Baaghi TV

Category: معاشرہ و ثقافت

  • اسلام اور نظریہ پاکستان .محمدعادل حسین

    اسلام اور نظریہ پاکستان .محمدعادل حسین

    اسلام اور نظریہ پاکستان .محمدعادل حسین
    ھوَالَّذِیۡ خَلَقَکُمۡ فَمِنۡکُمۡ کَافِرٌ وَّ مِنۡکُمۡ مُّؤۡمِنٌ ؕ وَ اللّٰہُ بِمَا تَعۡمَلُوۡنَ بَصِیۡرٌ ﴿۲﴾
    (سورة التغابن)
    اسی نےتمہیں پیدا کیا پس تم میں سے بعض تو کافر ہیں اور بعض ایمان والے ہیں اور جو کچھ تم کر رہے ہو اللہ تعالٰی خوب دیکھ رہاہے

    نظریہ سے مراد وہ مستحکم سوچ ہے جو آپ کو عملی زندگی میں قدم اٹھانے پر مجبور کرے.
    یا
    کسی چیز کے بارے میں کوئی تصور، حکیمانہ رائے یا خیال، خصوصی فکر، حکیمانہ بات، نچوڑ

    اور
    فلسفہ کے لحاظ وہ تصور یا ادراک جو ایک نوع کے کل افراد پر حاوی ہو، تصور کلی، لائحہٗ عمل، فکری مسئلہ
    یا یوں کہہ لیں کہ
    کسی مسئلے میں نظری اور فکری اختلاف کے لحاظ سے مخصوص نقطہٗ نظر

    وطن عزیز کی بنیاد جس نظریے پہ قائم ہوئی اسے نظریہ پاکستان کہتے ہیں

    نظریہ پاکستان کواگر اسلامی نظریہ حیات کہا جاۓ تو یہ بے جا نہ ہوگا کیونکہ یہ وہ دعوت ہے جس کو رب العالمین نے انسانیت کی راہنمائی کیلۓ بھیجے گۓ ہر نبی اور رسول دےکے بھیجا تاکہ اس کے ذریعےوہ انسانیت کو انکی تخلیق کامقصد اورخالق ومعبود کی پہچان کرواسکیں

    اور وہ دعوت تھی کلمہ لَا إِلٰهَ إِلَّا اللّٰهُ

    نبی رحمت محمدمصطفیٰ‎‎ﷺ نے سب پہلے اپنی قوم کو جو دعوت دی وہ یہی تھی اور یہی کلمہ دنیا وآخرت کی حقیقی کامیابی ہے اور اسی دعوت اسی کلمہ پہ وطن عزیز کی بنیاد رکھی گئی

    کیونکہ برصغیر میں الگ نظریات کی حامل دوایسی قومیں آباد تھی جن کی طرز زندگی ،معاشرت،عبادت ،سیاست وعدالت سب مختلف تھے ایک قوم اسی کملہ لَا إِلٰهَ إِلَّا اللّٰهُ مُحَمَّدٌ رَسُولُ اللّٰهِ کاعقیدہ رکھنے والی خدائے واحدپرستاردوسری لاکھوں خداؤں کی پجاری .ایک اپنے رب کےاس حکم
    فَصَلِّ لِرَبِّکَ وَ انۡحَرۡ ؕ﴿۲﴾
    (الکوثر)
    پس تُو اپنے رب کے لئے نماز پڑھ اور قربانی کر ۔

    پر عمل کرتے ہوئے جانور ذبح کرنے والی اور دوسری ان کواپنا معبود ماننے والیایک قوم المسلم اخ المسلم دعوت پر عمل پیرا دوسری اونچ نیچ کو ترجیع دینے والی ایک قوم کی برتری کامعیار تقوی اور دسری برادری ازم کو فروغ دینے والی ‎ایسے میں دونوں کا اکٹھے رہنا ممکن نہیں تھا .اور مسلمانوں نے کامطالبہ کیا تاکہ وہ اپنے دین کے مطابق آزادی سے زندگی بسر کر سکے اور یہ یہی نعرہ نگرنگر گلی گلی لگایا کہ اس دعوت اس کلمے کی بنیاد پہ کہ جوابدی واخری کامیابی ہے .پاکستان مطلب کیا؟ لاالہ الا اللہ

    اگرچہ مٹھی بھر لوگ تھے مگر ان کو کامیابی اسی نظریے اور سوچ کی وجہ سے ملی کیونکہ یہ خود ساختہ یازمینی نہیں بلکہ آسمانی تھا اورجذبہ بھی سچا تھا اللہ نے اپنی نصرت بھی اسی وجہ کی اگرچہ مخالفین کی تعداد کئی گناہ تھی کہ اپنے مخالفین کی صفوں میں نظر آئے ،
    وطن تو حاصل کر لیا مگر اس نظرے کو عملی جامہ پہنانے سے آج تک قاصر رہے

    وطن عزیز کو لاحق تمام مسائل کا حل صرف ایک آؤ اس نظریئے طرف لوٹ چلیں
    کیونکہ
    نظریہ پاکستان ہی حقیقت میں بقائے پاکستان ہے

