری وقت ہوتا ہے تو غلطی کی معافی تلافی کی جاتی ہے آخر یہی کام صحتمند رہتے ہوئے کیوں نہیں کیا جاتا،، کتنی رشتہ داریاں بگڑجاتی ہیں امیری اور غریبی کے نام پر، کتنی دوستیاں ختم ہو جاتی ہیں امیری اور غریبی کے نام پر، نکاح اور شادی بیاہ کو مشکل بنادیا گیا ۔امیری اور غریبی کے نام پر، جہیز کا بازار بھی لگایا جاتا ہے اور جہیز کی آڑ میں موت کے گھاٹ بھی اتارا جاتا ہے پھر بھی کہا جاتا ہے کہ غریبی بڑی اچھی چیز ہے۔
    ایک طرف کوئی مخمل کے بستر پر سوتا ہے دوسری طرف کوئی اخبار بچھا کر فٹ پاتھ پر سوتا ہے زندگی کا گذر بسر تو دونوں کا ہورہا ہے لیکن ایک کا آرام سے دوسرے کا تکلیف سے لیکن آج کے حالات پر نظر دوڑا نے سے یہ بات تو واضح ہوجاتی ہے کہ انسانوں کی بھیڑ میں اضافہ ہوتا جا رہا ہے مگر انسانیت میں کمی آتی جارہی ہے غریبی کے خاتمے کا خواب دکھا کر سیاست تو خوب کی جاتی ہے مگر غریبوں کو راحت پہنچانے کے لیے کچھ بھی نہیں کیا جاتا اب تو دینی، سیاسی، سماجی غرضی کہ ہر شعبے ہر میدان میں امیری اور غریبی کی کھائی بڑھتی جا رہی ہیزکوٰۃ کی رقم دے کر بھی بہت سے لوگوں کو اس وقت تک چین نہیں ملتا جب تک کہ چار آدمی سے ذکر نہ کر دیں حالانکہ اسلامی تاریخ میں ام المومنین حضرت عائشہ صدیقہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا کا ایک واقعہ ملتا ہے کہ انہوں نے ایک غریب آدمی کے پاس امدادی رقم بھیجی تو یہ کہدیا تھا کہ ان سے یہ نہ بتانا کہ یہ رقم کس نے دی ہے،

