Baaghi TV

Category: معاشرہ و ثقافت

  • کوئی حد نہیں خدمت کی :تحریر:فیاض احمد عباسی

    کوئی حد نہیں خدمت کی :تحریر:فیاض احمد عباسی

    سفید مصفا وردی میں ملبوس پاک بحریہ کے آفیسرز اور جوان سمندر کی بے کراں وسعتوں کے حکمران ہیں۔ اُ ن کی فرض شناسی، مستعدی اور حب الوطنی کی بدولت پاکستان کی سمندری سرحدیں محفوظ اور ناقابل تسخیر ہیں۔ یہ سر فروش نہ صرف ملکی بحری سرحدوں کے دفاع کے قومی فرائض بخوبی نبھا رہے ہیں بلکہ ملک میں جب بھی کوئی ناگہانی آفت رونما ہوئی تو قوم کے یہ بیٹے مدد کے لیے ہمیشہ تیار نظر آئے۔ پاکستان نیوی کی قومی خدمات کا ایک نہ ختم ہونے والا سلسلہ ملک کی ساحلی آ بادی میں نظر آتا ہے۔ تعلیم کا شعبہ ہو یا صحت کی سہو لیات کا معاملہ، روزگار کی فراہمی ہو یا معیشت کا استحکام پاکستان نیوی ہر جگہ پیش پیش رہتی ہے۔ تعلیم کے لیے بحریہ کا لجز، بحریہ اسکولز،کیڈٹ کالجز اپنی خدمات پیش کیے ہوئے ہیں۔اس کے علاوہ سر کاری اسکولوں کی سرپرستی اور ان کے ساتھ تعلیمی تعاون ایک الگ کاوش ہے۔

    صحت کی بات کی جائے تو ساحلی علاقوں میں تسلسل کے ساتھ فری میڈیکل کیمپس کا انعقاد نمایاں ہے۔ کووِڈ 19- کے دوران پاک بحریہ کی میڈیکل ٹیموں نے صحت کی سہولیات اور ساحلی آبادی کے علاج معالج میں کوئی کسر نہ اُٹھا رکھی۔میڈیکل کیمپس قائم کیے، حفاظتی سامان کی تقسیم کی، لوگوں کو بچاؤ کی احتیاطی تدابیر سے آگاہ کیا۔ شدید امراض میں مبتلا مریضوں کا اور ماڑہ میں واقع پاکستان نیوی کے ہسپتا ل پی این ایس درماں جاہ میں جدید آلات سے علاج کیا گیا۔ کووِڈ19-کے دوران پاکستان نیوی نے ملک کے ساحلی علاقوں اور دیگر شہروں میں 70ہزار ٹن راشن بانٹا، 50ہزار کے قریب حفاظتی سامان اور طبی آلات تقسیم کیے۔

    روزگار اور معیشت کے حوالے سے دیکھا جائے تو پاکستان نیوی ساحلی پٹی کے مستحق نو جوانوں کو خصوصی رعایت کے ساتھ ملازمت دیتی ہے۔ اُ ن کے لیے کو ٹہ بھی مخصوص ہے۔پاکستان کی تقدیر بدلنے والے سی پیک منصوبے کی سمندری گزر گاہوں کو محفوط بنا کر پاکستان نیوی پاکستانی معیشت میں اہم کردار ادا کر رہی ہے۔ اس کے علاوہ بحری اقتصادی پوٹینشل کے سلسلے میں آگہی کے فروغ اور اس سے استفادہ حاصل کرنے کے ضمن میں پاکستان نیوی کی کاوشیں قابل تعریف ہیں۔ یہ تو ساحلی علاقوں میں پاک بحریہ کی خدمات کا انتہائی مختصر ذکر تھا۔

    ساحلی علاقوں کے علاوہ ملک میں کبھی بھی جہاں بھی ضرورت پیش آئی پاکستان نیوی پیش پیش رہی۔ اپنی قومی خدمات کے سلسلے کو آگے بڑھاتے ہوئے پاکستان نیوی نے آزاد جموں و کشمیر میں تین دن پر محیط فری میڈیکل کیمپ کا انعقاد کیا۔ اس فری میڈیکل کے انعقاد کا مقصد آزاد جمو ں و کشمیرکے علاقوں چہلہ بانڈی، چکار اور نیلم میں آباد مستحق خاندانوں کو علاج کی سہولیات کی دستیابی اور ادویات کی بلا معاوضہ فراہمی تھا۔ پاکستان نیوی فری میڈیکل کیمپ کے ماہر ڈاکٹر ز نے کیمپ میں آنے والے مریضوں کا انتہائی باریک بینی سے معائنہ کیا اور مرض کی تشخیص کے بعد انہیں بلا معاوضہ ادویات فراہم کی۔ میڈیکل کیمپ میں آنے والے ہزاروں مریضوں میں خواتین بچے اور معمر افراد شامل تھے۔ مقامی آبادی اور علاقے کی معزز شخصیات نے مشکل کی اس گھڑی میں گھروں کی دہلیز تک علاج معالج کی سہولیات اور ادویات پہنچانے پر پاک بحریہ کی کاوشوں کا شکریہ ادا کیا۔ میڈیکل کیمپ میں آنے والے معمر افراد نے کہا کہ ہم پاکستان نیوی کے شکر گزار ہیں کہ انہوں نے میڈیکل کیمپ لگایا۔ ہم عمر رسیدہ لوگ دور دراز کا سفر نہیں کر سکتے اور صحت بھی اس کی اجازت نہیں دیتی۔ ہمیں گھر میں علاج کی سہولیات میسر آئی ہے۔ نیوی کے ڈاکٹر بہت نرم دل اور شفیق ہیں۔ عملہ اعلیٰ اخلاق کا مالک ہے۔ علاج بہت اچھا ہوا ہے۔ اس کے علاوہ معززینِ علاقہ نے کہا کہ مہم پر جب بھی مشکل آن پڑی پاک بحریہ نے ہمیشہ ہماری مدد کی۔ 2005 کا زلزلہ ہو یا2019 کا زلزلہ پاکستان نیوی کی امداد ی کاروائیوں، بحالی کے کاموں اور علاج معالجے کی سہولیات کی فراہمی کو ہمیشہ یاد رکھا جائے گا۔ زلزے کے بعد پاکستان نیوی نے ہمارے بچوں کے لیے اسکولوں کی تعمیر نو کی۔ گھروں کی کو دوبارہ بنانے میں مدد کی۔ ہمارے زخمیوں کا علاج معالجہ کیا۔ ہماری ہمت افزائی کی، حوصلہ دیا، تسلی دی، الغرض زندگی میں اُمید کی کرن پیدا کی۔

    یہ پہلا موقع نہ تھا جب پاکستان نیوی نے آزاد جمو ں و کشمیر میں میڈیکل کیمپ لگا یا بلکہ اس سے قبل بھی پاکستان نیوی اس خطے میں امدادی آپریشنز انجام دے کر مشکل کا شکار لوگوں کی اعانت کر چکی ہے۔ 8 اکتوبر 2005 کو آزاد کشمیر اور پاکستان کے شمالی علاقہ جات میں آنے زلزلے نے بڑے پیمانے پر بتا ہی پھیلائی۔ پاکستان کی تاریخ میں آنے والے اس ہولناک زلزلے سے ہزاروں افراد لقمہ اجل بن گئے جبکہ لاکھوں کی تعدا د میں خاندان بے گھر ہو گئے۔بے گھر خاندا ن بے سرو سامان کسی غیبی مدد کے منتظر تھے، کسی مسیحا کا انتظار کر رہے تھے۔ اس سانحہ کے فوراً بعد پاکستان کی مسلح افواج امدادی کاروائیاں کرنے اور قیمتی انسانوں جانوں کو بچانے کے لیے حرکت میں آئیں۔ ریسکو آپریشنز میں 50 ہزار سے زائد مسلح افواج کے جوان اور آفیسرز نے حصہ لیا۔ پاک بحریہ بھی ان امدادی آپریشنز میں پیش پیش رہی۔ متاثرین کی امداد کے لیے پاکستان نیوی نے مختلف شہروں میں امدادی کیمپس قائم کیے تاکہ امدادی سامان جمع کیا جاسکتے۔ان امدادی کیمپس کے ذریعے جمع ہونے والے سامان کو ریل گاڑی، ٹرکوں اور پاکستان نیوی کے طیاروں کے ذریعے کراچی اور ساحلی شہروں سے اسلام آباد لا یا گیا اور پھر انہیں آزاد کشمیر کے متاثر ین تک پہنچایا گیا۔ اس سانحے میں زخمی ہونے والوں کے لیے ریلیف کیمپس لگائے گئے۔ جہاں ان زخمیوں کو طبی امداد فراہم کی گئی۔ ان ریلیف کیمپس کو فیلڈ ہسپتا ل میں بدل دیا گیا جہاں شدید زخمیوں کا علاج کیا گیا۔ پاکستان نیوی کے ڈاکٹر ز، پیرا میڈیکل اسٹاف، آفیسرز اور جوانوں نے یہاں دن رات خدمات انجام دیں اوراپنے بھائیوں کے دکھ درد میں شریک ہوئے۔ ادویات کی اشد ضرورت کے پیش نظر پاک بحریہ کے فو کر طیارے کے ذریعے ادویات کو کراچی سے پی اے ایف چکلالہ پہنچایا گیا جہاں سے یہ ادویات پاک بحریہ کے ہیلی کاپٹرز کے ذریعے آزاد کشمیر اور شمالی علاقہ جات کے متاثرہ علاقوں میں پہنچائی گئیں۔ اس کے علاوہ پاک بحریہ کے سی کنگ اور ایلویٹ ہیلی کاپڑز زخمیوں کو ہسپتال تک پہنچانے کا کام انجام دیتے رہے۔ اسلام آباد میں واقع پاک بحریہ کے ہسپتا ل پی این ایس حفیظ کو زخمیوں کے علاج معالجے کے لیے مخصوص کیا گیا۔ پاک میرینز اور نیوی کے اسپیشل سروس گروپ کے جوانوں نے امدادی سر گرمیوں میں حصہ لے کر زخمیوں کو فیلڈ ہسپتال پہنچا یا اور متاثرین میں امدادی سامان تقسیم کیا۔

