Baaghi TV

Category: معاشرہ و ثقافت

  • حسیات کی انسانی زندگی  میں اہمیت .تحریر: عترت آبیار

    حسیات کی انسانی زندگی میں اہمیت .تحریر: عترت آبیار

    ‏انسان نے دنیا میں آنکھ کھولی تو سب سے زیادہ آنکھ اور زبان کا استعمال کیا . ارتقا۶ کے ماہرین کے مطابق جنگلی زندگی نے انسانی جسم میں بے پناہ تبدیلیاں کیں .مرد نے شکار کے لیۓ دور دراز جانا شروع کیا تو عورت نے زراعت کے ذریعے اپنی گزر بسر اور تنہاٸ ختم کرنے کے لیۓ سبزیاں اور پالتو ‏جانور اور پرندے پالنا شروع کر دیے اور یوں عورت گھر اور گھر کی حفاظت تک محدود ہوگٸ جبکہ مرد کے لیۓ باہر کی دنیا کے راستے کھلتے چلے گیۓ اس نظریہ میں کتنی حقیقت اور کتنا فسانہ ہے یہ تو وقت کے ساتھ واضح ہوتا جائے گا مگر ایک بات میں حقیقت ضرور محسوس ہوتی ہے کہ جنگل کی زندگی میں جہاں ‏ہر طرف جنگلی جانور اور درندے انسان کے ساتھ بستے تھے آخر انسان حفاظت کے لیۓ کون سے طریقہ اپناتا ہوگا؟ آنکھیں ایک خاص حد سے آگے کام کرنا چھوڑ دیتی تھیں اور ہاتھ سے صرف قریب کی چیزوں کو محسوس کیا جاسکتا تھا .

    اس صورت میں وہ کون سی حسیات تھیں جو انسان کی حفاظت کرنے میں معاون ہوتی تھی ‏علم الانسان کے مطابق سننے اور سونگھنے کی حیسیات انسان زندگی کو محفوظ بنانے میں معاون بنی .اندھیرے میں دور سے آنے والے انجان حملہ آور کو پہچاننے میں ”سماعت“اور”بو“ نے مدد کی اور زندگی اپنے مدارج طے کرنے لگی .ابتدا میں مرد و عورت ایک دوسرے کو خوشبو سے پہچانتے تھے پھر زندگی نے کروٹ ‏لی تو پہچان کے دوسرے طریقے ایجاد ہوے مگر جانوروں میں آج بھی یہی طریقہ موجود ہیں . جنگلی جانور شکار کی خوشبو دور سے سونگھ لیتے ہیں اور کتا ،بلی،شارک،بھیڑیا ہاتھی سب اپنی سونگھنے کی حس کی بدولت ہی زندہ ہیں اور اپنے بچوں کو پہچانتے ہیں چیونٹی جیسی چھوٹی مخلوق قطار میں چلتے ہوے ‏ایک دوسرے کی بو سونگھ کر چلتی ہیں انسان کی ساٸنسی ترقی نے جسمانی اعضا۶ کو منجمد کر دیا ہے آنکھوں کی کمزوری کو عینک لگا کر دور کیا جاتا ہے کیونکہ اب ہم آنکھوں سے زیادہ کام لیتے ہیں جبکہ دوسرے اعضا۶ کی معاونت کے لیۓ مصنوعی چیزیں مارکیٹ میں آچکی ہیں مگر دنیا میں آنے والا بچہ اپنی ‏ماں کو صرف خوشبو اور آواز سے پہچانتا ہے

    اگر ہم غور کریں تو خوشبو آج بھی زندگی کا بہت اہم حصہ ہے آنکھیں بند کرکے باغ میں جاٸیں تو ہر پھول کو لمس کے بغیر صرف خوشبوسے جان جاتے ہیں .کمرے میں بیٹھے ہونے کے بوجود بارش کی خوشبو اپنے آنے کی خبر دیتی ہے جسے ہم پسینہ کی بو کہتے ہیں وہ بھی ‏دراصل ہر انسان کی پہچان کی وجہ ہے ،کھانے کی خوشبو اشتہا۶ میں اضافہ کا سبب بنتی ہے جبکہ ناپسندیدہ بو تکلیف کا سبب بنتی ہے. ان سب نعمتوں کو ہر انسان اپناحق سمجھتا ہے مگر حق سمجھنے کے ساتھ ساتھ ان نعمتوں سے نوازنے والی ذات کا شکر ادا کرنے کے لیۓ بھی سوچ لیا کریں .

  • لباس،خواتین اور جنسی ہراسگی .تحریر:علی عبداللہ

    لباس،خواتین اور جنسی ہراسگی .تحریر:علی عبداللہ

    لباس کی اہمیت اسی روز شروع ہو گئی تھی جب شجر ممنوعہ کھانے پر آدم و حوا کو برہنگی کے باعث اپنے بدن جنت کے پتوں سے چھپانا پڑے اور پھر یہیں سے لباس اور حجاب کی بحث نے جنم لیا جو آج تک زیر بحث ہے۔ مرد و عورت کے مابین ایک مخصوص فاصلہ رکھنے کو جہاں مختلف مذاہب نے اصول و ضوابط پیش کیے، وہیں ظاہری طور پر مرد اور عورت کے لیے لباس کی اہمیت اور اس کا طریقہ کار بھی وضع کیا۔ کوئی بھی الہامی مذہب شرم و حیا اور لباس کی اہمیت کو اجاگر کرنے میں پیچھے نہیں رہا چاہے وہ عیسائیت تھی یا یہودیت یا پھر اسلام، تمام مذاہب نے باطن کے ساتھ ساتھ ظاہر کو بھی محفوظ اور پاکیزہ بنانے پر زور دیا ہے۔ پست ترین قوموں میں بھی لباس کی اہمیت برقرار رہی اور ایسی قوموں نے جنگلوں میں رہتے ہوئے بھی اپنی سمجھ بوجھ اور مرتبے کے مطابق لباس وضع کیے تا کہ ظاہری خوبصورتی کے ساتھ ساتھ جسم کو ڈھانپنے اور حیا کا تصور برقرار رکھا جا سکے۔ سینٹ پال نے لکھا ہے کہ ”خواتین کو سجاوٹ کے لیے ایسا مناسب لباس استعمال کرنا چاہیے جو شائستہ اور عمدہ ہو۔“ اسلام کی بات کریں تو قران کہتا ہے، ”اے اولاد آدم! ہم نے تم پر لباس نازل کیا ہے کہ تمہارے جسم کے قابل شرم حصوں کو ڈھانپے اور تمہارے لیے زینت ذریعہ بھی ہو۔“ یہاں ایک بات تو واضح ہو گئی کہ لباس جسم کو ڈھانپنے کے ساتھ ساتھ ہمیں محفوظ بنانے اور شرم و حیا کو برقرار رکھنے کا باعث ہے۔