    ان سے تم بھلے سلام کرنا لیکن میرا سلام نہ کہنا، ہوسکے تو ان کے ہاتھ میں رقم نہ دیکر ان کی طرف بڑھاتے ہوئے ان کے قریب رکھ دینا وہ صاحب جب رقم دیکر واپس آئے تو حضرت عائشہ صدیقہ سے پوچھا کہ آپ نے اپنا سلام کہنے سے کیوں منع کیا اور دوسری بات یہ کہ پیسہ ہاتھ میں دینے سے کیوں منع کیا تو حضرت عائشہ ؓنے کہا کہ تم میرا سلام کہتے تو ہوسکتا ہے کہ وہ پھر کبھی ایسی حالت میں ہوتے کہ انہیں پھر امداد کی ضرورت پڑتی اور مجھ تک پیغام یہ سوچ کر نہیں پہچا تے کہ ان کے پاس سے ایک بار امدادی رقم آچکی ہے۔
    اس لیے میں نے یہ سوچا کہ انہیں معلوم ہی نہ ہو کہ یہ رقم عائشہؓ نے بھیجی ہے اور ہاتھ میں نہ دینے کے لیے اس وجہ سے کہا کہ تم ہاتھ میں دیتے تو ہوسکتا تھا کہ ان کا ہاتھ نیچا ہوتا اور تمہارا ہاتھ اوپر ہوتا تو کہیں تمہارے دل میں یہ خیال نہ پیدا ہوجاتا کے لینے والے کا ہاتھ نیچے اور دینے والے کا ہاتھ اوپر ہے تو کہیں تم تکبر نہ کر بیٹھتے بہت سے علماء کرام نے بیان کیا ہے کہ حضرت عائشہ ؓنے اپنے بھانجے عروہ کویہ رقم بھیجی تھی۔
    بہر حال اس واقعے سے امدادی سامان و رقم کا پرچار پرسار کرنے والوں کو عبرت حاصل کرنا چاہیئے بلکہ اس واقعے سے ہر خاص و عام کو سبق حاصل کرنے کی ضرورت ہے اس لیے صحابہ کرام رضی اللہ عنہم اجمعین جو مالدار تھے وہ اپنی دولت سے جنت کا سامان خریدا کرتے تھے اور آج کا مسلمان بھی مدارس سے لیکر خانقاہوں تک صرف مرغ و ماہی کا انتظام کرنے والوں اور مٹھیوں کو موٹی موٹی رقم سے گرم کرنے والوں کو اہمیت دیتا ہے اور غریب مریدین تک کو قریب تک بیٹھنے کی جگہ نہیں دیتا کوئی بڑے حوصلے سے دعوت دیتا ہے تو اس کے وہاں جانے سے کتراتے ہیں اور کسی کے ہاں اس انداز سے جاتے ہیں کہ کھانے کے بعد دسترخوان پر ہاتھ اٹھاکر اجتماعی دعا تک کرتے ہیں۔
    کیا اس سے غریبوں کو ٹھیس نہیں لگتی، کوئی آپ کو نذرانہ دے تو اس سے مصافحہ کریں اور گلے بھی لگائیں اور کوئی ہاتھ بڑھائے تو اسے اشاروں اشاروں میں کہیں ہاں ٹھیک ہے ٹھیک ہے تو کیا اس غریب مرید کو ٹھیس نہیں پہنچے گی پھر بھی اسٹیج سے خطابت کے انداز میں کہیں کہ غریبی بڑی اچھی چیز ہے تو دنیا چاہے کچھ بھی کہے میں تو یہی کہوں گا کہ ایسا کرنے والا رہنما نہیں بلکہ روٹی توڑ فقیر ہے، یہ واعظ نہیں بلکہ یہ ایک شعبدہ باز ہے اس کا انداز خطابت ایک فن ہے ،فن سے بڑھ کر کچھ نہیں۔
    ہر انسان کی زندگی میں اتار چڑھائو تو آتے ہی ہیں اس بات سے انکار نہیں کیا جا سکتا ہے کوئی بھی انسان اچھے برے حالات سے بھاگ نہیں سکتا ہے انسان کے لیے لازمی ہے کہ وہ اچھے اور موافق حالات میں اللہ رب العزت کا شکر ادا کرے اور غرور و تکبر سے بچنے کی کوشش کرے اور برے حالات کا مقابلہ بھی اعتماد اور خوش اسلوبی سے کرے اور کبھی بھی اپنی زندگی سے بیزار اور ناامید نہ ہو جائے کیوں کہ نہ ہی اچھے حالات ہمیشہ کے لیے رہتے ہیں اور نہ ہی برے حالات، لیکن برے حالات میں کام آئے لوگ ہمیشہ یاد رہتے ہیں ان ہی برے حالات اور مصائب میں ایک پریشانی اور مسئلہ غریبی ہے یہ ایسی بیماری ہے کہ جس کو بھی لگ جاتی ہے اسے کہیں کا نہیں چھوڑتی غریب انسان کسی کا نہیں رہتا اور نہ ہی اسے کوئی اپناتا ہیں یہاں تک کہ سگے بھائی بہن بھی ایسے شخص سے رشتہ ناطہ رکھنا گوارا نہیں کرتے۔
    انساں سے غریب انسان اپنا بسر اوقات کیسے مہیا کرتا ہے یہ صرف ایک غریب ہی جانتا ہے۔ ہمیں غریب کا مذاق اڑا کر ان کا دل نہیں دکھانا چاہیئے کیونکہ غریب ہونے میں دیر نہیں لگتی۔ غریب انسان دن رات ایک کر کے اپنے اہل و اعیال کے لیے دو وقت کا کھانا ممکن بنا تا ہے بہت سے غریب لوگ غربت سے تنگ آ کر مختلف جرائم میں مبتلا ہوجاتے ہیں یا خدا نخواستہ اپنی زندگی کا خاتمہ کر کے سنگین جرم کے مرتکب ہوتے ہیں حالانکہ مجرم بننے کے لیے، یا خودکشی جیسا سنگین قدم اٹھانے کے لیے غریب ہونے کی دلیل دینا کسی بھی صورت میں صحیح نہیں ہے لیکن غربت کی وجہ سے جرائم میں اضافہ ضرور ہوتا ہے اور بہت سے لوگ جانوں سے ہاتھ دھو بیٹھتے ہیں اس سے بھی انکار نہیں کیا جا سکتا ہے آئے دن سوشل میڈیا پر مختلف قسم کے ویڈیوز اور پوسٹس نظر آتے ہیں جن میں مختلف سماجی کارکن کسی غریب کی حالت زار سے عوام کو آگاہ کرتے ہیں اور ساتھ ہی ایسے مفلوک الحال لوگوں کے لیے مدد کی درخواست بھی کی جاتی ہے ساتھ ہی ضرورت مند لوگوں کا اکائونٹ نمبر بھی دے دیا جاتا ہے جس سے پیسہ براہ راست ضرورت مند کے کھاتے میں جاتا ہے اور گڑبڑ کی زیادہ گنجائش نہیں رہتی یہ ایک اچھا کام ہے بلکہ اس عمل کو سراہا جانا چاہئے کیوں اس طرح بہت سے غریب لوگوں کی مدد ہو جاتی ہے بہت سے بیمار لوگوں کی مالی معاونت کی جاتی ہے ایسی درجنوں مثالیں دی جا سکتی ہیں

