Baaghi TV

Category: معاشرہ و ثقافت

  • جوہر ٹاؤن دھماکے کے پیچھے آخر کون؟ تحریر، رانا عزیر

    جوہر ٹاؤن دھماکے کے پیچھے آخر کون؟ تحریر، رانا عزیر

    جوہر ٹاؤن دھماکے کے پیچھے آخر کون؟ تحریر، رانا عزیر
    لاہور میں آج خوفناک دھماکہ ہوا جس نے پورے پاکستان کو ہلا کر رکھ دیا اور ہر طرف قیاس آراییاں شروع ہوگئی کہ یہ دھماکہ آخر کس نے کروایا ؟ اور اس دھماکے کا ٹارگٹ حافظ سعید بتایا جا رہا ہے، لیکن حافظ سعید ابھی تک کہاں پر ہیں؟ اور اس دھماکے کے تانے بانے کس کے ساتھ جڑ رہے ہیں ؟
    جس جگہ پر دھماکا ہوا وہ کالعدم جماعت الدعوۃ کے سربراہ حافظ سعید کی رہائش گاہ کے قریب ہیں تاہم حکام کی جانب سے تاحال اس حوالے سے کوئی بیان سامنے نہیں آیا۔اردو پوائنٹ کے ساتھ گفتگو کرتے ہوئے شہری نے تصدیق کی ہے کہ دھماکا حافظ سعید کی رہائش گاہ کے قریب ہوا ہے،انہیں گھر میں نظر بند کیا گیا ہے،حافظ سعید کے گھر کے باہر سیکیورٹی موجود ہوتی ہے اور اسی کے سامنے آج دھماکا ہوا ہے۔
    حافظ سعید کی سیکورٹی کے لیے ایک گاڑی ہر وقت موجود رہتی ہے جبکہ پولیس بھی ہر وقت ان کی رہائش گاہ کے قریب ہوتی ہے۔

    شہری کے مطابق گھروں میں لوہے کے پیس بھی گرے ہیں،میڈیا میں بتایا جا رہا ہے کہ دھماکا گھر کے اندر ہو اہے لیکن دھماکا گاڑی کے اندر ہوا ہے اور بظاہر یہ گیس پائپ لائن پٹھنے کا دھماکا نہیں ہے۔دھماکے کے بعد آگ بھی لگ گئی اور دھواں اٹھتا ہوا دیکھا گیا. دھماکا اتنا زوردار تھا کہ ہمارے گھر میں ہل گئے.

    اگر پولیس پکٹ نہ ہوتی تو گاڑی ہائی ویلیو ٹارگٹ تک پہنچ سکتی تھی ، ہمیں 65 تھریٹ الرٹس موصول ہوئے ، دھماکوں میں بیرونی ہاتھ ملوث ہوتے ہیں ، قیاس آرائیاں نہ کریں تو بہتر ہے.

    لیکن ایک چیز نے سوچنے پر مجبور کردیا کہ ایک طرف امریکا پاکستان کو اڈے نہ دینے کی سزا دے رہا ہے تو امریکا پاکستان میں افغانستان کی خانہ جنگی منتقل کرنا چاہتا ہے، اور وہ پاکستان پر حملے کرکے اکیلا چھوڑنا چاہتا ہے ، ایک تو لاہور جوہر ٹاؤن حملے میں غیر ملکی مواد استمال ہوا اور اس سے ایک چیز واضح ہوگئی یہ امریکا اور بھارت کا ٹریلر ہے کہ اب امریکا اسامہ طرز پر آپریشن کرنے جارہا ہے اور یہ اسی چیز کی کڑی ہے ، کہ اب پاکستان میں دہستگردی کرواکے پاکستان کے حالات خراب کرنے کی کوشش کر رہے ہیں. اور جب سے عمران خان نے امریکا کو absolute not کہا ہے تو عمران خان نے اپنی جان کو بھی خطرے میں ڈال دیا ہے، تو لاہور جوہر ٹاؤن دھماکہ حافظ سعید کو ٹارگٹ کرنا یہ اشارہ ہے کہ امریکا بڑے آپریشن کی تیاری کررہا ہے. اور پاکستان کی خفیہ ایجنسیز اس وقت مکمل طور پر ہائی الرٹ ہیں

  • ڈوراورڈومور.تحریر : محمد ناصراقبال خان

    ڈوراورڈومور.تحریر : محمد ناصراقبال خان

    قادروکارساز اللہ رب العزت نے قرآن مجید فرقان حمیدکی سورة المائدة میںاِرشاد فرمایا ” کسی ایک اِنسان کاناحق قتل پوری انسانیت کاقتل جبکہ ایک انسان کی جان بچاناپوری انسانیت کوبچانے کے مترداف ہے”۔نام نہا د روزگار یاشوق کیلئے دوسروں کی زندگی سے کھیلنے والے معاشرے کے مٹھی بھر گمراہ لوگ زندگیاں بچانے کیلئے سردھڑ کی بازی لگانیوالے پولیس اہلکاروں کوگالیاں دیتے ہیں ۔اے کاش پتنگ سازی اورپتنگ بازی کے” عادی” اور”فسادی” اِس فرمان الٰہی پرغور کرتے ہوئے اپنا ا پنا گھناﺅناکاروباربند اورمذموم شوق ترک کردیں کیونکہ پتنگ بازی ایک ایسا”جنون” ہے جس نے اب تک ہزاروں انسانوںکوان کے اپنے "خون” میں ڈبودیا ہے۔پتنگ ساز اورپتنگ بازیادرکھیں اللہ ربّ العزت کے حقوق کی معافی بھی کافی ہے لیکن حقوق العباد میں معافی کے ساتھ ساتھ تلافی بھی از بس ضروری ہے ۔ معافی اورتلافی کے بغیر والے معاملات میں فیصلہ روزِمحشر ہوگا۔اپنے ناپسندیدہ معاملات کے فیصلے دنیا میں ہی کرواکے جانابہتر ہے کیونکہ حشر کے معاملات بہت نازک ترین ہوں گے۔پتنگ ساز اورپتنگ باز یادرکھیں وہ جانے انجانے میں ہرچندروز بعد کسی نہ کسی بیگناہ انسان کی زندگی کی ڈور کاٹ رہے ہیں اوریہ کوئی حادثہ نہیں بلکہ قتل عمد ہے لہٰذاءاگر قانون کی کمزوری ،بیچارگی،عدم دلچسپی یاناقص ترجیحات کے سبب انہیں اِس جہان میں ا پنے ہاتھوں کسی بیگناہ کے قتل کی سزانہ ملی تواُس جہان میں مخصوص”گناہ” کابھاری خمیازہ بھگتنا پڑے گا۔دھاتی ڈور سے بیگناہوں کادلخراش قتل وہ” درندگی” ہے جس پرقاتل کو”شرمندگی "تک نہیں کیونکہ وہ درندے اپنے گناہ اورانجام سے انجان ہوتے ہیں۔ہماری "زندگی” معبود کی” بندگی” کیلئے ہے لہٰذاء”درندگی” کامظاہرہ کرنیوالے عناصرقابل گرفت اورناقابل رحم ہیں۔پتنگ سازوں اور پتنگ بازوں کی دھاتی ڈورہرگزکسی شہری کی قاتل نہیں کیونکہ وہ عناصر خود ان بیگناہوں کے قتل میں براہ راست ملوث اور زیردفعہ 302 سپیڈی ٹرائل کے مستحق ہیں ۔پتنگ ساز اورپتنگ باز وہ بدنصیب ہیں جوخودتوایک دن مرجاتے ہیں لیکن ان کاگناہ زندہ رہتاہے ۔اب ہمارے ہاں ہرشب برات کو سوشل میڈیا پر ایک دوسرے سے معافی طلب کی جاتی ہے اورپھر سال بھر ہم دوسروں کوپریشان اوران کے حقوق پامال کرتے ہیں۔گردن پرڈورپھرنے سے مارے جانیوالے کاکوئی نہ کوئی قاتل ضرورہوتا ہے لیکن اسے اپنے اس گھناﺅنے فعل کی اطلاع نہیں ہوتی اوروہ مزے کی نیندسوتاہے لیکن جب اُس کی موت کے بعدرشتہ داراسے اندھیری قبر میں اتاردیں گے توپھر وہاں وہ یقیناعذاب کاسامناکرے گا۔اپنے ہاتھوںکسی بیگناہ کی ناحق موت کے بعد کوئی قاتل مرقد میں چین سے نہیں رہ سکتا ۔

