Baaghi TV

Category: معاشرہ و ثقافت

  • سقوطِ ڈھاکہ، پاکستان کے لئے ففتھ جنریشن وار فیئر کا  آغاز.تحریر: امان الرحمٰن

    سقوطِ ڈھاکہ، پاکستان کے لئے ففتھ جنریشن وار فیئر کا آغاز.تحریر: امان الرحمٰن

    جو قومیں اپنی تاریخ سے سبق نہیں لیتی ہیں وہ خود تاریخ بن جاتی ہیں
    16 اور 17 دسمبر 1971 کی درمیانی شب، جب ریڈیو ڈھاکہ نے بنگلہ دیش کے قیام کا اعلان کیا ، یہ اعلان قیامت کے دن کی طرح دونوں اطراف کے مسلم پاکستانیوں کےدلوں پر پڑ گیا۔ پاک سرزمین کا ایک بڑا حصہ ہم سے الگ ہوچکا ہے۔ ایک بازو ٹوٹ گیا تھا۔ بہت سے لوگوں کی چیخیں اور ہچکیاں بند ہوگئیں اور بہت سے دلوں نے دھڑکنا بند کردیا۔ سقوط ڈھاکہ بھی جنگ کے متاثرین اور اس کے نتیجے میں کہکشاں طاقت کے طور پر سامنے آنے کے لئے قیامت کا دن تھا۔ آج تک ہم یہ تعین نہیں کرسکے ہیں کہ سقوط ڈھاکہ کے ذمہ دار کون تھا۔
    سقوط ڈھاکہ شروع ہوتا ہے
    مشرقی پاکستان کی علیحدگی کی بنیاد وہ سوچ تھی جو ملک کے دونوں حصوں میں پیدا ہوئی۔ مشرقی پاکستان کے لوگوں کو یہ باور کرایا گیا کہ وہ مغربی پاکستان کی ایک ذیلی کالونی ہیں اور مغربی پاکستان ریشم کیڑا اور چائے کھا رہے ہیں۔ اہم بات یہ ہے کہ مرکز میں ان کی نمائندگی کا فقدان ہے۔ اسی طرح مغربی پاکستان میں یہ خیال بھی پھیل گیا تھا کہ مشرقی پاکستان میں آج سیلاب کی وجہ سے ملک کو نقصان ہو رہا ہے۔ بنگالی ایک بیکار قوم ہیں اور علم و عقل سے محروم ہیں۔ یہ پاکستان میں پانچویں نسل کی جنگ کا آغاز تھا۔
    1958 سے ، مغربی اور مشرقی پاکستان کی سیاسی جماعتوں نے اپنے اپنے علاقوں میں انتخابات میں کامیابی حاصل کی ہے اور ایک مخلوط حکومت تشکیل دی گئی ہے۔ لیکن دسمبر 1970 میں ، یحییٰ خان کے ماتحت ملک کے سب سے پرامن اور پہلے بالغ ریفرنڈم کے انتخابات کے نتائج ایک جھٹکے کے طور پر سامنے آئے۔
    جب مجیب الرحمٰن نے مغربی پاکستان میں اپنی غیر مقبولیت کو دیکھا تو انہوں نے اندرا گاندھی کے ساتھ سازش کی ، جسے اگرتلا سازش کہا جاتا ہے۔ لیکن جلد ہی مکتی باہنی نے مشرقی پاکستان میں مغربی شہریوں کا بے دردی سے قتل عام کرنا شروع کردیا۔ اگر صرف کوئی سازش ہوتی جس کے لئے مجیب نے اپنی جان دے کر قیمت ادا کی۔
    1970 کے انتخابات کے بعد ، مشرقی پاکستان کے وزیر اعظم بننا ان کا حق تھا۔ تب بھٹو صاحب نے اس وقت کے حالات کی نزاکت کو نہ سمجھے ، اور کہا کہ صدر مشرقی پاکستان سے ہوں گے ، ورنہ آپ یہاں ہیں اور ہم یہاں ہیں۔ اس نعرے کے معنی بنگالیوں نے پہلے ہی ہی پلٹ دیئے تھے جو پہلے ہی ہندوستانی پروپیگنڈے کے زیر اثر تھے اور ہندوستان کی مالی اعانت سے چلنے والی مکتی باہنی کو زیادہ کھل کر اپنا کھیل کھیلنے کا موقع ملا۔
    ہندوستانی حکومت 1965 کی جنگ میں پاکستانی فوج پر ڈھائے جانے والے بدترین ذلت کا بدلہ لینے کے لئے بے چین تھی کیونکہ ہندوستان کی فوج کو پہلے ہی 1962 میں چین کے ہاتھوں ایک بڑی شکست کا سامنا کرنا پڑا تھا۔
    ملکی اور بین الاقوامی سطح پر تذلیل محسوس کرتے ہوئے ، ہندوستانی فوج نے پاکستان کے خلاف پراکسی وار کا آغاز کیا۔ کیونکہ جنگ کا براہ راست نتیجہ یہ تھا کہ انہوں نے دیکھا کہ پاکستانی ، بحیثیت قوم ، دشمن کو کس طرح رد .عمل دیتے ہیں۔ لہذا ہندوستان نے اپنے پیسوں کا استعمال دونوں طرف تقریر کرنے اور ریڈیو پروگرام نشر کرنے کے لئے کیا جس سے فاصلے پیدا ہوئے۔ پھر اس نے مکتی باہنی کی بنیاد رکھی جس نے بنگالیوں کے حقوق کے نعرے لگائے اور احساس محرومی میں اضافہ کیا۔
    ایک طرف اندرا گاندھی مکتی باہنی کے توسط سے مسلمان بھائیوں کا قتل کررہی تھیں ، دوسری طرف وہ کہہ رہی تھیں کہ … آج ہم نے خلیج بنگال میں نظریہ پاکستان کو ڈبو دیا ہے۔
    سقوط ڈھاکہ
    جب مکتی باہنی نچلی سطح پر اپنا زہر پھیلارہا تھا تب بھی اقتدار کے ایوان میں حکومت سازی کی جدوجہد جاری تھی۔ ماننے کو تیار نہیں۔ اور بھارت کے دانت تیز تھے
    آخر کار ، پاکستان کی تاریخ میں ، تکلیف دہ دن وہ آیا جب دنیا نے حیرت سے دیکھا کہ 1965 میں ہندوستانی فوج کو کچلنے والی فوج صرف چھ سال بعد ہتھیار ڈال رہی ہے۔
    پاکستانی فوج نے ہائی کمان کے حکم کی تعمیل کی کیونکہ اسے اپنے ادارے پر اعتماد تھا۔ آرمی چیف جانتے تھے کہ سپلائی لائن ٹوٹی ہے۔ ہندوستانی فوج کی سپلائی بحال ہوگئی۔ غدار بنگالی پاکستانی فوج کو آگاہ کرکے ہندوستانی فوج کی خبریں پھیلا رہے تھے۔ مکتی باہنی نے فوجی بیرکوں کو کھانے پینے اور ایندھن کی فراہمی کے تمام راستے بند کردیئے تھے۔ تو پاک فوج کس کے لئے لڑے گی؟ سیاست کے لئے اور مکتی باہنی اقتدار کے لئے لڑ رہے ہیں یا غدار بنگالیوں کے لئے؟
    آج تک یہ بحث ختم نہیں ہوئی کہ سیاست دان ذمہ دار تھے یا فوج۔
    یاد رکھیں جب کلکتہ کے بازاروں میں مکتی باہنی کے بنگالیوں نے مغربی پاکستانی اساتذہ ، ڈاکٹروں ، انکم ٹیکس افسران اور دیگر طبقاتی ملازمین اور عام لوگوں کے قتل عام کے بعد اپنی بیویوں ، بیٹیوں اور بہنوں کو کچھ پیسوں میں فروخت کیا تھا۔ یہ نہ تو فوج کا کام تھا اور نہ ہی کسی سیاستدان کا۔ یہ مسلمان بنگالیوں کا کام تھا جو دشمن پروپیگنڈے کا نشانہ بنے۔
    مکتی باہنی نے لاکھوں غیر بنگالی مسلمانوں کو قتل کیا اور اپنی تقریبا Muslim 1.5 ملین مسلمان بہنوں کو کولکتہ میں ہندوؤں کو فروخت کیا۔ وجہ پروپیگنڈا تھا جس نے بھائی کو بھائی کی عزت اور زندگی کا دشمن بنا دیا۔