    لباس جسم انسانی کو خوبصورتی بخشتا ہے اور اسے طمانیت کے احساس سے روشناس کرواتا ہے۔ انسانی جذبات پر لباس کا گہرا اثر ہے، اسی لیے سیاہ لباس، سفید لباس، سرخ لباس وغیرہ مختلف جذبات کی عکاسی کرتے ہیں۔ جبکہ بسنت اور بہار کی مناسبت سے پیلے اور تیز رنگوں والے لباس استعمال کیے جاتے ہیں۔ جذبات برانگیختہ کرنے والے کئی اقسام کے لباس جدید دنیا میں رائج ہیں جو انسانی جذبات کو بھڑکا کر جنسی طور پر انھیں مشتعل کرنے کا باعث بنتے ہیں- آپ کسی بھی بڑے سٹور پر چلے جائیں، وہاں مردوں سے زیادہ خواتین کے لباس کی مختلف اقسام دیکھنے کو ملیں گی کیونکہ جذبات کو ابھارنے میں یہ لباس نہایت اہمیت کے حامل ہیں۔ فرائڈ کے مطابق ”ہمارے اکثر افعال کی رہنمائی عقل نہیں کرتی۔ جو کچھ ہم سوچتے ہیں، جو کچھ ہم خواب میں دیکھتے ہیں اور جو کچھ ہم کرتے ہیں، ان کا تعین اکثر اوقات ہماری غیر عقلی جبلتیں جنھیں ترنگ یا من کی موج بھی کہا جا سکتا ہے کرتی ہیں۔ اس قسم کی غیر عقلی جبلتیں بنیادی انگیختوں یا ضروریات کا اظہار بھی ہو سکتی ہیں۔ مثلاً شیر خوار بچے کا ماں کا دودھ چوسنے کی جبلت بنیادی ہوتی ہے۔ اسی طرح انسان کی جنسی انگیخت بھی بنیادی ہو سکتی ہے۔“ جنس مخالف کی جانب مائل ہونے کی بہت سی نفسیاتی، حیاتیاتی اور فطری وجوہات ہیں اور انہی عناصر کو مزید تقویت دینے کے لیے مختلف انداز کے لباس مستعمل ہیں۔ جب ایک لباس آپ کو محفوظ ہونے کا احساس دلا سکتا یا آپ کو مذہبی اور کسی خاص قوم یا طبقے کا فرد کہلوا سکتا ہے تو یقیناً لباس انسان کے جذبات کو بھی ابھار سکتا ہے۔ لہذا یہ بحث ہی نہیں کہ لباس کا جنسی جذبات پر کوئی اثر ہے یا نہیں، یہ حقیقت ہے کہ لباس جنسی جذبات کو بھڑکانے میں اہم کردار ادا کرتا ہے۔

    اب سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ کیا لباس جنسی ہراسگی کی وجہ ہے؟ اس کا سادہ اور آسان جواب یہ ہے کہ ریپ اور ہراسگی کی بہت سی وجوہات میں سے ایک اہم ترین وجہ لباس بھی ہے۔ پوری دنیا میں کی جانے والی مختلف تحقیقات کے مطابق خواتین کا چست اور مختصر لباس ہراسگی اور ریپ کی وجوہات میں اہم کردار کا حامل ہے۔ ”Grammer et al. 2004“ کے مطابق کچھ خواتین کا کہنا ہے کہ وہ مخصوص لباس مردوں کو جنسی طور پہ لبھانے اور اپنی جانب متوجہ کرنے کے لیے استعمال کرتی ہیں۔ امریکہ میں کی جانے والی ایک تحقیق جو کہ 20 سال سے 68 سال کی خواتین سے انٹرویو کے ذریعے کی گئی، میں بتایا گیا کہ خواتین لباس، کاسمیٹکس اور اپنی جسمانی حرکات کے ذریعے اپنے جنسی جذبات کو ظاہرکرتی ہیں۔ 2011 میں کی جانے والی ایک تحقیق (Gueguen 2011) کے مطابق مختصر اور چست لباس پہننے والی خواتین کی جانب لوگ سب سے زیادہ متوجہ ہوئے جبکہ ڈھیلے اور مکمل لباس پہننے والی عورتوں کے جانب بہت کم لوگوں نے توجہ دی۔ ایک اور تحقیق سے ظاہر ہوا کہ جو جوان عورتیں مختصر اور اعضا کو ظاہر کرنے والے لباس پہنتی ہیں وہ بہت زیادہ جنسی جرائم کے خطرات سے دوچار ہوتی ہیں۔ ورک مین اور جانسن کی تحقیق جس میں مرد و عورتوں کو دو تصاویر دکھائی گئیں، ایک تصویر میں مختصر اور چست لباس والی خاتون جبکہ دوسری تصویر میں عام ڈھیلے ڈھالے لباس والی خاتون موجود تھی۔ دیکھنے والے مردوں اور عورتوں نے پہلی تصویر میں موجود مختصر لباس والی خاتون کو جنسی ہراسانی پر اکسائے جانے کی وجہ قرار دیا۔ ایسی ہی چند تحقیقات مراکش، افریقہ اور ہندوستان میں بھی ہو چکی ہیں جن میں بہت سی خواتین اس بات سے متفق تھیں کہ چست اور مختصر لباس جنسی ہراسگی کا سبب بنتا ہے۔ لباس اور جنسی ہراسگی کے مابین تعلق پر بہت سے نظریات پیش کیے جا چکے ہیں جن میں ایٹری بیوشن تھیوری، ابجیکٹیفیکیشن تھیوری اور فیمینسٹ تھیوری وغیرہ شامل ہیں۔ 2018 کی تحقیق کے مطابق مختصر اور غیر مناسب لباس میں ملبوس عورت کم ذہین، کمزور کردار اور کم اہل سمجھی جاتی ہے۔

    اس ساری بحث کا ہرگز یہ مطلب نہیں کہ جنسی ہراسگی میں ہمیشہ عورت ہی ذمہ دار ہوتی ہے اور مرد بیچارہ بے قصور ہے۔ جنسی جرائم کی بے شمار وجوہات ہیں اور مرد ہمیشہ اس میں شامل ہوتا ہے، لیکن لباس کو اس سارے معاملے سے نکال دینا اور اس کی اہمیت سے انکار کرنا خطرناک بات ہے۔ جو لوگ بچوں سے زیادتیوں کی مثالیں دیتے ہیں اور لباس کو جنسی ہراسگی کی وجہ نہیں مانتے، وہ بھی درحقیقت اچھی طرح جانتے ہیں کہ مختلف ذرائع جیسے ٹی وی، انٹرنیٹ، فلمیں، فیشن شو اور سوشل میڈیا ایپس جیسے ٹک ٹاک، لائیکی اور سنیک ویڈیو پر پیش کیے جانے والے پروگرام اور ویڈیوز میں اکثریت ایسے مواد کی ہوتی ہے، جو مسلسل جنسی جذبات کو ابھارتے ہیں اور جن میں ماڈلز اور اداکاروں نے پرکشش اور چست و مختصر لباس پہنا ہوتا ہے۔ نتیجتاً ایک عام آدمی مسلسل جب ان کو دیکھتا ہے اور جنسی طور پر مشتعل ہوتا ہے تو پھر اس کے سامنےجو موقع آئے وہ اسے ضائع نہیں کرتا۔ اس طرح آسان ترین شکار انہیں چھوٹے بچے بچیاں نظر آتے ہیں جنہیں وہ اپنی ہوس کا نشانہ بنا ڈالتے ہیں۔ دوسری دلیل لوگ مغرب کی پیش کرتے ہیں کہ وہاں تو ہے ہی مختصر لباس تو پھر وہاں ایسے واقعات کیوں نہیں ہوتے؟ ایسے لوگوں سے عرض ہے کہ ریپ اور ہراسگی کے سب سے زیادہ واقعات یورپ اور امریکہ میں ہی ہوتے ہیں جنہیں ہمارا میڈیا مختلف وجوہات کی بنا پر پیش نہیں کرتا۔ پھر وہاں زنا بالرضا پر کوئی روک ٹوک نہیں اور اکثریت اسی پر گزارہ کرتی ہے۔ سخت قوانین اور سزائیں صرف جبراً زیادتی پر ہیں- اس کے باوجود اس معاشرے میں جنسی جرائم کی شرح بلند ہونا حیران کن ہے اور تحقیقات نے ثابت بھی کیا ہے کہ لباس ان واقعات کے پیش آنے میں خاص اہمیت کا حامل رہا ہے۔ ڈاکٹر ایلکسس کاریل کے مطابق ”لوگ ان قوانین طبعی کی مخالفت کرتے ہیں جن کو اسلامی زبان میں کائناتی سنتیں کہا جاتا ہے اور اس نتیجے میں تہذیبی و اخلاقی گراوٹ پیدا ہوتی ہے۔“