    جہاں لوگوں کی اس طریقے سے بہت مدد کی گئی یہ سوشل میڈیا کا بہترین استعمال ہے لیکن حیرت تب ہوتی ہے جب بہت سے صاحب ثروت لوگوں کو میڈیا کے ذریعے ہی پتا چلتا ہے کہ ان کا ہمسایہ اتنا غریب ہے کہ وہ اپنی داستان لے کر سوشل میڈیا پر آ گیا ہے آخر ہمارے آس پڑوس میں رہنے والے لوگوں کی غربت ہمیں نظر کیوں نہیں آتی؟ ہمیں بھی پتہ کیوں نہیں چلتا کہ ہمارے ارد گرد کتنی بیوائیں ہیں جن کے پاس آمدنی کا کوئی ذریعہ نہیں ہے؟ کتنے یتیم بچے ہیں جو محض غربت کی وجہ سے تعلیم چھوڑ کر مزدوری کرتے ہیں؟ کتنی ایسی لڑکیاں ہیں جن کی عمر ڈھلتی جا رہی ہے لیکن محض غربت کی وجہ سے ان کی شادی نہیں ہو پاتی ہے؟ کتنے ایسے بیمار ہونگے جن کے پاس ادویات کے لئے پیسے نہیں ہونگے؟ اور کتنے ایسے گھر ہونگے جہاں کئی کئی دنوں تک چولھا نہیں جلتا ہو گا؟