    جومحکمہ پولیس سے نفرت کرتے اوراہلکاروںکو گالیاں دیتے ہیں وہ یادرکھیں ہماری اورہمارے پیاروں کی زندگی کی حفاظت ان کافرض منصبی ہے اوراپنا فرض اداکرتے ہوئے اب تک پندرہ سوسے زائد پولیس آفیسر اوراہلکاروں نے جام شہادت نوش کیاہے جبکہ جوہرٹاﺅن بم دھماکے میں زخمی باوردی پولیس اہلکار کا پراعتماد چہرہ بھی سب نے دیکھا ہے لہٰذاءکسی آفیسراوراہلکار کاناپسندیدہ انفرادی فعل دیکھتے ہوئے محکمہ پولیس کی قابل رشک اجتماعی خدمات سے انکار اورقربانیوں کوفراموش نہ کریں۔یادرکھیں ون ویلنگ اورپتنگ بازی "خون” اور”جنون” کاتاریک راستہ اورقیمتی انسانی جانوں کیلئے مہلک ہے۔ ہمارے پیاروں کی زندگی کوون ویلنگ اورپتنگ بازی کی صورت میں انتہائی مہلک خطرات سے بچانے کیلئے ہمارے وردی پوش سرفروش اپنی زندگیاں تک داﺅپرلگادیتے ہیں اسلئے ان کی قدر،عزت اوران پراعتماد کے ساتھ ساتھ ان سے بھرپورتعاون کریں۔ ہماری خدمت اورحفاظت پولیس اہلکاروں کافرض جبکہ ان کی مدد کرناشہریوں پرقرض ہے ۔ ڈور سے ہونیوالے قتل عام کے بعد کوئی زندہ ضمیر پتنگ سازی اورپتنگ بازی کاتصور بھی نہیں کرسکتا۔مختلف واقعات میںشاہراہو ں پر جاتے ہوئے شہ رگ پرڈور پھرنے سے کئی معصوم بچوں سمیت مردوزن تڑپ تڑپ کرموت کی گھاٹ اترے اورباری باری ان کاجنازہ اٹھالہٰذاءاس کے باوجود پتنگ سازی اورپتنگ بازی سے باز نہ آنیوالے” لوگ” یقینامردہ ضمیراورانسانیت کیلئے "روگ” ہیں۔پتنگ بازی کاحامی مٹھی بھر طبقہ اس نام نہاد ثقافت کوزندہ رکھنا چاہتا ہے جبکہ اس سے بیزار لوگ غالب اکثریت میں ہوتے ہوئے بھی خاموش ہیں جبکہ ا ن کی اس مجرمانہ خاموشی نے انہیں قاتل بنادیا ہے کیونکہ جہاں کسی مقتول کا قاتل بے نام ونشاں ہووہاں معاشرے کو قتل میں ملوث سمجھاجاتاہے لہٰذاءمعاشرے کاہرفرد اورطبقہ ون ویلنگ ،پتنگ سازی ،پتنگ بازی،جعلی ادویات کی تیاری وتجارت،بچوں سمیت خواتین پرجنسی تشدد ،منشیات کی فروخت اوراس کا استعمال روکنے کیلئے اپنااپناکلیدی کرداراداکرے۔جس چاردیواری میں پتنگ سازی اورجس چھت پرپتنگ بازی ہوتی ہے وہاں آس پاس پڑوسی توہوتے ہیں توپھروہ کیوں پولیس کواطلاع نہیں کرتے،میں ان شہریوں کو پتنگ سازوں ،پتنگ بازو ں کاسہولت کار اورشریک مجرم سمجھتاہوں ،انہیں بھی قتل عمد کے مقدمات میں نامزد کیاجائے،خدانخواستہ آئندہ ڈور سے قتل ہونیوالے بچے یا شہری کاتعلق ہم میں سے کسی کے ساتھ بھی ہوسکتا ہے سواس وقت سے ڈریں اورایک معاون کی طرح اپنی محافظ پولیس کی مددکریں ۔

    ہمارے ہاںڈورکوقاتل کہاجاتا ہے توپھریقینامرنیوالے مقتول ہیں لہٰذاءانہیں جاںبحق کہنا انصاف نہیں۔ہر وہ تھانہ جس کی حدودمیں ڈور سے کسی شہری کاقتل ہووہ نامعلوم قاتل کیخلاف قتل عمد کی دفعات کے تحت مقدمات درج اوربعدازاں وہاں سے گرفتارہونیوالے شرپسند پتنگ سازوں اورپتنگ بازوں کوان مقدمات میں نامزد اورچالان کرے ۔آئے روزدھاتی ڈور پھرنے سے قیمتی انسانی جانوں کاضیاع قومی المیہ ہے ،اگر دھاتی ڈور سے اموات محض ایک حادثہ ہیں توپھر ایس ایچ اوزکومعطل کیوں کیاجاتا ہے،یہ معطلی کوئی راہ حل نہیں۔پولیس حکام اپنے کس کس ماتحت ایس ایچ او کومعطل کریں گے جبکہ ا یس ایچ او کی معطلی کے باوجود پتنگ بازی کاسلسلہ معطل نہیں ہوتا۔ پولیس تنہا پتنگ سازوں اورپتنگ بازوں کا ناطقہ بند نہیںکرسکتی ، اپنے پیاروں کو” ڈور” سے بچانے کیلئے شہریوں کی طرف سے” ڈومور” ناگزیر ہے۔ شاہراہوں پررواں دواں بیگناہ شہریوں کے خون سے ہولی کھیلنے والے درندے تختہ دار کے مستحق ہیں ۔ راقم کی تجویز کی روشنی میں پولیس نے پتنگ بازوں کیخلاف کریک ڈاﺅن کیلئے ڈرون کیمروں کا استعمال شروع کردیا ہے ، میرے پاس مزید انتہائی موثر تجاویزہیں لیکن آئی جی پنجاب سمیت کوئی سننے کیلئے تیار نہیں کیونکہ کسی مقتول سے ان کاخونی رشتہ نہیں ہے ۔ حکمران اور پولیس حکام خون کی ہولی روکنے کیلئے مختلف طبقات کی نمائندہ شخصیات کے ساتھ مکالمے کااہتمام کریں ۔پتنگ بازی ،منشیات اورجنسی درندگی سمیت مختلف سماجی اورمعاشرتی برائیوں سے نجات کیلئے تعلیمی نصاب ،اساتذہ اورعلماءحضرات سے بھرپور مدد لی جاسکتی ہے ۔پتنگ سازو ں اورپتنگ بازوں کیخلاف منظم اورموثر کریک ڈاﺅن کیلئے” ابابیل سکواڈ” بنایا جبکہ باشعور شہری رضامند ہوں تو ان سے رضاکارانہ کام لیاجائے اورحکام ان کانام صیغہ رازمیں رکھیں۔پولیس پتنگ سازوں اورپتنگ بازوں کامحاصرہ اورمحاسبہ کرنے کیلئے اپنے پرائیویٹ انفارمرز کومتحرک کرے۔

    لاہور کے پروفیشنل اورجہاندیدہ سی سی پی او ایڈیشنل آئی جی غلام محمودڈوگر جبکہ لاہورکے نیک نیت اورزیرک ڈ ی آئی جی آپریشنز ساجدکیانی کی انتھک قیادت میں ان کے مستعد ٹیم ممبرز پتنگ سازوں اورپتنگ بازوں کے تعاقب کرتے ہوئے ان کے گرد گھیرا تنگ کررہے ہیں۔غلام محمودڈوگر اورساجدکیانی تھانہ کلچر کی تبدیلی کیلئے کوشاں اوراس نیت سے مختلف تھانوںکادورہ کرتے ہیں ،وہ تھانہ فیکٹری ایریا ،کوٹ لکھپت اورنواب ٹاﺅن کی عمارتوں کامعائنہ کرنے کیلئے وہاں کاسپیشل وزٹ کریں۔تھانہ” نواب ٹاﺅن” کانام سن کرلگتا ہے یہ تھانوںکا”نواب” ہوگالیکن تھانہ” نواب” ٹاﺅن کی عمارت کسی جھونپڑی اورجھگی سے بدتر ہے جبکہ اس کے اطراف میں جھاڑیاں خطرے سے خالی نہیں ۔ تھانہ فیکٹری ایریا کو ایک کھنڈر نمابوسیدہ عمارت میں منتقل کرنااور اہلکاروں کی زندگی داﺅپرلگاناانصاف نہیں، یقینا کوئی ایس پی دوگھنٹوں تک اس عمارت میں نہیں بیٹھ سکتا،اسے فوری کسی جدید اورمحفوظ عمارت میں شفٹ کیاجائے ۔ لاہورپولیس بیک وقت کئی محاذوں پرسربکف ہے تاہم غلام محمودڈوگر اور ساجدکیانی کے سخت،درست اوردوررس اقدامات سے پتنگ بازی پر کافی حدتک قابوپالیا گیا ہے لیکن ابھی انہیں مزید کام کرنا ہوگا ۔روزانہ بنیادوں پرلاہور کے مختلف تھانوں کی حدود سے پتنگ ساز اورپتنگ باز گرفتار ہورہے ہیں لیکن قوانین میں سقم کے نتیجہ میں انہیں فوری ضمانت ملنا ایک بڑاسوالیہ نشان ہے۔چندگھنٹوں کی گرفتاری کے بعد رہائی اورپولیس کی جگ ہنسائی سے معاشرے کو پتنگ سازی اورپتنگ بازی کے نتیجہ میں ہونیوالے کشت وخون سے نجات نہیں ملے گی ۔پتنگ ساز اورپتنگ بازدرندے اورقاتل ہیں لہٰذاءان کے شر سے بیگناہ شہریوں کی حفاظت کیلئے ان درندوں کو زندانوں میں رکھیں،یادرہے ہرقاتل کی طرح ڈور سے شہریوں کوقتل کرنیوالے بھی تختہ دار کے مستحق ہیں۔ سی سی پی او ایڈیشنل آئی جی غلام محمودڈوگر اور ڈ ی آئی جی آپریشنز لاہور ساجدکیانی پنجاب کی منتخب سیاسی قیادت سے ملاقات کریں اور اپنے تجربات ومشاہدات کی روشنی میںانہیں تعمیری تجاویز دیں کیونکہ کوئی معاشرہ سخت "قانون "بنائے بغیر” قانون شکنی” نہیں روک سکتا ۔ منتخب ایوان معاشرے کودرپیش چیلنجز کودیکھتے ہوئے قانون سازی کریں ،پتنگ سازی اورپتنگ بازی کاراستہ صرف© "قانون سازی” سے روکاجاسکتا ہے۔