    26ستمبر2019کو آزاد کشمیر میں آنے والے زلزلے کے بعد پاک بحریہ متاثرین ِ زلزلہ کی امداد کے لیے متحرک ہو گئی۔ پاک بحریہ کی امدادی ٹیموں نے میر پور آزاد کشمیر کے گاؤں جرار اور ڈھوک گجر کے متاثرینِ زلزلہ میں امدادی سامان تقسیم کیا۔۔ زلزلے سے کئی خاندان بے گھر ہو گئے تھے۔ 2005 کے زلزلے کی تلخ یادوں نے وہاں کے لوگوں کو ایک خوف میں مبتلا کر رکھا تھا۔ سب بے یقینی کی کیفیت کا شکار تھے۔ زندگی بھر کی جمع پونچی کے ضیاع نے انہیں بے حد افسردہ کر رکھا تھا۔ امدادی ٹیموں میں شامل پاک بحریہ کے آفیسرز و جوانوں نے زلزلے سے متاثرہ بھائیوں کی ڈھارس بندھائی، اُن کی ہمت افزائی کی اور کسی بھی مصیبت کی صورت میں اُن کو ہر ممکن مدد کا یقین دلایا۔ امدادی سامان جس میں خیمے اور کئی ٹن راشن شامل تھا زلزلہ متاثرین میں تقسیم کیا گیا۔

    پاکستان نیوی قومی خدمات کے ساتھ ساتھ بین الاقوامی سطح پر بھی امدادی کاروائیوں کو انجام دے چکی ہے۔ اس کی عالمی خدمات میں یمن کے شورش زدہ علاقوں سے سینکڑوں افراد کو بحفاظت نکالنا،بحری قزاقوں کے ہاتھو ں یرغمال ہونے والے بحر ی تجارتی جہاز ایم وی سویئزکے عملے کی بازیابی، سمندری طوفان ”سونامی“ کے دوران سری لنکا، مالدیپ اور انڈونیشیاء میں امدادی آپریشن اورکھلے سمندروں میں مصیبت میں گرفتا ر افراد کی مدد قابل ذکر کارنامے ہیں۔

    پاکستان نیوی اپنی بنیادی ذمہ داریوں کی ادائیگی کے ساتھ ساتھ کسی بھی ناگہانی آفت کی صور ت میں ملک و قوم کی خدمت کے لیے پر عزم ہے اور اس کے آفیسرز و جوان کسی بھی مشکل میں اپنے بھائیوں کے دکھ درد میں شریک ہونے جذبے سے سرشار ہیں۔

  • اکاونٹ ویریفائیڈ اور معاشرے میں چھپے بھیڑیے .تحریر: حمیرا نزیر

    اکاونٹ ویریفائیڈ اور معاشرے میں چھپے بھیڑیے .تحریر: حمیرا نزیر

    سوشل میڈیا پلیٹ فارم پر ہر کسی کی یہ خواہش ہوتی ہے کہ اسکے زیادہ سے زیادہ فالورز ہوں زیادہ سے زیادہ فینز ہوں اسکی بات اسکی لکھی گئی تحریر دور تک زیادہ لوگوں تک جاے، اس کے لیے تمام سوشل میڈیا پلیٹ فارمز نے ایک بیلو ٹک کا انقعاد کیا ہے چاہے وہ فیسبک ، انسٹاگرام ، ٹویٹر یا کوی بھی پلیٹ فارم ہوں، وہ بلیو ٹک آپکے حقیقی ہونے کی نشاندھی کرتا ہے بلیو ٹک سے آپکے مداحوں کو یہ پتا چلتا کہ کہ اس اکاونٹ کے پیچھے وہی شخصیت ہے جسے وہ جانتے اور پسند کرتے ہے، ایسے ہی بلیو ٹک پر سے پابندی ٹویٹر نے ایک طویل عرصے کے بعد کچھ ہفتوں کے لیے ختم کر دی تاکہ ٹویٹر یوزرز آپنے اکاونٹ ویریفائیڈ کروا سکے، حالیہ گنتی کے مطابق ٹویٹر کو جوائن کرنے والوں کی تعداد 18 کروڑ سے تجاوز کر گئی، بہت سے لوگوں نے اکاونٹ ویریفائیڈ کروا لیے اس سے یہ بھی فائدہ ہوتا کہ کوی بھی شخص آپکا نام آپکی پکچر لگا کر آپکا جعلی اکاونٹ نہی بنا سکتا ، مجھے ہمیرا نزیر کو بھی ٹویٹر کے بلیو ٹک کا بہت بے صبری سے انتظار تھا،

    آخر وہ دن آ ہی گیا اور اس دن کے لیے بہت سے صحافیوں سے رابطے میں بھی تھی جن کے اکاونٹ بلیو ٹک شدہ یے انہوں نے بھی مکمل یقین دہانی کروای کہ ہم آپکی بھرپور مدد کرے گے اور ساتھ میں میں نے یہ بھی کہاں کہ اگر اس پر کوی کسی قسم کا خرچہ بھی آیا تو وہ بھی میں خود کروں گی ، آخر وہ دن آ گیا پابندی ہٹ گئی میں نے بھی صحافیوں سے رابطے شروع کر دیے کچھ نے جواب دیے کچھ نے بلیک لسٹ کر دیا حقیقت میں تکلیف ہوی کہ کیا میں اس لائق بھی نہی کہ کوی میرا رپلای تک کرے، شدید افسوس ہوا آپنی بے بسی پر ، آخر ایک نے رپلای کیا تو پہلے ہی منٹ مجھ سے ویڈیو کال کا مطالبہ کر ڈالا، یہ جانتے ہوے بھی کہ میں ایک حافظ قران ہوں اور ایسی حرکت تو کیا کسی غلط لفظ سننے سے بھی کانپ جاتی ہوں ، میں یہ کہہ کر انکار کر دیا کہ سر ایسی ہماری کوی ڈیل تو نہی تھی آپکو ہیلپ کرنی تو بتا دیجیے ورنہ آپکا شکریہ آپ اپنے راستے میں آپنے راستے یہ کہہ کر میں انہیں بلاک کر دیا اب ایک اور صحافی جو کبھی پی ٹی وی نیوز پر آیا کرتے تھے یہاں نام لکھنا نہی چاہتی ان سے بات کی تو کافی بار تو میسج سین کرتے اور کوی جواب نا دیتے جب دیتے تو میں بزی ہوں کہہ کر چلے جاتے، خیر کوئی بات نہی آخر ایک دن آ گیا جب وہ فری ہوے بات چلی تعارف پوچھا میں نے بتایا لاہور سے ہوں کہتے تو پھر ملاقات کر لیں کہی ہوٹل میں ، میں جب یہ الفاظ سنے میں ہکی بکی رہ گئی کہ واللہ کیا ہو گیا ہماری عوام کو میں جب انکار کر دیا تو کہتے اکاونٹ ویریفائیڈ کروا دیتے لیکن شرط یہ مجھے آپنی ننگی پکچریں شئیر کروں میں نے صاف کہاں سر آپ قابل آحترام ہے میرے ساتھ بھی وہی کچھ ہے جو آپکی بیوی آپکی بہن، آپکی بیٹی آپکی والدہ کے ساتھ لگا ہے تو آپ یہی بات ان سے کہہ کر دیکھیں، یہ کہتے ہی موصوف کہتے جاو اب میں دیکھتا کہ کیسے ہوتا تمہارا اکاونٹ ویریفائیڈ، میں نے بلاک کر کے اللہ کا شکر ادا کیا کہ کہی مجھ سے وہ گناہ سرزد نہیں ہوا،

