Baaghi TV

Category: معاشرہ و ثقافت

  • منشیات کا استعمال جانی و مالی نقصان .تحریر: ملک ضماد 

    منشیات کا استعمال جانی و مالی نقصان .تحریر: ملک ضماد 

    منشیات کا استعمال جانی و مالی نقصان .تحریر: ملک ضماد 

    ہمارے معاشرے میں منشیات کا استعمال دن بدن زور پکڑتا جا رہا ہے جس کی بنیادی وجہ لوگوں کی ذہنی سکون کا نا ہونا ہے لوگ ذہنی سکون کے لیے نشہ آور چیزوں کا استعمال کرتے ہیں جس پر وقتی طور پر تو ان کو کچھ تھقعا اعام مل جاتا ہے لیکن اس سے ان کی صحت دن بدن بگڑنا شروع ہو جاتی ہے آخر وہ اسی نشہ کی عادت کو لے کر کسی نا کسی جگہ مردہ حالت ملتے ہیں کوئی کسی نالہ میں تو کوئی کسی کھیت ہیں
    منشیات کے عادی لوگ نا صرف اپنا جانی مالی نقصان کر رہے ہوتے ہیان بلکہ وہ اپنے خاندان، معاشرے میں بھی یہ بیماری پھیلا رہے ہوتے ہیں  جس سے معاشرے میں دوسرے لوگ بھی متاثر ہوتے ہیں منشیات کے عادی لوگ جب کسی کام کے قابل نہیں رہتے یا منشیات خریدنے کے لئے پیسہ نہیں ہوتا تو وہ لوگ پھر چوری، ڈاکہ، وغیرہ مار کر اپنے نشے کے پیسے پورے کرتے ہیں

    جس سے وہ رفتہ رفتہ ایک اور جرم میں مبتلا ہو جاتے ہیں اور اس جرم کے بھی عادی مجرم بن جاتے ہیں ایسے لوگ جن پکڑے جاتے ہیں تو جیل میں بھی ان کا پرسان حال کوئی نہیں ہوتا تو وہاں بھی ایسے ہی پڑے پڑے اپنی سزا پوری کرنے کے بعد باہر آ جاتے ہیں یا پھر کچھ لوگ نشہ نا ملنے کی صورت میں وہاں ہی انتقال کر جاتے ہیں منشیات فروشوں کے ہاتھ بہت لمبے ہوتے ہیں وہ نا صرف ملک کے اندر بلکہ ملک سے باہر سے بھی غیر قانونی طریقے سے منشیات ملک میں منگواتے ہیں اور پورے ملک میں اس کو بیچنے کے لیے نیٹ ورک بناتے ہیں جس میں نوجوان لڑکے لڑکیاں شامل ہوتے ہیں

    خاص طور پر سکول، کالجز پر ان کی نظر ہوتی ہے منشیات فروش ملک سے باہر سے جب غیر قانونی طریقے سے پیسہ منگواتے ہیں تو اس سے ملک کا نقصان بھی ہوتا ہے سمگلنگ کی صورت میں پیسہ باہر جا رہا ہوتا ہے نا کوئی ٹیکس نا کوئی فیس دیتے ہیں بدلے میں ملک میں موت (منشیات) لے کر آتے ہیں کچھ عرصے میں افغانستان کا بارڈر بند ہونے کی وجہ سے منشیات کی اسمگلنگ میں کمی دیکھنے کو ملی ہے لیکن پھر بھی اس طرح کنٹرول نہیں ہو سکا جس طرح ہونا چاہئے تھا ابھی بھی مختلف غیر قانونی عادت اسمگلروں کے زیر استعمال ہیں جن کے زریعے وہ منشیات کا کاروبار کر رہے ہیں ابھی بھی وقت کی ضرورت ہے ایسے لوگوں کو جتنی جلدی ہو سکے پکڑ کر کیفرکردار تک پہنچایا جائے تاکہ نشے جیسی لعنت سے ہم چھٹکارا حاصل کر سکیں حکومتی اور متعلقہ اداروں کو سخت ایکشن لینے کی ضرورت ہے

  • نجومی اور قسمت، ‏تحریر ۔ عمالقہ حیدر

    نجومی اور قسمت، ‏تحریر ۔ عمالقہ حیدر

    عجیب بات تو یہ ہے چھ فٹ کا وجود اور کائنات سے وسیع دماغ ،پہاڑوں سے مضبوط ارادہ، سمندروں سے گہری سوچ رکھنے والا شخص جب اپنا توانائی سے بھرا ہوا ہاتھ نجومی کے ہاتھ پہ رکھ کر قسمت بارے پوچھتا ہے تو اچھی قسمت نحوست کی چادر اوڑھ کر اک مدت کے لئے سو جاتی ہے، یوں اچھی قسمت والا دوسری کی زبان سے نکلی ہوئئ قسمت کا شکار ہو جاتا ہے، آدھی قسمت دوسرے کے ہاتھ میں ہوتی،

    پرانے زمانے کی طرح آج بھی فٹ پہ بیٹھے نجومی کے پاس نوجوان ہاتھ دکھا کر اپنے مستقبل کے حالات سن رہے ہوتے ہیں، نجومی کی بہت سی پیش گوئیاں کے بعد محبوبہ سے شادی بھی ہونے کے قوی امکان ظاہر ہوتے ہیں،یوں ایسی باتیں سن کر دل کی تسکین بڑھتی چلی جاتی ہے

    نجومی کے کہے ہوئے الفاظ ذہنی تخیلات بدلنے میں دیر نہیں کرتے، عام ذہن سب سے زیادہ قسمت پر انحصار کرتا ہے، خاص ذہن نجومی کے لفظوں کو گورکھ دھندہ سمجھ کر بچ جاتے ہیں، قسمت پر انحصار کرنے والے دراصل زمہ داریوں سے بچتے ہیں،
    جو حالات کا مقابلہ نہیں کر سکتا وہ دفاع کے لئے قسمت کی ڈھال استعمال کر جاتا ہے،
    ہم جس قسمت کو نجومی کے حوالے سوچتے ہیں وہ نجومی خود قسمت کے ہاتھوں ذلیل ہو کر ہمیں اپنا جیسا بناتا ہے،
    نجومی ہمیں بتاتا ہے کہ ہاتھ کی فلاں لکیر تمہارے لئے اچھی نہیں ہے اگلے سال آپ اک حادثہ کا شکار ہو جائیں گے، کاروباری ترقی ابھی تک تو رکی ہوئ ہے لیکن جب آپ چھپن سال کے ہو جائیں گے تب کہیں بہتری ہو گی کیونکہ اجکل آپکا ستارہ بھی آپکے حق میں نہیں ہے زحل کی چھاؤں پڑنے سے زندگی اچانک رخ موڑ ے گی اور یوں تم اک چھوٹے سے کام میں شہرت یافتہ ہو جاؤ گے،لوگ آپ کے آٹو گراف کو ترسیں گے،ایسی بات سن کر دل تو بہلے گا۔

    اک حکایت نجومی بارے معروف ہے کہ نجومی آسمانوں کی خبریں گلی گلی سناتا تھا، مستقبل کا وہ خاکہ بیان کرتا کہ سننے والے کے پاس سوائے ایمان لانے کہ کچھ نہ بچتا تھا، اک دن نجومی ہر آدمی کو مطمئن کیے جا رہا تھا، کہ آدمی نے کہا، آنے والے زمانے کی خبریں سنانے والی یہ بھی آج بتا دے کہ تیری بیوی کے آشنا کا نام کیا ہے، یہ سن کر اس کے وجود کی ساری طنابیں ایسی ٹوٹی کی وہ دوبارہ نہ بن سکی،اور ہمیشہ کے لئے نجومی آسمان کی خبروں کی طرح غیب ہو گیا،