  • گالی کوئی کلچر نہیں .تحریر: ملک ضماد 

    گالی کوئی کلچر نہیں .تحریر: ملک ضماد 

    اسلام سمیت دنیا کے تمام مذاہب میں اخلاقیات پر بہت زور دیا گیا ہے سب سے زیادہ اسلام میں اخلاقیات کا درس دیا گیا ہے

    خود ہمارے پیارے نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے اپنی ساری زندگی لوگوں کو اخلاقیات کا درس دیا اور خود اس پر پہلے عمل کیا

    نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو کفار گالیاں دیتے، مختلف القابات سے بلاتے، جادوگر اور پتہ نہیں کیا کیا کہتے لیکن کبھی بھی نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ان کو اس کا جواب نہیں دیا بلکہ ان کے لئے ہدایت کی دعا کی نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی دعا کی وجہ سے وہ لوگ جو گالیاں دیتے تھے وہ مسلمان ہوئے پھر خود وہ لوگ داعی بنے پھر وہ خود اخلاقیات کا درس دیتے دیتے پوری دنیا میں پھل گئے

    طائف کی گلیوں میں جب نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے دعوت و تبلغ شروع کی تو طائف کے لوگوں نے نبی اکرم صلی علیہ وآلہ وسلم کو طائف سے باہر نکال دیا اور ان کے پیچھے نوجون لڑکوں کو لگا دیا جو ان کو پتھر مارتے رہے پتھر لگنے سے نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے جسم مبارک سے اتنا خون بہا کہ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے جوتے مبارک خون سے بھر گئے

    طائف سے باہر نکل کر جب کسی جگہ آرام کرنے بیٹھے تو جبرائیل علیہ السلام آئے اور نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے اجازت مانگی کہ میں طائف والوں کو تباہ کر دوں تو نبی کریم ص نے کہا نہیں اللہ پاک ان طائف والوں کی آنے والی نسلوں سے دین کا کام لیں گے

    پھر دنیا نے دیکھا طائف سے بڑے بڑے صحابہ کرام رضی اللہ تعالٰی عنہ نکلے نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم گالی دینے والے کو بھی دعا دیتے تھے پتھر مارنے والے کو بھی دعا دیتے تھے نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے دنیا کو بھی درس صبر و تحمل سے رہنا کوئی برا کہے درگزر کروکوئی گالی دے برداشت کروایک حدیث شریف کا مفہوم ہے

    حضرت عبداللہ بن عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت ہے کہ آپﷺ نے فرمایا “گناہ کبیرہ میں یہ بھی ہے کہ انسان اپنے والدین کو گالی دے”۔ صحابہ اکرام رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے عرض کی، “یا رسول اللہ ﷺ کیا کوئی اپنے والدین کو بھی گالی دے سکتا ہے؟” آپﷺ نے فرمایا کہ “ہاں ! وہ اس طرح کہ یہ کسی کے باپ کو گالی دے اور وہ جواب میں  اس کے باپ کو گالی دے ، یہ کسی کی ماں کو گالی دے اور وہ جواب میں اسکی ماں کو گالی دے”

    ( بخاری ، مسلم )

    آج کل ہمارے معاشرے میں گالی کو فیشن سمجھا جا رہا ہے ایک دوسرے کو اگر مخاطب بھی کرنا ہے تو گالی دے کر کیا جا رہا ہے حالانکہ اسلام میں کسی نام بگاڑنے یا گالی دینے والے کے لیے سخت وعید بتائی گئی ہے ہماری عام عوام ہو یا ہمارے ارباب اختیار ہواسمبلی میں بیٹھے ممبران ہوں یا اسمبلی سے باہر سیاسی لوگ دفاتر میں بیٹھے افسران ہوں یا سڑکوں پے کام کرنے والے جس کو بھی دیکھو آج کل اس کے زبان پے گالی عام ہو چکی ہے

    پھر اکثر لوگ گالیاں بھی ماں بہن کی دیتے ہیں جن کو پتہ نہیں ہوتا ان کے بیٹے، بھائی باہر کیا گل کھلا رہے ہیں جو ان ہو اتنے اچھے طریقے سے یاد کیا جا رہا ہے سب سے پہلے ہم انسان ہیں پھر مسلمان ہیں ہمیں بطور معاشرہ یہ سوچنا ہو گا کیا ہمیں یہ زیب دیتا ہے ہم کسی کو گالی دیں اور وہ ہمیں گالی دے گالی دینا اخلاقی، مذہبی، معاشرتی، قانونی، کسی بھی طور پے جائز یا قابل برداشت نہیں اکثر دیکھا گیا ہے دوست ایک دوسرے کو مذاق میں گالیاں دیتے دیتے لڑ پڑتے ہیں اور بات قتل و غارت گری تک پہنچ جاتی ہے پھر وہ دوست جو ایک دوسرے کے بغیر سانس نا لیتے تھے ان کی چھوٹی سی غلطی سے بات خاندانی دشمنی تک پہنچ جاتی ہے ،

    آئیں مل کر اپنے آپ سے شروع کریں اور پھر پورے معاشرے کو اس کی ترغیب دیں گالی نہیں پیار دو پیار محبت کا کلچر عام کرو پیار دو پیار لو کو اپناو

  • بڑھتا ہوا جنسی تشدد اور سماجی بے حسی : تحریر:حسن ساجد

    بڑھتا ہوا جنسی تشدد اور سماجی بے حسی : تحریر:حسن ساجد

    بڑھتا ہوا جنسی تشدد اور سماجی بے حسی : تحریر:حسن ساجد

    اللہ رب العزت کی بنائی ہوئی یہ کائنات بے حد حسین ہے۔ یہ زمین اپنے دیدہ زیب رنگوں، دلنشیں نظاروں، بل کھاتے دریاوں، دلفریب وادیوں، فلک بوس پہاڑوں اور اس میں بسنے والے مختلف انواع و اقسام کےجانداروں کی موجودگی کے باعث باقی کائنات کی نسبت زیادہ حسین، خوبصورت اور دلکش معلوم ہوتی ہے۔ مگر جس طرح ہر چمکنے والی چیز سونا نہیں ہوتی، جس طرح ہر ہاتھ ملانے والا دوست نہیں ہوتا بالکل اسی طرح تمام خوبصورت نظر آنے والی چیزیں حقیقت میں بھی خوبصورت نہیں ہوتیں۔ مثال کے طور پر اگر ہم اس کائنات کی اشرف المخلوقات سمجھی جانے والی تخلیق کا تجزیہ کریں تو ہمیں معلوم ہو گا کہ تمام انسان خوبصورت نہیں ہوتے بلکہ کچھ انسان انتہائی بدصورت اور بہیودہ بھی ہوتے ہیں۔
    میں یہ بات اس لیے نہیں کہہ رہا کہ وہ ظاہری طور پر سیاہ رنگ یا برے خدوخال والے ہوتے ہیں بلکہ میں یہ بات اس لیے کہہ رہا ہوں کہ ان کے دل تاریک ہوتے ہیں، ان کا لہو بظاہر تو سرخ نظر آتا ہے مگر وہ سیاہ ہوتا ہے۔ ان کے اعمال بد ہوتے ہیں، ان کے افعال برے ہوتے ہیں۔ جی ہاں! جناب وہ لوگ اپنے کردار کی سیاہی اور بدصورتی کی وجہ سے بدصورت کہلاتے ہیں۔ مگر ایسے بدصورت لوگوں کو پہچاننا انتہائی مشکل ہوتا ہے کہ ان کی بدصورتی ان کے اعمال، ان کی سوچ اور ان کے کردار میں پوشیدہ ہوتی ہے۔ جو ظاہری آنکھ سے نظر نہیں آتی۔ یہ بدصورتی کی انتہائی خطرناک قسم ہے کیوں کہ یہ بدصورتی معاشرے کے حسین چہرے پر بدنما داغ یا ناسور بن کر ابھرتی ہے۔
    کردار کے بدصورت لوگوں کی ویسے تو کئی اقسام ہیں مگر آج کی تحریر بیمار ذہنیت، جنون ،معاشرتی پسماندگی اور جہالت سے بھرپور ایسے بدصورت لوگوں کے گرد گھومتی ہے جن کا نشانہ ہمارے بچے، ہماری قوم کا مستقبل یعنی ہماری آنے والی نسل ہے۔ یہ تحریر پاکستان میں بچوں کے ساتھ پیش آنے والے جنسی تشدد کے بڑھتے ہوئے واقعات کی جانب توجہ دلانے کی ایک کاوش ہے۔ کیونکہ آج ہمارے مدرسوں، سکولوں اور کالجوں میں جانے والے بچے اور بچیاں انتہائی غیرمحفوظ حالات سے دوچار ہیں۔ والدین نہیں جانتے کہ مسجد کے مولوی، سکول کے استاد یا کالج یونیورسٹی کے پروفیسر انکے بچوں کے لیے روحانی باپ ثابت ہوں گے یا ایک خونخوار درندہ۔ میڈیا رپورٹس کے مطابق گذشتہ 6 ماہ میں 1500 سے زائد بچوں اور بچیوں کے ساتھ جنسی تشدد کے واقعات رپورٹ ہوئے ہیں۔