    اب آئے دن بہت سی لڑکیوں کے جن کے اکاونٹ چند دنوں میں ویریفائیڈ ہوے یے وہ لڑکیاں ان صاحب کا شکریہ آدا کرنے کے ٹویٹ کرتی نظر آتی ہے ان صاحب کی وجہ سے ہمارا اکاونٹ ویریفائیڈ ہو گیا، میں جب وہ ٹویٹ دیکھتی تو سوچتی کہ کتنوں نے آپنی ننگی تصویریں ان صاحب کو پیش کی کتنوں نے ہوٹلوں میں ملاقاتیں کی اکاونٹ ویریفائیڈ کے لیے، اور آج ہم بیٹھے ہے آپنی عزت اور آبرو بچاے بیشک اکاونٹ ویریفائیڈ نا ہوا لیکن اس معاشرے میں چھپے بھڑیئے تو سامنے آ گیے میری آپ سب بہن بیٹیوں سے گزارش ہے کہ خدارہ ایسے بھیڑیوں سے بچیں اور دوسروں کو بھی بچاے یہ بھیڑیے آپکو نوچ کھانے کے لیے ہمہ وقت تیار رہتے ہے انھیں ہر گز کوی موقع فراہم نا کریں عزت ایک بار چلی جاے پھر تامرگ واپس لوٹ کر نہی آتی،

  • نئے رشتوں کی تلاش ۔ تحریر: حنا

    نئے رشتوں کی تلاش ۔ تحریر: حنا

    دو لوگ جب آپس میں تعلق بناتے ہیں تو شروع شروع میں بہت خوش ہوتے ہیں کیونکہ دونوں دل ہی دل میں سوچ رہے ہوتے ہیں کہ یہ وہی ہے ویسا ہی ہے جس کا میں۔۔۔آج تک انتظار (کرتی یا)کرتا آیا ہوں۔۔۔
    ہر انسان کی زندگی میں کوئی ایسا انسان ضرور آتا ہے جس سے بات کر کے دل کو سکون ملتا ہے اپنا غم اس سے بانٹ کر دل ہلکا ہوجاتا ہے اگر دل اداس ہو اور اچانک سے اسکا مسیج آجاۓ دل کی دھڑکن تیز ہوجاتی ہے لبوں پر مسکراہٹ پھیل جاتی ہے موڈ خود ہی اچھا ہوجاتا ہے
    اکثر ایسا بھی ہوتا ہے کہ آپ یہ جانتے ہو کہ وہ آپکی منزل کبھی نہیں ہوسکتا مگر پھر بھی دل بےبس ہوجاتا ہے
    اس کا ساتھ اتنا خوبصورت لگتا ہے کے دل چاہتا ہے جو وقت اسکے ساتھ ہو بس وہی زندگی مرتے دم تک بس یہی میرا ساتھ نبھائے دونوں کو یہ پتا ہوتا ہے جب کہ دونوں ہی ایک دسرے کا نصیب نہیں بن سکتے یہ جانتے ھوۓ بھی دونوں ہی یہ تعلق نبھاتے ہیں !!

    لمبی لمبی کالز اور مسیجیز کے بعد…..
    جب تعلق کا نیا پن‘ ختم ہوتا ہے تو ایک دوسرے سے۔۔۔بندھی امیدیں بھی مرنے لگتی ہیں دونوں یہ سوچتے ہیں کہ یہ وہ نہیں ہے جسے میں نے سمجھا تھا
    کیونکہ انسان کو جب کچھ حاصل ہوجاۓ تو وہ اسکی تمنا نہیں کرتا حاصل کو چھوڑ کر پھر سے لاحاصل کہ پیچھے بھاگتا ہے اور پھر دلچسپی کم ہوجاتی ہے
    دونوں ایک دوسرے سے دور ہونے لگتے ہیں فوراََ میسج کا جواب دینے والے ایک دوسرے کو کئی کئی دن جواب نہیں دیتے دونوں کے درمیان کالز کم ہو جاتی ہیں بلیم گیم شروع ہو جاتی ہے تم یہ ہو تم وہ ہو تم ایسے ہو تم ویسے ہو یہ کیا ہے؟وہ کیا ہے؟تم یہ نہیں کرتے تم وہ نہیں کرتے لاشعور کی لڑائی شعوری طور پر ہونے لگتی ہے یہاں تک کے بات قطع تعلق پر آجاتی ہے
    جو ہاتھ میں ہو اسے چھوڑنے سے پہلے کسی نئے کی تلاش۔۔۔شروع ہو جاتی ہے کچھ ’نیا‘ ڈھونڈنے کی آرزو جنم لیتی ہے اور پھر نئے کے ساتھ جب ’نیا پن‘ ختم ہوتا ہے تو۔۔۔پتا چلتا ہے کہ کہ یہ بھی وہ نہیں جس کی مجھے تلاش تھی!
    حناء ۔

  • پاکستان میں کرپشن پر کیسے قابو پایا جا سکتا ہے .از قلم! صاحبزادہ ملک حسنین

    پاکستان میں کرپشن پر کیسے قابو پایا جا سکتا ہے .از قلم! صاحبزادہ ملک حسنین

    بدعنوانی کو بین الاقوامی طور پر انگریزی زبان کا لفظ کرپشن نہیں بولا جاتا ہے کرپشن ذاتی مفاد کے لئے اپنے اختیارات سے ناجائز فائدہ اٹھانے کا نام ہے دنیا کے ہر دور میں بیشتر ممالک میں اس کا وجود رہا ہے سیاسی اداروں کے علاوہ حکومتوں کے سربراہوں سے لے کر معمولی درجہ کے ملازم بھی اس میں ملوث پائے جاتے ہیں پرائیویٹ اداروں اور سرکاری مالیاتی اداروں میں بھی کرپشن پائی جاتی ہے
    سیاسی اداروں میں انتخابات کے موقع پر ووٹ خریدے جاتے ہیں اور اچھے عہدے دینے کے وعدے اور خصوصی مراعات کی پیشکش انتخابات کی آزادی میں مداخلت کرپشن کے زمرے میں آتے ہیں

    قانونی فیصلے کرنے والے اداروں میں بھی کرپشن عروج پر ہے وہ گفٹ کی صورت میں یا پیسے کی ادائیگی رشتہ داروں کی حمایت سماجی اثر و رسوخ آدمی عام آدمی کے حق کو ختم کر دیتے ہیں جس کو ہم سادہ زبان میں رشوت کہتے ہیں غریب کے بس کی تو بات نہیں ہے کہ وہ رشوت دے سکے لیکن پاکستان میں یہ چیز برعکس ہے امیر سے لے کر غریب تک رشوت کے دلدل میں پھنس چکے ہیں کسی بھی محکمے میں چلے جائیں رشوت کے بغیر کام نہیں ہوتا سرکاری واجبات کی ادائیگی نہ کرنا بھی کرپشن کے زمرے میں آتا ہے بینکوں سے قرضے لے کر معاف کروا لینا ٹیلی فون بجلی سوئی گیس اور پانی کے بلوں کی ادائیگی نہ کرنا ملک کی معیشت کو کمزور کرنا سیاسی کرپشن میں آتا ہے کرپشن نہ قابل علاج بیماری کی طرح انسانیت سے چمٹ گئی ہے اور اس کو روکنے کے لیے کئی دانشوروں اپنی توانائیاں صرف کر دی ہیں