    مغربی اثر و رسوخ کی بنا پر ہمارے ہاں بھی چونکہ اب عورت آزادی کے نام پر پرانی کسان عورت کی طرح ماں کے کردار اور ذمہ داری سے سبکدوش ہونا چاہتی ہے اور بقول ایک عرب سکالر کے، وہ ابسن کی عورت کی طرح دوست، گرل فرینڈ اور ساتھی بننے کو جدت سمجھتی ہے۔ حالنکہ یہ مغرب کا مسئلہ تھا کہ امریکی عورت کسی قیمت پر تقریب میں حاضری ترک نہیں کرتی۔ پیرس کی معزز عورت ڈرتی ہے کہ اس کا عاشق اسے چھوڑ نہ جائے اور ابسن کی ہیروئن اپنی ذات کے علاوہ کسی کو توجہ کے قابل نہیں سمجھتی، لیکن اب مشرقی عورت بھی اس ڈگر پر چلنے کو پر پھیلا رہی ہے۔ چونکہ ہمارے ہاں زنا بالجبر ہو یا بالرضا، دونوں کی حوصلہ شکنی کی جاتی ہے اور اس پر سزائیں مقرر ہیں لیکن المیہ یہ ہے کہ جدیدیت کے قائل افراد کو صرف مرضی کے بنا کیے گئے فعل پر اعتراض ہوتا ہے اور انہیں سخت سزا دیے جانے کے نعرے بلند کیے جاتے ہیں، مگر اپنی مرضی سے استوار کیے گئے جنسی تعلقات پر اعتراض نہیں ہوتا اور نہ ہی ان پر لاگو شرعی سزا پر بات کی جاتی ہے۔ لباس میں آئے روز جدت کے نام پر عجیب و غریب انداز اپنائے جا رہے ہیں جو شرم و حیا سے عاری ہوتے ہیں۔ اسی مسئلے سے بچنے کے لیے ہی اسلام نے عورت کو شائستہ اور عمدہ لباس پہننے کی تلقین کی ہے، جس میں اس کے اعضا ظاہر نہ ہوں اور مردوں کو نگاہیں نیچی رکھنے کا حکم دیا گیا ہے۔ سو اب ان دونوں احکامات پر بیک وقت عمل کرنے کی ضرورت ہے نا کہ صرف نگاہیں نیچی کرنے پر زور دیا جائے۔

  • اٹھارہ سال کی عمر میں شادی کا قانون. تحریر:عائشہ یاسین

    اٹھارہ سال کی عمر میں شادی کا قانون. تحریر:عائشہ یاسین

    پچھلے دنوں ایک الگ مسئلے کو سندھ اسمبلی میں پیش کیا گیا۔ یہ مسئلہ نوجوانوں کی شادی کے متعلق تھا۔ نوجوانوں کی اٹھارہ سال کی عمر میں شادی کو ہر صورت ممکن بنانے پر زور دیا گیا اور شادی نہ ہونے کی صورت میں والدین کو اس کا جواب طلب کرنے کی تجویز دی گئی اور باقاعدہ قانون نافذ کرنے اور اس پر عمل کروانے کے قانون کو رائج کرنے کی تلقین کی گئی۔ اس بحث میں صرف نوجوانوں کی بے راہ روی اور غلط سمت میں جانے کے خدشات کو واضح کیا گیا۔ ایک عام شہری ہونے کے ناطے یہ بات عقل تسلیم کرنے کو ہرگز تیار نہیں۔ اٹھارہ سال میں شادی کسی صورت ممکن نہیں۔ اس کی ایک نہیں بے شمار وجوہات ہیں۔ ایک عام سروے میں جب یہ بات نوجوانوں سے پوچھی گئی تو ان کے پاس ہنسنے کے علاوہ کوئی دوسرا آپشن نہ تھا۔ اسی طرح جب یہ مسئلہ والدین کے آگے رکھا گیا تو ان کی شکل پر فکر و پریشانی کے ساتھ صرف یہ الفاظ ادا ہوئے کہ یہ کیسے ممکن ہوسکتا ہے؟
    ہم جدید دور کے باسی ہیں اور ہر دور کا ایک تقاضا ہوتا ہے۔ جلد شادی کرنا ہرگز کوئی مسئلہ نہیں مگر اس شادی کو نبھانا اور آنے والی نسل کی پرورش اور کفالت اہم مسئلہ ہے۔ اٹھارہ سال کی عمر اس قدر نا پختہ اور غیر سنجیدہ دور ہوتا ہے جس میں لڑکا لڑکی زندگی کو ایک خواب و خیال گردانتے ہیں۔ ان کے نزدیک زندگی موج مستی اور شور ہنگاموں جیسی ہوتی ہے۔ ان میں احساس زمہ داری اور قوت فیصلہ نہیں ہوتا۔ وہ انتہائی جذباتی اور نڈر ہوتے ہیں۔ فیصلہ کرنا اور اس پر قائم رہنا ان کے لیے دشوار ہوتا ہے۔ ایسے میں ان پر شادی جیسی ذمہ داری ڈالنا کہاں کی عقلمندی ہے؟ اس سے بھی زیادہ ضروری ان کی تعلیم ہے۔ بہتر تعلیم اور بہتر ذریعہ معاش کا ہونا انتہائی اہم ہے۔