    لوگوں کو غیب کی خبریں بتانے والہ اپنی بیوی کے آشنا سے لاعلم ہے،

    اس لئے اک زمانہ تھا جب علم نہیں تھا شعور نہیں تھا، انسان کی اڑان نجومی تک تھی اب ہمیں سوچنا چاہئے کہ کائنات اک اصول پر چل رہی ہے عمل کا رد عمل ہو رہا ہے سستی اور کاہلی کے نتائج سامنے آ رہے ہیں۔ مسلسل محنت کا پھل مل کر رہتا ہے، زمہ داریوں سے بچنے کے کتنے بڑے حادثات جنم لیتے ہیں، ہم آج کام نہیں کریں گے تو کل دوستوں سے پیچھے رہ جائیں گے، کار کی خواہش رکھنے والہ محنت بغیر نہیں خرید سکتا،
    خدا نہ چھپر پھاڑ کر دیتا ہے اور نہ ہمیں مزید انتظار کرنا چاہئے، نہ ہمیں زندگی کو قسمت کے حوالے کریں نہ کسی نجومی کے رحم و کرم پر کریں ہم اپنے مدد گار آپ ہیں،

    ،برے زمانے میں سب سے پہلے بھای چھوڑتا ہے اور بعد میں بہترین دوست،

    اس لئے دوسروں پر توقع نجومی کے خوبصورت لفظوں جیسی ہے،
    اس لئے ہر جوان کے پاس ٹوٹل پندرہ سے بیس سال ہوتے ہیں بعد میں سب مایا لگتا ہے،
    ہم محدود اور ہماری خواہشات لا محدود ہیں،فطرت اپنے اصولوں سے انحراف نہیں کرتی، سردیوں کی طویل رات بیمار اور صحت مند کے لئے یکساں ہے،
    ہم جو پھینکیں گے وہی لوٹے گا، اس لئے ہم نے اپنے اہداف خود آپ نے بنانے ہیں اور خود ہی مکمل کرنے ہیں، نہ کوئ ساتھ دیتا ہے اور نہ کوئ ساتھ کھڑا ہوتا ہے، ہاں اگر کوئ ساتھ ہوتا بھی ہے تو ذاتی مفاد کی خاطر،

    اللہ ہم سب کے ایمان پختہ کرے اور ہر اس چیز سے دور کرے جو ہمارے ایمان کو متزلزل کرتی ہے، اور ایسے ہستی سے ضرور آشنائی دے جو ہمارے انگلی صراط مستقیم تک لے جائے۔ آمین ثم آمین

  • خواتین کو وراثت میں حق دیا جائے صدر پاکستان

    خواتین کو وراثت میں حق دیا جائے صدر پاکستان

    صدر عارف علوی سے مرکزی رویت ہلال کمیٹی کے وفد کی چیئرمین مولانا عبدالخبیر آزاد کی قیادت میں ملاقات ہوئی ہے، ملاقات میں مرکزی رویت ہلال کمیٹی، زونل رویت ہلال کمیٹی کے ممبران اور اعلیٰ حکام نے بھی شرکت کی ہے.
    صدر پاکستان کا کہنا ہے کہ علماء مساجد کے ذریعے لوگوں میں اہم سماجی موضوعات پر اسلام کی تعلیمات واضح کریں، اسلام نے سب سے پہلے خواتین کو وراثت کا حق دیا ہے، علماء وراثت میں خواتین کے حقوق پر مساجد کے ذریعے لوگوں میں آگاہی پیدا کریں، علماء بڑھتی ہوئی آبادی اور صحت کے مسائل کے متعلق لوگوں کو تعلیم دیں، علماء معاشرتی اصلاح اور اخلاقی اقدار کے فروغ کیلئے کام کریں، علماء منبر و محراب کے ذریعے بین المذاہب و بین المسالک ہم آہنگی کو فروغ دیں، علماء نےکورونا کے دوران لوگوں میں آگاہی پیدا کرنے ،ایس او پیز پر عمل درآمد میں اہم کردار ادا کیا، تمام رویت ہلال کمیٹیوں کو فعال بنانے پر چیئرمین، مرکزی رویت ہلال کمیٹی کے کردار کو سراہا ہے.

  • کالے دل کے خوبصورت لوگ۔۔۔تحریر: وسیم اکرم

    کالے دل کے خوبصورت لوگ۔۔۔تحریر: وسیم اکرم

    ‏روز مرہ زندگی میں آپ کو بے شمار ایسے لوگوں سے پالا پڑے گا جو ظاہری طور پر عزت و اکرام کے حامل ہوں گے انہیں مرتبہ، مقام اور دولت بھی میسر ہوگی مگر ان کی ذات سے کسی کو کچھ فائدہ نہیں ہوتا۔ یہ وہ لوگ ہوتے ہیں جو اگلے کا دل اور روح زخمی کر دیتے ہیں۔ لوگوں کے جذبات ان کا ایندھن ہوتے ہیں۔۔۔ چھوٹے دل والے یہ خوشامد پسند ہوتے ہیں انہیں اپنی تعریف کرتے اور کرواتے رہنا بے حد پسند ہوتا ہے۔ یہ خود نمائی کے شوقین ہوتے ہیں۔ انہیں اپنا آپ گھڑی گھڑی جتانے کی لت لگی ہوتی ہے۔ یہ ’ریکگنیشن اور وفاداریوں‘ کے بھوکے ہوتے ہیں سب سے بڑھ کر یہ کہ یہ لوگ بزدل ہوتے ہیں۔ دلیری ان میں نام کی نہیں ہوتی۔ گالیاں دینے میں ماہر ہوتے ہیں۔۔۔ یہ مرد ہوں بھی تو ان میں مردانگی کا کوئی وصف نہیں ہوتا۔۔۔ یہ ہمیشہ ’پلے سیف‘ کی پالیسی کو اپنائے رکھتے ہیں۔ ان میں قربانی کا حوصلہ تو بالکل نہیں ہوتا اور یہ ہر معمولی خطرے سے بھی خود کو بچانے کی کوشش میں مصروف عمل رہتے ہیں، پھر چاہے ان کے ایک دلیرانا اقدام کی کتنی ہی ضرورت کیوں نہ ہو۔۔۔۔

    ایسے بے چارے اپنی غلطی ماننے کو اپنی بے عزتی تصور کرتے ہیں اور خود کو ہر اس مقام اور حالت سے بچا کر رکھتے ہیں جہاں انہیں تنِ تنہا اپنا آپ یا اپنی کوئی قابلیت یا دعوٰی ثابت کرنا پڑجائے۔ یہ ایک خوبی بہرحال ان میں ہوتی ہے کہ وہ کمال کی ’پرسیپشن مینجمنٹ‘ کرتے ہیں۔ اپنا تراشیدہ چہرہ کبھی بے نقاب نہیں ہونے دیتے۔۔۔ انکی جھوٹی انا ہمیشہ بھوکی اور لالچی رہتی ہے۔ یہ آپ کا خون تک چوس کر ہضم کر جاتے ہیں اور ہمیشہ ’اور کی دوڑ‘ میں مصروف رہتے ہیں۔ اور یہ دوڑ صرف مادی چیزوں کی نہیں ہوتی بلکہ انسانی رویوں، جذبات اور خلوص، خدمت کی بھی ہوتی ہے۔ انہیں ہر وقت مزید خدمت، مزید قربانی، مزید خلوص اور مزید ’پروٹوکول‘ درکار ہوتا ہے۔۔۔ ایسے لوگ جس ٹیم یا گروہ میں ہوں اس گروہ سے وفاداریوں پر جھوٹی قسمیں کھاتے ہیں جب تک انکی منشاء کے مطابق سب کچھ ہوتا رہے تو ٹھیک ورنہ اپنے مخالف کو غداروں کی فہرست میں شامل کرلیتے ہیں۔۔۔ میں نے کمیونیکیشن اسٹڈیز کے نفیساتی پہلو پڑھتے وقت یہ سیکھا تھا کہ آپ جب بھی کسی سے ملتے ہیں تو آپ سے پہلے آپ دونوں کی ’اینرجیز‘ آپس میں ملتی ہیں اور آپ کے کچھ کہنے سے پہلے ہی آپ کا ایک خاص تعلق قائم ہوجاتا ہے۔ یہ تعلق آپ میں مخاصمت، تلخی، جھجک یا آسانی اور خلوص پیدا کرتا ہے۔ یہ آپ کے آئندہ تعلق کی نوعیت کی بنیاد بنتا ہے۔ مگر آپ جب بھی ایسے لوگوں سے ملیں گے آپ کو ان سے خوف، جھجک، مخاصمت یا تلخی محسوس ہوگی۔ کچھ لوگ کمال فنکار ہوتے ہیں، پہلی ملاقات میں شاید آپ کی ملاقات ایک چھلاوے سے ہو مگر وقت سے ساتھ یہ تحلیل ہوتا رہے گا۔۔۔