    کرپشن روکنے کیلئے صرف اس کا ایک ہی طریقہ ہے وہ یہ کہ جو شخص کرپشن میں ملوث پایا جائے اس کو فورا برطرف کر دیا جائے اور تاحیات اس پر پابندی لگا دی جائے کہ وہ کسی بھی سرکاری یا نجی محکمہ میں کوئی نوکری یا کاروبار نہیں کر سکتا اس کی بنیادی وجہ یہ ہے اگر کسی کے بچے چند روپے کما کر آتے ہیں تو ان کے والدین یا ان کی بہن یا اگر وہ شادی شدہ ہے تو یہ سوال نہیں کرتے کہ یہ پیسے کہاں سے آئے ہیں اگر پاکستان میں ہر شخص اس عمل پر عمل پیرا ہو تو لوگوں میں خوف پیدا ہوگا کہ ہم نے گھر جا کر جواب دینا ہے کہ ہم کہاں سے پیسے کما کر لائے ہیں کس طریقے سے کما کر لائے ہیں تو اس میں یہ خوف پیدا ہو گا کہ میں نے کوئی غلط کام نہیں کرنا کیونکہ اگر میں کرتا ہوں تو مجھے اس کا جواب دینا پڑے گا وہ حلال رزق کمائے گا محنت کرے گا کیونکہ اس کو معلوم ہے کہ میں نے گھر جا کر جواب دینا ہے اب آتے ہیں گھریلو کرپشن کی طرف وہ یہ کہ اگر ہم بچے کو سو روپے دیتے ہیں اور اس میں سے 80 روپے کا سامان آتا ہے تو وہ بقیہ 20 روپے بچہ اپنی جیب میں رکھ لیتا ہے اور وہ گھر والوں کو واپس نہیں دیتا جب وہ سامان لے کر واپس گھر آتا ہے تو بتاتا ہے کہ سامان سو روپے کا آیا ہے بدقسمتی کی بات یہ ہے کہ والدین اس سے سوال نہیں کرتے کہ کونسی چیز کتنے کی آئی ہے کون سی چیز کتنے کی ہے حساب نہیں کرتے یہاں سے اس کی سوچ کرپشن کی طرف جاتی ہے اور کرپشن ایک ایسی دلدل ہے جو انسان کو تمام عمر نہیں چھوڑتی کرپشن صرف بچوں کی حد تک محدود نہیں ہے کرپشن ایک عالمی مسئلہ ہے میں پاکستان کی کرپشن پر بات اس لئے کر رہا ہوں کہ دنیا میں سب سے زیادہ اگر کرپٹ لوگ ہیں یا کرپٹ سیاست دان ہیں تو وہ پاکستان میں ہیں آپ کسی بھی محکمے میں نوکری کے لیے جاتے ہیں تو بغیر رشوت کے آپ کو وہ نوکری نہیں ملتی اور اس عمل سے کتنے غریب لوگوں کی عزت نفس مجروح ہوتی ہے اور وہ خود کشی کرنے پر مجبور ہوتے ہیں پاکستان میں کئی دہائیوں سے اس ناسوت بیماری نے اپنی جڑیں مضبوط کر رکھی ہیں جس کو اگر بیان کیا جائے تو لکھتے لکھتے ورک ختم ہو جائیں ایک طالب علم پڑھائی کرتا ہے اور جتنی محنت کرنے کا حق بنتا ہے اگر وہ پڑھائی میں اتنی محنت نہیں کرتا تو یہ بھی کرپشن کے زمرے میں آتا ہے بدقسمتی اور بدبختی اس ملک میں یہ ہے کہ آج کے اس پرفتن دور میں اگر کوئی شخص سرکاری یا نجی ہسپتال میں جاتا ہے کسی بھی ہنگامی صورت میں تو اس کو جلدی آپریشن کے لیے بھی رشوت دینی پڑتی ہے کتنی شرم کی بات ہے کہ وہ ملک جس میں آئین و قوانین رشوت لینے یا دینے کی صورت میں سزا کا حکم دیتا ہے اور دین اسلام بھی یہی حکم دیتا ہے لیکن بد قسمتی یہ ہے کہ اسی ملک میں سب سے زیادہ کرپشن ہوتی ہے پاکستان میں اگر سیاسی کرپشن ختم کر دی جائے تو تب بھی یہ ملک ترقی نہیں کر سکتا کیونکہ اس ملک میں ہر ایک محکمہ میں کرپشن نے اپنے پنجے گاڑ رکھے ہیں پر حیرانگی کی بات یہ ہے کہ اس ملک میں چند روپوں کے عوض تعلیمی ڈگری مل جاتی ہے اور آپ یہ بھی اندازہ کر لیں کہ جس ملک میں تعلیم پیسوں میں بکتی ہو وہ ملک تباہی کے کس قدر دہانے پر پہنچ چکا ہے اگر کرپشن حقیقت میں اس ملک سے ختم کرنی ہے اس کا صرف ایک ہی واحد طریقہ ہے جو چوری کرے اس کے ہاتھ کاٹ دیا جائے ہمارا دین اسلام بھی یہی حکم دیتا ہے لیکن بدقسمتی سے ہمارے جو ادارے ہیں جو کرپشن کے خلاف کاروائی کرتے ہیں سب سے زیادہ کرپشن انہی اداروں میں پائی جاتی ہے اللہ اللہ کر کے اگر کسی کو گرفتار بھی کیا جاتا ہے تو برائے نام میرے پاس الفاظ نہیں ہیں کہ میں بیان کر سکوں کے اس ملک میں کس کس ادارے میں اور کس کس جگہ کرپشن پائی جاتی ہے آخر میں اتنا ہی کہوں گا کہ اگر ہم اپنی ذات کا محاسبہ کرتے ہیں اور اپنے آپ کو درست سمت کی طرف گامزن کرتے ہیں تو اس سے کرپشن پر قابو پایا جاسکتا ہے "کیونکہ ہر فرد ہے ملت کے مقدر کا ستارہ”

  • جھوٹ ایک لعنت.تحریر: موسی حبیب راجہ

    جھوٹ ایک لعنت.تحریر: موسی حبیب راجہ

    جھوٹ اور سچ یہ عادتیں بچپن ہی سے سیکھائی جاتی ہے جب بچہ ماں کے پیٹ میں ہوتا ہے اس وقت ماں جو کرتی ہے بچے پر اس کے اثرات  ہوتے ہیں۔ ماں باپ جھوٹ کے عادی ہوں تو یقینا بجے بھی جھوٹ ہی بولیں گے۔ دیکھا جائے تو سچ یا جھوٹ، دھوکہ فریب  ہر قول و فعل ایک دوسرے کے اردگرد ہی گھومتے ہیں
    حدیث شریف کا مفہوم ہے تمام گناہوں کی جڑ جھوٹ ہے
    جھوٹ بول کر انسان دوسرے انسان کو چپ کروا سکتا یے
    دوسرے انسان کو دھوکہ دے سکتا ہے
    دوسرے انسان کو اپنی چیز بیچ سکتا ہے
    لیکن اللہ تعالٰی کے سامنے کیسے جھوٹ بولے گا
    قول و فعل میں تضاد بھی جھوٹ ہے
    اسلام ہی ایک سچا مذہب ہے اور سچائی میں آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی پیروی کرنی چاہیے۔ سچ وہی ہے جسے آپ صلی اللہ علیہ وسلم  نے سچ کہا اور جھوٹ وہی ہے جسے آپ صلی اللہ علیہ وسلم  نے جھوٹ کہا۔ سچ، نجات اور سکون کا باعث ہے اور جھوٹ، تباہی وبربادی کے سوا کچھ نہیں۔جھوٹ بولنا انسان کو دنیا و آخرت میں اللہ کی رحمت سے بھی محروم کردیتا ہے اور لوگوں کی نظروں میں اس کا اعتبار اور رتبہ ختم کردیتا ہے۔ اور انسان کو نا اتفاقی کے مرض میں مبتلا کردیتا ہے یہ زبان کی آفت اور ایمان کو مسمار کرنے کا  سبب بنتا ہے۔جھوٹ ہی تمام گناہوں کی جڑ ہے۔

     قرآن مجید میں اللہ تعالٰی کا ارشاد ہے
    ” جھوٹ افترا تو وہی باندھتے ہیں جنہیں اللہ کی آیتوں پر ایمان نہیں ہوتا۔ اور یہی لوگ جھوٹے ہیں”
    ( سوره النحل: 105)

    جھوٹ کے متعلق کچھ احادیث:-

       سچ اور جھوٹ کے متعلق رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک موقع پر فرمایا: ’’تم پر سچ بولنا لازم ہے، کیونکہ سچ بولنا نیکی کا راستہ دکھاتا ہے اور نیکی جنت کا راستہ دکھاتی ہے۔ اور انسان لگاتار سچ بولتا رہتا ہے اور سچ بولنے کی کوشش میں لگا رہتا ہے، یہاں تک کہ وہ اللہ کے ہاں سچا لکھ دیا جاتا ہے۔ اور تم لوگ جھوٹ بولنے سے بچو، کیونکہ جھوٹ برائی کا راستہ دکھاتا ہے اور برائی دوزخ کا راستہ دکھاتی ہے، اور انسان لگاتار جھوٹ بولتا رہتا ہے، جھوٹ بولنے کا متمنی رہتا ہے ، یہاں تک کہ وہ اللہ کے ہاں جھوٹا لکھ دیا جاتا ہے۔‘‘
    (صحیح مسلم: 6094)

       ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : منافق کی تین نشانیاں ہیں، جب بولتا ہے جھوٹ بولتا ہے، جب وعدہ کرتا ہے تو وعدہ خلافی کرتا ہے اور جب اسے امین بنایا جاتا ہے تو خیانت کرتا ہے۔“
    [صحيح بخاري حديث 6095]

    جھوٹ بولنے سے انسان دوسرے انسانوں کی نظر میں تو گرتا ہی ہے ساتھ میں اللہ تعالٰی کے ہاں بھی سخت عذاب کا مستحق بھی ہو جاتا ہے

    دنیا والوں سے تو جھوٹ بول کرنی چھپا سکتا ہے اللہ تعالٰی سے کیسے چھپائے گا
    انسان جب ایک جھوٹ بولتا ہے تو اس کو چھپانے کے لیے اس کو دس جھوٹ اور بولنے کرتے ہیں

    جھوٹ سے انسان اللہ تعالٰی کے ہاں بھی اور دنیا والوں کے ہاں بھی منہ دیکھانے لے قابل نہیں رہتا