    والسلام

  • "عورت اور مرد لازم و ملزوم” تحریر: حافظ اسامہ ابوبکر

    "عورت اور مرد لازم و ملزوم” تحریر: حافظ اسامہ ابوبکر

    اس میں کوئی دو رائے نہیں کہ اللہ تعالیٰ نے عورت کو ناقص العقل اور کم فہم بنایا ہے تو دوسری طرف عورت کی سادگی و بھولپن کو بھی لائق محبت رکھا عورت کتنی ہی غیر معمولی کیوں نہ ہو مرد کی ہوش مندی و ہوشیاری سے مات کھا جاتی ہے مرد کو اوصاف میں مقام میں برتری حاصل ہے اور اس کو سجتا بھی ہے کہ وہ اپنی برتری کا استمعال کرے حاکم بن کر نہیں بلکہ ایک زمہ داری ولی بن کر عورت کو ساتھ لے کر چلے اس کی اہمیت کو تسلیم کرے کیوں کہ عورت
    ہمیشہ سے مضبوط، خود سے بہتر و برتر، سہارے کی تلاش میں رہتی ہے
    اسے پسند ہے مضبوط اور محفوظ حصار میں رہنا مرد جتنا مضبوط ہو گا عورت خود کو معاشرے میں اتنا ہی زیادہ معتبر اور با وقار سمجھتی ہے
    مرد محبت کو بھی اپنے تابع رکھنا چاہتا ہے جب دل کیا دو لفظ محبت کے بول کر عورت کو رام کر لیا اور جب چاہا اسکی زات کی توہین و تذلیل کر دی
    مرد ہمیشہ خود کو برتر ہستی سمجھتا ہے اور سمجھنا چاہیے بھی لیکن دوسرا پہلو بھی مد نظر رکھنا چاہیے صنف نازک بھی انسان ہے اسکی بھی خواہشات ہیں اسکی مرضی بھی معنی رکھتی ہے لیکن بقول
    مشتاق احمد یوسفی کے’’بعض مَردوں کو عشق میں محض اس لیے صدمے اور ذلّتیں اٹھانی پڑتی ہیں کہ محبت اندھی ہوتی ہے کا مطلب وہ یہ سمجھ بیٹھتے ہیں کہ شاید عورت بھی اندھی ہوتی ہے
    جو کہ سرا سر غلط اور قابل نفی حقیقت ہے
    عورت ہمیشہ مرد کو ہر طرح سے جانچتی ہے معاشرتی لحاظ سے اسکا اسٹیٹس بھی دیکھنا ضروری ہے اور یہ اسکا بنیادی حق ہے محض محبت کے ورد پر زندگی نہیں گزرتی بہرحال زندگی کے حقائق سے انحراف ممکن نہیں
    مرد اور عورت لازم و ملزوم ہیں اور یہ کبھی نہ ختم ہونے والی بحث ہے جو ہمیشہ سے چلتی آئی ہے لیکن مرد کی فضیلیت کو تسلیم کرنا چاہیے اور یہی حقیقت عورت کو ہمارے معاشرے میں معتبر کرتی ہے
    مرد و زن دونوں ہی ہمارے معاشرے کا لازمی حصہ ہیں ایک کا کردار دوسرے سے مشروط ہے اور دونوں ایک دوسرے کو مضبوط کرتے ہیں
    اور اگر بات کی جائے تربیت کی تو اس سے انکار ممکن نہیں کہ تربیت اگر بیٹی کو دینی ضروری ہے تو بیٹا بھی ایک متوازن شخصیت بننے کے لیے مکمل تربیت کا محتاج ہے
    اگر لڑکی ماں اور بیوی کے کردار میں اہم ہے تو ایک مرد بھی باپ یا شوہر ہونے کے ناطے خاندان کی مضبوطی میں ریڑھ کی ہڈی کی حیثیت رکھتا ہے ماں اور باپ دونوں مل کر ہی ایک صحت مند خاندان کی بنیاد رکھتے ہیں کوئی ایک کبھی بھی دوسرے کی کمی کبھی پوری نہیں کر سکتا اس حقیقت سے بھی
    انکار نہیں کہ بچوں کے لیے پہلی درسگاہ ماں کی گود ہے تو باپ بھی اس تربیت گاہ کا ایک اہم اور بنیادی کردار ہے۔کسی بھی بچے کی تربیت کے لیے نہایت ضروری ہے کہ گھر کا ماحول سازگار ہو اور اس ماحول کو بنانے والےمرد اور عورت والدین ہونے کا فریضہ احسن طریقے سے سر انجام دیں اور یہی ہمارے معاشرے کے لئے ضروری اور خوب صورت پہلو ہے جو ہمیں دوسرے معاشروں سے ممتاز رکھتا ہے۔
    زہرا نگاہ نے عورت کا مقام یوں بیان کیا ہے
    "ایک کے گھر کی خدمت کی اور ایک کے دل سے محبت کی
    دونوں فرض نبھا کر اس نے ساری عمر عبادت کی”

  • شکریہ مصطفیٰ کمال .تحریر عقیل احمد راجپوت

    شکریہ مصطفیٰ کمال .تحریر عقیل احمد راجپوت

    32سالوں میں ہر قسم کی حمایت کے باوجود آج تم لوگ گٹر کا پانی پینے پر مجبور ہو ایم کیو ایم کو گیارہ بار الیکشن جتوانے کی پہلی شرط کوٹہ سسٹم کا خاتمہ تھا مہاجر قومی فنڈ سے حاصل کئے گئے فنڈز سے مہاجروں کے لئے چھوٹے کارخانے لگنے تھے جس میں وہ عزت کے ساتھ نوکری کرنے والے تھے مہاجروں نے تو فنڈ دیا کیا کارخانے لگیں سوال چھوڑے جارہا ہوں مہاجر پورے پاکستان کی سب سے زیادہ پڑھی لکھی قوموں میں شمار ہوا کرتی تھی لوگ پورے پاکستان سے تہذیب سیکھنے کراچی آیا کرتے تھے پھر یہ ہوا کہ مہاجر پورے پاکستان میں ٹارگٹ کلرز کی نظروں سے دیکھا جانے لگا 3 مارچ کو واپس آکر مصطفیٰ کمال نے مجھے عزت اور احترام واپس دیا میں اپنے اللّٰہ کے سامنے سرخرو ہو گیا میں مہاجر منجن والوں کا اعلیٰ کار نہیں، مجھے مہاجر ہونے پر فخر ہے لیکن لسانی سیاست کرنے سے اگر فوائد ہوتے تو آج مہاجروں کا یہ حال نہیں ہوتا

    ہم پاکستانی شہری کی حیثیت سے اپنے حقوق کی جدوجہد لسانی سیاست کے بغیر مصطفیٰ کمال کی قیادت میں کریں گے پاکستان میں زمین کے چھوٹے سے ٹکڑے کی بھیک وہ مانگے جن کا پاکستان بنانے والوں کی اولادوں سے کوئی واسطہ نا ہو پاکستان بنانے والوں کی اولادیں پاکستان میں نئی کھینچی جانے والی کسی لسانی صوبے کی لکیروں پر نہیں پورے پاکستان پر حکومت کرنے کا اپنا آئینی حق استعمال کریں گی جو ان سے کوئی نہیں چھین سکتا اور اپنے حقوق آئین کے مطابق حاصل کرنے کی کوشش میں آپ کو اپنی جدوجہد میں شامل ہونے کی آواز لگاتے رہیں گے میری آواز آپ کے دلوں میں اتارنا میرے رب کی مرضی ہے کیونکہ جب مسجد سے اذان کی آواز لگتی ہیں تو جسے رب العالمین توفیق دیتا ہے وہی نمازوں میں شامل ہوتے ہیں اسی طرح آواز ہم دیتے رہیں گے آپ کا ہمارے ساتھ شامل ہونا میرے رب کی مرضی پر منحصر ہے