    ڈان نیوز کی جاری کردہ ایک رپورٹ کے مطابق پاکستان میں روزانہ کی بنیاد پر بچوں کے ساتھ جنسی تشدد کے 10 سے زائد واقعات میڈیا میں رپورٹ ہو رہے ہیں مگر حقیقت میں پیش آنیوالے واقعات کی تعداد اس سے کہیں زیادہ ہے۔ اس کی وجہ یہ ہے کہ کئی بچے اور ان کے والدین اپنی عزت کو تماشہ بننے سے بچانے کی غرض سے یا مجرم کے سیاسی و سماجی اثرورسوخ کی وجہ سے مصلحت کے تحت رو دھو کر چپ ہو جاتے ہیں کہ اپنا مقدمہ کل قیامت کو خدا لم یزل کی بارگاہ میں پیش کریں گے جہاں ہر تفریق سے ماورا سب کو انصاف ملتا ہے۔ اس میں کوئی شک نہیں کہ مثال سے بات سمجھانا یا کسی کے درد کو محسوس کرنا آسان ہو جاتا ہے لیکن مثال کے طور واقعہ پیش کرنے کے لیے میرا قلم فیصلہ کرنے سے قاصر ہے۔ میں نہیں جانتا کہ کس دلخراش واقعہ کی طرف توجہ دلاتے ہوئے کس کے والدین کا دکھ بیان کروں یا کس بچے یا بچی کے ساتھ ہونے والے ظلم و ستم اور سفاکیت کا تذکرہ اپنی تحریر میں کروں تاکہ آپکو معاملات کی سنجیدگی کا اندازہ ہوسکے۔ میں یہ فیصلہ کرنے سے قاصر ہوں کہ میں آپ کے سامنے تین سالہ معصومہ، مقتولہ فریال پر ہونے والی زیادتی اور سفاکیت کا تذکرہ کروں یا حیوانیت اور درندگی کا نشانہ بننے والی آٹھ سالہ کم سن مقتولہ ہوض نور کے ساتھ ہونے والے ظلم و ستم کا تذکرہ کروں۔ میں پنجاب کے پسماندہ گاؤں میں کسی بگڑے رئیس زادے کی وحشت کی نظر ہونے والے طلحہ نور کا ذکر کروں جس کے والدین کی آواز کو دبا دیا گیا یا پھر کسی شہر میں زیادتی کے بعد مار دیے جانے والے کسی اور معصوم فرشتے کا جس کی مسخ شدہ لاش کئی روز بعد والدین کو ملی۔
    سمجھ میں نہیں آتا کہ میں معصوم و مقتول زینب کے ساتھ ہونے والے ظلم و ستم کا تذکرہ کروں یا پھر خیبر پختونخواہ سے ذہنی طور پر معذور گوشی کے والدین کا دکھ بیان کروں یا پھر 14 سالہ اس بچی کے ساتھ ہونے والے ظلم کا تذکرہ کیا جائے جسے راولپنڈی کے باریش نام نہاد معززین اور جواں سالہ لونڈوں نے مل کر اجتماعی زیادتی کا نشانہ بناتے ہوئے ایک ایسی اولاد کا تحفہ دیا جسے یہ نام نہاد حلالی معاشرہ “حرامی” کا لقب دے گا اور اس کی 14 سالہ معصوم و بے قصور والدہ کو نہ چاہتے ہوئے بھی فحاشہ کے درجے پر فائز ہونا پڑے گا۔
    اس بات میں کوئی شک نہیں کہ زمانے کی سفاکیت اور بربریت کی ایسی داستانیں اگر قلم کی نوک سے قرطاس کے سینے میں پیوست بھی کرنے کی کوشش کی جائے تو وہ بھی حضرت انسان کے ایسے سیاہ کرتوتوں کو دیکھ کر کانپ اٹھے اور پناہ مانگے۔ مگر یہ بھی ایک مسلمہ حقیقت ہے کہ ایسے دلخراش واقعات اور انسانیت سوز داستانوں کو اور ایسی داستانیں جنم لینے کی وجوہات کو جب تک زیر بحث نہیں لایا جائے گا معاشرہ لاشعور رہے گا اور یونہی ہمارا ناقابل تلافی نقصان ہوتا رہے گا۔ یہ آگ ہمارے گھروں کو جلاتی رہے گی اور ہم خاموش تماشائی بنے رہیں گے۔ ایسے واقعات سے اگر ہم یونہی لاتعلق رہے تو یقین جانیے ہم بھی شریک جرم سمجھے جائیں گے اور اس بڑھتی ہوئی معاشرتی برائی کے پھیلنے میں برابر کے قصوروار سمجھے جائیں گے۔

    بہت افسوسناک بات ہے کہ ان واقعات سے متعلق آگاہی دینے اور ان کو روکنے کے لیے ہمارے ملک میں کوئی ٹھوس اقدامات نہیں کیے جا رہے اور یہ برائی ایک کے بعد دوسرا گھر جلا رہی ہے ۔ ہم اور ہماری گورنمنٹ کمیشنز بنانے، کمیٹیاں تشکیل دینے، فرضی قوانین پاس کرنے، ایوان میں جوڈو کراٹے کی مشق کرنے، ایسے واقعات پر سیاست کرنے اور والدین کو جھوٹے دلاسے دینے کے علاوہ کچھ بھی نہیں کر رہی۔ ہم بحثیت قوم بڑی ہمت کر کے صرف واقعات کی مذمت کرتے ہیں دو چار دن تحریک چلاتے ہیں اور اس کے بعد خاموشی سے اپنے کاموں میں مگن ہو جاتے ہیں۔ ملزم چار دن جیل کی سلاخوں کے پیچھے رہتے ہیں اور پھر ضمانت پر رہا ہو کر اپنی معمول کی زندگی گزارتے ہیں۔ جیل سے باہر آکر انکی مثال ویسے درندے سی ہوجاتی ہے جس کا منہ خون آلود ہو جاتا ہے یعنی وہ اپنے ایک غلیظ دھندے کو مزید دیدہ دلیری سے انجام دیتے ہیں اور انکی دیکھا دیکھی کئی اور لومڑ شہہ پکڑتے ہیں اور ہم پہ در پہ ایسے واقعات پر مذمتوں اور کمیشنوں سے فارغ ہوکر اپنی معمول کی زندگی کی جانب لوٹ آتے ہیں۔ ہماری قومی بے حسی کو اگر ایک شعر میں بیان کروں تو ایسا کہوں گا کہ:
    افسوس یہ نہیں کہ بے حس ہیں ہم
    افسوس یہ ہے کہ احساس بے حسی بھی نہیں
    پاکستان میں بڑھتے ہوئے جنسی تشدد کے واقعات ایک تشویشناک صورتحال کو جنم دے رہے ہیں۔ یہاں آج کسی صورت کوئی بچہ یا بچی بھی مکمل محفوظ نظر نہیں آتا۔ ہر آئے دن بچوں کے ساتھ زیادتی کے کیسز میں اضافہ ہوتا جا رہا ہے۔ ہم قوانین اور سزاوں کے ہوتے ہوئے بھی ایسے واقعات کو روکنے سے قاصر ہیں۔ اگر ہم نے ایسے واقعات کی روک تھام کے لیے موثر اقدامات نہ اٹھائے اور ان واقعات سے متعلق آگاہی اور شعور معاشرے میں نہ پھیلایا تو مستقبل میں یہ سماجی برائی ہمارے لئے سنگین حالات کو جنم دے سکتی ہے۔ یہ آگ ایک گھر سے دوسرے اور پھر دوسرے سے تیسرے تک آئے گی اور عین ممکن ہے کہ اگلا ہدف میرا یا آپکا بچہ ہو۔ کیوں کہ ایک ایسا معاشرہ کبھی بھی ترقی نہیں کرسکتا جہاں پر ان کا مستقبل یعنی ان کے بچے محفوظ نہ ہوں