    موجودہ صورت حال
    مکتی باہنی بنگالیوں کے حقوق کے نعرے کے تحت تشکیل دی گئی تھی اور مسلمانوں کا خون بہانے سے ملک کو فنا کردیا گیا اور جب مقصد حاصل ہوا تو ہندوستان نے مکتی بہنی اور مجیب کو بھی ختم کردیا۔
    کراچی میں ایم کیو ایم نے مہاجروں کے حقوق کے نام پر اپنے آپ کو قائم کیا اور کراچی کو خون میں نہلایا۔
    اب پی ٹی ایم پختون حقوق کے نام پر قائم کیا گیا ہے اور پختونوں کی لاشوں پر گھناؤنا کھیل کھیل رہا ہے۔
    ان تمام تنظیموں کا ایک ہی طریقہ ہے اور ایک ہی مقصد تمام پاکستانیوں کو ختم کرنا ہے۔ یہ پانچواں نسل کی جنگ ہے جس سے سابق ڈی جی آئی ایس پی آر میجر جنرل آصف غفور نے بار بار پاکستان کی موجودہ نوجوان نسل کو آگاہ کیا ہے۔
    ہمارا دشمن چالاک ہے ، وہ رات کے اندھیرے میں چپکے سے حملہ کرتا ہے اور اندھیرے میں غداروں کو خریدتا ہے۔ لیکن ہمیں یہ یاد رکھنا ہوگا کہ ہم سب سے پہلے اور سب سے اہم پاکستانی ہیں ، یہی ہماری شناخت ہے۔ آج بنگالیوں کے آلو … چائے اور چاول بین الاقوامی مارکیٹ میں ہندوستانی لیبل کے تحت فروخت ہوتے ہیں۔ اسلامی جمہوریہ ہونے کے بجائے بنگلہ دیش ایک سیکولر جمہوریہ بن گیا ہے جہاں مسلمان علماء کو پھانسی دی جارہی ہے۔ مودی کہتے ہیں کہ یہ اپنا دوسرا گھر ہے۔
    اندرا گاندھی ، شیخ مجیب اور بھٹو اپنی خواہشات اور سازشوں سے اپنے انجام کو پہنچے۔ لیکن یہ پراکسی جنگ آج بھی جاری ہے۔ دشمن اب بھی وہی سازشیں کر رہا ہے۔ آج بھی غدار ہیں۔ لیکن اب جب ہم واقف ہیں ، تو آئیے مل کر جواب دیں دُشمن کے اُن تمام حربوں کو ناکام بنائیں اور جس کے لئے ہمارا سب سے بڑا اور مضبوط ہتھیار ہمارا اتحاد، اتفاق ہے اور ہم نے ہر حال میں اپنا اتحاد قائم رکھنا ہے اِن شاء اللہ
    اللہ کریم پاکستان کی حفاظت فرمائے آمین
    پاکستان پائندہ باد

  • میڈیا کے نوجوانوں پر اثرات .تحریر :فضل عباس

    میڈیا کے نوجوانوں پر اثرات .تحریر :فضل عباس

    آج کے دور میں نوجوان نسل سب سے زیادہ میڈیا سے متاثر ہے اس پر کچھ لکھنے سے پہلے میڈیا کی اقسام بیان کر لیتے ہیں

    میڈیا کی تین بڑی اقسام ہیں
    1: ذرائع ابلاغ
    2: اخبارات
    3: سوشل میڈیا
    سب سے پہلے ذرائع ابلاغ کی بات کرتے ہیں

    ذرائع ابلاغ میں تمام ٹیلی ویژن چینل اور ریڈیو کے چینلز شامل ہیں ٹیلی ویژن انسانی زندگی پر بہت گہرا اثر ڈال رہا ہے یہ اثر مثبت بھی ہے منفی بھی،کیوں کہ ہر چیز کا مثبت پہلو پہلے دیکھنا چاہیے اس لیے سب سے پہلے ہم ذرائع ابلاغ کے مثبت پہلو کو نمایاں کرتے ہیں ہم ذرائع ابلاغ کے ذریعے تازہ ترین خبروں سے آگاہ رہتے ہیں جو واقعہ ہو جہاں پر ہو ہم میں سے ہر ایک کو اسی وقت پتہ چل جاتا ہے اس طرح ہم پوری دنیا سے جڑے رہتے ہیں اس کے علاوہ مختلف پروگراموں میں مختلف ماہرین کی رائے جان سکتے ہیں جس سے ہمیں جھوٹ سچ کا اندازہ ہو سکتا ہے اور اس سے ہم اپنا نظریہ بنا سکتے ہیں

    نیوز چینلز نے سیاست کے میدان میں انقلاب برپا کردیا ہے اب ہر ایک لیڈر قوم کو جواب دہ ہے اب کسی لیڈر کا غلط کام نہیں چھپ سکتا ہے اب عوام لیڈرز کی اصلیت دیکھ کر منتخب کرتے ہیں اس کے علاوہ ان چینلز پر ماضی کی حکومت اور موجودہ حکومت کی کارکردگی کا موازنہ کیا جاتا ہے جس سے لوگوں کو اندازہ ہوتا ہے کہ کونسی حکومت کتنی اچھی ہے اور کس حکومت نے عوام کے لیے کیا کیا ہے

    آگاہی پھیلانے میں ذرائع ابلاغ کا اہم کردار ہے مختلف وقت میں مختلف مقاصد کے لیے ذرائع ابلاغ نے نمایاں کردار ادا کیا ہے خاص کر ابھی کورونا وباء کے دوران ذرائع ابلاغ نے عوام میں بھرپور آگاہی پھیلائی ہے کورونا وائرس سے بچنے کے لیے جو احتیاط لازم ہے اس کی آگاہی کے لیے مختلف اشتہارات اور ڈاکیومنٹریز چلائی ہیں

    اس کے بعد آتی ہے ڈرامہ انڈسٹری
    ذرائع ابلاغ میں ڈرامہ انڈسٹری کے ذریعے انقلاب لایا جا سکتا ہے نوجوان نسل کو تعلیم،جہاد اور اچھائی کی ترغیب دی جا سکتی ہے بچوں کو اخلاقیات کا درس دیا جا سکتا ہے برائیوں کے خاتمے کی مہم چلائی جا سکتی ہے اور یہ سب ذرائع ابلاغ کے ذریعے ہی ممکن ہے لیکن افسوس کی بات ایسا نہیں ہو رہا

    آج کے دور میں کھیل اور ذرائع ابلاغ ایک دوسرے کے لیے لازم و ملزوم بن چکے ہیں اب ذرائع ابلاغ کے بغیر کھیل منعقد کروانے کا سوچا بھی نہیں جا سکتا دنیا میں ہونے والے تمام کھیلوں کے بین الاقوامی میچز کسی نہ کسی چینل پر براہِ راست نشر ہو رہے ہوتے ہیں کھلاڑی کھیل کے علاوہ ذرائع ابلاغ میں نشر ہونے والے اشتہارات سے کروڑوں روپے کماتے ہیں اس طرح کھیل اور ذرائع ابلاغ ایک دوسرے کے لیے لازم و ملزوم بن چکے ہیں

    اب بات کرتے ہیں اخبارات کی
    اخبار پر انسان کی اپنی مرضی چلتی ہے جب انسان کو وقت ملے اخبار اٹھائے اور پڑھ لے
    اخبارات میں انسان کو یہ بھی اختیار ہوتا ہے کہ جہاں سے پڑھنا چاہے پڑھ لے جبکہ ذرائع ابلاغ پر آپ اپنی مرضی نہیں چلا سکتے
    اخبارات میں آپ کو سیاست انٹرٹینمنٹ اور کھیل کی خبریں میسر ہوتی ہیں اس کے علاوہ مختلف کالم نگاروں کے لکھے گئے کالم بھی پڑھنے کو ملتے ہیں

    اس کے بعد آتا ہے تیزی سے پھیلتا سوشل میڈیا
    تقریباً ہر ایک نوجوان آج سوشل میڈیا سے منسلک ہے اور اس کے بے شمار فوائد ہیں آپ آسانی سے اپنی رائے دے سکتے ہیں کوئی بھی موضوع ہو آپ اس پر اپنی رائے دے سکتے ہیں اس پر تبصرہ کر سکتے ہیں آپ اس میں مکمل آزاد ہیں

    اب دوسرے پہلو کا جائزہ لیتے ہیں اور میڈیا کے نقصانات کو بیان کرتے ہیں
    میڈیا میں ہونے والے ٹاک شوز میں سیاستدانوں کی گرتی ہوئی اخلاقی اقدار نوجوانوں کو بے راہ روی کا شکار کر رہی ہیں نوجوان صحیح راہ سے بھٹک کر اخلاق کی نچلی منزلیں طے کر ریے ہیں وہ بھی سیاست دانوں کے نقش قدم پر چلتے ہوئے اخلاقی گراوٹ کا شکار ہو رہے ہیں ،اس کے بعد آتی ہے ڈرامہ انڈسٹری جو اس وقت بے راہ روی کا شکار ہے اور بے حیائی کو فروغ دے رہی ہے ڈرامہ انڈسٹری سے نوجوان نسل بری طرح متاثر ہے نوجوان نسل جہاد اور تعلیم کے بجائے بے حیائ کی جانب راغب ہے جو کہ افسوس ناک امر ہے

    جہاں تک بات ہے کھیل کی تو کھیل کھیلنا دیکھنے سے نسبتاً بہتر ہے لیکن نوجوان کھیل کھیلنے کو نظر انداز کر رہے ہیں ضرورت اس امر کی ہے کہ کھیل کھیلنے کو فروغ دیا جائے اس کے بعد اخبارات کی بات کریں تو اس کے نقصانات قدرے کم ہیں لیکن آج کی نوجوان نسل اخبارات سے دور ہو چکی ہے سوشل میڈیا کے جس طرح سب سے زیادہ فوائد ہیں اسی طرح نقصانات بھی سب سے زیادہ ہیں نوجوان ہر کام چھوڑ کر سارا دن سوشل میڈیا پر رہتے ہیں اور اکثر اوقات غلط سرگرمیوں میں مشغول ہو جاتے ہیں جو کہ ان کے مستقبل کے لیے قدرے افسوس ناک ہے