    عموما تمام دنیا میں پیشہ وارانہ تعلیم کے مکمل ہونے کی عمر 23 سال ہے۔ پھر اس کے بعد نوکری اور دیگر انٹرنشپ وغیرہ میں ایک سال کا عرصہ لگ جاتا ہے۔اگر ہم اصول و ضوابط کے حساب سے اندازہ لگائیں تو بھی 24 سال کی عمر سے پہلیشادی ہونا ممکن نظر نہیں آتا۔ ہاں جہاں تک بات لڑکیوں کی ہے تو بھی اگر ہم لڑکی کی پیشہ وارانہ تعلیم نظرانداز کرکے ان کی تعلیم کی معیشت انتہائی کمزور ہے اور جہاں پہلے ہی غربت اور جہالت کا راج ہے۔ ایسی صورتحال میں یہ تجویز نامناسب ہے۔ ہمارے معاشرے میں پہلے ہی نوجوانوں کے ساتھ ناروا سلوک برتا جارہاہے۔ لڑکیوں کی تعلیم ویسے ہی ایک متنازعہ معاملہ ہے۔ نہ ہی لڑکیوں کو بہتر تعلیمکو مختص کریں تو انٹر بنتی ہے۔ اب سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ ان حالات میں جہاں ہمارے ملک کے مواقع فراہم کئے جاتے ہیں اور نہ ہی حکومتی سطح پر ان کے جائز حقوق دیے جاتے ہیں۔نو عمری کی شادی کسی طور خیر کا باعث نہیں بن سکتی۔ چھوٹی عمر کی شادیوں سے صحت کے معاملات اثر انداز ہوسکتے ہیں۔ تعلیم کی شرح نمو میں کمی آسکتی ہیں۔ آبادی جو پہلے ہی ایک سنگین مسئلہ ہے خطرناک حد تک بڑھ سکتی ہے۔ پیشہ وارانہ افراد کی کمی ہوسکتی ہے۔ نہ سمجھی اور لا ابالی عمر کی شادی گھر کے نہ بسنے کا سبب بن سکتی ہے۔

    شادی کوئی کھیل نہیں بلکہ یہ ایک معاہدہ ہے جو دو افراد کے بیچ قائم ہوتا ہے تاکہ نسل پروان چڑھے اور ایک صحت مند معاشرہ تشکیل پاسکے۔ایسا ہرگز نہیں کہ میں کم عمر کی شادی کے خلاف ہوں۔ بلکہ بات صرف اتنی سی ہے کہ اٹھارہ سال کی عمر کو ہی قانون بنانا دانشورانہ روش نہیں۔ ہاں 24 سے 25 سال کی عمر کی بات کی جائے تو بات کچھ سمجھ آتی ہے کہ جب بچے تعلیم کی فارغ التحصیل ہوجائیں اور ذمہ داریوں کا تعین کرسکیں تو ان کی شادی کر دینی چاہیے۔ بات صرف حقائق و معاشرتی شعور کی بنیاد پر کی جائے تو نظام کو بہتر بنایا جاسکتا ہے مگر ایک ایسی تجویز جس کا معاشرے میں اطلاق ہونا ممکن نہ ہوسکے سوائے وقت کے زیاں کے کچھ نہیں۔ نوجوانوں کے لیے اگر قانون دان کچھ کرنا چاہتے ہیں تو ایسا نظام بنانے کی ضرورت ہے جس سے نوجوانوں کی فلاح و ترقی کے راستے کھل سکیں۔ بہتر معاش زندگی اور بہتر تعلیمی نظام کو مستحکم بنایا جاسکے تاکہ آج کا نوجوان بیرون ملک جانے کے خواب دیکھنے کے بجائے اپنے ملک میں رہ کر اپنی صلاحیتوں کو بروئے کار لاسکے اور ملک و قوم کو ترقی مل سکے۔ سو اس طرح کے قانون جس سے نوجوانوں کے مستقبل کو خطرہ ہوسکتا ہے ہم اسے مسترد کرتے ہیں۔

  • ماں کی یاد . تحریر:عترت آبیار

    ماں کی یاد . تحریر:عترت آبیار

    زندگی کی کوئی محرومی نہیں یاد آئی
    جب تلک ہم تھے ترے قرب کی آساٸش میں
    گزرے وقتوں میں ایک ہوا کرتا تھا برگد کا پیڑ ،جس کی چھاٶں بہت گھنی ہوتی تھی اور گرمی کے موسم میں اردگرد کے سب لوگ دھوپ کی تپش سے بچنے کے لیۓ اس درخت تلے اکٹھے ہوجاتے تھے ،اس گھینری چھاٶں میں بیٹھ کر سارے دکھ درد‏بھول جایا کرتے اور زندگی بہتر گزر جاتی ،
    برگد کے پیڑ کی جڑیں دور دور تک پھیلی ہوتی ہیں اور اس پیڑ کو ختم کرنا آسان کام نہیں ،ہمارے ارد گرد بھی بہت سے رشتے برگد جیسی چھاٶں لیۓ ہمیں موسموں کی شدت سے محفوظ رکھتے ہیں .

    ماں بھی ایسا ہی ایک گھنیرا درخت ہے جب تک زندہ رہتی ہے ساری‏گرمی ،سردی آندھی ،طوفان خود پر سہہ کر محض خاموش رہتی ہے اور بچوں پر کسی دکھ کی پرچھاٸیں تک نہیں آنے دیتی اوربچوں کو دنیا ایک کھیل سے زیادہ کچھ بھی محسوس نہیں ہوتا،ہر طرح کی جگتیں مذاق اور بے فکری چھاٸ رہتی ہے،انسان کبھی سوچ ہی نہیں سکتا کہ اس پیڑ کا تنا کمزور ہو کر اچانک کسی دن ‏ڈھے جائے گا جس کی جڑیں زمین میں دور تک پھیلی ہیں مگر پھر بھی موسموں کی سختیاں برداشت کرتا یہ پیڑ کسیے اندر سے کھوکھلا ہو جاتا ہے پتہ ہی نہیں لگتا .اس چھاٶں میں کسی گاٶں کے چوپال کا سا منظر ہوتا ہے رشتے دار ہوں یا محلے دار،عیدوں تہواروں پر اکٹھے ہوتے ہیں اورزندگی کسی فلم کی کہانی‏لگتی ہے مگر جب ماں جیسے برگد کی چھاٶں مٹی اوڑھ کر سو جاتی ہے تب لو کے تھپیڑے انسان کی روح کو جھلسا دیتے ہیں اور خون جما دینے والے سرد ہواٸیں جسم کو شل کر دیتی ہیں تو دینا کی اصل حقیقت سمجھ آتی ہے،کوٸ کتنا حقیقت پسند ہو یا دانشور،ماں کے دنیا سے رخصت کا تصور نہیں کر سکتا،کم از کم‏میں نہیں جانتی تھی کہ میری ماں رخصت ہو جاۓ گی،یوں لگتا تھا کہ ساری دنیا بھی ختم ہو گٸ تب بھی ماں کی چھاٶں ایسے ہی قاٸم و داٸم رہے گی،مگر یہ محض تصوراتی دنیا تھی جو آج بھی نیند کی وادی میں جاتے ہی حقیقت کا روپ دھار لیتی ہے ،برسوں بیت گۓ اس جداٸ کو مگر آج بھی یہی لگتا ہے کہ وہ‏یہیں کہیں ہے اور ابھی مجھے ڈانٹتے ہوۓ کہیں گی ”تم نے میرا پرس کیوں کھولا“