    ان لوگوں سے نفرت کا کوئی فائدہ نہیں بلکہ یہ تو ہمدردی کے مستحق ہوتے ہیں۔ ایسے لوگوں سے جذباتی وابستگی پیدا نہیں کرنی چاہیے اور انہیں کسی بھی طرح خود پر حاوی نہیں ہونے دینا چاہیے۔ یہ اعصاب پر سوار ہونے لگیں تو انہیں چیلنج کرنا چاہیے اور یقین جانیں ان کی جڑوں میں ایک خوف ہوتا ہے اور یہ خوف کبھی بھی آپ کی جرأت کا مقابلہ نہیں کر پائے گا۔ آپ کی جیت ایسے لوگوں سے بے نیاز ہونے میں ہے۔۔۔ ایسے لوگ ہر وقت دوسروں کو عزت پر لیکچر دیں گے لیکن یقین جانے کم ظرف اور گھٹیا انسان جتنی مرضی عزت کی باتیں کر لے کسی کیطرف سے ملنے والی عزت کا بوجھ کبھی نہیں اٌٹھا سکتا۔۔۔ یہ لوگ معاشرے کے ٹھکرائے ہوئے ہوتے ہیں جہیں صرف سوشل میڈیا پر فلاسفر بننے کا موقع ملتا۔۔۔
    @PatrioticWsi

  • پڑوسیوں کے حقوق. ‏تحریر: طلعت کاشف سلام

    پڑوسیوں کے حقوق. ‏تحریر: طلعت کاشف سلام

    انسان کا اپنے والدین، اپنی اولاد اور قریبی رشتہ داروں کے علاوہ سب سے زیادہ واسطہ و تعلق بلکہ ہر وقت بھینٹ ملاقات، لین دین کا سابقہ ہمسایوں اور پڑوسیوں سے بھی ہوتا ہے اور اس کی خوشگواری و ناخوشگواری کا زندگی کے چین وسکون اور اخلاق کے اصلاح و فساد اور بناؤ بگاڑ پر بہت گہرا اثر پڑتا ہے
    اسلام اتنا پیارا مذہب ہے جس میں ہمیں اپنے گھر، خاندان، دوستوں عزیزوں کے ساتھ ساتھ اپنے پڑوسیوں کے ساتھ بھی برابری اور بہترین تعلقات رکھنے کی تعلیم دی گئی ہے

    جب اللہ تعالٰی نے پڑوسیوں کے حقوق کے بارے میں اپنے محبوب، خاتم النبیین محمد مصطفی احمد مجتبی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو بتایا تو نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم بھی سوچ میں پڑ گئے اتنے حقوق دیے گئے ہیں تو کہیں وراثت میں بھی حقدار نا بنا دیا جائے

    حدیث شریف کا مفہوم ہے جب تم اپنے گھروں میں کچھ پکاو تو اگر زیادہ استطاعت نا ہو تو سالن میں پانی زیادہ ڈال دیا کرو تاکہ اس سالن کا شوربہ ہی اپنے پڑوسی کو دے سکو

    آج کل ہم اپنے پڑوسیوں کی مدد یا خیال تو دور کی بات ہے ہم جانتے بھی نہیں ہمارے بغل میں کون رہتا ہے
    کیسے حالات سے گزر رہا ہے
    ہمیں تو اپنے گھروں سے فرصت نہیں ملتی آج کل
    موجودہ دور میں ہم اپنے گھروں میں بھی کئی کئی دن اپنے گھر والوں سے نہیں مل پاتے
    دنیا کے پیچھے لگ کر ہم نے اپنی زندگی کو اتنا مصروف اور پیچیدہ بنا دیا ہے کہ ہمیں سمجھ نہیں آتی ہم کیا کر رہے ہیں

    حضرت ابوشریح خزاعی کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺنے فرمایا : جواللہ اورقیامت کے دن پر ایمان رکھتا ہو اُسے چاہئے کہ وہ پڑوسی کے ساتھ حسن سلوک کا معاملہ کرے
    (مسلم شریف )

    حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا : جوشخص اللہ اوراس کے رسول پر ایمان رکھتاہے اُسے چاہئے کہ وہ اپنے پڑوسی کو تکلیف نہ دے
    (مسلم شریف )

    عبدالرحمن بی ابی قراد نقل کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:جس کسی کو یہ بات پسند ہو کہ وہ اللہ اوراس کے رسول کا محبوب بنے تووہ اپنے پڑوس والوں کے ساتھ حسن سلوک کامعاملہ کرے

    پڑوسیوں کے حقوق کے بارے میں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے بار ہا اپنی محافل میں صحابہ کرام رضی اللہ تعالٰی عنہ سے ذکر کیا اور پڑوسیوں کے حقوق پوری طرح پورے کرنے اور ان کی ضروریات کا خیال رکھنے کا حکم بھی دیا گیا ہے
    آج ہم اہنا محاسبہ کریں تو ہمیں پتہ چلتا ہے ہم کیا کھڑے ہیں
    ہمیں کیا کرنا چاہئے اور ہم کیا کر رہے ہیں

    آئیں آج سے سب مل کر اس بات کا اعادہ کریں ہم ہر ممکن کوشش کریں گے پڑوسیوں کے حقوق پوری طرح ادا کر سکیں

  • بیٹیاں بوجھ نہیں ہوتی.تحریر :ماشا نور

    بیٹیاں بوجھ نہیں ہوتی.تحریر :ماشا نور

    ہمارے بہت سے گھروں میں بیٹیوں کو یہ بات بتائی جاتی ہے روٹی بنانا سیکھ لو ورنا سسرال جاکر مار کھاؤ گی شروع سے ہی بیٹیوں کو بوجھ سمجھ لیا جاتا ہے انکو بات بات پر یہ سنے کو ملتا "پرائے گھر کی امانت ہو اپنے گھر جاکر کرنا جو کرنا ہے” جبکہ سسرال میں بہو بن کر اس سے زیادہ مشکل جمعلے سنے پڑتے "ماں نے کچھ سکھا کر نہیں بھیجا” کیوں ہم بیٹیوں سے یہ امید لگاتے ہیں کے وہ ہر کام چھوٹی سی عمر میں باخوبی سرانجام دیں ہم انکی تعلیم پر بات کیوں نہیں کرتے بیٹی کو پڑھانے اس کو بیٹے کے برابر کھڑا کیوں نہیں کرتے اس لیے کے وہ دوسرے گھر کی امانت ہے وہ ہمیں کماکر نہیں کھلائے گی بڑھاپے کا سہارا نہیں بنے گی تو معذرت کے ساتھ ان ماں باپ سے جن کی یہ سوچ ہے کے بیٹی بوجھ ہےاگر بیٹے بھی تو لاوارث چھوڑ دیتے ہیں ایسے ماں باپ کو پوچھتے نہیں جیسا آج کل سوشل میڈیا کا دور ہے ہم روانہ ہی ایسے کتنے کیسز دیکھتے ہیں جس میں جوان جہاں اولاد ماں باپ کو مار پیٹ رہے ہوتے ہیں گالیاں دیتے ہیں "جن ماں باپ کو اف تک کرنے سے منہ فرمایا گیا” وہی مان باپ کو اولاد گندی گندی گالیاں دیتی ہے کیوں ؟کیوں کے ہم نے اولاد کی تربیت میں کمی رکھی ہم نے بیٹے کو راجا مہاراجا کی طرح ناز نخرے اٹھائے لیکن بیٹی کو بوجھ سمجھ کر گھر کی چار دیواری میں رکھا اسکی تعلیم روکی حالانکہ بیٹی وہ ہے جو والدین کی تکلیف پر ان سے زیادہ آنسو بہاتی ہے ہر ممکن کوشش کرتی کے کیا کروں ایسا کے ماں کی آنکھ میں آنسو ناائے ماں باپ کی عزت کا بوجھ اپنے نازک کندھوں پر رکھے وہ ہنستے مسکراتے سب سہہ جاتی ہے