     قوم نے ایک پارٹی کو ہر لحاظ سے سپورٹ کر کے اس کے وفاقی وزیر، صوبائی وزیر اور وزیر داخلہ بنائے مگر وہ ان پولیس والوں کو کیفرِ کردار تک نا پہنچا سکے جن پر ماورائے عدالت ہلاکتوں کا الزام لگایا گیا قوم نے ووٹ اور عزت دے کر 14 سال کے لئے گورنر بنایا مگر وہ بھی اس عمل کو بے نقاب کرنے سے قاصر رہا اور مہاجروں کی سپورٹ پر گورنر کا منصب سنبھال کر 14 سال پاکستان کی تاریخ کی سب لمبی گورنری سے ہٹنے کے اگلے ہی دن مہاجروں کو گٹر ملا پانی اور کچرے کے ڈھیر میں چھوڑ کر دبئی کی پر فضا ماحول میں قائدانہ صلاحیتوں کو بروئے کار لاتے ہوئے اگلی فلائٹ سے روانہ ہوگیا اور آئے دن مہاجروں کو چڑانے کے لئے روز آنے اور ان پر حکومت کرنے کے شوشے چھوڑتا رہتا ہے اور اس گروپ میں موجود لوگ ایک نئی ایم کیو ایم کے قیام کی خبریں دیتے ہوئے خوشی کے ترانے بجاتے ہوئے نظر آتے ہیں

    شکریہ مصطفیٰ کمال مجھے اپنی قوم سے منافقت کرنے کے دلدل سے نکالنے پر شکریہ میرے شہر میں روز مرنے والی میری قوم کے نوجوانوں کو شہداء قبرستان میں دفنانے سے بچانے پر شکریہ میری قوم کے بیروزگار کو پورے کراچی میں حصول رزق کے لئے نوگو ایریاز ختم کرانے اور حلال رزق کمانے کا راستہ ہموار کروانے کے لئے شکریہ منافقین کے چہروں پر چڑھے معصومیت کے نقاب نوچ ڈالنے کا۔شکریہ مہاجروں کے روز بند ہوتے روزگار کو مستقل جاری رہنے کے اسباب پیدا کرنے کا۔

    شکریہ سالوں سے بچھڑے جوانوں کو ان کے والدین سے ملانے کا۔شکریہ معصوم بچوں کی دروازے پر لگی اپنے والد کے چہرے کو دیکھنے کی آرزوں پوری کروانے کا۔ شکریہ دربدر بھٹکنے والے میری قوم کے نوجوانوں کو سہی راہ پر گامزن کرنے کا اور سب سے بڑھ کر شکریہ مسلمانوں سے لسانیت کے نام پر جاری دہائیوں کی دشمنی کو ختم کرکے بھائی کو بھائیوں کے گلے ملوانے کا۔شکریہ مصطفیٰ کمال .پاکستان ذندہ باد

  • مسلم پاکستان بمقابلہ سیکولر انڈیا .تحریر:حسان خان

    مسلم پاکستان بمقابلہ سیکولر انڈیا .تحریر:حسان خان

    تاریخی شہروں کے متضاد مذہبی نام اور ان دو ممالک کا نقطہ نظر

    مذہب دنیا کے تقریباً ہر معاشرے میں اولین اہمیت رکھتا ہے اور ہر معاشرہ مذہبی معاملات میں حساس پایا گیا ہے جبکہ جو معاشرے سیکولر یعنی مذہبی وابستگی سے بالاتر ہونے کے دعویدار ہیں وہاں مذہب ایک حیثیت ایک ثانوی چیز کی سی ہوتی ہے
    ہمارا ملک پاکستان اسلام کے نام پر وجود میں آیا اور ہمارا معاشرہ اسلامی معاشرہ ہے جہاں رہن سہن ، رسم و رواج نیز ہر پہلو میں مذہب کا عمل دخل نظر آتا ہے جبکہ ہمارے برعکس بھارت ایک سیکولر ملک ہونے کا دعویدار ہے اور سیکولر نظریات کے مطابق ہر شہری کو مذہبی آزادی حاصل ہے ریاست کو غرض نہیں کہ کس کا مذہب کیا ہے اور کون کیسی روایات کا قائل ہے۔ ان دونوں ہمسایہ ممالک میں مذہبی تضاد اپنی جگہ مگر پاکستان حیران کن طور پر بھارت کے مقابلے میں مذہبی طور پر زیادہ روادار ثابت ہوا ہے جبکہ بھارت میں مذہبی جنون آسمان کی بلندیوں کو چھو رہا ہے۔ آج ہم پاکستان اور بھارت کا تاریخی شہروں کے ناموں پر رویے کو ذہن میں رکھتے ہوئے یہ جاننے کی کوشش کریںگے کہ مسلم پاکستان ہندو سکھ ناموں والے شہروں پر کتنا روادار ہے اور سیکولر انڈیا کس طرح مسلم دشمنی میں تاریخی شہروں کے نام بدل کر انکی تاریخی اہمیت کو سپوتاژ کر رہا ہے

    پاکستان میں متعدد شہروں سڑکوں اور عمارتوں کے نام اس دھرتی کے ہںدو اور سکھ سپوتوں کے ناموں پر ہیں جنہوں نے ان شہروں میں زندگی گزاری ، ان شہروں کی تعمیر و ترقی میں اہم کردار ادا کیا اور ان شہروں کی تاریخی حیثیت میں ان شخصیات کا نمایاں اثر پایا جاتا ہے اسی طرح بھارت میں بھی بہت سارے شہروں ، شاہراوں اور ریلوے اسٹیشنوں کے نام مسلمان فاتحین کے ناموں پر ہیں جنہوں نے ان شہروں کی بنیاد رکھی ، انکی تعمیر و ترقی میں اہم کردار ادا کیا