    میں ہمیشہ سے حساب کے مضموں میں نکمی رہی ،کسی چیز کا حساب رکھنا نہ آیا مگر برگدجیسی چھاٶں کے جاتے ہی حساب کے سارے سوالوں کے جواب ازبر ہوگۓ” بس وہ آواز کہیں کھو“ گٸ ہے‏ہمارے ہاتھ سے ایسے نازک تعلق مٹھی میں بھری ریت کی طرح نکل جاتے ہیں اور ہمیں خبر بھی نہیں ہو پاتی ، جب ایسا کوٸ دل میں اترا ہوا رشتہ اپنے ہاتھوں مٹی کے سپرد کر کے خالی ہاتھ گھر کو لوٹنا پڑے تو وہ رات کیسے کٹتی ہے یہ صرف وہی لوگ جان سکتے ہیں جو اس کرب سے گزرے ہیں ،گھر میں پھیلی ‏سرخ گلابوں کی خوشبو کیسے چبھتی ہے یہ بھی سب نہیں جان سکتے

  • منشیات کا استعمال جانی و مالی نقصان .تحریر: ملک ضماد 

    منشیات کا استعمال جانی و مالی نقصان .تحریر: ملک ضماد 

    منشیات کا استعمال جانی و مالی نقصان .تحریر: ملک ضماد 

    ہمارے معاشرے میں منشیات کا استعمال دن بدن زور پکڑتا جا رہا ہے جس کی بنیادی وجہ لوگوں کی ذہنی سکون کا نا ہونا ہے لوگ ذہنی سکون کے لیے نشہ آور چیزوں کا استعمال کرتے ہیں جس پر وقتی طور پر تو ان کو کچھ تھقعا اعام مل جاتا ہے لیکن اس سے ان کی صحت دن بدن بگڑنا شروع ہو جاتی ہے آخر وہ اسی نشہ کی عادت کو لے کر کسی نا کسی جگہ مردہ حالت ملتے ہیں کوئی کسی نالہ میں تو کوئی کسی کھیت ہیں
    منشیات کے عادی لوگ نا صرف اپنا جانی مالی نقصان کر رہے ہوتے ہیان بلکہ وہ اپنے خاندان، معاشرے میں بھی یہ بیماری پھیلا رہے ہوتے ہیں  جس سے معاشرے میں دوسرے لوگ بھی متاثر ہوتے ہیں منشیات کے عادی لوگ جب کسی کام کے قابل نہیں رہتے یا منشیات خریدنے کے لئے پیسہ نہیں ہوتا تو وہ لوگ پھر چوری، ڈاکہ، وغیرہ مار کر اپنے نشے کے پیسے پورے کرتے ہیں

    جس سے وہ رفتہ رفتہ ایک اور جرم میں مبتلا ہو جاتے ہیں اور اس جرم کے بھی عادی مجرم بن جاتے ہیں ایسے لوگ جن پکڑے جاتے ہیں تو جیل میں بھی ان کا پرسان حال کوئی نہیں ہوتا تو وہاں بھی ایسے ہی پڑے پڑے اپنی سزا پوری کرنے کے بعد باہر آ جاتے ہیں یا پھر کچھ لوگ نشہ نا ملنے کی صورت میں وہاں ہی انتقال کر جاتے ہیں منشیات فروشوں کے ہاتھ بہت لمبے ہوتے ہیں وہ نا صرف ملک کے اندر بلکہ ملک سے باہر سے بھی غیر قانونی طریقے سے منشیات ملک میں منگواتے ہیں اور پورے ملک میں اس کو بیچنے کے لیے نیٹ ورک بناتے ہیں جس میں نوجوان لڑکے لڑکیاں شامل ہوتے ہیں

    خاص طور پر سکول، کالجز پر ان کی نظر ہوتی ہے منشیات فروش ملک سے باہر سے جب غیر قانونی طریقے سے پیسہ منگواتے ہیں تو اس سے ملک کا نقصان بھی ہوتا ہے سمگلنگ کی صورت میں پیسہ باہر جا رہا ہوتا ہے نا کوئی ٹیکس نا کوئی فیس دیتے ہیں بدلے میں ملک میں موت (منشیات) لے کر آتے ہیں کچھ عرصے میں افغانستان کا بارڈر بند ہونے کی وجہ سے منشیات کی اسمگلنگ میں کمی دیکھنے کو ملی ہے لیکن پھر بھی اس طرح کنٹرول نہیں ہو سکا جس طرح ہونا چاہئے تھا ابھی بھی مختلف غیر قانونی عادت اسمگلروں کے زیر استعمال ہیں جن کے زریعے وہ منشیات کا کاروبار کر رہے ہیں ابھی بھی وقت کی ضرورت ہے ایسے لوگوں کو جتنی جلدی ہو سکے پکڑ کر کیفرکردار تک پہنچایا جائے تاکہ نشے جیسی لعنت سے ہم چھٹکارا حاصل کر سکیں حکومتی اور متعلقہ اداروں کو سخت ایکشن لینے کی ضرورت ہے

  • نجومی اور قسمت، ‏تحریر ۔ عمالقہ حیدر

    نجومی اور قسمت، ‏تحریر ۔ عمالقہ حیدر

    عجیب بات تو یہ ہے چھ فٹ کا وجود اور کائنات سے وسیع دماغ ،پہاڑوں سے مضبوط ارادہ، سمندروں سے گہری سوچ رکھنے والا شخص جب اپنا توانائی سے بھرا ہوا ہاتھ نجومی کے ہاتھ پہ رکھ کر قسمت بارے پوچھتا ہے تو اچھی قسمت نحوست کی چادر اوڑھ کر اک مدت کے لئے سو جاتی ہے، یوں اچھی قسمت والا دوسری کی زبان سے نکلی ہوئئ قسمت کا شکار ہو جاتا ہے، آدھی قسمت دوسرے کے ہاتھ میں ہوتی،

    پرانے زمانے کی طرح آج بھی فٹ پہ بیٹھے نجومی کے پاس نوجوان ہاتھ دکھا کر اپنے مستقبل کے حالات سن رہے ہوتے ہیں، نجومی کی بہت سی پیش گوئیاں کے بعد محبوبہ سے شادی بھی ہونے کے قوی امکان ظاہر ہوتے ہیں،یوں ایسی باتیں سن کر دل کی تسکین بڑھتی چلی جاتی ہے

    نجومی کے کہے ہوئے الفاظ ذہنی تخیلات بدلنے میں دیر نہیں کرتے، عام ذہن سب سے زیادہ قسمت پر انحصار کرتا ہے، خاص ذہن نجومی کے لفظوں کو گورکھ دھندہ سمجھ کر بچ جاتے ہیں، قسمت پر انحصار کرنے والے دراصل زمہ داریوں سے بچتے ہیں،
    جو حالات کا مقابلہ نہیں کر سکتا وہ دفاع کے لئے قسمت کی ڈھال استعمال کر جاتا ہے،
    ہم جس قسمت کو نجومی کے حوالے سوچتے ہیں وہ نجومی خود قسمت کے ہاتھوں ذلیل ہو کر ہمیں اپنا جیسا بناتا ہے،
    نجومی ہمیں بتاتا ہے کہ ہاتھ کی فلاں لکیر تمہارے لئے اچھی نہیں ہے اگلے سال آپ اک حادثہ کا شکار ہو جائیں گے، کاروباری ترقی ابھی تک تو رکی ہوئ ہے لیکن جب آپ چھپن سال کے ہو جائیں گے تب کہیں بہتری ہو گی کیونکہ اجکل آپکا ستارہ بھی آپکے حق میں نہیں ہے زحل کی چھاؤں پڑنے سے زندگی اچانک رخ موڑ ے گی اور یوں تم اک چھوٹے سے کام میں شہرت یافتہ ہو جاؤ گے،لوگ آپ کے آٹو گراف کو ترسیں گے،ایسی بات سن کر دل تو بہلے گا۔