    اس سب کے باوجود نوجوان نسل کو چاہیے کہ میڈیا سے جس قدر فوائد حاصل کر سکیں اس قدر حاصل کریں اور نقصانات کو کم سے کم کیا جائے حکومت وقت کو چاہئے کہ میڈیا میں آ کر گفتگو کرنے والے سیاستدانوں کو اچھی زبان استعمال کرنے کا پابند بنائے اور بے حیائ پر مبنی ڈراموں پر پابندی لگائے تا کہ نوجوان ایسی سرگرمیاں دیکھیں جن سے انہیں فائدہ ہو

    سوشل میڈیا کو ایک ضابطہ میں لا کر بہتر سے بہتر تر بنایا جا سکتا ہےاور یہ نوجوان نسل کے لیے ایک رحمت ثابت ہو سکتا ہے

  • نشہ بیماری بھی جرم بھی .تحریر: ملک ضماد

    نشہ بیماری بھی جرم بھی .تحریر: ملک ضماد

    پاکستان میں منشیات کا استعمال دن بدن بڑھتا چلا جا رہا ہے
    ہر زور کئی لوگ پولیس کے ہاتھوں گرفتار بھی ہوتے ہیں اور کئی لوگ مر بھی جاتے ہیں نشہ کا استعمال میں اس وقت نوجوان نسل زیادہ ہے جو سکول کالجز میں پڑھتے ہیں اس کے بعد پھر کاروباری شخصیات کو بھی منشیات کے استعمال ریکارڈ کیا گیا ہے منشیات کا استعمال پہلے تو لوگ ذہنی و جسمانی سکون کے کیے کرتے ہیں لیکن بعد میں وہ ہی سکون برباد کو جاتا ہے اور لوگ نشے کی حالت میں کبھی درد بدر کی ٹھوکریں اور کبھی کہیں سڑک کنارے یا کسی ندی نالے میں پڑے ملتے ہیں اسلام میں بھی نشہ آور چیزوں کے استعمال سے منع کیا گیا ہے
    اللہ تبارک وتعالیٰ قرآن مقدس میں ارشادفرماتاہے:

    (1)(اے محبوبﷺ)تم سے شراب اورجوئے کاحکم پوچھتے ہیں ۔تم فرمادوکہ ان دونوں میں بڑاگناہ ہے۔اورلوگوں کاکچھ دنیوی نفع بھی،لیکن ان دونوں کاگناہ ان کے نفع سے بڑاہے۔(سورۂ بقرہ:آیت219،پ2)

    ترجمہ: ائے ایمان والوں !نشہ کی حالت میں نمازکے پاس نہ جاؤ جب تک اتناہوش نہ ہوکہ جوکہواسے سمجھو۔(کنزالایمان،النساء4؍43،پ5)

    رسول اللہ صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم فرماتے ہیں ۔شراب پیتے وقت شرابی کا ایمان زائل ہوجاتاہے۔ایک اورجگہ ارشادفرمایاکہ :جوزناکرے یاشراب پیئے اللہ تعالیٰ اس سے ایمان کھینچ لیتاہے جیسے آدمی اپنے سرسے کرتاکھینچ لے۔(فتاویٰ رضویہ،ج۱۱)

    حضرت ابوامامہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا۔اللہ تعالیٰ فرماتاہے۔قسم ہے میرے عزت کی جوبندہ شراب ایک گھونٹ بھی پیئے گامیں اس کواتنی ہی پیپ پلاؤں گا۔اورجوبندہ میرے خوف سے اُسے چھوڑے گامیں اس کومقدس حوض سے پلاؤ ں گا۔(امام احمد)

    منشیات فروش معاشرے کے لیے بربادی کا سبب بنتے ہیں اور اپنی ذات کا نقصان بھی کرتے ہیں منشیات کے استعمال سے معاشرے میں بڑھتی برائیوں میں بھی اضافہ ہو رہا ہے جو کہ اداروں کے لیے سوچنے کا مقام ہے ہم سب کا فرض ہم مل کر معاشرے سے اس لعنت کے خاتمے کیلئے اپنا کردار ادا کریں متعلقہ اداروں ساتھ بھی مکمل تعاون کریں

  • کہاں گئی میری جنت . تحریر: ریحانہ جدون

    کہاں گئی میری جنت . تحریر: ریحانہ جدون

    کہاں گئی میری جنت . تحریر: ریحانہ جدون

    انسان کو جب تک دکھ, تکلیفیں نہیں ملتیں اُسے خوشیوں کا احساس نہیں ہوتا اور بعض دفعہ ایسا دکھ ملتا ہے کہ وہ گزرے لمحات کو یاد کرکے روتا ہے کہ وہ وقت کتنا اچھا تھا…
    پھر چاہ کر بھی وہ وقت انسان واپس نہیں لا سکتا, وہ ایک یاد بن کر ہمیں اس چیز کا احساس بھی دلاتا رہتا ہے کہ تب ہم اتنے لاعلم, اتنے لاپروا کیوں تھے, تب ہم نے ایسا کیوں سوچا کہ تھا کہ یہ وقت ہمیشہ ہی رہے گا…
    اپنی زندگی میں مشغول ایسے تھے کہ کبھی سوچا نہیں تھا کہ ایک پل میں سب کی زندگی بدل جائے گی کہ پھر ہنسنے کا دل کریگا بھی تو ….. آ نکھوں میں آ نسو آ جائیں گے.
    میرا خاموش رہنا صرف میری ماں ہی محسوس کرتیں تھیں, میرے چہرے کو اداس دیکھ کر وہ سمجھ جاتیں تھیں کہ آ ج میرا دل اداس ہے.
    زندگی پُرسکون رواں دواں تھیں کہ ایک صبح 4:30 پہ سوات کے پولیس اسٹیشن سے کال آ ئی کہ ایک گاڑی نے ہماری گاڑی کو پیچھے سے ہٹ کیا ( جس کا ڈرائیور سو گیا تھا) اور اس ایکسیڈنٹ میں میرے بھائی کی موت ہوگئی ہے یہ خبر کسی قیامت سے کم نہیں تھیں بھائی کے چھوٹے چھوٹے بچے یتیم ہوگئے
    اُس لمحے کسی کو کچھ سمجھ نہ آئی کہ ہمارے ساتھ ہوا کیا ہے .
    سبھی دُکھی تھے پر میری ماں کو کسی طرح صبر نہیں آ رہا تھا وہ بس ایک ہی بات کہہ جارہی تھیں میری زندگی کا وسیلہ میرا بیٹا مجھے کیسے چھوڑ کے جاسکتا ہے. سب انکو تسلیاں دے رہے تھے بھائی کی میت شام کو گھر پہنچی ایک کہرام برپا تھا ہر آ نکھ اشک بار تھی میری ماں بار بار بے ہوش ہوجاتیں تھیں آ دھی آ دھی رات اٹھ کے بھائی کی قبر پہ چلی جاتیں پھر شاید میری ماں کی تڑپ ہی تھی کہ بھائی کے چالیسویں کی رات میری ماں مجھے چھوڑ کر بھائی کے پاس چلی گئیں بھائی کا ایکسیڈنٹ رات 1:30 کے قریب ہوا اور یہی وقت میری ماں کو ہارٹ اٹیک ہوا اور 10 منٹ میں ہی میری ماں مجھے چھوڑ کے بھائی کے پاس چلی گئیں…