    پاکستان ایک اسلامی ملک ہے اگر پاکستان چاہے تو سکھ/ہندو نام والے شہروں کے نام آسانی سے تبدیل کر دے اور مسلم ملک ہونے کی وجہ سے پاکستان کے اس اقدام کی مذمت بھی نہیں کی جا سکتی مگر پاکستان اور پاکستانی عوام کی مذہبی رواداری کو یہ گوارہ نہیں کہ ان شہروں سے ان کے تاریخی نام چھنے جائیں۔ ننکانہ صاحب سکھوں کا ایک مقدس شہر جہاں پر سکھ مذہب کے بانی گرو نانک کی پیدائش ہوئی یہاں ہر سال ہزاروں سکھ زائرین زیادت کیلئے آتے ہیں اور پھر کرتار پور راہداری کھول کر پاکستان نے مذہبی رواداری کی مثال قائم کر دی ہے کرتار پور میں گرو نانک کی آخری آرام گاہ ہے یہاں بھی یومیہ ہزاروں سکھ زائرین زیادت کیلئے آتے ہیں اس کے علاوہ ٹوبہ ٹیک سنگھ کا نام بھی سکھ مذہبی گرو کے نام پر ہے۔ پاکستان کے ان دو بڑے اہم شہروں کے سکھ نام آج بھی برقرار ہیں اسی طرح لاہور میں سرگنگا رام ہسپتال اور سر گنگا رام روڈ کے علاوہ لکشمی چوک ، گرو مانگٹ وغیرہ کے نام بھی جوں کا توں قائم ہے جو ان جگہوں کی تاریخی اہمیت کو برقرار رکھے ہوئے ہیں کبھی کسی حلقے نے ان کو تبدیل کرنے کی بات نہیں کی اسکے علاوہ پورے پاکستان کے بہت سارے قصبوں کے ہندو سکھ نام ہیں جبکہ دوسری طرف سیکولر ہونے کا دعویدار مذہبی جنونی بھارت ہے جہاں بڑی تیزی کے ساتھ مسلم ناموں والے شہروں ، قصبوں اور عمارتوں کے نام تبدیل کیے جا رہے ہیں انکی شناخت چھینی جا رہی ہے جسکی تازہ مثال الہ آباد جیسے تاریخی شہر کا نام تبدیل کر کے "پریاگراج” رکھ دیا گیا جس سے شہر کی تاریخی حیثیت خراب ہو کر رہ گئی اسی طرح ضلع فیض آباد کا نام بدل کر "ایودھیہ” رکھ دیا گیا اس سب کے بعد بھارتی حکومتی تاریخی شہر آگرہ اور ریاست گجرات کے شہر احمد آباد کے نام بھی تبدیل کرنے کیلئے پرتول رہی ہے

    مودی کی انتہا پسند حکومت آتے ہی اس رجحان میں تیزی واقع ہوئی ہے۔ راجھستان میں تین گاوں کے نام اس وجہ سے تبدیل کر دیے گئے کہ وہ سننے میں مسلم نام لگتے تھے
    بھارت میں مسلم دشمنی کی بناء پر جس طرح مسلمانوں کی ثقافت اور تاریخ کو بدلنے کی کوشش کی جا رہی ہے اسکی مثال نہیں ملتی مسلم نام والے شہروں کے نام تبدیل کرنے کے ساتھ ساتھ اردو زبان کو بھی ریلوے اسٹیشن اور سنگ میل سے غائب کیا جا رہا ہے۔ سیکولرازم کا مزاق اڑاتا بھارت دراصل مذہبی جنون کا شکار ملک بن چکا ہے جہاں مسلمانوں کی تہذیب اور ثقافت کا قتل عام ہو رہا ہے

  • والدین عہد کریں .تحریر: شعیب رحمان

    والدین عہد کریں .تحریر: شعیب رحمان

    پاکستان میں روانہ 8 بجے زیادتی کا شکار ہوتے ہیں اغواء ہونے والوں کی تعداد الگ ہے کچھ سالوں سے اچانک اس تعداد میں تیزی سے اضافہ ہورہا ہے جہاں حکومت ادارے اسکی روک تھام میں ناکام وہی والدین بھی بچوں کی حفاظت پر خاص توجہ دیتے دکھائی نہیں دیتے ایسے کتنے کیسز ہیں جن میں بچے گھروں سے باہر چیز لینے جاتے مگر واپس نا آتے جیسا آج کل ماحول ہے رشتےداروں پر بھی بھروسہ کرنا مشکل ہے اکثر کیسز میں قریب کے لوگ ہی ملوث پائے جاتے ہیں پھر وہ پڑوس کے ہی کیوں نا ہوں کچھ عرصہ قبل زینب ریپ کیس میں پڑوسی ہی مجرم تھا جو ناک کے نیچے رہا مگر کسی کو شک نا ہوا وہ اپنے انجام کو پہنچا اس کے باوجود کوئی خاص ڈر خود ایسے درندوں میں نا پایا گیا آخر وجہ کیا ہے کچھ لوگ کہتے یہ بے حیائی کا نتیجہ تو جناب تین چار سال کی بچی کیا بے حیائی کرتی نوجوان لڑکے کیا خود کو چادر میں لپیٹ کر گھر سے باہر نکلیں عورت کو پردے کا طعنہ دینے والے مردوں کی نظروں میں شرم کی کمی کیا ایسے واقعات کا خمیازہ نہیں تعلیمی ادارے، مدارس، ہسپتال کی نرس ہو یا فیکٹری میں جاب کرنے والی مجبور ماں کس طرح خود کو ان واقعات سے بچائیں ایسے وقت میں جہاں حکومت کو سخت اقدامات کرنے چاہئیں وہی ہمارے وزیراعظم سارا ملبہ خواتین کے کپڑوں پر ڈال دیتے ہاں وہ ڈی چوک کے دھرون کو بھول چکے جہاں 126دن خواتین و مرد سب ساتھ روزانہ علم کی روشنی جلاتے تھے اس وقت اقتدار کی بھوک تھی تو سب اچھا تھا آج اقتدار کا نشہ ہے تو عورت بے حیا ریپ کیسز کی جڑ ! تو بتائیں جناب 3 سالہ بچی کو لاہور کے ایک اسکول میں درندگی کا نشانہ بنانے والے درندے کون تھے ؟ بوائز ہاسٹل میں نوجوان کو زیادتی کا نشانہ بنانے والے کون ہیں ؟ جہاں ساری زمہ داری والدین پر ڈالی جاتی وہی ہماری حکومت اپنی کارکردگی پر کب دھیان دیگی حکومتی وزراء خو آئے دن اسکینڈلز کا شکار رہتے ہیں وہ کیا ہمارے بچوں ماں بہنوں پر ہونے والی اس درندگی پر آواز اٹھائیں گے ؟ کب سرعام پھانسی کا بل پاس ہوگا ؟ کب ایسے درندوں کو سنسار کیا جاے گا؟ یا یہ مان لیں ہم کے ہمیں خود ہی ایسے شیطانوں کا خاتمہ کرنا ہوگا قانون ہاتھ میں لینے کی اجازت نہیں کوئی اس ماں سے پوچھے جس کی پھول جیسی بچے بنا کپڑوں کے خون میں لت پت مردہ حالت میں کچرہ کنڈی پر ملے وہ ماں کیا جانے قانون اس بے بس باپ کو کن الفاظوں میں آپ حوصلہ دینگے جس کی اک لوتی اولاد سڑک پر لٹ جاے اور حکومت کہے تحقیقات جاری ہے کیسے ملے گا ان والدین کو سکون جن کی بچیوں کو نوکری کا جھانسہ دے کر برہنا ویڈیوز بنا کر بلیک میل کرکے غلط کام پر لگایا جاتا