    اک حکایت نجومی بارے معروف ہے کہ نجومی آسمانوں کی خبریں گلی گلی سناتا تھا، مستقبل کا وہ خاکہ بیان کرتا کہ سننے والے کے پاس سوائے ایمان لانے کہ کچھ نہ بچتا تھا، اک دن نجومی ہر آدمی کو مطمئن کیے جا رہا تھا، کہ آدمی نے کہا، آنے والے زمانے کی خبریں سنانے والی یہ بھی آج بتا دے کہ تیری بیوی کے آشنا کا نام کیا ہے، یہ سن کر اس کے وجود کی ساری طنابیں ایسی ٹوٹی کی وہ دوبارہ نہ بن سکی،اور ہمیشہ کے لئے نجومی آسمان کی خبروں کی طرح غیب ہو گیا،

    لوگوں کو غیب کی خبریں بتانے والہ اپنی بیوی کے آشنا سے لاعلم ہے،

    اس لئے اک زمانہ تھا جب علم نہیں تھا شعور نہیں تھا، انسان کی اڑان نجومی تک تھی اب ہمیں سوچنا چاہئے کہ کائنات اک اصول پر چل رہی ہے عمل کا رد عمل ہو رہا ہے سستی اور کاہلی کے نتائج سامنے آ رہے ہیں۔ مسلسل محنت کا پھل مل کر رہتا ہے، زمہ داریوں سے بچنے کے کتنے بڑے حادثات جنم لیتے ہیں، ہم آج کام نہیں کریں گے تو کل دوستوں سے پیچھے رہ جائیں گے، کار کی خواہش رکھنے والہ محنت بغیر نہیں خرید سکتا،
    خدا نہ چھپر پھاڑ کر دیتا ہے اور نہ ہمیں مزید انتظار کرنا چاہئے، نہ ہمیں زندگی کو قسمت کے حوالے کریں نہ کسی نجومی کے رحم و کرم پر کریں ہم اپنے مدد گار آپ ہیں،

    ،برے زمانے میں سب سے پہلے بھای چھوڑتا ہے اور بعد میں بہترین دوست،

    اس لئے دوسروں پر توقع نجومی کے خوبصورت لفظوں جیسی ہے،
    اس لئے ہر جوان کے پاس ٹوٹل پندرہ سے بیس سال ہوتے ہیں بعد میں سب مایا لگتا ہے،
    ہم محدود اور ہماری خواہشات لا محدود ہیں،فطرت اپنے اصولوں سے انحراف نہیں کرتی، سردیوں کی طویل رات بیمار اور صحت مند کے لئے یکساں ہے،
    ہم جو پھینکیں گے وہی لوٹے گا، اس لئے ہم نے اپنے اہداف خود آپ نے بنانے ہیں اور خود ہی مکمل کرنے ہیں، نہ کوئ ساتھ دیتا ہے اور نہ کوئ ساتھ کھڑا ہوتا ہے، ہاں اگر کوئ ساتھ ہوتا بھی ہے تو ذاتی مفاد کی خاطر،

    اللہ ہم سب کے ایمان پختہ کرے اور ہر اس چیز سے دور کرے جو ہمارے ایمان کو متزلزل کرتی ہے، اور ایسے ہستی سے ضرور آشنائی دے جو ہمارے انگلی صراط مستقیم تک لے جائے۔ آمین ثم آمین

  • خواتین کو وراثت میں حق دیا جائے صدر پاکستان

    خواتین کو وراثت میں حق دیا جائے صدر پاکستان

    صدر عارف علوی سے مرکزی رویت ہلال کمیٹی کے وفد کی چیئرمین مولانا عبدالخبیر آزاد کی قیادت میں ملاقات ہوئی ہے، ملاقات میں مرکزی رویت ہلال کمیٹی، زونل رویت ہلال کمیٹی کے ممبران اور اعلیٰ حکام نے بھی شرکت کی ہے.
    صدر پاکستان کا کہنا ہے کہ علماء مساجد کے ذریعے لوگوں میں اہم سماجی موضوعات پر اسلام کی تعلیمات واضح کریں، اسلام نے سب سے پہلے خواتین کو وراثت کا حق دیا ہے، علماء وراثت میں خواتین کے حقوق پر مساجد کے ذریعے لوگوں میں آگاہی پیدا کریں، علماء بڑھتی ہوئی آبادی اور صحت کے مسائل کے متعلق لوگوں کو تعلیم دیں، علماء معاشرتی اصلاح اور اخلاقی اقدار کے فروغ کیلئے کام کریں، علماء منبر و محراب کے ذریعے بین المذاہب و بین المسالک ہم آہنگی کو فروغ دیں، علماء نےکورونا کے دوران لوگوں میں آگاہی پیدا کرنے ،ایس او پیز پر عمل درآمد میں اہم کردار ادا کیا، تمام رویت ہلال کمیٹیوں کو فعال بنانے پر چیئرمین، مرکزی رویت ہلال کمیٹی کے کردار کو سراہا ہے.

  • کالے دل کے خوبصورت لوگ۔۔۔تحریر: وسیم اکرم

    کالے دل کے خوبصورت لوگ۔۔۔تحریر: وسیم اکرم

    ‏روز مرہ زندگی میں آپ کو بے شمار ایسے لوگوں سے پالا پڑے گا جو ظاہری طور پر عزت و اکرام کے حامل ہوں گے انہیں مرتبہ، مقام اور دولت بھی میسر ہوگی مگر ان کی ذات سے کسی کو کچھ فائدہ نہیں ہوتا۔ یہ وہ لوگ ہوتے ہیں جو اگلے کا دل اور روح زخمی کر دیتے ہیں۔ لوگوں کے جذبات ان کا ایندھن ہوتے ہیں۔۔۔ چھوٹے دل والے یہ خوشامد پسند ہوتے ہیں انہیں اپنی تعریف کرتے اور کرواتے رہنا بے حد پسند ہوتا ہے۔ یہ خود نمائی کے شوقین ہوتے ہیں۔ انہیں اپنا آپ گھڑی گھڑی جتانے کی لت لگی ہوتی ہے۔ یہ ’ریکگنیشن اور وفاداریوں‘ کے بھوکے ہوتے ہیں سب سے بڑھ کر یہ کہ یہ لوگ بزدل ہوتے ہیں۔ دلیری ان میں نام کی نہیں ہوتی۔ گالیاں دینے میں ماہر ہوتے ہیں۔۔۔ یہ مرد ہوں بھی تو ان میں مردانگی کا کوئی وصف نہیں ہوتا۔۔۔ یہ ہمیشہ ’پلے سیف‘ کی پالیسی کو اپنائے رکھتے ہیں۔ ان میں قربانی کا حوصلہ تو بالکل نہیں ہوتا اور یہ ہر معمولی خطرے سے بھی خود کو بچانے کی کوشش میں مصروف عمل رہتے ہیں، پھر چاہے ان کے ایک دلیرانا اقدام کی کتنی ہی ضرورت کیوں نہ ہو۔۔۔۔