    اُس رات میرے ساتھ رات 12:15 تک بیٹھیں باتیں کرتیں رہیں, باتوں باتوں میں کچھ نصیحتیں کرتیں رہیں مجھے نہیں پتا تھا کہ یہ اُنکی آ خری باتیں ہونگیں اور جن کا احساس اُنکی موت کے بعد ہُوا… انکی کہی یہ بات کہ بیٹا بڑا وہی ہوتا ہے جس کا دل بڑا ہوتا ہے تم سب سے چھوٹی ہو کوئی بات کہہ بھی جائے تو دل بڑا کرلیا کرو…
    میں اب کس سے کہوں کہ ماں میرا دل اتنا بڑا نہیں ہے میری آ نکھوں کے آ گے سے آ پکا چہرہ ہٹتا ہی نہیں ہے..
    میرے کانوں میں آ پکی آ واز گونجتی رہتی ہے, میں کسی محفل میں بھی جاتی ہوں تو میری آ نکھوں میں آ نسو آ جاتے ہیں.
    میں نے کبھی سوچا بھی نہیں تھا کہ ماں آ پ اسطرح اچانک سے مجھے چھوڑ جائیں گی.. کیا آ پ کے لئے بھائی ہی سب کچھ تھا..
    ماں آ پ کے ہوتے میں نے کبھی خود خیال نہیں کیا کہ اب میں بڑی ہوگئی ہوں میری آ پ سے ضد کرکے بات منوانا ویسے ہی رہا جیسے ایک بچہ اپنی ماں سے ضد کرکے منواتا ہے..
    میں نے کئی لوگوں کی موت دیکھی میں نے کبھی ان لوگوں کے درد کو محسوس نہیں کیا جو کسی اپنے کی موت دے کے جاتی ہے…
    میں سوچتی تھی کہ ماں باپ جب بوڑھے ہوجاتے ہیں تو انکی خدمت کی جاتی ہے جب بیمار ہوتے ہیں اُنکی خدمت کی جاتی ہے..
    پر مجھ بدنصیب کو کیا معلوم تھا کہ ماں کی خدمت میرے نصیب میں ہے ہی نہیں,
    میری ماں تو آخری دن تک میرا خیال کرتیں رہیں…
    میری چیزیں سنبھال کے رکھنا اور پھر اُنکا یہ کہنا کہ میں کب تک تیری چیزوں کو سنبھالو گی..
    پھر ماں سے کسی بات پہ ناراض ہوجانا اور انکا پھر میری پسند کی چیزیں ابو سے منگوانا…
    ماں مجھے احساس ہوگیا ہے پر اب میرے پاس آپ نہیں ہو,
    میں خود کو بہت ٹوٹا ہوا بہت ادھورا محسوس کرتی ہوں…
    اب تو میں نے ناز نخرے کرنا بھی چھوڑ دیا ہے
    ماں اب تو میں نے روٹھنا بھی چھوڑ دیا ہے…
    ماں سب کا مقام اپنی اپنی جگہ خاص ہے پر ماں آ پکے گلے لگ کے خوشی یا غم کا رونا کسی اور کے ساتھ ممکن نہیں…
    ایسا کوئی نہیں جو بنا پوچھے سمجھ جائے.. میری وہ بے فکر زندگی صرف آ پکے بدولت تھی ماں
    میرے دل کی حالت بیان کرنے کو سمجھ نہیں آ تا الفاظ کہاں سے لاؤں بس اتنا ہی کہ

    افسانہِ دلِ برباد کیا سناؤں ماں
    اجڑ گئ میری دنیا کہاں میں جاؤں ماں
    کہاں تلاش کروں ہائے اب متاعِ سکوں
    کہاں گئی میری جنت ، کہاں سے لاؤں ” ماں "

  • جوہر ٹاؤن دھماکے کے پیچھے آخر کون؟ تحریر، رانا عزیر

    جوہر ٹاؤن دھماکے کے پیچھے آخر کون؟ تحریر، رانا عزیر

    جوہر ٹاؤن دھماکے کے پیچھے آخر کون؟ تحریر، رانا عزیر
    لاہور میں آج خوفناک دھماکہ ہوا جس نے پورے پاکستان کو ہلا کر رکھ دیا اور ہر طرف قیاس آراییاں شروع ہوگئی کہ یہ دھماکہ آخر کس نے کروایا ؟ اور اس دھماکے کا ٹارگٹ حافظ سعید بتایا جا رہا ہے، لیکن حافظ سعید ابھی تک کہاں پر ہیں؟ اور اس دھماکے کے تانے بانے کس کے ساتھ جڑ رہے ہیں ؟
    جس جگہ پر دھماکا ہوا وہ کالعدم جماعت الدعوۃ کے سربراہ حافظ سعید کی رہائش گاہ کے قریب ہیں تاہم حکام کی جانب سے تاحال اس حوالے سے کوئی بیان سامنے نہیں آیا۔اردو پوائنٹ کے ساتھ گفتگو کرتے ہوئے شہری نے تصدیق کی ہے کہ دھماکا حافظ سعید کی رہائش گاہ کے قریب ہوا ہے،انہیں گھر میں نظر بند کیا گیا ہے،حافظ سعید کے گھر کے باہر سیکیورٹی موجود ہوتی ہے اور اسی کے سامنے آج دھماکا ہوا ہے۔
    حافظ سعید کی سیکورٹی کے لیے ایک گاڑی ہر وقت موجود رہتی ہے جبکہ پولیس بھی ہر وقت ان کی رہائش گاہ کے قریب ہوتی ہے۔

    شہری کے مطابق گھروں میں لوہے کے پیس بھی گرے ہیں،میڈیا میں بتایا جا رہا ہے کہ دھماکا گھر کے اندر ہو اہے لیکن دھماکا گاڑی کے اندر ہوا ہے اور بظاہر یہ گیس پائپ لائن پٹھنے کا دھماکا نہیں ہے۔دھماکے کے بعد آگ بھی لگ گئی اور دھواں اٹھتا ہوا دیکھا گیا. دھماکا اتنا زوردار تھا کہ ہمارے گھر میں ہل گئے.

    اگر پولیس پکٹ نہ ہوتی تو گاڑی ہائی ویلیو ٹارگٹ تک پہنچ سکتی تھی ، ہمیں 65 تھریٹ الرٹس موصول ہوئے ، دھماکوں میں بیرونی ہاتھ ملوث ہوتے ہیں ، قیاس آرائیاں نہ کریں تو بہتر ہے.

    لیکن ایک چیز نے سوچنے پر مجبور کردیا کہ ایک طرف امریکا پاکستان کو اڈے نہ دینے کی سزا دے رہا ہے تو امریکا پاکستان میں افغانستان کی خانہ جنگی منتقل کرنا چاہتا ہے، اور وہ پاکستان پر حملے کرکے اکیلا چھوڑنا چاہتا ہے ، ایک تو لاہور جوہر ٹاؤن حملے میں غیر ملکی مواد استمال ہوا اور اس سے ایک چیز واضح ہوگئی یہ امریکا اور بھارت کا ٹریلر ہے کہ اب امریکا اسامہ طرز پر آپریشن کرنے جارہا ہے اور یہ اسی چیز کی کڑی ہے ، کہ اب پاکستان میں دہستگردی کرواکے پاکستان کے حالات خراب کرنے کی کوشش کر رہے ہیں. اور جب سے عمران خان نے امریکا کو absolute not کہا ہے تو عمران خان نے اپنی جان کو بھی خطرے میں ڈال دیا ہے، تو لاہور جوہر ٹاؤن دھماکہ حافظ سعید کو ٹارگٹ کرنا یہ اشارہ ہے کہ امریکا بڑے آپریشن کی تیاری کررہا ہے. اور پاکستان کی خفیہ ایجنسیز اس وقت مکمل طور پر ہائی الرٹ ہیں

  • ڈوراورڈومور.تحریر : محمد ناصراقبال خان

    ڈوراورڈومور.تحریر : محمد ناصراقبال خان

    قادروکارساز اللہ رب العزت نے قرآن مجید فرقان حمیدکی سورة المائدة میںاِرشاد فرمایا ” کسی ایک اِنسان کاناحق قتل پوری انسانیت کاقتل جبکہ ایک انسان کی جان بچاناپوری انسانیت کوبچانے کے مترداف ہے”۔نام نہا د روزگار یاشوق کیلئے دوسروں کی زندگی سے کھیلنے والے معاشرے کے مٹھی بھر گمراہ لوگ زندگیاں بچانے کیلئے سردھڑ کی بازی لگانیوالے پولیس اہلکاروں کوگالیاں دیتے ہیں ۔اے کاش پتنگ سازی اورپتنگ بازی کے” عادی” اور”فسادی” اِس فرمان الٰہی پرغور کرتے ہوئے اپنا ا پنا گھناﺅناکاروباربند اورمذموم شوق ترک کردیں کیونکہ پتنگ بازی ایک ایسا”جنون” ہے جس نے اب تک ہزاروں انسانوںکوان کے اپنے "خون” میں ڈبودیا ہے۔پتنگ ساز اورپتنگ بازیادرکھیں اللہ ربّ العزت کے حقوق کی معافی بھی کافی ہے لیکن حقوق العباد میں معافی کے ساتھ ساتھ تلافی بھی از بس ضروری ہے ۔ معافی اورتلافی کے بغیر والے معاملات میں فیصلہ روزِمحشر ہوگا۔اپنے ناپسندیدہ معاملات کے فیصلے دنیا میں ہی کرواکے جانابہتر ہے کیونکہ حشر کے معاملات بہت نازک ترین ہوں گے۔پتنگ ساز اورپتنگ باز یادرکھیں وہ جانے انجانے میں ہرچندروز بعد کسی نہ کسی بیگناہ انسان کی زندگی کی ڈور کاٹ رہے ہیں اوریہ کوئی حادثہ نہیں بلکہ قتل عمد ہے لہٰذاءاگر قانون کی کمزوری ،بیچارگی،عدم دلچسپی یاناقص ترجیحات کے سبب انہیں اِس جہان میں ا پنے ہاتھوں کسی بیگناہ کے قتل کی سزانہ ملی تواُس جہان میں مخصوص”گناہ” کابھاری خمیازہ بھگتنا پڑے گا۔دھاتی ڈور سے بیگناہوں کادلخراش قتل وہ” درندگی” ہے جس پرقاتل کو”شرمندگی "تک نہیں کیونکہ وہ درندے اپنے گناہ اورانجام سے انجان ہوتے ہیں۔ہماری "زندگی” معبود کی” بندگی” کیلئے ہے لہٰذاء”درندگی” کامظاہرہ کرنیوالے عناصرقابل گرفت اورناقابل رحم ہیں۔پتنگ سازوں اور پتنگ بازوں کی دھاتی ڈورہرگزکسی شہری کی قاتل نہیں کیونکہ وہ عناصر خود ان بیگناہوں کے قتل میں براہ راست ملوث اور زیردفعہ 302 سپیڈی ٹرائل کے مستحق ہیں ۔پتنگ ساز اورپتنگ باز وہ بدنصیب ہیں جوخودتوایک دن مرجاتے ہیں لیکن ان کاگناہ زندہ رہتاہے ۔اب ہمارے ہاں ہرشب برات کو سوشل میڈیا پر ایک دوسرے سے معافی طلب کی جاتی ہے اورپھر سال بھر ہم دوسروں کوپریشان اوران کے حقوق پامال کرتے ہیں۔گردن پرڈورپھرنے سے مارے جانیوالے کاکوئی نہ کوئی قاتل ضرورہوتا ہے لیکن اسے اپنے اس گھناﺅنے فعل کی اطلاع نہیں ہوتی اوروہ مزے کی نیندسوتاہے لیکن جب اُس کی موت کے بعدرشتہ داراسے اندھیری قبر میں اتاردیں گے توپھر وہاں وہ یقیناعذاب کاسامناکرے گا۔اپنے ہاتھوںکسی بیگناہ کی ناحق موت کے بعد کوئی قاتل مرقد میں چین سے نہیں رہ سکتا ۔