    آخر ہم سوشل میڈیا کا انتظار کیوں کرتے ہیں شاید محض اس وجہ سے کہ وہ ہمارے آس پڑوس میں رہتے ہیں ہمیں ان کی غربت نظر نہیں آتی نتیجہ یہ نکلتا ہے کہ ایسے لوگوں کو سوشل میڈیا پر پوری دنیا کو اپنے حالات بتانے پڑتے ہیں لیکن بہت سارے لوگ ایسے بھی ہیں جو غربت میں گھٹ گھٹ کر جینا پسند کرتے ہیں لیکن سوشل میڈیا پر نہیں آتے ہیں ایسے لوگوں تک پہنچنے کے لئے بہترین راستہ یہی تھا کہ صاحب ثروت لوگ اپنی آنکھوں سے پردہ ہٹا کر اپنے آس پڑوس میں رہنے والے لوگوں کی خفیہ طور پر مدد کر کے اللہ کے دربار میں خوشنودی حاصل کریں۔غریبی غریب انسان کے لئے تو امتحان ہے ہی ساتھ ہی یہ صاحب ثروت لوگوں کے لیے بھی آزمائش کی گھڑی ہوتی ہے خاص طور پر ایسے وقت میں جب کورونا کی وبانے غریب افراد کا جینا محال کردیا ہے۔
    تحریر:مبین خان
    سٹی خان پور ضلع رحیم یار خان.

  • پاکستان میں فرقہ واریت کی آگ کیسے ٹھنڈی ہو گی؟ تحریر:سید عمیر شیرازی

    پاکستان میں فرقہ واریت کی آگ کیسے ٹھنڈی ہو گی؟ تحریر:سید عمیر شیرازی

    پاکستان اسلام کے نام پر حاصل کیا گیا ملک ہے جس کے حصول کا مقصد دین اسلام کا نفاذ تھا، لیکن آج تک سات دہائیاں گزرنے کے باوجود ہم اس مقصد کی تکمیل حاصل نہیں کر سکے جس کے لئے ملک حاصل کیا گیا تھا کیونکہ پاکستان میں فرقہ واریت نے اپنے مقصد تک پہنچنے ہی نہیں دیا،پاکستان میں بظاہر تو مسلمان ،لیکن گروہوں اور فرقوں میں بٹے ہوئے ہیں جس کا فائدہ ہمارا دشمن مسلسل اٹھا رہا ہے،کون اکثریت میں ہے کس کی تعداد زیادہ ہے؟ دیکھا جائے تو پاکستان میں اکثریت سنیوں کی ہے اسکے باوجود فرقہ واریت کی لپیٹ میں ہے اسکی بنیادی وجہ جو مجھے دیکھنے کو ملی وہ ہے ایران میں خمینی انقلاب وہاں جب خمینی نے تحریک چلائی اسکے منفی اثرات پاکستان میں پھیلے ،اس تحریک سے پہلے دیکھیں تو پاکستان میں کسی بھی طرح کا فساد فرقہ وارانہ دہشت گردی دیکھنے کو نہیں ملی۔۔۔

    پاکستان میں اہل سنت کے مقدس شخصیات بلکے اسلام کی مقدس شخصیات حضرات صحابہ کرام رضوان اللہ تعالی علیہم اجمعین کی شان میں گستاخانہ اشعر اور جو تبرا کیا گیا اسکے بعد امت مسلمہ میں جو غم و غصہ پایا گیا اسکی تاریخ میں کوئی مثال نہیں ملتی۔ ایران سے نفرت انگیز لٹریچر پاکستان لایا جاتا رہا اور عوام کو آپس میں فرقہ واریت کے نام پر لڑوانے کی بھرپور کوشش کی گئی،جب یہ سب ہوا تو پھر پاکستان میں مذہبی جماعتیں وجود میں آئی جن کا مقصد دفاع صحابہؓ اور حضرات صحابہؓ کی ناموس کا دفاع کرنا تھا ،اور ایسے یہ ایک نہ رکنے والا سلسلہ شروع ہوا ۔۔۔

    حضرات صحابہ کرامؓ پوری امت مسلمہ کی مقدس شخصیات ہیں جن کے ذریعے ہم تک اسلام پہنچا یہ وہ شخصیات ہیں جن کی تربیت خود حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمائی ،حضرات صحابہؓ کے بارے میں اللہ پاک قرآن میں فرماتے ہیں ،”رضی اللہ تعالی عنہ و رضو عنہ”
    جب امت مسلمہ کی عظیم شخصیات کی شان اقدس میں گستاخی کی جائے گئی تو مسلمان کب خاموش رہ سکتے ہیں۔۔