  • قوم کی ترقی اور اخلاقیات .تحریر : ابرِ نساں

    قوم کی ترقی اور اخلاقیات .تحریر : ابرِ نساں

    قوم کی ترقی اور اخلاقیات .تحریر : ابرِ نساں

    "میری اوقات کہاں تم سے ہم کلام ہونا
    تیرے لہجے سے امیری کی مہک آتی ہے”

    آپ کا سٹیٹس نہیں انسان کا اخلاق کردار رویہ ہی آپ کی اصل تعلیم ہے آج کل ہم کہیں بھی نظر دہرا لیں ہمیں اخلاق میں کمی نظر آتی ہے بڑے بڑے جاگیردار وڈیرے ہمارے گزشتہ سب حکمران اسمبلی میں بیٹھے ہمارے نمائندے اپنے مطلب کے لئے اپنے رویہ اور بداخلاقی سے دنیا میں ہمارا کیا تاثر ڈالتے ہیں.
    آپ کا کردار اخلاق اور زبان کی نرمی ہی آپ کو اونچا کرتی ہے.
    دیکھا اور سوچا جائے تو ہماری موت کے وقت کسی کو آپ کے نمبر ڈگریاں اور عہدے یاد نہیں ہوں گے لوگ آپ کو آپ کے کام رویہ اور اخلاق سے یاد کریں گے.
    ایک خوبصورت اور حیران کن حقیقت یہ ہے کہ جو بدصورتی ہمیں دوسروں میں نظر آتی ہے دراصل وہ ہماری اپنی فطرت کا عکس ظاہر کرتی ہے. دراصل یہ تلخ حقیقت ہے کہ خالص خوراک اور مٌخلص لوگ اس قدر ناپید ہو گئے ہیں کہ اگر غلطی سے مل بھی جائیں تو ہمارا ہاضمہ اٌنہیـں ہضم نہیں کر پاتا. جب ہم کسی سے اپنا موازنہ کرتے ہیں تو ظاہر سے کرتے ہیں، یعنی کہ دکھائی دینے والی چیزوں سے۔ اس میں تعلیم، شکل، کامیابی سے، گھر، اور آسائشوں وغیرہ سے، اگر ہم یہ سوچ ختم کر کے یہ سوچیں کہ ہمیں تکبر ختم کر کے عاجزی اپنانی ہے مجھے فلاں کی طرح خوش اخلاق اور با کردار کامیاب و کامران ہونا ہے.

    جو اللّٰه پہ یقین نہیں کرتا تو اسے مشکلات کا سامنا کرنا پڑتا ہے. بے شک بادشاہت، دہشت، وحشت، طاقت، اور اکڑ ہمیشہ نہیں رہتی.
    جہاں امیدیں ٹوٹ جاتی ہیں کردار کی خوبصورتی ختم ہو جاتی ہے وہاں نا امیدی کی کیفیت طاری ہو جاتی ہے.
    جہاں منزل دھندلی پڑ جاتی ہے،
    جہاں اسباب نظر آنا بند ہو جاتے ہیں. جہاں آنسو آنکھوں کا مسکن بن جاتے ہیں آزمائشیں گھیر لیتی ہیں، جہاں راستے پتھر کی مانند لگتے ہیں.
    جہاں صبر ٹوٹ جاتا ہیں.
    وہیں سے اللہ پر یقین کا سفر شروع ہوتا ہے.
    دنیا کے کھوکھلے سہاروں سے
    نجات کا سفر،
    بندے اور اللّٰه کے تعلق کا سفر
    انسان کی اصل حقیقت ہے.
    جب تک ہمیں اخلاق اور زبان کی پختگی اور سچائی نہیں آتی ہم کبھی اپنی زبان سے کسی کو قائل نہیں کر سکتے.
    "جب آنکھیں نفس کی پسندیدہ چیزیں دیکھنے لگیں
    تو دل انجام سے اندھا ہو جاتاہے”

    سبق پھر پڑھ صداقت کا عدالت کا شجاعت کا
    لیا جائے گا تجھ سے کام دنیا کی امامت کا..
    شکریہ

  • آج کا نوجوان .‏تحریر:  محمد حنظلہ شاہد

    آج کا نوجوان .‏تحریر: محمد حنظلہ شاہد

    جب بھی کسی ملک کے روشن مستقبل کا خیال آتا ہے تو نظم اس ملک و قوم کے نوجوان نسل پر لگ جاتی ہیں ان نسل کسی بھی قوم کا حقیقی سرمایہ ہیں کسی بھی قوم کے روشن مستقبل کا اندازہ اس قوم کے نوجوان نسل کی قابلیت سے لگایا جاتا ہے کہ جو ان کسی بھی قوم کی بنیاد ہوتے ہیں ایسی بنیاد کی جس کے بغیر کوئی عمارت کھڑی نہیں ہوسکتی نوجوان طلباء کے قابل اعتماد کارکن ہیں تحریک پاکستان میں انہوں نے نے فرمایا کی خدمات سر انجام دی ہیں طلباء نے اپنے بے پناہ جوش و ولولے سے قوم کی تقدیر بدل ڈالی علامہ اقبال کونوجوانوں سے بہت محبت تھی انہوں نے اپنی شاعری کے ذریعے نوجوان نسل میں شعور اور ولولہ پیدا کیا علامہ اقبال ایک جگہ فرماتے ہیں
    جوانوں کو میری آہ سحر دے
    پھر ان شاہین بچوں کو بال و پر دے
    یا رب آرزو میری یہی ہے
    میرا نور بصیرت عام کر دے

    مگر آج کے نوجوان کی بات کی جائے تو کیا یہ وہی نوجوان نسل ہے کہ جس کی بات قائد اعظم محمد علی جناح اور علامہ اقبال نے کی کیا یہ وہی نوجوان نسل ہے کہ جس کے جوش و ولولے سے کئی ممالک میں انقلاب رونما ہوئے آج کی نوجوان نسل بھلا چکی ہے کہ کس طرح ہمارے آباؤ جیتا نے بڑے بڑے محاذ فتح کیے تھے وہ علم کا محافظ ہو یا جنگ کا ہر ہر میدان. اس میں کامیابی و فتح حاصل کی
    کیسے بڑے بڑے طاقتور حکمرانوں کو اپنے ایمانی جذبے سے شکست دی

    آج کے نوجوانوں کے بارے میں مولانا ظفر علی خان نے کہا تھا
    نور خدا ہے کفر کی حرکت پہ خندہ زن
    پھونکوں سے یہ چراغ بجھایا نہ جائے گا 
    فضائے بدر پیدا کر فرشتے تیری نصرت کو 
    اتر سکتے ہیں گردوں سے قطار اندر قطار اب بھی

    آج کا نوجوان اگر انٹرنیٹ کا استعمال کرتا ہے تو اس میں مسلہ نہیں لیکن اس کا استعمال اگر پازیٹو انداز میں کیا جائے تو اس سے نوجوانوں کو بھی اور ملک و قوم کو بھی فائدہ ہو گا
    جو کام جو ترقی نوجوان کر سکتے ہیں وہ کوئی اور نہیں کر سکتا
    نوجوانوں کو صرف اپنے اندر جذبہ ایمان جگانے کی ضرورت ہے

    تو شاہیں ہے پرواز ہے کام تیرا

    تیرے سامنے آسماں اور بھی ہیں

    نہیں تیرا نشیمن قصر سلطانی کے گنبد پر

    تو شاہیں ہے بسیرا کر پہاڑوں کی چٹانوں پر

    پرواز ہے دونوں کی اسی ایک فضا میں

    شاہیں کا جہاں اور ہے کرگس کا جہاں اور

    حضرت علامہ محمد اقبال رح

  • ایک تلخ حقیقت .تحریر: ریحانہ جدون

    ایک تلخ حقیقت .تحریر: ریحانہ جدون

    ایک تلخ حقیقت .تحریر: ریحانہ جدون
    ہم اپنے خوابوں کو پانے کے لئے بہت کوشش کرتے ہیں اسکے لئے در در کی ٹھوکریں بھی کھاتے ہیں.. کئی بار ہمیں ناکامیوں کا سامنا بھی کرنا پڑتا ہے اور پھر کبھی قسمت مہربان ہوتو انسان کامیابی کی بلندیوں کو چھو لیتا ہے.
    کہنے کا مقصد یہ ہے کہ کچھ لوگ کامیابی کے مقام پہ پہنچ کر خود کو بڑا محسوس کرنے لگتے ہیں (سب نہیں مگر موسٹلی ایسا ہوتا ہے) وہ اپنے سے چھوٹے کو کمتر اور حقیر سمجھنے لگتے ہیں, وہ بھول جاتے ہیں جس خدا نے انکو کامیابی دی وہی خدا ان لوگوں کا بھی ہے جن کو وہ کمتر سمجھ رہے ہیں.
    کیونکہ انسان کتنا ہی بڑا کیوں نہ ہو, کتنا ہی کامیاب اور مشہور کیوں نہ ہو آ خر اُس نے اُسی مٹی میں دفن ہونا ہے جس میں ایک عام انسان دفن ہوگا, خاک سے بنا جسم آ خر خاک میں ہی تو ملنا ہے کیونکہ موت کا ایک دن مقرر ہے اور یہ ہم سب جانتے بھی ہیں لیکن وہ وقت کونسا ہے اس راز سے ہم ناواقف ہیں.