    جومحکمہ پولیس سے نفرت کرتے اوراہلکاروںکو گالیاں دیتے ہیں وہ یادرکھیں ہماری اورہمارے پیاروں کی زندگی کی حفاظت ان کافرض منصبی ہے اوراپنا فرض اداکرتے ہوئے اب تک پندرہ سوسے زائد پولیس آفیسر اوراہلکاروں نے جام شہادت نوش کیاہے جبکہ جوہرٹاﺅن بم دھماکے میں زخمی باوردی پولیس اہلکار کا پراعتماد چہرہ بھی سب نے دیکھا ہے لہٰذاءکسی آفیسراوراہلکار کاناپسندیدہ انفرادی فعل دیکھتے ہوئے محکمہ پولیس کی قابل رشک اجتماعی خدمات سے انکار اورقربانیوں کوفراموش نہ کریں۔یادرکھیں ون ویلنگ اورپتنگ بازی "خون” اور”جنون” کاتاریک راستہ اورقیمتی انسانی جانوں کیلئے مہلک ہے۔ ہمارے پیاروں کی زندگی کوون ویلنگ اورپتنگ بازی کی صورت میں انتہائی مہلک خطرات سے بچانے کیلئے ہمارے وردی پوش سرفروش اپنی زندگیاں تک داﺅپرلگادیتے ہیں اسلئے ان کی قدر،عزت اوران پراعتماد کے ساتھ ساتھ ان سے بھرپورتعاون کریں۔ ہماری خدمت اورحفاظت پولیس اہلکاروں کافرض جبکہ ان کی مدد کرناشہریوں پرقرض ہے ۔ ڈور سے ہونیوالے قتل عام کے بعد کوئی زندہ ضمیر پتنگ سازی اورپتنگ بازی کاتصور بھی نہیں کرسکتا۔مختلف واقعات میںشاہراہو ں پر جاتے ہوئے شہ رگ پرڈور پھرنے سے کئی معصوم بچوں سمیت مردوزن تڑپ تڑپ کرموت کی گھاٹ اترے اورباری باری ان کاجنازہ اٹھالہٰذاءاس کے باوجود پتنگ سازی اورپتنگ بازی سے باز نہ آنیوالے” لوگ” یقینامردہ ضمیراورانسانیت کیلئے "روگ” ہیں۔پتنگ بازی کاحامی مٹھی بھر طبقہ اس نام نہاد ثقافت کوزندہ رکھنا چاہتا ہے جبکہ اس سے بیزار لوگ غالب اکثریت میں ہوتے ہوئے بھی خاموش ہیں جبکہ ا ن کی اس مجرمانہ خاموشی نے انہیں قاتل بنادیا ہے کیونکہ جہاں کسی مقتول کا قاتل بے نام ونشاں ہووہاں معاشرے کو قتل میں ملوث سمجھاجاتاہے لہٰذاءمعاشرے کاہرفرد اورطبقہ ون ویلنگ ،پتنگ سازی ،پتنگ بازی،جعلی ادویات کی تیاری وتجارت،بچوں سمیت خواتین پرجنسی تشدد ،منشیات کی فروخت اوراس کا استعمال روکنے کیلئے اپنااپناکلیدی کرداراداکرے۔جس چاردیواری میں پتنگ سازی اورجس چھت پرپتنگ بازی ہوتی ہے وہاں آس پاس پڑوسی توہوتے ہیں توپھروہ کیوں پولیس کواطلاع نہیں کرتے،میں ان شہریوں کو پتنگ سازوں ،پتنگ بازو ں کاسہولت کار اورشریک مجرم سمجھتاہوں ،انہیں بھی قتل عمد کے مقدمات میں نامزد کیاجائے،خدانخواستہ آئندہ ڈور سے قتل ہونیوالے بچے یا شہری کاتعلق ہم میں سے کسی کے ساتھ بھی ہوسکتا ہے سواس وقت سے ڈریں اورایک معاون کی طرح اپنی محافظ پولیس کی مددکریں ۔

    ہمارے ہاںڈورکوقاتل کہاجاتا ہے توپھریقینامرنیوالے مقتول ہیں لہٰذاءانہیں جاںبحق کہنا انصاف نہیں۔ہر وہ تھانہ جس کی حدودمیں ڈور سے کسی شہری کاقتل ہووہ نامعلوم قاتل کیخلاف قتل عمد کی دفعات کے تحت مقدمات درج اوربعدازاں وہاں سے گرفتارہونیوالے شرپسند پتنگ سازوں اورپتنگ بازوں کوان مقدمات میں نامزد اورچالان کرے ۔آئے روزدھاتی ڈور پھرنے سے قیمتی انسانی جانوں کاضیاع قومی المیہ ہے ،اگر دھاتی ڈور سے اموات محض ایک حادثہ ہیں توپھر ایس ایچ اوزکومعطل کیوں کیاجاتا ہے،یہ معطلی کوئی راہ حل نہیں۔پولیس حکام اپنے کس کس ماتحت ایس ایچ او کومعطل کریں گے جبکہ ا یس ایچ او کی معطلی کے باوجود پتنگ بازی کاسلسلہ معطل نہیں ہوتا۔ پولیس تنہا پتنگ سازوں اورپتنگ بازوں کا ناطقہ بند نہیںکرسکتی ، اپنے پیاروں کو” ڈور” سے بچانے کیلئے شہریوں کی طرف سے” ڈومور” ناگزیر ہے۔ شاہراہوں پررواں دواں بیگناہ شہریوں کے خون سے ہولی کھیلنے والے درندے تختہ دار کے مستحق ہیں ۔ راقم کی تجویز کی روشنی میں پولیس نے پتنگ بازوں کیخلاف کریک ڈاﺅن کیلئے ڈرون کیمروں کا استعمال شروع کردیا ہے ، میرے پاس مزید انتہائی موثر تجاویزہیں لیکن آئی جی پنجاب سمیت کوئی سننے کیلئے تیار نہیں کیونکہ کسی مقتول سے ان کاخونی رشتہ نہیں ہے ۔ حکمران اور پولیس حکام خون کی ہولی روکنے کیلئے مختلف طبقات کی نمائندہ شخصیات کے ساتھ مکالمے کااہتمام کریں ۔پتنگ بازی ،منشیات اورجنسی درندگی سمیت مختلف سماجی اورمعاشرتی برائیوں سے نجات کیلئے تعلیمی نصاب ،اساتذہ اورعلماءحضرات سے بھرپور مدد لی جاسکتی ہے ۔پتنگ سازو ں اورپتنگ بازوں کیخلاف منظم اورموثر کریک ڈاﺅن کیلئے” ابابیل سکواڈ” بنایا جبکہ باشعور شہری رضامند ہوں تو ان سے رضاکارانہ کام لیاجائے اورحکام ان کانام صیغہ رازمیں رکھیں۔پولیس پتنگ سازوں اورپتنگ بازوں کامحاصرہ اورمحاسبہ کرنے کیلئے اپنے پرائیویٹ انفارمرز کومتحرک کرے۔