    اسی بات کا فائدہ اٹھاتے ہوئے اسلام دشمن عناصر نے پاکستان کو فرقہ واریت میں دھکیل دیا آج ہم سنی،شیعہ دیوبندی،بریلوی اہل دیث،وہابی تو ہیں لیکن کیا ہم مسلمان بھی ہیں؟؟
    یہ سوال ہمیں اپنے دل سے کرنا ہے
    چاہے ہم سنی ہوں یا شیعہ سب سے پہلے انسان ہیں اور اگر ہم اپنے آپ کو کلمہ گو مسلمان سمجھتے ہیں  تو اسلام کی مقدس شخصیات پر تبرا کرنا چھوڑنا ہوگا تبھی جاکر یہ فرقہ واریت کی آگ ٹھنڈی ہوگی۔

  • بھارتی حملہ. تحریر :ارم رائے

    بھارتی حملہ. تحریر :ارم رائے

    یہ پاکستان ہے۔ اور اس دھرتی پہ صبح کے 3:00AM .ہورہے ہیں لوگ معمول کے مطابق اپنی اپنی خواب گاہوں سوئے ہوِئے ہیں اور کچھ تہجد گزار مسجدوں میں ہیں ، جو اللہ کے حضور سجدہ ریز ہیں اور دعاوں اور سسکیوں میں امت مسلم کی کامیابی و کامرانی کے لیے دعاوں میں مشغول ہیں۔ پرندے کچھ دیر تک چہچہانے میں لگ جائیں گے۔ دو دوست رات گئے کی محفل برخاست کر کے اپنے گھر کی طرف آ رہے ہیں، کہ اچانک ٹینکوں کے گولوں اور جنگی جہازوں کی دل ہلا دینے والی آوازیں سماعتوں سے ٹکرانا شروع ہو جاتی ہیں،لوگ مارے خوف سے ششدر میں ہیں کہ کیا ہو گیا ہے۔دل کی دھڑکنوں کی بے ترتیبی زور پکڑتی ہے ۔ ہیبت ناک اور کلیجے کو پھٹا دینے والی آوازویں بہت قریب ہوتی جارہی ہیں۔ساتھ ساتھ تیز ہوتی جا رہی ہیں۔ اتنے میں مسجد کے لاوڈ سپیکر سے جان لیوا الفاظ کچھ یوں سنائی دیتے ہیں کہ۔۔۔۔۔۔بزدل بھارت نے لاہور کی جانب سے پھر حملہ کر دیا ہے اور عوام سے اپیل ہے کہ فوجی بھائیوں کے کندھے سے کندھا ملائے۔ اعلان ختم ہو جاتا ہے۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

    اک ماں سب سے پہلے اپنے جوان بیٹے کو کہتی ہے میرے بیٹے آج اسلام اور کفر کی جنگ چھڑ گئ ہے ۔میں اس وقت تک آپ راضی نہیں ہوں گی جب تک تیرا لہو کفر کے شعلے کو ٹھنڈا نہیں کر دیتا۔ یہ سننا تھا کہ بیٹا خالی ہاتھ بارڈر کی طرف دوڑ لگا دیتا ہے۔جب نوجوان بارڈر پر پہنچتا ہے تو عوام کا ٹھاٹھیں مارتا سمندر فوجی بھائیوں کی امداد کے لیے نقل و حرکت میں ہے ۔ہر سو عوام ہی عوام ہے ۔عوام کے ہاتھوں میں کوئی نہ کوئی ضروری سامان ہے۔ کسی کے ہاتھ میں پھولوں کے گل دستے ہیں۔بچوں کے پاس پاس پانی کی بو تلیں ہیں۔ تو کسی کے ہاتھ میں میں گھریلو بندوقیں ہیں۔کسی کے ہاتھ میں فروٹ ہیں جو گھر میں رکھے فریزروں سے لئے گئے ہیں۔ ایک کے پاس تو کپڑے میں بندھی ہوئی دال روٹی اور گھر کے دروازے کو توڑ کر لی گئ اک مضبوط چوکھاٹ بھی ہے۔ اس سے پوچھا گیا کہ یہ چوکھاٹ کس لیے لائے ہو تو جواب ملا، جب اسلحہ ختم ہو جائے گا تو جا ئے گا تو یہ چوکھاٹ بندوق بن جائے گی۔۔۔۔اس کے اس جواب نے عوام اور افواج میں مزید انرجی پیدا کر دی ۔۔۔۔۔۔۔۔۔