    کہتے ہیں ٹک ٹاک بین کریں ٹک ٹاک فساد ہے” آپ کو بنا دوں کے ٹک ٹاک سے بڑھ کر یوٹیوب پر مواد پایا جاتا ہے توکیا ہم یوٹیوب پر پابندی کا ٹرینڈ چلائیں ؟ ایسی کتنی ایپس ہیں وہ سب بند کردیں ہمارے پاکستانی ایڈز کیا کم ہیں بے حیائی پھیلانے میں ان پر پابندی کیسے ممکن ہوگئی ؟ رمضان ٹرانسمشن کے نام پر خواتین کو نچوانے والے حکومتی وزراء کے خلاف کب آواز اٹھائے گا کوئی ؟ ہم ناامید ہوچکے ہیں مان لیں والدین کو چائیے اب اس پڑوس سے لے کر کسی ادارے پر بھروسہ کرکے اپنے لخت جگر کو اکیلا باہر نا چھوڑیں نا کسی کے ساتھ جانے دیں آپ کی اولاد کا خیال صرف آپ رکھ سکتے ہیں دوسرا کوئی نہیں تو آج سے عہد کریں ہمارے بچے ہماری زمہ داری اللہ پاک سب کے بچوں کو اپنے حفظ وامان میں رکھے آمین

  • کرپشن معاشرے کی تباہی کا سبب .تحریر: ملک ضماد

    کرپشن معاشرے کی تباہی کا سبب .تحریر: ملک ضماد

    کسی بھی معاشرے، ملک، ریاست مین جب کرپشن، بدعنوانی زور پکڑ جائے تو وہ معاشرہ، ملک، ریاست تباہی کی طرف سفر شروع کر دیتا ہے
    جہاں معاشرے، ملک، ریاست کے بجائے اپنی ذات کو ترجیح دی جانے لگے،
    جہاں عدل و انصاف کے بجائے رشوت، سفارش سے جائز کام بھی کروانے پڑیں
    جہاں تعلقات کی بنیاد پر گلیاں پکی ہونے لگیں
    جہاں ریفریسنزز سے لائن میں کھڑے آخری آدمی کو پہلا نمبر دیا جانے لگے
    جہاں نام بتا کر کام کروانے پڑیں
    پھر وہ معاشرے ترقی نہیں بلکہ تنزلی کی جانب سفر شروع کر دیتا ہے
    پھر بھلے اس ملک، ریاست میں قدرت وسائل ہوں یا پڑھے لکھے لوگ وہ بھی اس ملک کی تقدیر نہیں بدل سکتے جب تک معاشرے سے کرپشن کے ناسور کو ختم نہیں کیا جاتا
    جب تک معاشرے میں سب لوگوں ہو برابری کی سطح پر انصاف اور حق نہیں مل جاتا
    جب تک تعلقات نہیں بلکہ میرٹ پے گلیاں پکی نا ہونے لگ جائیں
    جب تک وزیر مشیر بھی لائن میں لگ کر کام نا کروانے لگ جائیں
    جب تک نام بتا کر نہیں بلکہ کام بتا کر کام نا ہونے لگ جائیں
    وہ ملک ترقی نہیں کر سکتا
    کرپشن کو ختم کرنے کے لیے صرف حکمرانوں کی ہی نہیں بلکہ عام عوام کی ذمہ داری بھی ہے
    جب عام عوام رشوت، تعلقات کے بجائے میرٹ پے کام کروائے گی
    رشوت مانگنے والوں کو دنیا کے سامنے لائے گی

    وَلَا تَأْكُلُوا أَمْوَالَكُمْ بَيْنَكُمْ بِالبَاطِلِ وَتُدْلُوا بِهَا إِلَى الحُكَّامِ لِتَأْكُلُوا فَرِيقًا مِنْ أَمْوَالِ النَّاسِ بِالإِثْمِ وَأَنْتُمْ تَعْلَمُونَ ‘‘
    {البقرة:188}
    "اور ایک دوسرے کا مال ناحق نہ کھا یا کرو ، نہ حاکموں کو رشوت پہنچا کر کسی کا کچھ مال ظلم و ستم سے اپنا لیا کرو ، حالانکہ تم جانتے ہو”

    حدیثِ شریف:
    عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَمْرٍو، قَالَ لَعَنَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم الرَّاشِيَ وَالْمُرْتَشِيَ 
    ( سنن أبو داود :3580 ، القضاء – سنن الترمذي :1337، الأحكام – سنن ابن ماجه :2313 ، الأحكام)

    ترجمہ:
    حضرت عبد اللہ بن عمر ورضی اللہ عنہما بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے رشوت لینے والے اور رشوت دینے والے پر لعنت فرمائی ہے

    { سنن ابو داود ، ترمذی ، ابن ماجہ }

    حلال مال میں برکت ہوتی ہے اور حرام مال بے برکتی کا سبب ہے ۔

    رشوت گناہ ِکبیرہ اور رحمت الٰہی سے دوری کا سبب ہے ۔

    رشوت کا لین دین معاشرہ میں بد دیانتی اور ظلم کا سبب ہے

    قومی سطح پر بھی حکومت وقت کے ساتھ ساتھ عوام کا بھی قومی فریضہ ہے وہ اپنے ارد گرد اگر کہیں کرپشن ہوتی ہے اس کو روکے اگر خود نہیں روک سکتا تو متعلقہ اداروں کو اس کی اطلاع دے تاکہ بروقت کارروائی ہو کر کرپشن، جیسے ناسور کو ختم کیا جا سکے

    آئیں مل کر عہد کریں خود بھی اور اپنے ارد گرد لوگوں کو بھی کرپشن، رشوت ستانی سے روکیں گے اور مل کر معاشرے کو کرپشن جیسی مرضی بیماری سے نجات دلائیں گے