    لاہور کے پروفیشنل اورجہاندیدہ سی سی پی او ایڈیشنل آئی جی غلام محمودڈوگر جبکہ لاہورکے نیک نیت اورزیرک ڈ ی آئی جی آپریشنز ساجدکیانی کی انتھک قیادت میں ان کے مستعد ٹیم ممبرز پتنگ سازوں اورپتنگ بازوں کے تعاقب کرتے ہوئے ان کے گرد گھیرا تنگ کررہے ہیں۔غلام محمودڈوگر اورساجدکیانی تھانہ کلچر کی تبدیلی کیلئے کوشاں اوراس نیت سے مختلف تھانوںکادورہ کرتے ہیں ،وہ تھانہ فیکٹری ایریا ،کوٹ لکھپت اورنواب ٹاﺅن کی عمارتوں کامعائنہ کرنے کیلئے وہاں کاسپیشل وزٹ کریں۔تھانہ” نواب ٹاﺅن” کانام سن کرلگتا ہے یہ تھانوںکا”نواب” ہوگالیکن تھانہ” نواب” ٹاﺅن کی عمارت کسی جھونپڑی اورجھگی سے بدتر ہے جبکہ اس کے اطراف میں جھاڑیاں خطرے سے خالی نہیں ۔ تھانہ فیکٹری ایریا کو ایک کھنڈر نمابوسیدہ عمارت میں منتقل کرنااور اہلکاروں کی زندگی داﺅپرلگاناانصاف نہیں، یقینا کوئی ایس پی دوگھنٹوں تک اس عمارت میں نہیں بیٹھ سکتا،اسے فوری کسی جدید اورمحفوظ عمارت میں شفٹ کیاجائے ۔ لاہورپولیس بیک وقت کئی محاذوں پرسربکف ہے تاہم غلام محمودڈوگر اور ساجدکیانی کے سخت،درست اوردوررس اقدامات سے پتنگ بازی پر کافی حدتک قابوپالیا گیا ہے لیکن ابھی انہیں مزید کام کرنا ہوگا ۔روزانہ بنیادوں پرلاہور کے مختلف تھانوں کی حدود سے پتنگ ساز اورپتنگ باز گرفتار ہورہے ہیں لیکن قوانین میں سقم کے نتیجہ میں انہیں فوری ضمانت ملنا ایک بڑاسوالیہ نشان ہے۔چندگھنٹوں کی گرفتاری کے بعد رہائی اورپولیس کی جگ ہنسائی سے معاشرے کو پتنگ سازی اورپتنگ بازی کے نتیجہ میں ہونیوالے کشت وخون سے نجات نہیں ملے گی ۔پتنگ ساز اورپتنگ بازدرندے اورقاتل ہیں لہٰذاءان کے شر سے بیگناہ شہریوں کی حفاظت کیلئے ان درندوں کو زندانوں میں رکھیں،یادرہے ہرقاتل کی طرح ڈور سے شہریوں کوقتل کرنیوالے بھی تختہ دار کے مستحق ہیں۔ سی سی پی او ایڈیشنل آئی جی غلام محمودڈوگر اور ڈ ی آئی جی آپریشنز لاہور ساجدکیانی پنجاب کی منتخب سیاسی قیادت سے ملاقات کریں اور اپنے تجربات ومشاہدات کی روشنی میںانہیں تعمیری تجاویز دیں کیونکہ کوئی معاشرہ سخت "قانون "بنائے بغیر” قانون شکنی” نہیں روک سکتا ۔ منتخب ایوان معاشرے کودرپیش چیلنجز کودیکھتے ہوئے قانون سازی کریں ،پتنگ سازی اورپتنگ بازی کاراستہ صرف© "قانون سازی” سے روکاجاسکتا ہے۔

  • گالی کوئی کلچر نہیں .تحریر: ملک ضماد 

    گالی کوئی کلچر نہیں .تحریر: ملک ضماد 

    اسلام سمیت دنیا کے تمام مذاہب میں اخلاقیات پر بہت زور دیا گیا ہے سب سے زیادہ اسلام میں اخلاقیات کا درس دیا گیا ہے

    خود ہمارے پیارے نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے اپنی ساری زندگی لوگوں کو اخلاقیات کا درس دیا اور خود اس پر پہلے عمل کیا

    نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو کفار گالیاں دیتے، مختلف القابات سے بلاتے، جادوگر اور پتہ نہیں کیا کیا کہتے لیکن کبھی بھی نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ان کو اس کا جواب نہیں دیا بلکہ ان کے لئے ہدایت کی دعا کی نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی دعا کی وجہ سے وہ لوگ جو گالیاں دیتے تھے وہ مسلمان ہوئے پھر خود وہ لوگ داعی بنے پھر وہ خود اخلاقیات کا درس دیتے دیتے پوری دنیا میں پھل گئے

    طائف کی گلیوں میں جب نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے دعوت و تبلغ شروع کی تو طائف کے لوگوں نے نبی اکرم صلی علیہ وآلہ وسلم کو طائف سے باہر نکال دیا اور ان کے پیچھے نوجون لڑکوں کو لگا دیا جو ان کو پتھر مارتے رہے پتھر لگنے سے نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے جسم مبارک سے اتنا خون بہا کہ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے جوتے مبارک خون سے بھر گئے

    طائف سے باہر نکل کر جب کسی جگہ آرام کرنے بیٹھے تو جبرائیل علیہ السلام آئے اور نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے اجازت مانگی کہ میں طائف والوں کو تباہ کر دوں تو نبی کریم ص نے کہا نہیں اللہ پاک ان طائف والوں کی آنے والی نسلوں سے دین کا کام لیں گے

    پھر دنیا نے دیکھا طائف سے بڑے بڑے صحابہ کرام رضی اللہ تعالٰی عنہ نکلے نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم گالی دینے والے کو بھی دعا دیتے تھے پتھر مارنے والے کو بھی دعا دیتے تھے نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے دنیا کو بھی درس صبر و تحمل سے رہنا کوئی برا کہے درگزر کروکوئی گالی دے برداشت کروایک حدیث شریف کا مفہوم ہے

    حضرت عبداللہ بن عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت ہے کہ آپﷺ نے فرمایا “گناہ کبیرہ میں یہ بھی ہے کہ انسان اپنے والدین کو گالی دے”۔ صحابہ اکرام رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے عرض کی، “یا رسول اللہ ﷺ کیا کوئی اپنے والدین کو بھی گالی دے سکتا ہے؟” آپﷺ نے فرمایا کہ “ہاں ! وہ اس طرح کہ یہ کسی کے باپ کو گالی دے اور وہ جواب میں  اس کے باپ کو گالی دے ، یہ کسی کی ماں کو گالی دے اور وہ جواب میں اسکی ماں کو گالی دے”

    ( بخاری ، مسلم )

    آج کل ہمارے معاشرے میں گالی کو فیشن سمجھا جا رہا ہے ایک دوسرے کو اگر مخاطب بھی کرنا ہے تو گالی دے کر کیا جا رہا ہے حالانکہ اسلام میں کسی نام بگاڑنے یا گالی دینے والے کے لیے سخت وعید بتائی گئی ہے ہماری عام عوام ہو یا ہمارے ارباب اختیار ہواسمبلی میں بیٹھے ممبران ہوں یا اسمبلی سے باہر سیاسی لوگ دفاتر میں بیٹھے افسران ہوں یا سڑکوں پے کام کرنے والے جس کو بھی دیکھو آج کل اس کے زبان پے گالی عام ہو چکی ہے

    پھر اکثر لوگ گالیاں بھی ماں بہن کی دیتے ہیں جن کو پتہ نہیں ہوتا ان کے بیٹے، بھائی باہر کیا گل کھلا رہے ہیں جو ان ہو اتنے اچھے طریقے سے یاد کیا جا رہا ہے سب سے پہلے ہم انسان ہیں پھر مسلمان ہیں ہمیں بطور معاشرہ یہ سوچنا ہو گا کیا ہمیں یہ زیب دیتا ہے ہم کسی کو گالی دیں اور وہ ہمیں گالی دے گالی دینا اخلاقی، مذہبی، معاشرتی، قانونی، کسی بھی طور پے جائز یا قابل برداشت نہیں اکثر دیکھا گیا ہے دوست ایک دوسرے کو مذاق میں گالیاں دیتے دیتے لڑ پڑتے ہیں اور بات قتل و غارت گری تک پہنچ جاتی ہے پھر وہ دوست جو ایک دوسرے کے بغیر سانس نا لیتے تھے ان کی چھوٹی سی غلطی سے بات خاندانی دشمنی تک پہنچ جاتی ہے ،

    آئیں مل کر اپنے آپ سے شروع کریں اور پھر پورے معاشرے کو اس کی ترغیب دیں گالی نہیں پیار دو پیار محبت کا کلچر عام کرو پیار دو پیار لو کو اپناو