    ۔ فوجی ٹینکوں کو عوام نے اپنے حصار میں گھیر رکھا ہے ۔ہر سو ملی نغموں کی بہار ہے۔ لوگ بارڈر پر سیسہ پلائی دیوار بنے ہوئے ہیں ۔آس پاس جنگی جہازوں کی گھن گرج اور ٹینکوں کی ہیبت ناک اوازوں نے دشمن پر دھاک بٹھا رکھی ہے۔ دونوں جانب فائرنگ کا سلسلہ جاری ہے تھنڈر جہاز اور ایف سولہ جہازوں نے فضا کو دھواں دھواں اور گردو غبار سے آلودہ کر رکھا ہے ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

    یہ جنگ ایک میلہ بن گئ ہے جیسے بازار ہو ۔جیسے لوگ خرید و فروخت کے لیے آئے ہوں ۔کسی پر کوئی خوف کے آثار نہیں ہیں ۔مشکل وقت میں اتفاق مشکلات کو بے معنی کر دیتا ہے۔ فوجی بھائیوں سے عوام کی محبت نے جنگ کا پانسہ یک طرفہ کردیا ۔فوجی کو گولی لگتے لگتے ایک عام سے ادمی کے سینے سے گزر جاتی ہے ۔ فوجی زخمی ہوتے ہوتے عام ادمی زخمی ہو جاتا ہے۔ دور سے فوجیوں کو بچانے کے مزید کھدائیاں جاری ہیں۔ یہ جذبہ ایمانی دیکھ کر اور فوج سے محبت نے افواج کے لہو گرما دئے ۔ فوجی دستوں نے نعرہ تکبیر کے فلک شگاف نعرے ایسے لگائےکہ ٹینکوں سے نکلنے والے گولوں کی رفتار دوگنی ہو گئی۔ جہاں اک منٹ میں ایک گولہ جانا تھا وہاں ایک منٹ تین تین گولے دشمن کی طرف نکلے۔ جہاں فضائیہ نے منٹوں میں ہدف تباہ کرنا تھا وہاں سیکنڈوں میں ہدف مکمل ہونے لگا۔ جنگ تیز ہو گئ نتائج فوری آنے لگ گئے۔ ہر پانچ منٹ دشمن کا اہم ترین مقام تباہ ہونے لگا نعرہ تکبیر اللہ اکبر کے نعروں نے ایسی توانائی بخشی کہ پاک آرمی کے کے دستے دشمن کی سر زمین میں ٹینکوں کو آگے بڑھاتے گئے۔ٹینک کے گولوں سے دشمن کو نیست و نابود کرتے گئے اور اوپر سے ایف سولہ اور تھنڈر جیسے پاور فل جنگی جہازوں نے دشمن کے علاقے کو تباہ برباد کر کے رکھ دیا۔۔

    ادھر لمبی اور کالی زلفوں والے بڑی اور مضبوط قدو قامت کے مالک اللہ کے شیر کہیں سے آ نکلتے ہیں جیسے یہ غاروں میں سے نکل کے آئے ہوں جیسے یہ خاص وقت کے انتظار میں تھے جیسے یہ آئے نہیں بھیجے گئے ہوں۔جیسے یہ غزوہ ہند کے حصے دار ہوں۔۔ان کی آمد نے جنگ میں ہلچل مچا دی اور دیکھتے ہی دیکھتے دشمن کی بھاری نفری لاشوں کی شکل اختیار گئ ۔لاشیں لاشیں اتنی پڑی ہیں کہ گدھ سالہا سال مزے ا ڑا سکتے ہیں