    جن گھروں میں بیٹیاں ہوتی ہیں وہ گھر جنت ہے بیٹی کی ہنسی سے سارا گھر روشن ہوجاتا ہے اس کے نازک ہاتھوں میں کانج کی چوڑیاں دیکھ کر دل خوش ہوجاتا ہے اسکے معصوم سے چہرے کو دیکھ کر کام سے آئے باپ کی سارا دن کی تھکن اتر جاتی باپ کا غرور ہے بیٹی ماں کا مان ہے بیٹی
    بیٹی ماں باپ کے دکھ میں ہمسفر ہے مجھے یاد ہے آنکھوں دیکھا حال کے اک ماں ہسپتال میں بستر پر پڑی تھی اور بیٹی وہی نیچے اپنی چادر پھیلائے اللہ سے رو رو کر دعائیں کررہی تھی دل چیر دیا تھا اس لمحے نے کوئی انتہائی سخت دل ہوگا جس نے اس لمحے کو دیکھ کر آمین نا کہا ہوگا پھر بیٹی بوجھ کیسے ہوسکتی ہے بیٹی تو رحمت ہے

    اگلا مرحلہ سسرال میں اسکے لیے اور کھٹن ہوتا ہے سب کے دل جیتنا شوہر ساس سسر نند دیور سمیت پورے گھر کو ساتھ لے کر چلنا سب کی ضرورتوں کا خیال رکھنا چھوٹی چھوٹی باتوں کو نظر انداز کرنا گھر کی یاد آئے تو کچن میں جاکر آنسو بہا لینا یہ سب ایک بیٹی کرتی ہے قسمت اچھی ہو تو سسرال والے اچھے مل جاتے جو بہو نہیں بیٹی کی طرح رکھتے گھر کے فیصلوں میں بہو کی رائے لی جاتی اسکے جائز حقوق دیے جاتے ایسی لڑکی میں اعتماد پیدا ہوتا ہے وہ اپنی اولاد کی تربیت اچھی کرتی ہے جہاں ذہنی سکون ہو وہاں عورت تنگی بھی ہنس کر برداشت کرلیتی ہے دوسری طرف پیسے کی بارش ہو مگر رشتوں میں اعتبار بھروسہ ایک دوسرے کی خوشی کی فکر نا ہو وہاں دم گھٹتا ہے ہم اپنی بیٹوں کو اگر یہ سیکھانے کے بجائے کے تم نے آگے جاکر سسرال سمنبھالنا ہے انکو تعلیم دلوائیں ان کو زندگی میں کیا کرنا ہے یہ پوچھیں تو بہت سی بیٹیاں سسرال جاکر ظلم سے بچ سکتی ہیں اس کے ساتھ ہی والدین کو چائیے اپنی اولاد کو مذہبی تعلیم ضرور دیں تاکہ انکو اچھے سے معلوم ہو کے ہمارے مذہب میں عورت مرد کے جائز حقوق کیا ہے اور حدود کیا ہے وہ خود اپنی زندگی میں بہتر فیصلے لیں اللہ پاک ہر بیٹی کا نصیب اچھا کرے اسکو ایسی ہمت دے کے وہ معاشرے کے لیے مثال بنے اور اپنی نسل کو بہترین انسان بنائے
    آمین

  • عوام کی محبت، پاک فوج کی طاقت. تحریر  عمالقہ حیدر

    عوام کی محبت، پاک فوج کی طاقت. تحریر عمالقہ حیدر

    عمران خان کی امریکی صدر جوبائیڈن کو منہ توڑ جواب نے امریکہ کو ورطہ حیرت میں ڈال دیا ہے اور امریکہ کا تھنک ٹینک اب اس نتیجہ پہ پہنچا ہے کہ اب پاکستان ہاتھ سے نکل چکا ہے، جہاں ڈو مور کی صدا پاکستان کو لبیک کہنے پر مجبور کر دیتی تھی اب نو مور کی جوابی کڑک دار آواز امریکہ کو پورے دنیا میں رسوا کر رہی ہے، پوری دنیا اس بات پہ حیران ہے کہ امریکہ سپر پاور ہو کے بھی پاکستان سے ابھی بات منوانے میں ہر دن کمزور سے کمزور ہوتا جا رہا ہے، ادھر پاکستانی کی روس سے گہری دلچسپیاں افغانستان میں امریکہ کے لئے نے نئے انداز میں قبرستان بنا رہیں ہیں اس لئے روس پاکستان کا یہ اتحاد امریکہ کے لئے درد سر بن کے رہ گیا ہے، اور ساتھ چاینہ کی نوازشات امریکہ کے لئے اک عذاب سے کم نہیں ، خطہ کی لمحہ لمحہ بدلتی صورت اللہ کے فضل سے پاکستان کے حق میں جا رہی ہے۔ لیکن امریکہ پہلے بھی پاکستان کے نقصان میں تھا اور اب تو امریکہ نے سر گرمیاں اور تیز کر دی ہیں، امریکہ کی ہر بار کی ابلیسی مجلس پاک فوج کے امیج کو نقصان پہنچانے پہ ہوتی ہے لیکن ہر بار پاک فوج کا روشن چراغ امریکی ہواؤں سے نہیں بجھ سکا،

    اب امریکہ کی ساری سازشوں کا نچوڑ یہ نکلا ہے کہ امریکہ اپنی ایجنسیوں کے ذریعے پاکستان میں وہ مخصوص طبقہ خرید رہی ہے جن کی جڑیں پاکستان میں ہر سو پھیلی ہوئ ہیں ان کے ذریعے پاک فوج کے خلاف اربوں روپے کی لاگت سے تیار کمپین چلائی جا رہی ہے اور ہم آئے روز میڈیا اخبار اور خاص کر سوشل میڈیا پر دیکھ رہے ہیں، کئی عناصر پاک فوج کے خلاف اعلانیہ بھونک رہے ہیں اس کی مثال کراچی کا مگر مچھ سامنے ہے، اور سوشل میڈیا پر آئے روز شدت سے اپنا مکروح دھندہ جاری کئے ہوئے، جن کا مقصد پاک فوج کے خلاف مذموم سازشیں ہیں.

    آپ اس پر غور کر سکتے کہ اچانک منظور پشتیں کہیں سے نکل آتا ہے اور کہیں سے اچکزئی نظریہ انگڑائی لینا شروع کر دیتا ہے اور کبھی تو بلوچستان میں پاک فوج خلاف نعرہ بازی شروع ہو جاتی اور ماشاءاللہ کچھ سیاست دانوں کا تو ویسے بھی یہی اول و آخر مشن جاری ساری ہے،

    ہر ملک کی افواج کی طاقت اسکی عوام کی محبت سے ہے جب تک عوام الناس فوج کے ساتھ ہوں ہزار سپر پاور بھی اس فوج کا کچھ نہیں بگاڑ سکتے، اس لئے ہر صوبے میں پاک فوج کو کسی نہ کسی صورت ہدف تنقید بنایا جا رہا ہے،

    یاد رہے ہر مسلم ملک جس کی فوج کمزور تھی اس کی حالت ہم سب اپنی آنکھوں سے دیکھ رہے ہیں وہاں عزتیں غارق ہو گئی ہیں، بھوک و افلاس نے ڈیرے جما رکھے ہیں، امن شانتی کا نام تک نہیں بچا، بچوں کا مستقبل تباہ کے رہ گیا ہے، اور ان مسلم ممالک کا قصور یہ تھا کہ وہ مسلمان تھے اور فوج کمزور رکھتے تھے،۔
    دوستوں بھائیوں اور بہنوں سے گزارش ہے کہ سوشل میڈیا پر پاک فوج کے خلاف اک جنگ جاری ہے آپکا اک کومنٹس اور آپکا اک لائیک بہت معنی رکھتا ہے، اسلئے ایسا کوئ پیج یا پکچر سامنے آ بھی جائے جو پاک فوج کے خلاف ہو تو اسے رد کریں اور اپنی پاک فوج کے ساتھ محبت کا اظہار کریں یہی وہ فوج جس کے حصہ میں غزوہ ہند آئے گی اور انشاء اللہ عوام کی محبت سے اور پاک فوج کی طاقت سے اسلام کا جھنڈا دنیا کے کونے کونے میں نظر آ ہے گا، اور پاک فوج کے دشمن پہلے بھی ذلیل و رسواء ہوئے ہیں اور اب بھی ہوں گے