  • بڑھتا ہوا جنسی تشدد اور سماجی بے حسی : تحریر:حسن ساجد

    بڑھتا ہوا جنسی تشدد اور سماجی بے حسی : تحریر:حسن ساجد

    بڑھتا ہوا جنسی تشدد اور سماجی بے حسی : تحریر:حسن ساجد

    اللہ رب العزت کی بنائی ہوئی یہ کائنات بے حد حسین ہے۔ یہ زمین اپنے دیدہ زیب رنگوں، دلنشیں نظاروں، بل کھاتے دریاوں، دلفریب وادیوں، فلک بوس پہاڑوں اور اس میں بسنے والے مختلف انواع و اقسام کےجانداروں کی موجودگی کے باعث باقی کائنات کی نسبت زیادہ حسین، خوبصورت اور دلکش معلوم ہوتی ہے۔ مگر جس طرح ہر چمکنے والی چیز سونا نہیں ہوتی، جس طرح ہر ہاتھ ملانے والا دوست نہیں ہوتا بالکل اسی طرح تمام خوبصورت نظر آنے والی چیزیں حقیقت میں بھی خوبصورت نہیں ہوتیں۔ مثال کے طور پر اگر ہم اس کائنات کی اشرف المخلوقات سمجھی جانے والی تخلیق کا تجزیہ کریں تو ہمیں معلوم ہو گا کہ تمام انسان خوبصورت نہیں ہوتے بلکہ کچھ انسان انتہائی بدصورت اور بہیودہ بھی ہوتے ہیں۔
    میں یہ بات اس لیے نہیں کہہ رہا کہ وہ ظاہری طور پر سیاہ رنگ یا برے خدوخال والے ہوتے ہیں بلکہ میں یہ بات اس لیے کہہ رہا ہوں کہ ان کے دل تاریک ہوتے ہیں، ان کا لہو بظاہر تو سرخ نظر آتا ہے مگر وہ سیاہ ہوتا ہے۔ ان کے اعمال بد ہوتے ہیں، ان کے افعال برے ہوتے ہیں۔ جی ہاں! جناب وہ لوگ اپنے کردار کی سیاہی اور بدصورتی کی وجہ سے بدصورت کہلاتے ہیں۔ مگر ایسے بدصورت لوگوں کو پہچاننا انتہائی مشکل ہوتا ہے کہ ان کی بدصورتی ان کے اعمال، ان کی سوچ اور ان کے کردار میں پوشیدہ ہوتی ہے۔ جو ظاہری آنکھ سے نظر نہیں آتی۔ یہ بدصورتی کی انتہائی خطرناک قسم ہے کیوں کہ یہ بدصورتی معاشرے کے حسین چہرے پر بدنما داغ یا ناسور بن کر ابھرتی ہے۔
    کردار کے بدصورت لوگوں کی ویسے تو کئی اقسام ہیں مگر آج کی تحریر بیمار ذہنیت، جنون ،معاشرتی پسماندگی اور جہالت سے بھرپور ایسے بدصورت لوگوں کے گرد گھومتی ہے جن کا نشانہ ہمارے بچے، ہماری قوم کا مستقبل یعنی ہماری آنے والی نسل ہے۔ یہ تحریر پاکستان میں بچوں کے ساتھ پیش آنے والے جنسی تشدد کے بڑھتے ہوئے واقعات کی جانب توجہ دلانے کی ایک کاوش ہے۔ کیونکہ آج ہمارے مدرسوں، سکولوں اور کالجوں میں جانے والے بچے اور بچیاں انتہائی غیرمحفوظ حالات سے دوچار ہیں۔ والدین نہیں جانتے کہ مسجد کے مولوی، سکول کے استاد یا کالج یونیورسٹی کے پروفیسر انکے بچوں کے لیے روحانی باپ ثابت ہوں گے یا ایک خونخوار درندہ۔ میڈیا رپورٹس کے مطابق گذشتہ 6 ماہ میں 1500 سے زائد بچوں اور بچیوں کے ساتھ جنسی تشدد کے واقعات رپورٹ ہوئے ہیں۔

    ڈان نیوز کی جاری کردہ ایک رپورٹ کے مطابق پاکستان میں روزانہ کی بنیاد پر بچوں کے ساتھ جنسی تشدد کے 10 سے زائد واقعات میڈیا میں رپورٹ ہو رہے ہیں مگر حقیقت میں پیش آنیوالے واقعات کی تعداد اس سے کہیں زیادہ ہے۔ اس کی وجہ یہ ہے کہ کئی بچے اور ان کے والدین اپنی عزت کو تماشہ بننے سے بچانے کی غرض سے یا مجرم کے سیاسی و سماجی اثرورسوخ کی وجہ سے مصلحت کے تحت رو دھو کر چپ ہو جاتے ہیں کہ اپنا مقدمہ کل قیامت کو خدا لم یزل کی بارگاہ میں پیش کریں گے جہاں ہر تفریق سے ماورا سب کو انصاف ملتا ہے۔ اس میں کوئی شک نہیں کہ مثال سے بات سمجھانا یا کسی کے درد کو محسوس کرنا آسان ہو جاتا ہے لیکن مثال کے طور واقعہ پیش کرنے کے لیے میرا قلم فیصلہ کرنے سے قاصر ہے۔ میں نہیں جانتا کہ کس دلخراش واقعہ کی طرف توجہ دلاتے ہوئے کس کے والدین کا دکھ بیان کروں یا کس بچے یا بچی کے ساتھ ہونے والے ظلم و ستم اور سفاکیت کا تذکرہ اپنی تحریر میں کروں تاکہ آپکو معاملات کی سنجیدگی کا اندازہ ہوسکے۔ میں یہ فیصلہ کرنے سے قاصر ہوں کہ میں آپ کے سامنے تین سالہ معصومہ، مقتولہ فریال پر ہونے والی زیادتی اور سفاکیت کا تذکرہ کروں یا حیوانیت اور درندگی کا نشانہ بننے والی آٹھ سالہ کم سن مقتولہ ہوض نور کے ساتھ ہونے والے ظلم و ستم کا تذکرہ کروں۔ میں پنجاب کے پسماندہ گاؤں میں کسی بگڑے رئیس زادے کی وحشت کی نظر ہونے والے طلحہ نور کا ذکر کروں جس کے والدین کی آواز کو دبا دیا گیا یا پھر کسی شہر میں زیادتی کے بعد مار دیے جانے والے کسی اور معصوم فرشتے کا جس کی مسخ شدہ لاش کئی روز بعد والدین کو ملی۔
    سمجھ میں نہیں آتا کہ میں معصوم و مقتول زینب کے ساتھ ہونے والے ظلم و ستم کا تذکرہ کروں یا پھر خیبر پختونخواہ سے ذہنی طور پر معذور گوشی کے والدین کا دکھ بیان کروں یا پھر 14 سالہ اس بچی کے ساتھ ہونے والے ظلم کا تذکرہ کیا جائے جسے راولپنڈی کے باریش نام نہاد معززین اور جواں سالہ لونڈوں نے مل کر اجتماعی زیادتی کا نشانہ بناتے ہوئے ایک ایسی اولاد کا تحفہ دیا جسے یہ نام نہاد حلالی معاشرہ “حرامی” کا لقب دے گا اور اس کی 14 سالہ معصوم و بے قصور والدہ کو نہ چاہتے ہوئے بھی فحاشہ کے درجے پر فائز ہونا پڑے گا۔
    اس بات میں کوئی شک نہیں کہ زمانے کی سفاکیت اور بربریت کی ایسی داستانیں اگر قلم کی نوک سے قرطاس کے سینے میں پیوست بھی کرنے کی کوشش کی جائے تو وہ بھی حضرت انسان کے ایسے سیاہ کرتوتوں کو دیکھ کر کانپ اٹھے اور پناہ مانگے۔ مگر یہ بھی ایک مسلمہ حقیقت ہے کہ ایسے دلخراش واقعات اور انسانیت سوز داستانوں کو اور ایسی داستانیں جنم لینے کی وجوہات کو جب تک زیر بحث نہیں لایا جائے گا معاشرہ لاشعور رہے گا اور یونہی ہمارا ناقابل تلافی نقصان ہوتا رہے گا۔ یہ آگ ہمارے گھروں کو جلاتی رہے گی اور ہم خاموش تماشائی بنے رہیں گے۔ ایسے واقعات سے اگر ہم یونہی لاتعلق رہے تو یقین جانیے ہم بھی شریک جرم سمجھے جائیں گے اور اس بڑھتی ہوئی معاشرتی برائی کے پھیلنے میں برابر کے قصوروار سمجھے جائیں گے۔

    بہت افسوسناک بات ہے کہ ان واقعات سے متعلق آگاہی دینے اور ان کو روکنے کے لیے ہمارے ملک میں کوئی ٹھوس اقدامات نہیں کیے جا رہے اور یہ برائی ایک کے بعد دوسرا گھر جلا رہی ہے ۔ ہم اور ہماری گورنمنٹ کمیشنز بنانے، کمیٹیاں تشکیل دینے، فرضی قوانین پاس کرنے، ایوان میں جوڈو کراٹے کی مشق کرنے، ایسے واقعات پر سیاست کرنے اور والدین کو جھوٹے دلاسے دینے کے علاوہ کچھ بھی نہیں کر رہی۔ ہم بحثیت قوم بڑی ہمت کر کے صرف واقعات کی مذمت کرتے ہیں دو چار دن تحریک چلاتے ہیں اور اس کے بعد خاموشی سے اپنے کاموں میں مگن ہو جاتے ہیں۔ ملزم چار دن جیل کی سلاخوں کے پیچھے رہتے ہیں اور پھر ضمانت پر رہا ہو کر اپنی معمول کی زندگی گزارتے ہیں۔ جیل سے باہر آکر انکی مثال ویسے درندے سی ہوجاتی ہے جس کا منہ خون آلود ہو جاتا ہے یعنی وہ اپنے ایک غلیظ دھندے کو مزید دیدہ دلیری سے انجام دیتے ہیں اور انکی دیکھا دیکھی کئی اور لومڑ شہہ پکڑتے ہیں اور ہم پہ در پہ ایسے واقعات پر مذمتوں اور کمیشنوں سے فارغ ہوکر اپنی معمول کی زندگی کی جانب لوٹ آتے ہیں۔ ہماری قومی بے حسی کو اگر ایک شعر میں بیان کروں تو ایسا کہوں گا کہ:
    افسوس یہ نہیں کہ بے حس ہیں ہم
    افسوس یہ ہے کہ احساس بے حسی بھی نہیں
    پاکستان میں بڑھتے ہوئے جنسی تشدد کے واقعات ایک تشویشناک صورتحال کو جنم دے رہے ہیں۔ یہاں آج کسی صورت کوئی بچہ یا بچی بھی مکمل محفوظ نظر نہیں آتا۔ ہر آئے دن بچوں کے ساتھ زیادتی کے کیسز میں اضافہ ہوتا جا رہا ہے۔ ہم قوانین اور سزاوں کے ہوتے ہوئے بھی ایسے واقعات کو روکنے سے قاصر ہیں۔ اگر ہم نے ایسے واقعات کی روک تھام کے لیے موثر اقدامات نہ اٹھائے اور ان واقعات سے متعلق آگاہی اور شعور معاشرے میں نہ پھیلایا تو مستقبل میں یہ سماجی برائی ہمارے لئے سنگین حالات کو جنم دے سکتی ہے۔ یہ آگ ایک گھر سے دوسرے اور پھر دوسرے سے تیسرے تک آئے گی اور عین ممکن ہے کہ اگلا ہدف میرا یا آپکا بچہ ہو۔ کیوں کہ ایک ایسا معاشرہ کبھی بھی ترقی نہیں کرسکتا جہاں پر ان کا مستقبل یعنی ان کے بچے محفوظ نہ ہوں