    یِہ خواب میں ابھی دیکھ رہی تھی کہ کسی نے مجھے کہا کہ ہندوستان فتح ہو گیا ہے اور دہلی کی بڑی مسجد پر سبز ہلالی جھنڈا لگا دیا گیا ہے۔ آئیے اس لہراتے سبز ہلالی جھنڈے کو دیکھتے ہیں۔اس خوشی میں میری آنکھ کھل گئ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

    یہ آرٹیکل عوام اور افواج کی یکجہتی کے فوائد پر لکھا گیا ہے اسے عوام میں آگہی کے لئے ضرور شیر کیجئے

  • جذبہ حب الوطنی، ہمت و حوصلے کی زندہ مثال .خیبر پختونخوا بم ڈسپوزل سکواڈ کا قابل فخر سپاہی .تحریر: محمد مستنصر

    جذبہ حب الوطنی، ہمت و حوصلے کی زندہ مثال .خیبر پختونخوا بم ڈسپوزل سکواڈ کا قابل فخر سپاہی .تحریر: محمد مستنصر

    اکیسویں صدی کے اوائل میں جب امریکا اسامہ بن لادن کی تلاش میں افغانستان پر حملہ آور ہوا تو دہستگردی کے خلاف اس جنگ میں امریکا کے اتحادی کے طور پر سب سے ذیادہ نقصان پاکستان کو برداشت کرنا پڑا، پاکستان نے دہشتگردی کے خلاف جنگ میں امریکی افواج کے اتحادی کے طور پر فرنٹ رول کردار ادا کرنے کا فیصلہ کیاتو بالخصوص افغانستان کی سرحد سے ملحقہ قبائلی اضلاع کے ساتھ خیبرپختونخوا کے بندوبستی اضلاع بھی دہشتگردی کی لپیٹ میں آگئے، اور یوں پاکستان کو دو دہائیوں کے دوران اربوں روپے کے مالی نقصان کے علاوہ ہزاروں قیمتی جانوں کی قربانی بھی دینا پڑی۔ قوم کو دہشتگردی کے عذاب سے نجات دلانے کے لئے دیگر سیکیورٹی اداروں کے ساتھ مل کر خیبر پختونخوا پولیس کے افسروں اور جوانوں نے بھی کم وسائل کے باوجود گراں قدر قربانیاں دیتے ہوئے اہم کردار ادا کیا۔
    دہشتگردی کے خلاف جنگ میں جب بھی خیبر پختونخوا پولیس کی قربانیوں کا ذکر کیا جاتا ہے تو ڈیرہ اسماعیل خان بم ڈسپوزل یونٹ کے انچارج عنائیت اللہ ٹائیگر کا نام ہمت، حوصلے اور جذبہ حب الوطنی کی زندہ مثال کے طور پر سامنے آتا ہے۔
    ڈیرہ اسماعیل خان کے رہائشی عنایت اللہ نے 1998 میں بطور کانسٹیبل خیبرپختونخوا پولیس جائن کی جبکہ سال 2000 میں بم ڈسپوزل سکواڈ کا حصہ بن گئے، عنایت اللہ نے اپنے کیریئر کا پہلا بم سال 2001 میں ناکارہ بنایا 21 سال کے اس مشکل اور کٹھن میں متعدد بار عنایت اللہ زخمی بھی ہوئے مگر کسی بھی موقع پر عنایت اللہ ٹائیگر کا حوصلہ پست ہوا نہ ہی بم ناکارہ بناتے وقت کبھی زخمی ہاتھوں میں کپکپاہٹ کا احساس ہوا۔
    عنایت اللہ ٹائیگر نے جب بم ڈسپوزل سکواڈ کا حصہ بن کر کام شروع کیا تو ایک موٹر سائیکل، بیگ میں موجود ایک خنجر، پستول اور بارودی مواد کے ساتھ جڑی تاریں کاٹنے کے لئے ایک کٹر، ان اوزاروں کے سہارے محض جذبہ ایمانی ، شوق شہادت اور حب الوطنی کے جذبے سے سرشار ہو کر مختصر عرصہ میں 150 سے زائد مختلف اقسام کے بم ناکارہ بنا ڈالے یہی وجہ تھی کہ بم دھماکوں، ٹارگٹ کلنگ اور دہشتگردی کے ستائے ڈیرہ اسماعیل کے باسیوں نے عنایت اللہ کو نہ صرف ایک مسیحا اور ہیرو کے طور پر جانا بلکہ انکی جاں فشانی کے جذبے کو خراج تحسین پیش کرتے ہوئے انہیں "ٹائیگر” کے ٹائٹل سے بھی نواز دیا۔
    اکیس سال کے کیریئر کے دوران عنایت اللہ ٹائیگر مختلف نوعیت کے 3 ہزار سے زائد بموں، خود کش جیکٹس ، راکٹ لانچرز، دستی بموں اور دھماکا خیز مواد کو ناکارہ بنا چکے ہیں۔