  • کرونا ویکسین اور عوام کی ہچکچاہٹ .تحریر: ڈاکٹر محمد عمیر اسلم

    کرونا ویکسین اور عوام کی ہچکچاہٹ .تحریر: ڈاکٹر محمد عمیر اسلم

    کرونا وائرس آغاز سے ہی مختلف قسم کے شک شبہات کا شکار رہا ہے۔ ماہرین آج تک اس کے اسٹارٹنگ پوائنٹ کا تعین نہیں کر سکے۔ امریکن ماہرین کا خیال ہے کہ اس کا آغاز ووہان کی ایک لیبارٹری سے ہوا، کچھ ماہرین کہتے ہیں کہ کرونا ووہان کی سی فوڈ مارکیٹ سے پھیلنا شروع ہوا، اور کچھ تحقیقات بتاتی ہیں کہ جب چائنہ میں یہ وائرس پھیلنا شروع ہوا اُس وقت امریکہ میں بھی اِس کے مریض تھے۔

    پاکستان میں اِس وبا کو بھی ایک سازش کے طور دیکھا گیا۔ عوام کی اکثریت نے اس بیماری کو تسلیم کرنے سے ہی انکار کر دیا۔اور طرح طرح کی تاویلیں پیش کی گئی۔

    زہر کے ٹیکے:
    کچھ لوگوں نے ہیلتھ کیئر ورکرز پر الزام لگایا کہ حقیقت میں کرونا کچھ نہیں ہے، پیسوں کی لالچ میں یہ ڈاکٹرز جان بوجھ کر ہر مریض کو کرونا میں ڈال رہے ہیں۔ اور چونکہ ڈاکٹروں کو مریض مارنے کے عوض امریکہ سے ڈالرز ملتے ہیں اس لیے لوگوں کو زہر کے ٹیکے لگا کر اُنکے اعضاء نکالے جا رہے ہیں، اسی وجہ سے میت کو دیکھنے کی اجازت نہیں دی جاتی۔ حالانکہ بُہت سارے ڈاکٹرز، نرسز اور اُنکے گھر والے خود اس بیماری کا شکار ہو گئے۔ اور میت کی تدفین کے لیے ڈبلیو ایچ او کی ہدایات پر عمل کیا جا رہا تھا۔

    مساجد بند کرانے کی سازش:
    بیماری کا پھیلاؤ روکنے کے لیے جب لاک ڈاؤن لگایا گیا تو کچھ لوگوں نے کہا کہ یہ مساجد بند کرانے کی سازش ہے۔ حالانکہ وبا کی صورت میں اسلام نے نہ صرف بیمار اور صحت مند کے اکٹھا ہونے سے منع کیا ہے بلکہ دیگر ضروری اقدامات کا بھی حکم دیا ہے۔

    سلام نے ہمیں سنی سُنائی باتوں کو بغیر تصدیق آگے پھیلانے سے منع فرمایا ہے لیکن ہم نے کرونا وبا میں اس نصیحت پر عمل کرنے کی بجائے سنی سنائی باتوں کو مرچ مسالا لگا کر آگے پھیلایا۔

    وہ لوگ جنہوں نے وبا کے عروج کے وقت حفاظتی تدابیر پر یہ کہہ کر عمل نہیں کیا کہ "موت کا جو وقت معین ہے اس سے پہلے نہیں آ سکتی” اور کرونا وائرس ہمیں کچھ نہیں کہتا” وہ لوگ بھی اس وقت ویکسین سے خوفزدہ ہیں۔

    اپساس سروے:
    بین الاقوامی مارکیٹ ریسرچ ادارے ’اپساس‘ کے پاکستان میں ہوئے ایک حالیہ سروے کے مطابق 39 فی صد افراد تاحال کرونا وائرس سے بچاؤ کی ویکسین لگوانے کو تیار نہیں ہیں۔
    اس سروے میں پوچھا گیا کہ کرونا وائرس کی ویکسین دستیاب ہونے پر کیا آپ اسے لگوائیں گے؟ جس کے جواب میں 61 فی صد افراد نے ہاں جب کہ 39 فی صد نے نفی میں جواب دیا۔

    اس انکار کی وجہ ویکسین کا نئی ہونا نہیں، کیوں کہ کئی سالوں سے حفاظتی ویکسینز استعمال کی جا رہی ہیں اور ویکسین کو کسی بھی نا قابل علاج بیماری سے بچنے کا محفوظ ترین اور موثر ترین طریقہ سمجھا جاتا ہے۔
    کرونا وائرس سے جڑے شک شبہات کی طرح اسکی ویکسین کے متعلق موجود بہت سارے ابہام، شک شبہات اور غلط فہمیاں لوگوں کے انکار کی وجہ ہیں۔

    ویکسین کے متعلق غلط فہمیاں:
    ویکسین کے متعلق پہلے افواہ یہ پھیلائی گئی کہ اِس میں ایک چپ موجود ہے جس کے ذریعے نہ صرف لوگوں کی جاسوسی کی جائے گی بلکہ اس سے اُنکا دماغ بھی کنٹرول کیا جائے گا۔ اس افواہ کو تقویت اس طرح ملی کہ کچھ لوگوں نے ویکسین لگنے کی جگہ پر میگنیٹ چپکانے کی ویڈیو شیئر کیں۔ لیکن حقیقت میں اُس ویڈیو کو بنانے کے لیے بغل کے نیچے بھی میگنیٹ چھپایا گیا تھا۔ بہرحال بُہت سارے لوگ ابھی بھی یہ سمجھتے ہیں کہ یہ ویکسین بھی ایک یہودی سازش ہے اور اس میں چپ موجود ہے جس کے ذریعے مسلمانوں کا ذہن کنٹرول کیا جائے گا۔

    میگنیٹ والی تھیوری کے بعد ایک نئی تھیوری پیش کی گئی کہ ویکسین لگوانے والے دو سال میں وفات پا جائیں گے، اور اس کو تقویت دینے کے لیے ایک نوبل انعام یافتہ سائنس دان کی تحقیق کا حوالہ بھی دیا گیا۔ حقیقت میں اُس تحقیق میں بڑے پیمانے پر ویکسینیشن کی وجہ سے وائرس کے زیادہ مضبوط ہونے کا خدشہ ظاہر کیا گیا تھا۔ لیکن یہاں کچھ لوگوں نے اُسکو بالکل تبدیل کر کے پھیلایا۔

    ویکسین سے متعلق اس خوف و ہراس کی وجہ غیر تصدیق شدہ باتوں کا پھیلاؤ ہے۔ ہم لوگ اپنی مشہوری کے لیے نہ صرف خود سے کہانیاں گھڑ لیتے ہیں بلکہ مرچ مسالا لگا کر دوسروں کو بھی پریشان کرتے ہیں۔دوسری وجہ یہ بھی ہے کہ ہم متعلقہ ماہرین کی تحقیق اور ہدایات پر غیر متعلقہ لوگوں کی ذاتی رائے کو فوقیت دیتے ہیں۔

    ویکسین کے سائڈ ایفیکٹس:

    ویکسینز عموماً بُہت زیادہ محفوظ ہوتی ہیں لیکن ہر ویکسین کے کچھ معمولی سے مضر اثرات ہوتے ہیں۔ جو کہ دراصل ہمارے جِسم کے دفاعی نظام کے فعال ہونے کی نشانی ہوتے ہیں۔ ویکسین لگنے کے بعد عمومی طور پر ہلکا پھلکا بخار، جسم درد، جوڑوں میں درد، ٹیکہ لگنے کی جگہ پر اکڑاؤ اور درد وغیرہ ہو سکتا ہے جو کہ ایک دو دن میں ٹھیک ہو جاتا ہے، لیکن یہ ایک دن کی تکلیف ہمیں جان لیوا بیماری سے بچا لیتی ہے۔

    کچھ لوگوں میں کسی جینیاتی مسئلے کی وجہ سے کچھ شدید سائڈ ایفیکٹس بھی آئے ہیں جن میں خون کا جمنا (آسٹرا زنيكا) اور دل کے مسلز کا ہلکی نوعیت کا انفیکشن (فائزر) شامل ہیں۔ لیکن ان کی شرح تقریباً 0.0004٪ ہے (1000000 افراد میں 4 کیسز) لیکن بیماری کی وجہ سے انہی مسائل کی شرح 16.5٪ ہے(1000000 افراد میں 165000 کیسز)۔