    مل کر معاشرے سے جھوٹ جیسی لعنت کا خاتمہ کیا جا سکتا ہے

  • ماں باپ کی انا.تحریر: یاسر خان بلوچ

    ماں باپ کی انا.تحریر: یاسر خان بلوچ

    ہم نے دیکھا ہے کہ اکثر ماں باپ اپنی بیٹی کیلئے جاہل،گنوار،نکما اور فضول شخص سلیکٹ کر لیتے ہیں مگر ایک اچھا ویل ایجوکیٹڈ پرسن رشتہ لے آئے اورکہے کے میں آپکی بیٹی سے محبت کرتا ہوں تو وہ اسے ریجیکٹ کر دیتے ہیں بنا کسی جواز کے اور اپنی بیٹی سے پوچھنا تک گواراہ نہیں کرتے۔
    جبکہ ان کی اپنی بیٹی بھی اسے لائیک کرتی ہو وہ اپنی ہی اولاد کی پسند کو اپنی انا کا مسلۂ بنا لیتے ہیں کہ اس نے ہماری اجازت کے بنا باہر کیوں محبت کی؟
    جبکہ دوسری طرف اسلام نے اس بات کی مخالفت کی ہے آپؑ نے فرمایا کہ اگر آپ کے گھر کوئی رشتہ آتا ہے تو اپنی بیٹی یا بیٹے سے فیصلہ کرنے سے پہلے ضرور مشورہ کرو اور اسے فل اختیار دیں کہ وہ آزادانہ طور پر اس کے بارے میں فیصلہ کرے۔اگر اسے پسند ہو تو آپ بھی پسند کریں اور اگر اسے پسند نہ ہو تو اسے مجبور نہ کریں۔
    جبکہ ہمارے ہاں یہ بات دور دور تک عمل میں نہیں ہے۔پہلے تو کوئی اپنی بیٹی سے پوچھتا نہیں اور اگر کوئی دوسرا اسے اپنی اولاد سے مشورہ کرنے کا کہے تو اسے جواب دیتے ہیں ہمارا خون ہے ہمیں پتا ہے کہ ان کیلئے کیا برا ہے اور کیا اچھا، بھلا کوئی ماں باپ بھی اپنی اولاد کا برا چاہتا ہے اور ہمیں یقین ہے کہ ہماری بیٹی کو بھی ہماری پسند پر اعتراض نہیں ہوگا۔
    دوسری طرف اگر کوئی والدین اپنی بیٹی سے پوچھ لیں اور جواب میں اگر وہ اعتراض کر دے تو اسے اپنی انا بنا لیتے ہیں۔اور اس پر بدچلن کا ٹائیٹل لگا دیتے ہیں۔اس سے پورا گھر بلکہ پورا معاشرہ تک منہ موڑ لیتے ہیں۔اس بیچاری پر دباوٗ ڈالا جاتا ہے ہر کوئی اسے قائل کرنے کی کوشش کرتا ہے دوست،رشتہ دار اور گھر والے سب۔
    اگر والدین اپنی بیٹی سے پوچھیں اور بیٹی انکار کر دے اور والدین بیٹی کی مان لیں تو لوگ اس لڑکی پر طرح طرح کی باتیں کرتے ہیں اس پر گندے گندے الزام لگائے جاتے ہیں۔انجام یہ کہ اس کے والدین لوگوں کی باتوں میں آکر اپنی بیٹی کی نہیں سنتے اور بس یہ کہ دیتے بیٹا ہم مجبور تھے۔

    اپنی بیٹی کی زرا سی تکلیف پر تڑپ اُٹھنے والے بھی ایسے موقع پر ٹھنڈے پڑ جاتے ہیں اور اپنی عزت لے کے بیٹھ جاتے۔
    المیہ یہ کہ وہ اپنی بیٹی کی پسند کو قتل کر دیتے اور وہ بھی بے دردی سے، اور اگر ان کا یہ فیصلہ غلط ہو جائے تو کہا جاتا ہے کہ بس نصیب!! اس کے نصیب میں ایسے تھا۔
    ہم اپنے رسم و رواج کی وجہ سے اپنی بیٹیوں کی زندگیاں برباد کرتے ہیں۔اسی رسم و رواج کی وجہ سے بعض لڑکیاں گھر کی دہلیز پار کر جاتی ہیں وہ اپنے والدین کو نہیں بتا سکتی کہ انہیں فلاں شخص سے محبت ہے کیونکہ انہیں یقین ہوتا ہے کہ ان کے والدین اس کی پسند کو قبول نہیں کریں گے۔بعض اوقات لڑکیوں کا گھر سے قدم اُٹھانے کی وجہ ان کے گھر کا ماحول ہوتا ہے کہ اس کی اتنی ہمت نہیں ہوتی کہ وہ اپنے دل کی بات اپنے گھر والوں کو کھل کر کہ سکے۔کیونکہ ان کو ڈر ہوتا کہ کہیں ان کی جان نہ لیں لے۔

    بیٹی کا گھر کی دہلیز پار کرنے سے بہتر ہے کہ وہ اپنے ماں باپ کو کھل کر سب بتا دے کہ اسے فلاں شخص سے محبت ہے۔اسے کسی سے نہیں ڈرنا چاہیے کسی بھی قیمت پر اسے بتا دینا چاہیے۔ اور والدین کو چاہیے کہ وہ اپنی بیٹی کی بات سنیں اور اس شخص کے بارے میں تصدیق کریں اگر اچھا لگے تو ٹھیک نہیں تو بیٹی کو آگاہ کریں نا کہ اسے اپنی انا کا مسلۂ بنا ئیں۔
    اور خدارا اپنی بیٹیوں کے ساتھ ایسا تعلق رکھیں کہ وہ اپنے بارے کوئی بھی فیصلہ لینے لگے تو آپ کو بتائے اور اسے یقین ہو آپ اس کی بات سنیں گے اور اسے اپنی انا کا مسلۂ نہیں بنائے گے۔

  • منشیات کا  رجحان . تحریر: محمد جاوید

    منشیات کا رجحان . تحریر: محمد جاوید

    ہمارے معاشرے میں منشیات کا بڑھتا ہوا رجحان اور نفسیاتی مسائل کسی سنگین خطرے سے خالی نہیں.ہر روز ہم اخبارت اور شوشل میڈیا پر اس طرح کی کئی خبریں دیکھتے اور سنتے ہیں۔ منشیات کا نشہ ایک ایسی لعنت ہے جو سکون کے دھوکے سے شروع ہوتی ہے اور زندگی کی بربادی پر ختم ہوجاتی ہے۔ منشیات کی لعنت صرف ہائیر تعلیمی اداروں اور ہائیر سوسائٹی میں ہی نہیں بلکہ جگہ جگہ ایک فیشن کے طور پر سامنے آرہی ہے۔گاؤں کھیڑے کے بچے بھی اس سے محفوظ نہیں ہیں۔ جس کے انتہائی مضر اثرات نمایاں نظر آرہے ہیں ۔ راہ چلتے چھوٹے بچے بھی سگریٹ کا دھواں اڑاتے دیکھائی دیتے ہیں۔
    اکثر بچے اور نوجوان والدین کی غفلت اور ان کے رویہ کی وجہ سے نشے کی عادت کا شکار ہو جاتے ہیں۔ والدین اپنی مصروف زندگی میں سے کچھ وقت اپنے بچوں کو بھی دیں۔ انہیں معلوم ہونا چاہیے کہ وہ کیا کرتے ہیں۔۔۔کہاں جاتے کس سے ملتے ہیں۔ بعض مرتبہ تو غلط صحبت ملنے سے نشے کے عادی ہوجاتے ہیں۔کئی اپنے مسائل سے ڈر کر اور کئی حقیقت سے فرار حاصل کرنے کے لئے بھی نشہ کا سہارا لیتے ہیں ۔ہم دیکھتے ہیں کہ یہ نوجوان نسل فیشن کے طور پر سگریٹ یا دیگر نشہ آور چیزوں کا استعمال شروع کرتی ہے پھر یہ فیشن یہ شوق وقت کے ساتھ ساتھ ضرورت بن جاتا ہے اور اس طرح وہ شخص مکمل طور پر نشے کاعادی بن جاتا ہے۔ اورپھر اس کے دل و دماغ کو مکمل تباہ و برباد کردیتا ہے ۔ پھروہ شخص ہر وقت نشے میں مدمست رہتا ہے۔ اور اس کو پورا کرنے کے لئے ہر وہ غلط کام کرنے لگتا ہے جہاں سے پیسے حاصل کرسکے۔ اور اس طرح اچھا بھلا تندرست صحت مند انسان اپنی زندگی کو تباہی کی دہلیز پر لا کر کھڑا کرتا ہے ۔
    پوری دنیا منشیات کے خوفناک زہر کے حصار میں ہے۔ نئی نسل اپنے تابناک مستقبل سے لا پرواہ ہوکر تیزی کے ساتھ اس زہر کو مٹھائی سمجھ رہی ہے۔ اور کھائے جارہی ہے۔سگریٹ اور شراب پیتے ہوئے لوگوں کو دوستوں کو دیکھ کر دل مچل جاتا ہے۔جو نوجوان نسل کو تباہ کر رہا ہے ان کی زندگی کو اندھیرے میں ڈال کر ان کی جوانی کو آہستہ آہستہ کھوکھلا کر رہا ہے۔
    منشیات کی عادت ایک خطرناک مرض ہے۔ یہ خود انسان کو اور اس کے گھربار کو معاشرے اور پورے ملک و قوم کو تباہ کر دیتا ہے۔ اگر ایک بار کوئی نشہ کرنے کا عادی ہوجائے تو وہ پھنستا ہی جاتا ہے۔اور پھنسے کے بعد اس کے مضر اثرات کا انہیں ادراک ہوتا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ آج پوری دنیا میں اس کے خلاف آواز اٹھائی جاری ہے، لیکن اس کے باوجود اس میں دن بہ دن اضافہ ہوتا چلا جا رہا ہے۔ آخر کیوں؟؟؟