  • قوم کی ترقی اور اخلاقیات .تحریر : ابرِ نساں

    قوم کی ترقی اور اخلاقیات .تحریر : ابرِ نساں

    قوم کی ترقی اور اخلاقیات .تحریر : ابرِ نساں

    "میری اوقات کہاں تم سے ہم کلام ہونا
    تیرے لہجے سے امیری کی مہک آتی ہے”

    آپ کا سٹیٹس نہیں انسان کا اخلاق کردار رویہ ہی آپ کی اصل تعلیم ہے آج کل ہم کہیں بھی نظر دہرا لیں ہمیں اخلاق میں کمی نظر آتی ہے بڑے بڑے جاگیردار وڈیرے ہمارے گزشتہ سب حکمران اسمبلی میں بیٹھے ہمارے نمائندے اپنے مطلب کے لئے اپنے رویہ اور بداخلاقی سے دنیا میں ہمارا کیا تاثر ڈالتے ہیں.
    آپ کا کردار اخلاق اور زبان کی نرمی ہی آپ کو اونچا کرتی ہے.
    دیکھا اور سوچا جائے تو ہماری موت کے وقت کسی کو آپ کے نمبر ڈگریاں اور عہدے یاد نہیں ہوں گے لوگ آپ کو آپ کے کام رویہ اور اخلاق سے یاد کریں گے.
    ایک خوبصورت اور حیران کن حقیقت یہ ہے کہ جو بدصورتی ہمیں دوسروں میں نظر آتی ہے دراصل وہ ہماری اپنی فطرت کا عکس ظاہر کرتی ہے. دراصل یہ تلخ حقیقت ہے کہ خالص خوراک اور مٌخلص لوگ اس قدر ناپید ہو گئے ہیں کہ اگر غلطی سے مل بھی جائیں تو ہمارا ہاضمہ اٌنہیـں ہضم نہیں کر پاتا. جب ہم کسی سے اپنا موازنہ کرتے ہیں تو ظاہر سے کرتے ہیں، یعنی کہ دکھائی دینے والی چیزوں سے۔ اس میں تعلیم، شکل، کامیابی سے، گھر، اور آسائشوں وغیرہ سے، اگر ہم یہ سوچ ختم کر کے یہ سوچیں کہ ہمیں تکبر ختم کر کے عاجزی اپنانی ہے مجھے فلاں کی طرح خوش اخلاق اور با کردار کامیاب و کامران ہونا ہے.

    جو اللّٰه پہ یقین نہیں کرتا تو اسے مشکلات کا سامنا کرنا پڑتا ہے. بے شک بادشاہت، دہشت، وحشت، طاقت، اور اکڑ ہمیشہ نہیں رہتی.
    جہاں امیدیں ٹوٹ جاتی ہیں کردار کی خوبصورتی ختم ہو جاتی ہے وہاں نا امیدی کی کیفیت طاری ہو جاتی ہے.
    جہاں منزل دھندلی پڑ جاتی ہے،
    جہاں اسباب نظر آنا بند ہو جاتے ہیں. جہاں آنسو آنکھوں کا مسکن بن جاتے ہیں آزمائشیں گھیر لیتی ہیں، جہاں راستے پتھر کی مانند لگتے ہیں.
    جہاں صبر ٹوٹ جاتا ہیں.
    وہیں سے اللہ پر یقین کا سفر شروع ہوتا ہے.
    دنیا کے کھوکھلے سہاروں سے
    نجات کا سفر،
    بندے اور اللّٰه کے تعلق کا سفر
    انسان کی اصل حقیقت ہے.
    جب تک ہمیں اخلاق اور زبان کی پختگی اور سچائی نہیں آتی ہم کبھی اپنی زبان سے کسی کو قائل نہیں کر سکتے.
    "جب آنکھیں نفس کی پسندیدہ چیزیں دیکھنے لگیں
    تو دل انجام سے اندھا ہو جاتاہے”

    سبق پھر پڑھ صداقت کا عدالت کا شجاعت کا
    لیا جائے گا تجھ سے کام دنیا کی امامت کا..
    شکریہ

  • آج کا نوجوان .‏تحریر:  محمد حنظلہ شاہد

    آج کا نوجوان .‏تحریر: محمد حنظلہ شاہد

    جب بھی کسی ملک کے روشن مستقبل کا خیال آتا ہے تو نظم اس ملک و قوم کے نوجوان نسل پر لگ جاتی ہیں ان نسل کسی بھی قوم کا حقیقی سرمایہ ہیں کسی بھی قوم کے روشن مستقبل کا اندازہ اس قوم کے نوجوان نسل کی قابلیت سے لگایا جاتا ہے کہ جو ان کسی بھی قوم کی بنیاد ہوتے ہیں ایسی بنیاد کی جس کے بغیر کوئی عمارت کھڑی نہیں ہوسکتی نوجوان طلباء کے قابل اعتماد کارکن ہیں تحریک پاکستان میں انہوں نے نے فرمایا کی خدمات سر انجام دی ہیں طلباء نے اپنے بے پناہ جوش و ولولے سے قوم کی تقدیر بدل ڈالی علامہ اقبال کونوجوانوں سے بہت محبت تھی انہوں نے اپنی شاعری کے ذریعے نوجوان نسل میں شعور اور ولولہ پیدا کیا علامہ اقبال ایک جگہ فرماتے ہیں
    جوانوں کو میری آہ سحر دے
    پھر ان شاہین بچوں کو بال و پر دے
    یا رب آرزو میری یہی ہے
    میرا نور بصیرت عام کر دے

    مگر آج کے نوجوان کی بات کی جائے تو کیا یہ وہی نوجوان نسل ہے کہ جس کی بات قائد اعظم محمد علی جناح اور علامہ اقبال نے کی کیا یہ وہی نوجوان نسل ہے کہ جس کے جوش و ولولے سے کئی ممالک میں انقلاب رونما ہوئے آج کی نوجوان نسل بھلا چکی ہے کہ کس طرح ہمارے آباؤ جیتا نے بڑے بڑے محاذ فتح کیے تھے وہ علم کا محافظ ہو یا جنگ کا ہر ہر میدان. اس میں کامیابی و فتح حاصل کی
    کیسے بڑے بڑے طاقتور حکمرانوں کو اپنے ایمانی جذبے سے شکست دی

    آج کے نوجوانوں کے بارے میں مولانا ظفر علی خان نے کہا تھا
    نور خدا ہے کفر کی حرکت پہ خندہ زن
    پھونکوں سے یہ چراغ بجھایا نہ جائے گا 
    فضائے بدر پیدا کر فرشتے تیری نصرت کو 
    اتر سکتے ہیں گردوں سے قطار اندر قطار اب بھی

    آج کا نوجوان اگر انٹرنیٹ کا استعمال کرتا ہے تو اس میں مسلہ نہیں لیکن اس کا استعمال اگر پازیٹو انداز میں کیا جائے تو اس سے نوجوانوں کو بھی اور ملک و قوم کو بھی فائدہ ہو گا
    جو کام جو ترقی نوجوان کر سکتے ہیں وہ کوئی اور نہیں کر سکتا
    نوجوانوں کو صرف اپنے اندر جذبہ ایمان جگانے کی ضرورت ہے

    تو شاہیں ہے پرواز ہے کام تیرا

    تیرے سامنے آسماں اور بھی ہیں

    نہیں تیرا نشیمن قصر سلطانی کے گنبد پر

    تو شاہیں ہے بسیرا کر پہاڑوں کی چٹانوں پر

    پرواز ہے دونوں کی اسی ایک فضا میں

    شاہیں کا جہاں اور ہے کرگس کا جہاں اور

    حضرت علامہ محمد اقبال رح