    شرح اموات میں کمی:
    گزشتہ ایک مہینے کے ریکارڈ کے مطابق، امریکہ میں کرونا کی وجہ سے ہونے والی اموات کی شرح اُن لوگوں میں زیادہ ہے جنہوں نے ویکسین نہیں لگوائی۔ 99.2 فیصد اموات ویکسین نا لگوانے والوں کی ہوئی ہیں۔(18150 میں سے 18000 اموات ویکسین نا لگوانے والوں کی ہوئی ہیں)

    دُنیا میں ویکسینیشن کی شرح:
    اسرائیل 60٪، بحرین 55٪، انگلینڈ 47٪، امریکہ 45٪
    جرمنی 34٪، ڈنمارک 30٪، فرانس 26٪، کینیڈا 23٪،
    چائنا 16٪، انڈیا 14٪، روس 11٪، پاکستان 2٪
    مندرجہ بالا شرح ویکسین کی دونوں خوراکوں کے حساب سے ہے۔ یہ واضح ہے کہ ویکسین کو جن یہودیوں کی سازش کہا جا رہا ہے اُنہوں نے سب سے زیادہ ویکسینز لگوائی ہیں۔ یاد رہے بیماری ایک سازش ہو سکتی ہے علاج نہیں۔ کیوں کہ علاج کی ضرورت سازش کرنے والوں کو بھی پڑتی ہے۔

    عمومی شک و شبہات اور اُنکے جوابات

    1) کیا واقعی ویکسین میں چپ موجود ہے؟
    بالکل بھی نہیں۔ ویکسین عام طور پر مردہ وائرس یا نقلی وائرس (بیماری پھیلانے والے وائرس کا ہم شکل) سے بنائی جاتی ہے۔ اس میں کسی چپ کی موجودگی ممکن نہیں۔
    بالفرض اگر چپ موجود ہو بھی تو وہ انجکشن میں تیرتی نظر آنی چاہئے جو کہ نہیں آتی، اور چپ کا سرنج سے گزرنا ممکن نہیں۔ اور ایسی چپ بنائی ہی نہیں جا سکی جو عام آنکھ سے نظر نہ آئے۔

    2) کیا ویکسین لگوانے والے 2 سال میں مر جائیں گے؟
    اس سوال کا جواب بھی نہیں میں ہے۔ ویکسینز جان بچانے کیلئے بنائی جاتی ہیں۔ اور آج تک کسی بھی شخص کی موت واقع نہیں ہوئی۔ زندگی اور موت کا اختیار اور علم صرف اللہ تعالیٰ کو ہے۔

    3) کیا ویکسین سے بانجھ پن کا خطرہ ہوگا؟
    کوئی بھی زندہ وائرس صرف متعلقہ بیماری پھیلا سکتا ہے، اور مُردہ وائرس صرف متعلقہ بیماری سے بچا سکتا ہے۔ ویکسین سے کسی اور بیماری کا امکان نہیں ہوتا۔ اور بحثیت مسلمان ہمارا ایمان یہ ہے کہ اولاد دینے کا اختیار بھی صرف اللہ تعالیٰ کو ہے۔

    4) زبردستی ویکسین کیوں؟
    انفرادی طور پر کسی بھی شخص کو زبردستی ویکسین نہیں لگائی جاتی۔ لیکن بحثیت معاشرہ ہماری زمہ داری ہے کہ ویکسین لگوا کر اپنے آپ کو محفوظ بنائیں۔ کچھ ادارے اپنی ملازموں کی حفاظت کے لیے ویکسین لگوانے کے لیے دباؤ ڈال سکتے ہیں کیوں کہ وہاں آپ کے ساتھ کئی دیگر لوگ بھی موجود ہوتے ہیں۔ آپ کی وجہ سے کس دوسرے کو بیماری ہو جائے تو زمہ دار آپ ہی ہوں گے۔
    5) جن میں وائرس نہیں اُن میں وائرس کیوں داخل کریں؟
    ویکسینز میں صحتمند وائرس نہیں ہوتا۔ یا تو وائرس کو کیمیکل سے مار دیا جاتا ہے یا اپاہج کر دیا جاتا ہے۔ اس لیے یہ بیماری نہیں پھیلا سکتے۔ کچھ ویکسینز میں وائرس کی خاص پروٹین (آسان الفاظ میں شکل) کسی دوسرے وائرس میں لگا دی جاتی ہے، جس سے ہمارا جِسم ہوشیار ہو جاتا ہے لیکن بیمار نہیں ہوتا۔

    6) آسٹرا زینیکا ویکسین اور 40 سال سے کم عمر افراد؟
    حال ہی میں لوگوں کی ڈیمانڈ پر پاکستان میں 40 سال سے کم عمر افراد کو آسٹرا زینیکا ویکسین لگانے کا آغاز کیا گیا ہے۔ عام حالات میں ‌‌‌‎آسٹرا زنیکا ویکسین 40 سال سے کم عمر افراد کے لیے نہیں ہے۔ ان کے لیے دیگر ویکسینز موجود ہیں، لیکن اس کے باوجود 40سال سے کم عمر والا کوئی شخص یہ ویکسین لگوانا چاہتا ہے تو وہ اپنی زمہ داری پر ہی لگوائے گا۔ (گورنمنٹ اس کا مشورہ نہیں دیتی) ۔

    ضرورت اس امر کی ہے ہمیں اپنے اللّٰہ پر کامل یقین رکھتے ہوئے ان افواہوں پر توجہ نہیں دینی چاہئے اور متعلقہ ماہرین کی ہدایات پر عمل کرنا چاہئے۔

  • ,”ڈو مور سے نو مور تک” تحریر:محمد محسن

    ,”ڈو مور سے نو مور تک” تحریر:محمد محسن

    چند دن پہلے آپ نے Absolutely Not کی تو خوب دھوم سنی ہو گی۔ عمران خان کے امریکی ٹی وی کو دئیے گئے انٹرویو میں جب پاکستان سے فضائی اڈوں کا مطالبہ کیا گیا تو بدلے میں ملنے والے بیان نے اینکر پرسن کو حیرانی میں مبتلا کر دیا۔ اسے یقین تھا کہ پاکستانی حکمران ٹی وی پر بیٹھا جب لائیو انٹرویو دے رہا ہو گا تو تاریخی معمول کے مطابق ہاں بولے گا یا پھر شاید بات کو گھما پھرا دے گا۔ لیکن اس کو کیا معلوم تھا کہ اس بار تو ساری گیم ہی الٹ جائے گی۔ اس واضح نا نے تو عالمی منظر نامے پر اک کھلبلی مچا کر رکھ دی۔ کھلبلی مچتی بھی کیوں نہ کیونکہ ہمیشہ سے ہمارا یہ معمول رہا کہ جب بھی امریکہ مدد کے لیے ہمارے پاس آیا تو ہم نے ان کے لیے دل و جان سے انکی خوب آہ و بھگت کی اور ان کو ہر ممکن بلکہ نا ممکن مدد بھی فراہم کی سوائے چند اک مواقعوں کے۔ دل میں یہی تمنا لیے اس دفعہ بھی پہلے امریکی انٹیلیجنس کا ڈائریکٹر اور بعد میں ٹی وی اینکر آئے لیکن دونوں کو کوئی خاص لفٹ نہیں کروائی گئی۔ ماضی میں کیا کیا ہوتا رہا آئیے پہلے اک نظر اس پہ ڈال لیتے ہیں۔ پاکستان بننے کے بعد اس وقت کی دونوں سپر پاورز کے انویٹیشنز پاکستان کو موصول ہوئے۔ سوویت یونین کے تعلقات پہلے سے ہی انڈیا خاص طور پر نہرو فیملی سے اچھے ہونے کی بنا پر اس وقت کے پاکستانی وزیر اعظم نے امریکہ کو منتخب کیا۔ جس پر تب سے لیکر آج تک تنقید ہوتی آئی ہے۔ خیر تب کے حالات کے مطابق جو ان کو بہتر لگا انہوں نے کیا۔ ہمیں انڈیا کے مقابلے میں اک ایسا طاقتور حلیف چاہیئے تھا جو مشکل میں ہماری مدد کر سکتا ۔ دوسری جانب امریکہ کو ساؤتھ ایشیاء میں اک ایسا حامی ملک چاہیئے تھا جو اس خطہ میں سوویت یونین کا پھیلاؤ روکنے میں اسکا مددگار ثابت ہو۔ لہٰذا لیاقت علی خان کے دور میں پہلی بار امریکہ نے پاکستانی سر زمین میں اڈے مانگے لیکن لیاقت علی خان نے انکار کردیا۔ یہ انکار دونوں ملکوں کے باہمی تعلقات میں سرد مہری کا باعث نہ بنا جیسا کہ عموماً ہوتا ہے۔ اس کے بعد ایوب خان کے دور تک پاکستان مختلف امریکی فوجی اتحادوں میں ان کے ساتھ شامل ہوا جسکی بدولت پاکستان کو فوجی اور معاشی امداد ملتی رہی۔ اسی دوران میں حسین شہید سہروردی وہ پہلا پاکستانی وزیر اعظم تھا جس نے 1956 میں پشاور کا ائیر سٹیشن امریکہ کو لیز پر دیا تاکہ وہ سوویت یونین کی جنوبی ایشیاء میں بڑھوتری پر اک نظر رکھ سکے۔ اس کے بعد یکے بعد دیگرے اک ایسا سلسلہ شروع ہو جو کہ اکیسویں صدی کے اوائل تک جاری رہا۔ ایوب خان کے دور میں تو باہمی تعلقات نقطہء عروج تک جا پہنچے وہ تو پاکستان- انڈیا کی 1965 کی جنگ شروع ہو گئی جس نے امریکی عیاری کو ظاہر کر دیا نہیں تو شاید وہ اک وقفہ جو اس جنگ کے بعد رونما ہوا کبھی نہ ہوتا۔ اسی اک مختصر وقفہ کے دوران پاکستان نے امریکہ کے علاؤہ دوسرے ممالک کے ساتھ بھی تعلقات بڑھانے شروع کر دئیے۔