  • میں کراچی ہوں .تحریر ماشا نور

    میں کراچی ہوں .تحریر ماشا نور

    میں کراچی ہوں .تحریر ماشا نور
    یوں تو سبھی کراچی کے وارث بنتے ہیں مگر جہاں بات کراچی والوں کے حقوق کی آئے تب وفاق دانتوں میں انگلیاں دبائے خاموش اور صوبائی حکومت سب اچھا ہے کا راگ الاپتی نظر آتی ہے کسی کو کوئی غرض ہی کے شہر کراچی میں پانی ہے یا نہیں بجلی آئے نا آئے لاکھوں کے بل آنے میں کبھی دیر نہیں ہوتی نلکوں میں پانی کی امید لگائے کراچی والے ٹینکر مافیا کے رحم وکرم پر گزربسر کررہے ہیں پانی تو خرید کر پینا پڑے گا آخر پورے ملک کو پالنے کی زمہ داری کراچی والوں کی جو ہے گھر میں گیس آئے نا آئے سی این جی پمپ پر گیس ملنا کسی کراچی والے کے لیے نعمت سے کم سے روزگار کی خاطر رکشہ چلانے والے اس مہنگائی میں کیسے چلائیں پیٹرول پر رکشہ یہاں تو بڑے بڑوں کا تیل نکال دیا ہے مہنگائی نے، ٹوٹی پھوٹی سڑکوں پر آپکو ہیل پارک کے جھولوں کا مزہ نا آئے تو کیا ہی بات ہے کہنے کو کما کر دینے والا شہر ہے مگر حساب وہی ماں اولاد کو اچھا کھلا کر پہنا کر خود بھوکی رہ جاتی ، ارے جناب ہم سے کوئی وقت کی پابندی سیکھے کے الیکٹرک کے لوڈ شیڈنگ کر کر کے عوام کو گھڑی دیکھنے کی عادت ہی چھڑا دی اب تو بجلی جانے آنے کے حساب سے ہی کراچی والوں نے خود کو ڈھال لیا ہے
    گھر سے باہر نکلتے ہی اپکو لگے گا آپ کسی کچرے کے جزیرے پر پہنچے ہیں جگہ جگہ کوڑا بہتے گٹر پارکس میں غلاظت اور ہمارے خوبصورت شہر کے بیچ پولیس کی موجودگی میں پل کے نیچے بیٹھے نشئی جو ہر طرح کا نشہ باآسانی کرتے ہی نہیں بیچتے بھی ہیں تھوڑا آگے بڑھ جائیں تو غیر مقاموں کی بڑی آبادی آپکو نظر آئے گی جنہونے اس شہر کو اپنا آبائی گھر سمجھ کر بستر ڈالے ہوئے ہیں ہم پھر بھی آف نہیں کرتے کیونکہ ہم کراچی والے ہیں ہم میں سب سما جاتے ہیں مگر ہمارا دکھ ہمارے مسائل نا کوئی سیاسی جماعت حل کر سکی نا ہی وفاقی حکومت نے "کھاتے ہیں تو لگا بھی دیں” ایک بار بھی سوچا نہیں،

    میں کراچی ہوں میں بارش،ٹوٹی سڑکیں، ٹرانسپورٹ،بہتے گٹر، بے روزگاری، لاچاری، پانی کی قلت میں سب برداشت کرونگا مگر میں تم سب کو پالوں گا کسی کو بھوکا نہیں مرنے دنگا میں خود سب سہتا رہوں گا ٹوٹ جاؤنگا مگر تمہارے گھروں کے چولھے بجھنے نہیں دنگا ہاں میں بے بس ہوں میں اکیلا ہوں مگر میں تم کو اکیلا نا چھوڑوں گا تم سب مجھ کو نوچ کر کھالو میں اف تک نا کرونگا ہاں میں "لاوارث” ہوں پر تم کو "لاوارث” نا چھوڑوں گا

  • معاشرے کی اصلاح کیسے ہوگی؟ تحریر: احمد لیاقت

    معاشرے کی اصلاح کیسے ہوگی؟ تحریر: احمد لیاقت

    کچھ لوگ معاشرےکی اصلاح کی بات کرتےہیں ضرور کرنی بھی چاہیے، اور کچھ لوگ معاشرےمیں انصاف کی بات کرتےہیں یہ بھی ضرور کرنی چاہیے، لیکن اس پر بہت کم بات ہوتی ہے کہ معاشرے میں بگاڑ اور فساد کب پیدا ہوتاہے؟

    معاشروں میں بگاڑ خدا کی قائم کردہ حدود اور لمٹ کو کراس کرنے سے پیدا ہوتا ہے، دنیا میں جن افراد اور معاشروں نے بھی اللہ کی قائم کردہ لمٹ کو کراس کیا انہوں نے کسی اور پر نہیں خود پر ظلم کیا، معاشرے کا بگاڑ صرف غریب ملکوں میں نہیں ترقی یافتہ ملکوں میں زیادہ نظر آتا ہے

    چودہ سو سال پہلے اللہ پاک نے ہمیں اپنی قائم کردہ حدود سے باہر نکلنے کے نقصانات سے آگاہ کردیا تھا اللہ تعالی کے اس ارشاد کی روشنی میں یہ بات واضح طور پر نظر آتی ہےکہ

    یہ اللہ کی حدیں ہیں سو ان سے تجاوز نہ کرو، اور جو اللہ کی حدوں سے تجاوز کرے گا سو وہی ظالم ہیں۔ (سورہ بقرۃ 229)

    معاشرے اور افراد کو حدور اور لمٹ میں قائم رکھنے کے لیے سب سے بڑی چیز انصاف اور عدالت ہے جس کی نصیحت خدا نے چودہ صدیاں قبل حکمرانوں سے فرمائ تھی

    اور جب لوگوں کے درمیان فیصلہ کرو تو انصاف سے فیصلہ کرو ، بے شک اللہ تمہیں نہایت اچھی نصیحت کرتا ہے بے شک اللہ سننے والا دیکھنے والا ہے (سور نساء 58)

    معاشرے کی اصلاح کے لیے لمبی چوڑی پلاننگ کی ضرورت نہیں بلکہ اللہ تبارک وتعالیٰ نے انسانوں کو یہ دو آسان نسخے بتا دیے ہیں ان پرعمل کی ضرورت ہے، معاشرے کے افراد خدا کی بتائ ہوئ لمٹ میں زندگی بسر کریں اور جو بھی اس لمٹ کو کراس کرے چاہے وہ غریب ہو یا امیر عالم ہو یا جاہل اسٹوڈنٹ ہو یا ٹیچر مرد ہو یا عورت اور فقیر ہو یا بادشاہ اسے انصاف کے کٹہرے میں کھڑا کر دیا جائے، جس دن یہ دو کام ہوگئے معاشرہ ٹھیک ہو جائے گا۔

    کسی ایک فرد کی اصلاح معاشرے کی اصلاح ہے
    یہ کہاوت بھی اسلام کے بالکل برعکس ہے اسلام کہتا ہے کہ اسلام کو ریاست میں نافذ کرو جس میں معاشرے کی اصلاح ہوگی معاشرے میں ہر انسان کی اصلاح ہوگی