    موت ہی ایسی چیز ہے جسکے آ گے طاقتور سے طاقتور بےبس ہوجاتے ہیں. پھر نہ تو شہرت اور نہ روپیہ پیسہ اسکی موت ٹال سکتے ہیں اور نہ ہی ذندگی کے دن بڑھا سکتے ہیں.. اصل میں انسان اپنی عارضی خوشیوں کو پانے کے لئے اسقدر بہت آ گے نکل جاتا ہے کہ واپسی ممکن نہیں رہتی اور تب اُسے اللہ یاد آ تا ہے تب وہ سوچتا ہے کہ مجھے ایسا نہیں کرنا چاہیے تھا.
    آ ج اپنے اردگرد دیکھ سکتے ہیں کونسا گناہ, کونسی ایسی بُرائی نہیں جس میں ہم کسی نہ کسی طرح جھکڑے ہوئے ہیں, کسی کے حق پہ ڈاکہ ڈالتے ہوئے, جھوٹ بولتے ہوئے, چوری, قتل , یا (یہ جو آ جکل معصوم بچوں کو نوچا جارہا) ہم اپنی موت کو کیوں بھول جاتے ہیں؟؟

    ہم اپنے اس رب کو کیوں بھول جاتے ہیں جو ہماری شہ رگ سے بھی قریب ہے ؟
    ہم کسی کی ذات پہ تہمت لگاتے زرا دیر نہیں لگاتے پر اپنے پہ بات آ تی تو ہزاروں دلیلیں لئے بیٹھے ہوتے خود کو بےگناہ ثابت کرنے کے لیے…
    اللہ کے بندوں.. یہ کیوں بھول جاتے ہو کہ اللہ ہر چیز سے واقف ہے
    اللہ کے بندوں.. اللہ کے بندوں پہ ظلم کرتے کیوں بھول جاتے ہوکہ اللہ کی لاٹھی بے آواز ہے.
    آ ج اللہ نے اگر شہرت دی پیسہ دیا, عہدہ دیا تو اسکا صحیح استعمال کرنا سیکھو, غلط استعمال کروگے تو ایک نہ ایک دن منہ کے بل گر جاؤ گے, اللہ کی بنائی ہوئی مخلوق کو حقیر مت جانو…
    تمھارا تکبر کہیں تمھیں رسوا نہ کردے کیونکہ تکبر اللہ کو پسند نہیں.
    کہیں کسی کی حق تلفی ہوتے دیکھو تو اسکو روکو
    کہیں ظلم ہوتے دیکھو تو ظلم کے خلاف اپنی طاقت استعمال کرو اپنی آ واز بلند کرو.
    اپنی غلطی کو تسلیم کرنا سیکھو, یہ دولت یہ شہرت آ پکو دنیا میں تا کام آ سکتی ہے پر آخرت میں تمھارے اعمال ہی تمھیں بچائیں گے..

    کسی شہنشاہ کسی شہزادے یا کسی صدر کی میت کو کسی نے سجا کے نہیں رکھا… اور نہ کوئی رکھے گا. جانا اسی مٹی میں ہے جس میں ایک غریب ایک عام انسان جائے گا.
    آ ج کسی عہدے دار کو دیکھ لیں لوگ اپنی درخواستیں لیے انکے انتظار میں گھنٹوں بیٹھے رہے ہونگے مگر وہ جب آ ئے گا تو ٹھاٹ سے اور انکو ٹھیک سے سنے گا بھی نہیں اور خود کو اپنے مقام (جو اللہ نے دیا ہوا) پر فخر کرتا گزر جائے گا.. کیا اس لئے اللہ نے تمھیں طاقت, عہدہ, مقام دیا ؟

    دولت اور شہرت کے پیچھے بھاگنے والوں یہ ہمیشہ رہنے والی نہیں
    بہتر ہے اپنی اپنی جگہ درست کرلیں کیونکہ یہ ذندگی تو عارضی ہے اسے ایک سفر سمجھ کے گزاریں. لوگوں کے دکھ درد میں کام آنا ہی ایک انسان کا کام ہے. دنیا کے لالچ میں اندھے ہوکے اپنی آ خرت نہ بگاڑیں.

  • باپ کم نہیں میری ماں سے.تحریر: ملک ضماد

    باپ کم نہیں میری ماں سے.تحریر: ملک ضماد

    آج دنیا میں لوگ "”فادر ڈے”” کے نام سے والد کا دن منا رہی ہے
    کیا والد کی عزت پیار صرف دن منانے تک محدود ہے یا اس کے کچھ حقوق و فرائض بھی ہیں
    ہم بطور معاشرہ مغرب کے پیچھے چل رہے ہیں تو معاشرے مین بہت سی باتوں کو ہم نا سمجھتے ہیں نا ہی سمجھنے کی کوشش کرتے ہیں
    وہ باپ جو گرمی، سردی
    دھوپ، بارش
    دن، رات
    جمعہ، اتوار محنت کر کے اپنے بچوں کو پالتا ہے
    وہ اپنا پیٹ کاٹ کر بچوں کی ضروریات پوری کرتا ہے
    وہ خود بھوکا رہتا ہے لیکن بچوں ہو پیٹ بھر کر کھلاتا ہے
    خود کبھی کئی کئی سال تک ایک ہی جوتوں کے جوڑے میں ٹائم گزار دیتا ہے لیکن بچوں کو ہر سال نئے جوتے لے کر دیتا ہے
    خود کپڑے نہیں لیتا لیکن بچوں کے لیے ہر سال، ہر عید، ہر نئی کلاس کے لیے نئے کپڑے لیتا ہے
    پھر کبھی محسوس بھی نہیں ہونے دیتا اپنی اولاد کو کہ وہ بھوکا ہے یا اس کو کسی چیز کی ضرورت ہے
    اس کا بھی دل کرتا ہے وہ نئے کپڑے پہنے لیکن یہ سوچ کر اپنی خواہشات کو دفنا دیتا ہے کہ میں پھر لے لوں گا بچوں کے لیے لازمی لینے ہیں

    باپ بھلے غریب ہو لیکن اپنی اولاد کو وہ شہنشاہوں کے بچوں کی طرح رکھتا ہے
    باپ خود کھانا نہیں کھاتا لیکن بچوں کو کبھی بھی بھوکا نہیں سونے دیتا
    خود پھٹے پرانے کپڑے پہن لیتا ہے لیکن بچوں کو کبھی احساس کمتری کا شکار نہیں ہونے دیتا
    آخر وہ باپ جب کما کما کر بچوں کو کھلاتا ہے
    وہ باپ جب خود بچوں کا محتاج ہوتا ہے تو بچے پھر اس کو یہ ہی کہتے نظر آتے ہیں
    "”آپ نے ہمارے لیے کیا ہی کیا ہے””
    یہ وہ الفاظ ہیں جو ہمارے معاشرے میں عام ہو چکے ہیں
    بچے یہ نہیں سوچتے آج ہم جس مقام پے ہیں اس میں میرے باپ کی کتنی محنت ہے
    اس میں باپ کا کتنا خون پسینہ نکلا ہے
    میرا باپ کتنا بھوکا رہا
    وہ یہ سوچتے ہیں باپ کماتا رہا اور کھاتا رہا ہے بس
    اس نے ہمارے لیے کچھ نہیں کیا

    اس کے متعلق اﷲ تبارک وتعالیٰ نے والدین کے حق کو مقدم کیا ہے۔
    ارشاد ہورہا ہے:’’ہم نے آدمی کو حکم دیا کہ وہ اپنے والدین کے ساتھ حسن سلوک کرے‘‘
    (سورۃ الاحقاف آیۃ 15)

    باپ کو جنت کا دروازہ کہا گیا ہے جب یہ دروازہ کھلے گا تو ہی انسان جنت میں داخل ہو سکے گا
    اللہ نا کرے یہ دروازہ بند رہتا ہے تو ہم بھلے نیکی کے کام کرتے رہیں آخر میں جا کر دروازہ ہی نے ہو گا تو کیسے ہم جنت میں داخل ہوں گے

    خدارا اپنے والدین کی قدر کریں
    حقوق العباد میں سب سے پہلے والدین کے حقوق بیان کیے گئے ہیں