    پاکستان-انڈیا کی 1965 اور 1971 کی یکے بعد دیگرے جنگوں نے امریکی دوستی کا بھانڈا پھوڑ دیا تھا۔ جسکی وجہ سے ذوالفقار علی بھٹو نے اقتدار میں آتے ہی سوویت یونین اور چین کے ساتھ تعلقات استوار کرنے شروع کر دئیے تھے۔ بھٹو کو بہرحال یہ کریڈٹ ضرور جاتا ہے کہ اس وقت بھٹو نے پہلے والی غلطی نہ دہرائی۔ بھٹو نے چین اور سوویت یونین کے ساتھ ساتھ امریکہ کے ساتھ بھی تعلقات بحال رکھے جسکی وجہ سے اس نے بیک ڈور ڈپلومیسی کے ذریعے امریکہ اور چین کے تعلقات کی راہ ہموار کی۔ بھٹو سوویت یونین سے انویسٹمنٹ لے کر آیا جسکی بدولت پاکستان میں سٹیل مل لگی۔ اس دوران میں چین ابھی اتنا طاقتور اور اہم نہیں تھا کہ اس پر مکمل انحصار کیا جاتا۔ دوسرا بھٹو کیپیٹل ازم کی بجائے سوشلزم کو زیادہ اہمیت دیتا تھا۔ اگرچہ اس دورانیہ میں امریکہ اور پاکستان کے درمیان کوئی خاص پیش رفت نہ ہوئی لیکن پھر بھی امریکہ نے بھٹو کو اپنے پیش نظر رکھا جسکی سب سے بڑی وجہ پاکستان کا ایٹمی پروگرام تھا۔ ایوب خان کے دور کے بعد تعلقات جس سرد مہری کا شکار ہوئے تھے وہ ضیاء الحق کے آنے کے بعد گرمجوشی میں بدل گئے۔ ضیاء الحق پاکستان کا شاید پہلا حکمران تھا جس کو امریکہ میں فرسٹ کلاس پروٹوکول دیا گیا۔ وہ ڈیمانڈز جو ہوائی اڈوں پر منحصر ہوتی تھی اب کی بار بہت آگے چلی گئیں۔ قصہ مختصر یہ کہ پاکستان اک پرائ جنگ میں کود پڑا جس میں نہ صرف اڈے دئے گئے بلکہ انٹیلیجنس، ٹریننگ کے ساتھ ساتھ لڑنے کے لیے مجاہدین بھی فراہم کیے گئے۔ اس کے بدلے میں خوب امداد بھی ملی۔ سوویت یونین کی فوجوں کے انخلاء کے ساتھ ہی پاکستان پر شدید معاشی پانبدیاں لگا دی گئیں جو کہ اکیسویں صدی تک جاری رہیں۔ مجاہدین کی سوویت یونین کے ساتھ جنگ کے خاتمے کے فوراً بعد وہی امریکہ جس کو پتہ تھا کہ پاکستان ایٹمی پروگرام پر کام کر رہا ہے نے فوراً پاکستان پر شدید قسم کی معاشی پانبدیاں لگا دیں۔ جنگ کے بدلے میں ملنے والی فوجی اور معاشی امداد کو فوراً بند کر دیا گیا۔ مختصر یہ کہ بیسویں صدی کا آخری عشرہ پاکستان کے لیے بہت تنگدستی والا عشرہ تھا۔ وہ تو بھلا ہو چین اور سعودی عرب کا جنہوں نے اس مشکل ترین صورتحال میں بھی پاکستان کا ساتھ دیا۔ 9/11 کے بعد افغانستان میں وار آن ٹیرر شروع کی گئی اور وہی امریکہ جو 1989 کے بعد ہمرے طرف سے منہ فیر گیا تھا اک بار پھر بھاگا بھاگا پاکستان کے پاس آیا اور مدد طلب کی جس میں فوجی اڈے سرفہرست تھے۔ اس بار انکا خیال تھا کہ پاکستان یا تو فوجی اڈے نہیں دے گا یا پھر سخت شرائط منوائے گا جس کہ لیے وہ پہلے سے ہی تیار تھے۔ لیکن قربان جائیں اپنے جنرل پرویز مشرف سے جنہوں نے سب کی سب امریکی شرائط کو من و عن یہ کہہ کر قبول کر لیا کہ پاکستان کے پاس اس کے علاؤہ اور کوئی آپشن ہی نہیں تھی۔ وہ امریکہ جو اپنی شرائط میں سے کچھ کے مانے جانے پر مرکوز تھا اسکی سب شرائط کو تسلیم کر لیا گیا۔ اس بات پر امریکی خود بھی شسدر رہ گئے کہ وہ پاکستان جس کو ہمیشہ ہم نے اپنے مفادات کے لیے استعمال کیا اس نے پھر ان کا بھرپور ساتھ دینے کی حامی بھر لی۔ خیر یہاں سے نا تو امریکی پھولے نہ سما رہے تھے اور نہ ہی مشرف کی کابینہ۔ یہاں سے پاکستان میں ڈرون حملوں اور ڈو مور کا اک ایسا سلسلہ شروع ہو جو کہ عمران خان کے آنے تک جاری رہا۔