  • کچروں میں دھنستا کراچی :تحریر:عقیل احمد راجپوت

    کچروں میں دھنستا کراچی :تحریر:عقیل احمد راجپوت

    کراچی شہر ملک کا ترقی کا ضامن ہے اس کے لوگ وطن پرستی کا جزبہ ان کی رگوں میں خون بن کر دوڑتا ہے یہ ملک کی خاطر کسی بھی قربانی دینے سے کبھی بھی گریزاں نہیں رہے ہیں لیکن ملک کے کرتا دھرتاؤں نے کراچی کو ویرانوں میں تبدیل کرنے میں کوئی کثر نہیں چھوڑی کراچی والوں کو چوروں کے ساتھ مل کر چوکیداروں نے ہی تو لٹوایا ہاں ہاں اس کو لوٹنے والوں کے چہروں سے نقاب کھینچا جائے تو اس میں زیادہ تر تو اپنے ہی نظر آئینگے بلدیاتی نظام کے سب اختیارات اپنوں کے گورنر ہاؤس میں بیٹھ کر تو پیپلز پارٹی کے حوالے کئے گئے اٹھارویں ترمیم سے لیکر کراچی والوں کو دئیے گئے سارے ہی زخم اگر اچھے اور تعصب کی عینک اتار کر دیکھے جائیں تو سب ہی پر اپنوں کا ہاتھ نکلے گا کوٹہ سسٹم پر رونے والے اپنوں نے پرویز مشرف دور میں کیونکر کوٹہ سسٹم ختم نہیں کروایا کیوں چودا سالوں کا گورنر گورنری کے منصب سے ہٹنے کے بعد ایک دن بھی اس کراچی میں نہیں رکا اور اگلے ہی دن دبئی کی پروقار زندگی گزارنے واپس چلا گیا جن مہاجروں کے ووٹ پر گورنر رہا 14 سالوں میں بدلے میں انہیں کیا دیکر گیا مہاجروں کی گلی محلے آج بھی گرد و غبار سے اٹے ہوئے ہیں کچرے کا ڈھیر جو دور کسی گراؤنڈ یا کنڈی پر ہوا کرتا تھا آج ہر گلی کے کونے پر آگیا ہے روڈ دیکھے ہوئے زمانے گزر گئے گٹر کا پانی پھلانگ پھلانگ کر کراچی کا نوجوان اولمپکس میں گولڈ میڈل حاصل کرنے کی صلاحیتوں کو اتنا حاصل کر کا ہے کے اگر وہ دوڑا تو دوسرا کوئی مقابل نہیں ہوگا دور تک بلکہ بہت دور تک کراچی والوں کا احساس محرومی بڑھ رہا ہے مقتدر حلقوں سے گزارش ہے کہ اس پر رحم نہیں صرف اس کا حق ہی دے دیا کریں تو یہ بدلے میں آپ کو ابھی جو دے رہا ہے اس کئی گنا بڑھا کر واپس کردے گا اس کا اچھا اور معیاری ڈاکٹر وہ ہی ہوسکتا ہے جو پہلے بھی اس کا بہترین علاج کر کا ہو جس کو اس کے ایک ایک سینٹی میٹر کا علم ہو جو جانتا ہو پانی آئیگا کہا سے اور جائے گا کہا سے جو جانتا ہو کراچی کے مسائل کو دنوں میں حل کرنے کا فارمولا کیا ہے جو گھر سے نکلتے وقت یہ نا سوچتا ہو کے واپس کتنے نوٹ لیکر جانا ہے جو یہ سوچتا ہو کے کراچی والوں کی صبح کو بہتر کیسے بنانا ہے جس کو یہ احساس ہو کے میرے پاس جو زمہ داری ہے اس کا اللہ تعالیٰ کے سامنے پیش ہوکر حساب کتاب دینا ہے جو پاکستان کو ترقی دینے والوں کی صف میں سب سے آگے کھڑا ہونے والا انسان ہو جو رات کو رات نہیں اور دن کو دن نہیں سمجھتا ہو جس کی گھڑی میں ایک ہی وقت نظر آتا ہو کام کام کام کام کام لینا جانتا ہو کام کرنے والوں کی قدر و قیمت جانتا ہو جو اپنے لئے فرمائشوں کا نہیں بلکہ عوام کے لئے آسائشوں کا طلبگار رہتا ہو جو کراچی سے کشمور اور ساتوں براعظموں میں اپنے کام کی وجہ سے جانا اور مانا گیا ہو جس نے وہ کام کئے کے لوگ اسے کام کا بندہ ہے کہہ کر پکاریں جو سید بھی ہو مصطفیٰ بھی ہو اور کمال بھی ہو جس کے کام کو دنیا نے سراہا ہو جس کی لگن کو کراچی ہی نہیں پورے پاکستان حمایت حاصل ہو مصطفیٰ کمال ہی ہیں جو کچرے میں دھنستے سندھ کے شہروں کو واپس اپنے اصل مقام پر لانے کی صلاحیت رکھتے ہیں

    کراچی شہر ملک کی ترقی کا ضامن ہے اس کے لوگ وطن پرستی کا جزبہ ان کی رگوں میں خون بن کر دوڑتا ہے یہ ملک کی خاطر کسی بھی قربانی دینے سے کبھی بھی گریزاں نہیں رہے ہیں لیکن ملک کے کرتا دھرتاؤں نے کراچی کو ویرانوں میں تبدیل کرنے میں کوئی کثر نہیں چھوڑی کراچی والوں کو چوروں کے ساتھ مل کر چوکیداروں نے ہی تو لٹوایا ہاں ہاں اس کو لوٹنے والوں کے چہروں سے نقاب کھینچا جائے تو اس میں زیادہ تر تو اپنے ہی نظر آئینگے بلدیاتی نظام کے سب اختیارات اپنوں کے گورنر ہاؤس میں بیٹھ کر تو پیپلز پارٹی کے حوالے کئے گئے اٹھارویں ترمیم سے لیکر کراچی والوں کو دئیے گئے سارے ہی زخم اگر اچھے اور تعصب کی عینک اتار کر دیکھے جائیں تو سب ہی پر اپنوں کا ہاتھ نکلے گا کوٹہ سسٹم پر رونے والے اپنوں نے پرویز مشرف دور میں کیونکر کوٹہ سسٹم ختم نہیں کروایا کیوں چودا سالوں کا گورنر گورنری کے منصب سے ہٹنے کے بعد ایک دن بھی اس کراچی میں نہیں رکا اور اگلے ہی دن دبئی کی پروقار زندگی گزارنے واپس چلا گیا جن مہاجروں کے ووٹ پر گورنر رہا 14 سالوں میں بدلے میں انہیں کیا دیکر گیا مہاجروں کی گلی محلے آج بھی گرد و غبار سے اٹے ہوئے ہیں کچرے کا ڈھیر جو دور کسی گراؤنڈ یا کنڈی پر ہوا کرتا تھا آج ہر گلی کے کونے پر آگیا ہے روڈ دیکھے ہوئے زمانے گزر گئے گٹر کا پانی پھلانگ پھلانگ کر کراچی کا نوجوان اولمپکس میں گولڈ میڈل حاصل کرنے کی صلاحیتوں کو اتنا حاصل کر کا ہے کے اگر وہ دوڑا تو دوسرا کوئی مقابل نہیں ہوگا دور تک بلکہ بہت دور تک