    منشیات ایک ایسا میٹھا زہر ہے جو انسان کو دنیاو آخرت سے بیگانہ کر دیتا ہے۔ اس کو استعمال کرنے و الا ہر شخص حقیقت سے فرار حاصل کرتا ہے اور خیالوں میں بھٹکتا ہے۔منشیات کا نشہ پہلے پہل ایک شوق ہوتا ہے پھر آہستہ آہستہ ضرورت بن جاتا ہے۔ نشےکا عادی شخص درد ناک کرب میں لمحہ لمحہ مرتا ہے۔ اس کی موت صرف اس کی نہیں ہوتی بلکہ اس کی خوشیوں کی خواہشات کی تمناؤں کی بھی موت ہوتی ہے۔کوئی اگر نشہ کرنا شروع کرتا ہے تو اس کے پیچھے کوئی نہ کوئی وجہ، کوئی واقعہ، مایوسی، محرومی اور ناکامی کا کوئی پہلو ہوتا ہوگا۔پر انسان یہ کیوں نہیں سوچتا کہ مایوسی اور ناکامی کا علاج صرف نشہ کرنا نہیں۔ بلکہ نشہ انسان کی صحت کے لیے زہر ہے۔ آج کل نئے نئے فلیور میں نشہ آور چیزیں دستیاب ہوتی ہیں۔لیکن یہ نشہ انسان کی صحت خراب کرنے کے ساتھ ذہنی طور پر مفلوج کر دیتا ہے۔نشہ بیچنے والے دلال، لوگوں سے، قوم سے، نئی نسل سے پیسے بٹور کر ان کو تباہی کی طرف ڈھکیل دیتے ہیں۔ نسلیں تباہ ہو رہی ہے ہو جائے اُن کی بلا سے انہیں تو صرف نوٹ بٹورنے ہیں۔
    کسی بھی قوم کے لیے اصل قوت اِن کے نوجوان ہوتے ہیں۔ نئی نسل کا جذبہ ہی کسی بھی قوم کو بھرپور ترقی سے ہم کنار کرتا ہے۔ کسی بھی ملک میں نئی نسل کو ملک کی بہتر خدمت کے لیے بھرپور انداز سے تیار کرنے پر توجہ دی جاتی ہے۔صرف معاشی ترقی کے لئے ہی ضروری نہیں ہوا کرتی بلکہ ملک کے دفاع میں بھی اس کا بھرپور کردار ہوتا ہے۔ یہ نوجوان ہی ہیں جو سرحدوں پر رات دن جاگ کر ملک کو دشمنوں سے بچاتے ہیں۔ ملک کی آزادی اور خود مختاری کا حقیقی تحفظ نئی نسل ہی کی بدولت ممکن ہو پاتا ہے۔ اگر نئی نسل متحد اور چوکس ہو تو دشمن اپنے ناپاک عزائم کو عملی جامہ کسی بھی طور نہیں پہنا سکتا.

    لیکن آج نشے کے تاجروں کے ذریعے نئی نسل کو مختلف نشوں کی عادت میں مبتلا کرنا اپنا ہدف بنا رکھا ہے۔کسی ملک کی نئی نسل منشیات کی عادی ہوجائے نتائج انتہائی خطرناک ہوجاتے ہیں۔
    ایک طرف تو دنیا بھر میں منشیات کے خلاف بھرپور مہم چلائی جارہی ہے اور کوشش کی جارہی ہے کہ دنیا کو ہر طرح کی منشیات سے بالکل پاک کرکے نوجوانوں کو مکمل تباہی سے بچایا جائے اور دوسری طرف منشیات کا مافیا نئی نسل کو تباہ کرنے کے درپے ہے اور یہ منشیات کی غیر قانونی تجارت سے کروڑوں کماتے ہیں۔ نوجوانوں کو ہیروئن، کوکین، چرس، گانجا، افیم اور نہ جانے کتنے طرح کے نشے میں مبتلا کرنے کی بھرپور کوشش کر رہے ہیں۔اور نئی نسل کا منشیات کی لَت میں مبتلا ہونا انتہائی خطرناک ہے کیونکہ اس کے نتیجے میں آگے چل کر ملک کو افرادی قوت کی شدید قلت کا سامنا ہوسکتا ہے۔اور سوال صرف معاشی نقصان کا نہیں ہے بلکہ نئی نسل کو منشیات کی لت میں مبتلا کرکے کسی کام کا نہ رہنے دیا جائے۔ جب نئی نسل منشیات کی عادی ہوگی تو معاشرتی خرابیاں بھی پیدا ہوں گی اور اس کے نتیجے میں پورے معاشرے میں بگاڑ پھیلے گا۔معاشرے کی بنیاد ہلانے میں اور نئی نسل کو تباہ و برباد کرنے میں کوئی کسر باقی نہیں رکھی۔

  • چوراہے میں پڑا نشئی. تحریر:بشارت محمود رانا

    چوراہے میں پڑا نشئی. تحریر:بشارت محمود رانا

    انسانی معاشرتی بگاڑ میں جہاں اور بہت سی بُرائیوں کو مؤردِ اِلزام ٹھرایا جاتا ہے اُن میں سے ایک بہت بڑی بُرائی اور لعنت مختلف اقسام کی منشیات بھی ہیں جو انسانی معاشرے میں پھیلی ہوئی ہیں یا پھر پھیلائی گئی ہے۔

    آج میں اپنے پیارے ملک پاکستان کا ایک ذمہ دار شہری ہونے کے ناطے اِس برائی کے خلاف آواز اُٹھانے کی اپنے تائیں بھرپور کوشش کروں گا۔

    اِس سے پہلے اسی ذمہ داری کو نبھانے کی کوشش کرتے ہوئے میں یہاں ایک بات کا ذکر بھی کرنا چاہوں گا کہ 20 جون 2021 کو میں نے اپنے ٹویٹر اکاونٹ پہ تھریڈ کی صورت میں “ نشہ ایک لعنت ہے” کے عنوان سے ایک ٹویٹ بھی کی تھی، جس میں میں نے وزیراعظم پاکستان جناب عمران خان صاحب، اینٹی نارکوٹکس کنٹرول کی وفاقی منسٹری اور اینٹی ناکوٹکس فورس پاکستان کے آفیشل ہینڈلز کو بھی مینشن کرتے ہوئے اِس برائی کے خلاف کاروائی کرنے اور جو کوئی بھی منشیات کی خرید و فروخت کا کاروبار کرتے ہیں اُن کے خلاف سخت سزاوں کے قوانین بھی بنائے جانے کی درخواست کی تھی۔

    اور اس کے ساتھ ساتھ ٹویٹر پہ موجود بڑی ٹرینڈنگ ٹیمز کے ہیڈز کو بھی ہینڈل کے ساتھ مینشن کر کے ٹرینڈ کی صورت میں اس کے خلاف آواز اٹھانے کی درخواست بھی کی تھی تا کہ اربابِ اختیار تک آواز پہنچ سکے، جس کے بعد اِن میں سے کچھ مینشنڈ ٹیمز کی جانب سے 26 جون 2021 کو منشیات کے عالمی دن کے موقع پر ” #نشہایکلعنت ” کے نام سے ٹرینڈ بھی لانچ کیا گیا تھا، جو تقریباً دو دن تک پینل پہ موجود رہا۔ جس میں، میں نے بھی بھرپور حصہ لیا تھا۔ اُن ٹیمز اور اُس ٹرینڈ میں شامل ہونے والے سبھی عزیزان کا شکریہ

    تو اب معاشرے کے اِس ناسور کے خلاف آواز اٹھاتے ہوئے بات کو آگے بڑھاتے ہیں کہ

    بلاشبہ! نشہ خواہ وہ کسی بھی قسم کا ہو، جس سے انسان مدہوشی یا مستی سی کے عالم میں چلا جائے، وہ بہت سے نقصانات کا باعث ہو سکتا ہے۔ کیونکہ انسان جب نشے کی حالت میں ہو تب وہ خود پہ اپنا کنٹرول کھو بیٹھتا ہے اور پھر اِس عالمِ مدہوشی کی وجہ سے اِس کا بہت ساری دوسری معاشرتی برائیوں اور گناہوں میں پڑ جانا معمولی سی بات ہو سکتی ہے۔

    اگر آپ اپنے ارد گرد نظر دوڑائیں تو تقریباً پاکستان کے ہر شہر میں آپ کو فٹ پاتھوں، چوکوں، چوراہوں، پارکوں اور بہت سی جگہوں پہ ایسے نشئی نشے میں دُھت لوگ گرے، پڑے، بیٹھے اور نشہ کرتے ہوئے نظر آئیں گے اور اکثر اوقات تو عام شہری بھی اِن کی وجہ سے پریشان ہوتے نظر آتے ہیں لیکن! اِن نشئیوں کو کوئی پوچھنے والا نہیں ہوتا۔ نہ تو پولیس ہی انہیں کچھ کہتی ہے، نہ ہی کوئی اور ادارہ۔

    اور ایسے گِرے پڑے ہوئے یہ نشئی دِکھنے میں بھی کے لئے بھی عجب منظر پیش کر رہے ہوتے ہیں۔ لہذا اس کا سدباب بھی بہت ضروری ہے۔
    اور اِس میں ذرّا برابر بھی کوئی شک نہیں کہ اِس منشیات کو بیچنے کے کاروبار میں بھی بھاری منافع کمایا جاتا ہے۔ جِس میں بلاشبہ بیک ڈور پہ بڑے بڑے سیاسی کردار اور سرکاری محکموں میں موجود بہت ساری کالی بھیڑیں بھی ملوث ہوتی ہیں۔ جو اِس جان لیوا اور حرام دھندے میں صرف پیسوں کی خاطر لوگوں کی زندگیوں سے کھیل رہے ہوتے ہیں۔ اور یہی نہیں بلکہ اگر کوئی ان کے بارے شکایت کرے تو نہ صرف اُنہیں ڈراتے دھمکاتے ہیں بلکہ جہاں ضرورت پڑے ہر قسم کی طاقت کا بھی استعمال کرتے ہیں۔