    حدیث شریف کا مفہوم ہے امام طبرانی نے اس حدیث پاک کو نقل کیا ہے۔ فرماتے ہیں’’نبی کریم صلی اﷲ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا:
    والد کی اطاعت میں اﷲ تعالیٰ کی اطاعت ہے۔ والدین کی نافرمانی اﷲ تعالیٰ کی نافرمانی ہے””

    والد کی نافرمانی کو اللہ پاک کی نافرمانی کہا گیا ہے تو کیا کوئی شخص اللہ پاک کی نافرمانی کر کے جنت میں جا سکتا ہے
    حضرت ابن عباس رضی اﷲ عنہما سے روایت ہے کہ حضور اکرم صلی اﷲعلیہ وسلم نے ارشاد فرمایا:
    حسن سلوک کرنے والی اولاد جب بھی محبت کی نظر سے والدین کو دیکھے تو ہر نظر کے بدلے اﷲ تعالیٰ مقبول حج کا ثواب لکھ دیتا ہے۔ صحابہ رضی اﷲ عنہم اجمعین نے عرض کیا : یا رسول اﷲ! اگر کوئی اپنے والدین کی زیارت دن میں سومرتبہ کرے تو ؟  حضوراکرم صلی اﷲ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: اﷲاکبر اطیب ﷲ تعالیٰ بہت بڑا، نہایت ہی تقدس والا ہے‘‘

    والدین کو دیکھنے کا اتنا بڑا ثواب ہے تو ان کی خدمت کرنے کی کیا فضیلت ہو گی

    مذہب اسلام ہی وہ واحد مذہب ہے، جس نے والدین کے متعلق کہا ہے کہ:
    ٭  جنت ماں کے قدموں کے نیچے ہے۔
    ٭  باپ جنت کا درمیانی دروازہ ہے۔
    ٭  رب کی رضامندی والدین کی رضامندی پرہے۔
    ٭  رب کی ناراضگی والدین کی ناراضگی پر ہے۔
    ٭  والدین کی فرمابرداری میں اﷲتعالیٰ کی فرمابرداری ہے۔
    ٭  والدین کی نافرمانی میں اﷲتعالیٰ کی نافرمانی ہے۔
    ماں باپ کی نافرمانی تو کجا ، ناراضگی وناپسندید گی کے اظہار اور جھڑکنے سے بھی روکا گیا ہے اور ادب کے ساتھ نرم گفتگو کا حکم دیا گیا ہے
    ’’ وَلَاَ تْنہَرْ ہُمَا وقُلْ لَّہُما قَوْلًا کَرِیْمَا‘‘
    ساتھ ہی ساتھ بازوئے ذلت پست کرتے ہوئے تواضع وانکساری اور شفقت کے ساتھ برتاؤ کا حکم ہوتا ہے
    ’’ واخْفِضْ لَہُمَا جَنَاحَ الذُّلِّ مِنَ الرَّحْمۃِ‘‘
    اور پوری زندگی والدین کے لئے دعا کرنے کا حکم ان کی اہمیت کو دوبالا کرتا ہے
    وقُلْ رَّبِّ ارْحَمْہماکَما رَبّیَانِی صَغِیْرًا
    * اور تم سب اللہ تعالیٰ کی عبادت کرو اور اس کے ساتھ کسی چیز کو شریک نہ کرو اور ماں باپ کے ساتھ نیک برتاؤ کرو
    سورہ النساء ۳۶
    * ہم نے ہر انسان کو اپنے ماں باپ کے ساتھ اچھا سلوک کرنے کی نصیحت کی ہے
    سورہ العنکبوت ۸

    اپنے والدین کے ساتھ ایسے حسن سلوک کے ساتھ پیش جیسے وہ بچپن میں آپ کے ساتھ آتے رہے

    اللہ پاک ہمیں اپنے والدین کی نافرمانی سے بچائیں اور ان حقوق کو صحیح معنوں میں ادا کرنے اور ان کی خدمت کرنے کی توفیق دیں
    آمین

  • باپ  ، خلوص و ایثار کا سرچشمہ .تحریر : حمزہ احمد صدیقی

    باپ ، خلوص و ایثار کا سرچشمہ .تحریر : حمزہ احمد صدیقی

    ان کا اٹھنا نہیں ہے حشر سے کم
    گھر کی دیوار باپ کا سایا

    باپ صرف ایک لفظ ہی نہیں بلکہ احساس محبت، شفقت، پیار اور وفا جیسے ایک جذبے کا نام ہے،
    باپ کی شفقت اور دعاٶں کی حدت خاموش سمندر کی مانند ہے جس کی لہروں میں شدت پنہاں ہوتی ہے،باپ خلوص و مہر کا پیکر ، محبت کا ضمیر، باپ خدا کا دیا ہوا انمول خرانہ ہے، باپ اللہ تعالیٰ کی نعمتِ عظیم ، وہ دُنیا میں اپنے اہل و عیال کا ساٸبان ہوتاہے، باپ شفقت ، خلوص ، بے لوث محبت اور قربانی کا دوسرا نام ہے باپ ایک ٹھنڈک کا احساس ہے جو چلچلاتی دھوپ میں اپنے بچوں کو پیار اور سکون کا احساس دلاتا ہے۔

    ہمت شفقت چاہت قربانی
    یکجا لکھوں تو بابا جانی

    باپ ایک ایسا رشتہ ہے جو اپنی پوری زندگی اپنوں کیلئے وقف کردیتا ہے، اس کے صبر اور خلوص کی کوئی مثال نہیں ، باپ ایک ہستی جس کی تعریف بیان کرنے کیلئے لفظوں کا ذخیرہ بھی کم پڑ جائے۔ ہمارے معاشرے میں ماں کا مقام ومرتبہ تو ہرلحاظ سے اجاگر کیا جاتا ہے لیکن باپ کا مقام کسی حدتک نظرانداز کردیا جاتا ہے باپ وہ سایہ بے مثل ہے جس کی مثال اس دنیا میں کہیں بھی نہیں ہے ،باپ جیسی عظیم ہستی سے پیار ، خلوص اور عقیدت کا نام ہے ہر مہذب اور تہذیب میں باپ کو عظیم اور مقدس قرار دیا ہے۔

    باپ اک چھت کی مانند ہوتا ہے جس طرح اک چھت گھر کے مکین کو موسم کے سرد گرم ماحول سے محفوظ رکھتی ہیں، باپ جیسا بھی ہو باپ ہوتا ہے۔ اک گھنا سایہ دار درخت جو خود تو دھوپ طوفان بارش میں کھڑا رہتا ہے پر اپنے سائے میں رہنے والوں کو تحفظ دیتا ہے۔ اس کی شاخوں پہ کتنے ہی پرندے پلتے پھولتے ہیں۔ باپ کا وجود بے پناہ عزیز اور ضروری ہوتا ہے۔ باپ جیسا کوئی نہ ہوتا ہے اور نا ہوسکتا ہے

    ان کے سائے میں بخت ہوتے ہیں
    باپ گھر میں درخت ہوتے ہیں

    باپ وہ ہستی ہے جو دن کو دن نہیں سمجھتا۔ راتوں کو بھی فکر معاش میں بے چین رہتاہے۔ باپ کبھی ہمیں اپنی پریشانی یا الجھن نہیں بتاتا بلکہ خود سیسہ پلائی دیوار کی مانند ہر مشکل اور دشواری کا سامنا کرتا ہے۔ باپ وہ ہستی ہے جو اپنے اہل خانہ کی کفالت کے لے دن رات جتا رہتا ہے۔ نہ اس کو اپنے آرام کی پرواہ ہوتی ہے اور نہ ہی اپنے صحت کی۔ وہ اپنے دن رات صرف اس جہد میں صرف کرتا ہے کہ کچھ اور محنت کرلوں تو اپنے بچوں کا مستقبل محفوظ کرلوں۔اپنی اولاد کی ہر اس خواہش کو پوری کرنے کی کوشش کرتا ہے جو وہ اپنے بچپن میں پوری نہیں کرپایا

    مجھ کو تھکنے نہیں دیتا یہ ضرورت کا پہاڑ
    میرے بچے مجھے بوڑھا نہیں ہونے دیتے

    باپ دنیا کی وہ عظیم ترین ہستی ہے جو اپنے بچوں کی بہترین پرورش اور ان کی راحت کے لیے ہمہ وقت کوشش کرتا ہے، کاوش اور مشقت میں پڑ کر زندگی گزارتا اور ضرورت پڑنے پر اپنے بچوں کے لیے جان تک کی قربانی سے دریغ نہیں کرتا۔