    کراچی والوں کا احساس محرومی بڑھ رہا ہے مقتدر حلقوں سے گزارش ہے کہ اس پر رحم نہیں صرف اس کا حق ہی دے دیا کریں تو یہ بدلے میں آپ کو ابھی جو دے رہا ہے اس کئی گنا بڑھا کر واپس کردے گا اس کا اچھا اور معیاری ڈاکٹر وہ ہی ہوسکتا ہے جو پہلے بھی اس کا بہترین علاج کر کا ہو جس کو اس کے ایک ایک سینٹی میٹر کا علم ہو جو جانتا ہو پانی آئیگا کہا سے اور جائے گا کہا سے جو جانتا ہو کراچی کے مسائل کو دنوں میں حل کرنے کا فارمولا کیا ہے جو گھر سے نکلتے وقت یہ نا سوچتا ہو کے واپس کتنے نوٹ لیکر جانا ہے جو یہ سوچتا ہو کے کراچی والوں کی صبح کو بہتر کیسے بنانا ہے جس کو یہ احساس ہو کے میرے پاس جو زمہ داری ہے اس کا اللہ تعالیٰ کے سامنے پیش ہوکر حساب کتاب دینا ہے جو پاکستان کو ترقی دینے والوں کی صف میں سب سے آگے کھڑا ہونے والا انسان ہو جو رات کو رات نہیں اور دن کو دن نہیں سمجھتا ہو جس کی گھڑی میں ایک ہی وقت نظر آتا ہو کام کام کام کام کام لینا جانتا ہو کام کرنے والوں کی قدر و قیمت جانتا ہو جو اپنے لئے فرمائشوں کا نہیں بلکہ عوام کے لئے آسائشوں کا طلبگار رہتا ہو جو کراچی سے کشمور اور ساتوں براعظموں میں اپنے کام کی وجہ سے جانا اور مانا گیا ہو جس نے وہ کام کئے کے لوگ اسے کام کا بندہ ہے کہہ کر پکاریں جو سید بھی ہو مصطفیٰ بھی ہو اور کمال بھی ہو

    جس کے کام کو دنیا نے سراہا ہو جس کی لگن کو کراچی ہی نہیں پورے پاکستان کی حمایت حاصل ہو مصطفیٰ کمال ہی ہیں جو کچرے میں دھنستے سندھ کے شہروں کو واپس اپنے اصل مقام پر لانے کی صلاحیت رکھتے ہیں

  • سرد جنگ .تحریر:رانا عزیر

    سرد جنگ .تحریر:رانا عزیر

    افغانستان میں جنگ کے اختتام کے آثار دور تک دکھائی نہیں دے رہے کیونکہ امریکہ اس خطے میں رہنا چاہتا ہے اور وہ پاکستان میں ایک دفعہ پھر تباہی مچانا چاہتا ہے تاکہ سی پیک کو تباہ کیا جا سکے۔ چین سی پیک کے ذریعے ہی وسطی ایشیاء اور پھر دنیا کے دیگر ممالک تک رسائی حاصل کررہا ہے جو کہ امریکہ اپنے لیے خطرہ سمجھتا ہے۔

    اشرف غنی نے بھی اپنی ناکامیوں کا سارا ملبہ پاکستان پر ڈال کر واشنگٹن کی طرف کشکول بڑھا دیا ہے۔ ابھی تازہ ترین رپورٹ کے مطابق طالبان 117 اضلاع پر قابض ہوچکے ہیں وہ امریکی سازوسامان پر بھی قابض ہورہے ہیں۔ اب امریکہ عرب ممالک سے پاکستان پر پریشر بڑھا رہا ہے کہ آپ کے تمام پاکستانیوں کو نکال دیا جائے گا اگر امریکہ کی افغانستان میں مدد نہ کی گئی، لیکن پاکستان کی ریاست کا دوٹوک فیصلہ ہے نو مور۔ بھارت کو بھی بڑا خطرہ لاحق ہے چونکہ بھارت بھی اپنے را کے ایجنٹ جو پاکستان میں دہشتگردی کرنے کیلئے دہشتگردوں کو افغانستان سے کنٹرول کرتے تھے ان کو بھارت لے جا چکا ہے، اب بھارت کو ڈر ہے کہ پاکستان کی افغانستان میں سیاسی مداخلت بڑھی گی۔ خطے میں امریکہ اور چین کے شدت پکڑتے اختلافات اور سرد جنگ کو ملحوظ خاطر نہایت ضروری ہے، چین برملا یہ کہہ چکا ہے کہ وہ اب سپر پاور بننے جارہا ہے، چین کے کیے اب پاکستان بہت اہم ہے اور ایسی قیادت بھی چین کو پاکستان میں چاہیے تھی جو امریکہ کے سامنے کھڑا ہوسکے اب چین کے پاس دونوں صورتیں موجود ہیں، امریکہ پاکستان کو اب ایران، عراق اور دیگر وسطیٰ ایشیائی ممالک سے توڑنے چاہتا ہے جس میں ایک پائپ لائن کا پراجکٹ بہت اہم ہے جو عراق سے شروع ہوتا ہے پاکستان کے ذریعے ہمالیہ کشمیر اور چائنہ تک جاتا ہے یوں تیل چین جائے گا اور چینی سرمایہ کاری مشرق وسطی میں پھیلے گی۔ امریکہ اب وسطی ایشیاء کے ساتھ مشرق وسطی میں بھی اسڑیجٹک ہدف حاصل کرنے میں ناکام رہا ہے۔ جس کے بعد اس کا مستقبل خطرے میں پڑ چکا ہے۔

    دنیا میں چین کا بڑھتا ہوا اثرورسوخ اور ون بیلٹ ون روڈ ایک نئے دور کا آغاز ہوچکا ہے۔ چین سرمایہ کاری، تجارت کو استعمال کرتے ہوئے ایشیا میں ذرائع آمد و رفت کا ایسا جال بچھا رہا ہے جس سے ہر ایک پالیسی اس منصوبے کو اتنا اوپر لے کر جارہی ہے کہ پورا خطہ اس کی آغوش میں آجائے گا جس کا سب سے اہم حصہ گوادر ہے جو پوری دنیا کا حب بننے جارہا ہے جس سے عرب بھی tips for building strength پریشان ہیں کہ ان کی معیشت بھی کھڈے لائن لگ جائے گی۔ سی پیک کو سبوتازژ کرنے کیلے بھارت اور امریکہ پاکستان میں دہشتگردی کی نئی لہر لانے کی منصوبہ بندیاکررہے ہیں۔ تاکہ پاکستان کا امن برباد کرکے سرمایہ کاری کو روکا جائے لیکن نئے پاکستان کا وقت آگیا ہے