    ایسے بے چارے اپنی غلطی ماننے کو اپنی بے عزتی تصور کرتے ہیں اور خود کو ہر اس مقام اور حالت سے بچا کر رکھتے ہیں جہاں انہیں تنِ تنہا اپنا آپ یا اپنی کوئی قابلیت یا دعوٰی ثابت کرنا پڑجائے۔ یہ ایک خوبی بہرحال ان میں ہوتی ہے کہ وہ کمال کی ’پرسیپشن مینجمنٹ‘ کرتے ہیں۔ اپنا تراشیدہ چہرہ کبھی بے نقاب نہیں ہونے دیتے۔۔۔ انکی جھوٹی انا ہمیشہ بھوکی اور لالچی رہتی ہے۔ یہ آپ کا خون تک چوس کر ہضم کر جاتے ہیں اور ہمیشہ ’اور کی دوڑ‘ میں مصروف رہتے ہیں۔ اور یہ دوڑ صرف مادی چیزوں کی نہیں ہوتی بلکہ انسانی رویوں، جذبات اور خلوص، خدمت کی بھی ہوتی ہے۔ انہیں ہر وقت مزید خدمت، مزید قربانی، مزید خلوص اور مزید ’پروٹوکول‘ درکار ہوتا ہے۔۔۔ ایسے لوگ جس ٹیم یا گروہ میں ہوں اس گروہ سے وفاداریوں پر جھوٹی قسمیں کھاتے ہیں جب تک انکی منشاء کے مطابق سب کچھ ہوتا رہے تو ٹھیک ورنہ اپنے مخالف کو غداروں کی فہرست میں شامل کرلیتے ہیں۔۔۔ میں نے کمیونیکیشن اسٹڈیز کے نفیساتی پہلو پڑھتے وقت یہ سیکھا تھا کہ آپ جب بھی کسی سے ملتے ہیں تو آپ سے پہلے آپ دونوں کی ’اینرجیز‘ آپس میں ملتی ہیں اور آپ کے کچھ کہنے سے پہلے ہی آپ کا ایک خاص تعلق قائم ہوجاتا ہے۔ یہ تعلق آپ میں مخاصمت، تلخی، جھجک یا آسانی اور خلوص پیدا کرتا ہے۔ یہ آپ کے آئندہ تعلق کی نوعیت کی بنیاد بنتا ہے۔ مگر آپ جب بھی ایسے لوگوں سے ملیں گے آپ کو ان سے خوف، جھجک، مخاصمت یا تلخی محسوس ہوگی۔ کچھ لوگ کمال فنکار ہوتے ہیں، پہلی ملاقات میں شاید آپ کی ملاقات ایک چھلاوے سے ہو مگر وقت سے ساتھ یہ تحلیل ہوتا رہے گا۔۔۔

    ان لوگوں سے نفرت کا کوئی فائدہ نہیں بلکہ یہ تو ہمدردی کے مستحق ہوتے ہیں۔ ایسے لوگوں سے جذباتی وابستگی پیدا نہیں کرنی چاہیے اور انہیں کسی بھی طرح خود پر حاوی نہیں ہونے دینا چاہیے۔ یہ اعصاب پر سوار ہونے لگیں تو انہیں چیلنج کرنا چاہیے اور یقین جانیں ان کی جڑوں میں ایک خوف ہوتا ہے اور یہ خوف کبھی بھی آپ کی جرأت کا مقابلہ نہیں کر پائے گا۔ آپ کی جیت ایسے لوگوں سے بے نیاز ہونے میں ہے۔۔۔ ایسے لوگ ہر وقت دوسروں کو عزت پر لیکچر دیں گے لیکن یقین جانے کم ظرف اور گھٹیا انسان جتنی مرضی عزت کی باتیں کر لے کسی کیطرف سے ملنے والی عزت کا بوجھ کبھی نہیں اٌٹھا سکتا۔۔۔ یہ لوگ معاشرے کے ٹھکرائے ہوئے ہوتے ہیں جہیں صرف سوشل میڈیا پر فلاسفر بننے کا موقع ملتا۔۔۔
    @PatrioticWsi

  • پڑوسیوں کے حقوق. ‏تحریر: طلعت کاشف سلام

    پڑوسیوں کے حقوق. ‏تحریر: طلعت کاشف سلام

    انسان کا اپنے والدین، اپنی اولاد اور قریبی رشتہ داروں کے علاوہ سب سے زیادہ واسطہ و تعلق بلکہ ہر وقت بھینٹ ملاقات، لین دین کا سابقہ ہمسایوں اور پڑوسیوں سے بھی ہوتا ہے اور اس کی خوشگواری و ناخوشگواری کا زندگی کے چین وسکون اور اخلاق کے اصلاح و فساد اور بناؤ بگاڑ پر بہت گہرا اثر پڑتا ہے
    اسلام اتنا پیارا مذہب ہے جس میں ہمیں اپنے گھر، خاندان، دوستوں عزیزوں کے ساتھ ساتھ اپنے پڑوسیوں کے ساتھ بھی برابری اور بہترین تعلقات رکھنے کی تعلیم دی گئی ہے

    جب اللہ تعالٰی نے پڑوسیوں کے حقوق کے بارے میں اپنے محبوب، خاتم النبیین محمد مصطفی احمد مجتبی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو بتایا تو نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم بھی سوچ میں پڑ گئے اتنے حقوق دیے گئے ہیں تو کہیں وراثت میں بھی حقدار نا بنا دیا جائے

    حدیث شریف کا مفہوم ہے جب تم اپنے گھروں میں کچھ پکاو تو اگر زیادہ استطاعت نا ہو تو سالن میں پانی زیادہ ڈال دیا کرو تاکہ اس سالن کا شوربہ ہی اپنے پڑوسی کو دے سکو

    آج کل ہم اپنے پڑوسیوں کی مدد یا خیال تو دور کی بات ہے ہم جانتے بھی نہیں ہمارے بغل میں کون رہتا ہے
    کیسے حالات سے گزر رہا ہے
    ہمیں تو اپنے گھروں سے فرصت نہیں ملتی آج کل
    موجودہ دور میں ہم اپنے گھروں میں بھی کئی کئی دن اپنے گھر والوں سے نہیں مل پاتے
    دنیا کے پیچھے لگ کر ہم نے اپنی زندگی کو اتنا مصروف اور پیچیدہ بنا دیا ہے کہ ہمیں سمجھ نہیں آتی ہم کیا کر رہے ہیں

    حضرت ابوشریح خزاعی کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺنے فرمایا : جواللہ اورقیامت کے دن پر ایمان رکھتا ہو اُسے چاہئے کہ وہ پڑوسی کے ساتھ حسن سلوک کا معاملہ کرے
    (مسلم شریف )

    حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا : جوشخص اللہ اوراس کے رسول پر ایمان رکھتاہے اُسے چاہئے کہ وہ اپنے پڑوسی کو تکلیف نہ دے
    (مسلم شریف )

    عبدالرحمن بی ابی قراد نقل کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:جس کسی کو یہ بات پسند ہو کہ وہ اللہ اوراس کے رسول کا محبوب بنے تووہ اپنے پڑوس والوں کے ساتھ حسن سلوک کامعاملہ کرے

    پڑوسیوں کے حقوق کے بارے میں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے بار ہا اپنی محافل میں صحابہ کرام رضی اللہ تعالٰی عنہ سے ذکر کیا اور پڑوسیوں کے حقوق پوری طرح پورے کرنے اور ان کی ضروریات کا خیال رکھنے کا حکم بھی دیا گیا ہے
    آج ہم اہنا محاسبہ کریں تو ہمیں پتہ چلتا ہے ہم کیا کھڑے ہیں
    ہمیں کیا کرنا چاہئے اور ہم کیا کر رہے ہیں

    آئیں آج سے سب مل کر اس بات کا اعادہ کریں ہم ہر ممکن کوشش کریں گے پڑوسیوں کے حقوق پوری طرح ادا کر سکیں

  • بیٹیاں بوجھ نہیں ہوتی.تحریر :ماشا نور

    بیٹیاں بوجھ نہیں ہوتی.تحریر :ماشا نور

    ہمارے بہت سے گھروں میں بیٹیوں کو یہ بات بتائی جاتی ہے روٹی بنانا سیکھ لو ورنا سسرال جاکر مار کھاؤ گی شروع سے ہی بیٹیوں کو بوجھ سمجھ لیا جاتا ہے انکو بات بات پر یہ سنے کو ملتا "پرائے گھر کی امانت ہو اپنے گھر جاکر کرنا جو کرنا ہے” جبکہ سسرال میں بہو بن کر اس سے زیادہ مشکل جمعلے سنے پڑتے "ماں نے کچھ سکھا کر نہیں بھیجا” کیوں ہم بیٹیوں سے یہ امید لگاتے ہیں کے وہ ہر کام چھوٹی سی عمر میں باخوبی سرانجام دیں ہم انکی تعلیم پر بات کیوں نہیں کرتے بیٹی کو پڑھانے اس کو بیٹے کے برابر کھڑا کیوں نہیں کرتے اس لیے کے وہ دوسرے گھر کی امانت ہے وہ ہمیں کماکر نہیں کھلائے گی بڑھاپے کا سہارا نہیں بنے گی تو معذرت کے ساتھ ان ماں باپ سے جن کی یہ سوچ ہے کے بیٹی بوجھ ہےاگر بیٹے بھی تو لاوارث چھوڑ دیتے ہیں ایسے ماں باپ کو پوچھتے نہیں جیسا آج کل سوشل میڈیا کا دور ہے ہم روانہ ہی ایسے کتنے کیسز دیکھتے ہیں جس میں جوان جہاں اولاد ماں باپ کو مار پیٹ رہے ہوتے ہیں گالیاں دیتے ہیں "جن ماں باپ کو اف تک کرنے سے منہ فرمایا گیا” وہی مان باپ کو اولاد گندی گندی گالیاں دیتی ہے کیوں ؟کیوں کے ہم نے اولاد کی تربیت میں کمی رکھی ہم نے بیٹے کو راجا مہاراجا کی طرح ناز نخرے اٹھائے لیکن بیٹی کو بوجھ سمجھ کر گھر کی چار دیواری میں رکھا اسکی تعلیم روکی حالانکہ بیٹی وہ ہے جو والدین کی تکلیف پر ان سے زیادہ آنسو بہاتی ہے ہر ممکن کوشش کرتی کے کیا کروں ایسا کے ماں کی آنکھ میں آنسو ناائے ماں باپ کی عزت کا بوجھ اپنے نازک کندھوں پر رکھے وہ ہنستے مسکراتے سب سہہ جاتی ہے

    جن گھروں میں بیٹیاں ہوتی ہیں وہ گھر جنت ہے بیٹی کی ہنسی سے سارا گھر روشن ہوجاتا ہے اس کے نازک ہاتھوں میں کانج کی چوڑیاں دیکھ کر دل خوش ہوجاتا ہے اسکے معصوم سے چہرے کو دیکھ کر کام سے آئے باپ کی سارا دن کی تھکن اتر جاتی باپ کا غرور ہے بیٹی ماں کا مان ہے بیٹی
    بیٹی ماں باپ کے دکھ میں ہمسفر ہے مجھے یاد ہے آنکھوں دیکھا حال کے اک ماں ہسپتال میں بستر پر پڑی تھی اور بیٹی وہی نیچے اپنی چادر پھیلائے اللہ سے رو رو کر دعائیں کررہی تھی دل چیر دیا تھا اس لمحے نے کوئی انتہائی سخت دل ہوگا جس نے اس لمحے کو دیکھ کر آمین نا کہا ہوگا پھر بیٹی بوجھ کیسے ہوسکتی ہے بیٹی تو رحمت ہے

    اگلا مرحلہ سسرال میں اسکے لیے اور کھٹن ہوتا ہے سب کے دل جیتنا شوہر ساس سسر نند دیور سمیت پورے گھر کو ساتھ لے کر چلنا سب کی ضرورتوں کا خیال رکھنا چھوٹی چھوٹی باتوں کو نظر انداز کرنا گھر کی یاد آئے تو کچن میں جاکر آنسو بہا لینا یہ سب ایک بیٹی کرتی ہے قسمت اچھی ہو تو سسرال والے اچھے مل جاتے جو بہو نہیں بیٹی کی طرح رکھتے گھر کے فیصلوں میں بہو کی رائے لی جاتی اسکے جائز حقوق دیے جاتے ایسی لڑکی میں اعتماد پیدا ہوتا ہے وہ اپنی اولاد کی تربیت اچھی کرتی ہے جہاں ذہنی سکون ہو وہاں عورت تنگی بھی ہنس کر برداشت کرلیتی ہے دوسری طرف پیسے کی بارش ہو مگر رشتوں میں اعتبار بھروسہ ایک دوسرے کی خوشی کی فکر نا ہو وہاں دم گھٹتا ہے ہم اپنی بیٹوں کو اگر یہ سیکھانے کے بجائے کے تم نے آگے جاکر سسرال سمنبھالنا ہے انکو تعلیم دلوائیں ان کو زندگی میں کیا کرنا ہے یہ پوچھیں تو بہت سی بیٹیاں سسرال جاکر ظلم سے بچ سکتی ہیں اس کے ساتھ ہی والدین کو چائیے اپنی اولاد کو مذہبی تعلیم ضرور دیں تاکہ انکو اچھے سے معلوم ہو کے ہمارے مذہب میں عورت مرد کے جائز حقوق کیا ہے اور حدود کیا ہے وہ خود اپنی زندگی میں بہتر فیصلے لیں اللہ پاک ہر بیٹی کا نصیب اچھا کرے اسکو ایسی ہمت دے کے وہ معاشرے کے لیے مثال بنے اور اپنی نسل کو بہترین انسان بنائے
    آمین