    اپنے کیریئر کے دوران عنایت اللہ ٹائیگر ہمیشہ سے ہی شرپسندوں کے نشانے پر رہے اور متعدد بار زخمی بھی ہوئے۔سال 2012 میں پیش آنے والے ایک حادثہ کے دوران عنایت اللہ ٹائیگر کا بایاں بازو بری طرح متاثر ہوا جبکہ سال 2014 کے دوران ایک بارودی سرنگ کے دھماکے میں عنایت اللہ ٹائیگر کی ٹانگ کٹ گئی مگر عنایت اللہ ٹائیگر عزم و ہمت کے ساتھ مصنوعی ٹانگ کے ساتھ آج بھی اپنے ہم وطنوں کی جانوں کے تحفظ میں پیش پیش رہتے ہیں۔
    ۔
    سال 2014 میں شدید زخمی ہونے کے باوجود عنایت اللہ ٹائیگر نے کبھی اپنی مصنوعی ٹانگ کو فرض کی ادائیگی میں آڑے نہیں آنے دیا اور صحت مند ہوتے ہی دو مہینے کی سخت فزیکل ٹریننگ کے بعد دوبارہ ناصرف بم ڈسپوزل سکواڈ جائن کیا بلکہ سال 2014 سے اب تک 82 بم ناکارہ بنا چکے ہیں۔

    عنایت اللہ ٹائیگر لگن، تجربے اور مہارت کے باعث خیبر پختونخوا پولیس میں ایک اکیڈمی کا درجہ رکھتے ہیں، عنایت ٹائیگر کو مخصوص صورتحال کے پیش نظر نہ صرف خیبر پختونخوا کے سرکاری و نجی اداروں اور یونیورسٹیز میں لیکچرز کے لئے مدعو کیا جاتا ہے بلکہ دیگر صوبوں میں بھی بم ڈسپوزل اہلکار عنایت اللہ ٹائیگر کے تجربے سے مستفید ہو رہے ہیں۔

    ملک وقوم کی عظیم خدمات کے اعتراف میں عنایت اللہ ٹائیگر کو چیف آف آرمی سٹاف جنرل قمر جاوید باجوہ کی طرف سے پانچ لاکھ روپے نقد جبکہ حکومت کی طرف سے صدارتی تمغہ شجاعت سےبھی نوازا گیا تاہم عنایت اللہ ٹائیگر کا کہنا ہے کہ ہم وطنوں کی طرف سے ملنے والی محبت، دعائیں اور پیار اس کے لئے سرمایہ حیات کی حیثیت رکھتا ہے۔