    جو کہ معذرت کے ساتھ ہمارے معاشرے کی چند تلخ حقیقتوں میں سے ایک ہے اور یہ بدعنوان لوگ نا صرف ہمارے پیارے ملک پاکستان کے ساتھ دشمنی کرتے ہیں بلکہ اِس ملک کے عوام کے ساتھ بھی بہت بڑا ظلم اور ذیادتی کرتے ہیں۔

    اور یہ منشیات کا کاروبار اور نشہ ایک ایسی حرام لعنت ہے جس کے حرام ہونے کا ذکر خود اللہ تعالی نے بھی قرآنِ مجید میں کیا ہے جن میں سے چند آیات پیشِ خدمت ہیں کہ

    يَا أَيُّهَا الَّذِينَ آمَنُوا إِنَّمَا الْخَمْرُ وَالْمَيْسِرُ وَالْأَنصَابُ وَالْأَزْلَامُ رِجْسٌ مِّنْ عَمَلِ الشَّيْطَانِ فَاجْتَنِبُوهُ لَعَلَّكُمْ تُفْلِحُونَ: سورة المائدہ آیت نمبر90
    ترجمہ: اے ایمان والو! شراب اور جوا اور بت اور پاسے (یہ سب) ناپاک کام اعمال شیطان سے ہیں سو ان سے بچے رہنا تاکہ نجات پاؤ۔

    يَسْأَلُونَكَ عَنِ الْخَمْرِ وَالْمَيْسِرِ ۖ قُلْ فِيهِمَا إِثْمٌ كَبِيرٌ وَمَنَافِعُ لِلنَّاسِ وَإِثْمُهُمَا أَكْبَرُ مِن نَّفْعِهِمَا ۗ وَيَسْأَلُونَكَ مَاذَا يُنفِقُونَ قُلِ الْعَفْوَ ۗ كَذَٰلِكَ يُبَيِّنُ اللَّهُ لَكُمُ الْآيَاتِ لَعَلَّكُمْ تَتَفَكَّرُونَ: سورة البقرہ آیت نمبر219
    ترجمہ: (اے پیغمبر) لوگ تم سے شراب اور جوئے کا حکم دریافت کرتے ہیں۔ کہہ دو کہ ان میں نقصان بڑے ہیں اور لوگوں کے لئے کچھ فائدے بھی ہیں مگر ان کے نقصان فائدوں سے کہیں زیادہ ہیں اور یہ بھی تم سے پوچھتے ہیں کہ (خدا کی راہ میں) کون سا مال خرچ کریں۔ کہہ دو کہ جو ضرورت سے زیادہ ہو۔ اس طرح خدا تمہارے لئے اپنے احکام کھول کھول کر بیان فرماتا ہے تاکہ تم سوچو۔

    تو اس طرح ہمیں بطور مسلمان بھی اِن قرآنی احکامات کو دیکھتے ہوئے منشیات کے استعمال اور اِن کے کاروبار کو بھی حرام جانتے ہوئے اِس سے جتنا ہو سکے بچنا چاہیے اور جہاں تک ممکن ہو سکے اس کے خلاف کھڑے بھی ہونا چاہیے۔

    اب میں اِن منشیات کے استعمال سے ہمارے معاشرے پہ پڑنے والے بُرے اثرات کا ذکر کروں گا وہ یہ کہ

    اگر ہم اپنے معاشرے میں اپنے اِرد گرد نظر دوڑائیں تو ہمیں بہت ساری ایسی مثالیں دیکھنے کو مِلتی ہیں جن میں زیادہ تر افراد جو کسی بھی قسم کے نشے میں مبتلا ہو جائیں، وہ سب سے پہلے اپنے گھر والوں کیلئے ہی وبالِ جان بنتے ہیں پھر اپنے گلی محلے والوں کے لئے اور پھر اپنے گاؤں، قصبے یا پھر ٹاؤن کے لئے اور پھر ان میں سے کچھ تو شہر کی سطح تک لوگوں کیلئے مصیبت کا باعث بنتے ہیں۔

    جیسے کہ پہلے پہل یہ نشے کے عادی لوگ اپنا نشہ پورا کرنے کے لئے کسی نہ کسی بہانے سے اپنے گھر والوں سے پیسوں کا انتظام کرتے ہیں۔ پھر جب کام ایسے نکلنا بند ہو جائے تو گھر والوں سے پیسوں کے لئے لڑائی کرنا بھی اِن کا معمول بن جاتا ہے۔

    اور پھر انہیں اپنا نشہ پورا کرنے کے لئے آہستہ آہستہ اپنے ہی گھر سے پیسے چُرانے کی عادت پڑنا شروع ہو جاتی ہے، پھر اپنے گھر سے چیزیں چوری کر کے بیچنا اور اپنا نشہ پورا کرنا اور کبھی گھر والوں سے لڑائیاں، کبھی کسی سے مار پیٹ کرنا، اِن کا معمول بن جاتا ہے۔ اور یہ وقت ہوتا ہے جب ان کے گھر والے ان سے تنگ آ کر انہیں گھر سے نکال دینا ہی بہتر سمجھتے ہیں۔

    لیکن! تب تک اِن نشئیوں کو اس قدر نشے کی لَت لگ چکی ہوتی ہے کہ مر جانا بہتر سمجھتے ہیں مگر! اپنا نشہ کرنا نہیں چھوڑ سکتے اور پھر یہ اپنا نشہ پورا کرنے کے لئے گلی محلوں میں چوریاں کرنا اور آہستہ آہستہ بڑے بڑے ڈاکے مارنے میں بھی ملوث پائے جاتے ہیں۔ پھر اِن چوریوں اور ڈکیتیوں کے بعد یہ نشے میں عقل سے عاری لوگ بچوں اور بچیوں کو اغوا، زنا باالجبر جیسے واقعات میں بھی ملوث پائے جانے لگ جاتے ہیں۔

    الغرض! معاشرے میں پائی جانے والی ہر برائی میں ایسے لوگوں کی شمولیت عام ہو جاتی ہے۔

    اور اب آخر میں! میں گورنمنٹ آف پاکستان، صدرِ مملکت، وزیراعظم پاکستان اور باقی تمام اربابِ اختیار سے مؤدبانہ گزارش کروں گا کہ اس گمبھیر مسئلے کا لازم کوئی مستقل سدِباب کیا جائے اور منشیات کے عادی لوگوں کا اس نشے سے نجات کے لئے ان کے علاج کا کوئی مستقل انتظام اور ان منشیات کی خرید و فروخت کرنے والوں کے خلاف سخت سے سخت سزائیں اور قوانین بنائے جائیں تا کہ ہمارے معاشرے میں برائیوں کا خاتمہ ممکن ہو سکے اور ہم بطور پاکستانی ایک عزت دار قوم کے طور پر دنیا میں اپنا اعلی مقام حاصل کر سکیں۔

    واخر دعونا أن الحمدلله رب العالمين

    دُعاؤں میں یاد رکھیے گا۔ شکریہ

  • مڈل کلاس پاکستانی کی زندگی، تحریر: عنقودہ

    مڈل کلاس پاکستانی کی زندگی، تحریر: عنقودہ

    ‏آپ گاڑی کسی مکینک کی ورکشاپ پر کھڑی کرجاتے ہیں لیکن باقی وقت اسی غم میں گذرجاتا ہے کہ پتہ نہیں وہ انجن کی اوورہالنگ کے 40000 میں سے کتنے پیسے لگائے گا اور کتنے اپنی جیب میں ڈالے گا، کمپوننٹ اوریجنل ڈالے گا یا نقلی کوالٹی کے ڈالے گا، سامان پرانا ڈال دے گا، یا ڈالے گا ہی نہیں۔۔
    آپ گاڑی کسی رشتہ دار کے گھر کے ساتھ گلی میں کھڑی کرجاتے ہیں لیکن ساری رات اسی ٹینشن میں گذرجاتی ہے کہ پتہ نہیں کوئ اڑا ہی نہ لے جائے، کوئ ٹائر ہی نہ کھول لے جائے۔۔
    کسی الیکٹرانک شاپ سے کوئ چیز خریدتے وقت اچھی اور بری کوالٹی کا سیاپا ہی رہتا ہے…
    شوز کی کسی شاپ سے بھی اچھے اور برے مال پر تول مول چلتا رہتا ہے…
    کپڑے لیتے وقت دکان دار سے صرف اس غرض سے دوستی بڑھائ جاتی ہے کہ کہیں وہ خراب کوالٹی کا کپڑا اچھی کوالٹی کا بول کے نہ دے دے۔۔ اس سے خوامخواہ میں ڈاک خانہ ملایا جاتا ہے، یہ باور کرایا جاتا ہے کہ ہم پہلے بھی آپکی شاپ سے اتنا کپڑے لے کر گئے ہیں ، اگلی بار اور گاہک بھی لائیں گے لیکن پلیز ہمیں کپڑ ا اچھی کوالٹی کا دینا اور پیسے بھی کم لگانا۔۔۔۔
    رشتہ لیتے وقت بھی یہی ٹینشن رہتی ہے کہ پتہ نہی دوسرا فریق کتنی غلط بیانیاں کررہا ہوگا۔ لڑکی کیسی ہوگا، لڑکا کیسا ہوگا، نشہ تو نہیں کرتا۔۔ کاروبار کیا ہے؟ پہلے سے شادی شدہ تو نہیں؟ وغیرہ وغیرہ