    یہ ڈرون حملے اور ڈو مور کا تانا بانا مشرف دور سے شروع ہوا اور پیپلز پارٹی کے دور میں اپنے عروج پر پہنچا۔ پیپلز پارٹی کی حکومت اک طرف تو ڈرون حملوں کی اجازت دیتی رہی تو دوسری طرف انکو تنقید کا نشانہ بھی بناتی رہی۔ وہ تو بعد میں وکی لیکس کے دوران یہ واضح ہوا کہ پیپلز پارٹی نے تو ان ڈرون حملوں کے بارے میں ڈبل سٹینڈرڈز پالیسی اختیار ہوئی تھی۔ ہماری جنریشن کو جب تھوڑی بہت سیاست کی سمجھ آنے لگی تب سے ہم تو امریکہ کی جانب سے اک ہی آرڈر سنتے آئے ہیں "ڈو مور”. یہ ڈو مور کا سلسلہ بش جونیئر سے شروع ہوا اور اب شاید اختتام کو پہنچ رہا ہے۔ جارج بش، کی دو ٹرمز اور اس کے بعد باراک اوباما کی دونوں ٹرمز تک یہ اپنے فل آب و تاب سے جاری رہا۔ ہمارے جیسے بچے تب سوچتے تھے کہ کیا مجبوری ہے کہ اک امریکی صدر یا کوئی امریکی حکومت کا نمائندہ جب بھی پاکستان آتا ہے یا یہاں سے ہمارے حکمران وہاں جاتے ہیں تو ڈو مور کی ہی آواز آتی ہے۔ ویسے کیسی پالیسی تھی کہ پاکستان نے اپنے ہی اڈے دیئے اور اپنے ہی لوگ ان کے ہاتھوں سے مروا رہے تھے۔ یہ ٹھیک ہے کہ جو دہشت گرد تھے ان کے خلاف آپریشن کیا جاتا لیکن کسی نے سوچا کہ اب تک تقریباً اسی ہزار مرنے والے پاکستانیوں میں سے کتنے دہشت گرد تھے اور کتنے معصوم۔ عمران خان نے ہماری جنریشن کو اسی لی ہی فیسینیٹ کیا کہ یہ بندہ واحد تھا جس نے ڈرون حملوں اور نیٹو سپلائی کی مخالفت کی۔ اسی لیے پاکستانیوں خاص طور پر یوتھ نے اسکا ساتھ دیا کہ یہ بندہ کچھ کرے گا۔ ہاں اگرچہ حکومت میں آنے کے بعد عمران خان نے اپنے کئی وعدے پورے نہیں کیے لیکن اک بات پر قائم رہا کہ امریکہ کے ساتھ برابری کے تعلقات ہوں گے اگر ہوئے تو۔ جب ڈونلڈ ٹرمپ اقتدار میں آیا تو اس نے آتے ہی پاکستان کے متعلق اپنے پہلے ٹویٹ میں کچھ ایسی زبان استعمال کی جسکا عرف عام میں مطلب ڈو مور تھا۔ لیکن جوابی ٹویٹ میں عمران خان نے بھی وہی لہجہ استعمال کیا ۔ جب عمران خان امریکی دورے پر گیا تو معمول سے ہٹ کر پاکستان کی نمائندگی کی۔ اس نے روایتی حکمرانوں کی طرح امداد کی بھیک نہیں مانگی یہاں تک کہ امداد کا لفظ تک استعمال نہیں کیا۔ پچھلے ہفتہ میں امریکی ٹی وی دئیے جانے والے انٹرویو میں عمران خان نے امریکہ کے متعلق وہی رویہ، وہی پالیسی اختیار کی جسکا ذکر پچھلے بیس سالوں سے کرتا آرہا تھا۔ خیر عمران خان نے absolutely not تو کہہ دیا اب امریکہ اور ایورپ کی جانب سے اسکا ری ایکشن بھی آسکتا ہے جس کے لیے پاکستان کو تیار رہنا ہوگا۔ عمران خان نے لیاقت علی خان کی طرح جو پالیسی آج اختیار کی اگر یہ پالیسی پاکستانی حکمران شروع سے اختیار کرتے تو آج حالات مختلف ہوتے۔ آج پاکستان اپنے قدموں پر کھڑا ہو چکا ہوتا۔ آج پاکستان آئی۔ایم۔ایف، ورلڈ بینک اور فیٹیف پر انحصار نہ کر رہا ہوتا کیونکہ انہی اداروں اور امریکہ نے شروع سے پاکستان کو اپنی امداد پر لگا دیا جسکی وجہ سے ہم آج تک معاشی طور پر اپنے پیروں پر کھڑے نہ ہو سکے اور نہ ہی ہم نے اس کے لیے تگ و دو کی۔

  • ظلمت کے راستے .تحریر : ریحانہ جدون

    ظلمت کے راستے .تحریر : ریحانہ جدون

    ظلمت اور نور کے دو راستے ہیں جب ھم اللہ تعالٰی کی باتیں مانتے ھیں تو نور کا راستہ اختیار ھو جاتا ھے اور جب ھم شیطان کا راستہ اختیار کرتے ھیں تو ظلمت کا راستہ بن جاتا ھے اللہ تعالیٰ نے جتنی باتیں کہی ھیں اور جتنا فرمان الٰہی ھے اس کے کرنے سے ھم نور کے راستے میں آجا تے ہیں اور اگر شیطان کی باتوں میں آجاتے ھیں تو ظلمت میں آجاتے ہیں
    اور جس طرح جھوٹ سب برائیوں کی جڑ ہے اسی طرح جب کسی قوم میں انصاف کا نظام سہی نہ ہو وہ قومیں تباہ ہوجاتیں ہیں لیکن افسوس سے کہنا پڑ رہا ہے یہاں ہر چیز خواہ وہ زندگی ہو, موت ہو, عزت ہو , غیرت ہو یا انصاف ہو سب بک جاتا ہے.
    سچ کے نام پہ جھوٹ بِکتا ہے قابلیت کے نام پہ جہالت بکتی ہے, پیسے کے نام پر یہاں سب کچھ بِکتا ہے.
    ایک غریب سے اگر چھوٹا سا جرم ہوجائے تو اُسکی ساری زندگی یا تو پیشیاں بھگتنے میں یا پھر جیل میں گزر جاتی ہے , ہاں اگر آ پکے پاس پیسہ ہے تو اتوار کو بھی عدالت آ پکا کیس سننے کے لئے لگائی جاسکتی ہے.
    افسوس کئی بےگناہ جیل میں ہی وفات پا گئے اور اُنکی وفات کے بعد عدالت نے اُنکو بےگناہ قرار دیا جی ہاں یہ ہے غریب کے لئے انصاف کی رفتار

    کیا انصاف کی فراہمی ہر پاکستانی کا بنیادی حق نہیں ہے, اگر انصاف کی فراہمی ہر پاکستانی کا حق ہے تو چھوٹے موٹے مقدمات کی سماعت میں 5 سے 7 سال کیوں لگ جاتے ہیں ؟؟
    کیوں غریب انسان عدالتی نظام کو بددعائیں دیتا نظر آ تا ہے؟

    جواب اسکا آ سان ہے غریب کی درخواست ہزاروں فائلوں کے نیچے دب جاتی ہے. اس مفلوج نظام سے ملک وقوم کو انصاف کی امیدیں وابستہ ہیں لفظ آ یا ہے قوم تو ایک سوا ل اور پوچھنا چاہتی ہوں وہ یہ کہ کیا واقعی ہم ایک قوم ہیں ؟؟
    افسوس اس معاشرے میں اتنا بگاڑ پیدا ہوگیا ہے کہ اس میں رہنے کے لئے اپنے ضمیر کو مارنا ہوگا جو سچ بولتے ہیں ان کو چپ کروانا ہوگا…..
    انصاف کے لئے عدل کے ترازو میں رشوت اور اپنے حق کے لئے سفارشی کلچر اپنانا ہوگا کیونکہ یہاں انسانی جان تک کی کوئی قدر و قیمت نہیں, یہاں انسانی خون اتنا سستا ہوچکا ہے کہ سڑک پہ کوئی انسان ایڑیاں رگڑ کر مر رہا ہو تو لوگ اُسکو دیکھ کے رکیں گے ضرور ( ویڈیو بنانےکے لئے)
    مگر اُسکی مدد نہیں کریں گے.
    حقیقت میں ہم ایک قوم ہے ہی نہیں بلکہ لوگوں کا ہجوم ہیں جو اپنے اپنے مفادات کی دلدل میں دھنستا جا رہا ہے اور زلت اسکا مقدر بنتی جارہی ہے .
    دیکھا جائے تو یہاں نفرت بیچنے والے بھی جا بجا دکھائی دیتے ہیں جو محبت کی بجائے فرقہ پرستی کی تجارت کرتے ہیں
    یہاں سستے داموں اپنی مرضی کےفتوے مُفتی سے
    آ سانی سے مل جاتے ہیں …..
    ہمیں اس ظلمت کے راستے سے واپس اُجالوں کی طرف لوٹنا ہوگا, خوشحالی ہماری منزل ہے ترقی کی راہیں ہماری منتظر ہیں, ہمیں اندھیروں سے پیچھا چھڑانا ہوگا اور یہ تبھی ممکن ہے جب ہر ایک اپنے حصے کی زمہ داری پوری ایمانداری سے نبھا ئے گا