    باپ وہ عظیم ہستی ہے جو اپنی اولاد کے لئے ساری جہاں سے لڑ سکتا ہے۔ باپ اپنی خوشی کی پروا کیے بغیر اولاد کی ہر خواہشات کو پورا کرتا ہے، ویسے تو مرد مضبوط ہوتا ہے مگر فولادی اعصاب کا مالک مرد بھی جب باپ بن جائے تو بچے کی معمولی سی تکلیف پر ٹوٹ جاتا ہے باپ ایک ایسا کریڈٹ کارڈ ہے جس کے پاس بیلنس نہ بھی ہو پھر بھی وہ اولاد کی خواہشات پورے کرنے کی کوشش کرتا ہے وہ اولاد کو کبھی نہ نہیں کر سکتا چاہے حالات کتنے ہی برے کیوں نہ ہوں ،باپ دنیا جہاں کے دکھوں اور غموں کو اپنے سینے کے اندر سمیٹے رواں دواں رہتا ہے۔ آندھی آئے یا طوفان اسکی محبت میں کمی نہیں آتی، خلوص و ایثار کے اس سرچشمے کی حدود کا اندازاہ لگانا ممکن نہیں۔

    جیب خالی ہو تب بھی نہ نہیں کرتا
    اپنے باپ سے امیر شخص میں نے دیکھا نہیں کوئی

    والد کی قدر کرنی چاہیے۔ باپ کی کمائی اور ورثے کی تو اولاد حق دار بنتی ہے، مگر اس کے دیگر تجربات اور اصولوں سے کم ہی فائدہ اٹھاتی ہے۔ حالاں کہ باپ تجربات کا ایسا خزانہ ہوتا ہے۔ ہر لمحے زندگی کے نت نئے تجربے سے گزر کر اولاد کی بہترین پرورش کرنے کی کوشش کرتا ہے۔ سمجھدار اولاد اس خزانے سے سبق لے کر اپنی زندگی کو احسن طریقے سے گزارتی ہے جبکہ بد قسمت اولاد اپنی زندگی کو بے جا خواہشات کے حصول کیلئے تباہ کر ڈالتی ہے اور باپ ایک ایسی کتاب ہے جس پر تجربات تحریر ہوتے ہیں۔ اپنے باپ کو خود سے دور مت کریں بلکہ اس کے تجربات سے سیکھیں۔ ہم دیکھتے ہیں کہ نئی نسل والدین سے خود کو زیادہ عقل مند خیال کرتی ہے جب یہ جاہلیت کے سوا کچھ نہیں ہے

    باپ ہی سرمایہ اولاد ہے
    باپ ہی اجداد کی بنیاد ہے
    گود ماں کی ،درسگاہ اولین
    باپ ہے ،روح جمال دلنشین

    باپ ایک عظیم تحفہ خداوندی ہے ،جس کا کوئی نعم البدل نہیں۔ باپ محبت و چاہت ،صبرو خلوص،ایثارو بردباری کا پیکر ہے۔ ہم جس طرح دریا کو کوزے میں قید نہیں کر سکتے اس طرح والد کی محبت و شفقت ٍ، عنایات و خدمات ،محنت،حوصلہ وہمت کو لفظوں میں بیان نہیں کر سکتے ۔یہ حقیقت ہے کہ باپ کی محبت ایک بحر بیکراں کی طرح ہے ۔ باپ کی بے پایاں محبت کو لفظوں میں نہیں پُرویا جا سکتا اس لیے کچھ وقت اپنے باپ کے پاس بیٹھا کرو اس طرح وہ بوڑھا جوان رہتا ہے۔ اس کی خدمت کر کے اپنے لیے کامیابی کی راہیں ہموار کر لوں۔ دنیا میں جب بھی کوئی پریشانی آئے اپنے باپ سے مشورہ لو کیونکہ باپ سے بہتر کوئی استاد نہیں، اس سے بہتر کوئی ہمدرد نہیں، اس سے بہتر کوئی غمخوار نہیں اور اس سے بہتر کوئی دردمند نہیں

    آج میں اک پیغام دینا چاہتا ہوں کہ جن کے باپ حیات ہیں ان کی قدر کیجئے۔ کیونکہ باپ سے زیادہ محبت کرنے والی ہستی دُنیا میں پیدا نہیں ہوئی ،آندھی چلے یا طوفان آئے، اُس کی محبت میں کبھی کمی نہیں آتی ۔ وہ نہ ہی کبھی احسان جتاتا ہے اور نہ ہی اپنی محبتوں کا صلہ مانگتاہے بلکہ بے غرض ہو کر اپنی محبت اولاد پر نچھاورکرتا رہتا ہے، یہ ہستی اک بار کھو گئی تو کبھی اور کسی قیمت واپس نہیں ملتی باپ شفقت محبت اور ایثار کے سوا کچھ نہیں ہوتا۔

    یہ سوچ کے ماں باپ کی خدمت میں لگا ہوں
    اس پیڑ کا سایا مرے بچوں کو ملے گا

    اللہ رب العزتﷻ سے دعا ہے کہ ہمیں صحیح معنوں میں اپنے والد محترم کی خدمت کی توفیق نصیب فرمائے اور ان کا سایہ تادیر ہمارے سروں پر قائم و دائم رکھے اور جن کے والد محترم اس دنیا سے چلے گئے ان کی اولاد کو ان کے لیے صدقہ جاریہ بنائے اللہ تعالیٰﷻ ہم سب کو والدین کی خدمت کرنے کی توفیق عطا فرمائے۔ آمین!

  • عورت اور معاشرہ . تحریر: ریحانہ جدون

    عورت اور معاشرہ . تحریر: ریحانہ جدون

    ایک معاشرے کی تعمیر میں عورت کا اہم کردار ہے.. عورت ہی ہے جو ایک اچھا اور مکمل معاشرہ بنا سکتی ہے, وہ بحیثیت ایک ماں اپنے بچوں کی ایسی تربیت کرے کہ وہ آ گے چل کے ایک اچھے معاشرے کو تشکیل دے سکے اور ہر ماں یہ کوشش بھی کرتی ہے کہ اسکے بچے ایک اعلیٰ مقام تک پہنچ سکیں, اسکے لئے وہ اپنی بھرپور کوشش کرتی ہے. میں نے ایسی کئی ماؤں کو دیکھا ہے جو بیوہ یا طلاق یافتہ ہونے کے باوجود ہمت نہیں ہاری اور حالات کا ڈٹ کے مقابلہ کررہی ہوتیں ہیں, محنت مزدوری کرکے اپنے بچوں کو پال رہی ہوتی ہیں.. افسوس سے کہنا پڑ رہا ہے کہ اگر کسی عورت کو طلاق ہوجائے تو اس پہ انگلی اٹھانے والی ہی عورتیں ہوتیں ہیں کہ اس میں ہی کوئی قصور ہوگا تبھی اسے طلاق ہوئی ہوگی. میں نے کسی مرد کو ایسی گفتگو کرتے نہیں دیکھا لیکن ہمارے معاشرے میں ایک طلاق یافتہ عورت کو کھلی تجوری کی طرح دیکھا ضرور جاتا ہے کہ اس تک رسائی آ سان ہے اور ہر کوئی بآسانی اس تک رسائی حاصل کر سکتا ہے. ایک طلاق یافتہ عورت سے کم ہی کوئی کنوارا شادی کرتا ہے کیونکہ طلاق کا دھبہ اسکے کردار کو مشکوک بنا دیتا ہے چاہے وہ کتنی ہے بےگناہ یا بےقصور ہو.

    اکثر ایسا ہوتا ہے کہ جب لڑکی جوان ہوتی ہے تو یہی معاشرہ اسکے والدین میں یہ خوف بھی ڈال دیتا ہے کہ اگر ابھی اسکی شادی نہ ہوئی تو کبھی نہیں ہوگی کوئی اچھا رشتہ نہیں ملے گا. بیشک وہ اپنی ذندگی میں خوش ہو ایک کامیاب ذندگی گزار رہی ہو لیکن معاشرہ اسکو یہ بات بار بار یاد کراتا ہے آ پ خود بھی کسی نہ کسی طرح یہ محسوس کرنے لگتے ہیں کہ شاید ہم میں کوئی کمی رہ گئی ہے اور بہت سے لوگ یہ چاہتے بھی ہیں کہ آ پ اس کمی کو محسوس کریں. بعض اوقات ایسی ہی وجوہات ایک عورت کے لیے مشکلات کھڑی کردیتے ہیں.
    ایک عورت کو جب ایک فُل سپورٹ ملتی ہے ( جو اسکے خاوند کی یا والدین کی) تو وہ نہ صرف ایک اچھی ماں بلکہ ایک اچھی بیوی بیٹی بہن بن کر دکھاتی ہے.
    جس گھر میں عورت کی عزت نہ کی جاتی ہو اسکو کوئی اہمیت نہ دی جاتی ہو تو وہ احساس محرومی کا شکار ہوجاتی ہے, وہ اپنی ہی ذات میں الجھ کر رہ جاتی ہے تو وہ کیا ایک اچھا معاشرہ تشکیل دے پائے گی جہاں اسکے اپنے بچے اسکا اپنا خاوند اسکی عزت نہ کرے…
    ہمیں سوچنا ہوگا کہ ایک عورت کا مقام کیا ہے اسکی ضرویات کیا ہیں..
    جب اس کا جواب ملے گا اور اس پہ عمل ہوگا تو آنے والی نسلوں کو ایک اچھا معاشرہ خوش آمدید کہےگا