    کہیں پلاٹ لے لیا تو اسکی ہزار دفعہ چھان بین کریں گے۔۔ سب یہی مشورہ دیں گے کہ جلدی سے پلاٹ کی نشانیاں لگا لو, چاردیواری پھیر لو ایسا نہ ہو کہ کوئ قبضہ ہی کرلے.
    مکان کرائے پر دیتے وقت کرائے دار سے بھی یہی مطالبہ ریتا ہے کہ بھائ وقت پر خالی کردینا اور قبضہ نہ کرلینا..
    مکان بنواتے وقت ہر وقت ٹھیکے دار کے سر پر کھڑا رہنا پڑتا ہے ورنہ یہی پریشانی رہتی ہے کہ پتہ نہیں وہ میٹریل کس کوالٹی کا استعمال کرتا ہوگا. شارٹ کٹ تو نہیں لے رہا..
    کوئ قریبی جاننے والا پیسے مانگ لے تو آپ پیسے ہوتے ہوئے بھی اس سے جان چھڑالیتے ہیں کیونکہ آپ کو یہی خدشہ ہوتا ہے کہ یہ میرا پچاس ہزار اگلے پانچ سالوں میں بھی نہیں لوٹائے گا، اسکے پیچھے ذلیل ہونا پڑے گا۔۔ 50 ہزار کے وہ پچاس ٹکڑے کرکے واپس کرے گا، چونیاں اٹھنیاں آپکے کام کے کسی کام نہ آئیں گی ۔۔
    ریڑھی والے کے سر پر بھی کھڑے ہوجاؤ کہ ٹماٹر اچھے ڈالنا لیکن وہ پھر بھی ڈنڈی مارجائے گا..
    قصائ سے گوشت لیتے وقت بار بار زبان ہونٹوں پر پھیری جاتی ہے کہ پتہ نہیں یہ گوشت بکرے کا ہے یا گدھے گا….
    بازار میں جاؤ تو ایک ہاتھ جیب پرہی رہتا ہے کہ کہیں کوئ پاکٹ نہ مارلے۔۔۔

    ٹرین میں سفر کررہے ہیں تو سامان پر نظر رکھنے کے لیے ایک بندے کو جاگ کر رہنا پڑتا ہے. ۔۔
    تھانے، کچہری کا چکر خدا کسی کو نہ لگوائے اور کوئ تھانے کچہری کے چکر میں پڑہی گیا تو بے گناہ ، مظلوم اور مدعی ہونے کے باوجود عزت بھی جاتی ہے، پیسہ بھی جاتا ہے اور وقت بھی۔۔
    آپ جس جس شعبہ زندگی پر نظر ڈالتے جائیں یہی کہانیاں ملیں گی.. میں یہ نہیں کہتی کہ سب لوگ ایک جسے ہیں لیکن یہ تناسب 80 اور 20 کا رہتا ہی ہے
    ایک مڈل کلاس اور لوئر مڈل کلاس پاکستانی اس چکی میں ہمشہ پستا ہی رہتا ہے
    ہمارا مجموعی معاشرہ بھی اسی منافقت. مفاد پرستی. لالچ ,جھوٹ اور بے حسی پر مشتمل ہے جبکہ ہر دوسرا آدمی ان باتوں کا گلہ بھی کرتا ہے اور خود ہی ا ن خرابیوں میں حصہ دار بھی ہوتا ہے۔“

  • حسد اور انسانی رویے .تحریر  :  ریحانہ  بی بی

    حسد اور انسانی رویے .تحریر : ریحانہ بی بی

    رویے کا تعلق نفسیات سے ہے اور علم نفسیات کے مطابق رویے سے مُراد انسان کی شخصیت کاایسا گہرا عنصر ہے جو خاص طور پر سوچنے, محسوس کرنے اور اس پر عمل کرنے پر آ مادہ ہوتا ہے تو یہ اسکا رویہ کہلاتا ہے.

    حسد :
    دوسرے کی اچھی قسمت کی وجہ سے تکلیف ہو یا اسکے اچھے کاموں سے جلن ہو, اسے حسد کہہ سکتے…
    حسد کے معنی ہے کسی دوسرے شخص کی نعمت یا خوبی کا زوال چاہنا یا اسکے نقصان کے درپے ہونا.
    کسی کی ترقی سے دل میں گھٹن محسوس ہونا اور ناخوش ہونا وغیرہ یا اسکا زوال چاہنا…
    حسد کا بنیادی سبب تو یہی ہے کہ حاسد اس نعمت سے محروم ہے جو دوسرے کو مل گئی ہے.

    اب آ تے ہیں حسد اور انسانی رویوں پر
    موجودہ دور میں لوگوں کو دیکھ کر یہ اندازہ ہوتا ہے کہ زیادہ تر کے رویے منفی ہیں اور اکثر لوگ منفی سوچ کے ساتھ زندگی گزارتے ہیں اور اسی منفی سوچ اور رویے کی وجہ سے ایسے لوگوں سے دوسروں کی کامیابی برداشت نہیں ہوتی اور برداشت نہ ہونے کی صورت میں نوبت حسد تک پہنچ جاتی ہے.

    مزے کی بات ہے کہ بظاہر ایسے لوگوں کا رویہ دوستانہ اور ہمدردانہ ہوتا ہے. جب ان سے کوئی اپنی کامیابی کا ذکر کرتا ہے تو ظاہری طور پر اسکا دل رکھنے کے لئے بہت خوشی کا اظہار بھی کرتے ہیں لیکن باطنی طور پر جلن محسوس کرتے ہیں.
    یاد رکھیں دوسروں کی خوشی میں خوش رہنا سیکھنا ہوگا ورنہ حسد دشمنی اور دشمنی فساد کی طرف لے جاسکتی ہے. جس سے نہ صرف گھر بلکہ معاشرے میں بھی بگاڑ پیدا ہوسکتا ہے. اور حسد آ خرت میں اللہ کی ناراضگی کا موجب ہے.
    اللہ تعالیٰ اپنی حکمت کے پیش نظر کسی ایک کو نعمت عطا کرتا ہے تو دوسرے کو وہ نعمت عطا نہیں کرتا. ایسی صورت میں اللہ قرآن پاک کی سورۃ النساء میں فرماتا ہے.. اور اس فضیلت کی تمنا نہ کرو جو اللہ نے تم میں سے بعض کو بعض پر دی ہے.

    سورۃ الفلق میں ہے کہ, میں اپنے پروردگار سے پناہ مانگتا ہوں خاص کر حاسد کے شر اور بُرائی سے جب وہ حسد کرنے لگے.
    رسول پاک ص نے حسد سے بچنے کیلئے یوں تلقین فرمائی
    حسد کرنے سے بچو کیونکہ حسد نیکیوں کو ایسے کھا جاتا ہے جیسے آ گ لکڑی کو کھا جاتی ہے.
    اگر ہم قرآن و سیرت نبوی اور صوفیاء کے حالات زندگی پڑھیں تو یقیناً یہ مرض ختم ہوجائے گا.
    اس بات پ پختہ یقین کرلیں کہ نعمتیں عطا کرنے والی ذات صرف اللہ کی ہے جو اپنے بندوں کو نعمتوں سے نوازتی ہے. بندہ مومن ہونے کے ناطے ہمیں اللہ کے فیصلے اور تقسیم پر راضی ہونا چاہیے.
    کسی کی کامیابی پر یا اسکی اس نعمت پر ( جو اللہ نے عطا کی) دل سے اسی طرح خوشی کا اظہار کریں جیسے بظاہر آ پ ان سے دوستانہ رویے سے کرتے ہیں.
    رویے میں منافقت تو نہ کریں, بظاہر اچھا رویہ اور اندر سے اسکی نعمت کے زوال کی خواہش….
    یہ منافقت آ پ اپنے ساتھ کرکے کسی اور کا نقصان کریں نہ کریں مگر اپنا ضرور کردیں گے کیونکہ حاسد سکون اور قناعت کی دولت سے محروم رہتا ہے. اپنے حسد کی بھڑکتی آ گ میں جلتا رہتا ہے اور مایوسی اسکا مقدر بن جاتی ہے.
    اس لئے اپنی سوچ مثبت رکھئیے. جب آ پکی سوچ مثبت ہوگی آ پکے رویے اچھے ہونگے ( ظاہری اور باطنی دونوں)
    یاد رکھیں رویے انسانوں کی پہچان ہوتے ہیں اور مثبت رویوں سے ہی مثبت تبدیلی آتی ہے.